bing

Your SEO optimized title page contents

Pages

.

.

Monday, 24 December 2012

اِنگلش قافیہ اُردو رَدِیف


اِنگلش قافیہ اُردو رَدِیف
Poet: ishrat iqbal warsi

رُونی صُورت نہ بَنا غِم سے بھرے پُوز نہ دے
کُچھ تُو کامیڈی دِکھا نَقل بھرے  شُوز  نہ دے


کوئی مُوبائیل دِلا دے یا کوئی اچھی گھڑی
مجھ کُو بیکار نِکموں کی طرح  رُوز  نہ دے

عشرتِ وارثی یہ ۔ دَرد ۔بھرے انجکشن
رُوکدُو اَب تُو اِنہیں اُور مجھے۔ ڈُوز۔ نہ دے
۔۔

In English .Pose. Dose. Rose. shows
دِکھاوا ۔ پُھول۔خُوراک ۔اَنداز ۔۔۔ بمعنیٰ اُردو


عامل کامِل اَبُو شامِل قسط ۔۲۰ (سراب )۔

گُذشتہ(۱۹)۔ اقساط کا خُلاصہ۔۔۔
یہ کہانی ہے۔ ایک ایسے نُوجوان کامِل علی کی جِس کے سر سے اُسکے والد کا سایہ بچپن میں ہی اُٹھ گیا۔۔۔ والدہ کی نوجوانی میں بیوگی سے بے شُمار مسائل جنم لینے لگتے ہیں۔ حالات سے تنگ آکر کامل علی کی بیوہ والدہ پھر سے مولوی رمضان کی دُلہن بن جاتی ہے۔ ۔ کامِل علی کو  اپنے ہمسائے چاچا ارشد کی بیٹی نرگس سے بُہت دِلی لگاوٗ پیدا ہُوجاتا ہے۔جُو دھیرے دھیرے مُحبت میں تبدئل ہُوجاتا ہے۔

حالات  اُور زمانے کے بار بار ستائے جانے پر کامل علی  رُوحانی عملیات کی جانب راغب ہُوجاتا ہے۔ تُو وہ تمام زمانے سے خاص کر چاچا ارشد سے بدلہ لینا چاہتا ہے۔ لیکن بار بار چلہ کاٹنے کے باوجود بھی ناکامی اُسکا مقدر ٹہرتی ہے۔ وُہ ایک بنگالی جادوگر کی شاگردی اِختیار کرنا چاہتا ہے۔ لیکن ہر بار ایک مَجذوب(بابا صابر) اُسکے راستے میں دیوار کی مانند کھڑا ہُوجاتا ہے۔ اُستاد عبدالرشید کے بار بار سمجھانے پر بھی جب کامل علی عملیات سے باز نہیں آتا۔ تب اُستاد عبدالرشید اُسے ایک اللہ کے ولی  ،،میاں صاحب ،،  کے پاس بھیجتا ہے۔ لیکن یہاں بھی ناکامی کامل علی کا پیچھا نہیں چھوڑتی۔ اُور وہ خالی ہاتھ ہی اپنے گھر لُوٹ آتا ہے۔
افلاطون نامی ایک نوجوان کامل علی کے گھر میں گُھسنے کی کوشش کرتا ہے ۔ لیکن کامل علی دھکے دے کر اُسے گھر سے نِکال دیتا ہے۔ لیکن جب وُہ  دروازے میں کنڈی لگا کر پلٹتا ہے۔ تُو اُسی نوجوان کو اپنے بستر پر دراز دیکھتا ہے۔ افلاطُوں جسکی کُنیت ابو شامل ہے۔ اُسے بتاتا ہے ۔ کہ وُہ ایک جِن زادہ ہے۔ اُور ایک عامِل اُسکے پیچھے پڑا ہے کیونکہ وُہ کافی طاقتور جن ہے۔ افلاطُون پیشکش کرتا ہے کہ اگر  کامل علی اُس عامل سے بچانے میں اِسکی مدد کرے تُو،، افلاطُون  دُوست بن کر  دُنیا کی ہر شئے کو اسکے قدموں میں لاکر ڈال سکتا ہے۔ کامل علی افلاطون کی پیشکش قبول کرلیتا ہے۔ دُونوں جہلم جلباب سے مُلاقات کا پروگرام بنا لیتے ہیں۔ جلباب سے مُلاقات کے بعد   ابو شامل  کراچی پُہنچ کر کامل علی کو تنہا نرگس کے فیلٹ تک پُہنچا کر غائب ہُوجاتا ہے۔ نرگس کامل علی کو سمجھاتی ہے کہ وُہ واپس لُوٹ جائے۔ کیونکہ وُہ اپنی سابقہ زندگی کو بُھلانے کی کُوشش کررہی ہے۔ کامل علی جب واپس گھر پُہنچتا ہے۔ تب ابوشامل نرگس کو اُسکے سامنے پیش کردیتا ہے۔

پچھلی قسط سے یاداشت
کامل کی مایوسی کو دیکھ کر ابو شامِل اُسے بتاتا ہے کہ وُہ اُسکے واسطے ایک تحفہ لایا ہے۔۔۔ کامل کی بے چینی بھانپ کر ابو شامل کہتا ہے کہ،،بس یار پانچ منٹ اُور انتظار کرلے تُحفہ خُود سج دھج کر تیرے بستر تک آجائے گا۔۔۔ ابو شامل نے معنی خیز انداز میں مُسکراتے ہُوئے جواب دیا۔  ابو شامل کا جُملہ مکمل بھی نہیں ہُوپایا تھا۔کہ کسی نے نہایت دھیمے لہجے میں کامل کا دروازہ کھٹکھٹا دیا۔ لکڑی پر پڑنے والی تھاپ کیساتھ چوڑیوں کی جھنکار یہ بتانے کیلئے کافی تھی۔ کہ  دروازے  پرکوئی آیا نہیں تھا۔۔۔ بلکہ کوئی  آئی ہے۔۔۔ابو شامل نے لپک کر دروازہ کھول دِیا۔۔۔  کامل  نے آنے والی کو دیکھا تو بستر سے اچھل پڑا۔۔۔ کیونکہ آنے والی کوئی اُور نہیں تھی ۔ بلکہ نرگس اُسکے سامنے  دُلہن کے رُوپ میں کھڑی مُسکرا رہی تھی۔۔۔۔
اب مزید پڑہیئے۔

نرگس تُم اُور یہاں۔۔۔۔ کامل علی نرگس کو دیکھ کر بے ساختہ چادر پھینک کر خود دروازے پر اُسکا استقبال کرنے چلا آیا۔
یار کیا دروازے پر باتیں ہی بناتے رَہو گے یا اِسے اندر بھی لے کر جاوٗ گے۔۔۔ کیونکہ جب تک یہ اندر نہیں جائیں گی۔ تب تک میں بھلا باہر کیسے جاسکتا ہُوں۔۔۔ ابو شامل نے گلا کھنکار کر کامل علی کو اپنی موجودگی کا اِحساس دِلایا۔

ابو شامل کے جاتے ہی نرگس شرماتے ہُوئے سِمٹ کر بیڈ کے کُونے پر بیٹھ گئی۔۔۔ اُسے دیکھ کر کوئی نہیں کہہ سکتا تھا۔کہ وُہ کوئی شادی شُدہ عورت ہے۔ اُورایک بچے کی ماں بھی  ہے۔۔۔  کامل علی اُسکے جلووٗں سے سیراب ہُوتے ہُوئے سُوچنے لگاکہ،، ابھی ایک گھنٹہ قبل ہی تو نرگس نے اُسے اپنے گھر سے طعنے دے کر نِکل جانے کیلئے کہا تھا۔۔۔ پھر وُہ اپنے بچے کو چھوڑ کر یکایک یہاں کیسے آگئی۔۔۔؟اُور یہ تُو مجھے بھولنے کی باتیں کررہی تھی۔۔۔۔ تو کیا نرگس بھی مجھے  ابتک اپنے دِل سے نِکال نہیں پائی ہے۔۔۔؟ یا پھر یہ بھی ابوشامل کا کوئی کرشمہ ہے۔۔۔؟

کامل علی کے ذہن میں ایسے ہی بے شُمار سوالات  چُٹکیاں بھر رہے تھے۔۔۔ لیکن اُسے خوشی تھی کہ بلاآخر نرگس تمام دیواروں کو گِرا کر ایکبار پھر اُسکے پاس چلی آئی تھی۔۔۔ کہیں تُمہارے ساتھ ابو شامل نےکوئی  زبردستی تو نہیں کی ہے نا۔۔۔؟  نرگس نے معنی خیز انداز میں کامل کو دیکھا تو کامل نے سٹپٹا کر کہا۔میرا مطلب تھا کہ تُم اپنی مرضی سے یہاں آئی ہُو نا۔۔۔ کہیں دِل پر کوئی جبر تو نہیں ہے نا۔۔۔ ویسے مجھے تُم سے کوئی شِکایت نہیں ہے کوئی بھی شریف عورت وہی رویہ اپناتی جو تُم نے میرے ساتھ اپنایا۔ کامل علی نے نرگس کے نذدیک ہُوتے ہُوئے کہا۔۔۔

نہیں ایسی کوئی بات نہیں ہے۔ میں یہاں اپنی مرضی سے آئی ہُوں۔ اُور جب تک آپ  مجھے یہاں رہنے دیں گے۔ میں یہاں آپ کی خِدمت کرتی رَہوں گی۔۔۔ نرگس نے وضاحت کرتے ہُوئے  شرما کرکہا۔۔۔ کامل علی کو نرگس کا لہجہ کچھ بدلا بدلا سا دِکھائی دیا جیسے نرگس کو زکام ہُوگیا ہُو۔ پھر اِسکا سبب بھی کامل کے ذہن میں از خود آگیا۔۔۔ شائد سردی کی ذیادتی کی وجہ سے نرگس کی آواز بیٹھ چُکی ہے۔۔۔اگرچہ صبح ہُوچُکی تھی۔ لیکن کمرے میں ملجگا سا اندھیرا باقی تھا۔ نرگس تھوڑی دیر تک شرما شرما کر کامل سے گفتگو کرتی رہی۔ پھر تھوڑی ہی دیر میں دونوں بیباکی سے تنہا کمرے میں گفتگو کرنے لگے۔ صبح کا اُجالا کُچھ ہی دیر میں ظلمت کی تیرگی سے مار کھا گیا۔۔۔۔ کامل علی نے خُود کو لاکھ رُوکنا چاہا۔ لیکن بھلا  ۔۔۔ کیا  شمع   موم کو پِگھلنے سے رُوک سکتی ہے۔  اُورکیا کاغذ آگ  کی لُو سے خود کو محفوظ رکھ سکتا ہے۔۔۔؟

دِن دیر گئے تک  جب کامل کی آنکھ کُھلی ۔۔۔ صبح کے مناظر اُسکی آنکھوں میں گھومنے لگے۔۔۔ وُہ سیدھا غُسل خانے میں داخل ہُوگیا۔۔۔ نہاتے ہُوئے اُس نے چُوڑیوں کی کھنک سے اندازہ لگالیا کہ نرگس بھی بیدار ہُوچُکی ہے۔۔۔ وُہ سُوچنے لگا کہ ،، اب وُہ کسطرح سے نرگس سے نظریں مِلا پائے گا۔ اسلئے وُہ شرمندگی سے شرمشار مزید وقت باتھ رُوم میں گُزارتا رہا۔۔۔ کافی وقت گُزرنے کے بعد نرگس نے  باتھ رُوم کے دروازے پر دستک دیتے ہُوئے کہا۔ آپ کو اُور کتنا وقت لگے گا۔۔۔؟ پلیز جلدی آجائیں۔ کیونکہ مجھے بھی واش رُوم جانا ہے۔ اُور آپ کے گھر میں کوئی دوسرا واش رُوم بھی تُو نہیں ہے۔ نرگس کی نارمل آواز سُن کر کامل کو احساس ہُوا کہ بات ابھی بِگڑی نہیں ہے۔ یا جُو کُچھ گُزرچُکا۔ نرگس کی نِگاہ میں اُن باتوں  کی کوئی خاص  وقعت ہی نہیں ہے۔ ورنہ وُہ اتنا نارمل ری ایکٹ نہ کرتی۔۔۔

کامل کے باہر نِکلتے ہی نرگس  واش رُوم میں چلی گئی۔۔۔ کامل علی نے کُچھ سُوچ کر باتھ رُوم کے دروازے پر بُلند آواز سے کہا،، تُم جب تک فریش ہُولو ۔ تب تک میں بازار سے ہُو کر آتا ہُوں۔۔۔۔ کامل نے درواے کو باہر سے لاک کرنے کے بعد بازار کا رُخ کیا۔۔۔۔  چمکتی ہُوئی دوپہر  بھی سردی کو مات نہ دے سکی تھی۔ کامل نے بازار سے گرما گرم چائے  کیساتھ بریانی بھی خرید لی۔۔۔ ایک جگہ سے گُزرتے ہُوئے اُسے نرگسی پکوڑے دِکھائی دیئے۔ تو اُسنے نرگسی پکوڑوں کیساتھ گاجر کا حلواہ بھی خرید لیا۔ کیونکہ یہ دونوں چیزیں ہی نرگس کو بُہت ذیادہ مرغوب تھیں۔۔۔

گھر میں داخل ہُونے کے بعد کامل کو نرگس پُورے گھر میں کہیں دِکھائی نہ دِی۔ ایک لمحے کیلئے کامل اپنا کلیجہ تھام کر رِہ گیا۔ وُہ سُوچنے لگا شائد  میری صبح کی دیدہ دلیری نرگس کو پسند نہیں آئی تھی۔ اِس لئے وُہ واپس چلی گئی ہے۔۔۔ لیکن پھر دُوسرے ہی لمحے اُسکے دِماغ نے اُسے سمجھایا۔ کہ اتنی دُور نِکل آنے کے بعد بھلا نرگس کیسے واپس جاسکتی ہے۔ اُور دروازہ بھی باہر سے بند تھا۔ یہی سُوچ کر کامل نے چھت کی رَاہ لی۔۔۔۔ چھت پر پہنچتے ہی اُس نے سکون کی سانس لی۔۔۔۔ کیونکہ نرگس اپنے  کھلے  ہُوئے گیلے بالوں کو تولیہ سے سُکھانے میں مصروف تھی۔۔۔۔

  
تُم یہاں پر ہُو نرگس ۔۔۔ میری تو جان ہی نِکل گئی تھی۔ کہ کہیں تُم خفا ہُوکر تو واپس  تُو نہیں چلی گئیں۔ کامل علی نے نظروں کو جھکا کر اپنے خُوف کا اِظہار کیا۔ میں بھلا کیوں خفا ہُوکر چلی جاتی۔۔۔۔؟ نرگس نے انجان بنتے ہُوئے شَرما کر کہا۔ اُور یہ آپ مجھے بار بار نرگس کہہ کر کیوں مُخاطب کررہے ہیں۔۔۔؟ نرگس نے ایک مرتبہ پھر اپنے بالوں کو تولیہ سے جھٹکتے ہُوئے اِٹھلا کر کہا۔۔۔

نر گس نہ کہوں۔۔۔ تُو پھر کیا کہوں تُمہیں ۔۔۔؟  کامل علی نے رُومانٹک لہجہ بناتے ہُوئے کہا۔۔۔نرگس کی بیباکی سے کامل علی کی جھجک کافی کم ہُوچُکی تھی۔۔۔۔ آپ مجھے میرے نام ۔جاناں۔سے پُکاریں نا مجھے اچھا لگے گا۔ نرگس نے ایک خاص انداز سے کامل علی کی آنکھوں میں جھانکتے ہُوئے کہا۔۔۔۔ ٹھیک ہے بابا آئندہ میں تُم کو جاناں ہی کہہ کر پُکاروں گا۔ لیکن فی الحال  جلدی سےنیچے چلو۔ ورنہ کھانا کَم ناشتہ ٹھنڈا ہُوجائے گا۔۔۔ کامل نے پلٹ کر سیڑھی کی جانب اِشارہ کرتے ہُوئے کہا۔۔۔۔

کھانا کھاتے ہُوئے بار بار کامل علی کَن اَنکھیوں سے نرگس کے سراپا کا جائزہ لیتا رَہا۔۔۔ وُہ رات والے سرخ لباس میں بالکل ایک پری کی مانند لگ رہی تھی۔ اچانک  کامل علی کو خیال آیا کہ نرگس گُذشتہ شب  صرف ایک لباس میں اُسکے گھر چلی آئی تھی۔ جِسکی وجہ سے اُسکو پریشانی درپیش آرہی ہُوگی۔۔۔ نرگس ۔۔۔ میرا مطلب ہے کہ جاناں تُمہارے پاس تو کوئی دوسرا ڈریس بھی نہیں ہے۔ اِسلئے میں کھانے کے بعد تُمہارے لئے بازار سے چند دوسرے سُوٹ خرید لاتا ہُوں۔۔۔ دراصل کامل  علی نے تمام زندگی اپنی نرگس کو نرگس ہی کے نام سے پُکارا تھا۔ اِسلئے اُسے اِس نئے  نام سے پُکارنے میں دُشواری ہُورہی تھی۔

جی کوئی بات نہیں میں فی الحال ایک دُو دِن اِس ہی ڈریس سے کام چَلالُونگی۔ آپ ابھی پریشان نہ ہُوں بعد میں  جب بازار جانا ہُو۔ تب خرید لایئے گا۔ نرگس نے اُسکی پریشانی کو بھانپتے ہُوئے اُسے صلاح دی۔۔۔ چلو ٹھیک ہے پھر میں جب رات کا کھانا خریدنے جاوٗنگا تب تمہارے لئے نئے کپڑے بھی  خرید لاوٗنگا۔۔۔ کامل کو  پھر یہ خیال ستانے لگا کہ نرگس نے اُسکے واسطے بُہت بڑی قربانی دِی ہے۔ یہاں تک کہ وُہ اپنے پھول سے بچے کو بھی وہیں چھوڑ آئی ہے۔۔۔ حالانکہ  نرگس نے ایک مرتبہ بھی اپنے بچے کا ذکر مجھ سے نہیں کیا۔۔۔ لیکن آخر کو وُہ ایک ماں ہے نجانے اندر ہی اندر وُہ اپنے بچے کیلئے کتنا تڑپ رہی ہُوگی۔ یہی سُوچ کر کامل علی نے ہمددری سے نرگس کے کاندھے پر ہاتھ رکھتے ہُوئے دریافت کیا۔۔۔ جاناں تُمہیں اپنے بچے کی یاد تُو بُہت آرہی ہُوگی۔۔۔؟

بچہ۔۔۔۔؟ کونسا بچہ۔۔۔؟ مجھے جب کوئی بچہ ہے ہی نہیں تُو یاد کیسے یاد آئے گی۔۔۔ اُور ابھی ہماری شادی کو ایک دِن بھی نہیں گُزرا اُور آپکو بچے کی فکر  کیسے لاحق ہُوگئی ۔ نرگس نے اچھنبے سے کامل علی کی طرف ایسے دِیکھا جیسے اُسے کامل علی کی دِماغی صحت پر شک گُزرنے لگا ہُو۔۔۔

میں تُمہارے بیٹے طارق کی بات کررہا ہُوں ۔ جو تُمہارے پہلے شُوہر سے ہے۔ کامل نے بدستور نرم لہجے میں جواب دیا۔۔۔۔۔ پہلا شُوھر،  میرا بیٹا طارق۔۔۔۔؟  آخر بات کیا ہے۔۔۔؟ آپ مجھ سے شادی کے پہلے ہی دِن یہ کیسی کیسی باتیں کررہے۔۔۔؟ کیا آپکو میں کوئی بدچلن یا گئی گُزری لڑکی نظر آتی ہُوں۔ جو آپ میرا اِس طرح سے امتحان لے رہے ہیں۔۔۔ کیا گھر سے بھاگنا میرا اتنا بڑا جُرم ہے۔۔۔کہ بیٹھے بِٹھائے آپ نے میری ایک اُور شادی کا خیال اپنے دِماغ میں تراش لیا۔۔۔ جاناں کے لہجے میں اِس مرتبہ ناراضگی کا عنصر صاف جھلک رَہا تھا۔

اِس مرتبہ  چکرانے کی باری کامل علی کی تھی۔۔۔ کیونکہ نرگس ناصرف اپنی پہلی شادی سے  صاف مُکر رہی تھی ۔ بلکہ وُہ یہ ماننے کو بھی تیار نہیں تھی کہ وُہ ایک عدد بچے کی ماں بھی ہے۔۔۔ اُور نرگس بار بار شادی کا تذکرہ ایسے کررہی تھی جیسے وُہ واقعی اُسکی حقیقی بیوی ہُو ۔ کامل نرگس کا جواب سُن کر اپنا سر  دونوں ہاتھوں میں تھامے بیڈ پر بیٹھتا چلا گیا۔۔۔۔
(جاری ہے)۔


اُسکا کہنا ہے۔ کِسی اُور کو دیکھوں نہ کبھی
کیوں کہ اُسکو یہ میرا رُوپ بُرا لگتا ہے
مجھکو ہر چہرے میں آتی ہے نظر اِک وُہ ہی
جُو نہ بھر پائے یہ بہروُپ بُرا لگتا ہے


Sunday, 23 December 2012

میرپورخاص میں کتوں کا گُوشت فروخت کرنے والا گروہ گرفتار۔




چند دِن قبل کی بات ہے۔۔۔ رات ۲ بجے کا وقت رَہا ہُوگا ۔جب  ہمارامحترم احسان بھائی کیساتھ کسی ضرورت کے تحت رُوڈ پر نِکلنا ہُوا۔ گلی میں دُو یا تین کُتے سخت سردی کی وجہ سے ۔۔۔ دیوراوں سے چپکے سردی کے احساس کو کم کرنے کی کُوشش میں آدھی  سوئی اُور آدھی جاگی کیفیت میں نظر آئے ۔لیکن جُونہی ہم اُنکے قریب پُہنچے وُہ  اچانک ہُشیار ہُو کر کھڑے ہُوگئے۔

ایک لمحے کیلئے ہمیں ایسا لگا۔ جیسے وُہ ہمارے بارے میں کوئی خطرناک عزائم رکھتے ہیں۔ اُ وُر  ابھی لپک کر ہم پر حملہ آور ہُوجائیں گے۔ لیکن یہ کیا۔۔۔ وُہ تو ہمیں دیکھ کر ایسے رفو چکر ہُوئے ۔ جیسے اُنہوں نے  انسان کے بجائے کوئی بُھوت دیکھ لیا ہُو۔ یا جیسے صارفین کے ہجوم کو دیکھ کر آجکل مُلک پاکستان میں واپڈا کے اہلکار بھاگ لیتے ہیں۔

بہرحال ہم نے اُن کُتوں پر کوئی خاص توجہ نہیں دِی۔ اُور  رات کے ۲ بجےشہر میں کوئی ایسی دُکان تلاش کرنے کیلئے نِکل پڑے جہاں سے ہمیں اپنی مطلوبہ شئے مِل سکے۔ شہر میں گھومتے پھرتے ہُوئے۔۔۔ ہمیں  ایک مرتبہ پھر حیرت کا  شدیدجھٹکا لگاکہ ،، ہم جہاں کہیں سے گُزرتے۔۔تُو یہاں وَہاں  دکھائی دینے والے آوارہ کُتے۔ بجائے  ہم پر بھونکنے کے   ہمیں دیکھ کر گلیوں میں راہِ  فرار   اِختیار کرنے لگے۔

ہم نے  کتوں کی اِس بے مُروتی پر سردی میں کپکپاتے ہُوئے احسان بھائی سے احتجاجاً دریافت کیا۔  اِحسان بھائی  آخر یہ ہُو کیا رَہا ہے ۔۔۔؟ سچ بتانا ۔۔۔کیا میرے سر پر سینگ نِکل آئے ہیں۔ یا میری شکل آج اتنی خوفناک ہُوگئی ہے کہ گلیوں میں بھونکنے والے کُتے بھی مجھے دیکھ کر چھپتے پھر رہے ہیں۔۔۔

احسان بھائی نے جواباًجو کُچھ ارشاد فرمایا اُسے سُن کر نہ صرف میرے رُونگھٹے کھڑے ہُوگئے بلکہ شائد اِس جواب سے  ہُوسکتا ہے کہ آپکے بھی  ہُوش  اُڑ جائیں۔۔۔

احسان بھائی  فرمانے لگے۔۔۔ عشرت بھائی اِن  بیچاروں کیساتھ جو ظلم عظیم کیا گیا ہے۔۔۔ اُسکے بعد تُو یہ آجکل بچوں سے بھی چھپتے پھر رہے ہیں۔۔۔

بھائی پہیلی کیوں بُجھا رہے ہُو ۔۔۔۔؟ کیا بلدیہ والوں نے کُتا مار مہم شروع کردی ہے ۔ ہم نے اُنکے مبہم جواب پر مزید ایک سوال قائم کرتے ہُوئے پُوچھا۔۔۔

بھائی کیا آپکو واقعی نہیں معلوم کہ اِن بیچاروں پر کیا بیتی ہے۔۔۔؟ حالانکہ تمام شہر میں آج ٹی وی کے پروگرام ،،ٹارگٹ ،، کے چرچے ہیں۔۔۔ احسان بھائی نے بائیک کی رفتار دھیمی کرتے ہُوئے جواب دیا۔

یار اِحسان بھائی ٰیہ  آج آپکو ہُوکیا گیا ہے۔۔۔؟  میں نےآپ سے سوال کیا تھا۔ کُتوں کی بے اعتنائی کا ۔۔اُور آپ تذکرہ لے بیٹھے آج ٹی وی کے پروگرام ۔۔ٹارگٹ۔۔ کا۔۔۔ ساتھ ہی میں نے بازار کا سناٹا دیکھ کر اُنہیں واپس گھر  چلنے کا مشورہ دِیا۔

مجھے میرے گھر ڈراپ کرنے کے بعد اُنہوں نے بتایا کہ۔۔۔۔ آج ٹی وی کے ایک پروگرام  ٹارگٹ کے اینکر نے خفیہ اطلاعات موصول ہُونے پر اپنی ٹیم کیساتھ میرپورخاص کے مضافات میں اچانک چھاپا مار کر۔ وَہاں پُہنچ کر کچھ سین فلمبند کئے ہیں۔ جِس میں دِکھایا گیا ہے کہ کُچھ لوگ  کتوں کو پکڑ کر بُورویوں میں  بند کر کے لائے ہیں۔ اُور اب ایک ایک کُتے کو بُوری سے نِکال کر ذبح کررہے ہیں۔ فلم میں یہ بھی دِکھانے کی کوشش کی گئی ہے کہ۔۔ وُہ لوگ کتنی مہارت سے کُتوں کی کھال اُتار کر اُنہیں گردن اُور پنجوں سے جُدا کرنے کے بعد بکرے کا گوشت بنانے کی کوشش میں مصروف ہیں۔۔۔

اِس ٹیم کے ساتھ موجود پُولیس اہلکاروں نے رنگے ہاتھوں کُچھ افراد کو اپنی گرفت میں لے لیا ہے۔۔۔ جِن سے تفشیش جاری ہے۔ جبکہ ہمیشہ کی طرح پُولیس کی ناقص کارکردگی کے باعث ۲ افراد وَہاں سے فرار ہُونے میں کامیاب ہُوگئے ہیں۔۔۔

دُوسرے دِن جب اپنے آفس میں پُہنچنے کے بعد میں نے لُوگوں سے اِس واقعہ کے متعلق معلوم کیا۔۔۔ تُو تقریباً تمام اِسٹاف ہی اِس واقعہ سے باخبر تھا۔۔۔ سِوائے ہمارے۔ یعنی ہم پر یہ مصرعہ بالکل فِٹ بیٹھ رہا تھا کہ۔۔۔ کہ جانے نہ جانے پھول نہ جانے باغ تُو سارا جانے ہے۔

بہرحال دوستوں اِس پروگرام کے آن ائر جانے کے بعد سے تمام شہری ہی پریشان نظر آنے لگے ہیں۔۔۔ اب تو ہمیں بھی قصاب کی دُوکانوں پر لٹکے بکرے کتوں کی طرح دِکھائی دینے لگے ہیں۔ اُور شہر کے ہر کُتے میں ایک بکرا چھپائی دینے لگا ہے۔

میرپورخاص شہر جو کہ کڑاہی گُوشت کے مُقابلے میں حیدرآباد سے لیکر کراچی تک اپنا ثانی نہیں رکھتا۔ اُسکی اکثر کڑاہی گوشت کی دُکانیں  ویرانی کا منظر پیش کر رہی ہیں۔ اِس واقعہ کا اثر عوام پر اِسقدر پڑا ہے۔ کہ لوگوں نے کڑاہی گوشت تو کُجا بکرے کا گُوشت کھانا ہی یکسر چھوڑ دِیا ہے۔ جسکی وجہ سے شہر میرپورخاص کی ایک مشہور کڑاہی گوشت کی دُکان جہاں پر آرڈر دینے کے بعد ایک گھنٹے تک  نمبر نہیں آتا تھا۔ اُس دُکان کے مالکان نے چند دِن گاہکوں کا انتظار کرنے کے بعد فی الحال اپنی شاپ بند کردی ہے۔۔۔

اِس پروگرام کے نشر ہُونے کے بعد جہاں ایک طرف لوگوں میں خُوف و ہِراس پھیل گیا ہے۔ تُو دوسری طرف لُوگوں کے ہاتھ افواہیں اُڑانے کا ایک نیا مشغلہ ہاتھ آگیا ہے۔ روز نئی نئی خبریں سُننے کو مِلتی ہیں۔ کہ آج فُلاں دُکان پر چھاپا پڑگیا۔۔ یا آج ایک شخص کتوں سے بھری  گاڑی کیساتھ پکڑا گیا۔

مجھے تو آج اَرسلان گُجر کی بُہت یاد آرہی ہے۔۔۔ جِن سے ہم نے ایک مرتبہ فرمائش کی تھی۔ کہ وُہ ہمیں کسی دِن بکرے کی سجی کھلانے کیلئے ٹنڈوآدم اپنے ساتھ لے کر چلیں ۔۔۔ جسکے جواب میں اُنہوں نے مُسکرا کر کہا تھا۔۔۔ عشرت بھائی جیسے کراچی میں  گدھے نایاب ہُوتے جارہے ہیں۔ اِسی طرح ٹنڈوآدم سے کُتے بھی غائب ہُوتے جارہے ہیں۔۔۔ ہمیں کیا معلوم تھا کہ ایک دِن اِن حرام جانوروں کا سلسلہ ہمارے شہر تک بھی  پُہنچ جائے گا۔

ہمارے لئے تو سب سے اہم مسئلہ یہ ہے کہ برائیلر مرغی تو ہم پہلے ہی شوق سے نہیں کھاتے تھے۔ لے دے کر بکرا یا مچھلی بچے تھے۔ جس میں سے بکرا تو چلا ہی گیا۔۔۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ اَب مچھلی کی باری آتی ہے یا اِنسانی گوشت کی۔۔۔۔؟   

Saturday, 22 December 2012

عشرت وارثی حاضر ہُو۔


جب میں حالتِ مَدہُوشی سے عالمِ ہُوش میں پلٹ کر واپس  آیا۔ تب سب سے پہلے میں نے جس چیز کو مِحسوس کیا وہ میرے بدن میں اُٹھتی ہُوئی دَرد کی لہریں تھی ۔پورے جسم میں اتنی شدید ٹیسیں اُٹھ رہی تھیں ۔مانو جیسے کسی نے مجھے بُری طرح دھنک کر رکھ دِیا ہُو۔ لیکن یہ اِحساس بھی زیادہ دیر قائم نہ رِہ سکا ۔پھر مجھے اِحساس ہُوا کہ میرے بدن پر ایک بھی کپڑا موجود نہیں ہے ۔ ایک ہلکی سی شرم کی لہر میرے حَواس پر غالب ہُوئی۔ لیکن جونہی میں نے اپنے اِرد گِرد کے ماحُول پر نِگاہ ڈالی تو میں نے جانا کہ میں جس مقام پر موجود ہُوں ۔ وہاں  شائدکسی کے بھی جِسم پر پیراہن نام کی کوئی شئے موجود نہیں ہے۔

ہر طرف انسانوں کے سر ہی سر نظر آرہے تھے۔ لوگوں کے جتھے کے جتھے یہاں سے وہاں پریشانی کی حالت میں دوڑتے پھر رہے تھے عجیب نفسا نفسی کا عالم تھا ۔ میرے  کانوں میں لوگوں کے سسکنے، بلکنے ، کی آوازیں اس کثرت سے آرہی تھیں ۔ یوں لگ رہا تھا کہ جیسے لاکھوں مکھیاں ایک ساتھ بھنبھنا رہی ہُوں۔ یہ ماحُول دیکھ کر مجھے اِحساس ہُونے لگا کہ کوئی خاص واقعہ پیش آگیا ہے ۔ جسکی وجہ سے لوگ یُوں سَرگرداں  و پریشاں حال نظر آرہے ہیں۔۔۔ کہ اِنہیں یہ بھی اِحساس نہیں ہوپارہا کہ وہ بِنا لباس کے یوں بے پرواہ گھوم رہے ہیں اگرچہ یہ برہنگی بھی عجیب تھی کہ لوگ برہنہ بھی تھے لیکن ایک دھند نے ہر انسان کو اپنی لپیٹ میں لے رَکھا تھا جسکی وجہ سے وہ برہنہ ہونے باوجود بھی برہنہ نظر نہیں آرہا تھا۔

خیر میں نے ہِمت کی اور  اپنے  زَخم زَخم  پیروں سے اُٹھنے کی کوشش کرنے لگا۔ موقع کی نزاکت نے ویسے بھی میری تکلیف کو بُہت کم کردِیا تھا۔۔۔ جب میں زمین سے اُٹھ کر کھڑا ہُوا تو مجھے معلوم ہُوا کہ میں ایک سپاٹ میدان میں کھڑا ہوں جہاں کروڑوں لوگوں کا مجمع موجود ہے۔ جہاں نِگاہ اُٹھاتا انجان ہراساں لوگوں کے چھٹ کے چھٹ موجود نظر آرہے تھے۔ پھر مُجھے محسوس ہُوا کہ اس میدان میں بلا کی تیز گرمی ہے۔۔۔ جسکی وجہ سے زمین کسی سُلگتی ہُوئی دَھات کی طرح معلوم ہُورہی تھی۔ اور جب میں نے آسمان کی جانب نِگاہ اُٹھائی تو مجھے آسمان نام کی کوئی شئے نظر نہ آئی اب مُجھے حالات کی سنگینی کا مزید اِحساس ہُونے لگا تھا۔

میں نے ایک خوفزدہ نوجوان کو بھاگتے دِیکھا اس کا چہرہ مُجھے کُچھ جانا پہچانا مِحسوس ہورہا تھا۔۔۔ لیکن ذِہن پر کافی  زُور دینے کے باوجود  وُہ پہچانا نہیں جارہا تھا ۔۔میں نے بھی بے اِختیار اُس نوجوان کے ساتھ بھاگنا شروع کردِیا اور دوڑتے دوڑتے اُس نوجوان سے معلوم کیا۔ بھائی یہ کونسی جگہ ہے۔۔۔؟

اُس نے صرف ایک لمحے کیلئے میری جانب دِیکھا اور کہنے لگا کیا تُمہیں ابھی تک سمجھ نہیں آئی ۔کہ ہم میدانِ حشر میں موجود ہیں اور آج جزا اور سزا کا دِن ہے۔۔۔ کسی کو انعام کی خِلعتوں سے نوازا جارہا ہے اور کسی کو جہنم کا ایندھن بنایا جارہا ہے۔ یہاں آج کوئی کسی کا نہیں ہے ۔۔۔میرا حِساب پیش ہوچکا ہے لیکن میرے گُناہوں کے پلڑے میں صرف 10گُناہ میری نیکیوں سے زیادہ ہیں میں نے کُچھ مُہلت طلب کی ہے۔۔۔ تاکہ اپنی ماں سے11 نیکیاں حاصل کرسکوں ۔۔۔مجھے اُمید تھی کہ اس مُصیبت کی گھڑی میں میری ماں ہی مجھے اپنی نیکیاں دے سکتی ہے۔ لیکن میرا حِساب دیکھنے کے بعد میری ماں نجانے کہاں چلی گئی ہے وہ شائد مُجھ سے چھپتی پھر رہی ہے۔۔۔ تاکہ اُسے اپنی نیکیاں مُجھے نہ دینی پڑجائیں۔ اتنا کہنے کے بعد وہ لوگوں کے ہجوم میں ماں۔ ماں چِلاتا ہُوا گُم ہوگیا۔

اب مُجھے اِحساس ہوچُکا تھا کہ میں میدان حشر میں آ پُہنچا ہُوں اور آج مجھے بھی اپنے کئے ہوئے ہر اچھے بُرے عمل کا حِساب دینا ہُوگا پھر میں نے سُنا کوئی صدا لگانے والا صدا لگا رَہا تھا کہ عبداللہ بن صاعقہ کو پیش کیا جائے ۔۔اور پھر چند ہیبتناک فرشتے ایک کمزور سے آدمی کو گھسیٹ کر لیجاتے ہُوئے نظر آئے ۔۔۔وہ آدمی شائد میزان پر جانے سے گھبرا رَہا تھا لیکن اُس شخص کی فِرشتوں کے آگے ایک نہیں چل پارہی تھی۔ بہرحال وہ شخص جب میرے سامنے سے لیجایا جانے لگا تُو میرے کانوں نے اُسکی صدا سُنی مجھے چھوڑ دو میرے پلے کونسی نیکیاں ہیں جو مُجھ سے میرا حِساب چاہتے ہُو ۔

لیکن فرشتوں نے اُسکی ایک نہ سُنی اور اُسے میزان پر لے گئے ۔میں سوچنے لگا نیکیاں تو میرے پلے بھی کُچھ نہیں۔ تو کیا اگر میرے پاس نیکیاں نہ نکلیں تو کیا مجھے بھی جہنم کا ایندھن بنا دِیا جائے گا۔۔۔ ؟ جہنم کا خیال آتے ہی مُجھے سورج کی تپش مزید جھلسانے لگی میرے جسم سے پسینہ بِہنے لگا اور جب میں نے زمین کو دیکھا تُو زمین پر میرا پسینہ بِہہ رَہا تھا۔۔ لیکن یہ کیا ۔۔ کیا میرے اکیلے جسم سے اِتنا پسینہ نِکل سکتا ہے کہ زمین پہ بِہنے لگ جائے ؟ تب مُجھے معلوم ہُوا کہ صرف میرے ہی جسم سے پسینہ نہیں نکل رہا تھا بلکہ ہر انسان کے جسم سے پسینہ بہہ رَہا تھا۔ اور اب یہ پسینہ تیز بارش کے بعد زمین پر بِہنے والے پانی کی طرح نظر آرہا تھا اور اِسکی سطح لحظہ با لحظہ بُلند ہورہی تھی۔۔ تبھی کمرہ میزان سے عبداللہ برآمد ہُوا لیکن یہ کیا وہی عبداللہ جو ابھی کُچھ لمحے پہلے فرشوں سے میزان پر نہ لیجائے جانے کی درخواست کررہا تھا۔ اب اُس کے چہرے کی خُوشی اُسکےچہرہ کو گُلنار کئے دے رہی تھی۔

میں نے اُسکی خُوشی کا سبب معلوم کیا تو وہ کہنے لگا میں دُنیا میں بُہت غریب تھا میرے پاس کبھی اتنے پیسے جمع نہیں ہوسکے کہ میں زکواۃ ادا کر پاتا۔ لیکن میں ہمیشہ یہ نیت کیا کرتا تھا کہ اگر میرے ہاتھوں میں خزانے کی کُنجیاں آجائیں تو سارا خزانہ مسکینوں میں تقسیم کردوں۔ بس آج مجھے معلوم ہوا ہے کہ میری نیتوں کو قبول کرتے ہوئے اس عمل کے برابر نیکیوں کو میرے نامہ اعمال میں جمع کردیا گیا تھا اور یُوں میں آج اس مشکل گھڑی میں سرخُرو ہُوگیا ہوں۔

میرا دِل مجھے مشورہ دے رَہا تھا کہ میں کہیں چُھپ جاؤں لیکن میرا دماغ مُجھے سمجھا رہا تھا کہ ایسا ممکن نہیں ہے۔ لہٰذا کُچھ دیر دِل اور دماغ کی جنگ جاری رہی اور دماغ دِل پر غالب آگیا۔ اور میں یہ جان گیا کہ ایسا ممکن نہیں ہے لِہٰذا میں لوگوں کو میزان پر آتا جاتا دیکھنے لگا ۔ میں نے ایک انسان کو بڑی بے پرواہی سے اپنے حساب کتاب کے لئے میزان پر جاتے دیکھا اُسکی نخوت سے مجھے احساس ہونے لگا کہ وہ کوئی نہایت پرہیزگار عابد ہے جسکے پاس نیکیوں کے خزانے موجود ہیں۔

لیکن جب وہ میزان سے فارغ ہُوا تو اُسکے چہرے پر ہوائیاں اُڑ رہی اور وہ گڑ گِڑا کر اللہ عزوجل کا فضل طلب کررہا تھا ۔ میرے استفسار پر مُجھے بتایا گیا کہ یوں تو اسکے پاس واقعی نیکیوں کے خزانے موجود تھے ۔لیکن اس نے اللہ کریم کی چادر میں خیانت کی تھی جسکے سبب اسے اپنے جرموں کی پاداش میں جہنم لیجایا جارہا ہے ۔یہ نیک انسان لوگوں کو خُود سے حقیر سمجھا کرتا تھا اور تکبر کا شکار تھا۔ اِس پارسا کے حشر نے مجھے وقتی طور پر ہراساں کردیا۔ لیکن پھر میں دوسرے لوگوں کے حساب کتاب کو دیکھنے میں مصروف ہوگیا ۔۔۔ہر سزایافتہ مجرم کو دیکھنے کے بعد میرا حُوصلہ مزید ٹوٹنے لگتا لیکن جب میں کسی پر انعامُ اکرام کی بارش دیکھتا تو مجھے بھی اُمید اپنے حِصار میں جکڑ لیتی ۔۔۔۔یہ سلسلہ جاری تھا کہ ایک صدا بُلند ہوئی عشرت اقبال کو حساب کیلئے میزان پر پیش کیا جائے۔

یہ صدا سُننے کے بعد میرے ہُوش اُڑنے لگے یہ کیا میرے حِساب کا وقت بھی آپُہنچا ۔۔۔میں جُو ابھی کُچھ ہی لمحے قبل  تک دوسروں کے حساب میں گُم تھا۔۔۔ اور میں نے یہ سُوچا بھی نہیں تھا ۔کہ مجھے اسقدر جلد بُلا لیا جائے گا ۔۔۔دِل میں ہزار اندیشے تھے کہ نجانے میرے ساتھ کیا مُعاملہ پیش آنے والا ہے۔ کیا مجھے چھوڑ دِیا جائے گا۔۔ ۔؟  یا جہنم کی عمیق گہری وادیوں میں دھکیل دیا جائے گا میری نِگاہیں میرے اپنوں کو تلاش کرنے لگیں مجھے اپنے اِرد گرد بُہت سے شناسا چہرے نظر آئے لیکن یہ کیا۔۔۔ تمام چہرے سپاٹ تھے ایسا لگتا تھا کہ جیسے میری سزا و جزا کے مُتعلق وہ جاننا ضرور چاہتے تھے مگر اُنہیں اس بات کی پرواہ ہرگز نہیں تھی کہ کامیابی میرا مُقدر بنتی ہے یا ناکامی میرے حِصے میں آتی ہے۔

مجھے میزان پر لے جایا جارہا تھا ہر ایک انسان یوں تُو نفسا نفسی کا شکار تھا ۔کئی ایک مُجرم سزا کا پروانہ پا چُکے تھے اور کئی لوگ کامیابی کی نوید سُن چُکے تھے لیکن جب مُجھے میزان پر لیجایا جانے لگا تو میں نے دیکھا کئی ایک لوگ جو مُجھے دُنیا میں جانتے تھے ۔میرے اعمال نامہ کو جاننے میں دِلچسپی رکھتے تھے شائد وہ جاننا چاہتے تھے کہ دیکھیں اس شخص کیساتھ کیا مُعاملہ ہوتا ہے اور بظاہر نیک نظر آنے والا انسان دُنیا میں کس قدر کامیاب رہا ۔ اور کیا یہ حشر کے میدان میں بھی  کامیاب بھی ہُوگا۔ یا اسکے حِصہ میں بھی ناکامی اور وحشتیں لکھی ہیں۔

مجھے میزان پر پیش کیا گیا۔ میں نے دیکھا کہ یہ ایک بُہت بڑی اسکرین تھی جو خَلاؤں میں آویزاں تھی اور ایک فرشتہ ایک مشین کے پاس کھڑا اُس مشین کو آپریٹ کر رہا تھا۔ ہر آدمی کا نام اس مشین میں محفوظ تھا جونہی وہ فرشتہ کسی انسان کا نام پُکارتا تو اسکرین پر اُس انسان کی تصویر اُبھر آتی۔ اور اِسکے بعد اسکرین کی ایک جانب اُسکی ایک ایک نیکی نمایاں کی جاتی جو کہ نہ صرف تحریری شکل میں اسکرین پر نمودار ہوتی بلکہ ایک جانب اسکی وڈیو بھی نمایا ں ہوجاتی تھی۔ اور اگر اس نیکی میں کوئی گُفتگو بھی شامل ہوتی تو وہ گُفتگو بھی سُنائی دینے لگتی۔ جبکہ اسکرین کی دوسری جانب وہ تمام چھوٹے بڑے گُناہ جو دُنیاوی زندگی میں اِنسان ظاہری یا پوشیدہ طُور پر کرتا رہتا ہے ۔ اسکرین پر  بالکل اِسی طرح دوسری جانب ظاہر ہوجاتے۔ ایک طرف نیکیوں کا شُمار جاری تھا تو دوسری جانب گُناہ بھی شُمار کئے جارہے تھے۔ نجانے کتنا وقت گُزر گیا۔۔۔ اور نتیجہ ظاہر ہونے لگا ایک خُود کار مشین نتیجے کو تحریری صورت میں پرنٹ کرنے میں مصروف تھی۔

پھر ایک فرشتہ کی صدا سُنائی دی عشرت وارثی دُنیا میں اپنے مقصد کو پانے میں ناکام رہا ہے ۔ اِسکے گُناہ اسکی نیکیوں پر حَاوی ہیں ۔ لِہٰذا اِسے سزا پانے کیلئے لیجایا جائے۔۔ میں ناکامی کا سُن کر رونے لگا اور فرشتوں سے التجا کرنے لگا ۔۔۔ دیکھو دیکھو ایسا نہ کہو ۔۔۔ مجھے ناکام نہ کہو۔۔۔ میرے حِساب کو ایک مرتبہ اور جانچ لُو۔۔۔۔۔ اگرچہ مُجھے اقرار ہے کہ میں دُنیا میں اپنے آنے کے مقصد کو بھول گیا تھا ۔ہاں۔۔۔ میں دُنیا کی رنگینوں میں کھو گیا تھا۔۔۔ لیکن مجھے اسطرح سزا کیلئے نہ لے جاؤ خُدا کیلئے مجھے چھوڑ دو۔۔۔۔ مُجھے چھوڑ دو۔


لیکن مُحافظ فرشتوں پر میری صدا کا کوئی خاطر خُواہ اثر نہیں ہُوا ۔۔۔۔وہ مجھے گھسیٹنے کے انداز میں لئے جارہے تھے ۔ کہ میں پُکارا۔۔ سُنو مجھے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے دُنیا میں بُہت مُحبت تھی۔۔۔ اگرچہ میرا عشق کامل نہیں تھا لیکن مجھے قوی توقع تھی کہ میری یہ مُحبت رائیگاں نہیں جائے گی ۔۔۔ تُم میرے ساتھ ایسا نہیں کرسکتے۔۔۔ خُدا کے واسطے میری مُحبت کی لاج رکھو۔۔۔۔ مجھے چھوڑ دو ۔۔۔ مُجھے سزا کیلئے نہ لیکر جاؤ۔

تبھی ایک صدا بُلند ہوئی ۔۔ ہر دعویٰ دلیل چاہتا ہے۔۔ کیا تُمہارے پاس کوئی دلیل ہے۔۔ جو ثابت کرے کہ تُم واقعی اپنے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مُحبت کرتے تھے۔۔۔ کیونکہ تُمہارے عمل نے ثابت کیا ہے کہ تُمہارے پاس صرف دعویٰ ہی دعویٰ ہے عمل نام کی کوئی شئے تُمہارے نامے سے برآمد نہ ہوسکی۔

صدا کو سننے کے بعد فرشتوں کی گرفت مُجھ پر کمزور ہوگئی تھی ۔۔۔۔۔۔ میں اپنی پھولی ہوئی سانسوں کو درست کرنے لگا ۔۔۔ اور سُوچنے لگا کہ میں ایسی کونسی دَلیل پیش کروں کہ میرا دعویٰ سچ ثابت ہوجائے اور میری گُلو خُلاصی ممکن ہوجائے۔ سزا کے نام ہی سے میری جان نِکلی جارہی تھی کہ مجھے اپنا ایک عمل یاد آنے لگا جِسے میں عشق کی دلیل کے طُور پر پیش کرسکتا تھا۔

اور میں نے فیصلہ کرلیا کہ اپنے اِسی عمل کو اپنے دعوے کے طور پر پیش کرونگا اور مُجھے قوی اُمید تھی کہ اللہ کے فضل سے میں ناکامی سے کامیابی کی طرف ضرور سفر کروں گا میں نے اپنے عشق کا دعویٰ پیش کرنا شروع کیا۔۔۔۔۔۔۔

میرا رَبّ خُوب جانتا ہے کہ کہ میرے خاندان میں میرا ایک کزن میرا محبوب تھا ۔جسکے بِنا نہ مجھے کھانا اچھا لگتا تھا۔ اور نہ ہی پانی ہم نے بچپن سے جوانی تک کا سفر ایک ساتھ طے کیا تھا ۔پھر ہماری راہیں جُدا ہونے کا وقت آپُہنچا۔ چونکہ ہمارے خاندان میں میرے دادا اور میرے بڑے تایا کے علاوہ سبھی اولیاءَ اللہ کے ناموں سے چِڑا کرتے تھے۔ اور ہمارے خاندان میں اکثر لوگ متشدد تھے جو ذرہ ذرہ سی باتوں کیلئے مسلمانوں پر کُفر کے فتوے صادر کردیا کرتے تھے۔ اُنہیں اولیاءَاللہ کے ناموں سے جتنی بیزاری تھی میرے دِل میں چُپکے چُپکے اتنی ہی زیادہ اولیاءَ اللہ کی مُحبت پیدا ہوتی جارہی تھی۔ اور جوانی میں قدم رکھتے رکھتے اس مُحبت نے خاموش عشق کی شکل اِختیار کرلی۔ پھر ایک دِن میرے کزن نے مجھے اس عمل سے باز رِہنے کیلئے کہا۔ لیکن میرے دِل میں اب اپنے کزن کے علاوہ اِن اولیاءَ اللہ کی مُحبت بھی نجانے کب کی جَڑ پکڑ چکی تھیں۔ میں نے اُسے لاکھ سمجھایا کہ ہم دونوں اگرچہ الگ الگ راہوں کے مُسافر ہیں۔ لیکن یہ بھی تُو ممکن ہے کہ ہم ایک دوسرے کے طریقے کا احترام کرتے ہُوئے اپنی منزل کی جانب چلتے رہیں۔

اور جب جب زندگی کے کسی پڑاؤ پر ہماری مُلاقات ہوجائے ۔تو ہم ایک دوسرے سے باہمی احترام کیساتھ مِلتے رہیں۔ اور اپنی راہوں کے جُدا ہونے کے باوجود بھی اپنے بچپن کی مُحبت کو قائم رکھیں۔ لیکن وہ اِس بات پر مُصر تھا کہ یا تو واپس لُوٹ آؤ۔ یا پھر ہمیشہ کیلئے ہماری زندگیوں سے نِکل کر دفع ہوجاؤ ۔۔۔

میں اگرچہ ہر قیمت پر اس بچپن کی مُحبت کو قائم رکھنا چاہتا تھا لیکن مجھ سے جو قیمت اولیاءَ اللہ کی مُحبت سے دستبردار ہونے کی مانگی جارہی تھی میں یہ قیمت دینے سے قاصر تھا میرا جواب سُن کر میرے دوست نے ایسا کام کیا جسکا تصور تو میں کبھی خیال و خُواب میں بھی نہیں کرسکتا تھا۔۔۔ میرے کزن میرے دوست نے میرا جواب سُننے کے بعد غُصہ میں اللہ کریم کے مدنی محبوب کی سُنت کی توہین کرڈالی۔۔۔۔

یہ سب میرے لئے ناقابل برداشت تھا۔ ایک طرف بچپن کی مُحبت تھی۔ تو دوسری جانب اللہ کریم کے سوہنے رسول صلی اللہُ علیہ وآلہ وسلم کی عزت کی بات تھی۔ شائد مُجھے چند لمحے لگے ہُونگے۔۔۔ پھر میں اِس نتیجے پر پُہنچ گیا کہ اللہ کے رسول (صلی اللہُ علیہ وسلم) کی حُرمت پر ایسی لاکھوں دُوستیاں نثار کی جاسکتی ہیں۔ اور پھر تا عُمر میں اپنے کزن سے صرف اس لئے نہیں مِلا کہ اس نے اللہ کے رسول (صلی اللہُ علیہ وسلم) کی سُنت کی اہانت کی تھی۔ اور میرا رَبّ خُوب جانتا ہے کہ میری یہ قطع تعلقی صرف اور صرف اللہ کے رسول(صلی اللہُ علیہ وسلم) کی خاطر تھی۔ میرے پاس اس کے سِوا مُحبت کی کوئی اور دلیل موجود نہیں ہے اِتنا کہنے کے بعد میں ایک مُجرم کی طرح زمین پر بیٹھ گیا اور سسکنے لگا۔

میرے کانوں نے وہی صدا پھر سُنی ۔صدا دینے والا کہہ رَہا تھا ۔۔یہ سچ کہتا ہے اسکا یہ عمل خالص اللہ عزوجل کے رسول (صلی اللہُ علیہ وسلم) کی مُحبت میں کیا گیا عمل ہے ۔اس عمل کی جزا اِسے ملنی ہی چاہیئے عشرت اقبال کو دوبارہ میزان پر لیجایا جائے اور اسکے اس عمل کی خصوصی جزا بھی اِسے ضرور دِی جائے گی۔

مجھے دوبارہ میزان پر لیجایا گیا میرا پچھلا حساب دوبارہ اسکرین پر نمودار ہوگیا اُسکے بعد میری نیکیوں کا پلڑہ آہستہ آہستہ بھاری ہونے لگا یہاں تک کہ میری نیکیاں اور میرے گُناہ برابر ہوگئے ۔لیکن میری نیکیوں کا میٹر رُکنے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا۔  یُوں میری نیکیوں کو پلڑہ دھیرے دھیرے بڑھتا رہا۔۔۔ بڑھتا رہا اور ہر جانب سے صدا آنے لگی مُبارک ہو۔۔۔ مُبارک ہو میں سجدہ بجالانے کیلئے زمیں پر جھکتا چلا گیا۔۔۔

تبھی اچانک میری آنکھ کُھل گئی کہیں دور مؤذن تکبیریں بُلند کررہا تھا۔ ۔۔۔ الصلواۃ خیر مِن النُّوم۔۔ الصّلواۃ ُخَیر مِن النُّوم

اور میں باوضو ہو کر حالتِ بیداری میں سجدہ شُکر بجا لانے لگا۔۔۔

Friday, 21 December 2012

Thursday, 20 December 2012

تماشہٗ اِبلیس ایک تعارف



تماشہٗ اِبلیس میرے نئے افسانے کا نام ہے ۔جسکی ابتدا کرنے میں مجھے دُو برس کا عرصہ لگا۔ اِس افسانے میں راقم نے کوشش کی ہے کہ زُبان و مذہب کے نام پر  کی جانے والی تجارت ابلیس کو اِس انداز سے آپ کے سامنے پیش کروں کہ آپ پر تلبیسِ ابلیس رُوز رُوشن کی طرح واضح ہُوجائے۔ کہانی کے کرداروں سے آپ جُوں جُوں متعارف ہُوتے چلے جائیں گے۔ آپ کی دِلچسپی بھی اُسی قدر افسانے میں بڑھتی چلی جائے گی۔

میں نے اِس افسانے میں بس اتنا واضح کرنے کی کُوشش کی ہےکہ،، ہر چمکتی شئے سُونا نہیں ہُوتی۔ اُور نہ ہی مادی ترقی انسانی سکون کا ذریعہ بن سکتی ہے۔ ہر نئے دِن کے ساتھ نئی نئی اَشیاٗ کو دیکھ کر ہمارے دِل میں اُسکی طلب کا شَدید اِحساس پیدا ہُوتا ہے۔ جو بلاآخر ایک جنون کی شکل اختیار کرلیتا ہے۔ اُور اگر وُہ شئے ہمیں نہ مِلے تو ہمیں خُوامخواہ اِحساسِ محرومی کا عفریت ڈسنے لگتا ہے۔۔۔تب ہم یہ کیوں نہیں سُوچتے کہ اِسکی آمد سے قبل بھی ہمارا گُزارا چل رہا تھا۔اُور ہمیں اِس شئے کا پہلے کیوں اتنی شِدت سے احساس نہیں تھا۔ اُور اب کیوں یہ خُواہش دِھیرے دِھیرے ہماری زندگی کو عذاب مسلسل میں گرفتار کرتی  چلی جارَہی ہے۔

آپ میرے اِس نئے افسانے کو بلاگ اِسپاٹ  پر  ناول سیکشن میں اِمیج فارمیٹ میں مفت آن لائن پڑھ سکتے ہیں۔۔۔

میرے لئے اِس افسانے کی اہمیت یُوں بھی ذیادہ ہے کہ،، میں نے جِس دِن یہ افسانہ لکھنا شروع کیا تھا۔ اُسی شام  افسانے کی اِبتداء کرتے ہُوئے مجھے خبر مِلی کے مَلک ممتاز قادری نامی ایک شخص نے مُتنازعہ شخصیت  سلمان تاثیر کا اسلام آباد میں قتل کردیا ہے۔  اِس واقعہ کی چھان بین کیلئے جب انٹر نیٹ کو گھنگالا تُو مجھے کوئی خاص خبر حاصل نہ ہُوسکی۔ البتہ تمام نیوز چینل اِس واقعہ کی کوریج میں پیش پیش تھے۔
چُونکہ اِس واقعہ کا تعلق ناموسِ مُصطفےٰ ﷺ سے تھا۔ اِسلئےاِس واقعہ سے میرا مُتاثر ہُونا لازمی اَمر تھا۔ چُنانچہ میں نےفوراً  ملک ممتاز قادری کو خراج عقیدت پیش کرنے کیلئے ایک کالم (ملک ممتاز قادری تیرے نِثار) لکھنے  کا اُصولی فیصلہ کیا۔ جو کہ بُہت پسند کیا گیا۔اُور غالباً انٹرنیٹ پر  ہماری ویب  کے ذریعہ سےممتاز قادری کے تعارف کایہ پہلا قطرہ تھا۔ جو بعد میں ایک سُمندر کی شِکل اختیار کرتا چَلاگیا۔

لیکن اِس کے بعد بھی میں نے تقریباً سُو کے قریب کالم لکھے ہُونگے۔ لیکن عجب تماشہٗ تھاکہ،، میں جب بھی تماشہٗ ابلیس پر مزید لکھنے کی کُوشش کرتا۔ تب عین اُسی دِن کوئی نہ کوئی مسئلہ درپیش ہُوجاتا جسکی وجہ سے مجھے اپنی توجہ فوری طُور پر اِس افسانے سے ہٹانی پڑتی۔۔۔ جبکہ دُوسرے کالم و افسانے لکھتے ہُوئے ایسا کوئی معاملہ نہیں ہُوتا۔۔۔ لیکن جب بار بار اِس افسانے کے سلسلے میں مجھے حادثات پیش آنے لگے تو مجھے بھی ضِد سی ہُوگئی کہ میں ہر قیمت پر اِس افسانے کو پبلِش کرکے ہی دَم لُوں گا۔

کل جب میں اِس افسانے کو اپنے بلاگ پر پُوسٹ کرنے جارہا تھا۔ تب عین اِس افسانے کو پُوسٹ کرتے ہُوئے مجھے خبر مِلی کہ میرے  دَس برس کے بیٹے سعد کا ایکسیڈنٹ ہُوگیا ہے۔ آپ یقین کریں یا نہ کریں۔۔۔۔لیکن کسی نے واضح طُور پر میرے کان میں کہا،، کیا اب بھی اِس افسانے کو لکھنے کی ضِد سے باز نہیں آوٗ گے۔

اللہ کریم کا بے حد شکر و اِحسان کے اتنے خطرناک ایکسیڈنٹ کے باوجود بھی میرے بیٹے کے صرف ایک انگوٹھے کے ناخن کو نْقصان پُہنچا البتہ خُون کافی ضائع ہُوگیا۔۔۔ لیکن اب وُہ خیریت سے ہے اُور اللہ کریم کی اَمان سے آئندہ بھی محفوظ رہے گا۔۔۔  اُور مجھے بہرحال اِس بات کی بُہت خُوشی ہے کہ شیطان کی تمام کوششوں کے باوجود میں اِس افسانے کو پُوسٹ کرنے میں بفضلِ خُدا کامیاب ہُو ہی گیا ہُوں۔۔۔۔ جسکے ذریعے سے میں اِبلیس کی چالوں سے  اِنشاءَاللہ پردہ اُٹھاتا رہوں گا۔

Wednesday, 19 December 2012

تماشہٗ ابلیس















Tuesday, 18 December 2012

کیا ماہ صفر منحوس ہے۔۔۔؟




Post by : shamim ahmed attari karachi
دوستو بعض لوگ ماہ صفر کے بارے میں بہت سی غلط فہمیوں کا شکار ہیں ، یہ پوسٹ اسی بات کو کلئیر کرنے کے لئے پُوسٹ کی جا رہی ہے ! پڑھیے اور اپنے دوستو کو بھی بتایئے  !

کیا ماہِ صفر منحوس ہے ؟؟؟
----------------------------------
ماہِ صفر ، اللہ تعالیٰ کے بنائے ہوئے مہینوں میں سے ایک مہینہ ، اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے اِس مہینے کی نہ کوئی فضلیت بیان نہیں کی گئی ہے اور نہ ہی کوئی ایسی بات جِس کی وجہ سے اِس مہینے میں کِسی بھی حلال اور جائز کام کو کرنے سے رُکا جائے ، ، جو مہینے فضلیت اور حُرمت والے ہیں اُن کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
 (اِنَّ الزَّمَانَ قَد استدَارَ کَھیئتِہِ یَومَ خَلَق َ اللَّہ ُ السَّمَوَاتِ وَ الارضَ السَّنَۃُ اثنا عَشَرَ شَھراً مِنھَا اربعَۃَ حُرُمٌ ، ثَلاثٌ مُتَوالیاتٌ ، ذو القعدہ ذوالحجۃِ و المُحرَّم و رجبُ مُضر الَّذِی بین جُمادی و شَعبان)۔  
(سا ل اپنی اُسی حالت میں پلٹ گیا ہے جِس میں اُس دِن تھا جب اللہ نے زمنیں اور آسمان بنائے تھے ، سال بار ہ مہینے کا ہے جِن میں سے چار حُرمت والے ہیں ، تین ایک ساتھ ہیں ، ذی القعدہ ، ذی الحج ، اور مُحرم اور مُضر والا رجب جو جمادی اور شعبا ن کے درمیان ہے ) صحیح البُخاری /حدیث ٧٩١٣ ، ٢٦٦٤ ،

دو جہانوں کے سردار ہمارے محبوب مُحمد صلی اللہ علیہ وسلم نے سال کی بارہ مہہینوں میں سے چار کے بارے میں یہ بتایا کہ وہ چار مہینے حُرمت والے ہیں یعنی اُن چار مہینوں میں لڑائی اور قتال نہیں کرنا چاہئیے ، اِس کے عِلاوہ کِسی بھی اور ماہ کی کوئی اور خصوصیت بیان نہیں ہوئی نہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اور نہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے !!!!

حیرانگی کی بات ہے کہ اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے کوئی خبر نہ ہونے کے باوجود کچھ مہینوں کو با برکت مانا جاتا ہے اور من گھڑت رسموں اور عِبادت کے لیئے خاص کیا جاتا ہے اور کُچھ کے بارے میں یہ خیال کِیا جاتا کہ اُن میں کوئی خوشی والا کام ، کاروبار کا آغاز ، رشتہ ، شادی بیاہ ، یا سفر وغیرہ نہیں کرنا چاہیئے ، حیرانگی اِس بات کی نہیں کہ ایسے خیالات کہاں سے آئے ، یہ تو معلوم ہے جِس کا ذِکر اِنشاء اللہ ابھی کروں گا ، حیرانگی اِس بات کی ہے کہ جو باتیں اور عقیدے کِسی ثبوت اور سچی دلیل کے بغیر کانوں ، دِلوں اور دِماغوں میں ڈالے جاتے ہیں اُنہیں تو فوراً قُبُول کر لِیا جاتا ہے لیکن جو بات اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے بتائی جاتی ہے اور پوری تحقیق کے ساتھ سچے اور ثابت شُدہ حوالہ جات کے ساتھ بتائی جاتی ہے اُسے مانتے ہوئے طرح طرح کے حیلے بہانے ، منطق و فلسفہ ، دِل و عقل کی کسوٹیاں اِستعمال کر کر کے راہ فرار تلاش کرنے کی بھر پُور کوشش کی جاتی ہے اور کچھ اِس طرح کہا لکھا جاتا ہے کہ ::: اجی یہ بات دِل کو بھاتی نہیں ::: کچھ ایسا ہے کہ عقل میں آتی نہیں۔

افسوس اُمتِ مُسلّمہ روایات میں کھو گئی ::::: مُسلّم تھی جو بات خُرافات میں کھو گئی

اِن ہی خُرافات میں سے ماہ ِ صفر کو منحوس جاننا ہے ، پہلے تو یہ سُن لیجیئے کہ اللہ تعالیٰ نے کِسی چیز کو منحوس نہیں بنایا۔

ہاں یہ اللہ تعالیٰ کی مرضی اور حِکمت ہے کہ وہ کِس چیزمیں کِس کے لیئے بر کت دے اور کِس کے لیئے نہ دے ، آئیے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک فرمان آپ کو سُناؤں ، جو ہمارے اِس موضوع کے لیئے فیصلہ کُن ہے ، عبداللہ ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے نحوست کا ذِکر کِیا گیا تو فرمایا ( اِن کانَ الشؤم فَفِی الثَّلاثۃِ ، المَراء ۃِ و الفُرسِ الدارِ ) ( اگر نحوست( کِسی چیز میں) ہوتی تو اِن تین میں ہوتی،عورت ، گھر اور گھوڑا ) صحیح البُخاری / کتاب النکاح / باب ١٨ ، صحیح مُسلم / حدیث ٢٢٢٥ ،

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا کہ ( اگر نحوست کِسی چیز میں ہوتی ) صاف بیان فرماتا ہے کہ کوئی چیز منحوس نہیں ہوتی اور یہ بات بھی ہر کوئی سمجھتا ہے کہ جب ''' کوئی چیز ''' کہا جائے گا تو اُس میں مادی غیر مادی ہر چیز شامل ہو گی یعنی وقت اور اُس کے پیمانے بھی شامل ہوں گے، لہذا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اِس فرمان مُبارک سے یہ بات بالکل واضح ہو گئی کہ نحوست کِسی چیز کا ذاتی جُز نہیں ہوتی ، اللہ تعالیٰ جِس چیز کو جِس کے لیئے چاہے برکت والا بنائے اور جِس کے لیئے چاہے بے برکتی والا بنائے ، یہ سب اللہ کی حکمت اور مشیئت سے ہوتا ہے نہ کہ کِسی بھی چیز کی اپنی صفت سے ، دیکھ لیجیئے کوئی دو شخص جو ایک ہی مرض کا شِکار ہوں ایک ہی دوا اِستعمال کرتے ہیں ایک کو شِفاء ہو جاتی ہے اور دوسرے کو اُسی دوا سے کوئی آرام نہیں آتا بلکہ بسا اوقات مرض بڑھ جاتا ہے ، کئی لوگ ایک ہی جگہ میں ایک ہی جیسا کاروبار کرتے ہیں کِسی کوئی فائدہ ہوتا ہے کِسی کو نُقصان اور کوئی درمیانی حالت میں رہتا ہے ، کئی لوگ ایک ہی جیسی سواری اِستعمال کرتے ہیں ۔کِسی کا سفر خیر و عافیت سے تمام ہوتا ہے اور کِسی کا نہیں ، اِسی طرح ہر ایک چیز کا معاملہ ہے ، یہاں یہ بات بھی اچھی طرح سے ذہن نشین کرنے کی ہے کہ برکت اور اضافے میں بہت فرق ہوتا ہے ، کِسی کے لیئے کِسی چیز میں اضافہ ہونا یا کِسی پاس کِسی چیز کا زیادہ ہونا اِس بات کی دلیل نہیں ہوتا کہ اُسے برکت دی گئی ہے ،

عموماً دیکھنے میں آتا ہے کہ کافروں ، اور بدکاروں کو مسلمانوں اور نیک لوگوں کی نسبت مال و دولت ، اولاد ، حکومت اور دُنیاوہ طاقت وغیرہ زیادہ ملتی ہے ، تو اِس کا یہ مطلب نہیں ہوتا کہ اُنہیں برکت دی گئی ہے ، بلکہ یہ اللہ کی طرف سے اُن پر آخرت کا مزید عذاب تیار کرنے کا سامان ہوتا ہے ، کہ ، لو اور خُوب آخرت کا عذاب کماؤ ،

صفر کے مہینے کی نہ تو اِس کی کوئی فضلیت قُران و سُنّت میں ملتی ہے اور نہ ہی کوئی ایسی بات جِس کی وجہ سے اِس مہینے کو بے برکت یا بُرا سمجھا جائے ، جی ہاں ، اِسلام سے پہلے عرب کے کافر اِس مہینے کومنحوس اور باعثِ نُقصان سمجھتے تھے ، اور یہ سمجھتے تھے کہ صفر ایک کیڑا یا سانپ ہے جو پیٹ میں ہوتا ہے اور جِس کے پیٹ میں ہوتا ہے اُس کو قتل کر دیتا ہے اور دوسروں کے پیٹ میں بھی مُنتقل ہو جاتا ہے ، یعنی چُھوت کی بیماری کی طرح اِس کے جراثیم مُنتقل ہوتے ہیں ۔

اور اِسی لیئے اپنے طور پر ایک سال چھوڑ کر ایک سال میں اِس مہینے کو محرم سے تبدیل کر لیتے اورمحرم کی حُرمت اِس پر لاگو کرتے کہ شایدحُرمت کی وجہ سے صفر کی نحوست کم یا ختم ہو جائے،اور دوسرا سبب یہ ہوتا کہ محرم کی حُرمت صفرپر لاگو کرکے محرم کو دوسرے عام مہینوں کی طرح قرار دے کر اُسمیں وہ تمام کام کرتے جو حُرمت کی بنا پر ممنوع ہوتے ۔

 ( تفصیلات کے لیئے دیکھیئے ، فتح الباری شرح صحیح البُخاری / الاِمام الحافظ ابن حَجر العسقلانی ، عُمدۃ القاری شرح صحیح البُخاری / عِلامہ بدر الدین العینی، شرح اِمام النووی علیٰ صحیح مُسلم ، عَونُ المَعبُود شرح سُنن ابی داؤد /علامہ شمس الحق العظیم آبادی ،الدیباج علیٰ صحیح مُسلم /امام السیوطی ، فیض القدیر شرح جامع الصغیر / عبدالرؤف المناوی۔

لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مندرجہ بالا اِن سب اور اِن جیسے دوسرے عقیدوں کو غلط قرار فرمایا ،
ابو ھُریرہ رضی اللہ عنہُ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ( لا عِدوِی و لاھامۃَ و لا طیرۃَ و لا صفر )( نہ ( کوئی ) چُھوت ( کی بیماری )ہے ، نہ ھامہ ہے ، نہ پرندوں ( یا کِسی بھی چیز )سے شگون لینا (کوئی حقیقت رکھتا) ہے ، نہ صفر ( کوئی بیماری یا نحوست والا مہنیہ ہے اور نہ اِس کی کِسی اور مہینہ کے ساتھ تبدیلی )ہے  ۔۔۔

صحیح البُخاری / کتاب الطب / باب ٤٤ ، صحیح مُسلم / حدیث ٢٢٢٠ (

اَلفاظ کے کچھ فرق کے ساتھ یہ حدیث دیگر صحابہ سے بھی روایت کی گئی ہے اور تقریباً حدیث کی ہر کتاب میں موجود ہے ، میں نے حوالے کے لیئے صِرف صحیح البُخاری اور صحیح مُسلم پر اِکتفاء کِیا ہے کہ اِن کے حوالے کے بعد کِسی اور حوالے کی ضرورت نہیں رہتی ، اور قوسین () کے درمیان جو اِلفاظ لکھے گئے ہیں وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نہیں لیکن سب کے سب اِن احادیث کی شرح سے اور جِن کتابوں کا حدیث کے ساتھ حوالہ دِیا گیا ہے اُن میں سے لیئے گئے ہیں اپنی طرف سے نہیں لکھے گئے۔

عرب صفر کے مہینے کے بار ے میں منحوس ہونے کا عقیدہ رکھتے تھے ، افسوس کہ اِسی قِسم کے خیالات آج بھی مُسلمانوں میں پائے جاتے ہیں ، اور وہ اپنے کئی کام اِس مہینے میں نہیں کرتے ، آپ نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اِس مہینے کے بارے میں پائے جانے والے ہر غلط عقیدے کو ایک حرفِ میں بند کر کے مُسترد فرما دِیا ، سال کے دیگر مہینوں کی طرح اِس مہینے کی تاریخ میں بھی ہمیں کئی اچھے کام ملتے ہیں ، جو اللہ تعالیٰ کی مشیئت سے اُسکے بندوں نے کیئے ، مثلاً ۔۔۔

ہجرت کے بعد جہاد کی آیات اللہ تعالیٰ نے اِسی مہینے میں نازل فرمائیں ، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب کے حُکم پر عمل کرتے ہوئے پہلا غزوہ اِسی مہینے میں کِیا ، جِسے غزوہ '' الابوا
بھی کہا جاتا ہے اور '' ودّان '' بھی
اِیمان والوں کی والدہ مُحترمہ خدییجہ بنت الخولید رضی اللہ عنھا سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شادی مُبارک اِسی مہینے میں ہوئی ۔۔۔
خیبر کی فتح خیبر اِسی مہینے میں ہوئی۔
یہ سب جاننے کے بعد بھلا کون مُسلمان ایسا ہو گا جو اِس مہینے کو یا کِسی بھی مہینے کو منحوس جانے اور کوئی نیک کام کرنے سے خود کو روکے ، اللہ تعالیٰ ہم سب کو ہدایت دے اور اُس پر عمل کرتے ہوئے ہمارا خاتمہ فرمائے ۔۔

ابھی جو حدیث نقل کی گئی اُس میں ''' ھامہ ''' کا ذِکر تھا ، بہت اختصار کے ساتھ اُس کا معنی بیان کرتا چلوں ، یہ بھی عربوں کے غلط جھوٹے عقائد میں سے ایک تھا ، کہ جِسے قتل کیا جاتا ہے اس کی روح اُلّو بن جاتی ہے اور اپنا انتقام لینے کے لیئے رات کو نکلتی ہے ، اور جب تک اُس کا اِنتقام پورا نہیں ہوتا وہ اُلّو بن کر راتوں کو گھومتی رہتی ہے ، اور سانپوں کے بارے میں بھی ایسا ہی عقیدہ پایا جاتا تھا ، اور کُچھ اور معاشروں میں اِسی قِسم کا عقیدہ چمگادڑ وغیرہ کے بارے میں پایا جاتا ہے ، عرب اپنے اِس باطل عقیدے کی وجہ سے اُلّو کی آواز کو بھی منحوس جانتے اور اُس کو دیکھنا بھی بدشگونی مانتے۔۔۔

 سانپوں کے انتقام چمگادڑوں اور اُلوؤں کے عجیب و غریب کاموں اور قوتوں اور اثرات کے بارے میں بے بُنیاد جھوٹے قصے آج بھی مروج ہیں اور اُسی طرح کے جھوٹے عقائد بھی لوگوں کے دِلوں و دِماغوں میں گھر بنائے ہوئے ہیں ، جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اِن تمام عقائد کو باطل قرار دِیا ہے جیسا کہ ابھی بیان کِیا گیا ہے ۔

اللہ تعالیٰ اِن مختصر معلومات کو پڑھنے والوں کی ہدایت کا سبب بنائے اور میری یہ کوشش قُبُول فرمائے اور
میری لیئے آخرت میں آسانی اور مہربانی اور مغفرت کا سبب بنائے . آمین الٰہی آمین



حسرت کی بدبو اُور حریص چُوہے

کِسی درد مند کے کام آ۔۔۔۔ کِسی ڈوبتے کو اُچھال دے
یہ نِگاہِ مَست کی مسَتیاں۔ ۔کِسی بدنصیب پہ ڈال دے

یہ شعر مُدت ہُوئی شاہ عبدالکریم بُلڑی رحمتہ اللہ علیہ کے مزارِ مُبارک کی دیوار پر لِکھا دیکھا تھا۔ یہ شعر پڑھ کو مجھ پر جو کیفیت طاری ہُوئی تھی ۔ اُسکا لُطف آج پندرہ برس گُزر جانے کے بعد بھی میں بَخُوبی مِحسوس کرسکتا ہُوں۔ اِس سفر کی ایک خُوبصورت بات یہ بھی تھی یہ سفر میں نے اپنے والد کے حُکم پر اُنہی کیساتھ کیا تھا۔ جو کہ بذاتِ خُود میرے لئےایک خُوشگوار ۔و۔تعجب خیز اَمر تھا۔

بہرحال میری زندگی میں اُولیائے کرام کی مُحبت کی ایک بنیادی وجہ یہ بھی تھی۔ کہ اُولیائے کرام رَحَمُ اللہِ اجمعین کی زندگی مجھے ہمیشہ اِس شعر کے مصداق ہی نظر آئی۔ میں جتنے بھی اُولیائے کرام کی صحبت سے فیض یاب ہُوتا چلا گیا۔ مجھ پر یہ بات واضح ہُوتی چلی گئی کہ اِن اُولیائے کرام کی زندگی کا ایک ہی مقصد ہے کہ اللہ کے بندوں کیلئے آسانی کا سامان مُہیا کیا جائے ۔ اُور انکی خدمت کے ذریعے اللہ کریم کی رضا کو سمیٹا جائے۔

اگر آپ اقبال رحمتہ اللہ علیہ کے اشعار کا مُطالعہ کریں تُو وہاں بھی کثرت سے اِس قسم کے اشعار نظر آئیں گے۔ جنکے مضامین اور مطالب میں شاہ عبدالکریم بُلڑی رحمتہ اللہ علیہ کے اِس شعر کی جھلک نظر آجائے گی۔ جس میں اللہ کریم کے بندوں کی خدمت کو مقدم رکھا گیا ہے۔۔۔ جیسے کہ اقبال رحمتہ اللہ علیہ کا یہ شعر مجھے نہایت ہی پسند ہے۔

خُدا کے بندے ہیں ہَزاروں بَنوں میں پھرتے ہیں مارے مارے
میں اُسکا بندہ بنونگاجِسکو۔ ۔۔۔۔۔ خُدا کے بندوں سے پیار ہُوگا

لِہذا جُوں جُوں اُولیائے کرام کی صحبت کا فیض مجھے نصیب ہُوتا چلا گیا۔ مجھ پر یہ راز عیاں ہُوتا چلا گیا کہ ،، آخر خُدا کی رضا کِس کام میں پِنہاں ہے۔ اُور میرے مُرشد کریم کی لُوگوں سے خیر خُواہی بھی مجھے ہمیشہ یہی سبق سمجھاتی نظر آئی۔۔۔ کہ خُدا کو پانے کا بہترین رستہ اُسکی مخلوق سے پیار اُور خِدمت میں چُھپا ہُوا ہے۔

مجھے اُولیائے کرام رحمہُ اللہ اجمعین کی حِکایات میں سیدنا ابراہیم بن اَدھم اُور حضرت بِہلول دانا رحمتہ اللہ علیہ کی حکایات نے بُہت ذیادہ مُتاثر کیا ہے۔ اُور حضرت بہلول دانا رحمتہ اللہ علیہ جو بیک وقت ایک فلسفی ، و ۔ دانشور کیساتھ ساتھ ایک مجذوب کا رُوپ بھی دھارے ہُوئے تھے۔ جسکی وجہ غالِباً یہ تھی کہ وہ ھارون الرشید کی جانب سے پیش کئے جانے والے قاضی کے عہدے سے بچنا چاہتے تھے۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ کی تمام سیرت میں ہزاروں ایسے واقعات موجود ہیں۔ جسمیں آپ رات دِن مخلوقِ خُدا کی پریشانیوں کو حَل کرتے ہُوئے نظر آتے ہیں۔۔۔۔

ایک مُدت سے جاوید بھائی عطاری جُو ہمارے ہر دِلعزیز مُفتی مُحمد بلال دامت برکاتہم عالیہ کے والد گرامی ہیں۔ جنہیں دیکھ کر ہر مرتبہ میرا دِل گواھی دیتا ہے کہ وُہ اللہ کریم کے ولی ہیں۔ وہ بھی ہمیشہ لوگوں کی آسانی کیلئے خُود کو پیش کئے رکھتے ہیں۔ اُنہیں دیکھ کر عقل حیران ہُوجاتی ہے کہ کوئی کیسے عُمر کے اِس حصے میں دوسروں کیلئے اسقدربھاگ دُوڑ کرسکتا ہے۔ یہ اُنہی کا خاصہ ہے کہ یہاں مدد طلب کرنے والا اپنی پریشانی کا اظہار کرتا ہے۔ اُور وہ فوراً ہی ایسا مشورہ پیش کردیتے ہیں۔ کہ عقل دنگ رِہ جاتی ہے۔ اُور ناصِرف مشورہ بلکہ خُود آگے بڑھ کر اُسکے مسئلہ کو حل کرنے کیلئے مصروف ہُوجاتے ہیں۔

لوگوں کی خِدمت کا یہ جذبہ صحابہ کرام علیہم الرضوان میں بدرجہ اتم موجود تھا۔ کیونکہ وہ رَسو لُ اللہ ﷺ کے زمانے میں موجود وُہ صاحبِ کمال نفوسِ قُدسیہ تھے جو اللہ کریم کے مدنی محبوب ﷺ سے براہِ راست فیض یافتہ تھے۔ اُور اِنہی کے نقوشِ پا کی روشنی میں اُولیااللہ نے مخلوقِ خُدا کی خِدمت کی اہمیت کو جانا تھا۔ اِس ضمن میں ایک روایت پیش کرنے کی سعادت کا شرف حاصل کررہا ہُوں تاکہ میں اپنی بات کو مزیدبِہتر انداز میں سمجھاسَکوں۔

چُنانچہ :۔ ایک مرتبہ سیدنا عبداللہ بن عباس (رضی اللہ تعالی عنہُ) سرکار ﷺ کے ظاہری وِصال کے بعد مسجدِ نبوی شریف کی مُعطر مُعطر فِضاؤں میں اعتکاف فرما تھے۔ آپکی خِدمت میں ایک شخص حاضر ہُوا۔ جُو کہ نہایت غمگین و پریشانی کے عالم میں تھا۔
آپ رضی اللہ عنہُ نے شفقت فرماتے ہُوئے اُس شخص سے پریشانی کا سبب معلوم کیا۔۔۔؟
اُس شخص نے عرض کیا۔۔۔۔ جناب اعلٰی میں بُہت زیادہ مقروض ہُوں۔۔۔۔ اسکے بعد روضہٗ مُبارک کی جانب اشارہ کرتے ہُوئے کہنے لگا۔۔۔ اِس روضہٗ انور میں تشریف فرما نبی رحمت ﷺ کی عزت کی قسم میں اِس قابل بھی نہیں کہ قرض اُتار سکوں۔
سیدنا عبداللہ بن عباس (رضی اللہ تعالی عنہُ) نے ارشاد فرمایا۔ کیا میں تُمہاری سفارش اُس قرض خُواہ سے کردُوں۔۔۔؟
اُس شخص نے عرض کیا۔ جیسا آپ مُناسب سمجھیں۔
سیدنا عبداللہ بن عباس (رضی اللہ تعالی عنہُ) یہ سُن کر فُوراً مسجد نبوی ﷺ سے باہر نِکل آئے۔
وُہ شخص حیرانی سے کہنے لگا عالیجناب آپ شائد بھول گئے ہیں کہ آپ اعتکاف سے تھے۔۔۔۔۔۔
سیدنا عبداللہ بن عباس (رضی اللہ تعالی عنہُ)نے جواباً ارشاد فرمایا۔ میں ہرگز نہیں بُھولا ہوں۔۔۔ بلکہ مجھ سے اِنہی صاحبِ مزار ﷺ نے ابھی کُچھ ہی عرصہ قبل پہلے اِرشاد فرمایا تھا کہ،، جُو اپنے کِسی بھائی کی حاجت روائی کیلئے چَلے اُور اِس کو پُورا کرے تُو یہ
۱۰ سال کے اعتکاف سے افضل ہے اُور جُو رضائے اِلہی کیلئے ایک دِن کا اعتکاف کرتا ہے تُو اللہ کریم اُس کے اُور جہنم کے درمیان تین خندقیں ( گڑھا) حائل فرمادے گا کہ جنکا فاصلہ مشرق و مغرب کے درمیانی فاصلے سے بھی زیادہ ہُوگا۔ اتنا فرمانے کے بعد یاد مُصطفیٰ ﷺ سے سیدنا عبداللہ بن عباس (رضی اللہ تعالی عنہُ) کی آنکھیں اشکبار ہُوگئیں۔

دُعائے عشرت وارثی

اے میرے کریم آقا تیرا یہ غُلام تیرے رُوبرو حاضر ہُونے کو ہے۔ مگر میرا حال یہ ہے کہ زاد راہ کے نام پر ایک بھی نیکی تیرے اِس غلام کے پاس موجود نہیں۔ میں نے سُوچا تھا کہ کُچھ نیکیاں تُجھے راضی کرنے کیلئے چُن لُوں۔ مگر ہائے میری بدنصیبی کے میں نے راہ چلتے چلتے خُود نمائی کے تار سے جو تھیلی بُنی تھی اُس میں بدگمانی اُور حسرت کی بدبو نے حریص چُوہوں کو جنم دیدیا۔ جنہوں نے میرے توشہٗ دان کو چھلنی چھلنی کرڈالا۔ تمام نیکیاں چُونکہ بُہت چھوٹی چھوٹی تھیں۔ اِس چھلنی کے راستے نکل گئیں۔ جبکہ میرے عصیاں اپنے حجم کی وجہ سے میرے ساتھ ہی رِہ گئے۔ مسافت کا وقت گُزر چُکا اُور اب منزل نہایت قریب ہے۔ پشیمانی کے عالم میں حیران و پریشان ہُوں کہ تیری بارگاہ میں کیا پیش کرونگا۔

بس فقط ایک اُمید ہے کہ تُو بادشاہوں کا بادشاہ ہے۔ اُور نہایت کریم ہے۔ مجھ ضیعف کی نادانیوں پر اپنے فضل سے باز پُرس نا فرمائے گا ۔ اُور بے سبب مغفرت کی بھیک سے میرے خالی کاسے کو بھردے گا۔ میرے کریم آقا میری اُمید کا بھرم رکھنا۔ اُور میرے جُرموں کی پردہ پُوشی فرماتے ہُوئے مجھے فقط اپنے فضل کی بھیک اپنے مدنی محبوب ﷺ کے صدقے عطا فرمادینا۔ کیونکہ میں بالکل تہی دامن نہیں ہُوں۔۔۔ کثیر گُناہوں کے سبب میری گردن و کمر جُھکی جارہی ہے۔ اُور تیرے کرم کے سِوا مجھے کوئی بچانے والا نہیں۔۔۔۔

امتحاں کے کہاں قابل ہُوں میں پیارے مولا
بے سبب بخشش دے مالک تیرا کیا جاتا ہے

Monday, 17 December 2012

گُڈو میاں ہیں نا۔۔

        
ابھی اِس واقعہ کو کُچھ ذیادہ دِن نہیں ہُوئے کل ہی کی سی بات لگتی ہے۔

جب گُڈو میاں کسی بَلائے ناگہانی کیطرح ہمارے آفس میں داخل ہوئے تھے

ویسے تُو گُڈو میاں کا اصل نام آصف خان ہے لیکن سب پیار سے گُڈو میاں ہی پُکارتے تھے حَالانکہ شکل و صورت سے ہمیں کبھی بھی گُڈو نہیں لگے البتہ میاں ضرور لگا کرتے تھے۔

تکلفات کے ذرا بھی قائل نہیں تھے اکثر فرماتے میاں تکلفات سے کبھی دوستی پائیدار نہیں ہُوسکتی لہذا ہمیں بھی اکثر تُو تڑاخ سے مُخاطِب کیا کرتے ، ہر وقت خَبروں کی تلاش میں مارے مارے پِھرا کرتے تھے جبکہ اُنکا کہنا تھا کہ مِیاں مجھے خَبروں میں دِلچسپی نہیں ہے بلکہ خَبریں میری تاک میں رِہتی ہیں۔

جب کِسی سے مُلاقات ہُوجاتی پہلا فقرہ اُنکی زُبان سے یہی نِکلتا میاں کُچھ خَبر ہے ، یا میاں آپکو بھی پتہ چَلا ۔ اور اُنکا یہ ایسا تیر بَہدف نُسخہ تھا کہ اِسکے بعد لامُحالہ سامنے والے کو اپنی لاعلمی کا اظہار کرتے ہُوئے استفسار کرنا ہی پڑتا۔۔۔۔ نَہیں گُڈو بھائی کیا ہُوا۔۔۔۔؟

اور اُسکے بعد جب گُڈو مِیاں شروع ہُوتے تُو اپنی قابلیت ، با خَبری ، اور علمیت کا اعتراف کرائے بِنا جان نہیں چُھوڑتے۔

تُو صاحِبو جونہی ہماری نظر گُڈو میاں پر پڑی ہم سمجھ گئے تھے کہ آج ہمارے ستاروں کی چال ضرور اُلٹی ہے اور ہمیں اپنی شامت اعمال صاف نظر آنے لگی تھی اکثر جب کبھی دوستوں کی مِحفل میں گُڈو میاں آدھمکتے تُو ہم اکثر کوئی نہ کوئی بہانہ بنا کر رَفو چَکر ہُوجایا کرتے تھے لیکن اُس دِن ہمیں واقعی کوئی راستہ سُجھائی نہ دِیا کہ موصوف آفِس آدھمکے تھے اور وہ بھی قبل از دوپہر اَب ہَم جاتے بھی تُو کہاں جاتے نہ نماز کا وقت تھا اور نہ ہی ظُہرانے کا۔

بِہرحال ہَم نے آدابِ میزبانی بجاتے ہُوئے نہ صرف کھڑے ہُوکرمُسکراتے ہُوئے اُنکا استقبال کیا بلکہ اُنہیں چائے کا بھی پُوچھ بیٹھے وہ فرمانے لگے میاں چائے کا مُوڈ تُو نہیں لیکن ہَم جانتے ہیں کہ اگر ہَم منع کریں تُو آپ کا اِصرار مَزید بَڑھ جائے گا سو ہَم چائے پی لیں گے لیکن شَرط یہ ہے کہ کِسی پَٹھان کے ہُوٹل کی چائے پَلوایئے اور ڈبہ پیک بسکٹ کے بجائے صِرف سادہ کیک منگوالیجئے کیونکہ ہَم سے آپکی اِس ناہنجار مشین کی چائے ہَضم نہیں ہُوگی گُڈو میاں ہَمارے ٹِی میکر کی جانب اِشارہ کرتے ہُوئے کُرسی پر براجمان ہُوگئے۔

ہَم نے دِل ہی دِل میں خُود کو کوستے ہُوئے جیب سے سُو روپیہ کا نُوٹ نِکالا اور چپڑاسی کے حَوالے کردیا ہمارے کُرسی پر بیٹھتے ہی اُنہوں نے حَسبِ عادت وہی رَٹا رَٹایا جُملہ دُھرایا میاں کُچھ خَبر بھی شِہرمیں کیا کُچھ ہورہا ہے ہَم نے بُہت مُحتاط انداز اَپناتے ہُوئے کہا نجانے آپ کِس خَبر کے مُتعلق پُوچھ رہے ہیں کُچھ حَوالہ دِیں تُو شائد بَتاسکوں ۔ مُجھے مِحسوس ہُوا کہ گُڈو میاں کو ہمارا یہ انداز ایک آنکھ نہیں بھایا کیونکہ ہمارے جواب سے اُنکے چہرے پر ایک رَنگ آکر گُزر گیا اور یہ قطعی بات تھی کہ وہ رَنگ مُحبت کا ہر گِز نہیں تھا۔

عشرت میاں کل شب غریب آباد میں ایک خاتون نے اپنے شوھر کو قتل کیا تھا اُسی کے مُتعلق پُوچھ رہے تھے ،آپکو تُو خَبر ہی ہوگی گُڈو میاں نے آخری جُملہ استہزائیہ انداز اپناتے ہُوئے کہا۔

اِس خَبر نے وقتی طور پر مُجھے دِہلا کر رکھ دِیا اور میرے مُنہ سے وہ جُملہ خُود بَخود نِکل گیا جِسے سُننے کیلئے گُڈو میاں کے کان کافی دیر سے ترس رہے تھے

نہیں گُڈو میاں یہ حادثہ کیسے اور کب رُونما ہُوگیا؟

گُڈو میاں کے چہرے پر ایک اطمینان کی لَہر دوڑ گئی ہُوسکتا ہے اُس لمحے وہ دِل ہی دِل میں اپنی فتح کا جَشن مناتے ہُوئے کہہ رہے ہُوں۔۔۔۔ ہُونہہ۔۔ بیٹا اب آیا نا اونٹ پہاڑ کے نیچے۔ اور صرف گُڈو میاں نے اِسی پر اِکتفا نہیں کیا بلکہ دِل کی بھڑاس نِکالتے ہُوئے ہَم پر یہ جُملہ بھی کَس دِیا،، عشرت میاں کیا انٹرنیٹ پر سارا دِن جَھک مارتے رہتے ہُو اور اپنے شہر کی ذرا خَبر نہیں۔


گُڈو مِیاں کی خَبر ایسی سنسنی خیز تھی کہ ہم یہ پھبتی فی الحال ہَضم کرگئے ہَمیں دِلچسپی تھی تُو اِس خَبر کی تفصیلات میں جِس نے ہمارے جِسم کی ہَر رَگ میں تَجسس بیدار کردیا تھا۔

گُڈو میاں ہماری بے چینی سے بے خَبر نہیں تھے شائد اِسی لئے بَڑی بے اعتنائی سے اَخبار اُتھا کر پڑھنے میں مصروف ہُوگئے کُچھ لمحوں میں ہَمارے صبر کا پیمانہ لبریز ہُوگیا اور بلاآخر ہم پُوچھ بِیٹھے،، آخر ایسی کیا وجہ رہی ہُوگی کی ایک شادی شُدہ خَاتون نے اپنا ہی سُہاگ اُجاڑ لیا؟

گُڈو میاں نے اخبار سے نظریں ہٹائے بغیر بَڑی لاپرواہی سے کہا عشرت میاں اِتنے اُتاولے کیوں ہُو رہے ہیں آپ ذرا چائے آجائے تب تلک میں یہ اِداریہ پڑھ لوں پھر تفصیل سے سُناتا ہُوں آپکو خبر !

اور ہم مرتے کیا نہ کرتے کے مصداق برقی اخباروں میں اُس خبر کو تلاشنے میں مصروف ہُوگئے تاکہ گُڈو میاں پر اپنی علمیت کا سِکہ بِٹھا سکیں لیکن شائد اُس دِن قسمت گُدو میاں پر مہربان تھی کافی سرچنگ کے باوجود بھی ہَم اِس خبر کا سراغ لگانے میں ناکام ہی رہے اِس دوران چائے آبھی گئی اور تمام کی تمام کیک سمیت گُڈو میاں کے پیٹ میں پُہنچ بھی گئی۔

جب ہَماری نظر گُڈو میاں پر پڑی تو وہ چائے اور کیک سے اِنصاف کے بعد مُنہ میں پان کی گلوری ٹھونس رہے تھے ہمیں اپنی جانب متوجہ دیکھ کر فرمانے لگے عشرت میاں کَل کے واقعے نے تمام شہر کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے ۔

لیکن آخر ہُوا کیا تھا ؟ ہَم نے بَڑی بے صبری سے رَریافت کی

ارے عشرت میاں ہُونا کیا تھا بَس کل شبراتی میاں اپنا گیراج بند کر کے گھر کیلئے جارہے تھے اور اُنہوں نے دروازے میں روزینہ بیگم کو کھڑے دِیکھ لیا۔

میں نے گُفتگو قطع کرتے ہُوئے معلوم کیا اب یہ روزینہ بیگم کہاں سے درمیان میں آگئیں اور وہ دروازے میں کیوں کھڑیں تھیں؟

اَرے حَد کرتے ہیں آپ بھی عشرت میاں روزینہ بیگم زوجہ ھیں شُبراتی میاں کی اور دروازے میں کھڑا ہونے سے پہلے ہَم سے اِجازت نہیں لی تھی اُنہوں نے ہوسکتا ہے کِسی بَچّے کو تلاش رہی ہُوں کوئی سودا منگوانا ہُو اُنہیں گھر کا لیکن شبراتی میاں کِسی غلط فہمی کا شِکار ہُوگئے اور دروازے ہی سے چُٹیا تھام کر اندر رَگیدتے ہوئے لے گئے اور اُن پر بَد چلنی کا اِلزام لگاتے ہُوئے دو چار ہاتھ بھی رَسید کردئے روزینہ بیگم کے۔

اُس وقت تُو رُوزینہ بیگم چُپکے سُو رہیں لیکن نجانے آدھی رات کو اُنہیں کیسا دُورہ پَڑا کہ موصلی مار مار کر شبراتی میاں کا سر پاش پاش کردِیا۔

گُڈو میاں جِس انداز سے یہ واقعہ بیان کررہے تھے اُس نے میرے تمام بدن کو سرد کردیا تھا اور ھلاکت کا یہ انداز سُن کر مجھے جُھرجُھری سی آگئی، میرے اِسٹاف کے تمام لوگ بھی تجسس کے مارے اپنی اپنی سیٹوں سے کھسک کر گڈو میاں کے گِرد جمع ہُوچُکے تھے میں نے مُداخلت کے پیش نظر تمام ٹیلیفوں سیٹوں کے ریسیور سیٹ سے جُدا کردئیے اور دوبارہ ہَمہ تن گُوش ہُوگیا پھر کیا ہُوا گُڈو میاں؟

میرا سوال سُن کر گُڈو میاں بھی تن کر بیٹھ گئے اور سلسلہ وہیں سے جُوڑ دِیا

ہُونا کیا تھا عشرت میاں شبراتی میاں کا دَم نِکل گیا مگر روزینہ بِیگم پر تُو ایسی وحشت سوار ہُوئی کہ شبراتی کو ہلاک کرنے کے بعد بھی رُوزینہ بیگم کا دِل نہیں بھرا اور وہ بُگدا نِکال کر شبراتی میاں کی بُوٹیاں بنانے لگ گئی۔

قتل کی یہ حیرت انگیز داستان سُن کر مجھے ایسا محسوس ہُورہا تھا کہ جیسے میرا گلہ خُشک ہوچُکا ہو یمام جِسم کا رُواں رُواں کھڑا ہُوچُکا تھا۔ میں نے تُھوک حلق میں نِگلتے ہُوئے اگلا سوال کیا مگر یہ راز کُھلا کیسے؟

ارے عشرت میاں کیسی بات کرتے ہُو کبھی خُون اور عشق بھی کِسی کے چُھپائے سے چُھپے ہیں بہرحال تُھوڑی دیر بعد جب 
رُوزینہ بیگم کا اِنتقام کا نَشہ ہَرن ہُوا تو وہ خُون اور انسانی ٹکڑے دیکھ کر خُوفزدہ ہِرنی کی طرح کمرے کے ایک کونے میں دُبک کر بیٹھ گئی۔

اور بِس وہ جو کہتے ہیں نا نیند تُو سُولی پر بھی آجاوے ہے بس رُوزینہ بیگم کی بھی آنکھ لَگ گئی جیسے ہی وہ سوئی اُسکے خُواب میں ایک سفید ریش بابا جی آگئے اور رُوزینہ بیگم کو تسلی دینے لگے کہ بیٹا جو ہُونا تھا سِو ہُوگیا اب گھبراؤ نہیں بلکہ ہِمت سے کام لُو تمام لاش کے ٹکڑوں کو ایک بُوری میں بند کردو اور اپنے کپڑوں سے خُون کے داغ بھی صاف کردو۔

تبھی کِسی کی پیچھے سے آواز آئی کوئی نیک بُزرگ ہُونگے جو اُس بیچاری کی مدد کیلئے آئے ہونگے

گُڈو میاں نے اثبات میں گردن ہِلاتے ہُوئے ایک مرتبہ پھر سلسلہ شروع کیا بَس جناب اچانک رُوزینہ بیگم کی آنکھ کُھل گئی اُس نے ہِمت کرکے لاش کے تمام ٹکڑوں کو ایک بُوری میں بند کیا سارا کمرہ پانی سے دُھو کر صاف سُتھرا کیا اور اتنی مِحنت کے بعد تھکن سے نِڈھال ایک مرتبہ پھر سوگئی اَب کیا دیکھتی ہے کہ وہی بابا جی پھر اُسکے پاس آئے ہیں اور ناراضگی کا اِظہار کرتے ہُوئے کہہ رہے ہیں تُم نے ابھی تک اپنے کپڑوں سے خُون کے داغ صاف نہیں کئے؟

رُوزینہ بیگم روتے ہُوئے اُن بابا جی سے کہنے لگی بابا جی میں نے لاش کے تمام ٹکڑے بُوری میں بھر دئیے تمام کمرے سے بھی خُون کے نِشانات مِٹا ڈالے لیکن شُبراتی کے خُون کے داغ میرے کپڑوں سے نہیں جارہے۔

اِتنا کہہ کر گُڈو میاں نے اِشارے سے پان کی پِچکاری پھینکنے کی اِجازت مانگی جو کہ ہَم نے بادِل نخُواستہ دِی

گُڈو میاں نے دروازہ کھول کر پان کی پِچکاری قریب رکھے ایک گَملے پر ماری اور دروازے میں کھڑے کھڑے ہی کہنے لگے عشرت میاں جانتے ہُو اُن بابا جی نے رُوزینہ بیگم سے کیا کہا تھا؟

ہَم نے گَردن نفی میں ہِلا کر اپنی لاعلمی کا اِظہار کی

تبھی گُڈو میاں نے ایک اور پچکاری گَملے پر رسید کی اور دروازے کو پکڑ کر کہنے لگے

عشرت میاں وہ بابا جی مُسکرائے اور جیب سے ایک تھیلی نکال کر رُوزینہ بیگم کو تھماتے ہُوئے کہنے لگے

ارے بے وقوف گھبراتی کیوں ہے

سرف ایکسل ہے نا !

یہ کہتے ہُوئے گُدو میاں نے دروازے سے باہر دوڑ لگادی۔۔۔

ہمیں جب تک گُڈو میاں کا جُملہ سمجھ آیا گُڈو میاں ہماری دسترس سے باہر جا چُکے تھے اور ہِم صرف اِتنا ہی کہہ سَکے۔

لاحَول ولا قوۃ الا باللہ

اَب آپ جو کہنا چاہیں گُڈو میاں سے کمنٹس باکس میں کہہ سکتے ہیں