bing

Your SEO optimized title page contents

Pages

.

.

Wednesday, 23 May 2012

عامل کامل ابو شامل قسط ۱۵تا 17



قسط ۔۱۵

کامِل علی نے کچھ پَس و پیش کے بعد افلاطُون کے بڑھے ہُوئے ہاتھوں کو اپنے ہاتھوں میں تھامتے ہُوئے کہا۔۔۔ دیکھو افلاطُون ۔۔ مجھے دُوست کہا ہے ۔ تُو اِس رشتہ کی لاج بھی رکھنا۔۔۔ کیونکہ میں نے زمانے میں اتنے دُھوکے اُور فریب کھائے ہیں۔ اُور اتنی تکلیفیں سہی ہیں کہ مزید برداشت کی ہمت باقی نہیں رہی ہے۔ جسقدر ممکن ہُوگا میں تُمہاری مدد کرونگا۔۔۔۔ اُور تُم سے یہ توقع رکھتا ہُوں کہ تُم بھی مجھے مایُوس نہیں کرُوگے۔۔

بے شک میرے دُوست۔۔۔ میں تُم سے وعدہ کرتا ہُوں کہ ،، ہمیشہ دوستی کا بھرم قائم رَکھوں گا۔۔۔ البتہ میری تُم سے ایک درخواست ہے کہ آئیندہ مجھے افلاطُون کے بجائے ابو شامل کہہ کر مخاطب کرنا۔۔ کیونکہ مجھے اپنا یہ نام دوسروں کی زُبان سے سُننا بُہت پسند ہے۔ اب کہو میرے لئے کیا حُکم ہے۔ افلاطُون کے صرف چہرے پر ہی نہیں بلکہ لہجے میں بھی کامل علی کی رضا مندی کے بعد شُوخی دَر آئی تھی۔

کیا تُم نرگِس سے ابھی اِسی وقت میری مُلاقات کا بندوبست کرسکتے ہُو۔ کامل علی نے نظریں جھکا کر ملُتجانہ لہجے میں افلاطُون کو مخاطب کرتے ہُوئے کہا۔۔۔۔۔۔!

کیوں نہیں میرے دُوست۔۔۔ میں ابھی نرگس کو اُسکے گھر سے یہاں اُٹھالاتا ہُوں۔ افلاطُون نے یقینی لہجے میں کامل کو جواب دیتے ہُوئے اپنا داہنا ہاتھ سینے پر رکھ کر اپنے سر کو ہلکا سا خم کرتے ہُوئے کہا۔۔

نہیں یار۔۔۔ اِس طرح تُو وُہ بدنام ہُوسکتی ہے۔ ۔۔۔ کیونکہ وُہ اب ایک شادی شُدہ عورت ہے۔۔۔ اُور ایک شادی شُدہ عُورت کا رات میں ایک لمحے کیلئے بھی غائب ہُونا کِسی قیامت سے کم نہیں ہے۔۔۔۔۔ میرا مقصد اُسے پانا ہے نا کہ بدنام کرنا۔۔۔تُم ایسا کیوں نہیں کرتے ابو شامل کہ مجھے ہی اُس کے گھر لے چلو۔۔۔ کامل علی نے تجویز پیش کرتے ہُوئے کہا۔۔۔!

ہُم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اگر ایسی ہی بات ہے ۔ تب میرے دُوست تمہیں آج کا دِن مَزید صبر کرنا پڑے گا۔ کیونکہ صبح کی رُوشنی پھیلنے ہی والی ہے۔ ویسے بھی تُم تمام رات کے جاگے ہُوئے ہُو۔ ایسی حالت میں جب کے نیند کا خُمار طاری ہُو۔ محبوب سے ملنے میں کیا خاک مَزہ آئے گا۔ آج ہم کُچھ کھیل تماشے کریں گے۔ کُچھ سیر سپاٹے کریں گے۔ اُور رات ۱۲ بجے کے بعد میں تُمہیں تُمہاری نرگس سے مِلانے کیلئے لے جاؤں گا۔ لیکن ابھی تُمہیں سُوجانا چاہیئے۔

نرگِس کے ذکر نے اگرچہ کامل کی آنکھوں سے نیند اُڑا دی تھی۔ لیکن ابو شامِل کی بات میں دَم تھا۔ ایک تو کامل علی کے جسم پر تھکن کے اَثرات تھے۔ دُوسرے دِن کی رُوشنی میں نرگس سے مُلاقات واقعی خطرناک ثابت ہُوسکتی تھی۔ اسلئے ناچار کامِل علی کمبل اُوڑھ کر بستر پر دراز ہُوگیا۔ ابو شامل نے جاتے جاتے کامل علی کُو مُخاطب کرتے ہُوئے کہا۔۔۔ کامل جب جاگ کر تیار ہُوجاؤ تب مجھے آواز دے لینا۔ میں فوراً حاضر ہُوجاؤ گا۔

کامل علی کی جب آنکھ کُھلی تب اُسے پہلے پہل ایسے مِحسوس ہُوا جیسے اُس نے رات میں کوئی سپنا دیکھا ہُو۔۔۔ لیکن چائے کے خَالی کپ دیکھ کر اُسے یقین ہُوگیا کہ وُہ کوئی سپنا نہیں بلکہ ایک حقیت تھی دیوار پر لگی گھڑی دیکھ کر کامل علی کو اندازہ ہُوا کہ دوپہر کے تین بجنے کو ہیں ۔ مطلب وُہ کافی دیر تک سُوتا رہا ہے۔۔۔ یہی سُوچ کر کامل علی جلدی سے واش رُوم میں داخِل ہُوگیا۔

واش رُوم سے نِکل کر جب کامِل علی باہر آیا تب تلک کمرے کی حالت بالکل ہی بَدل چُکی تھی۔ مکان کے اِس اکلوتے کمرے میں جُو کے ابھی کُچھ ہی لمحے قبل کاٹھ کباڑ کی آماجگاہ بنا ہُوا تھا۔ وہاں ضرورت کی ہر شئے قرینے سے رکھی ہُوئی تھی۔ جِن دیواروں سے پلاستر تک نابُود ہُوچُکا تھا۔ اَب ایسے چمک رہی تھیں ،، گُویا دیواروں پر پلاستر نہیں بلکہ شیشے پر پینٹ کردیا گیا ہُو۔ پرانے ٹی وی کی جگہ دیوار پر جہازی سائز کی ایل ای ڈی جگمگارہی تھی۔ کمرے سے اُسکی جھلنگا چارپائی غائب ہُوچُکی تھی۔ اب کمرے کے درمیان میں سنگ مرمر کا ڈبل بیڈ آنکھوں کو خیرہ کئے دے رَہا تھا۔ کمرے کے ایک کُونے میں ایستادہ نہایت حسین گُلدستہ کمرے کی خُوبصورتی میں مزید اِضافہ کررہا تھا ۔کمرے سے ملحق اُوپن کچن بھی کسی عالیشان کُوٹھی کی نُمایندگی کررہا تھا ۔ کامل علی حیرت کے ساگر میں گُم اِن مناظر میں کُھویا ہُوا تھا۔ کہ ،، عقب سے ابو شامِل کی آواز سُنائی دِی۔۔۔۔ اتنی حیرت سے کیا دیکھ رہے ہُو میرے دُوست۔ ابھی تُو بُہت کُچھ بدلنا باقی ہے۔ کامل علی نے گھوم کر دیکھا تُو ابو شامل مسہری پر نیم دراز نظر آیا۔۔۔۔ کامِل علی کو ہلکا سا حیرت کاجھٹکا لگا۔ لیکن پھر جلد ہی اُس نے اپنے آپ کو سنبھال لیا۔۔۔ کیونکہ رات کو وُہ دیکھ چُکا تھا۔ کہ مٹی اُور پتھر کی دیواریں ابوشامل کا راستہ روکنے کیلئے کافی نہیں ہے۔۔۔۔۔۔۔

میں بُہت جلد اپنے دُوست کیلئے اِس شہر میں یا جِس شہر میں تُم رہنا پسند کرو۔۔۔ وہاں ایک ایسی کُوٹھی تیار کرواؤں گا کہ دیکھنے والوں کی گردن حیرت سے قُوس کی شِکل اختیار کرجائے۔۔۔۔ اُور اُسمیں دُنیا کی ہر نعمت کو جمع کردُونگا۔ افلاطون نے مسکرا کر کامل علی کی جانب دیکھتے ہُوئے کہا۔۔۔

نہیں ابوشامل مجھے مزید کسی کوٹھی یا بنگلے کی ضرورت نہیں ہے۔ میرے لئے یہ گھر ہی کافی ہے۔۔۔ البتہ تُم نے اِس گھر میں جُو تبدیلیاں کی ہیں اُس سے واقعی مجھے خُوشی ہُوئی ہے۔ جسکے لئے میں تہہ دِل سے تُمہارا شُکر گُزار ہُوں۔ کامل علی نے خُلوص سے شکریہ ادا کرتے ہُوئے کہا۔۔۔ اب یہ بتاؤ کہ آج کا کیا پروگرام بنایا ہے تُم نے۔۔۔؟ مجھے یاد ہے تُم نے رات کو کُچھ سیر سپاٹے کی بات کی تھی۔۔۔۔

یار دیکھو ایک بات کان کھول کر سُن لُو آج کے بعد یہ شکریہ وغیرہ کے الفاظ کم از کم مجھ سے مت کہنا۔ ورنہ میں تُم سے ناراض ہُوجاؤں گا۔ کیونکہ دُوستی میں کوئی کِسی پر اِحسان نہیں کرتا۔ بس تُم کو میری تبدیلی پسند آئی سمجھو مجھے انعام بھی مِل گیا۔ اُور خوشی بھی حاصِل ہُوگئی۔۔۔۔ اُور جہاں تک بات ہے سیر سپاٹے کی تُو کیا خیال ہے دریائے جہلم نہ چلا جائے۔۔۔ وہاں دریا کے کنارے انجوائے بھی کریں گے اُور۔۔۔۔۔۔ اتنا کہہ کر ابو شامل نے گفتگو ادھوری چھوڑ دی۔ ۔۔۔۔ اُور کیا۔۔۔ کامل علی نے استفاپمیہ انداز میں ابو شامل کی جانب دیکھتے ہُوئے سُوال کیا۔

کیا جلباب کو بُھول گئے۔۔۔؟ کیا تُمہیں یاد نہیں مولوی رمضان صاحب نے انتقال سے قبل جلباب کی ذمہ داری تُمہارے سپرد کی تھی۔۔۔۔ ؟ ابو شامل نے ایک ایک لفظ پر زُور دیتے ہُوئے کہا۔۔۔۔ نہیں یار۔۔۔ میں جلباب کو کیسے بُھول سکتا ہُوں اُسکے اُور مولوی رمضان صاحب کے مجھ پر بُہت سے احسانات ہیں ۔۔ لیکن جہلم جانے آنے میں تُو کم از کم ۲ دِن لگ جائیں گے۔ جب کہ تُم نے مجھ سے وعدہ کیا تھا۔ کہ آج رات تُم میری نرگس سے مُلاقات کراؤ گے۔۔۔۔ کامل علی نے ابو شامل کو اُسکا وعدہ یاد دِلاتے ہُوئے کہا۔۔۔۔

اُو میرے بھائی ۔۔۔ میں تجھے چناب ایکسپریس سے لیکر نہیں جارہا۔ جُو تجھے آنے جانے میں ۲ دِن لگ جائیں گے۔۔۔ تُم شہزادہ ابو شامل کے ساتھ جارہے ہُو۔ کسی ریلوے مُلازم کے ساتھ نہیں۔۔۔ہم پانچ منٹ سے بھی پہلے جلباب کے گھر جہلم پُہنچ جائیں گے اُور وقتِ مقررہ سے بُہت پہلے واپس بھی آجائیں گے۔ کیا سمجھے۔۔۔۔؟ ابو شامل نے کامل کے کاندھے پر ہاتھ رکھتے ہُوئے مُسکرا کر کہا۔۔۔ اگر ایسی بات ہے ۔ تُو چلو ٹھیک ہے لیکن یہ تُمہیں ایکدم جلباب اُور جہلم کا خیال کیسے آگیا۔۔۔۔؟ کامل علی نے کُچھ سوچتے ہُوئے سوال کیا۔۔۔

یار مولوی رمضان صاحب کا ایک قرض مجھ پر بھی ہے۔ بس وہی قرض اُتارنے کی کُوشش کررہا ہُوں۔۔۔۔ تُمہیں شائدبالکل بھی خبر نہیں ہے ۔ مگر میں جانتا ہُوں کہ،، مولوی رمضان صاحب کی بیٹی جلباب آجکل بُہت کسمپُرسی کی زندگی گُزار رہی ہے۔ کیونکہ اُسکا شوھر جُوئے اُورشراب کی لَت کے ساتھ ساتھ ایک دوسری عورت کے چکر میں بھی گرفتار ہُوگیا ہے۔ اُور جلباب آجکل بُہت پریشان حال ہے ۔۔۔ابو شامل کا لہجہ جلباب کا تذکرہ کرتے ہُوئے بُہت غمگین ہُوگیا۔۔۔۔۔ جیسے وُہ اپنی بِہن کا تذکرہ کررہا ہُو۔۔۔

اگر ایسی بات ہے۔۔۔ تُو میں بھی جلباب سے فوراً مِلنا چاہُوں گا۔ کامل علی نے جذباتی لہجے میں جواب دیا۔

چلو پھر تُم ۲ منٹ میرا انتظار کرو میں ابھی آتا ہُوں۔ ابو شامل یہ کہتے ہُوئے دروازے کی جانب مُڑا۔۔۔

مگر تُم جا کہاں رہے ہُو۔۔۔۔۔؟ کامل علی کے سوال پر ابو شامل نے مُڑ کر کامِل علی کو دیکھتے ہُوئے کہا۔۔۔ ارے میرے بُدھو دُوست بہن کے گھر جارہے ہیں تُو کیا خالی ہاتھ جائیں گے۔۔۔۔؟ اِتنا کہہ کر ابو شامل گھر سے باہر نِکل گیا۔۔۔ مگر اِس مرتبہ گھر سے باہر جانے کیلئے اُس نے دروازے کا ہی استعمال کیا تھا۔۔۔۔۔۔۔!

(جاری ہے)

پھر دَرد بڑھ رَہا ہے پھر نیند کی خُواہِش
ہُوئی دِل میں پِھر سے پیدا تیری دِید کی خُواہش

تیری رَاہ کے خَار سارے ۔۔۔ پَلکوں سے اپنی چُن لُوں
مجھے پا کے تیرے مَن میں۔۔ نہ رہے مَزید خُواہش

قسط ۔ ۱۶

کامِل علی اپنے بالوں کو سنوارنے میں مشغول تھا۔ تبھی ابو شامِل واقعی ۲ منٹ میں واپس لُوٹ آیا ۔ لیکن اُسے دیکھ کر ہر گز ایسا محسوس نہیں ہُورہا تھا۔ کہ،، وُہ مارکیٹ میں صِرف ۲ مِنٹ گُزار کر آیا ہے۔ اُس کے دُونوں ہاتھ بڑے بڑے شاپر سے لَدے پھندے ہُوئے تھے۔ مسہری کے قریب آکر اُس نے تمام شاپرز کو مسہری پر ڈالتے ہُوئے کامل علی سے کہا۔۔۔۔ یار ذرا نظر مار لینا۔۔۔ کہیں کُچھ رِہ تُو نہیں گیا۔۔۔۔؟

کامل علی ایک ایک شاپر کو کھول کر حیرت سے دِیکھ رَہا تھا۔ ۲ شاپر میں مِٹھائی کے بکس مُوجود تھے۔ ۳ بڑے شاپرز میں زنانہ مردانہ اُور بچکانہ کپڑے بھرے پڑے تھے۔ ۱یک بڑے شاپر میں پھل مُوجود تھے۔ جبکہ ایک چھوٹے شاپر میں سُونے کا ایک خُوبصورت سیٹ مُوجود تھا۔ جِسے دیکھ کر کامل علی نے ابو شامل نے کہا۔۔ کیا تُم جلباب کے گھر اتنا ذیادہ سامان لے کر جاوٗگے۔۔۔۔؟ میں لیکر نہیں جارہا۔۔ بلکہ یہ سامان تُم اپنی جانب سے اپنی بِہن جلباب کو دُو گے۔۔۔ ابو شامِل نے اُسکی بُوکھلاہٹ سے محظوظ ہُوتے ہُوئے جواب دِیا۔۔۔

لیکن ہم یہ تمام سامان لیکر کِس سواری پر جارہے ہیں۔۔۔؟ کامل علی نے تمام شاپرز پر نظر ڈالتے ہُوئے پُوچھا۔۔۔۔ اَب گاڑی تُو تُمہارے پاس ہے نہیں۔ اُور میں ایکدم تُمہیں کروڑ پتی بنا نہیں سکتا ورنہ لُوگوں کو تُم پر شک ہُوجائے گا۔ جسکی وجہ سے تُمہارے لئے مشکلات پیدا ہُوسکتی ہیں۔ اسلئے فی الحال ٹیکسی میں ہی چلتے ہیں۔ ایسا کرو کُچھ شاپر تُم سنبھال لُو باقی کو میں دیکھ لُوں گا۔۔۔ یہاں سے ٹیکسی اسٹینڈ چلتے ہیں وہیں سے جلباب کے گھر چلیں گے۔ ۔۔۔ افلاطُوں نے کامل علی کو جواب دیتے ہُوئے سُوچا۔ اب یہ پھر سے یہ سوال نہ کرڈالے کہ جہلم تک ٹیکسی کا سفر تو بُہت طویل ہُوجائے گا۔۔۔ لیکن کامل علی نجانے کِس خیال میں ڈُوبا تھا کہ اُسکے خیال میں یہ بات ہی نہیں آسکی۔ اُور دونوں گھر سے نِکل کر ٹیکسی اسٹینڈ کی جانب روانہ ہُوگئے۔۔۔

ٹیکسی اسٹینڈ کی جانب جاتے ہُوئے راستے میں ایک اُبھرے ہُوئے سنگ سے کامل علی کا پاوٗں ٹکرا گیا۔ اِس سے پہلے کہ وُہ زمین پر گِر پڑتا ۔ اَبو شامل نے اُسکا بازو تھام لیا۔ کامل علی نے ابو شامل کا شُکریہ ادا کرتے ہُوئے جب اِرد گرد نِگاہ دوڑائی تُو اُس نے خُود کو ایک اجنبی ماحول میں پایا۔ یہ ایک کُشادہ سڑک سے ملحق لِنک روڈ تھا۔ اُور سامنے ایک وسیع گراونڈ کا اِحاطہ نظر آرہا تھا۔۔۔۔ کامل علی کی زُباں سے بے اِختیار نِکلا۔۔۔ یہ ہم کہاں آگئے۔

یہ جہلم کا مشہور گولف کُورس گراوٗنڈ ہے۔ ابو شامِل نے گراوٗنڈ کی جانب اِشارہ کرتے ہُوئے اپنی گُفتگو کا جاری رکھا۔۔ اُور اِس وقت ہم اقبال کالونی کے موڑ ۔۔۔ اُور ایف جی کالج رُوڈ و جی ٹی رُوڈ کے سنگم پر کھڑے ہیں۔۔ افلاطُوں نے کسی مُشاق ٹُورسٹ کی طرح جواب دیتے ہُوئے حسب سابق اپنی عادت کے مُطابق اپنے سر کو ذرا سا خَم کردِیا۔ اگر ہمیں اِسی طرح جہلم میں آنا تھا۔ تُو سیدھے جلباب کے گھر کیوں نہیں گئے۔۔۔؟ کامل علی نے ایک اُور سوال داغتے ہُوئے استفسار کیا۔۔۔۔۔

اُو میرے بُھولے بادشاہ ہر کام کا ایک طریقہ ہُوتا ہے۔ ۔۔۔ ہمیں جلد واپس بھی جانا ہے۔۔۔ اُور جلد واپسی کیلئے کوئی معقول بہانہ بھی تُو ہُونا چاہیئے نا۔۔؟ ابو شامل نے کامل علی کو آنکھ مارتے ہُوئے رُوڈ سے گُزرتی ایک ٹیکسی کو اِشارہ کیا۔۔۔۔ ٹیکسی والے نے نذدیک آنے پر اِن دُونوں کا بغور معائنہ کرتے ہُوئے پُوچھا۔۔۔ کیوں باوٗ جی کِتھے جانا اے۔۔۔؟

یار بس ذیادہ فاصلے تے نیوں جانا اے۔۔۔ وائی کراس توں پنڈ دَادن روڈ تے جیہڑی بلال مسجد آ۔۔۔ بس اُودے نال ای جانا اے۔۔۔ دَس کِنا کرایہ لے گا۔۔۔ ٹیکسی والا ابو شامل کی ٹوٹی پھوٹی پنجابی اُور حلیہ سے اندازہ لگانے کی کوشش کرتے ہُوئے کہنے لگا۔۔۔ باوٗ جی ہُوندے تے تین سُو روپیہ نے پر تُساں دُو سو روپیہ دے دینا۔۔۔۔ یار اللہ نُوں مَن تین کلو میٹر دا سفر بھئ نہیں ہیگا۔ تو اسطرح کر کہ سُو رُوپیئے لے لییں ابو شامل شائد موڈ میں تھا۔ جو اسطرح اپنا وقت ضائع کئے جارہا تھا۔ ۔۔۔۔باوٗ جی چلنا اے تے چلو۔ نیئں تے میرا ٹائم خراب نہ کرو۔۔ ٹیکسی ڈرائیور نے زِچ ہُوتے ہُوئے کہا۔۔۔۔۔ چل یار جسطرح تیری مرضی۔۔۔۔ اَبو شامل نے کامل علی کی پریشانی کو بھانپتے ہُوئے کہا۔۔۔۔

ٹیکسی بِلال مسجد سے عید گاہ کی جانب جاتے ہُوئے ایک مکان کے سامنے ٹہر گئی۔۔۔۔ ابو شامل نے ٹیکسی والے کو ایک ہزار کا نُوٹ دیتے ہُوئے کہا،، ہمیں دُو گھنٹے کے بعد واپس جی ٹی رُوڈ جانا ہے۔ اگر تُم دُو گھنٹے انتظار کرلُو۔ تُو یہ ایک ہزار کا نُوٹ تُمہارا ہُوسکتا ہے۔۔۔؟ ٹیکسی والے کی ایک ہزار رُوپیہ کا نُوٹ دیکھ کر باچھیں کِھل اُٹھیں۔ ۔۔۔ لیکن دوسرے ہی لمحے اُس نے مُرجھائے ہُوئے چہرے کے ساتھ کہا۔۔ نہیں باوٗ جی مجھے اپنے بچے سے مِلنے کیلئے اسپتال جانا ہے۔ میں دُو گھنٹے یہاں آپکا انتظار نہیں کرسکتا۔۔۔کیوں کیا ہُوا ہے تُمہارے بیٹے کو۔۔۔؟ ابو شامل کے اِ س سوال پر ڈرائیور نے مُرجھائے ہُوئے لہجے میں فقط اِتنا ہی کہہ پایا۔۔۔ شائد حلق کا کینسر۔۔۔ بڑا منع کرتا تھا کہ،، پُتر نہ کھایا کر یہ گُٹکے شُٹکے۔ ۔۔ مگر اُس نے کدی میری گَل نئیں مَنی۔۔۔۔

اچھا یہ تُو کرسکتے ہُو کہ بچے سے مِل کر ۲ گھنٹے بعد واپس آجاوٗ ۔۔۔ ابو شامل نے تجویز پیش کرتے ہُوئے کہا۔۔۔ابو شامل کی تجویز سُن کر ٹیکسی ڈرائیورنے حامی بھرلی۔۔۔ ۔ ٹیکسی ڈرائیور جانے لگا۔ تو ابو شامل نے مزید پانچ ہزار روپیہ اُسکی جیب میں ٹھوستے ہُوئے کہا۔ ۔۔۔ یار اِن پیسوں سے میری طرف سے میرے بھتیجے کیلئے کُچھ لے جانا۔۔۔۔ ٹیکسی ڈرائیور شائد کُچھ ذیادہ ہی مجبور تھا۔ اسلئے اُس نے خاموشی سے وُہ رقم قبول کرلی۔ البتہ اُسکی آنکھوں میں آئے تشکر کے آنسو کامل علی کی نظروں سے بھی بچ نہیں پائے۔۔۔

دروازے پر تیسری دستک دینے کے بعد اندر سے جِلباب کی آواز اُبھری۔ کُون ہے بھائی۔۔۔۔؟ راشد گھر پر نہیں ہے۔۔۔۔ جِلباب کی آواز سُن کر کامل علی سے نہ رَہا گیا اُس نے پُکار کر جواب دیا۔۔۔ بِہن دروازہ کُھولو۔۔۔ میں ہُوں تُمہارا بھائی کامل علی۔ ۔۔ کامل کی آواز سُنتے ہی جلباب نے لپک کر دروازہ کھول دِیا۔۔۔۔ اُور نجانے کیسی بے اختیاری تھی۔ جسکی وجہ سے جلباب کامِل علی کے اندر داخل ہُوتے ہی اُس سے کامل بھائی کہہ کر لِپٹ گئی۔۔۔ اُسکی حالت ایسی ہی تھی ۔ جیسے کسی کو تپتے صحرا میں نخلستان نظر آگیا ہُو۔۔۔ یا جیسے۔۔۔۔۔ کِسی پیاسے کو پانی کے ایک قطرے کی خُواہش کرتے کرتے دَریا دِکھائی دے جائے۔۔۔۔ وُہ اگرچہ خُود کو بُہت سنبھالے ہُوئے تھی۔۔۔۔ لیکن اُسکا لہجہ چغلی کھارَہا تھا۔۔۔ کہ وُہ بابل کے آنگن سے آئے مہمان کا مُدتوں سے انتظار کررَہی تھی۔۔۔ جلباب کا جی چاہ رَہا تھا کہ وقت تھم جائے اُور اپنے بھیا کے سینے پر سر رکھے یُونہی اپنے بابُل کے صِحن کی مٹی کی خُوشبو کو مِحسوس کرتی رہے۔۔۔۔ یکایک اُس کی نِگاہ ابو شامِل پر پڑی تو ایک اجنبی کو اتنے انہماک سے دُو بہن بھائی کے قریب دیکھ کر سنبھلتے ہُوئے چُونک کر کامل علی سے دریافت کرنے لگی۔۔۔ کامل بھائی یہ کُون آپ کے ساتھ آئے ہیں۔۔۔؟

کامل علی اِس سوال کیلئے شائد ذِہنی طُور پر تیار نہیں تھا۔۔۔ ٹیکسی میں سَوار ہُونے سے قبل اَبو شامل نے خُود ہی کہا تھا۔ کہ وُہ جلباب کے سامنے نہیں آنا چاہتا۔۔۔ اِس لئے وُہ اِسے ساتھ نہیں دیکھ پائے گی۔۔۔۔ لیکن وُہ ابو شامل کو دیکھ پارہی تھی۔ اِس کا مطلب یہ ہُوا کہ ابو شامل نے پوشیدگی کی چادر نہیں اُوڑھی تھی۔۔۔۔ کامل علی کی سمجھ میں اُور تُو کچھ نہیں آیا۔ بس وُہ اِتنا ہی کہہ پایا۔ یہ رفیق صاحب ہیں۔ اُور بابا جان کے شاگرد ہیں۔۔

اَبو شامِل نے کامل کی گھبراہٹ کو دیکھ کر بات سنبھالتے ہُوئے کہا۔۔۔ دراصل میں مولوی صاحب کا شاگرد ہُونے کیساتھ ساتھ اُنکا بزنس پارٹنر بھی ہُوں۔۔۔ مولوی صاحب نے کُچھ رقم میرے کاروبار میں لگائی تھی۔ جُو بڑھتے بڑھتے ایک معقول رقم میں تبدئل ہُوچُکی ہے۔۔۔۔میں اب مُلک سے باہر جانا چاہتا ہُوں۔۔۔۔ اُور مجھے چند دِن قبل ہی مولوی صاحب کے انتقال کی خبر مِلی تھی۔۔۔۔ بڑی مشکل سے کامل صاحب کا پتہ چلا ۔۔۔ یہ جہلم آرہے تھے۔تُو میں بھی ضد کرکے انکے ساتھ جہلم چلا آیا۔۔۔۔۔ اب آپ مجھ سے یہ رقم لے کر مجھے اِس فرض سے سبکدوش کردیں۔ اتنا کہنے کے بعد ابوشامِل نے اپنے پرس سے چار چیک ایک ایک لاکھ رُوپیہ مالیت کی رقم کے جلباب کی جانب بڑھا دیئے۔۔۔۔

جلباب اِن چیکوں کو تھامتے ہُوئے جھجک رہی تھی۔۔۔۔ کیونکہ یہ سب کُچھ جلباب کو بُہت عجیب سا لگ رَہا تھا۔۔۔کیونکہ نہ جلباب نے کبھی اِس اجنبی انسان کو پہلے دیکھا تھا۔۔۔۔ اُور نہ ہی مولوی صاحب نے کبھی اُسے یہ بات بتائی تھی کہ،، اُنہوں نے کوئی رقم پس انداز کرکے کاروبار میں لگائی ہُوئی ہے۔۔۔۔۔ کامِل علی نے وُہ تمام چیک ابو شامل کے ہاتھ سے لیکر جلباب کو تھماتے ہُوئے کہا۔۔۔ میری بہن اپنی رقم لینے میں کیسی جھجک۔۔ اِس رقم پر صرف تُمہارا حق ہے۔۔۔ اِسے احتیاط سے سنبھال کر رَکھ لو۔ چاہو تُو اپنا اکاونٹ کھلوا لُو۔۔۔ یا چاہو تو اپنے بچوں کے لئے انہیں محفوظ کرلو۔ ویسے راشد بھائی اُور سفینہ پھپوکہاں ہیں۔۔۔؟ کامل علی نے گھر میں یہاں وَہاں نِگاہیں دوڑاتے ہُوئے ابو شامل کے ہاتھ سے شاپر لیکر بیڈ کی سائڈ میں پڑی میز پر رکھتے ہُوئے کہا۔۔۔

سفینہ پھپو کے انتقال کو تُو ایک برس سے زائد کا عرصہ گُزر چُکا ہے ۔۔۔۔ اُور وُہ شہر سے باہر گئے ہُوئے ہیں شائد ایک دُو دِن میں واپس آجائیں۔۔۔ ویسے آپ دُوچار دِن تو رُکیں گے ہی ۔۔۔تب تک شائد وُہ بھی واپس آجائیں۔ جلباب نے اپنے لہجے کو حتی الامکان نارمل بناتے ہُوئے جواب دیا ۔۔۔ لیکن جلباب کے لہجے میں چھپی بیچارگی کو کامل کیساتھ ساتھ ابو شامل بھی محسوس کرگیا۔

نہیں جلباب مجھے آج ہی واپس جانا ہے۔ دراصل کاروبار کے سلسے میں مجھے لاہور میں آج رات ایک صاحب سے مُلاقات کرنی ہے۔۔۔ اُور کل مجھے ملتان جانا پڑے گا۔۔۔۔ کامل علی نے بات بناتے ہُوئے کہا۔۔۔ اُور آپ سیالکوٹ بھی تُو جانے کا تذکرہ کررَہے تھے۔ ابو شامل نے بیچ میں لقمہ دیتے ہُوئے کہا۔۔۔ ہاں دیکھو ملتان سے کب تک فارغ ہُوتا ہُوں۔۔۔ پھر سیالکوٹ چلا جاوٗں گا۔۔ کامِل علی نے ابو شامِل کو گھورتے ہُوئے جواب دِیا۔۔۔۔

بھائی لگتا ہے ماشاءَاللہ آپ کا بزنس خُوب چل رہا ہے۔۔۔۔ مگر بھائی آپ کے بزنس کے لئے سرمایہ کہاں سے آیا۔۔۔؟ جلباب کے اِس سوال نے ایکبار پھر کامل علی کو چکرا کر رکھ دیا۔۔۔ وُہ سُوچنے لگا۔۔۔۔ واقعی بُزرگ سچ کہتے ہیں۔۔۔ کہ،، جھوٹ کے پاوٗں نہیں ہُوتے۔۔۔ میں نے اماں والا مکان بیچ دِیا ہے۔ اُور عبدالرشید نامی اپنے سابقہ سیٹھ کے ساتھ پارٹنر شپ کرلی ہے۔ کامل علی نے پھر جھوٹ کا سہارا لیتے ہُوئے سُوچا اگر جلباب نے مزید ایک دُو سوال اُور کردئیے تو وُہ مَزید جُھوٹ نہین بُول پائے گا۔۔۔ کامل علی جلد از جلد جلباب کے گھر سے نِکل جانا چاہتا تھا۔ لیکن وُہ بضد تھی کہ کم از کم وُہ کھانا کھائے بِنا نہیں جاسکتا۔۔۔ کامل علی کو ناچار جلباب کی ضد کے آگے ہتھیار ڈالنے پڑگئے۔ کھانے سے فارغ ہُونے کے بعد کامل علی نے جلباب سے اِس وعدے کے ساتھ اِجازت چاہی۔ کہ وُہ وقتاً فوقتاً آتا رہے گا۔۔۔ کامل علی جانتا تھا کہ جلباب کی دِلی خُواہش یہی ہُوگی کہ میں مزید یہاں رُک جاوٗں۔۔۔ لیکن ابو شامِل اُسے بار بار اشارے کِنایئے میں چلنے کی درخواست کررہا تھا۔

گھر سے نکلنے کے بعد کامل علی کی نِگاہیں ٹیکسی ڈرائیور کو تلاش کرنے لگیں۔ لیکن وُہ اِسے دُور دُور تک کہیں نظر نہیں آیا۔۔۔ یار لگتا ہے وُہ ڈرائیور گھبرا گیا کہ کہیں تُم اُس سے رقم واپس نہ مانگ لُو۔۔۔ کامل نے شرارت بھرے لہجے میں ابو شامل کے کان میں سرگُوشی کرتے ہُوئے کہا۔۔۔ نہیں یار۔ تُم غلط سُوچ رہے ہُو۔۔ دیکھ لینا وُہ ابھی آجائے گا۔۔۔ اُور واقعی ابو شامل کا جُملہ مکمل ہُوتے ہی اُنہیں دُور سے ایک گاڑی کی ہیڈ لایٹ نظر آئیں ۔ جُو انہی کی جانب بڑھی چلی آرہی تھی۔۔۔
وُہ ٹیکسی ڈرائیور واپس آگیا تھا۔ اُور اب اسکا چہرہ پہلے کے مُقابل کافی پرسکون نظر آرہا تھا۔۔۔ دُوران سفر ابو شامل نے اُسکے بیٹے کی خیریت دریافت کرنے کے بعد جب اُس سے اُسکا نام اُورٹیکسی کی ملکیت کے متعلق سوال کیا۔ تُو ڈرائیور نے اپنا نام زَمان بتاتے ہُوئے کہا کہ اِ س ٹیکسی کا وُہ صرف ڈرائیور ہے۔۔۔ اُور اِس ٹیکسی کا مالک بُہت جلد یہ ٹیکسی فروخت کرنے والا ہے۔ اُسکے بعد مجھے کوئی دوسری ٹیکسی دیکھنی پڑے گی۔ جِسے چلا کر اپنے بچوں کا پیٹ بھر سکوں۔۔۔ یار تُم یہ ٹیکسی خرید کیوں نہیں لیتے۔۔۔ ابو شامِل نے بڑی بے نیازی سے مفت مشورہ دیتے ہُوئے کہا۔۔۔

صاحب کیوں مَذاق کرتے ہیں۔۔ یہاں بچوں کو کھلانے کے لالے پڑے ہیں۔ اُور آپ پانچ ساڑھے پانچ لاکھ کی گاڑی خریدنے کی بات کررہے ہیں۔ زَمان نے اُداسی سے کہا۔۔۔۔ اگر رقم نہیں ہے تُو کہیں سے قرض حاصل کیوں نہیں کرلیتے ابو شامل کے مفت مشوروں کی پٹاری کُھل چُکی تھی۔ صاحب۔۔ مجھ جیسے غریب کو بھلا کوئی کیوں اتنی بڑی رقم اُدھار دے گا۔۔۔ زَمان کے لہجے میں اُداسی کیساتھ حسرت بھی دَر آئی تھی۔ ۔۔اگر تُم چاہو تُو اتنی رقم میں تُمہیں ۲ دِن میں دِلوا سکتا ہُوں۔ اُور وُہ بھی معمولی خانہ پُری کاغذات میں کرنے کے بعد۔۔۔ بس شہر کے ۲ معزز افراد کی ضمانت پر۔۔ اُور مزے کی بات یہ ہے کہ تُمہیں رقم لُوٹاتے ہُوئےکوئی اضافی رقم بھی ادا نہیں کرنی پڑے گی۔ اگر کوئی بھی ضمانت دینے والا نہ مِلے تب بھی کوئی ٹینشن کی بات نہیں۔ ہم دُونوں بھی معززین میں ہی شُمار کئے جاتے ہیں۔۔۔ ابو شامل نے اپنی اُور کامل کی طرف اشارہ کرتے ہُوئے کہا۔۔۔ابو شامِل کی اِس بات پر جہاں زمان کی باچھیں کِھلی جارہی تھیں۔ وہیں حیرت سے کامل علی کا مُنہ کُھلا کا کھلا رِہ گیا۔۔۔ کامِل علی سُوچنے لگا یہ جن زادہ ہے۔۔۔ یا حاتم طائی کی رُوح۔۔۔۔۔ جو ہر ایک کو نوازتا ہی چلا جارہا ہے۔۔۔ جبکہ زمان ڈرائیونگ کرتے ہُوئے سُوچ رَہا تھا کہ،، یہ دُونوں انسان ہیں یا فرشتے۔۔۔؟


پھر دَرد بڑھ رَہا ہے پھر نیند کی خُواہِش
ہُوئی دِل میں پِھر سے پیدا تیری دِید کی خُواہش

تیری رَاہ کے خَار سارے ۔۔۔ پَلکوں سے اپنی چُن لُوں
مجھے پا کے تیرے مَن میں۔۔ نہ رہے مَزید خُواہش

قسط ۔۱۷
ابو شامل نے گولف کورس گراؤنڈ آنے پر ٹیکسی سے اُترتے ہُوئے زَمان کو یقین دِلایا کہ۔۔۔ وُہ کل رات اِسی ٹائم اُور اِسی مقام پر اُسکا انتظار کرے گا۔ اِسلئے کل وُہ اپنے ڈاکومینٹس لیکر یہیں آجائے۔ ڈاکومینٹس جمع کروانے کے ایک ہفتے کے اندر اندر اُسے ٹیکسی خریدنے کیلئے مطلوبہ رقم مِل جائے گی۔ زمان نے ابو شامِل کا شُکریہ اَدا کرتے ہُوئے کہا۔۔۔۔ صاحب جی۔۔۔اگر ایسا ہُوگیا تو میں اُور میرے بچے تازِندگی آپکو اپنی دُعاؤں میں ہمیشہ یاد کرتے رہیں گے۔ زمان کے لہجے سے اِحسان مندی اُور تشکر کے جذبات کا اِظہار ہُورَہا تھا۔۔۔۔

کیا تُم واقعی اُسکی مدد کیلئے جہلم واپس آؤ گے۔۔۔؟ یا یُونہی وقت پاس کرنے کیلئے اُس غریب ڈرائیور کیساتھ کھیل رہے تھے۔۔۔؟ زَمان کے جاتے ہی کامل علی نے استفہامیہ انداز میں ابو شامل کو دیکھتے ہُوئے سوال کیا۔۔۔ نہیں یار میں اُن لوگوں میں سے نہیں ہُوں۔ جو کسی کے جذبات کے ساتھ کھیلتے ہیں یا کِسی کو جھوٹی اُمید دِلاتے ہیں۔۔۔ میں واقعی اُسکی مدد کرنا چاہتا ہُوں اُور اسکے لئے مجھے چاہے جتنی مرتبہ بھی جہلم آنا پڑے میں ضرور آؤنگا۔۔۔اُور ڈاکومینٹس بھی صرف خانہ پُری کیلئے مانگ رَہا ہُوں تاکہ اُسے شک نہ پڑے۔۔۔ جہلم دُوبارہ آنے کا ایک مقصد جلباب کے شوہر کی اِصلاح کا کُچھ سامان کرنا بھی ہے۔ وُہ لاتوں کا بھوت ہے جو صِرف باتوں سے ماننے والا نہیں۔۔۔ اسلئے میں نے اُسکے لئے بھی کُچھ پلاننگ سُوچ کر رکھی ہے۔ کُچھ خوراک تو آج ہی دینی ہے۔۔۔اسلئے جب تم نرگس سے مِلو گے تب میں واپس آکر ارشد کو کُچھ مزہ چکھانے کی کوشش کرونگا۔ ابو شامل نے حتمی لہجے میں جواب دیتے ہُوئے اپنی بات مُکمل کی۔

ویسے یار ایک بات کہوں آج جلباب سے بار بار جھوٹ بولتے ہُوئے میرے تُو اِس سردی میں بھی پسینے چُھوٹ گئے تھے۔ اُوپر سے تُم نے سیالکوٹ کا تذکرہ چھیڑ دِیا۔ ۔۔ کامل علی نے اَبو شامل کو متوجہ کرتے ہُوئے کہا۔۔۔کُچھ نہیں ہُوتا یار۔۔۔ دھیرے دھیرے سب سیکھ جاؤ گے۔۔۔ ابو شامل نے اپنے بالوں سے کھیلتے ہُوئے اپنے ہیر اِسٹائل کو یکسر تبدیل کرڈالا۔۔۔۔ نہیں بھائی میں کوئی پروفیشنل ادکار یا سیاست دان تُو ہُوں نہیں جو بڑے اعتماد سے جھوٹ بولتا چلا جاؤں۔ ویسے بائی دا ۔وے کیا میں پُوچھ سکتا ہُوں۔ کہ یہ سیالکوٹ کا تذکرہ ایویں مذاق میں آگیا تھا گُفتگو کے دُوران ۔۔۔ یا اِس میں بھی کوئی خاص راز چُھپا ہے جناب من۔۔۔ کامل نے سردی کا اِحساس ہُوتے ہی اپنے ہاتھ جیکٹ میں چھپاتے ہُوئے شُوخی سے کہا۔

تُم نے صحیح پہچانا۔سیالکوٹ کا تذکرہ واقعی میں نے ایک سبب سے کیا تھا میرے یار۔ ۔۔مگر میں ابھی تُم کو کچھ نہیں بتاؤنگا۔ بلکہ گھر پُہنچ کر تمہیں اُسکی وجہ بتاؤں گا۔۔ کیونکہ ابھی تُو ہمیں نرگِس کے گھر بھی جانا ہے ۔اُور یہاں کھلے میدان میں سَردی بھی غضب ڈھارَہی ہے۔۔۔نرگِس کا تذکرہ کرتے ہُوئے ابو شامل نے شرارت بھری نظروں سے کامل علی کی جانب دیکھا۔۔۔ کامل علی کے چہرے پر شرم کی وجہ سےکئی رنگ آکر گُزر گئے۔۔۔۔ بڑی شرم آرہی ہے جناب کو۔۔۔۔۔؟ ابوشامِل نے شرارت کرتے ہُوئے کامل علی کی کَلائی کو زُور سے بھینچتے ہُوئے کہا۔۔۔ افلاطُون کلائی تُو چُھوڑ دُو یار۔بُہت درد ہُو رہا۔۔۔ ایسا محسوس ہُورہا ہے۔۔ جیسے کِسی آہنی شکنجہ میں میرا ہاتھ پھنس گیا ہُو۔۔۔! کامل علی نے اپنی خِفت مِٹانے کیلئے بات بنائی۔۔۔۔۔۔ لُو جی چُھوڑ دِیا آپکا ہاتھ۔۔۔ ابو شامل نے یکدم کامل علی کا ہاتھ جھٹکے سے چُھوڑتے ہُوئے کہا۔۔۔ کامل علی اِس غیر متوقع جھٹکے کیلئے قطعی تیار نہیں تھا۔جِس کی وجہ سے وُہ اپنا توازن سنبھال نہیں پایا۔اُور زمین پر ڈھیر ہُوگیا۔۔۔۔ یار یہ کونسا طریقہ ہے ہاتھ پکڑنے اُور چُھوڑنے کا۔۔ کامل علی نے ناراضگی کا اِظہار کرتے ہُوئے کہا۔

بھائی صاحب محبوب کے دیس پُہنچنے کیلئے چُھوٹے مُوٹے جھٹکے تُو برداشت کرنے ہی پڑتے ہیں۔ابو شامِل نے فِضا میں اپنے دُونوں ہاتھ بُلند کرتے ہُوئے انگڑائی لی۔۔۔۔ محبوب کے تذکرے پر کامل علی نے دائیں بائیں دیکھا تو وُہ حیران رِہ گیا۔۔۔۔ گُولف کُورس کا دُور دُور تک نام و نِشان نہیں تھا۔ اب وُہ ایک جگمگاتی شاہراہ پر گُول چُورنگی کے نذدیک کھڑے تھے۔ کامل علی نے اتنی پُررُونق اُور وسیع شاہراہ اپنی زندگی میں پہلی مرتبہ دیکھی تھی۔ یہاں گاڑیاں صرف زمین پر ہی نہیں چل رہی تھیں بلکہ فضا میں معلق سڑک پر بھی بڑی بڑی گاڑیاں رَواں دَواں تھی۔۔۔ کامل علی کے مُنہ سے بے ساختہ نِکلا۔۔۔ یار اَبو شامل یہ کونسی جگہ ہے۔۔۔؟

یہ کراچی ہے میری جان۔۔۔ جِسے روشنیوں کا شہر بھی کہا جاتا ہے۔۔۔ اُور یہ فلائی اُوور ہے۔۔۔۔ جِسے تم اتنے غُور سے دیکھ رہے ہُو۔۔۔۔ ابو شامل نے کامل علی کی مُتجسس نگاہوں کا تعاقب کرتے ہُوئے اُسے آگاہ کیا۔۔۔۔ اچھا تُو یہ ہے کراچی۔۔۔۔ یار یہاں کی سڑکیں تُو واقعی بُہت بڑی بڑی ہیں۔۔۔۔ میں نے اُستاد عبدالرشید سے سُنا تھا۔ وُہ بتارہے تھے کہ یہاں آنے والوں پر یہ شہر اپنا سحر طاری کردیتا ہے۔ جُو یہاں ایکبار آجائے وُہ پھر واپس جانے کا نام نہیں لیتا۔۔۔۔

ہاں میرے دُوست یہ شہر کبھی ایسا ہی ہُوا کرتا تھا۔ جیسا ابھی تُم نے بیان کیا ہے۔۔ مگر اب شائد یہ کسی بد نظر کی منحوس نِگاہوں کا شِکار ہُوگیا ہے۔ رُوزانہ بے شمار لُوگ یہاں اندھی گولیوں کا نِشانہ بن جاتے ہیں۔۔۔ گھر سے باہر جانے والوں کا انتظار گھر والے ایسے کرتے ہیں۔۔۔ جیسے وُہ گھر سے باہر نہ گیا ہُو ۔بلکہ مقتل گاہ میں چلا گیا ہُو۔۔۔۔ ابو شامل نے حَسرت و یاس کی مِلی جُلی کیفیت میں تبصرہ کرتے ہُوئے کہا۔۔۔

مگر ہم یہاں آج کیوں آئے ہیں۔ آج تُو ہمیں نرگس کے گھر جانا تھا نا۔۔ کامل علی نے اپنی کلائی میں وقت دیکھتے ہُوئے کہا۔۔ جہاں رات کے پونے دُو بج رہے تھے۔۔۔۔ اُو میرے بُھولے بادشاہ محبوبہ تیری ہے۔ اُور تُجھ ہی کو خبر نہیں کہ آجکل میڈم نرگس صاحبہ اپنے ایک بچے کیساتھ ناظم آباد کے ایک فلیٹ میں رِہتی ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اچھا مجھے تُو واقعی کوئی خبر نہیں تھی۔۔۔۔ پھر کہاں ہے نرگس کا فلیٹ۔۔۔؟ کامل علی کے لہجے میں بچوں جیسا اشتیاق مُوجود تھا۔۔۔۔۔۔۔ وُہ سامنے والے اپارٹمنٹ کے تھرڈ فلور پر موجود ہے۔۔۔ جا میرے یار مزے کر میں صبح واپس آؤنگا۔۔۔۔ ابو شامل نے کامل علی کو آنکھ مارتے ہُوئے کہا۔۔۔۔۔

نہیں یار ایسے کسطرح چلاجاؤں ۔ وہاں اُسکا شوہر بھی تُو موجود ہُوگا۔ اُور پھر اپارٹمنٹ کا چوکیدار نہیں ہُوگا کیا۔۔۔؟ اُس سے کیا کہوں گا۔۔۔ نہیں تُم ساتھ چلو۔۔۔ بلکہ ایسا کرو مجھے رات بھر کیلئے غائب کردُو۔ کامِل علی نے کُچھ سُوچتے ہُوئے کہا۔۔۔۔۔ اُو بھائی پہلی بات تو یہ ہے کہ تُمہاری نرگس وہاں اپنے شوہر کیساتھ نہیں بلکہ تنہا اپنے بچے کیساتھ رہتی ہے ۔ کیونکہ اُس کے شُوہر نے تیسری شادی کسی شُوبز ڈانسر سےکرلی ہے۔ اُور آجکل موصوف اکثر وہیں پائے جاتے ہیں۔ ۔۔ دُوسری بات یہ ہے کہ وُہ تُمہاری محبوبہ ہے ۔ ہم دُونوں کی مشترکہ نہیں ۔ تیسری بات یہ ہے کہ اِس اپارٹمنٹ میں سیکیورٹی کا کوئی انتظام نہیں ہے۔۔۔ سیکیورٹی تُو دُولت مندوں کو چاہیئے ہُوتی ہے ۔اُور اِس اپارٹمنٹ میں تو سبھی متوسط طبقہ کے لُوگ رہتے ہیں۔۔ جُو خُود ہی ایک دوسرے کی ٹوہ میں بھی لگے رہتے ہیں۔ اُور ساری رات گپ شپ کی وجہ سے خُود ہی سیکیورٹی کے فرائض بھی انجانے میں ادا کرتے رِہتے ہیں۔ ہاں البتہ میں یہ کردیتا ہُوں کہ تُمہیں نرگس جی کے دروازے کے سامنے کردیتا ہُوں۔ اِتنا کہہ کر ابو شامل نے کامل علی کو ہلکا سا پُش کیا جسکی وجہ سے کامل علی نے خُود کو ایک دروازے کے سامنے پایا۔ کامل علی نے یہاں وَہاں نظریں دُوڑائیں لیکن ابو شامل کہیں بھی نظر نہیں آیا۔۔۔

کامل علی کُچھ لمحات تک اپنی گھبراہٹ پر قابو پانے کی کُوشش کرتا رَہا۔ یہاں تک کہ اُسکی سانسوں کی لے نارمل ہُوگئی۔ اُسے ایک طرف جلد سے جلدنرگس کو دیکھنے کی تمنا تھی۔ تو دوسری طرف یہ خطرہ بھی موجود تھا کہ کوئی اچانک آ نہ جائے۔۔۔ اُور اگر کسی نے پُوچھ لیا کہ میاں رات کے ۲ بجے یہاں کیسے کھڑے ہُو ۔ تو بُہت گڑ بڑ ہوجانے کا اندیشہ ہے۔۔۔۔۔ یہی سُوچ کر کامل علی نے دھڑکتے دِل سے فلیٹ کی ڈور بیل پر ہاتھ رَکھ دیا۔ وُہ چھوٹی چھوٹی بیل بجاتا رَہا۔۔۔۔ چُوتھی پانچویں بیل پر اندر سے کُچھ کھٹر پٹر کی آواز سُنائی دی۔۔۔ کامل علی کا دِل ایک مرتبہ پھر سے زُور زُور سے دھڑکنے لگا۔۔۔ لیکن جونہی نرگس نے اپنی مترنم مگر سخت آواز میں اندر سے پُوچھا کُون ہے۔۔۔۔؟ تُو کامل علی کی خُوشی سے چیخ نِکلتے نِکلتے رِہ گئی۔ اِس آواز کو کامل علی ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں میں پہچان سکتا تھا۔ یہ اُسی کافر اَدا کی آواز تھی۔ کہ جسکو سُننے کیلئے کامل کے کان ایک مُدت سے ترس رہے تھے۔۔۔ جواب نہ مِلنے پر اندر سے پھر نرگس کی آواز بُلند ہُوئی ۔۔۔ کُون ہے۔ بُولتے کیوں نہیں۔۔

میں ہُوں کامل علی۔۔۔۔۔ کامل کے حلق سے پھنسی پھنسی سی آواز نِکلی۔ کُون کامل علی۔۔۔ میں کسی کامل علی کو نہیں جانتی۔۔۔۔ اندر سے دُوبارہ نرگس کی آواز بُلند ہُوئی۔۔۔۔۔ نرگس میں ہُوں کمالا ۔۔۔ تُمہارا پڑوسی۔۔۔۔ کامل علی نے ارد گرد دیکھتے ہُوئے مُناسب الفاظ کا انتخاب کرتے ہُوئے دھیمے لہجے میں جواب دِیا۔۔۔۔۔۔ اندر کُچھ لمحوں کیلئے سکوت قائم ہُوگیا۔۔۔۔ تھوڑی دیر کے بعد دروازے سے ملحق گِلاس وِنڈو میں روشنی کےآٓثار نظر آئے۔۔۔ پھر ایک نسوانی ہَیولا اُس رُوشنی کے درمیان نظر آنے لگا۔۔۔۔۔ جیسے کوئی باہر آنے والے مِہمان کو جانچنے کی کوشش میں مصروف ہُو۔۔ تھوڑی سی خاموش نگاہوں سےجانچ پڑتال کے بعد وُہ نسوانی ہیولا روشنی کے اُس دریچے میں کھو گیا۔۔۔۔دَروازہ کھلنے کی آواز کے ساتھ ہی نرگس کا چہرہ نظر آیا۔۔۔ نرگس کے چہرے پر نِگاہ پڑتے ہی کامل علی کے من آنگن میں چاندنی سی بِکھر گئی۔۔کامل علی بڑے انہماک سے اُسکے سراپے کا جائزہ لینے میں مصروف تھا۔۔جسکی تپش نرگس کے چہرے کو تمتمائے جارہی تھی۔۔۔۔ نرگس کے سراپا میں شادی کے باوجود کوئی خاص تبدئلی واقع نہیں ہُوئی تھی۔ سِوائے اِسکے کہ اُسکی کمر پہلے کے مقابلے میں کُچھ فربہ دِکھائی دے رہی تھی۔۔۔۔ کہو کامل یہاں کیسے آنا ہُوا۔۔۔؟ اُور وُہ بھی رات کی اِس تاریکی میں۔ جبکہ تُم خُوب جانتے ہُو کہ،،اگر کسی نے دیکھ لیا ۔۔۔۔۔تُو۔۔۔۔ میں ایکبار پھر کسی کی نِگاہوں سے گِر سکتی ہُوں۔۔۔۔ نرگس نے کامل کی محویت کو تُوڑتے ہُوئے آہستہ سے کہا۔

کیا اتنی مُسافت طے کر کے آنے والے مُسافر کو اپنے گھر میں بھی نہیں بُلاؤ گی۔۔۔؟ کامل علی نے اُداس لہجے میں نرگس کے چہرے کو دیکھتے ہُوئے کہا۔۔۔ نرگس نے تھوڑے سے تذبذب کے بعد کُچھ سُوچتے ہُوئے کامل علی کے لئے راستہ چھوڑ دِیا۔۔۔ فلیٹ میں داخِل ہُونے کے بعد کامل علی نے فلیٹ کا سرسری سا جائزہ لیا۔۔۔۔ یہ دُو کمروں کا ایک چھوٹا سا گھر تھا۔۔ جِس میں اگرچہ بظاہر کوئی آسائش کا سامان نظر نہیں آرہا تھا۔ لیکن پھر بھی جِس طرح تمام گھر کو قرینے سے ڈیکوریٹ کیا گیا تھا۔ وُہ اہلخانہ کی نفاست و ہُنرمندی کی داستان سُنانے کیلئے کافی تھا۔۔۔

نرگس نے ایک کمرے میں داخل ہُوتے ہُوئے کرسی کی جانب اِشارہ کرتے ہُوئے کامل علی کو بیٹھنے کیلئے کہا۔۔۔ اِس کمرے میں پلاسٹک کی اُس کرسی کے علاوہ ایک سِنگل بیڈ موجود تھا۔۔۔ کامل کے کرسی سنبھالتے ہی نرگس بھی بیڈ پر سِمٹ کر بیٹھ گئی۔ بیڈ کے درمیان میں ایک دُو سالہ بچہ اپنا انگوٹھا مُنہ لئے نیند کی حالت میں مُسکرا رَہا تھا۔۔۔۔۔ یہ میرا بیٹا طارق ہے۔ نرگس نے بچے کی جانب اِشارہ کرتے ہُوئے دھیمے لہجے میں کامل علی کو آگاہی بخشی۔۔۔ بُہت پیارا بچہ ہے ماشاءَاللہ بالکل تُم پر گیا ہے۔ کامل نے بچے کو بغور دیکھتے ہُوئے کہا۔

کامل تُمہیں یہاں نہیں آنا چاہیئے تھا۔۔۔ ہمارے درمیان جو کچھ بھی تھا۔۔ اُسے ختم ہُوئے ایک مُدت گُزر چُکی ہے۔ میں وُہ تمام باتیں ماضی کا قصہ سمجھ کر بُھول چُکی ہُوں۔۔۔ اسلئے میرے خیال میں تُمہیں میرے گھر آتے ہُوئے احتیاط کرنی چاہیئے تھی۔۔۔ میں ایک مرتبہ پہلے اپنے والدین کی نظروں سے گر چُکی ہُوں اُور اب اپنے شوہر کی نِگاہوں سے گرنا نہیں چاہتی۔۔۔ اگر تُم ایک طویل مُسافت طے کرکے میرے شہر سے رات کے اِس پہر میرے گھر نہ آئے ہُوتے تو میں ہرگز تُمہیں اپنے گھر میں داخل ہُونے کی اجازت نہ دیتی۔۔۔ مجھے اِس بات سے بھی غرض نہیں ہے۔ کہ تُم یہاں صرف میرے لئے آئے ہُو۔ یا کراچی کی رُونقوں سے محظوظ ہُونے کیلئے۔۔۔۔ میں تُو بس اتنا چاہتی ہُوں کہ جِس قدر جلد ہُوسکے تم یہاں سے ہمیشہ ہمیشہ کیلئے واپس لُوٹ جاؤ۔۔۔۔

نرگس کی گفتگو کامل علی کے سینے کو برچھی کی طرح چھلنی کئے جارہی تھی۔۔۔ جسکی وجہ سے نہایت رازداری سے اُسکی آنکھیں اَشکوں کو الودع کہہ رہی تھیں۔۔۔ کامل علی سُوچ رَہا تھا۔۔۔ کیا یہ وہی نرگس ہے ۔ جو مجھے دیکھے بِنا چین سے سُو بھی نہیں پاتی تھی۔۔۔ اُور کیا یہ وہی نرگس ہے کہ جِس کو پانے کیلئے وُہ تمام زمانے سے لڑنے کیلئے تیار تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟


اُسکا کہنا ہے۔ کِسی اُور کو دیکھوں نہ کبھی
کیوں کہ اُسکو یہ میرا رُوپ بُرا لگتا ہے
مجھکو ہر چہرے میں آتا ہے نظر اِک وُہ ہی
جُو نہ بھر پائے یہ بہروُپ بُرا لگتا ہے

جاری ہے۔

عامل کامل ابو شامل قسط ۱۳۔۱۴



قسط۔۱۳
کامِل علی اُس نوجوان کو بتانے ہی لگا تھا،، کہ جِسے وُہ بابا صابر کے نام سے جانتا ہے دَراصل وُہ بھی اُسی مَجذوب کی تلاش میں یہاں آیا ہے۔۔۔۔۔ اُور وُہ کوئی گُونگا شخص نہیں ہے بلکہ میں نے خُود کئی مرتبہ اُسکی زُبان سے نرم و گرم جُملے سُنے ہیں۔۔۔ البتہ یہ اُور بات ہے کہ،، وُہ باتیں اتنی مُبہم اُور پیچدہ ہُوتی ہیں کہ اُنکی شرح کی تشنگی قلب و ذِہن کی بے مائیگی کا افسانہ سُناتی ہیں۔۔۔

اِس سے پہلے کہ کامل علی کی زُباں اُسکے مُنتشر خیالات کی ترجمانی کرپاتی۔ کَامِل علی کی نِگاہ دُور کھڑے اُسی مجذوب پر پڑی۔ جُو اپنی اَنگلی ہُونٹوں پر رکھے اُسے خَاموش رِہنے کا اِشارہ کر رہا تھا۔ مَجذوب کے چہرے پر ایسا جلال تھا۔ کہ اگر وُہ اِشارہ نہ بھی کرتا تب بھی شائد کامِل علی اُس چہرے کو دیکھنے کے بعد ایک بھی لفظ اپنی زُبان سے بَمشکل ہی نِکال پاتا۔ یکایک اُس مَجذوب نے کامِل علی کو اپنے پیچھے آنے کا اِشارہ کیا۔۔۔۔ اُور خُود وَہاں سے روانہ ہُوگیا۔۔۔۔

کامِل علی میکانکی انداز میں اُس مجذوب کے پیچھے چلتا رَہا۔ یہاں تک کہ وُہ مَجذوب ایک سُنسان گلی میں دَاخِل ہُوگیا۔ کامل علی جُونہی اُس گَلی میں دَاخِل ہُوا۔ وُہ مجذوب کامِل علی کا ہاتھ پکڑ کر ایک ویران مَکان میں داخِل ہُوگیا۔ کامِل علی مکان کو دیکھ کر مزید وحشت زدہ ہُوگیا۔عجیب مکان تھا وُہ ۔جِس کی دیواروں میں ایک بھی کھڑکی تھی اُور نہ ہی کِسی چوکھٹ میں کوئی دروازہ سلامت تھا۔ شائد اِردگِرد کے رہنے والے مکین خالی گھر دیکھ کر خُوب ہاتھ صاف کررہے تھے۔ چھت کا پلاستر بھی تقریباً اُکھڑ چُکا تھا۔ جِس میں سے کہیں کہیں بُوسیدہ سریا جھانک کر اپنی موجودگی کا اِحساس دِلا رہا تھا۔ اچانک مجذوب نے اُسکی محویت کو تُوڑتے ہُوئے کہا،، یاد رکھنا کبھی کِسی سے یہ مت کہنا کہ میں تُم سے بات چیت کرتا ہُوں۔۔۔ کیونکہ اگر تُم سے ایسا کیا تُو مجھے اِس سے کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ البتہ تُم ضرور لوگوں میں تماشہ بن کر رِہ جاؤ گے۔۔۔۔ کیونکہ اَس تمام شہر میں کوئی تُمہاری اِس بات کو نہیں مانے گا۔۔ کہ،، بابا صابر کِسی سے بات کرتے ہیں۔۔۔

لیکن آپ نے یہ بہروپ آخر کیوں سجا رکھا ہے۔۔۔؟ اُور آپ کیوں لوگوں سے بات نہیں کرتے۔ اُور بھلا مجھ میں ایسی کیا خاص بات ہے جُو آپ نے اِس لاکھوں افراد کے شہرمیں مجھی کو گفتگو کیلئے چُنا ہے۔۔۔؟ِ کامِل علی بے تکان بُولتا چلا جارہا تھا۔ کہ مجذوب نے اُسکے ہُونٹوں پر انگلی رکھ کر اُسے خاموش رہنے کا اِشارہ کیا۔ اُور خُود خَلاؤں میں گُھور کر کسی کو تلاش کرنے لگا۔۔۔۔ چند لمحے یہاں وَہاں نِگاہیں گھمانے کے بعد اُس مجذوب نے صحن کی منڈیر پر نظریں جماتے ہُوئے کِسی کو مخاطب کرتے ہُوئے کہا،، ۔۔۔ ابے اُو حَرامزدے مجھ سے تُو کیا کھیلے گا۔۔۔۔؟ کیا میں تُجھے بے خبر دِکھائی دیتا ہوں۔۔۔؟ کیا میں نہیں جانتا کہ تُو کب سے اِس مُوقع کی تلاش میں ہے کہ،، اِس حرامزادے کیساتھ مِل کر اپنی دھما چُوکڑیوں کا سامان پیدا کرے۔ مجذوب نے کامِل علی کی جانب اِشارہ کرتے ہُوئے کہا۔۔۔ پھر نجانے مجذوب کے دِل میں کیا بات سمائی کہ ،، اُس نے زمین پر پڑی کنکریاں اُٹھا اُٹھا کر مُنڈیر کی جانب اُچھالنی شروع کردیں۔۔۔۔ چند ایک کنکریاں منڈیر کی جانب اُچھالنے کے بعد مجذوب اُسی نادیدہ ہستی کو گالیاں بکتا ہُوا وُہاں سے دُوڑتا ہُوا چلا گیا۔۔۔ کامل علی آج اُس مجذوب سے اپنے بے شُمار سوالوں کے جوابات کی توقع کررہا تھا۔ لیکن وُہ مجذوب تُو کِسی افلاطون کو گالیاں بکتا چلا جا رَہا تھا۔۔۔۔۔

وُہ مجذوب اِس واقعہ کے بعد پھر شہر میں نظر نہیں آیا۔۔۔۔ کئی ماہ گُزر چُکے تھے۔۔۔ اُور کامل علی نے اِس دوران کئی طرح کے وظائف کئے۔۔۔ دانہ ثمانی کے موکل کو وُہ ابھی تک بُھلا نہیں پایا تھا۔۔۔ پہلی مرتبہ میں اگرچہ کامِل علی کو کامیابی نصیب نہ ہُوسکی تھی۔ لیکن اِتنا تُو تھا کہ وُہ موکل حاظر ضرور ہُوا تھا۔۔۔ لیکن اُسکے بعد دُو مرتبہ کامل علی اُس چلہ کی تجدید کرچُکا تھا۔ لیکن اِس مرتبہ دُونوں چِلّے ہی ناکام رہے تھے۔۔۔۔ پھر اُستاد عبدالرشید کے کہنے پر وُہ آج میاں صاحب کے آستانے پر بھی حاضر ہُوا تھا۔۔۔ لیکن میاں صاحب نے مُلاقات ہی ایسی بے رُخی اُور اِس بے اعتنائی کے انداز میں فرمائی تھی،، گُویا مُلاقات سے پہلے ہی مُلاقات ختم ہُوگئی ہُو۔۔ کامل علی کو زمانے سے زیادہ اپنے نصیب پر غُصہ آرہا تھا۔ پھر نجانے کب اِ سی غَم و غُصہ کی حالت میں نیند نے اُسے اپنی آغوش میں چُھپا لیا۔۔۔ کامِل علی کو سُوئے ہُوئے چند منٹ سے زائد نہ ہُوئے ہُونگے۔ کہ کسی نے دھیمے دھیمے دروازے پر دستک دینی شروع کردی۔ اُور دستک دینے والے کے ہاتھ تب تک نہ تھمے۔ جب تک کہ کامل علی کچی نیند سے جاگ کر بڑابڑاتا ہُوا دروازے پر نہ آگیا۔

کامل علی نے آنکھ مَلتے ہُوئے دروازہ کھول کر دیکھا۔ تُو ایک نوجوان کو اپنا منتظر پایا۔ وُہ کوئی چھبیس ستائیس برس کا نُوجوان تھا۔ جسکے چہرے پر سادگی سے زیادہ بے وقوفی مترشح تھی۔ تیل میں تربتر بال جنکے دَرمیان میں سے سیدھی مانگ نِکالی گئی تھی۔ اُور ہُونٹوں پر باریک سی تلوار جیسی مُونچھیں دیکھ کر تُو کامل علی کی رات کے اِس پہر ہنسی نِکلتے نِکلتے رِہ گئی۔ کامِل علی نے اپنی ہَنسی پر قابو پاتے ہُوئے نرم لہجے میں دریافت کیا۔ بھائی کُون ہُو۔ اُور رات کے اِس پہر ایسی ٹِھٹرتی ہُوئی سردی میں کیوں میرا دروازہ کھٹکھٹا رہے تھے۔

بھائی مُسافر ہُوں، اُور اِس بھرے پُرے شہر میں میرا کوئی شناسا نہیں ہے۔ رِیلوےاِسٹیشن سے نِکل کر اپنے لئے کوئی جائے پناہ تلاش کررہا تھا۔ نجانے کیسے آپ کے گھر کے سامنے سے گُزرتے ہُوئے قدم ٹہر سے گئے۔ سُوچا آپ سے مدد مانگ لُوں ہُوسکتا ہے اِسطرح میرے ساتھ ساتھ آپ کا بھی کُچھ بھلا ہُوجائے۔ ویسے میرا نام افلاطون ہے۔۔۔۔ لیکن ۔۔۔۔ اگر آپ مجھے اَبو شامِل کے نام سے مُخاطب کریں گے تُو مجھے زیادہ اچھا لگے گا۔ اجنبی نوجوان نے اپنا تعارف اُور مُدعا پیش کرتے ہُوئے کہا۔

افلاطون۔۔۔ یہ کیا نام ہُوا بَھلا۔۔۔۔؟ کامل علی نے بڑبڑاتے ہُوئے خُود سے استفسار کیا۔۔۔۔ کامل علی کو یہ نام عجیب ضرور لگا تھا۔۔۔۔ لیکن اُسے بے چینی اِس بات کی تھی۔۔ کہ،، اُسے ایسا کیوں مِحسوس ہُورہا ہے جیسے اُسکا اِس نام سے کوئی رِشتہ جُڑا ہُو۔۔۔ یا اِس نام کے ساتھ اسکا کوئی خاص تعلق ہُو۔۔۔! وُہ اِس نام کو قرطاس ذِہن کی لُوح پر تلاش کرنے کی کُوشش کررہا تھا۔ لیکن کوئی سُراغ کوئی سِرا اُسکے ہاتھ نہیں آیا۔

کہاں کُھو گئے میاں کیا اندر آنے کیلئے نہیں کہو گے۔۔۔۔؟ اگر چند لمحے اُور یُونہی باہر کھڑے رہے تُو شائد ہم دُونوں قلفیوں کی صورت اختیار کرجائیں گے۔۔۔۔ افلاطون نے اپنے لہجے میں مِزاح کا عنصر پیدا کرتے ہُوئے کہا۔

لیکن میں ایک اجنبی شخص کو اپنے گھر میں کیسے داخل ہُونے کی اجازت دے سکتا ہُوں۔۔۔۔۔ کامل علی نے دروازے کی چُوکھٹ پر اپنا ہاتھ رکھتے ہُوئے ۔۔۔ گُویا اُسکی اندر آنے کی راہ مسدود کرتے ہُوئے جواب دِیا۔

اِس سے تُو بہتر تھا کہ میں تُم سے اندر داخل ہُونے کی اجازت طلب کرنے کی بے وقوفی ہی نہیں کرتا۔۔۔۔ یہ کہتے ہُوئے وُہ اجنبی کامل علی کو دھکیلتے ہُوئے اندر داخل ہُوگیا۔

کامِل علی نے اجنبی افلاطُون کی اِس بے باکی اُور دَراندازی پر تِلملاتے ہُوئے افلاطون نامی اِس نُوجوان کا بازو سختی سے تھامتے ہُوئے اُسے واپس دروازے سے باہر دھکیل دیا۔ جسکی وجہ سے وُہ نوجوان لڑکھڑاتے ہُوئے سڑک پر گِر پَڑا ۔ اُسے شائد کامِل علی سے ایسے جارحانہ رَویئے کی اُمید ہر گز نہیں تھی۔ کامِل علی نے غُراتے ہُوئے اُس نوجوان کو مُخاطب کرتے ہُوئے کہا،، یہ میرا گھر ہے ۔ کُوئی سرائے خانہ نہیں ہے۔ جہاں جس ایرے غیرے نتھو خیرے کا دِل چاہے۔ اُور وُہ دندناتا ہُوا داخل ہُوجائے۔ کامل علی نے حِقارت سے زمین پر گِرے ہُوئے نوجوان کو دیکھا جُو کمالِ ڈھٹائی سے کامل علی کو دیکھتے ہُوئے مُسکرا رہا تھا۔ کامِل علی نے دروازے کی کُنڈی لگا کر جُونہی اپنی چارپائی کی جانب بڑھا۔۔۔۔۔ اُسکی آنکھیں یہ دیکھ کر پھٹی کی پھٹی رِہ گئیں،، کہ وہ افلاطون نامی نوجوان جو ابھی ایک لمحے قبل سڑک پر گِر پڑا تھا۔ اپنی ٹانگیں پسارے بڑے آرام سے چارپائی پر نیم دراز تھا۔ کامل علی گھبرا ہٹ کے مارے چند قدم پیچھے کھسک گیا۔ بے خیالی میں اُسکا پاؤں گیس سلنڈر سے ٹکرا گیا جسکی وجہ سے وُہ اپنا توازن قائم نہیں رَکھ پایا۔

شہرِ اقبال نہ ہی جھنگ دیکھا
خَاک اُلفت کا تُونے رَنگ دیکھا

حُوصلہ پیار کا نہیں تھا اگر
کیوں خیالوں میں اُسکو سنگ دیکھا

دِل کو تُوڑا ہے تُو سزا بھی بُھگت
خاب میں خستہ دِل اُور جگر تنگ دیکھا

گرچہ نیت میں تیری کُھوٹ نہ تھا
ہم نے لہراتا تجھے پھر بھی اِک پتنگ دیکھا

عشرتِ وارثی بن جائے بات لُوگ اگر
دیکھ کر تجھ کو کہیں ہم نے اِک ملنگ دیکھا

قسط۔ ۱۴
زَمین پر اُوندھے منہ گرتے ہُوئے کامِل علی کو گیس سِلنڈر سے باہر نِکلا ہُوا نُوزِل اپنی داہنی آنکھ کے بالکل مُقابل دِکھائی دیا۔ اِس سے پہلے کہ وُہ نُوزل کامل علی کی آنکھ میں پیوست ہُوجاتا۔۔۔۔۔ اَفلاطُون نے بڑھ کر کامل علی کو تھام لیا۔ جسکی وجہ سے کامل علی کی ایک آنکھ ضائع ہُوتے ہُوتے رِہ گئی۔ افلاطُون نے اُسے چارپائی پر بِٹھاتے ہُوئے ڈانٹا۔۔۔۔ کہاں تُو طاقت حاصِل کرنے کیلئے کیسے کیسے پاپڑ بیلتے رَہے۔۔۔ کبھی خطرناک چِلّوں میں خُود کُو جُھونک رہے تھے۔ تُو کبھی ہندو بنگالی کی شاگردی کیلئے پر تُول رہے تھے۔۔۔۔ اُور اب جبکہ میں خُود تُمہارا سہارا بننے کیلئے اُور تُمہیں دُنیا کا طاقتور انسان بنانے کیلئے آگیا ہُوں۔۔۔ تُو مجھ سے بھاگ رہے ہُو۔ بلکہ سچ کَہوں تُو حماقت دِکھا رہے ہُو۔ افلاطُون نے ناراضگی کا اِظہار کرتے ہُوئے کہا۔

کیا تُم دانہٗ ثمانی کے موٗکل ہُو۔۔۔۔۔؟۔۔۔۔ کامل علی نے اپنے حَواس پر قابُو پاتے ہُوئے حیرانی سے استفسار کیا۔
یار دیکھو میں کُوئی دانہٗ ثمانی وَمانی کا موٗکل شُوٗکل نہیں ہُوں۔۔۔۔ البتہ یہ سچ ہے کہ میں تُمہاری مدد کرنا چاہتا ہُوں۔ اُور تُم سے دُوستی کا خُواہشمند ہُوں۔ تُمہاری تمام خُواہشات میں پُوری کردُوں گا۔ اُور کُچھ کام تُم میرے کردِیا کرنا۔۔۔ بس اتنی سے بات ہے۔

اگر تُم دانہٗ ثمانی کے موٗکل نہیں تُو پھر کُون ہُو۔ تُم بند دروازے کے باوجود گھر میں کیسے داخِل ہُوگئے۔۔۔؟ ۔۔۔اُور تُم میرے لئے کیا کرسکتے ہُو۔۔؟ کامل علی کا خُوف تجسس میں تبدیل ہُوچُکا تھا۔

دیکھو دُوست مجھ پر اعتماد کرو۔۔۔۔چلو ایسا کرتے ہیں میں پہلے چائے بنا لیتا ہُوں۔ اتنا کہنے کے بعد افلاطُون نے کامل علی کے جواب کا انتظار کئے بغیر چائے کی پتیلی چُولہے پر چڑھادی۔ حالانکہ ابھی کُچھ ہی گھنٹے قبل کامل علی دیکھ چُکا تھاکہ،، گیس کا سلنڈر بالکل خالی ہُوچُکا ہے۔ لیکن اب چولہے سے نکلتی ہُوئی آگ کی تیز لپٹیں کُچھ اُور ہی کہانی سُنا رہی تھیں۔۔۔۔ کامل علی سُوچ رَہا تھا کہ اگر یہ دانہٗ ثمانی کا موٗکِل نہیں تُو آخر یہ ہے کُون۔۔۔۔۔؟

اگلے ہی لمحے افلاطُون نے چائے کا گرما گرم مگ کامِل علی کے ہاتھوں میں تھماتے ہُوئے کہا۔۔۔۔ اپنے پہلے سے پریشان دِماغ کو مزید نہ تھکاوٗ۔ اس سَرد رات میں گرم گرم چائے کا مزہ لُو۔ اُور سب کُچھ بُھول جاوٗ۔۔ میں نے کہا ہے نا۔تُم سے۔۔۔ کہ،، چائے پیتے ہُوئے تُم کو سب کُچھ سمجھاتا ہُوں۔

کامل علی چائے کی چُسکیاں لیتے ہُوئے سُوچنے لگا۔۔۔ واقعی افلاطُون کے ہاتھ میں جادو ہے۔ ورنہ ایسی مزیدار چائے کبھی وُہ خود کیوں نہیں بنا پایا۔

افلاطُون نے چائے کا خالی مَگ سائڈ ٹیبل پر رکھتے ہُوئے کامل علی کو مُخاطب کیا۔۔۔ یہ چائے تُو کُچھ بھی نہیں ہے میرے یار۔۔ آگے آگے دیکھتے جاوٗ میرے دوست میں تُمہیں دنیا کی کیسی کیسی نعمتیں کِھلاتا ہُوں۔۔۔۔ دُنیا کی جو ڈِش کھانے کُو دِل چاہے مجھے بتادِینا۔ صرف چند منٹ میں حاضر نہ کردوں تُو میرا نام اَبو شامِل نہیں بلکہ گھن چکر رکھ دینا۔ ۔۔ دُوست ہُو یا دُشمن جِسے کہو گے تُمہارے سامنے پیش کرسکتا ہُوں۔۔۔ جہاں جانا چاہو۔ اِشارہ کردینا۔ وَہاں مِنٹوں میں پُہنچانا میرا کام ہُوگا۔ دُولت پیسہ جُو کہو گے سب کُچھ تُمہارے قدموں میں ڈھیر کردُونگا۔۔۔

لیکن تُم نے ابھی تک مجھے یہ نہیں بتایا کہ آخر تُم ہُو کُون۔۔۔۔؟ انسان ہُو تو کیا جادُو گر ہُو۔ ۔۔۔؟ یا کوئی جِن ہو۔۔۔؟ ایک طرف خُود کو میرا دُوست بھی کہتے ہُو۔۔۔ میری مدد بھی کرنا چاہتے ہُو۔۔ لیکن اپنی ذات کو معمہ کی طرح پُوشیدہ بھی رکھنے کی کُوشش کررہے ہُو۔۔۔ اُور ہاں کیا تُم مجھے لوگوں کی نظروں سے پُوشیدہ بھی کرسکتے ہُو۔۔ کامل علی نے گِلہ کرتے ہُوئے سوالات کی بُوچھاڑ کردی۔

دیکھو کامل میرے دُوست انسان اُور جنات سبھی کو ایک خُدا نے بنایا ہے۔ نہ کوئی اپنی مرضی سے انسان بنتا ہے اُور نہ کوئی اپنی خُوشی سے جِن بنتا ہے جیسے انسان اللہ تعالی کی مخلوق ہیں ویسے ہی جِنات بھی تُو اُسی پروردیگار کے بنائے ہُوئے ہیں۔ البتہ یہ اُور بات ہے کہ اِن دونوں کے درمیاں دُوری کی خلیج نے اِن دونوں کو ایک دوسرے سے خُوفزدہ کردیا ہے۔ انسان جنات سے ڈرتے ہیں۔ اُور جنات انسانوں سے عاجِز رِہتے ہیں۔۔۔ ویسے تُم چاہو تُو میں کبھی کبھار تُمہیں لوگوں کی نِگاہوں سے اُوجھل کرسکتا ہُوں ۔ اُور تُمہاری خُواہش پر میں تُمہیں پوشیدہ رِہنے کا عمل بھی سِکھاسکتا ہُوں۔

دیکھو۔۔۔ تُم پھر میرا سوال گُول کرگئے۔۔۔ تُم نے ابھی تک یہ نہیں بتایا کہ آخر تُم کِن میں سے ہُو۔۔۔۔۔۔ انسانوں سے ۔۔۔۔ یا قومِ جنات سے۔۔۔ کامِل علی نے اپنا سوال دُھراتے ہُوئے افلاطُون کی بات درمیان سے اُچکتے ہُوئے کہا۔۔

دیکھو میرے دُوست میرا خیال ہے کہ ،، میری تمہید سے تُم نے اندازہ لگا لیا ہُوگا۔ کہ،، میں کُون ہُوں ۔ لیکن اگر تُم میرے مُنہ سے سُننا چاہتے ہُو تُو سُنو۔۔۔ میں انسان نہیں ہُوں بلکہ ایک جِن زادہ ہُوں۔ میرے دادا نے میرا نام افلاطُون رکھا تھا۔ لیکن میرے بیٹے شامل کی پیدایش کے بعد اکثر لُوگ مجھے میری کُنیت کے سبب اَبو شامِل کے نام سے پُکارتے ہیں۔ اُور مجھے بھی اب یہی نام سُننے میں بھلا محسوس ہُوتا ہے۔ افلاطُون نے دُوران گُفتگو کامل علی کے چہرے پر کئی رنگ گُزرتے دیکھے۔ جسکی وجہ سے افلاطُون کو یہ اندازہ لگانے میں بالکل دُشواری پیش نہیں آئی کہ۔ خُوف کی ایک لہر کامل علی کے چہرے پر رینگتے ہُوئے گُزر رہی ہے۔

افلاطُون کے خاموش ہُوتے ہی کامل علی نے سَرد رات کے باوجود اپنی پیشانی پر آئے پسینے کے قطرات سمیٹتے ہُوئے اپنا گلا کھنکارتے ہُوئے دُوسرا سوال داغا۔ میں نے تُمہیں قابو کرنے کیلئے کُوئی چِلّہ نہیں کاٹا۔ پھر تُم میری مدد کیوں کرنا چاہتے ہُو۔

دیکھو دُوست میری طاقت کی ایک وجہ یہ بھی ہے۔ کہ،، میں خُود بھی ایک زبردست عامِل ہُوں۔ اُور اِسی طاقت کی وجہ سے کئی لُوگ مجھے اپنا غُلام بنانے کی ناکام کُوشش کرچکے ہیں۔ لیکن جیسا کہ میں نے ابھی بتایا کہ چُونکہ میں خُود بھی ایک عامِل ہُوں اسلئے کچھ نہ کُچھ بچت کا سامان پیدا ہُوجاتا ہے۔ لیکن اِس مرتبہ مجھے جس شخص سے خطرہ ہے۔ وُہ نہایت ہُوشیار اُور زیرک عامِل ہے۔ جسکو میں کوئی نقصان نہیں پُہنچا پایا ہُوں۔ نہ ہی میرا علم اُسکی استقامت کے سامنے کوئی بند باندھ پایا ہے۔۔۔۔جسکی وجہ سے میری آزادی کو خطرات لاحق ہیں۔ ۔
میں غلام بن کر نہیں رِہ سکتا۔ میں کوئی عام جِن نہیں ہُوں۔ بلکہ ایک ریاست کے سردار جن کا اکلوتا بیٹا ہُوں۔ اسلئے میں نے سُوچا ہے۔۔کہ،، میں تُمہاری مدد کرونگا اُور تُم مجھے اُس عامل کی دسترس سے دُور رکھو گے۔۔۔۔ اب فیصلہ تُمہارے ہاتھ ہے۔۔۔ چاہو تُو مجھے دُوست بنا کر اپنی اُور میری زندگی کو آسان بنادو۔۔۔۔ اُور چاہو تو اپنے ساتھ ساتھ مجھے بھی تکلیفوں کے ان لامتناہی ساگر میں دھکیل دُو۔۔۔۔۔ افلاطُون نے اُمید و یاس سے معمور لہجے میں گُفتگو کرتے ہُوئے اپنا ہاتھ کامِل علی کی جانب بڑھادِیا۔۔۔۔۔
۔۔۔۔جاری ہے۔۔۔۔۔

یہ کالم اُن کے نام جو میری کوتاہیوں کے سبب مجھ سے نالاں رہے۔

اُن سے کہنا تُمہاری آمد سے
کِھل کے کَلیاں گُلاب مِہکے ہیں

اُن سے کہنا تُمہارے جَلوٗوں سے
ٹِمٹماتے ستارے چَمکے ہیں

اُن سے کِہنا کہ مسکراتے رہیں
جَاں بلب زِندگی کو پَلٹے ہیں

عِشرتِ وارثی بُہت خُوش ہُو
پِھر سے کیا میکدے کُو لوٹے ہیں

اُور یہ اشعار اُنکے نام جنہوں نے میری کوتاہوں کو مُعاف کردیا۔


(جاری ہے)

عامل کامل ابو شامل قسط ۱۰،۱۱،۱۲



قسط ۱۰
کتاب میں درج ہدایات کے مُطابق کامِل علی نے چاند کی پانچ تاریخ کا بڑی شِدت سے انتظار کیا۔ اور جُونہی پانچ کی سحر نمودار ہُوئی۔ کامل علی نے روزے کی نیت کرلی۔کتاب میں درج ترک جمالی و جلالی کی ہدایات اگرچہ کافی سخت و دُشوار تھی۔ لیکن کامل نے تَہیہ کرلیا تھا کہ جب تک وہ دانہ ثمانی کے موکل کو حاصل نہیں کرلیتا وہ باز نہیں آئے گا۔ تمام دِن روزے کی حالت میں وہ جسم سے احرام نُما چادر لپیٹے ذکر و اَذکار میں مشغول رِہتا۔

مغرب کی اَذان ہُوتے ہی بُھنے ہُوئے چنُّوں اور دریا کے سادہ پانی کیساتھ وہ اِفطار کرلیتا۔ عشاء کی نماز سے فارغ ہُونے کے بعد وہ دانہ ثمانی کی عزیمت میں مشغول ہُوجاتا۔ ابتدائی چند دِنوں میں اگرچہ کامل علی کو تنہائی اور پرہیز سے بُہت کوفت محسوس ہُوتی اور کبھی کبھی خُوف کی شِدت سے اُس کے جسم پر لرزہ کی کیفیت طاری ہوجایا کرتی تھی۔ لیکن رفتہ رفتہ وہ اسکا عادی ہُوتا چلا گیا۔ ایک مہینے کے بعد جُوں جُوں چلہ کے اختتام کی تاریخ نزد آتی جارہی تھی۔ کامل کی اُمیدیں بھی جوان ہُوتی چلی جارہی تھیں۔

بِلاآخر چَلّے کی آخری رات کی گھڑیاں بھی آپُہنچیں۔ کَامل علی کو اِس دِن کا بڑی بے چینی سے انتظار تھا۔ وہ آخری نشست سے قبل مختلف پِلان بنانے میں مصروف تھا۔ کہ جُونہی دانہ ثمانی کا موکل حاضر ہُوکر عہد وپیمان کرے گا۔ تب وہ دانہ ثمانی کے موکل کو سب سے پہلا حکم یہی دیگا کہ،، وہ فوراً جاکر چاچا ارشد کا گَلا گھونٹ ڈالے اور اُسکے بعد نرگِس جہاں کہیں بھی ہُو۔ اُسے لا کر میرے قدموں میں ڈال دے۔ اسکے بعد میں اُس نوجوان کو تلاش کرونگا۔ جِس نے جوانی میں اَمَّاں کا جینا حرام کیا ہُوا تھا۔ پھر رفتہ رفتہ میں موکل کے ذریعہ سے اپنا عالیشان محل نُما گھر بنواؤں گا۔ جس میں ایک دُو نہیں بلکہ سینکڑوں حَسین کنیزوں کو دُنیا بھر سے منگوا کر اپنے اُس مِحل نُما گھر میں رکھوں گا۔

عزیمت کا وقت ختم ہُوگیا۔ لیکن موکِل حاضر نہ ہُوا ۔ کامل انتظار کرتا رَہا لیکن وہ نہیں آیا۔ یہاں تک کہ سورج کی کرنیں نمودار ہُوگئیں۔ کَامِل نے کئی مرتبہ دِنوں کا حِساب لگایا۔ ہر مرتبہ اور ہر طرح حساب لگانے پر ایک ہی جواب حاصِل ہُوا کہ چالیس دِن مُکمل ہُوچکے تھے۔ لیکن اِس خلوت نشینی اور ترک جمالی و جلالی کا کوئی فائدہ کامل علی کو حاصِل نہیں ہُوا۔

چند دِن دلبرداشتہ رہنے کے بعد کامل نے دُوبارہ کتاب کا مُطالعہ کیا۔ تو عَمل کے نیچے ایک سطر مزید نظر آئی جِس پر کامل علی کا پہلے دھیان نہیں گیا تھا۔ یہ ایک نُوٹ تھا۔ جو قوسین میں درج تھا جِس میں لکھا تھاکہ،، اگر تمام شرائط کو پُورا کرنے کے باوجود بھی موکِل حاضر نہ ہُو۔ تب بھی دِل چھوٹا نہ کریں بلکہ جب تک تین چلے پُورے نہ ہُوجائیں۔ اپنی کوشش جاری رکھیں۔ پہلی، دوسری کوشش بھی ناکام ہُوجائے تب انشاءَاللہ تیسری کوشش ناکام نہیں جائے گی۔

اگرچہ دُوبارہ احرام کی چادریں لپیٹ کر گھر میں بند ہُونے کا پھر سے اِحساس ہی بڑا رُوح سوز تھا۔ لیکن کامل کو ضد سوار تھی کہ چاہے مجھے کوئی بھی قیمت دینی پڑ جائے۔ لیکن میں چاچا ارشد سے انتقام لے کر ہی رَہوں گا۔ کامل نے دوبارہ اپنی تمام توانائیاں جمع کیں اور پھر سے چلے میں بیٹھ گیا۔ لیکن دوسرا چِلہ بھی پہلے چِلّے کی طرح ناکام رہا۔

دوسرے چِلے کی ناکامی کے بعد کامل علی کا یقین متزلزل ہُوچُکا تھا۔ لیکن کِتاب کی ہِدایات کے مُطابق تیسرا چِلّہ ناکام نہیں ہُوسکتا تھا۔ اسلئے کامل علی نے کمر باندھی اور تیسرے چلے میں مشغول ہُوگیا۔ حالانکہ متواتر روزوں اور نامناسب غُذا کی وجہ سے کامل علی کا جِسم سوکھ کر رِہ گیا تھا۔ تیسرے چِلے کا انجام بھی پہلے دونوں چِلوں سے مختلف نہ تھا۔ لیکن کامل علی کو یقین تھا۔ کہ اِس مرتبہ موکِل ضرور حاضر ہُوگا۔ اسلئے وہ دانہ ثمانی کے موکِل کا آخری رات میں انتظار کررہا تھا۔

دانہ ثمانی کا موکل تُو نہیں آیا۔ البتہ کوئی دروازے پر بڑی شِدت سے دستک دیئے چلا جارہا تھا۔ کامل علی کا غُصے کی وجہ سے بُرا حال تھا۔ بلاآخر جب کافی وقت گُزر گیا۔ تب کامل نے جھنجلا کر بخورات کو ہاتھ سے اُٹھا کر دیوار پر دے مارا۔ دروازے پر مسلسل دستک جاری تھی۔ کامل علی نے سُوچا پہلے سائل سے نمٹ لیا جائے اُسکے بعد دیکھوں گا کہ آخر ایسی کونسی خامی میرے عمل میں موجود ہے۔ جسکی وجہ سے میں ابتک محروم کا محروم ہی رَہا ہُوں۔

کامِل علی نے جھنجلا کر جُونہی دروازہ کھولا۔ سامنے ایک بُہت ہی لاغر سا نوجوان ہاتھ میں دستی پنکھے لئے بَدرِ قمر کی چاندنی میں کامِل کو نظر آیا جُو اُسکی آمد کا ہی منتظر تھا۔ کیا بات ہے کیوں دروازہ پیٹ رہے تھے۔ کامل علی نے پھاڑ کھانے والے لہجے میں دریافت کیا۔۔۔۔۔۔۔۔؟

جناب آپ نے پنکھوں کا آرڈر دِیا تھا۔ وہی لیکر حاضر ہُوا ہُوں۔۔۔ لاغر نوجوان نے ترکی با ترکی جواب دِیا۔

بے وقوف آدمی میں نے کِسی کو پنکھوں کا آرڈر نہیں دیا۔ کامِل علی نے چِلَّاتے ہُوئے کہا۔

کیا آپ کا نام کَامِل علی نہیں۔۔۔۔۔؟ لاغر نوجوان نے استفسار کیا۔۔۔۔؟

اُو میرے بھائی میرا ہی نام کامل علی ہے۔ اور اِس پُورے مُحلہ میں کوئی دوسرا کامل علی نام کا بندہ بھی نہیں ہے۔ لیکن میں نے پنکھوں کا آرڈر نہیں دِیا۔۔۔! کامل علی نے ہاتھ جُوڑتے ہُوئے اُکتائے ہُوئے لہجے میں کہا۔

تب میں کیا کروں۔۔۔؟ لاغر نوجوان نے سہمے ہُوئے لہجے میں دریافت کیا۔

تُم یہاں سے دفع ہُوجاؤ۔۔۔۔ کامل علی نے ہاتھ نچاتے ہُوئے جواب دیا۔

کیا آپکو واقعی پنکھوں کی ضرروت نہیں ہے۔ لاغر نوجوان نے گھبراتے ہُوئے دُوبارہ پُوچھا

بھائی کہہ دیا نا کہ مجھے نہیں چاہیئے۔ اب تُم چلتے پھرتے نظر آؤ شاباش۔

ٹھیک ہے بھائی میں چلا جاتا ہُوں یہاں سے۔ مگر بعد میں میرے مالک سے یہ مت کہنا کہ میں تُمہارے پاس نہیں آیا تھا۔

تُم جاتے ہُو یہاں سے یا میرے ہاتھوں اپنی جان گنواؤ گے۔ اب اگر تُم ایک لمحہ بھی یہاں ٹہرے تُو میں تُمہارا سر پھاڑ دُونگا۔ کامل علی نے دہاڑتے ہُوئے دروازے میں اَٹکی لوہے کی راڈ باہر نِکال لی۔

وہ لاغر نوجوان کامل علی کے ارادے کو بھانپ کر فوراً وہاں سے چل دِیا لیکن چند قدم دُور جانے کے بعد اُس نے پلٹ کر کامل علی کی طرف دیکھ کر مُسکراتے ہُوئے کہا ،، بھائی جب تُمہیں نہ ہی پنکھ کی ضرورت تھی۔ اور نہ ہی میری طلب تھی۔ پھر کِس لئے ایک سو بیس دِن سے اپنی جان ہلکان کئے جارہے تھے۔

اِس سے پہلے کہ کامل علی کُچھ سمجھ پاتا۔ دانہ ثمانی کا موکِل اپنی اصل ہیت اختیار کر کے فضاؤں میں پرواز کرگیا

قسط ۔۱۱

کامِل علی حسرت ویَاس کی تصویر بنا دانہ ثمانی کے موکل کو جاتا دیکھ رَہا تھا۔ شِدتِ غم سے اُسکا کلیجہ پھٹا جارہا تھا۔ لیکن اُسے اپنی بے بسی اور بے کسی پر غُصہ آرہا تھا۔ وہ سُوچ رہا تھا کہ یہ کیسا ظُلم ہے۔۔۔۔؟ کہ اُسکے ایک سُو بیس شب و رُوز کی مِحنت رایئگاں چلی گئی۔ اُسکی کمائی کا پھل اُسکے سامنے بھی آیا تو کِس طرح کہ وہ اُسے پِہچان بھی نہ سَکا۔ اُور وُہ کتنے آرام سے اِسے دھوکہ دے کر چلا بھی گیا۔ بلکہ نہیں وُہ تُو اِسکا تمسخر اُڑا کر چلا گیا تھا۔ گُویا کہنا چاہتا ہُو کہ ،،بچے ہُو ابھی تُم۔ اُور اِس کھیل کے اصولوں سے بھی ناواقف ہُو۔ پہلے جَانو طرق کھیل کا۔ پھر میدان میں آنا۔۔۔۔۔۔۔! کامِل علی اِسی کیفیت کے سحر میں حیران و پریشان دروازے کی چوکھٹ میں کھڑا تھا کہ لکڑی کی کھٹا کھٹ کی آواز نے اُسکا دھیان اپنی جانب کھینچ لیا۔

کامِل علی نے آواز کی سِمت گردن گھما کر دیکھا تُو۔۔۔۔۔۔ وہی ہِندو بنگالی بابا اِسکی طرف بڑھا چلا آرہا تھا۔ کامل علی بنگالی بابا کو حیرت سے دیکھ رَہا تھا۔ کیونکہ رات آدھی سے زیادہ بیت چُکی تھی۔ پہلے دانہ ثمانی کا موکل آدھی رات میں پنکھوں کی ڈلیوری کرنے آیا تھا۔ حالانکہ کامل علی تُو اُس وقت غُصہ میں یہ بھی نہیں سُوچ پایا تھا۔ کہ بھلا آدھی رات کو کُون کِسی کو سُوتے سے جگا کر سودا بیچنے آتا ہے۔ اُور اب یہ بنگالی بابا رات کے ۲ بجے جھومتا جھامتا چلا آرہا ہے۔ کہیں یہ بھی تُو دانہ ثمانی کے موکِل کا کوئی نیا بِہرُوپ اور کوئی نیا کھیل نہیں ہے ۔ لیکن اگر یہ وہی ہے تُو اِس مرتبہ یہ مجھے دھوکہ نہیں دے پائے گا۔

کامِل علی اِنہی سُوچوں میں گُم تھا۔ کہ بنگالی بابا کی بھنچی بھنچی آواز کامل کے کانوں میں گونجنے لگی۔ مُورکھ۔۔۔ وُہ سوانگ بھر کے تیری سپھلتا کو اسپھلتا میں بدل کر اُور تیری ساری تپسیا کوبھنگ کر کے تُجھے جُل دے کر بھاگ چُکا ہے۔ اور تُو ابھی تک انہی وِچاروں میں مست ہے کہ وہ واپس تیرے پاس چلا آئے گا۔ تیری ذرا سی نادانی نے تُجھے لابھ سے نِراشا کے پتھ کی یاترا کرادی۔ ارے ڈشٹ ایکبار مجھ سے کہا تو ہُوتا۔۔۔۔ میں تُجھے ایسا گیان پرابت کرتا۔ کہ کوئی چھل کپھٹ اُسکے کام نہ آتا۔ مگر بھاگیہ کا جو لکھا ہے۔ وُہ تُو سبھی کو بھوگنا پڑتا ہے۔ ارے مورکھ تُو کیا جانے کہ ،، تُونے کیا کھو دِیا۔ میں نے کئی برس اُسکی آشا میں اپنی جیون کو نرکھ کی طرح گُزارا ہے۔ مگر اُسنے کبھی اپنی کشن جیوتی (جھلک) کے قابل بھی نہیں جانا مجھے۔ اُور ایک تو جنم جلا ہے۔ جسکے دُوار وہ سُوئم خُود چل کر آگیا۔ مگر تُو اُسکی سمانتا (پہچان) نہیں کرپایا۔ تُو نہیں جانتا میں نے بھگوان سے تیری سپھلتا کیلئے کتنی پرارتھنا کی تھی۔ مگر ہائے افسوس وُہ تیرے بھی ہاتھ نہیں آیا۔ مگر بالک نِراش نہ ہُو۔ کل میرے استھان پر آجانا۔ میں تُجھے ایسے گُر سِکھاؤں گا۔ کہ پھر کوئی تیرے ساتھ اُلاس و کِھلواڑ نہیں کرپائے گا۔

صبح ناشتے پانی سے فارغ ہُونے کے بعد کامِل علی رات کو بنگالی بابا سے ہُونے والی گُفتگو کے متعلق سُوچتا رَہا۔ کافی سُوچ بِچار کے بعد کامِل علی اِسی نتیجے پر پُہنچا کہ اُسے بنگالی بابا کی شاگردی اِختیار کرلینی چاہیئے۔ اِس سے جہاں اِسکی معلومات میں اِضافہ ہُوگا وہیں بنگالی بابا کے تجربے سے بھی وُہ مستفید ہُوجائے گا۔

بازار سے گُزرتے ہُوئے ایک نامانوس سی آواز نے کامِل علی کو اپنی جانب متوجہ کرلیا۔ یہ ایک ننگ دھڑنگ مجذوب سا آدمی تھا۔ جو صرف ایک ہاف پتلون میں ملبوس تھا۔ وہ مجذوب بظاہر ایک دیوار سے مُخاطب تھا مگر اُس کے جُملے کی کاٹ سے کامل علی کو یُوں مِحسوس ہُوا جیسے وہ اُسی پر پھبتی کَس رَہا ہُو۔ کامل علی نے اُس مجذوب کو نظر انداز کرتے ہُوئے اپنا سفر جاری رکھا۔ مگر ابھی وہ چند قدم ہی چلا ہُوگا کہ وہی مجذوب کامل علی کو سامنے ایک دوسری دیوار سے وہی جُملہ ،، اُو لگائی کے غلام کیوں اپنے دین کو بیچنے چلا ہے،، کہتا نظر آیا۔ کامِل علی غُصہ کیساتھ ساتھ حیرت زدہ بھی تھا۔۔۔ کہ ابھی وہ جِس مجذوب کو پیچھے چھوڑ کر آیا ہے۔ وُہ اتنی جلدی اِس سے آگے کِس طرح پُہنچ گیا ہے۔

کامل علی نے حِقارت سے مجذوب کی جانب نِگاہ اُٹھائی تُو اُسکو یہ دیکھ کر اُبکائی آنے لگی۔ کہ مجذوب کی ہاف پینٹ گِیلی تھی۔ شائد اُسکا پیشاب نِکل گیا تھا۔ جو ہاف پینٹ سے نِکل نِکل کر نرم زمین میں جذب ہُورہا تھا۔ مگر کامل علی کو کراہیت اسلئے محسوس ہُورہی تھی۔ کہ وہ مجذوب اپنے دونوں ہاتھوں سے اُسی گیلی زمین کی مٹی کیساتھ کھیل رَہا تھا۔ پھر اُسنے ایک اور عجیب حرکت کی۔۔۔ اُور اُس مجذوب نے اپنے دونوں ہاتھوں کو اچانک چاٹنا شِروع کردِیا۔ کامل علی کو اپنی جانب متوجہ دیکھ کر مجذوب نے اپنے پاس آنے کا اِشارہ کیا۔ کامل علی نے حقارت سے اپنی نظروں کو مجذوب سے پھیرا اُور آگے بڑھ گیا۔ ایک کُوس کا فاصلہ طے کرنے کے بعد جب کامِل علی شہر سے باہر نِکل آیا۔ تُو اُسکی حیرت کی انتہا نہ رہی جب اُسنے دیکھا کہ وہی مجذوب اُس سے پہلے شہر کی بیرونی شاہراہ پر موجود ہے۔

کِامل علی اب بھی اُس سے نِگاہ پھیر کر گُزر جانا چاہتا تھا۔ مگر اچانک وہ مجذوب اُسکے مقابل آکر کھڑا ہُوگیا۔ کامِل علی کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا۔ کہ وہ کسطرح اِس مجذوب سے اپنا پیچھا چھڑائے۔ یکایک مجذوب کی آنکھیں شُعلے برسانے لگیں۔ کُچھ ہی لمحوں میں مجذوب کی آنکھوں کی سفیدی سُرخی میں بدلتی چلی گئی۔ کامل علی کو ایسے محسوس ہُورہا تھا۔ کہ کِسی بھی پل مجذوب کی آنکھوں سے خُون کی آبشار اُبل پڑے گی۔ کامل علی خُود کو مجذوب کے آگے بےبس و مسحور پارہا تھا۔ پھر مجذوب کے لب ہِلے اور وہ کامل علی سے گویا ہُوا۔۔۔۔ اُو بے غیرت۔۔۔ کیا تیرے ماں باپ نے تُجھے اِسی دِن کیلئے پالا پُوسا تھا۔ کہ تُو ایک دِن کافر کی چاکری کرے اور اپنے رب کی ناراضگی کو فراموش کربیٹھے۔ جو پائخانہ تُو کھانے جا رہا ہے۔ اُس سے تُو یہ کیچڑ بھلی ہے۔ لے چاٹ لے اِسے۔ اُو گندگی کے حریص چاٹ لے اِسے۔ اُو خبیث مُردار کی مُحبت میں مرے جانے والے چاٹ لے یہ کیچڑ اِس سے پہلے کے پرندے اپنے گھونسلوں میں پُہنچ جائیں ۔۔۔۔!

کامل علی مجذوب کی آنکھوں کے سحر میں مُبتلا تھا۔ پھر ایک موٹر کار والے نے زور دار ہارن دیکر اُسے متوجہ کرتے ہُوئے موٹی سی گالی بکتے ہُوئے کہا۔۔ مرنے کا اگر اتنا ہی شوق ہے تو ِکسی دریا میں چھلانگ کیوں نہیں لگادیتے۔ یا کِسی ٹرین کے سامنے جاکر کھڑے ہُوجاؤ ۔۔۔۔۔ کامل علی نے ہڑابڑا کر دیکھا۔ تو خُود کو میں رُوڈ کے عین درمیان میں تنہا پایا۔۔۔۔۔ مجذوب کادُور۔ دُور تک کوئی سراغ نہیں تھا۔ البتہ کامل علی کے دُونوں ہاتھ اُسی کیچڑ سے لتھڑے پڑے تھے۔ جِس سے ابھی کُچھ ہی لمحے قبل وہ مجذوب کھیل رَہا تھا۔


اے عشق تیرے صدقے جلنے سے چُھٹے سستے
،، جو آگ بُجھائے گی وہ آگ لگائی ہے ،،

پَلکوں سے دَرِ یار پہ دستک دینا
اُونچی آواز ہُوئی عُمر کا سرمایہ گیا


قسط۔ ۱۲

کامل علی نے کار ڈرائیور سے معذرت طلب کرتے ہوئے جونہی رُوڈ کے ایک طرف ہُونے کی کوشش کی۔ ایک مُوٹر بائیک تیزی سے رُوڈ کے کِنارے سے گُزری جسکی وجہ سے کامل علی بائیک سے ٹکرا کر گِر پڑا۔ بائیک اگرچہ بڑی رفتار سے گُزر گئی۔ لیکن کامل علی اپنا توازن برقرار نہیں رکھ پایا۔ اُور بے اِختیار کامل علی نے اپنے چہرے کو بچانے کیلئے اپنے دونوں ہاتھ اپنے چہرے پر رکھ لئے۔ ہاتھ چہرے کے نزدیک آنے پر کامل علی کی ناک سے سُوندھی سُوندھی ربڑی کی خُوشبو ٹکرائی۔

کامل علی کے دِل میں خیال گُزرا کہ شائد بیچارے موٹر بائیک والے کی ٹکرانے کی وجہ سے ربڑی کی تھیلی گر کر پھٹ چُکی ہے۔۔۔۔کامل علی نے سنبھلنے کے بعد رُوڈ کے چاروں طرف نِگاہ گُھمائی لیکن یہ کیا۔۔۔۔۔۔ رُوڈ پر ربڑی تُو کُجا دودھ کا ایک چھینٹا بھی دِکھائی نہیں دے رَہا تھا۔۔۔۔۔۔ حالانکہ ربڑی کی مِہک ابتک کامل علی کے مسامِ دِماغ کو مہکارہی تھی۔ کامل علی اِسی شش و پنج میں گرفتار تھا۔۔۔ کہ ایک مکھی کامل علی کی ناک پر آکر بیٹھ گئی۔ کامل علی نے ایک ہاتھ کی مدد سے جُونہی مکھی کو اُڑانا چاہا۔ پھر وہی ربڑی کی تیز مہک کامل عُلی کُو مِحسوس ہُوئی۔

کامل علی نے ایک خیال کے تحت جب اپنے کیچڑ سے لتھڑے ہاتھ اپنی ناک کے قریب کئے تُو کامل علی پر یہ راز آشکارہ ہُوا کہ،، ربڑی کی مہک کہیں اُور سے نہیں بلکہ۔۔۔۔ اسکے کیچڑ بھرے ہاتھوں سے آرہی ہے۔۔۔ کامل علی نے چاروں جانب نِگاہ گُھما کرجب اطمینان کرلیا۔ کہ کوئی اُسے نہیں دیکھ رَہا ہے۔ تب اُس نے احتیاط سے زُبان کی نُوک سے ذرا سی کیچڑ کا ذائقہ چکھا۔۔۔۔۔ کامل علی تصویر حیرت بنا ہُوا تھا۔۔۔ کیونکہ بظاہر نظر آنے والی کیچڑ درحقیقت انتہائی شیریں اور لذیز ربڑی کا مزہ دے رہی تھی۔۔۔۔ کامل علی کے ہُونٹ جُونہی ربڑی کے ذائقے سے روشناس ہُوئے۔ کامل علی نے ندیدوں کی طرح اپنے ہاتھوں کو چاٹنا شِروع کردیا۔۔۔۔ یہانتک کہ کامل علی نے اپنے ہاتھوں کو چَاٹ چَاٹ کر بالکل صاف کرنا شروع کر دیا۔۔۔ تبھی کِسی کے لگاتار قہقہوں سے تمام فِضاٗ گُونج اُٹھی۔ ۔۔۔۔ کامل علی کِھسیانا ہُوکر اِدھر اُدھر دیکھنے لگا۔۔۔ لیکن انسان تُو انسان کوئی چُڑیا کا بچہ بھی کامل کو دِکھائی نہ دِیا ۔تمام راستہ ایسے سُنسان پڑا تھا۔ گُویا وہ کِسی مصروف و بَا رُونق ہائی وے پر موجود نہ ہُو۔۔۔۔ بلکہ موت کی شاہراہ پر کھڑا ہُو ۔ جسکے خُوف سے یہاں کوئی گُزرنا پسند نہ کرتا ہُو۔

کامل علی مُسلسل آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر چہار سُو دیکھ رہا تھا۔ دھیرے دِھیرے خُوف کی ایک پرت اُسکے بدن پر چھائی جارہی تھی۔۔۔۔ کُچھ لمحوں بعد قہقہے تَھم گئے۔۔۔ تمام ماحُول پر اِک عجیب سی پُرسراریت طاری تھی۔ ۔۔۔ اچانک اُسی مجذوب کی آواز کامل علی کے کانوں سے ٹکرائی۔۔۔ وہ بڑی حِقارت سے کامل علی سے مُخاطِب تھا۔ ۔۔۔۔بتا اُو بدبخت ۔کیسا مزاہ پایا تُونے اُس غِلاظت کو کھانے میں۔۔۔۔ ؟ انسان بن جا اُو۔ نامرد۔۔۔ چھوڑ دے گندگی کی طمع۔۔۔۔ ورنہ یُونہی بھوکے کُتے کی طرح گندگی کی تلاش میں اپنی زندگی کا سرمایہ لُٹاتا رہے گا۔۔۔۔! اُور جب تک تُجھے اِن انمول رتنوں کی قیمت کا اندازہ ہُوگا۔ تب تلک واپسی کا راہ بند ہُوچُکی ہُوگی تُجھ پر۔۔۔۔۔ ارے اُو ناہنجار سنبھل جا۔۔۔۔۔ نفرت کی جُوالا مُکھی کو برداشت کے پیمانے سے بدل ڈال۔ ورنہ یاد رکھ بُہت پچھتائے گا۔۔۔

بابا جی خُدا کیلئےسامنے تو آئیے۔۔۔ کیوں میری جان دِہلائے جا رہے ہیں۔ بس ایک مرتبہ میرے رُوبرو آجائیں ۔ پھر میں وہی کرونگا جو آپ کہیں گے۔۔۔ کامل علی نے گِھگیائے ہُوئے لہجے میں فریاد کرتے ہُوئے کہا۔۔۔۔ کامل علی کے جملوں کی بازگشت ابھی تھمی بھی نہ تھی کہ ،، وہی مجذوب کامل علی کو دُور ایک سائہ دار دَرخت سے ٹیک لگائے بیٹھا نظر آیا۔ کامل علی نے فوراً دُوڑ کر مجذوب کے قدم تھامتے ہُوئے کہا۔ بابا جی نصیحت کیساتھ ساتھ راستہ کا پتہ بھی تُو بتائیں۔۔۔؟

مجذوب نے اپنی سُرخ سُرخ آنکھوں سے کامل علی گھورتے ہُوئے کہا،، کمبخت کیا اُس حرامزادے جوگی سے بھی منزل کا پتہ معلوم کرنے گیا تھا تُو ۔۔ ۔؟

نہیں بابا جی وہ تُو بس ایسے ہی اتفاق سے مُلاقات ہُوگئی تھی میری اُس سے۔۔۔ کامل علی نے نظریں چُراتے ہُوئے کہا۔۔۔۔۔ جھوٹ مت بُول کمبخت مجھ سے۔۔۔۔ اگرچہ تُجھے محسوس نہیں ہُوتی مگر جب تُو جھوٹ بولتا ہے نا۔ تب تیرے مُنہ سے بڑی ناقابِل برداشت بدبُو نکلتی ہے۔ جُو تیرے جھوٹ کا پردہ چاک کردیتی ہے۔۔۔ مجھے معلوم ہے کہ ابھی تُجھ پر میری باتوں کا کُچھ اثر نہیں ہُونے والا۔ ۔۔ میں بھی ڈھونگ اور سوانگ کرتے کرتے تھک چُکا ہُوں۔ مگر تُجھے ایک نصیحت کرے بِنا میرا دِل نہیں مانے گا۔۔۔ بس اُس پاکھنڈی سے دُور ہُوجا۔ اِسی میں تیری بھلائی ہے۔ اِس سے زیادہ کہنے کی مجھے بھی اِجازت نہیں ہے۔ اتنا کہہ کر وہ مجذوب پھر سے غائب ہُوگیا۔

کامل علی چند لمحے مجذوب کو اِس اُمید پر آوازیں دیتا رہا کہ،، شائد وہ پھر سے آجائے لیکن کامل کی بار بار دِی جانے والی صدائیں تشنہ کام واپس لُوٹ آئیں۔ کامل علی نے جوگی کے پاس جانے کے اِرادے کو ملتوی کیا۔ اُور واپس پلٹ کر شہر کی جانب چلدیا۔ شہر پُہنچنے کے بعد کامل علی نے اُس دیوار کے قریب ایک خُوش شکل و خُوش لِباس شخص کو دیکھا۔ جو بڑی بے چینی سے اپنی قیمتی کار سے ٹیک لگائے کِسی کا انتظار کررہا تھا۔

کامل علی نے کُچھ سُوچ کر اُس شخص کو مُخاطب کرتے ہُوئے کہا،، کیا آپ نے ابھی یہاں کِسی مجذوب کو دیکھا ہے۔۔۔۔؟ ۔ وُہ نوجوان مجذوب کا تذکرہ سُنتے ہی ایسے الرٹ ہُوگیا۔ جیسے کِسی کانسٹیل کے سامنے اُسکا افسر اچانک نمودار ہُوجائے۔۔۔ کیا آپ بابا صابر کے مُتعلق استفسار کررہے ہیں۔۔۔؟ نوجوان نے نہایت عقیدت و احترام سے بابا صابر کا نام لیتے ہُوئے کامل علی سے سُوال کیا۔

بھائی نام تُو مجھے معلوم نہیں ہے ۔۔۔ بس اُنہیں پہلی مرتبہ یہیں برائے نام کپڑے پہِنے۔ دیوار سے باتیں کرتا دیکھا تھا۔ اُنہوں نے کبھی اِتنا موقع ہی نہیں دِیا کہ اُن سے اُنکا نام معلوم کرپاتا۔ کیونکہ وُہ خُو دہی خُود بُولے چلے جاتے ہیں۔ مجھے تو سوال کا بھی موقع ہی نہیں دیتے۔۔۔ کامل علی نے مختصراً کلام کرتے ہُوئے کہا۔

پھر شائد آپ کِسی اُور کی تلاش میں ہیں۔ کیونکہ بابا صابر کو میں نُو ۔ دَس برس سے جانتا ہُوں۔ مگر وُہ کِسی سے بات نہیں کرتے۔ اگر کبھی بُولتے بھی ہیں تُو وُہ ایسی زُبان ہُوتی ہے۔ جِسے کوئی سمجھ نہیں پاتا۔ اُس نوجوان نے کامل کو جواب دیتے ہُوئے کہا۔

صحیح کہتے ہیں آپ۔۔۔ لیکن عجیب اتفاق ہے۔ کہ آپ بھی کِسی اللہ والے کے یہیں منتظر ہیں۔ اُور میں بھی اِس جگہ کے عِلاوہ اُس مجذوب کو کوئی ٹھکانہ نہیں جانتا۔ ۔۔۔ لیکن کتنے تعجب کی بات ہے کہ میں اِسی شہر میں رِہتا ہُوں۔ پھر بھی بابا صابر کی شخصیت اُور اُنکے نام سے ناآشنا ہُوں۔ جبکہ آپ تُو اِس علاقے کے بھی نہیں لگتے۔کامل نے خُوش اِخلاقی سے جواب دیتے ہُوئے کہا۔

میرے خیال میں آپ نے اُنہیں دیکھا تُو ضرور ہُوگا۔۔۔ بس دھیان نہیں دِیا ہُوگا۔۔۔ مگر آپ چاہیں تُو میں آپکو بابا صابر کی تصویر دِکھا سکتا ہُوں۔ اُس نوجوان نے اِتنا کہنے کے بعد کامل کی درخواست کا انتظار بھی نہیں کیا۔ اُور پرس نِکال کر تصویر ِڈُھونڈنے میں مشغُول ہُوگیا۔ چند لمحوں بعد اُس نوجوان نے ایک چھوٹی سی تصویر پرس سے نِکال کر یہ کِہتے ہُوئے کامل علی کی طرف بڑھائی۔ یہ لیجیئے یہ ہیں ،، صابر بابا۔ آپ بھی زِیارت کرلیجئے۔

کامل علی حیرت سے تصویر دیکھ رہا تھا۔ کیونکہ یہ اُسی مجذوب کی تصویر تھی۔ جُو بار بار کامل علی کو نصیحت کررہا تھا۔ جبکہ اُ س نوجوان کا بیان تھا کہ بابا صابر نے اُس کےسامنے دس برس میں کبھی زُبان نہیں کھولی۔


اے عشق تیرے صدقے جلنے سے چُھٹے سستے
،، جو آگ بُجھائے گی وہ آگ لگائی ہے ،،

پَلکوں سے دَرِ یار پہ دستک دینا
اُونچی آواز ہُوئی عُمر کا سرمایہ گیا