bing

Your SEO optimized title page contents

Pages

.

.

Tuesday, 18 June 2013

کیسا مسلمان جِن ہے تُو۔۔۔؟


اگرچہ اِرادہ تُو یہی تھا۔کہ،، پنجاب سے واپس آنے کےبعد ہی کالم لکھنے کا سلسلہ دُوبارہ سے شروع کرونگا۔ لیکن آج عین سسٹر سے ڈھیروں باتیں کرنے کے بعد جب  غیر متوقع طُور پر پندرہ منٹ بعد ہی اُنکا میسج موصول ہُوا۔  تب پہلے تو  مجھے بُہت حیرت ہُوئی۔ لیکن پھر میں نے سُوچا کہ شائد عین سسٹر کوئی اہم بات بتانا بُھول گئی ہُونگی۔ جِسے اب لکھ کر بھیج دِیا ہُوگا۔

لیکن جب میں نے میسج کو کھول کر پڑھنا شروع کیا۔۔۔ تب غصے کیساتھ سا تھ  نِدامت نے میرا سَر شرم سے جھکا دیا۔ میری یہ پیاری سی گُڑیا  جیسی بہن جِسے آج سے ایک ماہ پہلے تک میں جانتا بھی نہیں تھا۔ اُور شائد آج دوسری مرتبہ ہی میری اُن سے گفتگو ہُوئی تھی۔۔۔ مجھے وُہ تکلیف دِہ کہانی لکھ کر بتا رہی تھی۔کہ بھیا،، اگرچہ تمہاری یہ بِہن تمہاری طرح ہی حالات سے لڑنا جانتی ہے۔۔۔ لیکن آجکل یہ ایک ایسی تکلیف دِہ زِندگی گُزارنے پر مجبور ہے۔۔۔ جِسکا تذکرہ کوئی  بھی بِہن اپنے بھائی سے آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر نہیں کرسکتی۔

عین سسٹر نے میسج میں لکھا تھا۔کہ ایک جِن کافی عرصہ سے مجھے ستا رہا ہے۔ ۔۔ جب بھی کِسی رشتہ کی ترکیب بننے لگتی ہے۔ یہ سرکش جِن اِس رِشتہ میں خرابی پیدا کردیتا ہے۔ جِسکے بعد وُہ رِشتہ خُود بخود ہی  پنپنے سے قبل ہی مُرجھاجاتا ہے۔۔۔ جب میں نے پہلی مرتبہ آپ سے رابطہ کیا تب آپ نے مجھے ایک وظیفہ پڑھنے کیلئے دِیا تھا۔ میں نے جیسے تیسے وظیفے کی ابتدا تُو کردی۔ لیکن میرے وظیفہ  شروع کرتے ہی اُس نے مجھے زمین پر دھکا دے دیا۔

اُور پھر  وُہ جِن زادہ مجھے مخاطِب کرکے کہنے لگا۔۔۔ تُم کیا سمجھتی ہُو۔کہ تُم وظیفہ پڑھنے میں کامیاب ہُوجاوٗگی۔ اُور میں تماشائی بن کر دیکھتا رَہونگا۔ عشرت وارثی تمہاری مدد کرے گا۔ اُور تمہیں  مجھ سے چُھڑا لےجائے گا۔۔۔سُنو میں  تمہیں کوئی وظیفہ نہیں پڑھنے دُونگا۔ کان کھول کر سُن لُو نہیں پڑھنے دُونگا۔ اُور یہ لیمن اپنے  جسم سے دُور کردو۔ دُور کردو اِنہیں کچھ نہیں ہُوتا اِن لیمووٗں سے۔۔ میں عشرت وارثی سے نہیں ڈرتا۔۔۔کیا ہُوا کہ،، وُہ مسلمان عامل ہے۔۔۔ عامل تُو میں بھی ہُوں۔ اُور مسلمان بھی ہُوں۔اُورکس کی مجال ہے کہ،، وُہ میرے شِکار کو مجھ سے لے جائے۔۔۔ تم صِرف میری ہُو۔اُور ہمیشہ میری ہی رَہوگی۔

میری پیاری عین  بہنا! میں اِس موضوع پر بعد میں بات کرونگا۔کہ،، وُہ آپکو بار بار یہ کیوں کہہ رَہا تھا۔ کہ،، مجھے عشرت وارثی سے کوئی خوف نہیں ہے۔ اُور یہ لیمن بیکار ہیں۔ اِسلئے اِنہیں پھینک دُو۔۔۔۔۔۔۔ لیکن اِس تحریر کے توسط سے پہلے میں چند باتیں اُس جِن زادے سے کرنا چاہتا ہُوں۔۔۔ اے کاش  اگر وُہ واقعی مسلمان ہے۔ تُواِس کی سمجھ میں میری بات آجائے۔ ورنہ پھر اِسکا بھی وہی عبرتناک حشر ہُوگا۔ جو لاکھوں سرکشوں کا ہُوچُکا ہے۔

سُنو  اے سرکش جِن زادے،، تمہیں واقعی عشرت اقبال وارثی سے ڈرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ کیونکہ عشرت وارثی بھی تُمہاری طرح ایک عاجز اُور گنہگار  بندہ ہے۔۔۔ لیکن تُم نے کہا ہے کہ،، تم مسلمان جِن ہُو۔ تو کیا تمہیں خُدا کا خوف بھی نہیں رَہا۔۔۔ سُنو!!! کتنی عجیب بات ہے۔کہ،، تُم خود کو مسلمان کہتے ہُو۔ یعنی خُود کو نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم کا غلام کہتے ہُو۔۔۔۔ کیا ایک مسلمان عورت کو تنگ کرتے ہُوتے تمہیں ایکبار بھی اپنے کریم آقا علیہ السلام کی بارگاہ میں حاضر ی کا سُوچ کر شرم نہیں آئی۔۔۔۔؟ خُوفِ خُدا شرمِ نبی۔۔۔ یہ بھی نہیں وُہ بھی نہیں۔۔۔؟

چلو مان لیتا ہُوں۔کہ،، تُم گناہ کی نیت سے عین سسٹر کو تنگ نہیں کرتے ہُونگے ۔۔۔ محبت کے جذبے سے مجبورِ محض ہوگے۔۔۔ تب تُم ہی کہو۔کہ،، کیا تمہارا عمل تمہارے دعوے کی نفی نہیں کرتا۔۔۔کہ جو آنکھ کو بھلے لگتے ہُوں۔ جُو دِل میں سماتے ہُوں۔ اُنکی راہ میں تو پھول بِچھائے جاتے ہیں۔ کانٹے نہیں بکھیرے جاتے۔۔۔ پھر تُم تو مسلمان ہُو۔۔۔ تب تُم کو شریعتِ محمدی صلی اللہ علیہ وسلم کا پاسبان ہُونا چاہیئے۔۔۔ اُور مجھے بتاوٗ۔ قُولِ مُصطفٰے صلی اللہ علیہ وسلم کی وُہ کونسی کڑی ہے۔ اُور احادیث طیبہ کے کِس مجموعے میں موجود ہے۔۔۔ کہ،،جسکی بنا پر ایک انسانی عورت ایک جِن کی منکوحہ بن سکتی ہے۔۔۔ یا کوئی مرد کسی جنّی سے نِکاح کرسکتا ہے۔۔۔؟ چُونکہ دعویٰ تُم نے مسلمانی کا کیا ہے۔ ۔۔ لہذا دلیل بھی تُم ہی لاوٗ۔۔۔ جو کہ تُم کبھی نہیں لاپاوٗگے۔

اِسلئے بحیثیت مسلمان میں تُم کو ایک موقع مزید دیتا ہُوں۔ کہ،، اپنی اصلاح کرلو۔ اُور میری مسلمان بہن کے گھر سے ہمیشہ ہمیشہ کیلئے چلے جاوٗ۔۔۔ کیونکہ صرف تمہارا عامل ہُونا تمہیں بچا نہیں پائے گا۔۔۔ میرا واسطہ ایسے بیشمار عامل جِنوں  اُور جِنیوں سے پڑ چکا ہے۔ جنکے دعوے بڑے بُلند تھے۔۔۔ لیکن جُونہی میں نے اُنکی شکایت دربار ِ غوثیہ میں لگائی۔۔۔ اُنکی   ناک ہمیشہ ہمیشہ کیلئے خاک آلودہ ہُوگئی۔۔۔

سُنو تم پہلے جِن نہیں ہُو۔ کہ جس نے مجھے مقابلے کیلئے للکارا ہُو۔ بیشمار ّآئے اُور ذِلت اُنکا مُقدر ٹہری۔۔۔ لیکن تُم نے مسلمان ہُونے کا دعویٰ کیا ہے۔ اِس لئے تمہیں ایک موقع اِس نسبت کی وجہ سے ضرور دینا چاہتا ہُوں۔ تاکہ بعد میں سند رہے۔۔۔  اِس تمام نصیحت کو سننے کے بعد بھی اگر تُم اپنی ضد پر قائم ہو۔۔۔۔ تو پھر کم از کم مردانگی دِکھاوٗ۔۔۔ اُور ایک کمزور عورت کو اپنی طاقت دِکھانے کے بجائے مجھ سے مقابلہ کرو۔۔۔ یا تُم میرے شہر میں آجاوٗ۔۔۔۔ ورنہ میں تُم سے مِلنے کیلئے آجاتا ہُوں۔میں چونکہ نِسبتوں کا غلام ہُوں۔ اِسلئے تمہیں بھی نسبت کی دعوت دیتا ہُوں۔کہ،، اپنی نسبت کو پہچانو۔ مسلمان عورتوں کو دیکھ کر اپنی رال ٹپکانے کے بجائے اُنکے محافظ و نِگہبان بن جاوٗ۔۔۔۔ تاکہ کل حشر کے میدان میں خُدا ۔و۔ مصطفٰے صلی اللہ علیہ وسلم کے حضور پیش ہُوتے وقت تُمہارا سر نِدامت سے جھکا ہُوا نہ ہُو۔۔۔کہ،، یہ زندگی فانی ہے۔۔۔ یہاں ہمیں دُعاوٗں کی ضرورت ہے بددُعاوٗں کی نہیں۔۔۔  نجانے کیوں مگر میرا دِل کہتا ہے۔کہ،، تُم پر میری نصیحت ضرور اَثر کرے گی۔ اُور تُم ظُلم چھوڑ کر میرے دست و بازو بن جاوٗ گے۔۔۔ آگے تمہارا مقدر ہے۔۔۔کہ،، جنکے نصیب میں ہدایت لکھی جاچُکی ہُوتی ہے۔نصیحت بھی صِرف وہی قبول کرتے ہیں۔۔۔والسلام

عین سسٹر اب کچھ باتیں میں آپ سے بھی کرنا چاہونگا۔۔۔۔ میں آپکو ۲ واقعات سُنانا چاہتا ہُوں۔۔۔ تاکہ آپ  کے ساتھ میری دُوسری اسلامی بہنوں کی سمجھ میں بھی آجائے کہ،، اُن لیموں اُور اِن وظائف کی کیا طاقت ہے۔۔۔ اُور کسی کو للکارا کب جاتا ہے۔۔۔۔ میری بہن ہمیشہ یاد رکھنا۔۔۔ للکارا صرف اُسے جاتا ہے۔جو اعصاب پر سوار ہُوجائے۔۔۔ اُور اگر یہ لیمن اتنے ہی بے اثر ہُوتے۔ تو اِنہیں ہٹانے کی نامعقول فرمائش کیوں کی جاتی ہے۔۔۔؟ 

ہمارے شہر میں ایک کاروباری  نوجوان پر ایک غلیظ اُور  نہایت طاقتور  کافِرہ جِنی مسلط ہُوگئی۔ اُس نوجوان کے بقول اُس نے پاکستان کے بڑے سے بڑے عامل کو خوب رقمیں دیں۔ یہاں تک کہ،، وُہ قلاش ہُوگیا۔ ۔۔لیکن ہر ایک عامِل نے بلآخر اُس سے معذرت کرلی۔کہ،، یہ میہڑی ہمارے بس کی نہیں ہے۔۔۔ جب اُس کے پاس دینے کیلئے رقم نہ رہی تو عامل حضرات نے بھی رفتہ رفتہ اُس نوجون سے مُنہ پھیر لیا۔پھر اُس نوجون کو کسی نے میرا پتہ بتادِیا۔

جب وُہ نوجون پہلی مرتبہ میرے پاس آیا تب ٹھیک ٹھاک بِھیڑ  بھی اُسکے ساتھ تھی۔۔۔میں نے جب بِھیڑ کا سبب معلوم کیا۔ تو اُن لوگوں نے مجھے بتایا کہ ایک مُدت سے یہ نوجوان اپنے گھر سے تنہا باہر نہیں نِکلتا۔۔۔ کیونکہ جیسے ہی نوجوان تنہا ہُوتا ہے۔ وُہ میہڑی اپنی غیلظ خواہشات  کے ہاتھوں مجبور ہُوکر اِسے ناپاک کردیتی ہے۔۔۔ بہرحال میں نے علاج کی حامی بھرلی۔۔۔ اُور لیمن دَم کردیئے۔۔۔ وُہ نوجوان تیسرے دِن ہی میری فیکٹری پر  اپنے بھائیوں کے ساتھ پھر چلا آیا۔ میں نے سبب معلوم کیا۔ تُو اُس نوجوان نے کہا۔کہ،، وُہ میہڑی آجکل بُہت غصے میں ہے۔۔۔ مجھ پر  مسلسل حملے بھی کررہی ہے۔۔۔ اُور آپکو گالیاں بھی بُہت دیتی ہے۔ اُسکا کہنا ہے۔کہ،، عشرت وارثی تو میرے سامنے ایک بچے سے ذیادہ حیثیت نہیں رکھتا۔ اگر تُم نے لیمن نہیں ہٹائے تو نہ صِرف میں تمہیں قتل کردونگی۔ بلکہ عشرت وارثی۔۔۔۔۔۔۔۔ کے بھی ایسا ڈنڈا کرونگی کہ،، علاج چھوڑ کر اپنے  بچوں کی فکر میں لگ جائے گا۔

وُہ اتنا سیدھا  ساد بندہ تھا۔کہ اُس نے تمام گالیاں میری فیکٹری پر آئے ہُوئے مہمانوں کا لِحاظ کیئے بغیر اُن کے سامنے من وعن بیان کرڈالیں۔۔۔مجھے حیرت تھی۔کہ،، وُہ میہڑی لیمن کے حصار کو توڑ کر اُس نوجوان تک کیسے پہنچ گئی۔۔۔۔ گالیوں کی بھی خیر تھی۔۔۔ لیکن اُس نے میرے بچوں کو نِشانہ بنانے کی بات کی تھی۔۔۔ نجانے  اچانک مجھے کیا ہُوا۔کہ،، میں نے فوراً نوجوان کے گھر جانے کا فیصلہ کرلیا۔ کیونکہ اُس میہڑی نے دعویٰ کیا تھا۔ کہ،، عشرت وارثی اپنی فیکٹری اُور گھر میں حِصار لگائے بیٹھا رِہتا ہے۔ عشرت وارثی سے کہو۔کہ،، اگر مرد بچہ ہے تُو تمہاری چُوکھٹ عبور کرکے دِکھائے۔۔۔ میں نے  الحمدُ  للہ  وُہ چوکھٹ بھی عبور کی اُور اُسے مقابلے کی دعوت بھی دِی۔۔۔لیکن وُہ شہر سے فرار ہُوچکی تھی۔۔۔


 دُوسرے دِن وہی نوجوان پھر  چند لوگوں کیساتھ میری فیکٹری چلا آیا۔ اُور مجھے بتانے لگا۔کہ،، رات وُہ میہڑی پھر آئی تھی۔۔۔ لیکن کل رات اُسکے لہجے میں التجا تھی۔۔۔ اب وُہ کہہ رہی ہےکہ،، مجھے عشرت وارثی سے کچھ لینا دینا نہیں ہے۔ وُہ اپنی جگہ صحیح ہے۔ میں اُس سے لڑنا نہیں چاہتی۔۔۔لیکن میں یہاں سینکڑوں برس سے رہتی چلی آئی ہُوں۔۔۔ میں تُمہیں بے شُمار دُولت سے نواز دُونگی۔۔۔ اُور تمہارے تمام نقصان کا اِزالہ بھی کردونگی۔۔۔بس تُم یہ لیمن اِس گھر سے نِکال دُو۔۔۔

میں نے حیرت سے کہا،، جب وُہ لیمن کے ہُوتے ہُوئے بھی تمہارے گھر میں داخل ہُوجاتی ہے۔ تو پھر لیمن نکلوانے کی ضد کیوں کررہی ہے۔۔۔؟ تب اُس  نوجوان نے بتایا۔کہ عشرت بھائی پہلے دِن میں بُہت ذیادہ ہراساں تھا۔تب مجھے ایسا لگا تھا۔کہ،، جیسے وُہ میرے گھر میں داخل ہُوگئی ہُو۔۔۔ لیکن کل جُونہی وُہ پھر پلٹ کر آئی۔تو میں نے آپکے دئیے ہُوئے وظائف پڑھنے شروع کردیئے۔جسکی وجہ سے میرے اُوسان بحال رہے۔ اُور مجھ پر یہ بھی انکشاف ہُوا۔کہ ،، اب وُہ گھر میں داخل نہیں ہُوپارہی ہے۔ بلکہ گھر کی دہلیز سے باہر کھڑے ہُو کر مجھ سے باتیں کرتی ہے۔اُور مجھے محسوس ہُورہا تھا۔کہ،، اب اُسکا جسم بھی کافی لاغر نظر آرہا تھا۔۔۔ جیسے اُسے کوئی خطرناک بیماری لگ گئی ہُو۔۔۔

تب میں نے اُس نوجوان کو سمجھایا۔کہ،، اب آپکو اُس سے ڈرنے کی چنداں ضرورت نہیں ہے۔۔۔ آپ  کے گھر میں دَم کئے ہُوئے لیمووٗں نے حِصار قائم کررکھا ہے۔ جسکی وجہ سے وُہ آپکو یہ محسوس ضرور کرواسکتی ہے۔کہ،، وُہ اب بھی آپ کے گھر میں داخل ہُوسکتی ہے۔ اُور آپکے جِسم سے کھیل سکتی ہے۔۔۔لیکن یہ صرف دماغی کنٹرول ہے۔۔۔ جِسے آج کے زمانے میں ٹیلی پیتھی کہا جاتا ہے۔ جِس میں معمول کو سمجھانے کی کوشش کی جاتی ہے۔کہ،، جو کچھ اُسکو دِکھائی دے رَہا ہے۔ وُہ ایک حقیقت ہے۔۔۔ حالانکہ وُہ صرف ایک شعبدہ بازی ہے۔۔۔ کیونکہ اللہ کریم کے کلام پاک کی برکت سے اُن لیمن سے ایسی الٹرا ریز نکل کر حِصار قائم کرلیتی ہیں۔۔۔ جن کے قریب آتے ہی طاقتور سے طاقتور جنات ہلاک ہُوجاتے ہیں۔۔۔ اسلئے اُن کی کوشش ہُوتی ہے کہ،، معمول کو  کسی بھی طرح یہ یقین دِلا دیا جائے کہ،، یہ لیمن اُنکا کچھ نہیں بِگاڑ سکتے۔۔۔ اُور جُو لوگ اُنکے دام میں آکر لیمن گھر سے نِکال دیتے ہیں۔۔۔ یہ پھر اُن پر اپنا تسلط قائم کرلیتے ہیں۔۔۔۔ الحمدُ للہ آج وہی نوجوان جو زمانے بھر کی بھیڑ اپنے ساتھ رکھ کر چلتا تھا۔۔۔ آج  مارکیٹنگ  کے شعبے سے وابسطہ ہے۔۔۔ اُور لُوگ آج اُسے دیکھ کر حیرت کرتے ہیں۔۔۔۔کہ جُو شخص ایک انڈہ خریدنے بھی محلہ میں تنہا نہیں جاتا تھا۔آج  مارکیٹنگ کی وجہ سے بعض اُوقات رات کے وقت بھی  شہر سے باہر تنہا نِکل جاتا ہے۔


دُوسرا واقعہ قریباً ۹۰۰ برس قبل کا واقعہ ہے۔ایک تاجر  مُلک با مُلک تجارت کی غرض سے جایا کرتا تھا۔ ایک مرتبہ وُہ تجارت کا سامان لیکر عجم کے کسی شہر میں پُہنچا۔ وہاں پُہنچ کر اُسے معلوم ہُوا۔کہ،، اُس کے پاس جو سُودا ہے۔اُس کیلئے یہ ایک زبردست منڈی ہے۔ لیکن وہاں کوئی ایسا شخص نہیں تھا۔جو اُسکا تمام سامان یکمشت خرید لیتا۔۔۔ تاجر نے سُوچا کیوں نہ وُہ تمام سامان بجائے کسی بڑے تاجر کے ہاتھوں فروخت کرنے کے چھوٹے دوکانداروں کو یہ تمام سامان فروخت کردے۔کہ،، ایسا کرنے سے نفع کئی گنا ہُونے کا اِمکان تھا۔ لِہذا اُس تاجر نے سامان کو محفوظ کرنے کیلئے ایک بڑے مکان کی تلاش شروع کردی۔۔۔کافی کوشش کے بعد اُسے ایک کشادہ مکان کے متعلق معلوم ہُوا۔مگر اُس مکان کیلئے شہر میں یہ بات مشہور تھی۔کہ اِس مکان میں کوئی بھی شخص ایک سے ذیادہ دِن نہیں ٹہرپایا ہے۔۔۔۔ جُو بھی شخص یہ مکان لیتا ہے۔ وُہ یا تو رات میں ہی شہر چھوڑ کر بھاگ جاتا ہے۔ یا پھر دوسری صبح اُسکی لاش ہی اُس مکان سے برآمد ہُوتی ہے۔یہ خوفناک کہانی سُننے کے باوجود بھی اُس تاجر نے وُہ مکان حاصِل کرلیا۔

رات  جب شہر کے لُوگوں کے سمجھانے کے باوجود  بھی تاجر نہیں مانا۔ اُور اُس خوفناک مکان میں داخل ہُوگیا۔ تو لوگوں کا خیال تھا۔کہ،، یا تو تاجر رات میں ہی اپنا تمام اسباب چھوڑ کر فرار ہُوجائے گا۔یا اپنے تمام سامان کے ساتھ صبح مردہ دِکھائی دیگا۔ لیکن لوگوں کی یہ خاہش پُوری نہ ہُوسکی۔۔۔ اُور وُہ تاجر صبح نماز فجر پڑھنے کیلئے مسجد چلا آیا۔۔۔لوگوں نے اُس سے بُہت ذیادہ استفسار کیا لیکن اُس نے کسی کو کچھ نہیں بتایا۔ یہاں تک کہ،، اُس تاجر کا تمام سامان فروخت ہُوگیا۔ اب تاجر کی خاہش تھی۔کہ،، شہر کا کوئی متمول شخص اُس سے وُہ مکان خرید لے۔ تاکہ،، وُہ واپس اپنے وطن کو لُوٹ سکے۔ لیکن تمام شہر میں اُس مکان کی اتنی کہانیاں مشہور تھیں۔جسکی وجہ سے کوئی بھی شخص وُہ مکان خریدنے کیلئے رضامند نہیں تھا۔

مجبور ہُوکر تاجر نے اعلان کردیا ۔ کہ،، جُو بھی شخص مجھ سے یہ مکان خریدے گا۔ میں اُسے اِس مکان اُور اپنی کامیابی کا راز بتادُونگا۔۔۔ یہاں تک کہ وَہی شخص جسکا یہ آبائی مکان تھا۔ اِسےخریدنے کیلئے رضامند ہُوگیا۔ تب اُس تاجر نے  سابقہ مالک مکان کو وُہ راز بیان کرتے ہُوئے بتایا۔ کہ،، جب پہلی رات میں اُس مکان میں گیا۔۔ تو مجھے رات کے آخری پہر اچانک  ایک لحیم شحیم  نوجوان نظر آیا۔ میں سمجھ گیا۔کہ،، وُہ کوئی جِن ہے۔۔۔ میں نے اپنے خُوف پر قابو پاتے ہُوئے آیتہ الکرسی پڑھنا شروع کردی۔۔۔۔ اچانک وُہ جِن قہقہے لگانے لگا۔۔۔جسکی وجہ سے میں  ڈر کر خاموش ہُوگیا۔ تب اُس جن نے مجھے کہا ۔کہ یہاں سے فوراً بھاگ جاوٗ۔ ورنہ میں ابھی تُم کو ہلاک کردُونگا۔۔۔۔۔ میں نے پھر آیتہ الکرسی پڑھنا شروع کردی۔۔۔ لیکن مجھے شدید حیرت کا جھٹکا لگا۔۔۔جب میں نے اُس جن کو بھی سینے پر ہاتھ باندھے آیتہ الکرسی پڑھتے دیکھا۔۔۔۔ مجھے  حیران دیکھ کر وُہ جِن مُسکرا کر کہنے لگا۔۔۔نادان انسان اِن وظیفوں کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔کیونکہ میں خود بھی ایک عامِل جِن ہُوں۔۔۔ تبھی  کسی نے مجھے سرگوشی کرتے ہُوئے کہا۔ اِس کمبخت کے ،،دام،،  میں مت آنا۔ تُم آیتہ الکُرسی مکمل کرو۔ میں نے دُوبارہ آیتہ الکرسی کا ورد شروع کردیا۔۔۔ وُہ جن پھر ہنستے ہُوئے میرے ساتھ ساتھ پڑھنے لگا۔میرا یقین کمزور ہُونے کو تھا۔کہ،، مجھے پھر وہی سرگوشی سُنائی دی۔۔۔ اِس کی جھانسے میں مت آوٗ ۔آیتہ الکرسی مکمل کرو۔ مجھے اُس غیبی آواز سے تقویت حاصِل ہُوئی ۔کہ چلو میں یہاں تنہا نہیں ہُوں۔۔۔ اُور جیسے ہی میں،، وَلَا یَوُٗدُہُ حِفْظُھُمَا وَ ھُوَ الْعَلِیُّ الْعَظِیْمُ،، کے نذدیک پہنچا تو وُہ جن میری منتیں کرنے لگا۔کہ،، خدا کے واسطے رُک جاوٗ۔۔۔ لیکن میں جانتا تھا۔کہ اگر میں رُک گیا۔ تو وُہ مجھے بھی ہلاک کردے گا۔ لہذا میں نے یہ آخری آیت پڑھ ڈالی۔ اُور جیسے ہی میں نے یہ آخری آیت پڑھی اُس کے جِسم میں آگ لگی گئی۔ اُور وُہ خبیث جِن جو کہ خُود کو عامل کہہ رَہا تھا ہلاک ہُوگیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میرے خیال میں سب کی سمجھ میں بات آگئی ہُوگی۔۔۔۔

کوئی بھی جِن جب تک طاقتور ہُوتا ہے۔ جب تک کہ معمول خود کو کمزور سمجھتا ہے۔ جونہی معمول کو اپنی نسبت اُور اپنی طاقت کا علم ہُوجاتا ہے۔ ایک نہیں ہزاروں جِن بھی دُم دَبا کر بھاگ لیتے ہیں۔۔۔(عشرت  اقبال وارثی)

Friday, 7 June 2013

کُتا اُور اِنسان۔۔۔


کیا آپ جانتے ہیں۔کہ،، اِنسان اُور کُتے کا ساتھ اِتنا ہی قدیم ہے۔ جتنا کہ،، حضرت اِنسان قدیم ہے۔۔۔۔۔؟ 
مجھے لگتا ہے۔کہ،، اکثر لُوگ میری بات پڑھ کر چُونک اُٹھے ہُونگے۔۔۔ اُور کئی لُوگ یہ بات بھی سُوچ رہے ہُوں گے۔کہ،، بھلا انسان اُور کُتے میں ایسی کیا بات مُشترک ہُوسکتی ہے۔کہ،، دُونوں ہی ایک جیسے قدیم ہُوں۔۔۔

چلئے میں آپکی مشکل کو آسان بنانے سے قبل آپکو تھوڑا سا مزید حیران کردُوں۔۔۔ جی ہاں مزید حیران۔۔۔ اُور وُہ اسطرح کہ،، کے نا صرف حضرت انسان اُور کتا ایک زمانہ، ایک مقام، میں پیدائش  کے عمل سے گُزرے ہیں۔۔۔۔بلکہ۔۔۔ حضرت انسان اُور کتے  کا خمیر  بھی ایک  ہی مَٹی سے اُٹھا  ہے۔۔۔۔ مجھے لگتا ہے۔کہ،، کچھ قارئین کا ذہن اُلجھنے لگا ہُوگا۔۔۔ اُور  ہُوسکتا ہے وُہ سُوچ رہے ہُوں۔کہ شائد اِرشاد بھائی کے ذہن میں گرمی چڑھ گئی ہے۔ جسکی وجہ سے اپنے دوسرے ہی کالم میں بہکی بہکی گفتگو کرنے لگے ہیں۔۔۔ تو چلیئے دُوستوں! میں سسپنس ختم کئے دیتا ہُوں۔ اُور حضرت انسان  سیدنا آدم علیہ الصلواۃ والسلام کی پیدائش کا واقعہ سُناتا ہُوں۔ تاکہ آپ لوگوں کی تشفی بھی ہُوجائے ۔ اُور میلادِ آدم پڑھنے سے ہم سب برکتوں سے بھی مالا مال ہُوجائیں۔کہ،، انبیاٗ کرام کا تذکرہ قلب کی سیاہی کو دُور کرنے کے لئے اکسیر ہے۔ اُور یہ ذکر انسان کو ہمیشہ باادب رہنے میں معاونت بھی فراہم کرتا ہے۔

روایت ہے کہ،، جب سیدنا آدم علیہ السلام کا  خمیر مقدس خاک اُور جنت کے پانی سے گُوندھ کر ایک جسم کی شکل میں تیار ہُوگیا۔۔۔ اُور سیدنا آدم علیہ السلام کی پیشانی کو نُورِ مُصطفی صلی اللہ علیہ وسلم سے سجا دیا گیا۔ تب فرشتوں اُور شیطان کو حُکم مِلا کہ،، آدم علیہ السلام کے جَسد خاکی کو سجدہ تعظیمی کیا جائے۔۔۔

لیکن سجدہ کرنے کیلئے تو جھکنا پڑتا ۔۔۔ اُور تعظیم کرنا تو اپنی برتری کے خاتمے کا نام ہے۔۔۔۔ سُو یہ سعادت فرشتوں کے نصیبوں کو ارجمند کرگئی۔ اُور ابلیس اپنی قابلیت کو دیکھ کر  تکبر اُور اپنی اَزلی بدبختی کے سبب تعظیم کی نعمت سے محروم رِہ گیا۔ فرشتوں نے جب یہ معاملہ دیکھا کہ،، جسے رَبّ کے فضل سے معلم بننے کی سعادت مِلی تھی۔ وُہ اکڑ کے باعث محروم رہا۔۔۔۔ اُور حکم کی تعمیل ہمارے  حصے میں آگئی ہے۔ تو فرشتوں نے ایک مزید سجدہ شکرانے کی خاطر ادا کیا۔۔۔ جبکہ شیطان یہ سمجھ ہی نہیں پایا۔کہ حکم تو ادب پر بھی فوقیت رکھنے والا عمل ہے۔ اُور یہی سبق تو وُہ ملائک کو ہزار بار پڑھا چکا تھا۔ لیکن۔ جب اپنی باری آئی تو ۔۔۔ جاہلوں کی طرح تاویلوں کی تلاش میں نِکل پڑا۔

شیطان  کی اِس جراٗت کی وجہ سے  اللہ عزوجل نے شیطان کو مَردُود، محروم،  نامرادی اُور  لعنت کے طُوق کیساتھ عرش کی رِفعتوں سے نِکل جانے کا حُکم اِرشاد فرمادیا۔۔۔ شیطان نے جب یہ سمجھا کہ،، حضرت انسان کی وجہ سے آج اِسے اپنے منصب سے ہاتھ دُھو کر نہایت ذِلت کیساتھ عَرش کی رِفعتوں سے نِکلنا پڑ رَہا ہے۔۔۔ تو اِس مردود نے   حسد کے غیض میں جلتے ہُوئےنہایت
،، حقارت سے،، سیدنا آدم علیہ السلام کے مُبارک جسم پر تھوک دِیا۔۔۔ فرشتے شیطان کی اِس جراٗت پر حیران تھے۔۔۔۔ کہ،، نافرمانی کا طُوق اپنی جگہ۔۔۔ لیکن حسد کی آگ نے شیطان کو یہ بھی سمجھنے کا موقعہ نہیں دیا۔۔کہ،، وُہ اپنا غلیظ تھوک ڈال کس ہستی پر رَہا ہے،، کہ،، جسکی پیشانی  نورِ مُصطفی صلی اللہ علیہ وسلم اُور،، لقد خلقنا الانسان فی احسنِ تقویم کے جلی حروفوں سے جگمگا رہی تھی۔۔۔۔

فرشتوں نے اپنی معصوم زُبانِ حال سے دریافت کیا،، اے ہمارے پروردیگار یہ تیرے محبوب بندے کا جسم ہے،، جِس پر شیطان نے اپنا ناپاک و غلیظ تھوک اُنڈیل دِیا ہے۔ اِس نجاست کا کیا کریں۔۔۔۔؟ اِرشاد باری تعالی ہُوا۔کہ،، اِس نجس تھوک کو میرے آدم کے جسم سے اُٹھا لیا جائے۔۔۔ چناچہ معصوم جماعتِ ملائک  نے معصوم نبی علیہ السلام کے شِکم پر پڑے شیطان کے نجس تھوک کو احتیاط سے اُٹھالیا۔ لیکن کچھ تھوک آپکے مطہر شکم کی مَٹی میں جذب ہُوچُکا تھا۔۔۔ اسلئے تھوک کے ساتھ کچھ مٹی بھی اِس مبارک مقام سے نِکل آئی۔۔۔ اب فرشتے پھر حیران تھے۔۔۔کیونکہ نجس و غلیظ رال  میں متبرک اُور منور و مطہر خاک آدم کے اجزاٗ بھی شامل ہُوچکے تھے۔ عرض کرنے لگے،، اے رَبّ ِمحمد صلی اللہ علیہ وسلم اَب اِس پاکیزہ مٹی اور نجس رال کا کیا کریں ۔ جو کہ،، ایک مرکب کی شِکل اِختیار کرچکی ہے۔۔۔ اللہ کریم نے کُن اِرشاد فرمایا۔ تب اِس  پاکیزہ مٹی اور شیطانی رَال کے مُرکب سے کُتے کی تخلیق نمودار ہُوئی۔

لِہذا تمام جانوروں میں  کُتا ہی وُہ جانور ہے۔ جو انسانوں سے بے پناہ اُنسیت محسوس کرتا ہے۔۔۔ ایک ایسا جانور جِسے مالک لاکھ دُھتکارے تب بھی وُہ مالک کا آستانہ نہیں چھوڑتا ہے۔۔۔ اگر مالک پر کوئی حملہ کردے۔ تو یہ کُتے کی ہی خاصِیت ہے کہ،، وُہ اپنی جان بھی وار کر اپنے مالک سے آخری دَم تک وفا نِبھاتا ہے۔۔۔۔لیکن اِسکے خمیر میں شیطان کی رال آج بھی موجود ہے۔ جسکی وجہ سے اسلام میں شوق کی خاطر کُتا پالنا حرام ہے۔ اُور شائد یہی وجہ ہے کہ،، جِس گھر میں کتا موجود ہُوتا ہے۔۔۔ آج ۔۔بھی ملائکہ اُس گھر میں داخل نہیں ہُوتے۔

لیکن کتنے ظلم کی بات ہے۔کہ،،  جب اللہ کریم نے احسن تقویم کا تاج حضرت انسان کے سر پہ رکھ دیا۔ اب اگر کوئی لفاظی کا سہارا لیتے ہُوئے اُسی احسن تقویم کو کتے سے تعبیر کرے۔۔۔ یا کسی انسان کو کتا کہہ کر مُخاطب کیا جائے۔ صرف اِس لئے کہ،، وُہ آپکو پسند نہیں آتا۔تب آپ قلم ،،جو کہ اللہ کریم کا انعام ہے۔ اِس انعام کا غلط استعمال کررہے ہیں ۔جسکا جواب بھی ایک دِن آپ ہی کو دینا ہُوگا۔۔۔ لیکن ایک بات تو ہے۔۔۔ بڑے بڑے اولیاء کرام و بزرگان دین نے کُتے کی وفاداری کی وجہ سے خُود کو سگ کہنے میں عزت تلاش کی ہے۔۔۔ اگر میں بھی اپنے مُرشدی عطار کا کُتا کہلاوٗں  یا اپنے اُستاد من عشرت وارثی کے دَر کا سگ بن جاوٗں۔۔۔ تو میری آنے والی نسلیں بھی اِس تمغے پر سَدا  ناز کرتی رہیں گی۔۔۔ کیوں کہ مجھے ایسی بکری بننا ہرگز پسند نہیں ہے۔ جو مطلب نِکل جانے پر اپنے ہی مالک کے پیٹ میں سینگ ماردے۔۔۔ اِس سے تو بہتر ہے۔ کہ میں کُتا ہی کہلاوٗں۔۔۔ اور اپنے مرشد و اُستاد کا ہمیشہ وفادار رَہوں۔۔۔آمین۔۔۔آمین۔۔۔آمین۔۔

لکھنے میں اگر کچھ غلطی رِہ گئی ہُو۔تو اپنے رب سے معافی کا طلبگار ہُوں۔۔۔ اُور اُمید کرتا ہُوں کہ،، اُستادِ من پبلش  کرنےسے قبل نظر کرم فرماتے ہُوئے اِسے نِکھار دیں گے۔

آپکا: محمد ارشاد محمود عطاری(وارثیٰ)

قادیانیوں سے دوستی کیسی ؟؟؟


قادیانی مُرتدین جماعت کا نام ہے۔ اورانکا مذھب  اِسلام نہیں بلکہ قادنیت ہے۔ یہ مسلمانوں کو دُھوکہ دینے کیلئے  خُود کو عام طور پر مرزائ اور احمدی کہتے ھیں۔۔۔ مگر میں تو ان خبیثوں کو احمدی کھنے کے حق میں نھیں ہُوں۔ کیونکہ احمد تو ھمارے نبی پاک صلی الله تعالی علیہ وآلہ وبارک  وسلم کا آسمانی اِسم مبارک ہے۔
.
قادیانیوں کا لیڈر غلام احمد  ملعون  تھا  جسکا تعلق قادیان سے تھا۔  جو کہ مسلمانوں کا ایک بُہت بڑا غدار تھا۔ اس نے ١٨۵٧ کی جنگ آزادی میں انگریزوں کی بُہت حمایت اور مدد کی تھی۔۔۔ ، اس نے اپنی اسلام خلاف تحریک کا آغاز ١٨٨٩ میں ھندوستان کے علاقے قادیان سے کیا،۔۔۔ اسے ہی اپنا صدر مقام بنایا۔ اور پاکستان کے قیام کے بعد شمالی علاقہ جات میں ربوٰە کے مقام پر بھی ایک برانچ بنا لی اور ساتھ ہی بنوت کا دعوی کر دیا ۔۔۔ یہ کبھی  خود کو حضرت عیسی علیہ اسلام بتاتا اور کبھی امام مہندی ہُونے کا دعوی کرتا۔۔۔ اور کبھی ولی الله اور کبھی نیا نبی ہُونے کا جھوٹا دعوی کرتا . ... الغرض اسکے تمام دعوے جھوٹے ھیں کیونکہ،، حدیث مبارکہ سے یہ بات ثابت ہے کہ،، نبی پاک صلی الله تعالی علیہ وآلہ وسلم کے بعد کوئ نبی یا رسول نھیں آۓ گا۔
 .
رسول پاک صلی الله تعالی علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ "تمام انبیاء اکرام جو کہ کم وبیش ایک لاکھ چوبیس ھزار ھیں۔ وە سب مل کر ایک عمارت ھیں اور اس عمارت کی ایک اینٹ باقی تھی وە میں ھوں۔۔۔ اور میرے آنے سے یہ عمارت مکمل ھو گئ ھے۔ اب میرے بعد کوئ نبی یا رسول نہیں آۓ گا۔۔۔"
"امام ابو حنیفہ ؒ کے زمانے میں یک شخص نے نبوت کا دعوی کیا اورکہا کہ،، مجھے موقع دُو میں اپنی نبوت کی علامت پیش کروں اس پر امام ابو حنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا کہ،، جو شخص  جُھوٹی نبوت کا دعویٰ کرنے والے سے نبوت کی دلیل طلب کرے گا وە بھی کافر ھو جاۓ گاکیونکہ ،،رُسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم نے فرمایا میرے بعد کوئ نبی نہیں۔۔۔

جبکہ قادیانی جسےاپنا نبی مانتے ھیں وە تو خبیث قضاۓ حاجت کے وقت گندگی میں لتھڑ کرمَرا تھا۔۔۔ مگر اُس کے پیروکارں کو پھر بھی سمجھ نہیں آتی۔۔۔ان باتوں سے یہ تو پتہ چل گیا۔ کہ یہ قادیانی مرتد ھیں۔۔۔ اور دائرا اسلام سے خارج ھیں . اسلامی جمہوریہ اِسلام پاکستان کے١٩٧٣ کےآئین کے مطابق قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دیا جا چکا ھے۔ یہ اب پاکستان سے عرب شریف کا ویزا نہیں لے سکتے، اس بات کے لیےٴ میں حکومت پاکستان اُور خاص طور پر علماء کرام  کو سراھتی ھوں۔ جنکی انتھک کوششوں کی وجہ سے مسلمانانِ ہند کو اِس فتنے سے پناہ  مِلی۔

.
اب میری ایک دوست کہتی ھے کہ ھم کسی جماعت کو بُرا نہ  کہیں چاھے۔۔ وە ھمارے ھم جماعت ھوں یا نہ ہُوں۔۔۔ ، مگر یہ بات دوسرے مذاہب کے لیےٴ شائد مان بھی لی جاۓ ۔۔مگر ان خبیث قادیانیوں کے لیےٴ بالکل بھی میں نہیں مان سکتی ۔۔۔ کیونکہ یہ لُوگ نا صِرف آستین کے سانپ ہیں۔۔۔ بلکہ شدید گستاخ رسول ہیں ۔صلی الله تعالی علیہ وسلم۔
 .
بلکہ اِنہوں نے تو اُس پاک ذات کی گستاخی کی ہے۔ جو محبوب خدا عزوجل ہیں جنکی خاطر رب عزوجل نے اس کائنات کو بنایا جس پاک ذات کا نام بابا آدم علیہ السلام نے پیدائش کے فوراَََ بعد عرش مولی پر لکھا دیکھا ۔۔۔ ارے اس پاک ذات صلی الله علیہ وسلم کی وجہ سے تو انسانوں کو اشرف المخلوقات کا لقب دیا گیا.۔۔۔ وُە تو سرور کائنات ھیں  سیدُ الانبیاء ہیں۔ مُحسنِ انسانیت ہیں  ۔ اُور ٖفخرِ موجودات ہیں۔۔۔

اب جو کوئی بھی رب عزوجل کے محبوب اعظم صلی الله علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کرے گا وُە اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنا رھا ھے۔
اور مسلمان ہُونے کےناطے  بطُور غلام ہمارے ایمان کا تقاضا تو یہ ھے کہ،، رسول پاک صلی الله تعالی علیہ وسلم کے اس فرمان کو سمجھیں کہ " کسی مومن کا ایمان تب تک مکمل نھیں ہُو سکتا۔۔۔ جب تک میں اسے اسکی جان ، مال،عزت اور ہر چیز سے بڑھ کر عزیز نہ ہُوجا ٴوں۔۔۔

اب اس حدیث مبارکہ کو ذہن میں رکھتے ھوۓ ہم اپنا محاسبہ کر لیں۔ تو ہمیں پتہ چل جاۓ گا۔ کہ ایک طرف تو ہم رسول پاک صلی الله تعالی علیہ وسلم سے محبت کا دعوی کرتے ھیں اور دوسری طرف ان مرتدوں اور گستاخوں سے دوستی بھی رکھتے ھیں۔۔۔ تو یہ کیسی محبت ھے؟؟؟؟؟؟؟ کیا ہمارا یہ عمل سرور کائنات کا دِل دُکھانے کیلئے کافی نہیں۔۔۔ اُور کل بروزِ حشر ہم کس چہرے کیساتھ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں شفاعت کیلئے حاضر ہُونگے۔۔۔ اگر کریم آقا علیہ السلام نے اُس وقت ناراضگی سے چہرہ انور کو پھیر لیا تو ہم کہاں جائینگے۔۔۔؟


عشق قاتل سے بھی ، مقتول سے ہمدردی بھی
یہ بتا کس سے محبت کی جزاٴ مانگے گا؟؟؟
سجدە خالق کو بھی ، ابلیس سے یارانہ بھی
حشر میں کس سے عقیدت کا صلہ مانگے گا؟

ہمیں اس بات کو بھی ذھن میں رکھنا چاھۓ کہ رسول پاک صلی الله تعالی علیہ وسلم ھی ھمارے ہادی اور غم خوار ھیں۔ آپ صلی الله تعالی علیہ وسلم نے ہی روز قیامت ہماری شفاعت فرمانی ھے۔۔۔ مگر جب ہم یہاں اس دنیا میں آپ صلی الله تعالی علیہ وسلم کے دشمنوں اور گستاخوں کے ساتھ روابت و تعلقات اور دوستیاں بنائیں گے تو قیامت کے دن کیسے رسول پاک صلی الله تعالی علیہ وسلم کی شفاعت کے حقدار بنیں گے؟ اگر وہاں آپ صلی الله تعالی علیہ وسلم کا سھارا بھی نہ ملا۔۔ پھر تُو یقیناً ھم ہی مارے جائیں گے . ھمارے اندر اتنی طاقت  کہاں کہ،، رب عزوجل کی ناراضگی کو برداشت کر پائیں۔
 .
اس لۓ ہماری بہتری تو اسی میں ھے۔۔۔ کہ اس دنیا میں اُن مرتدوں کے مخالف جا کر اور رب عزوجل اور اسکے رسول پاک صلی الله تعالی علیہ وسلم کے احکامات پر عمل کر کے اپنی دنیا اور آخرت سنوار لیں اور روز قیامت ہُونے والی شرمندگی سے بچ جائیں۔
.
بطور مسلمان مجھ پر فرض ھے کہ میں اپنے علم کےمطابق جتنا میں قادیانیوں کی چالوں کو جانتی ہُوں۔۔ آپ سب کو بھی آگاہی دوں ۔ اے کاش کہ،، اِسی بہانے سرور کائنات محمد مصطفی صلی الله تعالی علیہ وسلم کی مجھ گنہگار پر رحمت کی نظر پڑ جاۓ۔۔۔ اور میرا گناہوں کے بار سے ڈگمگاتا سفینہ پار لگ جاۓ۔۔۔ آمین بجاہِ النبی الا مین صلی الله تعالی علیہ وسلم

عام طور پر قادیانی لوگ جو چالاکیاں اور پھانسنے کے طریقے استعمال کرتے ھیں ۔ اُن میں سے کُچھ یہ ھیں۔۔۔
معاشی کفالت: قادیانیوں کا پورا ایک نیٹ ورک ھےجسکی شاخیں دنیا کے اکثر ممالک میں پائ جاتی ھیں انکی اکثریت پاکستان، انڈیا اور کینیڈا  اُور جرمنی میں پائ جاتی ھے. یہ خبیث معاشی طور پر کافی خوشحال ھیں، یہ لوگ غریبوں کو پیسے کا لالچ دے کراپنے مذھب میں داخل کرتےھیں اور کبھی دوسرے مذاھب میں شادیاں رچا کر اُن لوگوں کو اسلام کے نام پر مرتد بنادیتے ہیں۔
 .
یہ لوگ لوگوں کو فری کیمپ لگا کر کھانا اور ادویات دے کر ھمدردی حاصل کرتے ہیں۔ اُور انہیں اپنے مذھب میں شامل ھونے کی دعوت دیتے ھیں۔۔۔. اسکے علاوە یہ لوگ تعلیم کو بھی ہتھیا ر کے طور پر استعمال کر رھے ھیں ، انھوں نے ربوٰە کے مقام پر ایسا میڈیکل کالج بنایاھے۔۔ جھاں پر بچوں کو ایف۔ایس۔سی کے بعد ڈائریکٹ سپشلسٹ کی تعلیم دینا شروع کر دی جاتی ہے۔ تا کہ،، آگے جا کر یہ لوگ جلد از جلد اپنے پیشے کے ذریعہ سےمزید  نئےلوگوں کو پھانس سکیں۔۔۔
 .
حسن اخلاق کے نام پر لُوگوں کی چاپلوسی کرنا: دوسری چالاکی ہے جو  قادیانی کثرت سے استعمال کرتے ھیں وە اپنے بچوں کی تربیت کچھ ایسے انداز میں کرتے ہیں۔کہ،، لُوگوں کی چاپلوسی کرنا اِن کے رَگ و پے میں رَچ بس جاتی ہے۔۔۔ جسے عام لُوگ حسنِ اخلاق سمجھ کر اِنکے دامِ فریب میں پھنستے چلے جاتے ہیں۔
.
 چہرے پر  نادانی اُور بُھولپن کا جال سجائے رکھنا: تیسری چالاکی جو یہ قادیانی کرتےھیں وە انکی بناوٹی معصومیت ھے۔ان خبیث لوگوں سے جب کہا جاتاھے کہ تم اپنے مرتد لیڈر کی گندی اور غیر اخلاقی حرکتوں سے واقف ھو۔۔ تو یہ لوگ کہتے نظر آتے ھیں۔ کہ ھم تو ایسا کچھ نھیں جانتے۔۔۔ تب میرا دل چاھتاھےکہ ،، کاش زمین پھٹ جائے اُور یہ تمام غلیظ لُوگ جو نادان بننے کی اداکاری کررہے ہیں۔ زمین میں عذاب پانے کیلئے سَما جائیں۔
 .
آخر میں میں بس یہی کہنا چاھتی ھوں کہ میں یہ تحریر الله عزوجل اور اسکے مدنی محبوب صلی الله تعالی علیہ وسلم کی رضا حاصل کرنے کی خاطر لکھی ہے۔۔۔الله عزوجل اسےقبول فرماۓ آمین بجاہِ  النبی الا مین صلی الله تعالی علیہ وسلم . جزاک الله

Thursday, 6 June 2013

فیس بُک پر جعلی عاملوں کی آمد


مورخہ ۲ جُون کی رات مجھے کراچی سے ایک اِسلامی بِہن کی کال مُوصول ہُوئی۔۔۔ جِسے سُننے کے بعد میرا دِل دہل کر رِہ گیا۔ آنکھوں سے جھڑی لگ گئی۔ اُور اِسی بے قراری میں تمام رات سسکتے سسکتے بیت گی۔ ۔۔یہاں تک کہ،، موذن کی صدا بُلند ہُونے لگی۔ اُور میں وقتی طُور پر کچھ دیر کیلئے اِس خوفناک گُفتگو کے سحر سے نکلنے میں کامیاب ہُوپایا۔۔۔ میں گُذشتہ شب ہی اِس موضوع پر  ایک تحریر لکھنا چاہتا تھا۔ لیکن رات تین بجے تک بھی پہلے سے تیار ایک پُوسٹ پر،، فُٹ نُوٹ سے ذیادہ کچھ نہیں لکھ پایا۔

مجھے اِس کال میں اُس اِسلامی بہن نے رُوتے ہُوئے بتایا۔کہ،، اُنہوں نے فیس بُک پر ایک شخص سے رُوحانی علاج کیلئے رابطہ کیا۔ رُوحانی عِلاج کیلئے یہ رابطہ تقریباً ایک ماہ سے قائم تھا۔ جِس میں اِس اِسلامی بہن نے کئی مرتبہ اُس معالج سے فون پر گفتگو کی۔۔۔ پھر اُس معالج کے اِصرار پر انہوں نے  مزید علاج کی خاطر وڈیو کالز پر بھی کئی مرتبہ گفتگو کی۔ جب کہ ای میلز پر بھی اِس رُوحانی علاج کا سلسلہ جاری تھا۔ اِن تمام کالز اُور برقی خطوط میں اُنہوں نے جذبات کی رُو میں بِہہ کر اپنے ایسے راز بھی اُس معالج سے شئیر کرلئے۔ جو کہ عمومی طور پر خَواتین اپنے گھر والوں کو بھی نہیں بتاتی ہیں۔

جب علاج کو ایک ماہ کا عرصہ گُزر گیا۔ اُور اِن اِسلامی بہن کو علاج سے کوئی خاطر خُواہ فائدہ نظر نہیں آیا۔تو انہوں نے شکایتاً اُس معالج سے کہا۔کہ،، مجھے آپ سے مسلسل رابطہ کرتے ہُوئے  ایک ماہ کا عرصہ ہُوگیا ہے۔ لیکن نہ ہی مجھے میرے مقصد میں کوئی ہلکی سی کامیابی کی رمق نظر آئی ہے۔ اُور نہ ہی مجھے  اِس علاج سے قلبی سکون مِل رہا ہے۔ اسلئے اگر آپ سے یہ معاملہ ہینڈل نہیں ہُوپارہا ہے۔ تو برائے مہربانی مجھے جواب دے دیں۔ تاکہ میں کہیں اُور سے اپنا مسئلہ حل کراسکوں۔ اِسلامی بہن کے  اِس جملے کو سُن کر اصولاً ہُونا تو یہ چاہیئے تھا۔کہ،، وُہ معالج انکی دلجوئی کرتے۔یا اِنہیں اجازت دیدیتے ۔کہ،، آپ جہاں سے چاہیں علاج کروالیں۔ کیونکہ ہُوسکتا ہے۔ آپکے  نصیب کی نعمت کہیں اُور موجود ہُو۔۔۔۔ لیکن وُہ عامل اِس اِسلامی بہن کی باتیں سُن کر بھڑک اُٹھا۔ اُور کہنے لگا۔کہ،، میں کل آپکو جواب بذریعہ میل دیدوں گا۔

اگلے دِن جب اُس اِسلامی بہن نے اپنی میلز چیک کی تو اُنہیں اُس معالج کی جانب سے ایک برقی خط مُوصول ہُوا۔ جِس میں اُس پست ذِہن عامل نے اِس اِسلامی بہن کو خبردار کرتے ہُوئے بتایا۔کہ اُنکی تمام گفتگو  آڈیو، وڈیو، اُور تحریر کی صورت میں اِنکے پاس محفوظ ہے۔۔۔ جسے،، جب چاہے وُہ اسکے گھر والوں کو بھیج سکتا ہے۔۔۔ اُور شوشل میڈیا پر فرضی اکاونٹ سے اَپ لُوڈ کرسکتا ہے۔۔۔ اُور اسکے بعد اُس جعلی عامل نے اُنہیں بلیک میل کرنا شروع کردیا ہے۔ جسکی وجہ سے وُہ مسلسل ذہنی دباوٗ کا شکار ہے۔۔۔ اتنا واقعہ بیان کرنے کے بعد اُس اِسلامی بہن نے ایک مرتبہ پھر ہچکیوں سے رُونا شروع کردیا۔ وُہ اِسلامی بہن رُوتے ہُوئے ایک ہی بات بار بار دہرائے جارہی تھی۔کہ،، بھائی میں نے تو اُس کمبخت کو ایک دین دار انسان سمجھ کر، اپنا مسیحا جان کر اِحوال دِل سُنایا تھا۔ مجھے کیا خبر تھی کہ ،، یہاں رہنما کے بھیس میں رَہزن بھی پھرتے ہیں۔ جو رازوں کے امین بننے کے بجائے ایک سوداگر کی طرح پیشکش کرتے ہیں۔

غُصہ تو مجھے اِس اِسلامی بہن پر بھی بُہت آیا تھا۔۔۔ میرا دِل چاہ رہا تھا۔کہ،، اُسے بے نُقط کی سُناوٗں۔کہ،، بے وقوف عورت آخر تجھے ایسی کیا مُوت پڑی تھی۔ کہ،، تُونے ایک انجانے شخص کے سامنے وُہ باتیں بھی بیان کرڈالیں جو کہ،، ایک عورت اپنے سائے سے بھی کہنے میں ڈرتی ہے۔۔۔ تجھے ایسی کون سی آفت پڑی تھی۔کہ،، تُونے ایک غیر مرد سے بِلا ضرورت شرعی وِڈیو کالز کا سلسلہ قائم رکھا۔۔۔لیکن میں کیا کرتا۔کہ،، وُہ تو پہلے ہی اَدھ مری ہُوئی تھی۔۔۔ اُورنجانے کِس بہن یا بھائی نے اُسے کتنی اُمید و آس دِلا کر مجھے کال کرنے کیلئے اُکسایا ہُوگا۔۔۔ اِسلئے میں اُسے کچھ نہیں کہہ پایا۔ البتہ میں نے اُسے تسلی دیتے ہُوئے اِتنا ضرور کہا۔۔۔ کہ،، میری بہن  چہرے پر معصومیت سجائے بظاہر خُوش اِخلاق و ملنسار نظر آنے والا ہر انسان مخلص دُوست و رِہبر نہیں ہُوتا۔ یہاں بے شُمار قذاق  اپنے چہروں کی کراہیت کو نِقاب میں۔ اُور اپنے سفلی جذبات کو دِل میں سجائے پھرتے ہیں۔۔۔ اسلئے احتیاط لازم ہے۔ البتہ بطور ایک بھائی کے میرا تُم سے یہ وعدہ ہے۔ کہ،، وُہ سفلی خواہشات کا غلام عامل میری بہن کو کوئی نقصان نہیں پُہنچا پائے گا۔ اُور اگر میں اپنے  وعدے کو نبھا نہیں پایا ۔ تو بے شک حشر کے میدان میں اِس بھائی کے دامن کو تار تار کرڈالنا۔

میں اُس اِسلامی بہن کا چہرہ تو نہیں دیکھ پارہا تھا لیکن اُسکے لہجے میں اچانک پیدا ہُوتے ہُوئے اعتماد کی وجہ سے مجھے کامل یقین ہے۔کہ،، اُسکی آنکھوں میں ایک بھائی کو پالینے کے بعد خوفزدہ ہرنی کا تاثر باقی نہ رَہا ہُوگا۔۔۔ میرا جواب سُن لینے کے بعد اُسکی ہچکیاں بھی یکسر بند ہُوچکی تھیں۔ اُور اب اسکے لہجے میں پہلے جیسا خوف کا احساس بھی نہیں تھا۔ وُہ کافی دیر تک مجھے  اُور میری فیملی کوفون پر دعائیں دیتی رہی۔

اِس گفتگو کے اِختتام پر جہاں مجھے اپنی اِسلامی بہنوں کی عصمت کی فکر ستا رہی تھی۔۔۔ وہیں دوسری طرف میں اِس قِسم کے عامِلوں کے مُتعلق سُوچنے لگا۔ جو کبھی چند ٹکوں کی خاطر۔۔۔ تو کبھی جھوٹی شہرت کی طلب میں۔۔۔اُور۔۔۔ کبھی اپنے سفلی جذبات کو تسکین پُہنچانے کیلئے قریہ قریہ نقب لگائے پھرتے ہیں۔۔۔ جِس وقت میں نے  انٹرنیٹ پر اُور بالخصوص فیس بُک پر مُفت  رُوحانی علاج کا سلسلہ شروع کیا تھا۔ اُس وقت سرچ کرنے پر مجھے  غیر سیاسی عالمگیر تحریک ،، دعوت اسلامی،، کے عِلاوہ کوئی رُوحانی علاج کی سائٹ نظر نہیں آتی تھی۔۔۔ اُور دعوت اسلامی والے ماشاءَاللہ اتنے محتاط لوگ ہیں۔کہ،، فتنے کے ڈر سے خواتین سے بات ہی نہیں کرتے۔۔۔ جبکہ آج یہ حال ہے۔کہ آپ صرف روحانی لفظ لکھ کر سرچ کرلیجئے۔ تو آپکو سینکروں  ٹائٹل نظر آجائیں گے۔ جہاں پر حقیقی علاج کرنے والے لُوگ بھی یقیناً ہُونگے۔۔۔

لیکن ایسے لوگوں کی بھی کمی نہیں ہے۔ جو صرف لوگوں کے جذبات سے کھیلنے،اُور انہیں بلیک مِیل کرنے کیلئے میدان میں اُتر آئے ہیں۔۔۔ جنکے دعوے تو بڑے بڑے ہُونگے۔ لیکن اِن میں سے بعض تو وُہ بھی ہُونگے۔ جِن سے اگر آپ موٗکل کی اقسام اُور انکے طریقہ ،یا موکلین کے سردار کی بابت دریافت کرلیں۔ تو وُہ لوگ آپکو بغلیں جھانکتے نظر آئیں گے۔ جب کہ اُن سے بات کی جائے تو ایسے ایسے دعوے کہ الامان الحفیظ،، جیسے اُن سے بڑا
رُوحانی اِسکالر تمام رُوئے زمین پر  کوئی نہ ہُو۔۔۔ حالانکہ اُن میں ایسے بھی لُوگ موجود ہیں۔ جنہیں خُود نفسیاتی اُور رُوحانی علاج کی اشد ضرورت ہے۔ ۔۔

اے کاش  اِس کالم کو پڑھنے کے بعد  اللہ کریم کی توفیق سے کوئی جعلی عامل اپنی حرکتوں سے باز آجائے۔ تو میرے لکھنے کا مجھے ثمر مِل جائے۔  عاشقِ ماہِ رِسالت سیدی اعلحضرت اِمام احمد رضا  علیہ الرحمۃ الرحمن اپنے ایک فتوے میں اِرشاد فرماتے ہیں۔کہ،، نااِہل آدمی کا علاج کرنا حرام ہے،، اگرچہ وُہ ثواب کی توقع پر کام کررہا ہُو۔ لیکن ثواب کے بجائے وُہ اپنے لئے حرام عمل کی وجہ سے آخرت میں نار  جہنم کا سامان جمع کررہا ہُوتا ہے۔ اسلئے ایسے آدمی پر لازم ہے۔ کہ،، وُہ  علاج کا سلسلہ موقوف کردے۔ اُور اپنے گُناہ پر شرمندہ ہُوکر اللہ کریم کی بارگاہ میں خوب گڑگڑا کر  اپنے اِس عمل کی معافی طلب کرے۔۔۔لیکن یہ توفیق بھی ہر ایک کو نہیں مِلتی۔۔۔۔۔جِسے توفیق دے خدا۔ وُہ آخرت کو داوٗ پر لگائے کیوں۔۔۔؟

میں اپنے تمام اِسلامی بھائیوں اُور بہنوں سے التجا کرتا ہُوں۔کہ،، خُدارا ایسے جعلی عامِلوں کی بھرپور مذمت کریں۔۔۔ جب بھی کوئی رُوحانی مسئلہ در پیش آئے۔ تو کسی جید عالمِ دین سے رابطہ فرمائیں۔۔۔۔ اپنے راز کسی انجان آدمی کو نہ بتائیں۔ چاہے وُہ اپنے متعلق آپکو کتنا ہی یقین دِلانے کی کوشش کرے۔ بلکہ ہُوسکے تو اپنے رُوحانی مسائل کے لئے حتی الامکان،،  دعوت اسلامی ،، والوں سے رابطہ فرمالیں۔۔۔ جنکے مراکز دُنیا بھر کے بڑے بڑے شہروں اُور پاک و ہند کے ہر چھوٹے بڑے شہر میں موجود ہیں۔


مجھے چند اِسلامی بھائیوں اُور بہنوں نے بتایا ہے کہ،، چند لُوگ خُود کو میرا رُوحانی شاگرد بتا کر فیس بُک اُور دوسری سائٹس پر علاج کررہے ہیں۔ اسلئے میں آپ سب کو بتانا چاہتا ہُوں کہ،، فیس بُک ،، پر فی الحال میں نے صرف    محترم اِحسان الحق عطاری(  وارثی) بھائی کو رُوحانی علاج کی اِجازت دی ہے۔۔۔
دارالافتاء احکام شریعت کے ایڈمن حضرت قبلہ مفتی ،، ابو السعد محمد بلال رضا  (عطاری)قادری دامت برکاتہم عالیہ ہیں۔۔۔۔ معاونین میں کویت سے محترم کاشف اکرم (وارثی) بھائی ہیں۔ جبکہ   پوسٹوں کی شیرنگ اُور ایڈیٹنگ کے شعبے میں ،،محمد اِرشاد محمود عطاری (وارثی) بھائی کو اِجازت حاصل ہے۔ اِس وقت ٹوٹل تین پیج موجود ہیں۔  جبکہ چُوتھا پیج،، قانونی مشورے سے متعلق ہے۔ جسکی تکمیل کا کام جاری ہے۔ اُور اسکے ایڈمن محترم محمد آصف زئی (عطاری) ایڈوکیٹ ہائی کورٹ حیدرآباد ہونگے ۔ ۔۔اسکے علاوہ ایک  بلاگ اسپاٹ کا پیج ہے۔ جہاں میری تحریروں کیساتھ قبلہ مفتی محمد بلال قادری بھی ایڈمن کی صورت میں موجود ہیں۔۔۔ نیچے تمام پیج اور بلاگ کے لِنک موجود ہیں۔ اسکے علاوہ  فیس بُک ،، پر ہمارا کوئی پیج نہیں ہے۔ اگر آپ کسی ایسے شخص کو دیکھیں جو خود کو میرا،، رُوحانی شاگرد ،،ظاہر کرکے لوگوں کو رُوحانی علاج کی دعوت دے رَہا ہُو۔۔۔ تو برائے کرم مجھے فیس بُک پر ضرور اطلاع دیں۔۔۔
ہمارے تمام  لنک یہ ہیں۔۔۔





میں نے بُہت عرصہ قبل ہی اپنے تمام کالمز  سے استفادہ حاصل کرنے کی تمام صحیح العقیدہ مسلمانوں کو اجازت عام دے دی تھی۔۔۔ جسکی وجہ سے کافی اسلامی بھائیوں نے تو یہاں تک جراٗت کی ۔کہ،، انہوں نے میری تحریروں کو اپنے نام سے شئیر کرنا شروع کردیا۔۔۔ لیکن میں نے کبھی ایسے لوگوں سے باز پُرس نہیں کی۔۔۔ لیکن  دُوسروں کی تحریر کو  اپنے نام سے  آگے بڑھانا اگرچہ عِلمی خیانت میں شُمار ہُوتا ہے۔۔۔ لیکن اتنا خطرناک معاملہ نہیں ہے۔ ۔۔۔لیکن  نااِہل آدمی کا  علاج کرنا  ضرورایک خطرناک عمل  ہے۔۔۔ جسکا اَثر ناصرف روحانی مریضوں کو  حقیقی علاج سے دُور رکھتا ہے۔ بلکہ علاج کرنے والا بھی ایک نہ ایک دِن مصیبتوں میں گِھر کر رِہ جاتا ہے۔۔۔ جسکی وجہ سے نا صرف عامل رِجعت کا شکار ہُوجاتا ہے۔ بلکہ اُسکی فیملی کو بھی اِسکا خمیازہ بھگتنا پڑتا ہے۔۔۔۔ اُور جھوٹے دعووٗں کی وجہ سے آخرت الگ داوٗ پر لگ جاتی ہے۔


ایسا ہی ایک واقعہ پڑھنے کیلئے ،، جب گاما بن گیا شاہ جی،، کا کالم یہاں کلک کر کے  ضرور پڑھیں ۔

جب گاما بن گیا ،،شاہ جی،،


چند دِن قبل صبح  فیکٹری کے آفس میں  داخل ہُوتے ہی اِحسان وارثی بھائی کو دیکھا۔ تو حیرت کیساتھ بے حد خُوشی بھی ہُوئی۔ میں نے سلام دُعا کے بعد خُوش مزاجی سے صبح اتنی جلدی آنے کا سبب دریافت کیا۔ تو فرمانے لگے۔ روحانی پیج کے سوالات کو نمٹانے کیلئے یکسوئی کی تلاش تھی۔ اُور کچھ سوالات کے جوابات دینے کیلئے آپکی مدد بھی درکار تھی۔ ۔۔سُو مجھے اِس سے بہتر جگہ اُور کہاں مُیسر آسکتی تھی۔۔۔؟  کچھ دیر تک احسان بھائی مشاورت کے بعد جوابات مرتب کرنے بیٹھ گئے۔۔۔ پھر اچانک کچھ یاد آنے کے سبب مجھ سے گُویا ہُوئے۔ عشرت بھائی ایک اُور معاملے میں بھی آپکی مدد  اُور رہنمائی کی ضرورت ہے۔۔۔ میں نے مُسکرا کر کہا۔ کیسی مدد چاہیئے۔۔۔؟

عشرت بھائی کافی لُوگ آپکی تحریروں کی مدد سے لوگوں کے علاج کی سعی کرتے ہیں۔۔۔ اُور اِس میں کامیاب بھی رِہتے ہیں۔۔۔ لیکن مجھے آج ایک اسلامی بہن اُور اِسلامی بھائی کے لئے خاص اِجازت درکار ہے۔۔۔ ویسے تو بیشمار لوگوں نے روحانی علاج کرنے کیلئے آپکی اِجازت طلب کی ہے۔ لیکن میں جِن ۲ لوگوں کا تذکرہ کررہا ہُوں۔ یہ دُونوں کافی دِن سے میرے رابطے میں ہیں۔ اور اپنے علاقے میں کافی لوگوں کے رُوحانی علاج میں کامیابی حاصل کرچُکے ہیں۔ اِن میں سے  ایک خاتون تو کراچی میں رِہائش پذیر ہیں۔ جبکہ اسلامی بھائی کا تعلق  خیبر پختونخواہ  کے ایک شہرسے ہے۔۔۔۔

اگر آپکو لگتا ہے ۔کہ،، وُہ مناسب لُوگ ہیں۔ تو آپ خود ہی اِجازت مرحمت فرمادیتے۔آپکی اجازت بھی تُو میری ہی اِجازت ہے۔ ۔۔میں نے ایکبار پھر احسان بھائی کو مُسکرا کر دیکھتے ہُوئے کہا۔۔۔بھائی یہ تو آپکی محبت ہے۔کہ،،آپ مجھے اِس قابل سمجھتے ہیں۔ لیکن میں آپکی رائے معلوم کرنا چاہتا ہُوں۔ اُس کے بعد ہی اُن لوگوں کو جواب دُونگا۔۔۔۔ میں نے  کچھ سُوچتے ہُوئے اِحسان بھائی کو مشورہ دِیا ۔کہ،، اِس معاملے میں استخارہ کرلیتے ہیں۔ اگر اجازت مِل گئی تو۔ اُنہیں بھی اِجازت دیدیں گے۔ اُور اگر وُہ اِس مقدس مِشن کے لائق نہ ہُوئے تو  اُنہیں محبت سے ٹال دیجئےگا۔۔۔ احسان بھائی کچھ لمحے خاموش رہے۔ پھر کہنے لگے ۔بھائی آپ تو ہمیشہ لوگوں کو بُہت آسانی سے اِجازت دیدیتے ہیں۔ لیکن آج آپ نے استخارے کی شرط لگادی ہے۔ میں نے اِحسان بھائی کی پریشانی بھانپتے ہُوئے اُنہیں  اپنی زندگی کا ایک سبق آموز  واقعہ سُنانے کا قصد کیا۔ تاکہ،، اُنکی پریشانی دُور ہُوسکے۔

یہ ۲۰۰۸ کا واقعہ ہے۔ مجھ سےمیرے ایک   راجپوت دُوست نے ایک شخص کا ماجرا بیان کیا۔ اُنکے بقول ۔ پنجاب سے ایک فیملی نے دُو سال قبل نقل مکانی کرتے ہُوئے۔ ہمیشہ کیلئے میرپورخاص میں سکونت کا فیصلہ کیا تھا۔۔۔ اُن لوگوں کی پنجاب میں کچھ آبائی زمین تھی۔ جِس پر خاندانی تنازعے کی وجہ سے کئی افراد قتل ہُوچکے تھے۔ بلاآخر یہ صاحب اپنا حصہ اُونے پُونے داموں بیچ کر میرپورخاص شفٹ ہُوچکے تھے۔۔۔

  اُور اچھا خاصہ بزنس بھی سیٹ کرچکے تھے۔لیکن گُذشتہ چند ماہ سے اُن پر جنات قابض ہیں۔۔۔ ایک ہندوٗ سے رُوحانی علاج بھی چل رہا ہے۔ لیکن اِس چکر میں لاکھوں روپیہ وُہ ہِندو عامل اینٹھ چُکا ہے۔۔۔ جبکہ مسلسل بیماری کی وجہ سے کاروبار بھی ختم ہُوچکا ہے۔۔ سِوائے ذاتی مکان کے کچھ بھی باقی نہیں بچا۔۔۔گھر کا خرچ پُورا کرنے کیلئے اُنکے بچے جگہ جگہ نوکری کررہے ہیں۔۔۔۔ بیچارے زمیندار لُوگ تھے۔۔۔ اُنہیں کیا معلوم تھا۔کہ،، ہجرت کے بعد بھی سکون نہیں مِلے گا۔۔۔  دُوسری طرف بھابی جی کا بُہت بُرا حال ہے۔۔۔ ایک طرف شوھر کی بیماری۔۔ دوسری طرف گھر کے بے پناہ خرچے آج بھابی نے میری بیوی سے کہا کہ،، گھر کے اخراجات پُورے کرنے کیلئے اگر کسی بڑے گھر میں ماسی کی نوکری مِل جائے ۔تو میں خوشی خُوشی وُہ بھی  کرنے کیلئے تیار ہُوں۔۔۔جب میری بیوی نے مجھے یہ بات بتائی تو نجانے کیوں۔ میرے دِل میں یہی خیال آیا۔ کہ ،، میں عشرت بھائی کو سارا ماجرا سُناوٗں گا۔ شائد کوئی سبیل نِکل آئے۔ ۔۔ عشرت بھائی اگر آپ ایک نظر اُنکے گھر چل کر تمام معاملہ دیکھ لیں تو بڑی مہربانی ہُوگی۔


کچھ تو یہ قصہ بڑا دردناک تھا۔ پھر آنے والا بھی  میرابڑا خودار  مُخلص دُوست تھا۔ ۔۔۔اسلئے انکار کی کوئی گُنجائش ہی نہیں تھی۔۔۔ ورنہ  عموماًمیں کسی کے گھر جا کر علاج نہیں کرتا۔ بہرحال قصہ مختصر میں حسب وعدہ اُس شام اپنے دُوست کے گھر جا پُہنچا۔ جو کہ،، شہر کے مضافات میں واقع تھا۔ میرے وُہ دُوست مجھے مریض کے گھر لےگئے۔۔۔ گھر کی  اندرونی حالت سے مجھے اندازہ لگانے میں بالکل مشکل پیش نہیں آئی۔کہ،، اُنکا واقعی بُہت غریبی حال چل رہا تھا۔ مریض کا نام رفیق تھا۔  مگر  میرا دُوست  رفیق کو گامے کے نام سے مخاطب کررہا تھا۔۔۔۔ حالانکہ اکثر لوگ رفیق کو فیقے سے بدل دیتے ہیں۔ جو کہ صریح غلط طریقہ ہے۔کہ انسان پر اچھے نام کے اچھے اثرات جبکہ بُرے نام کے بُرے اثرات مُرتب ہُوتے ہیں۔۔۔

گامے کی حالت دیکھ کر بظاہر ایسا لگ رہا تھا۔ جیسے وُہ اپنی زندگی کی آخری سانسیں گِن رہا ہُو۔ گھر کی لائٹ شائد بِل نہ بھرنے کے سبب کٹ چکی تھی۔۔۔ اُور گامے کے جسم پر مکھیاں بھنبنا رہی تھی۔ ۔۔ جبکہ قریب ہی ایک دوسری چارپائی پر بیٹھا  ایک بوڑھا شخص حقے کی نِے سے شغل میں مصروف تھا۔ ۔۔  میں نے ایک خالی گوشے میں بیٹھ کر استخارہ کیا۔ تب مجھے معلوم ہُوا۔کہ گامے پر کوئی جن قابض نہیں تھا۔۔۔ بلکہ اُس پر شدید قسم کا کالا عِلم کیا گیا تھا۔۔۔ جو کہ،، عموماً جانی وار کرنے کیلئے کیا جاتا ہے۔ دوسری بات میرے عِلم میں جو آئی۔ وُہ میرے لئے بھی حیران کُن تھی۔ کہ،، جس ہندو عامل سے گامے کا علاج کروایا جارہا تھا۔۔۔ وُہ بھی دَرپردہ گامے کے دُشمنوں سے مِلا ہُوا تھا۔۔۔ اُور بجائے کالے علم کا توڑ کرنے کے وُہ خُود اُس جادو کو تقویت بخش رَہا تھا۔جوکہ،، گامے کو ہلاک کرنے کیلئے کیا گیا تھا۔

میں نے تمام صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد۔ پہلے تو گامے اُور اپنے دُوست کو سمجھایا۔ کہ آپ لوگ کیسے مسلمان ہیں۔۔؟ جو ایک مسلمان کا روحانی علاج کرنے کیلئے ایک ہندو سے رابطہ کررہے ہیں۔ اگر آپ یہ سوچ کر علاج کروارہے ہیں۔ کہ وُہ ہِندو عامل آپکی کچھ مدد کرپائے گا۔ تو  آپ لُوگ غلط  سُوچ رہے ہیں۔۔۔اُور یہ بالکل غلط طریقہ ہے۔۔۔ کیونکہ ہم مسلمان ہیں۔ اور اللہ کریم کے کلام اور اسکے اسمائے مبارکہ میں ایسی قوت ہے۔کہ دُنیا کا کوئی عِلم اسکا مقابلہ نہیں کرسکتا۔۔۔ دوسری بات یہ ہے۔کہ،، گامے پر جنات کے اثرات نہیں ہیں۔ بلکہ ایک غلیظ قسم کا جادو کیا گیا ہے۔۔۔ جسکا علاج انشاءاللہ عزوجل میں  قران مجید کی آیات سے کردونگا۔۔۔ اسلئے گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے۔ لیکن آپ لوگوں کو اسکے عوض مجھ سے ایک وعدہ کرنا ہُوگا۔ کہ،، چاہے کچھ بھی ہُوجائے آپ لوگ آئندہ اُس ہندو عامل سے رابطہ نہیں کروگے۔۔۔۔۔ میں نے جان بُوجھ کر ہِندوٗ عامل کی شرارت کا تذکرہ نہیں کیا تھا۔ ورنہ گامے کی فیملی کیساتھ  ساتھ گاما  خود بھی ذیادہ ڈر سکتا تھا۔۔۔

پہلے ہی ہفتے کے علاج کی برکت سے گامے نے بفضل خُدا چارپائی چھوڑ دی۔۔۔ میں صرف اپنے دُوست کے اِصرار پر ایک سے زائد مرتبہ خود اسکے علاج  کیلئے گامے کے گھر پر جاتا رہا۔ نتیجتاً صرف ایک ہی ماہ میں گاما بالکل ہشاش بشاش نظر آنے لگا۔۔۔ اُور کچھ کام دھندے کی ترکیب بھی بن گئی۔ علاج مکمل ہُونے کے باوجود گامے نے میری فیکٹری پر آنا جانا نہیں چھوڑا۔۔ ایک دِن کافی لوگوں کی بھیڑ دیکھ کر گاما مجھے کہنے لگا۔ اقبال بھائی آپ لُوگوں سے کچھ نذرانہ کیوں نہیں لیتے۔۔۔۔؟ میں نے مسکرا کر اسکی طرف دیکھ کر کہا۔۔۔ اللہ کریم نے مجھے محتاج اُور لاچار پیدا نہیں کیا ہے۔ پھر اِس فیکٹری سے مجھے ضرورت سے ذیادہ آمدنی ہُوجاتی ہے۔۔۔ پھر بھلا میں کیوں لُوگوں سے روحانی علاج کیلئے  رقم مانگوں۔۔۔۔میرا جواب سُن کر اُس سے کوئی دلیل نہ بن پڑی تو وُہ خاموش ہُوگیا۔۔۔ اِس واقعہ کے چند دِن بعد گامے نے مجھ سے فرمائش کی۔۔۔ کہ،، میں گامے کو اپنی شاگردی میں لے لُوں۔ میں نے گامے کا دِل رکھنے کیلئے اُسے اپنی شاگردی میں قبول کرلیا۔۔۔۔  میں پُوری ایمانداری سے گامے کی تربیت کرنے میں مشغول تھا۔لیکن گامے کو بُہت جلدی تھی۔۔۔ وُہ دیگر  ابتدائی وظائف کے بجائے ڈائریکٹ آخری سیڑھی تک پُہنچنا چاہتا تھا۔ پھر اُس نے ضد کی کہ،، پہلے مجھے استخارہ کرنا سِکھا دیں۔ اور جادو کے علاج کا طریقہ سِکھادیں۔۔۔ باقی وظائف میں بعد میں کرلوں گا۔

میرے کافی سمجھانے کے بعد بھی جب گامے کی سمجھ میں میری بات نہیں آئی۔ تو میں نے گامے کو استخارہ کرنے کا طریقہ ، اور جادو کی کاٹ کا طریقہ سِکھا دیا۔۔۔ میں نے اُسے جانچنے کیلئے کئی مرتبہ اپنے سامنے استخارہ کروایا۔ ایک  دو لوگوں کی کاٹ بھی کروائی۔ جِسکے بعد گامے نے نہایت احسن انداز میں میرے سامنے  ہی اُن لوگوں کی کاٹ کا عمل کیا۔۔۔ گامے کا باادب انداز دیکھ کر میرے دِل میں کبھی یہ خیال نہیں گُزرا کہ،، گاما اپنے دِل میں کیسے کیسے پلان مرتب کررہا ہے۔۔۔۔ وُہ میرے لاکھ منع کرنے کے باوجود بھی مجھے عجیب عجیب القاب سے پُکارتا۔۔۔ جِسے سُن کر دوسرے لوگ بھی اُسکے عشق و ادب کے گرویدہ ہُوجاتے تھے۔ کبھی  وُہ مجھے وڈی سرکار، کبھی مُرشد کہہ کر پُکارتا۔۔ کبھی میری چپل اپنے سینے سے لگا لیتا۔۔۔ تو کبھی اپنے سر پہ رَکھ لیا کرتا۔۔۔ اُسکے عشقیہ انداز دیکھ دیکھ کر کبھی کبھی تو میں بھی شرمندہ ہُوجاتا۔ کہ کہاں مجھ جیسا مجرم و گنہگار ۔اُور کہاں اُسکے القاب و انداز۔۔۔!

کچھ عرصہ مزید گذرنے کے بعد ایک دن گامے نے مجھ سے روحانی علاج کی اجازت طلب کی۔ اُس کا کہنا تھا۔کہ،، ہندو عامل کی وجہ سے کالونی کے اکثر لُوگ پریشان ہیں۔۔۔ اگر آپ مجھے اجازت عطا کردیں گے تو میں کالونی کے لُوگوں کی مدد کرنا چاہتا ہُوں۔۔۔ میں نے گامے کو اِجازت دینے کے بعد پیار سے سمجھایا کہ،، لوگوں کا علاج ضرور کرنا۔ مگر اُن سے کسی قسم کا فائدہ مت اُٹھانا۔۔ اور نہ ہی کوئی نذرانہ وصول کرنا۔۔۔ ورنہ لالچ کا پودا دِل میں جگہ بنا لے گا۔۔۔۔ گامے نے استفسار کیا۔ حضرت صاحب کیا روحانی علاج کا نذرانہ لینا گناہ ہُوتا ہے۔۔۔ ہمارے پنجاب میں تو بڑے نذرانے کا رواج ہے۔۔۔ میں نے اُسے محبت سے سمجھاتے ہُوئے کہا،، رواج تو ہمارے سندھ میں بھی ہے۔ اُور نذرانہ لینے میں کوئی گناہ بھی نہیں ہے۔ مگر اِس سے بندے کے دِل میں حرص  پیدا ہُوجانے کا خدشہ ہے۔۔۔ جس طرح میں نے تُمہارا علاج فی سبیل اللہ کیا تھا۔ تم بھی ہمیشہ لوگوں کا فی سبیل اللہ علاج کرنا۔

اِس واقعہ کے بعد گامے نے رفتہ رفتہ میرے پاس آنا کم کردیا۔۔۔ یہاں تک کہ،، مجھے اُسے دیکھے ہُوئے چھ ماہ سے زائد کا عرصہ گُزرگیا۔۔۔ کام کی مصروفیت کی وجہ سے میرے ذہن سے بھی گامے کا خیال دھندلا گیا۔ البتہ کبھی کبھار لوگوں کی زُبانی معلوم ہُوجاتا تھا۔ کہ،، گامے نے گھر میں آستانہ قائم کرلیا ہے۔ اُور کافی لُوگ روحانی علاج کے سلسلے میں گامے کے پاس آتے ہیں۔

ایک دِن میں شہر سے باہر تھا۔ کہ،، مجھے اپنے شہر سے ایک کال موصول ہُوئی۔۔۔  فون کرنے والا مجھ سے فوری طور پر ایک مریض کے سلسلے میں مِلنا چاہتا تھا۔ جبکہ مجھے واپس جانے میں کئی دِن لگ سکتے ہیں۔۔۔ میں نے اُس بندے کا عِلاقہ معلوم کیا۔ تو مجھے معلوم ہُوا۔کہ،، وُہ شخص گامے کی کالونی سے متصل علاقے کا رہنے والا ہے۔۔ سُو میں نے اُسے گامے کا پتہ بتاتے ہُوئے کہا۔۔۔ کہ گاما میرا شاگرد ہے۔ اُسے میرا سلام دینا۔ اُور فی الحال  آپ اُس سے رابطہ کرلو۔۔۔ اُس شخص نے کہا۔ ہم گامے شاہ جی کے پاس پاس جاچُکے ہیں۔۔۔ لیکن وُہ بُہت تگڑی رقم مانگ رہے ہیں۔ جو کہ ہم  غریب لُوگ نہیں دے سکتے۔ ہمیں کسی نے آپکا بتایا تھا۔کہ،، آپ فری علاج کرتے ہیں۔۔۔ سُو  آپ سےرابطہ کرلیا لیکن آپ بھی شہر سے باہر ہیں۔۔۔۔۔۔ میں نے  اُسے پیار سے سمجھاتے ہُوئے کہا۔۔۔ بھائی آپکو ضرور کچھ غلط فہمی ہُوئی ہے۔ میں جس گامے کے متعلق آپکو بتا رہا ہُوں۔۔۔ وُہ شاہ جی نہیں ہے۔بلکہ ذات کا جٹ ہے۔ جب آپ میرا سلام دے کر اُسکے پاس جاوٗ گے۔ تو میرا والا گاما آپ سے انشاءَ اللہ ایک پیسہ بھی نہیں مانگے گا۔

میں چند دِن بعد جب اپنے شہر پُہنچا تو وہی شخص جس نے مجھ سے فون پر رابطہ کیا تھا ۔ اگلے ہی دِن آدھمکا ۔۔۔ میں نے جب گامے سے مُلاقات کا احوال معلوم کیا۔ تو وُہ شخص نہایت افسردہ انداز میں کہنے لگا۔۔۔ جناب ہم آپ کے کہنے پر گامے شاہ جی کے گھر دُوبار گئے تھے۔۔۔ لیکن جب ہم نے آپکا نام بتا کر اپنا مسئلہ بیان کیا تو گامے شاہ جی  نےآپکو پہچانا ہی نہیں۔۔۔۔ وُہ کہتے ہیں،، میں کسی عشرت اقبال وارثی کو نہیں جانتا،، اُور نہ ہی  کوئی وارثی میرا اُستاد ہے۔میرے  رُوحانی اُستاد تو میرے ماموں ہیں۔ یا  میرے مُرشد ہیں۔ جو پنجاب میں ہُوتے تھے۔ اُور چند سال پہلے ہی وصال فرماچکے ہیں۔۔۔  اگر تُم لُوگ دس ہزار روپیہ دے سکتے ہُو۔ تو میں علاج کیلئے تیار ہُوں۔۔۔ ورنہ اپنی راہ لُو۔۔۔۔پتا نہیں مجھے کیوں ایسا لگا۔ کہ،، یہ شخص مجھ کو میرے  رُوحانی بیٹے گامے سے متنفر کرنے کی کوشش کررہا ہے۔ کیونکہ گامے کے ادب و عشق کا سارا منظر آج بھی میری آنکھوں میں تازہ تھا۔۔۔

میں نے اُن  لُوگوں سے مریض کی بابت معلوم کیا۔تو اُنہوں نے بتایا کہ،، مریض کی حالت ایسی ہرگز نہیں ہیں۔کہ،، اُسے گھر سے یہاں تک لایا جاسکے۔ اگر آپ کرم فرمادیں تو ہم رکشہ لے آتے ہیں۔ آپ گھر چل کر دیکھ لیں۔۔۔۔ شائد کوئی اُور وقت ہُوتا تو میں اُن لوگوں سے گھر چلنے سے معذرت کرلیتا۔ لیکن آج میرا بھی بُہت دِل چاہ رہا تھا۔کہ،، اپنے گامے کو اپنی آنکھوں سے دیکھ کر تمام شکوک و شبہات کو دِل سے کھینچ کر ہمیشہ ہمیشہ کیلئے باہر نِکال دُوں۔۔۔ میں نے اُن سے کہا رکشہ کی ضرورت نہیں ہے۔ میں اپنی سواری پر عصر کی نماز  کے بعد گامے کے گھر پُہنچ جاوٗنگا۔۔۔ اُور مغرب کے بعد آپ لوگوں کے ساتھ چلدوں گا۔ اسلئے آپ لُوگ بھی مغرب سے قبل گامے کے گھر آجانا۔۔۔

میں جب عصر کی نماز کے بعد گامے کے گھر پر پُہنچا تو حیرتیں میری منتظر تھیں۔۔۔ گامے کا گھر ایک عالیشان کوٹھی کا منظر پیش کرہا تھا۔ جبکہ اِس کوٹھی کے ڈرائینگ رُوم کے اندر  تا باہر مَرد و خواتین کی الگ الگ قطار لگی ہُوئی تھی۔ جو کہ اپنی باری پر اندر موجود گامے سے ملاقات کیلئے بے چین نظر آرہے تھے۔ جبکہ ڈرائنگ رُوم کے باہر ایک تختی پر نظم و ضبط سے متعلق ہدایات موجود تھیں۔۔۔ لیکن جس بات نے مجھے سب سے ذیادہ حیرت میں مُبتلا کیا۔ وُہ گامے کے نام کیساتھ ،،شاہ جی،، کا جلی حروف میں اضافہ تھا۔۔۔ میں ورطہ حیرت میں مُبتلا تھا۔ کہ  ،،گاما رَاتوں رات سَیّد کیسے بن گیا،، اچانک میری نظر گامے کے چودہ سالے بیٹے پر پڑی۔ جو مجھے پہچان کر میرے نذدیک آگیا تھا۔۔۔ مجھے چونکہ مغرب کے بعد علاج کیلئے بھی جانا تھا۔ سُو میں نے گامے کے بیٹے کو پیار کرتے ہُوئے کہا۔ کہ،، بابا سے کہو ۔۔۔ مجھے کہیں جانا ہے۔ اِس لئے جلد مُلاقات کرلیں۔۔۔ میرا خیال تھا۔کہ،، جیسے ہی گاما میرے متعلق سُنے گا۔ وُہ اُستاد جی کہتا ہُوا۔ ننگے پاوٗں دوڑتا ہُوا چلا آئے گا۔

 کافی دیر گُزر گئی لیکن گاما نہیں آیا۔۔۔ کچھ دیر بعد وہی بچہ اندر کوٹھی سے برآمد ہُوا۔ اُور میرے پاس آکر کہنے لگا۔۔۔  شاہ جی فرمارہے ہیں۔کہ،، ابھی میں بُہت مصروف ہُوں۔۔۔آپ یا تو اپنی باری کا انتظار کرلیں۔ یا کسی اُور دِن وقت لے کر آجائیں۔۔۔۔۔۔ مجھے اگر لُوگوں کی موجودگی کا اِحساس نہ ہُوتا۔ تو میں شائد وہیں صدمے سے ڈھیر ہُوجاتا۔۔۔ کچھ ہی دیر میں وُہ لُوگ بھی وہیں پُہنچ گئے۔ جنکے گھر مجھے علاج کیلئے جانا تھا۔۔۔ میں مزید شرمندگی سے بچنے کیلئے خاموشی سے اُن لُوگوں کیساتھ یہ سُوچ کر چل دیا۔۔۔ کہ،، آج چاہے جو بھی ہُوجائے۔ میں گامے سے ملاقات کئے بغیر واپس  اپنے گھرنہیں جاوٗنگا۔

مریض پر دَم کرنے کے بعد میں واپس تنہا گامے کی کوٹھی پر چلا آیا۔ مجھے مریض کے اہل خانہ کی زُبانی معلوم ہُوا کہ،، گامے شاہ  ظہر کے بعد سے لیکر عشا کی نماز تک لوگوں پر  لگاتار دَم کرتا ہے۔ لیکن ایک بھی نماز پڑھنے کیلئے اپنی نشست سے اُٹھ کر نہیں جاتا۔ اُور گامے شاہ کے چمچوں نے لوگوں میں یہ بات مشہور کردی ہے کہ،، گامے شاہ رُوحانی طور پر تمام نمازیں حرمِ پاک میں ادا کرتا ہے ۔۔۔ ۔۔۔اُس وقت کہیں کہیں سے اَذان عشاء بُلند ہُونے لگی تھی۔۔۔۔ گامے کے گھر سے لُوگوں کا رَش چھٹ چُکا تھا۔۔۔ ڈرائینگ رُوم میں  داخل ہُونے کے بعد میری نِگاہ    چند خواتین اُور گامے پر پڑی  جو بڑے انہماک سے ایک خاتون کے علاج میں مصروف تھا۔۔۔ میں خاموشی سے ایک کُونے میں بیٹھ گیا۔ گاما عجیب انداز سے اُس خاتون کی کمر اُور پسلیوں میں چٹکیاں بھر کر،، باہر نِکل، باہر نِکل ،، کی صدائیں بُلند کررہا تھا۔ دُوران علاج ایک مرتبہ گامے کی نِگاہ مجھ پر پڑی لیکن اُس نے مجھے کوئی خاص اہمیت نہیں دِی۔

تھوڑی دیر بعد جب وُہ خواتین  گامے کے سامنے اچھے خاصہ نزرانہ رکھ کر چلی گئیں۔۔۔ تب گامے نے خالی کمرے میں ایک طائرانہ نِگاہ دُوڑانے کے بعد مجھے مُخاطب کرتے ہُوئے کہا،، وارثی صاحب  آج ساڈی ضرورت کیوں پئے گی  تُہاں نُوں۔۔۔ میرا خیال تھا کہ،، مجھے پہچاننے کے بعد وُہ میرے قریب آجائے گا۔ لیکن وُہ اپنی مسند سے ٹس سے مَس نہ ہُوا۔۔۔ مجبوراً مجھے ہی آگے بڑھ کر اُسکی مسند کے  قریب جانا پڑا۔۔۔  گامے یہ سب کیا کررہے ہُو۔۔۔؟  کیا میں نے اِجازت دیتے ہُوئے تُم کو نذرانوں  اُور خواتین سے بالمشافہ ملاقات سے منع نہیں کیا تھا۔۔۔۔؟ میں نے گامے سے استفسار کیا۔۔۔۔۔ کیہڑی اِجازت وارثی صاحب۔۔۔ میں کوئی لاوارث نئیں آں۔۔۔ میرے  تےاپنے ماموں  بُہت وڈے عامل ہیں۔ میں اپنے ماموں دی اجازت لیکر لوکاں دا علاج کرریا واں۔۔۔۔ میں گامے کے بدلے تیور دیکھ کر حیران تو تھا ہی۔ لیکن میں جانتا تھا۔ کہ میں جتنے سوالات کرتا جاوٗں گا بات اُتنی ہی آگے بڑھتی چلی جائے گی۔۔۔ ورنہ  گاما میرے اِس ایک سوال کا بھی جواب دینے کے قابل نہیں تھا۔۔۔ کہ جب تُمہارے ماموں اتنے بڑے اُور پُہنچے ہُوئے عامل کامل تھے۔۔۔ تو اُس وقت تُمہاری مدد کو کیوں نہیں آئے۔۔۔۔؟ جب تُم بستر مَرگ پر پڑے ایڑیاں رگڑ رہے تھے۔۔۔ اور ماموں خود تجھے ہندو جوگی کے در پر لیجاتے تھے۔

لیکن میں جانتا تھا۔کہ میرے سوالات اُسے مزید جھوٹ کی دلدل میں غرق کرتے چلے جائیں گے۔۔۔ کیونکہ گامے کے مُنہ کو خُون لگ چکا تھا۔۔۔ دولت کی چمک نے اُس کی آنکھوں کو خیرہ کردیا تھا۔۔۔۔ لوگوں کی بھیڑ نے اُسکے قلب کی چمک چھین لی تھی۔۔۔ اسلئے اُسے آج اپنے محسن سے بھی خطرہ محسوس ہُونے لگا تھا۔۔۔۔

گامے ،،تُم مجھے یہ بتانا چاہ رہے ہُو۔۔۔ کہ یہ تمام  کرامتیں  اُور کمالات تُم میں تُمہارے ماموں نے ڈالی ہیں۔۔۔ اُور تُمہیں رُوحانی عِلاج کیلئے میری اجازت کی بالکل ضرورت نہیں ہے۔ ۔۔؟میں نے بڑے دِل گرفتہ انداز میں گامے سے آخری مرتبہ استفسار کیا۔۔۔۔ جی وارثی صاحب  تُساں سہی سمجھے ہُو۔۔۔ نہ مجھے پہلے تمہاری اجازت کی ضرورت تھی۔۔۔ اُور نہ آج ہی ضرورت ہے۔۔۔ گامے نے دُو ٹوک انداز میں جواب دیتے ہُوئے کہا۔۔۔۔۔ میں نے  الوداعی مُصافحہ کیلئے ہاتھ بڑھایا۔ تو گامے نے بھی بحث سے جان چھڑانے کیلئے دیوار سے ٹیک لگائے ہُوئے ہاتھ بڑھا دیا۔


میں نے  ایک لمحے کیلئے گامے کے ہاتھ کو مضبوطی سے دباتے ہُوئے کہا،، چُونکہ   آپکو میری اجازت کی ضرورت نہیں ہے۔ اُور نہ ہی آپکو میرا طریقہ پسند ہے۔ سُو آج میں اپنی اِجازت واپس لیتا ہُوں۔ اتنا کہنے کے بعد میں نے ایک جھٹکے سے اپنا ہاتھ گامے کے ہاتھ سے کھینچ لیا۔۔۔  اِس واقعہ نے مجھے اجازت کے معاملے میں بُہت محتاط بنا دیا تھا۔۔۔۔ کئی دِن تک میں بُہت افسردہ رَہا تھا۔۔۔ پھر دھیرے دھیرے  تمام معملات معمول پر آتے چلے گئے۔

میں نے کہانی ختم کرنے کے بعد احسان بھائی کے چہرے کی طرف دیکھا۔۔۔ تو اُنکی آنکھوں سے موتی ٹپک ٹپک کر زمین پر بِکھر رہے تھے۔۔۔۔ عشرت بھائی پھر گامے کا کیا ہُوا۔۔۔؟ احسان بھائی نے رُومال سے اپنی آنکھوں کو پُونچھتے ہُوئے کہا۔۔۔ 

گاما تین مہینے بعد اُسی مقام پر پُہنچ گیا۔۔۔ جس جگہ سے میں نے اُسے تھاما تھا۔۔۔۔ وُہ  ایکبار پھر میرے پاس آیا تھا۔۔۔ مجھ سے بُہت معافی مانگی اُور پھر سے   اپنے علاج  اُور اپنی شاگردی میں لینے کی درخواست کی۔۔۔ مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حدیث یاد تھی۔ کہ،، مومن ایک ہی سُوراخ سے ۲ بار نہیں ڈسا جاتا۔۔۔ سُو میں نے علاج کا وعدہ کرتے ہُوئے۔ سختی کیساتھ دُوباہ آنے کیلئے منع کردیا۔۔۔ میں نے ایکبار پھر اُسکی کاٹ ضرور کی۔ لیکن اُسے پھر کبھی شاگردی میں قبول نہیں کیا۔۔۔ کیونکہ مجھے پھر  کبھی استخارے میں اسکی اجازت نہیں مِلی۔۔۔ اے کاش میں نے اُسے  پہلی مرتبہ اجازت دیتے ہُوئے استخارہ کرلیا ہُوتا۔ تو مجھے  یہ صدمہ کبھی سہنا نہیں پڑتا۔۔۔