bing

Your SEO optimized title page contents

Pages

.

.

Sunday, 5 February 2012

عشق کے رنگ2 (فاتح اعظم)۔ پہلی قسط


حیران کُن بات تھی کہ وُہ نیند کی حالت میں بھی یہ بات بخوبی جانتا تھا کہ ،، وُہ ایک خواب دیکھ رَہا ہے۔اُور صرف اتنا ہی نہیں۔ بلکہ اُسے تو یہ بھی معلوم تھا۔ کہ اِس خواب میں مزید کیا کیا واقعہ پیش آنے والاہے۔ اُور اِسکی وجہ اُسکی رُوحی قوت کا مشاہدہ بھی نہیں تھی۔ بلکہ وُہ اِس خواب کو گُذشتہ چند ماہ میں اتنے تواتر کیساتھ دیکھ چُکا تھا۔ کہ،، اِس خواب کو کسی بھی وقت اُسکی تمامتر جزیئات کیساتھ  حرف بحرف بیان کرسکتا تھا۔

چُنانچہ آج بھی خواب میں وُہ وہی  مناظر دیکھ رہا تھا۔ جنہیں وُہ کئی مرتبہ پہلے بھی دیکھ چُکا تھا۔ آج بھی  وہی بدرِ کامل اُسکی نِگاہوں کے سامنے موجود تھا۔ جسکی لطافت اُور حجم میں آہستہ آہستہ اِضافہ ہُوتا چلا جارہا تھا۔ اُور آج بھی ہمیشہ کی طرح اُس چاند کے گرد  تیس نُوری دائروں میں پانچ جھلملاتے ستارے موجود تھے۔ پھر اُن چاند ستاروں نے پہلے کی طرح تمام زمین کو اپنے لطیف سائے میں سمیٹ لیا تھا۔

پھر حسبِ سابق پہلے تارے نے دُنیا پر اپنا عکس ڈالا۔ جسکی وجہ سے بادشاہوں کے تخت اُلٹنے لگے۔  اُور سر کشوں کے سر تن سے جُدا ہُونے لگے۔لیکن جب وُہ ستارہ اُسکے شہر کی جانب بڑھنے لگا۔ تب ہمیشہ کی طرح منظر بدل گیا۔ اُور وہ ستارہ پھر سے چاند کے جِلو میں جگمگانے لگا۔ اب اُسکی نگاہیں دوسرے ستارے پر مرکوز تھیں۔ کیونکہ ہمیشہ یہ دوسرا ستارہ ہی  کردار کے لِحاظ سے اُسکے خُواب میں مرکز و محور کی حیثیت کا حامِل  ہُوا کرتا تھا۔

پھر دوسرے ستارے نے زمانے کی جانب بڑھنا شروع کیا۔۔۔۔۔ خواب دیکھنے والے کو ایسا محسوس ہُونے لگا جیسے کسی بھی لمحے میں اُسکے دِل کی رفتار تھم جائے گی۔ اُور سانسوں کا رشتہ اُسکے جسم سے ہمیشہ کیلئے منقطع ہُوجائے گا۔ کیونکہ یہ دوسرا ستارہ پہلے ستارے کے مقابلے میں   بڑی پھرتی اُور قوت سے دُنیا کے گرد چکر لگاتا ہے۔۔۔ اُور یہ دُوسرا ستارہ جہاں جہاں سے گُزرتا ہے۔ بڑے بڑے  صنم کدے اُور اُن میں ایستادہ بُت۔ اِس جگمگاتے ستارے کے قدموں میں خود ڈھیر ہُونے لگتے ہیں۔ اُور بلا آخر یہ ستارہ اِس کے شہر کے مقابل پُہنچ جاتا ہے۔ اِس ستارے کے  ہَزاروں ہاتھ اُسکے شہر کی جانب بڑھنے لگتے ہیں۔ جِن میں سے دو قوی اُور نمایاں ہاتھ اسکے شہر کو دبوچ لیتے ہیں۔ اُور وُہ جس  عظیم الشان تخت پر بیٹھا ہُوتا ہے۔ وُہ تخت بھی اُلٹ دیا جاتا ہے۔ جسکی وجہ سے وُہ کافی اُونچائی سے زمین پر گِرتا چلا جاتا ہے۔ اُور تبھی اچانک خُوف کی شِدت سے اُسکی آنکھ کھل جاتی ہے۔

پسینے سے شرابور پیشانی پر ہاتھ پھیرتے ہُوئے وُہ پسینے کے قطرات کو اپنی لانبی انگلیوں کی مدد سے جھٹکتے ہُوئے سُوچنے لگا۔۔۔ کہ،، کیا تقدیر کی جانب سے لائے جانے والے انقلاب کا وقت آچکا ہے۔۔۔؟ یا  یہ بھی  ایک تنبہی پیغام ہے۔۔۔۔؟ پھر دوسرے ہی لمحے وُہ اپنی دوسری رائے پر تبصرہ کرتے ہُوئے بڑبڑانے لگا۔ یہ صرف تنبہی پیغام نہیں ہُوسکتا۔ ورنہ یہ خُواب اُسے بار بار اتنے تسلسل سے ایسے حالات میں نہ دِکھایا جاتا۔ جب کے دشمن فوج نے قلعہ کا مُحاصرہ کررکھا تھا۔ حالانکہ عام حالات میں  وُہ محاصرہ کی وجہ سے اتنا خائف ہرگز نہ ہُوتا۔ کیونکہ شہر کے مضبوط دروازے اُور نا قابل تسخیر فصیلوں کی موجودگی میں کسی بیرونی قُوم کا شہر میں داخِل ہُونا مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن تھا۔۔۔ اِس پر سُونے پر سہاگہ،، کے مِصداق کھلے میدان میں دشمن افواج کو شدید ترین سردی کا سامنا تھا۔ جبکہ مخبروں کی اِطلاع کے مُطابق اُن بیرونی حملہ آواروں کے پاس اِن سَرد ترین ہُواوٗں سے مقابلہ کرنے کیلئے کوئی خاص سامان بھی موجود نہیں تھا۔ اِس کے عِلاوہ شہر میں موجود اناج کے وسیع ذخائر کم از کم ایک برس کیلئے کافی تھے۔ جبکہ کسی  فوجی قافلے کیلئے ممکن ہی نہیں تھا۔ کہ وُہ ایک ماہ کی خوراک کا ذخیرہ بھی اپنے ساتھ زادِ راہ کے طور پر لے کر چل سکے۔ اُور بنا  اِناج و پانی کوئی کب تک کسی شہر کا محاصرہ کرسکتا تھا۔۔۔ لیکن اِن تمام تر حقیقتوں کے باجود۔۔۔ وُہ مطمئین نہیں تھا۔ کیونکہ آئے دِن کے یہ خُواب اُور اِسکی تعبیر کچھ اُور ہی داستان بیان کررہی تھی۔

وُہ صِرف اِس شہر کا ہی  سب سے بڑا عالم نہیں تھا۔ بلکہ  ملک شام  میں بسنے والے تمام شہروں کے عالم بھی اُسکی قابلیت کا لُوہا تسلیم کرچکے تھے۔  کیونکہ وُہ  سابقہ آفاقی کتب توریت زَبور و انجیل کا زبردست حافظ تھا۔  اُور اُس جیسا مُعبر  بھی تمام مُلک شام میں کوئی  اُورنہیں تھا۔ جو  کسی خواب کی تعبیر وتشریح میں وضاحت و سلاست میں اُسکا مقابلہ کرسکے۔۔ اِسلئےصرف عوام ہی نہیں بلکہ خواص میں بھی اُسے نہایت قدر کی نِگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔ اُور اِسے بطریقِ اعظم قمامہ کے نام سے پہچانا جاتا تھا۔

 وُہ اپنے خُواب کی تعبیر سے بخُوبی واقف تھا۔ اُس نے اِلہامی کُتب میں اُس شخص کے متعلق بُہت تفصیل سے پڑھ رکھا تھا۔ جو اِس شہر کو بغیر کسی فوج کے بھی فتح کرنے کی  خداداد صلاحیت سے مالا مال ہُوگا۔ اُور صرف اتنا ہی نہیں بلکہ وُہ تو اُس عظیم  فاتح کے  نام  وحُلیہ سے بھی واقف ہُوچُکا تھا۔ لیکن وُہ فاتح اعظم اِسکی زندگی میں اِس شہر کو فتح کرلے گا۔۔۔ یہ بات تو کبھی اُسکے خاب وخیال میں بھی نہیں آئی تھی۔۔۔مگر اِس آگہی کے باوجود بھی  وُہ یہ بات بھی اچھی طرح جانتا تھا۔ کہ اگرچہ حاکم وقت کی وقعت بھی اُسکے سامنے کسی کٹھ پُتلی سے ذیادہ نہ ہُونے کے باوجود ۔۔۔اگر وُہ اپنے خواب کی تعبیر عام لوگوں میں بیان کردے۔ تو   شہر میں موجود کم وبیش ایک لاکھ جنونی لوگ اُسے متفقہ طُور پر قتل کرنے میں ایک لمحے کی تاخیر بھی نہیں کریں گے۔ لیکن اِس راز کو سینے میں چھپانے کے باعث اُس پر ایک عجیب سے کیفیت طاری رہنے لگی تھی۔ کبھی کبھی تو اُسے ایسا بھی محسوس ہُونے لگتا۔ جیسے گھٹن کے باعث  کسی بھی لمحےاُسکی سانس ہی رُک جائے گی۔

کافی غُور و خُوض کے بعد بطریقِ اعظم قمامہ سورج کی پہلی کرن نمودار ہُوتے ہی اِس نتیجے پر پُہنچ چُکا تھا کہ،،  اُسے شہر کے معززین کو پہلے سے ہی  تمام  حالات سے آگاہ کرکے اپنا ہم خیال و ہمنوا بنا لینا چاہیئے۔۔۔۔۔ کچھ وقت سجدے میں پڑے رہنے کے بعد وُہ الہامی کتب سے اخذ کئے گئے مناجات میں مصروف رہنے کے بعد اپنے عالیشان محل نُما مکان سے باہر نِکل کر فصِیلِ قلعہ کی سیڑھیاں عبور کرنے لگا۔۔۔ اُسے یہ دیکھ کر  بُہت خُوشی حاصِل ہُوئی کہ فصیل پر موجود پہرے دار  تمام رات جاگنے کے باوجود بھی نہایت مستعدی سے اپنے فرائض انجام دینے میں منہمک تھے۔

لیکن  فصیل کی بُرج سے نیچے جھانکنے کے بعد بطریقِ اعظم قمامہ کی یہ خُوشی  اُسکے چہرے پر ذیادہ دیر قائم نہ رِہ سکی۔۔۔ کیونکہ حملہ آور فوج کے سپاہیوں کے چہرے ناصرف کسی انجانی خوشی کے باعث دَمک رہے تھے۔ بلکہ وُہ  نہایت جُوش خروش کا مظاہرہ کرتے ہُوئے کسی نعرے کے جواب میں باآواز بُلند نعرے  بھی لگارہے تھے۔۔۔

آخر یہ اِتنے جُوش و خروش کا مظاہرہ کیوں کررہے ہیں۔۔۔۔؟ حالانکہ گُذشتہ عشرے  میں میں اِن لوگوں نے ایسا کوئی رَد عمل نہیں دِکھایا۔۔۔۔؟    بطریقِ اعظم قمامہ  نے پیشانی پر تیوریاں چڑھاتے ہُوئے قریب کھڑےفوجی  افسر سے سوال کیا۔۔۔۔  عالیجاہ! ہمارے  مخبروں  کی اطلاع کے مطابق اِن حملہ آوروں کا سپہ سالار آج مزید فوج لے کر جلد ہی اِن تک پُہنچنے والا ہے۔ یہ لوگ اُنہی کے استقبال کی تیاریوں میں مصروف ہیں۔ اُسی فوجی افسر نے دھیمے لہجے میں  ادب سے اپنے سَر کو خم کرتے ہُوئے  بطریقِ اعظم قمامہ کو جواب دِیا۔۔۔۔ فوجی افسر کی زُبانی دُشمن فوج کے سپہ سالار اعظم کی آمد کی اطلاع نے ایک مرتبہ پھر بطریقِ اعظم قمامہ کے چہرے کو رنجیدہ کردیا۔ وُہ سوچنے لگا کہیں یہ  سپہ سالار وہی عظیم انسان تو نہیں ہے۔ جو انبیاٗ کرام کی مقدس سرزمین اِن سے چھین لینے والا ہے۔۔۔۔؟

شہر کے وسط میں قائم بطریقِ اعظم قمامہ کے دربار میں فوج کے سرکردہ افسران کیساتھ ساتھ شہر کے بڑے بڑے رَوٗسا اُور معززین کی اچھی خاصی تعدا د بھی موجود تھی۔۔۔ ہر ایک شخص بے چینی کے عالم میں یہ بات جاننے کا خُواہاں تھا کہ،، آخر بطریقِ اعظم قمامہ نے اُنہیں کیوں اُور کس لئے اتنی عجلت میں اپنے دربار میں مدعو کیا ہے۔۔۔ کیا کسی  جنگی حکمت عملی کیلئے۔۔۔؟۔یا۔۔۔ جنگ کو کسی منطقی انجام تک پُہنچانے کیلئے کوئی اہم فیصلہ صادر کیا جانے والا ہے۔۔۔؟ بلاآخر کافی انتظار کے بعد بطریقِ اعظم قمامہ نے تمام لوگوں کو مخاطب کرتے ہُوئے لب کُشائی کی۔

میرے بچوں! جیسا کہ تم جانتے ہُو کہ،، میں نے ہمیشہ  ایک باپ کی طرح تُمہارے مفادات کی حِفاظت کی ہے۔  اُور ہم انبیاٗ کی اِس سرزمین کے وارث ہیں۔ اُور میرا اِس بات پر پُختہ یقین ہے کہ کوئی بھی قُوم قتل و غارت گری یا حملہ کرکے ہم سے اِس سرزمین کو نہیں چھین سکتی۔ لیکن میرے بچوں کچھ باتیں زمانے میں ایسی بھی ہُوا کرتی ہیں ۔ جنکا حالات سے بظاہرکوئی واسطہ نہیں ہُوتا ۔ لیکن انقلابِ زمانہ اِسے ہی کہا جاتا ہے۔ جسکی اُمید انسان کو بالکل نہیں ہُوتی۔ لیکن ہُونی بلاآخر ہُو کر ہی رہتی ہے۔۔۔ اتنا کہنے کے بعد بطریقِ اعظم قمامہ نے ایک طائرانہ نِگاہ  دربار موجود لوگوں پر ڈالی جنکے چہرے اضطراب کے باعث تنے ہُوئے تھے۔۔۔۔ بطریقِ اعظم قمامہ کی طویل خاموشی سے بے چین ہُوکر ایک فوجی افسر نے  نہایت تعظیم سے کھڑے ہُوکر سوال کرنے کی اجازت طلب کی۔۔۔ اجازت ملنے پر اُس نے عرض کی۔

اے ہمارے رُوحانی باپ۔ آج ایسا کیا عجیب معاملہ پیش آگیا ہے۔ کہ جسکے سبب آپ واضح گفتگو فرمانے کے بجائے تمہید و اِمثال کا سہارا لے رہے ہیں۔۔۔؟ آپ کو خُدا نے بے مِثال علم سے نوازا ہے۔ جسکی وجہ سے آپ وُہ بھی دیکھ لیتے ہیں۔ جو بات ہمارے وہم و گُمان میں بھی نہیں ہُوتی۔ اِس لئے خُدارا ہم کم عِلموں کو اپنے علم کی روشنی میں صاف صاف بتادیجئے۔ کہ آخر ہم پر ایسی کونسی اُفتاد ٹُوٹنے والی ہے۔ جِس نے آپکے لہجے کو شکستہ اُور سُخن کومضطرب کردیا ہے۔۔

فوجی افسر کے خاموشی سے دُوبارہ اپنی نشست پر بیٹھ جانے کے بعد بطریقِ اعظم قمامہ نے اپنا خواب تفصیل سے تمام حاضرین کو سُنا ڈالا۔ ۔۔ خواب کے اختتام پر ایک ضعیف بطریق کی خواہش پر بطریقِ اعظم قمامہ نے اِس خواب کی شرح بیان کرتے ہُوئے کہا۔۔۔ میرے بچوں! تمام سابقہ کتب  کے مخفی اُور ظاہری عُلوم کی روشنی میں مجھے اِس خواب کی ایک  ہی تعبیر سمجھ آتی ہے۔ اُور وُہ یہ ہے کہ بدر کامل سے یہی مُراد لی جائے گی کہ،، نبیِ آخر زَماں ﷺ کا زمانہ آچکا ہے۔  جنکے  سایہ رحمت میں تمام کائنات چھاوٗں کی مُتلاشی ہُوگی۔  پانچ ستاروں کی قربت یہ بات ثابت کرتی ہے کہ اُن کے پانچ وزیر ہُونگے۔ جو دُنیا پر حُکمرانی کریں گے۔ جبکہ تیس نورانی دائروں کا مطب غالباً اُن پانچ وزیروں کی حکومت کے تیس برس کو ظاہر کرنے کیلئے واضح کئے گئے ہیں۔ اُور پہلے ستارے کی پیش قدمی اِس بات کا استعارہ ہے کہ،، وُہ  آخری نبی ﷺ دُنیا سے وصال ظاہری فرماچُکے ہیں۔

جبکہ  خُواب میں دوسرے ستارے کی پیش قدمی اُور ہمارے شہر تک آمد یہ سمجھانے کیلئے ہے کہ،، پہلا ستارہ یعنی خلیفہ الرسول ﷺ جنہیں صاحب کے نام سے پُکارا جائے گا۔ یہ مصاحب رسولﷺ بھی دُنیا سے پردہ فرماچکے ہیں۔ اُور اب  انہی مصاحب کے رفیق کی حکومت قائم ہے۔ جنکے دُور حکومت میں انبیاٗ کرام کی سرزمین بیت المقدس سے ہمیں ہاتھ دھونا پڑسکتے ہیں۔۔۔

بطریقِ اعظم قمامہ  کی گفتگو نے تمام حاضرین کو غَم  وغصے کی جیتی جاگتی تصویر بنا ڈالا تھا۔۔۔ ایک جذباتی معمر بطریق سے یہ سب کچھ سُن کر  رَہا نہ گیا۔ تو وُہ کھڑا ہُو کر جذباتی انداز میں کہنے لگا۔۔۔ اِس کا مطب یہ ہُوا کہ،، سرزمین بیت المقدس جس پر صدیوں سے ہمارے آباء  کا تسلط قائم تھا۔ ہم تھالی میں سجا کر آنے والی غیر قوم کے حوالے کردیں۔۔۔؟  اگر وُہ ایک نبی ﷺ کے وارث ہیں تُو کیا ہم انبیاٗ کی سرزمین کے وارث نہیں ہیں۔؟ کیا ہمارے پاس دُنیا کی بہترین فوج موجود نہیں ہے۔۔۔؟ کیا ہمارا شہر ناقابل تسخیر نہیں ہے۔۔۔ اُور کیا ہم نے قلعہ میں ایک برس کا اِضافی اناج اُور پانی کی جھیل  یہی دِن دیکھنے کیلئے بنائی تھی۔ کہ کچھ  بیرونی دُنیا کے لُوگ ہم پر حملہ کریں اُور ہم نَامَردوں کی طرح اپنا شہر اُنکے حوالے کردیں۔۔۔ معمر بطریق کی جذباتی تقریر سے سامعین کا سَرد خون بھی ایک مرتبہ پھر جُوش مارنے لگا تھا۔۔۔

(جاری ہے)
اِسکا بقیہ حصہ انشاءَاللہ عزوجل بِلا تاخیر آپکی نذر کرنے کی بھرپور سعی کے ساتھ اِجازت چاہُوں گا۔