bing

Your SEO optimized title page contents

Pages

Hamara Tube Channel

Sunday 22 October 2017

تماشہ ء ابلیس قسط 3



فوزی میری جان ! میں ایکبار پھر تم سے معافی چاہتی ہوں، میری گفتگو سے تمہارے آبگینے کو جو ٹھیس پہنچی ہے۔ اگرچہ اسکا ازالہ ممکن نہیں ہے۔لیکن میں تم سے ایک وعدہ ضرور کرسکتی ہوں کہ،، میں تمہیں زندگی میں کبھی شرمسار نہیں ہونے دونگی۔۔۔۔ ارے نہیں فری تم خومخواہ جذباتی ہورہی ہو۔ اگرچہ یہ سب کچھ ایک تلخ حقیقت ہے، لیکن کم ازکم اس درد کیساتھ مجھے تم میں موجود ایک مخفی قوت سے شناسائی حاصل ہوگئی۔اور اب تم مجھے اپنا اسسٹنٹ  ہی سمجھو۔ہم دونوں مل کر ہر مشکل کا حل تلاش کریں گے، فوزیہ نے بہت جلد اپنے جذبات پر قابو پالیا تھا۔

جبران کے معمولات میں تبدیلی فریال سمیت گھر کے تمام افراد کو محسوس ہورہی تھی۔ پروفیسر کمیاب لیسنگی کی آمد سے قبل جبران یونیورسٹی کے علاوہ بہت کم وقت باہر گزارا کرتا تھا۔لیکن اب اسکا اکثر وقت گھر سے باہر گزرنے لگا تھا،

ایکدن تو جبران نے حد ہی کردی جب وہ فریال کو یونیورسٹی چھوڑ کر ایسا غائب ہوا کہ فریال کو گھر واپسی کیلئے رکشہ کرنا پڑگیا، گھر پہنچ کر معلوم ہوا کہ جبران گھر بھی نہیں پہنچا۔ فریال کو یقین تھا کہ،، ہو نہ ہو وہ کم سے ملنے کیلئے گیا ہوگا ! فریال نے امی سے فوزیہ کی برتھ ڈے کا بہانہ بنایا اور تجسس کے ہاتھوں مجبور ہوکر پروفیسر کی عارضی اقامت گاہ جا پہنچی۔

بنگلے کے باہر جبران کی گاڑی دیکھ کر فریال کو اپنے غصہ پر قابو رکھنا مشکل ہورہا تھا۔ وہ ابھی بیل کا بٹن دبانے کا ارادہ ہی کررہی تھی کہ،، اُسکی نگاہ بغلی دروازے کی درز پر پڑی، جسکا مطلب صاف تھا کہ،، بغلی دروازہ اندر سے لاک نہیں ہے۔ اگرچہ کسی کے گھر میں بغیر اجازت داخل ہونا غیر اخلاقی عمل تھا، لیکن اس طرح وہ اچانک جبران کی حرکات سے آگاہ بھی ہوسکتی تھی یہی سوچ کر فریال خاموشی سے دروازے کو دھکیل کر اندر داخل ہوگئی۔ کار پورچ میں بھی کوئی مُلازم موجود نہیں تھا۔ مین پورشن کا دروازہ اندر سے لاک تھا، سُو فریال نے موقع غنیمت دیکھ کر بنگلے کی عقبی جانب سے اندر جانے کا فیصلہ کرلیا۔ بنگلے کی مغربی جانب ایک گلی موجود تھی۔ فریال  نے نصف گلی ہی عبور کی ہوگی کہ ایک کمرے سے نسوانی  قہقہے کی  آ واز  نے فریال کو اپنی جانب متوجہ کرلیا۔ یقینا یہ مترنم ہنسی اُسی چڑیل کم کی ہوگی۔ یہی سُوچتے ہُوئے فریال نے جلدی سے گلی عبور کی لیکن پھر اُسے خود ہی واپس دیوار کی اُوٹ حاصل کرنی پڑگئی۔

کیونکہ پچھلے دروازے سے کچھ پہلے ہی انار کے ایک درخت  کے قریب کمیاب لیسنگی آلتی پارے مارے سُورج سے نگاہیں لڑا رہا تھا۔ اور اُسکا تمام بدن سُونے کی طرح جگمگا رہا تھا۔  جبکہ لباس کے نام پر ایک مختصر سا شارٹ اُس کے جسم پر موجود تھا۔ فریال نے گلاب کے ایک گھنے پودے سے کمیاب کو  بغور دیکھا۔ ا‘سکا جسم واقعی حسن کا شاہکار تھا۔ کوئی نہیں کہہ سکتا تھا۔کہ،، وہ ایک بوڑھے انسان کا جسم ہے۔ تمام جسم پر  کوئی بال موجود نہیں تھا ۔ یوں لگتا تھا جیسے تمام جسم مکھن صندل اور زعفران گوندھ کر بنایا گیا ہُو۔ اگلے ہی لمحے فریال نے پروفیسر کی آنکھوں کو دیکھا تو ایکدم آنکھوں کی جگہ ۲ سُورج سے دہکتے دکھائی دئیے۔جسکی وجہ سے فریال کے جسم پر کپکپاہٹ سی طاری ہُوگئی۔ اور فریال بے ساختہ اُلٹے قدموں مین گیٹ کی طرف واپس پلٹ گئی۔  
جاری ہے۔