bing

Your SEO optimized title page contents

Pages

.

.

Sunday, 31 May 2015

عامل کامل ابو شامل (بچہ کہانی) قسط 41.AKAS



گُذشتہ سے پیوستہ۔
نمائش میں سوائے رقص و سُرودکی محفل کے کچھ نہیں تھا۔ البتہ کچھ لوگ کھیل کے نام  پرمختلف شامیانوں میں جُوئے میں مصروف تھے۔ کامل علی کی طبعیت تھوڑی ہی دیر میں اِس کھیل تماشے سے اُکتانے لگی تھی۔۔۔ یار ابو شامل یہاں تو اپنے مطلب کی کوئی بات نہیں ہے۔۔۔۔  اِس سے تو بہتر تھا گھر پر ٹی وی ہی دیکھ لیتے۔۔۔ کام کی چیز بھی ہے ۔میرے یار اُور ہمارے لئے کام بھی،، بس دیکھنے والی نظر چاہیئے ابوشامل نے گُم سُم لہجے میں جواب دیتے ہُوئے کامل کو ایک شامیانے کی جانب متوجہ کیا۔ جس کے پردے نما دروازے پرایک ڈرائیور ٹائپ شخص ایک تیرہ چودہ برس کے خُوبصورت بچے کی پٹائی میں مصروف تھا۔

اَب مزید پڑھیئے۔

ایسا نہیں تھاکہ،، نمائش میں موجود  سبھی لُوگ اِس تماشے سے بے خبر تھے۔ لُوگ اُن کے قریب جارہے تھے۔لیکن نجانے وُہ شخص اُنہیں ایسا کیا بتا رہا تھا۔ کہ،، کوئی بھی اُس بچے کو بچانے کے بجائے وہاں سےکھسک کر دوبارہ نمائش کی رُونق کا حصہ بن جاتا۔۔۔۔ ابو شامل کو بڑھتا دیکھ کر کامل علی کے قدم بھی بچے کی جانب بڑھنے لگے۔۔۔۔ کامل علی نے جب اُس شخص سے دریافت کیا کہ،، کیوں وُہ اِس بچے کو اتنی بیدردی سے پیٹ رہا ہے۔ تو اُس شخص نے دہاڑتے ہُوئے کامل کو  وہاں سے خاموشی سے دفع ہُوجانے کا مشورہ دیا۔ کامل علی کا خُون  اُس شخص کے  ہتک آمیز روئیے سے کھولنے لگا تھا۔۔۔ جبکہ بچہ اپنے پھٹے ہُوئے ہُونٹوں سے بہتے خُون کو  رُوکنے کی ناکام کوشش کرتے ہُوئے رحم طلب نگاہوں سے اب  کامل کی جانب دیکھنے لگاتھا۔ اچانک اُس شخص نے   بچے کو ایک  مزید ٹھوکر رسید کردی۔ جسکے جواب میں اُس بچے نے ہاتھ جُوڑتے ہُوئے فریاد کی۔ اُستاد معاف کردیں آپکو آپکے بچوں کا واسطہ۔


کامل کو اندازہ لگانے میں دیر نہیں لگی۔کہ،، یہ شخص اِس بچے کا باپ نہیں ہے۔بلکہ کوئی اُستاد ٹائپ چیز ہے۔ تبھی اتنی بے رحمی سے  پرائےبچے کو رُوئی کی طرح دھنک رَہا ہے۔۔۔ اُس شخص پر نجانے کیسا جنون طاری تھا۔کہ،، بچے کےمعافی طلب کرنے پر ایکبار پھر بھڑک کر   بچے کو لاتوں اُور گھونسوں پر رکھ لیا۔ اب بات کامل کی برداشت سے باہر ہُوچُکی تھی۔ کامل نے بھی اپنے  والدین کو کھویا تھا۔لیکن اتنی سفاکی تو اُس نے بھی کبھی برداشت نہیں کی تھی۔ بچے کی چیخوں نے کامل میں جیسے جنون پیدا کردیا تھا۔ لہذا کامل نے  تمام باتوں سے بے پرواہ ہُوکر ایک زُور دار ہاتھ اُس شخص کی گُدی پر جَڑ دیا۔ وُہ شخص اِس معاملے کیلئے ذہنی طور پر بالکل تیار نہیں تھا۔ اِس لئے پہلے لڑکھڑایا پھر کامل پر حملے کیلئے جونہی آگے بڑھا۔ کامل نے اُس شخص پر جنونی انداز میں جوابی حملہ کردیا۔۔۔۔ چند لمحوں میں نجانے کہاں سے اُس شخص کے مزید چار حمایتی بھی کامل پر حملہ آور ہُوچکے تھے۔ لیکن اکیلا کامل اُن پانچوں کو  ایسے اُٹھا اُٹھا کر پٹخ رہا تھا۔ جیسے لباس میں بدمعاشوں کے جسم کے بجائے ٹیڈی بئیر موجود ہُوں۔۔۔۔ لُوگوں کو صرف کامل علی ہی نظر آرہا تھا۔ اِسلئے بُہت سے لوگ یہ تماشہ دیکھتے ہُوئے   کامل کو سپرمین گردان رہے تھے۔ جبکہ پس پردہ اِس ساری اُٹھا پٹخی میں مصروف ابوشامل کسی کو دکھائی نہیں دیا۔


تھوڑی ہی دیر میں کامل کے گرد ہجوم جمع ہُونے لگا تھا۔ جبکہ  وُہ پانچوں بدمعاش ٹائپ افراد زمین چاٹ رہے تھے۔۔۔۔ تبھی ابوشامل نے کامل کے کان میں سرگوشی کی،،  اِس سے پہلے کہ،، پولیس آجائے بچے کو لیکر یہاں سے نکلو۔ ۔۔۔۔ کامل بچے کا ہاتھ پکڑےبھیڑ  کوچیرتے ہُوئے نمائش سے باہر نکل آیا تھا۔ تبھی بُہت دُور سے پولیس کی گاڑیوں کی روشنی نظر آنے پر  ابو شامل نے کامل کے ہاتھ کو پکڑ کر جھٹکا مارا۔ کامل نے گرنے سے قبل بچے کا ہاتھ مضبوطی سے پکڑ کر اُس بچے کو اپنے سینے پر گرا لیا تھا۔ کامل نے جھٹکے سے سنبھل کر  ابو شامل کو گھورا ۔ تو ابو شامل نے  مسکرا کر سامنے دیکھنے کا اِشارہ کیا۔ تو کامل کو معلوم ہُوا۔کہ ابوشامل نے آج پھر وہی سابقہ حرکت کی تھی۔ جسکی وجہ سے وُہ اپنے بنگلے سے ذیادہ سے ذیادہ ہزار میٹر  کے فاصلے پر موجود تھے۔ کامل سمجھ گیا۔کہ،، اتنا فاصلہ بھی ابوشامل نے بچے کی وجہ سے چھوڑا ہُوگا۔تاکہ بچے کو عجیب نہ لگے۔

گھر میں داخل ہوتے ہی کامل نے  جاناں کو اپنا منتظر پایا۔ ابو شامل بھی دروازے میں داخل ہوتے ہُوئے ظاہر ہُوچکا تھا۔ جاناں کی نظر جونہی  زخمی بچے پر پڑی وُہ ہائے ربَّا !!!کی ہُویا۔ اِس نکے نُوں۔ ؟ کیا  خُدانخواستہ آپکی گاڑی سے ایکسیڈنٹ ہوگیا  اِس بچے کا۔؟ اُور آپ ہسپتال کے بجائے گھر کیوں لے آئے اِس بیچارے کو۔۔ جاناں نے ممتا بھرے لہجے میں بچے کے سر پر شفقت سے ہاتھ پھیر کر اُسکے  زخموں پر نگاہ ڈالی۔

خُدا کی بندی ایک ہی سانس میں کتنے سوال کرڈالے تُم نے۔۔۔ ہمیں نہیں پتا یہ بچہ کُون ہے۔اُور کہاں سے آیا ہے۔۔۔ ہمیں تو یہ زخمی حالت میں  راستے پر پڑا دِکھائی دیا۔ تو انسانی ہمدردی میں گھر اُٹھالائے۔ مرہم پٹی کے بعد اِسے گھر چھوڑ آئیں گے۔ تُم ایسا کرو اِس کیلئے ہلدی والا دُودھ لے کر آوٗ ساتھ ہی مرہم پٹی والا بکس بھی لے آنا۔ جاناں کے کمرے سے نکلتے ہی کامل نے کرید کُرید کر بچے سے  سوالات پُوچھنے شروع کردیئے۔ بچے کی دلخراش داستان نے کامل ہی کو نہیں ابوشامل کی آنکھوں کو بھی نم کر ڈالا۔

بچے  نے اپنا نام رجب حُسین بتایا۔ وُہ ایبٹ آباد کے مضافات کا رہنے والا تھا۔ گھر میں   چھ بہنوں کے بعد اکلوتا بھائی ہُونے کے باوجود والدہ نے صرف اسلئے قریبی گاوٗں کے  ٹرک مالک   دِلاورخان  کے ساتھ روانہ کردیا تھا۔ کہ ،، رجب کی آمدنی سے شائد وُہ  لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلانے سے بچ جائیں۔ رجب کا  والد راج گیر مستری تھا۔ جو چند سال قبل    ایک مکان کا بیرونی پلستر کرتے ہُوئے کوازے سے پھسل کر اپنی کمر تُڑوا بیٹھا تھا۔۔۔۔ اُستاد  دِلاور خان یُوں تو پنج وقتہ نمازی تھا۔ لیکن اُسکا باطن ظلمات   کا اسیر تھا۔ جبکہ طبیعتا! وُہ بھی   بیشتر ڈرائیوروں کی طرح ہم جنس پرست تھا۔  ہردن نہ چاہتے ہُوئے بھی رجب کو دِلاور خان کا وُہ مکروہ چہرہ دیکھنا پڑتا ۔ کہ،، جس چہرے میں دِلاور خان انسان کے بجائے ایک  بھیڑیئے نما شیطان کی  شکل دھار  کر وحشی بن جاتا۔ رجب کا خیال تھا۔کہ،، اس مرتبہ اُستاد جونہی ایبٹ آباد  پُہنچے گا۔ تو وُہ رُو ۔رُو کر امی سے فریاد کرے گا۔کہ،، امی مجھے اِس شیطان سے بچالیں۔ اُور اُسکا دل کہتا تھا۔کہ،، اُسکی بہنیں اُور امی اُسے شیطان خان کے پنجے سے بچالیں گی۔

گُذشتہ کچھ دنوں سے  ٹرک میں خرابی کی وجہ سے وُہ  ایک ٹرک اڈے پر ٹہرے ہُوئے تھے۔ اُور ۲ دنوں سے دلاور خان رجب کے ساتھ نمائش دیکھنے کیلئے آرہا تھا۔جہاں  رقاصاوٗں کے  ہیجان انگیز بیہودہ  رقص دیکھنے کے بعد دِلاور خان پر شیطانی دورہ پڑنے لگتا۔ جسکے بعد دلاور خان  درندگی اُور سفاکیت   کا ایسا مظہر بن جاتا ۔کہ،،فلک اُور فضائیں بھی   رجب حُسین کی سسکیوں اُور آہوں سے بیقرار ہُوکر  شرم سے اپنی آنکھوں پر  ہاتھ رکھنے کیلئے مجبور ہوجاتیں۔ کامل  کی شفقت اُور مہربانی دیکھ کر رجب نے اپنی داستان سُنا تو دی تھی۔ لیکن اُس  نے انسانوں کے چہرے پر پڑی غلیظ نقاب کوبھی دیکھا تھا۔ اِس لئے اب وُہ بلک بلک کر کامل علی اُور ابوشامل کے سامنے ہاتھ جُوڑ کر فریاد کررہا تھا۔کہ،، خُدا کیلئے مجھے واپس اُس شیطان کے حوالے نہ کیجیئے گا۔  بلکہ میرے گھر والوں کو اطلاع کردیں۔ تاکہ وُہ میرے لئے ٹکٹ کے پیسے بھیج کر مجھے واپس بُلا لیں۔ رجب کی گفتگو میں چھپی خُودداری نے کامل کے دل میں رجب کیلئے مزید ہمدردی پیدا کردی۔

رجب کی مرہم پٹی اُور کھانا  کھلا کر ۔رجب کوجاناں کے حوالے کرنے کے بعد ابوشامل ، کامل کیساتھ چھت پر چلا آیا تھا۔۔۔۔رجب کی داستان سُننے کے بعد ابوشامل نے کامل پر اپنا خیال ظاہر کرتے ہُوئے بتایا کہ،، وُہ کل رات رجب کو اُسکے گھر چھوڑ آئے گا۔ اور اپنی  فرضی (این جی اُو) کی طرف سے اتنی بڑی رقم کا انتظام بھی کردے گا۔کہ،، پھر کبھی رجب کو ملازمت کے نام پر اپنی روح کو اذیت سے دوچار نہ کرنا پڑے۔۔۔۔ کل کیوں۔آج کیوں نہیں چھوڑ آتے اِس بیچارے کو اپنی فیملی کے پاس۔۔۔۔ کامل نے مشورہ دیتے ہُوئے کہا۔۔۔۔ آج اِس لئے نہیں لیجاسکتا۔ کہ مجھے  یہاں سے وہاں پُہنچنے میں پانچ منٹ بھی نہیں لگیں گے۔ اور اگر خُدانخواستہ اُس شیطان نے رجب کی گمشدگی کی اطلاع اُس کے گھر کرتے ہُوئے یہ بتادیا کہ،، یہ آج رات کا ہی واقعہ ہے۔ تو گڑ بڑ ہُوجائے گی۔ کیونکہ رجب نے سفر  کیلئے ہوائی جہاز تو استعمال نہیں کرنا۔نا!!!

رجب کا خوف اُور اُسکی وحشتیں جاناں کی محبتوں کی چھاوٗں میں فی الوقت کہیں گُم ہُوچُکی تھیں۔ ابو شامل نے ٹیلی پیتھی کے ذریعے سے اِس بات کا خاص خیال رکھا تھا۔کہ،، رجب  کسی بھی طرح جاناں سے اپنے علاقے کا ذکر نہ کرے۔ دوسری شام ابو شامل نے رجب کو کار میں بٹھا کر اُس پر نیند طاری کی اُور ایبٹ آباد کیلئے نکل گیا۔۔۔۔۔۔۔ جاناں کو شک نہ ہو۔ اس لئے ابو شامل نے کامل کو بتادیا تھا۔ کہ،، اُسکی واپسی چار گھنٹے بعد ہی ہُوگی۔ اِس دوران میں رجب کی فیملی سے ملنے کے بعد کچھ خبر اپنوں کی بھی لیتا آوٗنگا۔۔۔۔۔  ابوشامل کو گئے بمشکل آدھا گھنٹہ بھی نہیں گُزرا ہُوگا۔ کہ،، ڈور بیل کی آواز سُن کر کامل دروازے پر  پہنچ گیا۔ دروازے  کھولتے ہی کامل کی نظر دروازے پر کھڑے چند مستعد پولیس سپاہیوں اُور ایک انسپکٹر پر پڑی۔۔۔۔ ایک سپاہی نے کامل کی شناخت کرتے ہُوئے اعلان کیا۔ صاحب یہی تھا وُہ شخص جس نے کل رات نمائش میں پانچ بندوں کو زخمی کیا تھا۔ کامل کے چہرے پر سپاہی کی بات سُن کر ہوائیاں اُڑنے لگی تھیں۔
دل کی بات۔

دِل کی بات کہنے کا کیا فائدہ ؟؟؟ جب کوئی  سب کچھ سمجھ کر بھی ناسمجھ بنارہے۔

آپ سب کی دُعاوں کا طلبگار
عشرت اقبال وارثی۔
(جاری ہے)

اُسکا کہنا ہے۔ کِسی اُور کو دیکھوں نہ کبھی
کیوں کہ اُسکو یہ میرا رُوپ بُرا لگتا ہے۔

مجھکو ہر چہرے میں آتاہے نظر اِک وُہ ہی
جُو نہ بھر پائے یہ بہروُپ !!!  ۔بُرا لگتا ہے۔


جال در جال قسط ٩



جال در جال قسط ٩ 


گُزشتہ سے پوستہ۔

حسان صاحب نے کاغذ پر ایک سرسری نِگاہ ڈالنے کے بعد وہ کاغذ تِہہ کرنے کے بعد اپنی ڈائری میں رکھتے ہُوئے فرقان سے فرمایا،، اگر میرا اندازہ ٹھیک ہے تُو سمجھ لُو کہ تُمہارے اِمتحان کے دِِِن انشاءاللہ عزوجل بُہت جلد ختم ہُونے کو ہیں۔ بس اللہ کریم کرم فرمائے۔ اور یہ وہی شہریار مجددی ہُو جو میں سمجھ رَہا ہُوں۔۔۔۔ نام تُو وہی ہے۔ لیکن یہ دُبئی کے بجائے پاکستان میں کیا کررہا ہے۔ بس یہ مُعمہ حل ہُونا باقی ہے۔ اور اگر یہ وہی شہریار مجددی ہے تو ابتک میری نظروں سے کیوں اُوجھل ہے۔۔۔۔۔؟

اَب مزید پڑھیئے۔

حسان صاحب نے فرقان کو تاکید کی۔ وہ جلد از جلد شہریار مجددی سے رابطہ کرے اور اُس کے ساتھ ہماری نِشست کا اہتمام کرے۔مزید کچھ گفتگو کے بعد یہ مجلس برخاست ہُوگئی۔

حسان صاحب کے گھر سے واپس آنے کے بعد دُو دِن تک فرقان اپنے مسائل میں ایسا گِھرا کہ اُسے حَسان صاحب کی ہِدایات یاد ہی نہ رہیں۔ جُوں جُوں وقت گُزرتا جارہا تھا۔ مسائل بڑھتے ہی جارہے تھے۔ بچوں کے اسکول ، ٹیوشن کی فیسیں ، یوٹیلٹی بِلز ، مکان کا کرایہ، اور تمام گھریلو اِخراجات کیلئے رقم کی ضرورت تھی۔ لیکن فرقان کی جیب ہنوز خالی تھی۔ ایسے وقت میں کہ جب چہار جانب سے فرقان پر مایوسی کے بادل اُمنڈتے چلے آرہے تھے۔ اور کوئی تدبیر سُجھائی نہیں دے رہی تھی۔ فرقان کی بیگم نے اُسکی ہمت بندھاتے ہُوئے اُسکی گُود میں اپنا تمام زیور لاکر ڈال دیا۔

اِس تمام زیور میں وہ چار خُوبصورت کنگن بھی موجود تھے۔ جو شادی کی رات فرقان نے بیگم کو بڑے چاؤ سے پہنائے تھے۔ اور امی کی طرف سے دیا جانے والا وہ خاندانی ہار بھی دِکھائی دے رَہا تھا جو امَّاں کو دادی کی طرف سے مِلا تھا۔ فرقان نے وہ تمام زیور واپس کرتے ہُوئے کہا۔ کہ،، میں کہیں سے قرض حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہُوں۔ لیکن بیگم نے سمجھایا کہ،، ماں باپ اور تمام محبت کرنے والے اپنے بچیوں کو زیورات سے صرف اِس لئے آراستہ نہیں کرتے کہ ،، وہ صرف اُنہیں پہن کر حسین نظر آئیں ۔ بلکہ اِس لئے بھی دیتے ہیں کہ،، اگر خُدانخواستہ کبھی بُرا وقت آجائے تو اِنہیں بیچ کر سخت حالات کا مُقابلہ کیا جاسکے۔ کافی بحث کے بعد فرقان نے ہتھیار ڈالتے ہُوئے امی کے ہار کے علاوہ تمام زیور لے لیا۔ تمام زیورات بیچ کر ۱۲ لاکھ روپیہ سے کُچھ زائد رقم حاصِل ہُوگئی۔ جسکی وجہ سے فرقان کو اطمینان ہُوگیا کہ کم از کم ایک برس کا عرصہ اطمینان سے گُزر جائے گا۔ جب تک روزگار کا کوئی خاطر خُواہ انتظام بھی ہُو ہی جائے گا۔

فرقان اِن تمام معاملات میں اُلجھا ہُوا تھا۔ کہ حسان صاحب کی کال آگئی۔ اور جب اُنہوں نے شہریار مجددی سے ہُونے والی ٹیلیفونک گفتگو سے متعلق استفسار کیا تُو فرقان نے شرمندگی سے صاف صاف تمام حقیقت بتادی جسکی وجہ سے وہ شہریار مجددی سے گفتگو نہیں کرپایا تھا۔ حسان صاحب کو زیورات بیچے جانے کا جب معلوم ہُوا ۔ تو اُنہوں نے دُکھ اور ناراضگی کا اِظہار کرتے ہُوئے کہا۔ فرقان وہ بُہت نیک سیرت بچی ہے۔ اور وہ صرف تُمہاری بیگم نہیں ہے۔ بلکہ ہماری بھی بیٹی جیسی ہے۔ آپ نے ہم سے بڑی بیگانگی برتی۔ اگر آپ اپنی پریشانی کا اِطہار زیور بیچنے سے قبل ہم سے کردیتے تو اُس بیچاری کے زیورات بیچنے کی نوبت ہی نہیں آتی۔ اتنی رقم تو ہم بھی آپکو قرض حسنہ کے طور پر دے سکتے تھے۔۔۔۔!

فرقان نے جب شہریار مجددی کو کال مِلانے کی کوشش شروع کی تب بُہت مشکل کے بعد اُسکی کال مِلی۔ کیونکہ کافی مرتبہ موبائیل بِزی ٹون کیساتھ فرقان کا استقبال کرتا رہا۔ جسکی وجہ سے فرقان نے اندازہ لگایا کہ موصوف انتہائی مصروف شخصیت ہیں۔ سلام کے بعد جب فرقان نے اپنا تعارف کراتے ہُوئے بتایا کہ اُس کے پاس زمین کا وہ مطلوبہ ٹکرا موجود ہے۔ جسکی اُنہیں تلاش ہے۔ تو شہریار مجددی نے معذرت کرتے ہُوئے بتایا کہ وہ آجکل بُہت مصروف ہے۔ اور پراپرٹی کی لین دین وہ ڈائریکٹ نہیں کرتا بلکہ اُسکا منیجر کرتا ہے۔ اسلئے آپکو جِس بروکر نے آفر کی ہے۔ آپ اُسی کی معرفت میرے مینیجر سے مُلاقات کرلیں۔ اِس سے پہلے کہ شہریار لائن ڈسکنیکٹ کردیتا۔ فرقان نے استفسار کرتے ہُوئے کہا،، کیا آپ پروفیسر حسان صاحب کو جانتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟

شام کو فرقان، حسان صاحب کے مکان پر بیٹھا اُنہیں بتارہا تھا۔ کہ کسطرح شہریار مجددی اُس کے ساتھ سرد مہری کے ساتھ پیش آرہا تھا۔ اور قریب تھا کہ وہ لائن ڈسکنیکٹ کردیتا۔ لیکن جیسے ہی اُس نے آپکا نام سُنا۔ اُسکا نہ صرف رویہ بدل گیا۔ بلکہ وہ اپنی گفتگو سے کافی شرمسار نظر آرہا تھا۔

شہریار مجددی نے آٹھ بجے کا ٹائم دیا تھا۔ لیکن وہ پندرہ منٹ پہلے ہی پُہنچ گیا تھا۔ حسان صاحب پر نظر پڑتے ہی وہ،، اُستاذِ محترم کہتے ہی نمناک آنکھوں سے حسان صاحب کی طرف دست بوسی کیلئے لپکا۔ لیکن حسان صاحب نے کھڑے ہُوکر اُسے اپنے سینے سے بھینچ کر لگالیا۔

حَسان صاحب کے شکوے پر شہریار مجددی نے بھیگی پلکوں کیساتھ اپنے جُرم کا عتراف کرتے ہُوئے کہا۔ اُستاذِ من واقعی میں آپکا مجرم ہُوں کہ ایک ہفتے سے آپکے شہر میں موجود ہُونے کے باوجود آپکی زیارت کا شرف حاصِل نہیں کرپایا۔ جسکا مجھے بھی بُہت افسوس ہے۔ حسان صاحب نے شہریار مجددی کی آمد پر کھانے کا انتطام کیا تھا۔ دوران ضیافت حسان صاحب نے فرقان کا تعارف یہ کہہ کر شہریار سے کروایا کہ،، یُوں سمجھ لو کہ آج سے فرقان تُمہارا اُستاد بھائی نہیں۔ بلکہ تُمہارے اُستاد کا بُہت چہیتا بیٹا بھی ہے۔

شہریار نے حسان صاحب کے مزید استفسار پر بتایا کہ وہ عنقریب دُبئی سے پاکستان سیٹل ہُو رہا ہے۔ جسکی تیاری کیلئے وہ چند روز کیلئے پاکستان آیا تھا۔ تاکہ وہ یہاں ایک پیپر مِل لگا کر باقی ماندہ زندگی اپنے وطن عزیز میں آرام سے گُزار سکے۔

شہریار میاں یہ پیپر مِل کتنی رقم کا پروجیکٹ ہے۔۔۔؟ حسان صاحب نے لُقمہ بناتے ہُوئے سوال کیا۔

بروکر نے بتایا ہے کہ شہر میں زمین کا مطلوبہ ٹکڑا چھ سے آٹھ کروڑ کے درمیان مِل جائے گا۔ جبکہ منیجر بتارہا تھا۔ زمین پر عمارت بنانے کیلئے دو کروڑ کی رقم کا تخمینہ لگایا گیا ہے جبکہ ابتدائی طور پر پانچ کروڑ روپیہ سے کاروبار شروع ہُوجائے گا۔ پھر جیسے جیسے منافع ہوتا چلا جائے گا۔ کاروبار بھی پھیلتا چلا جائے گا۔ میں تمام معاملات کی جانچ پڑتال کرچُکا ہُوں۔ اسلئے میں بھی منیجر کی رائے سے متفق ہُوں۔ شہریار مجددی نے کھانے کے بعد ہاتھ صاف کرتے ہُوئے بتایا۔

شہریار میاں کیا ایسا ممکن نہیں کہ آپ جو چھ سے آٹھ کروڑ روپیہ زمین کی خریداری میں لگا رہے ہیں۔ وہ رقم کہیں اور انویسٹ کردیں۔ اور کوئی دوسرا شخص اپنی زمین دیکر آپکا شراکت دار بن جائے۔۔۔؟ حسان میاں نے تجویز دیتے ہُوئے سوال کیا۔

شہریار مجددی نے کُچھ لمحے سوچتے ہُوئے کہا۔حضرت ممکن تو ہے۔ اور مجھے یہ بھی یقین ہے۔ کہ جب آپ کہہ رہے ہیں تو یقیناً میرے لئے اسمیں دُنیا اور آخرت کی بھلائی بھی ضرور ہُوگی۔ لیکن اگر آپ کُچھ مزید تفصیلات بتادیں۔ تو اسکے ممکنہ پیش آنے والے معاملات پر بھی غُور کیا جاسکتا ہے

بیٹا شہریار تُمہیں تو معلوم ہی ہے کہ اللہ کریم نے سودی معاملات کو ناپسند کرتے ہُوئے سورہ بقرہ میں آیت نمبر ۲۷۵ تا ۲۷۹ تک ارشاد فرمایا ہے کہ: وہ جو سود کھاتے ہیں قیامت کے دن نہ کھڑے ہوں گے مگر، جیسے کھڑا ہوتا ہے وہ جسے آسیب نے چھو کر مخبوط بنا دیا ہو اس لئے کہ انہوں نے کہا بیع بھی تو سود ہی کے مانند ہے ، اور اللہ نے حلال کیا بیع کو اور حرام کیا سود،۔ تو جسے اس کے رب کے پاس سے نصیحت آئی اور وہ باز رہا تو اسے حلال ہے جو پہلے لے چکا، اور اس کا کام خدا کے سپرد ہے اور جو اَب ایسی حرکت کرے گا تو وہ دوزخی ہے وہ اس میں مدتو ں رہیں گے۔ اللہ ہلاک کرتا ہے سود کو اور بڑھاتا ہے خیرات کو اور اللہ کو پسند نہیں آتا کوئی ناشکرا بڑا گنہگار۔

بیشک وہ جو ایمان لائے اور اچھے کام کئے اور نماز قائم کی اور زکوٰۃ دی ان کا نیگ (انعام) ان کے رب کے پاس ہے ، اور نہ انہیں کچھ اندیشہ ہو، نہ کچھ غم۔ اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور چھوڑ دو جو باقی رہ گیا ہے سود اگر مسلمان ہو۔

پھر اگر ایسا نہ کرو تو یقین کر لو اللہ اور اللہ کے رسول سے لڑائی کا اور اگر تم توبہ کرو تو اپنا اصل مال لے لو نہ تم کسی کو نقصان پہنچاؤ نہ تمہیں نقصان ہو۔

یہ تمام احکامات اور اللہ کریم کی رضا اور ناراضگی کا فرمان تُمہارے اِس دینی بھائی فرقان نے جان لیا ہے۔ جسکی وجہ سے اسکے دِل میں سُود سے بیزاری پیدا ہوگئی۔جسکا انعام یہ ضرور پاکر رہے گا۔ لیکن اسکا ایک دوست نعمان جو اِسکا کاروباری پارٹنر بھی تھا ۔نہیں جان پایا اور وہ ضدی طبیعت کی وجہ سے جاننا بھی نہیں چاہتا۔ لَہذا فرقان نے اُس سے جُدائی اِختیار کرلی۔ جسکی وجہ سے تُمہارا یہ دینی بھائی عارضی طور پر دُنیاوی آزمائش میں مُبتلا ہُوگیا ہے۔ اسکے بعد حسان صاحب نے مُختصراً فرقان اور نعمان کی تمام رُوداد شہریار مجددی کو سُنا ڈالی۔

تمام واقعات جان کر شہریار مجددی نے رشک بھری نِگاہوں سے فرقان کو دیکھتے ہُوئے کہا،، فرقان میرے بھائی تُم نہایت عظیم ہُو۔ جس نے حسان صاحب کی صحبت میں رِہ کر خُدا کی رضا و نافرمانی کی معرفت حاصِل کرلی۔ آج سے تُم اس لڑائی میں تنہا نہیں ہُو۔ میں ایک حقیقی بھائی کی طرح تمہارے شانہ بشانہ چلنے کو اپنے لئے اعزاز سمجھوں گا۔ میں آج اِسی وقت اپنے قابل احترام بُزرگ کے رُوبرو تُمہارے ساتھ اپنی پارٹنر شپ کا اعلان کرتا ہُوں۔ اِس تمام پروجیکٹ میں آپ میرے نصف حِصہ کے شراکت دار ہیں۔ میں کل ہی اپنے منیجر کی مُلاقات تُم سے کروادُونگا۔ جسکے فوری بعد آپ اپنی جگہ پر کنسٹریکشن شروع کروادیجئے گا۔

حَسان صاحب نے شہریار مجددی کی فراخدلانہ پیشکش کے بعد اپنے دونوں ہاتھ بُلند فرمادیئے اور بُہت دیر تک دونوں کی خیر و بھلائی کیلئے انتہائی رِقت سے دُعا مانگتے رہے۔

(جاری ہے)

مُحترم قارئین کرام بار بار اپنی طبیعت کی ناسازی کے ذکر سے طبیعت میں نا شُکری کا احساس پیدا ہُوتا ہے اسلئے مزید کُچھ نہیں کہوں گا سوائے اِسکے کہ،، آپ سب سے دُعاؤں کیلئے ملتمس ہُوں۔

پلکوں سے دَرِ یار پہ دستک دینا
اُونچی آواز ہُوئی عُمر کا سرمایہ گیا

Saturday, 30 May 2015

جال۔ در۔ جال قسط 8



جال۔ در۔ جال قسط 8


گُذشتہ سے پیوستہ

نعمان شائد تمام تیاری کیساتھ فرقان کی رضامندی کا منتظر تھا۔ اس لئے صرف ایک ہفتہ کے اندر ہی کاغذات کی منتقلی کا تمام کام پایہء تکمیل کو پُہنچ گیا۔ فیکٹری نعمان کے نام پر رجسٹرڈ ہُوچُکی تھی۔ جبکہ چھ ایکڑ زمیں کا ٹکڑا فرقان کے نام منتقل ہُوچُکا تھا۔ چُونکہ فرقان کے پاس ذرائع آمدن کو کوئی اور ذریعہ نہیں تھا۔ اسلئے صرف تین ماہ کے اندر ہی فرقان کی تمام جمع پونجی گھر کے کرایہ اور گھریلو اخراجات کی نذر ہُوگئی۔ چند دِنوں سے فرقان یہ سوچ سُوچ کر ڈپریشن کا شِکار ہُورہا تھا۔ کہ اب گھر کے اخراجات کس طرح پُورے ہُونگے۔۔۔۔؟

اب مزید پڑھیئے۔

کافی سُوچ بِچار کے بعد فرقان اِس نتیجے پر پُہنچا کہ اُسے چونکہ چھ ایکڑ زمین پر جب نا ہی کاشتکاری کرنی ہے۔ اور نہ ہی کوئی فیکٹری لگانی ہے۔ تُو کِیوں نہ اس قطعہ ء زمین کو فروخت کردیا جائے۔ اور رقم آنے کے بعد کِسی مُناسب جگہ پر انویسٹ کردی جائے۔ تھوڑی سی کوشش کے بعد ایک پراپرٹی بروکر نے فرقان کو بتایا کہ اُس کے پاس ایک حاضر پارٹی بھی موجود ہے۔ جِسے شہر کے نزدیک آٹھ تا دس ایکڑ زمین فیکٹری کے لئے درکار ہے۔ چُونکہ اُنکی شرط ہے کہ زمین شہر میں موجود ہُونی چاہیئے۔ جہاں پانی، گیس ، اور کمرشل بجلی کی سہولت بھی موجود ہُو۔ جبکہ شہر میں کوئی دُو ایکڑ زمین کا ٹکڑا بھی میسر نہیں۔ تُو بھلا دس ایکڑ زمین کہاں سے دستیاب ہُوگی۔ آپ کی جگہ مُناسب ہے۔ اسلئے آپکو چھ ایکڑ زمین کے تین کروڑ روپیہ دِلواسکتا ہُوں۔ بشرطیکہ سامنے والی پارٹی چھ ایکڑ کے پلاٹ پر رضامندی ظاہر کردے۔

فرقان کو اگرچہ یہ آفر مُناسب لگی تھی۔ لیکن وہ ایک مرتبہ زمین کو فروخت کرنے سے قبل حسان صاحب سے مشورہ کرنا ضروری سمجھتا تھا۔ اسلئے فرقان نے بروکر کو جواب دینے کیلئے ایک دِن کی مُہلت طلب کرلی۔ اور شام کو حسان صاحب سے مُلاقات کیلئے اُنکے کاشانے پر حاضر ہُوگیا۔ رسمی گُفتگو کے بعد فرقان نے اپنی حاضری کا مُدعا بیان کیا۔ تُو حسان صاحب نے اُسے جلد بازی کے بجائے استخارہ کی ترغیب دِلائی۔ جسکے جواب میں فرقان نے حسان صاحب سے گُزارش کی کہ میری جانب سے آپ استخارہ فرمالیں۔ جِس کے بعد حسَّان صاحب نے رضامندی ظاہر کرتے ہُوئے فرقان کو فجر کی نماز میں اپنے ساتھ جماعت میں شامل ہُونے کی تاکید کی۔ جس کے بعد یہ نشست برخاست ہُوگئی اور فرقان اپنے گھر لُوٹ گیا۔

صبح فجر کی نماز اور وظائف سے فارغ ہُونے کے بعد حسان صاحب نے فرقان کو اپنے قریب آنے کا اشارہ کیا۔ فرقان نہایت ادب و نیازمندی سے حسان صاحب کے قریب جاکر بیٹھ گیا۔ حسان صاحب نے فرقان سے مُخاطب کرتے ہُوئے فرمایا کہ،، وہ ابھی زمین فروخت نہ کرے۔ بلکہ اُس پارٹی کا پتہ چلانے کی کوشش کرے جو اِس زمین کی خریداری میں دلچسپی رکھتی ہے۔۔۔

حسان صاحب کی ہِدایت پر فرقان نے بروکر سے مُعذرت کرلی اور اُسے بتایا کہ وہ فی الحال اپنی زمین فروخت نہیں کرنا چاہتا۔ ساتھ ہی فرقان نے اُس پارٹی کے متعلق باتوں ہی باتوں میں کافی معلومات حاصِل کرلیں۔ بروکر نے خریدار پارٹی میں فرقان کی دلچسپی دیکھ کر اپنے خَدشے کا اِظہار کرتے ہُوئے کہا۔۔ کہیں آپ ڈائریکٹ تُو پارٹی سے معملات طے نہیں کرنا چاہتے۔۔۔؟ اور اگر ایسا ہے۔ تو فرقان صاحب یہ میرے ساتھ بڑی زیادتی کی بات ہوگی۔

نہیں میرے بھائی ایسی کوئی بات نہیں ہے۔ البتہ میرا یہ آپ سے وعدہ ہے کہ اگر میں نے آپکی پارٹی سے ڈائریکٹ بھی سودا کیا۔ تب بھی آپ کی مِٹھائی بالکل پکی ہے۔ فرقان نے مُسکراتے ہُوئے بروکر کے خدشے کے جواب میں کہا اور رخصت طلب کرلی۔۔۔۔۔۔ کُچھ مزید معلومات حاصِل کرنے کیلئے فرقان نے گھر جاتے ہُوئے یہ ذِمہ داری اپنے قابِل بھروسہ دینی بھائی کے سپرد کردی۔ جب تمام معلومات جمع ہوگئیں تب ایکبار پھر فرقان حسَّان صاحب کی بارگاہ میں حاضر ہُوگیا۔

حسان صاحب کو خریدار پارٹی کا نام بتاتے ہُوئے فرقان نے ایک بات محسوس کی کہ،، شہریار مجددی کا نام سُن کر حَسان صاحب کے ہونٹوں پر مسکراہٹ اور آنکھوں میں ایک خاص چمک سی پیدا ہُوگئی تھی۔ فرقان نے تمام معلومات ایک کاغذ پر منتقل کرنے کے بعد آخری سطر میں شہریار مجددی کا موبائیل نمبر لکھا۔ اور کاغذ حسان صاحب کی جانب بڑھادِیا۔

حسان صاحب نے کاغذ پر ایک سرسری نِگاہ ڈالنے کے بعد وہ کاغذ تِہہ کرنے کے بعد اپنی ڈائری میں رکھتے ہُوئے فرقان سے فرمایا،، اگر میرا اندازہ ٹھیک ہے تُو سمجھ لُو کہ تُمہارے اِمتحان کے دِِِن انشاءاللہ عزوجل بُہت جلد ختم ہُونے کو ہیں۔ بس اللہ کریم کرم فرمائے۔ اور یہ وہی شہریار مجددی ہُو جو میں سمجھ رَہا ہُوں۔۔۔۔ نام تُو وہی ہے۔ لیکن یہ دُبئی کے بجائے پاکستان میں کیا کررہا ہے۔ بس یہ مُعمہ حل ہُونا باقی ہے۔ اور اگر یہ وہی شہریار مجددی ہے تو ابتک میری نظروں سے کیوں اُوجھل ہے۔۔۔۔۔؟

(جاری ہے)
مُحترم قارئین کرام طبیعت کی ناسازی کی وجہ سے ذیادہ نہیں لکھ پارہا ہُوں ۔جسکے لئے بُہت بُہت معذرت خواہ ہُوں اور آپ سب سے دُعاؤں کیلئے ملتمس ہُوں۔

پلکوں سے دَرِ یار پہ دستک دینا
اُونچی آواز ہُوئی عُمر کا سرمایہ گیا

عامل کامل ابو شامل (سلطان تبریزی) قسط 40.akas



گُذشتہ سے پیوستہ۔

کامل جونہی گیٹ کو لاک لگا کر گاڑی میں سوار ہُونے کیلئے کار کی طرف بڑھا تو وہی بوڑھا فقیر اُسے کار سے ٹیک لگائے نظر آیا۔ کامل کو  حیرت ہُوئی کہ،، آج فقیر رُوپوش ہُونے کے بجائے ڈھٹائی سے اُسکا منتظر تھا۔ فقیر کے قریب پُہنچ کر کامل علی کو ایک جھٹکا اُور لگا۔ کہ ،، جس فقیر کو  کامل علی دُور سے ابتک ایک بُوڑھا سمجھ رَہا تھا۔ وُہ کوئی ذیادہ سے ذیادہ پچیس چھبیس برس کا نوجوان تھا۔  اُ س فقیر کےچہرے  کی جلد انتہائی چکنی تھی۔ جس پر داڑھی کا ایک بال بھی شائد نہیں اُگ پایا تھا۔ جبکہ سر پر موجود اُلجھے مٹیالے گرد آلود  بال  کسی گھونسلے کامنظر پیش کررہے تھے۔ کامل علی بیخودی میں فقیر کے اتنے قریب پُہنچ چُکا تھا۔کہ،، اُس فقیر کے  پسینے کی خوشگوار خُوشبو کو محسوس کرسکتا تھا۔  

اب مزید پڑھیئے۔
کیا خیال ہے خُدائی خدمتگار!!! یہیں بات کروگے یا گاڑی میں بیٹھ کر سفر کے درمیان گفتگو کریں؟ نوجوان درویش نے استہزائیہ انداز میں کامل کو اپنی سُرخ آنکھوں سے گھورتے ہُوئے سوال کیا۔۔۔۔ کامل علی کسی معمول کی طرح ڈرائیونگ  کرتے ہُوئے کن اَنکھیوں سے نوجوان درویش کو دیکھ رَہا تھا۔کہ،، فقیر نے گفتگو کا آغاز کرتے کامل کو مخاطب کیا۔۔۔ کب تک اُس ڈھونگی جن زادے کے اِشاروں پر ناچتے ہُوئے زندگی کے اصل مقصد سے دُور بھاگتے رہو گے۔؟؟؟۔۔۔  مجھے اپنی زندگی کو اپنے ڈھنگ سے آزاد گُزارنے کیلئے  کسی کے مشوروں کی ضرورت نہیں ہے۔ کامل نے ہمت  جُٹا کر  قدرےتلخی سےجواب دیتے ہُوئے اپنی نگاہیں شاہراہ پر مرکوز کرلیں۔۔۔ چند لمحے خاموش رہنے کے بعد کامل نے پھر درویش سے مخاطب ہوتے ہُوئے ایک سوال کرڈالا۔ آپ کیوں میرے پیچھے پڑے ہیں؟؟؟برائے مہربانی مجھے میرے حال پر چھوڑ دیں۔ کیونکہ  نہ میں آپ کو جانتا ہُوں۔ اُور نہ ہی مجھے آپکی مدد کی ضرورت ہے۔۔۔۔

اگر تمیں ہماری ضرورت نہیں ہے۔ تو ہمیں بھی تمہاری کوئی پرواہ نہیں ہے۔ اگر تمہیں گڑھے میں گرنے کا اتنا ہی شوق ہے۔ تو ہماری بلا سے بھاڑ میں جاوٗ۔ یا گھاٹی میں چھلانگ لگادو۔ ہمیں کیا فرق پڑتا ہے۔ اُور سُنو!!! بس گاڑی یہیں رُوک دُو۔ ۔۔کامل کے سوال پر درویش نے بھی دُرشت لہجہ اپناتے ہُوئے ۔بریک لگتے ہی  گاڑی کا دروازہ ایک جھٹکے سےکھولا اُور اُلٹی سمت میں  یہ کہتے ہُوئےروانہ ہُوگیا۔،، جب چاروں طرف سے خُوب پھنس جاوٗ تب مجھے یاد کرلینا،، لوگ ہمیں سلطان تبریزی ،،کے نام سے پُکارتے ہیں۔

گھر پُہنچتے  پہنچتے کامل کا موڈ کافی خراب ہوچُکا تھا۔ بنگلے کے لان میں ابوشامل اور جاناں  گفتگو کرتے ہُوئے چائے سے لطف انداوز ہُورہے تھے۔ کامل کو دیکھ کر جاناں یہ کہتے ہُوئے کچن کی جانب روانہ ہوگئی۔آپ بیٹھیں میں آپکے لئے  بھی گرماگرم چائے لاتی ہُوں ۔ جاناں کے جاتے ہی کامل، ابو شامل پر برس پڑا،، میں کئی دِن سے یہ بات محسوس کررہا ہُوں کہ،، جب مجھے تمہاری اشدضرورت ہُوتی ہے۔ تُم عین اُسی لمحے رفوچکر ہُوجاتے ہُو۔۔۔۔۔نہیں یار کامل میں تمہیں کسی مشکل میں کبھی تنہا چھوڑنے کا سُوچ بھی نہیں سکتا۔لیکن یار میری مجبوری سمجھنے کی کوشش کرو۔کہ میں،، سلطان تبریزی جیسے درویشوں کا سامنا بھی نہیں کرسکتا۔۔۔ ویسے کیا کہا سُلطان تبریزی نے تُم سے؟؟؟ ابو شامل کے لہجے سے تجسس صاف عیاں تھا۔۔۔ کہنا کیا تھا۔ بس تمہارے متعلق بکواس کررہا تھا۔ کامل نے جھنجلاتے ہُوئے جواب دیا۔۔۔۔ یار کامل علی!!! مجھے تعجب ہےکہ،، تُم جیسا بندہ بھی درویشوں کی گفتگو کو بکواس کہہ رہا ہے۔ ابو شامل سے تاسف سے ہاتھ ملتے ہُوئے کہا۔۔۔۔۔یار ابو شامل تُم بھی عجیب احمق  ہُو۔ وُہ بندہ تمہیں ڈھونگی،فراڈی، گمراہ ، اُور نجانے کیا کیا کہہ رہا تھا۔مگر تُم پھر بھی اُسکی طرفداری میں مرے جارہے ہُو۔ دوسری بات یہ ہےکہ،، اللہ والوں سے میں بھی بُہت محبت رکھتا ہُوں۔ مگر اُس شخص کو تُم اللہ والا کیسے کہہ سکتے ہُو۔جو گندے سندے بالوں کا گھونسلہ سر پر لئے گھوم رَہا ہے؟؟؟؟

یار کامل میں ایک جن زادہ ہُوں۔ اگرچہ مجھے بُہت قوت بھی حاصل ہے۔اِس کے باوجودبھی میں خُود کو سلطان تبریزی جیسے درویش کی جوتی کے برابر نہیں سمجھتا۔ کیونکہ یہی  وُہ لُوگ  ہیں جو صاحب لولاک کہلائے جانےکے قابل ہیں۔  اُور یہی وُہ لُوگ ہیں جنکے سروں پر نیابت کا تاج جگمگارہا ہے۔اِنہی لوگوں نے اپنے وجود کو عشق الہی میں جلا کر راکھ بناڈالا ہے۔اُور تمہاری یہ بات سچ ہے کہ،، ہمارا دین ہم سے صفائی کا مطالبہ کرتا ہے۔ لیکن کیا ظاہری صفائی کو ہی نصف ایمان کا تمغہ مِلا ہے۔ چاہے باطن آلودگیوں اُور غلاظت سے لتھڑا رہے؟؟؟؟۔۔۔ ویسے میں نے ایک دِن میاں صاحب  کا  ایک واعظ سُنا تھا۔ میاں صاحب ایک حدیث سُنارہے تھے۔ جس میں گرد آلود بالوں کے باوجود عشق الہی کے چراغ سے معمور لوگوں کا تذکرہ ہُورہا تھا۔کہ،، وُہ لوگ اگر کسی معاملے میں اللہ کی قسم اُٹھالیں۔ تو اللہ اُنکے دِل میلے نہیں کرتا۔ ۔۔۔ پھر ہم کیسے کسی عاشق کو فقط ظاہری آلودگی پر طعنہ دے سکتے ہیں۔۔۔  گفتگو کرتے ہُوئےابو  شامل کا لہجہ نمناک ہُوچکا تھا۔

اچھا بابا  مجھے معاف کردو۔میں اپنا جملہ واپس لیتا ہُوں۔ اب  تم اپنا موڈ خراب مت کرو۔ ویسے ہی میرا موڈ کافی خراب ہُوچکا ہے۔۔۔ یار ابوشامل کیا خیال ہے آج کچھ تفریح اُور موج میلا نہ ہُوجائے۔۔۔۔ اچھا تو جناب کا موڈ  آج رنگیلا ہورہا ہے۔ ۔ پھرکیوں نہ آج لانڈھی چھاونی چلیں۔ وہاں زبردست نمائش لگی ہے۔ابوشامل نے بھی کامل کو چہکتا دیکھ کر چہکنا شروع کردیا۔۔۔ نہ بابا نہ۔۔۔ نمائش اُور وُہ بھی چھاوٗنی کی بغل میں۔یار ابو شامل کیا مروانے کا اِرادہ ہے؟؟؟؟؟ ۔۔۔اُو میرے  بُدھو رام دُوست  یہ بھی تو سُوچ کہ جب چھاوٗنی کیساتھ نمائش لگی ہے۔ تب اِسکی  پرمیشن بھی تو خاص لوگوں نے ہی دی ہُوگی نا۔کیا سمجھے۔؟  ابو شامل نے اپنے مخصوص انداز میں آنکھ مارتے ہُوئے کہا۔۔۔۔ ہاں یار یہ بات تو ہے۔کامل نے ابوشامل کی ہاں میں ہاں ملاتے ہُوئے اقرار کیا۔
نمائش میں سوائے رقص و سُرودکی محفل کے کچھ نہیں تھا۔ البتہ کچھ لوگ کھیل کے نام  پرمختلف شامیانوں میں جُوئے میں مصروف تھے۔ کامل علی کی طبعیت تھوڑی ہی دیر میں اِس کھیل تماشے سے اُکتانے لگی تھی۔۔۔ یار ابو شامل یہاں تو اپنے مطلب کی کوئی بات نہیں ہے۔۔۔۔  اِس سے تو بہتر تھا گھر پر ٹی وی ہی دیکھ لیتے۔۔۔ کام کی چیز بھی ہے ۔میرے یار اُور ہمارے لئے کام بھی،، بس دیکھنے والی نظر چاہیئے ابوشامل نے گُم سُم لہجے میں جواب دیتے ہُوئے کامل کو ایک شامیانے کی جانب متوجہ کیا۔ جس کے پردے نما دروازے پرایک ڈرائیور ٹائپ شخص ایک تیرہ چودہ برس کے خُوبصورت بچے کی پٹائی میں مصروف تھا۔

دل کی بات۔

مجھے معلوم ہے کہ،، میرے بلاگ پر میری تحریریں پڑھنے کیلئے بُہت سے صاحب علم دوست بھی تشریف لاتے ہیں اُور میری تحریروں کو پسندیدگی کی نگاہ سے بھی دیکھتے ہیں۔۔۔ لیکن وُہ اتنی خاموش سے  بِلا تبصرہ ،،واپس لُوٹ جاتے ہیں۔ جیسے باد نسیم کے جھونکے بنا کچھ کہے جسم کو چُھو جاتے ہیں۔۔۔ میں اُنکی خدمت میں صرف اتنا عرض کرنا چاہتا ہُوں۔کہ،، میں تمام نامساعد حالات کے باوجود لکھنے کی ذمہ داری کسی نہ کسی حد تک پُوری کرنے کی کوشش کررہا ہُوں۔۔۔۔ لیکن آپکی خاموشی۔۔۔۔ بے اعتنائی، بے توجہی، یا بے حسی کے زمرے میں تو شُمار نہیں ہُوتی۔۔۔ اس سوال کا بہترین  جواب، صرف آپکا دِل ہی دے سکتا ہے۔۔۔۔

آپ سب کی دُعاوں کا طلبگار
عشرت اقبال وارثی۔

(جاری ہے)

اُسکا کہنا ہے۔ کِسی اُور کو دیکھوں نہ کبھی
کیوں کہ اُسکو یہ میرا رُوپ بُرا لگتا ہے۔

مجھکو ہر چہرے میں آتاہے نظر اِک وُہ ہی
جُو نہ بھر پائے یہ بہروُپ !!!  ۔بُرا لگتا ہے۔


Friday, 29 May 2015

جال۔ در۔ جال قسط 7۔



جال۔ در۔ جال قسط 7۔

گُذشتہ سے پیوستہ

فرقان کے خاموش ہُوتے ہی نُعمان گُویا ہُوا۔ دیکھو فرقان تُم دُنیا میں میرے بہترین دُوست ہُو۔ اور ہم نے کئی برس تک کامیابی سے مشترکہ کاروبار بھی کیا ہے۔ اگرچہ تمام کاروباری معاملات میں خود ہی سنبھالتا رہا ہُوں۔ اور میری ہمیشہ یہی کوشش رہی ہے کہ تُمہیں کاروباری معاملات کے بکھیڑوں میں نہ گھسیٹوں۔ اور اتنا مجھے بھی یقین ہے کہ تم میری تمام کاروباری سرگرمیوں سے مطمئین بھی ہُو۔ لیکن وقت کے ساتھ ساتھ ہماری سوچ و افکار میں زمین و آسمان کے فاصلوں کے مماثل بُعد پیدا ہُوگیا ہے۔ اور اس فاصلے کو ختم کرنا نہ ہی میرے اختیار میں ہے۔ اور تُمہاری بار بار کی نصیحتوں سے مجھے اندازہ ہُورہا ہے۔ کہ شائد تُم بھی ان فاصلوں کو مِٹانا نہیں چاہتے۔ لِہذا بہتر یہی ہُوگا۔ کہ ہم اپنی راہیں جُدا کرلیں۔۔۔۔۔۔۔ چُونکہ ہمارا کاروبار مشترکہ کاروبار ہے لِہذا ہم دونوں کا اس پر یکساں حق ہے۔۔۔ اسلئے میں چاہتا ہُوں کہ بجائے مزید بحث میں اُلجھنے کہ ہمیں آپس میں اپنے کاروبار کا بٹوارہ کرلینا چاہیئے ہمارے پاس ایک فیکٹری ہے۔ جس پر کِچھ قرض کاروباری لوگوں کا ہے۔ اور کچھ لوگ ہمارے مقروض ہیں اِن تمام معاملات کو سمیٹنا اتنا آسان نہیں ہے۔ اسکے لئے کافی وقت درکار ہے جبکہ دوسری جانب ہمارے پاس چھ ایکڑ کا ایک کمرشل پلاٹ ہے جو فیکٹری سے متصل ہے۔ اگر تُم چاہو تو فیکٹری کے جھمیلوں کو سنبھال لو، اور چاہو تو وہ کمرشل پلاٹ لے لو، میں ایک دوست کی حیثیت سے تُمہیں پلاٹ لینے کا مشورہ دُونگا۔ کیونکہ فیکٹری کے معاملات کو سنبھالنا تُمہارے بس کا رُوگ نہیں ہے۔۔۔۔۔ نعمان جتنی آسانی سے علحیدگی کے فارمولے سُنا رہا تھا۔ اُتنی ہی تکلیف کے آثار فرقان کے بُشرے سے عیاں ہُوتے جارہے تھے۔

اَب مزید پڑھیئے۔

نعمان نے اپنی گُفتگو ختم کرنے کے بعد گِلاس میں پانی اُنڈیلا اور ایک سانس میں گِلاس کا پانی پی کر خالی گِلاس ٹیبل پر رکھ کر فرقان کی جانب دیکھا۔ جیسے گُویا وہ اپنی تجویز پر فرقان کی رائے معلوم کرنا چاہتا ہُو۔ جبکہ فرقان کے کانوں میں حسان صاحب کی تاکید بازگشت کررہی تھی کہ،، بیٹا جب انسان غُصہ کی حالت میں ہُوتا ہے۔ تب وہ شرف انسانیت کی معراج سے سفلی جذبات کی اَتاہ گہرایئوں کا اسیر بن جاتا ہے۔ اور ایسے وقت میں انسان شیطان کے ہاتھوں میں کٹھ پُتلی کی مانند ہُوتا ہے۔ لِہذا جب کوئی سامع غُصہ کی حالت میں سماع کررہا ہُو۔ تب اُسے صرف حکمت کی نازک چھڑی سے سمجھانے کی کوشش کرنا چاہیئے۔ اور وہ بھی اِتنی اِحتیاط کیساتھ کہ اُسے یہ چھڑی ایک پھول کی مانند محسوس ہُو۔ نا کہ چابک کی طرح دِکھائی دینے لگے۔ اور ایسے وقت میں کہ جب انسان اپنی اَنَّا اور ضد کے سبب خواہشات کا غُلام بن جائے ۔ تب ہرگز اسے قال اللہ اور قال رسول ﷺ کی اَذاں مت سُنانا۔ کہ خُدانخواستہ وہ اپنی ہٹ میں حُکم خُدا اور تعلیم مُصطفٰیﷺ سے ہی انکار نہ کر بیٹھے۔

فرقان عجیب مخمصے کا شِکار ہُوگیا تھا۔ ایک طرف نادان دُوست بظاہر حقیر سی خُواہش کا اظہار کرتے ہُوئے ناسمجھی میں خُدا سے جنگ کرنے نِکلا تھا۔ بلکہ چاہتا تھا کہ میری اِس جنگ میں تُم بھی شریک حال ہُوجاؤ ۔فرقان نے ایک مزید کوشش کی۔ اُور اُسے سمجھانے لگاکہ،، میرے یار ہمارے پاس جو کُچھ بھی خُدا کی مہربانی سے موجود ہے۔ وہ ناصِرف ہمارے لئے بلکہ ہماری اُولادوں کیلئے بھی کافی ہے۔ پھر ہم کیوں ایسی دلدل میں اُتریں۔ جہاں سے واپسی کی کوئی راہ سُجھائی نہیں دیتی۔ جہاں سے بغیر توبہ کوئی سلامتی نہیں پاسکا۔ جہاں صِرف تباہی اور بربادی آنے والوں کا خیر مقدم کرتی ہے۔ یہ بظاہر نفع کا سودا دِکھائی دیتا ہے لیکن باطن میں خسارہ کے سِوا کُچھ بھی نہیں۔ میرے بھائی یہ شیطان کا دامِ فریب ہے۔ یہ مکڑی کا جالا ہے۔ جِس طرح مکڑی کے جال میں غِذا دیکھ کر لالچی مکھی جانے کا راستہ تُو ضرور تلاش کرلیتی ہے مگر باہر نکلنے کا کوئی رستہ نہیں پاتی۔ اِسی طرح سود کے جال میں جانے کے تُو کئی دلفریب کُشادہ راستے ہیں۔ لیکن واپسی کیلئے کوئی گُزرگاہ نہیں ہے۔

اور بظاہر خُوش رنگ و خُوش بُو رکھنے والا یہ جام دراصل زِہر قاتل ہے۔ جِسے،، دَبستانِ شر ،،ہمیشہ شریں و لذیز ثابت کرتے ہُوئے پینے کی ترغیب دِلاتا رَہا ہے۔ جبکہ اللہ کریم کے فرستادہ ،، ہمیشہ سے اِسے ظلم کانِظام ثابت کرتے چلے ہیں۔ اور اِسکی ہلاکت خیزی کی داستانیں اسقدر ہیں۔ کہ کوئی بھی ذِی ہُوش اِس جام کی طرف ہاتھ بڑھَانے سے پہلے ہزار بار سوچے گا۔ اور ہر بار لرز کے رِہ جائے گا۔ میرے بھائی اگر اِس نظام میں ذرہ برابر بھی خیر کے آثار ہُوتے تُو یہ ہمارے لئے حلال کردِیا جاتا۔۔۔۔۔۔۔۔۔!

فرقان سانس لینے کیلئے ایک لمحے کو رُکا۔ تب نُعمان نے فرقان کی بات اُچکتے ہُوئے کہا۔۔۔ یار میں نے تُم سے تُمہارا جواب مانگا تھا۔ لیکن لگتا ہے اُس پروفیسر کیساتھ رہتے رِہتے تُمہیں بھی ہر بات پر نصیحت کرنے کا عارضہ لاحق ہُوگیا ہے۔ حالانکہ میں نے تُم سے پہلے ہی کہہ دِیا تھا۔ کہ مجھے اُلجھانے کی کوشش نہ کرنا۔ اور نہ ہی کوئی نصیحت کرنا کیونکہ میں اپنا اچھا اور بُرا، نفع و نقصان خوب سمجھتا ہُوں مجھے کاروبار کیسے کرنا ہے۔ یہ بات مجھے کِسی ایسے اِنسان سے سیکھنے کی بالکل ضرورت نہیں جو خُود مارکیٹنگ کی الف ب سے بالکل ناآشنا ہُو۔ نعمان نے فرقان پر طنز کرتے ہُوئے کہا۔

کیا جُدائی سے بچنے کا کوئی رستہ باقی نہیں بچَّا۔۔۔۔ فرقان نے ملتجیانہ لہجے میں استفسار کیا۔

راستہ ہے۔۔۔! بس کاروبار مجھے کرنے دُو اور میں جسطرح کاروبار کرنا چاہوں تُم اُس میں رُکاوٹ پیدا نہ کرو۔۔۔ نعمان نے سپاٹ لہجے میں جواب دیا۔۔۔

میرا مطلب تھا۔ کہ سود سے بچنے کا کوئی دوسرا حل۔۔ فرقان نے وضاحت کرتے ہُوئے کہا

نہیں۔ کوئی دوسرا حل نہیں ہے۔ نعمان نے بات کو مختصر کرتے ہُوئے کہا۔

فرقان محسوس کررہا تھا۔ جیسے وہ کِسی بند گلی میں آکھڑا ہُوا ہے۔۔۔ تب اُسے حسان صاحب کا جُملہ یاد آیا کہ،، کہ کبھی کبھار انسان کو ایسا محسوس ہونے لگتا ہے کہ وہ ایک بند گُلی میں پُہنچ چُکا ہے۔ مگر دراصل اُس بند گُلی کی دیوار میں ہی رضائے رب کی شاہراہ کا باب موجود ہُوتا ہے۔ جِسے شیطان وقتی طُور پر نظروں سے اُوجھل کردیتا ہے۔ مگر جب کوئی یقین کامل کے ساتھ اُس دیوار کی جانب چلنا شروع کردیتا ہے۔ تب شیطان سر میں خاک ڈالتا ہُوا وہاں سے دفعان ہُوجاتا ہے۔ اور وہ دَر کھل جاتا ہے۔ جِس سے ایک نہیں بلکہ کامیابیوں کے ہزار راستے دِکھائی دینے لگتے ہیں۔ اور ہر راستہ منزل پر ہی پُہنچاتا ہے۔

اگر تُہمارے پاس کوئی دوسرا آپشن موجود نہیں ہے تب ٹھیک ہے۔ مجھے تُمہاری تقسیم منظور ہے۔ جو تُم رکھنا چاہُو۔ وہ اپنے پاس رکھ لو اور جو میرا حِصہ بنے وہ مجھے دیدو۔ میں نے اپنی کم عِلمی کے باوجود جس قدر جانتا تھا۔ اتمامِ حُجت کے طُور پر سمجھا دیا۔ میں بُہت کم ہمت انسان ہُوں ۔ لوگوں سے لڑنے کا حُوصلہ خُود میں نہیں پاتا۔ تب کیسے ممکن ہے کہ اللہ کریم اور اُسکے مدنی محبوب ﷺ کی نافرمانی کا طُوق اپنی گردن میں ڈالوں۔ لہذا بہتر ہے کہ ہم اپنی راہیں جُدا کرلیں۔ لیکن میرے دُوست مجھے کامِل یقین ہے۔ تُم ایک نا ایک دن ضرور میری بات کو سمجھ پاؤ گے۔اس وقت مجھ سے غیریت نہ برتنا۔ تمہیں جب بھی اپنی غلطی کا احساس ہُوجائے لُوٹ آنا۔ میرے گھر کے دروازے تُمہارے لئے ہمیشہ کُھلے رہیں گے۔۔۔۔۔۔!

نعمان شائد تمام تیاری کیساتھ فرقان کی رضامندی کا منتظر تھا۔ اس لئے صرف ایک ہفتہ کے اندر ہی کاغذات کی منتقلی کا تمام کام پایہ تکمیل کو پُہنچ گیا۔ فیکٹری نعمان کے نام پر رجسٹرڈ ہُوچُکی تھی۔ جبکہ چھ ایکڑ زمیں کا ٹکڑا فرقان کے نام منتقل ہُوچُکا تھا۔ چُونکہ فرقان کے پاس ذرائع آمدن کو کوئی اور ذریعہ نہیں تھا۔ اسلئے صرف تین ماہ کے اندر ہی فرقان کی تمام جمع پونجی گھر کے کرایہ اور گھریلو اخراجات کی نذر ہُوگئی۔ چند دِنوں سے فرقان یہ سوچ سُوچ کر ڈپریشن کا شِکار ہُورہا تھا۔ کہ اب گھر کے اخراجات کس طرح پُورے ہُونگے۔۔۔۔؟

(جاری ہے)

پلکوں سے دَرِ یار پہ دستک دینا
اُونچی آواز ہُوئی عُمر کا سرمایہ گیا

عامل کامل ابو شامل (بوڑھا فقیر جوان) قسط 39



گُذشتہ سے پیوستہ۔


اچھا تو اِس لیئے جناب پورے بیس دِن لاپتہ رہے تھے۔ اُور یہ بات بالکل  ہی بھول گئے۔کہ،، یہاں نفاست صدیقی اپنے دوست کو لانے والے تھے۔ کامل نے شکایت بھرے لہجے میں کہا۔۔۔۔۔۔نہیں یار سیالکوٹ سے تو میں اُسی شام لُوٹ آیا تھا۔ جس رات تمہاری دہلوی سے ملاقات فکس تھی۔۔۔۔ لیکن واپس آتے ہُوئے مجھے درمیان میں یہ خبر مِلی ۔کہ،، تمہاری نرگس کراچی کے سول ہوسپٹل میں اپنی زندگی کی آخری سانسیں لے رہی ہے۔سُو میں سیدھا ہوسپٹل پُہنچ گیا تھا۔۔۔۔ نرگس کا ذکر سُنتے ہی کامل علی پر دیوانگی سی طاری ہُوگئی۔ کیا ہُوامیری نرگس کو۔۔۔؟اب کیسی ہے وُہ۔؟؟؟ کہاں ہے نرگس۔؟؟؟ اُور تم مجھے اتنی دیر سے اپنے عشق کی کہانی سُنارہے تھے۔ جبکہ میری نرگس زندگی اُور موت کی کشمش میں گرفتار تھی۔۔۔ کامل کے منہ سے تھوک کے چھینٹے اُڑنے لگے تھے۔جبکہ لہجے میں چنگاریاں بھری ہُوئی  تھیں۔!!!

اَب مزید پڑھیئے۔

یار کامل مجھے بات تو مکمل کرلینے دیتے۔ پھر یہ غصہ مناسب بھی لگتا۔تُم تو اِس طرح ری ایکٹ کررہے ہُو۔ جیسے خُدانخواستہ میں نے ہی نرگس کو اسپتال میں پُہچایا  ہُو۔۔۔۔  شائد تمہیں معلوم ہُو۔کہ،،نرگس کے دِل میں بچپن سے سُوراخ تھا ۔جو اَب کافی بڑھ چکا تھا۔ جسکی وجہ سے اُس کے بدن میں طرح طرح کی بیماریوں نے جگہہ بنالی تھی۔یہاں ڈاکٹروں نے اُسے جواب دے دیدیا تھا۔۔۔ جس کے بعد میں اُسے   پرستان  حکیم بطلیموس  کے پاس لے گیا تھا۔ اب نرگس کی حالت خطرے سے باہر ہے۔ اُور حکیم بطلیموس کا کہنا ہے۔کہ،، اگلے ماہ تک نرگس بالکل صحتیاب ہُوجائے گی۔ جس کے بعد میں اُسے واپس کراچی لے آوٗنگا۔۔۔

کیا تُم نے نرگس اُور اسکے شوہر کو  علاج کیلئے پرستان  لیجانے کی بابت بتادیا تھا۔ اُور نرگس کے شوھر نے  تمہیں اجازت کس طرح دے دی تھی۔۔۔۔  پھر اُسکا بیٹا طارق بھی نجانے کسطرح ماں کے بغیر رِہ رہا ہُوگا۔؟؟؟ کامل نے صورتحال کو سمجھنے کیلئے مزید سوالات ابو شامل کے سامنے رکھ دیئے۔۔۔۔ دُو ماہ قبل  نرگس کاشوہر  نشے کی حالت میں  کینٹ اسٹیشن پر مُردہ پایا گیا تھا۔ نرگس عدت کی حالت میں تھی۔کہ ،، پندرہ دِن بعد چچا ارشد کا بھی انتقال ہُوگیا۔ پے درپے حادثات نے نرگس کو بالکل توڑ کر رکھ دیا تھا۔۔۔۔ ایسے وقت میں نرگس کی ایک نند نے اُسکا کافی ساتھ دیا۔ ہسپتال بھی اُسی نند نے پُہنچایا تھا۔


 جب ڈاکڑوں نے جواب دیدیا تو میں نے خُود کو ایک این جی اُو کا نمائندہ ظاہر کیا۔ اُور کافی سمجھانے پر وُہ اِس بات پر رضامند ہُوگئی۔ کہ،،  نرگس کو علاج کیلئے اسلام آباد منتقل کردیا جائے۔ میں نے  (این جی اُو) کی جانب سے طارق کی دیکھ بھال کیلئے ایک لاکھ روپیہ  نقد بھی اُس کے ہاتھوں میں تھمادیا۔ وُہ بیچاری خُود بُہت غریب عورت ہے۔ اِس لئے ہماری (این جی اُو) کو حاتم طائی کا اِدارہ سمجھ کر کافی دیر تک ڈھیروں دُعائیں دیتی رہی۔۔۔۔ یہ تھی میرے بھائی وُہ تمام صورتحال جسکی وجہ سے میں وجاہت دہلوی سے مُلاقات کیلئے حاضر نہیں ہُوسکا تھا۔۔۔۔۔ اُور ہاں وجاہت دہلوی کے ذکر سے یاد آیا۔ کہ،، میں نے وجاہت دہلوی کا مسئلہ بھی حل کردیا ہے۔ مجھے لگتا ہے ایک دُو دِن میں وُہ بھی مٹھائی لیکر آتا ہی ہُوگا۔

یار ابو شامل مجھے معاف کرنا میں نرگس کی بیماری کا سُن کر کچھ ذیادہ ہی جذباتی ہُوگیا تھا۔۔۔۔۔  بس مجھے میرے ۲ سوالوں کا جواب اُور دے دُو۔ پہلا سوال تو یہ ہے کہ،، کیا میں تمہارے ساتھ نرگس کی عیادت کیلئے چل سکتا ہُوں۔ اُور دوسرا سوال یہ کے وجاہت دہلوی کا مسئلہ تم نے کسطرح حل کردیا۔۔۔۔ کوئی بات نہیں یار۔ عشق میں ایسا ہی ہوتا ہے۔ ہمدردوں کیساتھ عاشقوں  کا رویہ۔ ابو شامل نے بھولی شکل بناتے ہُوئے   سلسلہ کلام جاری رکھا۔ اب تمہارے پہلے سوال کا جواب تو یہ ہے۔کہ،، کچھ مشکلات کی وجہ سے میں فی الحال پرستان نہیں جاسکتا۔ البتہ تم سے میرا وعدہ رہا کہ،، اُسے واپس لانے کیلئے ہم دونوں ساتھ چلیں گے۔ ویسے وُہ بیچاری بھی ابھی تک  یہی سمجھ رہی ہے۔ کہ،، اسکا علاج اسلام  آباد میں ہُورہا ہے۔۔۔۔

جبکہ وجاہت دہلوی کا مسئلہ اتنا اہم نہیں تھا۔ عائقہ  نے اگرچہ خلع اپنی مرضی سے حاصل کی تھی ۔لیکن طلاق کے کچھ عرصہ بعد ہی   نفسانی خُواہشات نے اُسے  اپنا غلام بنالیا تھا۔ ۔۔۔ وجاہت دہلوی  ایک تو واقعی  اسم بامسمیٰ تھا۔ جبکہ اِس سے آسان شکار عائقہ کو مِل بھی نہیں سکتا تھا۔جسکی وجہ سے وُہ یہ بات بھی فراموش کرگئی۔کہ،،  وُہ اپنی جنسی تسکین کیلئے اپنی ہی بہن  عدیمہ کے گھر میں ڈاکہ ڈال رہی ہے۔۔۔ وجاہت دہلوی تو خُود اِس دلدل سے نکلنے کیلئے راضی ہُوچُکا تھا۔۔۔ اسلئے میں نے   اپنے ایک بندے کی ڈیوٹی عائقہ کی توجہ بدلنے پر لگادی ہے۔ اُور اچھی خبر یہ ہے۔کہ،، آجکل عائقہ ذیادہ تر  اپنے ایک رَنڈوے کزن کیساتھ دیکھی جارہی ہے۔ ہُوسکتا ہے اگلے چند دِن میں اُن دونوں کی شادی کی خبر بھی سُنائی دے جائے۔ ابو شامل نے اپنے مخصوص انداز میں کامل کو آنکھ مارتے  ہُوئے جملہ مکمل کیا۔

ابو شامِل کا اندازہ بالکل ٹھیک نکلا تھا۔وجاہت دہلوی چار دِن بعد اجازت ملتے ہی آستانے چلا آیا تھا۔پھولوں کے گلدستے کے ساتھ ایک لفافے میں پورے پانچ لاکھ روپیہ کا نذرانہ اُس نے منت سماجت کرتے ہُوئے کامل علی کے قدموں میں رکھتے ہُوئے بتایا۔۔۔۔حضور آپ سے مِل کر یقین ہُوگیا۔کہ،، دُنیا  آج بھی اللہ والوں کے مبارک قدموں سے خالی نہیں ہے۔ آپکی ایک توجہ سے میرے تمام مسئلے مقررہ وقت میں حل  ہُوگئے ہیں۔ آپکی دُعاوں کی بدولت ایک طرف جہاں عائقہ نے میرا پیچھا چھوڑ کر دوبارہ سے اِک نئی ازداجی زندگی شروع کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ تو دوسری طرف عدیمہ نے بھی مجھے دِل سے معاف کردیا ہے۔ اُور ہم دُونوں اب پہلے کی طرح خُوشگوار زندگی گُزار رَہے ہیں۔ جبکہ ماشاٗ اللہ  کنسٹریکشن کے بزنس میں بھی اِس ماہ خُوب منافع ہُوا ہے۔

کامل علی  رقم کا لفافہ  اُٹھانے میں ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کررہا تھا۔ تبھی ابوشامل نے کامل سے کہا،، رقم اُٹھالے یار آخر بھابی کو دوبارہ شاپنگ بھی کرانی ہے۔ ۔۔ کامل نے یہ کہہ کر رقم کا لفافہ ہاتھ میں سنبھال لیا۔کہ،، میں اِسے اسکے حقدار تک پُہنچادونگا۔ جونہی وجاہت دہلوی  اجازت لیکر جانے کیلئے اُلٹے قدموں کمرے سے نکلا۔۔۔ ابو شامل نے کامل کو مخاطب کرتے ہُوئے کہا،، یارمجھے فوراً یہاں سے نکلنا پڑیگا۔ میں تُم سے گھر پر مِلتا ہُوں۔ کامل علی عجیب سی نظروں کو ابو شامل کو گھورنے لگا۔ لیکن ابو شامل افراتفری کی حالت میں کوٹھی سے تقریباً بھاگتا ہُوا نکل چُکا تھا۔

کامل جونہی گیٹ کو لاک لگا کر گاڑی میں سوار ہُونے کیلئے کار کی طرف بڑھا تو وہی بوڑھا فقیر اُسے کار سے ٹیک لگائے نظر آیا۔ کامل کو  حیرت ہُوئی کہ،، آج فقیر رُوپوش ہُونے کے بجائے ڈھٹائی سے اُسکا منتظر تھا۔ فقیر کے قریب پُہنچ کر کامل علی کو ایک جھٹکا اُور لگا۔ کہ ،، جس فقیر کو  کامل علی دُور سے ابتک ایک بُوڑھا سمجھ رَہا تھا۔ وُہ کوئی ذیادہ سے ذیادہ پچیس چھبیس برس کا نوجوان تھا۔  اُ س فقیر کےچہرے  کی جلد انتہائی چکنی تھی۔ جس پر داڑھی کا ایک بال بھی شائد نہیں اُگ پایا تھا۔ جبکہ سر پر موجود اُلجھے مٹیالے گرد آلود  بال  کسی گھونسلے کامنظر پیش کررہے تھے۔ کامل علی بیخودی میں فقیر کے اتنے قریب پُہنچ چُکا تھا۔کہ،، اُس فقیر کے  پسینے کی خوشگوار خُوشبو کو محسوس کرسکتا تھا۔   
دل کی بات۔

مجھے معلوم ہے کہ،، میرے بلاگ پر میری تحریریں پڑھنے کیلئے بُہت سے صاحب علم دوست بھی تشریف لاتے ہیں اُور میری تحریروں کو پسندیدگی کی نگاہ سے بھی دیکھتے ہیں۔۔۔ لیکن وُہ اتنی خاموش سے  بِلا تبصرہ ،،واپس لُوٹ جاتے ہیں۔ جیسے باد نسیم کے جھونکے بنا کچھ کہے جسم کو چُھو جاتے ہیں۔۔۔ میں اُنکی خدمت میں صرف اتنا عرض کرنا چاہتا ہُوں۔کہ،، میں تمام نامساعد حالات کے باوجود لکھنے کی ذمہ داری کسی نہ کسی حد تک پُوری کرنے کی کوشش کررہا ہُوں۔۔۔۔ لیکن آپکی خاموشی۔۔۔۔ بے اعتنائی، بے توجہی، یا بے حسی کے زمرے میں تو شُمار نہیں ہُوتی۔۔۔ اس سوال کا بہترین  جواب، صرف آپکا دِل ہی دے سکتا ہے۔۔۔۔
آپ سب کی دُعاوں کا طلبگار
عشرت اقبال وارثی۔
(جاری ہے)

اُسکا کہنا ہے۔ کِسی اُور کو دیکھوں نہ کبھی
کیوں کہ اُسکو یہ میرا رُوپ بُرا لگتا ہے۔

مجھکو ہر چہرے میں آتاہے نظر اِک وُہ ہی
جُو نہ بھر پائے یہ بہروُپ !!!  ۔بُرا لگتا ہے۔

Thursday, 28 May 2015

جال۔در۔جال۔قسط 6



جال۔در۔جال۔قسط 6

گُزشتہ سے پیوستہ

میں بھی تُم سے صِرف ایک سوال کرنا چاہتا ہُوں۔۔۔۔ اور وہ یہ کہ،، کیا اگر تُمہارا ملازم اگر تُم سے کسی معاملے میں ضد باندھ لے، تُمہارے احکامات کو ماننے سے صاف انکار کردے اور تُمہاری دُشمنی پر اُتر آئے۔ تب کیا وہ تُم سے تُمہاری ہی فیکٹری میں جیت پائے گا اور کیا تُم اسے ملازمت پر قائم رکھنا چاہو گے۔۔۔۔؟ فرقان اتنا کہہ کر نعمان کی جانب غور سے دیکھنے لگا۔

یہ کیا بات ہُوئی فرقان کہ تُم نے میرے سوال پر ہی ایک سوال قائم کردِیا۔ لیکن میرا جواب تُم خُود بھی جانتے ہُو کہ میں ایسے انسان کو اپنی مُلازمت میں ایک گھنٹہ تُو کُجا ایک لمحے کیلئے بھی برداشت نہیں کرونگا چاہے مجھے اسکے لئے دُنیا بھر کی فلاحی تنظیموں سے لڑنا پڑے یا مجھے عدالت میں ہی کیوں نہ جانا پڑجائے۔ لیکن میں شکست تسلیم نہیں کرونگا۔ اور نہ ہی اُس مُلازم کو چین سے رہنے دُونگا۔ جو میری ہی فیکٹری سے رزق بھی حاصِل کرے اور مجھ سے ہی دُشمنی باندھے۔ نعمان نے جوشیلے انداز میں جواب دیتے ہُوئے کہا۔

اب مزید پڑھیئے

نعمان میرے بھائی جب ہم اپنے جُز وقتی مُلازم کا اپنے مقابِل کھڑا ہُونا پسند نہیں کرتے۔ حالانکہ وہ چاہے تُو کہیں اور بھی جاکرمُلازمت تلاش کرسکتا ہے۔!!۔ جبکہ ہم نہ تو اپنے رب عزوجل کی سلطنت سے باہر نِکل سکتے ہیں اور نہ ہی کوئی دُوسرا رزَّاق ہی تلاش کرسکتے ہیں۔ پھر ہم کسطرح اپنے پروردگار سے مقابلے کیلئے اُسکی نافرمانی کرسکتے ہیں۔۔۔؟ فرقان نے نُعمان کے خاموش ہُوتے ہی اُسے سمجھانے کی کوشش کرتے ہُوئے کہا۔

یار فُرقان خُدا کیلئے مجھے اِن جھمیلوں میں مت گھسیٹو۔ تُمہارا دِماغ تُو اس مولوی نُما پروفیسر نے خراب کر کے رکھ دیا ہے۔ اب تُم کیا چاہتے ہُوکہ میں بھی درویش بن جاؤں اور سارا بزنس چھوڑ چھاڑ کر جنگلوں میں نِکل جاؤں۔۔۔؟ میرے دُوست تخیلات کی زندگی سے نِکلو اور حقیقت کی دُنیا میں لُوٹ آؤ۔ ورنہ کہیں ایسا نہ ہُو کہ ہم پھر اُسی مقام پر جا پہنچیں۔ جہاں ہمیں کوئی ایک کپ چائے پِلانے کا بھی روادار نہیں تھا۔ میں تُو یہ سُوچ کر تُمہارے پاس آیا تھا۔ کہ شائد گُزرے پہر میں تُمہیں تسلی سے قائل کرنے کے بجائے جذباتی ہُوگیا تھا۔ اور رات کی تنہائی میں شائد بہتر انداز سے سمجھا پاؤنگا۔ لیکن تُمہاری باتیں سُننے کے بعد میں اِس نتیجے پر پُہنچا ہُوں کہ بچپن کے حادثے نے تُمہارے ذہن کو مفلوج کردِیا ہے۔ جسکی وجہ سے میں تُو کیا کوئی حکیمِ اعظم بھی تُمہیں دُوبارہ حقیقت کی دُنیا میں واپس نہ لا پائے۔ اس لئے مجھے لگتا ہے کہ اب واقعی ہمارے راستے جُدا ہُونے کا وقت آگیا ہے۔ میں تُمہیں تین دِن تک سوچنے کا وقت دے سکتا ہُوں۔ مجھے تین دِن بعد اپنے فیصلے سے آگاہ کردینا۔ تاکہ مجھے معلوم ہُوجائے کہ باقی سفر مجھے کسطرح طے کرنا ہے۔ اتنا کہنے کے بعد نُعمان مُصافحہ کیئے بغیر کمرے سے نِکل گیا۔

فرقان سُوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ نعمان جو ابھی کُچھ دیر قبل ندامت وشرمندگی سے بِچھا جارہا تھا۔ وہ یُوں روکھے پھیکے جُملوں کیساتھ پھر سے جُدائی کی راہ پر چل پڑے گا۔ وہ جو خُود رضا وجزا کے معنی میں فرق نہیں کر پارہا تھا۔ اُسے میری نفسیات کا عِلم کیسے ہُوسکتا ہے۔ کیا نعمان کِسی امتحان میں مُبتلا ہُونے کو ہے۔ ایسے ہی بیشُمار سوالات فرقان اپنے ذہن میں لئے ڈرائینگ رُوم کے برقی سوئچ آف کرنے کے بعد اپنے کمرے کی جانب بُوجھل قدموں سے چل پڑا۔

اگلے دُو دِن فرقان بُخار میں تپتا رھا۔ وہ جل از جلد پروفیسر صاحب سے مِل کر اِس مسئلہ کا حل تلاش کرنا چاہتا تھا۔ لیکن بُخار تھا کہ جُدا ہُونے کو تیار ہی نہیں تھا۔ تیسرے دِن جا کر بُخار میں کُچھ کمی کا اِحساس ہُوتے ہی فرقان نے عصر کی نماز کے بعد گاڑی نِکالی اور حسَّان صاحب کے گھر کی طرف روانہ ہُوگیا۔ پروفیسر صاحب کے مکان کے باہر حسَّان صاحب کے بڑے صاحبزادے ڈاکٹر احمد سے مُلاقات ہُوگئی۔ وہ گاڑی کو باہر لاک کرنے کے بعد دروازے کی جانب بڑھ رہے تھے۔ جونہی اُنکی نِگاہ فرقان پر پڑی اُنکے بڑھتے قدم رُک گئے۔ فرقان نے بھی گاڑی کو ایک سائڈ میں کرنے کے بعد لپک کر ڈاکٹر احمد سے مصافحہ کرتے ہُوئے اُنکی خیریت دریافت کی۔ رسمی جُملوں کے تبادلے کے بعد جب فرقان نے حسَّان صاحب سے مُلاقات کی خُواہش ظاہر کی تو جواباً ڈاکٹر صاحب نے فرقان کو بتایا کہ پروفیسر صاحب تو کِسی سیمینار میں شرکت کیلئے اسلام آباد تشریف لے گئے ہیں اور اُنکی واپسی کم از کم چھ دِن بعد ہی متوقع ہے۔۔۔

ڈاکٹر صاحب کے جواب سے فرقان کے چہرے پر ہوائیاں اُڑنے لگیں۔ اُسے قوی اُمید تھی کہ حسَّان صاحب اِس معاملے کا کوئی بہترین حل ضرور بتاسکتے تھے۔ جسکی وجہ سے یہ مُعاملہ اگر فوری حل نہ بھی ہُوپاتا تب بھی اِن سنگین حالات میں کُچھ مہلت ضرور حاصِل ہوجاتی۔ اور تفہیم کا کوئی نہ کوئی راستہ ضرور نِکل آتا۔ لیکن یہاں ایک طرف حسَّان صاحب کی غیر موجودگی نے فرقان کو متفکر کردِیا تھا تُو دوسری جانب نعمان کے دئیے وقت میں صرف ایک رات ہی حائل تھی جِسے یقیناً کُچھ گھنٹوں کے بعد گُزر جانا تھا۔ ڈاکٹر صاحب نے فرقان کے چہرے پر نمایاں پریشانی کو بھانپتے ہُوئے استفسار کیا۔۔۔ فرقان صاحب سب خیریت تُو ہے نا۔۔۔؟ آپ بُہت پریشان نظر آرہے ہیں۔

فرقان نے چُونک کر ڈاکٹر صاحب کو دیکھتے ہُوئے کہا۔ احمد بھائی مجھے ایک مشکل پیش آگئی ہے۔ جسکا حل حَسَّان صاحب کے علاوہ مجھے اور کہیں نظر نہیں آرہا۔ اور مجھے یہ بھی معلوم ہے کہ حسَّان صاحب اپنا موبائیل فون سفر میں آف رکھتے ہیں۔ اسلئے مجھے سمجھ نہیں آرہا کہ حسان صاحب سے کس طرح رابطہ کروں۔۔۔؟

آپ فِکر نہ کریں فرقان بھائی،، بابا جان روزانہ عشاء کی نماز کے بعد گھر والوں کی خیریت دریافت کرنے کیلئے فون ضرور کرتے ہیں انشاءاللہ وہ آج بھی فون ضرور کریں گے۔ تب میں پہلی فرصت میں اُنہیں آپ کے متعلق بتادونگا۔ ڈاکٹر احمد نے فرقان کو تسلی دیتے ہُوئے کہا۔۔۔! فرقان ڈاکٹر احمد کا شُکریہ ادا کرنے کے بعد پھر سے گھر کیلئے روانہ ہُوگیا۔

عِشاء کی نماز سے فارغ ہُونے کے بعد جب فرقان نے موبائیل سائلینٹ موڈ سے ہٹانے کیلئے جیب سے نِکالا تب اُسکی نِگاہ ایک انجان نمبر سے موصول مِس کال پر پڑی۔ فُرقان نمبر دیکھ کر اندازہ لگانے کی کوشش میں مصروف ہی تھا کہ ایک مرتبہ پھر اُسی انجان نمبر سے کال موصول ہُونے لگی۔ فرقان نے کال ریسیو کرتے ہُوئے جونہی موبائیل کو کان سے لگایا تو دوسری جانب سے حسَّان صاحب کی آواز سُنائی دی۔ سلام ودُعا سے فارغ ہُونے کے بعد اُنہوں نے بتایا کہ اُنکے سیلولر فون کی بیٹری کی چارجنگ ختم ہوچکی ہے اسلئے اپنے ایک شاگرد کے نمبر سے کال کررہے ہیں۔ چند رسمی جُملوں کے بعد فرقان نے اپنی پریشانی حسَّان صاحب کو بتادی۔ جسکے جواب میں حَسَّان صاحب فرمانے لگے۔ بیٹا انسان کی آنکھوں پر جب حِرص وطمع کی پٹی چڑھ جاتی ہے تب وہ اچھائی اور بُرائی میں تمیز کُھو بیٹھتا ہے۔ اور کبھی چند لمحوں کی خوشیوں کیلئے اپنے مستقبل کو بھی داؤ پر لگانے سے نہیں چُوکتا۔ آپ نے بُہت اچھا کیا کہ اُس وقت نعمان کو قران و حدیث سے دلائل نہیں دیئے ورنہ یہ بھی ممکن تھا۔ کہ خُدانخواستہ وہ کسی آیت و حدیث کا ہی غُصے میں انکار کربیٹھتا اور اپنی آخرت کیلئے مزید مشکلات خرید لیتا۔

لیکن حضرت مجھے بالکل سمجھ نہیں آرہا کہ کل نعمان سے کیا بات کروں۔۔۔؟ کیونکہ میں نہ ہی نُعمان کو کھونا چاہتا ہُوں اور نہ ہی مُشترکہ کاروبار ہی ختم کرنا چاہتا ہُوں۔ ایک طرف میں سودی نِظام سے خُود کو اور نُعمان کو بچانا چاہتا ہُوں۔ تو دوسری جانب یہ بھی حقیقت ہے کہ مجھے بزنس کا کوئی خاص تجربہ بھی نہیں ہے۔ فرقان نے اپنی اُلجھن کا اظہار کرتے ہُوئے کہا۔

دیکھو میرے بچے کبھی کبھی اللہ کریم انسان کو آزمائش میں مُبتلا فرماکر اُسکا اِمتحان لیتا ہے۔ تب ایک طرف راستہ بند ہُونے کے باوجود اُس کی رضا اُسی بند گلی کے خُفیہ دروازے کی طرف اِشارہ کرتی ہے۔ اگر بندہ ہمت سے کام لیتے ہُوئے اُسکی رضا کی جانب قدم بڑھاتا رِہتا ہے تُو اُسے بند گلی سے نِکلنے کا راستہ دِکھائی دے جاتا ہے اور یہی راستہ درحقیقت کامیابی اور فلاح کا راستہ ہُوتا ہے۔ جبکہ دوسری جانب کُشادہ راہ، آسان اور پرآسائش زندگی دِکھائی دیتی ہے لیکن حقیقت میں یہ راستہ ایک سراب سے زیادہ کُچھ بھی نہیں ہُوتا۔ نافرمانی کے اِس راستے پر اگرچہ بُہت سے پُرفریب مناظر اِنسان کو اپنی جانب کھینچتے ہیں مگر در حقیقت اس راستے کی کوئی منزل ہی نہیں ہوتی۔ بلآخر انسان ایسی بھول بھلیوں میں گُم ہُو کر رہ جاتا ہے تب چہار سو اُسے گہری کھایئوں کے سِوا کُچھ دِکھائی نہیں دِیتا۔ لِہذا میرے بچے مجھے لگتا ہے کہ اب وہ وقت آگیا ہے کہ جب تُمہیں آزمایا جائے گا۔ پس آزمائش کی اِس گھڑی میں ثابت قدم رِہنا اور فیصلے کے وقت آسان راہ ڈھونڈنے کے بجائے اللہ کریم کی رضا کو تلاش کرنے کی کوشش کرنا۔ انشاءاللہ یہی فیصلہ آگے چل کر تُمہارے لئے دائمی فوائد ،سکون و کامیابی کی شاہراہ کو کھول دے گا۔ اور جب تُم فیصلہ لینے لگو تب اپنے پروردگار سے مدد اور آسانی ضرور طلب کرنا۔ میری بھی یہی دُعا ہے کہ اللہ کریم آزمایش کی اِس گھڑی میں تُمہیں سُرخرو فرمائے۔ چند مزید نصیحتوں کے بعد رابطہ منقطع ہُوگیا۔ لیکن فرقان کو حسان صاحب سے گُفتگو کرنے کے بعد یُوں محسوس ہُورہا تھا جیسے اُسکے کاندھوں سے کوئی مَنوں وزنی بُوجھ اُتر گیا ہُو۔۔۔

دوسرے دِن فرقان آفس میں بیٹھا نعمان کو ایک مرتبہ پھر سود۔ در۔سُود کے حَسین جال کی تباہ کاریوں کے نقصانات سے آگاہ کرنے کی بھرپور کوشش کررہا تھا جبکہ نُعمان سپاٹ چہرے کیساتھ فرقان کی گُفتگو کو اِدھر اُدھر دیکھتے سُن رہا تھا۔ فرقان کے خاموش ہُوتے ہی نُعمان گُویا ہُوا۔ دیکھو فرقان تُم دُنیا میں میرے بہترین دُوست ہُو۔ اور ہم نے کئی برس تک کامیابی سے مشترکہ کاروبار بھی کیا ہے۔ اگرچہ تمام کاروباری معملات میں خود ہی سنبھالتا رہا ہُوں۔ اور میری ہمیشہ یہی کوشش رہی ہے کہ تُمہیں کاروباری معاملات کے بکھیڑوں میں نہ گھسیٹوں۔ اور اتنا مجھے بھی یقین ہے کہ تم میری تمام کاروباری سرگرمیوں سے مطمئین بھی ہُو۔

لیکن وقت کے ساتھ ساتھ ہماری سوچ و افکار میں زمین و آسمان کے فاصلوں کے مماثل بُعد پیدا ہُوگیا ہے۔ اور اس فاصلے کو ختم کرنا نہ ہی میرے اختیار میں ہے۔ اور تُمہاری بار بار کی نصیحتوں سے مجھے اندازہ ہُورہا ہے۔ کہ شائد تُم بھی ان فاصلوں کو مِٹانا نہیں چاہتے۔ لِہذا بہتر یہی ہُوگا۔ کہ ہم اپنی راہیں جُدا کرلیں۔۔۔۔۔۔۔ چُونکہ ہمارا کاروبار مشترکہ کاروبار ہے لِہذا ہم دونوں کا اس پر یکساں حق ہے۔۔۔ اسلئے میں چاہتا ہُوں کہ بجائے مزید بحث میں اُلجھنے کہ ہمیں آپس میں اپنے کاروبار کا بٹوارہ کرلینا چاہیئے ہمارے پاس ایک فیکٹری ہے۔ جس پر کِچھ قرض کاروباری لوگوں کا ہے۔ اور کچھ لوگ ہمارے مقروض ہیں اِن تمام معاملات کو سمیٹنا اتنا آسان نہیں ہے۔ اسکے لئے کافی وقت درکار ہے جبکہ دوسری جانب ہمارے پاس چھ ایکڑ کا ایک کمرشل پلاٹ ہے جو فیکٹری سے متصل ہے۔ دونوں کی مارکیٹ ویلیو تقریباً مساوی ہے۔ اگر تُم چاہو تو فیکٹری کے جھمیلوں کو سنبھال لو، اور چاہو تو وہ کمرشل پلاٹ لے لو، میں ایک دوست کی حیثیت سے تُمہیں پلاٹ لینے کا مشورہ دُونگا۔ کیونکہ فیکٹری کے معاملات کو سنبھالنا تُمہارے بس کا رُوگ نہیں ہے۔۔۔۔۔ نعمان جتنی آسانی سے علیحدگی کے فارمولے سُنا رہا تھا۔ اُتنی ہی تکلیف کے آثار فرقان کے بُشرے سے عیاں ہُوتے چلے جارہے تھے۔

(جاری ہے)

پلکوں سے دَرِ یار پہ دستک دینا
اُونچی آواز ہُوئی عُمر کا سرمایہ گیا

عامل کامل ابو شامل (طلسم سے آزادی)قسط 38.akas



گُذشتہ سے پیوستہ۔

دوسرے دِن جب میں نے سفید اُلو کی بابت شرف قلندری کو  اشارے کنایہ میں بتایا ۔ تو ایک اطمینان بخش مسکراہٹ شرف کے چہرے پر بھی پھیل گئی۔ اگلے دِن تک شرف نے انتہائی رازداری سے ایک دو شاخہ لکڑی اور لچکیلی چھال کی مدد سے ایک غلیل تیار کرکے اُنہی درختوں کے نذدیک چھپادی تھی۔  اُور حُسن اتفاق کہیئے  ۔ بلکہ اللہ کریم کی مدد  سمجھیئے۔ کہ ،، اگلے ہی دن جب شرف غلیل کا معائنہ کررہا تھا۔تبھی وُہ سفید اُلو بلندی سے پرواز کرتے ہُوئے  اچانک کسی چوہے کو دیکھ کر ہمارے قریب جھپٹا۔۔۔  شائد شرف قلندری اُسکا اِرادہ بھانپ چکا تھا۔ اسلئے جیسے ہی وُہ شرف کے نشانے کی ذد میں آیا۔ شرف نے ایک نوکیلا پتھر غلیل کے ذریعے اُلو کی جانب داغ دیا۔ پتھر کی نوک نے اُلو کو  اگرچہ زخمی کردیا تھا۔ لیکن وُہ اپنے شکار کو چھوڑنے پر آمادہ نہیں تھا۔ اُلو نے مُڑ کر ایک غضبناک نگاہ  ہم دُونوں پر ڈالی۔ اُور اُسی وقت وُہ  ایک درخت سے ٹکرا کر زمین پر گر پڑا۔ شائد قدرت ہمیں  آزادی حاصل کرنے کیلئے ایک بھرپور موقع دینا چاہتی۔ میں نے دوڑتے ہُوئے ایک بڑا سا پتھر اُٹھالیا۔ اُلو نے بھی موقع کی نزاکت بھانپ کر شکار چھوڑ دینا مناسب سمجھا۔ لیکن تب تک میں اُس کے قریب پُہنچ کر اُسکے بڑے سے سر کو نشانہ بنا چکا تھا۔ وُہ ایک مرتبہ پھڑپھڑاکر جونہی لہرایا۔ تو میں نے وحشت سے اُسکے سر کو کچلنا شروع کردیا۔۔ تھوڑی ہی دیر میں اُلو کی سانس تھمنے لگی۔ تو سارے جنگل میں چیخوں کا سیلاب اُمنڈنے لگا۔ تبھی مجھے شرف قادری نے چیخ کر مخاطب کرتے ہُوئے خبردار کیا۔ ابو شامل میرے ساتھ مغرب کی جانب دوڑو۔۔۔۔ اگر آج یہ موقع گنوادیا تو ہم ہمیشہ کیلئے گھنشام داس کے عتاب کا نشانہ بن  کر رِہ جائیں گے۔

اب  مزید پڑھیئے۔

ہم دُونوں زندگی کی بازی جیتنے کیلئے سرپٹ دُوڑ رہے تھے۔ جنگلات کا ایک نا ختم ہُونے والا سلسلہ تھا۔ لیکن اُس وقت ہمیں اپنی جان بچانے کیلئے دنیا کا چکر لگانے کو بھی کہا جاتا۔ تب بھی ہم انکار نہیں کرپاتے۔ یہ بھی غنیمت تھا۔کہ،، گھنشام داس ابھی تک ہماری جانب متوجہ نہیں ہُوا تھا۔ جنگلات کا سلسلہ ختم ہُوا۔ تو ہمیں معلوم ہُواکہ،، ہم سندھ کے شہر ڈھڑکی کے مضافات میں موجود ہیں۔ جونہی ہمیں شہر کے آثار نظر آئے شرف قلندری رُک کر سجدہ شکر بجالایا۔ اُس کی دیکھا دیکھ مجھے بھی شکرانے کا خیال آگیا۔ سجدہ سے سر اُٹھاتے ہی شرف قلندری گویا ہُوا۔ الحمدللہ ! ہم گھنشام داس کی طلسمی حدود سے باہر نکلنے میں کامیاب ہُوچُکے ہیں۔ جسکا مطلب ہے کہ،، ہماری تمام قوتیں بھی واپس آچکی ہُونگی!!! اِس لئے اب ہم محتاط طریقے سے اپنی اگلی منزل کا باآسانی انتخاب کرسکتے ہیں۔ شرف کے توجہ دِلانے پر میں نے اپنی روحانی قوتوں کو ٹٹولا۔ تو خوشی کے احساس سے میں جھوم اُٹھا۔ کیونکہ واقعی میری تمام پاور مجھ میں لُوٹ آئی تھیں۔ ہم نے خوب اچھی طرح ایک دوسرے سے معانقہ کیا۔ اُور اسکے بعد ہماری راہیں جُدا ہُوگئیں۔

میں نے سب سے پہلے اپنی فیملی سے مُلاقات کا پروگرام بنایا ۔ اُور کچھ دنوں کیلئے اپنے محفوظ محل  میں پُہنچ گیا۔لیکن میں ذیادہ دِنوں تک وہاں نہیں رِہ سکتا تھا۔کیونکہ میرا محبوب سیالکوٹ میں کس  حال میں ہے۔ میں باوجود کوشش کے بھی نہیں جان پارہا تھا۔ میری تقریباً تمام روحانی قوت لُوٹ آئیں تھی۔ لیکن نجانے اُن گھنٹیوں کی آواز نے میری سماعت  اُور میری ٹیلی پیتھی کی طاقت پر کیسا اثر ڈالا تھا۔کہ،، میں ہنوز ابھی تک اِس نعمت سے محروم ہی تھا۔ بہرحال مجھے واپس آنا تھا۔ اُور گھنشام داس میرے لئے گھات لگائے بیٹھا تھا۔ ۔۔۔ میں نے اِس معاملے میں رازداری سے بابا جان کے ایک زیرک وزیر ابو النصر سے رابطہ کیا۔ اُنہوں نے میری مدد کیلئے حامی بھرتے ہُوئے مجھے ایک ایسے  سہ روزہ عمل کی بابت بتایا۔جو مجھے گھنشام داس سے محفوظ رکھ سکتا تھا۔

لیکن اُن کا کہنا تھا۔کہ،، گھنشام داس نے اپنی حفاظت کا کچھ  ایسا انتظام کررکھا ہے۔ جسکی وجہ سے ہم جنات اُسے قابو نہیں کرسکتے۔اُور جب تک گھنشام داس اُس علاقے میں موجود ہے ۔وُہ تمہارا پیچھا نہیں چھوڑے گا۔   اسلئے گھنشام داس کا بندوبست کرنے کیلئے ہمیں کسی مسلمان  انسان عامل کی مدد حاصل کرنی ہُوگی۔ اُور میں ایک شخص کو جانتا ہُوں۔جو بظاہر تو ایک ناکام عامل ہے۔ لیکن اُس پر اللہ والوں کی خاص نظر ہے۔ جسکی وجہ سے وُہ مستقبل میں عَالم تکوین کی کوئی  اہم ذمہ داری  بھی سنبھال سکتا ہے۔۔۔۔ اُور جانتے ہُو کامل علی مجھے وزیر ابوالنصر نے  اُس  عامل کا کیانام بتایا تھا۔؟؟؟ ۔۔۔کیا نام بتایا تھا؟؟؟کامل علی نے اشتیاق سے  ابوشامل کو بغور دیکھتے ہُوئےاستفسار کیا۔۔۔۔۔ مجھے وزیر ابوالنصر نے  کسی اُور کا نہیں بلکہ تُمہارا ہی  نام بتایا تھا۔ اُور خُدا کی قدرت دیکھو کہ،، اتنامہان جادوگر تمام سیفٹی کے باوجود جب اپنے انجام کو پُہنچا۔ تو وُہ تُم ہی تھے ۔ جس نے ریحان شاہ تبریزی کی مدد سے اُسے جہنم رسید کردیا تھا۔

وُہ سب تو ٹھیک ہے۔ لیکن فرح کا کیا ہُوا؟؟؟ کامل علی نے عاجزی سے گفتگو کو بدلتے ہُوئے کہا،، ۔۔۔۔۔ ہُونا کیا تھا؟۔۔ میں نے تین دِن تک وزیر ابوالنصر کا بتایا ہُوا وظیفہ کرلیا۔ جسکی وجہ سے اب گھنشام داس آسانی سے میری لوکیشن معلوم نہیں کرسکتا تھا۔۔۔ لیکن جب میں فرح سے ملنے کیلئے سیالکوٹ پُہنچا۔ تب تک گھنشام داس اپنی خباثت کا  ثبوت دیتے ہُوئے ایک ایسا چکر چلانے میں کامیاب ہُوگیا۔کہ،، فرح  اُور، دلشاد  کی فیملی نے اُن دونوں کا نکاح کردیا۔ میں چاہے جتنا بھی عاشق مزاج سہی۔لیکن اتنا بے غیرت نہیں ہُوں۔ کہ،، شادی کے بعد بھی فرح کے  حجلہ میں مداخلت کرتا۔

۔۔ لیکن چند دِن بعد قدرتی طور پر دلشاد کا ایکبارپھر سے ایکسیڈنٹ ہُوگیا۔دلشاد کی ہڈیاں تو پہلے ہی ٹوٹ پھوٹ کا شکار تھیں۔ اسلئے دوسری مرتبہ کا دھچکا وُہ ہڈیاں نہیں سہار سکیں۔ اُور دلشاد ہمیشہ کیلئے معذور ہُوگیا۔ اِس حادثے کے بعد دلشاد کی فیملی کی تمام جمع پُونجی اُور مکان  کی فروخت سے حاصل رقم۔ سب کچھ دلشاد کے علاج میں صرف ہُوگئی۔ ۔۔۔ اسطرح  ایک طرف گھنشام داس تمہارے ہاتھوں ہلاک ہُوگیا۔ جبکہ اُسکی خباثت کی وجہ سے میری محبت کا آشیانہ تنکوں کی مانند بکھر گیا۔۔۔دلشاد نے ہمیشہ کیلئے بستر پکڑ لیا ہے۔ اُورفرح کی مالی حالت بُہت کمزور ہُوچکی ہے۔ اسلئے میں بہانے بہانے سے اُسکی امداد کرنے۔ یا یُوں کہہ سکتے ہُو۔کہ،، اُسکے صبر کا پیمانہ لبریز ہُونے کا نتظار کررہا ہُوں۔۔۔۔

اچھا تو اِس لیئے جناب پورے بیس دِن لاپتہ رہے تھے۔ اُور یہ بات بالکل  ہی بھول گئے۔کہ،، یہاں نفاست صدیقی اپنے دوست کو لانے والے تھے۔ کامل نے شکایت بھرے لہجے میں کہا۔۔۔۔۔۔نہیں یار سیالکوٹ سے تو میں اُسی شام لُوٹ آیا تھا۔ جس رات تمہاری دہلوی سے ملاقات فکس تھی۔۔۔۔ لیکن واپس آتے ہُوئے مجھے درمیان میں یہ خبر مِلی ۔کہ،، تمہاری نرگس کراچی کے سول ہوسپٹل میں اپنی زندگی کی آخری سانسیں لے رہی ہے۔سُو میں سیدھا ہوسپٹل پُہنچ گیا تھا۔۔۔۔ نرگس کا ذکر سُنتے ہی کامل علی پر دیوانگی سی طاری ہُوگئی۔ کیا ہُوامیری نرگس کو۔۔۔؟اب کیسی ہے وُہ۔؟؟؟ کہاں ہے نرگس۔؟؟؟ اُور تم مجھے اتنی دیر سے اپنے عشق کی کہانی سُنارہے تھے۔ جبکہ میری نرگس زندگی اُور موت کی کشمش میں گرفتار تھی۔۔۔ کامل کے منہ سے تھوک کے چھینٹے اُڑنے لگے تھے۔جبکہ لہجے میں چنگاریاں بھری ہُوئی  تھیں۔!!!

دل کی بات۔

مجھے معلوم ہے کہ،، میرے بلاگ پر میری تحریریں پڑھنے کیلئے بُہت سے صاحب علم دوست بھی تشریف لاتے ہیں اُور میری تحریروں کو پسندیدگی کی نگاہ سے بھی دیکھتے ہیں۔۔۔ لیکن وُہ اتنی خاموش سے  بِلا تبصرہ ،،واپس لُوٹ جاتے ہیں۔ جیسے باد نسیم کے جھونکے بنا کچھ کہے جسم کو چُھو جاتے ہیں۔۔۔ میں اُنکی خدمت میں صرف اتنا عرض کرنا چاہتا ہُوں۔کہ،، میں تمام نامساعد حالات کے باوجود لکھنے کی ذمہ داری کسی نہ کسی حد تک پُوری کرنے کی کوشش کررہا ہُوں۔۔۔۔ لیکن آپکی خاموشی۔۔۔۔ بے اعتنائی، بے توجہی، یا بے حسی کے زمرے میں تو شُمار نہیں ہُوتی۔۔۔ اس سوال کا بہترین  جواب، صرف آپکا دِل ہی دے سکتا ہے۔۔۔۔

آپ سب کی دُعاوں کا طلبگار
عشرت اقبال وارثی۔
(جاری ہے)

اُسکا کہنا ہے۔ کِسی اُور کو دیکھوں نہ کبھی
کیوں کہ اُسکو یہ میرا رُوپ بُرا لگتا ہے۔

مجھکو ہر چہرے میں آتاہے نظر اِک وُہ ہی
جُو نہ بھر پائے یہ بہروُپ !!!  ۔بُرا لگتا ہے۔

Wednesday, 27 May 2015

عامل کامل ابو شامل (اُلو کا طلسم) قسط 37



گُذشتہ سے پیوستہ۔

اِس سے پہلے کے میں اِن سوالات کو اپنی زبان پر لاتا۔ جوگی گھنشام داس نے مجھے مخاطب کرتے ہُوئے کہا۔۔۔ میں اَوشے تمہاری شنکا  کو  دُور کیئے دیتا ہُوں۔ تم نے ابھی وچار کرتے ہُوئےاپنی قیمت شُنے (۰) لگائی ہے۔ جس سے میں بہت پربھاوت ہُوا ہُوں۔  سُنو!!!   یہ بات بالکل ست ہے کہ،،میری قوت دَس کے برابر ہے۔ ۔۔۔  پرنتو ایک بات تمہاری بُدھی میں نہیں سماسکی۔ کہ،، کیول شُنے  بے قیمت ہُوتا ہے۔ پرنتو جب  یہ کسی دوسرے ہندسے کے  ساتھ مِل جاتا ہے۔ تو نہ صرف خُود انمول ہُوجاتا ہے۔بلکہ جس سے جڑ جاتا ہے۔ اُسے بھی انمول بنادیتا ہے۔ اِس پرکار میری اِچھا ہے کہ،، تُم مجھ سے مِل جاوٗ ۔ تاکہ میری  سیما  ۱۰ سے بڑھ کر ۱۰۰ پریشت ہُوجائے۔ اُور ہاں میں تمہیں بھیمی دیوی کے بارے میں کیول اتنا بتا سکتا ہُوں۔کہ،، وُہ  ہزاروں ورشُوں سے شکتی کی اَمر دیوی ہے۔ اُور جو بھی  منش اُس دیوی کو پرسن کرنے میں سپھل ہُوجاتا ہے۔ وُہ دیوی اُس منش کیساتھ ایک رات ضرور گُزارتی ہے۔ جسکے بعد وُہ منش بھی ہمیشہ ہمیشہ کیلئے اَمر ہُوجاتا ہے۔

اب مزید پڑھیئے۔

لیکن اِس تمام چکر میں مجھے کیا کرنا ہُوگا؟ میں نے گھنشام داس سے اگلا سوال کیا۔۔۔۔۔ تُمہیں!!! ۔۔۔ تُمہیں کیول میری سہایتا کرنی ہُوگی۔ جس سمے  میں  دیوی کو پرسن کرنے کیلئے اشلوک کا جاپ کروں گا۔ میرے جاپ کو اسنبھو کرنے کیلئے بھیمی دیوی کے بھگت اُور اُسکے تمام وُہ پُتر جو اُن منشوں کی نشانی ہیں۔ جنہیں ایک رات دیوی کی سیوا کا شبھ  سمے پرابت ہُوچکا ہے۔ اوشے آئیں گے۔ تب تمہیں اُن تمام  دَاسوں کو مجھ سے دُور رکھنا ہُوگا۔ یہاں تک کہ،، میری منو کامنا پوری ہُوجائے۔ گھنشام داس نے مجھے سمجھاتے ہُوئے ایسا سُکھ بھرا سانس لیا۔ جیسے وُہ سپنوں میں اپنی کامیابی کا جشن منارہا ہُو۔۔۔ لیکن میں تو اتنا کمزور ہُوں کہ،، تمہارا ہی مقابلہ نہیں کرپایا۔ پھر اتنے طاقتور لوگوں سے اکیلا کیسے لڑپاوٗں گا۔ میں نے اپنے خدشے کا اظہار کیا تو وہ بڑی نخوت سے کہنے لگا۔۔۔۔ اپنی منو کامنا کو ست  کے آکار میں ڈھالنے کیلئے میں نے تجھے بھی شکتی مان بنانے کا اَوش اُوپائے سُوچ رکھا ہے۔ جس کے بعد میں ہمیشہ ہمیشہ کیلئے اَمر ہُوجاوٗنگا۔

میری مثال اُس بھیڑ کے مصداق تھی۔ جسکے پیچھے شیر لگے ہُوں۔ اُور آگے گہری کھائی اُسکی منتظر ہُو۔میں نے  دِل میں خُدا سے معافی مانگتے ہُوئے اُسکی  مدد طلب کی۔ اُور گھنشام داس کی دونوں شرائط قبول کرلیں۔ اُس نے وعدے کیمطابق مجھے نہ صرف آزاد کردیا تھا۔ بلکہ اُس نے میری تمام پاور بھی مجھے  یہ کہتے ہُوئے لُوٹادی تھی۔کہ،،مجھے دھوکہ دیکر میرا اپمان کرنے کی اِچھا بھی اپنے ہردے میں نہیں لانا۔ ورنہ اپنے وردان سے ایسا شراپ دُونگا۔کہ تمام زندگی شما کی بھوگ مانگے گا۔ لیکن تیرا کلیان نہ ہُوپائے گا۔۔۔۔۔۔ آزادی  ملنے کے بعد میں نے اُس علاقے کا جائزہ لینا شروع کیا۔ تو مجھے معلوم ہُوا کہ،، وُہ جگہ بالکل بُھول بھلیوں کی مانند تھی۔  اگرچہ وُہ وادی نہایت دلفریب مناظر سے بھرپور تھی۔۔۔۔ لیکن مجھے ایسا محسوس ہُونے لگا تھا۔ جیسے یہ تمام وادی ایک غبارے کی مانند ہے۔ جہاں سے دُنیا کی گردش کو دیکھا تو جاسکتا تھا۔ لیکن اِس غبارے سے باہر نکلنے کا کوئی راستہ   سجھائی نہیں دیتا تھا۔

گھنشام داس نے  اپنی حفاظت کا ذمہ دینے سے قبل مجھے بُہت سی شکتیاں دیں۔ جنکے ذریعے سے میں لاکھوں بلاوٗں سے بیک وقت خُود کو محفوظ رکھ سکتا  تھا۔اُنہی دنوں مجھ پر ایک انکشاف ہُوا۔کہ،، اِس غبارے نما وادی میں اکیلا میں ہی قید نہیں تھا۔ بلکہ کچھ انسانوں کو بھی گھنشام داس نے قیدی بنا رکھا تھا۔۔۔ اُن میں ایک عامل  شرف قلندری نام  کا بھی قیدی تھا۔۔۔ چونکہ شرف بھی مسلمان تھا اُور میں بھی اسلئے فطری طور پر میں شرف کے نذدیک ہُوتا چلا گیا۔ پھر ایکدن شرف نے ہی مجھے بتایا کہ،، ہماری آزادی تب تک ہی قائم ہے۔ جب تک کہ،، گھنشام داس اپنا مقصد حاصل نہیں کرلیتا۔ اُور جونہی اُسے بھیمی دیوی کا قرب حاصل ہوجائے گا۔ وُہ اِس وادی کو اپنے تمام رازوں سمیت ہمیشہ کیلئے نابود کردے گا۔ تاکہ دُنیا میں کوئی اُسکی کمزوری نہ جان سکے۔۔۔۔کیا اِسکی کوئی کمزوری بھی ہے۔؟؟؟ میں نے اشتیاق سے شرف  قلندری سے معلوم کیا۔۔۔شرف نے مجھے   خاموش رہنے   کا اِشارہ دیکر  زمین پر  انگلی سے کچھ لکھنا شروع کردیا۔ جسے سمجھنے کیلئے میں مزید جھک کر پڑھنے لگا۔

 اُس نے لکھ کر بتایا۔کہ،،  یہ وادی ایک طلسم کی  دُنیا ہے۔ اُور اِس تمام طلسم کی چابی ایک سفید اُلو ہے۔ جو  اِس غبارہ نما جنگل میں ہی موجود ہے۔ اگر کسی طرح اُس اُلو کو ہلاک کردیا جائے۔ تو یہ غبارے نما طلسم ٹوٹ جائے گا۔ اُور ہم گھنشام داس کی گرفت سے آزاد ہُوسکتے ہیں۔۔۔  اسلئے میں بھی اُس اُلو کو تلاش کررہا ہُوں۔ اگر وُہ سفید اُلو تمہیں پہلے نطر آجائے۔ تو فوراً اُسے ہلاک کرڈالنا۔ اُور یہاں سے بھاگتے ہُوئے ایک بات کا خیال رکھنا کہ ،، صرف مغرب کی جانب دوڑنا۔ ورنہ ہم پھر سے گھنشام داس کا شکار بن سکتے ہیں۔ اتنا لکھنے کے بعد اُس نے زمین پر لکھی تمام تحریر ہاتھ پھیر کا مِٹا دالی۔

مجھے  گھنشام  داس کی نیت پر پہلے سے ہی شُبہ تھا۔ لیکن شرف قلندری کی دلیل نے رہے سہے ابہام بھی ختم کردیئے تھے۔ اب میں کسی قیمت پر بھی گھنشام داس  کے وعدے پر  بھروسہ نہیں کرسکتا تھا۔۔۔ لیکن نجانے یہ سفید اُلو والی کہانی سچ بھی تھی۔ یا شرف قلندری کی  کوئی ذہنی اختراع تھی۔ اب اسکا فیصلہ تو سفید اُلو کے دریافت ہُونے کے بعد ہی ہُوسکتا تھا۔۔۔۔۔۔ میں بظاہر گھنشام داس کے حُکم پر خود کو عملیات کے ذریعہ سے مضبوط بنارہا تھا۔ لیکن درحقیقت مجھے اُس سفید اُلو کی تلاش تھی۔ جو بقول شرف قلندری اِس طلسم کی چابی تھا۔ ایک شام  میں  وادی میں چہل قدمی کیساتھ ساتھ  اپنا  وظیفہ بھی پڑھ رَہا تھا۔اُور صدقِ دل سے اللہ کریم سے دُعا بھی کررہا تھا۔کہ،، مجھے آسانی اُور اِمداد عطا فرمادے۔ اتنے میں میرے کانوں میں ایک سیٹی نما آواز گونجی۔۔ میں بے اختیار آواز کی سمت کا تعین کرنے لگا۔ تبھی میری دبی دَبی چیخ نکل گئی۔ میں نے چیڑ کے ایک انتہائی بُلند پیڑ پر اُس سفید اُلو کو دیکھ لیا تھا۔ اُور مجھے انتہائی مُسرت حاصل ہونے لگی۔ جب میں نے اُسے ایک گھونسلے میں داخل  ہُوتے دیکھا۔۔۔ میں دِل ہی دل میں اللہ کریم کا شُکراَدا کرنے لگا۔جس نے آسانی کا  راستہ مجھ گنہگار پر کھول دیا تھا۔

دوسرے دِن جب میں نے سفید اُلو کی بابت شرف قلندری کو  اشارے کنایہ میں بتایا ۔ تو ایک اطمینان بخش مسکراہٹ شرف کے چہرے پر بھی پھیل گئی۔ اگلے دِن تک شرف نے انتہائی رازداری سے ایک دو شاخہ لکڑی اور لچکیلی چھال کی مدد سے ایک غلیل تیار کرکے اُنہی درختوں کے نذدیک چھپادی تھی۔  اُور حُسن اتفاق کہیئے  ۔ بلکہ اللہ کریم کی مدد  سمجھیئے۔ کہ ،، اگلے ہی دن جب شرف غلیل کا معائنہ کررہا تھا۔تبھی وُہ سفید اُلو بلندی سے پرواز کرتے ہُوئے  اچانک کسی چوہے کو دیکھ کر ہمارے قریب جھپٹا۔۔۔  شائد شرف قلندری اُسکا اِرادہ بھانپ چکا تھا۔ اسلئے جیسے ہی وُہ شرف کے نشانے کی ذد میں آیا۔ شرف نے ایک نوکیلا پتھر غلیل کے ذریعے اُلو کی جانب داغ دیا۔ پتھر کی نوک نے اُلو کو  اگرچہ زخمی کردیا تھا۔ لیکن وُہ اپنے شکار کو چھوڑنے پر آمادہ نہیں تھا۔ اُلو نے مُڑ کر ایک غضبناک نگاہ  ہم دُونوں پر ڈالی۔ اُور اُسی وقت وُہ  ایک درخت سے ٹکرا کر زمین پر گر پڑا۔ شائد قدرت ہمیں  آزادی حاصل کرنے کیلئے ایک بھرپور موقع دینا چاہتی۔ میں نے دوڑتے ہُوئے ایک بڑا سا پتھر اُٹھالیا۔ اُلو نے بھی موقع کی نزاکت بھانپ کر شکار چھوڑ دینا مناسب سمجھا۔ لیکن تب تک میں اُس کے قریب پُہنچ کر اُسکے بڑے سے سر کو نشانہ بنا چکا تھا۔ وُہ ایک مرتبہ پھڑپھڑاکر جونہی لہرایا۔ تو میں نے وحشت سے اُسکے سر کو کچلنا شروع کردیا۔۔ تھوڑی ہی دیر میں اُلو کی سانس تھمنے لگی۔ تو سارے جنگل میں چیخوں کا سیلاب اُمنڈنے لگا۔ تبھی مجھے شرف قادری نے چیخ کر مخاطب کرتے ہُوئے خبردار کیا۔ ابو شامل میرے ساتھ مغرب کی جانب دوڑو۔۔۔۔ اگر آج یہ موقع گنوادیا تو ہم ہمیشہ کیلئے گھنشام داس کے عتاب کا نشانہ بن  کر رِہ جائیں گے۔

دل کی بات۔
مجھے معلوم ہے کہ،، میرے بلاگ پر میری تحریریں پڑھنے کیلئے بُہت سے صاحب علم دوست بھی تشریف لاتے ہیں اُور میری تحریروں کو پسندیدگی کی نگاہ سے بھی دیکھتے ہیں۔۔۔ لیکن وُہ اتنی خاموش سے  بِلا تبصرہ ،،واپس لُوٹ جاتے ہیں۔ جیسے باد نسیم کے جھونکے بنا کچھ کہے جسم کو چُھو جاتے ہیں۔۔۔ میں اُنکی خدمت میں صرف اتنا عرض کرنا چاہتا ہُوں۔کہ،، میں تمام نامساعد حالات کے باوجود لکھنے کی ذمہ داری کسی نہ کسی حد تک پُوری کرنے کی کوشش کررہا ہُوں۔۔۔۔ لیکن آپکی خاموشی۔۔۔۔ بے اعتنائی، بے توجہی، یا بے حسی کے زمرے میں تو شُمار نہیں ہُوتی۔۔۔ اس سوال کا بہترین  جواب، صرف آپکا دِل ہی دے سکتا ہے۔۔۔۔
آپ سب کی دُعاوں کا طلبگار

عشرت اقبال وارثی۔

(جاری ہے)

اُسکا کہنا ہے۔ کِسی اُور کو دیکھوں نہ کبھی
کیوں کہ اُسکو یہ میرا رُوپ بُرا لگتا ہے۔

مجھکو ہر چہرے میں آتاہے نظر اِک وُہ ہی
جُو نہ بھر پائے یہ بہروُپ !!!  ۔بُرا لگتا ہے۔