bing

Your SEO optimized title page contents

Pages

Hamara Tube Channel

Showing posts with label جَال ۔ دَر ۔ جَال. Show all posts
Showing posts with label جَال ۔ دَر ۔ جَال. Show all posts

Tuesday, 9 June 2015

جال۔ در۔ جال قسط 16۔ (آخری قسط)۔



جال۔ در۔ جال قسط 16۔ (آخری قسط)۔


گُذشتہ سے پیوستہ 

نعمان نے فرقان کو اپنا منتظر دیکھا تو تھکے تھکے سے قدموں سے فرقان کی جانب بڑھنے لگا۔فرقان نے آگے بڑھ کر کر نُعمان کو اپنے سینے سے لگا لیا۔ چند لمحے اِسی کیفیت میں گُزر گئے۔ پھر فرقان نُعمان کو بڑی عزت سے اپنے آفس میں لے آیا۔ آفس میں آرام دہ کرسیوں پر بےٹھن کے بعد فرقان نُعمان کا حال دریافت کرنے لگا۔ لیکن نُعمان کی زُبان پر تُو جیسے خَاموشی کا قُفل پڑا تھا۔ اُسکا چہرہ ناکامی اور شرمندگی کی تصویر پیش کررہا تھا۔ جب دوسری مرتبہ فرقان نے پُوچھا کہ میرے یار تُو آخر بُولتا کیوں نہیں۔۔۔۔ ؟ اُور یہ تُونے اپنا کیا حال بنا رکھا ہے۔۔۔۔؟ تب نعمان کی آنکھیں جو نجانے کب سے چھلکنے کو بیقرار تھیں۔ اپنے آبگینوں کے بند کو مزید سنبھال نہ پائیں۔۔۔۔ اُور نُعمان فقط اتنا ہی کہہ پایا کہ فرقان میرے بھائی میں ہار گیا ہُوں۔۔۔ اُور رُسوائی میرے تعاقب میں ہے۔ اِسکے بعد وُہ کُچھ نہ کہہ پایا۔۔۔ اُور ہچکیاں باندھ کر رُونے لگا۔۔۔۔۔

اَب مزید پَڑہیئے (تمام بقیہ اقساط کا خُلاصہ)

نعمان کو رُوتا دیکھ کر ایک لمحے کیلئے فرقان کا دِل چاہا کہ وُہ بڑھ کر نُعمان کو اپنے سینے سے لگا کر اُسکی آنکھوں سے بِہنے والے ایک ایک آنسو کو پُونچھ ڈالے۔۔۔۔ لیکن دُوسرے ہی لمحے اُس نے سُوچا کہ نجانے نُعمان کب سے اِن آنسووں کے غبار کو اپنے سینے میں سمیٹے ہُوئے ہے جسکی وجہ سے اُسے غَم کی چُبھن اُور آلودگی کی گُھٹن کا سامنا کرنا پڑ رَہا ہے۔ جبکہ حَسان میاں بھی تُو یہی کہتے ہیں۔۔۔ کہ گُناہوں کی ذیادتی اُور اُسکی مزید خُواہش دِل میں غَم اُور گُھٹن پیدا کردیتی ہے جسکا مَداواہ صِرف اُور صِرف ۔ ۔۔ نِدامت۔آنسو۔ اُور پشیمانی۔ کیساتھ سچی تُوبہ کی صُورت میں ہی ممکن ہے۔۔ اُور آج نُعمان اللہ کریم کی توفیق سے اُسی جُرم کا کُفارہ اپنی نِدامت کے اِظہار اُور آنسووٗں کے ذریعے کررَہا تھا۔

کُچھ لمحات بیت جانے کے بعد فرقان مزید انتظار نہیں کرپایا۔ اُور اُس نے آگے بڑھ کر نُعمان کے دونوں بازُوٗں کو اپنے مضبوط ہاتھوں سے تھام کر اُسےکرسی سے اُٹھایا اُور اپنے سینے سے لگا لیا۔۔۔۔ چند لمحے مزید گُزر گئے۔ نُعمان اگرچہ ابھی تک سسکیاں لے رَہا تھا۔ لیکن فرقان کے سینے سے لگ جانے کے بعد اُسکی حالت رفتہ رفتہ بِہتر ہُوتی چلی گئی۔ جیسے طُوفان کے گُزر جانے کے بعد ساحل کی ریت پُرسکون ہُوجاتی ہے۔۔۔

نُعمان کی حالت جب بظاہر پُرسکون نظر آنے لگی تب فرقان نے کافی کا آرڈر دینے کے بعد نُعمان کو اپنے ساتھ ایک ڈبل صوفہ سیٹ پر بٹھا کر اُسکے ایک ہاتھ کو اپنے دُونوں ہاتھوں میں لیکر گُفتگو کا آغاز کرتے ہُوئے کہا۔۔۔ میرے بھائی خُدا سے ہارنے میں بھی جیت چھپی ہُوتی ہے۔ جو اپنی ہار مان لیتا۔ دراصل وہی دُنیا اُور آخرت میں سُرخرو ہُوتا ہے۔ جبکہ جو خُدا سے لڑنے کی کُوشش میں اپنی شکست تسلیم نہیں کرتا۔ دراصل وہی بازی ہارنے والوں میں سے ہے۔ جبکہ تُمہاری ہَار انشاءَاللہ عزوجل تُمہیں خُدا سے مزید دُور نہیں ہُونے دیگی۔ بلکہ یہی ہار تُمہیں اب اپنے رَبّ سے نذدیک کرنے کا سبب بن جائے گی۔۔۔۔۔

فرقان کی باتوں اُور کافی کے مگ سے چند سِپ لینے کے بعد نُعمان کی حالت مزید بِہتر ہُوتی چلی گئی۔ کافی کی چُسکیاں لیتے ہُوئے نُعمان نے دھیرے دھیرے اپنی شکست کی کہانی سُنانی شروع کی جسکا لَب لباب کُچھ یُوں تھا۔۔۔ فرقان سے علیحدگی کے بعد نُعمان نے بنک سے چار کروڑ کا لُون فیکٹری کے کاغذات کے عوض اِس شرط پر حاصِل کرلیا کہ وُہ ہر سال جُون سے قبل اپنی لِمٹ مکمل طُور پر جمع کروادیا کرے گا۔۔۔۔ چُونکہ نُعمان خُود بھی جانتا تھا۔ کہ ایسا کرنا کِسی صورت ممکن ہی نہیں ہوگا۔ کیونکہ وُہ چار کروڑ روپیہ اِسٹاک کیلئے نہیں بلکہ فیکٹری میں توسیع کیلئے حاصِل کررہا تھا۔ لیکن اُسکے ذِہن میں ایک ترکیب آرہی تھی کہ کسی طرح اگر بنک لُون کیساتھ ساتھ چند انویسٹرز بھی مِل جائیں ۔ تُو وہ اِس تمام رقم سے اچھا خاصہ ٹُوپی ڈرامہ رَچا سکتا تھا۔ سال میں ایک مرتبہ اِنویسٹرز کی رقم سے لُون رِی شیڈول کروایا جاسکتا تھا۔ اُور پیپر مِل کو چلانے کیلئے رَقم کی بھی کمی نہیں ہُوگی۔

اب یہ نُعمان کی بدبختی تھی۔ کہ ایک طرف بنک سے لُون منظور ہُوگیا۔ جبکہ دُوسری طرف ایک سابقہ ایم پی اے صاحب جنہوں نے اپنے دُور میں خُوب مال سمیٹا تھا۔ اُور اب اُسی مال کو کسی کاروبار میں لگانا چاہ رہے تھے۔ کی مُلاقات نُعمان سے ہُوگئی۔ حالانکہ نُعمان اُن ایم پی اے صاحب کی بدمعاشانہ سُوچ سے خُوب اچھی طرح واقف تھا۔ لیکن مرتا کیا نہ کرتا کہ مِصداق ۔ حالات اُور مجبوری کے سبب خُود اُنکے چنگل میں آگیا۔۔ اُور اِس طرح اُن ایم پی اے صاحب نے اپنی مَن مانی شرائط پر مزید چار کروڑ روپیہ نُعمان کو مُہیا کردِیا۔

ایک برس تُو فیکٹری کی تعمیر میں صَرف ہُوگیا جِس میں بنک کے چار کروڑ روپیہ کام آگیا۔ جبکہ دُوسرے برس مارکیٹ کے اُتار چڑھاوٗ کے سبب پچھتر لاکھ روپیہ کا خَسارہ پیش آگیا۔ جبکہ تقریباً بیس لاکھ رُوپیہ اِس برس نُعمان کی ذاتی ضروریات کی نذر ہُوچُکا تھا۔ اب پُوزیشن یہ تھی کہ بنک میں جمع کرانے کیلئے نُعمان کے پاس صرف تین کروڑ پانچ لاکھ روپیہ موجود تھا۔ اگر یہ رقم جمع کرادی بھی جاتی تُو تقریبا ساٹھ لاکھ روپیہ انٹریسٹ کی مد میں چلا جاتا۔ اُور ایک کروڑ پچپن لاکھ کی شارٹیج کی وجہ سے بنک ہر گز دُوبارہ لُون سیکشن نہ کرتی۔ جسکی وجہ سے ایک طرف فیکٹری بند ہُوجانے کا اندیشہ تھا۔ تُو دوسری طرف اُس (ایم پی اے )صاحب کے کارندے اُسکی چیر پھاڑ کو پُہنچ جاتے۔ لِہذا نُعمان کو اپنے تئیں اِسی میں بھلائی نظر آئی کہ بنک منیجر کو اعتماد میں لیکر تمام صورت حال سے آگاہ کردِیا جائے۔ یہ نیا بنک منیجر بھی نہایت کایاں اُور حَریص آدمی تھا۔ جَب اُسے نُعمان کی کمزوری کا علم ہُوگیا۔ تب پہلے تو بنک منیجر نے خُوب نُعمان کو ھراساں کیا۔ اُور بعد میں نُعمان کو بلیک میل کرکر کے اپنے لئے رقم اینٹھنے میں لگ گیا۔ البتہ بنک منیجر کے اِنوال ہُوجانے کے بعد اتنا ضرور ہُوا کہ اُس بنک منیجر نے یہ رِپورٹ تیار کردی کے فیکٹری میں چھ کروڑ سے زائد کا خام مال موجود ہے۔ مگر بھاوٗ مُناسب نہ ہُونے کی وجہ سے فی الحال فیکٹری نے اپنی سیل رُوک رکھی ہے۔ بنک منیجر کے مشورے سے ہی خالی گوداموں کے مُنہ پر خام مال کا ڈھیر اِس طرح سے لگادیا گیا۔ کہ کوئی گودام کے اندر داخل ہی نہ ہُوسکے۔ جبکہ انسپکشن کیلئے آنے والی بنک ٹیم کو بھی یہ تاثر دیا جاسکے کہ گُودام خام مال سے کھچاکچ بھرے پڑے ہیں۔

لیکن اِس تمام صورتحال نے نُعمان کو ایک نفسیاتی مریض بنا ڈالا تھا۔ حالانکہ ایک مُوہوم سی اُمید اب بھی نُعمان کے سینے میں جاگتی کہ آنے والے سال میں شائد فیکٹری کو اسقدر مُنافع ہُوجائے کہ جسکی وجہ سے رُوز بروز بگڑتی ہُوئی صورتحال کو سنبھالا دیا جاسکے۔ لیکن شائد وقت کی مُہلت ختم ہُوچکی تھی۔ تقدیر کے آگے تدبیر کا زُور ٹوٹ چُکا تھا۔ کرنی کا کڑوا پھل تیار ہُوچُکا تھا۔ جسکا مزہ اب نُعمان کو بُھوگنا تھا۔ اِس لئے اس شعر کے مِصداق مُعاملہ پیش آرہا تھاکہ۔۔۔ مرض بڑھتا گیا جُوں جُوں دَوا کی۔۔۔۔ نعمان فی الحال شکست قبول کرنے کیلئے تیار نہیں تھا۔ جبکہ دُوسری طرف رَبّ عزوجل کی خُفیہ تدبیر اسکے گِرد آہستہ آہستہ گھیرا سخت کئے جارہی تھی۔ مگر حِرص و بے خبری کی پٹی نعمان کی آنکھوں پر ایسی چڑھی تھی۔ کہ وہ حالات کا صحیح اِدراک ہی نہیں کرپارہا تھا۔ یا شائد اُسے اِحساس تُو تھا۔ لیکن وہ اِس احساس کو جھٹک جھٹک کر خُود سے دُور کرنے کی ناکام سعی میں مصروف تھا۔

بہرحال قصہ مختصر مزید تین برس گُزر گئے جسکے بعد بنک پر بلاآخر یہ انکشاف ہُوہی گیا کہ نعمان کے خام مال سے بھرے گوداموں کی حیثیت ہاتھی کے دِکھائی دینے والے دانتوں سے ذیادہ نہیں ہے ۔اب بنک کی رقم بھی سود ۔در۔ سُود بڑھتے بڑھتے آٹھ کروڑ کے قریب پُہنچ چُکی تھی۔ جِسکی وجہ سے بنک کی جانب سے کِسی بھی وقت نُعمان کو ڈیفالٹر قرار دئےی جانے کا خطرہ مَنڈلا رَہا تھا۔جبکہ نعمان کے تمام فیصلے اُسکے خلاف جارہے تھے۔ جسکی وجہ سے (ایم پی اے) صاحب کی رقم بھی گھٹتے گھٹتے صرف نوے لاکھ کے قریب پُہنچ چُکی تھی۔ نعمان نے چند ماہ قبل اپنی ہار تسلیم کرلی تھی۔ اسلئے نوے لاکھ روپیہ نقد اُور ساٹھ لاکھ کے عوض اپنی کوٹھی (ایم پی اے) صاحب کے حوالے کردی تھی۔ مگر (ایم پی اے) صاحب کا اِصرار تھا۔ کہ تین ماہ میں اُنکی بقایا رقم ادا کردی جائے ۔ اب چاہے یہ رقم بنک لُوٹ کر دِی جائے۔یا فیکٹری بیچ کر دی جائے۔ ورنہ وُہ صرف نُعمان ہی کو نہیں بلکہ اُسکی بیوی اُور بچوں کو بھی عبرت کا نِشان بنا ڈالے گا۔ 

نُعمان خُود بھی اِس کھیل میں جسمانی اُور ذہنی تھکن کو ہر نئے دِن کیساتھ بڑھتا ہُوا محسوس کررہا تھا۔ وُہ تھک کر نِڈھال ہُوچُکا تھا۔ اُور اب وُہ خُود بھی چاہتا تھا کہ یہ کھیل جلد از جلد اپنے انجام کو پُہنچ جائے۔۔۔۔۔ لیکن اِسکی غلطیوں کا خُمیازہ اُسکی بیوی اُور بَچوں کو سہنا پڑے یہ اُسے کسی بھی قیمت پر منظور نہیں تھا۔ لیکن وُہ جانتا تھا۔کہ اب بازی اُسکے ہاتھ سے نِکل چُکی تھی۔۔۔ لے دے کر بس اب یہی آس بچی تھی۔۔۔۔ کہ فرقان اُسکی سابقہ تمام غلطیوں کو فراموش کرکے اِسےایکبار اِس دلدل سے نِکلوادے۔ اُسکے بعد اُسے چاہے ٹھیلا لگا کر ہی اپنے بچوں کا پیٹ کیوں نہ پالنا پڑے۔ وُہ پیچھے نہیں ہٹے گا۔۔۔۔۔ 

فرقان نے نُعمان کی تمام کہانی سُن لینے کے بعد اُسے بھرپور یقین دہانی کراتے ہُوئے کہا۔۔کہ آج رات اِس موضوع پر وُہ حسان صاحب کے سامنے شہریار مجددی سے بات کرے گا۔ اُور مجھے قوی یقین ہے کہ شہریار مجددی میری بات رَد نہیں کرے گا۔۔۔۔ بلکہ ہوسکے تُو تُمہیں آج رات حسان میاں سے مُلاقات کیلئے ضرور آنا چاہیئے۔۔۔۔۔

نُعمان حسب وعدہ عشاء کی نماز سے فارغ ہُو کر حَسان میاں کی محفل میں پُہنچ گیا۔۔۔۔ عجب اتفاق تھا کہ حَسان میاں اللہ کریم کی مہربانیوں اُور انسانوں کی ھٹ دھرمیوں پر بیان فرمارہے تھے۔ تمام بیان کے درمیان نُعمان یہ مِحسوس کرتا رہا، جیسے اُسکی اِصلاح کا سامان پیدا کیا جارہا ہو۔ تمام وقت اُسکی آنکھیں بھیگتی رہیں۔ جِنہیں وُہ بار بار رُومال کے کُونے سے صاف کرتا رَہا۔۔۔۔ محفل برخاست ہُونے کے بعد حسان میاں نے بڑے پُرتپاک انداز میں نُعمان کا اِستقبال کیا۔ نُعمان جب حَسان میاں کے سینے سے لِپٹا ہُوا تھا۔ تب اُسے ایسا مِحسوس ہُورہا تھا۔ جیسے گُویا اُسکے قلب پر سکینہ نازل ہُورہا تھا۔۔۔نُعمان دِل ہی دِل میں دُعا کرنے لگا۔۔۔۔ کاش وقت تھم جائے۔۔۔ 

جب فرقان نے نُعمان کا معاملہ حَسان میاں کے گُوش گُزار کیا۔ تُب حَسان میاں تمام رُوداد سُن کر پہلے تُو آبدیدہ ہُوگئے۔ پھر بڑی بے قراری سے اللہ کریم کی تسبیح و تکبیر بُلند کرنے کے بعد فرمانے لگے۔ کِس میں جُراٗت ہے ۔ کہ وُہ اُس پاک کبریا کے مُقابل کھڑا ہُوسکے۔۔۔۔؟ ۔۔۔یا اُسکی نافرمانی کے بَعد زمیں پر اپنے قدم جَما سکے۔۔۔۔؟ پھر خُود ہی جواب دیتے ہوئے کہنے لگے۔۔۔ کِسی میں نہیں۔۔۔۔ کِسی میں بھی نہیں۔۔۔ وُہ یکتا ہے۔۔۔ وُہ بادشاہ ہے۔۔۔۔ اُسی کا حُکم قائم ہے۔۔۔ وہی دائم ہے۔۔ وہی سُبحان ہے۔۔۔ وَہی قُدوس۔ وَہی بے نیاز ہے۔۔۔۔

شہریار مجددی بھی نعمان کی کہانی سُن کر غَمگین ہُوگیا تھا۔ اُور وُہ سُوچ رَہا تھا۔ کہ انسان کسقدر کمزور و ناتواں ہے۔ کہ حِرص و ہَوس کی ذرا سی آنچ اُسے پَگھلا کر آزمائش کے صحرا میں تپنے کیلئے چھوڑ دیتی ہے۔ خُدا کا شُکر ہے۔۔ کہ میرے ہاتھ میں دامنِ حِسان میاں تھا۔ جو ہر خطرے ۔۔ ہر طُوفان سے پہلے ہی آگاہ کرتے رہے۔ اُور ایسی تربیت فرمائی کہ سرکشی کا عفریت کبھی اپنی چال میں کامیاب ہی نہ ہُوسکا۔۔ اِس سے پہلے کہ شہریار مجددی پروازِ خیال کو مزید بُلند کرتا۔ حَسان میاں کا جُملہ اُسے واپس مِحفل میں لے آیا۔۔۔۔ حَسان میاں اپنی نِگاہیں فرقان و شہریار مجددی کے چہروں کی جانب باری باری جماتے ہُوئے نُعمان سے فرمارہے تھے۔۔۔۔ نُعمان بیٹا میرے اِختیار میں اگر ہُوتا تُو تُمہارے دامن سے ایک ایک غم کُو چُن کر سمیٹ لیتا۔۔۔ لیکن فرقان و شہریار میرے ایسے رُوحانی بیٹے ہیں۔۔۔ کہ مجھے قوی اُمید ہے کہ یہ مجھے اُور تُمہیں نا اُمید نہیں کریں گے۔۔۔ لیکن جو بھی فیصلہ کرنا ہے وُہ اِنہی دُونوں کو کرنا ہے۔۔۔ اُور انشاءَاللہ یہ بِہتر ہی فیصلہ کریں گے۔

حَسان میاں کے خاموش ہُونے کے بعد شہریار مجددی گُویا ہُوا۔۔۔۔ حضرت میرے پاس جُو کُچھ بھی ہے۔ وُہ سب کا سب آپکا ہے۔ اُور کُون کہتا ہے کہ آپکو میرے مال پہ اِختیار نہیں۔۔۔ لیکن اگر آپکا حُکم یہی ہے کہ میں اپنی رائے پیش کروں تُو میری رائے یہ ہے کہ آج سے فرقان کے ساتھ ساتھ نُعمان بھی میرا پارٹنر ہے۔ اگرچہ میں اکیلا بھی نُعمان کے تمام قرضوں کا بار سہہ سکتا ہُوں۔۔۔ لیکن میں جانتا ہُوں کہ فرقان کی بھی یہی خُواہش ہُوگی کہ وُہ اِس نیک مقصد میں مجھ سے پیچھے نہ رہے۔۔۔ اس لئے آج سے نُعمان خُود کو تنہا نہ سمجھے۔۔۔ ہم مِل کر نُعمان کا تمام قرض چُکائیں گے۔۔۔ اُور آج سے نعمان اُور ہماری فیکٹری کے درمیاں جو دیواریں حائل ہیں۔ آج کے بعد وُہ دیواریں باقی نہیں رہیں گی۔۔۔۔ کیونکہ دیواریں ہمیشہ اجنبیت پیدا کرتی ہیں۔۔۔۔ شہریار کی گُفتگو پُرجوش تقریر میں بدل چُکی تھی۔ حسان میاں کے چہرے پر خُوشی کے آثار نمایاں تھے۔ اُور زُباں پر خُدا کی حمد تھی۔ جبکہ فرقان، نُعمان، اُور شہریار مجددی ایک دُوسرے کا ہاتھ تھامے آپس میں بغلگیر تھے۔۔۔۔

شہریار مجددی کی انتھک کوششوں سے متعلقہ بنک کے اَعلی افسران اِس بات پر راضی ہُوگئے کہ فُوری طُور پر مِکمل رقم جمع کرانے کی صورت میں انٹریسٹ کی مَد میں پچاس فی صد رعائیت کردی جائےگی۔۔۔۔ بنک کی پچاس فیصد رقم شہریار مجددی نے فیکٹری کے مشترکہ اَکاوٗنٹ سے جمع کرائی جبکہ بقیہ تین کروڑ روپیہ شہریار مجددی نے اپنے ذاتی اکاوٗنٹ سے بنک کو جمع کروایا۔ (ایم پی اے) صاحب نے جب نُعمان کی پُشت پر مضبوط ہاتھ دیکھے تُو وُہ بھی مزید ایک برس کی مُہلت دینے کیلئے راضی ہُوگئے۔۔۔۔

وقت گُزرنے کیساتھ ساتھ نُعمان میں بُہت تبدیلی آتی چلی گئی۔۔۔۔ اب نُعمان بھی ہر رات گھر پر جانے سے قبل حَسان میاں کی علمی مِحفل میں ضرور شریک ہُوتا ہے ۔۔۔۔ حَسان، نعمان، و شہریار مجددی کی فیکٹری ایک گُروپ کی شِکل اختایر کرچُکی ہے۔ جہاں صرف مُنافع بڑھانے کیلئے مِیٹنگز نہیں ہُوتیں۔۔۔ بلکہ مُلازمین کی فلاح کیلئے بھی منصوبے بنائے جاتے ہیں۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ختم شُد۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔



اِس افسانے کو لکھوانے میں کہیں نہ کہیں محترم دیدار چاند حُسین کا بڑا ہاتھ رہا ہے ۔۔۔اِس لئے میں یہ افسانہ اُنہی کی نذر کرتا ہُوں
والسلام

Monday, 8 June 2015

جال ۔ در ۔ جال ۔(ہار جیت)۔ قسط ١٥



جال ۔ در ۔ جال ۔(ہار جیت)۔ قسط ١٥


گُذشتہ سے پیوستہ

کتنی بدنصیبی کی بات ہے۔ کہ کل تک کُفار جو طعنہ اللہ کریم کی ایک ولیہ کو دِیا کرتے تھے۔ جو کہ نا صِرف مسلم سفیر و مسلم وزیر دادی کی محسنہ تھیں بلکہ ہندوستان کے تمام مسلمانوں کی مُحسنہ تھیں کہ مسلمانوں کے سفیر کی مدد فرمارہی تھیں۔ ہم بجائے اُنکے احسان مند ہُوتے۔ آج تک ہِنود کی روش اپناتے ہُوئے وہی طعنہ ناسمجھی میں اپنے مسلمان بہن بھائیوں کو بھی دیتے ہیں۔

لیکن فرقان میاں میں آپ سے پھر یہی کہوں گا۔ کہ آپ نعمان میاں کی جانب سے اپنا دِل میلا نہ کریں۔ مجھے یقین ہے کہ ایک نا ایک دِن وہ ضرور پلٹ کر آئے گا۔ تب تک اُسکی واپسی کا انتظار کرنا۔ اُور واپسی کی راہ کو مسدود نہ کرنا۔ آپ کل سے اپنی فیکٹری پر توجہ دینا شروع کردیں اللہ کریم آپکی مدد ضرور فرمائے گا۔ اُور ایک دِن آپ کو آپکی قربانی کا پھل ضرور مِل کررہے گا۔

اَب مزید پڑھیئے۔

چار برس بعد۔۔۔
ظہر کی نماز کی ادائیگی کے دُوران موبائیل فون کی متواتر وائیبریشن فرقان کی محویت میں دخل انداز ہُوتی رہی ۔ مسجد سے آفس کی طرف جاتے ہُوئے فرقان نے اپنے دِل میں عہد کیا کہ وُہ آئندہ اپنا سیل فُون وائیبریشن پر لگانے کے بجائے اپنے آفس میں ہی چھوڑ کر آئے گا یا پھر اُسے آف کر دِیا کرے گا۔

مِسڈ کالز چیک کرتے ہُوئے فرقان کو خُوشگوار حیرت کا سامنا ہُوا۔ کیونکہ آج قریباٍ چار برس کے بعد نعمان کی سترہ مِس کالز فرقان کی موبائیل اسکرین پر جگمگا رہی تھیں۔ فرقان نے ایک لمحہ ضائع کئے بغیر نعمان کو کال مِلا دی۔ دوسری ہی بیل پر نعمان نے کال ریسیو کرلی فرقان کو ایسا مِحسوس ہُوا جیسے وُہ اُس ہی کی بیل کا منتظر تھا۔

فرقان نے گرمجوشی سے سلام میں پہل کی لیکن نعمان نے تھکے تھکے سے انداز میں فرقان کے سلام کا جواب دیتے ہُوئے بتایا کہ وہ فرقان سے فوراً مُلاقات کرنا چاہتا ہے۔ فرقان نے نعمان کو جواب دیتے ہُوئے بتایا کہ وُہ اِس وقت فیکٹری میں موجود ہے۔ اگر وہ پسند کرے تو میں شام کو خُود حاضر ہُوجاؤں گا۔ لیکن نُعمان کا اِصرار تھا کہ وہُ اسی وقت فرقان سے مُلاقات کا خُواہشمند ہے اسلئے اگر فرقان اپنی مصروفیت میں سے اگر چند مِنٹ نِکال سکے تو وُہ خُود فیکٹری آرہا ہے۔ فرقان نے جواباً عاجزی سے کہا ۔۔۔۔۔نعمان میرے بھائی مجھ سے التجا کر کے مجھے شرمندہ نہ کرو۔۔۔۔۔۔

نعمان نے کہا تھا کہ وہ آدھے گھنٹے میں فرقان کی فیکٹری پُہنچ جائے گا۔۔۔۔۔۔۔ فرقان کو آج نعمان کے لہجے میں وُہ پہلی سی گھن گرج کہیں بھی نظر نہیں آئی بلکہ اُسکا لہجہ ایک ہارے ہُوئے جواری کی مانند تھا۔ فرقان کو ایک کاروباری پارٹی نے اگرچہ چند دِن قبل کہا ضرور تھا کہ نعمان مسلسل تین برس سے خسارے کا سامنا کررہا ہے ۔۔۔۔ لیکن۔۔۔۔۔ فرقان جِس نعمان کو جانتا تھا۔ وہ ہر گز جھکنے والا نہیں تھا۔ لیکن آج نعمان کا بِکھرا ہُوا لہجہ اُسکی سُوچ کی نفی کررَہا تھا۔

فرقان نعمان کا انتظار کرتے ہُوئے آرام دَہ کَاوچ پر نیم دراز ہُوگیا۔۔۔۔۔ دھیرے دھیرے اُسکے سامنے ماضی کے اوراق پلٹنے لگے اُور وہ خیالات کی وادیوں میں چار برس قبل کی جانے والی فیکٹری کی افتتاحی تقریب میں پُہنچ گیا۔ جہاں نعمان اُسکا اُور اُسکی ٹیم کا تمسخر اُڑا رَہا تھا۔ پھر دھیرے دھیرے اُسےاپنے پہلے سال کی کارکردگی کے مناظر دِکھائی دیکھنے لگے۔ اُنکی فیکٹری کا پہلا برس واقعی آزمائشوں اُور امتحانوں کا سال ثابت ہُوا تھا۔ کبھی پیپر کی کوالٹی بِگڑ جاتی تُو کبھی بازار میں گرانی کی کیفیت پیدا ہُوجاتی۔ کبھی خام مال کی کمی کا سامنا کرنا پڑجاتا۔ تُو کبھی سامنے والی پارٹی وقت پر سپلائی نہ دے سکنے کی وجہ سے سودا کینسل کر ڈالتی۔ الغرض اِس اُونٹ کی کوئی کَل سیدھی نہ تھی۔ یا یُوں کہہ لیجیئے کہ ہاتھی پالنے کا شوق بُہت ہی مہنگا ثابت ہُورَہا تھا۔ جبکہ شہریار مجددی تو بالکل ہی کاروبار کے طریق سے نابلد تھے۔ جبکہ کرامت صاحب اگرچہ بُہت محنت اور جانفشانی سے تمام معملات کو حل کرنے کی سعی میں مصروف تھے۔ لیکن اُنکی بھی تمام تدابیر بروقت ہُونے کے باوجود بے سُود ثابت ہُورہی تھیں۔ ایک حَسّان میاں تھے جو ہر نئے دِن کیساتھ اِن سب کے حُوصلے بڑھا رہے تھے۔ اُور اُنکی زُبان پر ایک ہی جُملہ تھا۔ کہ یہ پہلا برس صِرف سیکھنے کیلئے ہے۔ اپنی غلطیوں کو دیکھو۔ اُور کوشش کرو کہ دُوبارہ وُہ غلطی سرزد نہ ہُو۔ اِسطرح غلطیوں کو سُدھارنے کا موقع ملے گا، اُور تُمہارے تجربہ میں اِضافہ کے ساتھ معملات میں بہتری آتی چلی جائے گی۔ کاروبار میں نفع نقصان سے زیادہ اپنی زُبان کی قیمت کا اِدراک رکھو۔ اور جو بھی پیمان قلمی یا قُولی طور پر کرو اُسے ہر قیمت پر پُورا کرنے کی کوشش میں مصروف رَہو ۔ اسطرح مارکیٹ میں تُمہاری ساکھ بنتی چلی جائے گی۔

وقت گُزرنے کیساتھ ساتھ حَسَّان میاں کی کہی ہُوئی ایک ایک بات سچ ثابت ہُوتی چلی گئی۔ واقعی پہلا برس بُہت ناموافق حالات و مُشاھِدات کی نظر ہُوگیا۔ لیکن دوسرے برس کی کامیابی نے پہلے برس کی تمام کوفت اُور ناکامی کی تھکن کو رفع کردِیا۔ اُسکے بعد آنے والے مزید دُو برس میں فیکٹری کی کیپیٹل ڈھائی گُنا ہُوچُکی تھی۔ حَسَّان مِیاں کے حُکم پر عمل درآمد کرتے ہُوئے فرقان نے اپنی فیکٹری کے تمام ملازمین کو سالانہ ڈبل بُونس کے انعام سے نوازا۔ جسکی وجہ سے فیکٹری کے تمام مُلازمین کے دِلوں میں فرقان و شہریار مجددی کی محبت گھر کر گئی تھی۔ اسکے علاوہ حَسَّان صاحب کے ایما پر ہی ،، آغوش ،، کے نام سے ایک اسکیم متعارف کرائی گئی۔ جسکے ذریعے ہر سال فیکٹری کے پانچ مُلازمین کو اپنا گھر بنانے کیلئے قرعہ اندازی کے ذریعے بِلا سُود قرض دینے کا اعلان کیا گیا۔

شہریار مجددی کے بے حد اِصرار پر فرقان نے اِس برس اپنا گھر خرید لیا تھا۔ اُور دُو مہینے قبل وہ اپنے نئے مکان میں شِفٹ ہُوچُکا تھا۔ جبکہ فیکٹری کے اعلٰی کوالٹی پیپر کی بڑھتی ہُوئی ڈیمانڈ کے پیش نظر فیکٹری میں نئی مشینری کا اِضافہ بھی کردیا گیا تھا۔ جسکی وجہ سے اُمید کی جارہی تھی کہ اِس سال کی پروڈکشن گُذشتہ کی نسبت ۸۰ پرسنٹ بڑھ جائے گی۔ جبکہ لُوڈ شیڈنگ کا مقابلہ کرنے کیلئے فیکٹری میں نئے انجن لگائے گئے تھے۔ جسکی وجہ سے ڈیمانڈ اُور سپلائی کے بحران پر قابو پا لیا گیا تھا۔ اِن انجنز کو نصب کرتے ہُوئے شہریار مجددی نے ایک نئی تکنیک متعارف کروائی تھی ۔جسکی وجہ سے حیرت انگیز طُور پر ڈیزل کا خرچ ساٹھ فیصد تک کم ہُوگیا تھا۔ اِس تکنیک کی وجہ سے فیکٹری کو بجلی اُس نرخ سے بھی کم ریٹ میں دستیاب ہُورہی تھی۔ جِس نرخ پر حکومتی اداروں سے حاصِل کی جارہی تھی۔

اگرچہ نعمان اُور فرقان کی فیکٹریاں ایک دوسرے کیساتھ مُتصِل تھیں۔ لیکن اسکے باوجود بھی اِن چار برسوں میں ایک مرتبہ بھی فرقان کا نعمان سے سامنا نہیں ہُوا تھا۔ نہ ہی کبھی نعمان فرقان کی فیکٹری میں آیا۔ اُور نہ ہزار دِل کی خُواہش کے باوجود فرقان کبھی اتنی ہِمت جُٹا پایا کہ وہ نُعمان کے پاس جاسکے۔ پھر وقت گُزرنے کیساتھ مصروفیت بھی اِسقدر بڑھتی چلی گئی۔ کہ فرقان کو ہمیشہ یہ اندیشہ گھیرے رکھتا کہ کاروبار کی بڑھتی ہُوئی مصروفیت کہیں اُسکی ازدواجی زندگی میں کوئی رُکاوٹ نہ کھڑی کردے۔۔۔۔ لیکن اِس معاملے میں فرقان انتہائی خُوش قِسمت انسان ثابت ہُوا تھا۔ کیونکہ اُسکی بیگم نے اُسے کبھی بھی اِس بات کا اِحساس نہیں ہُونے دِیا کہ۔۔۔ نئی فیکٹری کی شروعات سے وُہ گھر پر کسقدر کم وقت دینے لگا ہے۔بلکہ وہ ہمیشہ ہی اسکی حُوصلہ افزائی کیساتھ اُسکی ہمت بڑھارہی تھی۔

فرقان سُوچوں کے اِن بھنورُوں میں نہ جانے اُور کتنی دیر کُھویا رِہتا کہ ایک مُلازِم نے آکر اُسے نُعمان کی آمد کی اطلاع دی۔ فرقان نُعمان کے استقبال کیلئے اپنے آفس سے باہر نِکل آیا۔ لیکن یہ دیکھ کر اُسکا دِل کَٹ کر رہ گیا۔ کہ وہی نُعمان جو سولہ سُو سی سی سے کم گاڑی میں بیٹھنا اپنی بے عزتی سمجھتا تھا ایک سیکنڈ ہینڈ چائنا موٹر بائیک پر سوار ہُو کر آیا تھا۔ چہرے پہ بڑھی ہُوئی شِیو ، اُور لباس پر پڑی ہُوئی جا بجا سلوٹیں فرقان کو یہ سمجھانے کیلئے کافی تھیں۔ کہ اُسکا دُوست کسی بُہت بڑے امتحان سے گُزر رہا ہے۔ جسکا کرب صاف اُسکے چہرے پہ نمایاں نظر آرہا تھا۔

نعمان نے فرقان کو اپنا منتظر دیکھا تو تھکے تھکے سے قدموں سے فرقان کی جانب بڑھنے لگا۔فرقان نے آگے بڑھ کر کر نُعمان کو اپنے سینے سے لگا لیا۔ چند لمحے اِسی کیفیت میں گُزر گئے۔ پھر فرقان نُعمان کو بڑی عزت سے اپنے آفس میں لے آیا۔ آفس میں آرام دہ کرسیوں پر بیٹھنے کے بعد فرقان اُسکا حال دریافت کرنے لگا۔ لیکن نُعمان کی زُبان پر تُو جیسے خَاموشی کا قُفل پڑا تھا۔ اُسکا چہرہ ناکامی اور شرمندگی کی تصویر پیش کررہا تھا۔ جب دوسری مرتبہ فرقان نے پُوچھا کہ میرے یار تُو آخر بُولتا کیوں نہیں۔۔۔۔ ؟ اُور یہ تُونے اپنا کیا حال بنا رکھا ہے۔۔۔۔؟ تب نعمان کی آنکھیں جو نجانے کب سے چھلکنے کو بیقرار تھیں۔ اپنے آبگینوں کے بند کو مزید سنبھال نہ پائیں۔۔۔۔ اُور نُعمان فقط اتنا ہی کہہ پایا کہ فرقان میرے بھائی میں ہار گیا ہُوں۔۔۔ اُور رُسوائی میرے تعاقب میں ہے۔ اِسکے بعد وپہ کُچھ نہ کہہ پایا۔۔۔ اُور ہچکیاں باندھ کر رُونے لگا۔۔۔۔۔

(مجھے معلوم ہے کہ اس افسانے کی اس قسط کو پڑھنے کیلئے آپ سب کو بُہت انتظار کرنا پڑا ہے جسکے لئے آپ سب سے مُعافی چاہتا ہُوں۔ لیکن سچ تو یہ ہے کہ رمضان المبارک میں میری طبیعت اسقدر بگڑ گئی تھی۔ کہ مجھے یقین ہُوچلا تھا۔ کہ میں شائد عیدالفطر کا چاند بھی نہ دیکھ پاؤں گا۔مگر۔۔۔۔)
۔
بقولِ شاعر
۔
میں ڈوبتا ہُوں سُمندر اُچھال دیتا ہے
نہ جانے کُون دُعاؤں میں یاد رکھتا ہے

انشاءَ اللہ کوشش کرونگا کہ ایک ہفتے میں اسکی آخری قسط (خُلاصہ) لکھ کر آپکی نذر کردُوں ۔

Sunday, 7 June 2015

جال۔ در ۔ جال۔ قسط ١4۔ (بھان متی کا کُنبہ)۔



جال۔ در ۔ جال۔ قسط ١4۔ (بھان متی کا کُنبہ)۔


گُزشتہ سے پیوستہ۔

پھر خُدا کے خاص فضل سے وُہ دِن بھی آن پُہنچا کہ ،، جسکے انتظار میں فرقان نے آٹھ ماہ تک رات و دِن کا اِمتیاز بُھلا کر مُسلسل مِحنت کی تھی۔ پیپر مِل کا اِفتتاح فرقان اُور شہریار مجددی کی شدید خُواہش پر حَسَّان صاحب نے اپنے دست مُبارک سے کیا۔ تمام شہر سے کاروباری، مذہبی ، اُور روحانی سلسلے سے منسلک افراد کو مدعو کیا گیا تھا۔ فرقان اُور شہریار ہر ایک آنے والے سے مبارکباد و دُعا وَصول کررہے تھے۔ بے شُمار لوگ حَسان میاں کے ارد گِرد دُعا و برکت کے حُصول کیلئے موجود تھے ۔ شہریار مجددی کے مُعزز گھرانے کے کافی افراد بھی اِس خُوشی کےمُوقع پر مُوجود تھے۔ مگر فرقان کی نِگاہیں بار بار فیکٹری کے صدر دروازے کی جانب اُٹھ رہی تھیں۔ اُسکی نِگاہوں کی تشنگی حَسَّان میاں سے پُوشیدہ نہ رہ سکی۔ جب بار بار فرقان کی نِگاہیں بے چینی سے مین گیٹ کا طواف کرنے لگیں تُو حَسَّان صاحب سے نہ رَہا گیا۔ وُہ فرقان کے نزدیک تشریف لا کر گُویا ہُوئے،، فرقان میاں جسکے انتظار میں آپکی نظریں دروازے پر جمی ہیں وہ تُو کب کے مِحفل میں تشریف لاچُکے ہیں۔۔۔۔۔۔!

اَب مزید پڑھیئے۔
فرقان نے حَسَّان صاحب کی توجہ دِلانے پر اَب جو مِحفل کے ایک گُوشے میں دیکھا۔ تُو نعمان ٹھیکدار عبدالرشید سے گفتگو کرتا نظر آگیا۔ حَسان صاحب نے مُسکراتے ہُوئے اِشارہ کیا۔ گُویا فرمارہے ہُوں کہ،، میاں اب کس بات کا انتظار ہے۔ جسکی دید کے منتظر تھے۔ وُہ آچُکا ہے۔ تُو جاکر مِل کیوں نہیں لیتے۔

فرقان بڑی چاہت بھرے جذبے کیساتھ نُعمان کی جانب بڑھا۔ لیکن جب وُہ نعمان کی پُشت کے قریب پُہنچا۔ تب نعمان کے ایک ہی جُملے نے اُسکے تمام جذبات پر برفیلی اُوس ڈال دی۔ نُعمان استہزائیہ انداز میں ٹھیکیدار عبدالرشید سے فرقان کی موجودگی سے بے خبرکہہ رہا تھا۔۔۔۔ عبدالرشید بھائی حَسان میاں نے تمام اناڑیوں کی ٹیم جمع کرکے اُس محاورے ،، بھان متی نے کُنبہ جُوڑا۔ کہیں کی اینٹ کہیں کا رُوڑا ،، کی یاد تازہ کروادی۔ فرقان اُور شہریار مجددی کی جوڑی ہی کیا کم تعجب خیز تھی۔ جو ایک بنک منیجر کو پیپر مِل کا منیجر بنا ڈالا۔ اب ایک ہمارے فرقان صاحب ہیں جنہیں کاروبار کی الف، ب کا علم نہیں ہے۔ تُو دوسرے پارٹنر بھی پیرزادے ہیں۔ ارے بھائی مجھے تُو یہ سمجھ نہیں آرہا ہے۔ کہ وہ فیکٹری چلائیں گے یا گدی نشینی سنبھالیں گے۔ پھر رہی سہی کسر کرامت صاحب کو تمام فیکٹری کا چارج دے کر حَسان صاحب نے پُوری کردی۔

فرقان نے سُوچا تھا کہ نعمان تمام باتوں کو بُھول چُکا ہُوگا۔ لیکن نعمان کی زہریلی اُور کَٹی جلی گفتگو سے فرقان کو خُوب اندازہ ہُوچُکا تھا۔ کہ نعمان نے آج تک فرقان کو دِل سے مُعاف نہیں کیا ہے۔ فرقان شائد اپنی ہتک کو برداشت کرجاتا۔ لیکن اُسے حَسَّان صاحب اُور شہریار مجددی کا یُوں محفل میں مذاق بنایا جانا بالکل پسند نہیں آیا۔ اسلئے وہ نعمان سے مُلاقات کئے بغیر ہی نعمان کی پُشت کا فائدہ اُٹھا کر دوسرے گوشے کی جانب بڑھ گیا۔

محفل کے اختتام پر حَسان صاحب نے پرسوز دُعا کروائی جسکے بعد یہ محفل برخاست ہُوگئی۔ نعمان کو حسان میاں کی طرف بڑھتا دیکھ کر فرقان نے ٹُوائلٹ کا رُخ کرلیا۔ وُہ نہیں چاہتا تھا کہ حَسان میاں کے سامنے کوئی بدمزگی کا معاملہ پیش آجائے۔

تمام احباب کے چلے جانے کے بعد حَسان میاں نے فرقان سے استفسار کیا۔۔۔ بھئ فرقان میاں آپکی نعمان صاحب سے مُلاقات کیسی رہی۔۔۔؟ حضرت میری نُعمان سے مُلاقات نہیں ہُوسکی۔ جواب میں فرقان نے تمام ماجرا سچ سچ سُنا تے ہُوئے کہا۔ کہ ابھی تک نعمان کا دِل میری جانب سے صاف نہیں ہُوا ہے۔ اُس نے جسطرح بھان متی کا تذکرہ کرتے ہُوئے ہماری مِثال دِی تھی۔ اُسکے بعد مجھ میں اتنی ہمت ہی باقی نہیں بچی تھی۔ کہ اُس کے ساتھ کوئی گُفتگو کرپاتا۔۔۔۔۔۔ ویسے حضرت یہ بھان متی تھی کُون۔۔۔؟ اُور اُس نے اینٹ رُوڑے کونسی عمارت بنانے کیلئے جمع کئے تھے۔۔۔۔ فرقان نے غمگین لہجے میں سوال کرتے ہُوئے کہا۔۔۔!

فرقان میاں آپ اپنا دِل نعمان کی گُفتگو سے چھوٹا نہ کریں۔ اُسکے بجائے کوئی اُور بھی ہُوتا تب بھی اِسی قسم کے تبصرے کے سِوا کوئی مختلف بات سامنے آنے کی کم از کم مجھے توقع نہیں تھی۔ دراصل اکثر لُوگ یہی سمجھتے ہیں کہ کاروبار میں ترقی کا راز صرف محنت ، لگن ، اُور سمجھ بُوجھ سے ہی ممکن ہے۔ جبکہ وُہ یہ بات اکثر فراموش کرجاتے ہیں۔ کہ اللہ کریم کے فضل کے بِنا کوئی تینوں خصوصیت رکھنے کے باوجود بھی کامیاب نہیں ہُوسکتا۔ یہ تینوں کوالٹی صرف عمل میں نِکھار کا باعث ہیں۔ منزل کو آسان بنانے میں معاون ہیں۔ مگر خُود منزل نہیں ہیں۔۔۔۔۔ جبکہ اللہ کریم چاہے تُو کسی ناسمجھ و نااہل پر بھی اپنے فضل کی ایسی برسات کر دیتا ہے۔ کہ بڑے بڑے دانا بھی مُنہ تکتے رِہ جاتے ہیں۔ حَسان میاں نے فرقان کی دلجوئی کرتے ہُوئے سلسلہ کلام جاری رکھتے ہُوئے کہا۔۔۔

اُور جہاں تک بات ہے بھان متی کے کُنبہ،، کی تُو یہاں بھی اکثر لُوگ غلطی کھا جاتے ہیں۔ بھان متی ہندوستان کی ریاست چتوڑ میں کافروں کے درمیاں روشنی کا منارہ تھیں۔ ظلمت و کفر کے پروردہ اُنہیں اپنے جیسا سمجھ کر اُن کا مذاق اُڑا رہے تھے۔وہ بظاہر ایک مجذوبہ کی شکل میں نظر آنے والی خاتون تھیں۔ لیکن درحقیقت تمام ریاست چتوڑ میں وہ واحد خاتون تھیں۔ جو کُفر سے بیزار توحید پرستی کی شمع کو اپنے سینے میں چھپائے بیٹھی تھیں۔ اُور جس وقت کافر وزیر کی صاحبزادی کےخُفیہ ایمان لانے کے بعد اُسے اپنے گھر میں پناہ دیکر علاوٗالدین خلجی کے معتوب سفیر کو اپنے گھر لے آئیں تھیں۔ تب کفر کے پرستار اُنکا مذاق اُڑانے کیلئے یہ جُملہ،، بھان متی نے کُنبہ جُوڑا۔ کہیں کی اینٹ کہیں کا رُوڑا۔ پھبتی کسنے کیلئے استعمال کیا کرتے تھے۔ کیوں کہ بھان متی نے نہ ہی شادی رچائی تھی۔ اُور نہ ہی تمام چتوڑ میں کوئی اُنکا رشتہ دار تھا۔ بس اسلام کے رشتے سے اُنہوں نے مسلم سفیر کو اپنا بیٹا اُور وزیر زادی کو اپنی بیٹی بنا لیا تھا۔ اُور کفار انہی دونوں پاکباز کرداروں کو اینٹ ، رُوڑے سے تشبیہ دِیا کرتے تھے۔

اب کتنی بدنصیبی کی بات ہے۔ کہ کل تک کُفار جو طعنہ اللہ کریم کی ایک ولیہ کو دِیا کرتے تھے۔ جو کہ نا صِرف مسلم سفیر و مسلم وزیر دادی کی محسنہ تھیں بلکہ ہندوستان کے تمام مسلمانوں کی مُحسنہ تھیں کہ مسلمانوں کے سفیر کی مدد فرمارہی تھیں۔ ہم بجائے اُنکے احسان مند ہُوتے۔ آج تک ہِنود کی روش اپناتے ہُوئے وہی طعنہ ناسمجھی میں اپنے مسلمان بہن بھائیوں کو بھی دیتے ہیں۔

لیکن فرقان میاں میں آپ سے پھر یہی کہوں گا۔ کہ آپ نعمان میاں کی جانب سے اپنا دِل میلا نہ کریں۔ مجھے یقین ہے کہ ایک نا ایک دِن وہ ضرور پلٹ کر آئے گا۔ تب تک اُسکی واپسی کا انتظار کرنا۔ اُور واپسی کی راہ کو مسدود نہ کرنا۔ آپ کل سے اپنی فیکٹری پر توجہ دینا شروع کردیں اللہ کریم آپکی مدد ضرور فرمائے گا۔ اُور ایک دِن آپ کو آپکی قربانی کا پھل ضرور مِل کررہے گا۔
(جاری ہے)

مُحترم قارئین کرام ،، آپ سب سے دُعاوٗں کیلئے ملتمس ہُوں۔ مجھے یقین ہے کہ رمضان المبارک کی اِن بابرکت ساعتوں میں آپکے ہاتھوں کی بُلندی کے دوران میں آپکی دعاؤں کا حِصہ ضرور رہا ہُونگا۔

پلکوں سے دَرِ یار پہ دستک دینا
اُونچی آواز ہُوئی عُمر کا سرمایہ گیا

Saturday, 6 June 2015

جال۔ در ۔ جال۔ قسط ١٣۔ (اِقرار جُرم پہ اِنعام)۔



جال۔ در ۔ جال۔ قسط ١٣۔ (اِقرار جُرم پہ اِنعام)۔



گُذشتہ سے پیوستہ۔

توبہ اُور قربانی میں شرط نہیں رکھی جاتی کرامت صاحب بے یقینی کی دلدل سے یقین کی رسی ہی تُم کو باہر نِکال سکتی ہے۔ تُم ایک قدم بڑھاکر تُو دیکھو پھر دیکھنا وہ کریم کس طرح تُمہاری مدد کے راستے کھولتا ہے۔ بیٹی بھی مِل جائے گی۔ اُور رَب کی رضا بھی۔ مگر فیصلہ تُمہی کو کرنا ہے البتہ میں تُمہیں یقین دِلاتا ہُوں کہ اِس قربانی کے بعد آپ بے روزگار نہیں رہیں گے۔ فرقان میاں کی نئی فیکٹری میں آپ جیسے تجربے کار لوگوں کی اشد ضرورت ہے۔ اُور جہاں تک بچی کی صحت کا مُعاملہ ہے۔ تو بزرگوں کی نعلین کے صدقے میں ہم ایک ایسی دوا جانتے ہیں جو اِس مرض میں اکسیر کا مقام رکھتی ہے۔ آپ بچی چند دِنوں کیلئے ہمارے گھر چھوڑ جائیے گا۔ اللہ کریم نے چاہا تو صحت مِل جائے گی۔ کیونکہ شِفا اُسکے حُکم میں ہے دوا تُو صِرف بہانہ ہے۔ حسان صاحب نے کرامت صاحب کی تشویش کا جواب دیتے ہُوئے کہا۔

پھر آپ ہی توبہ کرادیجئے۔ تاکہ میری نئی زندگی کا آغاز آپ ہی کے آستاں سے ہُوجائے۔ کرامت صاحب کا جُملہ مکمل ہُوتے ہی حسان میاں نے وجد میں باآواز نعرہ تکبیر بُلند کردیا۔

اَب مزید پڑھیئے۔

کرامت صاحب کی توبہ عجب رنگ دِکھا رَہی تھی۔ اُنکی چودہ برس کی صاحبزادی نُوشابہ حیرت انگیز طُور پر بُہت تیزی کیساتھ رُو بَصحت ہُورہی تھی۔ بَچی کی صحت دیکھ کر فرقان کو یُوں محسوس ہُورہا تھا جیسے گُویا قُدرت کرامت صاحب کی تُوبہ کی منتظر ہُو۔ یہاں کرامت صاحب نے توبہ کی چادر سے سر کو ڈھانپا اُور وہاں حَسَّان صاحب کی سادہ سی دوائی نے اپنا رَنگ دِکھانا شروع کردیا۔

اِس مرتبہ جب شہریار مجددی کی آمد ہُوئی تُو اُنہوں نے فرقان کو خُوشخبری سُنائی کہ وہ اپنا تمام بِزنس سمیٹ کر ہمیشہ کیلئے پاکستان آچکے ہیں۔ اُور اب وہ فرقان کی مُعاونت کیلئے ہر گھڑی دستیاب ہُونگے۔ جب فرقان نے کرامت صاحب کی توبہ اُور اُنکی صاحبزادی کا واقعہ سُنایا تُو شہریار مجددی کی آنکھیں بھی نم ہُوئے بِنا نہیں رِہ پائیں۔ فرقان نے بات کرتے ہُوئے شہریار مجددی کو یہ بھی بتایا کہ میں نے حَسان صاحب کی ایما پر آپکی اِجازت کے بغیر کرامت صاحب کو فیکٹری میں منیجر کی پُوسٹ آفر کردی ہے۔ اَب اگر آپ اُنکے مُشاہرے کی رقم تجویز کردیں تو اُنہیں باقاعدہ فیکٹری کی جانب سے منیجر کی مُلازمت کی آفر کردی جائے۔۔۔۔!

فرقان کے خاموش ہُوتے ہی شہریار مجددی نے سپاٹ لہجے میں دریافت کیا،، فرقان صاحب آپکے خیال میں اُنکی کتنی تنخواہ ہُونی چاہیئے۔۔۔۔؟ شہریار مجددی کے لہجے سے ایک لمحے کیلئے فرقان کو ایسا محسوس ہُوا جیسے شہریار مجددی کو اُسکی بات پسند نہ آئی ہُو۔۔۔۔۔۔ فرقان نے جھجکتے ہُوئے کہا ،، ویسے تُو کرامت صاحب کا اِس فیلڈ میں کوئی تجربہ نہیں ہے لیکن میرے خیال میں اُنکی تنخواہ کم از کم پچاس ھزار کے قریب تُو ہونی ہی چاہیئے۔ اُور چونکہ اِس فیصلے میں مجھے آپ سے مشاورت کا موقع نہیں مِلا۔ اِس لئے اگر آپ کو اعتراض نہ ہُو تو میں چاہوں گا کہ جب تک کرامت صاحب اِس فیلڈ میں مہارت حاصِل نہیں کرلیتے ۔ اُنہیں یہ تنخواہ میرے اکاؤنٹ سے ادا کی جائے۔

میرا بھی یہی خیال ہے کہ جب تک وُہ تجربہ حاصِل نہیں کرلیتے۔ اُنہیں فیکٹری سے تنخواہ نہ دِی جائے۔ شہریار مجددی کے جُملے سے فرقان کے اندیشے کو تقویت حاصِل ہُوگئی ۔۔۔۔ حالانکہ فرقان کو اُمید تھی کہ شہریار مجددی اُسکی اِس بات پر برہمی کا اِظہار کرے گا کہ وہ کیوں تنہا کرامت صاحب کی تنخواہ کا بوجھ برداشت کرے گا ۔ ۔۔۔۔۔۔۔جبکہ کرامت صاحب اگرچہ غیر تجربہ کار ہیں۔ مگر مُلازمت تُو وہ فیکٹری میں ہی کریں گے۔ لہذا تنخواہ بھی فیکٹری کے مشترکہ اکاونٹ سے ادا کی جانی چاہیئے۔ لیکن شہریار مجددی نے اُسکے فیصلے کو ایک لمحے میں قبولیت بخش کر اُسے ورطہِ حیرت میں ڈال دِیا تھا۔۔۔۔۔!

کیا سُوچ رہے ہیں فرقان میاں۔۔۔۔؟ کہیں میرے متعلق کِسی بدگُمانی میں تُو مُبتلا نہیں ہُوگئے آپ۔۔۔۔۔؟ شہریار مجددی نے فرقان کو سُوچ میں ڈوبا دیکھ کر سوال کیا۔۔۔۔ نہیں ایسی تو کوئی بات نہیں فرقان نے اپنے چہرے پر مسکراہٹ سجانے کی کوشش کرتے ہُوئے کہا۔۔۔۔۔!شہریار مجددی نے ہنوز سنجیدگی سے فرقان کی جانب دیکھتے ہُوئے سلسلہ کلام دوبارہ شروع کرتے ہُوئے کہا۔۔۔اَرے جناب میں تُو یہ کہنا چاہتا تھا۔ کہ آپکا فیصلہ بالکل دُرست ہے کہ جب تک فیکٹری اِسٹارٹ نہیں ہُو جاتی۔ اُنکی تنخواہ کی مد میں پچاس ھزار روپیہ آپ دے دیا کریں۔ اُور چُونکہ وہ بُہت بڑی قربانی دے کر آئے ہیں۔ اُور آپ نے اُنہیں ہمارے مُرشِد و مربی کی خُواہش کے احترام میں اِس فیکٹری میں جگہ دِی ہے ۔ تو لِہذا اِس سعادت مندی سے محروم مجھے بھی نہ کیجئے گا۔ اُور پچاس ھزار رُوپیہ میری جانب سے بھی اُنہیں پیش کردِیا کیجئے گا۔ تاکہ اُنہیں کم از کم اپنے کریم آقا کی نسبت سے ہم دُونوں مِلکر سالانہ ۱۲ لاکھ روپیہ پیش کرسکیں۔کیونکہ ایسی قربانی دینا ہر کس و ناکس کے بس کی بات نہیں لیکن جِسے اللہ کریم توفیق عطا فرمادے۔۔۔ اِسلئے ایسے عظیم انسان کو کم از کم اتنا تُو دینا ہی چاہیئے کہ اُنہیں اپنے کسی فیصلے پر پچھتاوا نہ ہُو۔ شہریار مجددی کی خُوبصورت سُوچ کی وجہ سے فرقان کا مُرجھایا ہُوا چہرہ ایک مرتبہ پھر سے کِھل اُٹھا۔

کرامت صاحب کی صاحبزادی نوشابہ ۴۰ دِن تک حَسَّان صاحب کی صحبت میں رِہ کر ایسی فیضیاب ہُوئی کہ ڈاکٹرز بھی نوشابہ کی رپورٹ دیکھ کر حیران ہُوگئے۔ یہاں تک کے مُلک کے تین مشہور و معروف ڈاکٹرز نے بھی حَسَّان صاحب کی کرامت کے سبب اُنکے سامنے زانوئے تلمذ طے کردئیے۔

کرامت صاحب نے فرقان اُور شہریار مجددی کی کافی منت سماجت کی کہ اُسے اسقدر زیادہ تنخواہ نہ دِی جائے۔ کیونکہ وُہ خُود کو اس مراعات کا اِہل نہیں سمجھتا ہے ۔ لیکن فرقان و شہریار مجددی کے آگے اُسکی ایک نہ چل سکی۔ کرامت صاحب یہ بات خُوب اچھی طرح سے جان چُکے تھے کہ فرقان و شہریار مجددی صاحب کی اُن پر انعامات کی بارِش بِلاوجہ نہیں تھی۔ چُونکہ فرقان و شہریار مجددی دُونوں کی زندگی میں ہی حَسَّان میاں کے حُکم و پسندکو وہی اہمیت حاصِل تھی۔ جو ایک نہایت فرمانبردار اُولاد کے نزدیک اپنے والدین کے اِحکامات و خُواہش کی ہُوتی ہے۔۔۔۔! اُور اب یہی آتشِ عشق کا سُوز کرامت صاحب اپنے سینے میں بھی چند دِنوں سے مِحسوس کرنے لگے تھے۔

کرامت صاحب چند دِنوں سے ایک بات اُور بھی مِحسوس کررہے تھے۔ اُور وُہ یہ کہ جب سے اُنہوں نے حَسَّان صاحب کے ہاتھ پر تُوبہ کی تھی۔ اُن کے دِل میں ہمہ وقت سکینہ رہنے لگا تھا۔ جہاں پہلے اُن کی بیقراری اُنہیں رات میں کئی بار جاگنے پر مجبور کردیتی تھی۔ اب رات کو ایک پُرسکون نیند اُنکی منتظر رہنے لگی تھی۔ اگرچہ وہ اب باقاعدگی سے آذان فجر سے ایک گھنٹہ قبل تہجد کیلئے اُٹھ جایا کرتے تھے۔ مگر چند گھنٹوں کی یہ نیند بھی اُنہیں ذِہنی اُور جسمانی تھکن کے دیس سے بُہت دُور لے آئی تھی۔ اُنہیں فرقان و شہریار کی مُحبت کا قرض چُکانے کی ایک تدبیر سُجھائی دِی۔ اُور اُنہوں نے چند ایسے لُوگوں کو شہر میں ڈھونڈ نِکالا۔ جو بِزنس ایڈمنسٹریشن میں اِنفرادی اُور نُمایاں حیثیت رکھتے تھے۔ وُہ شام کو فیکٹری سے فارغ ہُونے کے بعد ایسے اِحباب کی بزم میں ایک تا دو گھنٹے کیلئے پُہنچ جاتے۔ اُور وہاں پُہنچ کر اپنی خُودی بُھلاکر ایک سعادت مند طالب کا رُوپ دَھار لیتے۔جیسے خالی جام مے کی آرزو میں جُھکا چلا جاتا ہو۔

پھر خُدا کے خاص فضل سے وُہ دِن بھی آن پُہنچا کہ ،، جسکے انتظار میں فرقان نے آٹھ ماہ تک رات و دِن کا اِمتیاز بُھلا کر مُسلسل مِحنت کی تھی۔ پیپر مِل کا اِفتتاح فرقان اُور شہریار مجددی کی شدید خُواہش پر حَسَّان صاحب نے اپنے دست مُبارک سے کیا۔ تمام شہر سے کاروباری، مذہبی ، اُور روحانی سلسلے سے منسلک افراد کو مدعو کیا گیا تھا۔ فرقان اُور شہریار ہر ایک آنے والے سے مبارکباد و دُعا وَصول کررہے تھے۔ بے شُمار لوگ حَسان میاں کے ارد گِرد دُعا و برکت کے حُصول کیلئے موجود تھے ۔ شہریار مجددی کے مُعزز گھرانے کے کافی افراد بھی اِس خُوشی کےمُوقع پر مُوجود تھے۔ مگر فرقان کی نِگاہیں بار بار فیکٹری کے صدر دروازے کی جانب اُٹھ رہی تھیں۔ اُسکی نِگاہوں کی تشنگی حَسَّان میاں سے پُوشیدہ نہ رہ سکی۔ جب بار بار فرقان کی نِگاہیں بے چینی سے مین گیٹ کا طواف کرنے لگیں تُو حَسَّان صاحب سے نہ رَہا گیا۔ وُہ فرقان کے نزدیک تشریف لا کر گُویا ہُوئے،، فرقان میاں جسکے انتظار میں آپکی نظریں دروازے پر جمی ہیں وہ تُو کب کے مِحفل میں تشریف لاچُکے ہیں۔۔۔۔۔۔!

(جاری ہے)

مُحترم قارئین کرام ،، آپ سب سے دُعاؤں کیلئے ملتمس ہُوں۔ مجھے یقین ہے کہ رمضان المبارک کی اِن بابرکت ساعتوں میں آپکے ہاتھوں کی بُلندی کے دوران میں آپکی دعاؤں کا حِصہ ضرور رہا ہُونگا۔

پلکوں سے دَرِ یار پہ دستک دینا
اُونچی آواز ہُوئی عُمر کا سرمایہ گیا

Friday, 5 June 2015

جال در جال قسط ۱۲۔ (بھیگی آنکھیں خالی ہاتھ)۔



جال در جال قسط ۱۲۔ (بھیگی آنکھیں خالی ہاتھ)۔



گُزشتہ سے پیوستہ۔

آغا بابر عادی مجرم نہیں تھا۔ اُور نہ اِس سے پہلے اُسکا پولیس سا واسطہ پڑا تھا۔ بلکہ بعض پُولیس افسران تو خُود شہریار مجددی کی نسبت کیوجہ سے آغا بابر کو اِضافی پروٹوکول دِیا کرتے تھے۔ لیکن آغا بابر نے پُولیس کی چند گھنٹوں کی ابتدائی تواضع کے بعد ہی اپنے جُرم کا اقبال کرلیا۔ اُور مزید کُچھ مہمان نوازی کے بعد وُہ ساڑھے تین کروڑ روپیہ کی رقم بھی لُوٹانے پر رضامند ہُوگیا جو اُس نے مختلف حیلے بہانوں سے خُرد بُرد کی تھی۔

صرف ایک ہفتہ کے قلیل عرصے میں ڈی ایس پی اعتصام مجددی کی خاص توجہ کے باعث نہ صرف آغا بابر سے رقم بازیاب کرالی گئی بلکہ وہ تمام میٹریل بھی تاجروں نے تبدیل کردیا۔ جو دھوکہ دہی سے فرقان کی سائٹ پر جمع ہُوچُکا تھا۔ جبکہ حماد اینڈ سنز کا کوٹیشن منسوخ کرنے کے بعد فرقان کی فرمائش پر وہ ٹھیکہ ٹھیکیدار عبدالرحمن کو نئے سِرے سے دیدیا گیا۔

اَب مزید پڑھیئے۔

فرقان کا ٹھیکدار عبدالرشید کو کام دیئے جانے کا مشورہ نہایت مُفید ثابت ہُورہَا تھا۔ عبدالرشید نے سب سے پہلے فرقان کے مشورے سے نقشہ میں کچھ تبدیلیاں کروائیں۔ جسکی وجہ سے کُچھ غیر ضروری بلڈنگ کی تعمیرات کو فی الحال چھوڑ دیا گیا۔ جسکی فیکٹری کو کم از کم پانچ برس تک کوئی ضرورت ہی نہیں تھی۔ جبکہ کُچھ دیواروں کی اُونچائی اور حجم کو بھی کم کیا گیا۔ اس کے علاوہ فیکٹری کے فرنٹ ایلیویشن کو نہایت سادہ رکھا گیا۔ اِن تمام تبدیلیوں اُور آغا بابر کے کمیشن خُور ایجنٹوں سے نجات کے باعِث فیکٹری کی تعمیرات کے بجٹ میں کم از کم چالیس لاکھ روپیہ کی بچت متوقع تھی۔ عبدالرشید کے تجربے اُور اِخلاص کے باعث فرقان کو آج بھی کوئی ذہنی الجھن نہیں تھی۔ البتہ عبدالرشید کے مشورے پر فیکٹری کے تمام میٹریل کی خریداری اَب فرقان ہی کررہا تھا۔ جسکی وجہ سے تمام خام مال نہایت ارزاں قیمت پر بہترین کوالٹی کیساتھ فیکٹری کی تعمیرات میں شامل ہُورہا تھا۔ اور عبدالرشید کی خاص دلچسپی کے باعث فیکٹری کا پروجیکٹ ایک برس کے بجائے صرف آٹھ ماہ میں مکمل ہُونے کی اُمید تھی۔

تمام کام خُوش اسلوبی سے جاری تھا۔ ہر نیا دِن فیکٹری کے مکمل ہُونے کی نوید سُنا رہا تھا۔ مشینری کی خریداری شہریار مجددی کے سپرد تھی۔ کافی مشینری نصب بھی ہُوچُکی تھی ۔ لیکن چھ ماہ گُزر جانے کے باوجود بھی شہریار مجددی پاکستان شفٹ نہیں ہُو پائے تھے۔ البتہ وہ کُچھ وقت نِکال کر مہینے میں چار پانچ دِن کیلئے پاکستان ضرور آجاتے تھے۔ اُور فیکٹری کی تعمیر سے مطمئین تھے۔ فرقان کو بس ایک کمی محسوس ہُورہی تھی۔ کہ اُسکی معاونت کرنے کیلئے کوئی آغا بابر کی طرح کا ہوشیار آدمی نہیں تھا۔ جو باہر کے معاملات میں اِسکا ہاتھ بٹا سکتا۔ لیکن آغا بابر کے تجربے کے بعد فرقان بُہت ذیادہ محتاط ہُوگیا تھا۔ پھر ایک دِن اُسکے دِل میں خیال آیا کہ ،، وہ کیوں نہ حسَّان صاحب سے اِس مُعاملہ میں مدد حاصِل کرئے۔

یہی سُوچ کر اُس شام وہ حَسّان صاحب کی طرف چلدیا۔ نصف راستہ طے کرنے کے بعد جب وہ شہر کے ایک مشہور ہاسپٹل کے قریب سے گُزر رَہا تھا۔ اُسکی نِگاہ اُسی بنک منیجر کرامت صاحب پر پڑی۔ جُو کہ فرقان کے خیال کے مطابق نعمان اور فرقان کے درمیان جُدائی کا سبب بنا تھا۔ فرقان کے دِل میں جب بھی کرامت صاحب کا خیال آتا۔ تب ایک بات شِدت سے اُسکے ذہن کو اپنی گرفت میں لے لیا کرتی تھی۔ کہ کاش وہ کرامت صاحب کا مُنہ نوچ لے۔ جسکے پرپوزل کی وجہ سے اُن دُونوں دوستوں کے درمیان غیریت کی دیوار حائل ہوگئی تھی۔ کرامت صاحب کے نزدیک سے گُزرنے پر فرقان نے دیکھا کہ کرامت صاحب ایک ڈاکٹر کی منت سماجت کررَہے ہیں ۔

کرامت صاحب سے لاکھ اِختلاف کے باوجود بھی فرقان کو جُونہی یہ بات سمجھ میں آئی کہ کرامت صاحب اِس وقت کسی مشکل میں گرفتار ہیں۔ وہ اپنی طبعیت کے برخلاف وہاں سے بے رخی برت کر نہیں گُزر سکا۔ فرقان نے کار کو پارکنگ ایریا میں لگایا اور کرامت صاحب کی پریشانی جاننے کیلئے اُن کی جانب بڑھتا چلا گیا۔

کرامت صاحب سے مُلاقات کے بعد فرقان کو معلوم ہُوا کہ کرامت صاحب کی چودہ برس کی بیٹی چند ماہ سے کینسر کے مرض میں مُبتلا ہے اُور تقریباً ۳ ماہ سے اِسی ہسپتال میں زیر علاج ہے۔ کرامت صاحب کی بیٹی ہی انکی اکلوتی اُولاد تھی۔ جنہیں اب ڈاکٹرز لاعلاج قرار دے چُکے تھے۔ ڈاکٹرز کا کہنا تھا کہ کرامت صاحب کی بچی کا علاج پاکستان میں ممکن نہیں تھا۔ جبکہ کرامت صاحب کے وسائل اسقدر نہیں تھے۔ کہ وہ اپنی بچی کو علاج کیلئے بیرون مُلک لیجاسکتے۔ فرقان نے جب کرامت صاحب کی رُوداد اُنکی زُبانی سُنی تو وہ تمام اختلاف بُھلا کر کرامت صاحب کی دلجوئی کرتے ہُوئے کہنے لگا۔

کرامت صاحب آپ دلبرداشتہ نہ ہُوں انشاءَ اللہ آپکی بچی ایک دِن ضرور صحتیاب ہُوگی ۔ آپ خود بھی دُعا کرتے رہیں۔ اُور اللہ والوں سے بھی دُعا کی درخواست کرتے رہیں۔ کیونکہ جنہیں اللہ کریم سے نِسبت ہُوجاتی ہے اللہ کریم اُنکی دُعاؤں کو کبھی رد نہیں فرماتا۔ جو اپنی زندگی کا ایک ایک لمحہ اللہ کریم کی رضا کیلئے وقف کرچُکے ہُوں اللہ کریم بھی اُنکی بھیگی آنکھوں اُور اُٹھے ہُوئے ہاتھوں کی لاج ضرور رکھتا ہے۔ ویسے میں بھی اِس وقت ایک اللہ کے ولی کے آستانے پر حاضر ہُونے کی سعادت حاصِل کرنے جارہا تھا۔ اب انشاءَاللہ اُن سے کہوں گا کہ وہ آپکی بچی کیلئے ضرور دُعا کریں۔ مجھے قوی یقین ہے کہ اگر میں اُنکے ہاتھ اُٹھوانے میں کامیاب ہُوگیا ۔ تُو آپکی بچی کو اِک نئی زندگی ضرور حاصِل ہُوجائیگی۔

فرقان کی اخلاص بھری باتوں سے کرامت صاحب کا حُوصلہ بُلند ہُونے لگا تھا۔ کرامت صاحب نے تشکر کے جذبے سے فرقان کے ہاتھ دباتے ہُوئے کہا فرقان بھائی اگر آپ کی اِجازت ہُو تُو میں بھی اُنکی زیارت کا شرف حاصِل کرنا چاہوں گا۔۔۔۔۔۔؟ فرقان نے خُوشدلی سے جواباً کرامت صاحب کے ہاتھوں کو تھامتے ہُوئے کہا۔۔۔۔ کیوں نہیں کرامت صاحب آپ ضرور میرے ساتھ چلیں۔

حسَّان صاحب نے کرامت صاحب کا تعارف حاصِل کرنے اُور تمام کہانی کرامت صاحب کی زُبانی سُن لینے کے بعد دُعا کرنے سے قبل کرامت صاحب سے ایک سوال کیا۔۔۔۔ کرامت صاحب ایک بات تُو بتایئے کہ آپ جِس بنک میں مُلازم ہیں کیا اُسکے مالکوں سے لڑائی اور ضد قائم رکھنے کے بعد بھی آپ آسانی سے اُسی بنک میں اپنی مُلازمت پر قائم رِہ پائیں گے۔۔۔۔۔۔۔؟

کرامت صاحب نے حیرت سے حسَّان صاحب کی طرف دیکھتے ہُوئے کہا،، حضرت یہ کِس طرح ممکن ہے۔ یقیناً اِس تمام معاملہ میں ہار میرا مُقدر ہُوگی۔ کیونکہ جب میرے مالک ہی میرے کام سے خُوش نہیں ہُونگے تُو وہ کبھی بھی میرا وجود اپنی فرم میں برداشت نہیں کرپائیں گے۔

پھر آپ اللہ کریم کے واضح حُکم کے خِلاف جاکر اُور سُودی سسٹم کا حِصہ بننے کے باوجود یہ توقع کیوں رکھتے ہیں۔ کہ وہ کریم پروردگار جس نے آپکو عزت عطا فرمائی۔ علم عطا کیا، رزق مُہیا کیا ، اُور اُولاد کی نعمت سے نوازا،، مگر آپ نے پھر بھی اُسکا شُکر ادا کرنے کے بجائے وہ راہ اِختیار کی۔ جس راستے کو اُس پاک کریم رب نے اپنی مُخالفت کا رستہ بتایا۔ کیا آپ ظالموں اور غریبوں کے لہو سے اپنی حیات کا رِشتہ قائم رکھنے والوں کے لشکر میں شامل ہُونے کے باوجود بھی ۔ اُور اپنی تمام تر نافرمانیوں کے صلہ میں یہ اُمید رکھتے ہیں۔ کہ آپ کی زندگانی تنگ نہ ہُوگی۔ آپ کے چمن میں ہمیشہ بہار رہے گی۔ اُور خِزاں اور خار کبھی آپکا مُقدر نہیں بنیں گے۔۔۔۔۔۔؟ اُور اگر آپ ایسا ہی سُوچتے رہے ہیں۔ تو کرامت صاحب مُعاف کیجئے گا۔ پھر تُو آپ نے رازِق حقیقی کو اپنے دُنیاوی آقاؤں کی خُوشنودی سے بھی کم جاننے کا گُناہِ عظیم کیا ہے۔ ذرا دِل پر ہاتھ رکھ کر جواب دیجئے گا۔ کہ کیا آپ خُود اپنی بچی کی حالت کے زِمہ دار نہیں ہیں۔ حَسَّان صاحب نے نہایت دلسوز انداز میں کرامت صاحب کو دیکھتے ہُوئے کہا۔

کرامت صاحب کی زُباں حَسَّان صاحب کے بیاں کے آگے گنگ ہُوچُکی تھی۔ البتہ اُنکی چشم کے آبگینے مسلسل چھلک رہے تھے۔ جو یہ بتانے کیلئے کافی تھے کہ دِل کی زمین ابھی بالکل بنجر نہیں ہُوئی ہے۔ بلکہ وہ زَرا سی نمو کی منتظر ہے۔ کرامت صاحب نے چند لمحے خاموش رہنے کے بعد سسکتے ہُوئے کہا حضرت اگرچہ میری ریٹائرمنٹ میں صرف چار سال کا فاصلہ حائل ہے۔ اُور مجھے اپنے اسٹیٹس یا ریٹائرمِنٹ کی بھی پرواہ نہیں ہے۔ لیکن میں اپنی بچی کی خاطر اگر یہ قربانی دے بھی دُوں۔ تب بھی میں عُمر کے اُس حصے سے گُزر رَہا ہُوں۔ جہاں نہ میرا ناتواں جسم مزدوری کے قابل ہے اُور نہ ہی مجھے کوئی ہُنر آتا ہے کہ جس سے اپنے گھر والوں کی کفالت کرسکوں۔۔۔۔۔؟ تمام زندگی میں کُچھ معمولی سی رقم ہی پس انداز کرپایا تھا۔ یا بیگم کے زیورات تھے۔ مگر وہ بھی بچی کی بیماری کے نذر ہوچُکے ہیں۔ ڈرتا ہُوں کہ کہیں میری تُوبہ اُور میری قُربانی میرے اپنوں کے گلے کا پھندہ نہ بن جائے اُور میں پچھتاوے کے بِحر بیکراں میں گرفتار ہُو کر نہ رِہ جاؤں۔

توبہ اُور قربانی میں شرط نہیں رکھی جاتی امتیاز میاں۔ بے یقینی کی دلدل سے یقین کی رسی ہی تُم کو باہر نِکال سکتی ہے۔ تُم ایک قدم بڑھاکر تُو دیکھو پھر دیکھنا وہ کریم کس طرح تُمہاری مدد کے راستے کھولتا ہے۔ بیٹی بھی مِل جائے گی۔ اُور رَب کی رضا بھی۔ مگر فیصلہ تُمہی کو کرنا ہے البتہ میں تُمہیں یقین دِلاتا ہُوں کہ اِس قربانی کے بعد آپ بے روزگار نہیں رہیں گے۔ فرقان میاں کی نئی فیکٹری میں آپ جیسے تجربے کار لوگوں کی اشد ضرورت ہے۔ اُور جہاں تک بچی کی صحت کا مُعاملہ ہے۔ تو بزرگوں کی نعلین کے صدقے میں ہم ایک ایسی دوا جانتے ہیں جو اِس مرض میں اکسیر کا مقام رکھتی ہے۔ آپ بچی چند دِنوں کیلئے ہمارے گھر چھوڑ جائیے گا۔ اللہ کریم نے چاہا تو صحت مِل جائے گی۔ کیونکہ شِفا اُسکے حُکم میں ہے دوا تُو صِرف بہانہ ہے۔ حسان صاحب نے کرامت صاحب کی تشویش کا جواب دیتے ہُوئے کہا۔

پھر آپ ہی توبہ کرادیجئے۔ تاکہ میری نئی زندگی کا آغاز آپ ہی کے آستاں سے ہُوجائے۔ کرامت صاحب کا جُملہ مکمل ہُوتے ہی حسان میاں نے وجد میں باآواز نعرہ تکبیر بُلند کردیا۔

(جاری ہے)

مُحترم قارئین کرام ،، آپ سب سے دُعاؤں کیلئے ملتمس ہُوں۔ مجھے یقین ہے کہ رمضان المبارک کی اِن بابرکت ساعتوں میں آپکے ہاتھوں کی بُلندی کے دوران میں آپکی دعاؤں کا حِصہ ضرور رہا ہُونگا۔

پلکوں سے دَرِ یار پہ دستک دینا
اُونچی آواز ہُوئی عُمر کا سرمایہ گیا

Tuesday, 2 June 2015

جال۔ در ۔ جال۔ قسط ١١۔



جال۔ در ۔ جال۔ قسط ١١۔



گُزشتہ سے پیوستہ۔ 

فرقان نے ایک خیال کے تحت ٹھیکیدار عبدالرحمن سے مُخاطب ہُوتے ہُوئے کہا۔۔ عبدالرحمن بھائی کیا آپ کل فجر کی نماز کے فوراً بعد سائٹ پر آسکتے ہیں۔۔۔۔۔؟ ٹھیکیدار عبدالرحمن کے حامی بھرنے کے بعد فرقان ٹھیکیدار عبدالرحمن کو رخصت کرنے کے بعد ایک مرتبہ پھر اپنے کمرے میں آکر لیٹ گیا۔ لیکن اب اُسکی آنکھوں میں اِضطراب کے سائے لہرا رہے تھے۔ وہ سُوچ بھی نہیں سکتا تھا۔ کہ آغا بابر جیسا بُردبار شخص ایسی کِسی گھٹیا حرکت کا مرتکب بھی ہُوسکتا تھا۔ لیکن ٹھیکیدار عبدالرحمن کی گُفتگو نے فرقان کے ذِہن میں بُہت سے سوالات پیدا کردیئے تھے۔ جنہوں نے فرقان کے ذہن کو بہرحال پراگندہ کردیا تھا۔

اَب مزید پڑھیئے۔ 

فرقان کوشش کے باوجود بھی تمام رات آرام سے سُو نہیں پایا۔ بے شُمار خَدشات و پریشان خیالات اُسکے ذِہن کو تمام رات بھٹکاتے رہے۔ وُہ دِل ہی دِل میں خُدا سے دُعا کررہا تھا۔ کہ کاش اُسکے تمام خَدشات بے بنیاد ہُوجائیں۔ اُور ٹھیکیدار عبدالرحمن کی بیان کردہ تمام باتیں اے کاش غلط فہمی کا شاخسانہ ثابت ہُوں۔ اِسی اُدھیڑ بن میں فرقان جاگتا رَہا یہاں تک کہ رات گُزر گئی اُور موذن نے رات کی سیاھی کے ڈھلنے کا اعلان آذان کی صورت میں بُلند کردیا۔

فرقان فجر کی نماز و اذکار سے فارغ ہُونے کے بعد جب سائٹ پر پُہنچا تُو ٹھیکیدار عبدالرحمن پہلے ہی سے اُسکی آمد کا منتظر تھا۔ سب سے پہلے وُہ دُونوں اینٹوں کے ڈھیر پر پُہنچے۔ جہاں تھوڑی سی بھاگ دُوڑ کے بعد فرقان کو ٹھیکیدار عبدالرحمن کی بات میں صداقت نظر آگئی۔ اینٹوں کے ہر ڈھیر میں نصف سے زائد غیر معیاری اینٹیں ٹھیکیدار عبدالرحمن کی تشویش کی تصدیق کررہی تھیں۔ اِسکے بعد جب فرقان نے اِسٹاک شیڈ میں سیمنٹ کی چند بوریوں کا دامن چاک کیا۔ تب ایک بُوری سیمنٹ بھی ایسی نہ تھی۔ کہ جِس میں سیمنٹ نے گُٹھلیوں کی شکل اختیار نہ کرلی ہُو۔

بے شک آغا بابر کی پرسنالٹی سے مُتاثر ہُوکر فرقان دُھوکہ کھا چُکا تھا۔ ۔۔۔۔ فرقان اپنی پیشانی پر آئے پسینے کے قطرات کو صاف کرتے ہُوئے سُوچنے لگا۔۔۔۔۔۔ نجانے کب سے آغا بابر آستین کے سانپ کی طرح شہریار مجددی کو نقصان پُہنچا رہا ہُوگا۔۔۔۔۔۔۔۔ فرقان کے اندازے کیمطابق وہ صِرف اِن چند دِنوں میں کم از کم بیس لاکھ روپیہ کی ہیر پھیر کر چُکا تھا۔ اُور فرقان کو حیرت تھی کہ شہریار مجددی کے بقول آغا بابر گُزشتہ آٹھ برس سے شہریار مجددی کی زمینوں اور پاکستان میں پھیلے بزنس کو سنبھال رَہا تھا۔ اِس حساب سے فرقان کو یقین تھا کہ آغا بابر اِس دُورانیے میں کروڑوں کی خُرد بُرد کرچکا ہُوگا۔

جب آفس میں فرقان نے ٹھیکیدار عبدالرحمن کا کوٹیشن فارم تلاش کرنے کی کُوشش کی تو یہ سعی بھی لاحاصل رہی تمام فائل میں ٹھیکیدار عبدالرحمن کا کوٹیشن فارم سِرے سے موجود ہی نہیں تھا۔ جبکہ ٹھیکیدار عبدالرحمن کا اِصرار تھا کہ اُس نے خُود اپنا فارم بند لفافے میں آغا بابر کو پیش کیا تھا۔ جِسے اُسکے سامنے ہی دیگر لفافوں کے ساتھ رَکھ دِیا گیا تھا۔ مگر اب ایسا لگ رَہا تھا جیسے اُس لفافے کو زمین نِگل گئی ہُو۔

تھوڑی سی مزید تفشیش کے بعد فرقان پر یہ راز بھی آشکار ہُوگیا کہ حماد اینڈ سنز کے ساتھ جتنے بھی کوٹیشن فارم فرقان کو دِکھائے گئے تھے۔ وہ تمام کوٹیشنز بھی جعلی تھی۔ جو زیادہ ریٹ کیساتھ شائد اسلئے رکھے گئے تھے۔ تاکہ حماد اینڈ سنز کے کوٹیشن کو پاس کیا جاسکے۔۔۔۔ فرقان نے رسٹ واچ پر نِگاہ ڈالی تُو صبح کے آٹھ بجنے کو تھے۔ فرقان نے تمام فائل کو احتیاط سے ٹیبل کی دراز میں منتقل کیا اُور آفس سے باہر آنے کے بعد چوکیدار کو ہدایات دیں۔ کہ میرے اس طرح علی الصبح آنے کا تذکرہ کسی سے بھی نہ کیا جائے یہاں تک کہ آغا بابر صاحب کو بھی اِسکی قطعی خبر نہیں ہُونی چاہیئے۔یہ کہہ کر فرقان نے ایک پانچ سو روپیہ کا نُوٹ چوکیدار کی جیب میں زبردستی منتقل کردیا۔ اُور اسکے بعد فرقان ٹھیکیدار عبدالرحمن کے ساتھ واپس روانہ ہُوگیا۔

چند گھنٹوں بعد فرقان جب معمول کے مطابق سائٹ پر دوبارہ پُہنچا تو آغا بابر نے ہمیشہ کی طرح بڑے پُرتپاک انداز میں فرقان کا استقبال کیا۔ چند رسمی جُملوں کے بعد فرقان نے بڑی لاپرواہی سے ٹھیکیدار عبدالرحمن کے کُوٹیشن فارم کے متعلق آغا بابر سے استفسار کیا۔۔۔۔ فرقان کے سوال کی وجہ سے آغا بابر کے چہرے پر ایک رنگ آکر گُزر گیا۔ لیکن جلد ہی اُس نے خُود کو سنبھالتے ہُوئے فرقان سے نارمل انداز میں کہا،، اِس نام کا بندہ میرے پاس آیا تُو تھا۔۔۔۔ لیکن شائد وہ لفافہ مجھ سے کہیں کھو گیا ہے۔۔۔ جسکے لئے میں آپ سے معذرت خُواہ ہُوں۔

فرقان نے ہمیشہ کی طرح مسکراتے ہُوئے کہا،، آغا صاحب کوئی بات نہیں بس وہ ہمارا پُرانا جاننے والا تھا۔ اُور اسنے پیغام بھیجا تھا کہ اُسکے کوٹیشن کا بھی خیال رکھا جائے۔ مگر آپ بالکل بھی پریشان نہ ہُوں۔۔۔۔۔ میں سب سنبھال لُونگا۔ آپ بس سائٹ کے کاموں پر دھیان رکھیں تاکہ کوئی غیر معیاری میٹریل ہمارے کام میں شامل نہ ہُونے پائے۔ فرقان کے اِس جملے پر آغا بابر کے چہرے کا رنگ ایک مرتبہ پھر متغیر ہُوگیا۔ لیکن دوسرے ہی لمحے اُس نے خود پر قابو پاتے ہُوئے بڑی ڈھٹائی سے فرقان کی توجہ حاصل کرتے ہُوئے کہا،، فرقان صاحب میٹریل کی کوالٹی کی آپ بالکل پرواہ نہ کریں۔ جب تک میں یہاں ہُوں ایک مُٹھی بھر غیر معیاری سامان بھی فیکٹری کی حدود میں نہیں آسکتا۔ کیونکہ تمام آنے والے سامان کی میں خُود جانچ پڑتال کرتا ہُوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ فرقان دِل ہی دِل میں کہہ رہا تھا۔ کمبخت کِس ڈھٹائی سے جھوٹ بُول رہا ہے۔ ۔۔ ٹھیکیدار عبدالرحمن نے اگر بروقت مُطلع نہ کیا ہُوتا تُو نجانے کتنا کباڑ خانہ اصل سے بھی زائد قیمت پر فیکٹری میں جمع ہُوتا رِہتا۔

فرقان نے اُسی شام تمام معاملہ حسَّان صاحب کے سامنے پیش کردِیا۔ جسکے بعد حسان صاحب نے فرقان کو حُکم دیا کہ شہریار مجددی کو میرا پیغام پُہنچاؤ کہ وُہ فورا چند دِن کیلئے پاکستان آجائے۔ تیسرے دِن شہریار مجددی ، حسَّان صاحب کے ایما پر خاموشی سے پاکستان چلا آیا۔ تمام معاملات کا علم ہُونے کے بعد شہریار مجددی نہ صِرف حیران تھا بلکہ اُس نے حسان صاحب سے برملا کہا کہ اگر کوئی اُور مجھے یہ بات بتاتا تُو شائد میں اتنی جلد اعتبار بھی نہیں کرپاتا۔ اچھا ہُوا کہ آپ نے مجھے بروقت مُطلع کردیا۔

شہریار مجددی نے اُسی وقت اپنے بڑے بھائی ڈی ایس پی اعتصام مجددی کو کال مِلا کر تمام تفصیلات سے آگاہ کردیا۔ جسکے بعد ڈی ایس پی اعتصام نے فوری طور پر اپنے ماتحت افسران کو حُکم دیا کہ وہ فوری طور پر آغا بابر کو گرفتار کریں اُور تمام معاملات کی تفشیش مکمل کرنے کے بعد چھتیس گھنٹے میں رپورٹ پیش کریں۔

آغا بابر عادی مجرم نہیں تھا۔ اُور نہ اِس سے پہلے اُسکا پولیس سا واسطہ پڑا تھا۔ بلکہ بعض پُولیس افسران تو خُود شہریار مجددی کی نسبت کیوجہ سے آغا بابر کواِضافی پروٹوکول دِیا کرتے تھے۔ لیکن آغا بابر نے پُولیس کی چند گھنٹوں کی ابتدائی تواضع کے بعد ہی اپنے جُرم کا اقبال کرلیا۔ اُور مزید کُچھ مہمان نوازی کے بعد وُہ ساڑھے تین کروڑ روپیہ کی رقم بھی لُوٹانے پر رضامند ہُوگیا جو اُس نے مختلف حیلے بہانوں سے خُرد بُرد کی تھی۔

صرف ایک ہفتہ کے قلیل عرصے میں ڈی ایس پی اعتصام مجددی کی خاص توجہ کے باعث نہ صرف آغا بابر سے رقم بازیاب کرالی گئی بلکہ وہ تمام میٹریل بھی تاجروں نے تبدیل کردیا۔ جو دھوکہ دہی سے فرقان کی سائٹ پر جمع ہُوچُکا تھا۔ جبکہ حماد اینڈ سنز کا کوٹیشن منسوخ کرنے کے بعد فرقان کی فرمائش پر وہ ٹھیکہ ٹھیکیدار عبدالرحمن کو نئے سِرے سے دیدیا گیا۔

(جاری ہے)

مُحترم قارئین کرام ،، آپ سب سے دُعاؤں کیلئے ملتمس ہُوں۔

پلکوں سے دَرِ یار پہ دستک دینا
اُونچی آواز ہُوئی عُمر کا سرمایہ گیا

Monday, 1 June 2015

جال۔ در ۔ جال قسط ١٠۔



جال۔ در ۔ جال قسط ١٠۔



گُذشتہ سے پیوستہ۔

تمام واقعات جان کر شہریار مجددی نے رشک بھری نِگاہوں سے فرقان کو دیکھتے ہُوئے کہا،، فرقان میرے بھائی تُم نہایت عظیم ہُو۔ جس نے حسان صاحب کی صحبت میں رِہ کر خُدا کی رضا و نافرمانی کی معرفت حاصِل کرلی۔ آج سے تُم اس لڑائی میں تنہا نہیں ہُو۔ میں ایک حقیقی بھائی کی طرح تمہارے شانہ بشانہ چلنے کو اپنے لئے اعزاز سمجھوں گا۔ میں آج اِسی وقت اپنے قابل احترام بُزرگ کے رُوبرو تُمہارے ساتھ اپنی پارٹنر شپ کا اعلان کرتا ہُوں۔ اِس تمام پروجیکٹ میں آپ میرے نصف حِصہ کے شراکت دار ہیں۔ میں کل ہی اپنے منیجر کی مُلاقات تُم سے کروا دُونگا۔ جسکے فوری بعد آپ اپنی جگہہ پر کنسٹریکشن شروع کروا دیجئے گا۔

حَسان صاحب نے شہریار مجددی کی فراخدلانہ پیشکش کے بعد اپنے دونوں ہاتھ بُلند فرمادیئے اور بُہت دیر تک دونوں کی خیر و بھلائی کیلئے انتہائی رِقت سے دُعا مانگتے رہے۔

اَب مزید پڑھیئے۔

اگلے دِن حسبِ وعدہ شہریار مجددی نے فرقان کی مُلاقات اپنے بزنس منیجر آغا بابر سے کروانے کے بعد فرقان کو بتایا کہ وہ اپنا کاروبار سمیٹنے کی خاطر آج شام ہی کو چند دِنوں کے لئے دُبئی جارہا ہے۔ آغا بابر چہرے مُہرے سے ہی ایک تجربہ کار اور سمجھدار اِنسان نظر آتا تھا۔ لیکن جِس رفتار سے آغا بابر نے فرقان کے پلاٹ کیلئے نقشہ ڈرافٹ کروایا۔ اُور دوسری جانب پلاٹ کے ایک مُناسب اِحاطے پر کنسٹرکشن کا خام مال حِفاظت سے رکھنے کیلئے عارضی شیڈ تیار کروا رَہا تھا۔ فرقان بھی دِل سے آغا بابر کو داد دیئے بغیر نہ رِہ سکا۔ فرقان سُوچنے لگا۔ آغا بابر کا شُمار بِلا شُبہ اُن لوگوں میں ہُوتا ہے۔ جو وقت کے ایک ایک لمحے کی قدر کرنا جانتے ہیں۔ شائد اِسی وجہ سے فرقان دِن بدِن آغا بابر کا گرویدہ ہُوتا چلا جارہا تھا۔

صرف چند دِن کے اندر اندر آغا بابر نے شہر کی مشہور ومعروف تعمیراتی کمپنیوں سے کوٹیشن حاصِل کرنے کے بعد فرقان کے مشورے سے تعمیراتی کام کا ٹھیکہ ایک کمپنی کو دیدیا۔ جسکے نرخ دوسری تمام کمپنیوں سے کافی کم تھے۔ فیکٹری کےتعمیراتی کام کا ٹھیکہ دینے کے دوسرے دِن ہی آغا بابر نے فرقان سے مُلاقات کی اُور اُسے بتایا کہ ہمیں تعمیراتی میٹریل ابھی سے اِسٹاک کرلینا چاہیئے۔ کیونکہ دُوماہ بعد بجٹ آرہا ہے۔ جسکے بعد مُلک بھر میں گورنمنٹ کے رُکے ہُوئے کام دوبارہ سے شروع ہُوجایئنگے۔ جسکے بعد یقینی طُور پر ایک طرف خام مال کے ریٹ بڑھ جانے کا اندیشہ ہے۔ تُو دوسری طرف کام کی زیادتی کیوجہ سےمیٹریل کے شارٹ ہوجانے کا بھی خطرہ موجود ہے۔ فرقان پہلے ہی آغا بابر کی پرسنالٹی سے کافی مُتاثر ہُوچکا تھا۔ لیکن آج وہ آغا بابر کی دُور اندیشی کا بھی قائل ہُوچکا تھا۔

فرقان کی منظوری کے بعد ابتدائی طُور پر تین لاکھ اینٹوں کیساتھ ریتی ، سیمنٹ ، اور سریا بھی فیکٹری کے اِحاطے میں اُترنے لگا۔ جبکہ آغا بابر کا خیال تھا کہ سریا بھی بجائے ڈیلر کے کارخانوں سے خریدنا زیادہ فائدہ مند رہے گا۔ یہاں بھی فرقان کے پاس آغا بابر کی تائید کے سِوا کوئی چارہ نہیں تھا۔

تمام معاملات بڑے بہترین انداز سے انجام پزیر ہُورہے تھے۔ آغا بابر کی موجودگی میں فرقان خُود کو بُہت ہلکا پھلکا محسوس کررہا تھا۔ اُس رات وہ اپنے کمرے میں لیٹا یہی سُوچ رَہا تھا۔ کہ اگر آغا بابر کا ساتھ نہ ہُوتا تُو وہ کبھی بھی اتنی سُرعت کیساتھ فیکٹری کی تعمیرات شروع نہ کرواسکتا تھا۔ تبھی اُسکے مُلازم نے اسکے دروازے پر دستک دے کر اُسے اطلاع دِی کہ کوئی صاحب آپ سے مُلاقات کیلئے آئے ہیں۔ میں نے اُنہیں کہا بھی کہ یہ وقت فرقان صاحب کے آرام کا ہے۔ مگر وہ صاحب بضد ہیں کہ آپ سے اِسی وقت مُلاقات کریں گے۔

فرقان نے گھڑی کی جانب دیکھا ۔ رات کے پُونے گیارہ بجنے کو تھے۔ مگر حسان صاحب کی تربیت کی وجہ سے فرقان نے بستر چھوڑ دِیا کہ نجانے کون پریشان حال انسان ہُو۔ جِسے اس وقت اُسکی مدد دَرکار ہُو۔ ویسے بھی حسان صاحب فرمایا کرتے تھے۔ کہ ایسے وقت جب بستر کو چھوڑنے کو دِل نہ چاہے اللہ کریم اپنے نیک بندوں کو بعض اُوقات اپنے فرشتوں کی صورت آزماتا ہے۔ تاکہ سب پر واضح ہُوجائے کہ اللہ والے اپنے آرام پر مخلوقِ خُدا کی خِدمت کو فوقیت دیتے ہیں۔

دروازہ کھولنے پر فرقان کی نِگاہ جس شخص پر پڑی وُہ کوئی انجان شخص نہیں بلکہ ٹھیکیدار عبدالرحمن تھا۔ جِس نے نعمان و فرقان کی پہلی فیکٹری کی تعمیر اول تا آخر کی تھی۔ فرقان نے سلام کے بعد ٹھیکیدار عبدالرحمن کو اندر آنے کی دعوت دی۔ جِسے ٹھیکیدار عبدالرحمن نے فرقان کا شُکریہ ادا کرتے ہُوئے قبول کرلی۔

ڈرائینگ رُوم میں بیٹھ کر بعد چند رسمی جُملوں کے بعد ہی ٹھیکیدار عبدالرحمن نے شِکایت بھرے لہجے میں فرقان کو مُخاطب کرتے ہُوئے کہا ،، کیا آپ میرے کام سے مطمئین نہیں تھے جو اس مرتبہ فیکٹری کی تعمیرات کا کام انتہائی مناسب نرخ ہُونے کے باوجود بھی آپ نے مجھے نہیں دیا۔۔۔؟

نہیں عبدالرحمن بھائی ایسی کوئی بات نہیں ہے۔۔۔۔۔۔۔ بلکہ مجھے تو معلوم بھی نہیں تھا کہ آپ نے بھی کُوٹیشن فارم بھرا ہے۔۔۔۔۔ اسلئے جس کمپنی کے نرخ مجھے سب سے کم نظر آئے ہم نے اُسی کمپنی کو ٹھیکہ دیدیا۔۔۔۔۔۔ فرقان نے ٹھیکیدار عبدالرحمن کی دلجوئی کرتے ہُوئے کہا۔۔۔

سب سے کم نرخ۔۔۔۔۔؟ لیکن جہاں تک میری معلومات ہیں حماد اینڈ سننز کے ریٹ تُو ہماری کمپنی سے ۴۰ فیصد زائد تھے۔ پھر بھی قرعہ فال اُسی کے نام نِکلا۔۔۔۔۔۔ٹھیکیدار عبدالرحمن نے تعجب کا اظہار کرتے ہُوئے کہا۔

لیکن عبدالرحمن بھائی میں نے خُود تمام کوٹیشنز کو پڑھا تھا۔ اُور حماد اینڈ سنز کے ریٹ ہی سب سے کم تھے ۔۔۔ ویسے آپ نے فارم کس نام سے بھرا تھا۔۔۔۔؟ فرقان نے ٹھیکیدار عبدالرحمن سے حیرت کے عالم میں استفسار کیا۔۔۔

فرقان صاحب نام تو وہی پُرانا والا ہے ۔۔۔ (اے، آر ، سی ،سی) میں نے تُو سوچا تھا کہ آپ نام پڑھتے ہی پہچان جائیں گے۔۔۔ ٹھیکیدار عبدالرحمن نے جواب دیتے ہُوئے شکوہ کیا۔۔۔۔۔۔۔۔

لیکن عبدالرحمن بھائی مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ اس نام کا تُو کوئی کُوٹیشن فارم سرے سے موجود ہی نہیں تھا اُن تمام فارمز میں۔ فرقان نے اپنے ذِہن پر زُور ڈالتے ہُوئے کہا۔۔۔۔ لیکن کل آپ سائٹ پر ہمارے عارضی آفس میں تشریف لے آئیے گا۔ میں دوبارہ تمام کوٹیشن چیک کرلونگا۔ اور اسطرح آپ بھی مطمئین ہُوجایئنگے۔

بُہت اچھی بات ہے ۔فرقان صاحب میں کل ضرور حاضِر ہُوجاؤنگا۔ یہ کہہ کر ٹھیکیدار عبدالرحمن مصافحہ کیلئے اُٹھ کھڑا ہُوا۔ فرقان دروازے تک ٹھیکیدار عبدالرحمن کو چھوڑنے کیلئے آیا۔ تبھی ٹھیکیدار عبدالرحمن نے چُونکتے ہُوئے دوبارہ فرقان کو مُخاطب کرتے ہُوئے کہا۔۔ اچھا ہُوا ۔ مجھے ابھی یاد آگیا۔۔ فرقان صاحب آپ چُونکہ میرے دیرینہ مہربان ہیں۔ اسلئے آپ کو ایک مشورہ دینا چاہتا ہُوں،، کہ آپ جو دونمبر کوالٹی کی اینٹیں اور ایکسپائر سیمنٹ عمارت میں استعمال کرنے جارہے ہیں۔ یہ عمارت کو بُہت جلد بوسیدہ کردے گی۔ میرے خیال میں آپکو اپنی فیکٹری میں چند لاکھ کے فائدے کیلئے ایسا گھٹیا میٹریل استعمال نہیں کرنا چاہیئے۔۔۔۔۔۔۔

گھٹیا اور دونمبر میٹریل۔۔۔۔۔۔؟ بھلا میں کیوں اپنی فیکٹری میں ایسا میڑیل استعمال کرنے لگا۔ آپکو ضرور کوئی غلط فہمی ہُوئی ہُوگی عبدالرحمن بھائی۔۔۔ فرقان نے ہنستے ہُوئے کہا۔

لیکن میں نے خُود آپکی فیکٹری میں ۲ نمبر میٹریل اُترتے دیکھا ہے۔ جِسے دیکھ کر مجھے حیرت بھی بُہت ہُوئی تھی۔ کیونکہ آپ نے تُو اُس وقت بھی گھٹیا میٹریل استعمال نہیں کیا تھا۔ جب آپ نعمان صاحب کیساتھ اپنی پہلی فیکٹری بنا رہے تھے ۔ حالانکہ کہ مجھے خُوب یاد ہے اُس وقت تو اکثر رقم کی کمی کے باعث آئے دِن کام بھی بند ہُوجایا کرتا تھا۔ تُو اَب کیوں تمام شہر کا ایکسپائر سیمنٹ آپکی فیکٹری میں جمع ہُورہا ہے۔۔۔۔؟ کیا فیکٹری کا میٹریل آپ خُود نہیں خرید رہے ہیں۔۔۔۔؟ ٹھیکیدار عبدالرحمن نے اپنی حیرت کا اِظہار کرتے ہُوئے کہا۔

فرقان نے ایک خیال کے تحت ٹھیکیدار عبدالرحمن سے مُخاطب ہُوتے ہُوئے کہا۔۔ عبدالرحمن بھائی کیا آپ کل فجر کی نماز کے فوراً بعد سائٹ پر آسکتے ہیں۔۔۔۔۔؟ ٹھیکیدار عبدالرحمن کے حامی بھرنے کے بعد فرقان ٹھیکیدار عبدالرحمن کو رخصت کرنے کے بعد ایک مرتبہ پھر اپنے کمرے میں آکر لیٹ گیا۔ لیکن اب اُسکی آنکھوں میں اِضطراب کے سائے لہرا رہے تھے۔ وہ سُوچ بھی نہیں سکتا تھا۔ کہ آغا بابر جیسا بُردبار شخص ایسی کِسی گھٹیا حرکت کا مرتکب بھی ہُوسکتا تھا۔ لیکن ٹھیکیدار عبدالرحمن کی گُفتگو نے فرقان کے ذِہن میں بُہت سے سوالات پیدا کردیئے تھے۔ جنہوں نے فرقان کے ذہن کو بہرحال پراگندہ کردیا تھا۔

(جاری ہے)

مُحترم قارئین کرام ،، آپ سب سے دُعاؤں کیلئے ملتمس ہُوں۔

پلکوں سے دَرِ یار پہ دستک دینا
اُونچی آواز ہُوئی عُمر کا سرمایہ گیا

Sunday, 31 May 2015

جال در جال قسط ٩



جال در جال قسط ٩ 


گُزشتہ سے پوستہ۔

حسان صاحب نے کاغذ پر ایک سرسری نِگاہ ڈالنے کے بعد وہ کاغذ تِہہ کرنے کے بعد اپنی ڈائری میں رکھتے ہُوئے فرقان سے فرمایا،، اگر میرا اندازہ ٹھیک ہے تُو سمجھ لُو کہ تُمہارے اِمتحان کے دِِِن انشاءاللہ عزوجل بُہت جلد ختم ہُونے کو ہیں۔ بس اللہ کریم کرم فرمائے۔ اور یہ وہی شہریار مجددی ہُو جو میں سمجھ رَہا ہُوں۔۔۔۔ نام تُو وہی ہے۔ لیکن یہ دُبئی کے بجائے پاکستان میں کیا کررہا ہے۔ بس یہ مُعمہ حل ہُونا باقی ہے۔ اور اگر یہ وہی شہریار مجددی ہے تو ابتک میری نظروں سے کیوں اُوجھل ہے۔۔۔۔۔؟

اَب مزید پڑھیئے۔

حسان صاحب نے فرقان کو تاکید کی۔ وہ جلد از جلد شہریار مجددی سے رابطہ کرے اور اُس کے ساتھ ہماری نِشست کا اہتمام کرے۔مزید کچھ گفتگو کے بعد یہ مجلس برخاست ہُوگئی۔

حسان صاحب کے گھر سے واپس آنے کے بعد دُو دِن تک فرقان اپنے مسائل میں ایسا گِھرا کہ اُسے حَسان صاحب کی ہِدایات یاد ہی نہ رہیں۔ جُوں جُوں وقت گُزرتا جارہا تھا۔ مسائل بڑھتے ہی جارہے تھے۔ بچوں کے اسکول ، ٹیوشن کی فیسیں ، یوٹیلٹی بِلز ، مکان کا کرایہ، اور تمام گھریلو اِخراجات کیلئے رقم کی ضرورت تھی۔ لیکن فرقان کی جیب ہنوز خالی تھی۔ ایسے وقت میں کہ جب چہار جانب سے فرقان پر مایوسی کے بادل اُمنڈتے چلے آرہے تھے۔ اور کوئی تدبیر سُجھائی نہیں دے رہی تھی۔ فرقان کی بیگم نے اُسکی ہمت بندھاتے ہُوئے اُسکی گُود میں اپنا تمام زیور لاکر ڈال دیا۔

اِس تمام زیور میں وہ چار خُوبصورت کنگن بھی موجود تھے۔ جو شادی کی رات فرقان نے بیگم کو بڑے چاؤ سے پہنائے تھے۔ اور امی کی طرف سے دیا جانے والا وہ خاندانی ہار بھی دِکھائی دے رَہا تھا جو امَّاں کو دادی کی طرف سے مِلا تھا۔ فرقان نے وہ تمام زیور واپس کرتے ہُوئے کہا۔ کہ،، میں کہیں سے قرض حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہُوں۔ لیکن بیگم نے سمجھایا کہ،، ماں باپ اور تمام محبت کرنے والے اپنے بچیوں کو زیورات سے صرف اِس لئے آراستہ نہیں کرتے کہ ،، وہ صرف اُنہیں پہن کر حسین نظر آئیں ۔ بلکہ اِس لئے بھی دیتے ہیں کہ،، اگر خُدانخواستہ کبھی بُرا وقت آجائے تو اِنہیں بیچ کر سخت حالات کا مُقابلہ کیا جاسکے۔ کافی بحث کے بعد فرقان نے ہتھیار ڈالتے ہُوئے امی کے ہار کے علاوہ تمام زیور لے لیا۔ تمام زیورات بیچ کر ۱۲ لاکھ روپیہ سے کُچھ زائد رقم حاصِل ہُوگئی۔ جسکی وجہ سے فرقان کو اطمینان ہُوگیا کہ کم از کم ایک برس کا عرصہ اطمینان سے گُزر جائے گا۔ جب تک روزگار کا کوئی خاطر خُواہ انتظام بھی ہُو ہی جائے گا۔

فرقان اِن تمام معاملات میں اُلجھا ہُوا تھا۔ کہ حسان صاحب کی کال آگئی۔ اور جب اُنہوں نے شہریار مجددی سے ہُونے والی ٹیلیفونک گفتگو سے متعلق استفسار کیا تُو فرقان نے شرمندگی سے صاف صاف تمام حقیقت بتادی جسکی وجہ سے وہ شہریار مجددی سے گفتگو نہیں کرپایا تھا۔ حسان صاحب کو زیورات بیچے جانے کا جب معلوم ہُوا ۔ تو اُنہوں نے دُکھ اور ناراضگی کا اِظہار کرتے ہُوئے کہا۔ فرقان وہ بُہت نیک سیرت بچی ہے۔ اور وہ صرف تُمہاری بیگم نہیں ہے۔ بلکہ ہماری بھی بیٹی جیسی ہے۔ آپ نے ہم سے بڑی بیگانگی برتی۔ اگر آپ اپنی پریشانی کا اِطہار زیور بیچنے سے قبل ہم سے کردیتے تو اُس بیچاری کے زیورات بیچنے کی نوبت ہی نہیں آتی۔ اتنی رقم تو ہم بھی آپکو قرض حسنہ کے طور پر دے سکتے تھے۔۔۔۔!

فرقان نے جب شہریار مجددی کو کال مِلانے کی کوشش شروع کی تب بُہت مشکل کے بعد اُسکی کال مِلی۔ کیونکہ کافی مرتبہ موبائیل بِزی ٹون کیساتھ فرقان کا استقبال کرتا رہا۔ جسکی وجہ سے فرقان نے اندازہ لگایا کہ موصوف انتہائی مصروف شخصیت ہیں۔ سلام کے بعد جب فرقان نے اپنا تعارف کراتے ہُوئے بتایا کہ اُس کے پاس زمین کا وہ مطلوبہ ٹکرا موجود ہے۔ جسکی اُنہیں تلاش ہے۔ تو شہریار مجددی نے معذرت کرتے ہُوئے بتایا کہ وہ آجکل بُہت مصروف ہے۔ اور پراپرٹی کی لین دین وہ ڈائریکٹ نہیں کرتا بلکہ اُسکا منیجر کرتا ہے۔ اسلئے آپکو جِس بروکر نے آفر کی ہے۔ آپ اُسی کی معرفت میرے مینیجر سے مُلاقات کرلیں۔ اِس سے پہلے کہ شہریار لائن ڈسکنیکٹ کردیتا۔ فرقان نے استفسار کرتے ہُوئے کہا،، کیا آپ پروفیسر حسان صاحب کو جانتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟

شام کو فرقان، حسان صاحب کے مکان پر بیٹھا اُنہیں بتارہا تھا۔ کہ کسطرح شہریار مجددی اُس کے ساتھ سرد مہری کے ساتھ پیش آرہا تھا۔ اور قریب تھا کہ وہ لائن ڈسکنیکٹ کردیتا۔ لیکن جیسے ہی اُس نے آپکا نام سُنا۔ اُسکا نہ صرف رویہ بدل گیا۔ بلکہ وہ اپنی گفتگو سے کافی شرمسار نظر آرہا تھا۔

شہریار مجددی نے آٹھ بجے کا ٹائم دیا تھا۔ لیکن وہ پندرہ منٹ پہلے ہی پُہنچ گیا تھا۔ حسان صاحب پر نظر پڑتے ہی وہ،، اُستاذِ محترم کہتے ہی نمناک آنکھوں سے حسان صاحب کی طرف دست بوسی کیلئے لپکا۔ لیکن حسان صاحب نے کھڑے ہُوکر اُسے اپنے سینے سے بھینچ کر لگالیا۔

حَسان صاحب کے شکوے پر شہریار مجددی نے بھیگی پلکوں کیساتھ اپنے جُرم کا عتراف کرتے ہُوئے کہا۔ اُستاذِ من واقعی میں آپکا مجرم ہُوں کہ ایک ہفتے سے آپکے شہر میں موجود ہُونے کے باوجود آپکی زیارت کا شرف حاصِل نہیں کرپایا۔ جسکا مجھے بھی بُہت افسوس ہے۔ حسان صاحب نے شہریار مجددی کی آمد پر کھانے کا انتطام کیا تھا۔ دوران ضیافت حسان صاحب نے فرقان کا تعارف یہ کہہ کر شہریار سے کروایا کہ،، یُوں سمجھ لو کہ آج سے فرقان تُمہارا اُستاد بھائی نہیں۔ بلکہ تُمہارے اُستاد کا بُہت چہیتا بیٹا بھی ہے۔

شہریار نے حسان صاحب کے مزید استفسار پر بتایا کہ وہ عنقریب دُبئی سے پاکستان سیٹل ہُو رہا ہے۔ جسکی تیاری کیلئے وہ چند روز کیلئے پاکستان آیا تھا۔ تاکہ وہ یہاں ایک پیپر مِل لگا کر باقی ماندہ زندگی اپنے وطن عزیز میں آرام سے گُزار سکے۔

شہریار میاں یہ پیپر مِل کتنی رقم کا پروجیکٹ ہے۔۔۔؟ حسان صاحب نے لُقمہ بناتے ہُوئے سوال کیا۔

بروکر نے بتایا ہے کہ شہر میں زمین کا مطلوبہ ٹکڑا چھ سے آٹھ کروڑ کے درمیان مِل جائے گا۔ جبکہ منیجر بتارہا تھا۔ زمین پر عمارت بنانے کیلئے دو کروڑ کی رقم کا تخمینہ لگایا گیا ہے جبکہ ابتدائی طور پر پانچ کروڑ روپیہ سے کاروبار شروع ہُوجائے گا۔ پھر جیسے جیسے منافع ہوتا چلا جائے گا۔ کاروبار بھی پھیلتا چلا جائے گا۔ میں تمام معاملات کی جانچ پڑتال کرچُکا ہُوں۔ اسلئے میں بھی منیجر کی رائے سے متفق ہُوں۔ شہریار مجددی نے کھانے کے بعد ہاتھ صاف کرتے ہُوئے بتایا۔

شہریار میاں کیا ایسا ممکن نہیں کہ آپ جو چھ سے آٹھ کروڑ روپیہ زمین کی خریداری میں لگا رہے ہیں۔ وہ رقم کہیں اور انویسٹ کردیں۔ اور کوئی دوسرا شخص اپنی زمین دیکر آپکا شراکت دار بن جائے۔۔۔؟ حسان میاں نے تجویز دیتے ہُوئے سوال کیا۔

شہریار مجددی نے کُچھ لمحے سوچتے ہُوئے کہا۔حضرت ممکن تو ہے۔ اور مجھے یہ بھی یقین ہے۔ کہ جب آپ کہہ رہے ہیں تو یقیناً میرے لئے اسمیں دُنیا اور آخرت کی بھلائی بھی ضرور ہُوگی۔ لیکن اگر آپ کُچھ مزید تفصیلات بتادیں۔ تو اسکے ممکنہ پیش آنے والے معاملات پر بھی غُور کیا جاسکتا ہے

بیٹا شہریار تُمہیں تو معلوم ہی ہے کہ اللہ کریم نے سودی معاملات کو ناپسند کرتے ہُوئے سورہ بقرہ میں آیت نمبر ۲۷۵ تا ۲۷۹ تک ارشاد فرمایا ہے کہ: وہ جو سود کھاتے ہیں قیامت کے دن نہ کھڑے ہوں گے مگر، جیسے کھڑا ہوتا ہے وہ جسے آسیب نے چھو کر مخبوط بنا دیا ہو اس لئے کہ انہوں نے کہا بیع بھی تو سود ہی کے مانند ہے ، اور اللہ نے حلال کیا بیع کو اور حرام کیا سود،۔ تو جسے اس کے رب کے پاس سے نصیحت آئی اور وہ باز رہا تو اسے حلال ہے جو پہلے لے چکا، اور اس کا کام خدا کے سپرد ہے اور جو اَب ایسی حرکت کرے گا تو وہ دوزخی ہے وہ اس میں مدتو ں رہیں گے۔ اللہ ہلاک کرتا ہے سود کو اور بڑھاتا ہے خیرات کو اور اللہ کو پسند نہیں آتا کوئی ناشکرا بڑا گنہگار۔

بیشک وہ جو ایمان لائے اور اچھے کام کئے اور نماز قائم کی اور زکوٰۃ دی ان کا نیگ (انعام) ان کے رب کے پاس ہے ، اور نہ انہیں کچھ اندیشہ ہو، نہ کچھ غم۔ اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور چھوڑ دو جو باقی رہ گیا ہے سود اگر مسلمان ہو۔

پھر اگر ایسا نہ کرو تو یقین کر لو اللہ اور اللہ کے رسول سے لڑائی کا اور اگر تم توبہ کرو تو اپنا اصل مال لے لو نہ تم کسی کو نقصان پہنچاؤ نہ تمہیں نقصان ہو۔

یہ تمام احکامات اور اللہ کریم کی رضا اور ناراضگی کا فرمان تُمہارے اِس دینی بھائی فرقان نے جان لیا ہے۔ جسکی وجہ سے اسکے دِل میں سُود سے بیزاری پیدا ہوگئی۔جسکا انعام یہ ضرور پاکر رہے گا۔ لیکن اسکا ایک دوست نعمان جو اِسکا کاروباری پارٹنر بھی تھا ۔نہیں جان پایا اور وہ ضدی طبیعت کی وجہ سے جاننا بھی نہیں چاہتا۔ لَہذا فرقان نے اُس سے جُدائی اِختیار کرلی۔ جسکی وجہ سے تُمہارا یہ دینی بھائی عارضی طور پر دُنیاوی آزمائش میں مُبتلا ہُوگیا ہے۔ اسکے بعد حسان صاحب نے مُختصراً فرقان اور نعمان کی تمام رُوداد شہریار مجددی کو سُنا ڈالی۔

تمام واقعات جان کر شہریار مجددی نے رشک بھری نِگاہوں سے فرقان کو دیکھتے ہُوئے کہا،، فرقان میرے بھائی تُم نہایت عظیم ہُو۔ جس نے حسان صاحب کی صحبت میں رِہ کر خُدا کی رضا و نافرمانی کی معرفت حاصِل کرلی۔ آج سے تُم اس لڑائی میں تنہا نہیں ہُو۔ میں ایک حقیقی بھائی کی طرح تمہارے شانہ بشانہ چلنے کو اپنے لئے اعزاز سمجھوں گا۔ میں آج اِسی وقت اپنے قابل احترام بُزرگ کے رُوبرو تُمہارے ساتھ اپنی پارٹنر شپ کا اعلان کرتا ہُوں۔ اِس تمام پروجیکٹ میں آپ میرے نصف حِصہ کے شراکت دار ہیں۔ میں کل ہی اپنے منیجر کی مُلاقات تُم سے کروادُونگا۔ جسکے فوری بعد آپ اپنی جگہ پر کنسٹریکشن شروع کروادیجئے گا۔

حَسان صاحب نے شہریار مجددی کی فراخدلانہ پیشکش کے بعد اپنے دونوں ہاتھ بُلند فرمادیئے اور بُہت دیر تک دونوں کی خیر و بھلائی کیلئے انتہائی رِقت سے دُعا مانگتے رہے۔

(جاری ہے)

مُحترم قارئین کرام بار بار اپنی طبیعت کی ناسازی کے ذکر سے طبیعت میں نا شُکری کا احساس پیدا ہُوتا ہے اسلئے مزید کُچھ نہیں کہوں گا سوائے اِسکے کہ،، آپ سب سے دُعاؤں کیلئے ملتمس ہُوں۔

پلکوں سے دَرِ یار پہ دستک دینا
اُونچی آواز ہُوئی عُمر کا سرمایہ گیا

Saturday, 30 May 2015

جال۔ در۔ جال قسط 8



جال۔ در۔ جال قسط 8


گُذشتہ سے پیوستہ

نعمان شائد تمام تیاری کیساتھ فرقان کی رضامندی کا منتظر تھا۔ اس لئے صرف ایک ہفتہ کے اندر ہی کاغذات کی منتقلی کا تمام کام پایہء تکمیل کو پُہنچ گیا۔ فیکٹری نعمان کے نام پر رجسٹرڈ ہُوچُکی تھی۔ جبکہ چھ ایکڑ زمیں کا ٹکڑا فرقان کے نام منتقل ہُوچُکا تھا۔ چُونکہ فرقان کے پاس ذرائع آمدن کو کوئی اور ذریعہ نہیں تھا۔ اسلئے صرف تین ماہ کے اندر ہی فرقان کی تمام جمع پونجی گھر کے کرایہ اور گھریلو اخراجات کی نذر ہُوگئی۔ چند دِنوں سے فرقان یہ سوچ سُوچ کر ڈپریشن کا شِکار ہُورہا تھا۔ کہ اب گھر کے اخراجات کس طرح پُورے ہُونگے۔۔۔۔؟

اب مزید پڑھیئے۔

کافی سُوچ بِچار کے بعد فرقان اِس نتیجے پر پُہنچا کہ اُسے چونکہ چھ ایکڑ زمین پر جب نا ہی کاشتکاری کرنی ہے۔ اور نہ ہی کوئی فیکٹری لگانی ہے۔ تُو کِیوں نہ اس قطعہ ء زمین کو فروخت کردیا جائے۔ اور رقم آنے کے بعد کِسی مُناسب جگہ پر انویسٹ کردی جائے۔ تھوڑی سی کوشش کے بعد ایک پراپرٹی بروکر نے فرقان کو بتایا کہ اُس کے پاس ایک حاضر پارٹی بھی موجود ہے۔ جِسے شہر کے نزدیک آٹھ تا دس ایکڑ زمین فیکٹری کے لئے درکار ہے۔ چُونکہ اُنکی شرط ہے کہ زمین شہر میں موجود ہُونی چاہیئے۔ جہاں پانی، گیس ، اور کمرشل بجلی کی سہولت بھی موجود ہُو۔ جبکہ شہر میں کوئی دُو ایکڑ زمین کا ٹکڑا بھی میسر نہیں۔ تُو بھلا دس ایکڑ زمین کہاں سے دستیاب ہُوگی۔ آپ کی جگہ مُناسب ہے۔ اسلئے آپکو چھ ایکڑ زمین کے تین کروڑ روپیہ دِلواسکتا ہُوں۔ بشرطیکہ سامنے والی پارٹی چھ ایکڑ کے پلاٹ پر رضامندی ظاہر کردے۔

فرقان کو اگرچہ یہ آفر مُناسب لگی تھی۔ لیکن وہ ایک مرتبہ زمین کو فروخت کرنے سے قبل حسان صاحب سے مشورہ کرنا ضروری سمجھتا تھا۔ اسلئے فرقان نے بروکر کو جواب دینے کیلئے ایک دِن کی مُہلت طلب کرلی۔ اور شام کو حسان صاحب سے مُلاقات کیلئے اُنکے کاشانے پر حاضر ہُوگیا۔ رسمی گُفتگو کے بعد فرقان نے اپنی حاضری کا مُدعا بیان کیا۔ تُو حسان صاحب نے اُسے جلد بازی کے بجائے استخارہ کی ترغیب دِلائی۔ جسکے جواب میں فرقان نے حسان صاحب سے گُزارش کی کہ میری جانب سے آپ استخارہ فرمالیں۔ جِس کے بعد حسَّان صاحب نے رضامندی ظاہر کرتے ہُوئے فرقان کو فجر کی نماز میں اپنے ساتھ جماعت میں شامل ہُونے کی تاکید کی۔ جس کے بعد یہ نشست برخاست ہُوگئی اور فرقان اپنے گھر لُوٹ گیا۔

صبح فجر کی نماز اور وظائف سے فارغ ہُونے کے بعد حسان صاحب نے فرقان کو اپنے قریب آنے کا اشارہ کیا۔ فرقان نہایت ادب و نیازمندی سے حسان صاحب کے قریب جاکر بیٹھ گیا۔ حسان صاحب نے فرقان سے مُخاطب کرتے ہُوئے فرمایا کہ،، وہ ابھی زمین فروخت نہ کرے۔ بلکہ اُس پارٹی کا پتہ چلانے کی کوشش کرے جو اِس زمین کی خریداری میں دلچسپی رکھتی ہے۔۔۔

حسان صاحب کی ہِدایت پر فرقان نے بروکر سے مُعذرت کرلی اور اُسے بتایا کہ وہ فی الحال اپنی زمین فروخت نہیں کرنا چاہتا۔ ساتھ ہی فرقان نے اُس پارٹی کے متعلق باتوں ہی باتوں میں کافی معلومات حاصِل کرلیں۔ بروکر نے خریدار پارٹی میں فرقان کی دلچسپی دیکھ کر اپنے خَدشے کا اِظہار کرتے ہُوئے کہا۔۔ کہیں آپ ڈائریکٹ تُو پارٹی سے معملات طے نہیں کرنا چاہتے۔۔۔؟ اور اگر ایسا ہے۔ تو فرقان صاحب یہ میرے ساتھ بڑی زیادتی کی بات ہوگی۔

نہیں میرے بھائی ایسی کوئی بات نہیں ہے۔ البتہ میرا یہ آپ سے وعدہ ہے کہ اگر میں نے آپکی پارٹی سے ڈائریکٹ بھی سودا کیا۔ تب بھی آپ کی مِٹھائی بالکل پکی ہے۔ فرقان نے مُسکراتے ہُوئے بروکر کے خدشے کے جواب میں کہا اور رخصت طلب کرلی۔۔۔۔۔۔ کُچھ مزید معلومات حاصِل کرنے کیلئے فرقان نے گھر جاتے ہُوئے یہ ذِمہ داری اپنے قابِل بھروسہ دینی بھائی کے سپرد کردی۔ جب تمام معلومات جمع ہوگئیں تب ایکبار پھر فرقان حسَّان صاحب کی بارگاہ میں حاضر ہُوگیا۔

حسان صاحب کو خریدار پارٹی کا نام بتاتے ہُوئے فرقان نے ایک بات محسوس کی کہ،، شہریار مجددی کا نام سُن کر حَسان صاحب کے ہونٹوں پر مسکراہٹ اور آنکھوں میں ایک خاص چمک سی پیدا ہُوگئی تھی۔ فرقان نے تمام معلومات ایک کاغذ پر منتقل کرنے کے بعد آخری سطر میں شہریار مجددی کا موبائیل نمبر لکھا۔ اور کاغذ حسان صاحب کی جانب بڑھادِیا۔

حسان صاحب نے کاغذ پر ایک سرسری نِگاہ ڈالنے کے بعد وہ کاغذ تِہہ کرنے کے بعد اپنی ڈائری میں رکھتے ہُوئے فرقان سے فرمایا،، اگر میرا اندازہ ٹھیک ہے تُو سمجھ لُو کہ تُمہارے اِمتحان کے دِِِن انشاءاللہ عزوجل بُہت جلد ختم ہُونے کو ہیں۔ بس اللہ کریم کرم فرمائے۔ اور یہ وہی شہریار مجددی ہُو جو میں سمجھ رَہا ہُوں۔۔۔۔ نام تُو وہی ہے۔ لیکن یہ دُبئی کے بجائے پاکستان میں کیا کررہا ہے۔ بس یہ مُعمہ حل ہُونا باقی ہے۔ اور اگر یہ وہی شہریار مجددی ہے تو ابتک میری نظروں سے کیوں اُوجھل ہے۔۔۔۔۔؟

(جاری ہے)
مُحترم قارئین کرام طبیعت کی ناسازی کی وجہ سے ذیادہ نہیں لکھ پارہا ہُوں ۔جسکے لئے بُہت بُہت معذرت خواہ ہُوں اور آپ سب سے دُعاؤں کیلئے ملتمس ہُوں۔

پلکوں سے دَرِ یار پہ دستک دینا
اُونچی آواز ہُوئی عُمر کا سرمایہ گیا

Friday, 29 May 2015

جال۔ در۔ جال قسط 7۔



جال۔ در۔ جال قسط 7۔

گُذشتہ سے پیوستہ

فرقان کے خاموش ہُوتے ہی نُعمان گُویا ہُوا۔ دیکھو فرقان تُم دُنیا میں میرے بہترین دُوست ہُو۔ اور ہم نے کئی برس تک کامیابی سے مشترکہ کاروبار بھی کیا ہے۔ اگرچہ تمام کاروباری معاملات میں خود ہی سنبھالتا رہا ہُوں۔ اور میری ہمیشہ یہی کوشش رہی ہے کہ تُمہیں کاروباری معاملات کے بکھیڑوں میں نہ گھسیٹوں۔ اور اتنا مجھے بھی یقین ہے کہ تم میری تمام کاروباری سرگرمیوں سے مطمئین بھی ہُو۔ لیکن وقت کے ساتھ ساتھ ہماری سوچ و افکار میں زمین و آسمان کے فاصلوں کے مماثل بُعد پیدا ہُوگیا ہے۔ اور اس فاصلے کو ختم کرنا نہ ہی میرے اختیار میں ہے۔ اور تُمہاری بار بار کی نصیحتوں سے مجھے اندازہ ہُورہا ہے۔ کہ شائد تُم بھی ان فاصلوں کو مِٹانا نہیں چاہتے۔ لِہذا بہتر یہی ہُوگا۔ کہ ہم اپنی راہیں جُدا کرلیں۔۔۔۔۔۔۔ چُونکہ ہمارا کاروبار مشترکہ کاروبار ہے لِہذا ہم دونوں کا اس پر یکساں حق ہے۔۔۔ اسلئے میں چاہتا ہُوں کہ بجائے مزید بحث میں اُلجھنے کہ ہمیں آپس میں اپنے کاروبار کا بٹوارہ کرلینا چاہیئے ہمارے پاس ایک فیکٹری ہے۔ جس پر کِچھ قرض کاروباری لوگوں کا ہے۔ اور کچھ لوگ ہمارے مقروض ہیں اِن تمام معاملات کو سمیٹنا اتنا آسان نہیں ہے۔ اسکے لئے کافی وقت درکار ہے جبکہ دوسری جانب ہمارے پاس چھ ایکڑ کا ایک کمرشل پلاٹ ہے جو فیکٹری سے متصل ہے۔ اگر تُم چاہو تو فیکٹری کے جھمیلوں کو سنبھال لو، اور چاہو تو وہ کمرشل پلاٹ لے لو، میں ایک دوست کی حیثیت سے تُمہیں پلاٹ لینے کا مشورہ دُونگا۔ کیونکہ فیکٹری کے معاملات کو سنبھالنا تُمہارے بس کا رُوگ نہیں ہے۔۔۔۔۔ نعمان جتنی آسانی سے علحیدگی کے فارمولے سُنا رہا تھا۔ اُتنی ہی تکلیف کے آثار فرقان کے بُشرے سے عیاں ہُوتے جارہے تھے۔

اَب مزید پڑھیئے۔

نعمان نے اپنی گُفتگو ختم کرنے کے بعد گِلاس میں پانی اُنڈیلا اور ایک سانس میں گِلاس کا پانی پی کر خالی گِلاس ٹیبل پر رکھ کر فرقان کی جانب دیکھا۔ جیسے گُویا وہ اپنی تجویز پر فرقان کی رائے معلوم کرنا چاہتا ہُو۔ جبکہ فرقان کے کانوں میں حسان صاحب کی تاکید بازگشت کررہی تھی کہ،، بیٹا جب انسان غُصہ کی حالت میں ہُوتا ہے۔ تب وہ شرف انسانیت کی معراج سے سفلی جذبات کی اَتاہ گہرایئوں کا اسیر بن جاتا ہے۔ اور ایسے وقت میں انسان شیطان کے ہاتھوں میں کٹھ پُتلی کی مانند ہُوتا ہے۔ لِہذا جب کوئی سامع غُصہ کی حالت میں سماع کررہا ہُو۔ تب اُسے صرف حکمت کی نازک چھڑی سے سمجھانے کی کوشش کرنا چاہیئے۔ اور وہ بھی اِتنی اِحتیاط کیساتھ کہ اُسے یہ چھڑی ایک پھول کی مانند محسوس ہُو۔ نا کہ چابک کی طرح دِکھائی دینے لگے۔ اور ایسے وقت میں کہ جب انسان اپنی اَنَّا اور ضد کے سبب خواہشات کا غُلام بن جائے ۔ تب ہرگز اسے قال اللہ اور قال رسول ﷺ کی اَذاں مت سُنانا۔ کہ خُدانخواستہ وہ اپنی ہٹ میں حُکم خُدا اور تعلیم مُصطفٰیﷺ سے ہی انکار نہ کر بیٹھے۔

فرقان عجیب مخمصے کا شِکار ہُوگیا تھا۔ ایک طرف نادان دُوست بظاہر حقیر سی خُواہش کا اظہار کرتے ہُوئے ناسمجھی میں خُدا سے جنگ کرنے نِکلا تھا۔ بلکہ چاہتا تھا کہ میری اِس جنگ میں تُم بھی شریک حال ہُوجاؤ ۔فرقان نے ایک مزید کوشش کی۔ اُور اُسے سمجھانے لگاکہ،، میرے یار ہمارے پاس جو کُچھ بھی خُدا کی مہربانی سے موجود ہے۔ وہ ناصِرف ہمارے لئے بلکہ ہماری اُولادوں کیلئے بھی کافی ہے۔ پھر ہم کیوں ایسی دلدل میں اُتریں۔ جہاں سے واپسی کی کوئی راہ سُجھائی نہیں دیتی۔ جہاں سے بغیر توبہ کوئی سلامتی نہیں پاسکا۔ جہاں صِرف تباہی اور بربادی آنے والوں کا خیر مقدم کرتی ہے۔ یہ بظاہر نفع کا سودا دِکھائی دیتا ہے لیکن باطن میں خسارہ کے سِوا کُچھ بھی نہیں۔ میرے بھائی یہ شیطان کا دامِ فریب ہے۔ یہ مکڑی کا جالا ہے۔ جِس طرح مکڑی کے جال میں غِذا دیکھ کر لالچی مکھی جانے کا راستہ تُو ضرور تلاش کرلیتی ہے مگر باہر نکلنے کا کوئی رستہ نہیں پاتی۔ اِسی طرح سود کے جال میں جانے کے تُو کئی دلفریب کُشادہ راستے ہیں۔ لیکن واپسی کیلئے کوئی گُزرگاہ نہیں ہے۔

اور بظاہر خُوش رنگ و خُوش بُو رکھنے والا یہ جام دراصل زِہر قاتل ہے۔ جِسے،، دَبستانِ شر ،،ہمیشہ شریں و لذیز ثابت کرتے ہُوئے پینے کی ترغیب دِلاتا رَہا ہے۔ جبکہ اللہ کریم کے فرستادہ ،، ہمیشہ سے اِسے ظلم کانِظام ثابت کرتے چلے ہیں۔ اور اِسکی ہلاکت خیزی کی داستانیں اسقدر ہیں۔ کہ کوئی بھی ذِی ہُوش اِس جام کی طرف ہاتھ بڑھَانے سے پہلے ہزار بار سوچے گا۔ اور ہر بار لرز کے رِہ جائے گا۔ میرے بھائی اگر اِس نظام میں ذرہ برابر بھی خیر کے آثار ہُوتے تُو یہ ہمارے لئے حلال کردِیا جاتا۔۔۔۔۔۔۔۔۔!

فرقان سانس لینے کیلئے ایک لمحے کو رُکا۔ تب نُعمان نے فرقان کی بات اُچکتے ہُوئے کہا۔۔۔ یار میں نے تُم سے تُمہارا جواب مانگا تھا۔ لیکن لگتا ہے اُس پروفیسر کیساتھ رہتے رِہتے تُمہیں بھی ہر بات پر نصیحت کرنے کا عارضہ لاحق ہُوگیا ہے۔ حالانکہ میں نے تُم سے پہلے ہی کہہ دِیا تھا۔ کہ مجھے اُلجھانے کی کوشش نہ کرنا۔ اور نہ ہی کوئی نصیحت کرنا کیونکہ میں اپنا اچھا اور بُرا، نفع و نقصان خوب سمجھتا ہُوں مجھے کاروبار کیسے کرنا ہے۔ یہ بات مجھے کِسی ایسے اِنسان سے سیکھنے کی بالکل ضرورت نہیں جو خُود مارکیٹنگ کی الف ب سے بالکل ناآشنا ہُو۔ نعمان نے فرقان پر طنز کرتے ہُوئے کہا۔

کیا جُدائی سے بچنے کا کوئی رستہ باقی نہیں بچَّا۔۔۔۔ فرقان نے ملتجیانہ لہجے میں استفسار کیا۔

راستہ ہے۔۔۔! بس کاروبار مجھے کرنے دُو اور میں جسطرح کاروبار کرنا چاہوں تُم اُس میں رُکاوٹ پیدا نہ کرو۔۔۔ نعمان نے سپاٹ لہجے میں جواب دیا۔۔۔

میرا مطلب تھا۔ کہ سود سے بچنے کا کوئی دوسرا حل۔۔ فرقان نے وضاحت کرتے ہُوئے کہا

نہیں۔ کوئی دوسرا حل نہیں ہے۔ نعمان نے بات کو مختصر کرتے ہُوئے کہا۔

فرقان محسوس کررہا تھا۔ جیسے وہ کِسی بند گلی میں آکھڑا ہُوا ہے۔۔۔ تب اُسے حسان صاحب کا جُملہ یاد آیا کہ،، کہ کبھی کبھار انسان کو ایسا محسوس ہونے لگتا ہے کہ وہ ایک بند گُلی میں پُہنچ چُکا ہے۔ مگر دراصل اُس بند گُلی کی دیوار میں ہی رضائے رب کی شاہراہ کا باب موجود ہُوتا ہے۔ جِسے شیطان وقتی طُور پر نظروں سے اُوجھل کردیتا ہے۔ مگر جب کوئی یقین کامل کے ساتھ اُس دیوار کی جانب چلنا شروع کردیتا ہے۔ تب شیطان سر میں خاک ڈالتا ہُوا وہاں سے دفعان ہُوجاتا ہے۔ اور وہ دَر کھل جاتا ہے۔ جِس سے ایک نہیں بلکہ کامیابیوں کے ہزار راستے دِکھائی دینے لگتے ہیں۔ اور ہر راستہ منزل پر ہی پُہنچاتا ہے۔

اگر تُہمارے پاس کوئی دوسرا آپشن موجود نہیں ہے تب ٹھیک ہے۔ مجھے تُمہاری تقسیم منظور ہے۔ جو تُم رکھنا چاہُو۔ وہ اپنے پاس رکھ لو اور جو میرا حِصہ بنے وہ مجھے دیدو۔ میں نے اپنی کم عِلمی کے باوجود جس قدر جانتا تھا۔ اتمامِ حُجت کے طُور پر سمجھا دیا۔ میں بُہت کم ہمت انسان ہُوں ۔ لوگوں سے لڑنے کا حُوصلہ خُود میں نہیں پاتا۔ تب کیسے ممکن ہے کہ اللہ کریم اور اُسکے مدنی محبوب ﷺ کی نافرمانی کا طُوق اپنی گردن میں ڈالوں۔ لہذا بہتر ہے کہ ہم اپنی راہیں جُدا کرلیں۔ لیکن میرے دُوست مجھے کامِل یقین ہے۔ تُم ایک نا ایک دن ضرور میری بات کو سمجھ پاؤ گے۔اس وقت مجھ سے غیریت نہ برتنا۔ تمہیں جب بھی اپنی غلطی کا احساس ہُوجائے لُوٹ آنا۔ میرے گھر کے دروازے تُمہارے لئے ہمیشہ کُھلے رہیں گے۔۔۔۔۔۔!

نعمان شائد تمام تیاری کیساتھ فرقان کی رضامندی کا منتظر تھا۔ اس لئے صرف ایک ہفتہ کے اندر ہی کاغذات کی منتقلی کا تمام کام پایہ تکمیل کو پُہنچ گیا۔ فیکٹری نعمان کے نام پر رجسٹرڈ ہُوچُکی تھی۔ جبکہ چھ ایکڑ زمیں کا ٹکڑا فرقان کے نام منتقل ہُوچُکا تھا۔ چُونکہ فرقان کے پاس ذرائع آمدن کو کوئی اور ذریعہ نہیں تھا۔ اسلئے صرف تین ماہ کے اندر ہی فرقان کی تمام جمع پونجی گھر کے کرایہ اور گھریلو اخراجات کی نذر ہُوگئی۔ چند دِنوں سے فرقان یہ سوچ سُوچ کر ڈپریشن کا شِکار ہُورہا تھا۔ کہ اب گھر کے اخراجات کس طرح پُورے ہُونگے۔۔۔۔؟

(جاری ہے)

پلکوں سے دَرِ یار پہ دستک دینا
اُونچی آواز ہُوئی عُمر کا سرمایہ گیا