bing

Your SEO optimized title page contents

Pages

Hamara Tube Channel

Showing posts with label عاصمہ شوکت خان. Show all posts
Showing posts with label عاصمہ شوکت خان. Show all posts

Thursday, 22 August 2013

مقبوضہ کشمیر میں مسلمانوں کے حالات ۔۔۔۔۔ تحریر عاصمہ شوکت خان



مقبوضہ کشمیر میں مسلمانوں کے حالات کشمیر کی ریاست پاکستان اور انڈیا کے درمیان ایک بہت بڑا مسلہ ہے جو کہ تقسیم برصغیر سے لے کر اب تک بغیر کسی فیصلہ کے ویسے کا ویسا ہےبرصغیر میں نگریزوں کے دور حکومت میں ٦٣۵ ریاستیں جہںاں نواب یا راجے داخلی طور پر حکمران تھے ان میں سے ایک ریاست جموں کشمیر بھی ہے .١٩۴٧ کی مردم شماری کے مطابق کشمیر کی کل آبادی چالیس لاکھ کے قریب تھی ، آبادی کا بہت بڑا حصہ مسلمان آبادی پر مشتمل تھا . برطانوی حکومت نے اس ریاست کو ایک ڈوگرە راجہ گلاب سنگھ کے ہاتھ صرف ٧۵ لاکھ میں فروخت کر دیا تھا . ڈوگرە گلاب سنگھ اسکے جانشینوں نے مسلم رعایا پر ظلم جبر کے پہاڑ توڑے . معمولی جراٴم کی پاداش میں مسلمانوں کو کڑی سزاٴیں دی گئیں، تنگ آ کر ١٩٣٠ میں کشمیری مسلمانوں نے ڈوگرە راجہ کے خلاف آزادی کی تحریک شروع کر دی اور راجہ نے بھارت کے ساتھ الحاق کر لیا تب کشمیری عوام نے راجہ کے خلاف ہتھیار اٹھاۓ اور کشمیر کا کچھ حصہ حاصل کر لیا جو کہ آزاد جموں کشمیر کی شکل میں دنیا کے نقشے پر ظاہر ہوا اور باقی حصہ پر بھارت نے اپنی افواج بھیج کر قبضہ کر لیا . اب کشمیر ایک ایسا خطہ ہے جہاں پر سات لاکھ سے زائد بھارتی افواج موجود ہیں . بھارتی فوجوں کے مسلمان کشمیریوں پر ظلم و ستم نسل کشی کی حد تک پہنچ گۓ ہیں کشمیر کی یہ حالت سٹیٹ سپونسرڈ ٹیروریزم کی بہت بڑی شکل ہے. کشمیر کے لوگ ایکطرف تو بھارتی افواج کا ظلم و تشدد برداشت کر رہے ہیں اور دوسری طرف یونائیٹڈ نیشنز کی سیکیورٹی کونسل کشمیری عوام کو بغیر کسی خوف و حراس اور ظلم و ستم کے بہتر مستقبل کا وعدە کر رہی ہے جبکہ حقیقت میں کشمیری عوام کی امن حاصل کرنے کی کوششوں اور ان کے بنیادی انسانی حقوق کو بہت بری طرح سے پامال کیا جا رہا ہے یہ لوگ مسلسل بھارتی افواج کی بربریت کا شکار ہیں . بنیادی انسانی حقوق کے تمام چارٹر جن میں " ڈیکلریشن آف ہیومن رائٹس " ( ) اور "ہیومن رائٹس کوونینٹ" ( ) شامل ہیں سب بہت بری طرح سے پامال ہو رہے ہیں انڈیا کی افواج کشمیر کے اردگرد ایک لوہے کی دیوار کی طرح کھڑی ہیں جو کہ تمام بین الاقوامی بنیادی انسانی حقوق کی تنظیموں کو کشمیر کے اندر جانے کی راە میں رکاوٹ ہیں جبکہ ان تمام رکاوٹوں کے باوجود کچھ تنظیمیں ایسی ہیں جو کہ کشمیر کے اندر جا کر وہاں کی عوام کے پرتشدد پر رپورٹ ہر دوسرے دن پیش کر رہی ہیں مگر بھارتی افواج کے خلاف انٹرنیشنل لیول پر کوئ ایکشن نہیں لیا جا رہا، یہاں تک کہ انٹرنیشنل کمیونٹی میں نہ تو کسی نے اس رویہ کو برا کہا ہے اور نہ ہی اسے روکنے کی کوئ خاطر خواە کوشش کی ہے. کشمیر میں بنیادی انسانی حقوق کی پامالی ١٩٨٩ سے شدید حد تک بڑھ گئ ہے جس کی وجہ یہ ہے کہ کشمیری عوام پاکستان سے الحاق چاہتی ہے. اکتوبر ١٩٦٦ میں جموں کشمیر کے ہائ کورٹ کے جج نے کہا کہ ریاست میں قانون کا اصول اور استعمال ختم ہو چکا ہے اور دوسری طرف بھارتی حکومت کا دعوی ہے کہ بھارت کی جموں و کشمیر کے حوالے سے پالیسی بہت شفاف اور کھلے ذہن کی ہے جبکہ بھارت ہر طرح سے یونائٹڈ نیشنز کے پیش کردە طریقہ امن سے کوئ بھی تعاون کرنے سے انکار کر رہا ہے اسکا یہ انکار ہمیشہ سے برقرار ہے. بھارت کسی بھی بین الاقواممی تنظیم کو کشمیر میں بنیادی انسانی حقوق کا سروے کرنے کی اجازت نہیں دے رہا. مقبوضہ کشمیر میں تحریک آزادی کو کچلنے اور کشمیریوں کو دبانے کے لۓ متعددبدنام کالے قانون نافذالعمل ہیں ٹاڈا نیشنل پاور ایکٹ ، پونا نیشنل سیکیورٹی ایکٹ شامل ہیں ان ایکٹس کے تحت کشمیری عوام کے حقوق کی پامالی سرعام کی جا رہی ہےجبکہ ان سب حالات پر حقوق انسانی تنظیموں نے آنکھیں موند رکھیں ہیں . ٹاڈا جیسے کالے قانون کا نفاذ١٩٨۵ میں عمل میں لایا گیااور اسکے تحت بھارتی افواج کو سپیشل اختیارات دئیے گۓ کہ وە کسی بھی نہتےمظلوم کشمیری کو بغیر کسی وجہ کے ایک سال کے لیۓ جیل بھیج سکتے ہیں مقبوضہ علاقے میں سے ٹاڈا کے تحت ٧٧٢ افراد کو حراست میں لے کر بھارت کی مختلف جیلوں میں بھیج دیا گیا،اسکے ساتھ سپیشل پاور ایکٹ جو کہ ١٩٩٦ میں نافذ کیا گیا اس ایکٹ کے تحت بھارتی افواج کو کشمیریوں کی املاک تباە کرنے ، خواتین کی عصمت دری بے گناە افراد کی گرفتاری کے اختیارات دئیے گیۓ . اس کے بعد بدنام زمانہ قانون پونا ٢٠٠٠ کے تحت بھارتی افواج کو اضافی اختیارات دئیے گۓہیں اسکے تحت بھارتی افواج کسی بھی بے گناە کشمیری پر مسلک ہتھیار رکھنے کا الزام عائد کر کے اسے انسداد دہشت گردی کی شے میں بغیر مقدمہ چلاۓ تین ماە کے لیۓ جیل بھیجا جا سکتا ہے. ١٩٨۵ سے لے کر اب تک ٦٩٦۵ افراد ناجائز حراست میں ہیں . سفاک فوج دس ہزار نوجوانوں کو اغواٴ کر کے گمنام قبروں میں ابدی نیند سلا چکی ہے. ٩٢ ہزارخواتین بیوە اور ایک لاکھ سے زائد بچے عالمی طاقتوں کے غیر منصفانہ رویےکی وجہ سے باپ کی شفقت سے محروم یتیمی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں . ایک سروے کے مطابق مقبوضہ علاقے ہانڈی پورە ، بارە مولا اور کپواڑە کے ۵۵ دیہاتوں میں ٢٧٠٠کے قریب گمنام قبریں دریافت ہو چکی ہیں ،. اکتوبر ١٩٨٩ سے اب تک ٣٨٠٠٠ سے زائد کشمیری بھارتی افواج کے ہاتھوں مارے جا چکے ہیں ( ) نیشنل ہیومن رائٹس کمیشن ١٩٩٦۔١٩٩٧ کے مطابق ١٣٧۵ کشمیری مارے گۓ اور ٢٢٣١ کشمیری ١٩٨٨سے ٣٠ اپریل ١٩٩٧ کے درمیان زخمی ہوۓ . قابل اعتماد پریس رپورٹس کے مطابق ١٩٩٧ میں ١١١۴ ملیٹیٹ افراد مارے گۓ. ١۵ اکتوبر ١٩٩٦ کی ایمنیسٹی انٹرنیشنل پریس کی رپورٹ کے مطابق بھارتی حکومت ، جموں کشمیر میں انسانی حقوق کی بہت بری طرح سے پامالی کر رہی ہے اور اس رپورٹ کے مطابق ٢٠٠ شہریوں کو ناجائز حراست میں لے کر مار دیا گیا اور ۵٠٠، ٦٠٠افرد کو غائب کر دیا گیا، جو کہ ابھی تک لاپتہ ہیں بہت ساری رپورٹس کے مطابق کشمیری افراد جن میں زیادە تر مسلمان ہیں بھارتی افواج کے شدید تشدد کا نشانہ ہیں گزشتہ دو عشروں میں حراست اور جعلی مقابلوں کے درمیان ہزاروں افراد کو شہید کیا جا چکا ہے لیکن ان کے کے بارے میں تاحال کوئ تحقیقات نہیں کی گئ ہیں اکتوبر ١٩٨٩ سے لے کر اب تک ۵٠٠٠ خواتین کو زیادتی کا نشانہ بنایا جا چکا ہے . ایک رپورٹ کےمطابق ٢٣ فروری ١٩٩١ میں ایک بہت خاص واقعہ پیش آیا جس کے مطابق جموں کشمیر کے ایک گاوٴں کو نان فاسفوواە میں ٨٠٠٠ بھارتی فوجیوں نے گاوٴں پر قبضہ کر کے مردوں کو حراست میں لے لیا اور گھروں میں گھس گۓ اور اس رات میں ٢٣ سے ٦٠ عورتوں کو زیادتی کا نشانہ بنایا گیا . وہاں پر یہ واقعات بھی دیکھنےمیں آۓ ھیں کہ جوان لڑکیوں کو کچھ دن کے لیۓبھارتی افواج کے اڈے پر لیجایا جاتا ہے وہاں پر انہیں زیادتی کا نشانہ بنایا جاتا ہے اور پھر انہیں مار دیا جاتاہےیاپھر گھر واپس چھوڑ دیا جاتا ہے جن میں سے کچھ حاملہ ہونے کی صورت میں خودکشی کر لیتی ہیں زیادە تر بھارتی افواج ہی کشمیری خواتین کو زیادتی کا نشانہ بناتے ہیں نہ کہ دوسرے میلٹیٹ . زیادە تر یہ واقعات پیش آتے ہیں تب فوجی مایوسی کاشکار ہوں یا پھر شراب کے نشہ میں . بھارتی افواج کے تشدد کا نشانہ وە لوگ بنتے ہیں جو آزادی کی تحریکوں میں حصہ لیتے ہیں اور جو پاکستان کی حمایت کرتے ہیں . بھارتی افواج تشدد کے بہت سارے طریقے استعمال کرتے ہیں جن میں بے رحم مار پیٹ ، بجلی کے جھٹکے ، جسم کے اعضاٴ کو کاٹنا خاص طور پر ہاتھ اور پاوٴں کے انگھوٹوں سے جسم کو دو حصوں میں تقسیم کر دینا . جلا دینا ، جنسی خوف و حراس پھیلانا اور زیادتی کا نشانہ بنانا،وغیرە ٢٧مارچ ١٩٩٦ کو انسانی حقوق کے وکیل جلیل اندرابی کی لاش دریاۓ جہلم میں پائ گئ مگر اسکے قاتلوں کو کوئ سزانہیں دی گئ. جنوری ١٩٩٨ میں ١١ افراد جن میں عورتیں اور بچے بھی شامل تھے کو جموں کشمیر کے گاوٴں کادرانہ میں آگ لگا کر جلا دیا گیالیکن اب تک ان کے قاتل بھارتی افواج کو کوئ سزا نہیں دی گئ اس طرح کے تشدد کے واقعات آۓ روز پیش آتے ہیں مگر اس پر کوئ تنظیم کام نہیں کر رہی، مظلوم کشمیریوں کے قاتل سر عام پھر رہے ہیں تشدد کے واقعات میں یہ طریقہ بہت دیکھنےمیں آیا ہے کہ لوگوں کی ٹانگوں کو لکڑی سے دبا دیا جاتا ہےجس سے انکے مسلز ڈیمج ہو جاتے ہیں جو کہ گردوں کے فیل ہونے کا سبب بنتے ہیں ڈاکٹرز کے مطابق ١٩٩٠ تک ٣٧ افرد گردوں کے مرض میں مبتلا تھے جو کہ اب تک لا تعداد ہو چکے ہیں انڈین فورسز کے تشدد کی وجہ سے ٧۵ لاکھ افراد ذہنی مریض بن چکے ہیں ٦ لاکھ سے زائد افراد معزور ہو چکے ہیں ٢ لاکھ ٨ ہزار افراد بینائ سے محروم ہو چکے ہیں رپورٹ کے مطابق ١٩٩٠ سے ٢٠٠١ تک مقبوضہ علاقے میں ظلم و تشدد کی وجہ سے ذہنی اور جسمانی امراض کے شکار افراد میں مسلسل اضافہ ہو رہاہے مقامی ماہر نفسیات کے مطابق ہر چھٹا کشمیری کسی نہ کسی نفسیاتی بیماری کا شکار ہے انڈین افواج کا تشدد صرف افراد، گھروں ،سڑکوں یا جیلوں تک محدود نہیں بلکہ یہ لوگ نہ صرف ہسپتالوں میں توڑ پھوڑ کرتےہیں بلکہ وہاں پر ملیٹینٹ زخمی افراد کو مار دیتے ہیں یا پھر اپنی حراست میں لے لیتے ہیں اس کے علاوە وہاں پر موجود ڈاکٹرز اور ہسپتال کے دوسرے عملہ کو ڈراتے دھمکاتے ، تشدد کرتے اور کبھی مار بھ دیتےہیں سچ تو یہی ہے کہ بھارتی افواج کو کوئ سزا نہیں دی جاتی . آزادی کی تحریکوں یا انکوائری اور رپورٹس لکھ کرکشمیری عوام کو ان کے بنیادی حقوق اور آزادی نہیں دلائ جا سکتی.

Friday, 7 June 2013

قادیانیوں سے دوستی کیسی ؟؟؟


قادیانی مُرتدین جماعت کا نام ہے۔ اورانکا مذھب  اِسلام نہیں بلکہ قادنیت ہے۔ یہ مسلمانوں کو دُھوکہ دینے کیلئے  خُود کو عام طور پر مرزائ اور احمدی کہتے ھیں۔۔۔ مگر میں تو ان خبیثوں کو احمدی کھنے کے حق میں نھیں ہُوں۔ کیونکہ احمد تو ھمارے نبی پاک صلی الله تعالی علیہ وآلہ وبارک  وسلم کا آسمانی اِسم مبارک ہے۔
.
قادیانیوں کا لیڈر غلام احمد  ملعون  تھا  جسکا تعلق قادیان سے تھا۔  جو کہ مسلمانوں کا ایک بُہت بڑا غدار تھا۔ اس نے ١٨۵٧ کی جنگ آزادی میں انگریزوں کی بُہت حمایت اور مدد کی تھی۔۔۔ ، اس نے اپنی اسلام خلاف تحریک کا آغاز ١٨٨٩ میں ھندوستان کے علاقے قادیان سے کیا،۔۔۔ اسے ہی اپنا صدر مقام بنایا۔ اور پاکستان کے قیام کے بعد شمالی علاقہ جات میں ربوٰە کے مقام پر بھی ایک برانچ بنا لی اور ساتھ ہی بنوت کا دعوی کر دیا ۔۔۔ یہ کبھی  خود کو حضرت عیسی علیہ اسلام بتاتا اور کبھی امام مہندی ہُونے کا دعوی کرتا۔۔۔ اور کبھی ولی الله اور کبھی نیا نبی ہُونے کا جھوٹا دعوی کرتا . ... الغرض اسکے تمام دعوے جھوٹے ھیں کیونکہ،، حدیث مبارکہ سے یہ بات ثابت ہے کہ،، نبی پاک صلی الله تعالی علیہ وآلہ وسلم کے بعد کوئ نبی یا رسول نھیں آۓ گا۔
 .
رسول پاک صلی الله تعالی علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ "تمام انبیاء اکرام جو کہ کم وبیش ایک لاکھ چوبیس ھزار ھیں۔ وە سب مل کر ایک عمارت ھیں اور اس عمارت کی ایک اینٹ باقی تھی وە میں ھوں۔۔۔ اور میرے آنے سے یہ عمارت مکمل ھو گئ ھے۔ اب میرے بعد کوئ نبی یا رسول نہیں آۓ گا۔۔۔"
"امام ابو حنیفہ ؒ کے زمانے میں یک شخص نے نبوت کا دعوی کیا اورکہا کہ،، مجھے موقع دُو میں اپنی نبوت کی علامت پیش کروں اس پر امام ابو حنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا کہ،، جو شخص  جُھوٹی نبوت کا دعویٰ کرنے والے سے نبوت کی دلیل طلب کرے گا وە بھی کافر ھو جاۓ گاکیونکہ ،،رُسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم نے فرمایا میرے بعد کوئ نبی نہیں۔۔۔

جبکہ قادیانی جسےاپنا نبی مانتے ھیں وە تو خبیث قضاۓ حاجت کے وقت گندگی میں لتھڑ کرمَرا تھا۔۔۔ مگر اُس کے پیروکارں کو پھر بھی سمجھ نہیں آتی۔۔۔ان باتوں سے یہ تو پتہ چل گیا۔ کہ یہ قادیانی مرتد ھیں۔۔۔ اور دائرا اسلام سے خارج ھیں . اسلامی جمہوریہ اِسلام پاکستان کے١٩٧٣ کےآئین کے مطابق قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دیا جا چکا ھے۔ یہ اب پاکستان سے عرب شریف کا ویزا نہیں لے سکتے، اس بات کے لیےٴ میں حکومت پاکستان اُور خاص طور پر علماء کرام  کو سراھتی ھوں۔ جنکی انتھک کوششوں کی وجہ سے مسلمانانِ ہند کو اِس فتنے سے پناہ  مِلی۔

.
اب میری ایک دوست کہتی ھے کہ ھم کسی جماعت کو بُرا نہ  کہیں چاھے۔۔ وە ھمارے ھم جماعت ھوں یا نہ ہُوں۔۔۔ ، مگر یہ بات دوسرے مذاہب کے لیےٴ شائد مان بھی لی جاۓ ۔۔مگر ان خبیث قادیانیوں کے لیےٴ بالکل بھی میں نہیں مان سکتی ۔۔۔ کیونکہ یہ لُوگ نا صِرف آستین کے سانپ ہیں۔۔۔ بلکہ شدید گستاخ رسول ہیں ۔صلی الله تعالی علیہ وسلم۔
 .
بلکہ اِنہوں نے تو اُس پاک ذات کی گستاخی کی ہے۔ جو محبوب خدا عزوجل ہیں جنکی خاطر رب عزوجل نے اس کائنات کو بنایا جس پاک ذات کا نام بابا آدم علیہ السلام نے پیدائش کے فوراَََ بعد عرش مولی پر لکھا دیکھا ۔۔۔ ارے اس پاک ذات صلی الله علیہ وسلم کی وجہ سے تو انسانوں کو اشرف المخلوقات کا لقب دیا گیا.۔۔۔ وُە تو سرور کائنات ھیں  سیدُ الانبیاء ہیں۔ مُحسنِ انسانیت ہیں  ۔ اُور ٖفخرِ موجودات ہیں۔۔۔

اب جو کوئی بھی رب عزوجل کے محبوب اعظم صلی الله علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کرے گا وُە اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنا رھا ھے۔
اور مسلمان ہُونے کےناطے  بطُور غلام ہمارے ایمان کا تقاضا تو یہ ھے کہ،، رسول پاک صلی الله تعالی علیہ وسلم کے اس فرمان کو سمجھیں کہ " کسی مومن کا ایمان تب تک مکمل نھیں ہُو سکتا۔۔۔ جب تک میں اسے اسکی جان ، مال،عزت اور ہر چیز سے بڑھ کر عزیز نہ ہُوجا ٴوں۔۔۔

اب اس حدیث مبارکہ کو ذہن میں رکھتے ھوۓ ہم اپنا محاسبہ کر لیں۔ تو ہمیں پتہ چل جاۓ گا۔ کہ ایک طرف تو ہم رسول پاک صلی الله تعالی علیہ وسلم سے محبت کا دعوی کرتے ھیں اور دوسری طرف ان مرتدوں اور گستاخوں سے دوستی بھی رکھتے ھیں۔۔۔ تو یہ کیسی محبت ھے؟؟؟؟؟؟؟ کیا ہمارا یہ عمل سرور کائنات کا دِل دُکھانے کیلئے کافی نہیں۔۔۔ اُور کل بروزِ حشر ہم کس چہرے کیساتھ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں شفاعت کیلئے حاضر ہُونگے۔۔۔ اگر کریم آقا علیہ السلام نے اُس وقت ناراضگی سے چہرہ انور کو پھیر لیا تو ہم کہاں جائینگے۔۔۔؟


عشق قاتل سے بھی ، مقتول سے ہمدردی بھی
یہ بتا کس سے محبت کی جزاٴ مانگے گا؟؟؟
سجدە خالق کو بھی ، ابلیس سے یارانہ بھی
حشر میں کس سے عقیدت کا صلہ مانگے گا؟

ہمیں اس بات کو بھی ذھن میں رکھنا چاھۓ کہ رسول پاک صلی الله تعالی علیہ وسلم ھی ھمارے ہادی اور غم خوار ھیں۔ آپ صلی الله تعالی علیہ وسلم نے ہی روز قیامت ہماری شفاعت فرمانی ھے۔۔۔ مگر جب ہم یہاں اس دنیا میں آپ صلی الله تعالی علیہ وسلم کے دشمنوں اور گستاخوں کے ساتھ روابت و تعلقات اور دوستیاں بنائیں گے تو قیامت کے دن کیسے رسول پاک صلی الله تعالی علیہ وسلم کی شفاعت کے حقدار بنیں گے؟ اگر وہاں آپ صلی الله تعالی علیہ وسلم کا سھارا بھی نہ ملا۔۔ پھر تُو یقیناً ھم ہی مارے جائیں گے . ھمارے اندر اتنی طاقت  کہاں کہ،، رب عزوجل کی ناراضگی کو برداشت کر پائیں۔
 .
اس لۓ ہماری بہتری تو اسی میں ھے۔۔۔ کہ اس دنیا میں اُن مرتدوں کے مخالف جا کر اور رب عزوجل اور اسکے رسول پاک صلی الله تعالی علیہ وسلم کے احکامات پر عمل کر کے اپنی دنیا اور آخرت سنوار لیں اور روز قیامت ہُونے والی شرمندگی سے بچ جائیں۔
.
بطور مسلمان مجھ پر فرض ھے کہ میں اپنے علم کےمطابق جتنا میں قادیانیوں کی چالوں کو جانتی ہُوں۔۔ آپ سب کو بھی آگاہی دوں ۔ اے کاش کہ،، اِسی بہانے سرور کائنات محمد مصطفی صلی الله تعالی علیہ وسلم کی مجھ گنہگار پر رحمت کی نظر پڑ جاۓ۔۔۔ اور میرا گناہوں کے بار سے ڈگمگاتا سفینہ پار لگ جاۓ۔۔۔ آمین بجاہِ النبی الا مین صلی الله تعالی علیہ وسلم

عام طور پر قادیانی لوگ جو چالاکیاں اور پھانسنے کے طریقے استعمال کرتے ھیں ۔ اُن میں سے کُچھ یہ ھیں۔۔۔
معاشی کفالت: قادیانیوں کا پورا ایک نیٹ ورک ھےجسکی شاخیں دنیا کے اکثر ممالک میں پائ جاتی ھیں انکی اکثریت پاکستان، انڈیا اور کینیڈا  اُور جرمنی میں پائ جاتی ھے. یہ خبیث معاشی طور پر کافی خوشحال ھیں، یہ لوگ غریبوں کو پیسے کا لالچ دے کراپنے مذھب میں داخل کرتےھیں اور کبھی دوسرے مذاھب میں شادیاں رچا کر اُن لوگوں کو اسلام کے نام پر مرتد بنادیتے ہیں۔
 .
یہ لوگ لوگوں کو فری کیمپ لگا کر کھانا اور ادویات دے کر ھمدردی حاصل کرتے ہیں۔ اُور انہیں اپنے مذھب میں شامل ھونے کی دعوت دیتے ھیں۔۔۔. اسکے علاوە یہ لوگ تعلیم کو بھی ہتھیا ر کے طور پر استعمال کر رھے ھیں ، انھوں نے ربوٰە کے مقام پر ایسا میڈیکل کالج بنایاھے۔۔ جھاں پر بچوں کو ایف۔ایس۔سی کے بعد ڈائریکٹ سپشلسٹ کی تعلیم دینا شروع کر دی جاتی ہے۔ تا کہ،، آگے جا کر یہ لوگ جلد از جلد اپنے پیشے کے ذریعہ سےمزید  نئےلوگوں کو پھانس سکیں۔۔۔
 .
حسن اخلاق کے نام پر لُوگوں کی چاپلوسی کرنا: دوسری چالاکی ہے جو  قادیانی کثرت سے استعمال کرتے ھیں وە اپنے بچوں کی تربیت کچھ ایسے انداز میں کرتے ہیں۔کہ،، لُوگوں کی چاپلوسی کرنا اِن کے رَگ و پے میں رَچ بس جاتی ہے۔۔۔ جسے عام لُوگ حسنِ اخلاق سمجھ کر اِنکے دامِ فریب میں پھنستے چلے جاتے ہیں۔
.
 چہرے پر  نادانی اُور بُھولپن کا جال سجائے رکھنا: تیسری چالاکی جو یہ قادیانی کرتےھیں وە انکی بناوٹی معصومیت ھے۔ان خبیث لوگوں سے جب کہا جاتاھے کہ تم اپنے مرتد لیڈر کی گندی اور غیر اخلاقی حرکتوں سے واقف ھو۔۔ تو یہ لوگ کہتے نظر آتے ھیں۔ کہ ھم تو ایسا کچھ نھیں جانتے۔۔۔ تب میرا دل چاھتاھےکہ ،، کاش زمین پھٹ جائے اُور یہ تمام غلیظ لُوگ جو نادان بننے کی اداکاری کررہے ہیں۔ زمین میں عذاب پانے کیلئے سَما جائیں۔
 .
آخر میں میں بس یہی کہنا چاھتی ھوں کہ میں یہ تحریر الله عزوجل اور اسکے مدنی محبوب صلی الله تعالی علیہ وسلم کی رضا حاصل کرنے کی خاطر لکھی ہے۔۔۔الله عزوجل اسےقبول فرماۓ آمین بجاہِ  النبی الا مین صلی الله تعالی علیہ وسلم . جزاک الله

Monday, 20 May 2013

بابا فرید گنج شکر کیوں کہلائے۔ عاصِمہ شوکت


بابا فرید رحمتہ اللہ  علیہ برصغیرکے اُولیائے کرام  کی فہرست میں ایک نمایاں حیثیت رکھتے ہیں۔آپکی ولادت مبارک ۵۸۹ھ میں ہُوئی اور وصال ۶۶۶ھ میں ہوا ۔آپکا خاندانی نام فرید الدین مسعود ہے اور والدہ کا نام قرسم خاتون ؒ اور والدمحترم قاضی جلال الدین ہیں ۔بابا فرید پانچ سال کی عمر میں یتیم ہو گئے تھے ۔


بابا فرید کو گنج شکر کے لقب سے یاد کیا جاتا ہے انکا یہ لقب گنج شکر کیوں پڑا؟ اسکے بارے میں مختلف کتابوں میں مختلف روایات پائی جات ہیں ۔۔۔۔ روایت ہے کہ بابا فرید ؒ کو گنج شکر پہلی مرتبہ انکی والدہ صاحبہ نے کہا۔ قرسم خاتون بہت ہی عبادت گزار ،پرہیزگار ،نیک خاتون تھیں وہ اپنی بیوگی میں بھی اپنے بچوں کی بہت اچھی تربیت کرتی رہیں ۔  آپکی ایک کرامت کا تذکرہ اکثر معتبر تواریخ میں موجود ہے ۔ کہ ایک مرتبہ  آپکے شہر میں قحط پڑگیا۔ جب کئی برس تک بارش کے آثار نظر نہ آئے ۔ تو آپکے شہر کے لوگوں نے اپنی ازواج کو آپکے پاس دُعا کیلئے بھیجا۔ آپ کی والدہ نے خواتین کے اِصرار پر  اپنے صِحن کی جھاڑو نِکالی۔ اُور ۲ رکعت نفل  ادا فرمانے کے بعد یُوں دُعا فرمائی۔ ،،اے میرے پروردیگار جھاڑو لگا کر صفائی کرنا میرے اِختیار میں تھا ۔سُو میں نے تمام کچرے کو سمیٹ  دِیا۔ اب پانی کے چھڑکاوٗ کیلئے بارش کی ضرورت ہے۔جو کہ میرے اختیار میں نہیں ہے۔،، کہتے ہیں کہ حضرت قُرسم خاتون کے ہاتھ ابھی بُلند تھے ۔کہ ایسی زُور دار بارش ہُوئی کہ تمام شہر جل تھل ہُوگیا۔

قُرسم خاتون  نے پہلی بار بابا فریدؒ کو نماز پڑھنے کی تلقین کی تو  اپنے جگر پارے کو کچھ اِسطرح سے سمجھایا۔ کہ،، جب چھوٹے بچے اللہ تعالیٰ کی نماز ادا کرتے ہیں تو اللہ تعالیٰ انہیں شکر کا انعام دیتے ہیں اور جب بڑھے ہو جاتے ہیں تو دوسرے بڑے اور مزید انعامات دیئے جاتے ہیں ۔ بابا فرید ؒ جب نمازپڑھتے۔ تو قرسم خاتون چپکے سے انکے مصلے کے نیچے شکر کی پڑیاں رکھ دیتیں اور بابا فرید ؒ وہ شکر کی پڑیاں انعام میں پا کر بہت خوش ہوتے، یہ سلسلہ کافی عرصہ تک چلتا رہا۔ یہاں تک کہ ،، ایک مرتبہ ایسا ہوا کہ قرسم خاتون شکرکی پڑیاں رکھنا بھول گئیں۔ تو اگلے دن اضطراب سے پوچھا کہ اے فرید الدین مسعود کیا آ پکو کل شکر کی پڑیاں کی پڑیاں مل گئی تھیں ؟ تو بابا فرید نے ہاں میں جواب دیا ! تو قرسم خاتون نے اللہ عزوجل کا شکر ادا کیا کہ انکی لاج رہ گئی۔ اور اس بات پر خوشی بھی ہوئی کہ اللہ عزوجل کی طرف سے انعام دیا گیا تب انہوں نے بابا فریدؒ سے کہا کہ اے فرید الدین مسعود آپ تو واقع ہی گنج شکر ہیں۔

روایت میں بیان کیا گیا ہے کہ بابا فرید ؒ کے مرشد کامل حضرت قطب الدین بختیار کاکی نے تین دن کے لیئے ’’ طے‘‘ کا روزہ رکھنے کا حکم دیا ، اس روزہ کی یہ خصوصیت ہے کہ یہ تیسرے دن مغرب کے وقت افطار کیا جاتا ہے، اس روزہ کو چلہ بھی کہا جاتا ہے۔اس کے لیئے گوشہ نشینی اور تنہائی اختیار کی جاتی ہے ۔ اس مقصد کے لیئے غزنوی دروازے کے پاس برج مینار میں بابا فرید نے تنہائی اختیار کی اور اللہ عزوجل کی عبادت میں مصروف رہے اور جب روزہ مکمل ہوا اور افطاری کا وقت ہوا تو انتظار کرنے لگے کہ غائب سے کیا ظاہر ہوتا ہے؟ کیونکہ مرشد کامل کا کہنا تھا کہ کھانا بھی غیب سے دیا جائے گا ۔ اسی دوران وہاں پر ایک شخص کو پتہ چلا کہ ایک نوجوان درویش یہاں برج میں چلہ کش ہے۔ تو اس شخص نے سوچا کہ اس درویش کی خدمت کر کے دعائیں سمیٹ لوں تو وہ پر لطف کھانا لے کر بابا فریدؒ کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپؒ نے اللہ عزوجل کی طرف سے انعام سمجھ کر یہ کھانا تناول فرما لیا ۔تو وہ شخص خوشی خوشی واپس چلا گیا۔اس کے تھوڑی ہی دیر بعد بابا فرید ؒ کے شکم میں درد اٹھا اور قے آ گئی اور کھانے کا ایک زرہ بھی پیٹ میں نہ بچا۔تو آپ ؒ نے پانی پی کر گزارہ کیا اور تو آپ ؒ نے پانی پی کر ساری رات عبادت میں مصروف ہو گئے صبح مرشد کامل کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ اور رات کا سارا واقع گوش گزار کر دیا تو انہوں نے بتایا کہ وہ آدمی جو کھانا لایا تھا وہ آدمی شراب اور بدکاری کا عادی ہے۔ تو اس کا لایا ہوا کھانا بھی بابا فریدؒ کے لئے کھانا مناسب نہ تھا اس لیئے وہ ہضم نہ ہوا تھا ۔ اب اس کھانے کی وجہ سے روحانی طاقت کم ہو گئی تھی ۔اب مرشد کامل نے کہا کہ مولانا ! ’’تمہیں طے کا ایک اور روزہ رکھنا ہو گا‘‘ اور ا س بار انسان کے لائے ہوئے کھانے کا انتظار نا کرنا اور غائب سے جو میسر ہو اسی سے افطار کر لینا۔
  
بابا فرید ؒ اپنے مرشد کامل کا حکم بجا لائے اور دوبارہ سے طے کا روزہ رکھ لیا ۔اور جب روزہ مکمل ہوا اور افطار کا وقت ہوا تو انتظار کرنے لگے کے کب غائب سے کچھ ظہور ہوتا ہے؟ اسی انتظار میں عشاء کا وقت ہو گیا تو آپ ؒ نے جسم کی تمام تر نقاہت کو نظر انداز کر کے پوری عاجزی اور توجہ سے نماز ادا کی ۔ آپکو اللہ عزوجل پر بھی پورا بھرسہ تھا اور ساتھ ساتھ مرشد کامل کی بات پر بھی یقین تھا کہ غائب سے زرور کچھ ظہور ہو گا ۔ اسی طرح وقت گزرتا گیا اور جب بھی شکم کی آگ زور پکڑتی تو آپ آنکھ کھول کر دیکھ لیتے کہ کچھ حاضر ہوا یا نہیں تو وہاں پر سوائے اندھیرے اور ویرانی کے کچھ نہ ملتا ۔

آدھی رات کے وقت جب برداشت جواب دے گئی کہ چھ دن سے ،مسلسل بھوک کی وجہ سے بہت نقاہت تھی تو بے اختیار اپنے دونوں ہاتھ زمین پر مارے تو ہاتھوں پر کچھ چپک گیا .دیکھا تو سنگریزے تھے آپؒ نے وہ سنگریزے اٹھا کر منہ میں ڈالے تو کچھ مٹھاس کا احساس ہوا تو آپؒ نے وہ تھوک دیئے کہ کہں یہ بھی شرابی کے کھانے کی طرح فریب نہ ہُو۔ دُوبارہ پھر زمین پر ہاتھ مارے تو سنگریزے چھپکے اور جب انہیں منہ میں ڈالا تو شکر کا احساس ہوا تو آپؒ نے وہ اس طرح تھوک دئیے جیسے لقمہ حرام منہ میں چلا گیا ہو۔

تیسری بار بھی سنگریزے کھانے پر یہی واقع پیش آیا کہ سنگریزے شکر محسوس ہونے لگے تو بابا فرید ؒ نے اسے تحفہء غائب سمجھا اور اسکے ساتھ ہی آپ ؒ کو مرشد کامل بختیار کاکیؒ کے یہ الفاظ یاد آ گئے کہ ’’ اے مولانا فرید جو کچھ بھی غائب سے ظاہر ہو.اسی سے افطار کر لینا۔ دُوسرے دن بابا فرید ؒ مرشد کامل کی خدمت میں حاضر ہوئے آپ ؒ کو دیکھتے ہی پیرومرشد نے فرمایا ’’ مولانا فرید! روزہ مکمل ہو گیا۔۔۔؟

جواب میں بابا فرید نے عجیب و غریب واقع سنایا اور سن کر انتظار کرنے لگے کہ حضرت بختیار کاکیؒ اس واقع کی کیا توجیح پیش کرتے ہیں پیرو مرشد نے محبت آمیز نظروں سے بابا فرید ؒ کی طرف دیکھا اور بولے کہ’’ فرزند! اللہ عزوجل اپنے نیک اور فرمابردار بَندوں کو ایسی نشانیاں دیکھاتا ہے۔ وہ سنگریزے حقیقت میں سنگریزے ہی تھے مگر تمہارے لبوں کو چھو کر اپنی فطرت بدل دیتے تھے ۔اور یہ سب اللہ عزوجل کے حکم سے ظہور پزیر ہوا تھا ۔جب روح کثافت کا لباس اتار کر لطافت کی قباء پہن لیتی ہے تو اور مسلسل ریاضت سے نفس کی سرکشی ختم ہو جاتی ہے تو انسان دائمی حلاوت (ابدی مٹھاس) حاصل کر لیتا ہے سنگریزوں کا شکر بن جانا اسی شرینی کی وجہ سے ہے ۔جسے اللہ عزوجل نے اپنی رحمت سے تنہاری روح میں شامل کر دیا ہے ۔فرید تمہیں قدرت کا یہ خاص انعام مبارک ہو کہ آج سے تم ’’ گنج شکر‘‘ بن گئے۔

ایک بار پیرومرشد کی زبان سے یہ الفاظ کیا ادا ہوئے ۔۔۔ بابا فرید قیامت تک کے لیے گنج شکر بن گئے۔بابا فرید گنج شکر بن گئے اور اسکے بعد انکی زندگی میں بہت سے ایسے وا قعات ملتے ہیں۔ جن سے انکے گنج شکر ہونے کے فیض و برکات ظاہر ہوتے ھیں۔ انکی تفصیل پھر کبھی پیش کروں گی ۔انشاء اللہ عزوجل۔

نوٹ: یہ تحریر لکھنے کے لئے مدد خان آصف کی کتاب ’’ اللہ کے سفیر ‘‘  اُور دیگر کتب سے لی گئی ہے۔


یارب دَر فرید کے منگتوں کی خیر ہُو
اِنکے دیار پاک کے رَستوں کی خیر ہُو

خواجہ معین الدین نے دیکھا تو یہ کہا
اے بختیار تیرے مُریدوں کی خیر ہُو

خواجہ نظام الدین اور صابر علاوٗالدیں
گنج شکر کے شیر ہیں شیروں کی خیر ہُو

یہ عشق یہ جنون کِسی کو بھی نہ مِلا
آبِ وَضو کو آنکھ دی چشموں کی خیر ہُو

دیوانگی نے اُنکی ہمیں  اچھا بنادیا
مستی میں جو رہیں تیرے مستوں کی خیر ہُو

مجھ سے ہزاروں سگ ہیں تیرے نام پہ فِدا
تیرے فریدی تیرے فقیروں کی خیر ہُو

مُنکر نکیر نے مجھے دیکھا تُو یہ کہا
منگتا ہے تُو فرید کا تجھ سُوں کی خیر ہُو

ہے اُولیا کی دِل میں محبت اگر تیرے
زِندوں کی خیر ہُو تیرے مُردوں کی خیر ہُو

تُو لکھ رَہا ہے وارثی عشرت جو منقبت
جاگا تیرا نصیب نصیبوں کی خیر ہُو۔

عشرت اقبال وارثی