bing

Your SEO optimized title page contents

Pages

Hamara Tube Channel

Showing posts with label ISM E AZAM - اسم اعظم. Show all posts
Showing posts with label ISM E AZAM - اسم اعظم. Show all posts

Thursday, 1 January 2015

فیضان اسم اعظم٣ (جادو سے حِفاظت) مُشکلات سے نِجات




محترم قارئین السلامُ علیکم ۔

آج مسلمان دُنیا میں پریشان حال ہیں کوئی معاشی مسائل میں گرفتار ہے تو کوئی گھریلو مسائل کا شکار ہے کوئی بیمار ہے۔ تو کسی پہ قرض کا بار ہے اقوام عالم میں ہم جو کل تک حُکمرانی کا تاج پہنے ہوئے تھے آج اُنہی اقوام میں ہماری پستی اور کمزوری کا یہ حال ہے کہ (ایک اخباری رپورٹ کے مُطابق امریکہ میں) ہمارے لئے علیحدہ سے ایسی اسکرینگ مشین لگوائی جارہی ہیں جس سے گزرتے ہوئے ہم برہنہ دَکھائی دیں گے اور وجہ صاف ہے کل تک ہمیں جو تاجِ سُلطانی عطا ہوا تھا تو رَبّْ عزوجل کی فرمانبرداری کی وجہ سے اور آج جو ذلت ہمارا مُقدر ہوئی ہے تو فقط ہماری بڑھتی ہوئی نافرمانیوں کی وجہ سے۔ قُرآنِ مجید فُرقانِ حمید میں اللہ رَبُّ العالمین ارشاد فرماتا ہے۔

وَمَنۡ اَعۡرَضَ عَنۡ ذِكۡرِىۡ فَاِنَّ لَـهٗ مَعِيۡشَةً ضَنۡكًا

ترجمہ کنزالایمان سورہ طہ آیت نمر 
۱۲۴ 

اور جس نے میری یاد سے منہ پھیرا تو بیشک اس کے لیے تنگ زندگانی ہے

آئیے ہم سب مِل کو اللہ عزوجل کے ذکر کی ایسی دُھوم مچائیں کہ ہم سے ہمارا کریم رَبّ راضی ہوجائے

لا الہ الا انت سبحنک انی کنت من الظالمین)۔(سورہ انبیاء آیت نمبر۸) )

علامہ ابن جریر طبری (رحمۃ اللہ علیہ) نے اپنی مشہور زمانہ تفسیر میں حضرت سعد بن ابی وقاص سے روایت کی ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ جناب رسول اللہ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اِرشاد فرمایا

:”
اسم اللہ الاعظم الذی اذا دعی بہ اجاب و اذا سئل بہ اعظے دعوۃ یونس بن متّی”۔

ترجمہ:اللہ تعالیٰ کا وہ اسمِ اعظم کہ جب اس کے ساتھ دعا کی جائے تو وہ قبول فرمائے اور جب اس کے ذریعہ سے سوال کیا جائے تو وہ عطا فرمائے وہ حضرت یونس بن متّٰی علیہ السلام کی دعا ہے ۔

حضرت سعد بن ابی وقاص (رضی اللہ تعالیٰ عنہُ)اِرشاد فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کیا “یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم!یہ حضرت یونس علیہ السلام کے لئے ہی خاص تھی یا تمام مسلمانوں کے لئے عام ہے ؟”۔
آپ(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)نے اِرشاد فرمایا :” جسکا مفہوم ہے٬ یہ دُعا صرف حضرت یونس علیہ السلام کیلئے مخصوص نہیں بلکہ تمام مسلمانوں کے لئے عام ہے”۔

کیا تو نے قران نہیں پڑھا کہ 
فاستجبنا لہ ونجیناہ من الغم و کذلک ننجی المومنین

ترجمہ:ہم نے ان کی دعا قبول فرمائی ۔ اور ان کو غم سے چھڑایا اور اسی طرح ہم مومنوں کو چھڑاتے ہیں۔
پس جو بھی اس دعا کو پڑھے۔ اس سے اللہ تعالیٰ کا قبولیت کا وعدہ ہو چکا۔

علامہ ابن جریر (رحمۃ اللہ علیہ)اِرشاد فرماتے ہیں کہ اس دعا میں اسم اعظم ہے اور اس کے ذریعہ جو دعا کی جائے گی وہ قبول کی جائے گی اور جو خواہش ہوگی وہ پوری کی جائے گی۔

محترم قارئین جب کوئی مسلمان روحانی علاج کے سلسلے میں میرے پاس آتا ہے اور جب مجھے یہ بتاتا ہے کہ میں ہر جگہ علاج کی خاطر گیا ۔لیکن کوئی افاقہ نہیں ہوا۔۔۔ لوگوں نے خوب مجھ سے پیسے بٹورے۔۔۔ اور چکر لگوا لگوا کر پریشان الگ کیا۔۔۔ تو مجھے انتہائی دُکھ ہوتا ہے کہ کس طرح جعلی عامل حضرات لوگوں سے کھیل رہے ہیں۔ لیکن مجھے حیرت تب ہوتی ہے جب کسی اچھے خاصے پڑھے لکھے فرد کو سمجھانا مُشکل ہوجاتا ہے ۔کہ،، بھائی!  آپکے ساتھ کوئی روحانی مسئلہ سرے سے ہے ہی نہیں تو میں آپ کو مرض کیا بتاؤں۔۔؟ لیکن مجھ سے اسرار کیا جاتا ہے کہ آپ اچھی طرح سے پھر چیک کریں ۔۔۔جبکہ مجھے سمجھانا مُشکل ہو جاتا ہے ۔کہ،، بھائی آپ صرف آزمائش میں مبتلا ہیں۔۔۔ آپ اسم اعظم پڑھیں کہ احادیث مُبارکہ میں آیا ہے کہ اس کے پڑھنے سے بڑی سے بڑی مُصیبت ٹل جاتی ہے آپ بھی اِس اسم اعظم ( لا الٰہ الا انت سُبحنک انی کنتُ من الظلمین) کا ورد کریں۔ گھر پہ آیت کریمہ کا ورد کروائیں اپنے لئے خود بھی دُعا کریں مدرسے میں حُفاظ بچوں سے بھی ورد بھی کروائیں اور دُعا بھی۔ اور اپنے دوست احباب سے بھی دُعا کی استدعا کریں کہ ایک حدیث پاک کا مفہوم ہے کہ ایک مسلمان کی اسکے دوسرے مسلمان بھائی کی غیر موجودگی میں مانگی ہوئی دُعا رَد نہیں ہوتی خوب صدقہ اور خیرات کریں کہ صدقہ بھی رد ٔ بلا ہے۔ 

اور مجھے غصہ تب آتا ہے جب کوئی مسلمان یہ بتائے کہ میں تو ہندو جوگیوں یا جادوگروں سے بھی علاج کرواچُکا ہوں ۔۔۔تب اپنے غصے کو پی کر اُنہیں سمجھانا پڑتا ہے کہ بھائی قرآن مجید کے ہوتے ہوئے تمہیں کیا سوجھی کہ جوگیوں اور جادوگروں کے پاس جانے کی حاجت پیش آئی ۔۔۔کیا تم نے سیدنا موسیٰ علیہ السلام کا واقعہ نہیں پڑھا۔ 

کیا تم نے ہاروت ماروت کا واقعہ نہیں پڑھا۔۔۔؟ کیا تم نے خواجہ خواجگان معین الدین چشتی (رحمتہ اللہ علیہ) کا واقعہ نہیں سُنا۔۔۔؟ کہ،، کس طرح اُن کی جوتی نے زمانے کے سب سے بڑے جادوگر کا سر نیچا کیا تھا۔ کس طرح کوئی مسلمان۱۱۱ کسی جوگی یا جادوگر کے پاس استمداد کے لئے جاسکتا ہے۔ کہ جادو سیکھنا۔ جادو کرنا۔ جادو کروانا۔ جادو پر اعتقاد رکھنا سب حرام اور جہنم میں لیجانے والے کام ہیں اکثر سننے میں آیا ہے جادوگر اس طرح کے کُفریہ کلمات پڑھنے کے لئے دیتے ہیں کہ اُنکے پڑھنے سے کفر لازم آتا ہے حالانکہ پڑھنے والے کو خبر بھی نہیں ہوتی ۔ کیا ہمارے پاس قُرانِ مجید جیسی عظیم دولت موجود نہیں ؟ کیا ہمارے پیارے آقا مَدنی مُصطٰفےٰ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے قُرآنِ پاک کی تشریح ہمارے لئے نہیں فرمائی؟ کیا ہمیں نہیں بتایا گیا کہ دُعا مومن کا ہتھیار ہے ۔

(جادُو سے حِفاظت)
جو مُسلمان ہر نماز کے بعد یا کم از کم روزانہ کسی ایک نماز کے بعد سات مرتبہ اپنے سینے پر( یا مُمیت) پڑھ کر دَم کرے وہ ہمیشہ جادو سے محفوظ رہے گا۔ یہ عمل میرا آزمودہ بھی ہے۔

مُحترم قارئین کرام قُرآنِ مجید فُرقانِ حمید میں جہاں اِنسانوں کے لئے مُکمل ضابِطہ حیات ہے ۔وہیں یہ مومن کا زبردست ہتھیار بھی ہے ۔کیا آپ کو معلوم ہے ۔۔۔؟ کہ جیسے انسان شریر جنات اور شیاطین سے ڈرتا ہے۔۔۔۔ ویسے ہی شیاطین اور جنات بھی انسانوں بالخصوص مسلمانوں سے ڈرتے ہیں۔۔۔ کہ،، وہ جانتے ہیں کہ مسلمانوں کے پاس کلام الہی کی ڈھال بھی ہے۔۔۔ اُور دُو  دَھاری تلوار بھی ۔اور شیاطین اور خبیث جنات تب تک کسی مُسلمان پر حملہ نہیں کرتے۔ جب تک کہ ،،اُنہیں یہ یقین نہ ہوجائے۔ کہ،، سامنے والے کو نہ ہی اپنے ہتھیار کا علم ہے۔ اور نہ ہی چَلانے کا طریقہ معلوم ہے۔ میں آپ کو اپنا ایک واقعہ سُناتا ہوں۔ جو کہ ،، مُجھے اسلام آباد میں پیش آیا تھا۔ ہُوا  یُوں کہ جب میں پہلی مرتبہ ایک مذہبی جماعت  (دعوت اسلامی) کے ساتھ تبلیغ دین کی نیت سے ایک ماہ کے مدنی قافلے کی صورت میں اسلام آباد پہنچا ۔

یہ اُنیس سو چھیانوے کا واقعہ ہے۔تو میرا یہ معمول تھا کہ رات ۱۱ بجے اپنے امیر صاحب سے اجازت لیکر میرپورخاص کال کرنے کیلئے  مسجد سے روانہ ہُوجاتا اُور تقریباً رات ۱۲  بجے تک واپس مسجد میں لُوٹ  آتا۔۔۔ کال کرنے کیلئے مُجھے کافی دور جانا پڑتا تھا۔۔ اور درمیان میں کُچھ سُنسان علاقہ پڑتا تھا۔۔ اور ایک نالہ جو (شائد) نکاسی بارش کے لئے بنایا گیا تھا ۔ راستے میں پڑتا تھا۔۔۔ ایک دِن میں اور میرے ساتھ ایک بڑی عمر کے ساتھی حاجی نظام صاحب  جو قافلے میں ہمارے ساتھ ہی آئے ہوئے تھے ۔فون کال کر کے واپس آرہے تھے۔ کہ،، نالہ  قریب آنے سے قبل تیز آواز میں گانا گانے کی نِسوانی آواز ہمارے کانوں سے ٹکرائی۔۔۔ میرے ساتھی نے مجھ سے کہا۔ اقبال بھائی رات کے اس پہر کون اِس ویران جگہ پر گانا گا رہا ہے۔۔۔ حیرت مجھے بھی تھی کہ واقعی اتنی رات کو کون گانا گارہا ہوگا۔۔۔ لیکن ہم نے گانے سے دھیان ہٹا کر مسجد کی جانب پیش قدمی جاری رکھی۔۔۔


لیکن جب ہم اُس نالے کے قریب پُہنچے۔۔۔ تو میری حیرت کی اِنتہا نہ رہی۔ جب میں نے اُس نالے میں چند خَواتین کو رقص کرتے دیکھا ۔۔۔وہی خواتین رقص کیساتھ ساتھ گانا بھی گارہی تھیں اور سب سے زیادہ حیرت مجھے اس بات پر تھی کہ اُن کے قَد بیس فُٹ سے بھی زائد نظر آرہے تھے۔ مجھے اگرچہ اُن طویل قامت خواتین کو دیکھ کر کوئی خاص خُوف کا احسا س نہیں ہُوا تھا۔ لیکن میرے ساتھ جو اسلامی  بھائی تھے۔۔۔ وہ خُوف سے اُس وقت اپنی آواز کھوچُکے تھے اور بار بار میرے دامن کو کھینچ کر وہاں سے بھاگنے کا اِشارہ کر رہے تھے۔۔۔ میں نے اُن سے کہا آپ اپنے خُوف پر قابو رکھیں ۔۔۔ کیونکہ اگر اِنہیں ذرا بھی  اِس بات کا اِحساس ہوگیا ۔کہ،، ہم اِن سے ڈر رہے ہیں۔ تو پھر یہاں سے سلامت نِکلنا مُشکل ہوجائے گا ۔میں نے وہاں بُلند آواز سے یا غُوثِ اعظم دستگیر کا نعرہ بُلند کیا۔۔ اور فوراً ہی وہ مَخلوق ہمارے سامنے سے غائب ہوگئی۔ میرے اُن ساتھی کو تیز بُخار چَڑھ گیا۔ جو دوسرے یا تیسرے دِن تک  باقی رہا۔ اور آج بھی جب کبھی اُن سے مُلاقات ہوتی ہے۔ تو وہ اُس ذکر سے ہی کتراتے ہیں۔ میں نے جب واپس آنے کے بعد اپنے روحانی اُستاد سے اِس واقعہ کا تذکرہ کیا۔ تو اُنہوں نے مجھے بتایا کہ دراصل وہ قومِ جِنّات سے تھیں۔ اگر اُس وقت تم اُنکے قد دیکھ کر ڈر جاتے ۔۔۔تو وہ تُمہیں شکار کر لیتیں۔ لیکن تُمہاری بے خُوفی سے وہ خُوفزدہ ہوگئیں۔۔۔ بے شک اللہ عزوجل نے اِنسان کو اشرف المخلوقات بنایا ہے اور دوسری مخلوقات کو اپنا مُطیع بنانے کی صلاحیت صرف اِنسان کو بَخشی گئی ہے ۔۔لیکن اکثر اِنسان اپنے مرتبے سے بے خبر ہوتے ہیں۔

مُحترم قارئین حسب سابق آپ  بلاگ پر کمنٹس باکس کے ذریعے اپنے لئے اسم اعظم حاصل کرسکتے ہیں اور دیگر روحانی رہنمائی کے لئے فیس بک پر مجھے میسج بھی کرسکتے ہیں۔ اسم اعظم یا کسی بھی قسم کی رہنمائی کی کوئی دُنیاوی فِیس نہیں ہے۔۔ مُجھے فقط آپ سب کی دُعا درکار ہے باقی اللہ نے اپنے سوھنے محبوب (صلی اللہ علیہ وسلم)کے صدقے میں دُنیا کی ہر نعمت عطا کی ہے۔۔ الحمدُللہ عزوجل

فیس بُک ایڈریس نوٹ فرمالیں

http://www.facebook.com/ishratiqbal.warsi

اب آخر میں جادو اور اُس کی مذمت کا احوال قُرآنِ مجید سے پڑھتے ہیں

اور اس کے پیرو ہوئے جو شیطان پڑھا کرتے تھے سلطنتِ سلیمان کے زمانہ میں (
۰) اور سلیمان نے کفر نہ کیا (الف) ہاں شیطان کافر ہوئے (ب)لوگوں کو جادو سکھاتے ہیں اور وہ (جادو) جو بابل میں دو فرشتوں ہاروت اور ماروت پر اترا اور وہ دونوں کسی کو کچھ نہ سکھاتے جب تک یہ نہ کہہ لیتے کہ ہم تو نری آزمائش ہیں تو اپنا ایمان نہ کھو (ج) تو ان سے سیکھتے وہ جس سے جدائی ڈالیں مرد اور اس کی عورت میں اور اس سے ضرر نہیں پہنچا سکتے کسی کو مگر خدا کے حکم سے (د) اور وہ سیکھتے ہیں جو انہیں نقصان دے گا نفع نہ دے گا اور بیشک ضرور انہیں معلوم ہے کہ جس نے یہ سودا لیا آخرت میں اس کا کچھ حصہ نہیں اور بیشک کیا بری چیز ہے وہ جس کے بدلے انہوں نے اپنی جانیں بیچیں کسی طرح انہیں علم ہوتا 
سورہ البقرہ آیت نمبر102

شان نُزول : حضرت سلیمان علیہ السلام کے زمانہ میں بنی اسرائیل جادو سیکھنے میں مشغول ہوئے تو آپ نے ان کو اس سے روکا اور ان کی کتابیں لے کر اپنی کرسی کے نیچے دفن کردیں۔ حضرت سلیمان علیہ السلام کی وفات کے بعد شیاطین نے وہ کتابیں نکلوا کر لوگوں سے کہا کہ سلیمان علیہ السلام اسی کے زور سے سلطنت کرتے تھے بنی اسرائیل کے صلحاء و علماء نے تو اس کا انکار کیا لیکن ان کے جہال جادو کو حضرت سلیمان علیہ السلام کا علم بتاکر اس کے سیکھنے پر ٹوٹ پڑے ۔ انبیاء کی کتابیں چھوڑ دیں اور حضرت سلیمان علیہ السلام پر ملامت شروع کی سید عالم صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ تک اسی حال پر رہے اللہ تعالیٰ نے حضور(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر حضرت سلیمان علیہ السلام کی برا ت میں یہ آیت نازل فرمائی۔

(الف)
کیونکہ وہ نبی ہیں اور انبیاء کفر سے قطعاً معصوم ہوتے ہیں ان کی طرف سحر کی نسبت باطل وغلط ہے کیونکہ سحر کا کفریات سے خالی ہونا نادر ہے۔

(ب)
جنہوں نے حضرت سلیمان علیہ السلام پر جادوگری کی جھوٹی تہمت لگائی۔

(ج)
یعنی جادو سیکھ کر اور اس پر عمل و اعتقاد کر کے اور اس کو مباح جان کر کافر نہ بن یہ جادو فرماں بردار و نافرمان کے درمیان امتیاز و آزمائش کے لئے نازل ہوا جو اس کو سیکھ کر اس پر عمل کرے کافر ہوجائے گا بشرطیکہ اس جادو میں منافی ایمان کلمات و افعال ہوں جو اس سے بچے نہ سیکھے یا سیکھے اور اس پر عمل نہ کرے اور اس کے کفریات کا معتقد نہ ہو وہ مومن رہے گا یہی امام ابومنصور ما تریدی کا قول ہے مسئلہ جو سحر کفر ہے اس کا عامل اگر مرد ہو قتل کردیا جائے گا مسئلہ: جو سحر کفر نہیں مگر اس سے جانیں ہلاک کی جاتی ہیں اس کا عامل قطاَّع طریق کے حکم میں ہے مردہو یا عورت 

مسئلہ :جادوگر کی توبہ قبول ہے (مدارک)

(د)
مسئلہ : اس سے معلوم ہوا مؤثر حقیقی اللہ تعالیٰ ہے اور تاثیر اسباب تحت مشیت ہے۔


Saturday, 27 April 2013

فیضانِ اِسمِ اعظم ۱۹۔ مسائل نہیں وسائل۔


آج دُنیا بھر میں جہاں  کہیں بھی دیکھیں۔ مسلمانوں سے ذیادہ پریشان حال، زِیر عتاب، مشکلوں کا شِکار کوئی اُور نظر نہیں آتا۔ جو صاحب استطاعت لُوگ ہیں۔ جنہیں  بظاہر کوئی معاشی پریشانی لاحق نہیں ہے۔ اگر اُن سے بھی سُوال کیا جائے ۔ تو معلوم ہُوتا ہے۔کہ،، دُنیا بھر کی آسائشیں موجود ہونے کے باوجود قلبی سکون تو اِن لوگوں کو بھی مُیسر نہیں ہے۔۔۔ لیکن آخر ایسا کیوں ہے۔ تمام اُمتوں میں خیرِ اُمت کا لقب پانی والی قُوم کی جگہ جگہ تذلیل کا آخر سبب کیا ہے۔۔۔؟؟؟ یہ ایک ایسا سُوال ہے۔کہ،، جسکا جواب ہر ایک ذِی شعور مُسلمان جانتا ہے۔۔۔لیکن۔۔۔ اِس جواب سے پہلوتہی برتتے ہُوئے بے نِشان منزل کی جانب خومخواہ بڑھتا چلا جاتا ہے۔۔۔ کیوں کہ،، آج کا مسلمان جس قدر بے عملی کا شِکار ہے۔ اُسکی نظیر ظہورِ اِسلام سے لیکر چند دِہائیوں قبل تک نہیں مِلتی۔۔۔۔ اللہ کریم نے جس قدر مسلمانوں پر احسانات فرمائے۔ جتنی آسانیاں مسلمانوں کو اپنے مدنی محبوب صلی اللہ علیہ وسلم کی نعلین پاک کے تصدق میں عطا کی ہیں۔۔۔ اُس کے شُکرانے میں ہُونا تو یہی چاہیئے تھا۔ کہ ،، ہم سب قُوم نوح علیہ السلام کی اُس بڑھیا کی خُواہش کی پیروی کرتے ہُوئے اپنی تمام عُمر سجدہ شکر بجالانے میں بسر کردیتے۔۔۔ لیکن تمام اقوام سے کم عُمر پانے کے باوجود ہماری دُنیا کیلئے کوششیں ایسے ہیں۔ جیسے ہمیں کبھی اِس دُنیا سے ہجرت ہی نہیں کرنی ہُو۔ یہ زمین ہی ہماری دُنیا ہُو۔ یہ زمین ہی ہماری جنت ہُو۔

مجھے وُہ راجگیر آج بھی یاد ہے۔ جِسے تین برس ساتھ رہنے کے باوجود بھی میں نے کبھی مغموم نہیں دیکھا۔ اُسکے چہرے اُور جسم کی پھرتی کو دیکھ کر کبھی لگتا ہی نہیں تھا۔ کہ،، وُہ پنسٹھ برس کا بوڑھا انسان ہے۔ جب میں نے اُسکی طمانیت اُور خُوشگوار زندگی کا سبب جاننے کی کوشش کی ۔۔۔ تو اُس نے بڑی سادگی سے مسکراتے ہُوئے کہا تھا۔کہ،، مجھے یقین ہےکہ،، میرا پروردیگار مجھ سے بے پناہ محبت کرتا ہے۔ سُو جو محبت سے جتنا دے۔ وہی مُناسب ہُوتا ہے۔ شکوہ کرنے سے محبت کرنے والے کی توھین  کا پہلو نِکلتا ہے۔ اِس لئے مجھے دُنیا کی دُوڑ میں شامل ہُونے کا کبھی خیال نہیں آتا۔ وُہ محبت سے جو جو عطا کرتا جاتا ہے۔ میں خوشی خوشی اپنے دامن میں سمیٹتا چلا جاتا ہُوں۔ اُور وُہ جِس جِس چیز سے مجھے  روکے رکھتا ہے۔ میں رُک جاتا ہُوں۔۔۔ اُور یہ یقین رکھتا ہُوں۔کہ،، اگر اُس شئے میں میرے لئے ذرا سا بھی فائدہ ہُوتا۔ تو وُہ کریم مجھے اِس سے ہرگز محروم نہیں رکھتا۔ کیونکہ،، وُہ جیسی بے مِثال محبت اپنے بندُوں سے کرتا ہے۔ اُسکی نہ کوئی مِثل ہے۔ نہ کوئی دُنیا میں ایسا پیمانہ ہے۔ جو اُس پاک ذات کی بندوں سے محبت کو ماپ سکے۔ میں جب بھی اُس راجگیر کے متعلق سُوچتا ہُوں۔ تو مجھے ایک ہی بات سمجھ آتی ہے۔ کہ ،، اُسکے یقین نے اُسے ضرور مقام ولایت پر پُہنچادیا تھا۔

اللہ  کریم قرانِ مجید میں واضح طُور پر اِرشاد فرماتا ہے۔
 وَمَنۡ اَعۡرَضَ عَنۡ ذِكۡرِىۡ فَاِنَّ لَـهٗ مَعِيۡشَةً ضَنۡكًا
اور جس نے میری یاد سے منہ پھیرا تو بیشک اس کے لیے تنگ زندگانی ہے۔
ترجمہ کنزالایمان سورہ طہ آیت نمر ۔۱۲۴

محترم قارئین کرام  بعض مفسرین کرام علیہ الرحمہ اِس آیت کی تفسیر کرتے ہُوئے بیان فرماتے ہیں۔ کہ ،، خُدا کے ذکر سے مُنہ مُوڑنے والا انسان نا صِرف دنیاوی زندگی میں تنگی کا شکار رہے گا۔ بلکہ اُسکی برزخی زندگی بھی انتہائی تکلیف دِہ ہُوگی۔۔۔ اب ذرا سُوچئیے۔کہ،، یہ دُنیاوی زِندگی جو پچاس سے لیکر سُو برس تک محیط ہُوسکتی ہے۔ کسی نا کسی طرح گُزر ہی جاتی ہے۔ لیکن برزخی زِندگی جو ہزاروں برس پر بھی محیط ہُوسکتی ہے۔ اگر وَہاں بھی ذکرِ اللہ سے رُو گردانی کے سبب  چین نہ مِلا۔ تو ہم وُہ ہزاروں برس کی زندگی بھی اللہ کریم کی ناراضگی کے سبب تکلیف و مصیبت  کی حالت میں گزارنے پر مجبور ہُوں گے۔ کیا ہمارے نرم و نازک جسم اُس  عذاب کو برداشت کرنے کے متحمل ہُوسکتے ہیں۔۔۔۔؟؟؟  یقیناً نہیں ہُوسکتے۔۔۔ تو کیوں نہ ہم اپنی زندگی کو اللہ کریم کی اطاعت اُور اُسکے اسمائے مبارک کی رحمتوں اُور برکتوں کے سائے میں گُزاریں۔۔۔ تاکہ دُنیاوی زِندگی کا سفر بھی آسانی سے طے ہُوجائے ۔ اُور برزخی زِندگی میں بھی کامیابی ہمارے قدم چُومے۔۔۔ اِن دُنیاوی مشکلوں کا سامنا کرنے کیلئے اللہ کریم کے اسمائے مُبارک سے مُرتب کئے ہُوئے چند وطائف پیش خدمت ہیں۔۔۔ جنکی برکتوں سے ایک زمانہ فیضیاب ہُورہا ہے۔

یا وَھَّابُ یا  وکِیلُ یا حَسِیبُ اَرشِدنِی۔
کوئی بھی رُکا ہُوا کام ہُو۔ ویزہ کے حصول کیلئے۔ اُور بند گلی میں راستہ بنانے کیلئے بھی نہایت پُر تاثیر وظیفہ ہے۔


یا عَلِیمُ عَلِّمنِی یا خَبِیرُ اَخبِرنِی یا رَشِیدُ اَرشِدنِی۔
عِلم کے حصول،  اِمتحان کی تیاری ،عرفان و آگہی کیلئے، اُور حافظہ قوی کرنے کیلئے بے مِثال وظیفہ ہے۔


یا لَطِیفُ یا کریمُ  یا قَدِیرُ اَرشِدنِی۔
رشتہ، نکاح، اُور من پسند شادی کیلئے۔


یا وَدُودُ یا حَسِیبُ یا عَزِیزُ یا وَکِیلُ۔
میاں بیوی میں محبت کیلئے۔
ہر نماز کے بعد ۷۷ بار ۔۔۔  دُوستوں اور گھر والوں کیلئے بھی پڑھیں ۔جمعہ کو ایک ہزار مرتبہ پڑھ کر چینی اُور نمک پر دَم کردیں۔ اور گھر کے چینی اور نمک کی ڈبیہ میں اِسے شامل کردیں۔ جیسے ہی چینی یا نمک ختم ہُونے کے قریب ہُو۔ مزید چینی، یا نمک ڈال کر ڈبیہ کو پھر سے بھر دیں۔ تین جمعہ تک پڑھتے رہیں۔ انشا اللہ سب کے درمیان محبت قائم ہُوجائے گی۔ اس کے ذریعہ سے ساس بہو، نند بَھابی کی چپقلش پر بھی قابو پایا جا سکتا ہے۔


یا کَبِیرُ یا قَدِیرُ یا رَشِیدُ اَرشِدنِی۔
اُولاد کیلئے۔ رات کو بستر پر جانے کے بعد سب سے پہلے باوضو حالت میں یہ وظیفہ پڑھیں۔ اسکے بعد خُوب دُعا کریں۔ انشااللہ الکریم من کی مُراد پُوری ہُوگی۔ جب حمل واضح ہُوجائے تو بچے کی حرکت  محسوس ہُونے پر وَہاں اُنگلی رکھ کر کہیں کہ۔ میں نے اِسکا نام محمد رکھا۔ انشا اللہ الکریم بیٹا ہی پیدا ہُوگا۔


یا اللہ یا رَحمٰنُ یا رَحِیمُ اَرشِدنِی۔
دِل میں نُور پیدا کرنے کیلئے۔ معرفت کی راہ پر قدم رکھنے کیلئے انتہائی مجرب ہے۔


یا سَلامُ  یا بَرُّ یا رَوٗفُ یا کَرِیمُ۔
بیماری سے نجات حاصل کرنے کیلئے۔ رات کو سُوتے وقت ۱۳۱ مرتبہ مریض، پانی اُور تسبیح پر دَم کریں۔ پانی مریض کو پِلائیں بھی، اُور اُسکے چہرے پر چھڑکیں بھی۔ تسبیح کو مریض کے سرہانے رکھ دیں۔ انشا اللہ بُہت جلد صحتیاب ہُوگا۔


یا عَزِیزُ یا وَھَّابُ یا رَشِیدُ یا وَکِیلُ۔
مقدمے میں کامیابی کیلئے۔


یا رَزَّاقُ  یا وَھَّابُ یا سُبحانُ یا عَلِیُّ

رِزق میں برکت کیلئے ہر نماز کے بعد ۱۰۰ مرتبہ یا ۵۱ مرتبہ پڑھیں۔


یا مُتَکَبِّرُ یا قَہَّارُ یا جَبَّارُ  یا عَزِیزُ اَرشِدنی۔
دُشمن کے ظُلم سے محفوظ رکھنے کیلئے۔

جِن وظائف میں پڑھنے کی تعداد موجود نہیں ہے۔ اُنہیں ہر نماز کے بعد ۴۱ یا بحالتِ مجبوری ۲۱ مرتبہ پڑھ سکتے ہیں۔

دُعا کرائی نہیں جاتی۔۔۔ بلکہ اپنے عَمل سے لی جاتی ہے۔۔۔۔ مخلوق خدا سے محبت کیجئے ۔ غُربا کا خیال رکھیں۔۔۔ تاکہ اُس دُعا کا حصول ممکن ہُو۔ جو دِل سے خُود بخود نکل جاتی ہے۔( اگر کسی  معاملہ میں اِسم اعظم کی کمی نظر آئے۔ تو کمنٹ باکس میں لکھ دیجئے گا۔ میں اللہ کریم کی توفیق سے شامل مضمون کردونگا۔۔۔۔ ) یا ربَّ العالمین اپنے مدنی محبوب ﷺ کی نعلین کے تصدق میں میری اِس کوشش کو قبول فرما۔ اُور مجھ سے جِس جِس نے بھی دُعا کے واسطے کہا۔ تو اپنے خاص فضل سے اُن سب کے دامنوں کو  گوھرِ مُراد سے بھرتے ہُوئے۔ اُنہیں دارین کی بھلائیاں عطا فرمادے۔آمین بِجاہِ النبی الکریم وصلی اللہ تعالی علیہ وَ آلہ واصحابہ وَ اولیائے مِلتہِ اجمعین۔

آپکا عشرت اقبال وارثی۔


Tuesday, 23 April 2013

فیضانِ اسمِ اعظم 18 عَرق النساءَ اُور کمر و پِنڈلی کے دَرد کا رُوحانی علاج۔



عَرق النساءَ اُور کمر و  پِنڈلی کے دَرد کا رُوحانی علاج۔

الحمدُ للہِ عزوجل عرق النساءَ کا دَرد ہُو یا کَمر کا دَرد ہُو۔ یا  معاملہ ہُو پنڈلی کے دَرد کا ... یا پاوٗں میں پیدائشی نقص موجود ہُو۔۔میں نے جب بھی اِس طریقہ کے مُطابق لوگوں پر دَم کیا ہے۔ تو بے شُمار ایسے لوگوں کو بھی اللہ کریم کے فضل واِحسان سے فائدہ پُہنچا ہے۔ جو آپریشن تک کیلئے تیار بیٹھے تھے۔ لیکن  صِرف ایک ہفتہ مُتواتر دَم کرنے سے اُنکی تکلیف ہمیشہ کیلئے جاتی رہی۔ اِس تمام معاملہ میں میرا کوئی کمال نہیں ہے۔ سب اللہ کریم کا خاص کرم ہے۔ کہ اُسکے مدنی محبوب  صلی اللہ علیہ وسلم کے طُفیل لوگوں کو شِفاٗ حاصِل ہُوگئی۔ البتہ یہ طریقہ چُونکہ مجھ پر ایک خاص کرم کے تحت القاٗ ہُوا ہے۔ اِسلئے آپ کو یہ طریقہ شائد کِسی بھی کتاب میں نہ مِلے۔



اِس دَم کے طریقہ سے ہر ایک عاشق رَسول صلی اللہ علیہ وسلم کو فیض حاصِل کرنے کی اِجازت ہے۔ لیکن وُہ لُوگ جو اپنی گفتگو میں اُولیائے کرام  رَحمُ اللہِ اجمعین اُور صحابہ کرام (رِضوان اللہ تعالی  علیہم  اجمعین)  کا  مَذاق اُڑاتے نظر آتے ہیں۔ وُہ اگر اِس طریقہ سے فائدہ حاصِل بھی کرنا چاہیں۔ تو ہرگز ہرگز فائدہ نہیں اُٹھا پائیں گے۔ کہ یہ سب عنایات وفیض بُزرگوں کی نعلین کا تصدق ہے۔ اگر کسی صاحب کو اِس طریقہ سے اِفاقہ حاصل ہُوجائے تو برائے مہربانی بعد میں حضور سیدنا غُوثِ اعظم رحمتہ اللہ علیہ اُور سیدنا حاجی وارث علی شاہ رحمتہ اللہ علیہ کو ایصال ثواب کی نیت سے حسب توفیق کُچھ کھانا پکا  کر فاتحہ کا اہتمام کریں اُور کچھ کھانے کو غُربا میں بھی تقسیم فرمادیں۔

زیتون  کا تیل ایک ٹِن یا بوتل اپنے پاس رکھ لیں۔۔۔جب بھی مریض پر دَم کریں ساتھ ہی زیتون کے تیل پر بھی دَم کرلیں۔ جب دَم مکمل ہُوجائے تب آخر میں سورہ کہف پڑھ کر تیل پر دَم کر لیں۔۔۔ اُور روزانہ اُسی تیل کو نرم ہاتھ سے کمر یا پنڈلی پر لگاتے رہیں۔۔۔ انشا اللہ اِس کے فوائد دیکھ کر آپ خُود حیران رِہ جائیں گے۔

سب سے پہلے کَمر یا ران کے اُس حصے پر (سَترِ عُورَت یعنی پردے کا خیال رکھتے ہُوئے ) اپنا دایاں ہاتھ رکھیں جہاں سے دَرد کی ابتدا ہُوتی ہے۔ اُسکے بعد گیارہ مرتبہ کوئی سا بھی دُردو پاک پڑھیں۔ (بہتر ہے کہ دُرود غوثیہ اگر یاد ہُو تو وُہی پڑھ لیں) اسکے بعد ۱۹ مرتبہ بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھ کر  ۲۱ مرتبہ  دعائے سیفی  پڑھ لیں ۔
دُعائے سیفی (نادِ علی) یہ ہے۔

نادِ علیّاً مَظهَرَ العَجائِبِ تَجِدهُ عَوناً لَکَ فی النَّوائِبِ کُّلِّ هَمِ وَّ غَمٍّ سَیَنجَلَی  بِنُبُوَّتِکَ یا رَسُول اللہ وَ بِوِلایَتِکَ یا عَلِیُّ یا عَلِیُّ یا عَلِیُّ

 اُور دَرد والی جگہ پر دَم کریں۔ اُور یہ تصور کرتے ہُوئے۔ کہ آپ درد کو جسم سے باہر دھکیل رہے ہیں۔ اپنے ہاتھ کو نرمی سے پنجےکی انگلیوں تک لیجائیں۔ اسکے بعد پھر ہاتھ دَرد کی جگہ رکھیں اُور سات مرتبہ سُورہ فلق اُور سات مرتبہ سورہ الناس پڑھ کر   درد کی جگہ دَم کریں ۔اُور حسبِ سابق ہاتھ کو  درد کی جگہ سے نیچے کی طرف پنجوں کی انگلیوں تک لیجائیں اُور تصور وہی رکھیں کہ آپ درد کو دھکیل کر جسم سے نِکال رہے ہیں۔

اِس کے بعد درد کی جگہ پر ہاتھ رکھتے ہُوئے  تین مرتبہ بِسم اللہ شریف مکمل پڑھیں۔ اُور سات مرتبہ یہ دُعا پڑھیں

اَعُوذُ بِعِزَّ ۃِ اللہ وَ قُدرَتِہِ مِن شَرِّما اَجِدُ وَ اُحاذِرُو

یہ دُعا پڑھ کر پھر دَرد کی جگہ  پر پہلے کی طرح دَم کردیں۔ اُور حسبِ سابق ہاتھ کو پنجے کی انگلیوں تک لیجائیں اُور تصور وہی رکھیں کہ آپ درد کو دھکیل کر جسم سے نِکال رہے ہیں۔ اب گیارہ مرتبہ دُرودِ پاک پڑھ کر اللہ کریم کی بارگاہ میں عاجزی اُور انکساری سے دُعا کریں۔ اے میرے پروردیگار جو میرا کام تھا وُہ میں نے کردِیا ۔باقی شِفا دینا تیرا کام ہے۔ سُو تجھے تیرے محبوب اعظم صلی اللہُ علیہ وسلم اُور اصحاب بدر و کہف  کاواسطہ اِس مریض کو ایسی شِفا عطا فرمادے کہ اِسے دُوبارہ یہ مرض نہ ہُو۔

انشاءَاللہُ الکریم  دوسرے دِن ہی سے افاقہ ہُونا شروع ہُوجائے گا لیکن آپ سات دِن مکمل دَم کریں۔ اُور مجھ بدکار و سخت گنہگار کیلئے بھی دُعا فرمادیں کہ وُہ کریم مجھ سے بھی قبر و حشر میں آسانی کا معاملہ فرمائے۔  اُورمجھے میرے اعمال کی جزا کے بجائے صرف اپنے فضل کی بھیک عطا فرماتے ہُوئے ایسی جگہ عطا فرمادے۔ کہ جہاں سے چُھپ چھپ کر اُسکے محبوب اعظم صلی اللہ علیہ وسلم کا  ہمیشہ دِیدار نصیب ہُوتا رَہے۔ آمین بِجاہِ النبی الکریم وصلی اللہُ علیہ وسلم۔

نُوٹ : یہ دَم مرد حضرات اپنی زُوجہ کے علاوہ کسی دوسری خاتون پر نہیں کرسکتے۔ اگر کسی خاتون کو تکلیف ہُو تو وُہ کسی نمازی خاتون سے ہی دَم کروالیں۔ البتہ مَرد حضرات دوسرے مَردُوں پر دَم کرسکتے ہیں۔ لیکن دَم کرنے والا نمازی اُور شریعت کا لحاظ رکھنے والا ضرور ہُو۔ اگر کوئی دُعا پڑھنے میں دشواری پیش آئے تو آپ مجھ سے فیس بُک یا میرے بلاگ پر رابطہ فرماسکتے ہیں۔  

فیضانِ اسم اعظم 17. نظرِ بد اور اِسکا علاج



نظرِ بد کا جواز قران مجید اُور صحیح حدیث سے ثابت ہے۔۔۔ اسلئے جب بعض آزاد خیال لُوگ نظر ہونے کا یا نظر بد کے اثرات کا بے علمی میں اِنکار کررہے ہُوتے ہیں۔۔۔ تو دراصل علم کی کمی کے باعث وُہ قران مجید اُور احادیث طیبہ کا اِنکار کرجاتے ہیں۔ جیسا کہ،، بعض لُوگ جنات کا بھی اِنکار کردیتے ہیں۔۔۔۔ اگر یہ انکار لاعلمی میں کیا جائے تو اِنسان صرف گنہگار ہُوتا ہے۔ لیکن اگر کوئی صاحب علم اِسکا اِنکار کرے گا۔ تو وُہ حد کُفر تک بھی پُہنچ سکتا ہے۔۔۔ اللہ کریم ہمیں بے عِلموں کی صحبتِ بے فیض سے ہمیشہ محفوظ رکھے۔ کہ ایسے لوگ شیطانِ لعین کے پیروکار، یا،، آلہ کار ہُوتے ہیں۔۔۔ خود بھی آخرت کے نفع سے دُور ہُوتے ہیں ۔اُور دُوسروں کیلئے بھی خسارے کا باعث بنتے ہیں۔

قران مجید فرقان حمید میں اللہ کریم کفار کی نظر بد کا تذکرہ کرتے ہُوئے اِرشاد فرماتا ہے۔
وَاِنۡ يَّكَادُ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا لَيُزۡلِقُوۡنَكَ بِاَبۡصَارِهِمۡ لَمَّا سَمِعُوا الذِّكۡرَ وَيَقُوۡلُوۡنَ اِنَّهٗ لَمَجۡنُوۡنٌ‌ۘ‏
اور ضرور کافر تو ایسے معلوم ہوتے ہیں کہ گویا اپنی بد نظر لگا کر تمہیں گرادیں گے جب قرآن سنتے ہیں اور کہتے ہیں یہ ضرور عقل سے دور ہیں۔۔۔۔ سورہ القلم آیت نمبر ۵۱۔
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے اس آیت کی تفسیر میں فرمایا ہے کہ،، وہ  (کفار)آپ کو نظر لگا دیں گے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں۔۔۔
اَلْعَيْنُ حَقٌّ وَلَوْ کَانَ شَيْئٌ سَابَقَ الْقَدْرَ سَقَبَتُْ الْعَيْنُ، وَاِذَا اسْتُغْسِلْتُمْ فَاغْسِلُوا
سنن ابی داود وجامع الترمذی
’’نظر لگنا برحق ہے، اگر کوئی چیز تقدیر سے سبقت کرنے والی ہوتی تو نظر سبقت کرتی اور جب تم سے دھونے کا مطالبہ کیا جائے تو تم دھو دیا کرو۔

لَا رُقْيَةَ اِلاَّ مِنْ عَيْنٍ اَوْ حُمَةٍ  ۔۔۔صحیح بخاری
کہ ،،دَم کرنا نظربد  یا بخار کیلئے ہی ہے۔

نظر کے اثرات سے پہاڑ ریزہ ریزہ ہُوجاتے ہیں۔ یہ کہاوت تو آپ نے ضرور سُنی ہُوگی۔۔۔ لیکن ایسا ہُوتا کیوں ہے۔۔۔؟ کیا کبھی آپ نے اِس کے متعلق سُوچا ہے۔۔۔  میں نے اِس معاملے میں کچھ تحقیق کی ہے۔ جِسے آپ کے سامنے پیش کررہا ہُوں۔۔۔دراصل انسانی جسم سے اُسکی دِماغی وَ جِسمانی کیفیات کی نسبت سے منفی اُور مثبت ریز (شعاعیں) نِکلتی رہتی ہیں۔۔۔ یعنی جب انسان پر خُوشی کی کیفیت غالب ہُوتی ہے۔ تو اُسکے تمام جسم سے بالعموم اُور آنکھوں سے بالخصوص مثبت ریز (شعاعیں) نکلتی ہیں۔ جس سے  ماحول میں خوشگوار اَثر پیدا ہُوتا ہے۔ اُور ایسی حالت میں جب کوئی دوسرا نارمل انسان اِسے دیکھتا ہے۔ تو  اُسے بھی اِن برقی ریز کی وجہ سے توانائی حاصل ہوجاتی ہے۔ لیکن جب کوئی شخص غصہ کی حالت میں ہُو۔ یا حَسد کی کیفیت میں مُبتلا ہوتا ہے۔ تب اُسکا جسم بالعموم اُور نِگاہیں بالخصوص منفی برقی شعاعیں (ریز) برآمد کرتی ہیں۔ جسکی وجہ سے جِس شخص کو دیکھا جارہا ہُو۔ وُہ بھی اِن منفی شعاعوں سے متاثر ہوجاتا ہے۔۔۔

جسکی ایک مثال یہ بھی دیکھی  جاسکتی ہے۔کہ،، جب کوئی شخص انتہائی غصہ کی حالت میں ہُوتا ہے۔ تو مُقابل شخص  اُس وقت نظر مِلا کر  اُسے نہیں دیکھ پاتا۔ کیونکہ غصہ کی شدت کی وجہ سے آنکھوں میں سُرخی اُمڈ آتی ہے۔ لیکن نظر کا معاملہ صرف غصہ کا مرہونِ منت نہیں ہُوتا۔ کیونکہ بعض اُوقات انسان کسی  نوجوان یا بچے کو رشک کی حالت میں دیکھتا ہے۔  یہاں تک کہ اپنے بچوں کی شرارتوں یا حرکتوں کا بغور مطالعہ کرتے ہُوئے  بھی انسان کی نِگاہوں سے لاشعوری طُور پر منفی شعاعیں برآمد ہُونے لگتی ہیں۔ جسکی وجہ سے دوست احباب اُور خاص طور پر چھوٹے بچے مُتاثر ہُوجاتے ہیں۔ میں نے  اِن  ریز کا اَثر دیکھنے کے لئے بیشمار مرتبہ ایک تجربہ کیا ہے۔ جِس میں مجھے خاطر خواہ کامیابی حاصِل ہوئی ہے۔

سب سے پہلا مشاہدہ ایک بارہ برس کی بچی پر قریبا بیس برس قبل کیا تھا۔ وُہ میرے ایک دوست کی بھتیجی تھی۔ جِس پر عجیب طرح کے دُورے پڑ رہے تھے۔ میں نے وظائف کیساتھ بے اختیاری طور پر اُس بچی کو اسطرح دیکھنا شروع کیا۔ جیسے وُہ میری بیٹی یا بہن ہُو۔۔۔ میرا خیال جسقدر مضبوط ہوتا چلا گیا۔ وُہ بچی اُسی قدر نارمل ہُوتی چلی گئی۔۔۔ تھوڑی دیر میں  وُہ بچی تو نارمل ہُوگئی۔ لیکن مجھے شدت سے چکر آنے لگے ۔ اُور گھر تک واپسی کا سفر بھی  اپنے قدموں پر بقائمی ہُوش جاری نہیں رکھ پایا۔ شام کو جب کچھ حالت بہتر ہُوئی۔ تو اپنے روحانی اُستاد سے استفادہ حاصل کرنے کیلئے جا پُہنچا۔۔۔ اُنہوں نے مجھے دیکھتے ہی اپنے پاس بِٹھا لیا۔ اُور کچھ دیر مجھ پر دَم کرتے رہے۔۔۔ حیرت انگیز طور پر  مجھے ایسا محسوس ہُونے لگا۔ جیسے مجھے چارج کیا جارَہا ہُو۔ اُورمیں چند منٹوں میں ہی بالکل نارمل ہُوگیا۔

تب اُنہوں نے  مجھے سے  استفسار کیا۔۔۔؟؟؟ کیا آج تُم نے کسی پر دَم کیا تھا۔؟ میں نے اثبات میں جواب دیا۔۔۔ تو  اُنہوں نے مجھ پر  انکشاف کرتے ہُوئے بتایا۔ کہ میں جس بچی پر دَم کرنے گیا تھا۔ وُہ روحانی طور پر بُہت کمزور تھی۔ جِسے چند دِن دَم کردیا جاتا۔ تو وُہ نارمل ہُوسکتی تھی۔ لیکن تُم نے انجانے میں اپنی نظروں سے اپنی  رُوحی پاور اُس لڑکی میں منتقل کرنا شروع کردیں۔ جسکی وجہ سے وُہ لڑکی تو چند منٹوں میں ٹھیک ہُوگئی۔۔۔ لیکن تمہاری روحانی پاور جو  تمہیں چلنے پھرنے، بولنے، سوچنے ، میں معاونت فراہم کرتی ہے۔ اچانک اِس منتقلی سے کمزور پرگئی۔۔۔۔ جیسے ایک بیٹری سے دوسری بیٹری کو چارج کردیا جاتا ہے۔ ۔۔پھر اُنہوں نے مجھے تنبہی کرتے ہُوئے اِرشاد  فرمایا کہ،، کم از کم  اگلے دس برس تک ایسی حماقت پھر نہیں کرنا۔ جب تک کہ،،  ڈائریکٹ گِرڈ اسٹیشن سے رابطہ بحال نہ ہُوجائے۔ میں نے اُس زمانے میں تو اِس عمل کو دوبارہ نہیں آزمایا۔۔۔لیکن۔ گُذشتہ چند برسوں میں  الحمدُ للہ رب العامین اِسی تکنیک سے کئی  روحانی مریضوں کا کامیابی سے علاج کرچکا ہُوں۔

محبت سے دیکھنے پر بھی نظر لگ جانے کا دُورِ رسالتماب صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک عجیب واقعہ۔

امام نسائی اور امام ابن ماجہ رحمہ اللہ  نے روایت کیا ہے کہ عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ  سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ  کے پاس سے گزرے، جب کہ وہ غسل کر رہے تھے اتفاق سے انہوں نے سہل بن حنیف کو دیکھ کر بے ساختہ کہا کہ: ’’میں نے آج تک کسی کنواری دو شیزہ کی بھی اس طرح کی جلد نہیں دیکھی۔‘‘  یہ کہنا تھا کہ سہل بے ہوش ہو کر زمین پر گر پڑے۔ انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لے جایا گیا اور عرض کیا گیا: سہل بے ہوش ہو کر گر گئے ہیں۔ آپ نے فرمایا۔۔۔تم ان کے بارے میں کس کو مورد الزام ٹھہراتے ہو۔۔۔؟ صحابہ کرام رضوان اللہ عنہما  نے عرض کیا: عامر بن ربیعہ کو۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اِرشاد فرمایا۔۔

عَلَامَ يَقْتُلُ أَحَدُکُمْ أَخَاهُ إِذَا رَأَی أَحَدُکُمْ مِنْ أَخِيهِ مَا يُعْجِبُهُ فَلْيَدْعُ لَهُ بِالْبَرَکَة۔

تم میں سے کوئی اپنے بھائی کو قتل کرنے  کے درپے کیوں ہے۔۔۔؟ تم میں سے کوئی جب اپنے بھائی کی کوئی خوش کن بات دیکھے ۔تو اس کے لیے برکت کی دعا کرے۔

                پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے پانی منگوایا۔ اور عامر رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ وہ وضو کریں، تو انہوں نے اپنے چہرے اور دونوں ہاتھوں کو کہنیوں تک دھویا، دونوں گھٹنوں اور ازار کے اندر کے حصے کو دھویا اور پھر آپ نے 
حکم دیا کہ وہ پانی نظر لگے ہوئے شخص پر بہا دیں۔۔۔
اِس تمام واقعہ سے بھی نظر کا لگنا ثابت ہے۔ اُور ایک صحابی کے وضو کے پانی  سے دوسرے صحابی کے علاج کا واقعہ معلوم ہوتا ہے۔ جبکہ قران مجید میں اللہ کریم صحابہ کرام کی شان بیان کرتے ہُوئے فرماتا ہے۔ کہ یہ ایک دوسرے کیلئے انتہائی نرم ہیں۔ محبت کرنے والے ہیں۔ تو معلوم یہ ہُوا کہ نظر کے اثرات محبت سے دیکھنے پر بھی واقع ہُوسکتے ہیں۔

چُونکہ حضور علیہ السلام اللہ کریم کی مخلوق میں سب سے ذیادہ حَسین ہیں۔ اسلئے حکم اِلہی سے سیدنا جبرئیل علیہ السلام  نبی ء کریم  صلی اللہ علیہ وسلم کو حاسدین کی نظروں سے محفوظ رکھنے کیلئے دم کرتے ہوئے یہ کلمات پڑھا کرتے تھے۔

بِاسْمِ اللّٰهِ اَرْقِيْکَ، مِنْ کُلَّ شَيْئٍ يُؤْذِيْکَ، مِنْ شَرِّ کُلِّ نَفْسٍ اَوْ عَيْنٍ حَاسِدٍ، اَللّٰهُ يَشْفِيْکَ، بِاسْمِ اللّٰهِ اَرْقِيْکَ ۔۔۔ صحیح مسلم،

’’اللہ کے نام کے ساتھ میں آپ کو دم کرتا ہوں، ہر اس چیز سے جو آپ کو تکلیف دے، اور ہر انسان کے یا حسد کرنے والی آنکھ کے شر سے، اللہ آپ کو شفا دے، میں اللہ کے نام کے ساتھ آپ کو دم کرتا ہوں۔

حضرت اَمَّاں عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان فرماتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا۔ یا پھر یہ حکم عام دیا۔ کہ،، نظر بد سے دم کروایا جائے۔  بخاری  (الطب/ 5297)-

بچوں کو سب سے ذیادہ نظر لگنے کا اندیشہ رہتا ہے۔ چُنانچہ بُخاری شریف کی ایک حدیث کے مطابق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خُود بھی حسنین کریمین رضی اللہ عنہما کی نظر اِن آیات سے اُتارہ کرتے تھے۔

اُعِيْذُکَمَا بِکَلِمَاتِ اللّٰهِ التَّامَّةِ مِنْ کُلِّ شَيْطَانٍ وَّهَامَّةٍ وَمِنْ کُلِّ عَيْنٍ لَامَّةٍ

میں تم دونوں کو اللہ تعالیٰ کے کلمات تامہ کی پناہ میں دیتا ہوں، ہر شیطان اور زہریلی بلا کے ڈر سے اور ہر لگنے والی نظر بد کے شر سے۔۔۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کے ایک فرمان غیب نشان کیمطابق  حضرت ابراہیم علیہ السلام  بھی اسماعیل واسحاق علیہما السلام  کو اسی طرح دم کیا کرتے تھے۔

اُمُ المومنین حضرت اُمِ سلمی رضی اللہ عنہا کا مُوئے مُبارک سے نظر بد کا علاج کرنا۔
حضرت عثمان بن عبداللہ بن مُوہب سے رِوایت سے ہے۔کہ،، میرے گھر والوں نے  مجھے پانی کا ایک پیالہ دیکر اُمُ المومنین حضرت اُمِ سلمی رجی اللہ عنہا کے  دَرِ عظمت پر بھیجا۔ اِس لئے کہ،، جب کسی کو نظر لگ جاتی ہے۔ یا کوئی اُور مرض لاحق ہُوجاتا ہے۔ تو وُہ ایک پیالہ حضرت اُمِ سلمی رضی اللہ عنہا کی خِدمت میں پیش کرتا۔ اُمِ سلمی رضی اللہ عنہا سیدُ الانبیاٗ صلی اللہ علیہ وسلم کے مُوئے مُبارک نکال کر جُو کہ،، ایک چاندی کی نلکی میں رکھے ہُوئے ہُوتے تھے۔ آپ اِن متبرک مُوئے مُبارک کو پیالے  کے پانی میں ہِلاتیں۔ اُور مریض کو وُہ پانی پِلا دیا جاتا۔ تو مریض شِفایاب ہُوجاتا۔ رَاوی کا بیان ہےکہ،، جب میں نے چاندی کی اُس نلکی میں نِگاہ کی تو مجھے اُس میں چند ایک سُرخی مائل موئے مُبارک نظر آئے۔(بخاری)۔

نظر بَد اُتارنے کے چند طریقے۔۔۔

نمبر ۱: جس پر نظر لگی ہُو۔ اُسے فرض غسل کی طرح غسل کرنے  کا کہیں۔ اگر معلوم ہُو۔کہ،، فُلاں کی نظر لگی ہے۔ تو جسکی نظر لگی ہُو۔ اُسکے وضو کا پانی مریض پر چھڑکیں۔۔۔ اور یہ آیت ۱۱ مرتبہ پڑھ کر مریض پر دَم کریں۔ دُعا یہ ہے۔  
۱: اَعُوْذُ بِکَلِمَاتِ اللّٰہِ التَّامَّة مِنْ شَرِّ کُلِّ شَیْطَانٍ وَہَامَّة وَمِنْ کُلِّ عَیْنٍ لَامَّة

۲: دُوسری دُعا یہ ہے جو کہ نظر کے علاج میں بُہت نافع ہے۔ درج ذیل دُعا تین مرتبہ بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھ کر سات مرتبہ
بِسمِ اللہِ  اللھم اَذھِب حَرَّھا وَ بَردَھَا وَ وَﺻَﺒَﮭَﺎ۔۔۔۔۔ پڑھ کر مریض پر  دَم کریں۔ انشا اللہ نظر اُتر جائے گی۔

نمبر ۳: تین عدد سُرخ  مِرچ لیں۔ اُس پر  سات مرتبہ بسم اللہ شریف، ایک مرتبہ سُورہ الکرسی، تین مرتبہ سُورہ فلق، تین مرتبہ سُورہ والناس، اول آخر درود پاک پڑھ کر مِرچوں پر دم کریں۔ پھر اِن مرچوں کو مریض پر اکیس مرتبہ وار کر چولہے میں ڈال دیں۔۔۔ انشا اللہ نظر  کا اثر دفع ہُوجائے گا۔

نمبر ۴: بچوں کی نظر اُتارنے کیلئے سورہ کوثر سے بھی دَم کیا جاسکتا ہے۔ جسکا طریقہ یہ ہے۔
سب سے پہلے تین مرتبہ درودِ پاک پڑھیں۔ پھر تعوذُ تسمیہ کے بعد ایک مرتبہ سورہ کوثر بچے کے سیدھے گال پر دَم کریں۔ دوسری مرتبہ سورہ کوثر پڑھ کر  اُلٹے گال کی طرف اُور تیسری مرتبہ پڑھ کر بچے کی پیشانی پر دَم کردیں۔۔ انشا اللہ نظر  اُتر جائے گی۔

نمبر ۵  : ہر مرتبہ بسم اللہ شریف کے ساتھ درج ذیل سورہ القلم کی  دُعا پڑھیں۔ مریض اُور پانی پر دَم کرتے رہیں۔ نو(۹) مرتبہ دَم کرنے  کے بعد مریض کو پانی دیں اُور سات گھونٹ  پانی پینے کو کہیں۔ ۔۔پینے والا  مریض ہر گھونٹ پیتے ہُوئے بسم اللہ شریف پڑھ کر پانی پیئے۔ باقی پانی مریض پر چھڑک دیں۔ انشا اللہ  عزوجل نظر فورا ختم ہُوجائے گی۔۔۔۔  
وَاِنۡ يَّكَادُ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا لَيُزۡلِقُوۡنَكَ بِاَبۡصَارِهِمۡ لَمَّا سَمِعُوا الذِّكۡرَ وَيَقُوۡلُوۡنَ اِنَّهٗ لَمَجۡنُوۡنٌ‌ۘ‏وَمَا ھُوَ اِلَّا ذِکرُلِلعَلَمِین۔
سورہ القلم آیت نمبر ۵۱۔

Saturday, 20 April 2013

فیضانِ اِسم اعظم 16جادو کی کاٹ کا طریقہ۔


محترم قارئین کرام السلامُ علیکم
الحمدُ للہِ عزوجل اللہ کریم کا کروڑہا کروڑ شکر و اِحسان ہے۔کہ،، آج  توفیق  خُداوندی سے اِسمِ اعظم  کی قسط نمبر  ۱۶ تحریر کررہا ہُوں۔۔۔ جسکا عنوان ہے جادو کی کاٹ،، جسمیں آج میں اپنے قارئین کرام کو جادو کا توڑ کرنے کا طریقہ سمجھانے کی کوشش کرونگا۔ اُور میری جانب سے اُن تمام مسلمانوں کو اِس عمل کی اجازت ہوگی۔ جنکے قلوب میں انبیا کرام علیہمُ اسلام کی عظمت،  تمام صحابہ کرام بشمول خلفائے راشدین ( رضوان اللہ تعالی علیہم اجمعین) کی محبت، اور اولیائے کرام (رحم اللہ اجمعین) کا ادب موجود ہے۔ میرے اِس طریقہ سے کوئی بے ادب و گستاخ علاج نہ کرے۔کہ،، اُسے اِس علاج سے کوئی فائدہ حاصل نہیں ہونے والا۔ خوامخواہ مشقت میں پڑےگا۔ اِس طریقے سے  آپ اپنی اُور صرف اپنی فیملی یعنی والدہ، والد، بھائی بہن، میاں،بیوی، اور بچوں کی کاٹ کرسکتے ہیں۔

ایک وقت میں صرف ایک شخص کی کاٹ کریں۔ اپنا علاج کرنے کیلئے ضروری ہے۔ کہ،، آپ صحتیاب ہُوں۔ مطب یہ کہ،، خُود کی حالت ایسی نہ ہُو۔ کہ کاٹ مکمل ہی نہ کرسکیں۔۔۔ اگر کاٹ کرنے کی ہمت نہ ہُو تو مجھے درج ذیل لِنک پر میسج کردیجئے گا۔ میں جمعرات کو اجتماعی کاٹ میں آپکا نام شامل کرلوں گا۔۔۔ یہ طریقہ اُور اِسکی اجازت بھی اِس لئے بتا رہا ہُوں۔ کہ،، بعض لوگوں پر اتنے تواتر سے جادو کے معملات کئے جاتے ہیں۔ کہ،، سائل بھی کاٹ کرواتے کرواتے تھک جاتا ہے۔ اول تو ہماری طرح مفت کاٹ کرنے والے ذیادہ لُوگ میسر نہیں ہیں۔۔۔ جو صرف اللہ کریم کی رضا کیلئے اپنے مسلمان بھائیوں کے جادو کی کاٹ کردیں۔ دوئم،، پیسے لیکر کاٹ کرنے والے لُوگ بھی ایمانداری سے اپنا کام نہیں کرتے۔ سوئم اناڑی اُور فراڈی لُوگوں کی بھی اِس دُنیا میں کمی نہیں ہے۔۔۔ جو صرف مال بٹورنے کیلئے لوگوں کو بے وقوف بناتے ہیں۔۔۔ اور اُن سے جادو کی کاٹ کے نام پر  مسلسل اپنی جیب گرم کرتے رہتے ہیں۔ چہارم،، اِس کاروبار میں ایسے لوگ بھی شامل ہوگئے ہیں۔ جنہوں نے خود پر مذہب کا لبادہ اُوڑھ رکھا ہُوتا ہے۔ اور لُوگ  اُنہیں دیندار  سمجھ کر اُنکے دَامِ فریب میں آجاتے ہیں۔۔۔ اللہ کریم سب کو ہدایت عطا فرمائے۔


جادو کی کاٹ کا طریقہ

سب سے پہلے مغرب کی نماز ادا کریں۔  پھر دو رکعت نفل پڑھ کر اِسکا ثواب جمیع انبیا کرام  علیہم السلام ، صحابہ کرام و  اولیائے عظام  رضوان اللہ اجمعین ، اُور  اپنے استاد کو ایصال کردیں۔ اور بغیر کسی سے کلام کئے مصلے پر چار زانوں بیٹھ جائیں۔ اگر مریض موجود ہُو تو اُسکو اپنے داہنے ہاتھ کی جانب بِٹھا لیں اور ایک بوتل پانی بھی پاس رکھ لیں۔۔۔ ورنہ غائبانہ کاٹ بھی کی جاسکتی ہے۔ چاہے مریض سات سمندر پار ہی کیوں نہ بیٹھا ہُو۔

سب سے پہلے ۱۱ مرتبہ درود پاک پڑھیں۔
اسکے بعد ۱۹ مرتبہ بسم اللہ الرحمن الرحیم۔
۳ ۔مرتبہ سورہ فلق پڑھیں۔
۳۔ مرتبہ سو رہ الناس پڑھیں۔


تین مرتبہ سورہ عَبس پڑھیں۔(عم پارہ میں  ہے)۔

اِسکے بعد یُوں کہیں۔ اے اللہ کریم میں تیرا عاجز بندہ ہُوں۔ تیرے فضل کرم پر نِگاہ رکھتے ہُوئے اپنی جادو کی کاٹ کررہا ہُوں۔  مجھ پر جِس نے بھی  جادو کا معاملہ کیا ہے۔ میں اِس جادو کو اُسی کی جانب لُوٹاتا ہُوں۔ میرے اِس عمل کو قبول فرما۔ اور مجھ لاچار کی مدد فرمادے۔ اتنا کہنے کے بعد اپنا اُلٹا ہاتھ تین مرتبہ اپنی اُلٹی ران پر ماریں اور سات مرتبہ،، فارجِعُو پڑھ کر اپنے اُلٹے ہاتھ کی جانب تین مرتبہ تھتکار دیں۔

اب دوسری مرتبہ صرف تین بار سورہ عبس پڑھیں۔

اِسکے بعد یُوں کہیں۔ اے اللہ کریم میں تیرا عاجز بندہ ہُوں۔ تیرے فضل کرم پر نِگاہ رکھتے ہُوئے اپنی جادو کی کاٹ کررہا ہُوں۔  مجھ پر جِس نے بھی  جادو کا معاملہ کیا ہے۔ میں اِس جادو کو اُسی کی جانب لُوٹاتا ہُوں۔ میرے اِس عمل کو قبول فرما۔ اور مجھ لاچار کی مدد فرمادے۔ اتنا کہنے کے بعد اپنا اُلٹا ہاتھ تین مرتبہ اپنی اُلٹی ران پر ماریں اور سات مرتبہ،، فارجِعُو پڑھ کر اپنے اُلٹے ہاتھ کی جانب تین مرتبہ تھتکار دیں۔

تیسری، چوتھی ،پانچویں، چھٹی، اور ساتویں مرتبہ بھی صرف تین بار سورہ عبس پڑھ کر  ہر بار یہی کہنا ہے۔کہ،،   اے اللہ کریم میں تیرا عاجز بندہ ہُوں۔ تیرے فضل کرم پر نِگاہ رکھتے ہُوئے (اپنی )جادو کی کاٹ کررہا ہُوں۔ ( مجھ )پر جِس نے بھی  جادو کا معاملہ کیا ہے۔ میں اِس جادو کو اُسی کی جانب لُوٹاتا ہُوں۔ میرے اِس عمل کو قبول فرما۔ اور مجھ لاچار کی مدد فرمادے۔ اتنا کہنے کے بعد اپنا اُلٹا ہاتھ تین مرتبہ اپنی اُلٹی ران پر ماریں اور سات مرتبہ،، فارجِعُو پڑھ کر اپنے اُلٹے ہاتھ کی جانب تین مرتبہ تھتکار دیں۔

اِس طرح سورہ عبس کے پڑھنے کی تعداد اکیس مرتبہ ہُوجائے گی۔ اُور کاٹ کا عمل مکمل ہُوجائے گا۔ اُور انشا اللہ فوراً  ہی مریض کو افاقہ محسوس ہُونے لگے گا۔ ۔۔۔ البتہ جسمانی مرض کا علاج  طبیب سے کرواتے رہیں ۔آخر میں اللہ کریم کی بارگاہ میں تمام انبیا کرام، صحابہ کرام، اصحابِ بدر، حضور سیدنا غوث اعظم، اور اپنے مرشد کریم کے وسیلے سے خوب  دِل سے  مریض یا اپنے لئے دعا کریں۔ اگر مریض قریب ہے تو اُس پر بھی دم کریں۔ اور پانی پر دَم کرکے اُسے پینے کیلئے دے دیں۔

اگر کسی دوسرے انسان کی کاٹ مقصود ہُو تو۔ دُواران عمل یوں کہیں گے۔ مثال کے طور پر عکسہ بنت راشدہ کی کاٹ کرنی ہے تو اِس طرح سے  کہنا ہے۔ اے اللہ کریم میں تیرا عاجز بندہ ہُوں۔ تیرے فضل کرم پر نِگاہ رکھتے ہُوئے عکسہ بنت راشدہ کے جادو کی کاٹ کررہا ہُوں۔ ۔ عکسہ بنت راشدہ  پر جِس نے بھی  جادو کا معاملہ کیا ہے۔ میں اِس جادو کو اُسی کی جانب لُوٹاتا ہُوں۔ میرے اِس عمل کو قبول فرما۔ اور مجھ لاچار کی مدد فرمادے۔ اتنا کہنے کے بعد اپنا اُلٹا ہاتھ تین مرتبہ اپنی اُلٹی ران پر ماریں اور سات مرتبہ،، فارجِعُو پڑھ کر اپنے اُلٹے ہاتھ کی جانب تین مرتبہ تھتکار دیں گے۔

جادو کی علامات۔۔۔ جس پر جادو کیا جاتا ہے۔ اُسکے اکثر ناف کی جگہہ درد رہنے لگتا ہے۔ جسکی وجہ سے درد کیساتھ ساتھ ایسا محسوس ہُوتا ہے۔جیسے کسی نے کلیجے کو مٹھی میں بھینچ رکھا ہُو۔۔۔ عبادت کو جی نہیں چاہتا۔ اُور رفتہ رفتہ بندہ زندگی سے ہی بیزار ہُوجاتا ہے۔ بعض   لُوگ جنکا مرض پرانا ہُوجاتا ہے وُہ اُول فول بھی بکنے لگتے ہیں۔بعض لوگ تو کفریہ کلمات بھی دھڑلے سے بکنے لگتے ہیں۔ کچھ لُوگ چُپ سادھ لیتے ہیں۔ جبکہ کچھ لُوگ چارپائی پکڑ لیتے ہیں۔


جادو کی کاٹ ایک مرتبہ کے عمل سے ہی ہُوجاتی ہے۔۔۔ لیکن جس طرح  مفت میں جادو کی کاٹ کرنے والے لُوگ بے شُمار  نہ سہی لیکن تلاش کرنے سے مِل ہی جاتے ہیں۔۔۔۔مگر آپ کو ایک بھی جادوگر ایسا نہیں مِلے گا۔ جو مفت میں لوگوں پر جادو کرتا ہُو۔ اب سُوچنے والی بات یہ ہے۔کہ،، جس نے بھی آپ پر جادو کروایا ہُوگا۔۔۔ اُس کی آپ سے نفرت کس درجہ کی ہُوگی۔کہ،، اُس نے آپکو نقصان پُہنچانے کیلئے اپنے وقت کیساتھ اپنا مال بھی خرچ کیا ہُوگا۔۔۔۔ اسلئے جادو کروانے والے کو جونہی آپکی کاٹ کی اِطلاع مِلے گی۔ وُہ جادو کرنے والے سے اِصرار کرے گا۔کہ،، جادو اثر نہیں کررہا۔ لِہذا پھر سے جادو کرو۔ ہوسکتا ہے جادو گر اِس مرتبہ کم رقم لیکر آپ پر بھر سے جادو کا عمل کرنے بیٹھ جائے۔

اِسلئے میرا مشورہ یہی ہے۔ کہ،، کسی قریب سے قریب تر کو بھی جادو کی کاٹ کا نہیں بتانا چاہیئے۔ ورنہ بات کھل جاتی ہے۔ دوسرا مشورہ یہ ہے کہ کاٹ کا عمل وقتاً فوقتاً کرتے رہیں۔۔۔ یہاں تک کہ،، جادو کرنے والا اُور کروانے والا عاجز آجائے۔۔۔ سوئم یہ کہ،، بار بار کی کاٹ کا ایک فائدہ یہ بھی ہُوتا ہے۔کہ،، جادو کرنے والے پر جادو پلٹ جاتا ہے۔۔۔ اُور وُہ بعض اُوقات جادوئی عملیات سے باز آجاتا ہے۔ یا خُود اپنے ہی کئے جادو کا شِکار ہُوجاتا ہے۔ کاٹ کا عمل کامیاب ہونے کی صورت میں فخر نہ کریں۔۔۔ بلکہ اللہ کریم کا شکر کریں۔کہ،، اُسکی مدد کے بغیر کاٹ کا عمل موثر ہُوہی نہیں سکتا۔ اسلئے اُسکے فضل و احسان کو مانتے ہُوئے  شکرانے  کے نوافل ادا کریں۔

جس پر جادو کے معملات ہُوں اُسے چاہیئے۔کہ،،  کاٹ کے بعد بھی روزانہ سات مرتبہ یا مُمِیتُ پڑھ کر اپنے سینے پر دَم کرے۔ اُور اپنی رُوحانی کمزوری پر قابو پانے کیلئے روزانہ اکتالیس مرتبہ تیسرا کلمہ، اور اکتالیس مرتبہ لَا اِلٰہَ إلاَّ اﷲُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیْکَ لَہٗ، لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ، وَھُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرٌ۔ روزانہ خُود پر پڑھ کر دَم کرے۔۔۔ رات کو سونے سے قبل تین مرتبہ سورہ فلق تین مرتبہ سورہ الناس ایک مرتبہ آیت الکرسی  اول آخر درود پاک پڑھ کر  پانی پر بھی دم کرے۔ اُور خود پر بھی دَم کرے اُور اُسی پانی کو پی جائے۔


جادو کی کاٹ کیلئے میں اِسی طریقے کو اپناتا ہُوں۔۔۔ اُور جادو کی کاٹ کیلئے یہ عمل  اکثیر بھی ہے۔ اُور میرا آزمودہ بھی ہے۔۔۔  لیکن میں اِسکے ساتھ ساتھ اِسی کالم کو مزید وسعت دیتے ہُوئے انشاٗ اللہ چند مزید طریقے بھی  اِسی  کالم میں کسی دِن لکھ دُونگا۔۔۔

پیغام۔

ایک دُعا وُہ ہُوتی ہے۔ جو آپ کے کہنے پر کسی کی زُبان سے آپکے لئے نِکلتی ہے۔۔۔ لیکن اِس سے لاکھ گُنا طاقتور وُہ دُعا ہُوتی۔ جو آپکے کسی عمل کی وجہ سے کسی کے دِل سے خُود بخود آپکے لئے نِکل جاتی ہے۔ میں ہمیشہ اُسی دُعا کے تعاقب میں رِہتا ہُوں۔
آپکا عشرت اقبال وارثی۔۔۔