bing

Your SEO optimized title page contents

Pages

Hamara Tube Channel

Showing posts with label aagahi. Show all posts
Showing posts with label aagahi. Show all posts

Sunday, 1 May 2016

بِیٹی





بِیٹی

کئی دِن سے میں اِس سوال کا جواب تلاش کررہا تھا ۔ کہ،، کیوں ہمیشہ باپ کو بیٹی ہی ذیادہ پیاری 
نظر آتی ہے۔۔۔؟

اِس سوال کا جواب گُذشتہ دِنوں مجھے اپنی سات برس کی بیٹی جائزہ علی کے ایثار نے سمجھا دیا۔۔۔ میں نے کئی مرتبہ محسوس کیا ہے کہ جب بیٹے کھیل رہے ہُوتے ہیں۔ جائزہ کی نِگاہیں چوری چُوری میرے چہرے کا طواف کررہی ہُوتی ہیں۔۔۔ اُور جب میں اُسکی چوری پکڑ لیتا ہُوں۔تو وُہ مسکرا کر اپنی نظریں جھکا لیتی تھی۔

اُس دِن بھی پانچ سالہ احمد رضا مجھ سے ضد کررہا تھا۔کہ آپ نے بھائی کو موبائیل گفٹ کیا ہے۔ تو مجھے بھی پلے اسٹیشن یا ٹیبلیٹ پی سی لا کر دیں۔ اچانک میرے دِل میں خیال آیا کہ،، ہر بچے نے اپنی پسند کی چیز لے لی ہے۔لیکن جائزہ نے کچھ نہیں مانگا۔ اَب صرف وہی باقی رِہ گئی ہے۔۔۔ سُو اُسے بھی کچھ نہ کچھ بڑا گفٹ چاہیئے ہُوگا۔

میں نے اُسکی جانب دیکھا، تو حسب سابق وُہ مجھے ہی دیکھ رَہی تھی۔
میں نے پوچھا۔گُڑیا سب ہی گفٹ مانگ رہے ہیں آپکو بھی کوئی مہنگا گفٹ چاہیئے۔۔۔۔؟

اُس نے مُسکرا کر میری جانب دیکھا اُورکہا۔ نہیں بابا موبائیل اُور ٹیبلیٹ تو بُہت مہنگے ہُوتے ہیں مجھے جب کھیلنا ہُوگا۔ تو آپکے ہی موبائیل پر کھیل لُونگی۔۔۔ میں نے حیرت سے استفسار کیا گُڑیا اگر کچھ چاہیئے تو کہہ دُو پیسے کی فکر مت کرو۔

اُس نے مُسکرا کر ایکبار پھر میری جانب دیکھا اُور بُولی بابا اگر آپ دینا ہی چاہتے ہیں تو ایک چھوٹی سی گُڑیا لا دیجئے گا۔۔۔ بس وہی کافی ہے۔
۔
مجھے میرے سوال کا جواب مِل چُکا تھا۔۔۔ کہ،، باپ کے دِل میں بیٹی کی مُحبت قرض کی طرح ہُوتی ہے۔ جِسے دھیرے دھیرے بیٹی باپ کے دِل پر چڑھاتی جاتی ہے۔۔ پھر باپ بیٹی کو کتنا ہی لُوٹادے۔ اُسے ہمیشہ یہی لگتا ہے ۔کہ ابھی قرض چُکانا باقی ہے۔

.
عشرت اقبال وارثی۔




Friday, 12 February 2016

مقصدِ زندگی



کامیاب زندگی یہ نہیں کہ انسان کو شہرت مِل جائے۔ یا وُہ رُوٹی رُوزی حاصل کرنے میں کامیاب ہُوجائے۔
کیونکہ!
اگر یہی معیار زندگی ہُوتا!!
تو پھر انسان اُور حیوان میں کیا فرق رِہ جاتا۔۔۔۔؟
کیوں کہ مشہور تو اپنی بعض خوبیوں کی بِنا پر جانور بھی ہُوجاتے ہیں
اُور رِزق تو بغیر محنت پرندے بھی حاصل کرلیتے ہیں
لِہذا!!!
کامیاب وہی ہے جو خالق کی فرمانبرداری اُور مخلوق کی خدمت کرتے کرتے مالک کو راضی او اُسکی چاہت  حاصل کرنے میں کامیاب ہُوجائیں.

Wednesday, 24 June 2015

خُدا کی تلاش پارٹ ۲




لُوگ کہتے ہیں،کہ،، بیٹیاں خُدا کی رحمت ہوتی ہیں۔۔۔مگر لُوگ ہمیشہ صرف کہتے  ہیں۔ اُور کہہ کر گُزر جاتے۔ لیکن اللہ کریم نے مجھے جو حساس قلب و ذہن عطا فرمایا ہے۔ تو یہ اُس کریم کا ہی مجھ پر خاص فضل ہے۔کہ،، میں صرف سُنتا اُور لکھتا ہی نہیں ہُوں۔ بلکہ جب بھی میں کوئی بات سُنتا ہُوں۔تو اُس بات کی دلیل کیلئے میرا قلب و ذہن ایکدم مستعد ہُوجاتا ہے۔ اِسلیئے جب میں نے  پہلی مرتبہ یہ بات سُنی کہ،، بیٹیاں اللہ کی رحمت ہُوتی ہیں،، تو میرا ذہن اِس بات کی دلیل  جاننےکیلئے پُرشوق ہُوگیا۔لیکن سچی بات یہی ہے۔کہ،، کم سنی کی وجہ سے میرا ذہن اِس سَوال کے جواب سے یکسر نابلد تھا۔ پھر جب میرے گھر اللہ کریم کی عطا سے پہلی اُولاد بیٹی کی صورت جلوہ گر ہُوئی۔تو اِس سوال  کے جواب کی تلاش شدت  اختیار کرنے لگی۔کہ،، آخر کیوں بیٹیاں اللہ کی رحمت ہُوتی ہیں۔

اِس سوال کیساتھ ایک بات بہرحال دِل میں راسخ ہُوتی چلی گئی۔کہ،، اگر بیٹیاں اللہ کریم کی رحمت ہیں۔ تو رحمت،، رحیم کے قریب کرنے کا باعث ہونی چاہیئے۔ پھر میرے گھر ایک اُور بیٹی کا جنم ہُوا۔ لیکن دوسری بیٹی کی زندگی نہایت مختصر ثابت ہُوئی۔ وُہ اپنی محبت کا دیپ میرے دِل میں جلا کر صرف ایک سال میں رخصت ہُوگئی۔ مجھے ہمیشہ سے بیٹیاں بُہت پسند ہیں۔ شائد اِسی وجہ سے دوسری بیٹی کے وصال کے بعد  تیسری اُور چوتھی بیٹی سے  بھی نوازا  گیا۔ ہر بیٹی کی پیدائش کے بعد ایک بیٹا بھی عطا کیا گیا۔ یُوں چاربیٹیوں  کیساتھ انعام میں تین بیٹے بھی عطا کیئے گئے۔

جن  احباب نے۲۰۱۰ میں میری تحریر خُدا کی تلاش خُدا کی تلاش کو پڑھا ہُوگا۔ وُہ بخوبی اِس بات سے بھی آگاہ ہُونگے۔کہ،، میری اِس تحریر کا جنم میری چار سالہ بیٹی جائزہ علی کی گفتگو سے  ہی ممکن ہُوا تھا۔ اُور یہ میری واحد تحریر ہے۔ جسے میں خُود بھی بیسیوں مرتبہ پڑھ چُکا ہُوں۔لیکن پھر بھی  اِس تحریر کو میں جب بھی پڑھتا ہُوں مجھے کچھ نہ کچھ مہکتے پھول اِس تحریر سے ضرور ملتے ہیں۔ جو تجدید وفا کیلئے میری خُوب معاونت کرتے ہیں۔جائزہ علی اب خیر سے نو برس کی ہُوچکی ہے۔اُور سچی بات یہی ہے۔کہ،، خُدا کی تلاش پارٹ ۲ لکھنے کا سہرا بھی جائزہ علی کی گفتگو کا مرہون منت ہے۔ اُس کی آج کی گفتگو نے مجھ پر  اُفک پر جگمگاتے خُورشید کی مانند خوب واضح کردیا ہے۔کہ،، واقعی بیٹیاں خُدا کی رحمت ہیں۔ کیونکہ جائزہ علی کی گفتگو مجھے ہمیشہ اپنے رحیم و کریم پروردیگار سے قریب کرنے کا ذریعہ ثابت ہُوتی ہیں۔ اِس لئے اب مجھے اپنے سوالوں پر کوئی ابہام نہیں ہے۔ میں برملا دلیل سے ثابت کرسکتا ہُوں۔کہ،، واقعی اللہ کریم نے جتنا زرخیز معصوم  ذہن بیٹیوں کو عطا کیا ہے۔وُہ واقعی خُدا کی رحمت کہلائے جانے کی اہل ہیں۔

گُذشتہ شب معلوم ہے  نو برس کی جائزہ نے مجھ سے کیا کہا۔۔۔ یقین جانئے جب میں آپکو اُسکے الفاظ بتاوٗں گا۔ تو آپ بھی اُس کی خُدادادقابلیت پر عش عش کر اُٹھیں گے۔جس وقت میرا سات برس کا بیٹا  احمد رضامجھ سے جنت کے متعلق کرید کرید کر سوالات کررہا تھا۔ جائزہ علی  خاموشی سے ہم دُونوں کی گفتگو نہایت انہماک سے سُن رہی تھی۔لیکن جونہی احمد رضا کے سوالات میں ایک معمولی سا تعطل (بریک )آیا۔جائزہ علی نے ذہانت سے اپنا سوال میرے دماغ میں اُنڈیل دیا۔جسے سُن کر میں حیرت سے اُسکے چہرے کو تکتا رِہ گیا۔ وُہ مجھ سے پُوچھ رہی تھی۔کہ،، بابا جب ہم اِس دنیا میں بُور  ہو جاتے ہیں (اُکتا جاتے ہیں) تو ہم باغات کی سیر یا جھولے جھولنے کیلئے نکل جاتے ہیں۔ لیکن پھر جلد ہی ہمارا دِل اُن باغات کی خوبصورتی اُور جھولوں کی محبت سے بھر جاتا ہے۔ اُور ہمیں پھر سے گھر کی یاد ستانے لگ جاتی ہے۔۔۔تو بابا  جان پھر  مستقل جنت میں قیام کی وجہ سے  جنت کے مزے سے ہمارا دِل کیوں نہیں اُکتائے گا۔۔۔؟؟؟کیونکہ انسان ذیادہ دیر تک ایک جیسے ماحول میں خوش نہیں رِہ سکتا۔ اُور اگر واقعی جنت میں بھی ہمارے ساتھ ایسا کچھ ہُوا۔تو ہم آخر کہاں جائیں گے۔کہ،، ہماری اکتاہٹ ختم ہُوسکے؟؟؟

میں آپ سے سچ کہتا ہُوں۔ جب بھی مجھ سے لُوگ سوالات کرتے ہیں ۔تو میں چند سیکنڈ کی تاخیر بھی برداشت نہیں کرپاتا۔ اُور اکثر فوراً ہی بولنا شروع کردیتا ہُوں۔لیکن جائزہ علی کا یہ سوال سُن کر مجھ پر کتنی ہی دیر سکتہ سا طاری ہُوگیا تھا۔ پھر میں نے خُود کو سنبھالا۔ اُور اُسے سمجھانے لگا۔کہ،، ہمیں اکتاہٹ ہمیشہ تشنگی کی وجہ سے پیش آتی ہے۔اُور جنت میں نعمتوں کی اتنی ذیادہ ورائٹی ہُوگی ۔کہ،، اکتاہٹ کا سوال ہی پیدا نہیں ہُوتا۔کیونکہ وہاں عطائے ربانی انسانی ذہن سے اسقدر ذیادہ ہیں۔ کہ،،وہاں تک انسان کے ذہن کی رسائی  ممکن ہی نہیں ہے ۔ جنت کے باغات، وہاں موجود خیمے ، محلات، رنگ و نور کا سمندر، چہکتے پرندے، مہکتے پھول ، جھرنے، آبشاریں ، مزیدار شربتوں کی مختلف نہریں،   زمین پر موجود مخملی گھاس،  حُور وغلماں کے حسین چہرے  ، سُواری کے لئےبرق رفتار بُراق ،اور بازاروں کی رونقیں انسان کو کہاں بُور ہُونے دیں گی۔؟ پھر وہاں انسانوں میں حسد  کا مادہ  بھی نہیں ہُوگا۔ کہ،، جسکی وجہ سے  دل میں حرص پیدا ہُوسکے۔!!!  مجھے لگا تھا۔کہ،، شائد جائزہ علی میری گفتگو سے متاثر ہُوکر خاموش ہُوجائیگی۔ لیکن اُسے چہرے پر صاف لکھا تھا۔کہ،، وُہ میرے جواب سے ہرگز مطمئین نہیں ہے۔

وُہ کافی دیر تک میرے جواب پر غور کرتی رہی۔جیسے میری گفتگو میں کوئی سِقم تلاش کررہی ہُو۔۔۔ لیکن شائد وُہ اتنی پیچیدہ گفتگو کیلئے فوری طور پر تیار نہیں تھی۔ میرا خیال تھا۔کہ،، اب وُہ ضرور ہتھیار ڈال دے گی۔ لیکن وُہ تو میرے لئے رحمت ہے۔ اُور بھلا رحمت قُرب دیئے  بغیر کہاں ٹہرتی ہے؟ اُس نے اگلا سوال قائم کردیا۔ جس نے مجھے مزید حواس باختہ کردیا۔۔۔ بابا  جان کیا آپ اُور ساری دُنیا کے انسان صرف اسلئے اللہ کی عبادت کرتے ہیں۔تاکہ ،، ہم سب کو آخر میں صرف جنت مِل جائے؟؟؟ اُور آپ جنت میں ہمیشہ مزے کرتے رہیں۔؟

جائزہ علی کے اِس سوال نے  یقین جانئے ایک مرتبہ مجھے پھر سے جھنجھوڑ ڈالا تھا۔۔۔ میں دِل میں جائزہ علی کے سوال پر جتنا غور کرتا جارہا تھا۔ مجھے اپنا وجود آئینہ دِل میں ایک منافق کی  شکل دِکھارہا تھا۔۔۔ ایک ایسا منافق جو  کبھی دِل میں اُور کبھی زُبان حال سے پُکارتا رہتا ہے۔کہ،، مجھے اپنے پروردیگار کی محبت و رضا کے سِوا کچھ نہیں چاہیئے۔ لیکن جانے انجانے میں  بار باردُنیا کے جال میں خوشی سے پھنسا رہتا ہے۔ اُور اپنے دِل کو جھوٹے دِلاسے دیتا رہتا ہے۔کہ،، بس آج دُنیا کی محبت میں اُور  جی لُوں۔۔۔ کل سے دُنیا کی محبت کو خیرباد کہہ دُونگا۔ لیکن رات کا بچا ہُوا خاہشات کا بیج صبح تک پھر سے ایک تناور درخت کی شکل اختیار کرچکا ہُوتا ہے۔۔۔۔۔ بابا جانی کہاں کھو گئے۔؟  جائزہ علی نے  شائدمیری خاموشی کی طوالت  سے  بیزار  ہوکر سوال کیا۔۔پتہ نہیں کیوں مجھے  ایسا لگا جیسے جائزہ علی مجھ سے کہہ رہی ہُو۔کیوں بابا جانی آپ تو بڑے فلسفی بنتے ہیں نا!!! لیکن آج آپ  ایک بچی کے سوال پر کتنے بےبس دکھائی دے رہے ہیں۔

کہیں نہیں بٹیا۔۔۔ میں نے پھیکی سی مسکراہٹ  چہرے پر سجانے کی ناکام کوشش کرتے ہُوئے  پھر سے سلسلہ کلام جُوڑا۔۔۔۔۔ بٹیا تمہارے بابا جانی تو بُہت کمزور سے انسان ہیں۔ جو کبھی عشق کی راہ کے مسافر بن جاتے ہیں۔ اُور کبھی خود غلامی کی زنجیروں کو اپنے پاوٗں سے لپیٹ لیتے ہیں۔ لیکن اِس کائینات میں اللہ کریم کے ایسے  کروڑوں عاشق موجود ہیں۔ جو اللہ کریم کی عبادت نہ جنت کی لالچ کی وجہ سے کرتے ہیں۔ اُور نہ  ہی جہنم  کے خُوف کی وجہ سے وُہ  گناہوں سے دُور رہتے ہیں۔  ۔۔۔۔۔۔۔  بابا جانی یہ کیا بات ہُوئی۔کہ،،  جب نہ اُن لوگوں کا جنت کا لالچ ہے ۔ اُور نہ ہی جہنم کا ڈر ہے۔ تو پھر وُہ لُوگ کس وجہ سے اُور کس کیلئے عبادت کرتے ہیں۔؟؟؟

بٹیا وُہ لوگ صرف اللہ کریم کو راضی کرنے کیلئے اُور اللہ کریم کادید ار اُور اللہ کریم سے ملاقات کو پسند کرتے ہیں۔ اِس لئے اُنکے دِل میں اللہ کریم کے  علاوہ کسی مخلوق کی محبت جگہ نہیں پکڑتی۔ اُور کیوں کہ جنت اُور دوزخ بھی اللہ کی مخلوق ہیں۔ اسلئے اُنکے دِل  خالق کی محبت سے اتنے لبریز ہیں۔ کہ،، جنت کے لطف کی طرف اُنکا  خیال ہی نہیں جاتا۔۔۔۔۔۔ تو بابا  جانی قیامت کے دِن جب سب لُوگ جنت یا دُوزخ میں چلے جائیں گے تو یہ لُوگ  پھرکہاں جائیں گے۔؟ جائزہ کی آنکھوں میں اگرچہ نیند نے اپنی جگہ بنانی شروع کردی تھی۔ لیکن شائد وُہ مطمئین ہُوئے بغیر سُونا نہیں چاہتی تھی۔

بٹیا سلطان العارفین حضرت سلطان باہو (رحمتہ اللہ علیہ) جنہیں سُلطان الفقر اُور اِمام العاشقین بھی کہا جاتا ہے۔اپنی کتاب  عین الفقر میں ایک روایت بیان کرتے ہیں۔ جسکا مفہوم کچھ یُوں ہے۔کہ،، جب سب لُوگ جنت یا دُوزخ میں داخل کردیئے جائیں گے۔ تب یہ تمام عاشقین الہی  جنکے لئے جنت کا اعلان کردیا گیا ہُوگا۔ لیکن  یہ گروہ عاشقین جنت کو قبول کرنے میں  تامل کریں گے۔  فرشتے اپنی تمام کوشش کرنے کے بعد  اللہ کریم کی بارگاہ میں عرض کریں گے ۔ اے ہمارے رب تمام لُوگ جنت یا دُوزخ میں منتقل ہُوچکے ہیں۔ لیکن ایک گروہ اولیا ٗ جنت کی نوید کے باوجود خوش نہیں ہے۔

اللہ کریم ارشاد فرمائے گا۔اِن لوگوں سے معلوم کرو۔کہ،، آخر یہ چاہتے کیا ہیں؟ وُہ گروہ عاشقین عرض کرے گا۔ اے ہمارے پروردیگار تو جانتا ہے۔کہ،، ہم نے کبھی دُنیا کی محبت کو اپنے قلوب میں جگہ نہیں دی۔ ہم نے تیرے عشق کی شمع  سے اپنے وجود کو  اسلئے خاکستر نہیں کیا تھا۔ کہ،، بدلے میں ہمیں باغیچے اُور خدام عطا کردیئے جائیں۔ ہم دُنیا کی تمام تکالیف کو صرف اِس لئے ہنس کے سہتے رہے۔کہ،، تو ہم سے راضی ہُوجائے۔ اور ہمیں دائمی قربت اُور دیدار کی دولت سے سرفراز کردیا جائے۔تاکہ ہماری تشنگی بھی ہمیشہ ہمیشہ کیلئے بُجھ جائے!!!  اِن عاشقین کی فریاد کے جواب میں اللہ کریم ارشاد فرمائے گا۔ بیشک میرے یہ بندے سچ کہتے ہیں۔ اِن تمام کو مقام القُربہ  میں لے آوٗ۔ تاکہ میں انہیں اپنی قربت خاص  اُور دید کے جام سے سیراب کروں۔ اُور یہ لوگ جنت النعیم اُور جنت الفردوس سے بھی لُطف اندوز ہُوں۔

مطلب بابا جانی جنت تو اِن لوگوں کو بھی مِل جائے گی۔لیکن  اِنکا اصل انعام اللہ تعالی کی قربت اُور اُسکا دیدار ہُوگا۔ تو باباجانی کیا دوسرے جنتیوں کو اللہ کریم کا دیدار نہیں ملے گا۔ ؟جائزہ علی نے نیند بھگانے کی کوشش کرتےہُوئے اگلا سوال کیا۔۔۔۔ نہیں بٹیا ایسی بات نہیں ہے۔دیدار تو  سب جنت والوں کیلئے ہُوگا۔لیکن  دوسرے جنتی ایک مرتبہ دیدار کے بعد ایک  طویل مُدت کیلئے بیہوش ہُوجائیں گے۔ جبکہ مقام قرابت کے عاشقین تجلی سے قرار پکڑیں گے۔ اور بار بار دیدار سے سیراب کئے جائیں گے۔  بس یوں سمجھ لُو کہ ،،   دیگر جنت میں حُسن  محبوب  حجاب میں ہوگا۔ جبکہ مقام قربت میں عاشقین بے حجاب جلوئے سمیٹں گے۔

بابا جانی پھر تو اللہ کے عاشقین ہی فائدے میں رہیں گے۔۔۔ بابا جانی آپ بھی عاشق بن جائیں نا۔ پھر آپ بھی کبھی بُور (تشنہ) نہیں رہیں گے۔۔۔۔اُس نے شب کا آخری جملہ کہا۔ اُور نیند کی وادی میں پُہنچ گئی۔۔۔۔ وُہ آج پھر ہمیشہ کی طرح  قربت کا چراغ میرے من میں رُوشن کر کے اطمینان سے سُوگئی تھی۔ اُور میں ہمیشہ کی طرح اُسکی نصیحت پر عمل کرنے کیلئے خود سے عہد و پیمان کرنے کیلئے جاگنے کی کوشش میں مصروف ہُوں۔ اُور اللہ کریم کی بارگاہ میں فریاد کررہا ہُوں۔کہ،، اے میرے پروردیگار  تونے مجھے کتنا خُوبصورت ناصح عطا کیا ہے۔ جو مجھے بار بار جھنجوڑ کر تیری جانب متوجہ کرتا رہتا ہے۔۔۔  اے کریم مجھ پر مہربانی فرمادے۔ اُور میرے من میں ٹمٹماتی آتشِ عشق  کی شمع کو قرار عطا فرمادے۔ مجھے اپنی پسند کے کردار کی محبت کے چنگل سے نکال کر ۔ تیری پسند کے کردار کیلئے مستعد کردے۔ تاکہ میں اسمیں خوبصورت رنگ بھر کر عاشقوں کے نشانِ  قدم کو ڈھونڈتا ہُوا مُراد پاجاوٗں۔


اُسکا کہنا ہے۔ کِسی اُور کو دیکھوں نہ کبھی
کیوں کہ اُسکو یہ میرا رُوپ بُرا لگتا ہے۔

مجھکو ہر چہرے میں آتاہے نظر اِک وُہ ہی
جُو نہ بھر پائے یہ بہروُپ !!!  ۔بُرا لگتا ہے۔



Friday, 1 May 2015

خُدا کی تلاش!



محترم قارئین السلامُ علیکم
کل رات جب میں چھت پر چادر بِچھا کر سونے کی تیاری کر ہی رہا تھا ۔تبھی میری چار سالہ بیٹی  جائزہ علی بڑی آہستگی سے چلتی ہُوئی میرے قریب آئی۔ اُور مجھ سے لپٹ گئی ۔ اُس نے اپنے ننھے سے سر کو میرے سینے پر رکھا۔ اور ہاتھوں کے شکنجے میرے جسم کے گرد کسنے لگی۔ میں نے پوچھا بیٹا کیا بات ہے کیا نیند نہیں آرہی؟
نہیں بابا آپ سے ایک بات پوچھنی ہے- 

میں نے کہا پوچھو بیٹا کیا بات ہے وہ آسمان کی طرف اشارہ کر کے پوچھنے لگی بابا یہ آسمان میں کیا چیز چمکتی ہے؟
میں نے کہا بیٹا یہ ستارے ہیں-

تب اُس نے دوسرا سوال داغا بابا کیا یہ ہمارے گھر سے بڑے ہیں یا چھوٹے؟
میں نے کہا بیٹا یہ ستارے ہمارے گھر سے بھی بڑے ہیں بلکہ ہمارے شہر بھی بڑے ہیں بلکہ شائد ہماری زمین سے بھی بڑے ہیں-

تب اُس نے حیرت سے پوچھا بابا یہ ستارے اتنے بڑے ہیں تو آسمان میں کس چیز سے لٹکے ہوئے ہیں؟
میں نے کہا بیٹا یہ کسی چیز سے بھی نہیں لٹکے بلکہ اللہ کریم کی قدرت سے آسمان میں لٹکے ہیں تبھی میں نے محسوس کیا کہ میری بیٹی کی گرفت میرے جسم پہ مزید سخت ہوگئی، میں نے اپنے ایک ہاتھ کو اس کے ننھے ہاتھوں کی گرفت سے نِکالا اور اُس کے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے پوچھا بیٹا مگر تم پریشان کیوں ہورہی ہو؟

تب اُس نے اپنے خدشے کا اظہار کیا بابا مجھے ڈر لگتا ہے کہیں یہ ستارے آسمان سے گِر نہ پڑیں! بابا کیا یہ ستارے گِر نہیں سکتے؟ 
میں نے جواباً کہا بیٹا اللہ کریم اپنے بندوں سے بُہت محبت کرتا ہے اس لئے وہ اِن ستاروں کو کبھی ہم پر نہیں گرنے دیگا-

بابا کیا اللہ تعالیٰ ہم سے کبھی ناراض ہوگیا تو وہ ہم پر ستارے گِرا دیگا؟ اُس نے اگلا سوال داغا
نہیں بیٹا وہ اپنے بندوں پر بُہت مہربان ہے وہ ہم سے ناراض بھی ہوجاتا ہے تو معافی مانگنے پر فوراً خوش بھی ہو جاتا ہے وہ بُہت مہربان ہے بیٹا تُمہاری امّی تم سے جِتنا پیار کرتی ہیں وہ اُس سے بھی بُہت بُہت زیادہ مُحبت کرتا ہے-

بابا اگر مجھ سے غلطی ہوجائے اور میں معافی مانگوں تو کیا اللہ تعالی مجھے معاف کردیگا؟
ہاں بیٹا وہ سبھی کو معاف فرما دیتا ہے-

میں نے دیکھا میرے اس جواب سے اُس کہ چہرے پر اطمینان کی لہر دوڑ گئی اور اُس کی گرفت بھی میرے جسم پر کمزور پڑنے لگی تھی-

بابا جب تمہیں کسی پر غصہ آتا ہے۔ تو تُم بھی معاف کر کے خوش ہوجاتے ہو۔۔۔؟
میں نے اُسکی جانب دیکھا اور سوچا یہ آج مجھ سے کیسے سوال کر رہی ہے۔ لگتا ہے جیسے میرا ٹیسٹ لیا جارہا ہو۔۔۔ حالانکہ میں جانتا ہوں وہ اکثر ایسے سوالات اپنی ماں سے بھی کرتی ہے۔ جس کے جوابات اُس سے نہیں بن پاتے اور وہ مجھ سے کہتی ہے کیا بچی ہے یہ ۔۔۔؟ لگتا ہے  جیسے ہر وقت سوالات کی پٹاری لئے گھومتی ہے۔۔۔ اُور میں ہمیشہ یہ کہہ کر ٹال دیتا تھا کہ بھئی اس کے نام کا عدد آٹھ ہے۔ بُہت اونچی پرواز ہوتی ہے ۔ بیگم صاحبہ عدد آٹھ والوں کے تخیّلات کی۔

بابا سوگئے کیا۔۔۔؟ میری بیٹی نے مجھے جھنجوڑتے ہوئے پوچھا۔ 
نہیں بیٹا جاگ رہا ہوں میں نے اُس کے سر میں انگلیاں گھوماتے ہوئے کہا۔

بابا آپ نے بتایا نہیں آپ بھی غصہ میں معاف کر دیتے ہونا؟
نہیں بیٹا میں اتنی جلدی معاف نہیں کرپاتا۔ کیونکہ میں بُہت گُنہگار انسان ہوں۔ خُود کو سمجھانے میں وقت لگ جاتا ہے۔۔۔ بابا آپ بھی معاف کردیا کریں نا۔ کہیں اللہ تعالیٰ ناراض ہوگیا تو یہ ستارے کہیں ہم پر گِر نہ جائیں۔۔۔ اُس نے معصومیت سے مجھ سے التجا کرتے ہُوئے کہا۔۔۔ ہاں بیٹا آئندہ کوشش کرونگا ۔ میرے اس جواب کے بعد اُس نے اطمینان سے آنکھیں موند لیں جیسے کوئی اہم پیغام یا امانت دیکر کوئی قاصد کوئی امانتدار کسی بوجھ کے فِکر سے آزاد ہوجاتا ہے۔

چند لمحوں میں ہی وہ میرے پہلو  میں خواب خرگوش کے مزے لوٹ رہی تھی۔ اور میری آنکھیں جو چند لمحوں قبل خمارِ نیند سے جُھکی جارہی تھیں۔ خلا میں ستاروں کو ایسے دیکھ رہیں تھیں گویا جیسے زندگی میں پہلی بار ستاروں کو دیکھا ہو۔

پھر مجھے اپنی جوانی کا وہ واقعہ یاد آیا جب میں ایک درویش کی کُٹیا میں اُس سے پوچھ رہا تھا کہ بابا خُدا کو پانے کا آسان طریقہ کیا ہے ۔۔۔؟ کیونکہ میں نے کتابوں میں پڑھا ہے ۔ کہ،،پہلے لوگ اپنی آدھی سے زیادہ زندگی اللہ عزوجل کو پانے کیلئے دُنیا سے کٹ جاتے تھے ۔جنگل نشین ہوجایا کرتے تھے خود پر دُنیا کی نعمتوں کے دروازے بند کرلیا کرتے تھے۔ تب اُس درویش نے مجھ سے مُخاطب ہو کر استفسار کیا ۔
 بیٹا خُدا کی چاہت جانتے ہُو۔۔۔؟
 اُور بِیٹا وہ کیا چیز ہے جو واقعی صرف تمہاری ہے۔۔۔۔۔؟

میں نے عرض کی حضور  کچھ نہیں جانتا۔ میں تو بالکل تہی دامن ہُوں۔ بس اتنا جانتا ہُوں۔کہ،، سب کچھ اللہ کریم کی امانت ہے ۔میرا تو کُچھ بھی نہیں یہ جان، یہ صحت، یہ مال، یہ عزت، سبھی پہ اللہ کا اختیار ہے میرا تو کچھ بھی نہیں۔

وہ مُسکراتے ہوئے فرمانے لگے ۔۔نہیں!  بیٹا تم نے جو کچھ کہا ٹھیک ہے۔ مگر ایک چیز ہے ۔۔۔۔جو صرف تُمہارے اختیار میں ہے۔ وہی قیمتی متاع ہے انسان کے پاس جس کی قربانی اللہُ سُبحانہُ تعالیٰ کو بےحد پسند ہے۔

میں عقل کے گھوڑے دوڑاتا رہا ۔۔۔تمام باتوں کو بار بار دماغ میں دُہراتا رہا۔۔۔ لیکن کچھ پلے نہیں پڑا۔۔۔ تب  بڑے ادب سے اُس درویش کے قدموں کو دباتے ہوئے عرض کرنے لگا ۔ کہ،، بابا میں بُہت کم فہم ہوں ان کتابوں کو میں پڑھ تو لیتا ہوں۔ لیکن شائد سمجھنے سے قاصر ہوں ۔ اِسلئےآپ ہی بتا دیجئے نا ۔کہ،، آخر وہ ایسی کیا چیز ہے۔ جسکی مجھے خبر نہیں اور اُسکی قربانی اللہ کریم کو بے حد پسند ہے

اُس درویش نے اپنے قدموں کو سمیٹا اور چار زانوں بیٹھ گئے میری جانب بڑے غور سے دیکھا اور ایک جذب کی کیفیت میں فرمانے لگے بیٹا جانتے ہو انسان اشرف المخلوقات کیوں ہے؟

میں نے ادب سے عرض کی حضور آپ ہی ارشاد فرمائیں ۔۔تب وہ درویش فرمانے لگے بیٹا اس لئے کہ اللہ کریم نے انسان کو عقل دی پرکھنے کیلئے، شعور دیا خیر اور شر کو سمجھنے کیلئے، پھر اپنا آئین دیا جس سے وہ اللہ کریم کی رضا اور ناراضگی کو جان سکے ۔۔۔لیکن اس انسان کو اللہ کریم نے پابند نہیں کیا بلکہ اِس انسان کو اختیار دیا  ہے۔کہ،، چاہے تو دُنیا کی زندگی میں خیر کا رستہ اپنائے چاہے تو شر کے راستے پر چلے۔۔۔ چاہے تو آخرت کی تیاری میں مشغول رہے چاہے تو دُنیا کی رنگینیوں میں خود کو گُما لے۔

بیٹا یہی اختیار، یہی چاہت، یہی خواہش انسان کی سب سے بڑی متاع ہے۔ تم نے مجھ سے پوچھا ہے کہ اللہ کریم کو پانے کا آسان طریقہ کیا ہے ۔۔تو بس اپنی یہی چاہت، اپنا اختیار، اپنی خواہش کو اللہ کریم کے سپرد کردے تجھے خُدا مل جائے گا تُجھے کبھی جنگلوں کا رُخ نہیں کرنا پڑے گا تُجھے کبھی صحراؤں کی خاک نہیں چھاننی پڑے گی تجھے خُدا کو ڈھونڈنے کیلئے پہاڑوں پر بھی جانے کی ضرورت پیش نہیں آئے گی کیونکہ وہ تو تیری شہہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہے ہاں البتہ یہ ہوسکتا ہے کہ جب تو خدا کو پالے تو تیرے اندر کی تپش اسقدر بڑھ جائے کہ تجھے انسانوں کی بھیڑ سے ڈر لگنے لگے یا تجھے لگے کہ تیرے وجود کی آتش اس بھیڑ سے سرد پڑنے لگی ہے تب جنگل، پہاڑ ، دریا سبھی تیرے منتظر ہونگے تو جہاں بھی ہوگا خدا سے بات کرلے گا-

بیٹا یہ آسان رستہ نہیں بلکہ بُہت کٹھن راہ ہے اس راہ پہ چلنا ہر ایک کے بس کی بات بھی نہیں، اس راہ پہ چلنے والوں کو اپنے نفس سے لڑنا پڑتا ہے اپنے من سے لڑنا پڑتا ہے، اپنی چاہت کو قربان کرنا بَچّوں کا کھیل نہیں پہلے سوچ لے تجھے اپنی ذات کے بُت کو مسمار کرنا پڑے گا، انا کے جام کو بہانا ہوگا، گالی بکنے والے سے خندہ پیشانی سے مِلنا پڑے گا تُہمت لگانے والے سے ہنس کر ملنا پڑے گا، مارنے والے کے سامنے دوسرا گال پیش کرنا پڑے گا، نرم بستر کو طلاق دینی پڑے گی، طرح طرح کے پکوانوں سے نظر موڑ کر سوکھی روٹی پر قناعت کی عادت ڈالنی ہوگی انسانوں سے مُحبت کرنی ہوگی صرف مُحبت۔

اپنے وجود میں موجود نفرت، غصے، حسد کے آتش کدے پر ندامت کا پانی ڈالنا ہوگا ۔جو کُچھ بھی تیرے پاس ہے۔ وہ سب خُدا کا ہی تو ہے۔۔ تو صرف اُسکا امین ہے۔۔۔ لہذا  جب تجھ سے واپسی کا تقاضہ ہو ۔تو یہ مت کہنا کہ میرا تھا، میں نے دِیا، بلکہ ہمیشہ یہی کہنا کہ،، جس کا تھا اُسی کو لوٹا دیا۔ مصیبت کے وقت واویلہ نہ کرنا۔ بلکہ صبر کرنا کہ وہ صابروں کو پسند کرتا ہے۔ ہر لمحہ اپنے عمل پر نظر رکھنی پڑے گی۔ اپنا احتساب کرنا پڑے گا ۔کہ،، تیرا عمل تیری مرضی کے مُطابق ہے۔ یا اللہ کریم کی مرضی کے مُطابق۔۔۔ تو وہ کر رہا ہے جو تیری چاہت ہے ۔یا وہ کر رہا ہے جو اللہ کریم کی چاہت ہے۔ کبھی تیری چاہت ہوگی کہ نرم وگرم بستر سے خود کو جُدا نہ کرے لیکن تبھی اللہ کی چاہت ہوگی کہ تو بستر کو چھوڑ کے اُس کی بارگاہ میں حاضر ہو، کبھی تیری چاہت ہوگی کہ تیرا مال تیری جیب میں رہے۔ اُس وقت ہوسکتا ہے اُس کی چاہت یہ ہو ۔کہ،،  تو وہ مال جو تو نے بڑی محنت سے کمایا ہے کسی دوسرے کی ضرورت پر خرچ کردے۔

کبھی تیری چاہت ہوگی ۔کہ،، سخت گرمی کے سبب ٹھنڈا پانی پئے یا اپنے پیٹ کی آگ بُجھانے کیلئے کچھ کھالے۔ لیکن اُس کی چاہت ہوگی کہ تو روزہ دار رہے۔۔۔ کبھی سخت سردی کے سبب تیری چاہت ہوگی کہ،، ٹھنڈا پانی تیرے جسم کو نہ چُھوئے تبھی اُس کی چاہت ہوگی کہ اُسی ٹھنڈے پانی سے سخت جاڑے میں تو  وضو کرے۔ کبھی تیری چاہت تجھ سے تقاضہ کرے گی کہ تنہا ئی میں نرم بسترپر جسم کی تھکان مِٹالے۔ تبھی ہُوسکتا ہے  اُسکی چاہت کا تقاضہ ہو۔ کہ،، کسی کے دُکھ میں شریک ہوجا اور کسی کے دُکھ درد کو بانٹنے کے لئے سفر اختیار کر۔۔۔ کبھی تیری چاہت ہوگی کہ سامنے والے کا مُنہ نوچ لے تبھی اُسکی چاہت ہوگی کہ تو اُسے سینے سے لگا لے۔۔۔کبھی نفسانی خواہشات تجھے اپنی جانب بُلائیں گی اُور تیرا من بھی چاہے گا۔ مگر اُس کی چاہت تقاضہ کرے گی میرے سِوا سب سے بےنیاز ہوجا۔۔۔ بیٹا اپنی چاہت ،اپنی مرضی، اپنی خواہش، کی قربانی ہی وہ راستہ ہے۔۔۔ جِس پر چل کر بندہ خُدا کو پالیتا ہے۔

اگر اپنی چاہت کو قربان کرنے کا حوصلہ ہے۔ تو اِس راہ پر ضرور قدم رکھ۔۔۔ وہ کسی کی کوشش کو ضائع نہیں کرتا۔۔۔ لیکن یہ بھی یاد رکھنا کہ معرفت کی منزل کو پانے کا سفر اسقدر دُشوار ہے کہ ہزاروں مسافر اس راہ پر چلتے ہیں۔ لیکن سفر شروع ہونے کے بعد اس کی تکالیف پر صبر چند ایک ہی کر پاتے ہیں۔۔۔ اور وہ بھی آدھی منزل ہی سر کرپاتے ہیں۔۔۔ منزل پر تو ایک دُو  ہی پہنچ پاتے ہیں۔ تو بھی کوشش کر دیکھ شائد تُجھے بھی منزل مل جائے۔ اگر تو نے دُنیا کی صعوبتوں پر صبر کو عادت بنالیا۔  اُور اپنی چاہت اُسکی چاہت پر قربان کردی ۔ تو ضرور خدا عزوجل کو پالے گا۔ مجھے اِس سے ذیادہ آسان راستہ کی خبر نہیں- بُول چلنا چاہے گا اِس راستہ پر درویش نے مسکراتے ہوئے میری جانب دیکھا تھا۔۔۔؟

میں اِنہی خیالات میں گُم تھا کہ میری بَچّی نے کسمسا کر دوبارہ میرے سینے پر ہاتھ رکھا میں نے چونک کر اُس کی جانب دیکھا تو وہ عالمِ نیند میں مُسکرا رہی تھی جیسے مُجھ سے سوال کر رہی ہو۔ کہ،، بابا کیا سوچا ہے آپ نے ۔۔۔؟چلیں گے اِس راہ پر اور میں نے زِیرِ لب بے اختیار کہا۔ کہ،، کوشش ضرور کرونگا اگر اللہ کریم کا فضل مجھ گُنہگار پر بھی ہُوا انشا ءَاللہ عزوجل ۔۔۔۔آج شاعر مشرق کا یہ شعر بھی رات کی تنہائی میں مجھے کُچھ سمجھانے کی کوشش کررہا ہے اور بُہت لُطف دے رہا ہے۔

خُدا کے بندے ہیں ہَزاروں بَنّوں میں پھرتے ہیں مارے مارے
میں اُسکا بندہ بَنُوں گا جس کو خُدا کے بندوں سے پیار ہوگا

جولائی۔۔۔ ۲۰۱۰

Friday, 26 September 2014

میں دُنیا کو بدل سکتا ھُوں۔

اسکول تقریر 


معزز  حاضرین، اساتذہ کرام،  اُور جناب صدر اَلسلامُ علیکم

خُودی کو کر بُلند اِتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے
خُدا بندے سے خُود پُوچھے بتا تیری رضا  کیاہے

جنابِ صدر میری آج کی تقریر کا موضوع ہے ،، میں دُنیا کو بدل سکتا ھُوں،،
جناب صدر  اگرچہ میری عمر کے لحاظ سے  میری تقریر کا یہ عنوان کہ،، میں دُنیا کو بدل سکتا ھُوں،، بُہت عجیب سا مِحسوس ہُورَہا ہُوگا۔ لیکن میں اپنی تقریر میں دلائل کیساتھ یہ  بات ثابت کرنے کی کوشش کرونگا۔ کہ جب کوئی انسان اپنی ذات میں  اللہ کریم کی مدد سےاچھے خصائل پیدا کرنے میں کامیاب ہُوجاتا ہے اُور دلجمعی کیساتھ اپنے اِرادوں کی تکمیل کیلئے ہر لمحہ کوشاں رِہتا ہے ۔ تو  وُہ دراصل دُنیا کیلئے ایک آئیڈیل کی صورت اختیار کرتا چلا جاتا ہے جسکی   پاکستان میں دُو مثالیں ماضی قریب میں ارفع کریم اُور حال ہی میں ملالہ یوسف زئی کی صورت میں موجود ہیں۔

جنابِ صدر ۔۔۔۔۔۔ اِس وقت دُنیا  کے ہر گوشے میں  ایک عجیب بے چینی کا راج مسلط ہے ۔ جسکی وجہ سے دُنیا  ظُلمت ، معاشرتی تفریق، اُور  بدحالی کا شکار ہُوتی چلی جارہی ہے۔  کچھ اقواموں نے  اگرچہ معاشرتی طور پر تو خُود کو مستحکم کرلیا ہے۔ لیکن  خُوشحالی کے ثمرات کو صرف خُود تک محدود رَکھے ہُوئے ہیں ۔ شائد یہی وجہ ہے ۔کہ معاشرتی ترقی کے باوجود بھی اُن میں سے اکثریت ایسی اقوام کی ہیں۔ جُنکے قُلوب رُوحانی خوشی سے خالی ہیں۔

جناب صدر ۔۔۔۔۔دُنیا میں تبدیلی کیلئے ہمیشہ انقلابات آتے رہے ہیں۔ اُور اِن انقلاب کے بعد یقیناّ  فلاحی ریاستوں کا تصور  بھی اُبھر کر سامنے آتا رَہا ہے۔ لیکن یہ بھی حقیققت ہے۔کہ اِن انقلابات کے بعد یہ تبدئلیاں انسانوں کی خُود غرضیوں  کی نذر ہُوتی رہی ہیں۔  اللہ کریم کی مشیت بھی یہی ہے کہ انسان  اللہ کریم کی معرفت حاصل کرکے  اپنی نیابت کے احساس کو ذِمہ داری سے پہچان کر ۔زمانے کے چیلنجز کا مقابلہ پامردی سے کرتا رہے۔ اُور لوگ ایک دوسرے کیلئے آسانیاں پیدا کرتے رہیں ۔

جناب صدر۔۔۔۔۔۔ دُنیا کو بدلنے کیلئے تین اشیاٗ کی اہمیت سے کوئی ذی شعور انکار نہیں کرسکتا۔ 
نمبر ۱ سچائی۔
نمبر ۲ انصاف
نمبر ۳ علم

جناب صدر دُنیا کی وُہ قومیں جنہوں نے اِن تین اُصولوں کی پاسداری کی ہے ۔ اُنکا مقام دُنیا کی دیگر اقوام میں ایسا ہی ہے۔ جیسا کہ  ایک بادشاہ کا مقام اپنی رعایا میں ہُوتا ہے۔۔۔۔ جناب والا۔۔۔۔  جیسا کہ ہر ذی شعور انسان جانتا ہے۔کہ دُنیا میں تبدئلیاں  لانے والوں لوگوں میں سب سے اُونچا مقام انبیاٗ کرام علیم السلام کا رَہا ہے ۔ اُور تمام انبئیا کرام علیم السلام ہمیشہ سچائی، انصاف، اُور علم کے سب سے بڑے علمبردار رہے ہیں۔ یہاں تک کہ  صرف  اُنکے اپنے ہی نہیں بلکہ اُنکے بدترین دُشمنوں کی زُبانوں پر برملا یہ جملہ آجاتا۔ کہ،، ہمیں آپکی صداقت ، دیانت، اُور علم پر کوئی شُبہ نہیں۔۔۔

جناب والا  سچائی انسان کو  صرف باہر سے ہی نہیں تراشتی بلکہ سچائی انسان کو اندر سے بھی بہادر بنادیتی ہے۔ اور یہ سچائی  کا ہی معجزہ ہے۔ کہ ایک نہ ایک دن یہی سچائی انسان کو ہر دُوسرے انسان کیلئے قابل تقلید کی راہ دِکھاتی ہے۔۔۔۔ اور جب معاشرے میں انصاف کا چلن عام ہُوجاتا ہے۔ تو ایک غریب گڈریا بھی اِس قدر طاقتور ہُوجاتا ہے۔ کہ وُہ اُس شخص کے بھی  کُرتے کا اِحتساب کرلیتا ہے جنکے نام سے رُومن امپائر تھرا جاتی ہے قیصر و کسری بھی جنکی ہیبت سے تھرتھراتے ہیں۔

اُور جناب والا یہ علم کی معراج ہے کہ نبیوں کے سالار، دُو جہاں کے تاجدار کی جانب پہلی وحی اِسی علم کے متعلق بھیجی جاتی ہے۔ اللہ کریم نے جہاں جہاں علم و حکمت میں غور و فکر کی دعوت دی ہے۔ تب تب اہل علم و دانش کو خاص طور پر مخاطب فرمایا ہے۔ اُور رسولِ کریم نے علم کی دعوت دیتے ہُوئے  اُسکی اہمیت اس طرح جتائی کہ،، علم حاصل کرو ماں کی گُود سے زندگی کی آخری شام تک۔۔۔۔ جبکہ دوسری جگہ اِرشاد فرمایا۔کہ علم حاصل کرو چاہے تمہیں چین ہی کیوں نہ جانا پڑے۔۔۔

جناب والا   اسلئے صرف میں ہی نہیں یہاں موجود  ہر ایک بچہ دُنیا کو علم کی رُوشنائی سے ظلمت کدوں سے نکال سکتا ہے۔  بس ہمیں   اسکے لئے علم کی شمع سے شمع جلاتے جانا ہے۔ سچائی اُور انصاف کے دامن کو اپنے ہاتھ سے جانے نہیں دینا ہے۔ اور اِس علم کے سفر میں صرف مردوں کی اجارہ داری قائم نہیں کرنی خواتین کو بھی شامل کرنا ہے ۔کیونکہ علم حاصل کرنا  صرف مَرد وں پر ہی فرض نہیں۔ ہر عورت پر بھی فرض  ہے ۔کیونکہ ہر مرد کی تربیت  بھی سب سے پہلے ایک عورت ہی کرتی ہے۔۔۔  شائد اِسی لئے نپولین بُونا پارٹ نے اپنی قُوم سے مُخاطب ہُوتے ہُوئے کہا تھا۔۔۔۔ کہ،، تُم مجھے پڑھی لکھی مائیں دُو۔ میں اسکے بدلے میں تمہیں ایک بہترین معاشرہ دُونگا۔۔۔۔

میرے ہاتھ میں قلم ہے میرے ذِہن میں اُجالا
مجھے کیا دَبا سکے گا ۔۔۔۔۔۔۔۔کوئی ظُلمتوں کا پالا   

Wednesday, 21 May 2014

تذکرہ جنات۔ محبت ،ہَوس اُور علاج ۔


اللہ کریم نے اپنی عبادت  کے واسطے انسان و جنات کو پیدا فرمایا: القران ۔اُور اپنے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم کا چرچا بُلند فرمانے کیلئے بَزم کائنات کو سجایا۔ (مفہوم : حدیث لولاک)جس طرح سیدنا آدم علیہ السلام کو ابو البشر کہا جاتا ہے۔کہ ،، آپ تمام انسانوں کے باپ ہیں۔ اِسی طرح شیطانِ لعین کو ابو الجن کہا جاتا ہے۔ جن کے لغوی معنی ہیں،، نظر نہ آنے والا،، جنات اُور فرشتوں کی ظاہری تخلیق اِنسانوں سے پہلے کی گئی۔ جسکا جواز یہ ہے کہ،، فرشتوں اُور شیطان کو سیدنا آدم علیہ السلام کو سجدہ کرنے کا حُکم مِلا ۔ تو معلوم ہُوا ۔کہ ،، فرشتے اُور جنات پہلے سے موجود تھے۔ اُور آدم علیہ السلام کی یعنی انسانوں کی تخلیق کا مرحلہ بعد میں پیش آیا۔بعض علما کرام کی روایت کیمطابق جنات کی پیدائش کا عمل سیدنا آدم صفی اللہ سے دُو ہزار برس قبل  پہلے وجود میں آیا۔۔۔ جبکہ سیدی اعلحضرت اِمام احمد رضا علیہ الرحمہ کی تحقیق کے مطابق اہرام مصر کو جنات نے سیدنا آدم علیہ السلام کی تخلیق سے قبل تعمیر کرلیا تھا۔ لیکن یہ بات بھی یاد رکھنے کے قابل ہے ۔کہ،، یہ سبقت صرف ظاہری جسم پر ہے۔ وگرنہ مسلمانوں کا اجماع اِس بات پر ہے۔ کہ ،، اللہ کریم نے سب سے پہلے اپنے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم کو تخلیق فرمایا۔  اُور سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی خاطر ہی  یہ بزمِ کائنات سجائی گئی ہے۔


قران مجید میں انسان کو مٹی سے اُور جنات کو آگ سے تخلیق کئے جانے کا تذکرہ مِلتا ہے۔ اُور صحیح مسلم شریف کی ایک حدیث کے مضمون کے مطابق حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ حضور پاک، صاحب لولاک ﷺ نے فرمایاکہ،، اللہ کریم نے فرشتوں کو نور سے، جنات کو آگ کے شعلہ سے اور سیدنا آدم علیہ السلام کو مٹی سے پیدا کیا گیا ہے۔ (صحیح مسلم )۔


چونکہ جنات کو اُنکی خواہش کیمطابق اللہ کریم نے انسانی آنکھوں سے مخفی رکھا ہے۔ اسلئے ہمیں جنات ظاہری آنکھوں سے نظر نہیں آتے۔ اِسکے علاوہ عُلماٗ کرام فرماتے ہیں۔کہ،، انسانی آنکھ کے اُوپر ایک ایسا پردہ ہمہ وقت تنا رِہتا ہے۔ جو انسانوں کی نِگاہوں سے دوسری مخلوقات کو پُوشیدہ رکھتا ہے۔ لیکن اگر یہ پردہ ہٹ جائے ۔ تو انسان جنات اُور دوسری مخلوقات کو اِنہی آنکھوں سے دیکھ سکتا ہے۔۔۔۔ چونکہ جنات ہم انسانوں کو نظر نہیں آتے۔ اسلئے بعض لُوگ جنات کے وجود کا انکار کردیتے ہیں۔ لیکن یاد رکھیئے۔کہ،، بطور مسلمان ہمارا جنات اُور اُن تمام مخلوقات پر ایمان لانا۔ جنکا تذکرہ قرانِ مجید میں یا اَحادیث طیبہ میں آیا ہے۔۔۔ ہمارے دین کا لازمی جزو ہے۔ اسلئے جب کوئی شخص جنات ،فرشتوں، حُوروں، جنت، یا دوزخ   میں کسی ایک بھی شئے کا اِنکار کرتا ہے۔ تو درحقیقت وُہ قران مجید کی آیات کا اِنکار کررہا ہُوتا ہے۔ جسکی وجہ سے  اُسکاایمان ضائع ہُوجاتا ہے۔ لِہذا بطور مسلم ہم پر لازم ہے کہ،، چاہے ہماری آنکھیں  اِن مخلوقات کا اِدراک نہ کرپائیں۔ یا  ہماری محدود عقل میں وُہ بات نہ سَما پائے۔ ہمیں ہر اُس بات پر ایمان لانا ہے۔ جسکا تذکرہ رَب فرمائے یا اُسکا مدنی محبوب صلی اللہ علیہ وسلم بتائے۔


اَحادیث طیبہ کی روشنی میں ہمیں معلوم ہُوتا ہے۔ کہ جب ایک انسان دُنیا میں پیدا ہُوتا ہے۔ تو اُسکے ساتھ (۹) جنات بھی دُنیا میں پیدا ہُوتے ہیں۔  جِس سے ایک بات صاف ظاہر ہے۔کہ،، جناتوں کو انسانوں کے مقابلے میں نو گُنا برتری حاصل ہے۔ لیکن اگر غور کیا جائے تو یہ تعداد (۹) گُنا سے کہیں ذیادہ ہُوگی۔۔۔ کیونکہ انسانوں کی اُوسط عُمر فی زمانہ ساٹھ برس ہے۔ جبکہ بعض جنات کی عُمر ہزار برس سے بھی تجاوز کرجاتی ہے۔ اسلئے جب انسان اپنی طبعی عُمر مکمل کرنے کے بعد انتقال کرجاتا ہے۔ تب بھی جنات کی نشو نما کا عمل جاری رِہتا ہے۔ جسکی وجہ سے اِنکی کثرت میں اضافہ ہُوتا رِہتا ہے۔

 نبی کریم روٗف  الرحیم صلی اللہ علیہ وسلم  کے ارشادات کی روشنی میں جنات کی خوراک میں ہڈی اور لید کے علاوہ جس کھانے پر بسم اللہ نہ پڑھی جائے۔ اُور  لوبیا (نامی سبزی)  بھی جنات کی غذائیں ہیں۔ اسلئے کریم آقا صلی اللہ علیہ وسلم نے ہڈی اُور لید سے استنجا کرنے کی  یہ کہہ کرممانعت فرمائی ہے۔ کہ،، یہ تُمہارے (جن) بھائیوں کی غذا کے ذرائع ہیں۔۔۔ مفہومِ حدیث

جنات کہاں بسیرا کرتے ہیں۔؟

امام جلال الدین السیوطی لکھتے ہیں کہ جنات اکثر و بیشتر نجاست کی جگہوں پر ہوتے ہیں مثلاً کھجوروں کا جھنڈ ، بیت الخلاء، کچرے کے ڈھیر اور غسل خانوں میں رہتے ہیں (شیطان جن) (لقط المرجان فی احکام الجان ، مساکن الجن، ص 68)۔ اس کے علاوہ جنات ٹیلوں ، وادیوں ، بلوں(سوراخوں ) ویرانوں میں ، اور انسانوں کے ساتھ اُنکے مکانوں میں بھی رہتے ہیں ۔ چکنائی والے کپڑے اور جھاڑیوں میں بھی  جنات رہتے ۔


انسانوں کی طرح جنات میں بھی مذاہب ہُوتے ہیں۔ فرقے ہُوتے ہیں۔اِن میں بھی محبت ، اُور نفرت کے جذبات پائے جاتے ہیں۔ حسد، رقابت، شہرت کی خاہش، جھوٹ اُور چغلی جیسے امراض  اِن میں بھی پائے جاتے ہیں۔۔۔ یہ آپس کی محبت و نفرت کے علاوہ اِنسانوں سے بھی بغض، محبت یا نفرت کرتے ہیں۔ عموماً مسلمانوں کی چھتوں پر مسلمان جن رہتے ہیں۔ جبکہ کُفار و بدمذہبوں کے گھر میں کافر و بد مذہب جنات رِہتے ہیں۔۔۔

لیکن اگر مسلمانون کے گھر میں فحاشی ہُو۔ یا اللہ کریم کا قطعی ذکر نہ کیا جائے ۔ تو یہ مسلمان جنات اُس گھر سے کُوچ کرجاتے ہیں۔ اُور اِنکے نہ ہُونے سے کافر جن اُن گھروں پر قبضہ جمالیتے ہیں۔ اُور اہل خانہ کیلئے پریشانی کا سبب بن جاتے ہیں۔ اِس بات سے یہ بھی معلوم ہُوتا ہے۔کہ مسلمان گھروں میں مسلمان جِنوں کی موجودگی فائدہ مند ہُوتی ہے۔کہ،، اِس طرح کم از کم شیاطین جنات اُن گھروں پر دھاوا نہیں بُولتے۔۔۔جسطرح انسانوں کو پریوں  کے تذکرےسے اُنسیت محسوس ہُوتی ہے۔ اِسی طرح جنات کو بھی بعض انسانوں سے خُوامخواہ کی محبت ہُوجاتی ہے۔ ۔۔ لیکن جسطرح انسانوں کو جنات کے تذکرے سےہی  ڈر محسوس ہُونے لگتا ہے۔ بالکل اِسی طرح جنات کو بھی انسانوں سے ڈر محسوس ہُوتا ہے۔ اِن کی حتی الامکان کوشش یہی ہُوتی ہے۔ کہ،، انسان اِنکی موجودگی کو محسوس نہ کرسکے۔۔۔۔ لیکن حد سے ذیادہ قربت کی وجہ سے انسانوں کی چھٹی حس اُنہیں اِنکی موجودگی سے با خبر کردیتی ہے۔۔۔

بعض مرتبہ یہ انسانوں کو اغوا بھی کرلیتے ہیں۔ کتب تواریخ ایسے ہزاروں واقعات سے بھری پڑی ہے۔۔۔ بعض اُوقات یہ انسانوں سے  جنسی تسکین حاصِل کرنے کیلئے فزیکل ریلیشن شپ قائم کرلیتے ہیں۔۔۔۔ لیکن میری ناقص معلومات کے مطابق اللہ کریم نے انسانون کو جنوں پر ایک فوقیت یہ بھی دِی ہے۔کہ،، جنات،،  انسانی عورت کو حاملہ نہیں کرسکتے۔ ورنہ آج دُنیا کا ایک الگ نقشہ سامنے ہُوتا۔ اُور ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں بچیاں کنوار پن کے باوجود ماں بن جاتیں۔۔۔ جبکہ انسانی مرد کا تعلق اگر کسی جنی سے قائم ہُوجائے تو وُہ جنی انسان سے ملنے کی وجہ سے حاملہ ہُوسکتی ہے۔۔۔ بعض اُوقات یہ جنات  انسانوں کو اُنکے بستروں سے اُٹھا کر اپنی دُنیا میں لیجاتے ہیں۔ اُور صبح نمودار ہُونے سے پیشتر اُنہیں اُنکے بستر پر چھوڑ جاتے ہیں۔۔۔ اغوا ہُونے والے مرد وں یا عورتوں میں سے بُہت کم تعداد کو رات کے مناظر ذہن میں یاد ہُوتے ہیں۔۔۔لیکن چُونکہ صبح اُنکی آنکھ اپنے بستر پر ہی کھلتی ہے۔۔۔ اِس لئے اُنہیں یقین ہی نہیں آتا کہ،، رات وُہ کسی اُور دُنیا میں موجود تھے۔ اسلئے وُہ اِس تمام واقعہ کو ایک خُوشنما خواب سے ذیادہ اہمیت نہیں دیتے۔۔۔ لیکن بار  بار  اِسطرح کے  خوابوں سے اُنکا بھانڈا پُھوٹنے کا خدشہ رِہتا ہے۔ اِس لئے اکثر لوگوں کے ذہن سے اِن تمام واقعات کو محو کردیا جاتا ہے۔

میں ایسے بُہت سے لوگوں کو جانتا ہُوں۔ کہ،، جنکے ساتھ جنات نے فزیکل ریلیشن قائم کر رکھا تھا۔۔۔ وُہ سبھی لُوگ میرے پاس روحانی علاج کیلئے تشریف لائے تھے۔ اُور تمام معاملے سے باخبر تھے۔۔۔ اِن میں مرد بھی تھے اُور خواتین بھی۔ سب کے ساتھ ایک مسئلہ،، کامن ،،تھا۔۔۔ کہ،، جنسی تعلق کی ذیادتی کی وجہ سے اب اُنکی پنڈلیوں اُور کمر میں شدید دَرد رہنے لگا تھا۔۔۔۔ اُور آپکو سُن کر شائد حیرت ہُو،، کہ اُن میں کچھ مَرد و خواتین ایسے بھی تھے۔ جو اِس تکلیف سے تو نجات حاصل کرنا چاہتے تھے۔ لیکن وُہ یہ نہیں چاہتے تھے۔ کہ،، وُہ جِن یا جنی اُنہیں چھوڑ کر چلی جائے۔۔۔ اُنکی خاہش تھی۔کہ،، آپ صرف اِس دَرد کا مداوا کردیں۔۔۔ لیکن ایسا کوئی رُوحانی علاج نہ کریں۔کہ،، جسکی وجہ سے وُہ جنات ہم سے خفا ہُوجائیں۔ جب میں نے اُن احباب سے اِسکی وجہ جاننے کی کوشش کی تو کچھ عجیب و غریب صورتحال سامنے آئی۔ کچھ لُوگوں کو اِس تمام معاملے میں لُطف محسوس ہُونے لگا تھا۔ کہ ،، جنات رُوپ بدل بدل کر اِنکی سفلی خواہشات کی تکمیل کا سبب  بن رہے تھے۔۔۔ جبکہ کچھ لُوگوں کو خزانوں، اُور دفینوں کا لالچ دِیا گیا تھا۔۔۔ جبکہ ایک خاتون نے مجھے یہ کہا۔کہ،، وُہ مجھے ایسی باتوں کا علم دیتا ہے۔۔۔ جسکی وجہ سے علاقے میں مجھے نمایاں اہمیت حاصل ہے۔۔۔

میں نے اُن لوگوں کو لاکھ سمجھایا کہ،، یہ مِلاپ آپکی زندگی کو تباہ کردے گا۔۔۔  آپکی ہڈیوں کا رس نِکال دے گا۔۔۔ اُور تمام جسم کو کھوکھلا  کردے گا۔کیونکہ جنات کا عنصر آگ ہے۔ جبکہ انسان ہَوا، پانی اُور مٹی کا مرکب ہے۔ اسلئے یہ مِلاپ کسی بھی طرح انسانوں کے حق میں بہتر نہیں ہے۔ اور شریعت مطہرہ میں بھی انسان اُور جنات کا نہ اِسطرح  مِلن جائز ہے۔۔۔ اُور نہ ہی نِکاح جائز ہے۔ لیکن اُن میں سے اکثریت نے میری بات نہیں مانی۔ اور جب اُن میں سے چند لوگوں نے ایک عرصہ بعد مجھ سے رابطہ کیا۔۔۔ تب تک بُہت دیر ہُوچکی تھی۔ اُور علاج کا وقت گُزر چکا تھا۔

یہ بھی ضروری نہیں ہے۔کہ تمام جنات انسانوں سے فزیکل ریلیشن شپ قائم کرنے کیلئے ہی محبت کرتے ہیں۔۔۔ اِن میں بعض نیک النفس بھی ہُوتے ہیں۔ جو کسی قسم کا جنسی تعلق تو قائم نہیں رکھتے۔۔۔ لیکن جس طرح ایک تنہا عورت اُور مرد کا تنہائی میں مِلنا بُرائی کا موجب ضرور ٹہرتا ہے۔۔۔ اِسی طرح یہ پاک محبت بھی ایک نہ ایک دِن ہُوس کا شکار ہُوکر رہتی ہے۔ نتیجتاً اُسکے بعد اِن خواتین و مرد حضرات کو بھی ایک نہ ایک دِن اُسی تکلیف کا سامنا کرنا پڑجاتا ہے۔

جنات کی اقسام
علامہ بدرالدین محمد دین احمد عینی بخاری شریف کی شہرہ آفاق شرح عمدة القاری میں جنات کی چند اقسام تحریر کرتے ہیں۔ (۱) غول: یہ سب سے خطرناک اور خبیث جن ہے جو کسی سے مانوس نہیں ہوتا ۔ جنگلات میں رہتا ہے مختلف شکلیں بدلتا رہتا ہے اور رات کے وقت دکھائی دیتا ہے اور تنہا سفر کرنے والے مسافر کو عموماً دکھائی دیتا ہے جو اسے اپنے جیسا انسان سمجھ بیٹھتا ہے، یہ اس مسافر کو راستے سے بھٹکاتا ہے ۔(۲)سعلاة: یہ بھی جنگلوں میں رہتا ہے جب کسی انسان کو دیکھتا ہے تو اس کے سامنے ناچنا شروع کردیتا ہے اور اس چوہے بلی کا کھیل کھیلتا ہے ۔ (۳) غدار: یہ مصر کے اطراف اور یمن میں بھی پایا جاتا ہے اسے دیکھتے ہی انسان بے ہوش ہو کر گر جاتاہے ۔ (۴) ولھان: یہ ویران سمندری جزیروں میں رہتا ہے اس کی شکل ایسی ہے جیسے انسان شتر مرغ پر سوار ہوتا ہے جو انسان جزیروں میں جا پڑتے ہیں انہیں کھا لیتا ہے۔ (۵) مشق: یہ انسان کے آدھے قد کے برابر ہوتا ہے ، دیکھنے والے اسے بن مانس سمجھتے ہیں ۔ سفر میں ظاہر ہوتا ہے ۔ (۶) بعض جنات انسانوں سے مانوس ہوتے ہیں اور انہیں تکلیف نہیں پہنچاتے ہیں ۔(۷) بعض جنات کنواری لڑکیوں کو اٹھالے جاتے ہیں۔ (۸) بعض کتے کی شکل کے ہوتے ہیں ۔ (۹) بعض چھپکلی کی شکل میں ہوتے ہیں۔ (عمدة القاری ، ج 10، ص 644/جنات کی حکایات ص 10)

جنات کی شکل
جنات کو اللہ عزوجل نے یہ ادراک دیا ہے کہ وہ انسانوں کو دیکھ سکے لیکن انسانوں کو یہ کمال نہیں ملا کہ وہ جنات کو دیکھ پائے ہاں جنات اگر کسی اور شکل میں ظاہر ہو تو پھر اسے دیکھا جاسکتا ہے ۔ امام شافعی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ جو عادل شخص یہ گمان کرے کہ اس نے جن کی دیکھا ہے (اصل شکل میں ) تو میں اس کی گواہی کو باطل قرار دیتا ہوں۔
علامہ بدرالدین شبلی حنفی رحمہ اللہ لکھتے ہیں کہ بلاشبہ جنات انسانوں اور جانوروں کی شکل اختیار کرلیتے ہیں چنانچہ وہ سانپوں ، بچھووں ، اونٹوں ، بیلوں ، گھوڑوں ، بکریوں ، خچروں ، گدھوں اور پرندوں کی شکلوں میں بدلتے رہتے ہیں۔ ( اکام المرجان فی احکام الجان،ص 21)
علامہ فخرالدین رازی رحمہ اللہ لکھتے ہیں کہ بلاشبہ جنات بھی انسانوں کی طرح شریعت کے مکلف ہیں۔ ۔تفسیر الکبیر، ج10، ص 625
اسی طرح علمائے کرم تحریر کرتے ہیں کہ جنات ہر چیز میں نبیﷺ کی شریعت کے مکلف ہیں۔ اخبار وآثار میں وارد ہے کہ مومنین جنات نماز پڑھتے ہیں ، روزے رکھتے ہیں، حج کرتے ہیں، تلاوت قرآن کرتے ہیں ، علوم دینیہ اور روایات حدیث انسانوں سے حاصل کرتے ہیں اگرچہ انسانوں کو اس کا پتہ نہ چلے۔
لیکن یہ تمام باتیں مسلم جنات میں پائی جاتی ہیں جس طرح انسانوں میں کفار موجود ہی اسی طرح جنات میں بھی کفار ہیں۔
اسی طرح اچھے اور برے جنات بھی ہوتے ہیں ۔ جن میں تلاوت کرنے والے جنات ، خوفِ خدا عزوجل کی وجہ سے جاں سے گزرنے والے جنات، تہجد گزارجنات، عمرہ ادائیگی ، کعبہ مشرفہ کا طواف وغیرہ کرنے والے نیک جنات  بھی ہوتے ہیں۔

بہت سے دوست احباب کے نزدیک جنات انسان پر قابض نہیں ہو سکتے ہیں ۔ علامہ محمود آلوسی لکھتے ہیں کہ بعض اجسام میں ایک بدبو داخل ہوتی ہے ۔ اور اس کے مناسب ایک خبیث روح اس پر قابو پالیتی ہے اور انسان پر مکمل جنون طاری ہو جاتا ہے۔ بسااوقات یہ بخارات انسان کے حواس پر غالب ہوکر حواس معطل کردیتے ہیں اور وہ خبیث روح انسان روح کے جسم پر تصرف کرتی ہے او اس کے اعضاءسے کلام کرتی ہے ۔ چیزوں کو پکڑتی ہے اور ڈوڑتی ہے حالانکہ اس شخص کو بالکل پتہ نہیں چلتا اور یہ بات عام مشاہدات سے ہے جس کا انکار کوئی ضدی شخص ہی کر سکتا ہے ۔ (روح المعانی ، ج ۳، ص 28)

امام اہل سنت کا فتویٰ

اعلیٰ حضرت ، امام اہل سنت مولانا احمد رضا خاں رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حاضرات( شریر جنات مختلف روپ میں آکر مسلمانوں کو ستاتے ہیں ۔ بلکہ بسااوقات تو انسانی جسم میں ظاہر ہو کر کسی بزرگ کے نام سے منسوب کرتے ہیں اور پھر لوگوں کے سوالات کے الٹے سیدھے جوابات دیتے ہیں ، بیماریوں کا علاج بتاتے ہیں وغیرہ ۔ اسی کو فی زمانہ حاضری کا نام دیا جاتا ہے ) کر کے موکلاں جن سے پوچھتے ہیں فلاں مقدمہ میں کیا ہوگا؟ فلاں کام کا انجام کیا ہوگا؟ یہ حرام ہے ۔ (تو اب جن غیب سے نرے جاہل ہیں ان سے آئندہ کی بات پوچھنی عقلاً حماقت اور شرعاً حرام اور ان (جنات) کی غیب دانی کا اعتقاد ہوتو کفر ۔ (فتاویٰ افریقہ ، ص 177)
کیا جنات انسان کو تکلیف دے سکتے ہیں؟

جنات انسان کو دو طرح سے تکلیف دے سکتے ہیں (۱) اس کے جسم سے باہر رہتے ہوئے (۲) اس کے جسم میں داخل ہو کر ۔
پہلی قسم کی مثال میں دو احادیث مبارکہ پیش خدمت ہے۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ شہنشاہِ مدینہ ﷺ ے روایت کرتے ہیں ”ابن آدم کو جو بچہ پیدا ہوتا ہے اس کی پیدائش کے وقت شیطان اس کو مس کرتا ہے (یعنی چھوتا ہے ) اور شیطان کے مس کرنے سے وہ بچہ چیخ مار کر روتا ہے ماسواءحضرت مریم رضی اللہ عنہا اور ا ن کے بیٹے کے (صحیح بخاری ، حدیث 3431، ج ۲، ص 453)۔حضرت ابو موسی رضی اللہ عنہ نبی ﷺ کا ارشاد نقل کرتے ہیں کہ میری امت طعن اور طاعون سے ہلاک ہوگی۔ عرض کی گئی کہ یا رسول اللہ ﷺ طعن کے بارے میں تو ہم نے جان لیا مگر یہ طاعون کیا ہے؟ ارشادر فرمایا: یہ تمہارے دشمن جنات کے نیزوں کی چھبن ہے اس کا مارا ہوا شہید ہے۔ (المسند امام احمد، حدیث 19545، ج ۷،ص 131)

دوسری قسم میں جنات کا انسان کے بدن میں داخل ہو نا بھی قرآن و احادیث سے ثابت ہے چنانچہ قرآن مجید میں ارشادہے ترجمہ: قیامت کے دن نہ کھڑے ہوں گے مگر جیسے کھڑا ہوتا ہے وہ جسے آسیب نے چھو کر مخبوط بنادیا ) پ ۳، البقرہ 275(۔ علامہ محمد بن انصاری قرطبی اس آیت مبارکہ کے تحت لکھتے ہیں یہ آیت اس شخص کے انکار کے فساد پر دلیل ہے جو یہ کہتا ہے کہ انسان کو پڑنے والا دورہ جن کی طرف سے نہیں اور گمان کرتا ہے کہ یہ طبیعتوں کا فعل ہے اور شیطان انسان کے نہ تو اندر چلتا ہے اور نہ چھوتا ہے ۔
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک عورت آقا ﷺ کے پاس اپنے بیٹے کو لائی اور عرض گزار ہوئی کہ یارسول اللہ ﷺ میرے بیٹے کو جنون ِ عارض ہوتا ہے اور یہ ہم کو تنگ کرتا ہے ۔ آپﷺ نے اس کے سینے پر ہاتھ پھیرا اور دعا کی ۔ اس کے قے کی اور اس کے پیٹ سے سیاہ کتے کے پلے کی طرح کو ئی چیز نکلی ۔ (مسند الدارمی ، حدیث 19، ج ۱، ص 24)

جنات کا انسانوں سے ڈر
حیران کن بات یہ ہے کہ جہاں انسان جنات سے ڈرتا ہے وہاں جنات بھی انسانوں سے ڈرتے ہیں ۔ حضرت مجاہد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جتنا تم (انسانوں) میں سے کوئی شیطان سے گھبراتا ہے اس سے بھی زیادہ وہ تم سے گھبراتا ہے لہذا جب وہ تمہارے سامنے آئے تو اس سے نہ گھبرایا کرو ورنہ تم پر سوار ہوجائے گا البتہ تم اس کے مقابلے کے لیے تیار ہوجایا کرو تو وہ بھاگ جائے گا۔ (لقط المرجان فی احکام الجان ، ص 138)

جنات کے شر سے بچنے کے طریقے
 (۱)اللہ تعالیٰ کی پناہ طلب کرنا (۲) تلاوت قرآن کریم (۳) ذکر اللہ عزوجل کی کثرت (۴) اذان دینا
(
۵) لاالہ الااللہ وحدہ لاشریک لہ لہ الملک ولہ الحمد وھو علی کل شیئٍ قدیر (سومرتبہ روزانہ)  (6) جنات اور جادو وغیرہ کے وظائف (۷ ) چکنائی والی چیزیں جلد دھو ڈالنا (۸) گھر میں لیمو رکھنا (۹) سفید مرغ رکھنا (۱۰) تعویزات کا استعمال (۱۱) سورہ البقرہ کی آیت نمبر ۱۶۳ تا ۱۶۴ کی تلاوت سے بھی شیطان جن بھاگ جاتے ہیں۔(۱۲) اَعُوذُ بِکَلِمَاتِ اﷲِ التَّامَّتِہ مِن غَضَبَہ وَ عِقَابِہ وَمِن شَرِّ عِبَادِہ وَ مِن ہَمَزَاتِ الشَّیَاطِینِ وَ اَن  یَّحضُرُونَ۔ (ابوداود و ترمذی)۔

اِنسانوں میں جِنات کے اثرات کی چند علامات۔۔۔

جسطرح جادو کے اثرات کی وجہ سے ناف کے قریب درد محسوس ہُوتا ہے۔ اِسی طرح جناتوں کے انسانی جسم پر اثرات کی وجہ سے انسانوں کو کئی پراپلم کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ جیسے مُسلسل سر درد ،  بغیر کام کئے بھی جسم میں تھکن کا اِحساس رِہنا۔۔۔ گندے خواب و خیال کی وجہ سے ذِہن کا پراگندہ رِہنا۔۔۔خواتین  کی پنڈلیوں ، کمر، اُور شانوں میں دَرد کی موجودگی۔ بالخصوص صبح جاگنے کے وقت اِس درد کا احساس خاص طور پر محسوس ہُوتا ہے۔ اسکے علاوہ کنواری بچیوں کے  جسم پر ایسے نشانات کا اُبھر آنا۔ جیسےکہ زچگی کے بعد شادی شُدہ خواتین کے جسم پر بن جاتے ہیں۔


الحمدُ للہ عزوجل جنات سے حفاظت  اُور  اِن کے اَثرات سے چھٹکارے کیلئے  عرصہ دراز پہلے  لیموں پر دَم کرنے کا ایک مجرب طریقہ دِل میں القاء ہُوا تھا۔ جسکی بدولت دُنیا بھر میں ایسے ہزاروں لُوگوں نے بھی خبینث شیطانی جنات  سےنجات حاصل کی ہے۔جنہیں بے شمار عامِلوں نے لاکھوں روپیہ ٹھگنے کے بعد  بھی جواب دیدیا تھا۔ اللہ کریم کے فضل و اِحسان سے آج وُہ تمام لوگ ایک نارمل زندگی گُزار رہے ہیں۔ تمام عاشقان مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم اُور محبین صحابہ کرام و اُولیائے کرام رحم اللہ اجمعین کو میری جانب سے اِس عمل کی اجازت ہے۔ جب آپ آزمائیں گے۔ تو آپ بھی اس عمل کی تاثیر و کمال دیکھ کر حیران رِہ جائیں گے۔۔۔ صرف بے ادب و گستاخ قسم کے لوگ اِس عمل سے کوئی فائدہ نہیں اُٹھاسکتے۔ اسلئے اِس قسم کے لوگوں کو زِحمت اُٹھانے کی چنداں ضرورت بھی نہیں ہے۔۔۔


لیموں پر دَم کرنے کا طریقہ۔ درج ذیل تصویر میں موجود ہے۔ مزید  مفت رہنمائی حاصل کرنے کیلئے آپ احسان وارثی بھائی سے  بھی رابطہ کرسکتے ہیں۔
03332969939موبائیل:


انشاءَاللہُ الکریم ۲ ماہ تک اِسی طریقہ سے دَم کرتے رہنے سے جنات کے اثرات سے نجات مِل جائے گی۔