bing

Your SEO optimized title page contents

Pages

.

.

Monday, 24 February 2014

عامل کامل ابو شامِل قسط 28. صیاد قید میں



گُذشتہ سے پیوستہ۔
کیوں میرے دُوست تم نے انسانوں کو مارکیٹنگ کرتے ہُوئے  تو ہزار مرتبہ دیکھا ہُوگا۔ لیکن کیا کسی انسان کو مجھ جِن زادے کی طرح مارکیٹنگ کرتے بھی دیکھا ہے۔۔۔ ابو شامل نے تفاخر سے سینہ پُھلاتے ہُوئے داد طلب نِگاہوں سے کامل علی کی جانب دیکھا۔۔۔۔۔۔ یار تمہاری پرفارمنس تو واقعی زبردست تھی۔۔۔ لیکن یہ بتاوٗ کہ نفاست صدیقی کو اعتبار کیسے دِلاوٗ گے۔۔۔۔ اُور یہ آئل جسکا ابھی  تُم نفاست صدیقی سے تذکرہ کررہے تھے۔ وُہ کہاں سے پیدا کرو گے۔ ۔۔۔ کامل علی نے  تعجب سے ابو شامل سے دریافت کیا۔

دَوا ئی کیلئے میں ابھی کوہ قاف کے شاہی حکیم بطلیموس سے رابطہ کرونگا۔ مجھے معلوم ہے۔ وُہ ہر قسم کے امراض کا شافی علاج کرتے ہیں۔ اُور مجھ سے خصوصی محبت رکھتے ہیں۔۔۔ اِس لئے مجھے کبھی  کسی کام کیلئے منع نہیں کریں گے۔۔۔ اُور جہاں تک نفاست صدیقی کو مطمئین کرنے کی بات ہے تو میرے خیال میں ہمارے کانٹے میں ایسی مچھلی آگئی ہے۔ جس کے پیچھے پیچھے دوسری مچھلیاں خود بخود چلی آئیں گی۔ اُور ہمیں  پبلسٹی کیلئے ذیادہ محنت نہیں کرنی پڑے گی۔ اِس لئے نِفاست صدیقی کو ہم ایڈوانٹیج دیں گے۔ اُور تعلقات کو  مستحکم کرنے کیلئے پہلے کسٹمر کو فری دوائی دیں گے۔ جسکی وجہ سے نفیس صدیقی جیسی بڑی پارٹی ہمیشہ ہمارے اِحسان تلے دبی رہے گی۔۔۔۔ ابوشامل نے مکارانہ انداز میں قہقہ بلند کرتے ہُوئے کہا۔۔۔۔جبکہ کامل علی ہونقوں کی طرح ابو شامل کے آئیڈیئے پر  دِل ہی دِل میں اُسے داد  دے رَہا تھا۔
جاری ہے۔۔۔
اَب مزید پڑھیئے۔
دُوسرے دن  ابو شامل نے عصر کی نماز کے بعد جب کامِل علی کو لیجا کر  کُوٹھی کا نیا سیٹ اَپ دِکھایا تو کامل علی بھی حیرت زدہ رِہ گیا۔ ۔۔کو ٹھی پُر وقار ہُونے  کیساتھ ساتھ اب ایک جدید  اُور ماڈرن آستانے کا منظر بھی پیش کررہی تھی۔ کچھ قیمتی نوادرات کا اِضافہ بھی کیا گیا تھا۔ ایک خوبصورت حقہ نما اینٹیک میں  مسحور کُن بخورات سُلگ کر تمام ماحول کو  معطر کررہے تھے۔ جبکہ لائٹنگ کے  بہترین استعمال نے  ماحول کو پُراسرار بنا دیا تھا۔ ایک جانب چند خوش لباس لُوگوں کو دیکھ کر کامِل علی نے سرگوشی میں ابو شامل سے استفسار کیا۔۔۔۔ یہ کُون لُوگ ہیں۔۔۔؟؟؟

یہ سب میری برادری کے لُوگ ہیں۔۔ جو صرف کلاینٹ پر اچھا اثر ڈالنے کیلئے یہاں وقتاً فوقتاً پیش ہُونگے۔۔۔ اُور ہاں یاد آیا۔کہ،، جب بھی کوئی مریض تُمہارے پاس خلوت میں بھیجا جائے گا۔ میں بھی تُمہارے پاس حاضر رَہوں گا۔ جنہیں کیا جوابات دینے ہیں۔ اُور کیسے بات کرنی ہے۔ یہ میں تمہیں اُسی وقت بتاتا رَہوں گا۔۔۔۔۔ ابو شامل نے کامل علی کو سمجھاتے ہُوے کہا۔۔۔

یار اگر تمہارے سمجھانے پر اُنہیں  ہدایات دُونگا۔ تو کیا وُہ  آنے والےلوگ مجھ سے بدظن نہیں ہُونگے۔کہ ،، کیسا بابا ہے جو اپنے اسسٹنٹ سے  ہدایات لے رَہا ہے۔ کامل علی نے مُنہ بناتے ہُوئے کہا۔۔۔۔۔۔۔۔ کامل کے سوال پر ابو شامل نے قہقہ لگاتے ہوئے کہا۔۔۔ اُو میرے بُھولے بادشاہ میں  تم لوگوں کیساتھ حاضر ضرور رَہوں گا۔۔۔لیکن نظر صرف تجھے آوٗنگا۔۔۔۔  وُہ لُوگ نہ مجھے دیکھ پائیں گے۔اُور نہ ہی میری آواز سُن پائیں گے۔ اُور ہاں  کل تمہیں نفاست صدیقی سے متعلق جو باتیں سمجھائی تھیں۔۔۔ وُہ تو یاد ہیں نا تُم کو۔؟؟؟۔۔۔۔۔ ہاں بھئی سب کچھ یاد ہے۔۔۔ میں نہ کوئی چھوٹا سا بچہ ہُوں۔اُور نہ ہی میری یاداشت اتنی کمزور ہے ۔کہ،، کل  ہی کی بات بھول جاوٗں۔ کامل علی نے جھنجلائے ہُوئے لہجے میں جواب دِیا۔۔۔۔  چلو  اب خفگی  چھوڑو۔ اُور اپنا مُوڈ ٹھیک کرلو۔۔۔ کیونکہ مجھے نفاست صدیقی کی آمد سے قبل تُمہارا  ہلکا پھلکا میک اَپ  بھی کرنا ہے۔ابو شامل نے گفتگو کا موضوع بدلتے ہُوئے کہا۔۔۔

تھوڑی دیر میں ابو شامل  نے میک اپ کے ذریعہ سے کامل علی کا حلیہ ہی بدل کر رکھ دیا۔۔۔  کامل علی میک اَپ کے بعد خُود کو آئینے میں دیکھ کر حیرت زدہ رِہ گیا۔۔۔ شانے کو چُھوتے ہوئے گھنگریالے گیسو، اُور چہرے پر سجی ہلکی ہلکی داڑھی کیساتھ خُوبصورت  گولڈن کام کے کُرتے اُور واسکٹ میں وُہ بالکل ایک شہزادے کی طرح  دِکھائی دے رَہا تھا۔۔۔۔ یار ابو شامل تُم مجھے عامل دِکھانا چاہتے ہُو۔یا کسی ریاست کا شہزادہ۔۔۔؟ کامل علی نے ابو شامل کو گھورتے ہُوئے استفسار کیا۔۔۔۔۔ یار تُمہارا کیا خیال ہے۔کہ،، میں اتنا بدذوق  بندہ ہُوں۔  جو تُمہیں کوئی گندے  سے بہروپ میں ایک صنعتکار کے سامنے پیش کروں گا۔
 
مغرب کی آذان کیساتھ ہی تمام سیٹ  اپ مکمل ہُوچکا تھا۔۔۔ کامِل علی کے کمرے کے باہر بیسیوں لُوگوں کو  ایسے مُہذب  انداز میں  سیٹوں پر بٹھا دِیا گیا تھا۔ جیسے وُہ تمام لُوگ  مُلاقاتی ہُوں۔ اُور اپنی باری کے منتظر ہُوں۔ سبھی لُوگ لباس اُور رکھ رکھاوٗ سے اُونچے عہدوں کے حامل یا کاروباری افراد دِکھائی دیتے تھے۔۔ اِن میں سے کچھ لُوگ انگریزی نیوز پیپر ز  یا میگزین کے مطالعہ میں مصروف تھے۔۔۔ ویٹننگ رُوم میں دُو افراد ایسے بھی تھے جو سگار سے شغل کررہے تھے۔۔ جبکہ کار پُورچ اُور  کُوٹھی کے لان  سے ملحق  راہداری میں کھڑی بیش قیمت  گاڑیاں بھی آنے والوں کی  پُوزیشن کی چغلی کھارہی تھیں۔

مغرب کی نماز کے فورا بعد کوٹھی کے گیٹ  پرنفاست صدیقی امپورٹیڈ لیموزین سے برآمد ہُوئے۔۔۔ کوٹھی کے اندر و باہر گاڑیوں کی قطاریں دیکھ کر دوسرے ہی لمحے اُنکی گردن میں پڑی راڈ نرم پڑچکی تھی۔۔۔  نفاست صدیقی کا خیال تھا۔کہ،، اُنکی  مالی حیثیت کی وجہ سے اُنکا  گیٹ پر استقبال  کیا جائے گا۔لیکن کھلے ہُوئے  خالی گیٹ نے اُنکے پھولے ہُوئے سینے کو ذرا سا پچکا دیا تھا۔۔۔ نفاست صدیقی کوٹھی کے گیٹ سے اندر کسی  ملازم کو تلاش کرتے ہُوئے ویٹنگ رُوم میں پُہنچ گئے۔۔۔ کوٹھی کی آرائش ونفاست   اُور ویٹننگ رُوم میں موجود لُوگوں کو دیکھنے کے بعد نفاست صدیقی اِس نتیجے پر پُہنچے تھے۔ کہ یہ کوئی رِوایتی آستانہ نہیں ہے۔ اُور جہاں پہلے سے ہی اسقدر بااثر افراد کو جھگمٹا موجود ہے۔وہاں اِنکی اِمارت سے  مرعوب ہُونے والا کُون ہُوگا۔۔۔۔ وُہ اپنے بیٹھنے کیلئے   کسی مناسب جگہ کی تلاش کے ساتھ ساتھ یہ بھی سُوچ کر پریشان ہُورہے تھے۔کہ اتنے  لوگوں کے بعد باری آتے آتے توشائد کئی گھنٹے گُزر جائیں گے۔۔۔؟؟؟ ابو شامِل ،نفاست صدیقی کی آمد سے بے خبر نہیں تھا۔بس وُہ تو نفاست صدیقی کے غبارے سے ہُوا نِکل جانے کے انتظار میں تھا ۔۔۔۔۔جُونہی ابو شامل کو اپنا مطلوبہ مقصد پُورا ہُوتا دِکھائی دِیا۔ ابو شامل نے  آگے بڑھ کر نفاست صدیقی کی جانب  ہاتھ بڑھاتے ہُوئے  اپنا تعارف پیش کیا۔۔بندے کو ابو شامِل کہتے ہیں۔ اُور آپ غالباً نفاست صدیقی ہیں۔۔۔؟۔۔۔۔۔ جی آپ نے بالکل ٹھیک پہچانا ہے۔ اُورکل شائد  میری آپ ہی سے بات ہُوئی تھی۔؟۔۔۔ نفاست صدیقی نے گرمجوشی سے ہاتھ مِلاتے ہُوئے استفسار کیا۔

ابو شامل ، نفاست صدیقی کا ہاتھ تھامے اُسے ایک کمرے میں لے آیا۔ یہ کمرہ بھی انتہائی پرتعیش اشیاٗ کی وجہ سے نفاست صدیقی کو اپنی جانب متوجہ کررہا تھا۔۔۔ اُور سُنایئے نفاست صاحب یہاں تک پُہنچنے میں کوئی دُشواری تو پیش نہیں آئی آپکو۔۔۔۔؟ ابو شامل نے نفاست صدیقی کی محویت سے لطف اندوز ہُوتے ہُوئے کہا۔۔۔۔ جی نہیں  کوئی دِقت پیش نہیں آئی۔لیکن یہاں اتنا رَش دیکھ کر پریشانی ضرور ہُورہی ہے۔۔۔نفاست صدیقی نے اپنی پریشانی  کا برملا اظہار کرتے ہُوئے کہا۔۔۔۔ نفاست صاحب آپ پریشان بالکل نہ ہُوں۔۔۔ جب  کل میں نے آپکووقت دیا تھا۔تو اب یہ میری ذمہ داری ہے کہ،، کسی بھی طرح آپکو انتظار کی زحمت نہ ہُونے دُوں۔۔۔ قبلہ کامل شاہ صاحب اگرچہ کسی کی حق تلفی کو پسند نہیں فرماتے۔۔۔ لیکن میں اگر کسی کی سفارش کردُوں تو قبلہ شاہ صاحب میری بات کی لاج رکھ ہی لیتے ہیں۔ اِسی لئے میں آپکو ویٹنگ رُوم کے بجائے اِس خاص کمرے میں لے آیا ہُوں۔تاکہ جلد از جلد آپکی مُلاقات کا بندوبست کراسَکوں۔ انشاٗ اللہ  آپکو پندرہ منٹ سے ذیادہ انتظار نہیں کرنا پرے گا۔۔۔  بس شاہ صاحب نوافل و اذکار سے فارغ ہُوجائیں تو پہلا نمبر اِس خادم کی وجہ آپکو ہی ملے گا۔۔۔ ابو شامِل نے خوشدلی سے جواب دیتے ہُوئے کہا۔۔۔

پندرہ منٹ بعد حسب وعدہ ابوشامل نے نفاست صدیقی کو  کامل علی کے آستانے نُما کمرے تک پُہنچا کر  آہستگی سے دروازہ باہر سے بند کردیا۔۔۔ سامنے فرشی نشست پر کامل علی آنکھیں بند کئے تسبیح پر انگلیاں گھما رہا تھا۔  نفاست صدیقی احترام سے قالین پر چلتے ہوئے کامل علی کے ہاتھوں کا بوسہ لینے کیلئے اِس بات سے بے خبرآگےبڑھ رَہا تھا۔کہ،،  اُسکے اُور کامل علی کے علاوہ ابو شامل بھی  غائبانہ طُور پر کامل علی کے ساتھ براجمان ہُو کر کامل علی کے کان میں سرگوشیاں کررہا ہے۔۔۔۔ نفاست صدیقی تم نے تو ہمیشہ دیسی علاج اُور خانقاہی سسٹم کی مخالفت کی ہے۔ اُور تم ہمیشہ یہی کہتے رہے ہُو نا کہ،، کالا سفید ، نوری  یا شیطانی  علم کچھ نہیں ہُوتا۔ یہ سب کم علم لوگوں کی فراغت کا  سرچشمہ ہے۔۔۔ مگر دیکھ لُو۔۔ آج تُم اُسی سسٹم کا حصہ بننے کیلئے یہاں موجود ہُو۔۔۔۔  نفاست صدیقی  کامل علی کی بارُعب آ  واز سُننے کے بعد ایک لمحے کیلئے ٹھٹک کر ٹہر گیا۔اُسے اپنی سماعت پر یقین نہیں آرہا تھا۔ بھلا کوئی کیسے اُسکے ماضی کو کھنگال کر اُس کے سامنے رکھ سکتا تھا۔۔۔ اُسے یقین آگیا۔کہ،، واقعی  دُنیا میں بُہت سے علوم ایسے بھی ہیں۔ جو انسان کے اندر بھی جھانکنے کی صلاحیت پیدا کرسکتے ہیں۔۔۔۔۔  نفاست صدیقی نے کامل کے ہاتھوں پر بُوسہ دیکر لرزتی ہُوئی آواز میں کہا۔۔۔۔ شاہ صاحب میں اپنی  سابقہ فکر  اُور مادی فلسفے پر نادم ہُوں۔ آپ مجھے معاف فرماکر اپنی غلامی میں قبول فرمالیں۔۔۔
(جاری ہے)۔

اُسکا کہنا ہے۔ کِسی اُور کو دیکھوں نہ کبھی
کیوں کہ اُسکو یہ میرا رُوپ بُرا لگتا ہے۔

مجھکو ہر چہرے میں آتی ہے نظر اِک وُہ ہی
جُو نہ بھر پائے یہ بہروُپ بُرا لگتا ہے۔

Saturday, 22 February 2014

میں بھی طالبان ہُوں مگر۔۔۔۔؟




کل میری بیٹی جُونہی اسکول سے واپس گھر آئی۔ بَستہ رکھتے ہی میرے پاس آبیٹھی۔ حالانکہ وہ شدید گرمی کی وجہ سے پسینے میں شرابُور تھی۔ لیکن اُسکی بے چینی دیکھ کر ہی میں سمجھ گیا کہ وہ اپنے ذہن میں کوئی اُلجھا ہُوا سوال لئے ہُوئے بُہت مضطرب ہے ۔ وَگرنہ اسکول سے وَاپسی پر وہ ہمیشہ اپنا ڈریس تبدیل کرنے کے بعد سب سے پہلے کھانے کی صدا ہی بُلند کرتی ہے۔


میں نے اُسکی بے چینی دیکھتے ہُوئے استفسار کیا۔۔۔ بیٹا خیریت تُو ہے آج آپ کھانا اسکول کینٹین سے تُو نہیں کھا آئیں۔۔۔۔۔؟


وہ کہنے لگی ۔۔۔نہیں بابا ایسی تُو کوئی بات نہیں ہے۔۔۔ بس باباجانی کُجھ جاننا چاہتی ہُوں۔۔۔ آپ مجھے جہاد سے متعلق کُچھ بتائیں ۔۔۔؟ اور یہ بھی کہ شہید کُون ہُوتے ہیں۔۔۔۔؟


میں نے اُسے کہا کہ بیٹا پہلے لباس تبدیل کرلو۔ پھر کھانا کھالو ۔اُسکے بعد میں تفصیل سے تُمہارے سوال کا جواب دے دیتا ہُوں۔۔۔!


لیکن وہ شائد اپنے سوالوں کے جواب کیلئے اتنی زیادہ متجسس تھی۔ کہ کہنے لگی نہیں بابا جانی پہلے آپ میرے سوالوں کا جواب دے دیں۔ اُسکے بعد میں کھانا کھالونگی۔ کیونکہ جب تک مجھے میرے سوالوں کا جواب نہیں مِلے گا میں بے چین ہی رَہوں گی۔۔۔ مجھے معلوم ہے کہ وہ ہمیشہ سے ہی ہر نئی بات پر متجسس ہوجاتی ہے۔ اور جب تک اُسے اپنے سوال کا جواب نہ مِل جائے وہ چین سے نہیں بیٹھتی ہے۔ لہذا میں نے ہمیشہ کی طرح ہَار مانتے ہُوئے اُسکے سوالوں کا جواب پہلے دینے کیلئے حامی بھر لی۔ اور اُسکے سوالوں کا جواب دیتے ہُوئے اُسے بتانے لگا۔


بیٹا جہاد کا حُکم قران مجید فرقانِ حمید میں کئی جگہوں پر آیا ہے۔ جہاد کے معنیٰ جدوجہد اور کوشش کے ہیں۔ جہاد فی سبیل اللہ کو آسان لفظوں میں اسطرح کہہ سکتے ہیں۔ کہ اللہ کریم کی راہ میں کوشش کرنا۔


میں نے ابھی گُفتگو شروع ہی کی تھی۔ کہ میری بچّی درمیان میں بُول پڑی۔۔ بابا کوشش کرنا۔۔ یا۔۔ اللہ کریم کی راہ میں گردن کَٹوانا،، کیونکہ ہماری ٹیچر نے ہمیں بتایا تھا کہ اللہ کریم کی راہ میں جان دینے کو جہاد کہتے ہیں۔۔۔؟


ہاں بیٹا اللہ کریم کی راہ میں لڑتے ہُوئے اپنی جان قربان کرنا جہاد ہے۔ لیکن تُم اگر میری بات کو تَسلی سے سُنو گی تو میں تُمہیں جِہاد سےمتعلق تفصیل سے بتا سکوں گا۔


جی بابا جان آپ بتایئے اب میں بِلا ضرورت نہیں بُولونگی۔ اُس نے اپنی کہنیوں کے پیالے میں اپنے چہرے کو سجاتے ہُوئے کہا۔۔۔


دیکھو بیٹا جہاد کی کئی اِقسام عُلماءِ کرام نے بیان کی ہیں اور اِن اقسام پر سبھی عُلماء کا اجماع بھی ہے۔ کیونکہ یہ سبھی اقسام قران وسنت کی روشنی کے عین مطابق ہیں۔ اور جِہاد کا مُنکر بلاتفاق،، کافر،، ہے۔ البتہ جہاد کے طریقہ کار پر ایک گروہ کا دوسرے گِروہ سے اُصولی اختلاف ممکن ہے۔


جہاد کی یہ پانچ اقسام بُہت مشہور ہیں نمبر1۔جہاد بالعِلم ۔ نمبر2۔جہاد بالمال۔نمبر3۔جہاد بالعمل۔ نمبر4۔جہادبالنفس۔ نمبر5۔جہاد بالقتال۔


بیٹا ، جہاد علم،،کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کریم اور اُسکے مدنی محبوب ﷺ کے احکامات کو سیکھ کر دُنیائے انسانیت تک اُسکی روشنی کو پہنچانا۔ تاکہ ظُلمت کو دین کی روشنی سے منور کیا جاسکے۔ تاکہ تِیرگی چھٹ جائے اور لوگوں کو صحیح اور غلط میں تمیز کرنے میں آسانی ہُوجائے۔ کوشش کرنا انسان کا کام ہے جبکہ ہدایت دینا اللہ کریم کا کام ہے۔ اور قران مجید میں بھی اِسکا واضح حُکم موجود ہے مفہوم،، تم میں ایک ایسی جماعت ہونی چاہیئے جو نیکی کا حُکم کرے اور بُرائی سے رُوکے۔


جبکہ مال سے جہاد کے معنیٰ ہیں کہ اپنی حلال ذرائع سے حَاصِل کی گئی دولت کو اللہ کریم کی راہ میں خرچ کیا جائے۔ اب چاہے وہ رقم مجاھدینِ اسلام کو دِی جائے یا کِسی نادار و بیوہ کو دی جائے ۔ چاہے مدارِس میں پُہنچادی جائے۔ یا کِسی فلاحی کام میں خرچ کردی جائے۔ کیونکہ مال محنت سے کمایا اور جمع کیا جاتا ہے اسلئے اسکا استعمال بھی انسان کے نفس پر گِراں گُزرتا ہے لِہذا جب اتنی کوشش کے بعد کمایا ہُوا مال انسان راہِ خدا میں خرچ کرتا ہے تب شیطان طرح طرح کے وسوسے انسان کے دِل میں پیدا کرتا ہے۔ اور شیطان و نفس سے لڑتے ہُوئے جب انسان خُوشدلی سے راہِ خُدا میں مال خرچ کردیتا ہے۔ تُو یہ بھی جہاد کے زِمرے میں آتا ہے۔ جیسا کہ اللہ کریم اپنے کلامِ پاک میں ارشاد فرماتا ہے۔ایمان رکھو اللہ اور اس کے رسول پر اور اللہ کی راہ میں اپنے مال و جان سے جہاد کرو، یہ تمہارے لیے بہتر ہے اگر تم جانو۔۔۔ سورہ اَلصّٰف آیت نمبر ۱۱۔


اور بِٹیا جہادِ عمل کے متعلق بھی سُنو: جب بحیثیت مسلمان ہم نے اپنی دینی اور دُنیاوی ضروریات کے مُطابق اسلام کی تعلیمات کو سیکھ اور سمجھ لیا تب ہم پر لازم ہے کہ صِرف گُفتار کے غازی نہ بنیں۔ بلکہ جو علم حاصِل کیا ہے اُس پر عمل بھی کریں۔ چاہے شیطن لاکھ حیلے سمجھائے ۔چاہے اُن پر عمل سے دُنیاوی فائدہ ہمارے ہاتھ آئے یا دُنیاوی نقصان ہمارا مُقدر بنے ۔ یا ہمیں اس پر عمل کی کوئی بھی قیمت ادا کرنی پڑے۔ لیکن رضائے رَبُّ الانام کی خاطر ہمیں اس پر عمل پیرا ہونا ہی چاہیئے اور یہی عملی جہاد ہے۔


جبکہ جہاد بالنفس اپنی خُواہشات کو اللہ کی مرضی پر قربان کردینے کا نام ہے۔ جیسے سردیوں کی صبح میں فجر کی نماز نفس پر بھاری ہُوتی ہے۔ مگر یہی عمل اللہ کو محبوب ہے۔ تب یہ نہ دیکھو کہ اِس عمل میں مشقت ہے بلکہ یہ دِیکھو کہ اللہ کریم کی چاہت کیا ہے۔ جسطرح جُھلسا دینے والی گرمی میں روزہ رکھنا نفس پر گِراں گُزرتا ہے مگر اللہ کریم اس عمل پر اپنی خوشی کا اِظہار فرشتوں کے سامنےفرماتا ہے۔ اور کبھی جب کوئی سائل اپنی ضرورت بیان کرتا ہے تو نفس سمجھاتا ہے کہ تجھے اسکی ذیادہ ضرورت ہے۔ لیکن اگر سائل کی ضرورت پوری کردی جائے تو خُدا خُوش ہوتاہے۔ اسی طرح ہر وہ عمل جو نفس پر شاق گُزرے لیکن وہی عمل خُدا کی خوشنودی کا باعث ہُو ۔ تب خُدا و رَسول کی رضا کو مقدم رکھنا جہادِ نفس ہے۔


اور بیٹا ایک جہادِ قتال ہُوتا ہے یعنی کافر سے اللہ کریم کی رضا کیلئے قتال یعنی لڑائی کرنا۔ اسکا بھی قران مجید میں کئی جگہوں پر حُکم موجود ہے اور اسکی بھی بڑی نرالی شان ہے چُنانچہ قران مجید میں ارشاد ہُوتا ہے کہ،، اور لڑو اللہ کی راہ میں اور جان لو کہ اللہ سنتا جانتا ہے، سورہ البقرۃ آیت ۲۴۴۔۔۔ جبکہ دوسری جگہ اِرشاد ہُوتا ہے کہ،،اور جو خدا کی راہ میں مارے جائیں انہیں مردہ نہ کہو بلکہ وہ زندہ ہیں ہاں تمہیں خبرنہیں ۔سورہ البقرۃ ۱۵۴


یعنی جو جہاد میں، اللہ کی راہ میں مارا جائے وہ شہید کہلاتا ہے اور قران کریم کا فیصلہ ہے کہ ،،شہید مرتا نہیں بلکہ زندہ رِہتا ہے۔ لیکن یہ بات اور ہے کہ۔ ہم اُنکی زندگی کے اطوار کو نہیں جان پاتے۔ اور وہ کیسے کھاتے پیتے ہیں یہ نہیں سمجھ پاتے ۔مگر وہ زندہ ہیں۔ کیونکہ یہ اللہ کریم کا فرمان ہے۔ اور جہاد کے فضائل میں بے شُمار اَحادیثِ مبارکہ بھی کُتب اَحادیث میں موجود ہیں۔ جیسا کہ بُخاری شریف کی یہ حدیث ہے۔


ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اس نے کہا۔لوگوں میں سے افضل کون ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایسا آدمی جو اللہ کی راہ میں اپنی جان و مال سے جہاد کرتا ہے۔“ اس نے کہا:”پھر کون؟آپ صل اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ آدمی جو لوگوں سے الگ ہو کر کسی گھاٹی میں اللہ کی عبادت کرے اور لوگ اس کے شر سے محفوظ رہیں۔“بخاری، کتاب الجہاد۔6782


لیکن میری بَچّی ۔۔اِس جہاد مقاتل کیلئے کُچھ قانون ہیں۔ کبھی یہ فرضِ کفایہ ہُوتا ہے ۔ تو کبھی یہ فرضِ عین ہُوتا ہے۔اور کبھی مُباح کی صورت اختیار کرجاتا ہے۔ اور اسکے بے شُمار آداب و احکامات اور اُصول خود اللہ عزوجل اور اُسکے مدنی محبوب (صلی اللہ علیہ وسلم) نے بیان فرمائے ہیں جبکہ کُچھ آثارِ صحابہ (رِضوان اللہ علیہم اجمعین)سے ثابت ہیں ۔ جِنکا پاس رکھنا ہر مُجاھِدِ اسلام اور امیرِ مجاھِدین و لشکر پر لازم و فرض ہے۔اگر اِن قواعد اور احکامات کو پسِ پشت ڈال کر جہاد کیا جائے۔ تو ایسی لڑائی نہ صِرف جہاد کی رُوح کی عین منافی تصور کی جائے گی۔ بلکہ جہاد کے بجائے دھشت گردی کے زمرے میں شامل ہُوجائے گی۔


بابا ایک بات اور بتائیں کہ یہ طالِبان کون ہُوتے ہیں۔۔۔؟ میری ٹیچر مجھے بتارہی تھیں کہ طالِبان اللہ تعالی کے نیک ترین بندے ہُوتے ہیں۔ بلکہ یہ سب وِلایت کے درجے پر ہیں۔ پھر بابا جان آپ طالبان کیساتھ جِہاد میں شامِل کیوں نہیں ہُوتے۔۔۔۔؟



میری بَچّی طالبان ۔ طالِب کی جمع ہے۔ جِس کے معنی ہیں۔۔خواہشمند۔ آرزومند۔ مانگنے والا۔ طلب کرنے والا۔مشتاق ۔ ان تمام معنوں سے تم مجھے دیکھو گی۔ تُو ضرور مجھے طالبان کی صف میں دست بَدستہ پاوٗ گی۔ میں شہادت کیلئے مشتاق ہُوں ۔ اور ہر نماز میں اپنے رب عزوجل سے شہادت کی موت کی تمنا کا سوال کرتا ہُوں۔ میں روشنی کا خُواہشمند ہُوں۔ میں عِلم کے لئے حَریص ہُوں۔ میں مسلمانوں کی ترقی کا آرزومند ہُوں۔ میں عافیت کا طلبگار ہُوں۔ اور کُفار کے مقابل میں مسلمانوں کو تفرقہ پرستی سے بیزار شانہ بشانہ کھڑا دیکھنا چاہتا ہُوں۔


مگر بابا میں تو آپ سے اُن طالبان کی بابت گُفتگو کررہی ہُوں۔ جو موت سے نہیں گھبراتے، جو سینے پر بم باندھ کر شہادت کی موت کے متمنی رِہتے ہیں۔ میری بیٹی نے میری گُفتگو رُوکتے ہُوئے مجھے اپنی طرف ایک مرتبہ پھر متوجہ کرتے ہُوئے سوال کیا۔


میری بچی مجھے اُنکے ساتھ جہاد میں پیش پیش رہنے میں کوئی حرج نہیں ہُوتا۔ اگر میں نے احادیث مبارکہ اور آثارِ صحابہ (رِضوان اللہ تعالی اجمعین) کا بغور مطالعہ نہیں کیا ہُوتا ۔


مگر میں جتنا مُطالعہ کرتا چلا جاتا ہُوں مجھے طالبان کا طریق جہاد نہ صرِف صحابہ کرام (رِضوان اللہ تعالی اجمعین) کے طریقہ ءِجہاد سے مُختلف نظر آتا ہے بلکہ اُس جہاد سے متصادم نظر آتا ہے۔


جیسا کہ بُخاری شریف اور مسلم شریف کی کئی احادیث میں کافر بچوں، بُوڑھوں اور خواتین کو قصداً قتل کرنے کی ممانعت موجود ہے مگر یہ کافر بچوں اور خواتین تو کُجا۔ اسکولوں میں دَرس وتَدریس میں مشغول مسلمان بچوں، بچیوں اور خواتین کو قتل سے دریغ نہیں کرتے ۔جبکہ حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ ارشاد فرماتے ہیں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ۔ جو شخص لا الہ الا اللہ کا اقرار کرے اس سے ہاتھ اور زبان کو روکنا۔ کہ ہم نہ تو کسی گناہ کی وجہ سے اسے کافر قرار دیں اور نہ کسی عمل کی وجہ سے اسے اسلام سے خارج سمجھیں۔۔ (ابوداؤد)۔


صحیح مسلم شریف میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجاہدین کو فرمان دیا کرتے تھے کہ اللہ کی راہ میں جہاد کرو خیانت نہ کرو، بدعہدی سے بچو، ناک کان وغیرہ اعضاء نہ کاٹو، بچوں کو اور زاہد لوگوں کو جو عبادت خانوں میں پڑے رہتے ہیں قتل نہ کرو۔


مسند احمد کی ایک روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرمایا کرتے تھے اللہ کا نام لے کر نکلو اللہ کی راہ میں جہاد کرو کفار سے لڑو ظلم وزیادتی نہ کرو دُھوکہ بازی نہ کرو۔ دشمن کے اعضاء بدن نہ کاٹو درویشوں کو قتل نہ کرو،


بخاری ومسلم میں ہے کہ ایک مرتبہ ایک غزوہ میں ایک عورت قتل کی ہوئی پائی گئی حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے بہت بُرا مانا اور عورتوں اور بچوں کے قتل کو منع فرما دیا،


اگرچہ ابتداءِ اسلام میں اسکی اِجازت باقی تھی لیکن جُوں جُوں وقت گُزرتا گیا یہ احکام بھی تبدیل ہُوتے رہے چُنانچہ حضرت علامہ کمال الدین ابن ہمام فتح القدیر کی جلد پنجم میں ارشاد فرماتے ہیں کہ ابتداءِ اسلام میں مشرک عورتوں اور بچوں کو بھی قتل کردیا جاتا تھا۔ اِس لئے عورتوں سے بھی جزیہ وصول کیا جاتا تھا۔ اور جب عورتوں کے قتل کا حُکم منسوخ ہوگیا تو جزیہ لینے کا حُکم بھی ساقط ہُوگیا۔


جبکہ موجودہ دُور کے طالبان نہ صرف کافروں کے بچوں اور عورتوں کے قتل کو جائز سمجھتے ہیں بلکہ وہ اپنے مقصد کے حصول کیلئےمسلمانوں کی مساجد اور مزارات پر حملوں کے ذریعہ بے گُناہ مسلمانوں کو بھی خُون سے نہلانے میں کوئی عار محسوس نہیں کرتے۔ حالانکہ مومن کی تُو پہچان ہی یہی ہے کہ اُس سے دیگر مسلمان محفوظ و مامون رہیں۔


کہاں تو آقائے نامدار (صلی اللہ علیہ وسلم) کافروں کا مثلہ یعنی کان ناک کاٹنے سے روکیں اور کہاں یہ نام نہاد مجاھدین جنہوں نے کافروں کو چھوڑ کر مسلمانوں کی لاشوں کو قبروں سے نِکال کر نہ صِرف مُثلہ کیا بلکہ اُنکی لاشوں کی بےحُرمتی کے بعد اُن لاشوں کو چوراہے پر لٹکادِیا۔ تاکہ مسلمانوں میں انکا خُوف اور دبدبہ قائم ہُوجائے۔ میرے ایک میجر دوست جنکی ڈیوٹی وزیرستان میں تھی۔ مجھے اکثر بتایا کرتے تھے۔ کہ افواجِ پاکستان کے سپاھی جب طالبان کے ہاتھ لگ جاتے تب کبھی کوئی ایسی لاش واپس نہیں ملتی۔ کہ جسکے اعضاء سلامت ہُوں۔


جبکہ ایسے اعمال میں ملوث افراد اور انکی امداد کرنے والے صاحبان کو بُخاری ، مسلم ، اور ابو داوٗد شریف میں موجود اس مشترکہ حدیث پاک کو دیکھنا چاہیئے جو لفظوں کے معمولی فرق کیساتھ تین مستند محدثین (رحم اللہِ اجمعین) نے بیان فرمائی ہے


حضرت علی رضی اﷲ عنہ نے حضور سید عالم کی خدمت میں کچھ خام سونا مٹی میں لگا ہوا بھیجا تو آپ نے وہ چار آدمیوں میں تقسیم فرمادیا (یعنی اقرع بن حابس حنظلی مجاشعی، عینیہ بن بدرالغزاری، زید الخیل طائی اور علقمہ بن علاثہ عامری کے درمیان) قریش اور انصار اس پر ناراض ہوئے اور کہاکہ نجد کے رئیسوں کو مال عطا فرمادیا اور ہمیں نظر انداز کردیا گیا۔ آپ نے ارشاد فرمایا کہ میں ان کے دلوں میں اسلام کی محبت ڈالتا ہوں۔ پس ایک آدمی آگے بڑھا جس کی آنکھیں دھنسی ہوئی تھیں، گال پھولے ہوئے تھے، پیشانی ابھری ہوئی تھی اور داڑھی گھنی تھی اور سر مُنڈا ہُوا تھا۔ اس نے کہا اے محمد! اﷲ تعالیٰ سے ڈر و۔(معاذ اﷲ) آپ نے فرمایا! اﷲ تعالیٰ کی اطاعت کون کرے گا؟ اگر میں اس کی نافرمانی کرتا ہوں۔ اﷲ تعالیٰ نے تو مجھے زمین والوں پر امانت دار شمار فرمایا ہے، لیکن کیا تم مجھے امانتدار نہیں سمجھتے؟ پس ایک آدمی نے اسے قتل کرنے کا سوال کیا۔ میرے خیال میں وہ حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ تھے، آپ نے منع فرمایا جب وہ لوٹ گیا تو آپ نے فرمایا اس کی نسل یا پیٹھ سے ایسے لوگ پیدا ہوں گے جو قرآن مجید پڑھیں گے لیکن (قرآن) ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا۔ وہ اسلام سے نکلتے ہوئے ہونگے جیسے کمان سے تیر نکل جاتا ہے۔ وہ اہل اسلام کو قتل کریں گے اور بت پرستوں کو چھوڑ دیا کریں گے۔ اگر میں انہیں پائوں تو قوم عاد کی طرح مٹا کر رکھ دوں ۔


پھر جہاد کے اُصول و قواعد کو کوئی بھی حضرت ابوبکر صدیق و عُمرِ فاروق ، حضرت ابو عبیدہ بن جراح اور حضرت خالد بن ولید (رِضوان اللہ تعالی علیہم اجمعین)سے ذیادہ جاننے کا دعویدار نہیں ہُوسکتا اور بالفرض کوئی دعویٰ کرے تو اُس سے بڑا دُنیا میں کوئی جھوٹا نہ ہُوگا۔ اِن تمام جَیّد و کبائر صحابہ کرام نے فتوحُ الشام کے موقع پر اپنے متبعین کو یہی ہدایت جاری فرمائی کہ۔ کافروں کے بچوں، عورتوں، بُوڑھوں، درویشوں ، مذہبی رہنماوٗں کو قتل نہ کیا جائے اُنکی املاک کو جان بوجھ کر نشانہ نہ بنایا جائے، فصلوں میں آگ نہ لگائی جائے ،ہرے درختوں کو نہ کاٹا جائے۔ مگر ایک یہ طالبان ہیں جو مسلمان عورتوں کو سر بازار کوڑے مارتے نظر آتے ہیں۔ مسلمانوں کی جان اور املاک کی ہلاکت پر خُوش ہُوتے ہیں۔ اسلحہ کی خریداری کیلئے مسلمان تاجروں کو اغوا کرتے نظر آتے ہیں۔ اور بعض اوقات اپنی ناقص پلاننگ سے تمام اُمت مسلمہ کو ہلاکت میں ڈالنے سے بھی نہیں چُوکتے۔ یہاں تک کہ مسلمانوں کے قتل میں ملوث یہ نام نہاد مجاھدین ہندوستان گورنمنٹ سے امداد لینے کو بھی جائز سمجھتے ہیں۔


بابا یہ کیسے ممکن ہے کہ طالبان جو اتنے منظم ہیں وہ پلاننگ نہ کرتے ہُوں۔ میری ٹیچر بتارہی تھیں کہ اُنکی پلاننگ اتنی زبردست تھی کہ امریکہ کی تمام خُفیہ ایجنسیاں طالبان کا مُنہ دیکھتی رِہ گئیں اور طالبان نے ورلڈ ٹریڈ سینٹر کو مٹی کا ڈھیر بنا دِیا۔


بیٹا ہُوسکتا ہے کہ بعض لوگوں کو یہ بڑی ہمت اور بہادری کا کام لگتا ہُو۔ کہ تین سو مرد و عورت کو دو میناروں کیساتھ زمین بُوس کردِیا گیا ۔ اور امریکی دیکھتے رِہ گئے۔ لیکن اِس عمل کی مسلمان اُمہ نے جو قیمت ادا کی ہے وہ اُن ۲ ٹاوروں سے لاکھ گُنا زائد ہے۔ اسکے علاوہ امریکی اور یورپی مسلمان اس حادثے کی جو قیمت آج تک چُکارہے ہیں اسکے نقصان کا اندازہ لگانا بھی ممکن نہیں ہے۔


بیٹا فتاوٰی عالمگیری جو کہ مسلمانوں کی متفقہ فقہی کتاب ہے ۔اِسکی دوسری جلد میں علامہ نظام الدین جہاد کے مُباح ہونے کی دُو شرائط بیان فرماتے ہُوئے لکھتے ہیں۔


نمبر ۱ ۔دین کے دُشمن اسلام قبول کرنے سے انکار کردیں۔ اور دُشمنانِ اسلام اور مسلمانوں میں جنگ بندی کا کوئی معاہدہ بھی موجود نہ ہُو تب جہاد مباح ہوگا۔یا

نمبر۲ ۔مسلمانوں کو یہ توقع اور مکمل یقین ہُو کہ جنگ میں مسلمانوں کو کُفار پر غلبہ حاصِل ہوجائے گا۔ اگر مسلمانوں کو نہ ہی ایسی کوئی توقع ہُو ۔ اور نہ ہی فتح کامل کا یقین ہُو۔ تب اُنکے لئے کُفار سے جہاد جائز نہیں ہے ۔ کیونکہ جب تک مسلمانوں کو جنگی سامان اور قُوت میں برتری حاصِل نہ ہُوجائے تب تلک کُفار سے لڑنا جہاد نہیں بلکہ خُودکشی ہے۔

اب بِیٹا آپ خُود فیصلہ کرو کہ طالبان کا امریکہ پر حملہ جہاد تھا ۔ یا بے وقوفی اور خُود کشی تھی۔ میں نے بیٹی کی جانب مُڑ کر دیکھا۔ تو وہ اُداس چہرے سے میری جانب تَک رہی تھی۔ مجھے اپنی جانب متوجہ دیکھ کر پھر گُویا ہُوئی۔ تو بابا۔ اسکا مطب یہ ہُوا کہ اب جہاد نہیں ہُوگا۔ اور آپ بھی اسمیں حِصہ نہیں لیں گے۔۔۔؟

کِیوں نہیں میری بَچی۔۔۔ جہاد کبھی موقوف نہیں ہُوتا۔ جہاد کسی ایک واقعہ کا نام تُو نہیں ہے۔ یہ تُو ایک مسلسل عمل کا نام ہے۔ جب جب ہماری سرحدوں پر کفر حملہ کرے گا۔ ہم اُن سے جہاد بالقتل کریں گے۔ اور جب ہم اِس قابل ہُوجائیں گے کہ کفر کے مُقابل میں عسکری قوت جمع کرپائیں تب یکجا ہُوکر اُنکی سرحدوں پر جاکر بھی اُنہیں للکاریں گے۔


لیکن اِس وقت تمام مسلم اُمہ کے عُلماءَ اور حُکمرانوں کی دینی اور مِلی ذِمہ داری ہے کہ وہ سب آپس کے تمام اِختلافات کو دُور کرکے باہمی رضامندی سے جہاد سے متعلق تعلیمات مُصطفےٰ پر از سرنو غور و فِکر کے بعد اُن تمام خرافات کو مجاھدین اسلام سے دُور کرنے کی کوشش کریں جُو جہاد کے نام پر رفتہ رفتہ مجاھدین کے اَذہان میں پیوستہ کردِی گئی ہیں۔ جسکی وجہ سے وہ مسلمانوں کے نمائندہ بننے کے بجائے صرف ایک گروہ کی نمائندہ تنظیم بنتی چلی جارہی ہے۔
جِسے بعض اوقات مسلکی فوائد وبرتری کیلئے مساجد پر خُودکش حملوں کیلئےبھی استعمال کیا جانے لگاہے۔یہ اسلئے بھی بُہت ضروری ہے تاکہ کوئی جہاد کے نام پر اسلام کو بدنام نہ کرسکے۔ اُور یہ اسلئے بھی ضروری ہے ۔تاکہ جہاد اور دہشگردی میں فرق واضح ہُوسکے۔ اور مجاھدین میں نظم قائم کیا جاسکے ۔تاکہ ایک محاذ پر بالفرض مجاھدین کمزور پڑیں تُو اُنکی امداد کیلئے دوسرے مجاھِدین کو بھیجا جاسکے۔ اور سب سے اہم بات یہ کہ جہاد کیلئے حاکم شہر یا حاکمِ صوبہ یا حاکمِ مُلک بُلائے۔ یہ نہ ہُو کہ جسکا دِل چاہے اپنا ایک گروپ بنا کر جِہاد کے نام پر اپنی جیب گرم کرتا رہے۔اُور وہ تُو کمانڈر بن کر خود ائر کنڈیشن کمروں میں بیٹھ کر اپنے بچوں کو آکسفورڈ یونیورسٹی بھیج دے۔ اور غریبوں کے بچوں کو جہاد کی ترغیب دیتا رہے۔

جبکه پاکستان میں موجود طالبان کا طریقه خوارج کے جد امجد  چھٹی صدی کے عظیم فتنہ گر حسن بن صباح اور احمد بن غطاش کی تعلیمات کا عکس نظر آتا ھے. جنہوں نے سینکڑوں علمائے کرام کو قتل کیا ۔۔ اُور مسلمانوں پر کفر کے فتوے لگائے۔ اور اقتدار کی خواہش میں اسلامی فوج سے برسرپیکار رہے.. وه لوگ بھی کفار کو چھوڑ کر مسلمانوں کو قتل کرتے ھوۓ نظر آتے تھے اور یه لوگ بھی کفار سے جہاد کرنے کے بجاۓ مسلمانوں کو قتل کرتے ھیں... جبکه اسلام میں ایک انسان کے ناجائز قتل کو بھی تمام انسانیت کے قتل عام سے تشبیه دی گئ ھے... اس قسم کی حرکات دراصل  بیرونی قوتوں کے ایما پر۔۔اسلامی جہاد  کو اقوام عالم میں بدنام کرنے کی کوشش ھیں. تاکه جہاد کو اسقدر بدنام کردیا جاۓ که " کبھی کوئی جہادکا نام بھی اپنی زباں پر نه لاسکے  


باتوں کا سلسلہ جاری تھا کہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مسجد سے موذن کی صدا بُلند ہُونے لگی جو عصر کی نماز کا اعلان کررہا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔!لِہذا میں قُولی جہاد سے عملی جہاد کیلئے روانہ ہُونے لگا۔۔۔۔ اِس اُمید پر کہ اللہ کریم نے مزید توفیق عطا فرمائی تو مزید بھی اِس موضوع پر ناصِرف مطالعہ جاری رکھوں گا بلکہ جہاد بالعِلم بھی کرتا رَہونگا۔ انشاءَاللہ عزوجل

جہالت و ظُلم کے خلاف جنگ جاری رہے گی۔۔۔۔۔۔۔۔ انشاءَاللہ عزوجل


پلکوں سے دَرِّ یار پہ دستک دینا

اُونچی آواز ہُوئی عُمر کا سرمایہ گیا

تذکرہ اک پری کا قسط 25.علی پور کا مجذوب



تذکرہ اِک پری کا۔قسط ۔25۔ علی پُور کا مجذوب۔ 

گُذشتہ  سے پیوستہ۔   



اب عمران کو سمجھ آرہا تھا۔ کہ کیوں بابا صابر اُسے حضرت جمال ہانسوی کا عکس قرار فرمارہے تھے۔ عمران کی آنکھیں جہاں اِس غمناک واقعہ سے بھیگ رہی تھیں۔اُسکا  دِل  اپنے مُرشد کریم کی یاد میں مُرغ بسمل کی طرح  تڑپنے لگا تھا۔۔۔ عمران نے بھیگی پلکوں سے بابا صابر کی جانب جونہی دیکھا۔ تو بابا صابر نے بھرائی ہُوئی آواز میں عمران کو مخاطب کرتے ہُوئے کہا۔ بیٹا دِل کی بات سُنو! اُور  ہمیشہ دِل کی ہی ماننی چاہیئے۔اَرےتُو ایک پری کیلئے جو قیمت دینے کو تیار ہُوگیا ہے۔۔۔۔ اگر اپنے  مُرشد کی عظمت کو جان لیتا۔ تو ایسی ہزار پریاں اُنکے قدموں پر نثار کردیتا۔

اَب  مَزید پڑھیئے۔ 
بابا  صابر صاحب صاف لفظوں  میں اُسے کوثر کی محبت سے دستبردار ہُونے کیلئے  کہہ رہے تھے۔۔۔ اگر یہ بات بابا صابر  کے عِلاوہ کسی اُور نےکہی ہُوتی تو شائد عَمران احمد وقاص اُس سے لڑ جاتا۔۔۔ لیکن یہاں آواز کی بُلندی تو کُجا ۔۔۔ دِل میں ادنیٰ سی بے ادبی کا تصور بھی محال تھا۔۔۔کہ،، اِس بات کا عمران کو کئی مرتبہ اِدارک ہُوچکا تھا۔کہ،، اللہ والوں سے دِل کی حالت بھی چھپی نہیں رِہتی۔۔۔ ایک طرف مُرشد کی ناراضگی کا خطرہ سمندر کی طغیانی  طرح  بڑھتا چلا جا رہا تھا۔۔۔ دوسری طرف کوثر سےجدائی کےتصور ہی سے عمران کی رُوح کانپ کانپ جاتی تھی۔ عِمران سے جب کوئی بات نہ بن سکی تو اُس نے دِل کے غِبار کو آنکھ سے نِکال دیا۔

چند منٹ یونہی خاموشی کی نذر ہُوگئے۔ بابا صابر اگرچہ بے پرواہی کا مُظاہرہ کررہے تھے۔۔۔ گُویا اُنہیں خبر ہی نہ ہُو۔کہ عِمران کی آنکھیں ساون بھادوں کی طرح برس رہی ہیں۔۔۔ لیکن ذیادہ دیر تک بابا صابر عمران سے لاتعلق نہ رِہ سکے۔۔۔ اُور خاموشی کو توڑتے ہُوئے  فرمانے لگے۔۔۔ میں جانتا ہُوں  تُمہارے دِل کی جو حالت ہے۔۔۔ ایسا نہیں ہے کہ،،  ہمیں عشق مجازی سے کوئی بیر ہے۔۔۔ بلکہ اکثر یہی عشق مجازی عشق حقیقی کا پیش خیمہ ثابت ہوتی ہے۔۔۔  مجنوں لیلی کو پُکارتے پکارتے واحد و یکتا کے دَر پر پُہنچ جاتا ہے۔۔۔لیکن یہ سفر اکیلے ہی طے کرنا پڑتا ہے۔ اِس  آتش  کے دریا میں تنہا ہی اُترنا پڑتا ہے۔۔ غم سہنے کا حوصلہ  اُور تکالیف پر صبر کرنے کا سلیقہ جنہیں نہیں آتا۔۔۔ وُہ راہِ عشق پر کبھی گامزن نہیں رِہ پاتے۔۔۔  اُور منزل پر پُہنچ کر ہُوش و خرد بچائے رکھنا بھی ہر ایک کے بس کی بات نہیں۔۔۔۔ اِسی لئے تو سالک کا مرتبہ مجذوب سے بڑھ کر ہُوتا ہے۔ کہ،، وُہ وصال کے بعد بھی خُود کو کھونے نہیں دیتا۔۔۔بلکہ  وصال یار کے ساتھ خود کا پتہ بھی ڈھونڈ لیتا ہے۔۔۔ گفتگو کرتے ہوئے بابا صابر شفقت سے عمران کے سر  پر شفقت سے اپنا ہاتھ پھیرنے لگے۔

بابا صاحب جب آپ میرے دِل کی حالت جانتے ہیں۔تو یہ بھی آپ جانتے ہیں۔کہ،، میں کوثر کے بنا زِندہ لاش بن کر رِہ جاوٗں گا۔۔۔  ایک دِن وُہ مجھے تلاش کرتی ہُوئی آئی تھی۔۔۔ لیکن اب مجھے ایسا لگتا ہے۔ جیسے میں اُسکو صدیوں سے ڈھونڈ رَہا ہُوں۔۔۔ لیکن منزل کی ایک جھلک دیکھ کر راستہ بھول گیا ہُوں۔۔۔ میں اُسکے بغیر جینے کا تصور بھی نہیں کرسکتا۔۔۔ کیا آپ میری خاطر مُرشد کو راضی نہیں کرسکتے۔۔۔؟ عِمران نے بابا صابر کے ہاتھوں کی ٹھنڈک کو محسوس کرتے ہُوئے التجا کی۔۔۔

بابا صابر صاحب  چند لمحے خاموش رہنے کے بعد عمران کے مغموم چہرے کو غور سے دیکھتے  ہُوئے گُویا ہُوئے۔۔۔  میں تمہاری خاطر ایک کوشش کرسکتا ہُوں۔ لیکن  تجھے یقین سے نہیں کہہ سکتا ہے۔ کہ کامیابی بھی یقینی ہُوگی۔۔۔ میں صرف مصالحت کی بھرپُور کوشش کروں گا۔۔۔ وُہ بھی صرف اِس لئے کہ،، میں نہیں چاہتا کہ،، کوئی  اُور جمالِ ہانسوی کی طرح  آزمائش کی بھٹی کی نذر ہُوجائے اُور سُلگتا رہے۔۔۔ لیکن تُم کو بھی مجھ سے ایک وعدہ کرنا ہُوگا۔کہ،، اگر میں بابا صاحب کو اپنی بھرپُور کوشش کے باوجود بھی کوثر کے معاملے میں راضی نہیں کرپایا۔۔۔ تو تُم آئیندہ مجھ سے اِسکے لئے ضد نہیں کروگے۔۔۔

عِمران کیلئے یہ بات بھی کسی نعمت سے کم نہیں تھی۔کہ،، بابا صابر اُسکے لئے وکالت کریں گے۔۔۔  اُور عمران کا دِل گواہی دے رَہا تھا۔کہ،، بابا صابر  صاحبکی کوشش ضرور رنگ لائے گی۔ اُور  بابا صاحب کی کوشش کے نیتیجے میں کوئی نہ کوئی ضرور نرم راہ نِکل آئے گی۔۔۔ جسکی وجہ سے  کم از کم دَس برس کی سزا میں تخفیف ضرور حاصل ہُوجائے گی۔۔۔ اِس لئے عِمران نے خوشی خُوشی بابا صابر صاحب کی شرط کو قبول کرلیا۔۔۔

چند لمحے بعد بابا صابر صاحب نے درخت سے بندھی ایک پُوٹلی سے مچھلی کے چند فرائی ٹکڑے یہ کہتے ہُوئے  عمران کے سامنے رکھ دیئے کہ،،  چند دِن پہلے کوئی یہ مچھلی کھانے کیلئے دے گیا تھا۔ دِل چاہے تو کھالو۔ ورنہ واپس پُوٹلی میں رکھ دینا۔۔۔ عِمران نے  کچھ سُوچ کر احتیاط سے مچھلی  کے ایک ٹکڑے کے کونے سے ذرا سی مچھلی زُبان پر رکھ کر ٹیسٹ کی۔۔۔ تو عمران کو  ایسا لگا۔ جیسے مچھلی بالکل فریش ہُو۔ اُور یہ مچھلی تھی بھی نہایت لذیز۔۔۔ حالانکہ بابا صابر نے بتایا تھا۔کہ مچھلی کئی دِن پرانی تھی۔۔۔ عمران مزے لیکر مچھلی کھانے میں مشغول ہُوگیا۔۔۔ کیونکہ اب اُس نے حیران ہُونا چھوڑ دیا تھا۔۔۔ مچھلی کھاتے ہُوئے اچانک ایک بات یاد آگئی سُو  عمران نے بابا صابر کو مخاطب کرتے ہُوئے سوال کیا۔۔۔ بابا یہ مجذوب کسے کہتے ہیں۔ اُور کیا یہ بھی عام لوگوں کی طرح شعور رکھتے ہیں۔۔۔؟

بابا صابر نے مسکراتے ہُوئے عمران کی جانب دیکھا۔ اُور پھر فرمانے لگے۔۔۔ یہ بات ہر ایک کو بتانے والی نہیں ہے۔۔۔ لیکن تُم ہر ایک نہیں ہُو۔ اسلئے تمہیں بتائے دیتا ہُوں۔۔۔ دیکھو بیٹا سارے مجذوب  دِکھائی  دینے والے ہی مجذوب نہیں ہُوتے۔ کچھ تو اپنی جان چھڑانے کیلئے مجذوب کا بہروپ بھر لیتے ہیں۔ جیسے کہ،، بہلول دانا ۔ ایک زبردست فقیہ تھے۔ لیکن ہارون الرشید کی پیشکش سے بچنے کیلئے ساری زندگی  مجذوبیت کی چادر اُوڑھے رہے۔ دراصل عشق کی راہ میں جب کوئی وصال  کی  نعمت سے سرفراز کیا جاتا ہے۔۔۔ تب کچھ عشاق دیدار یار کے  حَسین جلوے برداشت نہیں کرپاتے۔ اُور مدہوش ہُوجاتے ہیں۔۔۔ جسے حالت سکر بھی کہا جاتا ہے۔ اِس حالت میں عاشق کو یار کے  جلووٗں کے سِوا کچھ سجھائی نہیں دیتا۔۔۔ سُو وُہ  جذب  و مستی کی کیفیت میں چلے جاتے ہیں۔ اُور مجذوب کہلاتے ہیں۔ البتہ کبھی کبھار اپنی اصل حالت میں بھی لُوٹ آتے ہیں۔ اُور جو   وِصال پاکر بھی ہُوش کی طرف لُوٹ آئے۔۔۔ وُہ حکم کو بجالانے میں زندگی بسر کرتے ہیں۔ اسلئے سالک کہلاتے ہیں۔

لیکن مجذوب بھی بے شعور و بے عِلم نہیں ہُوتا۔۔۔ یہ بھی بحر علم کے شناور ہُوتے ہیں۔۔۔ جب بولتے ہیں۔ تو صاحبان علم بھی اپنی گردنیں اُنکے آگے خم کردیتے ہیں۔۔۔   چلو میں تمہیں ایک مجذوب کا قصہ سُناتا ہُوں۔ تاکہ تمہیں عِلم ہُوجائے کہ ،، مجذوب بھی کتنے سیانے ہُوتے ہیں۔۔۔۔ عمران مچھلی کے تمام پارچے چٹ کرچکا تھا۔۔۔ اسلئے ہمہ تن گوش ہُوکر بابا صابر کی طرف متوجہ ہُوکر اَدب سے بیٹھ گیا۔


یہ اُن دِنوں کی بات ہے۔۔۔ جب پاکستان بنے ہُوئے ذیادہ برس نہیں گُزرے تھے۔۔۔پنجاب کے شہر علی پُور میں گندم کی فصل پک کر کٹائی کیلئے تیار ہو چکی تھی... چوہدری صاحب فصل کا معائنه کرنے کیلئے  اپنی جیپ پر سوار ہُو کر نکلے تھے. .. ایک موڑ سے گزرتے ہُوےٗ  چوہدری کی نظر علی پور کے مشہور مجذوب پر پڑی. جسکی آمد کی وجہ سے لوگوں کے دِلوں سے چُوہدری کا دبدبہ اُور خُوف ختم ہُوگیا تھا۔۔۔ اِس مجذوب نے گاوٗں کے تمام سہمے ہُوئے لوگوں کے  ذہن میں یہ بات ڈالدِی تھی کہ،، ڈرناصرف موسٰی کے رَب سے چاہیئے جو ناراض ہُوجائے تو عذاب دیتا ہے۔ اُور راضی ہُوجائے تو عدن میں دائمی سکونت فراہم کردیتا ہے۔ ۔۔جبکہ فرعون کسی بھی رُوپ میں ہُو ایک نہ ایک دِن مظلوموں ہی کی طرح مٹی  کے نیچے جا پُہنچتا ہے۔۔۔ نہ جانے اِس مجذوب کی صدا میں کیسا سحر تھا۔کہ رفتہ رفتہ تمام  غلام ذہن جاگنے لگے۔اُور جاگتے ہی چلے گئے۔۔۔ اُور آج وہی مجذوب چوہدری کے کھیتوں میں کھڑا ،،گندم کے ایک خوشه کو ہاتھ میں لئے کچھ بُڑبڑا رہا تھا۔۔۔

چوھدری نے ڈرایئور کو جیپ روکنے کا اشاره کیا .... اور  جیپ سے اُتر گیا۔مجذوب کے قریب پُہنچ کر   چُوہدری نےحقارت بھرے لہجے  میں طنزا" کہا.. بابے! کنک نوں کیہڑی کہا نیاں سُنا رِیا اے.۔.؟؟؟ ہُن کی فصل نُوں وی باغی کرن دا سُوچ رہے اُو۔۔۔

مجذوب نے  بڑی بےپروَاہی سے چوہدری کی جانب دیکھے بغیر کہا. خالق کی رزاقی دیکھ حیران ہُو رہَا ہُوں که،، کسطرح ملتان کے سرخ ککڑ (مرغ) کیلئے علی پور میں  ایک ظالم کے سائے میں رِزق کاانتظام فرما رہا ہے۔۔۔
تینوں وڈی غیب دی خبراں مل ریاں نیں... لیکن اَج میں تینوں جھوٹا ثابت کردیاں گا..... یہ کہه کر چوھدری نے مجذوب کے ہاتھ سے گندم کا سُٹه چھین کر اپنی ہتھیلیوں پر مسَلا اور مُنہ میں  پھانک لیا۔۔۔

چوہدری نے قہقه لگا کر مجذوب کی جانب فاتحانہ نظروں سے دیکھا،، جیسے پوچھ رہا ھو۔ که،، بابے بتا اب ملتان کا سرخ مرغ کیسے ان دانوں کو کھاۓ گا جسے میں نگل چکا ہُوں۔۔۔

جوابا" مجذوب نے بھی قہقه لگاتے ھوۓ ترکی به ترکی جواب دیا،، مخلوق کی کیا مجال جو خالق کے کاموں میں دخل دے سکے. اتنا کہه کر وُہ مجذوب بھی  ایک طرف چل پڑا۔۔۔۔

چوہدری کا چہره مجذوب کا جواب سن کر غصے سے سرخ پڑگیا اہانت کے احساس نے اسکی گردن کی رگوں کو پھلا دیا... چُوہدری نے   مجذوب کو پکڑنے کیلئے  اپنے مزدروں پر چیخنا چلانا چاہا...لیکن کھانسی کے ٹھسکے نے اسے مہلت نہ دی... کھانسی کی شِدت کی وجہ سے چوہدری اپنا گلا پکڑ کر زمین پر بیٹھتا چلا گیا۔۔۔ اِس سے پہلے کہ،، چوہدری کے پالتو غنڈے  مجذوب کو دبوچتے۔۔۔ چوہدری کی حالت بگڑنے لگی۔۔۔ اُور  چند سیکنڈ میں چوہدری پر بیہوشی طاری ہُوگئی۔۔۔

چُوہدری کے مُلازم چُوہدری کی حالت دیکھ کر گھبرا گئے۔۔۔۔ کسی نے ڈرتے ڈرتے مشورہ دِیا۔۔۔ شائد چُوہدری صاحب کو مِرگی کا دُورہ پڑا ہے ۔ انہیں جُوتی سُنگھانی چاہیئے۔۔۔ کافی دیر تک ایک ہاری اپنا  غلیظ جُوتا چُوہدری کی ناک سے مَسلتا رَہا۔ لیکن چوہدری ہُوش میں نہیں آیا۔۔۔ پھر کسی نے آواز لگائی۔ اُو بے وقوفوں۔۔۔ یہ مِرگی نہیں کوئی اُور ہی معاملہ ہے چُوہدری صاحب کو ڈاکٹر صاحب کے پاس لے چلو۔۔۔

علاقے کے ڈاکٹر نے چوہدری صاحب پر کافی طبع آزمائی کی۔لیکن کوئی فائدہ نہ دیکھ کر مظفر گرھ لیجانے کا مَشورہ دِیا۔۔۔۔ چوہدری صاحب کے بھاری بھرکم جسم کو جیسے تیسے دُوبارہ جیپ میں ٹھونس کر مظفر گڑھ کے اسپتال میں پُہنچادِیا گیا۔۔۔ دُوپہر سے شام تک۔۔۔اُور شام سے رات تک  مظفر گڑھ کے داکٹرز چوہدری صاحب کو ہُوش میں لانے کی  ناکام سعی کرتے رہے۔۔۔ لیکن نتیجہ وہی ڈھاک کے چار پات کی صورت رَہا۔ یہاں تک کہ مظفر گڑھ کے ڈاکٹرز نے بھی جواب دیتے ہُوئے۔ اپنے سر کی بلا ملتان والوں کے سر ڈالدی۔۔۔۔ غریب  ڈرائیور اُور  چُوہدری کے منیجر کی سمجھ میں  کچھ نہیں آرہا تھا۔کہ،، اَب چوہدری صاحب کو  ملتان کے کس ہاسپٹل میں  لیجایا جائے۔ پھر ایک مزارعے نے بتایا کہ ملتان کے سول ہسپتال میں ایک بڑے ذہین ڈاکٹر صاحب موجود ہُوتے ہیں۔کیوں نہ چوہدری صاحب کو اُنہیں دِکھایا جائے۔۔۔

رات  دَس بجے ملتان سِول ہسپتال پُہنچ کر پتہ چلا کہ،، ڈاکٹر صاحب کی ڈیوٹی صبح نو بجے سے شام پانچ بجے تک ہُوتی ہے۔۔۔ ناچار اُن لُوگوں نے چُوہدری صاحب کو سِول ہسپتال میں ایڈمِٹ کروادیا۔۔۔ لیکن گیارہ بجے تک چُوہدری صاحب کی حالت باوجود کوشش کے  مزیدبگڑنی شروع ہُوگئی۔۔۔ قریب کے ایک مریض نے ساتھ آنے والے سے جب ماجرا معلوم کیا۔۔۔ تو اُس نے مشورہ دیتے ہُوئے کہا،، لگتا ہے آپکے مریض کے حلق سے گندم کے دانے دِماغ کی جانب چَڑھ گئے ہیں۔۔۔ اگر میرا مشورہ مانو! تو صبح تک انتظار کرنے کے بجائے اپنے مریض کو حکیم سلمان صاحب کو دِکھادُو۔۔۔ اللہ کریم کے ہاتھ میں بڑی شِفا دِی ہے۔ایسے مسئلے وُہ مِنٹوں میں حل کردیتے ہیں۔۔۔

 بات چوہدری صاحب کےمنیجر کے دِل کو رَاس آگئی تھی۔۔۔ سُو اُس نے حکیم صاحب کا ایڈریس سمجھ کر اُسی وقت حکیم صاحب  کے گھرکی رَاہ لی۔ اُور رات ساڑھے گیارہ بجے حکیم صاحب کو کچی نیند سے اُٹھا کر تمام ماجرا سُنایا۔۔۔ حکیم صاحب بھی نہایت خُدا ترس بندے نِکلے۔ علاج کی حامی بھرتے ہُوئے کہنے لگے۔۔۔ میاں تُم مریض کو یہاں لے آوٗ۔ جب تک میں کچھ دوا تیار کئے لیتا ہُوں۔۔۔

پندرہ منٹ بعد چوہدری صاحب کو جیسے تیسے حکیم صاحب کے گھر سے ملحق مطب میں پُہنچادیا گیا۔۔۔ حکیم صاحب نے چُوہدری صاحب کا معائینہ کرنے کے بعد ایک دوائی کی بوتل اُور خالی تگاری منیجر صاحب کو تھماتے ہُوئے ہدایات دیں۔۔۔ کہ،، ہر آدھے گھنٹے بعد دُو چمچ دوائی  مریض کے حلق میں انڈیلتے رہیئے۔ چند گھنٹوں کے اندر مریض کو اُلٹی آئے گی۔۔  جِسے تگاری میں لیکر  مطب سے کچھ فاصلے پر کچرا کنڈی تک پھینک آیئے گا۔۔۔

فجر کی آذان سے کچھ لمحے قبل  مسلسل دوائی  چوہدری صاحب کے حلق میں انڈیلنے کا ثمر نظر آیا۔ اُور واقعی چُوہدری صاحب کو ایک لمبی قے آئی جسکی بدبو ناقابل برداشت تھی۔ منیجر کے حکم پر ایک مزدور نے وُہ قے تگاری میں سمیٹ لی۔ اُور کچرہ کنڈی کی نذر کردی۔۔۔ فجر کی آذان کے ساتھ  ہی چُوہدری صاحب کو ہُوش آگیا۔۔۔ لیکن اُنہیں کچھ بھی یاد نہیں تھا۔۔۔۔ جب اُنہیں تمام تفصیلات سے آگاہ کرتے ہُوئے بتایا گیا کہ،، کسطرح آپکو غشی کا دُورہ پڑا تھا۔۔۔ اور کسطرح علی پور سے مظفر گڑھ اُور مظفر گڑھ سے ملتان لایا گیا ہے۔۔۔ تو چوہدری نے اپنا سر دُونوں ہاتھوں میں تھام لیا۔۔۔ تھوڑی دیر میں سپیدہ پھیلنے لگا جسکی روشنی میں تیرگی اپنے لئے جائے پناہ تلاش کرنے لگی۔۔۔

چوہدری  نے کچھ سُوچتے ہُوئے مغموم لہجے میں منیجر سے فرمائش کی۔۔۔ مجھے وُہ جگہ دیکھنی ہے،، جہاں  قے والی تگاری خالی کی گئی ہے۔۔۔ نقاہت کی وجہ سے چُوہدری سے اُٹھا نہیں جارَہا تھا۔لیکن چُوہدری اپنی فرمائش پر بَضد تھا۔۔۔ لِہذا دُو کارندوں نے بڑھ کر چُوہدری کا سہارا دِیا۔۔۔ بڑی مشکل سے چند قدموں کا تھکا دینے والا یہ سفر جب  اپنے  اِختتام کو پُہنچا۔ تو چُوہدری یہ دیکھ کر حیران رِہ گیا۔کہ،، کچرہ کُنڈی پر موجود ایک سُرخ مُرغ   اُلٹی میں لِتھڑے ہُوئے گندم کے دانے اپنی چُونچ سے صاف کر کر کے کھا رَہا تھا۔۔۔ اُور چُوہدری کے کانوں میں مجذوب کا یہ فقرہ گُونج رَہا تھا ۔کہ،، مخلوق کی کیا مجال جو خالق کے کاموں میں دخل دے سکے. ،،گندم کے یہ دانے تو سُرخ کُکڑ ہی کھائے گا!!!۔

بابا صابر خاموش ہُوئے تو عِمران بھی چونک کر اِس سحر آفرین داستان کے کرداروں سے واقف ہُوکر واپس اپنی دُنیا میں لُوٹ آیا۔ اُس پر آج بابا صابر کا اِک نیا  رُوپ ظاہر ہُوا تھا۔ کیونکہ کہانی سنتے ہُوئے عِمران کو یُوں محسوس ہورہا تھا۔ جیسے وُہ بابا صابر کے ساتھ باغ میں بیٹھنے کے بجائے اپنے کالج کی کلاس میں بیٹھا اُردو ادب کے لیکچرار سے شستہ اُردو میں کوئی ناول سُن رہا ہُو۔۔۔

جاری ہے۔۔۔

اُسکی الفت کا مزاہ سب سے الگ سب سے جُدا
جیسے سُورج کی تپش روکتی ہے کُوئی رِدا
جیسے ساقی نے پَلائی ہُو کسی تشنہ کو شراب

جیسے ٹل جائے کسی عاصی کے سر پہ سے عذاب .

Tuesday, 18 February 2014

جواب مرشِدی بیگم۔ تحریر ڈاکٹر عنبل وارثی


 JAWAB E AAN KALIM….by AnBal Warsi

کچھ دن پہلے کالم مرشدی بیگم اور غلام پڑھا تو اس کا جواب لکھنے کی خواہش پیدا ہوئی اور دن پہ دن گزرتے گئے لیکن  کالم لکھا نہ جا سکا۔ پر کل میری اپنی دوست سے بات ہو رہی تھی تو باتوں میں  اُس نے کہا کہ کاش کوئی میری بھی خواہش کا خیال کرتا۔۔۔ کاش میرا بھی کسی کو خیال آتا۔۔۔ کوئی میرے بھی آرام کا خیال رکھتا۔ ہمارا تو بس یہی ہے۔ کہ،، کام کام اور کام اور باقی سب کریں آرام۔۔۔


میں نے کہا  ڈئیر ایسا کیا ہوا تم کیوں اُداس ہو ۔تو اُس نے کہا کہ،، اپنی بھی کیا زندگی ہے۔۔؟؟ تو بس اتنا کہہ کر خاموش ہو گئ۔ اور بات بدل دی۔ پر میرے ذہن میں اک نئی سوچ کا دَر وَا کر گئی ۔۔۔ اور آج میں آپ کے سامنے اس کالم کے ذریعے وہ سب کہنا چاہتی ہوں جو شوہر حضرات نام نہاد واویلا کرتے ہیں ۔۔۔ اور یقینا میری اس خواہش سے اتفاق نہیں کرینگے پر جیسے مرشدی بیگم اور غلام والا آرٹیکل پڑھا سب نے تو  یہ بھی آپکو  پڑھنا ہوگا۔

اک لڑکی چاہے غریب کی ہو یا امیر کی اُسکا کسی بھی  قوم یا قبیلے سے تعلق ہو۔ وہ اپنے ما ں باپ کے گھر کی شہزادی ہوتی ہے۔ بے شک اُسکو کھانے کو زیادہ نہ ملے ۔ پہنے کو قیمتی کپڑے نا ملیں ۔۔ پر ہُوتی وہ اک شہزادی ہی ہے۔۔۔
لیکن۔۔۔؟

جیسے ہی وہ  شادی ہو کر میکے کی دہلیز پار کرتی ہے ۔اُور سسرال میں قدم رکھتی ہے۔ ویسے ہی اُسکی حیثیت بدل جاتی ہے وہ شہزادی سے محکوم بندی یعنی  خادمہ بن جاتی ہے ۔۔۔ اور ایسی  بھیڑ بکری کی صورت ہوتی ہے کہ،، جس کو جنگل میں چھوڑ دیا جاتا ہے۔  یاسادہ سی مثال یوں دیتے ہیں۔ کہ،، ایک اسکول سے دوسرے اسکول میں اُسکا داخلہ ہوجاتا ہے۔ جہاں پرانے اسکول سے بالکل مختلف قوانین اور ضابطہِ حیات ہوتا ہے ۔۔۔ اسکا اٹھنا بیٹھنا، چلنا پھرنا، کھانا پینا، پہنا اوڑھنا سب شوہر اور سسرال کی مرضی سے ہوتا ہے۔ اور اُسکو یہ اصول ہ ضوابط کسی نے سکھانا بھی نہیں ہوتا۔ اور پھر بھی چھوٹی سی غلطی پہ بڑی سزا ملتی ہے۔۔۔ اور وہ حکم کی غلام بنی سب کچھ کرتی رہتی ہے کیوں  ایک بیوی نے صرف دینا ہی دینا ہوتا ہے لینا اسکا حق نہیں ہوتا۔

جی ہاں  ایک لڑکی سسرال میں اپنے شوہر ساس سسر جیٹھ نند    دیور جیسے رشتے نبھاتی ہے ۔میں نہیں کہتی کہ سب ایک جیسے ہوتے ہیں۔ پر ہمارے معاشرے میں ۹۵ فیصد ایسے لوگ ہیں ۔جو بیوی اُور بَہو کو انسان نہیں سمجھتے ۔۔۔ ایک عورت بیوی کا فرض نبھاتی ہے ۔ بہو کا، بھابھی کا، اور شوہر کے گھر کی ذمہ داری اٹھاتی ہے ۔۔ اسکے بچوں کی پرورش کرتی ہے۔ سسرالی رشتے ناتے نبھاتی ہے۔ اور ایک ایسی زندگی گزارتی ہے۔ جس  میں اسکی شخصیت ختم ہو  کر رِہ جاتی ہے۔ پر اس نے ہر ایک کو خوش کرنا ہوتا ہے۔ وہ اپنی پسند نا پسند بھول جاتی ہے۔ اور اُسکا دل مار دیا جاتا ہے وہ زندہ تو ہوتی ہے پر اُس میں خواہشیں مر جاتی ہیں کیونکہ اسکا تو کوئی خیال ہی نہیں کرتا۔۔۔ اسکو تو انسان بھی تصور نہیں کیا جاتا۔ بس وہ ایک بیوی ہوتی ہے۔۔۔ جس نے شوہر کو خوش رکھنے کا وعدہ کیا ہوتا ہے۔۔ ایک بہو ہوتی ہے ۔سسرال کے کڑوے کسیلے ماحول کو برداشت کرنا ہوتا ہے۔۔۔ اور ایک ماں ہوتی ہے ۔ جس نے اپنے بچوں کے لیے اپنی بھوک پیاس نیند سب قربان کرنا ہوتا ہے بس ۔۔۔

اور اس کے جواب میں شوہر وا ویلا کرتا ہے کہ،، جی میری بیوی تو مجھے وقت  ہی نہیں دیتی۔۔۔ میرا خیال نہیں کرتی بس کام کام اور کام اور گھر داری اور بچوں میں مصروف۔۔۔ تو میں کہاں جاوٗں ۔۔۔؟؟ آخر کار باہر ہی دوستیاں  کرونگا نا۔ باہر ہی دلچسپیاں ڈھونڈونگا ۔۔  بس  خامیاں ہی خامیاں نظر آتی ہے ۔۔۔ پر اسکو کوئی یہ نہیں کہتا کہ اللہ کریم  کے بندے تم اپنی بیوی کو وقت دو۔۔ اسکی سنو اپنی سناوٗ۔۔۔ جو خامیاں کمزوریاں تمہیں نظر آرہی ہیں ۔۔ انکو دُور کرو۔ اور بجائے باہر دوستیاں کرنے کے گھر بیٹھی شریف بیوی کو دوست سمجھو۔۔۔ تو دیکھو زندگی میں کتنی خوبصورتیاں آ جائینگی۔۔۔

پر نہیں جی ۔۔۔ اپنی بیوی کے علاوہ باقی سب کو وقت دیا جا سکتا ہے۔ اپنے آپکو مظلوم دکھانے کے لئے اپنی بیوی کو پھوہڑ، جاہل، کم عقل ،جھگڑالو،  بدصورت، بتایا جاتا ہے۔۔۔  ایک دوسری عورت کی ہمدردی حاصل کرنے کے لئے۔ آفرین ہے ۔۔اور جو ہو شکی شوہر تو جی پھر تو بیوی زندہ درگور ہی ہوجاتی ہے۔۔۔ کہ شکی شوہر تو سانس بھی آزادی سے نہیں لینے دیتا۔۔۔ اللہ کریم ہی اس کے حال پر رحم کرے تو کرے۔۔۔ ورنہ کسی انسان کے بس کی بات نہیں۔۔۔ ایسے شوہر کی شکی طبعیت ٹھیک کرنا۔۔۔


بجائے اس کے خوشگوار زندگی گزارنے کے لئے شادی سے پہلے یا بعد میں حضور پاک ﷺ کا اپنی ازواج مطہرات سے حسنِ سلوک کی تعلیم لیں۔۔۔بیویوں پر لطیفے گھڑے جاتے ہیں۔ جی ہاں۔۔۔ بیویوں پر جو لطیفے بنائے جاتے ہیں وہ یہ شوہر حضرات ہی بناتے ہیں۔ اور اپنے آپ کو مظلوم دکھاتے ہیں ۔۔۔ جیسےچائے اور شوہر کی قسمت میں جلنا لکھا ہے۔ چائےبھی عورت کے ہاتھوں  سے جلتی ہے اُور شوہر کی خوشیاں بھی ۔۔ایک چھوٹی سی غلطی زندگی بھر کی سزا دیتی ہے ۔ قبول ہے قبول ہے کہہ کر بیویاں آتی ہیں  ہیر کی طرح اور کچھ ماہ بعد چبھتی ہیں تیر کی طرح ۔۔۔

خدا کی پناہ ۔۔۔ اتنے خوبصورت جائز رشتے کو نبیوں کی سنت کو جسے اللہ کریم   اور رسول کریم ﷺ کو گواہ بنا کر قبول کرتے ہوں۔ اُس تعلق کی اتنی مٹی پلید کی جاتی ہے۔۔۔اور یہ بھول جاتے ہے کہ اللہ کریم نے عورت سے حسین مخلوق ہی نہیں بنائی ۔۔۔ اور شاعروں کی شاعری میک اپ بنانے والوں کا کاروبار بازار کی دکان سب عورت کی وجہ سے ہی چلتی ہیں ۔۔۔ تو زرا سوچئے کہ،، اگر عورت نا ہوتی۔ تو مَردوں کی دنیا تو صرف سیاہ اور سفید ہی ہوتی ۔۔۔ شاعروں کی شاعری کھیت پہاڑ دریا  درختوں  پتھروں تک ہی رہ جاتی۔ اور مردوں کے پاس سوائے ٹیکنالوجی  تاریں اور اسلحہ بنانے کے کوئی کاروبار ہی نہ ہوتا۔۔

بقول شاعر
وجود زن سے ہے تصور کائنات میں رنگ

کاش میرا یہ کالم پڑھ کر کوئی اپنی بیوی سے اتنا ہی کہہ دے ۔کے بھلے لوکے آج اپنی مرضی کا کوئی کھانا بنا لو۔۔۔
اور یہ کہے کہ آج سے تم میری دوست ہو ۔۔۔ اور اپنی بیوی کی کمی خامی کو دور کرنے کا سوچ لے ۔۔ پر جب دوست سمجھ لیا تو دوستوں کی خامیاں سے درگزر کیا جاتا ہے ۔۔۔



فریبی



صبا۔۔صبا۔۔۔کہاں ہُو بھئی۔۔۔؟  ۔کامران نے گھر میں داخل ہُوتے ہی چلانا شروع کردیا تھا۔۔۔ آرہی ہُوں۔۔۔ آرہی ہُوں۔۔۔ابھی مری نہیں ہُوں میں!  کیوں گلا پھاڑ کر   پُورے محلے کو سر پہ اُٹھا رہے ہُو۔۔۔۔؟ صبا  نے کمرے سے  ٹی وی  لاونج میں قدم رکھتے ہُوئے تیکھے انداز میں  اُونچی آواز  سے جواب دیا۔۔۔ لگتا ہے تمہارا غصہ ابھی تک ٹھنڈا نہیں ہُوا۔۔۔؟ اب  تم خُود ہی دیکھ لُو۔کہ،، میں تُمہیں کتنی محبت سے پُکار رَہا تھا۔۔۔ جسکے جواب میں تُم پھر مجھ پر  پھنکار رہی ہُو۔۔ حالانکہ میں اپنی چاہت کا اظہار کرنے کیلئے تُمہارے لئے تحفہ بھی لایا تھا۔۔۔ لیکن لگتا ہے کہ،، مجھے یہ تحفہ واپس لیجانا پڑے گا۔۔۔ کامران نے مصنوعی خفگی کا اظہار کرتے ہُوئے چہرے پر مسکراہٹ قائم رکھی۔۔۔

میں نے آپ سے کسی تحفے کی فرمائش نہیں کی۔۔۔ اُور مجھے آپ سے کوئی تحفہ چاہیئے بھی نہیں۔۔۔ ضرور ۔۔۔آپکو پھر کوئی مطلب ہُوگا  مجھ سے۔ یا پھر دُو چار دِن کیلئے  آپکا شہر سے باہر جانے کا اِرادہ ہُوگا۔۔۔ ورنہ آپ اُن شوہروں میں سے نہیں ہیں۔ جو بغیر مطلب کے بھی اپنی بیگموں کو تحفے دیدیا کرتے ہیں۔یا آوٹنگ پر لیجاتے ہیں۔ صبا نے ایک بار پھر ترکی بہ ترکی جواب دیتے ہُوئے کہا۔ لیکن  تحفہ کا ذکر سُن کراِس مرتبہ صبا کے لہجے میں پہلے کی طرح گھن گرج نہیں تھی۔ ۔۔۔

نجانے تُمہیں ہمیشہ یہ وہم کیوں رہتا ہے۔کہ،، میں تم سے اپنے مفادات کیلئے محبت کرتا ہُوں۔۔۔لڑائی جھگڑے آخر کس گھر میں نہیں ہُوتے ۔۔۔ میں مانتا ہُوں۔کہ،، کبھی کبھی مجھے کچھ ذیادہ غصہ آجاتا ہے۔۔۔ لیکن ہمیشہ میں ہی لڑائی کی ابتدا نہیں کرتا۔۔۔ کبھی کبھی تُمہارے بےجا شک ، اُور میری خُوامخواہ کردار کشی کی تمہاری عادت کی وجہ سے بھی میں جھنجلا جاتا ہُوں۔۔۔ لیکن ہمیشہ صلح کیلئے پہل بھی میں ہی کرتا ہُوں۔۔ اَب یہی دیکھ لُو کہ،، میں تو تمام باتوں کو پرسوں ہی بھلا چکا  تھا۔لیکن تُمہارا غصہ ابھی تک  تمہاری ناک پر دھرا ہے۔۔۔ خیر چھوڑو اِن باتوں کو میں ہمیشہ کی طرح اِس مرتبہ بھی صلح میں پہل کرنا چاہتا ہُوں۔۔۔ اُور دیکھو اِس مرتبہ میں تُمہارے لئے کتنا بیش قیمت تحفہ لایا ہُوں۔ اتنا کہہ کر کامران نے جیب سے کاغذ کا ایک لفافہ نکال کر زبردستی صبا کے ہاتھ میں رکھتے ہُوئے کہا۔۔۔۔۔  بھئی تُمہارے تحفے کی خریداری کے چکر میں بُہت ذیادہ تھک گیا ہُوں۔۔۔ اسلئےمیں تو فریش ہُونے کیلئے نہانے جارہا ہُوں۔اگر تمہیں تحفہ پسند آجائے تو مجھے بس ایک کپ چائے پلوا دینا۔۔۔

کامران کے واش رُوم میں داخل ہُونے کے بعد ۔۔۔صبا واپس اپنے کمرے میں داخل ہُو کر لفافہ کھولنے لگی۔۔۔ لفافے میں موجود تحفہ کو دیکھ کر صبا کی گھٹی گھٹی سی چیخ ہی نِکل گئی۔۔۔  قریباً ایک ماہ قبل  بھی کامران اُور صبا کی نُوک جھوک ہُوئی تھی۔۔۔ اِس لڑائی کے خاتمے پر کامران صبا کو شاپنگ مال لیکر گیا تھا۔ جہاں اُنہوں نے خُوب خریداری کی تھی۔  شاپنگ مال میں جیولری کارنر پر ایک خوبصورت  کنگن کا سیٹ ڈسپلے کیا گیا تھا۔ جس پر انتہائی خوبصورت کام کے ساتھ یکتا  ہیرے کے نَگ بھی آویزاں تھے۔۔۔ اُس دِن صبا نے بُہت کوشش کی تھی۔کہ کامران اُسے یہ سیٹ دِلوادے لیکن کامران نے ساڑھے چار لاکھ روپیہ کا یہ کنگن سیٹ اُسے  یہ کہہ کر  نہیں دِلوایا تھا۔ کہ فی الحال میرا بجٹ نہیں ہے۔۔۔ لیکن آج وہی بیش قیمت کنگن سیٹ صبا کے ہاتھ میں تھا۔ البتہ کامران نے سرپرائز کی خاطر کنگن کا کیس گاڑی میں ہی چھوڑ دیا تھا۔یا شائد وُہ جیولر کی دُوکان پر چھوڑ آیا تھا۔۔۔ چند لمحے صبا کنگن اُلٹ پلٹ کر دیکھتی رہی۔پھر اچانک کسی خیال کے تحت اپنے موبائیل پر نمبر پنچ کرنے لگی۔ دوسری جانب سے جیسے ہی کال رِیسیو کی گئی۔ صبا نے خُوشی سے بھنچی بھنچی آواز میں  اطلاع  دیتے ہُوئے کہا۔۔۔ ھیلو  گل رُخ مجھے وُہ کنگن مِل گئے ہیں۔۔۔ ارے ہاں بھئ   وہی   کنگن جنکا میں نے اُس دِن تُم سے تذکرہ کیا تھا۔۔۔ ہاں کامران نے ہی گفٹ کئے ہیں اُور کہاں سے آتے۔۔۔ بس تُم کل صبح ضرور آجانا۔ میں سب سے پہلے تمہیں وُہ کنگن دِکھانا چاہتی ہُوں۔۔۔آف کورس  بھلا تُم سے ذیادہ مجھے  کُون عزیزہے۔ جسکے ساتھ میں اپنی خاص خُوشی سیلیبریٹ کروں۔

  دوسرے دِن صبا   کامران کے چلے جانے کے بعد گلرُخ کو اپنے کنگن دِکھا رہی تھی۔۔۔ گُل رُخ بظاہر بُہت ذیادہ خُوشی کا اِظہار کررہی تھی۔ لیکن اُسکے اندر جو بے چینی   سانپ کی طرح اُسے ڈس رہی تھی۔ وُہ ذیادہ دیر صبا سے مخفی نہ رِہ سکی۔۔۔ بلاآخر صبا نے پُوچھ ہی لیا۔۔۔ یار گُلرُخ تُم اتنا دسٹرب کیوں نظر آرہی ہُو۔۔۔؟ کیا تُم کو  میرےکنگن پسند نہیں آئے۔۔۔ یا کوئی اُور بات ہے۔جِسے تُم مجھ سے چھپانے کی کُوشش کررہی ہُو۔۔۔؟

نہیں یار ایسی کوئی بات نہیں ہے۔ میں تو بس یہ سُوچ رہی تھی۔کہ،، تُم کتنی خُوش قسمت ہو۔ جِسے اتنا چاہنے والا شُوہر مِلا ہے۔ جو تمہاری ذرا ذرا سی ناراضگی کو دُور کرنے کیلئے لاکھوں کے تحائف تُمہاری نظر کردیتا ہے۔۔۔ اُور ایک میں ہُوں۔کہ،، جس سے محبت کرتی ہُوں۔۔۔ وُہ برملا شادی کے تذکرے کو بھی پسند نہیں کرتا۔۔ بس یہی موازنہ کررہی تھی۔ اسکے سِوا کچھ نہیں۔ گُل رُخ نے ہُونٹ چباتے ہُوئے افسردہ لہجے میں جواب دیا۔

یار ایسی بھی کوئی بات نہیں ہے۔ تم مجھ سے ہزار گُنا ذیادہ خوبصورت ہُو۔ دیکھنا جب تُمہاری شادی ہُوجائے گی نا! تب تُمہارا شوہر تمہیں مجھ سے بھی زیادہ قیمتی تحائف دیگا۔ بلکہ میں تو  سُوچتی ہُوں۔کہ،، کس کافر کا دِل چاہے گا کہ،، اتنی حسین بیوی کو چھوڑ کر کام پر جائے ۔۔۔مجھے تو ایسا لگتا ہے کہ،، وُہ شادی کے بعد تمہارے ہی قدموں میں پڑا رَہا کرے گا۔۔۔صبا نے قہقہ لگاتے ہُوئے ماحول کو خوشگوار بنانے کی کوشش کی۔۔۔ اُور ہاں ابھی ایک ماہ قبل تمہیں بھی تو تُمہارے منگیتر نے اتنی قیمتی ہیرے کی انگوٹھی دی تھی۔۔۔ صبا نے  گُلرُخ  کو یاد دِلاتے ہُوئے کہا۔۔۔ جواب میں گُل رُخ نے پھیکی سی مسکراہٹ بکھیرنے کے بعد چہرہ دوسری جانب پھیر کر  چپکے سےآنکھوں کے گوشوں کو خشک کرلیا۔

 تھوڑی ہی دیر بعد صبا کے گھر سے نِکل  کر گُل رخ  ایک ٹیکسی والے کو ایڈریس سمجھا کر ٹیکسی میں پچھلی نشست سے ٹیک  لگائے،موبائیل پر کسی سے  مختصر گفتگو کرنے کے بعد ،آنکھ موند کر  کسی نتیجے پر پُہنچنے کی کوشش کرنے لگی۔۔۔  ٹیکسی ایک خوبصورت  اپارٹمنٹ کے سامنے  جا کر ٹہر گئی۔۔۔ گُل رُخ نے جیبی آئینہ نکال کر اپنے چہرے پر نگاہ  ڈالی ٹشو پیپر سے چہرے کو صاف کیا۔ ۔۔ٹیکسی کا کرایہ اَدا کرنے کے بعد دروازہ کھول کر وُہ اپارٹمنٹ میں داخل ہُوگئی۔۔۔

گُل رُخ خیریت تو ہے نا۔۔؟ مجھے فوراً یہاں کیوں بُلوایا ہے۔۔۔ جبکہ میں نے تُم کو سمجھایا بھی تھا۔کہ،، ہمارا اِس طرح دِن دِہاڑے سرعام مُلاقات کرنا ہم دُونوں کو کسی پریشانی میں مبتلا کرسکتا ہے۔۔۔ اُور یہ بھی ممکن ہے کہ،، کوئی صبا کے  کان بھردے۔۔۔ اگر ایسا ہُوا تو بہت مشکل ہُوجائے گی۔۔۔۔
 کامران صاحب گھبرایئے مت!!! میں آج آپکو ہمیشہ کیلئے اِس پریشانی سے نجات دِلانے کیلئے ہی یہاں آخری مرتبہ آئی ہُوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آخری مرتبہ؟؟؟ کیا مطلب۔۔۔؟؟؟ تم کہنا کیا چاہتی ہُو۔۔۔ کیا کسی نے کچھ کہا ہے تُم سے۔۔۔؟ کامران نے پریشانی کے عالم میں گُلرخ کو دیکھتے ہُوئے استفسار کیا۔

مجھے کسی نے کچھ نہیں کہا۔۔۔۔ لیکن آج مجھے اپنی  حیثیت کا خوب اندازہ ہُوگیا ہے۔۔۔ اُور اسکے ساتھ مجھے یہ معلوم ہُوگیا ہے۔کہ آپ کے نذدیک میری  ذات ایک کھلونے سے ذیادہ اہمیت نہیں رکھتی۔۔۔۔ جب آپکی قانونی بیوی آپکو ٹھکرا دیتی ہے۔تب آپ کتے کی طرح دُم ہِلاتے ہُوئے دُوچار دِن کیلئے میری زندگی میں مجھے بھنبوڑنے کیلئے آجاتے ہیں۔۔۔۔ اُور مجھے یہ یقین دِلانے کی کُوشش کرتے ہیں۔کہ،، آپکے نذدیک  میں دُنیا  کی سب سے اہم ہستی ہُوں۔۔۔ لیکن دُوچار دِن بعد جب آپکا دِل مجھ سے بھر جاتا ہے۔تب آپ ضمیر کے قیدی بن کر واپس اپنی قانونی بیوی کے پاس لُوٹ جاتے ہیں۔۔۔

اُور اپنے گناہوں کے اِحساس کو مٹانے کیلئے۔ یا اپنی رُوح کو دھوکہ دینے کیلئے۔  اپنی جائز بیوی کیلئے بیش قیمت تحائف لے جاتے ہیں۔۔۔ کچھ دِن بعد یہ احساس جُرم کم ہُوجاتا ہے۔ تب آپ پھر  ایک نئے فساد کا جواز تلاش کرنے کی کوشش میں مگن ہُوجاتے ہیں۔۔۔ اُور اِس طرح یہ کھیل چلتا رِہتا ہے۔۔۔میں بھی کتنی بےوقوف تھی۔۔۔ جو یہ بات نہ سمجھ سکی کہ،، جو شخص اپنی جائز بیوی کو دھوکہ دے سکتا ہے۔ وُہ ناجائز رِشتے کو بھلا کب اہمیت کے قابل سمجھے گا۔۔۔۔صبا کی آواز اُسکے سینے میں دَم توڑنے لگی تھی۔۔۔ یا شائد  اُسکے آنسووٗں نے حلق کے ذریعے سے  باہر نکلنے کا راستہ تلاش کرلیا تھا۔

دیکھو گُل رُخ مجھے معلوم ہے۔کہ،، آج تم اپنی سہیلی سے مِلی ہُو۔۔۔ اُور میرے خیال میں اُس نے شک کی بنا پر تمہارے سامنے میرا ایسا نقشہ کھینچنے کی کوشش کی ہُوگی۔ جسکی وجہ سے تم مجھ سے دِلبرداشتہ  ہُوئی ہُو۔۔۔ لیکن یقین جانو میرے دِل میں تمہارا جو مقام ہے۔۔۔ تُم اُسکا تصور بھی نہیں کرسکتیں۔۔۔۔ کامران نے بات سنبھالنے کی آخری کوشش کی۔۔۔۔

نہیں کامران صاحب میں اِن  فریبی تصورات کی دُنیا  سے نکل کر حقیقت کی دُنیا میں قدم رَکھ چکی ہُوں۔ خُدا کیلئے مجھ سے  جھوٹی اور جذباتی باتیں نہ کریں۔۔۔۔ آپ مجھے کہتے ہیں۔کہ،، دُنیا میں آپ کو مجھ سے ذیادہ پیارا کوئی نہیں۔۔۔ لیکن۔۔۔۔ میرے مقدر میں پھر بھی جائز رِشتہ نہیں۔۔۔  جبکہ بقول آپکے جو عورت آپکو پسند نہیں اسکے بستر پر آپکی ستائس راتیں بسر ہوتی ہیں۔۔۔۔
جو  عورت آپکو پسند نہیں۔۔۔ وہی عورت فخر سے دُنیا والوں کے سامنے آپکے ساتھ شانہ بشانہ چلنے کا حق  بھی رَکھتی ہے۔۔۔ وہی اپنے گھر میں رہتی ہے۔۔۔ وہی خود کو منوانے کی طاقت بھی رکھتی ہے۔۔۔ وہی لاکھوں کے تحائف لیکر بھی ناراضگی کا حق بھی رکھتی ہے۔۔۔۔ تو  کامران صاحب ! آخر میں کُون ہُوں۔۔۔؟ آپکی داشتہ۔۔۔؟ جو اپنی چاہت کا برملا تذکرہ بھی نہیں کرسکتی۔۔۔

جسے خوش کرنے کیلئے آپ ہیرے کی انگوٹھی کہہ کر نقلی زرقون تھمادیتے ہیں۔۔۔۔ کتنا تضاد ہے کامران صاحب آپکی باتوں میں۔ اُور کتنی بے وقوف تھی میں۔ جو محبت اُور ہَوس میں تمیز نہیں کرپائی۔ اُور ایک فریبی شخص کی باتوں میں آکر اپنی ایسی سہیلی کو دھوکہ دینے کیلئے چل پڑی ۔جسے اپنی خوشیوں کو شئیر کرنے کیلئے بھی مجھ سے بہتر کوئی سجھائی نہیں دیتا۔۔۔۔ لیکن اب میں ایسا نہیں ہُونے دُونگی۔۔۔۔ نہیں ہُونے دُونگی۔۔۔۔ میں آج کے بعد صبا سے بھی کبھی نہیں مِلوں گی۔۔۔ کیونکہ میں نے اسکی پشت میں خنجر گھونپا ہے۔۔۔ مجھ میں اب اتنی اخلاقی سکت بھی نہیں ۔کہ،، اُسکی آنکھوں میں دیکھ کر اُسکا   سَامنا کرسکوں ۔۔۔ لیکن اتنی دُعا ضرور کروں گی کہ،، کاش وُہ  تمہارے تحفوں میں چھپی تمہاری شرمندگی اور ندامت کے  کینچلی میں بند سانپوں کو پہچاننے کے قابل ہُوجائے۔۔۔ اے کاش وُہ جان جائے کہ،، فساد کے بعد جو تحفے تُم اُسے دیتے آئے ہُو۔ وُہ محبت نہیں بلکہ گناہ کا کفارہ تھے۔