bing

Your SEO optimized title page contents

Pages

.

.

Wednesday, 30 January 2013

NO WORRIES, NO TENSION


NO WORRIES ,NO TENSION

Come on let’s go with us and see our life
We were just friends we were just flies

No worries  , no tension
But I have to mention

That we have a duty………
Playing with friends and kitty

Some our things sharing with friends
Some of these gifted them

We were the glisten and like a flower
Now we are asunder like the drop of shower

                                      POETRY by : MEMOONA WARSI                                                     


Sunday, 27 January 2013

کبھی اِسکا دَر کبھی اُسکا دَر


کبھی اِسکا دَر کبھی اُسکا دَر

نہ میں خاص نہ ہی میں عام ہوں نہ ہی بادہ نو نہ ناصِحٰہ کا کلام ہوں

کہیں درمیاں میں ہوں کھڑا ہوا

نہ نجیب نہ ہی غریب ہوں نہ سلیم نہ ہی کلیم ہوں نہ ہی رند ہوں نہ پارسہ نہ ہی کوئی تشنہ کام ہوں

کہیں درمیاں میں ہوں کھڑا ہوا

کبھی میکدہ کبھی آستاں کبھی بےقرار کبھی شادماں نہ ہی وحشتوں کا اسیر ہوں نہ ہی زندگی کا غلام ہوں

کہیں درمیاں میں ہوں کھڑا ہوا

کبھی بے یقیں کبھی دیدہ ور کبھی اِسکا در کبھی اُسکا در کبھی نِکہتوں کا پیام ہوں

کہیں درمیاں میں ہوں کھڑا ہوا

کبھی ہنس دئیے کبھی رُو دئیے کبھی چُپ رہے دیکھا کئے کبھی صُبحر ہوں تو کبھی شام ہوں

کہیں درمیاں میں ہوں کھڑا ہوا

کبھی جگنوؤں کی لپک جھپک کبھی آہو جیسے سُبک سُبک کبھی کہکشاؤں کی چمک دَمک کبھی سُرمئی سی کوئی شام ہوں

کہیں درمیاں میں ہوں کھڑا ہوا

کبھی شاعری کبھی فلسفہ کبھی جلوتوں میں واعظ نُماء کبھی خلوتوں میں بہک گیا سا خیال ناتمام ہوں

کہیں درمیاں میں ہوں کھڑا ہوا

عشرت اقبال وارثی 2009

Saturday, 26 January 2013

فیضانِ اسم اعظم ۲ ہر مشکل سے نجات پایئے۔


بے شک دلوں کا اطمینان اللہ کے ذکر میں ہے۔ القران۔

حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) نے زید بن صامت (رضی اللہ تعالیٰ عنہُ) کو یوں دُعا کرتے سُنا ( اَللّہمہَ انی اسئلکُ بِانَّ لک الحمدُ لا الٰہ الّا انتَ وَحدِکَ لا شریکَ لکَ یا حنانُ یا منانُ یا بدیعُ السموٰتِ والارض ِ یا ذالجلالِ والاکرام یا حیُ یا قیوم ) پیارے آقا علیہ السلام نے ارشاد فرمایا ۔ یہ اللہ کا وہ اسم اعظم ہے کہ جب اِس سے پُکارا جائے اجابت کرے اور جب مانگا جائے عطا فرمائے ۔ حوالہ ۔ احمد ۔ ابن ابی شیبہ ۔ ابن حبان ۔ حاکم ۔ روایت حضرت انس( رضی اللہ تعالیٰ عنہُ )

محترم قارئین سلام۔
میرے کالم اسمِ اعظم تمام مشکلات کا بہترین حل کو جو پذیرائی آپ نے دی میں اسکے لیے آپ کا بے حد شکر گزار ہوں۔ بے شمار لوگوں نے فَیس بُک پر بھی آ کر اس کالم اور اسمِ اعظم سے استفادہ حاصل کیا اور بے شمار لوگوں نے یہ کالم لکھنے پر میرا شکریہ بھی ادا کیا ۔اور مجھے بیشُمار ایسی ایمیل وُصول ہوئیں جس میں خواتین اور حضرات نے مجھے بتایا کہ الحمدُ للہِ عزوجل جب سے ہم نے اسم اعظم پڑھنا شروع کیا ہے ہمارے اُلجھے ہوئے کام سُلجھ رہے ہیں اور جب سے یہ ورد شروع کیا ہے الحمدُ للہِ عزوجل ایک قلبی سکون مُیسر آیا ہے اور ذہن پُر سُکون رہتا ہے۔

اسمِ اعظم سے متعلق بے شمار احادیث مبارکہ صحیح اسناد کے ساتھ کُتب احادیث میں موجود ہیں اور الحمدُاللہ جو سچا مسلمان ہوتا ہے اسکا اپنے پیارے آقا علیہ السلام کے ہر ہر فرمان پر ایمان ِکامل ہوتا ہے۔ اسمِ اعظم کے کالم سے اختلاف کرتے ہوئے کسی نے ایک سُوال پوچھا تھا کہ آخر اس سے کیا فوائد حاصل ہو رہے ہیں۔ میرا جواب فقط اتنا ہے کہ کیا یہ فائدہ کم ہے کہ مخلوق اپنے رب عزوجل کو یاد کرنے لگ جائے۔ اور قران مجید میں ھاروت اور ماروت دو فرشتوں کا تذکرہ موجود ہے آپ اُس کی تفسیر پڑھیں تو معلوم ہوگا کہ ان دو فرشتوں کو اسم اعظم معلوم تھا۔ تو کیسے ممکن ہے کہ سید عالم (صلی اللہُ علیہ وآلہ وسلم) کو اسم اعظم معلوم نہ ہو۔ اب میں آخر میں آپ سے ایک سوال کرنا چاہتا ہوں مثال کے طور پر فرض کر لیں کوئی شخص یتیموں کے لیے گھر قائم کرنا چاہے، بے روزگار لوگوں کے لیے فیکٹری یا مفلسوں کے لیے ایسا ہوٹل بنانا چاہے جہاں بھوکے، غریب لوگوں کو عزت سے دو وقت کا کھانا مُیسرآ سکے تو کیا آپ اِس کام سے اُسے روک دیں گے کہ پہلے قرآن سے ایسے ہوٹل، فیکٹری یا گھر کا قیام ثابت کرو۔ کیا یہ عجیب بات نہ ہوگی؟ کہ نیکی بھلائی اور صدقہ کا حُکم قرآن مجید میں موجود ہے اور یہ تمام کام بھی نیکی بھلائی اور صدقات کے زُمرے میں آتے ہیں۔

 قرآن مجید کو بھلا صحابہ کرام رِضوانُ اللہِ اجمعین سے بہتر کون سمجھا ہوگا لیکن جید صحابہ کرام بھی قُرآن مجید فُرقان حمید کی تشریح کیلئے سرورِ کائنات (صلی اللہُ علیہ وآلہ وسلم) کی بارگاہ میں حاضر ہوا کرتے تھے لہٰذا ثابت ہوا کہ قُرآن مجید کو پڑھ کر سمجھنے کیلئے اقوالِ صاحب قرآن (صلی اللہُ علیہ وآلہ وسلم)سے استمداد لازمی ہے ورنہ ممکن ہے کہ ہم قُرآنِ مجید کو پڑھیں تو ہدایت کے واسطے لیکن ذاتی تشریح کی بِنا پر شیطانِ لعین ہمارا ایمان ہی نہ اُچک لے۔ اسلئے ضروری ہے کہ جب ہم قُرآن مجید کا ترجُمہ پڑھیں تو اُس کی تشریح خود نہ کریں بلکہ تفاسیر کا مُطالعہ کریں تو ہمیں اُس آیت مبارکہ کا سیاق و سباق بھی معلوم ہوجائے گا اور ہماری معلومات میں بھی بے پناہ اضافہ ہوگا۔ انشأَ اللہ عزوجل۔ میرا مشورہ آپ سبھی کیلئے یہ ہے کہ آپ ترجُمہ کنزالایمان شریف بمعہ تفسیر خزائنُ العِرفان کتابی صورت اور سافٹ وئیر بھی لے لیں کہ یہ اغلاط سے بالکل پاک ہے۔

اپنے تمام قارئین سے مُلتمس ہوں کہ نماز کا اہتمام کریں اسم اعظم یا کوئی بھی وِرد پڑھیں تو اول اور آخر میں درود پاک بھی ضُرور پڑھیں جس سے بھی وظائف کی اجازت لیں اُنہیں اپنی دُعاؤں میں یاد رکھیں اُن کا جب بھی تذکرہ کریں اُنہیں اچھے الفاظ سے یاد کریں کہ با ادب با نصیب اور بے ادب بد نصیب ہوتا ہے

اللہ کریم کی بارگاہ میں اُسکے پیارے محبوب کے وسیلے سے دُعا کرتا ہوں کہ وہ سب کی مجھ سمیت ایمان٬ عزت٬ آبرو٬ جان٬ مال کی حِفاظت فرمائے۔

امید ہے اس کالم سے بھی سینکڑوں لوگ مستفید ہونگے۔ انشاءَ اللہ عزوجل اِس سلسلہ میں  آپ کو مجھ سے جس قِسم کی بھی رہنمائی درکار ہُوگی۔ آپ مُجھے حاضر پائیں گے۔

آپ حسبِ سابق کمنٹس باکس کے ذریعے سے اپنے لئے اور اپنے عزیزوں کے لئے اسم اعظم حاصل کرسکیں گے

  استخارہ۔ بچوں کے نام ۔ خوابوں کی تعبیر ۔ جنات سے حِفاظت۔ اور جادو کی کاٹ ۔ بھی مُفت کرواسکتے ہیں جسکے لئے  بلاگ کے علاوہ آپ مجھے فیس بُک پر بھی رابطہ فرماسکتے ہیں۔
ایڈریس نوٹ فرمالیں
http://www.facebook.com/ishratiqbal.warsi

الحمدللہ عزوجل آپ سب کے لئے خوشخبری ہے کہ ہمارا اسم اعظم نکالنے والا سافٹ وئیر مکمل ہوچکا ہے جسکی وجہ سے کافی آسانی ہوگئی ہے اور اسے ویب سائٹ پر منتقل کرنے کا کام چل رہا ہے جس کے لئے محترم احسان ُالحق صاحب نے شَبُ و روز محنت بِلا کسی معاوضے کی ہے آپ اُنہیں بھی دُعاؤں میں خاص طور پر یاد رکھئے گا ۔ پچھلے کالم میں کافی احباب کی فرمائش تھی کہ اسمائے الہی اور اُنکے اعداد بھی تحریر کروں سو آپکے اس حکم کی تعمیل کی بھی سعادت مجھ گنہگار کو حاصل ہوگئی جِسے اس کالم میں شائع کر رہا ہوں روحانی مسائل اور اُنکے حل کے حوالے سے ایک ویب سائٹ فیضانِ وارث بھی بنانے کا ارادہ ہے انشا اللہ عزوجل۔

نوٹ۔ اسم اعظم پڑھنے کی اجازت صرف اُن مسلمانوں کو حاصل ہے جنکے قُلوب میں انبیأ اکرام کی عظمت اور عصمت موجود ہو تمام صحابہ کرام (رضوانُ اللہِ اجمعین) کی مُحبت اور تمام اولیائے کرام سے عقیدت موجود ہو۔

اسمائے الہی اور اُنکے اعداد

(  اکبَرُ
223) ( 111 اَعلٰی ) ( 801 اٰخِرُ ) ( 229 اَحکَمُ اَلحَاکِمِین ) ( 13 اَحَدُ )

( 72 بَاسِطُ ) ( 213 بَارِیُ ) ( 37 اَوَّلُ ) ( 36 اِلٰہُ ) ( 66 اللہُ )

(  بَرُ
202 ) ( 86 بَدِیعُ ) ( 113 باقِیُ ) ( 573 باعِثُ ) ( 62 باطِنُ )

(  ثَابِتُ
903 ) ( 409 تَوَّابُ ) ( 510 تَقِیُّ ) ( 302 بَصیِرُ ) ( 258 بُرھَانُ )

(  حَاکِمُ
69) ( 989 حافِظُ ) ( 73 جَلِیلُ ) ( 206 جَبَارُ ) ( 114 جامِعُ )

(  حَکَمُ
68 ) ( 108 حَقُ ) ( 998 حَفِیظ ُ ) ( 80 حَسِیبُ ) ( 53 حَامِدُ )

(  حَیّ ُ
18 ) ( 109 حَناِّنُ ) ( 62 حَمِیدُ ) ( 88 حَلِیمُ ) ( 78 حَکِیمُ )

(  دَافِعُ
155 ) ( 45 دَائِمُ ) ( 812 خَبِیرُ ) ( 731 خالِقُ ) ( 1481 خَافِضُ )

(  رَافِعُ
351) ( 286 رَؤفُ ) ( 801 ذُواُلجَلالِ ) ( 65 دَیِّانُ ) ( 74 دَلِیلُ )

(  رَشِیدُ
514 ) ( 308 رَزَاقُ ) ( 258 رَحِیمُ ) ( 298 رَحمٰنُ ) ( 202 رَبُّ )

(  سَتاَّرُ
661) ( 76 سُبُّوحُ ) ( 120 سُبّحٰنُ ) ( 37 زکِّیُ ) ( 312 رَقِیبُ )

(  شَافِیُ
391 ) ( 180 سَمِیعُ ) ( 150 سُلطَانُ ) ( 131 سَلاَمُ ) ( 340 سَرِیعُ )

(  صِدقُ
194 ) ( 298 صَبُّورُ ) ( 319 شَھِیدُ ) ( 526 شَکُورُ ) ( 310 شَاھِدُ )

(  عَالِمُ
141) ( 105 عَادِلُ ) ( 1106 ظاھِرُ ) ( 1001 ضارُّ ) ( 134 صَمَدُ )

( 110 عَلِیُ ) ( 156 عَفُوُّ ) ( 1020 عظیمُ ) ( 94 عَزِیزُ ) ( 104 عَدلُ )

(  فَتَّاحُ
489) ( 1060 غَنِیُ ) ( 1286 غَفُورُ ) ( 1281 غَفَارُ ) ( 150 عَلِیمُ )

(  قَدِیرُ
314) ( 170 قُدُوسُ ) ( 305 قادِرُ ) ( 903 قَابِضُ ) ( 141 قَائِمُ )

(  کَبِیرُ
232) ( 111 کافِی ) ( 156 قَیّوُمُ ) ( 306 قَھَارُ ) ( 116 قَوِیُ )

(  مَالِکُ
91 ) ( 48 ماجِدُ ) ( 129 لَطِیفُ ) ( 270 کَرِیمُ ) ( 232 کَبِیرُ )

(  مُتَعَالِیُ
551) ( 102 مُبِینُ ) ( 56 مُبدِیُ ) ( 161 مانِعُ ) ( 212 مَالِکُ المُلکُ )

(  مُحتَسِبُ
510 ) ( 57 مَجِیدُ ) ( 55 مُجِیبُ ) ( 500 مَتِینُ ) ( 662 مُتَکَبِرُ )

(  مُذَلُّ
770 ) ( 730 مُخفِیُ ) ( 68 مُحیِیُ ) ( 98 مَحمُودُ ) ( 148 مُحصِیُ )

(  مُعطِیُ
129) ( 117 مُعِزُ ) ( 336 مُصَوِرُ ) ( 562 مُستَبِینُ  ) ( 201 مُسببُ الاسباب )

(  مُقتَدِرُ
744 ) ( 1100 مُغنِیُ ) ( 170 مُعِینُ ) ( 127 مُعِیزُ ) ( 124 مُعِیدُ )

(  مَلِیکُ
100 ) ( 90 مَلِکُ ) ( 550 مُقِیتُ ) ( 209 مُقسِطُ ) ( 184 مُقَّدِمُ )

(  مُؤَخِرُ
846 ) ( 200 مُنعِمُ ) ( 630 مُنتَقِمُ ) ( 141 مَناَّنُ ) ( 490 مُمِیتُ )

(  نُورُ
256) ( 160 نَقِیُّ ) ( 201 نافِعُ ) ( 145 مُھَیمِنُ ) ( 136 مُومِنُ )

(  وَافِیُ
97 ) ( 137 وَاسِعُ ) ( 707 وَارِثُ ) ( 19 واحِدُ ) ( 14 وَاجِدُ )

(  وَکِیلُ
66 ) ( 20 وَدُودُ ) ( 28 وَحِیدُ ) ( 47 وَالِیُ ) ( 299 وَالاِکرَامُ )

(  ھُو
11) ( 20 ھَادِیُ ) ( 14 وَھَابُ ) ( 46 وَلِیُ )

Friday, 25 January 2013

میرے سَرکار کے نَاخُن.



میرے سَرکار کے نَاخُن
ہِلالِ چاند میں آئے نظر تیرے ناخُن
مُرادِ شاد لُٹائے گُوہر تیرے ناخُن

کیا نور بار مُنیر و مہر تیرے ناخُن
سَجاؤں کاش میں سر پہ کنور تیرے ناخُن

میرے بھی گھر میں اُجالے بکھیر دُو آقا
کبھی تُو میرے بھی آجائیں گھر تیرے ناخُن

سِکندری کی ہَوس ہو نہ سروری کی اُسے
نظر میں جِس کے سمائے بَدر تیرے ناخُن

تُمہارے نُور سے نارِ نمر میں ٹھنڈک تھی
بُجھے گی نارِ حشر دیکھ کر تیرے ناخُن

صدا یہ آئے کہ نعلین پہن کر رکھئے
کہ بُجھ نہ جائے سقر دیکھ کر تیرے ناخُن

سراپا حُسن مجسم بنایا قدموں کو
بنائے خُوب سے بھی خُوب تر تیرے ناخن

کہاں یہ تاب تھی لکھتا یہ وارثی عشرت
کرم تھا آپکا لکھی نثر تیرے ناخُن

وَہاں پہ شُوق سے نازُک سی انگلیاں قُرباں
یہاں نِثار ہیں مَردانِ سر تیرے ناخُن

اُتارے ہیں جو شَہا وہ عطا مجھے کردو
اِنعام ہو میرے اَشعار پر تیرے ناخُن

فِرِشتے آیئں زِیارت کو میری تُربت پہ
جو میری آنکھ پہ آجایئں گر تیرے ناخُن

فلک پہ قُوس و قزح ہے اِنہی کی طلعت سے
اندھیری رات میں روشن سحر تیرے ناخُن

ہزار بار مُبارک ہو وارثی عشرت
تیرا کلام ہے زِیرِ نظر تیرے ناخُن

کلام: عشرت اقبال وارثی

پیغامِ جشن عید میلاد النبی ﷺ


        فصاحتِ عرب اُور بلاغت عرب نے اگر چہ دُنیا کو گوُنگا (عجمی) بنا کر حیران و پریشان کر رکھا تھا۔  اُور سُخنِ عرب کے آگے دُنیا بھرکے  شاعر و ادیب  اپنی اپنی گردنوں کو  جُھکا لیا کرتے تھے۔  حالانکہ  شام و فلسطین میں اُس وقت دُنیا کے سب سے بڑے دانشور ،منجم  اُور راہب موجود تھے۔ جو دُنیا بھر کے علمی تشگان کی نِگاہوں کا مِحور  بھی تھے۔لیکن بات جب بھی علم کی بُلندیوں کی آتی۔ یا شجاعت کے تذکرے بیان ہُوتے۔۔۔تو ۔۔۔ مجبوراً  یہ عِلم کے علمبردار یک زُباں ہُوکر ،، مردانِ عرب ،، کے گُن گاتے نظر  آتے تھے۔

لیکن تخیل کی معراج  اُور فکری بُلندی و نُدرتِ خیال کے باوجود یہی ،،مردانِ عرب،، شقاوتِ قلبی اُور بے حِسی کی دُوڑ میں بھی  برتری کے سبب  اقوام عالم میں اپنی انفرادیت کی وجہ سے ذلیل و خُوار بھی تھے۔ اقوامِ عالم میں جہاں اِنکی فصاحت و بلاغت کے نغمے بُلند تھے۔ وہیں۔ اِنہیں وِحشی۔ حیوان، اُور جلاد کے القاب سے بھی پُکارا جاتا تھا۔

اگرچہ تمام دُنیا میں ہی اُس وقت ،،نسوانیت ،،عزت نفس کیلئے بِلک بِلک کر تڑپتے ہُوئے کسی مسیحا کی منتظر تھی۔ لیکن  اہل عرب نے تو ایک قدم آگے بڑھ کر اِنکی اَفزائش کو بھی کنٹرول کرنا شروع کردیا تھا۔ بچیوں کی پیدائش کو اپنے لئے رُسوائی کا سبب سمجھنے والی یہ قُوم ۔ اب  دُنیا کو ایک نیا رستہ دِکھانے لگی تھی۔ چُنانچہ لڑکیوں کی پیدائش پر اُنہیں زِندہ درگور کیا جانے لگا تھا ۔ عورت کو صرف بستر کی زینت سمجھا جانے لگا تھا۔ باپ کے مرنے کے بعد وراثت کے حقدار صرف مرد تھے۔ اُور مرد بھی وُہ ۔جو۔طاقتور ہو۔ ورنہ کمزور کو اپنا حصہ وصول کرنے کا کوئی حق نہیں تھا۔

صاف پانی کے ایک جوہڑ کیلئے قتل و غارت گری کا نہ تھمنے والا سلسلہ شروع ہُوجاتا۔ غریب کو امیر کے پہلو میں بیٹھنے کا حق نہیں تھا۔ معمولی جھگڑوں کی وجہ سے خاندان کے خاندان صفحہ ہستی سے مِٹ جاتے۔ اشرافیہ کیلئے گُناہ عیب کی بات نہیں تھی۔ جبکہ قانون کا اِطلاق  صرف نادار پر ہُوتا۔  علاقائی معملات میں مشاورت بھی صرف اُمرا سے لی جاتی۔ مَزدُورں اُور غُربا کی عزت نفس کا خُوب مَذاق اُڑایا جاتا۔ جِس پر احتجاج کرنے والوں کو بے ادب و گُستاخ گردانا جاتا تھا۔ جسکے عوض بسا اُوقات اُنہیں اپنی عزت و آبرو یا جان سے بھی ہاتھ دُھونا پڑ جاتا۔

ایسے حالات میں جب  کہ،، انسانیت تڑپ تڑپ کر  زَلالت کی عمیق گھاٹی میں جاں بلب ہُوئی جارہی تھی۔۔۔۔ خُدا کی برتری کا تصور اگرچہ اِن مردانِ عرب میں موجود تھا۔ لیکن ایک خُدا کی پرستش انہیں گوارا نہیں تھا۔ شائد اِسی لئے اپنی ضرورت کیلئے اُنہوں نے بے شُمار خُداوٗں کے تصور کو ایجاد کرلیا تھا۔ اب ہر ایک ضرورت کیلئے ایک الگ خُدا کو پُکارا جانے لگا تھا۔

شرک کا بازار صبح  وشام گُمراہی کے گُماشتوں میں اِضافہ  کا سبب تھا۔ لُوگ توہم پرستی اُور بد عقیدگی کی دَلدل میں سر تا پاوٗں ڈُوب چکے تھے۔وُہ  ظُلمت کی شب طاری تھی۔ کہ جس میں اُجالا کوئی نہ تھا۔۔۔۔ تیرگی نے نا صرف فلک کی روشنی کو زمین پر اُترنے سے رُوک رَکھا تھا۔ بلکہ اِس تیرگی کے راج سےقلوبِ انسانی بھی  بیمار وُ  مُردہ   ہُوچُکےتھے۔

پھر خالقِ کائنات نے انسانوں پر رحم فرمایا اُور احسانِ عظیم فرماتے ہُوئے۔ اُنہیں اِس تیرگی سے نِکالنے کیلئے نور کا اہتمام فرمایا:

اُور بلاآخر اتنی ظُلمت و گمراہی کے بعد ۱۲ ربیع الاول کی ایک سحر نے زمانے کی تیرگی کا سینہ چاک کرتے ہُوئے تمام کائنات میں رنگ و نور کی بارش کردی۔  آج سردار مکہ کے بیٹے عبداللہ (رضی اللہُ عنہ) اُور آمنہ بی بی( سلامُ اللہ علیہا )کے گھر کائنات کے تاجدار کی ولادت ہُوگئی ہے۔ جِس کے سبب شیطان اپنے سر پر مٹی ڈالتا پھر رَہا ہے۔۔۔۔اُور آج اُسکے  شیطانی وفود جو  کل تک جوق در جوق آسمانِ فلک تک   آسمانی خبریں سُننے کیلئے بے دھڑک چلے جایا کرتے تھے۔ آج شہابِ ثاقب کے سبب اپنے جلے ہُوئے جسموں کیساتھ حیران و پریشان یہاں سے وہاں سراسیمگی کی حالت میں دوڑتے نظر آرہے ہیں۔ اُور اُنکی زُبان پر ایک ہی سوال ہے۔۔۔ کہ یہ کس کی آمد ہُوئی ہے۔۔۔؟؟؟ جسکی وجہ سے اُنکی آنکھوں کی بصارت زائل ہُونے لگی ہے۔ قُوتِ پرواز مدہم پڑگئی ہے۔۔۔ اُور فرشتے اُنہیں اپنے نورانی کُوڑوں کی مدد سے آسمان فلک تک آنے سے رُوک رہے ہیں۔۔۔؟؟؟

محبوب  خُدا (صلی اللہ علیہ وسلم )کی آمد نے صرف قبائل عرب کی زندگیوں پر ہی اثرات مرتب نہیں فرمائے تھے۔ بلکہ آپکی آمد کی برکت کا فیض رفتہ رفتہ تمام اقوام عالم کو مستفید فرمانے لگا۔ آپکی صداقت ،امانت، حُسنِ اِخلاق، ایثار، اُور  آپکی خُوبصورت گفتگو نے اِن جہلائے عرب کی زِندگیوں میں عجیب اِنقلاب برپا کردیا تھا۔وُہ اب ضرورت کیلئے خُدا تراشنے کے بجائے ایک واحد معبود کی رضا کی جستجو میں مستغرِق تھے۔


آپ کی دعوت کو قبول کرنے والے مردانِ عرب کی زندگیاں یکسر تبدئل ہُوچُکی تھیں۔  جِنہیں دیکھ دیکھ کر اقوامِ عالم بھی تجسس کے عَالم میں  اسلامی تعلیمات سے آگاہی کی خُواہشمند تھی۔ کیوں کہ تفرقوں میں بٹے ہُوئے عرب قبائل نا صرف ایک جسم کی مانند ہُوچُکے تھے۔  بلکہ اب وُہ ایک دوسرے کی تکلیف کو بھی محسوس کرنے لگے تھے۔ عورت کو پاوٗں کی جُوتی  اُور صرف بستر کی زینت سمجھنے والے اب   بنتِ حَوا کی عظمت تسلیم کرنے لگے تھے۔ بلکہ جنت کا رستہ(ماں کی صورت) اُسی عورت کے تلوئے سے تلاش کیا جانے لگا تھا۔ اُور بیٹی کو زِحمت کے بجائے رحمت کا لقب مِل چُکا تھا۔۔۔ بیوی کو دین میں مددگار سمجھا جانے لگا۔ اب جھگڑوں کے بجائے ایثار سے کام لیا جانے لگا تھا۔

غربا کی بات تو چھوڑیئے زرخرید غلاموں کو بھی نسب کے بجائے نسبت کی وجہ سے یا سیدی کہہ کر پُکارا جانے لگا تھا۔۔۔  رسولِ عربی صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات نے امیر و غریب کا فرق مِٹا دیا تھا۔ اب کسی عربی کو کسی عجمی پر فوقیت نہیں تھی۔ کِسی امیر کو کِسی غریب کی عزت اُچھالنے کی اِجازت نہیں تھی۔ کوئی سردار ہُونے کے باعث عزت دار نہیں تھا۔ اُور نہ ہی کوئی غریب ہُونے کی وجہ سے کمتر تھا۔ لوگوں میں بڑائی کا معیار  عِلم ،تقویٰ اُور پرہیزگاری کی وجہ سے تھا۔ کریم آقا علیہ السلام کی تعلیمات کے سبب باشندگان عرب کی زندگی میں جو انقلاب برپا ہُوا۔ اِس سے تمام عَالم ناصرف مُتاثر ہُورہا تھا۔بلکہ وُہ سب بھی اِس کے اثرات سے اپنا کھویا ہُوا وقار حاصل کرنے کے متمنی تھے۔ بس خطرہ تھا اِس نظام سے تو صرف اُن لوگوں کو تھا۔ جِنہوں نے بادشاہ بن کر اپنے وجودکو از خود  خُدا کے منصب پر فائز کررکھا تھا۔ اُور  مخلوقِ خدا سے اپنی نیاز مندی اُور پرستش کے خواہاں تھے۔

اُور یہ بھی میرے کریم آقا صلی اللہُ علیہ وسلم کی تعلیمات کا اعجاز ہے۔ کہ انبیائے سابقہ کی تعلیمات کو اُنکی اُمتیں بعد میں فراموش کردیا کرتی تھیں۔ جبکہ  رسول کریم صلی اللہُ علیہ وسلم کے ظاہری وِصال کے بعد بھی خلفائے راشدین نے آپ صلی اللہُ علیہ وسلم کی تعلیمات کو بڑی سے بڑی ترغیب پر بھی  ایک لمحے کیلئے نظر انداز نہیں کیا۔ چُنانچہ  سیدنا عمر فاروق رضی اللہُ عنہ کے زمانہ خلافت میں جِس وقت فتوح شام کیلئے مجاھدین کی اشد ضرورت تھی۔ اُور حبلہ بن ایہم غسانی قبیلے کے چالیس ہزار افراد کیساتھ دائرہ اسلام میں داخل ہُوتا ہے۔ اُور طوافِ کعبہ کے دُوران ایک غریب شخص کا پاوٗں اسکے احرام کی چادر پر پڑ جاتا ہے۔ جسکے سبب حبلہ بن ایہم کے کاندھے سے چادر کھسک جاتی ہے۔ اُور وُہ غصہ میں آکر اُس غریب کے چہرے پر تھپڑ مار کر اُسکے دانت تُوڑ دیتا ہے۔ اُور جب فریادی سیدنا عُمر رضی اللہُ عنہ سے فریاد کرتا ہے۔

تب آپ حکم صادر فرماتے ہیں کہ،، حبلہ یا تو اِس غریب سے معافی طلب کرو۔ اُور اسے راضی کرو۔ ورنہ قصاص میں خُود بھی تھپڑ کھانے کیلئے تیار ہُوجاوٗ۔ جسکے جواب میں حبلہ بن ایہم اپنی اہمیت کا تذکرہ کرتے ہُوئے کہتا ہے کہ،، میری وجہ سے چالیس ہزار لوگ مسلمان ہُوئے ہیں۔ لِہذا مجھے رعایت دی جائے۔ کیوں کہ میں غُسانی قبیلے کا سردار بھی ہُوں۔۔۔ لیکن قربان جایئے سیدنا عُمر فاروق رضی اللہُ عنہ کے ۔آپ جواب میں کہتے ہیں کہ،، میرے آقا علیہ السلام کی یہی تعلیمات ہیں۔ کہ امیر و غریب میں کوئی فرق نہیں۔ اسلام میں سب برابر ہیں۔ لہذا ہر دُو میں سے ایک سزا تو برداشت کرنی ہی پڑے گی۔۔۔ جسکی وجہ سے حبلہ بن ایہم رَاتوں رات بھاگ کر مُرتد ہُوجاتا ہے۔ لیکن سیدنا عُمر فاروق  قولِ مصطفٰی صلی اللہُ علیہ وسلم پر کوئی سمجھوتا کرنے کیلئے تیار نہیں ہُوتے ۔ اُور قیامت تک کے مسلمانوں کیلئے ایک مِثال قائم فرمادیتے ہیں۔ اُور بلاآخر یہ حبلہ سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے ہاتھوں واصلِ جہنم ہُوجاتا ہے۔

محترم قارئین کرام دِل پر ہاتھ رکھ کر کہیئے کہ،، پیارے مصطفٰے (صلی اللہُ علیہ وسلم) اُور خلفائے راشدین کی تعلیمات کی روشنی میں۔  کیایہی سبق موجود نہیں ہے۔  کہ،، ہر ایک مسلمان کی عزت دوسرے مسلمان پر فرض ہے۔۔۔؟ لیکن کیا ہم دوسرے مسلمانوں کی تکریم کرتے ہیں۔۔۔؟ اُور کریم آقا علیہ السلام نے تو ہمیں ٹولیوں اُور گروہوں سے نِکال کر ایک قُوم بنا دیا تھا۔ لیکن کیا ہم پھر سے بکھر بِکھر کر ٹولیوں کی صورت اختیار نہیں کرتے جارہے۔۔۔؟ کیا عید میلاد النبی کا دِن ہمیں یہ سبق نہیں دے رَہا۔ کہ خُدا عزوجل اُور میٹھے مُصطفٰے صلی اللہُ علیہ وسلم کے نام پر پھر سے ایک ہُوجاوٗ۔اُور  رَسُولِ  محترم صلی اللہ علیہ وسلم کے اختیارات مانپنے کے بجائے اُنکے نام پر نِثار ہُوجاوٗ۔ تاکہ کل حشر میں شرمندہ نہ ہُونا پڑے۔

Tuesday, 22 January 2013

عشرت اقبال وارثی میرے اُستاد بھی اُور میرے ہم نام بھی


کچھ لُوگ دُنیا میں آنے کے بعد اپنے  حقیقی مقصد کو بھول جاتے ہیں۔ پھر اُنکے سامنے جو مسائل درپیش ہُوتے ہیں۔ وُہ فقط اُنہہی میں اُلجھ کر رِہ جاتے ہیں۔ جب کہ،، کچھ لوگوں کو شہرت کی بھوک اگرچہ لوگوں میں ممتاز کردیتی ہے۔ لیکن اِس بھوک کا بھی کوئی تعلق اُنکے دُنیا میں بھیجے جانے کے حقیقی مقصد سے نہیں ہُوتا۔ اُور ایسا بھی نہیں ہُوتا کہ،، اُن لوگوں کو یہ خبر نہ ہُوتی ہُو کہ اُنکا حقیقی مقصد دُنیا میں آنے کا یا بھیجے جانے کا کیا ہے۔ لیکن انسان بعض اُوقات خود پر جان بُوجھ کر ایک بے خبری طاری کرلیتا ہے۔ اُور شیطان اُس انسان کو یہ آس دِلاتا رہتا ہے۔ کہ ابھی وقت کی کوئی کمی نہیں ہے۔  لِہذا فی الحال دُنیا کے معملات کو سُلجھا لو۔ جب وقت آئے گا۔ تب اُس مقصد کو بھی پالیں گے۔چُنانچہ وُہ اسی خبط میں مبتلا رہنا چاہتا ہے۔ یہاں تک کہ وقت کی ڈُور تھم جاتی ہے۔ اُور انسان مجرم بن جاتا ہے۔

جبکہ بعض لوگ اُس مقصد کی کھوج میں ایسے کھو جاتے ہیں۔ کہ اُنہیں نہ راستہ مِلتا ہے۔ اُور نہ ہی سُراغِ منزل۔۔۔۔ لیکن آج میں جِس شخص کا تذکرہ کرنے جارہا ہُوں۔ اُس شخص کا تعلق اِن دونوں ہی متذکرہ  بالا قبائل سے نہیں ہے۔  بلکہ وُہ  شخص اُن لوگوں میں سے تھا۔ جسے میں نے نہ کبھی شہرت کا حریص دیکھا ۔ اُور نہ ہی منزل کی تلاش میں سرگرداں۔۔۔ کیونکہ وُہ شخص اُن لوگوں میں سے تھا۔ جو راستوں سے بھی با خبر تھا۔ اُورمنزلِ کے نِشان بھی جانتا تھا۔ وُہ ایک شہسوار بھی تھا۔ اُور وقت کا قدرداں بھی۔ وُہ ایک بہترین ادیب بھی تھا۔ تو  بے مِثال شاعر بھی۔ وُہ بیک وقت رُوحانی معالج بھی تھا۔ تو نبض شناس طبیب بھی۔ وُہ ایک  اچھاباپ ہی نہیں تھا۔ بلکہ ایک شفیق اُستاد بھی تھا۔ اُور اُسے خلق خُدا سے بے انتہا پیار بھی تھا۔ وُہ لوگوں کے دُکھوں میں ہمہ وقت گھلنے والا ایک ایسا انسان تھا۔ جسکی وجہ سے انسانیت
کی آبرو بڑھتی ہے۔

مگر کتنی حیرت کی بات ہے کہ،، عشرت اقبال وارثی مرحوم ،، میں اتنی خُوبیاں جمع ہُونے کے باوجود کوئی غرور نام کی شئے نہیں تھی۔  بے شُمار کتابوں کا مصنف ہُونے کے باوجود اُسے کبھی یہ چاہ نہ ہُوئی کہ،، وہ اعلی معیار کی ادبی کتابیں پبلش ہُوجائیں۔ اُور اُسکی پہچان کا ذریعہ بن جائیں۔ وُہ عجیب فلسفہ کے مالک تھے۔ دُنیا بھر کے لوگوں کو صحت مند رہنے کے نسخے بتاتے۔ یہاں تک کہ خُود بیمار پڑ جاتے۔ لیکن اُنکے گھر آنے والوں نے اُنکی پیشانی پر کبھی بیماری کے باعث کوئی بل نہیں دیکھا۔

میری اُن سے پہلی مُلاقات کوئی بارہ برس قبل حادثاتی طُور پر ہوئی تھی۔ پھر یہ پہلی مُلاقات ہی ایسی اثر انگیز ثابت ہُوئی کہ مجھے یاد نہیں پڑتا کہ وُہ میرپورخاص میں موجود ہُوں۔ اُور میں اُن سے مُلاقات کیلئے حاضر نہ ہُوا ہُوں۔۔۔۔ عجیب بات یہ بھی تھی۔ کہ وُہ میرے مکمل ہم نام تھے۔(حالانکہ اُن سے پہلے اُور اُنکے بعد مجھے کوئی اپنا ہم نام نہیں مِلا) پھر مجھ پر ایکدن یہ بھی انکشاف ہُوا۔ کہ وُہ صرف میری تربیت کی خاطر کراچی سے میرپورخاص شفٹ ہُوگئے تھے۔ وُہ مجھے اپنا عکس قرار دیتے تھے۔ ہم میں بُہت سی باتیں بھی مشترک تھیں۔ لیکن اُنکی گفتگو کا انداز  اتنا مُتاثر کُن ہُوتا تھا۔ کہ مجھے بعض اُوقات یُوٰں محسوس ہُوتا۔ جیسے میں کوئی عجمی ہُوں۔ اُور وُہ فصاحتِ عرب کا چشمہ ہُوں۔ اُنکی باتیں معمہ کی صورت ہُوتیں۔ اُور کبھی کبھار وُہ ایسی باتیں بھی حالت جذب میں کہہ جاتے۔ کہ،، میں اُنکا مُنہ تکتا ہی رِہ جاتا۔

جیسے ایک مرتبہ میں نے عرض کیا۔ حضور منزل کیسے مِلی۔ کہنے لگے۔ میاں یہ بخیلوں کی دُنیا ہے۔ جِس کسی کے پاس کُچھ علم ہے۔ وُہ اُسے بانٹنے کو تیار نہیں مرنے کے بعد اپنے ساتھ قبر میں لیجانے کا خواہشمند ہے۔ میں نے عرض کیا۔۔ شائد آپ بتانا نہیں چاہتے! فرمانے لگے سچ کہوں۔۔۔؟ میں نے عرض کیا حضور آپ سے جھوٹ کا تعلق ہُو۔ میں  یہ سُوچ بھی نہیں سکتا۔
فرمانے لگے : میاں تو سچ یہ ہے کہ منزل مجھے ڈھونگ کی بدولت نصیب ہُوئی۔۔۔
ڈھونگ! میں نے تعجب سے عرض کیا اِس راہ میں ڈھونگ کس لئے۔۔۔؟
فرمانے لگے سیدھے طریقے سے کوئی پاس بٹھانے کو تیار نہیں تھا۔ پھر میں نے عاجز آکر ڈھونگ کا چوغہ پہن  لیا۔۔۔
کچھ عرصہ ڈھونگ کرنے کے باعث بلاآخر ڈھنگ آہی گیا۔
پھر ڈھنگ نے راہ دِکھائی تو رنگ آگیا۔ اُور اسی رنگ کے باعث ایکدم ایک سچے کی نِگاہ میں آگیا۔ پھر کیا تھا۔۔۔! اُسی ایک مُلاقات میں اُور ایک ہی  مست نظر میں وُہ مسافت طے ہُوگئی۔ جو گذشتہ چالیس برس  میں حاصل نہیں کرپایا تھا۔ اُور اُسی نگاہ مست الست کے بعد مجھے خبر ہُوئی کے کرنٹ کیا ہُوتا ہے۔۔۔۔ کرنٹ تو سمجھتے ہُو نا میاں۔۔۔ْ؟  میں نے نہ سمجھتے ہُوئے بھی اُس وقت اپنا سر اثبات میں ہِلانا ہی مُناسب سمجھا سُو ہِلا دیا۔۔۔۔بات کرتے کرتے وُہ نجانے کس دُنیا میں جا پہنچے تھے۔ جسکی وجہ سے اُنکی نظریں مخمور دِکھائی دینے لگی تھیں

میں نے عرض کیا حضور اسقدر آپ کی لکھی کتابیں موجود ہیں۔ اِنہیں کسی پبلشر کو کیوں نہیں دیتے۔۔۔؟
فرمانے لگے ۔ یہ سب کچھ میں نے اپنے لئے لکھا ہے۔ دوسروں کو سمجھ نہیں آئے گا۔۔۔ تُم اگر چاہو تو پڑھ سکتے ہُو۔۔۔ مگر پبلشر کو دینے کا مشورہ کیوں دے رہے تھے۔۔۔؟

میں نے عرض کیا۔۔۔ حضور لوگ جب یہ کتابیں پڑھیں گے۔ تو آپ کو جان جائیں گے۔ اُور آپ ذیادہ مشہور ہُوجائیں گے۔۔۔
وُہ مُسکرا کر کہنے لگے کوئی فائدہ نہیں۔  ایک مرتبہ ایک دُوست کتاب چھپوانے کیلئے پبلشر کے پاس گئے تھے۔ بعد میں بتایا کہ پبلشر نے چھاپنے سے انکار کردِیا ہے۔ اُور کتاب بھی واپس نہیں دی۔ پھر ایک دِن وہی کتاب میں نے مارکیٹ میں دیکھی ۔ البتہ کتاب کے سرورق پر مصنف کا نام میرا نہیں بلکہ میرے اُنہی دوست کا نام لکھا تھا۔۔۔ویسے بھی میری مشہوری کسی کو سخت ناپسند ہے۔ اُور مجھے اُسی کی پسند عزیز ہے۔ لہذا مشہور تُم ہُوجانا۔۔۔ مجھے اپنی گمنامی سے بُہت پیار ہے۔۔۔ جب لوگ تمہارا نام لیں گے۔ یا تُم کو تلاش کریں گے۔ تو دراصل وُہ مجھے بھی تلاش کررہے ہُونگے۔۔۔۔

اللہ کریم سے دُعا ہے کہ اللہ کریم  اُنہیں جنت میں اعلی مقام عطا فرمائے۔ اُور مجھے ہمیشہ اُنہیں ایصال ثواب کرنے کی توفیق۔ (آمین۔آمین۔آمین)۔