bing

Your SEO optimized title page contents

Pages

Hamara Tube Channel

Showing posts with label شیخ صنعان اور ٹریسا کی کہانی. Show all posts
Showing posts with label شیخ صنعان اور ٹریسا کی کہانی. Show all posts

Saturday, 16 May 2015

عشق کے رنگ شیخ صنعان کے سنگ آخری قسط نمبر11



گُذشتہ سے پیوستہ

اچھا  پھر یہ بتاوٗ۔ اگر  تُم نہ شراب  پیتے ہُو۔ اُور نہ ہی خنزیر کا گُوشت کھاتے ہُو۔۔۔ تو ایک ایسی لڑکی سے کیوں شادی کرنا چاہتے ہُو۔ جو یہ دونوں  چیزیں حلال جانتی ہے۔۔۔۔ اُور میں ایک ایسے شخص کے ہاتھ میں اپنی بیٹی کا ہاتھ کیسے دے سکتا ہُوں ۔ جو ہمارے کھانے پینے کو حلال نہیں سمجھتا۔؟؟؟؟۔ اب یا تو تُم شراب و کباب میں ہمارا ساتھ دیکر ثابت کرو۔کہ،، تم ہمارے جیسے ہی ہُو۔ اُور ٹریسا کے قابل ہُو۔ یا پھر وعدہ خلافی کا اعتراف کرتے ہُوئے ہمیشہ کیلئے تبوک سے چلے جاوٗ۔۔۔۔  راہب نشے کی حالت میں چِلا چلا کر بُول رہا تھا جسکی وجہ سے تمام مہمان متوجہ ہُوکر بوڑھے راہب اور شیخ کے قریب سِمٹنے لگے تھے۔ اور اَب سب یہی نعرہ لگارہے تھے۔ کہ ثابت کرو یا واپس جاوٗ۔۔۔۔۔ شیخ صنعان کچھ لمحے تمام تماشائیوں کو دیکھتے رہے۔۔۔ اُور پھر اچانک خنزیر کے کباب نُوچ نُوچ کر اپنے حلق سے اُتارنے لگے۔ اتنے میں کسی شراتی  یہودی نے شیخ صنعان کے سامنے   شراب کا جام بھی پیش کردیا۔ اُور   شیخ صنعان نے بغیر کسی تاثر کے اُسے بھی اپنے حلق سے انڈیل لیا۔۔۔۔۔

اَب مزید پڑھیئے۔

شیخ محمود  اُور شیخ فرید اپنے مرشد کریم کی حالت دیکھ کر چیختے ہُوئے یہودیوں پر جھپٹ پڑے لیکن شیخ صنعان نے اُنہیں خبردار کرتے ہُوئے کہا کہ،،  مجھ پر یہودی کوئی جبر نہیں کررہے۔ جسکی وجہ سے تُم انہیں انتقام کا نشانہ بناسکو۔ بلکہ کیا تُم نے نہیں دیکھا کہ،، میں نے اپنی مرضی اُور اختیار سے  سب کچھ کھایا پیا ہے۔ لہذا اگر تمہارے دِل میں میری  تھوڑی سی بھی عزت باقی ہے۔ تو فوراً اِس محفل سے نکل جاوٗ۔

تھوڑی دیر بعد ہی  بوڑھےراہب کا ملازم یہ تمام واقعہ بلا کم و کاست ٹریسا کو سُنا رہا تھا۔۔۔ کیا  تُم نے اپنی آنکھوں سےشیخ صنعا ن کو شراب و کباب کھاتے دیکھا ہے۔ اُن کے چہرے پر تاثرات کیسے تھے۔ اور سب سے اہم بات یہ کہ،،  وُہ تو مسلمانوں کے مذہبی پیشوا ہیں ۔ پھر اپنے مذہب میں حرام  کردہ چیزوں کو کیسے کھا سکتے ہیں۔۔؟؟؟؟ ٹریسا نے تجسس سے کئی سوالات ایک ساتھ کرڈالے۔۔۔۔ جی خانم میں نے اپنی آنکھوں سے اُنہیں سب کچھ  تیار کرتے اُور کھاتے پیتے دیکھا ہے۔ البتہ اُنکی حالت دیکھ کر میں وثوق سے کہہ سکتا ہُوں۔کہ وُہ سب کچھ بڑی بےبسی اُور بیچارگی کی حالت میں صرف آپکو حاصل کرنے کیلئےکررہے ہیں۔ البتہ مجھے تو ایسا لگتا ہے جیسے وُہ آسیب زدہ ہُوں۔ نہ کوئی فالتو بات کرتے ہیں۔ نہ کوئی احتجاج۔ بس جیسے اُنہوں نے خُود  کو حالات کے سپرد کردیا ہُو۔ ملازم نے نہایت تاسف سے شیخ صنعان کی حالت زار پر تبصرہ کرتے ہُوئے کہا۔۔۔ یہ تبصرہ سُننے کے بعد ٹریسا کے دل میں آج شیخ صنعان کیلئے کچھ نئے جذبے پنپنے لگے تھے۔

اُس رات بوڑھے راہب کا خیال تھا کہ،، سُور کاٹنے اُور کباب بنانے کیلئے شیخ صنعان کبھی راضی نہ ہُونگے۔ لیکن جب شیخ صنعان اِس مرحلے سے بھی گُزر گئے۔ تو خلاف توقع راہب نے شراب و کباب کھانے کیلئے اصرار کرڈالا حالانکہ پہلے اُس کے دماغ میں ایسی کوئی بات سرے سے موجود ہی نہیں تھی۔ لیکن شیخ صنعان نے اُسکی یہ خاہش بھی پُوری کرکے گُویا جلتی پر تیل چھڑک دیا تھا۔ جسکی وجہ سے راہب نے شیخ صنعان کو نیا حُکم جاری کردیا کہ،، اب ہر ہفتے ایک سُور کاٹ کر ہمارے گھر پُہنچانا ہُوگا۔ اور ہمارے ساتھ تناول بھی کرنا ہُوگا شیخ صنعان نے یہ شرط بھی  بلا چُون چرا تسلیم کرلی تھی۔

جلد ہی یہ خبر تبوک  میں بہت سے لوگوں تک پُہنچ چکی تھی۔کہ اصفہان سے آنے والے عظیم شیخ نے اپنا مذہب ایک لڑکی کی خاطر بوڑھے یہودی راہب کے  ہاتھ فروخت کردیا ہے۔ اُور  ہر ہفتہ نا صرف شیخ اپنے ہاتھوں سے خنزیر کا گوشت بناتا ہے۔ بلکہ شراب و کباب  سے بھی شُغل کرنے لگا ہے۔ لوگوں کے دل سے شیخ صنعان کی عقیدت نکل کر نفرت کا رُوپ دَھار چکی تھی۔۔۔ اُور اِس تبدیلی  کا سہرا بہرحال  یہودی راہب کے سر جاتا تھا۔

شیخ فرید اُور شیخ محمود اپنے شیخ کی واپسی کے آج بھی تبوک میں منتظر تھے۔ لیکن اب تو لُوگوں کے سوالات سے عاجز آکر اُنہوں نے حجرے سے نکلنا بھی بند کردیا تھا۔ یہ  بھی بُہت غنیمت تھا ۔کہ،، اُنہیں رہنے کیلئے اِمام مسجد نے جو حجرہ دیا تھا ۔ وُہ ابھی تک خالی کرنے کیلئے کوئی اِشارہ تک نہیں دِیا تھا۔ بلکہ اِمام مسجد بھی دِل کی گہرائیوں سے چاہتے تھے ۔کہ شیخ باعزت طریقے سے لُوٹ آئیں۔ تاکہ مسلمانوں پر یہودیوں کو جو ہنسنے کا جواز میسر آگیا ہے۔ یہ سلسلہ ختم ہوجائے۔۔۔۔

رات آدھی سے ذیادہ بیت چُکی تھی۔ لیکن شیخ فرید غُم مُرشد میں نرم بستر پر اِس طرح کروٹیں بدل رہے تھے۔ جیسے دُونوں اطراف سے بُہت سے سانپ اُنہیں جکڑ لینے کی کوشش کررہے ہُوں۔۔۔۔ کیا بات ہے بھائی فرید میں بُہت دیر سے دیکھ رہا ہُوں کہ،، آج تم مرغِ بسمل کی طرح اذیت سے دُوچار ہُو؟؟؟۔۔۔ شیخ محمود نے بستر سے اُٹھ کر فرید کی پیشانی کو چُھوتے ہوئے استفسار کیا۔ شیخ فرید بھی محمود کی  قربت کو محسوس کرنے کے بعد بستر سے اُٹھ بیٹھے۔ اُور اچانک بلک بلک کر رُوتے ہُوئے کہنے لگے ۔ بھائی ہمارے مُرشد کریم کی عظمت و رِفعت کو کس کی نظروں نے گہنا کر رکھ دیا۔ وُہ  بدر کامل کی طرح پورے اصفہان کو جگمانے والے تھے۔ کس طرح خُود ظلمتوں کی وادی میں ڈُوب گئے؟؟؟۔۔۔۔ میرے بھائی فرید مجھے تو خُود اِس معاملے کی سمجھ نہیں آرہی ۔کہ جِن کی ایک نگاہ سے ولی پیدا  ہُوتے تھے۔ وُہ خُود کیسے دامِ فریب میں مُبتلا ہُوگئے۔۔۔۔۔ لیکن محمود بھائی مجھے کچھ کچھ سمجھ آرہا ہے۔ شیخ فرید نے کھوئے کھوئے لہجے میں سُوچتے ہُوئے کہا۔۔۔۔۔ کیا سمجھ آرہا ہے بھائی فرید مجھے بھی بتاوٗ ۔ خُدا کی قسم اگر میرے اختیار میں ہُوا۔ تو میں اپنے مُرشد کیلئے اپنی جان بھی نچھاور  کرنے کیلئے تیار ہُوں۔

محمود تمہیں یاد ہے حج کیلئے آنے والا وُہ قافلہ جو بغداد سے تبوک پُہنچا تھا۔ اُور امیر قافلہ نے جب شیخ بغداد  عبدالقادر الجیلانی  (رحمتہ اللہ علیہ)  کا یہ قول ہمارے مُرشد کے سامنے پیش کیا تھا کہ،، تمام اُولیا کی گردن ہمارے قدم تلے ہے،، جسکے جواب میں مرشد کریم نے کہا تھا۔ کہ میں تو خُود محبوبین میں سے ہُوں۔ اُور میری گردن ہر ایک ولی کے قدم سے آزاد ہے۔۔۔۔۔۔ ہاں ہاں فرید بھائی مجھے یاد ہے۔ اُس واقعہ کے بعد ہم میں بھی جُرات نہیں تھی۔کہ  مرشد کریم کے جلال کا سامنا کرسکیں۔شیخ محمود نے جواب دیتے ہُوئے کہا۔۔۔ پتہ نہیں کیوں لیکن محمود بھائی میرا دِل گواہی دیتا ہے۔ کہ،، ہمارے شیخ اُسی دِن سے بیمار پڑتے چلے گئے۔  میرے منہ میں خاک مگر یہی شیخ کا  کلمہ ہوسکتا ہے اُنکی رجعت کا باعث بن گیا ہُو۔ اِس لئے میں نے فیصلہ کیا ہے۔کہ،، میں کل ہی بغداد روانہ ہُوجاوٗں گا۔ اُور شیخ عبدالقادر جیلانی (رحمتہ اللہ علیہ) کی بارگاہ میں اپنے شیخ کی آسانی کیلئے سوال کروں گا۔۔۔۔پھر ٹھیک ہے میں بھی تمہارے ساتھ ہی چلوں گا۔ شیخ محمود نے فوراً جواب دیا۔۔۔۔ نہیں میرے بھائی یہاں مسلمان تک ہمارے شیخ کی جان کے دُشمن ہُوئے جاتے ہیں۔ ایسا غضب نہ کرو۔ بلکہ یہاں شیخ کی حفاظت کیلئے تُم ثابت قدم رَہو۔ اُور بغداد جانے کی ذمہ داری مجھ پر ڈال دُو۔

اگلی صبح بغداد  جانے والے ایک  شامی قافلہ کے ہمراہ شیخ فرید عازم سفر تھے۔۔۔۔ قافلےمیں  خُوش قسمتی سے شیخ فرید کی مُلاقات ایک کم گُو نوجوان رافع سے ہُوگئی ۔جو اتفاق سے سیدنا عبدالقادر جیلانی (رحمتہ اللہ علیہ)  کا عاشق و مُرید تھا۔ جب اُسے معلوم ہُوا کہ،، شیخ فرید خاص طور میرے  مُرشد کریم کی زیارت کیلئے تبوک جارہے ہیں۔ تو وُہ راستے شیخ فرید پر خاص مہربانی کرتا رَہا۔ اُس نے بتایا کہ شیخ عبدالقادر جیلانی (رحمتہ اللہ علیہ)  نے جب سے  سیادت اولیا کا اعلان فرمایا ہے۔ مشرق  و مغرب اُور شُمال تا جنوب سے اُولیائے کرام کی جماعتیں جُوق در جُوق   اپنی گردنیں   عملی طور پر آپکے قدموں تلے پیش کرنے آرہی ہیں۔سُنا ہے کسی ایک بدنصیب عارف کے علاوہ کائنات میں موجود ہر ایک ولی نے آپکی قیادت کو قبول کرکے خُود کو رجعت سے محفوظ کرلیا ہے۔ رافع کے اِس جملے  کو سُن کر شیخ فرید کے چہرے پر کئی رنگ آکر گُزر گئے۔۔۔ 

بغداد پُہنچ کر رافع جب سُورج ڈھلنے کے بعد شیخ فرید کو لیکر مدرسہ  قادریہ پُہنچا۔ تو   لوگوں کا  جم غفیر مدرسہ کے احاطے میں دیکھ کر حیران ہُو کر پوچھنے لگا۔ کیا یہاں آج کوئی جلسہ ہے۔؟؟؟ میرے بھائی صرف آج ہی نہیں یہاں روزانہ ایسا ہی لوگوں کا ہجوم جمع ہوتا ہے۔ اُور ابھی تو چوتھائی حصہ لوگ بھی نہیں پُہنچے ہیں۔ تھوڑی دیر میں ہی یہاں تِل دھرنے کو بھی جگہ باقی نہ رہے گی۔ یہاں صرف غُوث پاک (رحمتہ اللہ علیہ)  کے کلام کو  محفوظ کرنے والوں کی تعداد ہی ستر ہزار سے ذیادہ ہوجاتی ہے۔ جبکہ کئی ہزار لوگ وُہ ہُوتے ہیں ۔ جو روزانہ یہاں توبہ کی توفیق حاصل کرتے ہیں۔۔۔۔ اُور کئی  جوان و پیر ہر مجلس میں عشقِ الہی میں ایسے گُم ہُوجاتے ہیں ۔ کہ  ،، اپنی جان  جانِ آفرین کے سُپرد کرتے ہُوئے دُنیا سے ہمیشہ کیلئے ناطہ تُوڑ لیتے ہیں ۔
جُوں جُوں وقت گُزرتا گیا ۔رافع کے قُول کی تائید ہُوتی چلی گئی شیخ فرید نے جب کلامِ غوث الاعظم کی آبشار سُنی تو اُسے یُوں محسوس ہُونے لگا۔ جیسے وُہ غموں کے آزار سے نکل کر جنت کی سیر کو آنِکلا ہُو۔ آپ کے سادہ جملوں کی تاثیر بِلا شُبہ آب حیات سے بڑھ کر ۔ اُور آپکے چہرے کے گرد نُور کا ہالا چاند کو شرمانے اُور دِلوں کو مُوہ لینے کیلئے کافی تھا۔سُبحان اللہِ وبحمدہ ِ سُبحان اللہ العظیم۔

آپ کی آواز اتنی نرم و رَسیلی  تھی کہ"  جیسے کانوں میں رَس گھولتی ہُوئی  نس  نَس میں عشق ِ الہی  کی قندیل آویزاں ہو رہی ہُوں ۔ اُور  دل کے تمام دریچوں  میں تاثیر کے شگوفے پھوٹتے محسوس ہُونے لگے تھے۔ جس پر کمال یہ بھی کہ" اتنی دھیمی آواز بھی لاکھوں کے مجمے میں سب کو یکساں سُنائی دے۔ الفاظ اتنے دلکش و سادہ ہونے کے باوجود ذہن میں ایسے عجیب و غریب مفاہیم کو جنم دینے لگے ۔ جیسے سُننے والا لُوح محفوظ کا مطالعہ و مُشاہدہ کررہا ہو۔

شیخ فرید کی یُوں تو تمام زندگی ہی  ایک سیلانی  کی مانند اسفار میں گُزری تھی۔ آپ نے رُومی نقوش کی کاٹ بھی دیکھ رکھی تھی۔ اُورہند کے نمکین حُسن کو بھی  مُلاحظہ کیا تھا۔ فارس کے گلاب و زعفران کی آمیزش سے خد و خال کیساتھ ساتھ سُرخ و سپید ترُکوں کا بھی مُشاہدہ کیا تھا۔لیکن چہرہ ءِ غُوث الاعظم پر نگاہ پڑتے ہی خود بخود نگاہیں جھکا لینے کو جی چاہنے لگا۔کہ" مُبادا مسلسل دید بے اَدبی میں نہ شُمار ہوجاۓ۔ دل کی دھڑکنیں بیتابی سے صدا بلند کرنے لگی تھیں۔کہ" واقعی رَسول اللہ ﷺ کے خُون کی یہی شان ہے۔ کہ" اِنہیں اُولیاء اللہ کی سرداری سُونپی جاۓ۔ لاریب اِنہی حُسن و جمال کے پیکر کو سزاوار ہے یہ کہنا۔ کہ" میرا قدم ہر ایک ولی کی گردن پر ہے۔ اُور بیشک میں گواہی دیتا ہُوں کہ" آپ قدم ذیشان میری بھی گردن و پیشانی بلکہ چشم و  قلب  پر بھی ہے۔شیخ صنعان کی بس اب ایک ہی آرزو تھی کہ" بس کسی طرح نگاہِ غوث الاعظم اِس ادنیٰ فقیر پر پڑ جائیں۔ اور آپ اداۓ ناز سے فرمائیں۔ کہ" مانگ اے بھکاری کیا مانگتا ہے۔ اور میں اپنے من کی مُراد مانگ کر ہمیشہ کیلیۓ اَمر و سرخرو ہوجاؤں۔

رافع نے شیخ فرید کو پیشکش کی تھی کہ آپ میرے ساتھ میرے  گھر چل کر رہیں۔ لیکن شیخ فرید کا اصرار تھا۔کہ جب تک دِل کی مُراد پُوری نہ ہُوگی اِس آستاں سے ایک لمحے کیلئے بھی جُدا ہُونا گوارا نہیں۔ شیخ فرید نے مدرسہ غوث الاعظم میں مسقل ڈیرے ڈال لئے تھے۔ آپکا دن روزہ اور تلاوت میں گُزر جاتا۔ جبکہ رات وعظ کے بعد قیام الیل کیلیے وقف ہوچکی تھی۔ آپ کئی دن سے منتظمین مدرسہ سے اپنے لیۓ کوئی خدمت کا سوال کررہے تھے۔ لیکن ہمیشہ ایک ہی جواب سُننے کو ملتا کہ" مدرسہ کی تمام ذمہ داریاں ایک عرصے سے از خود لوگوں نے سنبھال رکھی ہیں۔ اُور اِن میں سے کوئی اس نعمت کے ایثار کیلئے تیار نہیں۔ ایک دن شیخ فرید کے اصرار پر رافع نے بھی بُہت کوشش کی لیکن کامیابی نصیب نہیں ہوئی۔ اِسی دوران کہیں سے آواز بُلند ہوئی کہ" کسی کو خاکروب کی بھی خبر ہے۔ وُہ کئی دن سے غیر حاضر ہے۔ جسکی وجہ سے طلبا کو بیت الخلا میں اذیت کا سامنا کرنا پڑرَہا ہے۔ یہ سُن کر شیخ فرید کی آنکھیں چمک اُٹھیں۔

شٰیخ فرید نے اَز خُود اپنے لئے  ایک کام تلاش کرلیا تھا۔ آپ فجر  سے قبل اُور عصر کی نماز کے بعد لباس تبدئل کرکے طلباٗ کے بیت الخلا کی صفائی کیلئے پُہنچ جاتے۔ اُور جب صفائی سُتھرائی سے فارغ ہُوجاتے تب غُسل  و لباس کی تبدئلی کے بعد دُوبارہ عبادت و تحصیل علم  میں سرگرداں ہُوجاتے۔ ایک دِن کافی حبس کے بعد اچانک موسم سُہانہ ہُوگیا۔ اُور عصر کی نماز کے بعد موسلادھار بارش برسنے لگی۔ یہ وہی وقت تھا۔ جب شیخ فرید غلاظت کا ٹوکرہ ،اپنے  ہاتھوں میں تھامے اُسے جنگل کے سُپرد کرنے جارہے تھے۔

بارش کی بوچھاڑ کی وجہ سے  کھجور  کے پَتوں سے بنی ٹوکری غلاظت کو خُود میں مقید رکھنے میں ناکام ہُوتی نظر آنے لگی۔ تو شیخ فرید کو خطرہ محسوس ہُونے لگا کہ،، کہیں ٹُوکری سے غلاظت بہہ کر  مدرسہ کے صحن کو آلودہ نہ کردے۔ یہ خیال آتے ہی شیخ محمود کے ذہن میں ایک تدبیر آئی ۔ اُور آپ نے ایک ہاتھ سے  ٹوکری کو سنبھالا جبکہ دُوسرے ہاتھ سے کاندھوں پر پڑی چادر  کو سمیٹ کر سَر پر رَکھنے کے بعد دُونوں ہاتھوں کی مدد سے غلاظت کی ٹوکری کو  اُس چادر پر رَکھ لیا۔ اَب گندگی بہہ بہہ کر سَر پر موجود چادر   و قمیص کو آلودہ کرنے لگی تھی۔ لیکن شیخ فرید  بُہت تیز چلتے ہُوئے مدرسے کی حُدود سے نِکلنے میں کامیاب ہُوچُکے تھے۔ آپ کو اُس وقت معلوم ہی نہیں ہُوسکا کہ،،  سُلطانُ اُولیا ، شاہ جیلانی، محبوب سُبحانی، پروازِ لامکانی ۔ (رحمتہ اللہ علیہ) اپنی نگاہِ کریمانہ  سے آپکی تمام کشمکش کو نہایت اشتیاق سے دیکھ کر تبسم فرمارہے ہیں۔

بوڑھا راہب شیخ صنعان کی مستقل مزاجی سے ایک  نفسیاتی مریض بَن چُکا تھا۔ اب اُسے ہر وقت بس یہی ایک  دھڑکالگا رہتا تھا۔کہ،، کہیں شیخ صنعان واقعی  اُسکی بیٹی کو اِس سے جُدا کرنے میں کامیاب تو نہیں ہُوجائے گا۔ اُور ویسے بھی اُسکے لئے یہ بات بھی کسی تکلیف سے کم نہ تھی۔کہ،، جُوں جُوں راہب کے صبر کا پیمانہ لبریز ہُونے لگا تھا۔ وُہ شیخ صنعان کیساتھ مزید سختی سے پیش آنے لگا تھا۔ لیکن چند دِن سے وُہ محسوس کررہا تھا۔ کہ ٹریسا دبے دَبے لفظوں میں شیخ صنعان کی حمایت میں بُولنے لگی تھی۔ ۔۔ جسکی وجہ سے شیخ صنعان نے آج ایک جُوا کھیلنے کا اِرادہ کیا تھا۔ اُور نجانے کیوں  ہزار اندیشوں کے باوجود بھی اُسے لگتا تھا کہ،، یہ بازی ہر گز شیخ صنعان نہیں جیت پائے گا۔

تھوڑی دیر بعد جب بوڑھے راہب کے ایما پر شیخ صنعان کمرے میں نظریں جھکائے داخل ہُوئے ۔ اُنہیں دیکھ کر ایسا لگ رَہا تھا۔ جیسے کسی مریض نے مُدتوں سے کھانا پینا چھوڑ دیا ہُو۔ نقاہت کی وجہ سے چہرے کی آب و تاب بھی ماند پڑچُکی تھی۔ لیکن وُہ آج بھی ہمیشہ کی طرح بغیر کسی سہارے کے ایسے کھڑے تھے۔ جیسے کوئی بُوڑھا برگد کا پیڑ ہَزاروں ٹہنیوں کا بُوجھ خُود پر لادے جھکنے کیلئے تیار نہ ہُو۔۔۔ راہب نے شیخ کے چہرے پر نگاہیں جماتے ہُوئے گفتگو کا آغاز کیا۔ شیخ صنعان میں آج تُم سے  حتمی اُور آخری بازی کھیلنے جارہا ہُوں۔ جس میں جیت کسی ایک کا مُقدر ٹہرے گی۔ جبکہ دوسرے کے مقدر میں دائمی ہار ہُوگی۔ لیکن اِس بازی میں   میری طرف سے کوئی جبر نہیں ہے ۔ اگر تُم  یہ کھیل نہ کھیلنا چاہو۔ تو میری طرف سے تُمہیں مکمل چُھوٹ حاصل ہے۔کہ،، تُم خاموشی سے واپس لُوٹ جاوٗ۔ اُور اِس تمام  واقعہ اور ٹریسا کی محبت کو ڈراوٗنا خواب سمجھ کر بھولنے کی کُوشش کرنا۔

راہب  کیاتُم  نہیں جانتے ۔کہ،، ٹریسا کی محبت میرے لئے کوئی کھیل نہیں ہے۔ اُور اُسے چھوڑنا یا بھولنا بھی میرے اختیار میں نہیں ہے۔ میں تمہارے تمام ستم صرف ٹریسا کی وجہ سے برداشت کررہا ہُوں۔ اُور میں نے تُمہاری تمام جائز اُور ناجائز شرائط کو بنا کسی حیل و حجت کے پُورا کیا ہے۔ میری تو یہی استدعا  ہے۔کہ اَب تم  بھی ٹریسا سے میری لازوال محبت کے جذبے کی قدر کرتے ہُوئے جبر کی راہ سے باز آجاوٗ۔ اُور ٹریسا کا ہاتھ مجھےاِس یقین کیساتھ سُونپ دُو۔ کہ دُنیا میں مجھ سے ذیادہ ٹریسا کو کوئی محبت نہیں دے پائے گا۔۔ شیخ صنعان نے راہب کو جواب دیتے ہُوئے پُراُمید نگاہوں سے دیکھا۔

ٹھیک ہے ابھی معلوم ہُوجائے گا۔ کہ،، تمہاری باتوں میں کتنی صداقت ہے۔ اُور تُم ٹریسا کیلئے واقعی کیا کچھ کر سکتے ہُو۔۔۔ بس ایک آخری امتحان اُور باقی ہے۔ اُور وُہ امتحان یہ ہے کہ،، میں چاہتا ہُوں۔کہ،، اگر واقعی تُمہیں ٹریسا دنیا کی ہر شئے سے بڑھ کر عزیز ہے تو یہ کتاب کھول کر دیکھو اُور پھر ٹریسا کی خاطر اِس کتاب کے ورق ورق کو پھاڑ کر جلتے ہُوئے آتشدان کی نذر کردو۔ میں وعدہ کرتا ہُوں کہ اِس امتحان  میں کامیابی کے بعد میں تمہارے اُور ٹریسا کے راستے کی دیوار نہیں بنونگا۔ یہ کہتے ہُوئے بُوڑھے راہب نے ایک کتاب شیخ صنعان کی جانب بڑھادی۔۔۔۔ شیخ صنعان نے جب کتاب  کو کھول کر دیکھا تو اُنکی پیشانی پسینے کے قطرات سے شرابور ہُونے لگی۔ کیوں کہ راہب نے جو کتاب اُسکے ہاتھ میں تھمائی تھی۔ وُہ قران مجید تھی۔۔۔۔۔۔ بُوڑھے راہب  نے شیخ  کے چہرے پر تغیر کے رنگ دیکھ لئے تھے۔ اُور وُہ دِل ہی دِل میں اپنی فتح کا جشن منانے لگا تھا۔ دوسری طرف آہستہ آہستہ شیخ صنعان خود کو سمجھانے میں مصروف تھے۔ کہ،، آج کسی بھی طرح ہار میرا مقدر نہیں ہُوگی۔ چاہے مجھے کوئی بھی قیمت ادا کرنی پڑجائے۔


حُضور سیدنا غُوث اعظم (رحمتہ اللہ علیہ) نے شیخ فرید کو دیکھ کر  فوراً ایک نشست کا اِرادہ ظاہر فرمایا تھا۔ جسکی وجہ سے  مدرسے میں چہار جانب اعلانات ہورہے تھے۔کہ سُلطانُ اُولیا ئے جن و انس  (رحمتہ اللہ علیہ) بیان فرمائیں گے۔ اسلئے سب جلد از جلد  مدرسے میں پُہنچ جائیں۔شیخ فرید بھی اعلان سُن کر فوراً حمام سے غُسل کرآئے تھے۔ اُور ایک پاکیزہ پُوشاک زیب تن کئے محفل میں  آگےموجود تھے۔۔۔ کچھ لمحوں بعد شاہِ بغداد(رحمتہ اللہ علیہ)  تشریف لے آئے آپ کے چہرے پر  آج بھی وہی نوری ہالہ موجود تھا ۔لیکن آج آپکے چہرہ مبارک پر تشویش کے رنگ بھی نُمایاں تھے۔۔۔۔ یکایک آپ کے لبہائے ناز نے جُنبش فرمائی ۔ اُور شیخ فرید کی سماعت سے یہ الفاظ ٹکرائے۔۔۔۔ آج  کی یہ نشست بہت اہمیت کی حامل ہے۔کیونکہ ہم دیکھ رہے ہیں کہ،، کِسی کا پیر ،، جو کل تک محبوبین کے مقام پر فائز تھا۔ہماری بے ادبی کے سبب آج کافر ہُونے جارہا ہے۔!!!

شیخ فرید  ایک ہی لمحے میں جملے  میں چھپے پیغام  کا  بخوبی اِدراک حاصل کرچُکے تھے۔ اُور خُوب اچھی طرح جان چُکے تھے۔ کہ شیخ صنعان کا ایمان خطرات کے طوفان میں بالکل اُسی طرح ہچکولے لے رَہا ہے۔۔۔ جیسے طلاطم خیز موجوں میں  کوئی  کشتی بغیر ملاح  کے ڈولنے لگتی ہے۔۔۔۔شیخ فرید نے مُلتمس نگاہوں سے سیدنا غُوث پاک کی جانب دیکھا،، تو آپ (رحمتہ اللہ علیہ) شیخ فرید کی جانب  ہی متوجہ کرم تھے۔ شیخ فرید نے موقع غنیمت جان کر عرض کیا،، حضور آپ سب جانتے ہیں میرے دِل کا حال،، آپکو آپکی آلِ پاک کا واسطہ، اُور واسطہ اُس عزت و کرامت کے تاج کا، جسے رَبِّ کریم نے آپ کے سر پر سجایا ہے۔ حضور اُنہیں معافی عطا کردیں۔۔۔ ورنہ اُن کیساتھ ہزاروں  راہِ حق کے مسافر بھی ہلاک ہُوجائیں گے۔۔۔۔ نجانے شیخ فرید کی التجاوٗں میں کیسا درد پنہاں تھا۔ کہ،، یکا یک دریائے غوثیت ماب میں  جُوش پیدا ہُوا۔ اُور حضور سیدنا غُوث الاعظم (رحمتہ اللہ علیہ) نے قریب رکھے آفتابے سے ایک چِلو پانی لیکر ہَوا میں یہ کہتے ہُوئے اُچھال دیا۔۔۔ ہُوش میں آجاوٗ شیخ کہ،، غفلت کا وقت ایک عاشق مُرید کے سبب  اپنے اختتام کو پُہنچتا ہے۔


وہاں بغداد میں جس وقت شیخ فرید جناب غُوث الاعظم میں فریاد پیش کررہے تھے۔ عین اُسی وقت تبوک میں شیخ صنعان قران مجید کو جلانے کیلئے خُود کو تیار کرچُکے تھے۔ اچانک اُن کے چہرے پر پانی کی چھینٹیں پڑی۔۔۔۔ غفلت کے پردے اُتر گئے۔۔۔ اُور اُنہیں بغداد میں جہاں ایک طرف شیخ فرید التجا کرتے ہُوئے دِکھائی دیئے ۔ تو دوسری جانب حضور غُوثِ الاعظم (رحمتہ اللہ علیہ)  کی بے پناہ سخاوت،  عفو و درگزر سے مُزین ہستی شیخ فرید کی التجا کو قبولیت کا شرف عطا کرتے دِکھائی دی۔۔۔۔ ظلمتوں کی دبیز تہہ رُوح  کو آزاد کرچُکی تھی۔  جا بجا روشنی کے مینار شیخ صنعان کو مبارکباد پیش کررہے تھے۔۔۔۔ جبکہ شیخ صنعان (رحمتہ اللہ علیہ) شرمندگی سے بار بار قران مجید کے بُوسے لے رہے تھے۔

شیخ صنعان کے بدلتے تیور دیکھ کر راہب نے پھبتی کسی،، شیخ کیا پھر اِرادہ بدل گیا ہے؟؟؟۔۔ شیخ صنعان (رحمتہ اللہ علیہ) نے نہایت متانت سے جواب دیا۔۔۔۔ نہیں  بس سَراب   اُور منزل کا فرق معلوم ہُوگیا ہے۔ سُنو راہب!!! میں  تُم سے ہار کر بھی جیت گیا ہُوں۔۔۔ جبکہ تُم مجھ سے بظاہر جیت کر بھی یہ بازی ہار چُکے ہُو۔ اتنا کہہ کر شیخ صنعان مُڑے ہی تھے کہ،، دیوار کی آڑ سے ٹریسا نکل آئی اور شیخ صنعان سے استفسار کرنے لگی۔۔۔ شیخ جاتے جاتے یہ بھی بتادیجئے ۔کہ،، اِس تمام کھیل میں میرا کیا قصور تھا۔ آپ کہاں جارہے ہیں۔ اُور مجھے یہاں کس کیلئے چھوڑے جاتے ہیں؟؟؟

سُنو ٹریسا!!! میں اپنے دعوے سے تائب ہُوچکا ہُوں۔۔۔ بُہت دقت سے غفلت کی نیند سے جاگا ہُوں۔ مجھے اِس غفلت کی نیند سے جگانے والا میرا آقا بغداد میں میرا منتظر ہے ۔ سُو شرف غلامی کی سعادت و سَند حاصل کرنے کیلئے سُوئے بغداد جارہا ہُوں۔۔۔شیخ صنعان یہ کہتے ہُوئے دروازے کی جانب بڑھے۔ تبھی ٹریسا نے  بُوڑھے راہب کو مخاطب کرتے ہُوئے آخری جملے کہے ،، بابا آپ واقعی یہ شرط ہار چُکے ہیں۔ اب چونکہ شیخ نے یہ بازی جیت لی ہے اسلئے میں بھی ہمیشہ ہمیشہ کیلئے شیخ کیساتھ جارہی ہُوں۔ اب یہ بغداد رہیں یا اصفہان۔۔۔ جہاں جہاں شیخ صنعان کے قدم پُہنچیں گے اِنکی باندی بھی اِنکے ساتھ موجود رہے گی۔ 
ختم شُد۔۔۔۔

اللہ کریم کی بارگاہ میں دعا ہے کہ،، یہ کہانی لکھتے ہُوئے نادانستگی میں کوئی گستاخی یا بے ادبی کا ارتکاب ہُوگیا ہُو ۔۔۔ اِس عاجز و گنہگار کو معافی عطا کردی جائے۔۔آمیں بجاہِ النبی الامین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم۔

Friday, 22 March 2013

عشق کے رنگ شیخ صنعان قسط ۱۰



سابقہ پیراگراف۔

شیخ صنعان کے جاتے ہی ٹریسا ،،جو کہ،، دروازے کی اُوٹ سے اپنے باپ اُور  شیخ صنعان کی تمام گفتگو بڑے تحمل سے سُن رہی تھی نِکل آئی۔ اُور شکایتاً کہنے لگی۔ بابا کیا آپ نے مجھے واقعی اِس  بوڑھے شیخ کو سُونپنے کا اِرادہ کرلیاہے۔۔۔؟؟؟ نہیں میری لخت جگر ایسا ہر گز نہیں ہے۔ بلکہ یہ ہماری پہلی کامیابی ہے ۔کہ،، میں نے  کتنی آسانی سے اِس بِلا کو  یہاں سے ہٹا کر جنگل میں پہنچانے کا انتظام کردیا ہے۔ مجھے قوی اُمید ہے۔کہ،،  بُوڑھا شیخ جلد ہی جنگل میں درندوں کا شکار بن جائے گا۔ یا جب اُسے معلوم ہُوگا کہ،، میں جن مویشیوں کا تذکرہ کررہا تھا ۔ وُہ خنزیر ہیں۔ تب بھی  وُہ ہار مان لے گا۔ کیونکہ مسلمان خنزیر سے اتنی ہی نفرت کرتے ہیں جتنی مجھے اِس شیخ سے ہے۔ بوڑھا یہودی قہقہ لگاتے ہُوئے سُونے کیلئے اپنے کمرے کی جانب چل دیا۔ جبکہ ٹریسا سُوچنے پر مجبور ہُوگئی۔ کہ،، ہائے یہ عشق بھی کیا بَلا ہے۔ کسی عمر کا بھی لحاظ کرتی ہے نہ کسی کے مرتبے کا۔ لیکن کیا واقعی شیخ صنعان مجھے حاصل کرنے کیلئے خنزیروں کو چَرانے کی ذمہ داری قبول کرلیگا۔یا اپنے عشق سے دستبردار ہُوجائے گا؟؟؟؟


اب مزید پڑھیئے۔

گُذشتہ  ۱۰ دِن سے شیخ فرید اور شیخ محمود نے تبوک کا چپہ چپہ چھان مارا تھا۔ لیکن شیخ صنعان کو تلاش کرنے میں ناکام رہے تھے۔ تھک ہار کر شیخ محمود نے اندیشہ ظاہر کیا تھا۔ کہ،، ہو نا ہُو ۔ شیخ صنعان کی گمشدگی میں بوڑھے راہب کا ہاتھ محسوس ہُوتا ہے۔ ہوسکتا ہے کہ بوڑھے راہب نے اپنی عزت بچانے کیلئے شیخ صنعان کو قتل کروا کر اُنکی لاش کو ٹھکانے لگا دیا ہُو۔۔۔۔ شیخ محمود نے شیخ فرید کی موجودگی میں جب  اِمام ِ مسجد کے سامنےاپنے اندیشے کا اظہار کیا تو اِمامِ صاحب نے اِس مفروضے کو رَد کرتے ہُوئے جواب دیا۔ بوڑھا راہب اگرچہ مسلمانوں سے کینہ رکھتا ہے۔ لیکن وُہ ایک بُزدل شخص ہے۔ کسی بھی صورت میں اقدام قتل کا مِرتکب نہیں ہُوسکتا۔ البتہ یہ ممکن ہے کہ بُوڑھے راہب نے کوئی سازشی چال چل کر شیخ صنعان کو قید کرلیا ہُو۔ لیکن وُہ ایک چالاک شخص ہے۔ اِس لئے مجھے نہیں لگتا کہ،، اُس نے شیخ صنعان کو اپنے گھر میں چھپایا ہُوگا۔ اگر تُم لُوگ شیخ صنعان کو تلاش کرنا چاہتے ہُو۔ تو اِس کا ایک ہی طریقہ ہے کہ،، بوڑھے راہب کی تمام حرکات و سکنات پر نگاہ رکھو۔ اللہ چاہے گا۔ تو بوڑھے راہب کی کوئی نہ کوئی غلطی ہمیں ضرور شیخ صنعان سے مِلوا دے گی۔۔۔۔۔۔۔ کافی بحث و اعتراضات کے بعد بلاآخر فرید و محمود کے پاس اِمام صاحب کی تجویز پر عمل کرنے کے سِوا کوئی راستہ  باقی نہ رَہا۔

شیخ محمود و شیخ فرید کو باری باری بوڑھے راہب پر نگاہ رکھتے ہُوئے آج تیسرا دِن نمودار ہُوچکا تھا۔ فجر کی نماز کے بعد دونوں چہل قدمی کرتے ہُوئے بازار سے گھر کی جانب جارہے تھے۔ کیونکہ بوڑھا راہب عموماً   خُوب سورج چڑھنے کے بعد ہی گھر سے نمودار ہوتا تھا۔  اچانک شیخ محمود نے کن انکھیوں سے  فرید کو شاہراہ کی بائیں جانب دیکھنے کا اِشارہ کیا۔ شیخ فرید نے نگاہیں گھما کر دیکھا تو اُسے بھی حیرت کا جھٹکہ لگا۔کہ،،  خلافِ معمول بوڑھا راہب اپنے گھوڑے پر سوار شہر کی شمالی سمت میں خراماں خراماں چلا جارہا ہے۔ جبکہ اُسکا مُلازم بھی گھوڑے کے پیچھے پیچھے دوڑنے کے سے انداز میں چل رہا تھا۔ جبکہ گھوڑے کی فتراک سے اشیائے خُورد  و نوش بھی چھلک رہا تھا۔ گھوڑے کی رفتار اسقدر دھیمی تھی کہ،،  شیخ فرید  اُور شیخ محمود نے  فوراً فیصلہ کرڈالا  کہ،، ہم  مناسب فاصلہ رکھ کر بُوڑھے راہب کا پیچھا کرسکتے ہیں۔

تقریباً تین کوس کا فاصلہ کرنے کے بعد بوڑھا راہب بھی گھوڑے سے نیچے اُتر آیا تھا۔ اُور ایک تنگ سی پگڈنڈی کے ذریعے سے جنگل میں داخل ہُورہا تھا۔ شیخ فرید اُور شیخ محمود نے مزید فاصلہ رکھ کر تعاقب جاری رکھا۔ اُور تھوڑی ہی دیر بعد شیخ فرید کی بھنچی بھیچی آواز نکلی۔  محمود  اُس  ٹیلے کی طرف دیکھو جہاں کوئی چرواہا  مویشیوں کیساتھ موجود ہے۔ اُور مجھے نجانے کیوں ایسا محسوس ہُورہا ہے۔کہ،، وُہ ہمارے مُرشد کریم ہی ہیں۔۔۔   ہاں بھائی فرید لگ تو مجھے بھی یہی رَہا ہے۔ اللہ کا شُکر ہے کہ،، ہمارے شیخ صحیح سلامت ہماری آنکھوں کے سامنے موجود ہیں۔  ۔۔۔ البتہ  مجھے یہ مویشی پالتو خنزیروں کے مُشابہ دِکھائی دے رہے ہیں۔ اور مزید کچھ فاصلہ طے کرنے کے بعد  شیخ محمود کا شک یقین میں بدل چُکا تھا۔ وُہ واقعی  پالتو خنزیروں  کا ہی رِیوڑ تھا۔ جنہیں اصفہان کا عظیم صُوفی بُزرگ چَرارہا تھا۔۔۔۔

کچھ لمحوں بعد بوڑھا راہب ٹیلے کے کافی قریب پُہنچ چکا تھا۔ اُور جب شیخ صنعان کی نگاہ  بوڑھے راہب  پر پڑی تو وُہ بھی مویشیوں کو ہانکتے ہُوئے ٹیلے سے نیچے درختوں کے جھنڈ میں چلے آئے۔ شیخ فرید اُور شیخ محمود نے فیصلہ کیا ۔کہ،، ہمیں فی الحال بُوڑھے راہب کے سامنے ظاہر نہیں ہُونا چاہیئے۔ بلکہ یہ دیکھنا چاہیئے کہ وُہ ہمارے شیخ کیساتھ کیسا سلوک کرتا ہے۔ اُور اگر وُہ کوئی غیر اخلاقی حرکت کئے بغیر واپس لُوٹ جاتا ہے۔ تب ہم اپنے شیخ سے مُلاقات کریں گے۔ البتہ ہم شیخ سے اتنا قریب ضرور رہیں گے۔ کہ،، کہ اپنے شیخ اُور راہب کی گفتگو سُن سکیں۔

ہاں  معزز شیخ سُناوٗ کیسا وقت گُزر رہا ہے یہاں میرے مویشیوں کیساتھ؟؟؟ اور کوئی پریشانی، یا اُکتاہٹ محسوس ہُو برملا بتا دینا۔ میں اپنے وعدے پر قائم ہُوں تمہیں خاموشی سے تبوک سے نِکل جانے میں مدد کروں گا۔ بوڑھے راہب نے بظاہر اپنے لہجے کو ہمدردانہ بناتے ہُوئے شیخ کو پیشکش کی۔۔۔۔۔۔۔ نہیں مجھے یہاں کوئی پریشانی نہیں ہے۔ یہاں کے درندوں سے بھی  میری شناسائی ہُوگئی ہے۔ وُہ بھی  اِن خنزیروں کو سنبھالنے میں میری مدد کرتے ہیں۔ بس تُم اپنا  وعدہ یاد رکھنا۔کہ،، میری استقامت کے عوض تمہیں ٹریسا کو میری زُوجیت میں دینا ہے۔ اُور ہاں اپنے مویشی خُوب اچھی طرح دیکھ لُو۔ یہ پہلے میں مُقابلے میں فربہی کی جانب مائل ہیں۔

بوڑھے رَاہب کا خیال تھا کہ،، جنگل کی تنہائی اُور دَدندوں کی موجودگی کے باعث شیخ  بہت ذیادہ خُوفزدہ ہُوگا۔لیکن شیخ کے مطمئن لہجے نے اُس کے اَرمانوں پر اُوس ڈال دی تھی۔ جسکی وجہ سے اُسکا بناوٹی لہجہ یکلخت  بدل گیا۔  ہاں ہاں دیکھیں گے۔ ابھی میری مزید شرائط   بھی باقی ہیں۔ جنہیں تُم نے پُورا کرنا ہےراہب نےجھلاہٹ  بھرے لہجے میں جواب دیکر اپنے مُلازم کو فتراک سے سامان نکال کر شیخ کے حوالے کرنے  اُور واپس چلنےکا حکم جاری کردیا۔ گھوڑے پر سُوار ہُونے کے بعد بوڑھے راہب کو جیسے کچھ یاد آگیا تھا۔ لہذااُس نے گھوڑے کو شیخ کے نذدیک لا کر نیا حکم جاری کیا۔ سُنو  آنے والی سنیچر کو میرے گھر پر ایک دعوت کا اہتمام ہے۔ جس میں مذہبی رسومات بھی ادا کی جائیں گی۔ لہذا میرا حکم ہے کہ،، سنیچر کو تُم ۲ خنزیر کاٹ کر شہر چلے آنا اُور اُنکے لذیز کباب تیار کرکے میرے مہمانوں کی تواضع کرنا۔ لیکن خیال رکھنا کہ شہر میں  اندھیرا ہونے کے بعد ہی داخل ہُونا اُور صبح ہُونے سے قبل واپس  جنگل  کو لُوٹ آنا۔ اُس رات  خنزیروں کی نگرانی کیلئے  میں اپنا مُلازم یہاں بھیج دُونگا۔

بُوڑھے راہب کے  واپس جاتے ہی شیخ فرید اُور شیخ محمود سسکتے ہُوئے شیخ صنعان کے سامنے ظاہر ہُوئے اُور بلک بِلک کر اپنے شیخ کے قدموں سے لِپٹ کر رُونے لگے۔۔۔۔۔کتنے ہی لمحے گُزر گئے لیکن   فرید و محمود کی ہچکیاں تھمنے کا نام نہیں لے رہی تھیں۔۔۔۔ شیخ صنعان نے دُونوں کے بالوں میں گنگھی کرتے ہُوئے  اُنہیں حُکم دیا۔ کہ   وُہ دونوں  اب خاموش ہُو کر بیٹھ جائیں۔ کیونکہ وقت  مجرم ضائع کرتے ہیں محرم نہیں۔۔۔۔ حضور ہم سے آپکی یہ حالت دیکھی نہیں جارہی۔ بھلا کس نے سُوچا  ہُوگا کہ،، اصفہان کا عظیم تاج ایک دِن تبوک کے جنگل میں گُمنام ہُوجائے گا۔۔۔حضور اب ہم آپ کو لئے بغیر واپس نہیں جائیں گےوگرنہ ہمیں بھی اپنے ساتھ رہنے کی اجازت دیں۔۔۔شیخ فرید نے نہایت دلگیر لہجے میں فریاد کرتے ہُوئے عرض کی۔

میرے بچوں مجھے معاف کرنا۔ میں تمہاری دونوں ہی خاہش پوری کرنے سے قاصر ہُوں۔ میں نے  یقیناً ایک مرتبہ پہلے بھی اپنی حدود سے  تجاوز  کیا اُور نجانے کُونسے وعدے کو پس پشت ڈال کر خُود کو مبتلائے بلا کیا۔ اب پھر دوبارہ وعدہ خلافی کا عذاب برداشت نہیں کرپاوٗں گا۔نہ میں ٹریسا کو حاصل کئے بغیر پلٹ سکتا ہُوں اور نہ ہی اپنی مصیبت میں تُم کو شامل کرسکتا ہُوں۔ کہ یہ صریح وعدہ خلافی ہُوگی۔ جو کام مجھے سُونپا گیا ہے۔ وُہ مجھے ہی بھوگنے دُو۔ اُور واپس لُوٹ جاوٗ اگر اپنے گھر نہیں جانا چاہتے تو کم از کم اِس جنگل میں مجھے تنہا چھوڑ دو۔۔۔۔۔ شیخ کی گفتگو سُن کر وُہ دونوں پھر بلک بِلک کر رُونے لگے۔۔۔۔ جسکے جواب میں شیخ صنعان نے اُنہیں سمجھاتے ہُوئے کہا۔کہ،، دیکھو تُہارے  اِس طرح رُونے سے میں مزید کمزور پڑجاوٗنگا۔ مجھے ابھی ایسی اُور بُہت سی آزمائشوں سے گُزرنا ہے۔۔۔۔ البتہ میں نے یہودی سے ایسا کوئی وعدہ نہیں کیا کہ،، کوئی مجھ سے ملاقات کرنے کیلئے جنگل نہیں آسکتا۔ لہذا چاہو تو ہفتے میں ایکبار  ملاقات کیلئے چلے آنا۔

شیخ  فرید اُور شیخ محمود  نے ہزار جتن کئے کہ،، شیخ صنعان اِنہیں خُود سے جُدا نہ کریں لیکن شیخ صنعان  کسی صورت راضی نہیں ہوئے۔ جسکی وجہ سے اِنہیں مجبوراً  تبوک واپس لُوٹ کر آنا پڑا۔ ۔۔۔۔سنیچر کے دِن  دُونوں نے باہمی رضامندی سے اس بات پر اتفاق کیا کہ،، کسی نہ کسی بہانے سے  بوڑھے راہب کی دعوت میں شریک ہُوکر شیخ صنعان کی زیارت کا موقعہ حاصل کرنا چاہیئے۔  اور یہ موقعہ انہیں راہب کے ملازم نے خاصی بڑی رقم اینٹھ کر فراہم کردیا۔ یہ دعوت  کسی یہودی کےکھجور کے باغ میں منعقد کی گئی ۔ جہاں پر محمود اُور فرید دیہاتیوں کے رُوپ میں برتنوں کی دُھلائی اُور صفائی پر مامور کئے گئے تھے۔۔۔۔ ایک جانب شیخ صنعان  تمام لوگوں سے بے پرواہ  بڑے انہماک سے خنزیر کے گوشت سے کباب تیار کرنے میں مصروف تھے۔ تو دوسری جانب شیخ محمود و فرید بڑی مشکل سے اپنی آنکھوں میں آنسو  ضبط کئے ہُوئے تھے۔۔۔

دعوت جس وقت اپنے عروج پر تھی۔ لُوگ شراب اُور کباب سے لُطف اندوز ہُورہے تھے۔ بوڑھے راہب نے شیخ صنعان کو کباب کی ایک پلیٹ لانے کا حُکم دیا۔ شیخ صنعان خاموشی سے خنزیر کے پلیٹ لیکر راہب کے پاس پُہنچ گئے۔ لیکن اگلے ہی لمحے بوڑھے راہب  نے خُکم دیا کہ،، تمام لُوگ  شراب و کباب کے مزے لے رہے ہیں ۔لیکن  شیخ میں دیکھ رہا ہُوں۔ کہ تُم نے ابھی تک کچھ نہیں کھایا۔ اس لئے میرے سامنے اس پلیٹ سے کباب اُٹھا کر کھاوٗ۔ اُور جام بھی نُوش کرو۔یہ فرمائش سُن کر  شیخ صنعان پریشان نظر آنے لگے۔ لیکن اگلے ہی لمحے سنبھل کر کہنے لگے،، آپ جانتے ہیں کہ،، مسلمان شراب اُور خنزیر نہیں کھاتے پیتے۔۔۔۔

اچھا  پھر یہ بتاوٗ۔ اگر  تُم نہ شراب  پیتے ہُو۔ اُور نہ ہی خنزیر کا گُوشت کھاتے ہُو۔۔۔ تو ایک ایسی لڑکی سے کیوں شادی کرنا چاہتے ہُو۔ جو یہ دونوں  چیزیں حلال جانتی ہے۔۔۔۔ اُور میں ایک ایسے شخص کے ہاتھ میں اپنی بیٹی کا ہاتھ کیسے دے سکتا ہُوں ۔ جو ہمارے کھانے پینے کو حلال نہیں سمجھتا۔؟؟؟؟۔ اب یا تو تُم شراب و کباب میں ہمارا ساتھ دیکر ثابت کرو۔کہ،، تم ہمارے جیسے ہی ہُو۔ اُور ٹریسا کے قابل ہُو۔ یا پھر وعدہ خلافی کا اعتراف کرتے ہُوئے ہمیشہ کیلئے تبوک سے چلے جاوٗ۔۔۔۔  راہب نشے کی حالت میں چِلا چلا کر بُول رہا تھا جسکی وجہ سے تمام مہمان متوجہ ہُوکر بوڑھے راہب اور شیخ کے قریب سِمٹنے لگے تھے۔ اور اَب سب یہی نعرہ لگارہے تھے۔ کہ ثابت کرو یا واپس جاوٗ۔۔۔۔۔ شیخ صنعان کچھ لمحے تمام تماشائیوں کو دیکھتے رہے۔۔۔ اُور پھر اچانک خنزیر کے کباب نُوچ نُوچ کر اپنے حلق سے اُتارنے لگے۔ اتنے میں کسی شراتی  یہودی نے شیخ صنعان کے سامنے   شراب کا جام بھی پیش کردیا۔ اُور   شیخ صنعان نے بغیر کسی تاثر کے اُسے بھی اپنے حلق سے انڈیل لیا۔۔۔۔۔

جاری ہے۔

Tuesday, 19 March 2013

عشق کے رنگ شیخ صنعان ۹



یہودی گھر واپس آیا تو اپنے گھر کے سامنے   شیخ صنعان کے گرد لڑکوں کی بھیڑ دیکھ کر رُکا۔ لیکن جب نوجوان نے باآواز بُلند پھبتیاں کسنا شروع کردیں تو یہودی یہ سُوچ کر گھر میں داخل ہُوگیا۔۔۔۔ کہ،، جلد ہی شیخ نوجوانوں کی شرارت کے باعث یہاں سے چلا جائے گا۔۔۔ وگرنہ شہر کے قاضی کی مدد سے اِس مصیبت سے جان چُھڑالُوں گا۔۔۔۔ اِتفاقاً اُسی وقت قافلے سے چند لُوگ شیخ صنعان سے قافلے کے کُوچ کی بابت معلوم کرنے کیلئے شہر میں آئے تھے۔ اُنہوں نے جب اپنے شیخ کی یہ حالت دیکھی۔ تو قافلے میں واپس پُہنچ کر دُوسروں تک بھی یہ بات پُہنچا دی۔ جِسکے سبب تمام قافلے میں چہ میگویوں کا بازار گرم ہُوگیا۔ اُور لُوگ شیخ صنعان کی حرکت سے بدظن ہُوکر آپس میں ایک دُوسرے سے مشورے کرنے لگے۔

اَب مَزید پڑھیئے۔
شیخ صنعان کو ٹریسا کے گھر کے سامنے ڈیرہ جمائے  کئی دِن گُزر چُکے تھے۔ محلے کے منچلوں نے بھی رفتہ رفتہ شیخ صنعان کی خاموشی اُور بے توجہی کے سبب  اُسے ستانا چھوڑ دیا تھا۔  شیخ صنعان  کے ہمراہ بیت المقدس کو جانے والے مُریدین  بھی  دھیرے دھیرے شیخ صنعان کو چھوڑ کر جا چُکے تھے۔ اُن میں سے صرف چند ہی لُوگوں نے بیت المقدس کے سفر کو جاری رکھا باقی اکثریت  یہ کہہ کر اپنے وطن کو لُوٹ چُکی تھی۔ کہ ،، جب رَاہنما ہی گُمراہ  ہُوگیا تو نشان منزل بھلا کُون بتائے گا۔ صرف شیخ محمود ، اُور شیخ فرید تنہا اِس آس پر تبوک  میں  موجود تھے۔ کہ،، جلد  یا بدیر کوئی کرشمہ نمودار ہُوگا۔ اُور شیخ واپس اپنی اصل حالت میں لُوٹ آئیں گے۔

    بظاہر تمام معملات پُرسکون دِکھائی دے رہے تھے۔ البتہ ٹریسا کا بُوڑھا باپ اِن تمام حالات سے اندر ہی اندر کُڑھے جارہا تھا۔ وُہ اِس ناگہانی مصیبت سے نمٹنے کیلئے کسی ایسی تدبیر کی تلاش میں تھا۔کہ،، جس سے سانپ بھی مَرجائے اُور عزت کی بیساکھی بھی برقرار رہے۔ گُزشتہ شب اِسی سُوچ و بچار کے دُوران اُسکے ذہن میں ایک شیطانی منصوبے نے جنم لیا تھا۔ جِسے عملی جامہ پہنانے کیلئے اُسے آج شیخ صنعان سے گفتگو کرنی تھی۔۔۔۔۔ بُوڑھے یہودی نے ایک مُلازم کے ذریعے سے شیخ صنعان کو خفیہ پیغام بھیجا تھا۔ کہ،، میں ٹریسا کے معاملے میں تُم سے رات  تنہائی میں کچھ باتیں کرنا چاہتا ہُوں۔۔۔

شیخ صنعان کو جب سے بُوڑھے یہودی کی جانب سے مُلاقات کا پیغام مُوصول ہُوا تھا۔ اُسے  یقین ہُوچلا تھا کہ قُدرت  بلاآخر اُس پر مہربان ہُوچکی ہے۔ اُور بوڑھا یہودی اُسکی استقامت اُور سچی طلب کا قائل ہُوچکا ہے۔ اُور شائد اب وُہ ٹریسا کا ہاتھ اِسکے ہاتھ میں دینے کیلئے ذہنی طُور پر تیار ہُوچُکا ہے۔۔۔۔  رات ڈھلتے ہی بُوڑھے  یہودی کا ملازم گھر سے نمودار ہُوا۔ اُور گلی کا جائزہ لینے کے بعد شیخ صنعان کا بازُو پکڑے عجلت میں دُوبارہ گھر میں داخل ہُوگیا۔ مہمان خانے میں بُوڑھا یہودی شیخ صنعان کا منتظر تھا۔  شیخ پر نگاہ پڑتے ہی بوڑھے یہودی نے سپاٹ لہجے میں اُسے اپنے سامنے والی نشست پر بیٹھنے کی دعوت دی۔ کافی لمحے بیت گئے لیکن کمرے میں ایسی خاموشی  طاری تھی۔جیسے یہاں کوئی موجود ہی نہ ہُو۔ شیخ صنعان نظریں جھکائے یہودی کے کلام کا منتظر تھا۔۔۔۔۔۔۔۔ 

آخر کار یہودی نے گفتگو کا آغاز کرتے ہُوئے شیخ کو مُخاطب کیا۔ سُنا ہے اصفہان سے  لیکر  جزیرہ  ٗعرب تک آپکے ہزاروں یا شائد لاکھوں پیروکار مُوجود ہیں۔ جو آپکو اپنا مذہبی اُور رُوحانی  پیشوا مانتے ہیں؟؟؟۔۔۔۔ ہاں کبھی ایسا  تھا۔۔۔۔ لیکن اب ایسا  مُعاملہ نہیں ہے۔ اُور نہ ہی مجھے اِس بات کی کوئی خاہش ہے کہ،، میری پیروی کی جائے۔ شیخ صنعان نے مختصر جواب دیتے ہُوئے کہا۔

آپ کیا چاہتے ہیں۔ یا آپ کس رتبے کی حامل شخصیت ہیں۔ اگرچہ براہِ راست مجھے بھی اِس بات سے کوئی خاص دلچسپی نہیں ہے۔ لیکن آپ نے اتنا گیان  و مرتبہ حاصل کرنے کے بعد بھی مجھ غریب کو  جس طرح سے تمام تبوک میں تماشہ بنا کر رکھ دِیا ہے۔  یہ بات ضرور میرے لئے انتہائی تکلیف کا باعث ہے۔میں  ایک جوان بیٹی کا باپ ہُوں  اُور  میں نہیں چاہتا کہ،، میری بیٹی کا نام ایک غیر مذہب کے  بوڑھے شخص کیساتھ جُوڑا جائے۔  یااُسے  میری بیٹی کے عاشق کے طور پر پہچانا جائے۔ اگر آپکو اپنی عزت کا خیال نہیں ہے۔ تو اِسکا ہر گز یہ مطلب نہیں ہے۔کہ،، آپ دُوسروں کی عزت کو سرعام نیلام کریں۔۔۔۔

میں ٹریسا کو بدنام کرنے سے قبل موت کو ترجیح دُونگا۔ رَہا سوال عِلم و فضیلیت کا تو یقین جانیئے اگر میں   صرف نکاح کی خاہش کا اظہار ہی کردیتا تو فارس سے عرب تک کے سردار ، و، سرمایہ کار اپنی بچیوں کے رشتے دینے میں ایک دوسرے پر ضرور سبقت لیجانے کی کوشش کرتے ۔لیکن میرے دِل میں کبھی اِسطرح  گھر بسانے کا خیال ہی نہیں آیا۔ پہلے میرا خیال تھا کہ،، زندگی اتنی مختصر ہے۔ کہ،، بیک وقت  عاشق ۲ معشوقوں کی محبت کا متحمل نہیں ہُوسکتا۔ لیکن ٹریسا کو دیکھنے کے بعد نہ جانے کیوں میرا خُود پر کوئی اختیار نہیں رَہا۔  حالانکہ میں نے دُنیا میں ایک سے بڑھ کر ایک حسین چہرہ دیکھا ہے۔ لیکن کوئی نقش میرے وجود کی پاکیزگی میں ہلچل برپا نہیں کرسکا۔ ۔۔۔ اسلئے میرے مہربان مجھ پر طنز و تشنیع کے تیر برسانے کے بجائے میری تکلیف کو سمجھنے کی کوشش کرو۔۔۔۔ یقیناً ٹریسا کو  نہایت خوبرو نوجوان جیون ساتھی میسر آسکتا ہے۔ جو اُسے بہت ذیادہ چاہے۔۔۔ لیکن میں ٹریسا کے خیال سے کسی بھی صورت دستبردار نہیں ہونگا۔ اگر آپ نے ٹریسا کا ہاتھ مجھے تھمادیا  تو میں تمام زندگی آپکا مشکور رَہوں گا۔ اُور اگر آپ نے مجھے دھتکار دِیا تب بھی میں زندگی کی آخری سانس تک ٹریسا  کو پانے کی جستجو کرتا رَہوں گا۔۔۔۔ گفتگو کرتے ہُوئے شیخ صنعا ن کی آواز بَھَّرانے لگی تھی۔

میں ایک ایسے بے وطن شخص پر جِسے نہ میں  جانتا ہُوں ۔ جو  نہ ہی  میرا ہم مذہب ہُو۔ میں  اُس پرکسطرح بھروسہ کرسکتا ہُوں۔ کہ،، وہ میری پھول جیسی بچی کیساتھ وفا کرے گا۔  یہ بھی تو ہوسکتا ہے کہ،،  تُم فی الوقت سفلی جذبات  کے گرداب میں مبتلا ہو۔ اُور جلد ہی عشق کا یہ بھوت تُمہارے سر سے اُتر جائے ۔ اُور تم اپنی جنسی تسکین کے بعد میری بچی کو ہمیشہ کیلئے بے یار و مددگار چھوڑ دُو۔؟؟؟  بوڑھے راہب نے اپنی تشویش کا اظہار کرتے ہُوئے کہا۔میں ہرگز ہرگز اپنی بیٹی کیساتھ ظلم نہیں ہُونے دُدنگا۔

آخر میں  کسطرح تُمہارے تمام اندیشوں کو  دُور کرسکتا ہُوں!!!! شیخ صنعان نے بیچارگی سے بوڑھے یہودی کو دیکھتے ہُوئے کہا۔۔۔
اگر تُم واقعی اپنے دعوے میں سچے ہُو۔ تو۔ میں تمہارا امتحان لینا چاہونگا۔ اگر تم  امتحان میں ثابت قدم رہے تو میں ٹریسا کا ہاتھ تمہارے ہاتھ میں دینے کیلئے سُوچ سکتا ہوں۔ بُوڑھے یہودی نے اپنے منصوبےکو عملی جامہ پہنانے کیلئے پہلا تیر چلایا۔ اُور یہ تیر بالکل نشانے پر لگا تھا۔ کیونکہ دوسرے ہی لمحے شیخ صنعان نے بِلا توقف یہ کہہ کر حامی بھر لی تھی۔ کہ،، اگر تقدیر میں ایک مزید امتحان دینا بھی لکھا جا چُکا ہے۔ تو میں ضرور یہ امتحان دُونگا۔۔۔۔۔۔۔۔۔

پھر ٹھیک ہے  ۔۔۔۔تُمہارا پہلا امتحان کل سُورج  کے طلوع ہُوتے ہی شروع ہُوجائے گا۔ ۔۔ تبوک شہر سے تین کُوس  دُور شُمال کی جانب میری ایک چراہگاہ ہے جہاں  تمہیں کچھ عرصہ میرے  مویشیوں کی خدمت کرنی ہُوگی۔ اگر تمہاری  مُسلسل محنت اُور استقامت سے میرے مویشی فربہ ہوگئے تو میں  اگلی شرائط بیان کروں گا۔ اُور اگر میرے مویشی کمزور ہوگئے ۔ یا اُنہیں درندوں نے چیڑ پھاڑ ڈالا تو یہ معاہدہ ختم ہُوجائے گا۔ اُور تمہیں ٹریسا کی محبت سے  بِلا حیل و حجت دستبردار ہُوکر واپس اپنے وطن جانا پڑے گا۔ کہو کیا اپنے پروردیگار کو  گواہ بنا کر یہ عہد کرتے ہُو۔  ؟؟؟ بوڑھے یہودی نے اپنے جُوش کو چھپاتے ہُوئے استفسار کیا۔۔۔۔۔۔ ٹھیک ہے مجھے تمہاری شرط منظور ہے۔ شیخ صنعان نے  بے بسی اُور اُمید کی مِلی جُلی کیفیت میں جواب  دیا۔

شیخ صنعان کے جاتے ہی ٹریسا ،،جو کہ،، دروازے کی اُوٹ سے اپنے باپ اُور  شیخ صنعان کی تمام گفتگو بڑے تحمل سے سُن رہی تھی نِکل آئی۔ اُور شکایتاً کہنے لگی۔ بابا کیا آپ نے مجھے واقعی اِس  بوڑھے شیخ کو سُونپنے کا اِرادہ کرلیاہے۔۔۔؟؟؟ نہیں میری لخت جگر ایسا ہر گز نہیں ہے۔ بلکہ یہ ہماری پہلی کامیابی ہے ۔کہ،،میں نے کتنی آسانی سے اُسے یہاں سے ہٹا کر جنگل میں پہنچانے کا انتظام کردیا ہے۔ مجھے قوی اُمید ہے۔کہ،،  بُوڑھا شیخ جلد ہی جنگل میں درندوں کا شکار بن جائے گا۔ یا جب اُسے معلوم ہُوگا کہ،، میں جن مویشیوں کا تذکرہ کررہا تھا ۔ وُہ خنزیر ہیں۔ تب بھی  وُہ ہار مان لے گا۔ کیونکہ مسلمان خنزیر سے اتنی ہی نفرت کرتے ہیں جتنی مجھے اِس شیخ سے ہے۔ بوڑھا یہودی قہقہ لگاتے ہُوئے سُونے کیلئے اپنے کمرے کی جانب چل دیا۔ جبکہ ٹریسا سُوچنے پر مجبور ہُوگئی۔ کہ،، ہائے یہ عشق بھی کیا بَلا ہے۔ کسی عمر کا  لحاظ کرتی ہے نہ کسی کے مرتبے کا۔ لیکن کیا واقعی شیخ صنعان مجھے حاصل کرنے کیلئے خنزیروں کو چَرانے کی ذمہ داری قبول کرلیگا۔یا اپنے عشق سے دستبردار ہُوجائے گا؟؟؟؟


جاری ہے۔

Monday, 18 March 2013

عشق کے رنگ شیخ صنعان کے سنگ قسط .۸


عشق کے رنگ شیخ صنعان کے سنگ  قسط ۸

گُذشتہ سے پیوستہ۔

سُنت الہیہ میں یہ راز پُوشیدہ کردیا گیا۔۔۔ کہ،، دشمن کے حقوق  کی بھی حفاظت کی جائے۔ اُور معاہدے کو چُھپایا بھی نہ جائے۔۔۔ چاہے اُس معاہدے کے اِظہار سے  بظاہر دُشمن کو کتنا ہی فائدہ پُہنچنے کا اندیشہ نہ ہُو۔۔۔ اُور نہ ہی دُشمن پر جبر کیا جائے تاآنکہ وُہ خُود معافی کا طلبگار بن کر نہ آجائے۔ اُور نہ ہُی اُسکے تذکرے کو دبایا جائے۔بلکہ جسطرح دُوست کی باتوں کو اہمیت دِی جاتی ہے۔۔۔ دُشمن کی باتوں کو بھی نمایاں کیا جائے۔۔۔۔ اسلئے جب بھی اللہ کریم کے پسندیدہ بندے انبیا کرام  علیہ  السلام کی شکل میں مبعوث ہُوتے رہے ہیں۔ اُنہوں نے اللہ کریم کی سُنت کے احترام میں دُشمنوں کو تمام رعایت دی ہیں۔۔۔ اُور یہی حال اُولیائے کرام کا بھی ہے۔ اُن سے یہ ممکن ہی نہیں کہ،، وُہ اللہ کریم کی سُنت کو نہ اپنائیں۔۔۔ اسلئے جب کروڑوں اُولیائے کرام کے مقابلے میں ایک شخص نے سیدنا غُوث الاعظم کی سیادت کو چیلنج کیا۔ تو آپ  نے سُنت اِلہیہ پر عمل کرتے ہُوئے کروڑوں کے مقابلے میں اُس مُخالف پر نہ جبر کیا۔ اُور نہ ہی اُسے غیر اِہم سمجھا۔۔۔ بلکہ اُسے بھی خاص طُور پر نمایاں لفظوں سے اپنے کلام کی بدولت ہمیشہ کیلئے اَمر کردیا۔۔۔

اَب مزید پڑھیئے۔

 اگرچہ اَبو یوسف ریحان کی گفتگو سے شیخ فرید اُور شیخ محمود دُونوں ہی ُبہت  محظوظ ہُورہے تھے۔۔۔لیکن رات کافی گُزر جانے اُور سفر کی صعوبت کے اثرات ابو یُوسف کے چہرے پر  تھکن کی صورت میں نظر آنے لگے تھے۔ جِسے محسوس کرنے کے بعد  شیخ فرید نے ابو یوسف ریحان کیلئے بستر دراز کردیا۔ بستر پر پُہنچنے کے کچھ  ہی دیر بعد ابو یُوسف رِیحان نیند کی گہری وَادیوں میں داخل ہُوگیا۔۔۔۔ اُور صبح فجر کی نماز کے بعد اجازت طلب کرتے ہُوئے  یہ کہتے ہُوئےروانہ ہُوگیا۔کہ،، شہر تبوک  میں لُوگوں سے مُلاقات کے بعد وُہ جلد اگلے سفر کیلئے روانہ ہُونا چاہتا ہے۔۔۔ شیخ فرید اُور شیخ محمود سے بغلگیر ہُوتے ہُوئے ابو یوسف نے اِن دُونوں سے  یہ استدعا بھی کی۔کہ،، اگر کبھی آپ لُوگوں کا بغداد آنا  مقدر ٹہرے تو مجھے  بھی ضرور خدمت کا موقعہ دیجئے گا۔

ابو یوسف کے چلے جانے کے بعد شیخ محمود نے شیخ فرید کو مخاطب کرتے ہُوئے کہا،، فرید نجانے کیوں لیکن مجھے ابو یوسف کی باتوں سے بُہت خُوف محسوس ہُورہا ہے۔۔۔ رات اُسکی گفتگو سُنتے ہُوئے مجھے بار بار ایسا محسوس ہُوا ، جیسے وُہ ہمارے شیخ کے متعلق ہی باتیں کررہا ہُو۔کیا تمہیں ابو یوسف کی گفتگو سے خُوف محسوس نہیں ہُوا۔؟؟؟ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اگرچہ  حال تو میرا بھی تُم سے قدرے مختلف نہیں تھا محمود بھائی لیکن میں یہ سُوچ کر اپنے دِل کو تسلی دیتا رَہا۔کہ،، آخر ایک  کردار کہاں تک  کہانی کے سانچے میں  خُود کو ،، ڈھال سکتا ہے۔ کبھی نہ کبھی  تو بڑے کردار  نبھانے والےبھی غلطی کرہی جاتے ہیں۔ شائد اسی لئے بُزرگانِ دین  ہمیشہ  خالق سے توفیق کی استمداد طلب کرتے رِہنے کیلئے زُور دیتے رِہتے ہیں۔ شیخ محمود کے استفسار پر شیخ فرید نے کچھ سُوچتے ہُوئے جواب دیا۔۔۔ لیکن  محمود بھائی کل رات کی تمام باتوں کے بعد میں نے خُود سے ایک عہد ضرور کیا ہے۔کہ،، ہمارے شیخ کے ہم پر بے پناہ اِحسانات ہیں جو ہم سے تقاضہ کرتے ہیں۔کہ حالات چاہے کتنے ہی کیوں نہ بگڑ جائیں۔ کم از کم میں اپنے شیخ کو اِس امتحان  کے وقت تنہا نہیں چھوڑوں گا۔

فرید میرے بھائی ! خُدا گَواہ ہے۔کہ،، کل رات ایک ایسا ہی عہد و پیمان میں نے بھی خُود سے  بستر پر جانے سے قبل کیا ہے۔ اُور انشا اللہ اِس معاملے میں تُم مجھے بھی پیچھے ہٹتا نہیں دِیکھو گے۔۔۔ شیخ محمود نے جذباتی لہجے میں جواب دیتے ہُوئے کہا۔۔۔۔ تھوڑی دیر بعد دروازے پر دستک کی آواز سُنائی دی۔۔۔ شیخ محمود نے بڑھ کر دروازہ کھولا تو شیخ صنعان کو دروازے پر کھڑا دیکھ کر عرض کرنے لگا۔یا شیخ آپ نے زحمت کیوں فرمائی آپ کسی غلام کو اِرشاد فرمادیتے ۔  ہم خُود آپکی خِدمت میں حاضر ہُوجاتے۔۔۔۔محمود پیاس کی میزان بھی بدلتی رِہتی ہے۔۔کبھی پیاسہ کنویں کا متلاشی ہُوتا ہے۔ اُور کبھی کُنواں اپنی پیاس مٹانے کیلئے تشنہ نظر آتا ہے۔۔۔ یہی زندگی کے رَنگ ہیں۔۔۔ جو کبھی پیاسے کو دُوڑاتے ہیں۔ تو کبھی کُنویں کو۔۔۔ شیخ صنعان  کُھوئے کھوئے لہجے میں محمود کو جواب دیتے ہُوئےاندر حجرے میں داخل ہُوگیا۔

کل  ساری رات میں تُم دُونوں کے انتظار میں جاگتا رَہا ہُوں۔۔۔۔کیا تُم لوگوں نے کوئی  ایسی تدبیر سُوچی ہے۔کہ،، جِس سے میرے دِل کی بیقراری کو قرار حاصل ہُوجائے۔۔۔شیخ صنعان نے فرید و محمود کےچہروں کو تکتے ہُوئے استفسار کیا۔۔۔؟؟؟۔۔محترم شیخ  ہم اِسی تدبیر کے ادھیڑ بن میں ہر لمحہ کُوشاں ہیں۔ اُور خُلوص دِل سے یہی چاہتے ہیں۔ کہ،، آپکی خُواہش کو کسی بھی طرح حقیقت کے جامے میں   آپ کے سامنے پیش کریں۔۔۔۔لیکن شیخ محترم ہم اِس کوشش میں ابھی تک کوئی کامیابی حاصل نہیں کرپائے ہیں۔ اتنا کہنے کے بعد شیخ فرید نے اپنی کاوشوں کی  تمام داستان شیخ صنعان کے گُوش گُزار کرتے ہُوئے تمام کہانی بشمول یہودی   اور ٹریسا کے جوابات کیساتھ نہایت اَدب سے شیخ کو سُنا دالی۔

ہُم ٹھیک ہے۔۔۔ تُم دُونوں نے واقعی اپنی ذمہ داری اِحسن انداز میں  بھرپور طریقے سے نبھانے کی کوشش کی ہے۔شائد میرے نصیب میں ابھی کُچھ مزید امتحان باقی ہیں۔۔ لیکن میں یہودی کے اِنکار کے باوجود بھی تبوک سے خالی ہاتھ لُوٹ کر نہیں جاونگا۔۔۔لیکن میں یہ بھی نہیں چاہتا کہ،، میری وجہ سے سینکڑوں کی تعداد میں مخلوق خُدا بے سروسامانی کی حالت میں پریشان ہُوں۔ اسلئے میں چاہتا ہُوں۔کہ،، تُم دُونوں اپنے ساتھیوں کے ہمراہ بیت المقدس کی جانب کُوچ کرجاوٗ۔ اگر میرے مقدر نے یاوری کی تو میں بھی جلد تُم لوگوں سے آ مِلوں گا۔۔۔ وگرنہ یہیں کُوچہ یار میں مرنے کو ترجیح دُونگا۔۔۔ شیخ صنعان دِل گرفتہ لہجے میں کہتا ہُوا واپس لُوٹ گیا۔۔۔ شیخ فرید اُور شیخ محمود کی آنکھوں سے آنسو وں کا ریلا بہنے لگا تھا۔ لیکن اُنکی زُبان پر جیسے قفل پڑے تھے۔۔۔ وُہ دُونوں اپنے شیخ کو  مَلول و دِل گرفتہ حالت میں لُوٹتا دیکھتے رہے۔ لیکن ایک بھی جملہ اُنکی زُبان سے نہ نِکل سکا۔

شیخ صنعان   کے دِل پر یہودی کے انکار کا  نجانے کیسا اثر ہُوا تھا۔۔۔۔کہ،، وُہ  شیخ فرید کے حجرے سے نِکل کر سیدھا ٹریسا کے گھر کے عین سامنے جاکر زمین پر نظریں جما کر بیٹھ گیا۔۔۔ لُوگوں نے جب اصفہان کے مشہور شیخ اعظم کو ٹریسا کے دروازے کے عین مقابل زمین پر بیٹھے دیکھا تو اُنہیں بُہت تعجب ہُوا۔ لیکن  کِسی میں بھی اِتنی ہمت نہیں تھی۔کہ،، وُہ شیخ صنعان سے اِس طرح زَمین پر بیٹھنے کا سبب معلوم کرسکے۔۔  تھوڑی دیر میں بات اِمام  جامع مسجد تک پُہنچی تو وُہ خود وَہاں پُہنچ گئے اُور شیخ سے ماجرا معلوم کیا۔۔۔ شیخ صنعان پر یاسییت نے قبضہ جمالیا تھا۔۔۔ اُس  نے اپنی عزت اُور رُتبے کا ذرا بھی خیال نہ کیا ۔۔اُور اپنے دِل کا  تمام ماجرا سُناتے ہُوئے  آخر میں کہا۔ کہ،، ٹریسا میری زندگی کی ڈُور ہے جسکے بنا میں اب ایک قدم  بھی آگے نہیں بڑھ سکتا۔۔۔  گلی کے چند منچلے نوجوانوں کے کانوں نے بھی یہ جملے  سُن لئے۔ اُور تھوڑی دیر میں ہی اصفہان کا عظیم درویش  تبوک کی گلیوں میں صرف ایک مذاق بن  کر رِہ گیا۔۔۔ اِمام مسجد نے حالات کا یہ رُخ دیکھ کر وَہاں سے کھسکنے میں ہی عافیت دیکھی۔ اُور خاموشی سے  شیخ صنعان کو منچلے نوجوانوں کے  رِحم و کرم پر چھوڑ کرنِکل گئے۔ اب گلی میں  شیخ  صنعان تھے اُور چند آوارہ نوجوان جنہوں نے شیخ صنعان کا تماشہ بنا لیا تھا۔

یہودی گھر واپس آیا تو اپنے گھر کے سامنے  لڑکوں کی بھیڑ دیکھ کر رُکا۔ لیکن جب نوجوان نے باآواز بُلند پھبتیاں کسنا شروع کردیں تو یہودی یہ سُوچ کر گھر میں داخل ہُوگیا۔۔۔۔ کہ،، جلد ہی شیخ نوجوانوں کی شرارت کے باعث یہاں سے چلا جائے گا۔۔۔ وگرنہ شہر کے قاضی کی مدد سے اِس مصیبت سے جان چُھڑالُوں گا۔۔۔۔ اِتفاقاً اُسی وقت قافلے سے چند لُوگ شیخ صنعان سے قافلے کے کُوچ کی بابت معلوم کرنے کیلئے شہر میں آئے تھے۔ اُنہوں نے جب اپنے شیخ کی یہ حالت دیکھی۔ تو قافلے میں واپس پُہنچ کر دُوسروں تک بھی یہ بات پُہنچا دی۔ جِسکے سبب تمام قافلے میں چہ میگویوں کا بازار گرم ہُوگیا۔ اُور لُوگ شیخ صنعان کی حرکت سے بدظن ہُوکر آپس میں ایک دُوسرے سے مشورے کرنے لگے۔

جاری ہے۔



شیخ صنعان قسط 7 قصہ ابلیس


گُذشتہ سے پیوستہ ۔ 

یوسف نے بتایا کہ،، الحمدُللہ وُہ اکثر سیدنا غوث اعظم ( رحمۃ اللہ علیہ) کا درس سننے کیلئے جایا کرتا ہے۔۔ شیخ فرید نے یوسف کو پیشکش کی کہ،،  ہم لُوگ بھی مسافر ہیں ۔ اُور اپنے مُرشد کریم  کے ہمراہ  بیت المقدس کی زیارت کیلئے جارہے ہیں۔ چند دِن کیلئے تبوک میں ٹہرے ہیں۔ اگر وُہ چاہے تو ائیک رات کیلئے ہمارے ساتھ مسجد کے مسافر خانے میں ٹہر سکتا ہے۔۔۔ یوسف کو شیخ فرید کی یہ تجویز بُہت پسند آئی۔۔۔ لہذا وُہ گھوڑے کی لگام تھامے انکے پیچھے پیچھے چل پڑا۔۔۔  

اَب مزید پڑھ لیجئے۔۔

شیخ فرید کی ایما پر شیخ محمود نے اَبو ریحان کیلئے  بہترین ضیافت کا انتظام کرڈالا۔۔۔۔ ابو ریحان یوسف کھانے کا انتظام دیکھ کر بُھونچکا رِہ گیا۔ اُسے اُمید نہیں تھی کہ،، پردیس میں اُسے اتنی زبردست پزیرائی حاصل ہُوسکتی ہے!!!  کھانے کے درمیان میں شیخ محمود نے ابو ریحان کو مخاطب کرتے ہُوئے اپنے مطلب کی بات معلوم کرنے کی کوشش کرتے ہُوئے استفسار کیا۔ یُوسف بھائی کچھ بغداد کے متعلق بھی بتائیں نا!۔۔۔۔

ابو ریحان کھانے کے دُوران بغداد کے قصے سُنانے لگا۔۔۔ لیکن کھانے کے اختتام تک بھی یوسف نے وُہ تذکرہ نہیں چھیڑا۔کہ،، جِسے سُننے کیلئے شیخ محمود کے کان بے چین تھے۔ بلاآخر شیخ محمود سے نہ رَہا گیا تو اُس نے خُود ہی تذکرہ چھیڑتے ہُوئے سوال کیا۔ یوسف بھائی سُنا ہے کہ،، سیدنا غُوث الاعظم (رحمۃ اللہ علیہ) نے  اُولیا کی گردن اپنے قدم کے نیچے کہی ہیں۔ کیا یہ بات سچ ہے۔۔۔؟؟؟ ابو یوسف کے چہرے پر سیدنا غُوث الاعظم کا ذکر سُن کر عقیدت و احترام کے رَنگ بکھر گئے۔ جسکی وجہ سے ابو ریحان  نے پُرجُوش لہجے میں جواب دیتے ہُوئے کہا۔ بے شک آپ نے فرمایا ہے اُور بجا فرمایا ہے۔ بلکہ اَب تو اُولیا کرام کی تصدیقات کے بعد کسی کو بھی اِبہام  باقی نہیں  رَہا ۔

کیا آپ ہمیں مکمل واقعہ سُنا سکتے ہیں۔۔؟؟؟شیخ محمود نے شُوق سے دریافت کیا۔۔۔۔۔ ہاں ہاں میرے بھائی کیوں نہیں۔۔۔۔  جِس وقت آپ نے یہ جُملہ اِرشاد فرمایا تھا۔ بے شُمار رِجال الغیب اُور اُولیا کرام کی کثیر تعداد آپ  کی خِدمت میں حاضر تھی۔۔۔ اُور جب آپ نے یہ جملہ اِرشاد فرمایا  تو سب سے پہلے علی بن ہیتی  رحمۃ اللہ علیہ نے آگے بڑھ کر آپ کے قدم مبارک کو حقیقت میں اپنی گردن پر رَکھ لیا تھا۔  اُور اُسکے بعد اُولیاٗ کرام تصدیقات فرمانے لگے تھے۔ اَبو ریحان یوسف  کی آواز شوقِ وفور سے بُلند ہُونے لگی تھی۔۔۔۔۔   یُوسف بھائی کیا آپ وُہ جملہ دُھرا سکتے ہیں۔۔۔؟شیخ محمود نے استفسار کیا۔ جی کیوں نہیں۔ آپ نے فرمایا تھا۔کہ،، میرا قدم تمام اُولیا کی گردن پر ہے۔۔۔۔ کچھ توقف کے بعد آپ نے اِس جملے کو پھر دُھراتے ہُوئے اِرشاد فرمایا تھا۔کہ،، میرا یہ قدم تمام اُولیاٗ کی گردنوں پر ہے۔ اُور اُسکی گردن پر بھی ہے۔ جو عنقریب سُوروں کا رِیوڑ چَرائے گا۔

شیخ محمود کے لئے یہ جُملہ بالکل نیا تھا۔۔۔ یوسف بھائی کیا آپکو کسی نے اِس اِضافی جملے کی بابت بھی کچھ بتایا تھا۔۔۔؟؟؟ شیخ محمود نے حیرت سے استفسار کیا۔۔۔ جی بھائی! میں نے ایک بُزرگ سے اِس اِضافی جملے کے متعلق دریافت کیا تھا۔۔۔ جسکے جواب میں اُن بُزرگ نے فرمایا تھا کہ،، تمام دُنیا کے اُولیا اپنی گردنوں کو اِس حکم کے بعد جُھکا دیں گے۔ لیکن عنقریب کوئی بدنصیب اِس قُول مُبارک کو جھٹلانے کی جسارت کرے گا۔ اُور وُہ بدنصیب شخص ایک عظیم اِمتحان میں مُبتلا کردیا جائے گا۔ ابو ریحان یُوسف نے تاسف بھرے لہجے میں جواب دیا۔

تو کیا آپ کو اُن بزرگ نے یہ نہیں بتایا کہ،، وُہ بدنصیب انسان کُون ہُوگا۔۔۔ اُور اُسکا انجام کیا ہُوگا۔۔۔ اُور سیدنا غُوث الاعظم نے اپنی کشفی و رُوحانی طاقت کے ذریعے سے اُس منکر کے اِختیارات سلب کرکے اُسے سیدھی  راہ کیوں نہ دِکھادی۔۔۔ اُور جہاں کروڑہا اُولیائے کرام آپکی سیادت کو قبول کرچکے تھے ۔ تو آپ نے ایک منکر کا تذکرہ اتنے اہتمام سے کیوں فرمایا۔۔۔۔؟  شیخ فرید نے  ممکنہ طُور پر جوابات حاصل کرنے کیلئے  ایک ساتھ کئی سوالات کےتیر اپنے ترکش سے نِکال کر چَلا دیئے۔۔۔۔ فرید  بھائی کتنی حیرت انگیز بات ہے۔کہ،، اُس وقت میرے ذہن میں بھی یہی سَوالات آئے تھے۔جو آج مجھ سے آپ  پُوچھ رہے ہیں۔۔۔ میرے سوالات کے جوابات میں اُن بزرگ  نے جو کچھ اِرشاد فرمایا تھا۔ وُہ سب کچھ تو لفظ با لفظ مجھے یاد نہیں ہیں۔ لیکن اُس  گفتگو  کا مفہوم بہرحال میرے ذِہن میں ضرور موجود ہے۔ ابو ریحان نے   وضاحت کرتے ہُوئے ایک مرتبہ پھر سلسلہ کلام کو جُوڑتے ہُوئے گفتگو جاری رکھی۔۔۔

اُن بُزرگ نے اِرشاد فرمایا تھا۔کہ،، اِرشاد غُوث الاعظم کی رُوشنی میں یہ بات کہی جاسکتی ہے۔کہ،،  ممکنہ منکر شخص ولایت کے انتہائی اعلی مقام پر فائز ہُوگا۔ لیکن نفسی خُواہش کے ایما پر  ایسے کلمات اپنی زُبان سے ادا کرے گا۔کہ،، جسکی وجہ سے اللہ کریم اُسکی ولایت کو سلب فرمالے گا۔ لیکن آپ کا یہ کہنا کہ،، میرا قدم اُسکی بھی گردن پر ہے۔ یہ ظاہر کرتا ہے۔کہ،، شائد ایک عظیم امتحان سے گُزر کر اُس ولی کو اپنی غلطی کا اِ حساس ہُوجائے۔ اُور وُہ پلٹ آئے۔ لیکن اُسکا واپس پلٹ آنا صرف میرا قیاس ہے۔ جُو کہ،، غلط بھی ثابت ہُوسکتا ہے۔۔۔۔ لیکن جہاں تک یہ بات ہے۔کہ،، سیدنا غوث الاعظم نے خُود اُسکے اختیارات سلب کیوں نہیں کئے۔۔۔ اُور اپنی رُوحانی طاقت سے اُسکے خیالات پر قبضہ کیوں نہیں جمایا۔۔۔ یہ بات سمجھنے کیلئے ہمیں ذرا پیچھے جانا پڑے گا۔ تاکہ ہمیں اللہ کریم کی سُنت معلوم ہُوجائے۔

دیکھو جب اللہ کریم کی عبادت و فرمانبرداری اُسکی کروڑوں نہیں بلکہ اَربوں کھربُوں مخلوق کررہی تھی۔ تو اُس خالق و مالک کیلئے کیا مشکل تھا۔کہ وُہ ایک منکر ابلیس کی بات کو اتنی اہمیت دیتا۔۔۔۔ وُہ قادر مطلق چاہتا تو اُسی وقت ابلیس کا محاسبہ کرتے ہُوئے اُسے اسکے منطقی انجام تک پُہنچا  کر فنا کے گھاٹ اُتار دیتا۔۔۔۔ اُور کسی کو معلوم ہی نہ ہُوپاتا۔ کہ،، کسی نے اللہ کریم کے فیصلے سے انکار و بغاوت کی جُرات رندانہ کی تھی۔۔۔ لیکن اللہ کریم نے ایسا نہیں فرمایا۔۔۔ بلکہ اپنے دُشمن کی رائے کو  اپنے مقابل آنے دیا۔۔۔۔ بلکہ جب اُس نے اپنی مذموم خواہشات کو عملی جامہ پہنانے کیلئے اللہ کریم کے مقابلے میں اللہ کریم ہی سے مدد طلب کی۔۔۔ تو اللہ کریم نے یہ نہیں فرمایا۔کہ،، تو میرا دُشمن ہے۔ اسلئے  دُشمن کی مدد کا سوال ہی نہیں پیدا ہُوتا۔ بلکہ اُسےمُہلت کیساتھ مدد بھی فراہم کردی۔ تاکہ وُہ اللہ کریم کے مُقابلے میں اپنی سی کوشش کرکے دیکھ لے۔۔۔ اُور کتنے لُطف کی بات ہے۔کہ،، دُشمن کی بات کو چھپایا بھی نہیں۔ بلکہ اُسکا ٹذکرہ اتنے نمایاں انداز میں تمام صحائف میں کیا گیا۔کہ،، اِس کریمی پر ابلیس ہمیشہ شرمسار ہُوتا رہے گا۔

اُور اِس سُنت الہیہ میں یہ راز پُوشیدہ کردیا گیا۔۔۔ کہ،، دشمن کے حقوق  کی بھی حفاظت کی جائے۔ اُور معاہدے کو چُھپایا بھی نہ جائے۔۔۔ چاہے اُس معاہدے کے اِظہار سے  بظاہر دُشمن کو کتنا ہی فائدہ پُہنچنے کا اندیشہ نہ ہُو۔۔۔ اُور نہ ہی دُشمن پر جبر کیا جائے تاآنکہ وُہ خُود معافی کا طلبگار بن کر نہ آجائے۔ اُور نہ ہُی اُسکے تذکرے کو دبایا جائے۔بلکہ جسطرح دُوست کی باتوں کو اہمیت دِی جاتی ہے۔۔۔ دُشمن کی باتوں کو بھی نمایاں کیا جائے۔۔۔۔ اسلئے جب بھی اللہ کریم کے پسندیدہ بندے انبیا کرام کی شکل میں مبعوث ہُوتے رہے ہیں۔ اُنہوں نے اللہ کریم کی سُنت کے احترام میں دُشمنوں کو تمام رعایت دی ہیں۔۔۔ اُور یہی حال اُولیائے کرام کا بھی ہے۔ اُن سے یہ ممکن ہی نہیں کہ،، وُہ اللہ کریم کی سُنت کو نہ اپنائیں۔۔۔ اسلئے جب کروڑوں اُولیائے کرام کے مقابلے میں ابلیس کی طرح ایک شخص نے سیدنا غُوث الاعظم کی سیادت کو چیلنج کیا۔ تو آپ  نے سُنت اِلہیہ پر عمل کرتے ہُوئے کروڑوں کے مقابلے میں اُس دُشمن پر نہ جبر کیا۔ اُور نہ ہی اُسے غیر اِہم سمجھا۔۔۔ بلکہ اُسے بھی خاص طُور پر نمایاں لفظوں سے اپنے کلام کی بدولت ہمیشہ کیلئے اَمر کردیا۔۔۔


اللہ کریم کی بے پناہ توفیق سے یہ سلسلہ جاری ہے۔ 




Saturday, 16 March 2013

عشق کے رنگ شیخ صنعان۔ حضرت بھائی قسط 6





گُذشتہ سے پیوستہ۔ 

شیخ فرید کے خاموش ہُوتے ہی یہودی نے سپاٹ لہجے میں کہا!!! مجھے  ایک  بات سمجھ  نہیں آئی۔کہ،، میرے لئے اِس بات میں کونسی سعادت مندی  اُور خُوش نصیبی پُوشیدہ  ہُوسکتی ہے۔ کہ،، ایک ایسا انسان جو جوانی کی سرحد کو عبور کرنے کے بعد بُڑھاپے کی دہلیز میں قدم رَکھ چکا ہے۔۔۔۔ وُہ میری بیٹی پر عاشق ہُوچکا ہے۔ اُور میری جوان بیٹی کو اپنی شریک حیات بنانا چاہتا ہے۔۔۔ جبکہ وُہ شخص  صرف بُوڑھا ہی نہیں۔ بلکہ اُسکا مذہب بھی ہمارے مذہب سے جُدا ہے۔۔۔۔ میرے خیال میں کسی شخص کے گھر  اُسکی بیٹی کیلئے ایسا رشتہ آنا،  شرمندگی کا تُو باعث ضرور ہُوسکتا ہے۔ لیکن سعادت و خُوش بختی کا پیش خیمہ نہیں۔۔۔


اَب مَزید پڑھ لیجئے۔۔


اسلئے میں آپ لوگوں پر صاف صاف واضح کردینا چاہتا ہُوں۔ کہ،، مجھے یہ رِشتہ کسی بھی قیمت پر منظور نہیں ہے۔۔۔۔ آپ لُوگ میرے مہمان ہیں۔ اِس لئے آپ لوگوں کی تعظیم مجھ پر واجب ہے۔ لیکن اب میری آپ لوگوں سے استدعا ہے کہ،، آپ  حضرات تشریف لے جائیں۔۔۔ اُور ہاں۔ آئندہ بھی اِس قسم کے کسی کام کیلئے برائے مہربانی۔ نہ خُود آئیےگا۔ اُور نہ کسی دُوسرے کو بھیجنے کی زحمت کیجئے گا۔۔۔ ورنہ ہُوسکتا ہے کہ،، میں اِس بات کا لحاظ بھی نہ کرپاوں کہ،، آنے والے مہمان ہیں۔۔۔ جنہیں ہم لوگ اپنی روایات کی وجہ سے فرشتوں جیسا سمجھتے ہیں۔ اتنا کہہ کر یہودی اُٹھ کر اندر چلا گیا۔۔۔ گویا اُس نے نشست کے بتخاست ہُوجانے کا اعلان کردیا تھا۔

شیخ محمود اُور شیخ فرید کو قطعی اندازہ نہیں تھا۔ کہ،، شیخ کے رشتے پر یہودی کا جواب اتنا جارحانہ بھی ہُوسکتا تھا۔۔۔ اُور وُہ پہلی ہی مُلاقات میں اتنی صاف گوئی سے انکار کی اتنی مضبوط دیوار کھڑی کردے گا۔۔۔ جسکی وجہ سے  گفتگو کی راہ ہمیشہ کیلئے  مَسدود ہُوجائے گی۔  شیخ فرید سُوچنے لگا۔۔۔ شائد ہم نے بُہت جلد بازی کا مُظاہرہ کیا ہے۔۔۔ رشتہ کی بات چلانے سے قبل یہودی  کو شیشے میں اُتارنا چاہیئے تھا۔۔۔۔لیکن اِب ہُو بھی کیا سکتا تھا۔۔ تیر کمان سے نِکل چُکا تھا۔ اُور نشانہ خطا جانے کی وجہ سے یہودی بِدک چُکا تھا۔۔۔ شیخ محمود اُور شیخ فرید افسردگی کی حالت میں ناکامی کے احساسات  سے دِل گرفتہ یہودی کے گھر سے باہر نِکل آئے۔۔۔ تبھی پیچھے سے وہی مترنم آواز گونجی۔ حضرت بھائی ذرا  سُنئے گا!!!

اگرچہ افسردگی اُور اِنکار کی تکلیف سے  دُونوں کے چہرے بُجھے ہُوئے تھے۔۔۔ لیکن یہ عجیب و غریب لقب سُن کر اِن دُونوں کے چہرے پر مسکراہٹ پھیل گئی۔ اُور دُونوں نے مُڑتے ہُوئے بیک وقت کہا۔۔۔ حضرت بھائی!!!۔۔۔ جی بھائی میں اکثر مسلمانوں کو دیکھا ہے۔ کہ،، وُہ جب کسی کو تکریم سے مخاطب کرنا چاہتے ہیں۔ تو حضرت کا اضافہ کردیتے ہیں۔۔۔ آپ بھی چونکہ مسلمان ہیں۔ اُور میرے ہم عمر ہیں۔ اسلئے میرے بھائی جیسے ہُوئے۔ اسلئے میں نے آپ لوگوں کو بھی حضرت بھائی کے نام سےمخاطب کرلیا۔۔۔ لیکن اگر آپکو ناگوار گُزرا ہے تو میں معذرت چاہتی ہُوں۔ ٹریسا نے بھولپن سے جواب دیتے ہُوئے کہا۔۔۔

نہیں بہن ہمیں قطعی بُرا نہیں لگا ہے۔ بلکہ یہ تو بُہت منفرد تخاطب ہے جو سننے میں بُہت بھلا محسوس ہُورہا ہے۔آپ ہمیں حضرت بھائی سے مخاطب کرسکتی ہیں۔ ویسے میرا نام شیخ فرید ہے ۔ اُور میرےساتھی کا نام شیخ محمود ہے۔۔۔۔ شیخ فرید نے خُوش اخلاقی کا مظاہرہ کرتے ہُوئے کہا۔

حضرت بھائی آپ نے بابا سے ابھی جتنی بھی باتیں کی ہیں۔ میں نے وُہ  تمام باتیں دروازے کی اُوٹ سے سُنی ہیں۔۔۔ ویسے تو بابا آپ لوگوں کو جواب دے ہی چُکے ہیں۔ لیکن میں نے آپکے شیخ صاحب کی بُہت تعریفیں سُنی ہیں۔کہ،، وُہ اللہ کے برگزیدہ بندے ہیں۔ اُور میں نے  آذان دیتے ہُوئے اُنکے نورانی چہرے کی زیارت کی ہے۔۔۔ نجانے اُنہوں  نے مجھ میں کیا خُوبی دیکھ کر مجھے اپنی شریک حیات بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔۔۔ لیکن میں اتنا جانتی ہُوں ۔کہ،،  اُنکی  زندگی میں آنے والی کوئی بھی خاتون   یقینا! بُہت  خوش  نصیب ہُوگی ۔لیکن میں آپکے شیخ کے قابل  ہر گز نہیں ہُوں۔ اسلئے اُن سے کہیئے گا۔کہ خُدارا مجھ جیسی ایک عام لڑکی کیلئے اپنے دِل کو رُوگ نہ لگائیں۔ اُور مجھ سے شادی کے خیال کو اپنے دِل سے جھٹک دیں۔۔۔ اتنا کہنے کے بعد ٹریسا دوبارہ دروازے کے پیچھے پُوشیدہ ہُوگئی۔

ٹریسا کے گھر میں واپس چلے جانے کے بعد شیخ محمود اُور شیخ فرید بھی واپس اپنی رِہایشگاہ  کی طرف لُوٹنے لگے۔ مسجد کے قریب پُہنچ کر اُنکی نِگاہ ایک خُوبصورت باریش  نوجوان پر پڑی ۔جو اپنے گھوڑے کی زین درست کررہا تھا۔ اِن دونوں پر نِگاہ پڑتے ہی  اُس نوجوان نے سلام کرتے ہُوئے شیخ فرید سے  سرائے کے متعلق استفسار کیا۔۔۔ سلام کا جواب دینے کے بعد شیخ فرید نے اُس نوجوان کو بتایا۔کہ آجکل شہر کی واحد سرائے میں پہلے سے ہی ضرورت سے ذیادہ لُوگ موجود ہیں۔ جسکی وجہ سے سرائے میں جگہ مِلنے کا کوئی اِمکان نہیں ہے۔۔ اُس نوجوان کے چہرے پر شیخ فرید کے جواب سے پریشانی کے آثار نمایاں ہُونے لگے۔۔۔ شیخ فرید نے جب اُس نوجوان سے اُسکے وطن  کی بابت استفسار کیا۔ تو اُس نوجوان نے بتایا کہ،، اُسکا  نام   اَبو ریحان یوسف ہے۔ اُور اسکا آبائی شہر بغداد ہے۔جبکہ پیشے کے اعتبار سے وُہ ایک تاجر ہے۔ اُور اپنے کاروبار کو وُسعت دینے کیلئے شامکے سفر پر نِکلا ہے۔۔۔ بغداد کا نام  سپنتے ہی شیخ فرید نے اگلا سوال کیا۔ کیا تُم  نے کبھی سیدنا عبدالقاد گیلانی  (رحمتہ اللہ علیہ )کی صحبت پائی ہے۔

جوابا! یوسف نے بتایا کہ،، الحمدُللہ وُہ اکثر سیدنا غوث اعظم ( رحمۃ اللہ علیہ) کا درس سننے کیلئے جایا کرتا ہے۔۔ شیخ فرید نے یوسف کو پیشکش کی کہ،،  ہم لُوگ بھی مسافر ہیں ۔ اُور اپنے مُرشد کریم  کے ہمراہ  بیت المقدس کی زیارت کیلئے جارہے ہیں۔ چند دِن کیلئے تبوک میں ٹہرے ہیں۔ اگر وُہ چاہے تو ائیک رات کیلئے ہمارے ساتھ مسجد کے مسافر خانے میں ٹہر سکتا ہے۔۔۔ یوسف کو شیخ فرید کی یہ تجویز بُہت پسند آئی۔۔۔ لہذا وُہ گھوڑے کی لگام تھامے انکے پیچھے پیچھے چل پڑا۔۔۔

جاری ہے۔۔۔ 

Thursday, 14 March 2013

عشق کے رنگ شیخ صنعان کے سنگ 5







گُذشتہ سے پیوستہ ۔ 


شام کا اندھیرا پھیلنے کے بعد شیخ محمود اُور شیخ فریدخُود کو چادر میں چھپائے یہودی کے گھر کی جانب بڑھ رہے تھے۔۔۔۔ شیخ محمود نے  مکان تک پُہنچنے کے بعد  چادر گردن میں حائل کرتے ہُوئے دروازے پر آہستہ سے دستک دِی ۔۔۔جسکے نتیجے میں اندر سے  کسی نوجوان لڑکی نے نہایت رسیلے اُور ششتہ لہجے میں دریافت کیا۔۔۔ کُون ہے۔۔؟؟؟ جواب میں شیخ محمود نے گھر کے مالک سے مِلنے کی خُواہش کا اِظہار کیا۔۔۔۔۔ چند لمحے بعد یہودی  اپنے مکان کے دروازے سے باہر برآمد ہُوا۔۔۔ اُور شیخ محمود  اُور شیخ فرید سے مصافحے کے بعد آنے کی وجہ دریافت کرنے لگا۔۔۔ جناب ہم لُوگ عرب سے آنے والے عظیم قافلےکے اِہم  رُکن ہیں۔ اُور ایک معاملے میں آپ سے گفت و شنید کے خُواہشمند ہیں۔ اگر آپ ہمیں کچھ وقت عنایت کردیں تو جناب کی ہم مسافروں پر بُہت نوازش ہُوگی۔

اب مزید پڑھ لیجئے۔

یہودی بُوڑھے نے آنے والوں کے حُلیے سے اندازہ لگانے میں دیر نہ لگائی کہ آنے والے  مہمان جو کہہ رہے ہیں سچ کہہ رہے ہیں۔ یہودی نے اِن دُونوں کو مہمان خانے میں بٹھانے کے بعد آواز لگاتے ہُوئے کہا۔ بیٹی ٹریسا ! دُو مہمانوں کیلئے کچھ کھانے پینے کا بندوبست کردو۔۔۔۔ اندر سے ایک مرتبہ پھر وہی رسیلی آوازسُنائی دی۔۔ جی بابا میں تھوڑی دیر میں انتظام کئے دیتی ہُوں۔۔۔۔تھوڑی دیر بعد ٹریسا  ایک برتن میں دُودھ کے ساتھ خشک انجیر اُور تازہ کھجوریں مہمانوں کے سامنے سجارہی تھی۔۔۔ شیخ محمود اُور شیخ فرید نے صرف ایک نگاہ پڑتے ہی اپنی نظروں کو زمین کی طرف جھکا لیا تھا۔۔۔ لیکن وُہ ٹریسا کے قیامت خیز حسن کی ایک جھلک دیکھ کر ہی اپنے شیخ کی  مجبوری اُور بے چینی کی وجہ سمجھ چُکے تھے۔ بِلاشبہ قُدرت  نے ٹریسا کی شکل میں ایک شاہکار تراش  کر دُنیا میں بھیج دیا تھا۔

 یہودی منتظر تھا کہ،، مہمانوں کی تواضع کا مرحلہ گُزرے ۔تو وُہ مہمانوں کی آمد کا مقصد معلوم کرے۔۔۔ لیکن شیخ محمود اُور شیخ فرید بجائے کچھ کھانے کے خُشک انجیر ہاتھ میں لئے ایک دوسرے کی جانب سوالیہ نطروں سے دیکھ رہے تھے۔ جیسے زُبان حال سے ایک دوسرے کو مخاطب کرتے ہُوئے کہہ رہے ہُوں۔کہ،، گفتگو کو کہاں سے شروع کیا جائے۔ یہودی نے اِن دُونوں کی پریشانی بھانپتے ہُوئے کہا۔ میرے مہمان تذبذب کا شِکار نظر آتے ہیں۔ آخر ایسی کیا بات ہے۔ کہ،، جسکے خوف سے آپ حضرات کسی شئے کو بھی نہیں کھا رہے ہیں۔۔۔ اگر آپ لوگ  مجھ سے کچھ کہنا چاہتے ہیں ۔ تو بِلا جھجک کہہ دیں۔ ہم لُوگ  اپنے مہمانوں کی باتوں کا ذرا بھی بُرا نہیں مناتے۔ چاہے وُہ بات ہمیں ذلیل کرنے کیلئے ہی کیوں نہ کہی گئی ہُو۔ بُوڑھے یہودی نے شیخ محمود اُور شیخ فرید کا حُوصلہ بڑھاتے ہُوئے کہا۔۔۔

نہیں جناب ایسی کوئی بات نہیں ہے۔ جسے کہنے کا مقصد آپکی اِہانت ہُو۔ لیکن  یہ بھی سچ ہے کہ بات اتنی آسان بھی نہیں ہے۔۔۔۔ جبکہ کہے بنا چارہ بھی نہیں ہے۔۔۔ شیخ فرید نے تہمید باندھتے ہُوئے گفتگو کی ابتدا کی۔۔۔۔ دراصل یہ تو آپ کو معلوم ہی ہُوگا ۔کہ اَرض مقدس کی زیارت کیلئے ایک قافلہ مُلک عرب سے سرزمین شام پر اُترا ہے۔ ہمارے اِس قافلے کی قیادت وقت کے عظیم بُزرگ   یعنی ہمارے مُرشد شیخ صنعان فرمارہے ہیں۔  اُور ہمارے ساتھ ہمارے ہزاروں پیر بھائی بھی اِس سعادت کو حاصل کرنے کیلئے بیت المقدس کی جانب جارہے ہیں۔۔۔ لیکن گُزشتہ دِن تبوک میں ایک ایسا معاملہ ہمارے ساتھ پیش آگیا ہے جِس نے ہم سب کو ایک اِمتحان میں ڈال دیا ہے۔۔۔ جسکی ہمیں بالکل توقع نہیں تھی۔ اُور اِسی  آزمائش کی وجہ سے ہم اپنا سفر شروع نہیں کرپارہے۔۔۔  ہم آپکے پاس  اُسی امتحان سے نکلنے کیلئے حاضر ہُوئے ہیں۔ کیونکہ آپ ہی ہمیں اِس امتحان سے نِکال سکتے ہیں۔۔شیخ فرید  کو اتنی بات کرنے  سے ہی اپنا گلا خُشک ہُوتا محسوس ہُونے لگا۔ اسلئے شیخ فرید نے دُودھ کے گلاس کی جانب ہاتھ بڑھایا۔ اُور چند سانوں میں گلاس خالی کردیا۔

میں نے اِس قافلہ کے متعلق سُنا ضرور ہے۔ اُور میں نے آپکے شیخ کی بھی بُہت تعریف سُنی ہے۔۔۔ لیکن بھلا میں آپکی کیا مدد کرسکتا ہُوں۔کیوں کہ نہ ہی میں کوئی بُہت ذیادہ مالدار آدمی ہُوں۔ اُور نہ ہی  آپکا ہم مذہب یعنی کہ مسلمان ہُوں۔۔ میں ایک سیدھا سادھا سا یہودی ہُوں جو صرف اپنے کام سے کام رکھتا ہے۔۔۔ آپ لوگوں کو میرے متعلق شائد کوئی غلط فہمی ہُوئی ہے۔ بُوڑھے یہودی نے صاف گوئی کا مظاہرہ کرتے ہُوئے کہا۔

ہمیں آپ سے کسی قسم کی کوئی مالی مدد نہیں چاہیئے۔ اُور نہ ہمیں  آپ سے کوئی سرکاری کام ہے۔بلکہ ہم آپ سے کچھ اُور ہی مانگنے آئے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔   شیخ فرید نے گفتگو کو آگے بڑھانا چاہا لیکن الفاظ اُسکے حلق میں جیسے اَٹک سے گئے ہُوں۔۔۔

آپ لوگ مجھ سے کیا مانگنے آئے ہیں۔۔۔ خُدارا جو کچھ بھی کہنا ہے جلدی کہدیں۔۔۔ آپکی بار بار خاموشی نے مجھ بُوڑھے کے دِل کی دھڑکن بلاوجہ بڑھادی ہے۔۔۔ بوڑھے یہودی کے لہجے سے پریشانی صاف مترشح تھی۔

شیخ محمود نے  اپنا ہاتھ شیخ فرید کے زانوں پر رکھتے ہُوئے آنکھ کے اِشارے سے  گفتگو آگے بڑھانے کیلئے  کہا۔۔۔۔۔۔۔ جسکے بعد شیخ فرید نے گلا کھنکارتے ہُوئے گفتگو کی ابتدا کی۔۔۔۔ جناب والا مجھے بھی اِس بات کا احساس ہے۔ کہ گفتگو کی طوالت ہمیشہ ذہنی کوفت کا پیش خیمہ ہُوتی ہے۔ اِس لئے میں کوشش کرونگا کہ،، غیر ضروری گفتگو سے احتراز برتتے ہُوئے جلد اپنا مقصد  آپکے گوش گُزار کردوں۔۔۔۔ جیسا کہ،، میں پہلے ہی عرض کرچُکا ہُوں۔ کہ ہم  لُوگ ہزاروں کی   تعداد میں اپنے شیخ کے ہمراہ بیت المقدس کی پاکیزہ سرزمین پر عبادت کی خاطر اپنے گھروں سے نکلے ہیں۔۔۔ ہمارے درمیان ایسے صاحب ثروت لُوگ بھی موجود ہیں۔جو شیخ کے ایک اِشارے پر سُونے چاندی کے ڈھیر لگانے پر قادر ہیں۔  اِس کے علاوہ  ہر طبقہ زندگی  کے ماہر حضرات بھی اِس قافلے میں شامل ہیں۔ جو وقت آنے پر اپنے اپنے شعبے میں نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرسکتے ہیں۔

اسلئے ہمیں معاشی یا معاشرتی مسائل کا کوئی خوف دامن گیر نہیں ہے۔۔۔۔ دراصل ہمارے شیخ محترم نے اپنی تمام زندگی نہایت پاکیزگی کے ساتھ بَسر کی ہے۔ مکہ کی سرزمین میں ایک طویل عرصہ آپ نے کعبۃ اللہ کے سائے میں معتکف رہے ہیں۔۔۔ اصفہان سے لیکر سرزمین عرب تک ہمارے شیخ کی کرامات کے قصے مشہور ہیں۔۔۔۔ شیخ صنعان اِمام مکہ کی نگاہ میں بھی بُلند پائے کے عارف ہیں۔ آپ کا عبادت کا ایسا ذُوق حاصل ہے کہ آپ نے کبھی شادی کے متعلق سُوچا بھی نہیں۔ آپ فرماتے ہیں۔کہ انسان کو  اِس دُنیا میں اتنی مختصر زندگی مِلی ہے۔ کہ،،  تمام زندگی  خلوت  نشین رِہ کر بھی عبادت کا حق پُورا کرنا ہی مشکل اَمر ہے۔ تو بندہ دُنیا کے معملات میں اُلجھ کر یہ حق کسطرح اَدا کرپائے گا۔۔۔۔ اِس لئے آپ کبھی کسی عورت کی طرف  ملتفت ہُونا تو کجا،، چہرہ عورت کو دیکھنے کے بھی رَوادار نہیں ہُوئے۔

لیکن۔گُذشتہ دِنوں جب شیخ محترم پہلی مرتبہ تبوک شہر میں داخل ہُوئے، اُور جب آذان دینے کیلئے مینار پر تشریف لائے۔ تب آپکی خُوش  بختی کا ستارہ جاگ اُٹھا۔ اُور ہمارے شیخ محترم کی نِگاہ آپکی صاحبزادی پر پڑگئی۔۔۔ نجانے قُدرت کو کیا منظور ہے۔ لیکن آپ  واقعی بُہت خُوش نصیب ہیں۔ کہ،، ہمارے شیخ کو آپکی صاحبزادی پسند آئی ہیں۔ اُور آپ نے فیصلہ کیا ہے۔کہ،، بقیہ زندگی مجرد رِہنے کے بجائے نِکاح کی سُنت پر عمل پیرا  رَہینگے۔

شیخ فرید کے خاموش ہُوتے ہی یہودی نے سپاٹ لہجے میں کہا!!! مجھے  ایک  بات سمجھ  نہیں آئی۔کہ،، میرے لئے اِس بات میں کونسی سعادت مندی  اُور خُوش نصیبی پُوشیدہ  ہُوسکتی ہے۔ کہ،، ایک ایسا انسان جو جوانی کی سرحد کو عبور کرنے کے بعد بُڑھاپے کی دہلیز میں قدم رَکھ چکا ہے۔۔۔۔ وُہ میری بیٹی پر عاشق ہُوچکا ہے۔ اُور میری جوان بیٹی کو اپنی شریک حیات بنانا چاہتا ہے۔۔۔ جبکہ وُہ شخص  صرف بُوڑھا ہی نہیں۔ بلکہ اُسکا مذہب بھی ہمارے مذہب سے جُدا ہے۔۔۔۔ میرے خیال میں کسی شخص کے گھر  اُسکی بیٹی کیلئے ایسا رشتہ آنا،  شرمندگی 
کا تُو باعث ضرور ہُوسکتا ہے۔لیکن سعادت و خُوش بختی کا پیش خیمہ نہیں۔۔۔

جاری ہے۔