bing

Your SEO optimized title page contents

Pages

Hamara Tube Channel

Showing posts with label تذکِرہ اِک پری کی مُحبت کا. Show all posts
Showing posts with label تذکِرہ اِک پری کی مُحبت کا. Show all posts

Monday, 15 June 2015

تذکرہ اِک پری کا (سُراغِ زندگی) آخری قسط 33.tipk



گُذشتہ سے پیوستہ

حضرت مکھن شاہ رحمتہ اللہ علیہ کے مزار مبارک پر عمران رُوزانہ باقاعدگی سے جارہا تھا۔لیکن اُسے اُس کے سوالوں کے جوابات نہیں مِل رہے تھے۔ حالانکہ وہاں ملنے والے تمام لُوگ عمران کو یہی بتارہے تھے۔کہ،، صاحب مزار یہاں آنے والوں کو تشنہ نہیں رہنے دیتے۔ ۔۔۔ ایک  شام مغرب کی نماز ادا کرنے کے بعد عمران نے مزار مبارک پر حاضری دی۔ تو تنہائی دیکھ کر عمران سے رہا نہ گیا۔ اُور صاحب مزار  سے فریاد کرنے لگا۔ لُوگ کہتے ہیں۔کہ،، آپ کسی سائل کو نامُراد نہیں کرتے۔ پھر مجھے میرے سوالوں کا جواب کیوں نہیں مِلتا۔ جب کہ،، مجھےآج بھی یہی لگتا ہے۔کہ،، وُہ پیغام آپکی ہی جانب سے تھا۔ نجانے کتنی ہی دیر عمران صاحبِ مزار سے شکوہ کرتا رہا۔لیکن کوئی جواب موصول نہیں ہُوا۔ یہاں تک کے چپلوں کی آہٹ سُن کر عمران اپنے دامن سے آنکھیں پُوچھتے ہُوئے مزار مبارک سے باہر نکل آیا۔

پھر جمعرات کی نصف شب بلاآخر  قسمت عمران پر مہربان ہُوہی گئی۔ اُور عمران کو اُس کے وکیل دوست نے کال کرکے بتایا۔کہ،، حضرت مکھن شاہ رحمتہ اللہ علیہ کے در پر آپ نے کچھ پیغام چھوڑا تھا۔ جس کے جواب میں  ایک پیغام ایک صاحب کشف کو موصول ہُوا ہے۔اُور اُسے ہدایت کی گئی ہے۔کہ،، وُہ یہ پیغام مجھ تک پُہنچائے۔تاکہ میں یہ پیغام تُم تک آسانی سے پُہنچادُوں۔  

اب مزید پڑھ لیجئے۔

حضرت مکھن شاہ رحمتہ اللہ علیہ نے جو پیغام بھیجا تھا۔وُہ کچھ اسطرح تھا۔۔۔ عمران ہمارے مزار پر کئی بار آچکا ہے۔اُور اپنی آخری ملاقات میں وُہ کافی دلبرداشتہ نظر آیا۔ ہمیں عمران پسند ہے۔ اُور اسکی چاہت بھی نہایت عُمدہ ہے۔ لیکن وُہ جس نعمت عظمیٰ کا طالب ہے۔ اُس کو مانگنے کے بعد  انسان کیلئے مانگنے  کو کچھ نہیں بچتا۔ عمران کو کہنا کہ، دِل گرفتہ نہ ہُو۔کہ،، عنقریب اُسے یہ نعمت ( جو کہ تمام نعمتوں میں عظیم تر ہے)عطا کردی جائے گی۔۔۔ ہمیں یہ بھی معلوم ہے۔کہ،، وُہ یہ نعمت  مانگنے  کیلئے  کبھی دربار باھو۔ اُور دربار باھو سے سخی شہباز قلندر تک گیا ہے۔  یہاں تک کہ،، دربار غُوث الاعظم (رضی اللہ عنہُ ) سے مدینہ طیبہ  تک رسائی حاصل کرنے میں کامیاب رہا۔۔۔۔لیکن اپنے حجاب کی وجہ سے اُسے معلوم ہی نہیں ہُوپارہا۔کہ،، کسطرح سرور کائنات (صلی اللہ علیہ وسلم)۔ حضور غوث اعظم رضی اللہ عنہُ۔ سلطان باھو رحمتہ اللہ علیہ اُور سخی لعل شہباز قلندر  نے اُسکو جھولیاں بھر بھر کر نوازا ہے۔ وُہ خالی ہاتھ تو کہیں سے بھی نہیں لُوٹا!!! اُس کی طلب  مولیٰ بھی سب کو پسند ہے۔ ہر مقرب بارگاہ سے اُسے عشق حقیقی کی دُعاوٗں سے نوازا گیا ہے۔  سُنو!!! عمران کو کہنا۔کہ،، خزانے تو بیشمار جمع کرلئے ہیں۔ اب صرف اِن خزانوں کی چابی حاصل کرنی ہے۔یہی چابی دراصل تمام حجاب دُور کرے گی۔۔

مگر عمران اپنی نادانانی کی وجہ سے اِن چابیوں تک نہیں پُہنچ پارہا۔۔۔ اُور اِن تمام خزانوں کی چابی  کہیں اُور نہیں عمران کے مُرشد کریم کے پاس عمران کی امانت ہیں۔ لیکن وُہ نادان اُن چابیوں کو حاصل کرنے کیلئے میاں سراج صاحب کی بارگاہ میں اپنے خُود ساختہ خُوف کی وجہ سے پُہنچ ہی نہیں پارہا۔عمران سے کہنا ! چاہے تمام زندگی خُدا کی بارگاہ میں سجدہ ریز ہُوکر گُزار لے۔ وُہ جب تک مُرشد کو راضی نہیں کرے گا۔یہ حجاب یونہی قائم رہیں گے۔ وُہ بیچارہ  خُود وسط دریامیں کھڑا ہے۔۔۔ لیکن وضو کی تلاش  میں صحرواں کی جانب دیکھ رَہا ہے۔ تو کبھی سمندر کی وسعت کو حیرت سے تک رہا ہے۔۔۔ عمران سے کہو۔ جو ملے گا۔ وُہ تمہاری سُوچ سے بُہت ذیادہ ہے۔۔۔لیکن مِلے گا میاں صاحب کے دَر سے ہی۔۔۔ اُور عمران اِس وقت اُسی آستانے سے دُور ہے ،جہاں اُس کے مقدر کی چابی اُسکا انتظار کررہی ہے۔

اِس پیغام نے جہاں عمران کو خُوشی سے مخمور کردیا تھا۔ وہیں اِس میں ایک جملہ کہ،، جب تک مُرشد کو راضی نہیں کرے گا۔۔۔عمران کو  یہ جملہ کسی زہریلے سانپ کی طرح ڈس رہا تھا۔۔۔ کیا میاں صاحب مجھ سے ناراض ہیں؟؟؟ عمران نے اپنے وکیل دوست سے استفسار کیا۔۔۔ مجھے تو اِس پیغام سے یہی لگتا ہے۔کہ،، میاں صاحب آپ سے خفا ہیں۔ ورنہ حضرت مکھن شاہ رحمتہ اللہ علیہ یہ بات کیوں کہتے! ۔۔۔عمران کو اُس کے وکیل دوست نے اپنی  رائے دی۔۔۔ وُہ شب عمران پر قیامت کی طرح بھاری تھی۔ کہ،، میاں صاحب مجھ سے خفا ہیں۔۔ اگر میاں صاحب مجھ سے خفا ہیں۔ تو حضور سیدنا غوث الاعظم بھی  یقیناً خفا ہی ہُونگے۔ سید دُو عالم صلی اللہ علیہ وسلم بھی کیونکر راضی ہُوں گے۔ اُور وُہ پروردیگار کہ،، جس کا میں طالب و عاشق بننا چاہتا ہُوں۔ اپنے دوست کی خفگی دیکھ کر مجھے کیوں اپنائے گا۔۔۔ کہ،، دوست کو پسند آنے والا ہی محبوب رکھا جاتا ہے۔ایذا دینے والا نہیں۔۔۔ یہی جملےرات بھر عمران بُڑبڑاتے ہُوئے رات بھر رُوتا رہا۔تمام رات استغاثوں میں گُزر گئی۔۔۔

اگلے دِن جمعہ کی نماز اَدا کرنے کے بعد  عمران شرمندہ شرمندہ میاں صاحب کے آستانے کی جانب روانہ ہُوگیا۔لیکن ندامت اُور  ایک انجانے خوف نے عمران کے قدم من من بھر کے کردیئے تھے۔عمران کو یاد آیا کہ چند دِن پہلے  نصف  شب کے وقت اُسے ماریشش سے  ایک انجانی کال موصول ہُوئی تھی۔جس میں ایک سید زادی نے عمران کو اپنا بھائی بناکر دریافت کیاتھا۔کہ،، غلام بھائی آپ نے انٹرنیٹ پر لکھنا کیوں چھوڑ  دیاہے۔؟؟؟ جواب میں عمران نے عرض کیا تھا۔ آقا زادی مجھے حجاب نے نابینا کردیا ہے ۔جسکی وجہ سے اب کچھ لکھنے کو دِل نہیں چاہتا۔ جس کے جواب میں اُن آقازادی نے کہا تھا۔ کہ،، اگر مجھے اپنی بہن سمجھتے ہُو تو میاں صاحب کی حاضری کا سلسلہ پھر سے شروع کردو۔ اُور میاں صاحب کی بارگاہ میں عرض کیجئے گا۔کہ،، آپکی ایک بیٹی نے اِس غلام کی شفارش کی ہے۔۔۔ تو کیا وُہ  اُس شہزادی کی ذاتی خاہش تھی۔یا پھر میاں صاحب کی قربت حاصل کرنے کیلئے عالم تکوین میں کوئی راستہ بنایا جارہا تھا۔؟؟؟اُور اب تو  حضرت مکھن شاہ رحمتہ اللہ علیہ نے واضح لفظوں میں تمام بات سمجھادی تھی۔

عمران ،، میاں صاحب کے آستانے سے لپٹ کر نجانے کتنی ہی دیر رُوتا رہا۔ اُور اپنی تمام نادانیوں ، غلطیوں، کوتاہیوں ، بے ادبیوں۔ کی معافی طلب کرتے ہُوئے بار بار عرض کرنے لگا۔ حضور میں تو آپکا ہی ہُوں۔ میری پیشانی آپکی پہچان سے داغی جا چُکی ہے۔ جس سے نسبت کی خُوشبو آج بھی مجھے باادب بنائے رکھتی ہے۔لیکن میں خطاکار ہُوں انجانے میں اگر کوئی غلطی کربیٹھا ہُوں۔تو خدا کیلئے مجھے معاف فرمادیں۔کہ،، سَیَّدوں کے در سے کوئی خالی نہیں جاتا۔ تھوڑی ہی دیر میں عمران کے قلب میں سکینہ نازل ہُونے لگا۔ عمران  مزار کے احاطے میں سورہ یسین کی تلاوت کرنے لگا یہاں تک کہ عصر کی آذان بُلند ہُونے لگی۔ کچھ مزید لُوگ بھی اجتماعی دُعا میں مصروف تھے۔ سُو عمران بھی اُس دُعا میں شریک ہُوگیا۔ لیکن آنسووٗں کو روکنا عمران کے بس میں نہیں تھا۔ سُو چشموں سے جھرنے بہہ کر خُشک سینے کو سیراب کرنے لگے۔

دعا کا اختتام ہُوچُکا تھا۔لیکن عمران کے اُٹھے ہاتھ نیچے نہیں آئے۔ تبھی کسی نے عمران کے شانوں کو آہستگی سے تھپ تھپانا شروع کردیا۔ عمران نے آنکھ کھولی تو سامنے ایک انجان نوجوان نظر آیا جسکی عمر ذیادہ سے ذیادہ پچیس برس رہی ہُوگی۔ میرا نام لئیق ہے۔کیا آپکا نام عمران احمد وقاص ہے۔۔۔؟ عمران نے حیرت سے نوجوان کو دیکھ کر اثبات میں گردن ہلادی۔۔۔۔ مجھے آپ سے کچھ ضروری باتیں کرنی ہیں۔ لیکن یہاں نہیں تنہائی میں میری بات سُن لیں۔وُہ نوجوان نہایت خلوص سے استدعا کرنے لگا۔۔۔ عمران تجسس کی وجہ میاں صاحب کو سلام پیش کرتے ہُوئے مزار کے احاطے سے باہر نکل آیا۔۔۔

آپ جس وقت دعا میں مشغول تھے۔ میاں صاحب نے مجھے  شرف مُلاقات بخشا تھا۔اُورآپکی طرف اشارہ کرتے ہُوئے فرما     یا  تھا۔یہ  ہمارا بیٹا ہےعمران احمد وقاص۔ دیکھو   رُو رُو کر اِس نے اپنا کیاحال بنالیا ہے۔اِسے ہمارا سلام کہو اُور اِسے کہناکہ،، ہم اپنے بیتے سے بالکل بھی ناراض نہیں ہیں۔اسکے دوست کو  حضرت مکھن شاہ رحمتہ اللہ علیہ کی بات  شائدسمجھ نہیں آئی  تو اُس نے راضی کرنے کو خفگی سے مشروط کردیا۔ جب کہ ہمیں عمران سے کوئی شکایت نہیں ہے۔ اِسکی امانت ہمارے پاس موجود ہے جو ہم اپنے بیٹے کوضرور دیں گے۔ بس اسے کہنا کہ،، وُہ استقامت سے منزل کی جانب پیشقدمی جاری رکھے۔   یہ راستہ  چونکہ راہِ عشق ہے۔ اسلئے اِسمیں کچھ رُکاوٹیں بھی ضرور پیش آئیں گی۔ لیکن میرا عمران پانی کی طرح ہے۔ اُور پانی اپنا راستہ خُود تلاش کرلیتا ہے۔ بس عمران سے کہنا کہ،، اب ہمارے یہاں ہفتہ میں کم از کم ایک مرتبہ ضرور آیا کرے اُور یسین شریف کی تلاوت ضرور کیاکرے۔

میاں صاحب کے پیغام نے عمران کی زندگی کے تمام غموں کو خوشیوں میں بدل ڈالا تھا۔ ہفتہ وار محفلوں کا انعقاد شروع ہُوا۔ تو عشق کے دریا سے صرف عمران ہی فیضیاب نہیں ہُوا۔۔۔ بلکہ عمران کے دوستوں پر بھی  عمران کی سفارش پر راہِ عشق کے در کھول دیئے گئے۔ ۔۔ ہر ایک نے  دریائے عشق  میں اپنے اپنے ظرف کے مطابق ڈبکیاں لگائیں۔ اُور گوہر مراد سے اپنی جھولیاں بھرلیں۔ کسی کو مشاہدات کی نعمت عطا کی گئی۔تو کسی کو جلووٗں کی۔۔۔ اور عمران کیلئے نفوسِ قدسیہ ( جس میں مشہور انبیائے کرام  علیہم السلام)اُور اولیائے کرام رحمُ اللہ اجمعین  شامل تھے۔ کی جانب سے بیشمار پیغامات موصول ہُونے لگے۔ جن میں عمران کو مبارکباد بھی دی گئیں۔ اُور میاں صاحب کی دلہن کے نام سے بھی  موسوم کیا گیا۔۔۔ اُور یُوں ایک اُور عشق مجازی سے جنم لینے والی کہانی عشق حقیقی کے بحر بیکنار میں ضم ہُوگئی۔

(ختم شُد)۔

نُوٹ۔

کہانی کو طوالت سے بچانے کیلئے کچھ واقعات کو بہت اختصار کیساتھ  پیش کرنا پڑا۔ جس میں ایک واقعہ کوثر سے ناران میں مُلاقات تھی۔ جسے حذف کردیا گیا۔ اِس مؒلاقات کا واقعہ کچھ یُوں ہے۔کہ،، عمران ایک مدنی قافلے کیساتھ  ایک ماہ کیلئےاسلام آبادگیا تھا۔ وہاں حُسن اتفاق سے بیشمار قافلے آئے ہُوئے تھے۔ جسکی وجہ سےعمران کا قافلہ مانسہرہ  کی طرف روانہ کردیا گیا۔ جہاں سے وُہ لُوگ بالاکوٹ اُور پارس پُہنچ گئے۔ پارس  پُہنچنے کے بعد جب کسی نے  عمران کو بتایا کہ،، ناران اُور جھیل سیف الملوک یہاں سے بُہت نذدیک ہیں۔ تو عمران سے نہیں رہا گیا۔ اُور قافلہ نگران سے عرض کی کہ،، ایک دن ناران بھی  چلنا چاہیئے۔   یُوں عمران کی خاہش کی وجہ سے مدنی قافلہ ناران پُہنچ گیا۔ جسکے بعد عمران باآسانی جھیل سیف الملوک پُہنچنے میں کامیاب  ہُوگیا تھا۔ جبکہ کوثر نے عشق  حقیقی کے مقابلے میں قربانی دیتے ہُوئے عشق مجازی سے نکلنے میں  عمران کی جو مدد کی یہ تذکرہ بھی شامل نہیں ہوسکا۔ بہرحال ہر نیکی کی جزا  کریم پروردیگار کی بارگاہ میں موجود ہے۔ اللہ کریم عمران  کی عشق  حقیقی کی تلاش میں مدد کرنے والے تمام ساتھیوں کی سعی کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے ۔ اُور انہیں بہترین جزا سے سرفراز کرے۔

پلکوں سے دَر یار پر دستک دینا
اُونچی آواز ہُوئی عُمر کا سرمایہ گیا

تذکرہ اِک پری کا (سُراغ) قسط 32.tipk



تذکرہ اِک پری کا (سُراغِ زندگی) قسط۳۲
گُذشتہ سے پیوستہ

عمران رُوتا بلکتا واپس پاکستان آگیا۔ اب اگلے برس سے پہلے ممکن ہی نہیں تھا۔کہ،، مدینے کی حاضری کیلئے ویزا مِل جائے۔ لوگ عمران کو مبارکباد دے رہے تھے۔لیکن عمران آج بھی اپنے اندر کے سُونے پن کی وجہ سے دل گرفتہ تھا۔ کہاں تو عشق حقیقی کے نام سے ہی خُوف آتا تھا۔کہ،، عمران  نہ تو خود کو اتنا عالی ہمت سمجھتا تھا۔اُور نہ خُود کو اِس راہ کے قابل۔لیکن جب کُتب باھو (رحمتہ اللہ علیہ) نے عشق کی آتش کو خُوب دہکادیا۔تو دُور دُور تک اِس نعمت کے ملنے کے آثار مفقود نظر آرہے تھے۔۔۔پھر ایک دن جب  عمران کو مدینے سےآئے صرف ایک ہفتہ ہی ہُوا تھا۔ خبر ملی ۔کہ،، عمران کو اپنے بیٹے کی خاطر صرف ایکدن کیلئےمدینے کا سفر کرنا ہے۔ اُور مدینہ ائرپورٹ سے اگر عمران چاہے تو اگلی فلائٹ سے واپس آسکتا ہے۔۔۔۔ عمران نے حیرت سے بوکھلا کر استفسار کیا۔صرف ایکدن کیلئے ہی کیوں۔۔۔۔اگر آپکی صحت اجازت دے تو ذیادہ دِن بھی رُک سکتے ہیں۔۔۔۔ اِسکا مطلب ہے اِس مرتبہ میری تشنگی مٹانے کا مکمل انتظام کردیا گیا ہے۔ عمران بُڑبڑاتے ہُوئے سجدہ شکر کیلئے تیار ہُوگیا۔

اب مزید پڑھ لیجئے۔

حیرت انگیز طور پر  بارگاہ مدینہ کی دوسری حاضری   اُور واپسی کی تاریخ بھی عین دربار باھو  کی حاضری کی طرح اُنہی تاریخ میں عمران کو موصول ہُوئیں تھیں۔ لیکن خُوشی کے عالم میں عمران اِس راز پر ذیادہ توجہ نہیں دےپایا۔  ۔۔مدینہ ائرپورٹ پرامیگریشن آفیسر بھی پاسپورٹ دیکھ کر حیران و پریشان تھا۔کہ،، یہ شخص ابھی پندرہ دِن قبل ہی تو یہاں سے گیا ہے۔پھر اِسے دوبارہ  سیم ڈیٹ کا ویزہ کیسے مِل گیا۔لیکن چونکہ تمام کاغذات اصلی تھے۔ اِس لئے آدھے گھنٹے کی بحث و تکرار  ،اُور،امیگریشن آفیسر نے  خوب تسلی کرلینے کے بعد عمران کو جانے کی اجازت دے دی۔ عمران اپنی قسمت پر سرکار صلی اللہ علیہ وسلم کی مہربانیاں دیکھ کر جھوم اُٹھا۔ اُور مدینے کی دیواروں درختوں، پہاڑوں،  کے بوسے لیتے ہُوئے مدینہ طیبہ میں داخل ہُوگیا۔

اِس مرتبہ  دربار رسالت ماب (صلی اللہ علیہ وسلم )سےعمران کو وُہ تمام نعمتیں عطا خُوب عطا کی گئیں۔ جنکے لئے عمران پچھلی حاضری میں  بچوں کی طرح بلک بلک کر دعائیں مانگتا رہا تھا۔ لیکن ایک باریک سا حجاب اب بھی قائم تھا۔اُور عمران حیران تھا۔کہ،،  نعمت عظمیٰ عطا کردیئے جانے کے بعد بھی یہ حجاب کیسا ہے۔اُور کیوں ہے۔؟عمران کی زندگی میں یہ پہلی عید تھی جو  اُس نےگھر والوں سے اگرچہ دُور لیکن ساری کائنات کے آقا  و مولی علیہ السلام کی خاص عطاوٗں کے طفیل  مدینہ طیبہ میں یادگار گُزری۔تمام  عظیم نعمتوں کے حصول کے بعد بلاآخر ایکبار پھر جُدائی کا موقع آن پُہنچا۔ اُور عمران  مدینے کی یادوں کو دِل میں بسائےایکبار پھر اپنے وطن پُہنچ گیا۔

کچھ دِ ن گُزرنے کے بعد یہ حجاب پھر عمران کو ستانے لگا۔ اپنی اِسی تشنگی کا جواب پانے کیلئے عمران ایک مرتبہ پھر دربار باھو کی حاضری کیلئے جھنگ کیلئے روانہ ہُوگیا۔پچھلے سفر میں عمران نے اپنے چند دوستوں کو بھی شامل کیا تھا۔جو اِس مرتبہ بھی عمران کیساتھ تھے۔ یہ سفر بھی اگرچہ عمران کیلئے بُہت یادگار ثابت ہُوا۔لیکن حجاب ابھی تک باقی تھا۔ جو کسی صورت سلجھنے کا نام نہیں لے رہا تھا۔اُور اب یہی غم عمران کو کھائے جارہا تھا۔۔۔ دربار باھو۔ (رحمتہ اللہ علیہ) پر اِس مرتبہ بھی خُوب تواضع سے پیش آیا گیا لیکن حجاب کا سوال پھر حجاب میں رِہ گیا۔ سُو عمران  اِس عزم کیساتھ واپس لُوٹ آیا۔کہ،، ایک نہ ایک دِن وُہ اپنے سوال کا جواب ضرور پائے گا۔ شائد قسمت میں کچھ انتظار کے لمحات  ابھی باقی ہیں۔

ایک ماہ بعد عمران  کو نیٹ سرفنگ کے دوران ایک وڈیو موصول ہُوئی جس نے عمران کے دِل میں سیہون جانے کی بیقراری کو جنم دینا شروع کردیا۔عمران نے سُوچا ہُوسکتا ہے۔میرے حصے کی نعمت حضرت لعل شہباز قلندر کی چوکھٹ سے وابستہ ہُو۔اُور شائد اِس حجاب کا سراغ  سیہون پُہنچ کر مِل جائے۔۔۔لیکن سیہون کا سفر اتنا آسان بھی نہیں ہے۔کہ،، بندہ  گھنٹے دو گھنٹے میں وہاں پُہنچ جائے ۔عمران اِسی شس و پنج میں تھا۔کہ عمران کے  ایک دوست  کامران کی  کراچی سے  کال آگئی۔ اِس کال کے دوران ہی عمران کے ایک دیرینہ دُوست کی بھی کال موصول ہُوئی ۔جنہوں نے عمران کو بتایا کہ،،  کل صبح ایک بس میاں صاحب کے خلیفہ کی نگرانی میں سیہون روانہ ہُورہی ہے۔اُور مجھے ابھی کہا گیا ہے۔کہ،، عمران کو بھی اطلاع کردی جائے۔

عمران کو اِن تمام عجیب اتفاقات سے یقین ہُونے لگا۔کہ،،  ضرور اُسکی الجھن کا جواب سیہون میں موجود ہے۔ ورنہ یُوں اچا نک ایک  خیال کے ساتھ ہی سیہون شریف کا بُلاوہ نہیں آجاتا۔ بہرحال  حضرت سخی لعل شہباز قلندر رحمتہ اللہ علیہ کے روضہ پر بھی عمران رُو رُو کر صرف ایک سوال کیئے جارہا تھا۔کہ،، اے شہنشاہِ سندھ  مجھ سے اِس آخری حجاب کو  بھی دُور فرمادیں۔ ورنہ یہ حجاب میرے وجود کوجلا کر خاکستر کردےگا۔ سیہون کی حاضری نے عمران کے وجود میں ایک عجیب سکون پیدا کردیا تھا۔لیکن حجاب کی  موجودگی نے  عمران کو ایک بار پھر مایوسی کی عمیق گھاٹی میں دھکیلنے کی کوشش کی۔ عین جس وقت عمران قافلے کیساتھ واپسی کیلئے پر تول رہا تھا۔عمران کو موبائیل پر ایک میسج موصول ہُوا۔اگرچہ یہ ایک عام سا میسج تھا جو عمران کو اُس کے ایک وکیل دُوست نے بھیجا تھا۔ لیکن اِس میسج میں ایسی کوئی بات ضرور تھی جسکی وجہ سے عمران بار بار اُس میسج کو پڑھنے پر مجبور ہُورہا تھا۔

بلاآخر عمران پر آگہی کا در کھل گیا۔اُور اُسے میسج میں پوشیدہ پیغام  نظر آہی گیا۔ دراصل اِس میسج کے ذریعے عمران کے شہر کے ایک قلندری سلسلے کے بُزرگ (حضرت مکھن شاہ قلندری رحمتہ اللہ علیہ) نے پیغام بھیجا تھا۔کہ،، تمہارے سوال کا جواب ہمارے پاس موجود ہے۔ ہم سے ملاقات کرو اُور اپنے ہر سوال کا جواب ہم سے لے لینا۔۔۔۔ عمران کا میسج کو سمجھ لینے کے بعد بس نہیں چل رہا تھا۔کہ،، وُہ اُڑتا ہُوا اپنے شہر پُہنچ جائے۔ اُور اپنے سوال کا جلد از جلد جواب حاصل کرلے۔۔۔لیکن آج عمران کو اپنے گھر پُہنچنے کی جتنی جلدی تھی۔ بس ڈرائیور اُتنی ہی تاخیر سے مزے لیتا ہُوا ڈرائیونگ کے فرائض انجام دے رَہا تھا۔

حضرت مکھن شاہ رحمتہ اللہ علیہ کے مزار مبارک پر عمران روزانہ باقاعدگی سے جارہا تھا۔لیکن اُسے اُس کے سوالوں کے جوابات نہیں مِل رہے تھے۔ حالانکہ وہاں ملنے والے تمام لُوگ عمران کو یہی بتارہے تھے۔کہ،، صاحب مزار یہاں آنے والوں کو تشنہ نہیں رہنے دیتے۔ ۔۔۔ ایک  شام مغرب کی نماز ادا کرنے کے بعد عمران نے مزار مبارک پر حاضری دی۔ تو تنہائی دیکھ کر عمران سے رہا نہ گیا۔ اُور صاحب مزار  سے فریاد کرنے لگا۔ لُوگ کہتے ہیں۔کہ،، آپ کسی سائل کو نامُراد نہیں کرتے۔ پھر مجھے میرے سوالوں کا جواب کیوں نہیں مِلتا۔ جب کہ،، مجھےآج بھی یہی لگتا ہے۔کہ،، وُہ پیغام آپکی ہی جانب سے تھا۔ نجانے کتنی ہی دیر عمران صاحبِ مزار سے شکوہ کرتا رہا۔لیکن کوئی جواب موصول نہیں ہُوا۔ یہاں تک کے چپلوں کی آہٹ سُن کر عمران مزار مبارک سے باہر نکل آیا۔

پھر جمعرات کی نصف شب بلاآخر  قسمت عمران پر مہربان ہُوہی گئی۔ اُور عمران کو اُس کے وکیل دوست نے کال کرکے بتایا۔کہ،، حضرت مکھن شاہ رحمتہ اللہ علیہ کے در پر آپ نے کچھ پیغام چھوڑا تھا۔ جس کے جواب میں  ایک پیغام ایک صاحب کشف کو موصول ہُوا ہے۔اُور اُسے ہدایت کی گئی ہے۔کہ،، وُہ یہ پیغام مجھ تک پُہنچائے۔تاکہ میں یہ پیغام تُم تک آسانی سے پُہنچادُوں۔  

جاری ہے۔۔۔

پلکوں سے دَر یار پر دستک دینا
اُونچی آواز ہُوئی عُمر کا سرمایہ گیا

Saturday, 13 June 2015

تذکرہ اک پری کا (بُلاوے پر بُلاوہ)قسط 31.tipk



گُذشتہ سے پیوستہ

اگلے چند دِن  عمران کے اتنی مصروفیت و پریشانی میں پڑوسی شہر میں اسطرح گُزرے کہ،، نہ اُسے صابر پاک کی یاد  ہی آئی۔ اُور نہ ہی کوثر کا کوئی خیال   اُسکے دِل میں گُزرا۔۔۔پھر ایک صبح نماز فجر پڑھ کرعمران جب صابر پاک سے ملنے باغ پُہنچا تو اُسے یہ رُوح فرسا خبر سُننے کو ملی کہ صابر پاک کا وصال تین دن پہلے ہُوچکا ہے۔اور آپکی تدفین آپکے حکم کے مطابق شہر کے وسطی قبرستان میں کی جاچُکی ہے۔صابر پاک کے پردہ فرمانے کی خبر نے عمران پر ایسی بجلی گرائی۔کہ،، اُسے اپنی سانس تھمتی دکھائی دینے لگی اُور عمران اپنا سر پکڑے  زمین پر بیٹھ کر اسطرح رُونے لگا۔جیسے کسی چھوٹے بچے کے سر سے اچانک اُس کے باپ کا سایہ اُٹھ گیا ہُو۔

 اَب مزید پڑھ لیجئے۔

صابر پاک کے وصال نے عمران کی زندگی پر گہرے اثرات مرتب کیئے تھے۔بابا احمد وقاص کے پردہ فرمانے کے بعد عمران کی زندگی میں  یہ دوسرا جھٹکا تھا۔جس نے عمران کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔میاں صاحب کی بارگاہ میں یُوں بھی عمران کوثر کے معاملے   کی وجہ سے شرمندہ اُور خُوفزدہ تھا۔اُور آپکے جلال کے پیشِ نظر ایک مُدت سےحاضری کی سعادت سے محروم تھا۔اگرچہ عمران جانتا تھا۔کہ،، میاں صاحب آج بھی اُسے بُہت عزیز رکھتے ہیں۔ لیکن پھر بھی  اپنے اعمال پرشرمندگی اُور خوف کی وجہ سے عمران کے بڑھتے قدم ہر بار نہ جانے کیوں اُسے رستے سے ہی واپس لُوٹ آنے پر مجبور کردیا کرتے تھے۔عمران اکثر سُوچا کرتا تھا۔کہ،، کسی دِن صابر پاک اچانک اُسکا ہاتھ پکڑ کر میاں صاحب کے رُوبرو پیش کردیں گے۔ اُور میاں صاحب عمران کی تمام غلطیوں کو صابر پاک کی وجہ سے یکسر نظرانداز فرماتے ہُوئے اُسے اپنے سینے سے میرا عمران کہتے ہُوئےلپٹا لیں گے۔ لیکن اب یہ خاب بھی بابا صابر کے وصال  کی وجہ سے اُسے ریزہ ریزہ ہُوتا دکھائی دے رہا تھا۔

عمران اب اپنے دِل کی بات کسی سے نہیں کہہ پارہا تھا۔ اُس کے اندر جو طوفان کوثر کی محبت کی وجہ سے برپا تھا۔ وُہ بھی  صابر پاک کے چلے جانے کے بعد تھم سا گیا تھا۔۔۔۔ اُسے اکثر خُود پر بُہت حیرت ہُوتی جب اُسے بیتے دِن یاد آتے۔کہ،، کسطرح اُسکی سادہ سی زندگی میں  پے در پے آنے والےحادثات کی کثرت نے اُس کی زندگی کو ایک فلمی کردار سے بھی ذیادہ دلچسپ بنادیا تھا۔  اُور اُسکی زندگی میں کتنے ہی خُوبصورت کرداروں نے قوس و قزح کے رنگ بھردیئے۔اُور کتنے ہی عجیب وغریب واقعات اُسکی زندگی میں رُونما ہُوتے چلے گئے۔جنہیں سُن کر کوئی آسانی سے یقین نہ کرپائے۔ اگرچہ عاشقان خُدا کی قربت نے اُس کے دِل کو اپنی باتوں سے حکمت و دانشمندی کا گہوارہ  بھی بناڈالا تھا۔اُور دوسری طرف کُوثر کی محبت نے اُسکی برسوں کی پیاس بھی  مِٹا  دِی تھی۔ لیکن اِن تمام باتوں کے باوجود وُہ میاں صاحب سے دُور ہُوتا چلاگیا تھا۔اُور اب یہی خلش عمران کو ایکبار پھر اندر سے کھوکھلا کیئے جارہی تھی۔

عمران اکثر نمازوں کے بعد خُدا سے التجا کرتا۔ اے میرے پروردیگار تو قادر مطلق ہے۔کیا ایسا نہیں ہُوسکتا۔کہ،، اچانک میری آنکھ کھلے اُور مجھے معلوم ہُو۔کہ،، کوثر سے ملن ،اُور بابا احمد وقاص کی مُلاقات صرف ایک خاب تھی۔؟ نہیں چاہیئے مجھے ادراک و فہم نہیں بننا چاہتا میں لوگوں سے منفرد۔۔۔اُور نہ ہی مجھے کسی پری کی محبت کا سہارا درکار ہے۔۔۔بس مجھے میری  وُہ سادگی لُوٹادے۔جِسے دیکھ کر میاں صاحب کی آنکھوں میں  ہمیشہ اپنائت اُورچاہت کی چمک نظر آجاتی کرتی تھی۔۔۔ وُہ اکثر یہ دُعا مانگا کرتا۔لیکن عمران کو یوں محسوس ہُوتا جیسے اُسکی دُعا کے پر ہمیشہ کچھ اُونچائی پر پُہنچنے کے بعدبےجان ہُوکر واپس دُعا کو نیچے لے آتے ہیں۔

عمران میں اگرچہ میاں صاحب کا سامنا کرنے کی ہمت نہیں تھی۔لیکن عمران کو جب جب موقع مِلتا۔ وُہ میاں صاحب کے ڈیرے پر ضرور جاتا۔البتہ یہ الگ بات ہےکہ،، میاں صاحب کے سامنے جانے کی ہمت تب بھی عمران کے وجود میں نہ ہُوتی۔جسکی وجہ سے عمران دُور ہی دُور سے میاں صاحب کی دید سے اپنی تشنگی مٹانے کی کوشش کرتا رہتا۔ اِن دید کے مواقع میں اُس دِن عمران کی عجیب کیفیت ہُوگئی۔جب ایک دن اچانک میاں صاحب کی نگاہ عمران پر پڑ گئی۔ عمران نے جب میاں صاحب کو اپنی طرف ہی آتے دیکھا۔ تو وُہ بھی احترام سے گردن جھکا کر کھڑا ہُوگیا۔عمران کا خیال تھا کہ،، میاں صاحب اُسے نظرانداز کرتے ہُوئے وہاں سے گُزر جائیں گے۔ لیکن میاں صاحب نے اُسے بازو سے پکڑ کر یہ کہتے ہُوئے اپنے سینے سے لگالیا۔آہا  !!! آج میرا عمران آیا ہے۔۔۔

عمران کے کانوںمیں صابر پاک کے الفاظ گونجنے لگے۔کہ،، بابا فرید (رحمتہ اللہ علیہ) حضرت جمال ہانسوی سے اکثر اپنی والہانہ محبت کا اظہار فرماتے ہُوئےکہتے تھے۔کہ،، جمال میرا ہے۔ اِس واقعہ نے عمران کے اندر اتنی ہمت پیدا کردی تھی۔کہ،، وُہ اب میاں صاحب سےچُھپنے کے بجائے میاں صاحب کے سامنے محفل میں بیٹھ سکتا تھا۔ لیکن قسمت کو شائد عمران کی معافی ابھی قبول نہیں تھی۔اس لئے عمران کو بزنس کی وجہ سے آئے دِن کبھی پنجاب اُور کبھی بدین کی ساحلی پٹی پر  متواتر جانا پڑرہا تھا۔یُوں  ایک طویل عرصہ بیت گیا۔۔۔۔ اِس  تمام دورانیہ میں نہ کبھی کوثر نے ملاقات کی کوئی کوشش کی۔اُور نہ ہی عمران کو  ہی کُوثر کی یاد آئی۔ کچھ عرصہ بعد جب عمران میاں صاحب کی خدمت میں حاضر ہُوا تو میاں صاحب کی صحت کافی ناساز ہُوچکی تھی۔ آپ جذب کی سی کیفیت میں تھے۔ عمران کافی دیر تک میاں صاحب کی چارپائی سے لگا آپ کے قدم دباتا رہا۔ میاں صاحب نے دُو ایک مرتبہ آنکھ کھول کر عمران کی جانب دیکھا۔لیکن نا آپ نے عمران کو مخاطب فرمایا ۔اُور نہ ہی آپکی آنکھوں میں کسی قسم کی شناسائی کی چمک دکھائی دی۔

میاں صاحب کی بیماری طول کھینچتی جارہی تھی۔ عمران دُوران علالت کئی بار میاں صاحب کے سامنے آیا لیکن میاں صاحب نے کبھی اپنی باتوں سے ایساظاہر نہیں فرمایا۔جس سے عمران کو یہ تسلی ہُوجاتی کہ،، میاں صاحب اُسے پہچان رہے ہیں۔ یا وُہ اب عمران سے خفا نہیں ہیں۔عمران کا خیال تھا۔کہ،، میاں صاحب  اگرچہ ۱۴۰ برس کی طویل عمر پا چُکے ہیں ۔لیکن آپ جلد صحتیاب ہُوجائیں گے۔تو تمام معملات پھر سے معمول پر آجائیں گے۔لیکن میاں صاحب کی علالت اِس مرتبہ کوئی وقفہ حاصل نہیں کرپارہی تھی۔۔۔اُور بلاآخر ایک دن  عمران کو ایک کال موصول ہُوئی۔جس میں عمران کو جلد ہسپتال آنے کی تاکید کی گئی۔اُور اُسے بتانے والے نے رُوتے ہُوئے بتایا۔کہ،، میاں صاحب کی طبیعت بُہت ذیادہ نازک ہُوتی جارہی ہے۔

عمران بدحواسی کے عالم میں ہسپتال پُہنچا ۔تو زندگی کی سب سے تکلیف دہ خبر اُسکی منتظر تھی۔کہ،، میاں صاحب تمام مُریدین کو رُوتا بلکتا چھوڑ کر ہمیشہ کیلئے اپنے حقیقی محبوب عزوجل کی بارگاہ میں حاضری کی سعادت سے سرفراز ہُورہے ہیں۔۔۔۔ تمام مُریدین  نم آنکھوں سےمیاں  صاحب کو دُولہا کی طرح سجانے سنوارنے میں مصروف تھے۔ کوئی پالکی سجارہا تھا۔ تو کوئی  مرقد مبارک کو حجلہ عروسی کی طرح تیار کرنے میں مگن تھا۔عمران سب لوگوں کو حیرت سے دیکھ رہا تھا۔کہ،، کسطرح اُسکے پیر بھائی اپنے جذبات  پر قابو رکھتے ہُوئے  میاں صاحب کی آخری وصیت کو پُورا کرنے میں مصروف ہیں۔۔۔

عمران کئی دن تک اِسی سحر میں مبتلا تھا۔کہ،، اب آنکھ کھلی کہ،، تب آنکھ کھلی۔۔۔ سپنا ٹوٹے گا۔تو پھر سے میاں صاحب اُسکے سامنے جلوہ گر ہُوں گے۔اُور فرمائیں گے۔بھلا میں اپنے عمران کو تنہا دُنیا کے حوالے کرکے کیوں جانے لگا تھا؟؟؟ لیکن جاگتے تو وُہ ہیں نا! جو سوجاتے ہُوں۔  میاں صاحب جاتے جاتے بھی اپنی یادوں کے حسین تر واقعات اپنے پیچھے چھوڑ گئے تھے۔ آپ کی نماز جنازہ کرکٹ اسٹیڈیم میں ادا کی گئی تھی۔ جس میں شریک ہزاروں لوگوں  نے گواہی دی تھی۔ کہ،، میاں صاحب کے جنازے میں جتنے بھی لُوگ شریک ہُوئے اُن سبھی کے گھر تین دِن تک خُوشبووٗں سے مہکتے رہے ہیں۔

عمران میاں صاحب کے مزار پر حاضری اُس وقت دیا کرتا ۔جب وہاں لُوگ موجود نہ ہُوتے ہُوں۔۔۔ پھر وُہ بلک بلک کر میاں صاحب سے سوال کرتا۔ میاں صاحب کیا میں آپکا  وہی عمران نہیں ہُوں۔جسے آپ میرا عمران کہہ کر بُلایا کرتے تھے؟ کیا میں آپکا بیٹا نہیں ہُوں۔؟؟؟ کیا آپ میرے روحانی باپ نہیں ہیں؟؟؟ کیا آپ میرا کُل اثاثہ نہیں ہیں؟۔۔۔ پھر میاں صاحب آپ مجھے جواب کیوں نہیں دیتے۔کہ،، عمران بیٹا تسلی رکھو۔ ہم اب بھی تُم سے دُور نہیں ہیں۔۔۔۔آپ ایک مرتبہ فرمادیں کہ،، عمران ہم تجھ سے راضی ہیں ۔خفا نہیں ہیں۔۔۔ دِن، ماہ، سال گُزر گئے۔ عمران عرضی پر عرضی پیش کررہا تھا۔ لیکن میاں صاحب نے ایک مرتبہ بھی جواب عطا نہیں فرمایا۔ حالانکہ جب سے میاں صاحب نے پردہ فرمایا تھا۔ سینکڑوں لوگوں نے میاں صاحب کو اپنے مزار مبارک اُور آستانے کے احاطے میں دیکھا تھا۔ کئی لُوگوں کو آپ نے تسلی بھی دی۔ تو کئی لوگوں کو بہت سی نعمتیں بھی عطا فرمائی۔بس ایک عمران تھا۔جسے نہ دید کا جام پلایا گیا۔اُور نہ کسی سوال کا جواب دیا گیا۔


لوگوں  پر میاں صاحب کی مسلسل کرم فرمائیوں کے تذکرے سُن سُن کر عمران کے ذہن میں رفتہ رفتہ یہ بات بیٹھتی چلی گئی۔کہ،، یقیناً اُس سے کوئی ایسی خطا سرذد ہُوگئی ہے۔جسکی وجہ سے وُہ ابتک میاں صاحب کی دید اور محفل میں حاضری سے محروم ہے۔ پھر اُس کے ذہن میں ایک تدبیر سمائی کیوں نا میں اُس ہستی کی بارگاہ میں حاضر ہُوکر اپنی سفارش کیلئے عرض کروں۔جنہیں خُدا نے سلطان الفقر کے تاج سے نوازا ہے۔ سُو عمران  بیس برس سے جنکے عشق میں غیبی طور پر  گرفتار تھا۔ اُن کی بارگاہ میں اپنا مسئلہ لیکر حق باہو (رحمتہ اللہ علیہ) کے ڈیرے پر  اس یقین کیساتھ پُہنچا۔ کہ،، پہلی ملاقات میں ہی کشف کے تمام بند راستے کھول دیئے جائیں گے۔

لرزہ بدن اُور بیقرار روح کیساتھ عمران جب دربار باہو سلطان پُہنچا۔تو کئی گھنٹے ہچکی باندھے سلطان الفقر کی بارگاہ میں  اپنی معافی کیلئےعرض کرتا رہا۔ لیکن  عمران کو ماسوائے اِس تبدئلی کے۔کہ،، عمران کے جسم پر ایک لرزہ سا طاری ہُوگیا تھا۔ بظاہر اُور کوئی تبدئلی نظر نہیں آئی۔ البتہ آپ کے ڈیرے پر ایک عجیب بات عمران نے محسوس کی کہ،، عمران کی تواضع جان پہچان نہ ہُونے کے باوجود بھی ایک زائر سے ذیادہ مہمان کی طرح کی گئی۔عمران نے جو تصویر اپنے ذہن میں اِس مُلاقات کیلئے  سجائی ہُوئی تھی۔ جب اُس خاکے کیمطابق اُسے چیزیں ہوتی دکھائی نہ دیں۔ تو وُہ دلبرداشتہ ہُوکر واپس سندھ لُوٹ آیا۔ لیکن حیرت انگیز طور پر اگلے مہینے کی اُنہی تاریخوں میں ایکبار پھر عمران دربارِ باھو پر حاضری کیلئے موجود تھا۔

عمران کی آج بھی وہی گُزارشیں تھیں۔ البتہ اِس مرتبہ وُہ اپنی معافی کیساتھ عشق حقیقی کی بھیک بھی طلب کرتا رہا۔جسکی طلب پچھلی مرتبہ آپ (رحمتہ اللہ علیہ)کی تصانیف کو پڑھنے کی وجہ سے ایکبار پھر عمران کو رات دن ستانے لگی تھی۔ لیکن اِس مرتبہ بھی بظاہر کوئی رنگ، کوئی تبدئلی عمران کو خود میں نظر نہیں آئی۔ لیکن جونہی عمران اپنے شہر پُہنچا تو  اچانک مدینے کا بُلاوہ اُسکا منتظر تھا۔۔۔ عمران کو یقین آگیا۔کہ،، یہ بُلاوہ ضرور اپنے اندر کوئی خاص پیغام رکھتا ہے۔ شائد سرکار باہو انعامات کی بارش مدینے میں فرمائیں گے۔ لیکن مدینے کی اِس حاضری  میں  بیحد  کیف و سرور کے  باوجود بھی  اُس گوہر عظیم کی جھلک   عمران کواپنے قلب میں دکھائی نہیں دی۔جسکی تڑپ اُسے یہاں سے وہاں اُڑائے  پھر رہی تھی۔

مدینہ کریم کی حاضری کی سعادت سے بہرہ مند ہو کر پلٹتےہوتے عمران ایک بچے کی طرح بلکتے ہُوئے سید دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں فریاد کررہا تھا۔ حضور! آپکو تو اللہ کریم نے تمام خزینوں کی کنجی عطا فرمادی ہے۔اگر میں یہاں سے بھی خالی چلا گیا۔ تو پھر آپ کے سِوا کون ہے؟ جو میری جھولی کو بھرسکے۔ یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) میں آپ سے دُنیا کی کسی نعت کا سوال نہیں کرتا۔بس مجھے شراب دید کا جام پلا کر ہمیشہ کیلئے اَمر فرمادیں۔۔۔۔شہدائے بدر کی آخری زیارت کے وقت بھی عمران سیدنا امیر حمزہ رضی اللہ عنہ سے مخاطب ہُوکر عرض کررہا تھا۔کہ،، یا سیدی آپ جانتے ہیں۔کہ اصحاب رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) میں آپکی طرف میرا دِل کسقدر مائل ہے۔حضور میں تشنہ ہُوں۔ اُور واپسی کی گھڑی آگئی ہے۔ خُدارا مجھے مدینے سے نہ جانےدیں۔

عمران رُوتا بلکتا واپس پاکستان آگیا۔ اب اگلے برس سے پہلے ممکن ہی نہیں تھا۔کہ،، مدینے کی حاضری کیلئے ویزا مِل جائے۔ لوگ عمران کو مبارکباد دے رہے تھے۔لیکن عمران آج بھی اپنے اندر کے سُونے پن کی وجہ سے دل گرفتہ تھا۔ کہاں تو عشق حقیقی کے نام سے ہی خُوف آتا تھا۔کہ،، عمران  نہ تو خود کو اتنا عالی ہمت سمجھتا تھا۔اُور نہ خُود کو اِس راہ کے قابل۔لیکن جب کُتب باھو (رحمتہ اللہ علیہ) نے عشق کی آتش کو خُوب دہکادیا۔تو دُور دُور تک اِس نعمت کے ملنے کے آثار مفقود نظر آرہے تھے۔۔۔پھر ایک دن جب  عمران کو مدینے سےآئے صرف ایک ہفتہ ہی ہُوا تھا۔ خبر ملی ۔کہ،، عمران کو اپنے بیٹے کی خاطر صرف ایکدن کیلئےمدینے کا سفر کرنا ہے۔ اُور مدینہ ائرپورٹ سے اگر عمران چاہے تو اگلی فلائٹ سے واپس آسکتا ہے۔۔۔۔ عمران نے حیرت سے بوکھلا کر استفسار کیا۔صرف ایکدن کیلئے ہی کیوں۔۔۔۔اگر آپکی صحت اجازت دے تو ذیادہ دِن بھی رُک سکتے ہیں۔۔۔۔ اِسکا مطلب ہے اِس مرتبہ میری تشنگی مٹانے کا مکمل انتظام کردیا گیا ہے۔ عمران بُڑبڑاتے ہُوئے سجدہ شکر کیلئے تیار ہُوگیا۔


جاری ہے۔۔۔

۲۸ اقساط کو صرف (۲)اقساط میں سمیٹ  کر  اختتام پذیر کرنے سے  اس کہانی  کے کئی پہلو تشنہ رِہ جانے کا خطرہ پیدا ہُوگیا تھا۔ اِس لئے قسط ۳۰ آخری قسط کے طور پر پیش نہیں کرسکا۔ لیکن انشا اللہ حسب وعدہ رمضان سے قبل  یہ کہانی اختتام پذیر ہُوجائے گی۔انشااللہ۔

پلکوں سے دَر یار پر دستک دینا
اُونچی آواز ہُوئی عُمر کا سرمایہ گیا

Thursday, 11 June 2015

تذکرہ اِک پری کا (کشمکش) قسط 30.tipk



گُذشتہ سے پیوستہ

لیکن بابا صاحب اللہ سے عشق کرنے کیلئے اُور اُسے پانے کیلئے تو بُہت طویل مجاہدوں کی ضرورت ہُوتی ہُوگی نا۔ ؟؟؟۔عمران نے اشتیاق و تجسس سے  استفسار کیا۔۔۔  بابا صابر نے اِس مرتبہ انتہائی محبت بھری نظروں سے عمران کے  پُر شوق  چہرے پر نگاہ ڈالتے ہُوئے  پھر سے سلسلہ کلام جُوڑا۔۔۔یہ بھی ایک بُہت بڑی غلط فہمی ہے جو ہم مسلمانوں میں پھیلادی گئی ہے۔کہ،، تصوف کی راہ بُہت مشکل یا شائد ناممکن ہے۔ حالانکہ جب کسی انسان کی سمجھ میں دُنیا کی حقیقت آجاتی ہے۔ تو اُسکے قلب میں ایک عجب سے چنگاری پیدا ہُوجاتی ہے۔جو مٹی  کے ہر رُوپ  کی خاہش کو جلا کر خاکستر کردیتی ہے۔ اُورجب ہَوس و ہَوا (خاہش و لالچ) سے قلب پاک ہُوجاتا ہے ہے تو بابا فرید فرماتے ہیں۔کہ،، خُدا انسان سے صرف ۲ قدم کی دُوری پر ہُوتا ہے۔پہلا قدم انسان خُواہشات نفس کی گردن پر رکھتا ہے۔ تو دوسرا قدم اُٹھانے سے قبل خُدا کو پالیتا ہے۔۔۔۔ اب عمران بیٹا یہ تمہاری مرضی پر منحصر ہے۔کہ،، یہ ۲ قدم اُٹھانے کی ہمت اپنے اندر پیدا کرسکتے ہُو۔یا ساری زندگی مٹی کی محبت میں خواہشات نفس کی غلامی کی زنجیروں کیساتھ خُود کو مٹی کے ڈھیر میں گُم کرنا چاہتے ہُو۔۔۔؟اِنہی جملوں کیساتھ کہیں دُور سے عصر کی آذان سُنائی دینے لگی۔اُور بابا صابر نماز کی تیاری کرنے لگے۔ 

اب مزید پڑھ لیجئے۔

بُوجھل قدموں کیساتھ باغ سے شہر کی جانب چلتے ہُوئے عمران کے ذہن میں صابر پاک  کا جملہ کہ،، اب عمران بیٹا یہ تمہاری مرضی پر منحصر ہے۔کہ،، تُم  یہ ۲ قدم اُٹھانے کی ہمت اپنے اندر پیدا کرسکتے ہُو۔یا ساری زندگی مٹی کی محبت میں خواہشات نفس کی غلامی کی زنجیروں کیساتھ خُود کو مٹی کے ڈھیر میں گُم کرنا چاہتے ہُو۔۔۔؟ دِل کے ایک گوشے سے صدا بلند ہُورہی تھی۔کہ،، بابا صابر بالکل ٹھیک ہی تو کہتے ہیں،، دُنیا میں موجود ہر شئے کا وجود مٹی سے ہی تو اُبھرتا ہے۔ تو کیوں صرف مٹی کے ڈھیر کیلئے اپنے باطن کے موتی کو  کیچڑ سے گدلا جائے۔ جبکہ ذہن عمران کو مشورہ دے رہا تھا۔کہ،، عمران میاں ہر ایک کو اتنی آسانی سے پری کی چاہت مُیسر نہیں آتی۔تُم خوش نصیب ہُو۔جِسے گھر بیٹھے یہ نعمت حاصل ہُوگئی۔ورنہ لُوگ تو ایسی نعمت کے حصول کیلئے اپنی ساری زندگی جنگل بیابانوں کی نذر کرنے سے بھی نہیں چُوکتی۔پھر دِل کی گہرائی سے نصیحت کی جاتی! عمران میاں دِماغ کی مت سُنو! ایسی لاکھ پریاں اُور کائنات کی تمام نعمتیں مِل کر بھی جلوہ طُور کی جھلک کے کروڑویں حصے کا مقابلہ نہیں کرسکتیں۔

عمران دِل و دِماغ کی اِس کشمش کے درمیان فیصلہ کرنے سے قاصر تھا۔ بات دِل کی بھی پُراَثر تھی۔جبکہ دلیل ذہن کی بھی مناسب تھی۔۔۔۔عمران نے دونوں ہاتھوں سے سر پکڑ کر  چلتے چلتے دیونواں کی طرح بُڑبڑانا شروع کردیا۔۔۔۔یا خُدا میں کس کی سُنوں! اُور کس کی بات مانوں؟۔ دِل کی بات مانتا ہُوں۔تو اسکا مطلب صاف ہے کہ،، کوثر سے ہمیشہ کیلئےکنارہ کش ہُوجاوٗں۔اُور اگر ذہن کی مانتا ہُوں۔تو واقعی مٹی کے ڈھیر میں کہیں ہمیشہ کیلئے نہ کھوجاوٗں؟آبادی شروع ہُونے لگی تھی۔ اُور ایک بنجا رہ چائے کے ڈھابے پر درد بھری آواز میں عارفانہ کلام  اپنی میدانی آواز میں گُنگنارہا تھا۔اُس بنجارے کی آواز میں بلا کا سوز و گداز تھا۔جسکے سحر نے عمران کے بڑھتے قدم تھام لئے تھے۔جبکہ بنجارہ گرد و پیش سے بے نیاز گائے چلا جارہا تھا۔

اے تن رَب سچے دا حجرہ، دِل کھڑیاں باغِ بہاراں ھو۔۔۔۔۔۔
وِچِ کوزے وِچِ مصلے، وِچ سجدے دیاں تھاراں ھو۔۔۔۔۔۔۔
وِچِ قبلہ وِچِ کعبہ، وِچ اِلااللہ پُکاراں ھو۔۔۔۔۔۔۔
کامل مُرشد ملیا جنہاں نوں اُوہ آپے لیساںساراں ھو۔۔۔۔۔

اندر ہُو' تے باہر ہُو دَم ہُو دے نال جلیندا  ھُو۔۔۔۔
ہُو دا داغ محبت والا ہر دَم پیا سڑیندا  ھُو۔۔۔۔۔۔
جِتھے ہُو کرے رُشنائی چھوڑ اندھیرا ویندا  ھُو۔۔۔۔
دوہیں جہاں غُلام اُس دے جیہڑا ہُونوں صحیح کریندا ۔ھُو۔۔۔۔

ایمان سلامت ہر کوئی مَنگے،عشق سلامت کوئی ھُو۔۔۔۔۔
ایمان منگن شرماون عِشقوں دل نوں غیرت ہوئی  ھُو۔۔۔۔۔
عِشق پُجاوے جِس منزل ایمانے خبر نہ کوئی  ھُو۔۔۔۔۔
عِشق سلامت رکھیں بَاہُو ایمانوں دیاں دھروہی  ھُو۔۔۔۔۔

ایہہ تَن رب سچے دا حجرہ پا فقیرا جَھاتی ھُو۔۔۔۔۔
نہ کر مِنت خواج خضر دی اندر آب حَیاتی ھُو۔۔۔۔۔
شوق دا دِیوا بال اَنھیرے لبھی وَست کھڑاتی ھُو۔۔۔۔۔
مرن تھیں اَگے مر رہے باہُو جنہاں رَمز پچھاتی ھُو۔۔۔۔۔

الف اللہ چنبے دی بُوٹی میرے من وچ مُرشد لائی ھو۔۔۔
نفی اثبات دا پانی ملیا۔ ہوئی ہر رگیں ہرجائی ھو۔۔۔۔
اندر بُوٹی مشک مچایا جان پُھلاں تے آئی ھو۔۔۔۔
جیوے مُرشد کامل باھو جیں اے بُوٹی لائی ھو۔۔۔

کلام باھو سُنتے ہُوئےعمران کے آبگینوں سے ساون کی پہلی بارش کی طرح موتی  بہہ بہہ کر رُخساروں کو بِھگورہے تھے۔  جبکہ تاثیر کلام نے من میں سُوئی ہُوئی عشق کی چنگاریوں کو رُوشن کردیا تھا۔عمران جو ہمیشہ پنجابی زُبان  کو ،،بُہت مشکل زُبان،، کے خطاب سے نوازتا چلا آیا تھا۔آج عشق کی إسی روشنی میں کلام باہو کے ہر مصرعے سے یُوں روشناس ہُورہا تھا۔ جیسے اُسکی ساری زندگی   پنجابی عارفانہ کلام کا  فہم و اِدراک حاصل کرنے میں گُزری ہُو۔اُور یہ کلامِ باھو کا  ہی فیض تھا۔جس نے اُس کی ذہنی الجھن کے تمام تار سلجھا دیئے تھے۔

 عمران بھیگی آنکھوں  سے   اِس فیضانِ کے تشکر کے اظہار کیلئے دربارِ باھو میں حاضری کی بیقراری  کو اپنے من میں  صاف محسوس کررہا تھا۔جو لمحہ بہ لمحہ بڑھتی ہی چلی جارہی تھی۔۔۔۔۔۔گھر پُہنچنے کے بعد بھی عمران کی بیقراری کو چین نہیں آیا تھا۔ بنجارے کی آواز ابھی تک عمران کے کانوں میں گونج رہی تھی۔۔۔۔ یا الہی یہ کیا ماجرا ہے؟ میرے ساتھ ایسا پہلے تو کبھی نہیں ہُوا۔کہ،، کوئی نغمہ یُوں میرے حواس پر غالب آجائے۔جیسے وُہ میری نس نس میں خُون کی طرح رچ بس گیا ہُو۔ انہی خیالوں میں نجانے کب عمران کی آنکھ جھپکی تو  سحر کی  ہی خبر لائی۔

اگلے چند دِن  عمران کے اتنی مصروفیت و پریشانی میں پڑوسی شہر میں اسطرح گُزرے کہ،، نہ اُسے صابر پاک کی یاد  ہی آئی۔ اُور نہ ہی کوثر کا کوئی خیال   اُسکے دِل میں گُزرا۔۔۔پھر ایک صبح نماز فجر پڑھ کرعمران جب صابر پاک سے ملنے باغ پُہنچا تو اُسے یہ رُوح فرسا خبر سُننے کو ملی کہ صابر پاک کا وصال تین دن پہلے ہُوچکا ہے۔اور آپکی تدفین آپکے حکم کے مطابق شہر کے وسطی قبرستان میں کی جاچُکی ہے۔صابر پاک کے پردہ فرمانے کی خبر نے عمران پر ایسی بجلی گرائی۔کہ،، اُسے اپنی سانس تھمتی دکھائی دینے لگی اُور عمران اپنا سر پکڑے  زمین پر بیٹھ کر اسطرح رُونے لگا۔جیسے کسی چھوٹے بچے کے سر سے اچانک اُس کے باپ کا سایہ اُٹھ گیا ہُو۔


جاری ہے۔۔۔

۲۸ اقساط کو صرف (۲)اقساط میں سمیٹ  کر  اختتام پذیر کرنے سے  اس کہانی  کے کئی پہلو تشنہ رِہ جانے کا خطرہ پیدا ہُوگیا تھا۔ اِس لئے قسط ۳۰ آخری قسط کے طور پر پیش نہیں کرسکا۔ لیکن انشا اللہ حسب وعدہ رمضان سے قبل  یہ کہانی اختتام پذیر ہُوجائے گی۔انشااللہ۔

پلکوں سے دَر یار پر دستک دینا
اُونچی آواز ہُوئی عُمر کا سرمایہ گیا

Wednesday, 10 June 2015

تذکرہ اِک پری کا (سفر عشق)قسط 29.tipk





گُذشتہ سے پیوستہ

ہر انسان  دوسرے انسان سے تین اہم وجوہات کی وجہ سے مُتاثر ہو کر اُسکی جانب  مائل ہُوتا ہے۔ پہلی وجہ (حُسن) ہے۔ ۔۔دوسری وجہ (طاقت )ہے۔ جبکہ تیسری وجہ (دُولت )ہے۔ اِن میں سے کوئی ایک شئے بھی کسی انسان کے پاس موجود ہو۔تو دوسرے انسان خُودبخود اُسکی طرف کھنچے چلے آتے ہیں۔ مگر اے اللہ کے نبی علیہ السلام۔میرے پاس تو بیک وقت حُسن کی لازوال دُولت بھی تھی۔ مصر کی طاقت کا سرچشمہ بھی میں تھی۔ اُور ظاہری اسباب سے میرے خزانے  بھی پُر تھے۔لیکن آپ نے مجھے پھر بھی ایک نظر اُٹھا کر نہیں دیکھا۔

تب میں یہ سُوچنے پر مجبور ہُوگئی۔کہ یقیناً کوئی چوتھی وجہ بھی  ضرورموجود ہونی چاہیئے۔جو آپکو میری جانب ملتفت نہیں ہُونے دیتی۔۔ تب میں  کافی غُور و خوص کے بعد اِس نتیجے پر پُہنچی۔کہ،، وُہ چوتھی وجہ کسی کے عشق میں مبتلا رہنا ہے۔۔۔  میں نے کافی کھوج لگانے کی کوشش کی۔کہ،، آپ کے معشوق کا کچھ پتہ چل جائے۔لیکن آپکا  عشق تو مخلوق سے تھا ہی نہیں۔ تب  میں اُسے کیسے کھوج سکتی تھی۔ پھر مجھ پر میرے عشق  کی مسلسل تپش نے بلاآخر یہ راز افشاں کر ہی دیا۔کہ آپ مخلوق کے نہیں بلکہ خالق کے عشق میں گرفتار ہیں۔ اُور بلاآخر میرے جنون عشق نے مجھے  بھی عشق مجازی  کی ندیا سے بہا کر عشق حقیقت کے ساگر میں اُتار دیا ۔ سُو اِس لئے جب سے میں نے اُس  کریم کے عشق کوپالیا ہے۔ اب میرے دِل میں کسی غیر کی محبت کا خیال بھی نہیں آتا۔
 اب مزید پڑھیئے۔

تذکرہ زلیخا مائی صاحبہ نے عمران کو اِک عجیب سی کشمکش میں مُبتلا کردیا تھا۔ پہلے بابا صابر نے فرمایا کہ،، ایک عظیم نعمت چھن جانے کے بعد اُسے ادراک کی دُولت حاصل ہُوگی۔ پھر اُس پر مائی صاحبہ کی داستان بیان کی۔ آخر صابر پاک کہنا کیا چاہتے ہیں مجھ سے۔ کہیں ؟ کہیں۔؟ کہیں۔؟ بیشمار سوالات اُور اندیشوں نے عمران کی چھٹی حِس کو متحرک کردیا تھا۔ لیکن کسی ایک کہیں کا بھی جواب عمران کو سجھائی نہیں دے رہا تھا۔۔۔۔بلاآخر تھک ہار کر عمران نے بابا صابر کی بارگاہ میں ہی عرض کرتے ہُوئے پہلا سوال کیا۔۔۔ بابا صاحب اِس واقعہ میں  زلیخا مائی صاحبہ کے عشق کو مات نہیں ہُوگئی۔؟؟؟۔

مات کہاں عمران میاں؟ زلیخا مائی صاحبہ تو بظاہر ہار کر بھی سُرخرو ہُوگئی تھی۔۔۔ کیا یہ جیت کم ہے کہ،، جسے چاہا جائے وُہ خُود محبت کے اظہار کیلئے تیار ہُوجائے۔ سیدنا یوسف علیہ السلام کا  نکاح کی پیشکش کرنا بھی تو زلیخا مائی صاحبہ کی جیت ہی ہے۔۔۔۔ مگر بابا صاحب اِس قصہ کا انجام ایسا کیوں ہُوا۔کہ زلیخا مائی صاحبہ کی طلب ہی ختم ہُوگئی۔؟ عمران سے اگلا سوال پیش کردیا۔

ہاں تمہارا یہ سوال بُہت دلچسپ ہے۔ اُور اِس معاملہ کو سمجھنے کیلئے ہمیں بُہت پیچھے جا کر کچھ باتوں کو یاد کرنا ہُوگا۔تاکہ ہمیں اِس داستان کو سمجھنے میں آسانی ہو۔ بابا صابر نے گفتگو جاری رکھتے ہُوئے کہا۔۔۔۔ دیکھو  ! حضرت جلال الدین رُومی (رحمتہ اللہ علیہ) جنہیں اِمام العاشقین بھی کہا جاتا ہے۔ فرماتے ہیں ۔ایک حدیثِ قُدسی ہے ۔اللہ کریم فرماتا ہے۔کہ،،میں ایک پوشیدہ خزانہ تھا میں نے چاہا کہ میں پہچانا جاؤں لہٰذا میں نے مخلوق کو پیدا فرمایا۔ " مزید آپ فرماتے ہیں۔کہ،،مخلوقات مظہرِ صفاتِ خداوندی ہیں۔انسان کے جسم میں جو موتی ہے اُس کو ضائع نہیں کرنا چاہیے اُس کی حفاظت کرنی چاہیے۔  اب  ہم معرفت اُور اِس موتی پر  جوکہ انسان کے باطن میں موجود ہےکچھ بات کرتے ہیں۔تاکہ اِس ہار جیت کو سمجھنے میں آسانی رہے۔

معرفت جسکا لغوی معنیٰ ہے پہچان۔ تو اِس معرفت کا اقرار تو ہم رُوز اَزل،، ہی الستُ بربکم کے جواب پر قالو بلیٰ کی صداوٗں کی صورت دے چُکے ہیں۔ لیکن  عمران بیٹا کیا کسی کی پہچان یقین کے بغیر ممکن ہے۔ ؟۔۔۔نہیں ہے نا!تو معلوم ہُواکہ،،  یہ یقین ہی دراصل ایمان ہے۔جس میں کوئی شک وشبہ باقی نہیں رہتا۔ اُور ایمان کی معراج عشق ہے۔ جبکہ عشق امتحان کے بغیر مکمل نہیں ہُوتا۔اُور عشق میں سوال جواب نہیں ہُوتے۔ بس سر جھکا کر ہر حُکم کی تعمیل کی جاتی ہے۔۔۔۔

اِسکا مطلب یہ ہُوا۔کہ،، قالو بلیٰ کی  ہماری صدائیں دراصل ہمارے عشق کی تجدید تھی۔۔۔ لیکن انسان دعویٰ عشق کرنے کے بعد جب امتحان دینے کیلئے  وطنِ اصلیہ عالم اروح، عالم لاہوت، و عالم ملکوت سے عالم مَلک و عالم ناسوت کے اسفار سے گُزرتے ہُوئے اپنے وعدے کو دُنیا کی محبت میں بُھلا بیٹھا۔تب  اُسے یہ بھی یاد نہیں رہا۔کہ،، وُہ عشق الہی کا دعویٰ کرنے کے بعد امتحان کی خاطر اِس دُنیا (عالم ناسوت) میں بھیجا گیا ہے۔ اِس لئے اللہ کریم نے انسانوں کو اُنکا وعدہ یاد دِلاتے ہُوئے  اپنے کلام مجید میں الست وبربکم و قالو بلی کی یاد دِلائی ہے۔تاکہ ہم انسان وطن اصلیہ کے وعدے کا پاس کرتے ہُوئے عشق الہی کی راہ میں آنے والے امتحانات سے سُرخرو ہُوکر گُزر جائیں۔

بابا صاحب ! لیکن اِن تمام باتوں سے یہ کہاں ثابت ہُوتا ہے۔کہ زلیخا مائی صاحبہ کو یوسف علیہ السلام کی محبت  میں ناکامی کی وجہ سے ہی عشق حقیقی کی دولت نصیب ہُوئی۔۔۔؟ عمران کے الجھے ہوئے ذہن نے اِک نئے سوال کی اختراع کی۔۔۔۔۔ تعلق تو بہت گہرا ہے عمران بیٹا۔لیکن شائد قربانی کا خوف تمہیں صحیح رہنمائی حاصل کرنے سے رُوک رہا ہے۔کیا تُم نے وُہ حدیث قدسی جس میں چاہت کا تذکرہ متعدد بار آیا ہے کبھی سُنی ہے۔صابر بابا نے  پہلو بدلتے ہُوئے عمران سے سُوال کیا۔ جی صابر پاک وُہ حدیث قدسی اکثر میاں صاحب بیان فرماتے ہیں۔عمران نے اثبات میں گردن ہلاتے ہُوئے جواب دیا۔

لیکن مجھے لگتا ہے۔کہ،، تُم نے اُس حدیث قدسی کو کبھی سمجھنے کی کوشش ہی نہیں کی۔ بابا صابر نے مُسکراتے ہُوئے گفتگو جاری رکھی۔ چلو آج اُسی حدیثِ قُدسی کو میں  آسان انداز میں ایک نئے مفہوم میں تمہارے سامنے پیش کرتا ہُوں۔ ہوسکتا ہے کہ،، آج خُدا کے فضل سے وُہ بات تمہاری سمجھ میں آجائے۔ اگرچہ مجھ میں اتنی صلاحیت نہیں ہے۔کہ،، میاں صاحب  جیسے عظیم عاشق کی طرح اپنی بات سمجھا پاوٗں۔۔۔۔ اب اُس حدیث کو ذہن میں رکھ کر میری تشریح غُور سے سُنو۔ چونکہ ہر انسان کی خواہش ہُوتی ہے کہ،، اُس کی زندگی میں تمام کردار اُسکی خاہش کے مطابق  ہُوں۔ اُور جس کردار کو وُہ اپنے لئے پسند کرتا ہے۔ وہی کردار اُسے نبھانا پڑے۔ تو گویا اُن سے ربّ   تعالی یُوں فرمارہا ہے کہ،،

اے انسان ایک وُہ کردار ہے جو میں نے تیرے لئے پسند فرمایا ہے۔ اُور ایک وُہ کردار ہے جو تجھے پسند ہے۔۔۔  ایک وُہ اسکرپٹ ہے جو میں نے لکھا ہے۔جبکہ ایک وُہ اسکرپٹ ہے جو تجھے پسند ہے۔اگر تو میرے اسکرپٹ کے مطابق وُہ کردار چُن لے ۔جو میرا پسندیدہ ہے۔ اُور اِس میں  بخوبی اپنی لگن سے رنگ بھردے۔ تو میں اسکے بعد تیرے تمام پسندیدہ کردار نبھانے کا موقع بھی تجھے فراہم کردوں گا۔ اُور اگر تو مجھ سے اِس معاملے میں ضد کرے گا۔ تو میں تجھے تیرے مقصد میں کامیاب نہیں ہُونے دُونگا۔یہاں تک کہ تو ٹوٹ کر بکھرنے لگے گا۔ اُور بلاآخر میرے اسکرپٹ کے مطابق کردار نبھانے کیلئے راضی ہُوجائے گا۔

جب وُہ کسی پر مہربانی فرماتا ہے۔ تو اُسے عشق کی مدہانی میں جھونک دیتا ہے۔ یہ عشق کی مدہانی اُسکے انگ انگ میں محبت کی حلاوت گھول کر اُسے بیمار محبت بنادیتی ہے۔  اگر انسان اِس عشق کی حلاوت پر ذرا غور کرلے تو وُہ اپنا بھولا وعدہ یاد کرکے عشق الہی کی طرف آسانی سے متوجہ  ہوسکتا ہے۔ لیکن یہاں بھی  نفس انسان کو بہلانے پُھسلانے سے نہیں چُوکتا۔ اُور انسان کی محبت کو دُنیا کی جانب مُوڑنے کی کوشش کرتا ہے۔ چونکہ انسان کے خمیر میں اکڑ بھی ہے۔ اُور خودپرستی کا مادہ بھی ۔اسلئے  انسان اپنی حقیقی محبت کو تلاش کرنے کے بجائے عشق مجازی کی طرف آسانی سے ملتفت ہُوجاتا ہے۔صابر بابا نے ایک طویل سانس لیکر عمران کی جانب دیکھا۔

بابا صاحب اگر آپ اجازت دیں تو ایک آخری سوال اُور پُوچھ لُوں؟ عمران نے کچھ سُوچتے ہُوئے لجاجت سے عرض کیا۔۔۔یہی معلوم کرنا چاہتے ہُو ناکہ،، آج میں یہ تمام باتیں تُم سے کیوں کررہا ہُوں۔صابر بابا نے ہلکی سی مسکراہٹ چہرے پر سجاتے ہُوئے کہا۔۔۔۔ جی حضور یہی سوال میرے دِل میں عجیب سی بے چینی پیدا کررہا ہے۔۔۔۔عمران نے سعادت سے جواب دیا۔

تو سُنو!  میاں صاحب نے بھی فقط تمہیں اِس وجہ سے کوثر سے دُور رکھنے کی کوشش کی تھی۔کہ،، وُہ نہیں چاہتے تھے۔کہ،، تمہارے باطن میں موجود جگمگاتا مُوتی  جسے آیئنہ کی مانند اُجلا ہونا چاہیئے۔کہیں مٹی کی گرد میں چھپ کر  نہ رِہ جائے۔ اُور تمہاری آج کی کوثر سے مُلاقات نے یہ ثابت کردیا ہے کہ،، اگر تُم نے خود کو نہیں سنبھالا تو بُہت جلد یہ گوہر فواد  بھی مٹی کے ڈھیر میں گُم ہوجائے گا۔ تُم بھی وہی غلطی دہرارہے ہُو۔جو تم سے پیشتر لاکھوں لوگ اپنی پسند کے اسکرپٹ کی سعی لاحاصل کرتے کرتے لاکھوں من مٹی تلےبےنشان ہُوچکے ہیں۔ کیونکہ شائد تُم کبھی غُور نہیں کیاکہ،، صرف حضرت انسان ہی نہیں  بلکہ ہماری دُنیا میں موجود  اجناس ہُو ، کرنسی ہُو۔ دھاتیں ہُوں یا جدید سے جدید ٹیکنالوجی سب مٹی سے ہی نکلتی ہے۔اُور ایکدن مٹی میں ہی دفن ہُوجاتی ہے۔ پھر بھلا یہ کہاں کی دانشمندی ہے۔کہ،، مٹی کے معمولی ڈھیر کی خاطر  عشق الہی سے مُنہ مُوڑ لیا جائے۔

جبکہ جن انسانوں نے اِس حقیقت کو جان کر خُود کو  عشق حقیقی کے سپرد کردیا۔ تو کیا تُم نے نہیں دیکھا کہ،، کس طرح ہند کا ناقابل شکست راجہ علاوٗالدین خلجی بھی محبوب الہی نظام الدین (رحمتہ اللہ علیہ)کی چوکھٹ پر باریابی کیلئے اپنے ہی وزیر امیر خُسرو سے منت کیا کرتا تھا۔ اُور فاتح سومنات محمود غزنوی اپنی سلطنت کی وسعت کے بجائے ایک فقیر  حضرت ابوالحسن خرقانی  (رحمتہ اللہ علیہ)سے اپنی نسبت پر ناز کیا کرتا تھا۔جب ابراہیم بن ادہم بادشاہ بنے تو انکا حکم تمام رعایا بھی نہیں مانتی تھی۔لیکن جب عشق حقیقی نے اُنہیں  راہِ فقر کا مسافر بنادیا تو انسان ہی کیا۔ چرند پرند اُور پانی کی مچھلیاں بھی اُنکے اشارے پر ناچتی تھیں۔

نجانے کیوں چند ناعاقبت اندیش لُوگ اُولیا اللہ  سے اپنے دل میں بغض پال کر اعلان کرتے پھرتے ہیں۔کہ،، انکے اختیارات کے چرچے خُدا کی خدائی پر ڈاکہ کے مترادف ہیں۔وُہ بیچارے شائدیہ  نہیں جانتےکہ،، ہماری دُنیا جیسے کائنات میں لاکھوں نہیں کروڑوں سیارے موجود ہیں۔ اُن میں سے کئی تو ہم سے اتنے وسیع ہیں کہ ہماری جیسی سینکڑوں دُنیا کا حجم گھیرے ہُوئے ہیں۔ اُور کائنات میں ہماری دُنیا کی مثال ایسے ہی ہے۔جیسے  کسی صحرا میں ایک دال کا دانہ موجود ہو۔۔۔ جب ہم اُس کی کریمی کے گُن گاتے ہیں۔تو یہ کیوں نہیں سمجھ پاتے۔کہ جو اللہ کریم کیلئے اپنی تمام خواہشات کو ترک کردے تو کیا ہمارا پروردیگار  نعوذُباللہ اتنا تنگ نظر ہے۔کہ انعام میں اپنے عاشق کو ایک دال کے دانے پر تصرف کی اجازت بھی نہ دے۔

لیکن بابا صاحب اللہ سے عشق کرنے کیلئے اُور اُسے پانے کیلئے تو بُہت طویل مجاہدوں کی ضرورت ہُوتی ہُوگی نا۔ ؟؟؟۔عمران نے اشتیاق و تجسس سے  استفسار کیا۔۔۔  بابا صابر نے اِس مرتبہ انتہائی محبت بھری نظروں سے عمران کے  پُر شوق  چہرے پر نگاہ ڈالتے ہُوئے  پھر سے سلسلہ کلام جُوڑا۔۔۔یہ بھی ایک بُہت بڑی غلط فہمی ہے جو ہم مسلمانوں میں پھیلادی گئی ہے۔کہ،، تصوف کی راہ بُہت مشکل یا شائد ناممکن ہے۔ حالانکہ جب کسی انسان کی سمجھ میں دُنیا کی حقیقت آجاتی ہے۔ تو اُسکے قلب میں ایک عجب سے چنگاری پیدا ہُوجاتی ہے۔جو مٹی  کے ہر رُوپ  کی خاہش کو جلا کر خاکستر کردیتی ہے۔ اُورجب ہَوس و ہَوا (خاہش و لالچ) سے قلب پاک ہُوجاتا ہے ہے تو بابا فرید فرماتے ہیں۔کہ،، خُدا انسان سے صرف ۲ قدم کی دُوری پر ہُوتا ہے۔پہلا قدم انسان خُواہشات نفس کی گردن پر رکھتا ہے۔ تو دوسرا قدم اُٹھانے سے قبل خُدا کو پالیتا ہے۔۔۔۔ اب عمران بیٹا یہ تمہاری مرضی پر منحصر ہے۔کہ،، یہ ۲ قدم اُٹھانے کی ہمت اپنے اندر پیدا کرسکتے ہُو۔یا ساری زندگی مٹی کی محبت میں خواہشات نفس کی غلامی کی زنجیروں کیساتھ خُود کو مٹی کے ڈھیر میں گُم کرنا چاہتے ہُو۔۔۔؟اِنہی جملوں کیساتھ کہیں دُور سے عصر کی آذان سُنائی دینے لگی۔اُور بابا صابر نماز کی تیاری کرنے لگے۔ 
جاری ہے۔۔۔

انشاٗ اللہ کوشش کروں گا۔کہ،، آخری قسط ۳۰ بھی رمضان سے قبل قلمبند کرتے ہُوئے آپ احباب کی خدمت میں پیش کردوں۔

پلکوں سے دَر یار پر دستک دینا
اُونچی آواز ہُوئی عُمر کا سرمایہ گیا

Sunday, 7 June 2015

تذکرہ اِک پری کا (زلیخا مائی صاحبہ) قسط 28.TIPK



تذکرہ اِک پری کا (قصہ زُلیخا مائی صاحبہ) قسط۲۸

گُذشتہ سے پیوستہ

عمران کہانی کے سحر میں کھویا ہُوا تھا۔کہ،، اچانک کوثر نے ہڑبڑا کر کہا۔ ہائے اللہ  مجھ سےیہ کیا غضب ہُوگیا۔۔۔۔ عمران بھی جھٹکے سے اُٹھ بیٹھا اُور یہاں وہاں دیکھ کر کوثر سے استفسار کرنے لگا۔کیا ہُوا کُوثر کیسا غضب ہُوگیا؟؟؟؟۔ بالما صابر پاک نے مجھے کہا تھا۔کہ،، جیسے ہی عمران سے ملاقات ہُوجائے عشق کے ساگر میں بہکنے کے بجائے اُسے جلد ہماری جانب روانہ کردینا۔ لیکن میں جنم جلی تمہاری قربت میں ایسی بہکی کہ،، باباصاحب کا پیغام تم تک پُہنچانے میں تاخیر پر تاخیر کرتی چلی گئی۔۔۔۔ خُدا خیر کرے کہیں اب صابر پاک ناراض نہ ہُوجائیں۔۔۔۔۔واقعی ہم سے بُہت بڑی غلطی ہُوگئی۔اللہ پاک مہربانی فرمائے۔ اُور صابر پاک بھی ہماری کوتاہی کو درگُزر فرمائیں۔ اب مجھے کیا کرنا چاہیئے؟ عمران نے  بھی پریشانی کے عالم میں کوثر سے سوال کیا۔۔۔۔۔۔ کرنا کیا ہے اب ایک لمحہ کی بھی تاخیر کیئے تمہیں بابا صابر کی خدمت میں حاضر ہُوجانا چاہیئے۔چونکہ یہ درویش اللہ کریم کے دوست ہیں۔اس لئے میرا دِل گواہی دے رہا ہے۔ کہ،، ذرا سی خفگی دکھانے کے بعد معافی ضرور عطا فرمادیں گے۔ کوثر  کی گفتگو نے عمران کی وحشتوں کو یقین سے بدل دیا تھا۔

عمران  جب دھڑکتے دِل کیساتھ باغ میں داخل ہُوا تب  بابا صابر باغ کے ایک گوشہ ٗخلوت میں نماز ظہر ادا کرنے میں مصروف تھے۔لہذا عمران بھی  تھوڑے فاصلے پر خاموشی سے بیٹھ گیا۔ بابا صاحب نے نماز سے فارغ ہُوکر ایک نگاہ عمران پر ڈالی۔لیکن اِس نگاہ میں کوئی شناسائی کا عنصر موجود نہیں تھا۔ باباصاحب کی ناراضی بجا تھا۔لیکن اب عمران کے پاس بچا ہی کیا تھا۔جو وُہ بابا صابر صاحب سے بھی بیگانہ ہُوجاتا۔  بابا صاحب نماز سے فارغ ہُونے کے بعد  آنکھیں بند کئےایک درخت سے ٹیک لگاکر بیٹھ چُکے تھے۔

 عمران کو نہ جانے کیا سُوجھی۔کہ،، وُہ اپنی جگہ سے اُٹھ کر بابا صاحب کے نذدیک پہنچ کر بابا صاحب کے قدموں سے اپنی آنکھوں کو ملنے لگا۔ بابا صاحب نے بند آنکھوں سے اپنے پاوٗں سکوڑنے چاہے۔ تب بھی عمران اپنے رُخسار قدموں سے ملتا رہا۔ کچھ لمحے خاموشی کی نذر ہُوتے رہے پھر بابا صاحب کو عمران کی حالت پر رحم آہی گیا۔ تو محبت سے اُسکے چہرے کو اپنے قدموں سے جُدا کرنے کے بعد اُسے اپنے سامنے بٹھا کر نصیحت فرمانے لگے۔

بیٹا میں نے کہا تھا نا تُم سے ایکدن۔کہ،، اختیار امانت  کی طرح ہوتا ہے۔؟اختیار خواہشات کو جنم دیتا ہے۔ اُور سپردگی سے دُور لیجاتا ہے۔ یہی بات اُس جنم جلی نے بھی تُم سے بیساختگی میں کہی تھی۔ جو کہ،، درحقیقت ہم نے ہی اُسکی زُبان سے ادا کروائی تھی۔ لیکن نا تُم نے اُن جملوں پر دھیان دیا۔ اُور نہ ہی کوثر نے زُبان سے ادا کرنے کے باوجود اُنکا اِدراک حاصل کیا۔۔۔ دیکھو میاں صاحب کی جگہ اگر ہم بھی ہُوتے تو تمہارے ساتھ وہی رویہ اختیار کرتے جو کہ،، میاں صاحب نے تمہارے ساتھ اختیار کیا تھا۔ کیونکہ،، وُہ بھی تم سے بیحد پیار کرتے ہیں ۔ اُور ہم بھی تُم سے بےپناہ محبت کرتے ہیں۔۔۔ لیکن تُم عشق کی مدہانی میں پُہنچنے کے باوجود خُود سے مکھن جُدا کرنے کیلئے تیار نہیں ہُو۔

یاد رکھو یہ مکھن ہی دراصل دُنیا کی محبت ہے۔ جب تک یہ جامن کا ساتھ نہیں چھوڑتی چھاچ تیار نہیں ہُوپاتی۔ مکھن خُود لپٹ جانے والا ہے جبکہ چھاچ چکنائی کو جُدا کرنے والی ہے۔۔۔تم اپنا وعدہ بھول چُکے ہُو۔اس لئے مکھن کو خُود سے جُدا نہیں کرنا چاہتے۔ جبکہ اِس وعدہ ازل میں تم نے حلف لیا تھا۔کہ،، تم  ہر ایک مجاز کو حقیقت پر قربان کردو گے،، لیکن تُم بھول گئے،، بخدا بھول گئے وُہ تمام عہد و پاس جسکے ہم سب گواہ ہیں۔۔۔ بابا صابر گفتگو کرتے ہُوئے بُہت جذباتی ہُوگئے ۔تو اپنی آنکھوں کے گوشے اپنی چادر کے کونوں سے صاف کرنے لگے۔

بابا صاحب! میں نرا جاہل ہُوں۔ مجھے اتنی باریک گفتگو سمجھ نہیں آتی۔آپ مہربانی فرماکر اِنہیں میرے لئے آسان لفظوں میں بیان فرمادیں۔یا مجھ پر آگہی و ادراک کے دروازے کھول دیں۔عمران نے نہایت لجاجت سے گُزارش کی۔۔۔۔۔ بیٹا وُہ وقت دُور نہیں ہے ۔جب عنقریب تُم پر آگہی و ادراک کے  نا صرف تمام در  ظاہر ہُوجائیں گے۔بلکہ مشاہدات کے ذریعے تمہارے ابہام کو یقین کی عظیم دولت بھی میسر آجائے گی۔۔۔اگرچہ یہ نعمت ملنے تک تُم ایک عظیم دولت کو غیب میں جاتا بھی دیکھ چکے ہُوگے۔بہرحال میں تمہیں آسان لفظوں میں اپنا مافی الضمیر سمجھانے کی کوشش کرتا ہُوں۔۔۔عمران تم نے زلیخا مائی صاحبہ کا تذکرہ تو ضرور پڑھا ہُوگا قران مجید میں۔۔۔؟ جی بابا صاحب پڑھا ہے لیکن اتنے سرسری انداز میں کہ،، کبھی اصل واقعہ سمجھ ہی نہیں آسکا۔ عمران نے متانت سے جواب دیا۔۔۔۔ کوئی بات نہیں عمران میاں! آج ہم اِس واقعہ کے صرف ۲ پہلو ہی نہیں بلکہ اِسکے ایک ایسے رُخ سے بھی رُوشناس کروائیں گے۔ جسکا مشاہدہ بُہت کم لوگوں نے کیا ہُوگا۔

دیکھو  بیٹا ہماری آج کی مُلاقات بُہت اہم ہے۔ کوشش کرنا کہ،، تمام زندگی ہماری یہ گفتگو ذہن سے محو نہ ہُونے پائے۔انشا ٗ اللہ  یہ گفتگو تمام زندگی تمہارے لئے اندھیری راہ میں مشعل کا کام دیگی۔ گفتگو کی ابتدا میں ہم اسکی جزئیات پر بات کریں گے۔ جبکہ اِسکا آخری حصہ تمام گفتگو کا حاصل ہُوگا۔ اللہ کریم سے دُعا ہے۔کہ،، تمہارے ذریعہ اِس سے ہمیشہ عشاق فیضیاب ہُوتے رہیں۔اب میں  مختصرواقع پیش کرتا ہُوں۔

حضرت یوسف علیہ السلام کے حُسن کا چاند   جب سیدنا یعقوب علیہ السلام کے کاشانے میں نمودار ہُوا۔ تب  اردگرد موجودتمام چراغ شرماکر خُود بخود ٹمٹماتے ہُوئے گُل ہُونے لگے۔ہزارچراغوں کی روشنی بھی ایک چاند کا مقابلہ کرنے کیلئے ناکافی ہُوتی ہیں۔ اسلئے سیدہ راحیلہ کے اِس چاند نبوت کو چالاکی سےاندھیرے کنویں میں اُتار  کر اُفق سے غائب کرنے کی  لاحاصل سعی کی گئی۔پھر ہمیشہ کی طرح عشق کے امتحانات نے سیدنا یوسف علیہ السلام کو مصر کے بازاروں تک پُہنچا دیا۔آپ  کے حُسن کا چرچا مصر کے بازاروں سے محلات تک پُہنچنے میں ذیادہ دیر نہیں لگی۔ جسکی وجہ سے آپ کو عزیز مصر نے اپنے قریب کرلیا۔ جبکہ سیدنا یعقوب بن اسحاق بن ابراہیم علیہ السلام کی آنکھیں آپکی جُدائی میں بہتے بہتے خشک ہُوگئیں۔

جب کہ حضرت یوسف علیہ السلام کا حُسن ایکبار پھر مصر میں آپ کیلئے ایک مزید امتحان کی صورت جلوہ گر ہُوا۔ اُور آپ  کی  موہنی صورت نجانے کب اُور کیسے عزیز مصر کی بیوی زُلیخا  کے دِل و جگر کو زخمی کرگئی۔ زلیخا نے بھرپور کوششیں شروع کردیں۔کہ،، کسی طرح سیدنا یوسف علیہ السلام بھی آپکی جانب مائل ہُوجائیں۔لیکن جِن آنکھوں میں عشق الہی کا سُرمہ موجود ہُو بھلا اُن نگاہوں میں کوئی خلق کیسے سما سکتا ہے۔۔۔۔ کہتے ہیں عشق و مُشک چھپائے نہیں چھپتے۔ سُو زلیخا کی دِلگی کا قصہ بھی کسی نہ کسی طرح اُمرا ٗ  کی بیگمات تک جا پُہنچا۔زلیخا نے  اُن خواتین کےطعنوں  سے بچنے کیلئے ایک محفل کا اہتمام کیا۔ جس میں شرفا کی بیگمات کے  ایک ہاتھ میں پھل اُور دوسرے ہاتھ میں چھری پکڑادی گئی۔اُور جب سیدنا یوسف علیہ السلام کو اُن کے سامنے سے گُزارا گیا۔تو وُہ خواتین بھی  نور نبوت کی تاب نہ لاسکیں۔ اُور نتیجتاً اُنہوں نے  چھری سےاپنے ہی ہاتھوں    کی انگلیوں کو کاٹ ڈالا۔

جب زلیخا نے اپنی ہر تدبیر کو تقدیر کے مقابلے میں ناکامی کی نذر ہُوتے دیکھا۔ تو  اُس نےجبر کی راہ  اختیار کرنے کیلئے سیدنا یوسف علیہ السلام کو چالاکی سے تنہائی میں اپنی آرام گاہ میں طلب کرلیا۔لیکن  اللہ کے نبی علیہ السلام نے اُسے نصیحت فرمائی کہ،، زلیخا اپنی خواہشات کی غلامی سے نکل کر اُس واحد و لاشریک کی غلامی کا طوق اپنی گردن میں سجالے،جس نے مہربانی فرماتے ہُوئے اپنی نیابت کا تاج انسان کے سر پر سجایا ہے۔اَب اِسے اتفاق کہیئے یا اللہ کریم کی مشیت کہ،،عین اُسی وقت عزیز مصر بھی وہاں پُہنچ گیا۔

زلیخا جانتی تھی کہ،، عزیز مصر حُسن زلیخا پر پروانے کی مانندنثار ہے۔ اسلئے اُس نے   اپنی تمام ناکامیوں کا انتقام لینے کیلئے سارا الزام سیدنا یوسف علیہ السلام کے سر ڈال دیا۔ اللہ کریم کے حُکم سے سیدنا یُوسف علیہ السلام کی پاکیزگی کی گواہی ایک شیر خوار بچے نے دی جسکی وجہ سے عزیز مصر پر یہ بات تو واضح ہو ہی گئی۔کہ،، خواہشات کی اسیر اُسکی اپنی زوجہ ہے ناکہ،، سیدنا یوسف علیہ السلام۔لیکن۔۔۔ یوسف علیہ السلام کی قربت پھر زلیخا کو بہکانے کا باعث بن سکتی تھی۔ اسلئے عزیز مصر نے سیدنا یُوسف علیہ السلام کو قید کرنے کے احکامات جاری کردیئے۔

کچھ عرصہ بعد یوسف علیہ السلام سے ۲ قیدیوں نے اپنے خواب بیان کیئے جنکی تعبیر  اللہ کے نبی علیہ السلام نے بیان فرمادی۔ دونوں کو جو تعبیر بتائی گئی تھی۔ بالکل اسی طرح معاملہ پیش آیا۔ ایک قیدی کو پھانسی دیکر چوراہے پر عبرت کیلئے لٹکا دیاگیا۔ جبکہ دوسرے کو عزیز مصر کے ساقی کا فرئضہ سُونپ دیا گیا۔ پھر عزیز مصر نے ایک خواب دیکھا تو اُس ساقی نے حضرت یوسف علیہ السلام کی تعبیر کی بیحد تعریف کی۔ عزیز مصر نے جب اپنا خواب سیدنا یوسف علیہ السلام کی خدمت میں عرض کیا۔ تو آپ نے جواباً فرمایا۔کہ،، سات برس تک خُوب خُوشحالی رہنے کے بعد سات برس تک ملک میں قحط پڑے گا۔

عزیز مصر  کے قلب میں بات بیٹھ جاتی ہے۔کہ،، یوسف علیہ السلام عام انسان نہیں ہیں۔ بلکہ یہی  مصر کو پیش آنے والی مصیبت سے بچاسکتے ہیں۔ اُور اسطرح حضرت یوسف علیہ السلام کو قیدخانے سے نکال کر  حکومت مصر کی تمام انتظامی ذمہ داریاں سُونپ دی جاتی ہیں۔حضرت یوسف علیہ السلام دُنیا کے پہلے ذخیرہ گھر تعمیر کراتے ہیں۔ اُور غالباً پہلی مردم شُماری بھی۔پھر آپکی تعبیر کے عین مطابق سات برس تک اجناس کی خُوب  پیداوار ہُوتی ہے جنہیں ذخیرہ کیا جاتا ہے۔ جو اگلے  قحط کےسات برسوں میں کام آتا ہے۔اِسی دوران آپکے بھائی بھی غلے کے حصول کیلئے آپ کے پاس تشریف لاتے ہیں۔ آپ اُن کیساتھ بھی اچھا سلوک کرتے ہیں۔ اُور اپنی قمیص مبارک والد گرامی کی خدمت میں بھیجتے ہیں۔جسے آنکھوں سے لگانے پر سیدنا یعقوب علیہ السلام کی ظاہری بینائی واپس لُوٹ آتی ہے۔

عمران بیٹا یہ تو وُہ قصہ تھا جو عموماً بیان کیا جاتا ہے۔ اب میں تمہاری خاص توجہ چاہونگا۔تاکہ میں وُہ بات بیان کرسکوں جو میرے پاس تمام عاشقوں کیلئے امانت ہے۔۔۔کہ،، جب سیدنا یوسف علیہ السلام جب اِن تمام ہنگاموں اُور امتحانات سے سُرخرو ہوجاتے ہیں۔تو ایکدن آپ کے دِل میں زلیخا کا خیال آتا ہے۔ زلیخا کے خیال کیساتھ اُسکا آپکو پانے کے لئے جنون بھی یاد آتا ہے۔پھر آپ اَس فیصلے پر پُہنچتے ہیں۔کہ،، زلیخا جو عزیز مصر کے گُزرجانے کے بعدایک بیوہ کی زندگی گُزار رہی ہے۔ اُسے  اُسکی محبتوں کا ثمر ملنا چاہیئے۔ اُور زلیخا کو اپنی شریک حیات بنالینا چاہیئے۔ چناچہ اللہ کے نبی سیدنا یوسف علیہ السلام زلیخا  مائی صاحبہ سے ارشاد فرماتے ہیں۔


اے زلیخا میرے پاس تمہارے لئے ایک خُوشخبری ہے۔تو تمام زندگی مجھے پانے کیلئے ترستی رہی ہے۔ اُور تجھ پر میری محبت ہمیشہ ایسی غالب رہی۔کہ،، تونے کبھی اپنے مرتبے کا بھی خیال نہ کیا۔اُور ایک دیوانے کی طرح میری چاہت میں گرفتار رہی۔ لے آج خُوش ہوجا۔کہ،، آج میں خُود تجھے اپنانے کا اعلان کرتا ہُوں۔ اُور تجھ سے نکاح کا خواہشمند ہُوں۔۔۔۔ عمران بیٹا ذرا تصور تو کرو جب سیدنا یوسف علیہ السلام نے زُلیخامائی صاحبہ کو نکاح کا پیغام دیا ہُوگا۔ اُس وقت مائی صاحبہ کی کیفیت کیا ہُوگی۔؟۔۔۔ جی باباصاحب واقعی وُہ دِن تو مائی صاحبہ کیلئے عید کا دِن ہُوگا۔ کہ،، مائی صاحبہ جسے ساری زندگی خُدا سے مانگتی رہیں ہُونگی۔ وُہ مُراد  اُس دن خُود مائی صاحبہ کی جھولی میں اچانک آگری تھی۔عِمران نے تصور میں مائی صاحبہ کے چہرے پر  خُوشی اور تشکر کے ہزاروں رنگ تلاش کرنے کی کوشش کی۔

ہاں بیٹا۔ جب جب کوئی مائی صاحبہ کی طلب  عشق کی داستان سُنے گا اُس کا وہی جواب ہُوگا۔ جو تم نے ابھی دیا ہے۔ لیکن بیٹا حقیقت یہی ہے۔کہ،، حضرت یوسف علیہ السلام کی پیشکش کا جواب مائی صاحبہ نے  تمہارے تصور کے بالکل برخلاف دیا تھا۔۔۔ مائی صاحبہ نے صاف  صاف منع کردیا تھا۔۔۔۔ حضرت یوسف علیہ السلام نے  حیرت کے عالم میں مائی صاحبہ سے دریافت کیا۔ زُلیخا وُہ تمہاری محبت کیا ہُوئی۔؟ کہ،، جس نے تمہیں وحشتوں میں مبتلا کردیا تھا۔

مائی صاحبہ نے جواب دیتے ہُوئے عرض کی۔ اے اللہ کے نبی (علیہ السلام) میں آپ کے عشق میں ایسی گرفتار تھی۔کہ،، اگر کوئی مجھ سے آپ کی محبت کی خاطر میری جان بھی طلب کرلیتا۔ تو میں اپنی جان پیش کرنے کیلئے ذرا نہیں چُوکتی۔لیکن میری تمام تر کوششوں کے باوجود آپ نے مجھے کبھی پلٹ کر نہیں دیکھا۔۔۔تب میں  ایک بات سوچنے پر مجبور ہُوگئی۔کہ،، ہر انسان  دوسرے انسان سے تین اہم وجوہات کی وجہ سے مُتاثر ہو کر اُسکی جانب  مائل ہُوتا ہے۔ پہلی وجہ (حُسن) ہے۔ ۔۔دوسری وجہ (طاقت )ہے۔ جبکہ تیسری وجہ (دُولت )ہے۔ اِن میں سے کوئی ایک شئے بھی کسی انسان کے پاس موجود ہو۔تو دوسرے انسان خُودبخود اُسکی طرف کھنچے چلے آتے ہیں۔ مگر اے اللہ کے نبی علیہ السلام۔میرے پاس تو بیک وقت حُسن کی لازوال دُولت بھی تھی۔ مصر کی طاقت کا سرچشمہ بھی میں تھی۔ اُور ظاہری اسباب سے میرے خزانے  بھی پُر تھے۔لیکن آپ نے مجھے پھر بھی ایک نظر اُٹھا کر نہیں دیکھا۔

تب میں یہ سُوچنے پر مجبور ہُوگئی۔کہ یقیناً کوئی چوتھی وجہ بھی  ضرورموجود ہونی چاہیئے۔جو آپکو میری جانب ملتفت نہیں ہُونے دیتی۔۔ تب میں  کافی غُور و خوص کے بعد اِس نتیجے پر پُہنچی۔کہ،، وُہ چوتھی وجہ کسی کے عشق میں مبتلا رہنا ہے۔۔۔  میں نے کافی کھوج لگانے کی کوشش کی۔کہ،، آپ کے معشوق کا کچھ پتہ چل جائے۔لیکن آپکا  عشق تو مخلوق سے تھا ہی نہیں۔ تب  میں اُسے کیسے کھوج سکتی تھی۔ پھر مجھ پر میرے عشق  کی مسلسل تپش نے بلاآخر یہ راز افشاں کر ہی دیا۔کہ آپ مخلوق کے نہیں بلکہ خالق کے عشق میں گرفتار ہیں۔ اُور بلاآخر میرے جنون عشق نے مجھے  بھی عشق مجازی  کی ندیا سے بہا کر عشق حقیقت کے ساگر میں اُتار دیا ۔ سُو اِس لئے جب سے میں نے اُس  کریم کے عشق کوپالیا ہے۔ اب میرے دِل میں کسی غیر کی محبت کا خیال بھی نہیں آتا۔

جاری ہے۔۔۔

پلکوں سے دَر یار پر دستک دینا
اُونچی آواز ہُوئی عُمر کا سرمایہ گیا