bing

Your SEO optimized title page contents

Pages

.

.

Saturday, 27 June 2015

عامل کامل ابوشامل (جاگ بنا دُودھ)قسط 54.akas



گُذشتہ سے پیوستہ۔

اگلے آٹھ دن بعد جب وُہ بچی دوبارہ  دَم کروانے اپنی والدہ کیساتھ  کامل کے گھرآئی تو اسکا رنگ ہی بدلا ہُوا تھا۔ اُس نے بتایا۔ کہ،، وہ خبیث اب اِسکے نذدیک نہیں آتا۔ پہلے دن اُس نے کافی دھمکیاں دیں۔ پھر منت ترلے کرنے لگا۔کہ،، اپنے گھر سے اِن لیمووں کو نکال دُو۔کیونکہ اِن سے چنگاری نکلتی ہیں۔جو میرے وجود میں آگ بھڑکادیتی ہیں۔ جبکہ میں تمہارے بغیر نہیں رِہ سکتا۔۔۔۔۔۔وُہ خواتین کامل کو  بے انتہا دُعاوں سے نواز رہی تھیں۔۔۔ جبکہ جاناں بھی کامل کو رشک کی نگاہ سے دیکھ رہی تھی۔۔۔۔اِس واقعہ نے جہاں کامل کو اعتماد فراہم کیا تھا۔ تو دوسری جانب غیر محسوس انداز میں جنات کے ستائے ہُوئے مریضوں کی  آمد میں اضافہ کی وجہ سے اب ہفتے  کا کوئی دن نہیں بچا تھا۔ جب لوگ کامل سے علاج کیلئے رُجوع نہ کررہے ہُوں۔

اب مزید پڑھ لیجئے۔

تین سال کیسے گُزر گئے کچھ پتہ ہی نہیں چلا! وہی کامل علی جسے محلے والے بھی ٹھیک سے نہیں جانتے تھے۔ شہرت کی ایسی بلندی پر پہنچا کہ  پرنٹ میڈیا سے الیکٹرانک میڈیا تک اُسکی  دھوم کا ڈنکا بجنے لگا۔ کیا بیوروکریٹس۔کیا سیاستدان۔فلمی  ستارے، عدلیہ کے نمائندے، فوجی افسران  غرض ہر  ایک شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے سبھی افراد  کامل کی محبت کے اسیر ہُوتے چلے گئے۔۔۔۔ لیکن اتنی بھیڑ ہونے کے باوجود بھی کامل علی کے اندر ایک عجیب سی بےچینی بڑی خاموشی سےاپنی جگہ بنائے چلی جارہی تھی۔۔۔۔ حالانکہ نہ تو  وُہ آج ابوشامل کے سہاروں  کا محتاج تھا۔اُور نہ  ہی دوبارہ سلطان تبریزی  نے اُسکی زندگی میں کوئی دستک دی تھی۔ لیکن نجانے کامل علی کو یہ وہم کیوں کھائے جارہا تھا۔کہ،، اچانک ایک دِن یہ کیفیت بھی  ختم ہُوجائے گی۔اُسے کبھی یہ بات بھی سمجھ نہیں آسکی۔کہ،، کسطرح وُہ ایسے مریضوں کا علاج بھی کرنے میں کامیاب ہُوجاتا ہے۔جنہیں زمانے بھر کے عامل کامل کا دعویٰ کرنے والے بھی لاعلاج قرار دے چُکے ہُوتے ہیں۔

اُسکی بےچینی اُور بیقراری پر  بلاآخرایک شام قدرت کو رِحم آہی گیا۔۔۔ وُہ حسب معمول اُس شام گھر جانے کیلئے آفس سے نکلا ہی تھا۔۔۔ کہ اُسکی نظر ایک بوڑھے شخص پر پڑی۔ جسکی عمر قریباً ۷۰ برس کے قریب ہُوگی۔وُہ بوڑھا شخص جسمانی طور پر کافی صحت مند دکھائی دے رَہا تھا۔ گھنی زُلفوں اُور داڑھی کے بالوں میں سفیدی سے ذیادہ سیاہ بال چمک رہے تھے۔ ۔۔  سفید قمیص شلوار پر چیک  کا کُوٹ بھی بوڑھے شخص کے رُعب میں اضافہ کررہا تھا۔ جب کہ،، ہاتھ کی انگلیوں میں دبی سگریٹ کو وُہ  بار باراپنے ہونٹوں سے لگا کر سفید دھویں کے مرغولے فضا میں بکھیر رہا تھا۔

اُسی آنکھوں میں بلا کی چمک موجود تھی۔جو کامل علی کو اپنی جانب متوجہ کئے ہُوئے تھی۔ وُہ شخص کہیں سے بھی گداگر (بھکاری) دکھائی نہیں دے رہا تھا۔ مگر نجانے کیوں کامل علی کا ہاتھ جیب میں رینگ کر پچاس کے نُوٹ کو باہر کھینچ لایا تھا۔ بے اختیاری  طور پر کامل علی نے وُہ نوٹ بوڑھے شخص کی جانب بڑھادیا۔۔۔ بوڑھے شخص  کی جگمگاتی آنکھیں  پچاس کا نُوٹ دیکھ کر  غضب سے سُرخ ہُونے لگی تھی۔ اُس نے کامل علی کو متوجہ کرتے ہُوئے نہایت حقارت سے جواب دیا۔۔۔۔ اپنی اُوقات میں رِہ تماشہ گر۔۔۔ تیری ابھی اتنی اُوقات نہیں ہے۔کہ،، تو میری جھولی میں کچھ ڈال سکے۔


 کامل علی نے کھسیانی مسکراہٹ چہرے پر سجاتے ہُوئے  اپنا ہاتھ پیچھے کھینچ  کر شرمندگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا۔۔۔ جناب میں  اپنے عمل پر شرمندہ ہُوں۔ اُور آپ سے معافی چاہتا ہُوں۔۔۔لیکن آپ نے مجھے تماشہ گر کیوں کہا تھا۔حالانکہ میں کوئی تماشہ گر نہیں ہُوں۔۔۔ لوگوں کی آنکھوں میں دُھول جھونک کر۔اور اپنے چہرے پر عامل کامل کا نِقاب چڑھا کر تم جو لوگوں کیساتھ خود کو بھی دھوکہ دینے کی کوشش کررہے ہو۔ اُسکے بعد بھی تُم اِس خوش فہمی میں مُبتلا ہُو کہ،، تُم تماشہ گر نہیں ہُو۔۔۔ بوڑھے شخص نے اپنے چہرے پر طنزیہ مسکراہٹ سجاتے ہُوئے اپنی گفتگو ختم کی۔۔۔

حضور !!! جب آپ سب کچھ جانتے ہیں تو آپکو یہ بھی معلوم ہُوگا۔ کہ،، میں اِس تالاب میں اپنی مرضی سے نہیں اُترا ہُوں۔بلکہ مجھے کسی نادیدہ ہاتھ نے دھکا دیکر اِس تالاب میں پھینک دیا ہے۔۔۔ جسکی وجہ سے میرے اندر ایک عجیب سی بےچینی پینپنے لگی ہے۔۔۔کیا آپ مجھے کوئی نصیحت کرنا چاہیں گے۔یا کوئی ایسا مشورہ دیں گے۔کہ،، میں اِس نقاب کیساتھ اپنی بےچینی سے  بھی چھٹکارہ حاصل کرسکوں۔۔۔

اگر تمہاری رُوح اِس کھیل تماشے سے واقعی بیزار ہُونے لگی ہے تو اسکا مطلب ہے۔کہ،، اب واقعی نصیحت کا وقت آچکا ہے۔ اسلئے اب جو کچھ میں تمہیں کہنے لگا ہُوں اُسے بہت غور سے سُننا۔ اور اگر ممکن ہُو تو اپنی ذات کے سحر سے نکل کر اپنے اندر جھانکنے کی کوشش کرو تاکہ تم فلاح پاسکو۔۔۔ بوڑھے شخص نے ایک ہنکارہ بھر کر اپنا گلا صاف کیا۔اُور آگے بڑھ کر کامل کی گاڑی کی فرنٹ سیٹ پر براجمان ہُوگیا۔ کامل کو بوڑھے شخص کی اِس حرکت پر ذرہ بھی اچھنبا  نہیں ہُوا کہ،، کسطرح اُس بوڑھے شخص نے گاڑی کے لاک کو اپنی انگلی کی مدد سے بےضرر کرڈالا تھا۔۔۔

کہتے ہیں کوئی پہاڑ پر چڑھ جاتا ہے۔اُور کوئی پستی میں اُتر جاتا ہے۔ لیکن وقت کسی کیلئے ٹہرتا نہیں ہے۔ وُہ لوگوں کو سبق دیتا ہُوا آگے کی جانب بڑھتا رہتا ہے۔ اب یہ وقت کیا ہے؟ کیوں ہے۔؟ کہاں ہے۔؟ اُور کہاں نہیں ہے؟ یہ باتیں بھی تو خود میں بیشمار سوالات سمیٹے ہُوئے ہیں۔ اللہ کریم جسکے لئے چاہتا ہے۔ ادرک کے دروازے کھول دیتا ہے۔ پھر وُہ وقت کی قیمت  اور اسکی ماہیت کو خوب سمجھ لیتا ہے۔ لیکن سب سے پہلے انسان کو خود کو سمجھنا پڑتا ہے۔ جو خود کو پہچان لیتا ہے۔ اُسے آب حیات کا پیالہ تلاش کرنے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ جسے ،،میں اُور تو،، کا فارمولہ سمجھ آجاتا ہے۔ اُسے پھر کسی رستہ دِکھانے والے کی ضرورت نہیں رہتی۔ اندر ہی اندر تمام راستے کھلتے چلے جاتے ہیں۔ لیکن ایک پہریدار کی ضرورت البتہ ہمیشہ رہتی ہے۔ جو چور ڈاکووں سے ہمیشہ خزانے کو بچائے رکھتا ہے۔

اِس لئے بیٹا!!! اب پہریدار تلاش کرنے کا وقت آن پُہنچا ہے۔ کیوں کہ خزانے کا چرچا بُہت ذیادہ ہُوگیا۔ بچانے والوں نے اگرچہ خوب ساتھ نبھایا۔۔۔لیکن اب وقت آگیا ہے۔کہ،، اپنا ہاتھ کسی کے ہاتھ میں دے کر باقی کی سیڑھیاں بےفکری سے طے کرتے جاوٗ۔ کیونکر دھیان اگر سیڑھی پر ہُو۔تو اکثر کندھے پر موجود بار سلامت نہیں رہتا۔ اُور توجہ اگر بار پر رہے تو سیڑھی سے پاوٗں رپٹ جانے کا خطرہ موجود رہتا ہے۔ اِسلئے مسافت طے کرنے کیلئےکسی مشاق  کوہ پیماکی ضرورت ضرور رہتی ہے۔ جو دشمن کو خوب پہچانتا ہُو۔ قذاق جس کی بہادری سے خوف کھاتے ہوں۔ جو پھسلن میں بھی قدم جماکر ،ناصرف خود  چل سکے بلکہ ہمسفر کو بھی نہ پھسلنے دے۔۔۔ جسے سمندر کی لہروں کے ارادوں کی خبر ہُو۔ جسے طغیانی اور طوفانوں سے لڑنے میں مزہ آتا ہو۔ جو تعداد کے بجائے جمعیت اور قوت یقین کا علم جانتا ہُوں۔

جو نہ صرف ٹھگوں کو پہچاننے والا ہُو۔ بلکہ قدم قدم پر اُنہیں مات دینے والا ہُو۔ ایسا ہی کوئی جانباز تمہیں آگے کی جانب کا رستہ دِکھا سکتا۔ تماش بین اور تماشہ گر ایسے رستے پر ہرگز نہیں چلتے جہاں جان کو خطرہ ہُو۔ بلکہ وُہ تو صرف نگاہوں کے جھپکنے پر یقین رکھتے ہیں۔ یہاں نگاہ جھپکی۔ وہاں شعبدہ تیار۔۔۔۔ میں ایک ایسے جانباز کو جانتا ہُوں۔ جسے باز پالنے کا بیحد شوق ہے۔ اُور جو عقاب اُسکی تربیت  کی بھٹی سے ایکبار گُزر جاتا ہے۔ اُسے کوئی سنار ناقص نہیں کہتا۔ اب فیصلہ تمہارے ہاتھ ہے۔ چاہو تو لڑجاوٗ۔ اور ہمیشہ کیلئے امر ہُوجاوٗ۔ وگرنہ کرگس کی جھپٹ کا انتظار کرو۔وہ گوشت کی تھیلی کو ذیادہ دیر تمہارے ہاتھ میں رہنے نہیں دےگی۔ بوڑھے شخص نے گفتگو رُوک کر کامل کے چہرے پر نظریں جمادیں۔۔۔۔۔۔۔مجھے منظور ہے! کامل نے پہلی مرتبہ لب کشائی کرتے ہُوئے اپنی رضامندی ظاہر کی۔میں خود بھی سیاحت کرتے کرتے  اِس سیلانی زندگی سے اُکتا کربےحد تھک چُکا ہُوں۔اُور اب یہی چاہتا ہُوں۔کہ،، باقی کا سفر بھول بھلیوں کے بجائے مقصد کی راہ پر سکون سے گُزار سکوں۔۔۔۔ سکون؟؟؟؟ بوڑھے شخص نے لفظ سکون سُن کر اتنا زوردار قہقہ لگایا۔جیسے کامل نے کوئی لطیفہ سُنادیا ہُو۔

(جاری ہے)

اُسکا کہنا ہے۔ کِسی اُور کو دیکھوں نہ کبھی
کیوں کہ اُسکو یہ میرا رُوپ بُرا لگتا ہے۔

مجھکو ہر چہرے میں آتاہے نظر اِک وُہ ہی
جُو نہ بھر پائے یہ بہروُپ !!!  ۔بُرا لگتا ہے۔


Friday, 26 June 2015

عامل کامل ابوشامل (تیرنشانے پر) قسط 53.akas


گُذشتہ سے پیوستہ۔

کامل جاناں کی اِس حرکت پر بِھنَّا کر رِہ گیا۔۔۔۔ بات صرف دَم کی ہُوتی تو کوئی مسئلہ نہیں تھا۔۔۔لیکن  دَم کرنا کچھ اُور بات تھی۔ اُور جنات سے مقابلہ کرنا کچھ اُور بات تھی۔پھر جنات بھی ایسے کہ،، جو شہر بہ شہر کے عاملوں کے قبضے نہیں آرہے ہُوں۔اب ابو شامل تو موجود نہیں تھا۔ جو جنات کی پھینٹی لگا کر اُنہیں بھاگنے پر مجبور کردیتا۔  کامل آفس سے گھر کیلئے نکل تو گیا تھا۔لیکن اُسے جاناں پر سخت غصہ آرہا تھا۔ جس نے بےوقوفی کی انتہا کردی تھی۔ بندہ کم از کم پوچھ ہی لیتا ہے۔کہ،، علاج کرنا ہے یا نہیں۔یا کیا آپ جنات کا علاج کرسکتے ہیں یا نہیں۔ یہاں تو اس خُدا کی بندی نے نا صرف پڑوسن کو دعوت دے ڈالی تھی بلکہ اُسے یقین بھی دلایا تھا۔ کہ جنات کی اب خیر نہیں۔ حالانکہ کامل کو اپنی خیر خطرے میں دکھائی دے رہی تھی۔ وُہ دِل ہی دِل میں ،، یا لجپال بیڑہ کردے پار،، کی صدائیں لگاتا چلا جارہا تھا۔ کہ،، کسی صدا دینے والے نے صدا دی۔  لجپال کو پکارا ہے۔ ہے تو جا ! دَم دستگیر تیری حفاظت کریں گے۔

کامل  ناچاہتے ہُوئے بھی گھر کی جانب   سُست رفتاری سے بڑھ رَہا تھا۔ اگرچہ دِل کے نہاں خانے سے کوئی  بار بار پُکار کر اُسے کامیابی کی نوید سُنارہا تھا۔ لیکن کامل شائد اِن آوازوں کو سُننا ہی نہیں چاہتا۔ ۔۔۔ اے کاش  ہمیشہ کی طرح آج پھر سے ابوشامل کی انٹری ہُوجائے۔ یا پھر  پڑوسن انتظار کی کوفت سے گھبرا کر واپس چلی جائے۔نجانے کتنےہی اے کاش کے پنچھی کامل کے ذہن میں اُڑان بھرتے رہے۔یہاں تک کہ،، کامل اپنے گھر میں داخل ہُوگیا۔ اُور جونہی اُسے ڈرائنگ رُوم سے خواتین کی آواز سُنائی دِی۔تو کامل کی پیشانی پر پسینے کے قطرات جگمگانے لگے۔  سلام کرتے ہُوئے کامل ڈرائینگ رُوم میں داخل ہُوا۔تو اِسے تین خواتین دِکھائی دیں۔ ایک نوجوان لڑکی تھی۔جو کافی نڈھال نظر آرہی تھی۔جسے اُسکی والدہ نے سنبھالا ہُوا تھا۔جبکہ تیسری خاتون  شائد لڑکی کی دادی تھی۔۔۔کامل  کمرے کاسرسری جائزہ لینے کے بعد صوفے پرنظریں جھکا کر بیٹھ گیا۔  

جاناں نے اُن خواتین کا تعارف کامل سے کرواتے ہُوئے بتایا۔کہ،، لڑکی ماشا اللہ عالمہ کا کورس کررہی  تھی۔  لیکن پچھلے چند ماہ سے عجیب حرکتیں کررہی ہے۔اگرچہ لڑکی کے گھر والے تعویزات و عملیات پر یقین نہیں رکھتے ہیں۔ لیکن پھر بھی بچی کی خاطر ہر ایک تعویز و عملیات کرنے والے کے پاس جاچکے ہیں۔لیکن کہیں سے کوئی افاقہ نہیں ہُوا۔۔۔۔ کامل کی سمجھ میں کچھ نہیں آرہا تھا۔کہ،، وُہ کیا کہے اُور کرے۔۔۔۔ کیوں کہ جاناں نے اپنی ناسمجھی  کی وجہ سے  کامل کے ساتھ اپنی بھی عزت داوٗ پر لگادی تھی۔۔۔۔۔ رفتہ رفتہ کامل کے دِل میں ایک خیال قرار پکڑنے لگا۔سلطان تبریزی کے دیئے ہُوئے لیمن کی برکات وُہ دیکھ ہی چکا تھا۔۔۔ اسلئے ایک خیال کے تحت جاناں کو مخاطب کرتے ہُوئے  کامل نےاستفسار کیا۔ جاناں  گھر میں لیمن ہیں۔؟؟؟  جی ہیں تو کتنے چاہیئں؟ جاناں کے استفسار پر کامل نے کچھ سُوچتے ہُوئے کہا۔ایسا کرو پانچ لیمن  فریج سے نکال لاوٗ۔ اُور  کوشش کرنا کہ،، لیمن تازہ ہُوں۔

کامل کو جتنی دعائیں آتی تھیں۔ وُہ تمام اُس نے زیر لب پڑھ کر  لیمن پر دَم کردی۔آخری لمحات میں وُہ کچھ جذباتی سا ہُوکر دِل میں دُعا کرنے لگا۔ اے بادشاہوں کے بادشاہ مجھے تو کچھ نہیں آتا۔ مجھے تو یہ بھی معلوم نہیں ہے۔ کہ،، کُون اِن خواتین کو میرے در تک لایا ہے۔ اُور کیوں لایا ہے۔ تو اِنکے حُسن ظن کی لاج رکھ لے۔اُور جو تجھے پسند ہیں۔ اُنکے وسیلے سے انہیں شفا عطا کردے۔یا انکے دِلوں کو میری جانب سے پھیر دے۔ دُعا سے فارغ ہُوکر کامل نے انگلی کے پُوروں پر گیارہ مرتبہ آہستہ سے  ،، یا لجپال بیڑہ کردے پار،، کا ورد کیا اُور اُن لیمن میں سے ایک لیمن اُس نوجوان بچی کو تھماتے ہُوئے کہا بیٹا اِس لیموں کو ایک ہفتہ اپنے ساتھ رکھنا۔اور ایک لمحے کیلئے بھی اِسے خود سے جُدا نہیں کرنا۔ جبکہ چار لیموں گھر  کے چار کونوں میں رکھے جائیں گے۔ کامل جو کچھ کہہ رہا تھا۔ اُسے خود سمجھ نہیں آرہی تھی۔ کہ،، وُہ ایسا کیوں کہہ رہا ہے۔اُور  کس لئے کہہ رہا ہے۔لیکن کامل کا اعتماد اب کافی حد تک بحال ہُونے لگا تھا۔

اچانک وُہ نوجوان لڑکی جو ابھی تک بہت نڈھال نظر آرہی تھی۔۔۔ اچانک  اُس لیموں کو فضا میں ایسے لہرانے لگی جیسے وُہ اُس لیموں سے کسی کو ڈرانے کی کوشش کررہی ہُو۔ پھر وُہ خوشی سے چلاتے ہُوئے اپنی ماں کو مخاطب کرکے کہنے لگی۔ماں وُہ  ڈر کربھاگ رہا ہے اس لیموں سے!!!۔ کُون بھاگ رہا ہے بیٹا۔؟؟؟ وہی ماں۔ جس نے اتنے عرصے سے میری زندگی حرام کی ہُوئی ہے۔اُور میرے جسم کو کھلونا بنالیا تھا۔۔۔ کامل نے شفقت سے اُس بچی کے سر پر ہاتھ رکھتے ہُوئے کہا۔ان شاٗ اللہ اب تمہیں کوئی نہیں ستائے گا۔ بس اِس لیموں کو حفاظت سے رکھنا۔ کیونکہ یہ لیموں تمہارے لئے ہے ورنہ شیطانوں کیلئے کسی ایٹم بم سے کم نہیں۔ ہفتہ دس دِن بعد پھر تشریف لے آیئے گا۔کامل کی خود سمجھ نہیں آرہا تھا۔ کہ،، وُہ ایسی باتیں کیوں کہہ رہا ہے۔۔۔۔

اگلے آٹھ دن بعد جب وُہ بچی دوبارہ  دَم کروانے اپنی والدہ کیساتھ  کامل کے گھرآئی تو اسکا رنگ ہی بدلا ہُوا تھا۔ اُس نے بتایا۔ کہ،، وہ خبیث اب اِسکے نذدیک نہیں آتا۔ پہلے دن اُس نے کافی دھمکیاں دیں۔ پھر منت ترلے کرنے لگا۔کہ،، اپنے گھر سے اِن لیمووں کو نکال دُو۔کیونکہ اِن سے چنگاری نکلتی ہیں۔جو میرے وجود میں آگ بھڑکادیتی ہیں۔ جبکہ میں تمہارے بغیر نہیں رِہ سکتا۔۔۔۔۔۔وُہ خواتین کامل کو  بے انتہا دُعاوں سے نواز رہی تھیں۔۔۔ جبکہ جاناں بھی کامل کو رشک کی نگاہ سے دیکھ رہی تھی۔۔۔۔اِس واقعہ نے جہاں کامل کو اعتماد فراہم کیا تھا۔ تو دوسری جانب غیر محسوس انداز میں جنات کے ستائے ہُوئے مریضوں کی  آمد میں اضافہ کی وجہ سے اب ہفتے  کا کوئی دن نہیں بچا تھا۔ جب لوگ کامل سے علاج کیلئے رُجوع نہ کررہے ہُوں۔اور فائدہ حاصل کرنے والوں کی پبلسٹی نے کامل کی مصروفیت میں کئی گُنا اضافہ کردیا تھا۔

(جاری ہے)

اُسکا کہنا ہے۔ کِسی اُور کو دیکھوں نہ کبھی
کیوں کہ اُسکو یہ میرا رُوپ بُرا لگتا ہے۔

مجھکو ہر چہرے میں آتاہے نظر اِک وُہ ہی
جُو نہ بھر پائے یہ بہروُپ !!!  ۔بُرا لگتا ہے۔


Wednesday, 24 June 2015

خُدا کی تلاش پارٹ ۲




لُوگ کہتے ہیں،کہ،، بیٹیاں خُدا کی رحمت ہوتی ہیں۔۔۔مگر لُوگ ہمیشہ صرف کہتے  ہیں۔ اُور کہہ کر گُزر جاتے۔ لیکن اللہ کریم نے مجھے جو حساس قلب و ذہن عطا فرمایا ہے۔ تو یہ اُس کریم کا ہی مجھ پر خاص فضل ہے۔کہ،، میں صرف سُنتا اُور لکھتا ہی نہیں ہُوں۔ بلکہ جب بھی میں کوئی بات سُنتا ہُوں۔تو اُس بات کی دلیل کیلئے میرا قلب و ذہن ایکدم مستعد ہُوجاتا ہے۔ اِسلیئے جب میں نے  پہلی مرتبہ یہ بات سُنی کہ،، بیٹیاں اللہ کی رحمت ہُوتی ہیں،، تو میرا ذہن اِس بات کی دلیل  جاننےکیلئے پُرشوق ہُوگیا۔لیکن سچی بات یہی ہے۔کہ،، کم سنی کی وجہ سے میرا ذہن اِس سَوال کے جواب سے یکسر نابلد تھا۔ پھر جب میرے گھر اللہ کریم کی عطا سے پہلی اُولاد بیٹی کی صورت جلوہ گر ہُوئی۔تو اِس سوال  کے جواب کی تلاش شدت  اختیار کرنے لگی۔کہ،، آخر کیوں بیٹیاں اللہ کی رحمت ہُوتی ہیں۔

اِس سوال کیساتھ ایک بات بہرحال دِل میں راسخ ہُوتی چلی گئی۔کہ،، اگر بیٹیاں اللہ کریم کی رحمت ہیں۔ تو رحمت،، رحیم کے قریب کرنے کا باعث ہونی چاہیئے۔ پھر میرے گھر ایک اُور بیٹی کا جنم ہُوا۔ لیکن دوسری بیٹی کی زندگی نہایت مختصر ثابت ہُوئی۔ وُہ اپنی محبت کا دیپ میرے دِل میں جلا کر صرف ایک سال میں رخصت ہُوگئی۔ مجھے ہمیشہ سے بیٹیاں بُہت پسند ہیں۔ شائد اِسی وجہ سے دوسری بیٹی کے وصال کے بعد  تیسری اُور چوتھی بیٹی سے  بھی نوازا  گیا۔ ہر بیٹی کی پیدائش کے بعد ایک بیٹا بھی عطا کیا گیا۔ یُوں چاربیٹیوں  کیساتھ انعام میں تین بیٹے بھی عطا کیئے گئے۔

جن  احباب نے۲۰۱۰ میں میری تحریر خُدا کی تلاش خُدا کی تلاش کو پڑھا ہُوگا۔ وُہ بخوبی اِس بات سے بھی آگاہ ہُونگے۔کہ،، میری اِس تحریر کا جنم میری چار سالہ بیٹی جائزہ علی کی گفتگو سے  ہی ممکن ہُوا تھا۔ اُور یہ میری واحد تحریر ہے۔ جسے میں خُود بھی بیسیوں مرتبہ پڑھ چُکا ہُوں۔لیکن پھر بھی  اِس تحریر کو میں جب بھی پڑھتا ہُوں مجھے کچھ نہ کچھ مہکتے پھول اِس تحریر سے ضرور ملتے ہیں۔ جو تجدید وفا کیلئے میری خُوب معاونت کرتے ہیں۔جائزہ علی اب خیر سے نو برس کی ہُوچکی ہے۔اُور سچی بات یہی ہے۔کہ،، خُدا کی تلاش پارٹ ۲ لکھنے کا سہرا بھی جائزہ علی کی گفتگو کا مرہون منت ہے۔ اُس کی آج کی گفتگو نے مجھ پر  اُفک پر جگمگاتے خُورشید کی مانند خوب واضح کردیا ہے۔کہ،، واقعی بیٹیاں خُدا کی رحمت ہیں۔ کیونکہ جائزہ علی کی گفتگو مجھے ہمیشہ اپنے رحیم و کریم پروردیگار سے قریب کرنے کا ذریعہ ثابت ہُوتی ہیں۔ اِس لئے اب مجھے اپنے سوالوں پر کوئی ابہام نہیں ہے۔ میں برملا دلیل سے ثابت کرسکتا ہُوں۔کہ،، واقعی اللہ کریم نے جتنا زرخیز معصوم  ذہن بیٹیوں کو عطا کیا ہے۔وُہ واقعی خُدا کی رحمت کہلائے جانے کی اہل ہیں۔

گُذشتہ شب معلوم ہے  نو برس کی جائزہ نے مجھ سے کیا کہا۔۔۔ یقین جانئے جب میں آپکو اُسکے الفاظ بتاوٗں گا۔ تو آپ بھی اُس کی خُدادادقابلیت پر عش عش کر اُٹھیں گے۔جس وقت میرا سات برس کا بیٹا  احمد رضامجھ سے جنت کے متعلق کرید کرید کر سوالات کررہا تھا۔ جائزہ علی  خاموشی سے ہم دُونوں کی گفتگو نہایت انہماک سے سُن رہی تھی۔لیکن جونہی احمد رضا کے سوالات میں ایک معمولی سا تعطل (بریک )آیا۔جائزہ علی نے ذہانت سے اپنا سوال میرے دماغ میں اُنڈیل دیا۔جسے سُن کر میں حیرت سے اُسکے چہرے کو تکتا رِہ گیا۔ وُہ مجھ سے پُوچھ رہی تھی۔کہ،، بابا جب ہم اِس دنیا میں بُور  ہو جاتے ہیں (اُکتا جاتے ہیں) تو ہم باغات کی سیر یا جھولے جھولنے کیلئے نکل جاتے ہیں۔ لیکن پھر جلد ہی ہمارا دِل اُن باغات کی خوبصورتی اُور جھولوں کی محبت سے بھر جاتا ہے۔ اُور ہمیں پھر سے گھر کی یاد ستانے لگ جاتی ہے۔۔۔تو بابا  جان پھر  مستقل جنت میں قیام کی وجہ سے  جنت کے مزے سے ہمارا دِل کیوں نہیں اُکتائے گا۔۔۔؟؟؟کیونکہ انسان ذیادہ دیر تک ایک جیسے ماحول میں خوش نہیں رِہ سکتا۔ اُور اگر واقعی جنت میں بھی ہمارے ساتھ ایسا کچھ ہُوا۔تو ہم آخر کہاں جائیں گے۔کہ،، ہماری اکتاہٹ ختم ہُوسکے؟؟؟

میں آپ سے سچ کہتا ہُوں۔ جب بھی مجھ سے لُوگ سوالات کرتے ہیں ۔تو میں چند سیکنڈ کی تاخیر بھی برداشت نہیں کرپاتا۔ اُور اکثر فوراً ہی بولنا شروع کردیتا ہُوں۔لیکن جائزہ علی کا یہ سوال سُن کر مجھ پر کتنی ہی دیر سکتہ سا طاری ہُوگیا تھا۔ پھر میں نے خُود کو سنبھالا۔ اُور اُسے سمجھانے لگا۔کہ،، ہمیں اکتاہٹ ہمیشہ تشنگی کی وجہ سے پیش آتی ہے۔اُور جنت میں نعمتوں کی اتنی ذیادہ ورائٹی ہُوگی ۔کہ،، اکتاہٹ کا سوال ہی پیدا نہیں ہُوتا۔کیونکہ وہاں عطائے ربانی انسانی ذہن سے اسقدر ذیادہ ہیں۔ کہ،،وہاں تک انسان کے ذہن کی رسائی  ممکن ہی نہیں ہے ۔ جنت کے باغات، وہاں موجود خیمے ، محلات، رنگ و نور کا سمندر، چہکتے پرندے، مہکتے پھول ، جھرنے، آبشاریں ، مزیدار شربتوں کی مختلف نہریں،   زمین پر موجود مخملی گھاس،  حُور وغلماں کے حسین چہرے  ، سُواری کے لئےبرق رفتار بُراق ،اور بازاروں کی رونقیں انسان کو کہاں بُور ہُونے دیں گی۔؟ پھر وہاں انسانوں میں حسد  کا مادہ  بھی نہیں ہُوگا۔ کہ،، جسکی وجہ سے  دل میں حرص پیدا ہُوسکے۔!!!  مجھے لگا تھا۔کہ،، شائد جائزہ علی میری گفتگو سے متاثر ہُوکر خاموش ہُوجائیگی۔ لیکن اُسے چہرے پر صاف لکھا تھا۔کہ،، وُہ میرے جواب سے ہرگز مطمئین نہیں ہے۔

وُہ کافی دیر تک میرے جواب پر غور کرتی رہی۔جیسے میری گفتگو میں کوئی سِقم تلاش کررہی ہُو۔۔۔ لیکن شائد وُہ اتنی پیچیدہ گفتگو کیلئے فوری طور پر تیار نہیں تھی۔ میرا خیال تھا۔کہ،، اب وُہ ضرور ہتھیار ڈال دے گی۔ لیکن وُہ تو میرے لئے رحمت ہے۔ اُور بھلا رحمت قُرب دیئے  بغیر کہاں ٹہرتی ہے؟ اُس نے اگلا سوال قائم کردیا۔ جس نے مجھے مزید حواس باختہ کردیا۔۔۔ بابا  جان کیا آپ اُور ساری دُنیا کے انسان صرف اسلئے اللہ کی عبادت کرتے ہیں۔تاکہ ،، ہم سب کو آخر میں صرف جنت مِل جائے؟؟؟ اُور آپ جنت میں ہمیشہ مزے کرتے رہیں۔؟

جائزہ علی کے اِس سوال نے  یقین جانئے ایک مرتبہ مجھے پھر سے جھنجھوڑ ڈالا تھا۔۔۔ میں دِل میں جائزہ علی کے سوال پر جتنا غور کرتا جارہا تھا۔ مجھے اپنا وجود آئینہ دِل میں ایک منافق کی  شکل دِکھارہا تھا۔۔۔ ایک ایسا منافق جو  کبھی دِل میں اُور کبھی زُبان حال سے پُکارتا رہتا ہے۔کہ،، مجھے اپنے پروردیگار کی محبت و رضا کے سِوا کچھ نہیں چاہیئے۔ لیکن جانے انجانے میں  بار باردُنیا کے جال میں خوشی سے پھنسا رہتا ہے۔ اُور اپنے دِل کو جھوٹے دِلاسے دیتا رہتا ہے۔کہ،، بس آج دُنیا کی محبت میں اُور  جی لُوں۔۔۔ کل سے دُنیا کی محبت کو خیرباد کہہ دُونگا۔ لیکن رات کا بچا ہُوا خاہشات کا بیج صبح تک پھر سے ایک تناور درخت کی شکل اختیار کرچکا ہُوتا ہے۔۔۔۔۔ بابا جانی کہاں کھو گئے۔؟  جائزہ علی نے  شائدمیری خاموشی کی طوالت  سے  بیزار  ہوکر سوال کیا۔۔پتہ نہیں کیوں مجھے  ایسا لگا جیسے جائزہ علی مجھ سے کہہ رہی ہُو۔کیوں بابا جانی آپ تو بڑے فلسفی بنتے ہیں نا!!! لیکن آج آپ  ایک بچی کے سوال پر کتنے بےبس دکھائی دے رہے ہیں۔

کہیں نہیں بٹیا۔۔۔ میں نے پھیکی سی مسکراہٹ  چہرے پر سجانے کی ناکام کوشش کرتے ہُوئے  پھر سے سلسلہ کلام جُوڑا۔۔۔۔۔ بٹیا تمہارے بابا جانی تو بُہت کمزور سے انسان ہیں۔ جو کبھی عشق کی راہ کے مسافر بن جاتے ہیں۔ اُور کبھی خود غلامی کی زنجیروں کو اپنے پاوٗں سے لپیٹ لیتے ہیں۔ لیکن اِس کائینات میں اللہ کریم کے ایسے  کروڑوں عاشق موجود ہیں۔ جو اللہ کریم کی عبادت نہ جنت کی لالچ کی وجہ سے کرتے ہیں۔ اُور نہ  ہی جہنم  کے خُوف کی وجہ سے وُہ  گناہوں سے دُور رہتے ہیں۔  ۔۔۔۔۔۔۔  بابا جانی یہ کیا بات ہُوئی۔کہ،،  جب نہ اُن لوگوں کا جنت کا لالچ ہے ۔ اُور نہ ہی جہنم کا ڈر ہے۔ تو پھر وُہ لُوگ کس وجہ سے اُور کس کیلئے عبادت کرتے ہیں۔؟؟؟

بٹیا وُہ لوگ صرف اللہ کریم کو راضی کرنے کیلئے اُور اللہ کریم کادید ار اُور اللہ کریم سے ملاقات کو پسند کرتے ہیں۔ اِس لئے اُنکے دِل میں اللہ کریم کے  علاوہ کسی مخلوق کی محبت جگہ نہیں پکڑتی۔ اُور کیوں کہ جنت اُور دوزخ بھی اللہ کی مخلوق ہیں۔ اسلئے اُنکے دِل  خالق کی محبت سے اتنے لبریز ہیں۔ کہ،، جنت کے لطف کی طرف اُنکا  خیال ہی نہیں جاتا۔۔۔۔۔۔ تو بابا  جانی قیامت کے دِن جب سب لُوگ جنت یا دُوزخ میں چلے جائیں گے تو یہ لُوگ  پھرکہاں جائیں گے۔؟ جائزہ کی آنکھوں میں اگرچہ نیند نے اپنی جگہ بنانی شروع کردی تھی۔ لیکن شائد وُہ مطمئین ہُوئے بغیر سُونا نہیں چاہتی تھی۔

بٹیا سلطان العارفین حضرت سلطان باہو (رحمتہ اللہ علیہ) جنہیں سُلطان الفقر اُور اِمام العاشقین بھی کہا جاتا ہے۔اپنی کتاب  عین الفقر میں ایک روایت بیان کرتے ہیں۔ جسکا مفہوم کچھ یُوں ہے۔کہ،، جب سب لُوگ جنت یا دُوزخ میں داخل کردیئے جائیں گے۔ تب یہ تمام عاشقین الہی  جنکے لئے جنت کا اعلان کردیا گیا ہُوگا۔ لیکن  یہ گروہ عاشقین جنت کو قبول کرنے میں  تامل کریں گے۔  فرشتے اپنی تمام کوشش کرنے کے بعد  اللہ کریم کی بارگاہ میں عرض کریں گے ۔ اے ہمارے رب تمام لُوگ جنت یا دُوزخ میں منتقل ہُوچکے ہیں۔ لیکن ایک گروہ اولیا ٗ جنت کی نوید کے باوجود خوش نہیں ہے۔

اللہ کریم ارشاد فرمائے گا۔اِن لوگوں سے معلوم کرو۔کہ،، آخر یہ چاہتے کیا ہیں؟ وُہ گروہ عاشقین عرض کرے گا۔ اے ہمارے پروردیگار تو جانتا ہے۔کہ،، ہم نے کبھی دُنیا کی محبت کو اپنے قلوب میں جگہ نہیں دی۔ ہم نے تیرے عشق کی شمع  سے اپنے وجود کو  اسلئے خاکستر نہیں کیا تھا۔ کہ،، بدلے میں ہمیں باغیچے اُور خدام عطا کردیئے جائیں۔ ہم دُنیا کی تمام تکالیف کو صرف اِس لئے ہنس کے سہتے رہے۔کہ،، تو ہم سے راضی ہُوجائے۔ اور ہمیں دائمی قربت اُور دیدار کی دولت سے سرفراز کردیا جائے۔تاکہ ہماری تشنگی بھی ہمیشہ ہمیشہ کیلئے بُجھ جائے!!!  اِن عاشقین کی فریاد کے جواب میں اللہ کریم ارشاد فرمائے گا۔ بیشک میرے یہ بندے سچ کہتے ہیں۔ اِن تمام کو مقام القُربہ  میں لے آوٗ۔ تاکہ میں انہیں اپنی قربت خاص  اُور دید کے جام سے سیراب کروں۔ اُور یہ لوگ جنت النعیم اُور جنت الفردوس سے بھی لُطف اندوز ہُوں۔

مطلب بابا جانی جنت تو اِن لوگوں کو بھی مِل جائے گی۔لیکن  اِنکا اصل انعام اللہ تعالی کی قربت اُور اُسکا دیدار ہُوگا۔ تو باباجانی کیا دوسرے جنتیوں کو اللہ کریم کا دیدار نہیں ملے گا۔ ؟جائزہ علی نے نیند بھگانے کی کوشش کرتےہُوئے اگلا سوال کیا۔۔۔۔ نہیں بٹیا ایسی بات نہیں ہے۔دیدار تو  سب جنت والوں کیلئے ہُوگا۔لیکن  دوسرے جنتی ایک مرتبہ دیدار کے بعد ایک  طویل مُدت کیلئے بیہوش ہُوجائیں گے۔ جبکہ مقام قرابت کے عاشقین تجلی سے قرار پکڑیں گے۔ اور بار بار دیدار سے سیراب کئے جائیں گے۔  بس یوں سمجھ لُو کہ ،،   دیگر جنت میں حُسن  محبوب  حجاب میں ہوگا۔ جبکہ مقام قربت میں عاشقین بے حجاب جلوئے سمیٹں گے۔

بابا جانی پھر تو اللہ کے عاشقین ہی فائدے میں رہیں گے۔۔۔ بابا جانی آپ بھی عاشق بن جائیں نا۔ پھر آپ بھی کبھی بُور (تشنہ) نہیں رہیں گے۔۔۔۔اُس نے شب کا آخری جملہ کہا۔ اُور نیند کی وادی میں پُہنچ گئی۔۔۔۔ وُہ آج پھر ہمیشہ کی طرح  قربت کا چراغ میرے من میں رُوشن کر کے اطمینان سے سُوگئی تھی۔ اُور میں ہمیشہ کی طرح اُسکی نصیحت پر عمل کرنے کیلئے خود سے عہد و پیمان کرنے کیلئے جاگنے کی کوشش میں مصروف ہُوں۔ اُور اللہ کریم کی بارگاہ میں فریاد کررہا ہُوں۔کہ،، اے میرے پروردیگار  تونے مجھے کتنا خُوبصورت ناصح عطا کیا ہے۔ جو مجھے بار بار جھنجوڑ کر تیری جانب متوجہ کرتا رہتا ہے۔۔۔  اے کریم مجھ پر مہربانی فرمادے۔ اُور میرے من میں ٹمٹماتی آتشِ عشق  کی شمع کو قرار عطا فرمادے۔ مجھے اپنی پسند کے کردار کی محبت کے چنگل سے نکال کر ۔ تیری پسند کے کردار کیلئے مستعد کردے۔ تاکہ میں اسمیں خوبصورت رنگ بھر کر عاشقوں کے نشانِ  قدم کو ڈھونڈتا ہُوا مُراد پاجاوٗں۔


اُسکا کہنا ہے۔ کِسی اُور کو دیکھوں نہ کبھی
کیوں کہ اُسکو یہ میرا رُوپ بُرا لگتا ہے۔

مجھکو ہر چہرے میں آتاہے نظر اِک وُہ ہی
جُو نہ بھر پائے یہ بہروُپ !!!  ۔بُرا لگتا ہے۔



Sunday, 21 June 2015

عامل کامل ابوشامل( تالاب میں دھکا کس نے دیا) قسط 52


گُذشتہ سے پیوستہ۔

وجاہت دہلوی کی مدد سے کامل علی  نے پراپرٹی آفس جانا شروع کردیا تھا۔ وجاہت نے آفس میں بُہت ذمہ دار اسٹاف متعین کیا تھا۔ جس نے تھوڑے ہی دنوں میں  اپنا کام کافی حد تک پھیلا کر ادارے کے منافع میں اچھا خاصہ اضافہ کردیا تھا۔ تمام اسٹاف کے لوگ ہی اپنے کام سے  محبت کرنے والے تھے۔ اگر کبھی کبھار انویسٹمنٹ کی ضرورت پیش آجاتی۔ تو۔ وجاہت دہلوی خوش دِلی کے ساتھ مطلوبہ رقم مُہیا کردیا کرتا۔ وقت گُزرتا رہا۔ اُور رفتہ رفتہ کامل علی ماضی کی زندگی بھولتا جارہا تھا۔ اب اُسے نہ ابوشامل کی یاد ستاتی اُور نہ نرگس کی۔۔۔ جاناں کی محبت نے کامل کو نرگس  کے سراب سے اپنا قیدی بنالیا تھا۔ وقت بُہت آہستگی سے  سرکتا چلاجاہا تھا کہ،،چند ماہ بعد ایک صبح   عجیب واقعہ پیش آگیا۔ کامل آفس جانے کیلئے گھر سے نکلا۔ تو دروازے پر اِک دیہاتی نے کامل کو گھیر لیا۔ سائیں آپ کامل شاہ قادری ہیں نا؟۔۔۔ نام تو میرا ہی کامل ہے۔ لیکن آپکو مجھ سے کیا کام ہے۔ کیا کوئی مکان کرایہ پر چاہیئے؟ کامل نے دیہاتی کے حلیہ پر نگاہ ڈالنے کے بعد اندازہ لگایا۔۔۔ نہیں شاہ صاحب مجھے  مکان نہیں چاہیئے ۔! سائیں مکان  مُوں وٹ آھیی ۔ میرے گھر والی کو بچہ ہوا ہے سائیں بدین میں۔ لیکن سات دن سے بچہ نے ماں کا دودھ نہیں پیا۔ ابھی ڈاکٹر بولتے ہیں کہ،، ہسپتال میں جگہ نہیں اے۔ اُور بھوکا پیاسہ بچہ سائیں کتنے دن جیئے گا۔کسی نے آپکا پتہ بتایا اے سائیں۔۔۔ تو ہم بدین سے آپکی زیارت کیلئے آیا ہُوں۔۔۔۔۔ لیکن بھائی میں دم پھونک کا کام نہیں جانتا آپکو کسی نے غلط پتہ بتایا ہے۔

کامل آدھے گھنٹے بعد واپس گھر سے باہر نکلا۔۔۔ تب بھی وُہ دیہاتی گھر کے دروازے سے لگا کھڑا تھا۔کامل نے سُوچا کہ،،  یہ دیہاتی آدمی ہے۔ میں اِسے جتنا منع کروں گا۔یہ اتنی ہی ضد ذیادہ کرے گا۔ اگر چند گھنٹے کیلئے اِسے اسکے حال پر چھوڑ دیا جائے۔ تو خود ہی دلبرداشتہ ہوکر چلا جائے گا۔ کامل یہی سُوچ کر آفس  کیلئے روانہ ہُوگیا۔۔۔ شام پانچ بجے جب کامل واپس گھر آیا۔ تو اُسی دیہاتی شخص کو گھر کے باہر منتظر دیکھ کر تلملا گیا۔۔۔ یار تُم عجیب انسان ہُو۔ میں نے تمہیں سمجھایا بھی تھا۔کہ،، تم غلط جگہ آگئے ہو۔ لیکن تم بجائے اسکے کہ،، اپنے بچے کا کہیں جاکر علاج کراوٗ۔ زبردستی میرے گھر کے باہر دہرنا دے کر بیٹھے ہو۔ ۔۔۔بھائی میں سچ کہتا ہُوں کہ مجھے علاج معلوم نہیں ہے۔ اگر مجھے دم پھونک کرنا آتا تو میں ضرور تمہارے بچے کیلئے کچھ نہ کچھ ضرور کرتا۔ تم کم از کم مجھے اُس شخص کا نام تو بتاوٗ جس نے تمہیں یہاں کا رستہ دِکھایا ہے۔۔۔۔ سائیں شاہ صاحب جس نے مجھے آپکے پاس بھیجا ہے۔ اُس نے ۲ بات کہی تھی۔ نمبر ۱ کہ،، آپ اتنی آسانی سے علاج کیلئے راضی نہیں ہُونگے اور نمبر۲ میرا نام نہیں لینا۔ ورنہ سائیں مجھ پر خفا ہُوجائیں گے۔

کامل سُوچنے لگا ۔ضرور کسی نے  میرے ساتھ گھٹیامذاق کیا ہے ۔ کامل کو جان چھڑانے کی ایک  ہی تدبیر سُجھائی دی۔ کامل نے جیب سے ایک سادہ کاغذ نکالا۔ اُور اُس کاغذ پر چند اُلٹی سیدھی لکیریں بناکر وُہ کاغذ اُس دیہاتی کے حوالے کرتے ہُوئے کہا۔۔۔ دیکھو بھائی میں نے یہ تعویز  تمہارے کہنے پرلکھ دیا ہے۔ اِس کاغذ کو پانی کی بوتل میں ڈال کر ہلانا۔ اُور اس پانی کو اپنی بیوی اُور بچے کو پلانا۔ اگر اللہ چاہے گا۔تو  ماں کے پستان میں بچہ کیلئے دودھ آجائے گا۔ اُور تمہارا مسئلہ حل ہُوجائے گا۔ورنہ میں پہلے ہی بتا چُکا ہُوں کہ،، مجھے دَم پھونک نہیں آتی۔۔۔۔ وُہ دیہاتی اُس کاغذ کے ٹکڑے کو آنکھوں سے  لگا کر کامل کو ڈھیروں دُعائیں دیتا ہُوا ۔ روانہ ہُوگیا۔۔۔۔۔

دُو یا تین دِن ہی گُزرے ہُوں گے۔ کہ،، وہی دیہاتی شخص چار پانچ لوگوں کیساتھ کامل کے گیٹ پر پھر سے موجود تھا۔ کامل کی جونہی اِن لوگوں پر نظر پڑی۔ اُس کے دِل میں پہلا خیال یہی آیا۔ کہ،، خدانخواستہ زچہ یا بچے کو کوئی نقصان پُہنچ گیا ہے۔ جسکا بدلہ لینے کیلئے وُہ دیہاتی ہجوم کیساتھ آیا ہے۔  لیکن تمام لوگ انتہائی پرامن تھے۔ اُور اُنکے ہاتھ میں کوئی لاٹھی ڈنڈا بھی نہیں تھا۔ کامل علی ہمت جمع کرکے آگے بڑھا تو اُن دیہاتیوں نے کچھ گلاب کے ہار کامل کو پہناتے ہُوئے کامل کے ہاتھوں کو بوسہ دینا شروع کردیا۔ اُور وُہ دیہاتی جو پہلے کاغذ لیکر گیا تھا۔ لوگوں کو بڑی عقیدت سے بتا رہا تھا۔ کہ یہی وُہ سائیں ہیں۔جنکے تعویز کی برکت سے بچے کیلئے ماں کے سینے میں دودھ اُتر آیا ہے۔ وُہ دیہاتی ساتھ میں ایک بکری کا  چھیلا تحفے میں دینے کیلئے لایا تھا۔ کامل خود حیران تھا۔کہ،، یہ کیا عجیب ماجرا ہُوگیا۔ میں نے تو ٹالنے کیلئے کاغذ پر چند  ٹیڑھی ترچھی لکیریں بنائی تھیں۔ بھلا اُن لکیروں سے کسی کو کیا فائدہ حاصل ہُوسکتا ہے۔ جب جاناں  نے بکری کا بچہ دیکھا تو وُہ ایسے خوشی سے اُس چھلیے سے لاڈ کرنے لگی ۔جیسے وُہ خود کوئی چھوٹی سی بچی ہُو۔  کامل نے تمام واقعہ جب جاناں کو سُنایا تو۔ جاناں نے  فقط اتنا کہا۔ میں نے سُنا ہے۔جب اللہ کریم کسی سے کوئی کام لینا چاہتا ہے۔ تو وُہ کام اپنے اُس بندے کو سِکھادیتا ہے۔یا اُس کام کی محبت اسکے دل میں ڈال دیتا ہے۔ اگر آپ کے دم کرنے سے کسی کا بھلا ہوجاتا ہے۔ تو آپ کردیا کریں نا دَم ! ویسے بھی کسی کو پھونک مارنے میں ٹائم  ہی کتنالگتا ہے۔

اِس واقعہ کے بعد تو یُوں محسوس ہُونے لگا۔ جیسے کسی ہار کا تاگا ٹوٹ گیا ہُو۔ اُور جسطرح ایک موتی کے پیچھے پیچھے دوسرے موتی چلے آتے ہیں۔ ہر شام کوئی نہ کوئی کامل کے گھر اپنے بچوں کو دَم کروانے کیلئے کھڑا نظر آتا۔ کامل علی چونکہ کسی سے کوئی رقم طلب نہیں کرتا تھا۔ اس لئے اب علاج کیلئے کراچی کے ایک کونے سے لیکر دوسرے کونے تک کامل کی خوب پبلسٹی ہُورہی تھی۔۔۔ دِن کے اوقات میں کامل علی پراپرٹی آفس چلا جاتا۔جہاں سے ایک معقول آمدنی اُسے حاصل  ہُورہی تھی۔۔۔ اُور عصر تا مغرب دم  دَرُود کا معاملہ بھی ہفتے میں تین دِن جاری تھا۔ تمام معملات بخیر و خوبی چل رہے تھے۔ کہ ،، ایکدن آفس میں کامل کو جاناں کی کال موصول ہُوئی ۔ اُور جاناں نے کامل کو بتایا کہ،، ہمارے گھر ہماری پڑوسن آئی ہُوئی ہے۔ جسکی سولہ سالہ بیٹی پر جنات کا اثر ہے۔ بیچارے شہر بہ شہر بچی کو لئے پھر رہے ہیں۔آج انہیں کسی نے آپ کے متعلق بتایا۔ تو بیچاری بچی کو لیکر ہمارے گھر آگئی ہیں۔۔۔۔ آپ ایسا کریں فوراً گھر آجائیں۔اُور اِس بچی کا جن اُتار دیں۔ اتنا کہہ کر جاناں کی شائد بیٹری جواب دے گئی تھی۔

کامل جاناں کی اِس حرکت پر بِھنَّا کر رِہ گیا۔۔۔۔ بات صرف دَم کی ہُوتی تو کوئی مسئلہ نہیں تھا۔۔۔لیکن  دَم کرنا کچھ اُور بات تھی۔ اُور جنات سے مقابلہ کرنا کچھ اُور بات تھی۔پھر جنات بھی ایسے کہ،، جو شہر بہ شہر کے عاملوں کے قبضے نہیں آرہے ہُوں۔اب ابو شامل تو موجود نہیں تھا۔ جو جنات کی پھینٹی لگا کر اُنہیں بھاگنے پر مجبور کردیتا۔  کامل آفس سے گھر کیلئے نکل تو گیا تھا۔لیکن اُسے جاناں پر سخت غصہ آرہا تھا۔ جس نے بےوقوفی کی انتہا کردی تھی۔ بندہ کم از کم پوچھ ہی لیتا ہے۔کہ،، علاج کرنا ہے یا نہیں۔یا کیا آپ جنات کا علاج کرسکتے ہیں یا نہیں۔ یہاں تو اس خُدا کی بندی نے نا صرف پڑوسن کو دعوت دے ڈالی تھی بلکہ اُسے یقین بھی دلایا تھا۔ کہ جنات کی اب خیر نہیں۔ حالانکہ کامل کو اپنی خیر خطرے میں دکھائی دے رہی تھی۔ وُہ دِل ہی دِل میں ،، یا لجپال بیڑہ کردے پار،، کی صدائیں لگاتا چلا جارہا تھا۔ کہ،، کسی صدا دینے والے نے صدا دی۔  لجپال کو پکارا ہے۔ ہے تو جا ! دَم دستگیر تیری حفاظت کریں گے۔

(جاری ہے)

اُسکا کہنا ہے۔ کِسی اُور کو دیکھوں نہ کبھی
کیوں کہ اُسکو یہ میرا رُوپ بُرا لگتا ہے۔

مجھکو ہر چہرے میں آتاہے نظر اِک وُہ ہی
جُو نہ بھر پائے یہ بہروُپ !!!  ۔بُرا لگتا ہے۔



Saturday, 20 June 2015

عامل کامل ابو شامل (خاب در خاب) قسط 51.AKAS


گُذشتہ سے پیوستہ۔

غصے اُور بے بسی کے احساس نے اگرچہ کامل سے سُوچنے سمجھنے کی صلاحیت چھین لی تھی۔لیکن تھکن کا احساس کامل کو نیند کی وادیوں میں لیجانے  کیلئے اصرار کررہا تھا۔۔۔۔۔صبح سورج کی کرنیں نمودار ہُونے سے قبل کامل کی آنکھ کھل گئی تھی۔ جاناں نجانے کب کی چھت سے نیچے جاچُکی تھی۔ وضو کرتے ہُوئے کامل کو احساس ہُواکہ،، ٹنکی میں پانی  بھی بُہت کم باقی بچا ہے۔ اگر آج بھی بجلی بحال نہ ہُوسکی تو گھر میں پینے کیلئے بھی پانی میسر نہیں ہُوگا۔ وقت کی کمی کی وجہ سے فجر کامل نے گھر پر ہی ادا کی۔ دُعا کے دوران وُہ بڑی عاجزی سے اللہ کریم سے آسانی کا سوال طلب کرنے میں مشغول تھا۔کہ،، اچانک اُسے رات کا خواب یادآیا۔جس میں مولوی رمضان سے مُلاقات کے دوران مولوی صاحب اُسے دہلی جانے کی ہدایت کرتے ہیں۔ کافی دیر تک کامل اِس گتھی کو سلجھانے کی کوشش کرتا رہا۔لیکن کوئی سِرا کامل کے ہاتھ نہیں آرہا تھا۔۔۔۔ پھر اچانک اُسے لگا کہ،، شائد مولوی رمضان  صاحب نے جو دہلی جانے کا اِشارہ دیا تھا۔کہیں وُہ وجاہت دہلوی سے رابطہ کا تو اِشارہ نہیں تھا۔۔۔ہاں شائد مولوی صاحب یہی کہنا چاہتے تھے۔ کامل نے بُڑبڑاتے ہُوئے خُود کو تسلی دی۔۔۔۔ لیکن اتنی صبح وجاہت کو اُٹھانا مناسب نہیں ہُوگا۔ وُہ کہاں گیارہ بجے سے پہلے اُٹھتا ہُوگا؟۔۔ کامل سُوچوں کے دھارے میں گُم تھا۔کہ،، کمرے سے موبائیل کی آنے والی بیل نے اُسکے خیالات کو منتشر کردیا۔

اب مزید پڑھ لیجئے۔

کامل نے موبائیل کی اسکرین پر وجاہت دہلوی کا نام پڑھا۔ تو حیرت اُور خوشی کی ملی جُلی کیفیت سے کال ریسیو کرتے ہُوئے کہا، السلام علیکم وجاہت صاحب کیسے ہیں؟ کتنا عجب حسین اتفاق ہے۔کہ،، میں آپکو کال کرنا چاہ رَہا تھا۔ اُور آپکی کال موصول ہُوگئی۔۔۔۔ وعلیکم السلام حضور والا!  یہ تو میری خُوش نصیبی ہے۔ کہ،، آپکو میری یاد آئی!! دراصل میں نے آج ایک عجیب و غریب خاب دیکھا ہے۔ جسکی وجہ سے کچھ پریشان سا ہُوگیا تھا۔ اُور پھرمیں نے بے اختیار ہُوکر آپکو کال مِلادی ۔۔۔ کیسا خواب دیکھا ہے وجاہت صاحب آپ نے۔ جس نے آپکو اتنی صبح اُٹھنے پر مجبور کردیا،؟۔۔۔۔۔ حضور والا میں نے دیکھا کہ،، میں ایک بہت بڑی کشتی پر سوار ہُوں۔ کشتی میں  تاجر بھی ہیں، کچھ صوفی ٹائپ کے لُوگ ہیں۔ جبکہ کچھ عالم بھی موجود ہیں۔پھر میری نگاہ آپ جناب پر پڑتی ہے۔تو میں دیکھتا ہُوں کہ،، آپ کشتی کی مُنڈیر پر جابیٹھتے ہیں۔۔۔ پھر ہماری کشتی سمندر کے ایک ایسے حصے سے گُزرتی ہے۔ جہاں مگرمچھوں کی بہتات ہُوتی ہے۔ اور یہ تمام مگرمچھ یکایک ہماری کشتی پر حملہ کردیتے ہیں۔ اِس حملے سے کشتی ڈولنے لگتی ہے۔


لیکن کشتی کی اُونچی دیواروں کی وجہ تمام لُوگ محفوظ رہتے ہیں۔ لیکن کشتی کے ہچکولے کھانے کی وجہ سے ایک خدشہ پیدا ہوتا ہے۔کہ،، کہیں آپ اُس منڈیر سے سمندر میں  گر کر مگرمچھوں کا نوالہ نہ بن جائیں۔ اسلئے  علماٗ کے گروہ سے کچھ علماٗ  آپکو سمجھانے آتے ہیں۔ لیکن آپ اُنہیں دلیل دیتے ہیں۔ کہ،، اگر آج میری موت واقع ہونا لکھی ہے۔ تو میں کشتی کے وسط میں بھی ہلاک ہُوجاوٗنگا۔ وگرنہ مجھے  کشتی کی منڈیر   پر بھی مگرمچھوں سے  کوئی خطرہ نہیں۔ وُہ عالم آپکی دلیل سُن کر آپکو چھوڑ کر واپس چلے جاتے ہیں۔۔۔۔۔ پھر جماعت صوفیا میں سے تاجروں کے درمیان سے مجھے طلب کیاجاتا ہے۔ اُور مجھے کہا جاتا ہے۔کہ،، میں نہایت نرمی سے آپکو عرشے سے اُتارلاوٗں۔پہلے میں سُوچتا ہُوں۔ کہ،، جب آپ نے صاحبان علم کی بات نہیں مانی۔ تو حضور میری بات کیونکر سُنیں گے۔ ۔۔ اُور آخر یہ صوفی خود جاکر آپکو کیوں نہیں سمجھاتے۔لیکن میں صوفیا کے کہنے پر آپکی خدمت میں حاضر ہوتا ہُوں ۔تو آپ مہربانی فرماتے ہُوئے میری بات مان لیتے ہیں۔ اُور کشتی کی منڈیر سے صوفیا کے درمیان چلے آتے ہیں۔حضور والا یہ تھا میرا خواب جس نے مجھے بےچین کرڈالا۔ اب میں اسکی تعبیر جاننے کیلئے بےچین ہُوں۔ اگر آپ مہربانی فرمائیں۔

وجاہت بھائی اِس خاب میں  کچھ اشارے ہیں۔ جنہیں بیان کئے دیتا ہُوں۔ باقی علم اللہ کریم کو ہے وہی بہتر جاننے والا ہے۔۔۔۔ جیسے سمندر بمثل کائنات ہے۔ اور کشتی  کی مثال ہماری دنیا ہُوسکتی ہے۔ مگرمچھ اس دنیا کی مشکلات اور مصائب ہیں۔ علما کی باتیں دلیل ہیں ۔ جبکہ  صوفیا کا طریقہ  حکمت ہے۔ اور میرا منڈیر پر بیٹھنا دُنیا کی مشکلات میں گرفتار ہونا ہے۔ جو تمہاری وجہ سے آسان ہُوسکتی ہیں۔۔۔جناب والا اب آپ حکم کریں۔کہ،، کیوں مجھے یاد فرمایا تھا۔ اے کاش حضور والا میں آپ کے کسی کام آسکوں تو  یہ میرے لئے خوش نصیبی ہُوگی۔۔۔۔ کامل علی نے مختصرا ً بتایا کہ،، گذشتہ  ۲ دن  سے گھر کی بجلی منقطع ہے۔ اُور اُسے کام کی تلاش ہے اگر وجاہت  کیلئے ممکن ہُو تویہ مسئلہ حل کردے۔ جواب میں وجاہت دہلوی نے گھر کا ایڈریس معلوم کیا۔ صرف ۲۰ منٹ بعد کامل کے گھر کا کنکشن بحال کیا جاچکا تھا۔ اُور ۲ گھنٹے بعد جب وجاہت دہلوی تحائف اُور پھلوں سے لدا پھندا کامل کے  گھر میں داخل ہُورہا تھا۔ تو ایس پی رفیع دُرانی بھی شرمندہ شرمندہ سا دکھائی دے رہا تھا۔

گھر میں چونکہ کچھ بھی سامان موجود نہیں تھا۔اسلئے جاناں نے مہمانوں کی تواضع اُنہی کے  لائے سامان سے کردی۔  وجاہت دہلوی نے گفتگو کا آغاز کرتے ہُوئے عرض کیا۔ حضور والا میں آپکی روحانی قوت سے غافل نہیں ہُوں۔ اگر آپ اشارہ فرمادیں۔ تو دنیا کی دُولت کے ڈھیڑ آپکے قدموں  میں موجود ہُوجائے۔ لیکن آپ ہی بہتر جانتے ہُوں گے۔ کہ،، بادشاہ ہُوتے ہوئے آپ نے غلامی والی زندگی کیوں پسند فرمائی ہے۔ حضور والا آپ نے فون پر ارشاد فرمایا تھا۔کہ،، آپ ملازمت کرنا چاہتے ہیں۔ ۔۔۔ حضور والا میری کنسٹریکشن فرم بھی آپ ہی کی فرم ہے۔ میری جانب سے اُسکی ملکیت قبول فرمائیں۔۔۔۔۔۔ نہیں وجاہت دہلوی ہمیں کوئی فرم نہیں چاہیئے۔ بس  میں چاہتا ہُوں کہ،، کوئی ایسا معقول کام حاصل ہوجائے۔ جس سے گھر کے اخراجات باآسانی پورے ہوجائیں۔

کامل نے بات کو واضح کرتے ہُوئے وجاہت کو سمجھایا۔۔۔۔ کافی بحث و تکرار کے بعد وجاہت دہلوی پر ایک با ت بالکل صاف ہُوچکی تھی۔ کہ کامل  علی کوئی احسان لینے کے بجائے کوئی باعزت رُوزگار حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ آخر کار وجاہت دہلوی کامل کو پراپرٹی ڈیلر میں شراکت کیلئے راضی کرنے میں کامیاب ہُوگیا تھا۔۔۔۔ رفیع دُدرانی نے بتایا کہ،، گڑیا بالکل ٹھیک ہُوچکی ہے۔ اُور آجکل ایگزام کی بھرپور تیاری میں مصروف ہے۔۔۔۔  رفیع درانی  جاتے ہُوئےکراچی کی مشہور مٹھائی کا پیکٹ کامل کے حوالے  کرگئے تھے۔  رفیع کے جانے کے بعد جب کامل نے مٹھائی کا ڈبہ کھولا تو اُسکی ہنسی نکل گئی۔ رفیع دُرانی نے ثابت کردیا تھا۔کہ،، وُہ بھی آخر پولیس والا ہے۔ مٹھائی کے ڈبے میں ایک لفافہ موجود تھا۔ جس میں دولاکھ کی رقم کیساتھ ایک معذرت نامہ  بھی موجود تھا۔ جس  پر لکھا تھا کہ،، بخُدا   یہ رقم حلال ذرایع  سے حاصل کی گئی ہے۔ کامل علی یہ جملہ پڑھ کر کافی دیر تک مُسکراتا رہا۔


وجاہت دہلوی کی مدد سے کامل علی  نے پراپرٹی آفس جانا شروع کردیا تھا۔ وجاہت نے آفس میں بُہت ذمہ دار اسٹاف متعین کیا تھا۔ جس نے تھوڑے ہی دنوں میں  اپنا کام کافی حد تک پھیلا کر ادارے کے منافع میں اچھا خاصہ اضافہ کردیا تھا۔ تمام اسٹاف کے لوگ ہی اپنے کام سے  محبت کرنے والے تھے۔ اگر کبھی کبھار انویسٹمنٹ کی ضرورت پیش آجاتی۔ تو۔ وجاہت دہلوی خوش دِلی کے ساتھ مطلوبہ رقم مُہیا کردیا کرتا۔ وقت گُزرتا رہا۔ اُور رفتہ رفتہ کامل علی ماضی کی زندگی بھولتا جارہا تھا۔ اب اُسے نہ ابوشامل کی یاد ستاتی اُور نہ نرگس کی۔۔۔ جاناں کی محبت نے کامل کو نرگس  کے سراب سے اپنا قیدی بنالیا تھا۔ وقت بُہت آہستگی سے  سرکتا چلاجاہا تھا کہ،،چند ماہ بعد ایک صبح   عجیب واقعہ پیش آگیا۔ کامل آفس جانے کیلئے گھر سے نکلا۔ تو دروازے پر اِک دیہاتی نے کامل کو گھیر لیا۔ سائیں آپ کامل شاہ قادری ہیں نا؟۔۔۔ نام تو میرا ہی کامل ہے۔ لیکن آپکو مجھ سے کیا کام ہے۔ کیا کوئی مکان کرایہ پر چاہیئے؟ کامل نے دیہاتی کے حلیہ پر نگاہ ڈالنے کے بعد اندازہ لگایا۔۔۔ نہیں شاہ صاحب مجھے  مکان نہیں چاہیئے ۔! سائیں مکان  مُوں وٹ آھیی ۔ میرے گھر والی کو بچہ ہوا ہے سائیں بدین میں۔ لیکن سات دن سے بچہ نے ماں کا دودھ نہیں پیا۔ ابھی ڈاکٹر بولتے ہیں کہ،، ہسپتال میں جگہ نہیں اے۔ اُور بھوکا پیاسہ بچہ سائیں کتنے دن جیئے گا۔کسی نے آپکا پتہ بتایا اے سائیں۔۔۔ تو ہم بدین سے آپکی زیارت کیلئے آیا ہُوں۔۔۔۔۔ لیکن بھائی میں دم پھونک کا کام نہیں جانتا آپکو کسی نے غلط پتہ بتایا ہے۔

کامل آدھے گھنٹے بعد واپس گھر سے باہر نکلا۔۔۔ تب بھی وُہ دیہاتی گھر کے دروازے سے لگا کھڑا تھا۔

(جاری ہے)

اُسکا کہنا ہے۔ کِسی اُور کو دیکھوں نہ کبھی
کیوں کہ اُسکو یہ میرا رُوپ بُرا لگتا ہے۔

مجھکو ہر چہرے میں آتاہے نظر اِک وُہ ہی
جُو نہ بھر پائے یہ بہروُپ !!!  ۔بُرا لگتا ہے۔

  

Thursday, 18 June 2015

عامل کامل ابوشامل (بے بسی) قسط 50.akas




گُذشتہ سے پیوستہ۔

فرنانڈس کا بھائی ڈیوڈ آجکل شکار کھیلنے کیلئے کراچی آیا ہُوا ہے۔ ۔۔اُسی نے تیری جورو کے بدن کو توڑ مروڑ کر رکھ دیا ہے۔۔۔ اُور ڈیوڈ کے زہر کا تریاق اِن بیچارے ڈاکٹروں کے پاس کہاں سے آئے گا۔۔۔ اتنا کہہ کر سلطان تبریزی  زُور زُور سےقہقہے لگانے لگا۔۔۔ حضور اِن ڈاکٹروں کے پاس تریاق ہُو نہ ہُو۔آپ کے پاس تو ہر موذی کے کاٹے کا منتر ضرور ہُوگا۔ پھر آپ ہی کچھ مہربانی فرمادیں۔۔۔کامل نے التجائیہ لہجے میں درخواست کی۔۔۔ شفا دَوا میں نہیں ہُوتی بچے عطا میں ہُوتی ہے۔ مہربانی بھی وہی فرماتا ہے۔ہم تو مزدور لوگ ہیں۔ دوا کو ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچاتے ہیں صرف!!!  ایسا کر  فوراً اپنی جورو کو  سمندر کنارے غازی کے دربار پر لیجا۔اُور صبح ہونے تک  ہرگز احاطے سے باہر نکلنے کی کوشش نہیں کرنا۔ جب تک اِس ڈیوڈ سے ہم نپٹ لیں گے۔  سلطان تبریزی نے اتنی آہستگی سے کامل کے کان میں سرگوشی کی۔ جیسے  ذرا بھی تیز آوازہُوئی تو کوئی دوسرا  سُن لےگا۔

اب مزید پڑھ لیجئے۔
کامل علی نے ڈاکٹر کی تجویز کردہ ،ادویات کا پرچہ جیب میں رکھا۔ اُور ایک لمحے کی تاخیر کے بغیر ساحل سمندر پر موجود حضرت عبداللہ شاہ غازی (رحمتہ اللہ علیہ) کے مزار کی جانب روانہ ہُوگیا۔تمام راستے میں کامل کو یُوں محسوس ہُوتا رہا۔جیسے کوئی نادیدہ قوت اُسے روکنے کی بھرپور کوشش میں مصروف ہے۔ یہاں تک کہ،، کامل کو اپنے کاندھے بھی بےجان محسوس ہُونے لگے تھے۔جسکی وجہ سے ڈرائیونگ کرتے ہُوئے کامل کو یہی خدشہ رہا۔کہ،، کسی بھی وقت کار کو حادثہ پیش آسکتا ہے۔ لیکن نجانے وُہ کونسی طاقت تھی۔ جو خُوف کی اِس گھڑی میں بھی  دِل کو باربار یہی دلاسہ دے رہی تھی۔کہ،، گھبراوٗ مت  گاڑی چلانا تمہاری ذمہ داری ہے۔اُور اِسے منزل مقصود تک پُہنچانا ہماری!!!۔۔ اللہ اللہ کرتے  ہُوئے بلاآخر کامل کار کو  احاطہ حضرت عبداللہ شاہ غازی (رحمتہ اللہ علیہ) میں پُہنچانے میں کامیاب ہُو ہی گیا تھا۔ احاطے میں داخل ہونے کے تھوڑی ہی دیر بعد جاناں کی طبیعت میں بحالی آنے لگی تھی۔

 وہی جاناں جو ایک  گھنٹے قبل موت کی دہلیز پر کھڑی نظر آرہی تھی۔ بُہت پرسکون انداز میں پھول خرید رہی تھی۔ کامل کو اپنا بدن بھی بُہت ہلکا پھلکا  محسوس ہُورہا تھا۔۔۔جاناں نے حاضری کے وقت تمام جسم اُور چہرے کو اپنی  بڑی سی چادر میں نہایت ادب سے ڈھانپ لیا تھا۔ حاضری کے بعد جب جاناں خواتین کے حصے میں بیٹھ کر قران خوانی کرنے لگی۔ تو کامل بھی تسبیح سنبھالے واپس احاطہ مزار میں داخل ہُوگیا۔  تسبیح پڑھتے ہُوئے کامل کو اُونگھ آگئی ۔ پھر اُسے یوں محسوس ہُوا۔جیسے اُسکی جھولی میں کوئی چیز آن گری ہُو۔ کامل نے آنکھیں کھولیں تو ۲ تازہ گلاب کے پھول اُسکے دامن کو مہکارہے تھے۔ کامل نے ادب سے اُن پھولوں کو آنکھوں سے بوسہ دینے کے بعد جیب میں رکھ لیا۔۔۔فجر کی نماز کی ادائیگی کے بعد کامل   ماحول کا جائزہ لینے کیلئے سیڑھیاں اُتر کر نیچے کی  جانب آرہا تھا۔ جبکہ جاناں  پہلے ہی نیچے پُہنچ چکی تھی۔

ابھی کامل نے نصف سیڑھیاں ہی طے کی ہُونگی۔کہ،، ایک ملنگ نے کامل کر راستہ رُوک کر سرگوشی کرتے ہُوئے کہا،،  آسمان کُھل چکا ہے۔ سیاہ بادل چاندکی رُوشنی سے شکست کھا کر  اِدہر اُدہر چَھٹ چُکے ہیں۔ اسلئے اب بے فکر ہُوکر واپس گھر جاسکتے ہُو۔۔۔۔کامل کے دِل میں خیال گُزرا،  کیا یہ ملنگ سلطان تبریزی کا بندہ ہے؟ ۔یا  ۔کامل کو مزار کے احاطے سے باہر نکالنے کیلئے یہ ڈیوڈ کی کوئی چال ہے۔؟؟؟ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہر کسی پر شک کرنا اچھی بات نہیں ہوتی!!!۔ ہم فقیروں کے غلام ہیں۔ اُس خبیث  سے ہمارا کوئی تعلق نہیں ہے۔۔۔ ویسے بھی ۲ پھولوں کی صورت میں جو ہتھیار تمہارے پاس  ہیں۔ اُنکی موجودگی میں کوئی بدبخت تمہارے قریب پھٹک بھی نہیں سکتا۔یہ کہتے ہُوئے وُہ ملنگ اُوپر کی جانب چڑھنے لگا۔۔۔۔۔اُور کامل مطمئین ہوکر نیچے اترنے کے بعد جاناں کیساتھ گاڑی میں بیٹھ کر گھر کی جانب روانہ ہُوگیا۔

اِس واقعہ کے بعدچند ماہ تو بُہت پرسکون گُزر گئے۔لیکن اب ایک نیا مسئلہ کامل کو درپیش تھا۔کہ،، ابوشامل کی دی ہُوئی تمام رقم دھیرے دھیرے خرچ ہُوچکی تھی۔ اُور اب کامل کی جیب میں اتنی رقم بھی موجود نہیں تھی۔کہ،، وُہ یوٹیلٹی  بلز بھی ادا کرسکے۔اِسی کشمکش میں پندرہ دِن مزید گُزر گئے۔ اور ایکدن اچانک  بل نہ بھرنے کی وجہ سے کامل کے گھر کی بجلی منقطع کردی گئی۔۔۔بجلی کٹ جانے کے بعد چوبیس گھنٹے بھی نہیں گُزرے تھے۔ مگر جاناں اور کامل کو یُوں محسوس ہُورہا تھا۔جیسے  وُہ دونوں صدیوں سے کسی قید خانے میں بند ہُوں۔۔۔۔ جاناں نے پریشان ہُو کر کامل سے شکوہ کیا۔ آخر آپ  بل بھر کر بجلی کا کنکشن کیوں بحال نہیں کروالیتے؟۔۔۔دراصل وُہ ابو شامل یہاں موجود نہیں ہے نا!  اور رقم کا حساب کتاب اُسی کے پاس ہُوتا ہے۔ کامل نے بات بناتے ہُوئے کہا۔۔۔۔۔ مطلب آپ  اپنی تمام زندگی ابو شامل بھائی کے اشاروں پر گُزاریں گے۔اُور اگر وُہ ایک سال تک واپس نہیں آئیں گے۔تو ہم ایک سال اندھیرے میں گُزاریں گے۔ اور اگر کل کو گھر کا راشن ختم ہُوگیا۔ تو کیا پڑوسیوں سے بھیک مانگ کر کھائیں گے۔ جاناں کے لہجے میں ناچاہتے ہُوئے بھی درشتگی دَر آئی تھی۔ ۔۔۔۔۔۔ ایسا کچھ نہیں ہے۔ تُم  خُومخواہ بات کا بتنگڑ مت بناوٗ ۔ میں جلد کوئی انتظام کرلوں گا۔ کامل نے جان چھڑانے والے انداز میں جواب دیا۔

دوسرا دِن بھی  یونہی بیت گیا۔لیکن کامل کو کوئی تدبیر سجھائی نہیں دی۔کہ،، جس کے ذریعے کوئی معقول آمدنی حاصل ہُوسکے۔۔۔  رات کی سیاہی میں چھت کے ننگے فرش پر کامل لیٹا ہُوا سُوچ رہا تھا۔کہ،،جاناں کا کہنا بھی بجا تھا۔وُ ہ بیچاری   میرے نکمے پن کی وجہ سے آج پریشانیوں میں گرفتار ہے۔کاش میں نے ابو شامل پر تکیہ کرنے کے بجائے کوئی کام دھندا کرلیا ہُوتا۔تو آج اچانک یہ دن نہیں دیکھنا پڑتا۔۔۔ نجانے میرے  ہی مقدر میں یہ سب کچھ کیوں ہے؟  بچپن میں باپ مرگیا۔تو جوانی کی دہلیز پر قدم رکھنے سے پہلے ماں چل بسی۔ نرگس کو دِل میں بسایا تو اُسکے گھر والے دیوار بن گئے۔۔۔۔ اُور اب ایک ہی دوست  بچاتھا ابوشامل، وُہ بھی زمانے کی بھیڑ میں نجانے کہاں کھوگیا  ہے۔  کامل نے بُڑبڑاتے ہُوئے زمین پر کئی بار غصے میں  اپنی ہتھیلی ماری۔ جسکی وجہ سے ہاتھ سے  خون کی ایک باریک لکیر جاری ہُوگئی۔ لیکن کامل کا  غصہ تھمنے کے بجائے مسلسل بڑھتا ہی چلا جارہا تھا۔

غصے اُور بے بسی کے احساس نے اگرچہ کامل سے سُوچنے سمجھنے کی صلاحیت چھین لی تھی۔لیکن تھکن کا احساس کامل کو نیند کی وادیوں میں لیجانے  کیلئے اصرار کررہا تھا۔۔۔۔۔صبح سورج کی کرنیں نمودار ہُونے سے قبل کامل کی آنکھ کھل گئی تھی۔ جاناں نجانے کب کی چھت سے نیچے جاچُکی تھی۔ وضو کرتے ہُوئے کامل کو احساس ہُواکہ،، ٹنکی میں پانی  بھی بُہت کم باقی بچا ہے۔ اگر آج بھی بجلی بحال نہ ہُوسکی تو گھر میں پینے کیلئے بھی پانی میسر نہیں ہُوگا۔ وقت کی کمی کی وجہ سے فجر کامل نے گھر پر ہی ادا کی۔ دُعا کے دوران وُہ بڑی عاجزی سے اللہ کریم سے آسانی کا سوال طلب کرنے میں مشغول تھا۔کہ،، اچانک اُسے رات کا خواب یادآیا۔جس میں مولوی رمضان سے مُلاقات کے دوران مولوی صاحب اُسے دہلی جانے کی ہدایت کرتے ہیں۔ کافی دیر تک کامل اِس گتھی کو سلجھانے کی کوشش کرتا رہا۔لیکن کوئی سِرا کامل کے ہاتھ نہیں آرہا تھا۔۔۔۔ پھر اچانک اُسے لگا کہ،، شائد مولوی رمضان  صاحب نے جو دہلی جانے کا اِشارہ دیا تھا۔کہیں وُہ وجاہت دہلوی سے رابطہ کا تو اِشارہ نہیں تھا۔۔۔ہاں شائد مولوی صاحب یہی کہنا چاہتے تھے۔ کامل نے بُڑبڑاتے ہُوئے خُود کو تسلی دی۔۔۔۔ لیکن اتنی صبح وجاہت کو اُٹھانا مناسب نہیں ہُوگا۔ وُہ کہاں گیارہ بجے سے پہلے اُٹھتا ہُوگا؟۔۔ کامل سُوچوں کے دھارے میں گُم تھا۔کہ،، کمرے سے موبائیل کی آنے والی بیل نے اُسکے خیالات کو منتشر کردیا۔

(جاری ہے)

اُسکا کہنا ہے۔ کِسی اُور کو دیکھوں نہ کبھی
کیوں کہ اُسکو یہ میرا رُوپ بُرا لگتا ہے۔

مجھکو ہر چہرے میں آتاہے نظر اِک وُہ ہی
جُو نہ بھر پائے یہ بہروُپ !!!  ۔بُرا لگتا ہے۔



Tuesday, 16 June 2015

عامل کامل ابو شامل (ڈیوڈ کی آمد) قسط 49.akas



گُذشتہ سے پیوستہ۔

آپ ابوشامل کو لیجارہے ہیں تو میں یہاں رِہ کر کیا کروں گا۔آپ مجھے بھی اپنے ساتھ لےچلیں تاکہ،، میں بھی اِس تکلیف کی حالت میں اُسکی کچھ خدمت کرسکوں۔کامل نے روہانسے لہجے میں استدعا کرتے ہُوئے کہا۔کامل میں آپکو وہاں ساتھ نہیں لیجاسکتا۔ کیونکہ ہماری  دُنیا کا کم از کم درجہ حرارت ۸۰۰ سینٹی گریڈ ہے۔جو کہ آپکی دُنیا کے مقابلے میں بیس گُنا ذیادہ ہے۔آپ وہاں چند لمحے بھی زندہ نہیں رِہ پائیں گے۔۔۔۔ لیکن وہاں نرگس کو بھی تو رکھاگیا تھا نا۔کامل نے اچانک سوال کرڈالا۔۔۔۔نہیں کامل آپ سے کس نے کہا۔کہ،، نرگس کو ہماری دُنیا میں منتقل کیا گیا تھا۔حالانکہ نرگس کا علاج میں نے اِسی دُنیا کے ایک گمنام جزیرے پر کیا تھا۔ جسے تم ذیادہ سے ذیادہ دُنیا میں ہمارا دوسرا گھر کہہ سکتے ہُو۔ اُور ہاں نرگس کے ذکر سے یاد آیا کہ،، میں نے یہاں آنے سے قبل نرگس کو اُسکے حقیقی گھر میں  شفٹ کردیا ہے۔ جبکہ میرے پاس تمہارے لئے  اِس غم کی گھڑی میں ایک خوشخبری بھی موجود ہے۔کہ،، شہزادہ فرنانڈس کل اپنے منطقی انجام کو پُہنچ کر واصل جہنم ہوچکا ہے۔اسلئے اب اُسکی جانب سے بھی تمہیں کوئی خطرہ لاحق نہیں ہے۔

اب مزید پڑھیئے۔

ابو شامل کے چلے جانے سے کامل علی کی زندگی بُہت پھیکی پھیکی سی ہُوگئی تھی۔ ایک عجیب سی جھلاہٹ اُور چڑچڑے پن نے کامل علی کو بالکل بدل کر رکھ دیا تھا۔ کامل کی اِس تبدئلی کی وجہ سے جاناں الگ پریشان تھی۔ وُہ جب بھی کامل کو سمجھانے کی کوشش کرتی۔ کامل اُس کی بھی بےعزتی کردیتا۔جسکے بعد جاناں نے بھی  کامل کو  اُس کے حال پر چھوڑ دیا تھا۔۔۔  کچھ دِن بعد کامل کو نرگس کی یاد ستانے لگی ۔ تو ایک دِن کامل  گاڑی لیکر نرگس کے  فلیٹ پُہنچ گیا۔ لیکن وُہ فلیٹ  باہر سے لاک تھا۔ کامل نے پڑوس کے فلیٹ کی بیل بجائی۔ تو اندر سے کسی خاتون نے کامل کو بتایا۔کہ،، نرگس باجی تو یہ فلیٹ چھ ماہ قبل چھوڑ کر یہاں سےجاچکی ہیں۔ اُور اب وُہ کہاں رہتیں ہیں۔یہ بھی مجھے نہیں معلوم!خاتون نے اپنی لاعلمی کا مزید اظہار کیا۔۔۔۔ کامل کو حکیم بطلیموس پر غصہ آرہا تھا۔جسے کم از کم یہ تو بتادینا چاہیئے تھا۔کہ،، نرگس کی نئی رہائش کہاں واقع ہے۔۔۔ لیکن پھر کامل خُود ہی بڑبڑانے لگا۔ اُس بیچارے حکیم کو  کہاں معلوم ہُوگا۔کہ،، مجھے نرگس کے گھر کا پتہ معلوم نہیں ہے۔۔۔۔ کامل کو ایکبار پھر ابوشامل کی یاد ستانے لگی۔اگر  ابو شامل  آج میرے ساتھ ہُوتا۔تو ایک ہی جھٹکے میں مجھے نرگس کے گھر پُہنچادیتا۔

نرگس کی گمشدگی کا دُکھ ہی کیا کم تھا۔ کہ،، جاناں نے بھی گذشتہ رات سے پیٹ اُور کمر کے درد سے سارا گھر سر پر اُٹھا لیا تھا۔ کامل شہر کے سب سے مہنگے ہسپتال  میں نرگس کو علاج کیلئے لیکر گیا۔۔۔ لیکن تمام رپورٹس کلیر تھیں۔ جبکہ جاناں کی حالت ایسی تھی۔جیسے کسی اناڑی قصاب نے بکرے کی ادھوری رَگ کاٹ ڈالی ہو۔۔۔ پہلے پہل تو کامل کو یہی لگا۔کہ،، جاناں میری توجہ حاصل کرنے کیلئے یہ سارا ڈرامہ رچا رہی ہے۔ لیکن شام ہُوتے ہُوتے جاناں تکلیف کی شدت سے یُوں کراہنے لگی۔ جیسے اب دَم نکلا کے تب دَم نکلا۔۔۔ آج موبائل پر وجاہت دہلوی کی الگ بار بار کالیں موصول ہُورہی تھیں۔ لیکن کامل نے اِس خدشے کے پیش نظر کال ریسو نہیں کی۔کہ،، وجاہت دہلوی نے اگر پھر کسی روحانی معاملے میں مدد کی استدعا کردی تو  ابوشامل کی غیر موجودگی کی وجہ سے اُسکا تمام پُول کھل کر رِہ جائے گا۔

ابوشامل کے چلے جانے کے بعد سے کامل علی نے باقاعدہ جماعت کیساتھ نماز شروع کردی تھی۔ رات ۹ بجے ایک بڑے ڈاکٹر سے جاناں کیلئے اپائنٹمنٹ حاصل کی گئی تھی۔ اِس لئے کامل نے عشا کی نماز گھر میں ادا کی اُور جاناں کو سہارا دیکر گاڑی میں بٹھا کر ہسپتال روانہ ہُوگیا۔ جس وقت داکٹر جاناں کا چیک اپ کررہا تھا۔ عین اُسی وقت کامل علی کی کار کا  سیکیورٹی سیفٹی الارم بجنے لگا۔ ۔۔ کامل علی نے فرسٹ فلور کی بالکنی سے   جب دیکھا۔کہ کوئی اُسکی کار پر جھکا ہُوا ہے۔ تو وُہ تیز رفتاری سے نیچے  اُترتے ہُوئے گاڑ ی کی جانب بڑھا۔۔۔ گاڑی کے قریب آج پھر سلطان تبریزی کو دیکھ کر کامل کو جھٹکا لگا۔ کیوں کہ اُسے،، ابوشامل نے  ایکباربتایا تھا۔۔۔ سلطان تبریزی کوئی معمولی درویش نہیں ہے۔یہ ریحان شاہ تبریزی کا شاگردِ خاص ہے۔ جسکی ڈیوٹی کراچی میں لگائی گئی ہے۔ یہ چاہیں تو صدر  یا وزیر اعظم کے بُلاوے کو ٹھکرادیں۔اُور چاہیں تو کسی غریب کی کُٹیا پر رُوٹی کا سوال کرتے نظر آجائیں۔۔۔ لیکن انکا کہیں آنا، جانا، کھانا پینا۔ملنا جُلنا،، یہاں تک کہ،، سر سے مکھی اُڑانا  بھی ٖفضول  نہیں ہُوتا۔انکے ہر عمل کے پیچھے کوئی خاص وجہ یا حکمت ضرور پوشیدہ ہُوتی ہے۔

کیوں ٹُوٹ گئی نا تمہاری بیساکھی۔؟ کہاں گیا وُہ جنات کا شہزادہ جسکے اشاروں پر ناچتے ناچتے تُم نے اپنے تمام بال و پر نُوچ ڈالے۔۔۔  اب دیکھ کس کی لڑائی کی سزا  بیچاری ایک عورت ذات بھگت رہی ہے۔۔۔ سلطان تبریزی کی زُبان سے بےربط جملے نکل رہے تھے۔ ۔۔۔سلطان تبریزی بظاہر بادام کے درخت پر بیٹھے ایک کوے سے مخاطب تھا۔لیکن کامل علی جانتا تھا۔ کہ،، اُسکا اصلی مخاطب میرے سِوا کوئی نہیں ہے۔۔۔ اگرچہ سلطان تبریزی کے طنزیہ جملے کامل کی برداشت سے باہر  ہوتے جارہےتھے۔لیکن سلطان تبریزی کا یہ انکشاف کہ،، کسی دوسرے کی  سزا بیچاری عورت بھگت رہی ہے۔ سے صاف ظاہر تھا۔کہ،، وُہ جاناں کی اصل بیماری  اور بیماری کی وجہ جانتا ہے۔

کامل علی اپنی اناوٗں کے بت توڑتے ہُوئے مجذوب سلطان تبریزی کے مقابل ہاتھ جُوڑ کر التجا کرنے لگا۔حضور مجھ غریب میں اتنی سمجھ نہیں ہے۔کہ،، آپکی راز و نیاز والی گفتگو سمجھ سکوں۔ البتہ آپکی پہلی بات کہ،، میں بیساکھی پر چلتے چلتے اپنی چال بھول گیا تھا بالکل ٹھیک ہے۔۔۔ لیکن اِس وقت میری بیوی  زندگی اُور موت کی کشمکش میں گرفتار ہے۔ اُور اسکے سِوا میرا  بھری دُنیا میں کوئی نہیں ہے۔ اگر آپ اُس پر نظر کرم فرمادیں ۔ تو میں آپکا ہمیشہ ممنون رہونگا۔۔۔۔۔۔  کب تک خُود سے جھوٹ بولتا رہے گا۔ناہنجار کہ،، تیرا دُنیا میں کوئی نہیں ہے۔ کوئی تو ہے۔جو تجھ جیسے پاپی کے پاس مجھ جیسے رند کو بار بار بھیج کر اپنی محبت جتانا چاہ رہا ہے۔اُور تُو اتنا احسان فراموش ہے۔کہ،، اُسی پالنہار کو بھولا بیٹھا ہے۔۔۔سلطان تبریزی کے جلال کو  دیکھتے ہُوئے کامل نے خاموشی سے اپنی گردن جھکالی۔

فرنانڈس کا بھائی ڈیوڈ آجکل شکار کھیلنے کیلئے کراچی آیا ہُوا ہے۔ ۔۔اُسی نے تیری جورو کے بدن کو توڑ مروڑ کر رکھ دیا ہے۔۔۔ اُور ڈیوڈ کے زہر کا تریاق اِن بیچارے ڈاکٹروں کے پاس کہاں سے آئے گا۔۔۔ اتنا کہہ کر سلطان تبریزی  زُور زُور سےقہقہے لگانے لگا۔۔۔ حضور اِن ڈاکٹروں کے پاس تریاق ہُو نہ ہُو۔آپ کے پاس تو ہر موذی کے کاٹے کا منتر ضرور ہُوگا۔ پھر آپ ہی کچھ مہربانی فرمادیں۔۔۔کامل نے التجائیہ لہجے میں درخواست کی۔۔۔ شفا دَوا میں نہیں ہُوتی بچے عطا میں ہُوتی ہے۔ مہربانی بھی وہی فرماتا ہے۔ہم تو مزدور لوگ ہیں۔ دوا کو ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچاتے ہیں صرف!!!  ایسا کر  فوراً اپنی جورو کو  سمندر کنارے غازی کے دربار پر لیجا۔اُور صبح ہونے تک  ہرگز احاطے سے باہر نکلنے کی کوشش نہیں کرنا۔ جب تک اِس ڈیوڈ سے ہم نپٹ لیں گے۔  سلطان تبریزی نے اتنی آہستگی سے کامل کے کان میں سرگوشی کی۔ جیسے  ذرا بھی تیز آوازہُوئی تو کوئی دوسرا  سُن لےگا۔

(جاری ہے)

اُسکا کہنا ہے۔ کِسی اُور کو دیکھوں نہ کبھی
کیوں کہ اُسکو یہ میرا رُوپ بُرا لگتا ہے۔

مجھکو ہر چہرے میں آتاہے نظر اِک وُہ ہی
جُو نہ بھر پائے یہ بہروُپ !!!  ۔بُرا لگتا ہے۔


Monday, 15 June 2015

تذکرہ اِک پری کا (سُراغِ زندگی) آخری قسط 33.tipk



گُذشتہ سے پیوستہ

حضرت مکھن شاہ رحمتہ اللہ علیہ کے مزار مبارک پر عمران رُوزانہ باقاعدگی سے جارہا تھا۔لیکن اُسے اُس کے سوالوں کے جوابات نہیں مِل رہے تھے۔ حالانکہ وہاں ملنے والے تمام لُوگ عمران کو یہی بتارہے تھے۔کہ،، صاحب مزار یہاں آنے والوں کو تشنہ نہیں رہنے دیتے۔ ۔۔۔ ایک  شام مغرب کی نماز ادا کرنے کے بعد عمران نے مزار مبارک پر حاضری دی۔ تو تنہائی دیکھ کر عمران سے رہا نہ گیا۔ اُور صاحب مزار  سے فریاد کرنے لگا۔ لُوگ کہتے ہیں۔کہ،، آپ کسی سائل کو نامُراد نہیں کرتے۔ پھر مجھے میرے سوالوں کا جواب کیوں نہیں مِلتا۔ جب کہ،، مجھےآج بھی یہی لگتا ہے۔کہ،، وُہ پیغام آپکی ہی جانب سے تھا۔ نجانے کتنی ہی دیر عمران صاحبِ مزار سے شکوہ کرتا رہا۔لیکن کوئی جواب موصول نہیں ہُوا۔ یہاں تک کے چپلوں کی آہٹ سُن کر عمران اپنے دامن سے آنکھیں پُوچھتے ہُوئے مزار مبارک سے باہر نکل آیا۔

پھر جمعرات کی نصف شب بلاآخر  قسمت عمران پر مہربان ہُوہی گئی۔ اُور عمران کو اُس کے وکیل دوست نے کال کرکے بتایا۔کہ،، حضرت مکھن شاہ رحمتہ اللہ علیہ کے در پر آپ نے کچھ پیغام چھوڑا تھا۔ جس کے جواب میں  ایک پیغام ایک صاحب کشف کو موصول ہُوا ہے۔اُور اُسے ہدایت کی گئی ہے۔کہ،، وُہ یہ پیغام مجھ تک پُہنچائے۔تاکہ میں یہ پیغام تُم تک آسانی سے پُہنچادُوں۔  

اب مزید پڑھ لیجئے۔

حضرت مکھن شاہ رحمتہ اللہ علیہ نے جو پیغام بھیجا تھا۔وُہ کچھ اسطرح تھا۔۔۔ عمران ہمارے مزار پر کئی بار آچکا ہے۔اُور اپنی آخری ملاقات میں وُہ کافی دلبرداشتہ نظر آیا۔ ہمیں عمران پسند ہے۔ اُور اسکی چاہت بھی نہایت عُمدہ ہے۔ لیکن وُہ جس نعمت عظمیٰ کا طالب ہے۔ اُس کو مانگنے کے بعد  انسان کیلئے مانگنے  کو کچھ نہیں بچتا۔ عمران کو کہنا کہ، دِل گرفتہ نہ ہُو۔کہ،، عنقریب اُسے یہ نعمت ( جو کہ تمام نعمتوں میں عظیم تر ہے)عطا کردی جائے گی۔۔۔ ہمیں یہ بھی معلوم ہے۔کہ،، وُہ یہ نعمت  مانگنے  کیلئے  کبھی دربار باھو۔ اُور دربار باھو سے سخی شہباز قلندر تک گیا ہے۔  یہاں تک کہ،، دربار غُوث الاعظم (رضی اللہ عنہُ ) سے مدینہ طیبہ  تک رسائی حاصل کرنے میں کامیاب رہا۔۔۔۔لیکن اپنے حجاب کی وجہ سے اُسے معلوم ہی نہیں ہُوپارہا۔کہ،، کسطرح سرور کائنات (صلی اللہ علیہ وسلم)۔ حضور غوث اعظم رضی اللہ عنہُ۔ سلطان باھو رحمتہ اللہ علیہ اُور سخی لعل شہباز قلندر  نے اُسکو جھولیاں بھر بھر کر نوازا ہے۔ وُہ خالی ہاتھ تو کہیں سے بھی نہیں لُوٹا!!! اُس کی طلب  مولیٰ بھی سب کو پسند ہے۔ ہر مقرب بارگاہ سے اُسے عشق حقیقی کی دُعاوٗں سے نوازا گیا ہے۔  سُنو!!! عمران کو کہنا۔کہ،، خزانے تو بیشمار جمع کرلئے ہیں۔ اب صرف اِن خزانوں کی چابی حاصل کرنی ہے۔یہی چابی دراصل تمام حجاب دُور کرے گی۔۔

مگر عمران اپنی نادانانی کی وجہ سے اِن چابیوں تک نہیں پُہنچ پارہا۔۔۔ اُور اِن تمام خزانوں کی چابی  کہیں اُور نہیں عمران کے مُرشد کریم کے پاس عمران کی امانت ہیں۔ لیکن وُہ نادان اُن چابیوں کو حاصل کرنے کیلئے میاں سراج صاحب کی بارگاہ میں اپنے خُود ساختہ خُوف کی وجہ سے پُہنچ ہی نہیں پارہا۔عمران سے کہنا ! چاہے تمام زندگی خُدا کی بارگاہ میں سجدہ ریز ہُوکر گُزار لے۔ وُہ جب تک مُرشد کو راضی نہیں کرے گا۔یہ حجاب یونہی قائم رہیں گے۔ وُہ بیچارہ  خُود وسط دریامیں کھڑا ہے۔۔۔ لیکن وضو کی تلاش  میں صحرواں کی جانب دیکھ رَہا ہے۔ تو کبھی سمندر کی وسعت کو حیرت سے تک رہا ہے۔۔۔ عمران سے کہو۔ جو ملے گا۔ وُہ تمہاری سُوچ سے بُہت ذیادہ ہے۔۔۔لیکن مِلے گا میاں صاحب کے دَر سے ہی۔۔۔ اُور عمران اِس وقت اُسی آستانے سے دُور ہے ،جہاں اُس کے مقدر کی چابی اُسکا انتظار کررہی ہے۔

اِس پیغام نے جہاں عمران کو خُوشی سے مخمور کردیا تھا۔ وہیں اِس میں ایک جملہ کہ،، جب تک مُرشد کو راضی نہیں کرے گا۔۔۔عمران کو  یہ جملہ کسی زہریلے سانپ کی طرح ڈس رہا تھا۔۔۔ کیا میاں صاحب مجھ سے ناراض ہیں؟؟؟ عمران نے اپنے وکیل دوست سے استفسار کیا۔۔۔ مجھے تو اِس پیغام سے یہی لگتا ہے۔کہ،، میاں صاحب آپ سے خفا ہیں۔ ورنہ حضرت مکھن شاہ رحمتہ اللہ علیہ یہ بات کیوں کہتے! ۔۔۔عمران کو اُس کے وکیل دوست نے اپنی  رائے دی۔۔۔ وُہ شب عمران پر قیامت کی طرح بھاری تھی۔ کہ،، میاں صاحب مجھ سے خفا ہیں۔۔ اگر میاں صاحب مجھ سے خفا ہیں۔ تو حضور سیدنا غوث الاعظم بھی  یقیناً خفا ہی ہُونگے۔ سید دُو عالم صلی اللہ علیہ وسلم بھی کیونکر راضی ہُوں گے۔ اُور وُہ پروردیگار کہ،، جس کا میں طالب و عاشق بننا چاہتا ہُوں۔ اپنے دوست کی خفگی دیکھ کر مجھے کیوں اپنائے گا۔۔۔ کہ،، دوست کو پسند آنے والا ہی محبوب رکھا جاتا ہے۔ایذا دینے والا نہیں۔۔۔ یہی جملےرات بھر عمران بُڑبڑاتے ہُوئے رات بھر رُوتا رہا۔تمام رات استغاثوں میں گُزر گئی۔۔۔

اگلے دِن جمعہ کی نماز اَدا کرنے کے بعد  عمران شرمندہ شرمندہ میاں صاحب کے آستانے کی جانب روانہ ہُوگیا۔لیکن ندامت اُور  ایک انجانے خوف نے عمران کے قدم من من بھر کے کردیئے تھے۔عمران کو یاد آیا کہ چند دِن پہلے  نصف  شب کے وقت اُسے ماریشش سے  ایک انجانی کال موصول ہُوئی تھی۔جس میں ایک سید زادی نے عمران کو اپنا بھائی بناکر دریافت کیاتھا۔کہ،، غلام بھائی آپ نے انٹرنیٹ پر لکھنا کیوں چھوڑ  دیاہے۔؟؟؟ جواب میں عمران نے عرض کیا تھا۔ آقا زادی مجھے حجاب نے نابینا کردیا ہے ۔جسکی وجہ سے اب کچھ لکھنے کو دِل نہیں چاہتا۔ جس کے جواب میں اُن آقازادی نے کہا تھا۔ کہ،، اگر مجھے اپنی بہن سمجھتے ہُو تو میاں صاحب کی حاضری کا سلسلہ پھر سے شروع کردو۔ اُور میاں صاحب کی بارگاہ میں عرض کیجئے گا۔کہ،، آپکی ایک بیٹی نے اِس غلام کی شفارش کی ہے۔۔۔ تو کیا وُہ  اُس شہزادی کی ذاتی خاہش تھی۔یا پھر میاں صاحب کی قربت حاصل کرنے کیلئے عالم تکوین میں کوئی راستہ بنایا جارہا تھا۔؟؟؟اُور اب تو  حضرت مکھن شاہ رحمتہ اللہ علیہ نے واضح لفظوں میں تمام بات سمجھادی تھی۔

عمران ،، میاں صاحب کے آستانے سے لپٹ کر نجانے کتنی ہی دیر رُوتا رہا۔ اُور اپنی تمام نادانیوں ، غلطیوں، کوتاہیوں ، بے ادبیوں۔ کی معافی طلب کرتے ہُوئے بار بار عرض کرنے لگا۔ حضور میں تو آپکا ہی ہُوں۔ میری پیشانی آپکی پہچان سے داغی جا چُکی ہے۔ جس سے نسبت کی خُوشبو آج بھی مجھے باادب بنائے رکھتی ہے۔لیکن میں خطاکار ہُوں انجانے میں اگر کوئی غلطی کربیٹھا ہُوں۔تو خدا کیلئے مجھے معاف فرمادیں۔کہ،، سَیَّدوں کے در سے کوئی خالی نہیں جاتا۔ تھوڑی ہی دیر میں عمران کے قلب میں سکینہ نازل ہُونے لگا۔ عمران  مزار کے احاطے میں سورہ یسین کی تلاوت کرنے لگا یہاں تک کہ عصر کی آذان بُلند ہُونے لگی۔ کچھ مزید لُوگ بھی اجتماعی دُعا میں مصروف تھے۔ سُو عمران بھی اُس دُعا میں شریک ہُوگیا۔ لیکن آنسووٗں کو روکنا عمران کے بس میں نہیں تھا۔ سُو چشموں سے جھرنے بہہ کر خُشک سینے کو سیراب کرنے لگے۔

دعا کا اختتام ہُوچُکا تھا۔لیکن عمران کے اُٹھے ہاتھ نیچے نہیں آئے۔ تبھی کسی نے عمران کے شانوں کو آہستگی سے تھپ تھپانا شروع کردیا۔ عمران نے آنکھ کھولی تو سامنے ایک انجان نوجوان نظر آیا جسکی عمر ذیادہ سے ذیادہ پچیس برس رہی ہُوگی۔ میرا نام لئیق ہے۔کیا آپکا نام عمران احمد وقاص ہے۔۔۔؟ عمران نے حیرت سے نوجوان کو دیکھ کر اثبات میں گردن ہلادی۔۔۔۔ مجھے آپ سے کچھ ضروری باتیں کرنی ہیں۔ لیکن یہاں نہیں تنہائی میں میری بات سُن لیں۔وُہ نوجوان نہایت خلوص سے استدعا کرنے لگا۔۔۔ عمران تجسس کی وجہ میاں صاحب کو سلام پیش کرتے ہُوئے مزار کے احاطے سے باہر نکل آیا۔۔۔

آپ جس وقت دعا میں مشغول تھے۔ میاں صاحب نے مجھے  شرف مُلاقات بخشا تھا۔اُورآپکی طرف اشارہ کرتے ہُوئے فرما     یا  تھا۔یہ  ہمارا بیٹا ہےعمران احمد وقاص۔ دیکھو   رُو رُو کر اِس نے اپنا کیاحال بنالیا ہے۔اِسے ہمارا سلام کہو اُور اِسے کہناکہ،، ہم اپنے بیتے سے بالکل بھی ناراض نہیں ہیں۔اسکے دوست کو  حضرت مکھن شاہ رحمتہ اللہ علیہ کی بات  شائدسمجھ نہیں آئی  تو اُس نے راضی کرنے کو خفگی سے مشروط کردیا۔ جب کہ ہمیں عمران سے کوئی شکایت نہیں ہے۔ اِسکی امانت ہمارے پاس موجود ہے جو ہم اپنے بیٹے کوضرور دیں گے۔ بس اسے کہنا کہ،، وُہ استقامت سے منزل کی جانب پیشقدمی جاری رکھے۔   یہ راستہ  چونکہ راہِ عشق ہے۔ اسلئے اِسمیں کچھ رُکاوٹیں بھی ضرور پیش آئیں گی۔ لیکن میرا عمران پانی کی طرح ہے۔ اُور پانی اپنا راستہ خُود تلاش کرلیتا ہے۔ بس عمران سے کہنا کہ،، اب ہمارے یہاں ہفتہ میں کم از کم ایک مرتبہ ضرور آیا کرے اُور یسین شریف کی تلاوت ضرور کیاکرے۔

میاں صاحب کے پیغام نے عمران کی زندگی کے تمام غموں کو خوشیوں میں بدل ڈالا تھا۔ ہفتہ وار محفلوں کا انعقاد شروع ہُوا۔ تو عشق کے دریا سے صرف عمران ہی فیضیاب نہیں ہُوا۔۔۔ بلکہ عمران کے دوستوں پر بھی  عمران کی سفارش پر راہِ عشق کے در کھول دیئے گئے۔ ۔۔ ہر ایک نے  دریائے عشق  میں اپنے اپنے ظرف کے مطابق ڈبکیاں لگائیں۔ اُور گوہر مراد سے اپنی جھولیاں بھرلیں۔ کسی کو مشاہدات کی نعمت عطا کی گئی۔تو کسی کو جلووٗں کی۔۔۔ اور عمران کیلئے نفوسِ قدسیہ ( جس میں مشہور انبیائے کرام  علیہم السلام)اُور اولیائے کرام رحمُ اللہ اجمعین  شامل تھے۔ کی جانب سے بیشمار پیغامات موصول ہُونے لگے۔ جن میں عمران کو مبارکباد بھی دی گئیں۔ اُور میاں صاحب کی دلہن کے نام سے بھی  موسوم کیا گیا۔۔۔ اُور یُوں ایک اُور عشق مجازی سے جنم لینے والی کہانی عشق حقیقی کے بحر بیکنار میں ضم ہُوگئی۔

(ختم شُد)۔

نُوٹ۔

کہانی کو طوالت سے بچانے کیلئے کچھ واقعات کو بہت اختصار کیساتھ  پیش کرنا پڑا۔ جس میں ایک واقعہ کوثر سے ناران میں مُلاقات تھی۔ جسے حذف کردیا گیا۔ اِس مؒلاقات کا واقعہ کچھ یُوں ہے۔کہ،، عمران ایک مدنی قافلے کیساتھ  ایک ماہ کیلئےاسلام آبادگیا تھا۔ وہاں حُسن اتفاق سے بیشمار قافلے آئے ہُوئے تھے۔ جسکی وجہ سےعمران کا قافلہ مانسہرہ  کی طرف روانہ کردیا گیا۔ جہاں سے وُہ لُوگ بالاکوٹ اُور پارس پُہنچ گئے۔ پارس  پُہنچنے کے بعد جب کسی نے  عمران کو بتایا کہ،، ناران اُور جھیل سیف الملوک یہاں سے بُہت نذدیک ہیں۔ تو عمران سے نہیں رہا گیا۔ اُور قافلہ نگران سے عرض کی کہ،، ایک دن ناران بھی  چلنا چاہیئے۔   یُوں عمران کی خاہش کی وجہ سے مدنی قافلہ ناران پُہنچ گیا۔ جسکے بعد عمران باآسانی جھیل سیف الملوک پُہنچنے میں کامیاب  ہُوگیا تھا۔ جبکہ کوثر نے عشق  حقیقی کے مقابلے میں قربانی دیتے ہُوئے عشق مجازی سے نکلنے میں  عمران کی جو مدد کی یہ تذکرہ بھی شامل نہیں ہوسکا۔ بہرحال ہر نیکی کی جزا  کریم پروردیگار کی بارگاہ میں موجود ہے۔ اللہ کریم عمران  کی عشق  حقیقی کی تلاش میں مدد کرنے والے تمام ساتھیوں کی سعی کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے ۔ اُور انہیں بہترین جزا سے سرفراز کرے۔

پلکوں سے دَر یار پر دستک دینا
اُونچی آواز ہُوئی عُمر کا سرمایہ گیا