bing

Your SEO optimized title page contents

Pages

.

.

Wednesday, 27 February 2013

گیلی مٹی عائشہ چوہدری کے قلم سے


تمہیں یاد ہے۔۔۔۔؟  پچھلے برس کے وعدے ۔جب پرندے  اپنے گھونسلوں کو لوٹ رہے تھے۔ جب  سارے دن کی مسافت کے تھکے ہارے یہ پرندے اپنے گھونسلوں میں جا چکے تھے۔  تبھی تم نے مجھ سے کہا تھا کہ،، ان پرندوں کا بھی تو اپنا خود کا  گھونسلہ ہوتا ہے۔ پر میرا  گھر کہاں ہے۔۔۔؟   تم نے میری طرف  خوفزدہ  اور بے اعتبار  نظروں سے دیکھا۔ تمھارے لہجے کی اُداسی اُور  اُس کی مٹھاس  گزشتہ برس کے  عہدو پیماں  اب سوچتا ہوں۔  تو سب ایک  خواب  لگتا ہے  ۔کتنا اندھا یقین  تھا تمہارے وعدوں پر!  تمیں  خود ہی اپنی پر خلوص محبت پر تم خود کتنی نازاں تھی۔  مگر پھر کیا ہوا۔۔۔؟  تمہاری سب آرزوں ،تمہارے سارے خواب ہوا ہو گئے۔ ریت کے ذروں کی مانند بکھر گئے۔ غرور عشق کا وہ بانکپن ضبط احتیاط  کےگہرے  پانیوں کی نظر ہو گیا۔  اور تم شک  اور تحفظات کی دلدل میں دھنستی چلی گئی۔  جو کچھ بھی لوح دل پر رقم تھا۔  سب حرف غلط کی  طرح مٹ گیا۔

  تم میری بات مت کرو۔ میں تو  پہلے ہی  اندیکھی راہوں کا باسی تھا۔ جس پر  عذاب و آگہی کا ناگ  کنڈلی مارے بیٹھا تھا۔  میں جو ابن آدم تھا۔  بنت حوا کی ازلی  تقدیر سے باخبر تھا۔  اور جانتا تھا۔  یہ  دونوں تقدیر کی دلدل میں پھنس کر  ہمشہگ کائنات کی  بنائی ہوئی انسانی چکی  کے درمیاں آکر  پستے چلے آرہے ہیں۔ میں خود خوفزدہ ہو جاتا تھا ۔ جب تیری آنکھوں میں  تیرے لہجے میں تیری روح میں  محبت کی بڑہتی پھولتی نازک کونپلیں  دن بدن  پھلتے پُھولتے دیکھتا تھا۔ جب یہ نازک کونپلیں  تقدیر کی چکی میں پسی جائیں گیں تو کیا ہو گا۔۔۔۔؟ 

میں اسی خوف سے  کچھ نہ  کہہ پایا تھا تب۔   کہ،، کہیں تم بدگمانی  کا شکار نہ ہو جاؤ۔  میں تمہیں بتانا چاہتا تھا  زندگی کی تلخ  حقیقت۔   بنجر خواب   بےضمیر انسانی  معا شرے کی رسموں رواج میں لپٹی ہوئی جکڑی ہوئی  بنت حوا ۔ تمہاری سوچوں سے تمہاری محبت کی نازک کونپلوں سے بہت مختلف  بنت حوا  میں نے کوشش کی  کہ،، تمہیں دِکھا سکوں۔ وُہ بنت حوا جسے خواب دیکھنے کا حق تو حاصل تھا ۔ پر اُن پر حکمرانی کا 
حق حاصل نہیں تھا۔ 

مگر میں کچھ بھی نہیں کہہ پایا کچھ بھی تو  نہیں کر سکا۔۔۔۔!   شجر محبت کی  چھاؤں میں بیٹھ کر  تمہارے لئے  درد و فراق کے   صحرا  کا تصور شاید ممکن ہی نہ تھا۔  اُور آج جب میں  تم سے ملنے آیا ہوں۔ تو مجھے تمہاری اُداس آنکھوں کا وہ خوف وہ بے یقینی یاد آرہی ہے۔ جب تم نے  گھروں کو جاتے پرندوں کو دیکھ کر اپنا گھر نہ ہونے کا گلہ کیا تھا !!! اُور اب تمہیں اس شہر خاموشاں میں منوں مٹی کے اندر   ڈالتے ہوے  سوچ رہا  ہُوں۔۔۔ اے کاش بنت حوا کی بیٹی تو محبت کو نازک کونپلوں پر  اپنے خواب بنُنا چُھوڑ دے ۔تا کہ پھر کوئی ابن آدم تیرے خوابوں کی تذلیل نہ کر سکے۔ تیری کونپلوں کو مسل کر نہ رکھ سکے۔  

..............................................
عائشہ چودھری
- See more at: http://www.magpaki.com/2013/02/blog-post.html#sthash.wyeu3Ysr.dpuf


Thursday, 21 February 2013

پبلسٹی کا آسان نُسخہ ۔

پبلسٹی کا  آسان نسخہ۔
اُس دِن بابا احمد وقاص بُہت اچھے مُوڈ میں تھے۔ وُہ کئی گھنٹوں سے مجھے اپنی جوانی  کے عجیب و غریب واقعات سُنا کر حیران کئے جارہے تھے۔۔۔۔ اگرچہ بابا صاحب نے کئی مرتبہ میرا دھیان اسطرف  دِلانے کی کوشش کی ۔کہ،، مجھے فیکٹری جانا ہے اُور سورج کافی بُلند ہُوچکا ہے۔۔۔۔۔ مگر مجھے بابا صاحب کی باتوں میں  آج صبح سے ہی ایسا لُطف آرہا تھا۔ کہ دِل وہاں سے اُٹھنے کو قطعی رضامند نہ تھا۔  حالانکہ مُلاقات کیلئے آتے وقت میرا یہی خیال تھا۔ کہ،، میں سلام عرض کرتا ہُوا گُزر جاوٗں گا۔۔۔ پھر اچانک بابا صاحب کو نجانے کیا سُوجھی۔۔۔ کہ مجھ سے مخاطب ہُوکر کہنے لگے۔ عین،،  ایک بات تو بتاوٗ ۔ آخر تم سترہ برس کی عمر سے ہی اِن وظائف و عملیات کے چکر میں کیسے پھنس گئے۔۔۔۔۔؟  حالانکہ ایسی عُمر میں تو بچوں کو کھیل کُود ذیادہ پسند ہُوتے ہیں۔

میں اِس سوال کیلئے ذہنی طور پر قطعی تیار نہیں تھا۔۔۔۔ کچھ لمحے سُوچنے کے بعد میں نے لفظوں کو معنیٰ پہناتے ہُوئے عرض کی۔۔  حضرت میں ایک زبردست عامل بننا چاہتا ہُوں۔۔۔۔ وُہ کس لئے ۔۔۔؟ انہوں نے تعجب سے استفسار کیا۔۔۔۔حضرت جہاں دیکھو جعلی عامل کامل ڈیرا ڈالے بیٹھے ہیں۔ میں لوگوں کی خدمت کرنا چاہتا ہُوں۔ اِسلئے میری خواہش ہے کہ ایک دِن میں اِس مُلک کا بُہت بڑا عامل بن جاوٗں۔ جو پلک جھپکنے میں ہر مسئلہ حل کردے۔ جسکا مقابلہ دُنیا کا کوئی جادوگر نہ کرسکے۔ اُور جسکا نام سُن کر  شریر جنات بھی تھر تھر کانپنے لگیں۔ میرا  معصوم سا جواب سُن کر اُنہوں نے ایک قہقہہ بُلند کرتے ہُوئے کہا۔ مطلب تمہیں اپنی زندگی میں سکون نہیں چاہیئے۔

میں اُنکا یہ جواب سُن کر اُنکا مُنہ  حیرت سے تکتے ہُوئے سُوچنے لگا۔۔۔ بھلا میں کیوں اپنی زندگی میں سکون نہیں چاہوں گا۔۔۔؟ بلکہ میرا تو خیال یہی تھا کہ اسطرح میری زندگی میں سکون ہی سکون قائم ہُوجائے گا۔۔۔۔۔ انہوں نے حیرت سے کھلی میری آنکھوں میں جھانکتے ہُوئے کہا۔ عین،، جانتے بھی ہُو۔۔۔۔؟ کہ،، تم کس شئے کی تمناٗ کررہے ہُو۔۔۔؟ مگر تُم بھلا  کیسے جانو گے۔ کیونکہ یہ عُمر ہی ایسی ہُوتی ہے۔ اُور مجھے خُود اِتنی عُمر میں کوئی بات سمجھ نہیں آتی تھی۔ انہوں نے اپنے چہرے پر مسکراہٹ سجاتے ہُوئے فقرہ مکمل کیا۔

تُمہاری عُمر   میں میں مجھے بھی ایسی ہی خواہش ہُوا کرتی تھی۔ لیکن عین میرا مشورہ ہے۔ کہ اِن چکروں میں نہ پڑو۔ حالانکہ میں جانتا ہُوں کہ ابھی تُم پر میری باتوں کا کوئی اثر نہیں ہُونے والا۔ لیکن میرا فرض ہے۔ کہ تُم کو ابھی سے باخبر کردوں۔ آگے تمہاری مرضی ہے۔ کل کو کم از کم  کسی سے شکایت تو نہیں کروگے۔ کہ،، استادوں نے کچھ سمجھایا نہیں تھا۔۔۔۔انہوں نے دھیمے سےمسکرا کر میری جانب دیکھتے ہُوئے گفتگو جاری رکھی۔۔۔ میاں ان چکروں میں پڑنے کے بعد نہ یہ صحت رہے گی۔ اُور نہ ہی زندگی کو آج کی طرح انجوائے کرسکو گے۔ اُور  بیٹھے بِٹھائے دِل کو رُوگ الگ لگ جائے گا۔ بابا وقاص نے اتنا کہنے کے بعد ایک پان کی گلوری مُنہ میں ڈال لی۔ جسکا مطلب صاف تھا کہ وُہ اب پانچ منٹ تک گفتگو نہیں کرنا چاہتے۔ یا شائد وُہ مجھے ایکبار مزید سوچنے کی مہلت دے رہے تھے۔

میں نے موقع غیمت جان کر اتنی دیر میں اپنے ذہن میں کلبلاتے سوالات کو مجتمع کرکے ایکساتھ بابا صاحب کے سامنے  پیش کردیا۔ بابا صاحب کیا آپ نہیں چاہتے۔ کہ لُوگ ڈھونگی اُور فراڈیئے لُوگوں سے بچ جائیں۔۔۔۔؟  اُور انکی مجبوریوں سے کوئی  بد مذہب فائدہ نہ اُٹھا سکے۔۔۔؟ پھر جب میں لوگوں کیلئے آسانیاں پیدا کرونگا۔ تو میری زندگی مشکل کیوں ہُوجائے گی۔ اُور عملیات سے بھلا میری  صحت پر کیا اثر پڑے گا۔ اُور کیوں میرے  دِل کو بھلا رُوگ لگ جائے گا۔۔۔۔۔؟

اُنہوں نے اچھی طرح پان کا لُطف اُٹھانے کے بعد ایک بڑی سی پچکاری قریب رکھے پیکدان   کو رسید کرتے ہُوئے اپنی گفتگو شروع کرتے ہُوئے کہا۔ دیکھو ! عین،، میرے اُور تمہارے چاہنے سے کارخانہ ٗ قدرت نہیں بدلنے والا۔ اس کائنات میں اگر ایسے لاکھ عامل کامل بھی پیدا ہُوجائیں جسکا ابھی تُم نے نقشہ کھینچا ہے۔ تب بھی یہ سسٹم جوُں کا تُوں ہی رہے گا۔۔۔۔ حالانکہ چاہتا تو میں بھی ہمیشہ سے یہی تھا۔ کہ لُوگ جعلی عاملوں اُور بد مذہبوں کے چکروں میں نہ آئیں۔ لیکن اب ایک بات  مجھ پر واضح ہُوچکی ہے۔ کہ یہ آزمائش کی جاہ ہے۔ اُور ہر ایک کو اختیار کیساتھ منزل چننے کی آزادی ہے۔ ورنہ وُہ قادر مطلق اِس بات پر قُدرت رکھتا ہے۔ کہ شیطان لعین کو پنپنے کا موقع ہی نہ دیتا۔

دوسری بات  کا جواب یہ ہے میاں کہ،، تُم بظاہر لوگوں کیلئے آسانیاں پیدا کرنے کا سُوچ رہے ہُو۔ لیکن اسکی جزا کی جاہ یہ نہیں ہے ۔۔۔ ورنہ انبیا کرام علیہ السلام  کی زندگیاں  ظاہری آسانیوں سے بھری نظر آتی۔ لیکن ہر ایک پیغمبر علیہ السلام کی ظاہری زندگی کے مبارک ایام کا مشاہدہ کرلو۔ تب ایک بات اچھی طرح سمجھ آجائے گی۔ کہ جسکا مقام و مرتبہ دُنیا میں جتنا بڑا ہے۔ اُسکی ذمہ داری اُور آزمائش  بھی اُسی قدر ذیادہ ہے۔ ہاں یہ الگ بات ہے ۔ انعام الہی کے سبب  اُن کے قلوب پر سکینہ نازل ہُوتا ہے۔ اُور صبر کی قوت بھی ذیادہ ہُوتی ہے۔

پھر جب کوئی دنیا کے جسمانی  ڈاکٹروں کے پاس جاتا ہے۔ تب وُہ زمین سے حاصِل کی گئی ادویات اُس کے ہاتھ میں تھما دیتے ہیں۔ لیکن یہاں جب لوگ آتے ہیں۔ تب آتے ہُوئے اُنکی کمر روحانی امراض کے سبب جھکی جارہی ہُوتی ہے۔۔۔۔ لیکن واپس جاتے ہُوئے یہ لُوگ اُن امراض کو ہماری پیٹھ پر لاد جاتے ہیں۔ جسکی وجہ  سے روحانی ڈاکٹر کی کمر دُہری ہُوتی چلی جاتی ہے۔ لیکن وُہ  ہنس ہنس کر ہر ایک تکلیف کو خوشی خوشی خود پر سوار کرلیتا ہے۔ جسکے سبب صحت گرتی چلی جاتی ہے۔ اُور کمر ہر نئے دِن کیساتھ مزید جھکتی چلی جاتی ہے۔

اُور ایک روحانی معالج کا دِل میں اتنی وسعت بھی  ہُونی چاہیئے ۔ کہ جب کوئی دُکھی  انسان اپنی زندگی کے رازوں سے ہراساں ہُوکر کسی مخلص کو تلاش کرتا ہُوا۔ اُس کے پاس آجائے۔ تب وُہ ہر آنے والے کی  درد بھری کہانی کو اپنے سینے کے قبرستان میں بخوبی دفن کرتا چلا جائے۔۔۔ لیکن اسکے لئے بڑا جگر چاہیئے ہُوتا ہے۔۔۔۔ کیونکہ یہ کہانیاں ایک  نہ  ایکدِن دِل کو  غمزدگی کے نمک سے بُوڑھا کردیتی ہیں۔

پھر بڑا عامل بننے کیلئے پبلسٹی بھی تو چاہیئے ۔ تاکہ مخلوق کو خبر ہُوجائے۔ اُسکا کیا کرو گے۔۔۔۔؟ بابا وقاص صاحب نے میری جانب  بغور دیکھتے ہُوئے آنکھوں ہی آنکھوں میں استفسار کیا۔۔۔ لیکن میری زُبان کی مسلسل خاموشی کو دیکھ کر اُنہوں نے کہا۔ چلو پبلسٹی کا آسان طریقہ ہم تمہیں  بتائے دیتے ہیں۔  جسکی وجہ سے  پبلسٹی میں رقم بھی خرچ نہیں کرنی پڑے گی۔۔۔۔ یعنی کے مفت ہی سمجھ لُو۔۔۔۔ اُور ہم تو ویسے بھی تُم سے کوئی فیس نہیں لیتے۔۔۔۔ انہوں نے ایکبار پھر اپنے چہرے پر مسکراہٹ بکھیرتے ہُوئے کہا۔

دیکھو بیٹا ! عین،، جب کوئی اخلاص سے اللہ کریم کے بندوں کی خدمت میں تن من دھن سے لگ جاتا ہے۔۔۔۔۔ تب اللہ کریم  رُوح الامین حضرت جبرائیل علیہ السلام کو طلب فرما کر اِرشاد فرماتا ہے کہ،، جبرائیل میں فلاں بن فلاں سے راضی ہُوگیا ہُوں۔ اُور اب یہ بندہ میرا دوست ہے۔ اُور میں اس بندے سے محبت رکھتا ہُوں۔ لہذا تم پر بھی  لازم ہے کہ اب تُم بھی اس سے محبت کرو۔ پھر جبرائیل علیہ السلام آسمانی فرشتوں کو جمع فرما کر بتاتے ہیں کہ،، فلاں بن فُلاں کو اللہ کریم کی محبت کا اعزاز حاصِل ہُوگیا ہے۔ اُور میں بھی اِس سے محبت کرتا ہُوں۔ اسلئے تم پر لازم ہے کہ تم بھی اس بندے سے محبت کرو۔ یہاں تک کہ زمین پر موجود فرشتوں تک بھی یہ پیغام پُہنچ جاتا ہے۔ پھر دُنیا ئے زمین کے فرشتے ہر مومن و صالح کے دِل میں یہی پیغام پہنچاتے چلے جاتے ہیں۔ جسکی وجہ سے مخلوق کے دِل میں بھی اس بندے کی محبت پیدا ہُوتی چلی جاتی ہے۔

بیٹا اس سے آسان  ، دیرپا ، وسیع ، اُور مفت کی پبلسٹی  اُور بھلا کہاں میسر آسکتی ہے۔۔۔۔۔۔ اُس وقت بابا صاحب کی کچھ باتیں سمجھ میں آئیں تھی۔ اُور کچھ نہیں۔ لیکن آج جب باتیں سمجھ آنے لگی ہیں۔ تب بابا صاحب ہم میں موجود نہیں ہیں۔ لیکن  اب مجھے انکی یاد بُہت ستاتی ہے۔ کیونکہ اب مزید بوجھ کمر پر نہیں  اُٹھایا جاتا۔ شائد کہ میں نے امراض کیساتھ ساتھ گناہوں کا اضافی بار بھی اپنی ناتواں کمر پر ڈال لیا ہے۔ اُور تحریر کی رفتار دیکھ کر  مجھے بچپن میں جلتی ہُوئی وُہ شمع بُہت یاد آتی ہے۔ جو محدود ہی صحیح لیکن روشنی پھیلانے کا سبب ہُوتی ہے۔

Tuesday, 19 February 2013

قصہ اِک ہنسنی کا۔۔۔



مُحترم قارئین السلامُ علیکم 
اگر پردیس میں کوئی اپنا مِل جائے تُو کیا خُوشی حاصل ہُوتی ہے یہ کسی پردیس میں بیٹھے دیسی سے پُوچھیے۔۔۔ وہ نہ صرف آپ کا تعارف  جان کر آپکی راہ میں دِل و جان سے فَرشِ راہ ہُوجائے گا ۔بلکہ ہوسکتا ہے کہ اگر اُس مُلک کے مُعاشی حالات پاکستان سے مُختلف ہُوں۔ تُو ایک آدھ وقت کی میزبانی کیلئے بھی آپکو  آفر کردے۔

 ایک مرتبہ میرا واسطہ  پردیس میں ایک ایسے ہی دیسی پردیسی سے اتفاقاً  ہُوگیا۔ تُو مجھ پر  ایک انکشاف یہ بھی ہُوا۔ کہ ایسے دیسی پردیسیوں سے  مُلاقات بعض اوقات آپ کی صحت کیلئے نہایت خطرناک بھی ثابت  ہُوسکتی ہے۔  کیونکہ پاکستانی حکمرانوں سے بیزار یہ لُوگ پردیس میں  انتہائی مشقت سے کمائی ہُوئی دُولت عرصہ دراز سے وطن کی محبت میں  انہی حکمرانوں کو چندے کی صورت میں دیتے چلے آئے ہیں ۔ لیکن مُلک کی ہر رُوز پہلے سے ذیادہ بگڑتی صورتحال نے اِن لوگوں کو اب جوالا مُکھی بنا ڈالا ہے۔ جسکی وجہ سے کبھی کبھار پاکستان سے آئے بے حس لوگوں کے سامنے  یہ دیسی پردیسی  بڑی کَھری کَھری اور سچی وکڑوی  باتیں بھی اُگلنے لگتے ہیں۔ جنہیں سُن کر ایسا مِحسوس ہُوتا ہے ۔ کہ،، جیسے کسی پہاڑ میں آتش فشاں پھٹنے کیلئے بیقرار  تھا۔ اور جیسے ہی اُسے مُناسب موقع مُیسر آیا۔ تو  اُس نے  اپنا تمام لاوا  آنے والے مہمان پر اُگل دیا ۔۔۔

میں نے جب ایک ایسے ہی سفید ریش  پردیسی بابا جی سے گُفتگو کی۔ تو بابا جی نے حکمرانوں  کی دیدہ دلیری و بے حمیتی سے لیکر  پاکستانی قُوم کی بے حِسی پر لیکچر دینے کے بعد ۔ زمانے کی رفتار اور نوجوانوں کی بے راہ روی کا رونا رُوتے ہُوئے۔ خُوب مجھے آڑے ہاتھوں لیا۔۔۔ اُنہیں نوجوانوں سے یہ بھی شکایت تھی کہ آج کے نوجوان اپنے بڑوں کا ادب نہیں کرتے ۔میں چونکہ مُسافر تھا لِہٰذا اُنکی تمام باتیں تحمل سے سُنتا رہا۔ لیکن جب میں نے یہ مِحسوس کرلیا۔ کہ،، بابا جی کا کوٹہ چند منٹوں میں ختم ہونے والا نہیں ہے۔  بلکہ اِس کیلئے ایک  طویل عُمر کیساتھ بھینسے کا سا جگر و گُردَہ بھی درکار ہے۔ تُو مجھے مِحسوس ہُوا کہ میرا بیمار جِگر اور پتھری زدہ گُردہ ہرگز اِس کا مُتحمل نہیں ہُوسکتا۔ تب میں نے فقط اِتنا ہی کہا کہ بابا جی یہ فصل تُو آپ ہی لوگوں کی لگائی ہُوئی ہے بھلا بَبُّول کا بیج بھی کبھی خُوشہِ گندم پیدا کیا کرتا ہے۔

بس جناب یہ وہ عظیم غلطی تھی جِسے کرنے کے بعد ہم بُہت پچھتائے۔  کیونکہ ہمارا یہ جھوٹ نُما سچ سُن کر وہ صاحب ایسے بدکے کہ ظہرانہ کی وہ دعوت جو اُنہوں نے ابھی کچھ ہی دیر پہلے ہمیں بڑے اِخلاق یا اِخلاص جیسی چیز کیساتھ دِی تھی۔ نہ صرف واپس لے لی بلکہ ہمیں وہ صلواتیں بھی سُنائیں کہ جِس کی نہ ہمیں کبھی اُمید تھی اور نہ ہی آرزو  رَہی تھی ۔

مگر صاحبو! وہ جو کہتے ہیں نا کہ تقدیر سے زیادہ اور وقت سے پہلے نہ کِسی کو مِلا ہے نہ مِلے گا ۔تُو اِس بات کا مُشاہدہ ہمیں اُس دِن ہُوا۔ اور ہم نے خُود سے عہد کیا کہ آئندہ ایسا جھوٹ نُما سچ ایسے وقت میں ہرگز نہ بُولیں گے کہ جب ہمیں زوروں کی بھوک لگی ہُو۔ اِسکے ساتھ ساتھ بابا جی سے یہ بات بھی سیکھنے کو مِلی کہ موقع دیکھ کر بات کرنی چاہیے۔ اُور اگر آپ پردیس میں ہُوں۔ اور آپکو بے اختیار بُولنے کی بیماری بھی ہُو۔ تو پہلے پیٹ بھر کر کھانا ضرور کھالیں۔ تاکہ بعد میں ڈانٹ اور پھٹکار کھانے کی گُنجائش ہی باقی نہ رہے۔

ویسے آج پتہ نہیں کیوں۔۔۔؟  کچھ بھی قابو میں نہیں ہے۔  اَب یہی دیکھ لیجئے کہ جُو بات کہنے کے لئے ہم نے قلم سنبھالا تھا۔ مِجال ہے جو قلم اُس راہ پر چلنے کو تیار ہُو۔ ہماری خواہش تھی کہ ہم  آج آپکو مُربَّہ بنانے کی ترکیب سکھائیں گے۔ لیکن قیاس یہ کہتا ہے کے شائد مُربَّہ تو نہیں البتہ اچار بنانا آپ ضرور سیکھ جائیں گے ۔ویسے ایک بات  توہے دوستو!  مُربّہ ہو یا اچار دُونوں ہی خواتین کو بے حد پسند ہیں۔ سُو یہ تو طے ہے ۔کہ آپ  آج یہاں سے  بیگمات کو بنانا ضرور سیکھ کر جائیں گے۔

بیگمات کے ذکر سے یاد آیا کہ کِسی دانا کا قول ہے۔ کہ بیگمات کے سامنے ہمیشہ جوابات بُہت سوچ سمجھ کر دینے چاہئیں۔ ورنہ لینے کے دینے بھی پڑ سکتے ہیں۔ اُور کبھی بھی دوستوں کے درمیان یہ سُوچ کر کہ وقت آنے پر بیگم لاج رکھ لیں گی۔  گھریلو بہادری کے قصے اور ڈینگیں مارنے سے پرہیز کرنا شادی شُدہ افراد کی صحت کے لئے بے حد مُفید ہے۔ ورنہ تمام عُمر دوستوں کے سامنے جھوٹ تو کُجا سچ بُولنے کے بھی قابل نہیں رہیں گے۔

 ہاں تو صاحبو ! بات ہُورہی تھی بڑوں کی ۔اور پہنچ گئی مُربہ جات اور اچار تک۔ آئیے آپکی بُوریت دور کرنے کیلئے آپکو ایک چُٹکلہ نُما کہاوت سُناتا ہُوں۔ جو کہ ،، ایک  پاکستانی بابا جی ہی کی زُبانی سُنی تھی۔ اِن دُونوں باباؤں میں فرق صرف اِتنا تھا کہ ایک کو نوجوانوں سے گلہ تھا تو دوسرے کو باباؤں سے  ہی شکایت تھی۔

ایک ہَنس کو اپنی پُرسکون زندگی ایک لمحہ نہیں بھاتی تھی ۔ جب اُس نے اپنے ایک بندر دوست سے یہ ماجرا بیان کیا۔ تو دانشمند بندر نے اُسے فی سبیل اللہ ایک صلاح دِی ۔کہ یار ہَنس تو شادی کیوں نہیں کرلیتا۔ بھائی شادی کرنے سے سکون خود بھاگ جائے گا۔ اُور تُمہاری زندگی میں ایڈوانچر ہی ایڈوانچر آجائے گا ۔ہَنس نے بندر کی یہ صلاح سُن کر اُسے گلے لگا لیا۔ اور دُعا دینے لگا کہ کاش انسانوں کو بھی تُمہارے جیسے دوست مُیسّر آجائیں۔ تب بندر نے اُسکے علم میں اضافہ کرتے ہوئے خوشخبری سُنائی۔ کہ،، تُمہاری یہ دُعا ایڈوانس میں ہی قبول ہُوچکی ہے۔ اُور انسانوں کے پاس یک نہ شُد دو شُد بلکہ نجانے کِتنے شُدھ ایسے بندر نُما دوست موجود ہیں ۔جو اُنہیں اپنے قیمتی مشوروں سے میری طرح بالکل مُفت مُستفید کرتے رہتے ہیں۔

سُو  صاحبو ! بندر کے مشورے پر ہنس صاحب اپنا گھر پھنسانے کیلئے ایک ہنسنی کی تلاش میں روانہ ہُوگئے۔ اِتفاق سے چند جنگل دُور ہی اُنہیں اپنی مطلوبہ کوالٹی کی ہنسنی صاحبہ دریافت ہُوگئیں۔ نکاح سے فارغ ہُونے کے بعد  ہنسنی جی  کے رِی ٹیک سین  وڈیو   میں محفوظ کرتے کرتے  رات زیادہ ہُوگئی۔ اور ہَنسنی صاحبہ وِداع ہُوکر  اپنے میکے سے دُوسرے جنگل تک ہی پُہنچی ہُونگی۔ کہ دِن بھر کی رسومات کی وجہ سے تھک کر نِڈھال ہُو گئیں۔ جب  ہنسنی جی میں مزید پرواز کی ہمت نہ رہی۔ تو  حسب روایت دولہا ہَنس کو حُکم دے دِیا ۔کہ مزید سفر کو ملتوی کرتے ہُوئے یہیں رات بَسر کی جائے۔ ہَنس بھی خُوش تھا کہ چَلو کوئی تُو آیا جُو مجھ پر بھی آرڈر چلا رہا ہے۔ لِہذا ہنس صاحب نے دُنیا کے پچانوے فیصد ۔ اُوہ !معاف کیجئے گا ننانوے فی صد تابعدار شوہروں کی طرح سَر تسلیم خَم کردیا۔

جِس درخت پہ ہنس اور ہنسی مِحوئے استراحت تھے۔ اُسکی ایک شاخ پر ایک عدد مُحترم اُلو صاحب بھی براجمان تھے ۔اُلو نے حَسب عادت رات کی تاریک سے فائدہ اُتھاتے ہُوئے اپنی سُریلی آواز میں دُولہا دلہن کو اپنی موجودگی کا احساس دِلایا۔ ہَنسنی صاحبہ کیلئے یہ آواز بالکل انوکھی تھی۔ کہ،، اُس کا واسطہ کبھی اِس قبیل کی صدائے رندانہ سے نہ پڑا تھا ۔ اُس نے حیرت سے اپنے دولہا سے پُوچھا۔ ہَنس رے ہَنس یہ کُون بُولا۔۔۔؟  ہَنس صاحب بیگم صاحبہ کی معیت میں ایسے مدہوش تھے کہ وہی غلطی کر گئے جو ہَم سے پردیس میں سرزد ہُوئی تھی۔

چُنانچہ  بے سوچے سمجھے بے ساختگی میں کہہ گئے۔ بیگم صاحبہ کِس کا پوچھ رہی ہیں یہ حضرت جہاں بولتے ہیں وہ جگہ ہی اُجڑ جاتی ہے۔۔۔ محترم اُلو صاحب جو کہ جعلی ڈگری یافتہ ہی صحیح مگر بڑے رسوخ کے حامل تھے۔ ہَنس میاں کے اِس جھوٹ نُما سچ کی تاب نہ لاتے ہُوئے وہاں سے کوچ کر گئے اور سَر پنچوں کا دروازہ جا کَھٹکایا ۔تمام پنچ مُحترم اُلو صاحب کے ایماء پر شُوریٰ گاہ میں پُہنچ گئے۔ اب اُلو مہاراج نے پہلے تو اُن پر اپنی تعلیمی قابلیت کا سکہ جمایا۔ اور اُس کے بعد کہنے لگا۔ کہ،، جیسا کہ آپ تمام حضرات میرا رسُوخ بھی جانتے ہُو اور میری دیدہ وَری کے قصے بھی چہار دانگ میں مشہور ہیں۔

 میں بس آپ حضرات سے اِتنا فیور چاہتا ہُوں ۔کہ آپکو بس اِتنا ثابت کرنا ہے۔ کہ،،  کل میں جِس ہنسنی کے ساتھ آپکی شوریٰ میں فیصلہ کیلئے آؤنگا۔تب  آپ سب پنچوں نے ہنسنی کو میری بیوی ثابت کرنا ہے۔ جِسکے عوض میں آپکے بچوں کو بھی اعلیٰ اسناد اور یونیورسٹیوں میں فری داخلے دِلوادونگا۔ اور ڈالروں سے آپ کے مُنہ بھر دونگا۔

تمام شُورٰی کے ارکان کی رضامندی کے بعد اُلو صاحب اپنے چارٹرڈ طیارے کے ذریعے دوبارہ جنگل  جا پُہنچے۔ اُور اُسی شاخ پر وِشرام کرنے لگے  جو کہ اُنہیں اپنے سُسر سے وِراثت میں مِلی تھی۔۔۔صبح جب مخمور ہَنس اور ہَنسنی صاحبہ سفر کے قصد سے اپنے پَر تُولنے لگے۔ تبھی اُلو صاحب درمیان میں کِسی فَلمی ولن کی طرح آدھمکے۔ اُور ہَنسنی صاحبہ کی ملکیت کا دعویٰ پیش کر ڈالا ۔پہلے تو ہَنس کو لگا کہ اُلو صاحب مذاق فرما رہے ہیں۔ لیکن جب اُلو کا اصرار دھمکی آمیز ہُونے لگا۔ تو ہَنس صاحب کا تمام نشہ ہَرن ہُوگیا۔ بڑی عاجزی سے عرض کرنے لگا ۔جناب کہیں ایسا بھی ہُوا ہے کہ کِسی اونچی ذات کے اُلو نے کِسی ہنسنی جیسی بےنام چیز کو اپنے عُقد میں لیا ہُو۔ لیکن اُلو کی ایک ہی رَٹ تھی۔ کہ،، یہ نوخیز ہنسنی میری منکوحہ ہے ۔اگر چاہو تو فیصلہ پنچوں کے پاس لے چَلو۔ سُو ناچار ہَنس کو اُلو کی یہ انہونی بات ماننی پڑی۔ اور یہ تینوں پنچوں کے پاس اپنا مُقدمہ لیکر جا  پُہنچے۔

پَنچوں نے جب اُلو کو آتے دیکھا تُو احتراماً کھڑے ہُوگئے۔ جب مُقدمہ پیش کیا گیا تو سَر پنچ بُولا،، اے ہَنس کیسی عجیب بات کرتا ہے ۔کہ اُلو کی ہَنسنی بیگم کو اپنا کہتا ہے۔ حالانکہ جب اِن دونوں کا نکاح ہُوا تھا۔  تو میں بھی اُس محفل میں موجود تھا۔ تبھی سَرپنچ کا نائب آگے بَڑھا اور کہنے لگا کہ اِس شادی میں مجھے گواہ رکھا گیا تھا۔ اُور میں نے نکاح نامے پر اپنے دستخط بھی کئے تھے۔ پھر کیا تھا ہر ایک پنچ بڑھنے  جامے سے باہر نکلنے لگا ۔اور اُلو اور ہنسنی کی شادی کی شہادتیں دینے لگا ۔ کسی نے اِس شادی کا ولیمہ کھایا تھا ۔تُو کِسی نے اِس شادی میں باجا بجایا تھا۔ جب سارے پنچ اپنی اپنی گواہی اُلو کے حق میں پیش کرچُکے۔ تو ہَنس کے پاس اِس کے سِوا کوئی چارہ نہیں تھا۔ کہ،، اپنا دعویٰ واپس لے کر چلتا بنے۔ سُو ہَنس بیچارے نے کہا کہ اِتنے معزز ارکان جھوٹ نہیں بُول سکتے ۔ شائد مجھ ہی کو کوئی دھوکہ پیش آیا ہے۔ جِسکی وجہ سے ہنسنی کو اپنی بیگم سمجھ بیٹھا ۔۔۔لگتا ہے کہ میری زندگی میں کوئی ہنگامہ نام کی شے ہی نہیں لکھی۔۔۔۔ سُو مجھے مُعاف فرما دیں ۔یہ کہہ کر ہَنس اپنی منزل کو اکیلا ہی چل پڑا ۔

اَبھی ہَنس چند گام ہی اُڑا ہُوگا ۔کہ،، اُلو نے اُسے راستے میں پھر سے جا لیا ۔اور ہَنس سے کہنے لگا۔ اے ہَنس ذرا رُک جا۔۔اُور مجھے میرے ایک سوال کا جواب دے کر اپنی ہنسنی کو ساتھ لیتا جا۔ کہ،، یہ ہَنسنی جو واقعی تیری ہے ۔ میرے کِسی کام کی نہیں ہے۔ اور  میرا سوال  بھی بڑا آسان ہے۔  مجھے صِرف یہ بتا جا کہ میرے بولنے سےلُوگوں کے گھر اُجڑتے ہیں۔۔۔۔۔ یا پنچوں کے بولنے سےا ُجڑتے ہیں۔۔۔۔۔؟ 

مُحترم قارئین ایک شعر پڑھا تھا جو شعر سے زیادہ کسی کی شرارت محسوس ہُوتا ہے۔

ہر شاخ پہ اُلو بیٹھا ہے انجامِ گُلستاں کیا ہوگا۔

مجھے لگتا ہے یہ شعر کسی نے شرارتاً ہمارے پارلیمنٹ کے معزز ارکان کو دیکھ کر لکھا ہے ۔جب کہ دیکھا جائے تُو یہی پارلیمنٹ ممبران اور وزراء ہیں جو دِن رات الیکشن میں ہماری خاطر دربدر ہوتے ہیں۔ اب یہ بھی کوئی تُک ہے کہ پارلیمنٹ میں جانے کیلئے گریجویٹ ہونے کی شرط رکھ دِی گئی۔ جس کی وجہ سے ہمارے محترم اور مکرم ممبران کو لاکھوں روپے اپنی جیب سے اضافی خرچ کرکے جعلی ڈگری حاصل کرنی پڑتی ہے۔ اور یہ سارا خرچہ صرف اور صرف ہماری وجہ سے اور ہماری مُحبت میں کیا جاتا ہے۔ اب یہی دیکھ لیجئے کہ آفات  کا بہانہ بناکر ہمارے صدر محترم کو سیر وتفریح سے روکا جارہا ہے۔ کہ،، یہاں  آئے دِن ہزاروں مر رہے ہیں۔ اور آپکو سیر سپاٹے کی اور اپنی اور اپنے صاحبزادے کی تقریر کی فِکر کھائے جارہی ہے۔ اَب ایسی افواہیں پھیلانے والوں کو کوئی سمجھائے۔ کہ،، بھائی ایسے موقع روز روز تھوڑا نہ آتے ہیں۔

ہمارے صدر مملکت ہمارے غم میں رات دِن گُھلے جارہے ہیں۔ جسکا واضح ثبوت اُنکی پست  ہُوتی ہُوئی مونچھوں کی شکل میں مثلِ آفتاب ہمارے سامنے ہے۔۔۔ اگر  وُہ تھوڑی بُہت سیر و تفریح کرلیں ۔یا کچھ بیرونی بنکوں میں مزید اپنے اکاونٹس میں اضافہ کرلیں گے۔ تو کونسی قیامت آجائے گی۔ ہوسکتا ہے اِس بہانے  گنیز بُک میں دُنیا کا سب سے امیر انسان صدر محترم کی شکل میں ایک پاکستانی لکھا جائے۔ اور اِسی سیر سپاٹے کے بہانے بُہت ساری امداد بھی مصیبت زدگان کے نام پر اُنکے  ہاتھ آجائے گی۔  جس سے ہمارا بھلا ہُو نہ ہُو۔کم از کم اُس سے اِس سیر و تفریح کا خرچہ ہی نکل آئے گا۔ عوام کا کیا ہے عوام تو ہُوتی ہی قُربانی دینے کیلئے ہے ۔ سُو( دو چار ہزار کی قُربانی اور صحیح ) شائد صدر صاحب کے پیش نظر یہ بات ہو کہ اِس طرح کم از کم قُوم کو طوفانوں میں تیرنا ہی آجائے گا۔

اور آخر میں تمام پڑھنے والوں سے گُزارش ہے کہ مہربانی فرماکر اُلو کی بات پر دھیان نہ دیں اور نہ ہی اُس کی شُوریٰ کو ہماری معزز پارلیمنٹ سے مِلانے کی کوشش کریں کہ ہمارے لوگ اُن  پنچوں سے کہیں بڑھ کر ہیں۔۔۔ اِن کا اُلو سے کوئی جُوڑ ہی نہیں بنتا۔

Monday, 18 February 2013

نابینا بِھکاری۔


میرا یہ کالم جواب ہے۔ اُس تحریر کا جو ایک عاشقِ رسول صلی اللہ علیہ کے قلم سے لکھی گئی۔ جی ہاں میری مُراد  قابل احترام وباعمل اُور علم دُوست انسان جناب محترم افتخار الحسن رضوی دامت برکاتہم عالیہ سے ہے۔ جنہوں نے مجھ جیسے حقیر و نابینا انسان کیلئے اپنے قلم کو جنبش دِی تو مروت  و محبت میں مجھ جیسے انسان کیلئے اپنی تحریر میں نجانے کیسے کیسے القابات  کا استعمال کرڈالا۔  اُنکا یہ کالم ہماری ویب ڈاٹ کام پر جب پبلش ہُوا تب میں بستر علالت پر پڑا تھا۔ مجھے کامران  عظیمی بھائی کے توسط سے اِس کالم کے متعلق مکمل آگاہی حاصل ہُوئی ۔ کالم نشر ہُونے کے دوسرے دِن کے اختتام تک  بھی ہمت نہیں تھی۔ کہ جواباً شکریہ کے دو الفاظ ہی لکھ سکوں۔ لیکن اب جونہی طبیعت میں کچھ اِفاقہ محسوس ہُوا۔ میں اُنکے شکریہ کیساتھ کچھ حقائق  اپنے قارئین کرام کی  خِدمت میں پیش کرنا چاہتا ہُوں۔

افتخار الحسن رضوی بھائی پہلے تو میں آپکو بُہت بُہت مبارکباد پیش کرنا چاہتا ہُوں۔ کہ آپ نے جس گہوارے میں اپنی آنکھ کھولی۔ وہاں علم کی روشنی پہلے سے ہی موجود تھی۔ لیکن شائد آپکو اِسکی قدر و قیمت کا اندازہ اِسلئے نہ ہُوسکا ہُو۔ کہ آپ نے ہمیشہ اپنے اِرد گرد بینا لوگوں کو دیکھ کر یہی سُوچا ہُو۔ کہ،، شائد دُنیا میں ہر بچہ آنکھ کی نعمت سے مالا مال ہی پیدا ہُوتا ہُوگا۔۔ اسلئے آپ کے چاروں طرف آنکھ والے بینا مرد و خواتین موجود ہیں۔

لیکن جناب والا میں آپکو بتانا چاہتا ہُوں کہ،، ساری دُنیا کے بچے آپکی طرح خوش نصیب نہیں ہُوتے۔ دُنیا میں لاکھوں بچے میری طرح نابینا بھی پیدا ہُوتے ہیں۔ اُور اُنکے گرد اگرد بھی نابینا لوگوں کی بھیڑ ہی جمع ہُوتی ہے۔ جِس کے سبب اُنکو یہ محسوس ہُوتا ہے ۔ کہ شائد ساری دُنیا کے لُوگ  ہی نابینا ہیں۔ اُور اس لئے جب اُنہیں کوئی بتاتا ہے ۔ کہ میں الحمدُ للہ بینا ہُوں۔ اُور مجھے سب کچھ دِکھائی دیتا ہے۔ تو نابینا لوگ اُس بینا انسان کا مذاق اُڑاتے نظر آتے ہیں۔ کیونکہ اُنکا خیال ہُوتا ہے۔ کہ دُنیا میں کوئی بھی انسان بینا نہیں ہُوسکتا۔ اگر ایسا ہُوتا تو اُنہیں دکھائی کیوں نہیں دیتا۔۔؟

جناب والا۔ یہی حال میرا اُور میرے خاندان کا بھی تھا۔ کیونکہ میں جس خاندان میں پیدا ہُوا۔ وہاں کوئی بھی بینا انسان موجود نہیں تھا۔ اُور اِس وجہ سے  سِوائے میرے دادا کے میرے  اکثرخاندان والوں کو ہر اُس انسان سے شدید نفرت تھی۔ جو خود کو  آنکھ والا کہے۔ کیونکہ اُنکا خیال تھا۔ کہ جب کوئی یہ کہتا ہے۔ کہ مجھے نظر  آتا ہے۔  تو اِسکا صرف ایک ہی مطلب ہُوتا ہے۔ کہ وُہ ہمیں نابینا سمجھ کر   گالی دینے کا مرتکب ہُورہا ہے۔ اُور کسی میں ہمت نہ تھی۔ کہ وُہ  اُس آنکھ والے سے کلام کرے۔ یا بینائی کی حقیقت سےمتعلق استفسار کرے۔

لیکن افتخار صاحب مجھے ایک بات کا قوی یقین ہے۔ اُور وُہ یہ کہ میرے پروردیگار کو مجھ سے محبت ہے۔۔۔۔۔ جی ہاں میں یہ بات بالکل ہُوش و حواس میں رِہ کر کہہ رہا ہُوں۔۔۔۔ اُور میں اِس بات کو ثابت بھی کرسکتا ہُوں۔۔۔۔۔ آپ یہ بات تو مانتے ہیں نہ کہ،، کوئی بھی جب کسی کو   کوئی خاص تحفہ یا اسپیشل انعام  دیتا ہے۔ تو اِس انعام و  تحفہ کے پیچھے محبت کا لطیف جذبہ ضرور کارفرما ہُوتا ہے۔ اُور جِس سے محبت اُور  لگاوٗ نہ ہُو۔ اُسے کسی خاص تحفے یا انعام سے نہیں نوازا جاتا۔۔۔۔ اگر آپ کو میری مثال سمجھ آگئی ہے۔ تو آپ بھی لازماً میری بات کی تائید کردیں گے۔۔۔

دیکھئے نا ! میں بھی نابینا تھا۔ اُور نابینا لوگوں کے درمیان نا صرف  پلا بڑھا تھا۔ بلکہ پیدا بھی ایسے نابینا خاندان میں ہُوا تھا۔ جہاں  بچے کو پیدا ہُوتے ہی  کان میں اِذان کی  صدا بعد میں سُنائی دیتی ہے۔ اُور آنکھ والوں سے دشمنی کی گھٹی پہلے پلائی جاتی ہے۔۔۔۔ ایسے گھٹن زدہ ماحول میں آنکھ کھولنے کے باوجود۔۔۔۔  خُدا کے سِوا ۔اُور کون ہستی ہُوسکتی ہے۔ جِس نے میرے قلب کو آنکھ والوں کی عدوات سے پاک رکھا۔۔۔۔۔ اُور یہ اللہ کریم کی محبت کے سِوا کیا  معاملہ ہُوسکتا ہے۔ کہ مجھے صرف آنکھ والوں کی نفرت سے ہی نہیں بچایا۔  بلکہ آنکھ والوں کی محبت سے میرے  بے نُور دِل کو  آگہی بخشتے ہُوئے  جگمگا ڈالا ۔

یقین کیجئے! مجھے نہ کبھی اِس بات پر فخر رہا ہے۔ کہ میں ایک صنعتکار باپ کا بیٹا ہُوں۔ اُور نہ ہی مجھے اپنے حسب نسب کی برتری کا خمار رہا ہے۔ اُور نہ ہی مجھے اِس بات پر  کبھی غرور ہُوا ۔ کہ اللہ کریم کی عطا سے ہزاروں لوگوں کو میرے ہاتھ سے بذریعہ روحانی علاج شفا حاصل ہُوئی ہے۔ کیونکہ بقول جاوید بھائی عطاری اللہ کریم جب کام لینا چاہتا ہے۔ تو کسی فاسق و فاجر سے بھی کام لے لیتا ہے۔ عامل کامل ہُونا میرے نذدیک کبھی بھی  اہمیت کا حامِل نہیں رہا۔ کیونکہ عامل ہُونا ہی خُدا کی رضا کا حامل ہُونا نہیں ہُوتا۔۔۔۔

میری آنکھوں  میں جب بھی تشکر کے آنسووٗں نے جگہ پائی ہے۔ تو یہی سُوچ کر سجدہ شکر بجالایا ہُوں۔۔۔ کہ اے پروردیگار تیری محبت کے قربان جاوٗں۔۔۔ کہ،،  تُونے مجھے اندھوں کی گلی سے نِکال کر آنکھ والوں کے آستانے کا فقیر بناڈالا۔ تیرے واضح فرمان کے باوجود بھی جو لوگ  تیرے آنکھ والے (اُولیائے کرام) کی  عظمت کے منکر ہیں۔ تونے مجھے اُنہی میں پیدا فرمانے کے باوجود ۔اپنی خاص محبت سے میرے دِل کو مُنافقوں کے منفی اثر سے محٖفوظ رکھا۔۔۔۔ اُور جب تونے چاہا کہ میرا مقدر سنور جائے ۔ تب تونے اپنے خاص فضل و کرم سے اپنے آنکھ والے (اُولیائے کرام) کے قُلوب کو میری جانب مائل فرمادیا۔۔ ۔ اُور مجھ عاصی و بدکار و بد اطوار کے دِل میں  اُن نفوسِ قُدسیہ کی محبت ڈال دی۔۔۔۔

اے میرے پروردیگار۔ تیری عطا سے میں ایک بات بخوبی جان چُکا ہُوں۔ کہ یہ دنیا کا کارخانہ اُور اسمیں کئی جانے والی مزدوری ہی سب کچھ نہیں ہے۔ کوئی اپنے طویل سجدوں کے باوجود بھی شیطان کے نقش پا کا اسیر بن جاتا ہے۔ اُور کوئی بِن مانگے بھی اپنا حصہ خُوب اس دُنیا سے حاصل کرلیتا ہے۔ جسکی وجہ سے مجھ پر یہ بات رُوزِ رُوشن کی طرح عیاں ہُوگئی ہے کہ،،  تُو انعام صرف مزدوری پر عطا نہیں فرماتا۔ بلکہ تیرا جس پر فضل ہُوجائے وہی کامیاب رِہتا ہے۔

اے میرے پرور دیگار میری جھولی خالی ہے۔ نہ   میں نے طرز بندگی سیکھا۔۔۔۔اُور  نہ ہی اپنا کام ایمانداری سے کرپایا۔ اگرچہ میں جانتا ہُوں ۔ کہ یہ دُنیا امتحان گاہ ہے۔ پھر بھی دُنیا کی محبت سے پیچھا نہیں چھوٹتا۔ تُونے تو احسان فرماتے ہُوئے ہمیں اِس کمرہ امتحان میں مختصر وقت کیلئے رکھا۔ تاکہ گناہوں کے انبار ہماری کمر نہ تُوڑ کر رکھ دیں۔ مگر مجھ کو اِس کمرہ امتحان کی رنگینی ایسے بھا گئی۔ کہ  اِس کے گورکھ دھندے سے دِل ہی نہیں بھرتا۔ اگرچہ میں  جانتا ہُوں کہ ،، بُلاوے کا وقت نذدیک ہے۔ لیکن پھر بھی مفت کھانے کی ایسی عادت پڑی ہے۔ کہ مزدوری کو جی نہیں چاہتا۔ نتیجتاً  ابھی تک خالی ہاتھ ہُوں۔ اگر پاس کچھ ہے۔۔۔ تو یہ یقین کہ،،  جسطرح تونے میرے عیبوں پر دُنیا میں پردہ قائم رکھا۔ اجر دیئے جانے کے دِن بھی پردہ فرمائے گا۔ اُور رُسوا نہیں ہُونے دیگا۔  اے میرے کریم رَبّ  مجھے اُجرت نہیں چاہیئے۔ کیوں کہ اجرت تو مزدوری کی ہُوتی ہے۔ اُور مزدوری میں نے کی نہیں۔ اسلئے مجھے تو صرف بھیک چاہیئے ۔

اُور سخی کبھی یہ پسند نہیں کرتا کہ کوئی بھکاری اُس کے در سے خالی  ہاتھ چلا جائے۔ اسلئے قوی یقین ہے کہ ،، تو مجھے بھی بھیک میں اپنے خاص لُطف و کرم سے مغفرت کی بھیک  اُور اپنے محبوب اعظم صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت نصیب فرمائے گا۔ جسطرح بھیک میں تونے مجھے آنکھ والے (اُولیائے کرام) رحم اللہ اجمعین کی محبت  و قربت عطا فرمادی۔ اُور دُنیا کے مختلف کونوں میں بسے اہل محبت کی محبتوں کا  اسیر بنا ڈالا ہے۔

آمین آمین آمین ! بجاہِ النبی الکریم وَ صلی اللہ تعالی علیہ وَآلہ وَ اصحابہ و ازواجہِ و اولیائے ملتہ اجمعین  یا ربنا یا ربنا یا ربنا  واغفرلنا یا الرحم الرحمین۔

Friday, 15 February 2013

اللہ کو خُدا کہنا جائز یا ناجائز۔؟ ضرور پڑھیئے اُور شئیر کیجئے




بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

محترم قارئین السلامُ علیکم ہو سکتا ہے کبھی آپ کیساتھ بھی ایسا کوئی واقعہ پیش آیا ہو۔ کہ،، آپ نے کسی کو خُدا حافظ کہا ہو یا آپ کوئی ایسا شعر گُنگُنا رہے ہُوں ۔جِس میں لفظ خُدا کا استعمال ہوا ہو۔ اُور کسی نے آپ کو پکڑ کر جھنجوڑ دیا ہو کہ بھائی کیا کرتے ہو۔ اللہ کو خُدا کہتے ہو ۔۔۔؟ حالانکہ خُدا تو فارسی کا لفظ ہے اور فارسی تو جناب آتش پرستوں کی بھی زُبان ہے۔ لہذا توبہ کرو ورنہ کہیں ایسا نہ ہو کہ تُمہارا خاتمہ بھی آتش پرستوں کیساتھ ہو! عوامُ الناس جب اِس طرح کی باتیں سُنتے ہیں تو سِہم سے جاتے ہیں۔ اور اپنے دِل میں کہتے ہونگے۔ کہ بھئی اپنا ایمان تو خطرے میں تھا۔ اللہ بھلا کرے  اُن صاحب کا جنکی بدولت آتش پرستوں کیساتھ خاتمہ ہونے سے بچ گئے۔

بے شک اللہ کہنا لکھنا ہی سب سے افضل ہے۔ کہ یہ اسم ذات ہے کوئی صفتی اسم اِلہی اسکا مُتبادل ہُو ہی نہیں سکتا۔ کیونکہ ہر صفتی نام میں کسی ایک مخصوص صفت کا ذکر ہوتا ہے لیکن اسم اللہ تمام صِفات کا مظہر ہے۔ یا یُوں سمجھ لیجئے کہ ہر صفتی اسم اِک خوشنما پھول ہے تو اسم اللہ تمام پھولوں کا حسین گُلدستہ ہے لیکن اس کا مطلب یہ ہر گز نہیں کہ اللہ کریم کو خُدا عزوجل کہنا منع ہے۔

میں نے جب اِس طرح کی کئی ایک پوسٹ کو نیٹ پر پڑھا تو مجھے تشویش لاحق ہوئی کہ اس تحریر کولکھنے کا مقصد چاہے جو بھی رہا ہو۔ لیکن ایک بات ضرور ہے کہ اس کالم میں علامہ اقبال علیہ الرحمہ سے لیکر شیخ سعدی علیہ الرحمہ تک اور بر صغیر کے ہزاروں علماء کی ذات کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔

لہذا سب سے پہلے دارالافتاء حیدرآباد فون کیا اور فتویٰ معلوم کیا
فون نمبر 0092222621563
اسکے بعد دارالافتاء کنزالایمان کراچی
فون نمبر 00922134855174
پھر دارالافتاء نورالعرفان کراچی
فون نمبر 00922132203640
دارالافتا ء احکام شریعت میرپورخاص
فون نمبر 00923313718010
اسکے بعد مفتی محمد یعقوب سعیدی صاحب سے گفتگو  کی ۔۔۔اُور سبھی سے ایک ہی سوال دریافت کیا کہ جناب آپ اس مسئلہ کے متعلق کہ کیا اللہ کریم کو خدا کہہ کر پکارنا  جائز ہے یا ناجائز اور مجھے ہر جگہہ سے ایک ہی جواب مِلا کہ بالکل جائز ہے۔ اور سبھی علماءَ نے کہا کہ علماء اُمت کا اس پر اجماع بھی ہے لیکن بعض شر پسند عناصر مسلمانوں میں منافرت پھیلانے کیلئے ایسا پروپیگنڈہ کرتے ہیں جو قابل مذمت ہے۔

اور علامہ غلام رسول سعیدی طبیعان القران جلد 3 صفحہ 361 پر بحث کرتے ہوئے رقمطراز ہیں جسکا خلاصہ پیش خدمت ہے
کہ ایسے نام سے اللہ کو پکارنا جو اُس کی شان کے زیبا نہ ہو منع ہے ۔جیسے اللہ کے ساتھ میاں کا اضافہ کے یہ لفظ میاں انسانوں کیلئے بھی استعمال ہوتا ہے۔  یا اللہ کیساتھ سائیں کا اضافہ کہ،، سائیں فقیر کو بھی کہتے ہیں۔ اِس لئے اس کا اطلاق ممنوع ہے۔ جبکہ ایسے الفاظ سے اللہ کو پُکارنا جو اُس کی شان کے مطابق ہیں جیسے فارسی میں خدا اور ترکی میں تنکری کہ ان کے معنیٰ میں ابہام نہیں  بالکل جائز ہیں۔

محترم قارئین کرام ۔ اَب آتے ہیں اُس حدیث کی جانب جس کو یار لوگ بڑی ڈھٹائی کیساتھ اپنے حق میں پیش کیا کرتےہیں
مفہوم،،
نبی کریم (صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس شخص نے کسی قوم کی مشابہت اختیار کی تو وہ اُنہی میں سے ہوگا قیامت میں اُس کے ساتھ حشر ہوگا۔ (سنن ابو داود)۔

سیدی اعلحضرت امام احمد رضا(علیہ الرحمہ) فتاوی رضویہ جلد۸ صفحہ 622 پر ارشاد فرماتے ہیں۔

بحرالرائق ودرمختار و ردالمحتار وغیرہا ملاحظہ ہوں کہ'' بد مذہبوں سےمشابہت اُسی اَمر میں ممنوع ہے جو فی نفسہ شرعاً مذموم یا اس قوم کا شعار خاص یا خود فاعل کو ان سے مشابہت پیدا کرنا مقصود ہو ورنہ زنہار وجہ ممانعت نہیں

سیدی اعلحضرت نے تشبہ پر سیر حاصل گفتگو فرمائی ہے جسے آپ جلد نمبر اکیس تا چوبیس میں دیکھ سکتے ہیں جس کا خلاصہ کچھ یوں ہے کہ جس فعل کو کفار مذہب کا حصہ سمجھ کر رسماً ادا کرتے ہوں مثلا سینے پر زنار باندھنا یا صلیب لٹکانا یا بغل وغیرہ کے بال بڑھانا ، مونچھوں کا بہت ذیادہ بڑھانا جِس سے کسی بد مذہب کی مُشابِہت پیدا ہو یہ مشابہت ممنوع اور حرام ہے یا یہ کہ کُفار سے مُحبت کی بنا پر اُنکی نقالی کرے۔ یا اُنکے مذہبی تہواروں میں شریک ہونا، نا کہ کسی زبان کے استعمال سے مشابہت لازم آئے گی۔

لیکن محترم قارئین اِن لوگوں نے ایک ایسے مسئلے کو اپنی جانب سے متنازع بنادیا۔۔۔ جو کہ مسئلہ تھا ہی نہیں اور جس پر تمام مسلمانوں کا اجماع بھی ہے

اعتراضات

اکثر دیکھنے میں آیا ہے کہ جب ایسے لوگوں کو سمجھانے کی کوشش کی جائے تو یہ کہتے ہیں کہ جب اللہ کو خُدا کہہ سکتے ہیں تو  رَام اور وشنو کہہ کر کیوں نہیں پُکارتے؟

جواباً عرض ہے کہ رام کے ایک معنیٰ،، نہایت فرماں بردار،، بھی ہیں اور وشنو کے معنٰی ہِندؤں کے ہاں چار ہاتھوں والا رب،، بھی ہیں اور یقیناً یہ دونوں معنٰی مسلمانوں کے عقائد کے خلاف ہیں۔
اب دیکھتے ہیں کہ خدا کے لغوی معنیٰ کیا ہیں تو خدا کے لغوی معنٰی وہی ہیں جو اللہ کی شان کے مطابق ہیں یعنٰی مالک ،آقا ،باکمال ،معبود ، اور ربّ ۔

دوسرا اعتراض یہ ہوتا ہے کہ عرب شریف میں نبی پاک (صلی اللہ علیہ وسلم) کے دور مُبارک سے لیکر آج تک اللہ عزوجل کو خُدا نہیں کہا جاتا ۔

جواب
تو بھائی عربی اسقدر وسیع زُبان ہے۔ کہ عربی کے چھ لاکھ الفاظ وہ ہیں جو آج متروک ہوچُکے ہیں صرف اِسی بات سے اِس زُبان کی وُسعت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے لہذا یہ کہنا کہ عرب شریف میں فارسی نہیں بولی جاتی تو بھائی اُنہیں کیا ضرورت ہے کہ  عربی جیسی وسیع زُبان کے ہوتے ہوئے۔ جہاں صرف ایک جانور کے عربی میں بیس تیس تک نام ہوتے ہیں وہ فارسی کا استعمال کریں۔ جبکہ اردو عربی کے مُقابلے میں ایک محدود الفاظ رکھنے والی زُبان ہے اور لفظ خُدا کو فارسی سے شعری ضرورت کے پیش نظر لیا گیا ہے ناکہ مجوسیوں کی اتباع کی خاطر لہذا دانشمندی کا تقاضہ ہے اپنی ضرورتوں کو سمجھا جائے۔

اعتراض(3) فارسی کا استعمال آتش پرست کرتے رہے ہیں فلہذا فارسی سے گُریز از بس ضروری ہے؟

جواب مودبانہ عرض ہے کہ نبی آخرُالزماں خَتَمُ المرسلین (صلی اللہُ علیہ وسلم) کی بِعثت سے قبل مشرکین عرب عربی زُبان کا استعمال کیا کرتے تھے تو کیا ہمارے کریم آقا علیہ السلام نے اس زُبان سے بیزاری کا اظہار کیا؟ جواب ہوگا قطعی نہیں کیا اللہ کریم نے ناپسند فرمایا؟ بالکل نہیں بلکہ اللہ کریم کا کلام اِسی زُبان میں نازل ہوا۔ معلوم ہُوا کہ کہ زُبان توصرف رابطہ کا ذریعہ ہے ۔ ناکہ مذہب کی پہچان!اور آپکو وہ کروڑوں مسلمان کیوں نظر نہیں آتے جو فارسی زُبان استعمال کرتے ہیں۔

اعتراض4 ۔اَصل میں لفظ خُدا فارسی زبان کا لفظ ہے آتش پرستوں کے دو ۲ الٰہ تھے اُن میں ایک کا نام خُدائے یزدان اور دوسرے کا نام خُدائے اہرمن تھا اردو میں معنی ہوگا کہ اچھائی کا خُدا اور بُرائی کا خُدا۔

جواب،، یہی عقیدہ تو مشرکین عرب کا بھی تھا اور وہ بھی اپنے بیشُمار معبودوں کو اِلٰہ کہتے تھے جسکا ذکر جا بَجا قران مجید فُرقان حمید میں موجود ہے حوالے کیلئے دو آیات سورہ الحجر اور سورہ النحل سے پیش کرنے کی سعادت حاصل کررہا ہوں

الَّذِیۡنَ یَجْعَلُوۡنَ مَعَ اللہِ اِلٰھًا اٰخَرَ ۚ فَسَوْفَ یَعْلَمُوۡنَ ﴿۹۶ 
جو اللہ کے ساتھ دوسرا معبود ٹھہراتے ہیں تو اب جان جائیں گے (سورۃ الحجر آیت96)

وَقَالَ اللہُ لَا تَتَّخِذُوۡۤا اِلٰـہَیۡنِ اثْنَیۡنِ ۚ اِنَّمَا ہُوَ اِلٰہٌ وَّاحِدٌ ۚ فَاِیَّایَ فَارْہَبُوۡنِ ﴿۵۱ 
اور اللہ نے فرمایا دُو خدا نہ ٹھہراؤ وہ تو ایک ہی معبود ہے تو مجھی سے ڈرو (سورہ النحل آئت51)

اب دیکھئے کہ مشرکین عرب بھی اپنے بیشمار خداؤں کو اِلٰہ کہتے تھے تو اللہ کریم نے لفظِ اِلٰہ کہنے پر پابندی نہیں لگائی۔ بلکہ اپنے محبوب (صلی اللہ علیہ وسلم) کے ذریعے یہ تعلیم دی ۔ کہ اِلٰہ صرف ایک ہے۔ اُور وہ اللہ کریم کی یکتا اور بےمثال ذات ہے۔ اسی طرح ہم یہ تو کہیں گے کہ آتش پرستوں کے دو خُدا کا عقیدہ باطل ہے لیکن خُدا کہنے پر پابندی نہیں لگا سکتے کہ اس کے معنٰی وہی ہیں جو اِلٰہ کے معنیٰ ہیں۔

اعتراض(5) کیا خُدا کہنے کی کوئی دلیل قُران سے ثابت ہے؟

جواب جی ہاں سورہ الاِسراء آیت نمبر 110 میں اللہ کریم ارشاد فرماتا ہے
قُلِ ادْعُوا اللہَ اَوِادْعُوا الرَّحْمٰنَ ؕ اَیًّا مَّا تَدْعُوۡا فَلَہُ الۡاَسْمَآءُ الْحُسۡنٰی 
تم فرماؤ اللّٰہ کہہ کر پکارو یا رحمن کہہ کر جو کہہ کر پکارو سب اسی کے اچھے نام ہیں

اللہ کریم نے اِس آیت میں اُنہیں مخاطب کرتے ہوئے اِرشاد فرمایا ہے جو اللہ کریم کے ناموں میں جھگڑتے ہیں کہ سب اچھے نام اللہ کے ہیں۔
بس ہمیں بچنا ہے تو ایسے ناموں سے جو مالک حقیقی کے شایانِ شان نہ ہوں۔  اب آئیے اس آیت مبارکہ کا پس منظر بھی دیکھتے ہیں

شانِ نُزول : حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے فرمایا ایک شب سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے طویل سجدہ کیا اور اپنے سجدہ میں یااللہ یا رحمٰن فرماتے رہے ابو جہل نے سنا تو کہنے لگا کہ (حضرت) محمّد مصطفٰی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمیں تو کئی معبودوں کے پوجنے سے منع کرتے ہیں اور اپنے آپ دو کو پکارتے ہیں اللہ کو اور رحمٰن کو (معاذ اللہ) اس کے جواب میں یہ آیت نازِل ہوئی اور بتایا گیا اللہ اور رحمٰن دو نام ایک ہی معبودِ برحق کے ہیں خواہ کسی نام سے پکارو ۔

یہاں ایک بات یہ بھی معلوم ہوئی کہ اللہ کریم کے اچھے ناموں پر تنقید کرنا ابوجہل کا طریقہ ہے ناکہ صالحین کا۔

اعتراض(6) یہ جو علمائے کرام اللہ عزوجل کو خُدا کہنے کی اجازت دیتے ہیں۔ یہ اِنکی اپنی ذاتی رائے ہوتی ہے یہ اِذن قُران و سُنت سے نہیں دیتے؟

جواب ،، یہ عُلماءِ حق پر سراسر بُہتان ہے کیونکہ کوئی بھی عالم مفتی یا مُحدث قُران اور سُنت کے منافی فتوٰی صادر نہیں کرتا ۔ بلکہ اِنکا ہر فتویٰ قران اور سُنت کی ہی روشنی میں ہوتا ہے ا،سی لئے اِنہیں وارثینِ انبیاٗ  کا لقب مِلا ہے۔ 

اب یا تو اِن لوگوں کو فارسی زبان سے بغض تھا۔ یا پھر اُردو سے کینہ تھا۔ یا علماء برصغیر سے بیزاری۔۔۔ جُو بِنا سمجھے کروڑوں مسلمانوں کو بمعہ علماء کرام آتش پرستوں سے مُشابہت کی نوید سُنا کر معاذ اللہ ثمَ معاذ اللہ جہنم کی نوید سُنا ڈالتے ہیں

محترم قارئین کرام ایک حدیث کا مفہوم ہے۔

حضرت ابو ھریرہ رضی اللہ عنہُ سے مروی ہیکہ رسولِ اقدس علیہ الصلواۃ والسلام کا فرمانِ عبرت نشان ہے
فرمایا کہ جس نے بغیر علم کے کوئی فتویٰ دیا تو اُس کا گُناہ فتوٰی دینے والے پر ہوگا اور جس نے جان بوجھ کر اپنے بھائی کو غلط مشورہ دیا تو اُس نے اُس کے ساتھ خیانت کی
(۔(سنن ابو داود کتاب العلم باب التوقی فی الفتیا، جلد نمبر 3 صفحہ 449

لیکن یہاں حال یہ ہے کہ ایک حدیث سُنی کتاب دیکھنے کی نوبت نہیں آتی جو یاد رہا۔ صرف اُسی کو اپنی جانب سے قولِ نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) بتا کر بیان کر دیا جاتا ہے یا کسی کے نظریہ سے مُتاثر ہو کر کروڑوں مسلمانوں کو کفر کے فتوٰی سے نواز دیا جاتا ہے۔ نعوذُ باللہ۔

اور اس طرح مسلمانوں میں انتشار کی کیفیت پیدا کردی جاتی ہے جو قابل مذمت عمل ہے
اللہ کریم ہم سب کے ایمان کی حفاظت فرمائے ۔ اور ایسے نیم عالم خطرہ ایمان سے بھی  ہم سب کومحفوظ رکھے۔
میں نے تمام حقائق آپ کے سامنے رکھ دئیے ہیں اور تمام علماء کی رائے بھی آپکے سامنے پیش کردی ہے۔ لِہذا یہ اب  آپکا اخلاقی اُور دینی  فرض ہے۔کہ،، ہر ایسے شخص سے ہوشیار رہیں جو مسلمانوں میں تفرقہ بازی کا باعث ہو۔

اللہ کریم اپنے مدنی محبوب ﷺ کے طُفیل تمام مسلمانوں کو ایسے نام نہاد مذہبی لوگوں کے شر سے ہمیشہ محٖفوظ رکھے جو ہمارے ایمان کیلئے ہمیشہ خطرہ بنے رہتے ہیں۔۔
آمین بجاہِ النبی الامین وصلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وبارک وسلم


Thursday, 14 February 2013

یہ محتاجی نہیں اِک راز ہے۔


میں میلاد النبی صلی اللہُ علیہ وسلم کے حوالے سے لکھنے کیلئے ایک خاکہ اپنے ذہن میں تیار کررَہا تھا۔ لیکن موبائیل پر متواتر  بجنے والی  ٹیونز میرے تخیل کو کسی ایک نقطے پر مرکوز ہُونے ہی نہیں دے رہی تھی۔۔۔ بلاآخر میں نے مجبورہُوکر مُوبائیل کو چارجر سے جُدا کرنے کے بعد اپنے ہاتھ میں اُٹھا ہی لیا۔۔۔۔۔۔۔ السلامُ علیکم۔۔۔۔۔ وعلیکم السلام ۔۔۔ جی میں عشرت اقبال وارثی سے بات کرنا چاہتی ہُوں۔۔۔  جی محترمہ میں حاضر ہُوں فرمایئے۔۔۔۔ آواز سے میں نے اندازہ لگایا کہ،، شائد فون پر کوئی اُنیس یا بیس برس کی طالبہ مُوجود ہیں۔۔۔ اگرچہ بعد میں میرا خیال بالکل غلط ثابت ہُوا۔ جب دُوران گفتگو اُنہوں نے ہمت جمع کرکے کمال جراٗت سے مجھے سچ سچ  بتادیا کہ،، وُہ میری ہم عمر  ہیں۔ اُور ابھی حال ہی میں بیرونِ مُلک سے پاکستان تشریف لائیں ہیں۔ حالانکہ خواتین سب کچھ بتاسکتی ہیں۔ سِوائے اپنی صحیح عُمر کے۔۔۔!

عشرت وارثی صاحب  میں آپکے اکثر کالم ایک خاموش اُور گُمنام قاری کے طُور پر عرصہ دراز سے مُسلسل پڑھ رَہی ہُوں۔۔۔ آپ کے کالم فیضانِ اسم اعظم    کی سیریز میں خاصےاِشتیاق سے پڑھتی رَہی ہُوں۔۔۔ جِس میں مُوجود اکثر وظائف سے مجھے رُوحانی سکون بھی نصیب ہُوا۔ اُور کافی مسائل بھی  اُن وظائف کے توسل سے حل ہُوگئے۔۔۔ لیکن آج ایک سوال میرے ذہن کو پراگندہ کئے جارہا ہے۔اِسلئے مجھے آپ سے ایک بات معلوم کرنی ہے۔ کیا آپ میرے سوال کا جواب دینا پسند کریں گے۔۔۔؟

جی ضرور اگر  میرے کِسی کالم سے آپ کے ذہن میں تشنگی پیدا ہُوئی ہے۔ تُو میں کوشش کرونگا کہ اُس بات کو مزید وضاحت سے آپکو سمجھانے کی کُوشش کروں۔۔۔ میرا خیال تھا کہ وُہ محترمہ مجھ سے کسی رُوحانی مسئلے کے متعلق اِستفسار کریں گی۔۔۔ لیکن بعد میں میرا یہ خیال بھی خیالِ خام ثابت ہُوا۔

میرے حامی بھرنے کے بعد اُنہوں نے اپنی گفتگو کو مزید بڑھاتے ہُوئے کہا۔۔۔دراصل  پاکستان آنے کے بعد سے میرے مُعاشی حالات کافی ابتری کا شِکار ہُوگئے ہیں۔۔۔  اُور میں جتنا اِنہیں سُلجھانے کی کُوشش کرتی ہُوں۔ یہ مزید  بِگڑتے چلے جارہے ہیں۔۔۔  ابھی گُذشتہ دِنوں  میری  ایک چھوٹی بہن کا رِشتہ طے ہُوگیا۔۔۔ لیکن جیسا کہ میں نے ابھی بتایا کہ  ہمارے معاشی حالات کچھ عرصے سے بہتر نہیں ہیں۔ اُور لڑکے والوں کا اِصرار تھا کہ جلد از جلد شادی کی تاریخ  دے دی جائے۔ اسلئے ہمارے لئے سب سے اہم مسئلہ یہ تھا۔ کہ شادی کے اِخراجات کیلئے رقم کا بندوبست کہاں سے کیا جائے۔ ۔۔چند دِن اِسی سُوچ و بچار کی نظر ہُوگئے۔ پھر ایک دِن مجھے خیال آیا کہ آپ نے اپنے ایک کالم میں صلواۃُ الاسرار کے متعلق لکھا تھا۔ کہ اِس نفلی نماز کی برکت سے  بڑے سے بڑا مسئلہ حل ہُوجاتا ہے۔


 لِہذا میں نے چند دِن ہی صلواۃ الاسرار پڑھی تھی کہ،، میری چند فرینڈز نے مجھے  اِس شرط پر مطلوبہ رقم فراہم کردی کہ،، میں جلد از جلد یہ رقم لُوٹادُوں گی۔۔۔ مجھے بھی قوی اُمید تھی۔ کہ مجھے پاکستان میں کوئی نہ کوئی بہتر جاب مِل جائے گی۔ اُور میں وُہ رقم واپس لُوٹا دُونگی۔۔۔ لیکن بہن کی شادی سے فارغ ہُونے کے بعد کافی کُوشش کے باوجود بھی مجھے کوئی مُناسب جاب نہیں مِل پائی۔  جبکہ دُوسری طرف میری فرینڈز کا تقاضہ بڑھنے لگا۔ کہ میں وُہ رقم اُنہیں واپس لُوٹادُوں۔۔۔ لیکن آخر میں کہاں سے رقم لُوٹاسکتی تھی۔  کیوں کہ میرے پاس نہ ہی کوئی جاب ہے اُور نہ ہی کوئی اُور ذریعہ مُعاش۔۔۔ اسلئے میں نے اپنی فرینڈز کو تمام صورتحال بتاتے ہُوئے کہا۔۔۔ کہ میں رقم ادا کردونگی۔ لیکن اُس کیلئے کوئی  ٹائم فریم نہیں دے سکتی۔ کیوں کہ جب میرے پاس کوئی ذریعہ معاش ہی نہیں ہے۔ تو میں ٹائم ٹیبل کیسے دے سکتی ہُوں۔ البتہ اتنا ضرور ہے کہ میں خود قرض کے اِس وزن سے جلد از جلد اپنا دامن چُھڑانا چاہتی ہُوں۔

لیکن چند  ہفتے انتظار کے بعد ہی میری اُن دیرینہ فرینڈز کے رَویوں میں مُحبت اُور خُلوص کی جگہ۔۔۔ سرد مہری اُور درشتگی کا عنصر نمایاں ہُونے لگا۔۔ ۔  اُور جب اُنہیں یہ یقین ہُوگیا کہ،، میں فی الحال اُنکی رقم لُوٹانے کی پُوزیشن میں نہیں ہُوں۔ تو اُنہوں نے   میرے ساتھ بے رُخی کا ایسا برتاوٗ برتا۔۔۔ ۔ کہ،، جِسکا تصور میں کبھی خُواب میں بھی نہیں کرسکتی تھی۔ میری جتنی تذلیل کی گئی۔ وُہ نہ ہی میں بیان کرسکتی ہُوں۔ اُور نہ ہی آپ شائد اُس تذلیل کا اندازہ لگا سکتے ہیں۔۔۔ اِن مسلسل پریشانیوں کی وجہ سے  ایک وقت میری زندگی میں ایسا بھی آیا کہ مجھ میں جینے کی خاہش ہی ختم ہُوگئی۔۔۔ کیونکہ میں ذلت کی زندگی سے عزت کی مُوت کو پسند کرتی ہُوں۔ لیکن زندگی نے ایسے دُوراہے پر لاکھڑا کیا ہے۔ کہ نہ اپنے پروردیگار کی امانت اِس زندگی کا خاتمہ کرسکتی ہُوں۔۔۔۔ اُور نہ ہی قرض ادا کرنے کی پُوزیشن میں ہُوں۔

لیکن آج اِن تمام حالات کی وجہ سے میرے ذہن میں ایک سوال بار بار  پیدا ہُورہا ہے۔۔۔ جسکا کوئی جواب میرے ذہن کو مطمئن نہیں کرپارَہا ہے۔ اس لئے آپ سے رُجوع کررہی ہُوں۔ اُور میرا سوال یہ ہے ۔ کہ،،  جب سب کو مال و دُولت اللہ کریم عطا فرماتا ہے۔ تو ہمیں لُوگوں کا محتاج کیوں بنادیا۔؟  میرا مطلب یہ ہے۔ کہ،،  جب ہمیں کسی شئے کی ضرورت ہُوتی ہے۔ تو وُہ شئے ہمیں لوگوں سے کیوں مانگنی پڑتی ہے۔ آسمان سے کیوں ہمارے لئے نازل نہیں ہُوجاتی۔ ۔۔؟

ٹھیک ہے محترمہ ! میں آپکی تمام گفتگو  کا مافی الضمیر سمجھ گیا ہُوں۔ اُور آپکے سوال کی الجھن بھی۔۔۔۔  لیکن میں کوئی عالم فاضل تو ہُوں نہیں کہ ہر سوال کا سب کو تشفی بخش جواب دے پاوٗں۔۔۔۔ البتہ اللہ کریم سے مدد طلب کرتے ہُوئے  میں کوشش ضرور کروں گا۔ کہ آپکی الجھن  کو سُلجھا پاوٗں۔ باقی  بات کو  دِل میں اُتارنے والی ذات تو اللہ کریم کی ہے۔ وُہ جسکے لئے چاہے بات کو سمجھنا آسان کردے۔ میں نے اپنی گفتگو کا آغاز کرتے ہُوئے تہمید باندھی۔

 میری ناقص معلومات کے مُطابق اللہ کریم نے جب انسان کی تخلیق فرمائی۔ تو یہ تخلیقی عمل صرف ایک مخلوق کی پیدائش کا عمل نہیں تھا۔ بلکہ اللہ کریم نے جب چاہا کہ کوئی ایسی مخلوق ہُونی چاہیئے۔ جس میں فرماں برداری کیساتھ ساتھ نافرمانی کا مادہ بھی موجود ہُو۔ جس میں صرف اطاعت کا جذبہ ہی موجزن نہ ہُو ۔ بلکہ اُس میں نفسانی خواہشات بھی ہُوں۔ اُس میں شعور و آگہی کی نعمت بھی ہُو۔ تو اسکے پاس سفلی جذبات بھی ہُوں۔ اُسکے دِل میں جنت کی خواہش بھی ہُو۔ لیکن جلد پانے کی بے چینی بھی ہُو۔ اُسکے سامنے دُنیا کی رعنائیاں بھی ہُوں۔ تو اُس کے پیشِ نظر آخرت کے انعامات بھی ہُوں۔ پھر ان تمام چیزوں کیساتھ اُس کے پاس عقل کی نعمت بھی ہُو۔ جسکے ذریعے سے وُہ اچھے بُرے میں امتیاز کرسکے۔اُور اتنے سارے معملات میں گھرنے کے باوجود بھی اگر وُہ صحیح فیصلہ کرپائے۔ اُور عقبی کو دُنیا پر فوقیت دے پائے تو یقیناً ایسی مخلوق کے سر پہ ہی اپنی نیابت کا تاج سجانا چاہیئے ۔ چُنانچہ اللہ کریم نے حضرت انسان کو نہایت محبت کیساتھ یہ کہہ کر تخلیق فرمایا۔ کہ بے شک ہم نے انسان کو سب سے احسن صورت پر پیدا فرمایا۔

پھر صرف حضرت انسان کو پیدا نہیں فرمایا۔۔ بلکہ اُنکے لئے زمین میں تاثیر رکھی۔ کہ اناج پیدا کرسکے۔ چاند کی روشنی میں مٹھاس کو پُوشیدہ کردیا۔ تاکہ پھلوں میں لذت قائم رہے۔ سورج کی رُوشنی میں زندگی کی حرارت کو پنہاں کردیا۔ موسموں کو پیدا فرمایا۔ بادل کی ڈیوٹی لگائی کہ وُہ پانی کو ایک جگہ سے دوسری جگہ لیجاسکے۔ زمین میں استقامت کیلئے پہاڑ پیدا فرمائے۔ درختوں میں جسم کی تازگی کا سامان مُہیا کردیا گیا۔ جسم کو طاقتور رکھنے کیلئے  گوشت کے ذخائر چوپایوں میں رکھ دیئے گئے۔ اُور کچھ جانوروں کو سواری کا ذریعہ بنادیا گیا۔ الغرض صرف حضرت انسان کو نہیں بنایا۔ بلکہ اُسکے لئے ایک مکمل اُور مربوط سسٹم بنایا گیا۔ جس سے کوئی بھی ذی عقل اندازہ لگا سکتا ہے۔ کہ،، اس مخلوق کی تخلیق میں اللہ کریم کی محبت کس درجہ کمال کی ہُوگی۔ جسکے لئے اسقدر انتظام  اُور وسائل پیدا کیئے گئے ہیں۔۔۔

اُور جب اللہ  کریم نے اپنی  اِس خُوبصورت مخلوق کو زمین میں اپنا  خلیفہ بنانے کا اعلان فرمایا تو۔ شیطان نے احتجاج کیا،،، اُور اِس مخلوق کو حقیر جانا ۔ اللہ کریم نے اِسی مخلوق کی محبت میں معلم ملائکہ ابوالجنات شیطان کو اپنی بارگاہ سے مردود کہہ کر نکال دیا۔ پھر فرشتوں نے بڑے ادب سے عرض کیا اے پروردیگار یہ انسان تیری عظمت کا حق ادا نہیں کرپائے گا۔ دُنیا میں جاکر شر پھیلائے گا۔ خُون ریزی کرے گا۔ تو اللہ کریم نے علم اسماء کے نور سے حضرت انسان کو مزید جِلا بخشی۔ اُور فرشتوں  کو یاد دِلایا کہ جو میں جانتا ہُوں۔ وُہ تُم نہیں جانتے۔

اُور  انسانوں کے علاوہ میری کوئی ایسی مخلوق نہیں جسے میں نے نفس و شہوت عطا کی ہُو۔۔۔۔ لیکن یہ بھی صرف میں رَب ہی جانتا ہُوں ۔ کہ اِس نفس و شہوت کے باوجود بھی اِنہی انسانوں میں ایک گروہ  ہُوگا۔ جِسے نفسانی خُواہشات کے مقابلے میں میری رضا درکار ہُوگی۔ جو کھانا، پانی وافر مقدار میں موجود ہُونے  اُور  حاجت و جسمانی طلب کے باوجود اِس لئے نہیں کھائیں گے۔ کہ  اُس  وقت  کھانا میری مرضی نہ ہُوگی۔۔۔۔ حسین چہرے اُور خوشبودار بدن صرف میرے حکم کے باعث اُنہیں  اپنی طرف متوجہ نہیں کرپائیں گے۔ دُنیا کی رعنائیاں اُنکی نظر التفات کی متمنی ہُونگی۔ جب کہ وُہ مال و زر سے بیزار ہُونگے۔ میں کبھی دُولت کے انبار عطا کرتے ہُوئے اُنہیں آزماوٗں گا۔ تو کبھی مفلسی دے کر۔۔۔۔ لیکن میرے وُہ بندے جو خاص میرے ہُونگے  میری ہر آزمائش پر پُورا اُتریں گے۔۔۔۔۔ اِس لئے اے فرشتوں جب تُم اُنہیں دیکھ لو۔۔۔ تُو گواہ ہُوجانا کہ وُہ آزمائش پر پُورا اترنے والے ہیں۔

جواب بُہت آسان  ہے۔۔۔۔ کہ،، خدا قادر مطلق ہے۔ چاہے تو ہر مانگنے والے کو نعمت آسمان سے نازل کردے۔  لیکن پھر اِس بزم دُنیا کی ضرورت کیا تھی۔ خُدا نے جب تمام ارواح کو پیدا فرمایا۔ پیدا فرماتے ہی جنت عطا فرمادیتا۔ نہ کوئی مشقت ہُوتی نہ کوئی آزمائیش۔ لیکن فرشتوں کا سوال ادھورا رِہ جاتا کہ،، بلاآخر اِس انسان میں ایسا کیا ہے۔ ؟ کہ جسکی وجہ سے خلافت کا تاج حضرت انسان کو عطا کیا گیا۔ فرشتوں کے سر پہ نہیں سجایا گیا۔

اسلئے یہاں اپنی کمائی دوسروں کو دینے والا بھی آزمائش میں ہے۔ اُور لینے والا بھی۔ اب کون کیسے دیتا ہے۔ یا نہیں دیتا۔۔۔۔۔ اُور کون لیتا ہے۔ اُور کیسے واپس لُوٹاتا ہے۔ سب کا حساب رکھا جارہا ہے۔ جسے دُنیا میں جتنا کم مِلا ہے۔ اُسکا حساب بھی جلدی ختم ہُوجائے گا۔ اُور وُہ ہمیشہ ہمیشہ کیلئے اُس بھیڑ اُور سختی کے دِن جنت میں بھی پہلے چلا جائے گا۔ اُور جو دیکر ذلیل کرتا رَہا۔ حساب تو اُسے بھی دینا ہے۔ لیکن آخر ہے تو وُہ بھی اپنا۔ اسلئے اُسکے  حق میں بھی دُعا کردیا کریں۔۔۔۔۔ لیکن ہمیشہ کی زندگی کا لطف لینے سے قبل۔۔۔۔ امتحان تو دینا ہی پڑے گا۔۔۔۔
یہ وظیفہ محترمہ عاصمہ جی کی طرف سے اُن خاتون کیلئے جو  اس کالم کی وجہ تحریر ہیں

Monday, 11 February 2013

واعظ اُور طَوائف


یہ قریباً 17 برس پرانی بات ہے۔ آج ایک صاحب کو دیکھ کر پھر گُزرے زمانے کی یاد تازہ ہوگئی اور میں نے سُوچا کہ چَلو
آپ لوگوں سے بھی اُس واقعہ کو شئیر کرلیتا ہوں۔

میری عُمر اُس وقت یہی کوئی 23 برس کی رہی ہُوگی مجھے اُن دِنوں اگرچہ لکھنے کا کوئی خاص شُوق نہیں تھا بلکہ یُوں کہنا چاہیئے کہ ایسا کوئی چسکا ہی نہیں پَڑا تھا ۔مگر کتابوں سے مُحبت تب بھی زُورُوں پر تھی میری ایک کِتاب میرے دوست پڑھنے کیلئے ایسے لے گئے کہ پھر اُنکی واپسی کبھی نہیں ہوئی ۔کئی مرتبہ مُطالبے کے باوجود بھی جب کتاب نہ مِلی تُو سوچا دوبارہ بازار سے خَرید لیتا ہُوں ۔

شہر کے تمام بُک اِسٹالوں کی خاک چھاننے کے باوجود بھی وہ کِتاب مجھے مُیسر نہیں آئی ۔۔ کتاب کا نام تھا سیرتِ رسول عربیﷺ جِسے علامہ نور بخش توکلی دامت برکاتہم عالیہ نے کمالِ مُحبت اور شوق سے اِسطرح لکھا ہے کہ پڑھنے والے قاری کا عشق رسول ﷺ ہر ہر سطر پڑھ کر بڑھتا ہی چلا جاتا ہے ۔ اور اُس وقت مجھے اُسی بیش قیمت کتاب کی ضرورت تھی مگر کتاب تھی کہ مِل ہی نہیں رہی تھی تبھی مجھے یاد آیا کہ میں نے یہ کتاب اپنے ایک دوست کے پاس بھی دیکھی تھی جو اُن دِنوں ایک جنرل اسٹور چلایا کرتے تھے۔

جب میں اپنے دُوست کی شاپ پر پُہنچا تب دوپہر ڈھل رہی تھی اور شام ہونے کو تھی ۔ میں نے اپنے دوست کے پاس پُہنچنے کے بعد اپنا مُدعا ظاہر کیا۔ وہ دوست کہنے لگے کہ عشرت بھائی کتاب دُکان پر نہیں بلکہ گھر پر موجود ہے آپ میرے پاس بیٹھیں میں کسی بچےکو بھیج کر کتاب گھر سے منگوالیتا ہُوں۔ مجھے اپنے دوست کی یہ تجویز پسند آئی اور میں اُنکے پاس بیٹھ گیا۔

دُکان چُونکہ شہر کی مصروف شاہراہ پر تھی اسلیئے دُکان کا سائز کافی چھوٹا تھا کسی صاحب نے اپنے مکان میں ایک اچھی خاصی مارکیٹ بنا رکھی تھی دُکانوں کی لمبائی اگرچہ پندرہ فِٹ سے کسی طُور کم نہ رہی ہوگی مگر دُکانوں کی چوڑائی 7 فِٹ سے ہر گز ذیادہ بھی نہ رہی ہُوگی۔ جسکی وجہ سے برابر کی دُکانوں پر اگر دُکاندار کسی گاہک سے بات کر رہا ہُو تو وہ صاف سُنائی دیتی تھی۔

جنرل اِسٹور کیساتھ ہی ایک حجام کی دُکان تھی حجام ایک شخص کی شِیو بنارہا تھا اور وہ گاہک جو بظاہر پچاس پچپن برس کا ایک صحتمند شخص نظر آرہا تھا حجام سے شِکایت کر رہا تھا کہ حجام اچھا بلیڈ استعمال نہیں کرتا جسکی وجہ سے ہر تیسرے دِن اُس شخص کی شِیو بڑھ جاتی ہے۔

کُچھ وقت گُزرنے کے بعد اُس شخص نے گُفتگو کا رُخ مذہب کی جانب مُوڑ دِیا۔ چُونکہ گُفتگو کےموضوع میں میری پسندیدگی کا تمام سامان موجود تھا لِہذا میں نے بھی خاموشی سے اپنا تمام دھیان اِس گُفتگو کی جانب لگا دِیا۔

وہ بُوڑھا شخص اگرچہ اپنی وضع قطع سے ہر گز کوئی مبلغ نظر نہیں آتا تھا لیکن اُسکی نپی تُلی گُفتگو سے مجھے یہ اندازہ لگانے میں قطعی دُشواری پیش نہیں آئی کہ بِلا شُبہ اُس بوڑھے شخص کا مُطالعہ کافی وسیع تھا اور مذہبی معاملات کیساتھ ساتھ اُس شخص کی تاریخ پر بھی کافی مضبوط گرفت تھی وہ کتابوں کے حوالے ایسے تواتر سے پیش کررہا تھا کہ گُویا جیسے وہ تمام کتابیں اُسکے سامنے کُھلی پڑی ہُوں گُفتگو جُوں جُوں آگے بڑھتی جارہی تھی میں اُس شخص سے مُتاثر ہوتا چلا جارہا تھا۔ لیکن دھیرے دھیرے مجھ پر یہ انکشاف ہُونے لگا کہ موصوف کُچھ زیادہ ہی احساسِ برتری کے مَرض میں گرفتار ہیں کیونکہ وہ بار بار بڑے فخریہ لہجے میں اپنے علم اور اپنے مُطالعے کا ذکر کِسی نہ کِسی طرح اپنی گُفتگو میں لے آتے اور اُنہیں اِس بات کا زَعم بھی شدت کیساتھ تھا کہ شائد ہی کسی شخص کے پاس اِسقدر کتابوں کا ذخیرہ موجود ہُو جِیسا ذخیرہ اُنہوں نے دُنیا بھر کی نایاب کتابوں سے اپنی کوٹھی میں جمع کیا ہُوا ہے۔

وہ بوڑھا شخص شِیو بنوانے کے بعد ایک کُرسی پر براجمان ہُوگیا اور اپنے عملی قِصّوُں اور عِلمی گُفتگو سے موجود سامعین کو گرمانے لگا یہاں تک کہ درمیان میں عصر کی نماز کا وقت ہُوگیا میں اور میرا دوست نماز عصر کیلئے مسجد روانہ ہوگئے راستہ میں میرے دوست نے اُس بوڑھے شخص کے متعلق مجھے بتایا کہ وہ ایک بڑا زمیندار ہے اور ایک وسیع لائبریری اُسکے گھر میں موجود ہے صحت چُونکہ قابلِ رشک ہے اسلئے پنسٹھ سال سے زائد عُمر کے باوجود بھی وہ شخص پچاس برس کا نظر آتا ہے خُوش شکل ہونے کیساتھ ساتھ خُوش لِباس بھی واقع ہُوا ہے جہاں موصوف کو نئی گاڑیوں کا بُہت شوق ہے تو دوسری جانب کتابوں کی خریداری کا شُوق بھی جُنون کی حد تک ہے۔

عصر کی نماز سے فارغ ہُو کر جب ہم جنرل اِسٹور پر پُہنچے تُو میری مطلوبہ کتاب آچُکی تھی۔ دوسری جانب اُس شخص کا وعظ بھی جاری تھا میں چُونکہ اُس گُفتگو سے بُہت محظوظ ہُورہا تھا اِسلئے میں مزید گُفتگو سُننے کے اِشتیاق میں وہیں بیٹھ رَہا۔حجام کو بھی اِس تمام گُفتگو سے شائد بُہت لُطف حاصِل ہورہا تھا اِس لئے وہ بھی بڑے انہماک سے یہ گُفتگو سُن رہا تھا چار پانچ لُوگ جو شائد اپنی حجامت بنوانے کیلئے یا پھر اخبار کے مُطالعے کے لئے حجام کی دُکان پر آئے بیٹھے تھے وہ بھی اُس شخص کی باتوں یا وعظ کو بڑی دِلچسپی سے سماعت کر رہے تھے۔

سُورج کی روشنی آہستہ آہستہ مدہم پڑتی جارہی تھی میں نے گھڑی کی جانب نِگاہ دوڑائی تو معلوم ہُوا کہ نماز مغرب میں پندرہ منٹ باقی ہیں میں نے سُوچا اتنے اچھے ماحول کو چھوڑ کر جانا کُفرانِ نعمت ہُوگا لِہذا مغرب ادا کرنے کے بعد ہی گھر جاؤں گا۔ تبھی ایک انتہائی حَسین خاتون جنرل اِسٹور پر تشریف لائیں اور دھیمی آواز میں میرے دوست سے بات کرتے ہُوئے سامان کی لِسٹ میرے دوست کے ہاتھ میں تھما کر نظریں جُھکائے اپنے مطلوبہ سامان کا انتظار کرنے لگیں۔

جُونہی یہ خَاتون جنکی عُمر تقریباً 40 برس کے قریب ہوگی جنرل اِسٹور پر تشریف لائیں ۔ حیرت انگیز طُور پر اُن واعظ صاحب کا بیان کُچھ ہی لَمحوں میں اِختتام پذیر ہُو گیا۔ میرے نِگاہُوں کا مِحور چُونکہ وہ واعظ صاحب تھے ۔ اِس لئے مجھے بڑی حیرت ہُوئی جب میں نے یہ دیکھا کہ ابھی جُو شخص اللہ کریم اور اُسکے مِحبوب صلی اللہ علیہ وسلم کی باتیں کرتے نہیں تھکتا تھا وہی شخص بڑی ڈھٹائی اور بے شرمی سے اُن خاتون کے جِسم کا طواف اپنی ہَوس ناک نِگاہوں سے کئے جارہا تھا اور اِس بات سے بے خبر تھا کہ میں جو ابھی کُچھ لمحے پہلے اُسکی علمیت اور دُور اندیشی کا قائل ہُوچُکا تھا اُسکی یہ غیر اِخلاقی حَرکت دیکھ کر اپنی سابقہ رائے پر نادم ہُورہا ہُوں۔

چند لَمحوں بعد مجھے ایسا محسوس ہُونے لگا جیسے گِرد اَگِردمیں موجود ہر شخص کی نِگاہُوں کا مِحور صرف اور صِرف وہی خاتون ہُوں۔ میں نے ایک مرتبہ سیدنا اِمامِ غزالی رحمتہ اللہِ الوَالِی کی ایک تحریر پڑھی تھی جسمیں آپ نے انسانی نفسیات اور اُسکی مشاہداتی حِسوں کا تذکرہ کرتے ہُوئے لِکھا تھا کہ ۔ ایسا ممکن نہیں کہ کِسی خاتون کو کوئی مَرد گُھورے یا کوئی عورت کِسی مَرد کو گُھورے اور جِسے گُھورا جارہا ہُو اُسے خَبر نہ ہُوپائے ۔ اور یہاں تُو کِسی ایک شخص کی بات نہیں تھی بلکہ اُس خاتون کو بقولِ شاعر ،، زمانہ گُھور رہا تھا ۔ بلکہ میرا لِکھا ہُوا شعر اِس موقع پر بالکل فِٹ بیٹھ رَہا تھا۔
زمانہ گُھورتا ہے اور نِگاہیں ہیں تَعاقُب میں
نَظر نیچی سہی میری مگر ادراک ہُوتا ہے

اب یہ تُوممکن نہیں کہ اُس خاتون کو اِن نِگاہوں کی چُبھن کا اِدراک نہ ہُوا ہُو لیکن وہ بدستور اپنی نِگاہوں کو جھکائے ہُوئے کاؤنٹر پر موجود اشیاء کو اُلٹ پلٹ کر دیکھنے میں مصروف تھیں۔

اِسی اَثنا میں مسجد سے مؤذن کی اَذان کی صدا بُلند ہُونے لگی ۔ اُس خاتون نے فوراً اپنے سَر پہ موجود دوپٹہ صحیح کیا اور احترام اَذان میں مزید مستعد ہُو گئیں اور جونہی موذٔن نے اِسم مُحمد صلی اللہ علیہ وسلم پُکارا ۔ خاتون نے کَمالِ شُوقِ ادب ا ور حُسنِ عقیدت سے اسمِ مُحمد صلی اللہ علیہ وسلم کو چُوم کر اپنی آنکھوں سے لگا لیا۔

میرے دُوست نے اُن خاتون کا مطلوبہ سامان اور بِل اُن خاتون کو تھما دِیا اور رقم مِلنے کا انتظار کرنے لگا۔ لیکن جب تک اَذان بُلند ہُوتی رہی نہ ہی اُن خاتون نے اپنے ہُونٹوں کو جُنبش دِی اور نہ ہی اپنے پرس میں ہاتھ ڈالنے کی زِحمت گوارا کی۔ البتہ جُونہی اَذان خَتم ہُوئی اُس خاتون نے اپنے ہونٹوں کو جُنبِش دی اور نسبتاً اپنے ہاتھوں کو بُلند کردیا وہ غالِباً اَذان کے بعد دُعا مانگ رہی تھیں دُعا سے فارغ ہُونے کے بعد بِل پر نِگاہ ڈالی اپنے پَرس سے مطلوبہ رقم نِکالی ، رقم میرے دوست کے ہاتھوں میں تھمائی اور اپنے مطلوبہ سامان کے شاپر اُٹھا کر نذدیک کھڑی ایک گاڑی کی جانب بڑھنے لگی۔

چونکہ اَذان مغرب ہُوچُکی تھی اسلئے میں اور میرا دُوست نماز مغرب ادا کرنے کیلئے مسجد کی جانب بڑھنے لگے دُکان سے نِکلتے ہُوئے میری نِگاہ غیر اِرادی طُور پر اُس واعظ پر پڑی تُو مجھے محسوس ہُوا کہ واعظ صاحب ابھی تک ٹکٹکی جمائے اُس خاتون کو جاتا ہُوا دیکھ رہے تھے اور اب باقاعدہ اُنکا سانس بھی پھول رہا تھا جیسے کوئی شخص طویل مُسافت طے کرنے کے بعد ابھی ابھی منزل پر پُہنچاہُو اور اپنی سانسیں دُرست کر رہا ہو۔

جب ہم نماز مغرب ادا کرنے کے بعد واپس جنرل اِسٹور پر پُہنچے تو واعظ موصوف حجام کی دُکان پر شام کے اخبار کا مُطالعہ کر رہے تھے۔ تھوڑی دیر اَخبار کا مُطالعہ کرنے کے بعد وہ واعظ نُما شخص ایک بڑی سی گاڑی میں بیٹھ کر چَل دِیا میں نے مِحسوس کیا کہ اب اُس شخص کا سانس معمول کے مُطابق چَل رہا تھا۔

مغرب کی نماز کے بعد بازار بند ہُونا شروع ہُوگیا میرا دُوست گاہکوں سے فارغ ہُونے کے بعد میرے پاس آبیٹھا اور مجھ سے میری مصروفیت دریافت کرنے لگا۔ میں نے درمیان گُفتگو اپنے دُوست سے اُن خاتون کے متعلق اِستفسار کرتے ہوئے کہا ۔کیا بات ہے تُمہارے بازار میں کیا پہلی مرتبہ کوئی خوبصورت خاتون آئیں تھیں کہ ہر ایک اُس بیچاری کو ایسے دیکھ رَہا تھا جیسے زِندگی میں پہلی مرتبہ کِسی عورت کو دِیکھا ہُو۔

میرے دوست نے پہلے تو میرے سُوال پر ایک قہقہہ بُلند کیا اور اُسکے بعد مجھ سے کہنے لگے عشرت بھائی ایسی کوئی بات نہیں ہے۔ یہ بازار تو قائم ہی خَواتین کی وجہ سے ہیں اگر یہ خریداری کرنا چُھوڑ دیں تو آدھا بازار تو ویسے ہی گاہک نہ ہُونے کی وجہ سے بند ہُوجائے۔

بات دراصل یہ ہے کہ ابھی جُو خاتون مجھ سے سُودا لے کر گئی ہیں یہ آج سے پندرہ برس قبل شہر کی مشہور طوائف تھی اِسکی ایک جھلک دیکھنے کیلئے ہزاروں نِگاہیں بیتاب رَہا کرتی تھیں ہر ایرے غیرے کی تو ہِمت بھی نہیں ہُوتی تھی کہ مُلاقات کرسکے۔ اُس زمانے میں یہ بُہت شُوخ و چنچل ہُوا کرتی تھی۔ پھر نجانے کیا ہُوا کہ اِس نے لوگوں سے مِلنا جُلنا چُھوڑ دِیا بازاروں میں آنا چُھوڑ دِیا۔ پھر کُچھ عرصہ کے بعد ایک ڈاکٹر صاحب سے اِنکا نِکاح ہُوگیا ۔ اور یہ ڈاکٹر صاحب کے گھر میں بیٹھ گئیں ابتدا میں ڈاکٹر صاحب کو لوگوں نے کافی لعنت ملامت کی لیکن آہستہ آہستہ لوگ اِس بات کو بھولتے چلے گئے۔

لیکن عشرت بھائی ایک بات ضرور ہے کہ جب سے اِس طوائف نے گُناہوں کی زندگی سے توبہ اِختیار کی ہے کِسی نے انہیں نِگاہ اُٹھا کر چلتے نہیں دِیکھا۔ اور جِن لوگوں کا ڈاکٹر صاحب کے گھر میں آنا جانا ہے وہ بھی یہی کہتے ہیں کہ اب یہ خاتون گھر میں اکثر نماز و تِلاوت میں مشغُول نظر آتی ہیں۔ اسکے علاوہ علاقے کی خواتین کی مالی امداد ،کیساتھ ساتھ اُنکے مسائل کے حل کے لئے بھی پیش پیش نظر آتی ہیں۔

میرا وُہ دُوست مجھ سے نجانے اور کیا کُچھ کہتا رہا مجھے خَبر نہیں۔ میں تُو اُس وقت یہ سُوچ رَہا تھا کہ ۔ایک طرف وُہ وَا عِظ نُما شَخص تھا جُو دُنیا بھر کی کِتابوں کے مُطالعے کے باوجود بھی نہ اپنی نِگاہُوں میں حَیا پیدا کر سَکا ، نہ ہی اپنے اِخلاق کو سَنوار سَکا ۔ اور نہ ہی اُسکے وسیع مُطالعے سے اُسے نماز کی تُوفیق مِل سَکی۔ اگر کُچھ حاصِل ہُوا تُو صِرف اِحساس برتری کا مَرض ، خُود نمائی اور سب سے ممتاز نظر آنے کا سِفلی جَذبہ۔۔۔۔

جبکہ دوسری جَانِب وہ خاتُون تھی کہ جِسکے ماضی کی وجہ سے کُچھ لُوگ اُسے سابِقہ طَوائف کے طُور پر یاد رَکھے ہُوئے تھے۔ لیکن نہ جانے اُس کی تُوبہ کیسی مقبول تُوبہ تھی کہ جِس نے اُسکے شب و رُوز کو بَدل کے رکھ دِیا تھا ۔میں بے حیا لوگوں کے مُتعلق تُو کُچھ نہیں کہہ سکتا لیکن اتنا یقین کیساتھ کہہ سکتا ہُوں کہ اُس خَاتون کے چہرے پہ جُو تقدس میں نے دیکھا تھا ۔ کِسی شریف النفس اِنسان کو دُوبارہ چِہرہ دیکھنے کی جُرأت نہیں ہُوسکتی تھی۔

یہ کالم لکھتے ہُوئے مجھے مدینے کا وہ تاریخی واقعہ یاد آرہا ہے جہاں ایک عورت دربارِ مُصطٰفی صلی اللہ علیہ وسلم میں اپنے جُرمِ زِنا کا اقرار کر رہی تھی اور رؤف و رَحیم آقا ﷺ اُسے بار بار ٹال رہے تھے یہاں تک کہ اُس نے ایک بچّے کو جَنا پھر ارشاد ہُوا کہ ابھی بچّہ چھوٹا ہے اسے دودھ پِلاؤ مگر نہ جانے کیسی بے چینی تھی کہ مُدت شیر خُواری مکمل ہُونے کے بعد وہ عُورت پھر دربارِ مُصطٰفی صلی اللہ علیہ وسلم میں حاضِر ہُوگئی اور سنگسار ہُوکر پاک ہُونے کی خُواہش ظاہر کی۔ لِہذا اُسے سنگسار کردیا گیا۔ بعدِ سنگسار کریم آقا علیہ السلام نے اِرشاد فرمایا تھا ،، مفہوم،، جیسی تُوبہ اِس خاتون نے کی ہے اگرتمام مدینہ کے گُنہگاروں میں تقسیم کردی جائے تو سب کے لئے کافی ہُوجائے ۔۔۔۔۔۔اً