bing

Your SEO optimized title page contents

Pages

.

.

Saturday, 16 January 2016

میرے سرکار کی آنکھیں



Meray Sarkar ki Aankhein
Download


مازاغ البصر, میرے سرور تیری آنکھیں
اُمت پہ نگہبان ہیں رَہبر تیری آنکھیں

مَستور, یہی راز ہے آیت اَلم تَرا
بااِذن مشاہد ہیں زماں پر تیری آنکھیں


اللہ وہ خلیل و ذبیح ,تیغ وُہ منظر
تھے رُوبرُو وہ پسر و پدر بَر تیری آنکھیں

تیری عطا سے قلب میں رُویت ہوئی مُمکن
دیکھیں خُدا کو اللہُ اکبر تیری آنکھیں

سُو جَمل تھے نثار وُہ تیرے ہی نام پر
مجھ سے کروڑ لاکھ نحر بر تیری آنکھیں

اِک آنکھ ہماری ہے جو غافل رہی مگر
ہیں واسطے اُمت کی گوہر تر تیری آنکھیں

جُھک جائیں تو غروب جو اُٹھ جائیں تو طُلوع
شمس و قمر ہیں محوئے منور تیری آنکھیں

بے خبر نہیں تجھ سے بھی گستاخ  بے خبر
اِن پہ فقط نہ اُن پہ ہے سب پر تیری آنکھیں

دیکھا جو ساقیہ تجھے معراج کی گھڑی
تکتی ہیں سلسبیل وُہ کوثر تیری آنکھیں

اُنکی نگاہ میں وارثی عشرت بنی رہے.
ٹھنڈا کلیجہ دل رہے, بہتر تیری آنکھیں

Friday, 15 January 2016

میرے سرکار کا دہن




یہ ارض و سما کیا جِناں ہے دہن سے
جِناں کیا یہ ہر دُو جہاں ہے دہن سے.

فصاحت کا چشمہ رَواں ہے دہن سے.
بلاغت کا دریا عیاں ہے دہن سے

مِلی ہے جو پرواز انکا کرم ہے.
کہ ہر سانس مدحِ زُباں ہے دہن سے

لجاتے ہیں گُل بھی جسے دیکھتے ہی
کہ حُسنِ چمن کا نشاں ہے دہن سے

پلٹتا ہے سورج , قمر چِر کے دو ہو
سُنے جب ذرا سی اذاں ہے دہن سے

جو تشنہ تھا خُود تِشنگی کیا مِٹاتا
ہُوا قَند شُوراں کُنواں  ہے دہن سے

سحر ٹوٹ جائے, وہ زُنّار چُھوٹیں،
وہ شیریں سُخن کا بیاں ہے دہن سے

جو لِکھوایا مجھ سے وہ مقبول کرنا
یا , مُولانا حضرت , سماں ہے دَہن سے

نہیں پِسرِ عباس کی مِثل کوئی .
یہ تفسیر و حکمت لِساں ہے دہن سے

کہاں تیری مِدحت کہاں مجھ سا منگتا
کہ ممکن ثنا حق کہاں ہے دہن سے

بچا ہے جو پانی وُہ مُشکِ خُتن ہے
کہ ہر ایک خُوشبو کی جاں ہے دہن سے

یہ لفظوں کی بارش عطا ہے اُنہی کی
خیال و فکر بھی کماں ہے دہن سے

کیا حسان و رُومی کیا جامی و سعدی
ہر اِک انکا رطب اللسَّاں ہے دہن سے

پئے چار یاروں کے وارثی عشرت
عطا وہ چبایا جو ناں ہے دہن سے

14 January 2015

منا فقت




صورت چنگی،من وچ تنگی,     کی کرنا صورت موہنی دا .....
مٹھی بولی،لفظ نبولی ، کی کرنا گلاں سوھنی دا.... 

وارثی عشرت لوکی جہیڑےآندے نظر مسکین بڑے، 
دل وچ رکھ دے ، بہت پلیدی،رولا پاندے پاکی دا..   

وارثی عشرت لوکی جیہڑے آندے نظراُنج ھوندے نئی,
گلاں کردے صبر شکر دیاں تے رونا روندے ھونی دا


Thursday, 14 January 2016

Fatuhl Ghaib Makala # 1 to 16




Fatuhl Ghaib Part 1 , Makalma # 1-2


Fatuhl Ghaib Part 2 , Makalma # 3



Fatuhl Ghaib Part 3 , Makalma # 4



Fatuhl Ghaib Part 4 , Makalma # 5-6


Fatuhl Ghaib Part 5 , Makalma # 7



Fatuhl Ghaib Part 6 , Makalma # 8





Fatuhl Ghaib Part 7 , Makalma # 9-10




Fatuhl Ghaib Part 8 , Makalma # 11-12-13





Fatuhl Ghaib Part 9 , Makalma # 14-15-16





Tuesday, 12 January 2016

کھٹا میٹھا عشق





سب کُج اِتہوں مل جاندا اے۔ کیوں وَل ہُور میں آواں؟
کھایا جس دا عُمر میں ساری گیت اُسی دے گاواں۔

سوھنے سراج دا نقشہ ہر دَم دل دا پہرہ دیوے۔
کیوں نہ ایسے مُرشد توں میں واری صدقے جاواں۔

جے تُوں رُوٹھے , تینوں ماہی میں کیویں مناواں۔
باجھوں تیرے حال میں دل دَا کِس نُوں جا سُناواں۔

عشق دی امبڑی کھٹی میٹھی جلوے نال شہد دے۔
ہر دَم تیرے ذِکر تُوں مُرشد سانواں نُوں مہکاواں۔

وارثی عشرت جمدے ناہیں دُودھ بِنا مُرشد دے۔
شُکر خدا دا کرئیے ہَر دَم دِتیاں ٹھنڈیاں چھاواں۔

عشرت اقبال وارثی




میرے سرکار کا پسینہ




Meray Sarkar ka Paseena
Download

وجود عطر میں خوشبو تیرے پسینے سے.
جو مہکی گُل میں ہے وُہ بُو تیرے پسینے سے.

جلے وہ آگ میں دَستر کہاں سے وُہ بِستر
جو یاوری سے گیا چُھو تیرے پسینے سے

مِلی ہے چھینٹ جِسے وُہ ہُوا زمانے میں.
رضا و رُومی کا پَرتو تیرےپسینے سے.

تیرے ہی ذکر سے ہر بزم بزم مہکائیں.
یہ اہلبیت سُو بہ سُو تیرے پسینے سے

یہ سیدہ ہیں طاہرہ ہیں  طیبہ زہرا
ملی ہے انکو سبھی ضُو تیرے پسینے سے

تھا کون اُنکی مثل پوچھیئے صحابہ سے.
جنہیں ہے عشق تیرے مُؤ تیرے پسینے سے
وَہی کریم تھے اخلاق کربلا میں عیاں 

وَہی مہک تھی چار سُو تیرے پسینے سے.
وُہ بُوتُراب کا مٹی سے چمٹ کر رہنا
وُہ لمسِ پا وُہ جستجو تیرے پسینے سے

جُدا کرے جو ابوبکر و عُمر عثماں کو
نہ پائے کچھ بھی وُہ عُدو تیرے پسینے سے

سراج و وَارث و غوث الورای کا صدقہ دو.
ملے پئے میرے باھو تیرے پسینے سے

تمہاری چشم کے فیضان سے ہے رنگِ چمن
چہار سُو میں کو بہ کُو تیرے پسینے سے

لحد میں وارثی عشرت بھی جھوم جائے گا
ملے کفن کیلئے جو تیرے پسنے سے


Monday, 11 January 2016

میرے سرکار کی زلفیں





اللہ اللہ کیا معطر ہیں تمہاری زلفیں
نکہتء شب کا سمندر ہیں تمہاری زلفیں

غلاف کعبہ نے لہرا کہ جنہیں چوم لیا
سیاہ وہ دلکش و دلبر ہیں تمہاری زلفیں

جہاں پہ طائر قدسی کے قدم جل جائیں
محوے پرواز وہاں پر ہیں تمہاری زُلفیں

کیا استعارے ہیں اچھے , یہ نجم اور قمر
کہ لیل و نجم کا محور ہیں تمہاری زُلفیں

نکلنا چاند کا شرماتے ہوئے بادل سے
مچلنا مثل جبیں پر ہیں تمہاری زلفیں

کتنا محمود کیا نام تک پکارا نہیں
یادِ والیل میں عنبر ہیں تمہاری زُلفیں


فقط سبب تھا یہی خالد کی فتوحاتوں کا

کہ تاج مَلک کے اندر ہیں تمہاری زلفیں

عشرت وارثی فیضان ہے یہ مُولائے رُوم
مثلٍ قرطاس پہ گوہر ہیں تمہاری زُلفیں

میرے سرکار کی بینی



الف کا راز عیاں بےظِہار بینی سے
نگاہِ شوق نے پایا قرار بینی سے

قمر گدائے ضیاء بار بار بینی سے
صبحِ کا نور تیری آشکار بینی سے

کّمِثلِ شمس و قمر کیسے استعارے بیاں؟
کوئی مثال نہیں طرحدار بینی سے

سقیم حال ہوں سرکار کرم فرمائیں
ملے طفیلِ عطا وضعدار بینی سے

میرے نصیب بھی ستواں ہو سرور عالم
نیاز و ناز ملے آبشارِ بینی سے

کرم کریماں ہو احباب پر میرے ذیادہ
اُنہیں بھی بھیک ملے رازدار بینی سے

میری نسل سے نہیں کوئی بے ادب گزرے
پئے حُسین و حَسن تاجدار بینی سے

کیا حور و غلماں, عرش اور فرش کا حصہ
ہے فیضیاب خلق حصہ دار بینی سے

کیا اب بھی کوئ گلہ وارثی عشرت باقی
رواں ہے قلم و سخن شاہکار بینی سے