bing

Your SEO optimized title page contents

Pages

.

.

Monday, 10 March 2014

تذکرہ اِک پری کا۔۔26 جھلک یار پھر آئی نظر۔



تذکرہ اِک پری کا۔۔۲۶ جھلک یار پھر آئی نظر۔ 



عِمران احمد وقاص گُذشتہ پندرہ  بیس دِنوں سے بابا صابر صاحب کو دیوانوں کی طرح ڈُھونڈ رَہا تھا۔۔۔ وُہ جاننا چاہتا تھا کہ،، بابا صابر صاحب نے مُرشد کریم سے کوثر کے متعلق  مُلاقات کی اجازت حاصل کرلی ہے۔یا نہیں۔ لیکن بابا صابر صاحب علی پُور کے مجذوب کا قصہ سُنا کر ایسے غائب ہُوئے تھے ۔جیسے گُویا اُنکو زمین نِگل گئی ہُو۔ یا وُہ آسمان کی سیر کو چلے گئے ہُوں۔۔۔ جُوں جُوں دِن گُزرتے جارہے تھے۔ عمران احمد وقاص کی وحشتوں میں اِضافہ ہُوتا چلا جارہا تھا۔۔۔عمران کو کبھی کبھی  یہ بھی خیال ستاتا۔کہ،، بابا وقاص نے بھی ایک دِن کُوثر  سے مُلاقات کرانے کا پروگرام مرتب کیا تھا۔لیکن وُہ شہر سے اتنی عجلت میں  ایسے  نِکلے ۔کہ،، دُنیا ہی چھوڑ کر چلے گئے۔ اُور اب بابا صابر صاحب اُسکے لئے اِجازت حاصل کرنا چاہتے تھے۔ تو کہیں۔۔۔؟؟؟؟؟ بُہت سے اندیشے عمران کو سہماتے۔لیکن عمران کو یقین تھا۔کہ،، اس مرتبہ اُسکے ساتھ پہلے جیسا کوئی واقعہ نہیں ہُوگا۔اُور ایک  نہ ایک دِن  اُسے کُوثر مِل کر ہی رَہے گی۔۔۔

آج  عمران  حسب سابق  فجر پڑھ کر شہر کے بیرونی دروازے پرچلا آیا تھا۔ لیکن بابا صابر کا آج بھی کوئی سراغ نہیں مِل سکا تھا۔ واپسی میں عمران اُس ہُوٹل پر گیا۔ جہاں اکثر بابا صابر ناشتے کی غرض سے جایا کرتے تھے۔ لیکن ہُوٹل والوں کا کہنا تھا۔کہ،، اُنہوں نے بھی گُذشتہ کئی دِن سے بابا صاحب کو نہیں دیکھا ہے۔ جبکہ ایک ویٹر کا خیال تھا۔ کہ،،  شائد بابا صاحب کی  رُوحانی ڈیوٹی کسی دُوسرے شہر میں لگ گئی ہے۔۔۔ کیوں کہ پہلے بھی ایسا کئی مرتبہ ہُوچکا ہے ۔کہ کوئی ڈیوٹی والے بُزرگ اچانک غائب ہُوگئے۔ اُور دُوسرے ہی دِن ایک نئے بُزرگ رُوحانی ڈیوٹی نبھانے کیلئے نمودار ہُوگئے۔۔۔ ویٹر کی گفتگو سے عِمران کا دِل ڈوبنے لگا تھا۔۔۔۔ اچانک ایک خیال کے تحت عمران نے چُونکتے ہُوئے ویٹر سے استفسار کیا۔۔۔ سُنو!!! کیا تُم نے بابا صاحب کی غیر مُوجودگی میں کسی دُوسرے بُزرگ کو یہاں آتے ہُوئے دیکھا ہے۔۔۔؟؟؟۔۔۔

نہیں جناب ایسا پہلی مرتبہ ہُوا ہے۔ کہ،، ایک بُزرگ کے رُوپوش ہُونے کے باوجود کوئی دُوسرا درویش نمودار نہیں ہُوا۔۔۔ ویٹر نے حیرت سے اپنی لاعلمی کا اظہار کرتے ہُوئے جواب دیا۔۔۔۔۔ اِسکا مطلب ہے۔کہ ،،ابھی بابا صابر شہر میں ہی موجود ہیں۔ اُور اُنکی ڈیوٹی کسی دوسرے شہر میں نہیں لگی ۔ورنہ۔  ڈیوٹی کی تبدیلی پر کوئی نہ کوئی نیا درویش ضرور نمودار ہُوجاتا۔ عمران نے بڑبڑاتے  ہُوئے خُود کو تسلی دی۔۔۔۔۔ عمران ہُوٹل سے نکلنے لگا تو اُسکی نِگاہ قیصر دیوانے پر پڑی۔ عمران نے  اکثر قیصر دیوانے کو بابا صابر کے اِردگرد  گھومتےدیکھا تھا۔ البتہ وُہ کبھی عمران کی موجودگی میں بابا صابر کے اتنے نذدیک نہیں آتا تھا۔ کہ،، دُور سے دیکھنے پر بابا صاحب کے قریب  کھڑا دِکھائی دے جائے۔

عمران قیصر دیوانے کے نذدیک سے گُزرنے لگا۔ تو قیصر دیوانے نے صدا لگائی ،، سُونا کی نہاری کھالے بڑا مزہ آئے گا۔۔۔ عمران نے  پھیکی سی مسکراہٹ سجاتے ہُوئے قیصر دیوانے کی طرف دیکھا۔ اُور شہر کی جانب چلدیا۔۔۔  کئی دِن سے بابا صابر کی گمشدگی کی وجہ سے عمران کی بھوک پیاس اُڑ چکی تھی ۔لیکن آج شہر لُوٹتے ہُوئے حیرت انگیز طُور پر عمران کو بھوک کا احساس ستانے لگا تھا۔وُہ جلد از جلد گھر پُہنچنا چاہتا تھا۔ لیکن اُسکے ذہن میں قیصر دیوانے کا جملہ گونجنے لگا تھا۔ سُونا کی نہاری کھالے بڑا مزہ آئے گا۔۔۔ پھر اِنہی جملوں کی تکرار نے عمران کو  نہاری نان کے ناشتے کیلئے راضی کرلیا۔

عِمران نگاہیں جمائے واک کرتا ہُوا شہر کے واحد اسٹیڈیم کے قریب سے گُزرنے لگا۔ تو  خُوشبو کے ایک لطیف جُھونکے نے اُسکی سانسوں کو معطر کردیا۔ بھلا عمران اِس خُوشبو کو کیسے بُھول سکتا تھا۔ جو اُسکے محبوب کے پسینے میں رَچی بسی تھی۔ عمران کے بڑھتے قدم ٹھٹک کر رُک گئے۔ اُور وُہ بیخودی کے عالم میں  چہار جانب گُھوم گُھوم کر دیکھنے لگا۔۔۔ کبھی یہ خُوشبو سپیدے کے درختوں  کی طرف سے آتی محسوس ہُوتی اُور کبھی عمران کو یُوں محسوس ہُونے لگتا۔ جیسے کوئی سراپا اُسکے جسم سے لپٹ لپٹ کر  اَٹھکلیاں دِکھا رہا ہُو۔ عمران سرشاری کے عالم میں  دھمے لہجے میں  کوثر کوثر پُکارتا ہُوا۔ کبھی سپیدے کے پیڑوں کے پیچھے محبوب کی جَھلک دیکھنے کیلئے  پُہنچ جاتا۔ اُور جب وَہاں موجود نہ پاتا تو  درختوں کی شاخوں پر اُسے ڈھونڈنے لگتا۔ یہ آنکھ مچولی کا کھیل جاری  ہی تھا۔۔۔ کہ،، ڈاکٹر رضوان کی آواز نے عمران کی محویت میں دراڑ پیدا کردی۔۔۔

 ڈاکٹر رضوان صاحب کا کلینک عمران کے گھر سے کچھ ہی فاصلے  پر موجود تھا۔۔۔۔ وُہ شائد واک کرنے کیلئے نِکلے تھے۔ اُنہوں نے عمران کو دُور سے درختوں سے لپٹے دیکھا ۔تو ماجرہ معلوم کرنے کیلئے اُسکے قریب چلے آئے تھے۔۔۔ ڈاکٹر صاحب کے استفسار پر عمران نے بتایا کہ،، اُس نے  زندگی میں  پہلی مرتبہ درختوں پر ایک رنگین گِلہری کو دیکھا ہے۔ جُو اَب نظروں سے اُوجھل ہُوچکی ہے۔۔۔۔ ڈاکٹر صاحب نے عمران کو سمجھاتے ہُوئے کہا۔۔  عمران بیٹا یُوں تنہائی میں درختوں سے لپٹنا چِمٹنا مناسب بات نہیں ہے۔ دُنیا میں بیشمار مخلوقات ہیں۔ جو انسانوں کو اپنی جانب متوجہ کرنا چاہتی ہیں۔۔۔ لیکن بعض اُوقات اِن کو دیکھنا مہنگا پڑجاتا ہے۔ اُور بعض مرتبہ انہیں دیکھنے کے بعد انسان اپنے ہُوش حواس بھی قائم نہیں رکھ پاتا۔ اُور دیوانوں کی دُنیا میں پُنچ  کر ہمیشہ کیلئے اپنوں سے دُور بھی ہُوجاتا ہے۔ عمران نے سعادت مندی سے اپنی گردن جُھکاتے  ہُوئے ڈاکٹر رضوان کو یقین دِلانے کی کوشش کی۔کہ،، وۃ آئندہ اِس معاملے میں اِحتیاط برتے گا۔۔۔ اُور ڈاکٹر رضوان کے ہمراہ شہر کی جانب بڑھ گیا۔


سُونا رِیسٹورنٹ پُہنچ کر عمران کو احساس ہُوا۔کہ،، آج معمول سے کئی گُنا ذیادہ خریدار نہاری خریدنے  اُور کھانے کیلئے رِیسٹورنٹ میں موجود ہیں۔۔ یُوں تو سُونا رِیسٹورنٹ کی نہاری ویسے بھی شہر بھر میں بُہت مشہور تھی۔ لیکن آج کچھ ذیادہ ہی خوشبو کی لپٹیں عمران کے مسام دِماغ کو معطر کررہی تھیں۔۔ جبکہ اتنی عمدہ خُوشبو کی وجہ سے  بُھوک  کا اِحساس بھی کئی گُنا بڑھ چکا تھا۔۔۔ تقریباً آدھے گھنٹہ بعد عمران ایک ٹیبل کی کرسی پر قبضہ جمانے میں کامیاب ہُوچُکا تھا۔۔۔۔ نہاری کھاتے ہُوئے  ہر نوالے کیساتھ عمران کو حیرت کے شدید جھٹکے لگ رہے تھے۔۔۔ کیونکہ نہاری کی لذت اُور خُوشبو عام دِنوں کے مقابلے میں سُو گُنا ذیادہ تھی۔۔۔ عمران نے سُوچا۔کہ کھانے سے فارغ ہُونے کے بعد وُہ اَمی اَبو کیلئے بھی ضرور پارسل لیکر جائے گا۔۔۔ تبھی اُسکے کانوں میں ایک ویٹر کی آواز گُونجی۔جو گاہکوں کو مُخاطب کرتے ہُوئے اعلان کررہا تھا۔کہ،، نہاری ختم ہُوچکی ہے۔۔۔۔

عمران کو افسوس تو بُہت ہُوا لیکن اب کرا بھی کیا جاسکتا تھا۔۔۔ عمران  کھانے سے فارغ ہُوکر جب کاونٹر پر بِل اَدا کرنے کیلئے پُہنچا۔ تو اُس وقت رإیسٹورنٹ کا مالک باورچی پر  دھیمے لہجے میں برس رَہا تھا۔ کہ تُم نے اتنے ذیادہ مصالحہ جات نہاری میں کیوں ڈالے ہیں۔۔۔؟ اگر اِس قیمت پر نہاری میں اتنے مصالحے ڈالے جائیں گے۔ تو ایک دِن رِیسٹورنٹ کا دِیوالیہ نَکل جائے گا۔۔۔۔  جبکہ باورچی کا اِصرار تھا۔کہ،، اُس نے اُتنے ہی مصالحے نہاری کی دیگ میں ڈالے ہیں۔جتنے کے رُوزانہ ڈالے جاتے ہیں۔۔۔ مالک اُور باوررچی کی توتکار جاری تھی۔ اُور عمران سُوچ رَہا تھا۔کہ،، ریسٹورنٹ کا مالک کتنا خُود غرض ہے کہ ،، بجائے باورچی کی تعریف کرنے کے۔۔۔ذرا سے مصالحے کی مقدار بڑھ جانے پر باورچی سے جھگڑ رَہا ہے۔۔۔ حالانکہ جو نہاری پہلے ظہر کی نماز تک نہیں بکتی تھی۔ انہی مصالحوں کی بدولت آج صبح سویرے ہی ختم ہُوچکی ہے۔۔۔ کیا ہی اچھا ہُو کہ،، نہاری کی ذرا سی قیمت بڑھا کر معیار میں اضافہ کرلیا جائے۔۔۔ عمران کی سُوچوں کا تانا بانا جاری  ہی تھا۔۔۔ کہ علاقے کے چوکیدار نے  جو شائد کافی دیر سے مالک اُور باور چی کی تکرار ملاحظہ کررہا تھا مُداخلت کرتے ہُوئے  رِیسٹورنٹ کے مالک کو ایک نئی کہانی سُنانے لگا۔

چوکیدار کا دَعوی تھا۔کہ،، آج نہاری میں ذایقے کی وجہ مصالحہ جات نہیں ہیں۔۔۔ بلکہ یہ نہاری کی خُوشبو اُور لذت کسی اُور وجہ سے ہے۔۔۔۔  رِیسٹورنت کے مالک نے حیرت سے چوکیدار کی بات سُن کر کہا۔۔۔ خان صاحب اگر نہاری میں ذائقے کی وجہ مصالحے نہیں ہیں۔ تو پھر کس وجہ سے نہاری کی دیگ سے اتنی عمدہ خُوشبو برآمد ہُورہی تھی۔۔۔۔؟؟؟  خان صاحب فرمانے لگے۔۔ ہم کو کسی کا جھوٹا طرفداری نہیں کرنا ہے۔ کیونکہ کل ہم کو بھی خُدا کی بارگاہ میں حاضر ہُوکر جواب دینا ہے۔۔۔ اسلئے ہم جو بھی بات کریگا بالکل سچ کرے گا۔ بلکہ اگر تم ہم سے ہماری بات کا گواہ مانگے تو ہم وُہ گواہ بھی دینے کیلئے تیار ہے۔۔۔ دراصل کا رات جب تُم لُوگ دُکان بند کرکے چلا گیا تھا۔ ہم چکر لگانے کے واسطے دُوسری گلیوں میں چلا گیا تھا۔لیکن جب ہم واپس آیا تو ہم نے دیکھا۔ کہ،، بابا صابر نے دیگ کا ڈھکن کھول رکھا تھا۔ اُور ایک بُہت بڑا گُوشت کا ٹکڑا اُس کے ہاتھ میں تھا۔  جب ہم اُسکے قریب پُہنچا تو اُس نے اُس  نے گوشت کے ٹکڑے سے تھوڑا سا گوشت نُوچ کر کھایا اُور باقی گوشت واپس دیگ میں یہ کہتے ہُوئے ڈال دیا۔کہ،، کل ہمارا ایک بچہ یہاں کھانا کھانے آئے گا۔ بس اُسی کے واسطے انتظام کررہا ہُوں۔۔۔۔ 

اِس لئے خُدا کا قسم ہم کو پورا یقین ہے۔کہ،، نہاری میں لذت اُور خُوشبو اُس اللہ والے کے  گُوشت کو جھوٹا کرنے سے آئی ہے۔مصالحہ ڈالنے کی وجہ سے نہیں آئی۔۔۔ اُور ہم صرف یہی بات بتانے کیلئے آج صبح صبح آیا ہے۔ ورنہ یہ وقت ہمارے سُونے کا وقت ہے۔۔۔۔ خان صاحب کی نیک نامی اُور ایمانداری کی وجہ سے رِیسٹورنٹ کے مالک نے  نا صِرف خان صاحب کی بات کو صدقِ دِل سے قبول کرلیا۔بلکہ اُس نے باورچی سے بھی فوراً  اپنے رویئے پر معذرت کرلی۔۔۔ جبکہ عمران کیلئے یہ خبر ہی خُوشی بڑھانے کیلئے کم نہ تھی۔کہ،، بابا صابر شہر ہی میں موجود ہیں۔۔۔۔ بلکہ اُسکا دِل گواہی دے رِہا تھا۔کہ،، بابا صاحب نے اپنے کشف سے میری یہاں آمد کو جان لیا تھا۔ اُور وُہ صرف میرے ہی لئے دیگ کے کھانے کی رُونق بڑھانے آئے تھے۔

عمران اِسی کیف و مستی کی حالت میں  بابا صابر کی تلاش میں ایک مرتبہ پھر شہر کے بیرونی دروازے کی طرف بڑھنے لگا۔۔۔ اِسٹیڈیم کے باہر اُنہی درختوں کے قریب سے گُزرتے ہُوئے عمران کو پھر اُنہی معطر معطر جُھونکوں نے مسحور کردیا۔پھر اُسکے قدم  اُسی جگہ ٹہر گئے۔ کہ اچانک  عقب سے کوثر کی کھنکتی ہُوئی آواز عمران کے کانوں میں  نقرئی گھنٹیوں کی طرح  جلترنگ بکھیرنے لگی۔۔۔۔ بالم کیسی لگی نہاری  کی دعوت آپکو۔۔۔؟؟؟ عِمران نے پلٹ کر دیکھا ۔تو  کوثر کو دیکھتا ہی چلا گیا۔۔۔۔ کوثر اپنی تمام تر حشر سامانیوں کیساتھ  اپنے حُسن کے جَلوے بکھیرنے کیلئے ایکبار پھر  عمران کے سامنے  کھڑی مسکرا رہی تھی۔

جاری ہے۔۔۔

اُسکی الفت کا مزاہ سب سے الگ سب سے جُدا
جیسے سُورج کی تپش روکتی ہے کُوئی رِدا
جیسے ساقی نے پَلائی ہُو کسی تشنہ کو شراب
جیسے ٹل جائے کسی عاصی کے سر پہ سے عذاب .


کسی کا کہنا ہے۔کہ افسانہ نگاری اُور لوگوں سے میل جُول بڑھانا ہی میری روحانی ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رُکاوٹ ہیں۔۔۔ لیکن مجھے صرف اتنا معلوم ہے۔ جو مخلوق خُدا سے محبت نہیں کرسکتا۔ وُہ  خالق سے محبت کے دعوے میں  بھی جُھوٹا ہے۔۔۔ اُور مجھے  انشا اللہ خالق ،،مخلوق کی خدمت سے ہی ملے گا۔ اِس بات پر میرا  کامِل یقین بھی ہے اُور بھروسہ بھی۔