bing

Your SEO optimized title page contents

Pages

Hamara Tube Channel

Showing posts with label ISHQ KE RANG. Show all posts
Showing posts with label ISHQ KE RANG. Show all posts

Friday, 5 April 2013

عشق کے رَنگ 2 ۔ج۔ فاتح اعظم کی آخری قسط


سیدنا عُمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ جب بیت المقدس کے نذدیک پُہنچے۔ تو حضرت ابو عبیدہ بن جراح اُور حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے بڑھ کر  امیر المومنین سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا استقبال کیا۔۔۔۔ تاریخ شاہد ہے۔ کہ یہ  داستان سفر  اپنے اندر اتنی رعنائی، دلکشی، حیرتوں کے مجموعے سمیٹے ہُوئے ہے۔ کہ اگر   ہمارے کسی حکمران کو کم از کم سرسری انداز میں ہی سہی اِسے پڑھنے کی توفیق مِل جاتی۔ اُور وُہ اِس داستان کے کسی ایک باب کا ہی مُطالعہ کرکے اُس پر عمل پیرا ہُوجاتا۔ تو آج مسلمانوں کی تاریخ کچھ اُور ہی منظر پیش کررہی ہُوتی۔

اِس سفر شام میں نصف دُنیا پر حکمرانی کرنے والی عَظیم ہستی نے  تمام سفر اِس شان سے کیا تھا۔ کہ کبھی سیدنا عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہُ ایک اُونٹنی پر سوار ہُوتے جسکی مہار آپ کے ایک غلام کے ہاتھ میں ہُوتی۔ اُور کبھی غلام اُس اُونٹنی پر مالک کے اِصرار پر سوار ہُوجاتا۔ اُور دنیا کے عظیم ترین فاتح سیدنا عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہُ  کے ہاتھ میں اُس اُونٹنی کی مہار آجاتی۔۔۔ اللہ اللہ چشم فلک نے یہ نظارے کب دیکھے ہُونگے؟؟

بیت المقدس کے  مضافات میں  پُہنچنے سے پہلے ہی سیدنا بلال حبشی اِس قافلے میں جہاد کی نیت سے شریک ہُوچکے تھے۔ اللہ کریم کے مدنی محبوب صلی اللہ علیہ وسلم کے ظاہری وِصال کے بعد سیدنا بلال حبشی رضی اللہ عنہُ نے مدینہ طیبہ سے ہجرت فرمالی تھی۔کہ،، فراق محبوب ﷺ کا غم آپ سے برداشت نہ ہُوتا تھا۔ اُور مدینہ طیبہ اَب جانِ جاناں کے ظاہری  جلووٗں سے محروم ہُوچُکا تھا۔ اُور مدینہ طیبہ کی گلیاں اُور در و بام محبوب صلی اللہ علیہ وسلم کے جلووٗں کو ذہن سے محو نہیں ہُونے دیتے تھے۔

بیت المقدس میں جب سیدنا عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہُ کا قافلہ پُہنچا ۔ اُس وقت ظہر کی نماز کا وقت ہُوچکا تھا۔ بے شُمار صحابہ کرام علیہم الرضوان اِس موقع پر موجود تھے۔ نماز ظہر کی تیاری کا حکم مِلتے ہی چند صحابہ کرام علیہم الرضوان نے سیدنا بلالِ حبشی رضی اللہ عنہ سے گُزارش کی،، سیدی آج وہی اذان سُنادیں کہ،،پھر سے بَزم مصطفی ﷺ کی یاد تازہ ہُوجائے۔ لیکن سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے صاف انکار فرمادیا کہ،، اب مجھ میں اتنی ہمت نہیں کہ،، اَذان دے سکوں۔۔۔ جب سے محبوب کریم ﷺ نے اپنے جلووٗں کو آنکھوں سے پھیرا ہے۔ دِل میں اتنی سکت ہی باقی نہ رہی کہ اُس منظر کی یاد تازہ کراسکوں۔

سیدنا بلال حبشی کے اِنکار نے عشاق کے  آتش شوق کو مزید ہَوا دی۔ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہُ کی بارگاہ میں عرض کی گئی۔کہ،، ہمیں موذنِ رسولﷺ کی آواز میں آذان سننے کی سعادت سے نوازا جائے۔ سیدنا بلال حبشی نے سیدنا عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہُ کے اِصرار پر جب  آذان دینی شروع کی تو گویا عشاق کی عید ہُوگئی۔ آج  سیدنا بلال کی وہی گُداز آواز مدینے کے چاند کی یاد کو دِلوں میں یُوں زندہ کررہی تھی۔ گویا جیسے وِصال یار کے جلوئے چاروں جانب رنگ و نُور کی برسات کے سہانے منظر بکھیر رہے ہُوں۔ اُور جب سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے اشھداَن محمدًالرسول اللہ کی صدا بُلند کی۔ تو شمع رسالت کے پروانوں پر ایک وجد طاری ہُوگیا۔ بے شُمار اصحاب سسکیاں بھر کر یاد مصطفیﷺ میں آنسو بہانے لگے۔ جب کہ،، بے شمار اصحاب کی تو چیخیں بھی بُلند ہوگئیں۔

سیدنا عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہُ جب بیت المقدس کے باہر موجود غازیان اسلام کے خیموں کے قریب پُہنچے تو مجاہدین اسلام نے نعرہ تکبیر و نعرہ رِسالت کے نعروں کی  فلک شگاف گونج میں اپنے امیر المومنین کا ایسا شاندار استقبال کیا۔ کہ،، بطریق قمامہ کو  ایک کلومیٹر کا فاصلہ ہونے کے باوجود یہ نعرے یوں سُنائی دینے لگے۔ جیسے گویا مسلمانوں کی فوج نے بیت القدس کے دروازوں کو اپنے آہنی ہاتھوں سے اُکھاڑ کر شہر کی ہر دَر دیوار پر اپنا تسلط قائم کرلیا ہُو۔ بطریق قمامہ نے ہڑبڑا کر فصیل کا رُخ کیا۔ تو دوسری جانب سیدنا خالد بن ولید  رضی اللہ عنہ  نے جب امیرالومنین سیدنا عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہُ کو ایک ناتواں اُونٹنی پر رفو رَفو لباس میں دیکھا تو عرض کی۔۔۔ عالیجاہ ایک جانب دُنیا کے کتوں کے پاس زرق و برق  ریشمی لباس  و سواری کیلئے بیش قیمت گھوڑے اُور پالکی موجود ہیں۔ تو دوسری طرف آدھی دُنیا پر حکمرانی کرنے والے مسلمانوں کے امیر کا یہ حال ہے۔ کہ ،، نہ جسم پر سلامت لباس ہے۔ اُور نہ ہی کوئی خوبصورت سواری ہے۔

حضورِ والا سفارت کاری اُور برابری کی بنیاد پر مذاکرات کیلئے اگر کچھ مناسب لباس اُور سواری کا انتخاب فرمالیں۔ تو  اِن اہل کتاب پر آپکا ذیادہ اچھا تاثر پڑے گا۔ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہُ تھوڑی سی بحث کے بعد لباس و سواری تبدئل کرنے پر رضامند ہُوگئے۔۔۔۔ آپ کی خدمت میں ایک بہترین پوشاک پیش  کی گئی۔ جو ایک سردار کو قتل کرنے کے بعد حاصِل کی گئی تھی۔۔۔ جب کہ آپ کی سواری کیلئے ایک انتہائی اعلی نسل کے گھوڑے کا اِنتظام کردیا گیا۔۔۔۔ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہُ کے بے مِثال حسن و جمال کو یہ لباس کیا مزید خوبصورتی بخشتے۔ البتہ آپ کے زیب تن فرماتے ہی وُہ لباس مزید جگماتے ہُوئے اپنی قسمت پر رشک کرنے لگا تھا۔۔۔ اُور سواری کا گھوڑا بھی اپنی قسمت پر نازاں تھا۔ کہ دُعائے رسول ﷺ آج اِسکی پیٹھ پر سوار تھے۔

ابھی خیموں سے سیدنا عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہُ نے بمشکل چند گز کا ہی فاصلہ طے کیا ہُوگا۔کہ اچانک گھوڑے کی باگ موڑ کر واپس خیمے کی جانب تشریف لے آئے۔۔۔۔ حضرت سیدنا عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہُ جب گھوڑے کی زین سے زمین پر تشریف لائے تو آپکی چشمان کریم نم تھی۔ جب آپ سے رُونے کا سبب معلوم کیا گیا۔ تو آپ نے اِرشاد فرمایا۔کہ مجھے اللہ کریم کے مدنی محبوب ﷺ کا ایک اِرشادِ مبارک یاد آگیا ہے۔ جسکا مفہوم کچھ یوں ہے۔ کہ،، جسکے قلب میں تکبر کا ایک ذرہ بھی موجود ہُوگا۔ وُہ دُوزخ میں ذلیل کرکے داخل کیا جائے گا۔۔۔۔ مجھے خُوف آتا ہے۔کہ کہیں یہ لباس و یہ سواری مجھ میں تکبر نہ پیدا کردیں۔۔۔ لہذا میں بیت القدس کے بطریق سے اپنے بوسیدہ لباس و کمزور سواری پر ہی مُلاقات کیلئے جانا پسند کرونگا۔۔۔۔ اللہ اللہ۔۔۔ یہ ہیں  سیدنا عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہُ۔۔۔۔۔ جنہیں جنت کی بشارت بھی حاصل ہے۔۔۔۔ اُور جنہیں دیکھ کر شیطان بھی اپنا رستہ بدل لیتا ہے۔۔۔۔ لیکن تقوی کا کیا اعلی مقام ہے۔۔۔ کہ جنہیں وجہ نزول آیات کہا گیا۔۔۔ وُہ اِس بات کی بھی پرواہ رکھتے ہیں۔۔۔۔ کہ تکبر کی ایک چھینٹ بھی اِنکے دامن پر نہ پڑجائے۔۔۔۔ کیونکہ بڑائی تو صرف اللہ کریم کیلئے ہے۔۔۔۔ اُور تکبر تو کبریا کے واسطے ہے۔

جب سیدنا عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہُ اپنے سابقہ لباس کو زیب تن فرمائے اپنی اُونٹنی پر سوار ہُوکر بطریق قمامہ کے رُوبرو پُہنچے تو چند لمحوں میں ہی بطریق قمامہ فاتح اعظم اُور نائب رسول ﷺ کو دیکھ کر پُکار اُٹھا۔ کہ خدا کی قسم یہ وہی صاحب ہیں۔ جنکا حلیہ مبارک اُور انکے اُوصاف حمیدہ کی گواہی  اللہ کریم کی مقدس کتابوں میں مذکور ہیں۔ اُور یوں بیت المقدس کے عظیم الشان قلعے کی چابیاں بطریق قمامہ نے ازخود سیدنا عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہُ کے ہاتھوں میں تھماتے ہُوئے اُنکا عظیم الشان استقبال کیا۔ جسے تاریخ کبھی فراموش نہیں کرپائے گی۔۔۔۔ دُنیا کی نظر میں  سکندر اعظم کو عظیم فاتح کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے۔۔۔۔ لیکن کیا تاریخ کے متوالوں کی نِگاہ سے کوئی ایسا بھی واقعہ گُزرا ہے۔ جہاں اہل شہر کو اپنی فتح کا بھی یقین ہُو۔ اُور جس شہر کی فصیلیں بھی ناقابل تسخیر رہی ہُوں۔۔۔ اُس شہر کے مکینوں نے اپنی تمام تر برتری کے باوجود بھی خود سِپر ڈالی ہُو؟؟؟

اُور اِسی فتح بیت المقدس کی ایک کڑی وُہ واقعہ بھی ہے۔ جو مومن کو فراست کیساتھ آگہی اُور احترام انسانیت کا ایک عظیم الشان سبق سِکھاتی ہے۔۔۔کہ،، جب بطریق قماقمہ نے نماز کا وقت ہُونے پر کلیسائے بیت المقدس میں سیدنا عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہُ سے نماز ادا کرنے کی فرمائش کی۔ تو سیدنا عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہُ کلیسا سے یہ کہہ کر باہر تشریف لے آئے۔کہ،، نماز تو یہاں بھی اَدا ہُوجائے گی۔ لیکن مجھے خوف ہے ۔کہ میرے بعد آنے والے کہیں میری نسبت کی وجہ سے اِس کلیسا کو مسجد میں بدلنے کی کوشش نہ کریں۔۔۔۔ جبکہ میرے کریم آقاﷺ نے ہمیں دیگر مذاہب کی عبادتگاہوں کے احترام کا درس دیا ہے۔

(ختم شُد) 

Saturday, 9 March 2013

عشق کے رنگ (فاتح اعظم ۲ درمیانی قسط)۔




 گذشتہ سے پیوستہ
  
خُواب میں دوسرے ستارے کی پیش قدمی اُور ہمارے شہر تک آمد یہ سمجھانے کیلئے ہے کہ،، پہلا ستارہ یعنی خلیفہ الرسول ﷺ جنہیں صاحب کے نام سے پُکارا جائے گا۔ یہ مصاحب رسولﷺ بھی دُنیا سے پردہ فرماچکے ہیں۔ اُور اب  انہی مصاحب کے رفیق کی حکومت قائم ہے۔ جنکے دُور حکومت میں انبیاٗ کرام کی سرزمین بیت المقدس سے ہمیں ہاتھ دھونا پڑسکتے ہیں۔۔۔

بطریقِ اعظم قمامہ  کی گفتگو نے تمام حاضرین کو غَم  وغصے کی جیتی جاگتی تصویر بنا ڈالا تھا۔۔۔ ایک جذباتی معمر بطریق سے یہ سب کچھ سُن کر رَہا نہ گیا۔ تو وُہ کھڑا ہُو کر جذباتی انداز میں کہنے لگا۔۔۔ اِس کا مطب یہ ہُوا کہ،، سرزمین بیت المقدس جس پر صدیوں سے ہمارے آباء  کا تسلط قائم تھا۔ ہم تھالی میں سجا کر آنے والی غیر قوم کے حوالے کردیں۔۔۔؟  اگر وُہ ایک نبی ﷺ کے وارث ہیں تُو کیا ہم انبیا ٗ کی مقدس  سرزمین کے وارث نہیں ہیں۔؟ کیا ہمارے پاس دُنیا کی بہترین فوج موجود نہیں ہے۔۔۔؟ کیا ہمارا شہر ناقابل تسخیر نہیں ہے۔۔۔ اُور کیا ہم نے قلعہ میں ایک برس کا اِضافی اناج اُور پانی کی جھیل  یہی دِن دیکھنے کیلئے بنائی تھی۔ کہ کچھ  بیرونی دُنیا کے لُوگ ہم پر حملہ کریں اُور ہم نَامَردوں کی طرح اپنا شہر اُنکے حوالے کردیں۔۔۔ معمر بطریق کی جذباتی تقریر سے سامعین کا سَرد خون بھی ایک مرتبہ پھر جُوش مارنے لگا تھا۔۔۔

اب مزید پڑھیئے۔

بطریق اعظم قمامہ نے حالات کو بدلتا دیکھ کر نفرت سے بوڑھے بطریق کو جھڑکتے ہُوئے بیٹھنے کا اِشارہ کرتے ہُوئے اپنی گفتگو کا آغاز کرتے ہُوئے سامعین کو متوجہ کیا۔۔۔۔ میرے بچوں! میرا مقصد ہر گز یہ نہیں تھا۔ کہ ہمیں بیت المقدس سے دستبردار ہُوجانا چاہیئے۔۔۔ بلکہ میں صرف تمہیں اُس خطرے سے آگاہ کرنا چاہتا تھا۔۔۔ جسکی بو میں ایک مہینے سے محسوس کررہا ہُوں۔۔۔ یہ وقت جذبات کی رُو میں بہہ جانے کا ہر گز نہیں ہے۔ اگر ہم نے دانشمندی سے اِن حالات سے نمٹنے کی کوشش نہ کی تو  تاریخ ہمیں کبھی معاف نہیں کرے گی۔۔۔ کیونکہ اِس مرتبہ ہم پر جو انسان حملہ آور ہُونے والا ہے۔ اسکا مقابلہ کرنے کی ہمت دُنیا میں کسی قُوم کو نہیں ہے۔ کیوں کہ اِس انسان کو بادشاہت کی ہَوس نہیں ہے۔ اُور نہ ہی یہ ہستی اپنی ناموری کی خُواہشمند ہے۔ بلکہ یہ وُہ انسان ہے۔ جس سے شیطانی لشکر خوف کھاتے ہیں۔۔۔۔ یہ وُہ انسان ہے۔کہ،، جسکی خُوشی اللہ کو پسند ہے۔۔۔ اُور یہ وُہ ہستی ہے کہ جسکو فرشتے بھی فارِق کے لقب سے جانتے ہیں۔ جسکا مطلب ہے۔ حق و باطل میں امتیاز کرنے والا۔

بطریق اعظم قمامہ کی تقریر نے ایک مرتبہ پھر تمام سامعین  کے دِلوںکو  ایک انجانے خوف سے دُوچار کردیا تھا۔۔۔ بطریق اعظم کے خاموش ہُوتے ہی ایک نہایت سلجھے ہُوئے  بوڑھے تاجر نے بطریق اعظم کی بارگاہ میں کچھ کہنے کی اجازت طلب کرتے ہُوئے عرض کی!!! اے ہمارے رُوحانی باپ ہم یہ تو نہیں جانتے۔ کہ،، ہمارا نجان دُشمن کُون ہے۔۔۔۔؟ اُور وُہ کتنا طاقتور ہے۔۔۔ لیکن یہاں موجود تمام لوگ ایک بات ضرور جانتے ہیں کہ آپ جو کچھ بھی کریں گے۔ یقیناً وہی بات ہم سب  اُور ہماری آنے والی نسلوں کے مفاد میں ہُوگی۔۔۔ اسلئے میں اپنی تاجر برادری کی جانب سے آپکے ہر ایک فیصلے کو من وعن قبول کرنے کا اعلان کرتا ہُوں۔۔۔۔ چند ہی لمحوں میں ایک دوسرے کی دیکھا دیکھی تمام حاضرین نے بشمول فوجی افسران  سبھی نے بُوڑھے تاجر کے قُول کی توثیق کردی۔۔۔۔ جسکے بعد بطریق اعظم قمامہ نے سامعین کو اپنی پلاننگ سے آگاہ کرتے ہُوئے بتایا ۔ کہ،، اُس نے سابقہ الہامی کتب کی روشنی میں مقدس دیوار پر اُس فارِق کی ایک تصویر نمایاں کردی ہے۔۔۔۔ اگر مجھے وُہ فارِق اِن دشمنوں میں نظر آگیا ۔ تو ہم اِن سے لڑنے کے بجائے صلح کرلیں گے۔ اُور اگر وُہ فارق اِس گروہ کا سربراہ نہ ہُوا۔۔۔ تو ہم آخری دم تک اپنی سرزمین کی حفاظت کریں گے۔۔ تھوڑی ہی دیر میں تمام حاضرین نے بطریق قمامہ کی پیشکش کو دِل و جان سے قبول کرلیا۔

دوسری طرف بیت المقدس کا محاصرہ کرنے والی فوج حضرت ابو عبیدہ بن جراح اُور حضرت خالد بن ولید کا استقبال پُورے جُوش و خروش سے کرنے میں مگن تھی۔۔۔۔ حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ تعالی عنہُ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ تعالی عنہُ سے  بیت المقدس کو فتح کرنے کیلئے مشاورت کررہے تھے۔ کہ اچانک ایک مسلمان سپاہی نے خیمے میں آکر خبر سُنائی کہ بیت القدس کی فصیل پر بطریق اعظم قمامہ موجود ہے۔ جسکی خواہش ہے کہ،، فوج کے سپہ سالار سے اُسکی گفتگو کا اہتمام کیا جائے۔۔۔۔۔ مسلمانوں کو جونہی اِس واقعہ کی خبر مِلی تو ہر ایک مجاہد کو یہ خُوش فہمی ہُونے لگی۔ کہ،،   بیت المقدس کے محاصرے سے عیسائی اُور یہودی عاجز آچکے ہیں۔۔۔ اُور شائد اب  وُہ تھک ہار کر صلح نامہ کرنا چاہتے ہیں۔۔۔

بطریق اعظم قمامہ اپنے مشیروں اُور فوجی افسران کی معیت میں فصیل کی دیوار پر کھڑا۔ حملہ آوروں کے خیموں کا جائزہ لے رَہا تھا۔ جنہیں دیکھنے کے بعد وُہ اِس نتیجے پر پُہنچا تھا۔ کہ حملہ آور فوج نہایت کسمپرسی کا شِکار ہے۔ اُنکے خیمے ہی اُنکے افلاس  و معاشی بدحالی کی کہانی سُنارہے تھے۔ بطریق اعظم قمامہ کی جانب سے چونکہ ایک قاصد فوج کے سپہ سالار کی جانب روانہ کردیا گیا تھا۔ اِس لئے دشمن فوج کی جانب سے کسی بھی وقت سپہ سالار کی آمد متوقع تھی۔۔۔۔تھوڑی ہی دیر میں حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ تعالی عنہ اپنی تمام نورانیت کیساتھ بڑے تزک احتشام سے باوقار انداز میں بطریق اعظم قمامہ سے گفتگو کیلئے  تمام حفاظتی انتظام کو نظر انداز کرتے ہُوئے فصیل کے نیچے چلے آئے۔۔۔۔ اُنہیں اُمید تھی۔ کہ جلد ہی بطریق اعظم اپنی شکست کا اعتراف کرتے ہُوئے یا تو بیت المقدس کا قلعہ انہیں سُونپ دے گا۔ یا جزیہ دینے پر راضی ہُوجائے گا۔ لیکن بطریق اعظم نے سیدنا حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ تعالی عنہ سے کوئی گفتگو نہیں کی۔۔۔ بلکہ وُہ آنکھوں پر چھجہ بنائے اُنہیں بغور دیکھتا رہا۔

تھوڑی دیر تک بطریق قمامہ نے سیدنا حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ تعالی عنہ کے چہرے اُور جسمانی ساخت کا بغور مطالعہ کرنے کے بعد پلٹ کر اپنی شوری کو آگاہ کرتے ہُوئے کہا۔۔۔۔ مُبارک ہُو۔۔۔ یہ وُہ انسان ہر گز نہیں ہے۔ جو ہم سے بیت المقدس کو چھین سکے!!!  لہذا کل  صبح کی پہلی کرن کے نمودار ہُوتے ہی انہیں واپس دھکیل دُو۔۔۔ جبکہ دوسری طرف سیدنا حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ تعالی عنہ حیران و پریشان واپس اپنے خیمے کی جانب لُوٹتے ہُوئے سوچ رہے تھے۔۔۔کہ،، کتنا عجیب تھا۔ یہ بطریق جس نے خُود مُلاقات کیلئے دعوت دی۔ مگر زبان سے ایک لفظ نکالے بغیر لُوٹ گیا۔

مسلمانوں کو جلد ہی بطریق اعظم قمامہ کا پیغام مِل گیا۔۔۔۔ جِس میں بطریق اعظم نے مسلمانوں کو للکار کر جنگ کا طِبل بجادیا تھا۔۔۔۔ مسلمان مجاہدین کو حضرت خالد بن ولید رضی اللہ تعالی عنہُ کی آمد کے بعد یقین ہُوچلا تھا۔ کہ فتح جلد اِنکے مقدر میں ایک اُور کامیابی رقم کرنے کیلئے بے چین ہے۔۔۔ لیکن   مالک ِعرش مسلمانوں کو ایک عاشق و فاتح  اعظم کی شان دِکھانا  تحریر فرما چُکا تھا۔

مسلمانوں نے  چار ماہ  تک چہار جانب سے بیت المقدس کی طرف پیش قدمی کی بھرپور کوششیں کرڈالیں۔۔۔۔ ایک طرف سے حضرت خالد بن  ولید رضی اللہ عنہُ  اپنی شمشیر کے جوہر دِکھانے کو بے چین تھے۔ کہ ابھی  تک مدینہ سے  تبوک ،فلسطین، ارک، تدمر ،دمشق ،قنسرین، بعلبک،یرموک ،حلب سے بیت المقدس کے گرد و نواح  تک کوئی ایسا علاقہ نہیں تھا۔ جس میں مجاہدین  نے کافروں کے دِل پر اپنی تلوار کی دھاک نہ بِٹھائی ہُو۔۔۔۔ اُور کوئی ایسا میدان نہ تھا۔۔۔۔ جِسے رُوندتے ہُوئے حضرت خالد بن  ولید رضی اللہ عنہُ  نے فتح حاصل نہ کی ہُو۔۔۔  جبکہ دوسری جانب حضرت ضرار بن ازرو تھے۔۔۔۔۔ جنکے جسم پر صرف ایک کپڑا ہُوتا تھا۔۔۔۔ اُور آپکی ہیبت سے سُورماوٗں کے دِل پِگھل جاتے تھے۔۔۔۔ ایک سے بڑھ کر ایک مجاہد اِس کارزار میں موجود تھا۔۔۔ لیکن بیت المقدس کی  مظبوط فصیل پر کھڑے نشانہ باز مسلمانوں کو بار بار فصیل کی دیواروں سے بُہت دُور دھکیلنے میں کامیاب نظر آرہے تھے۔۔۔اِس  تمام صورتحال کے باوجود بھی نہ مسلمان پیچھے ہٹنے کو رضامند تھے۔۔۔ اُور نہ ہی  بیت المقدس  کے مکین   ہی مسلمانوں کے تابڑ تُوڑ حملوں  سے مرعوب ہُورہے تھے۔۔۔۔

لیکن بطریق اعظم آج بھی اُنہی خُوابوں کے سحر میں گرفتار تھا۔۔۔۔ مسلمانوں کو جسقدر نقصان اِس جنگ میں اُٹھانا پڑا تھا۔۔۔ انکی جگہ کوئی اُور قُوم ہُوتی تو اب تک  جنگی صورتحال سے بَد دِل ہُو کر واپس لُوٹ چُکی ہُوتی۔۔۔۔ لیکن نجانے یہ لُوگ کس مٹی سے بنے تھے۔۔۔ جو تمام مشکلات کے باوجود بھی آخری سانس تک لڑنے کیلئے بیقرار نظر آتے   ہیں۔۔۔۔ بطریق قمامہ اپنے کمرے میں بند ہُوکر سُوچنے پر مجبور تھا۔۔۔۔۔ لیکن بطریق اعظم شائد یہ نہیں جانتا تھا۔۔۔۔ کہ آنے والوں نے عشق محمدی ﷺ کا جام پیا ہے۔۔۔۔ جسکے بعد اُن کی نظروں میں زندگی سے ذیادہ مُوت کی اہمیت ہے۔۔۔۔ کیونکہ دیدار کا جام پھر سے پینے کیلئے زندگی کی زنجیر سے آزاد ہُونا ضروری ہے۔۔۔ اِس لئے ہر ایک مجاہد اُسی جام کو پینے کیلئے شہادت کا متمنی تھا۔۔۔ تاکہ جلد سے جلد وُہ اپنے دِل کی پیاس کو بجھا سکیں۔۔۔۔

بطریق اعظم قمامہ نے آج پھر حضرت ابو عبیدہ بن جراح  سے مذاکرات کی خاہش کا اِظہار کیا تھا۔۔۔۔۔  اُور امین الامُت ابو عبیدہ رضی اللہ تعالی عنہ نے بھی قاصد کو  مذاکرات کیلئے رضامندی  کی نوید سُنادی تھی۔۔۔۔  مذاکرات کی مجلس شروع ہُوتے ہی  گفتگو میں پہل کرتے ہُوئے  بطریق اعظم نے حضرت ابو عبیدہ  سے عرض کی۔۔۔۔ ہم ناحق خون  ریزی نہیں  چاہتے۔۔۔  ویسے بھی آپ نے دیکھ ہی لیا ہُوگا۔۔۔ کہ اِس جنگ میں برتری ہمیں حاصل ہے۔۔۔ لیکن میں پھر بھی آپ لوگوں کی جنگ کا مقصد جاننا چاہتا ہُوں۔۔۔۔؟

حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ نے بڑے تحمل سے بطریق قمامہ کی شیخیاں سُننے کے بعد فرمایا۔۔۔۔ اے بطریق ہمیں یہ مت سمجھا کہ برتری کسے حاصل ہے۔۔۔ ہم اپنے آقا و مولی  ﷺ کے ایما پر  اِس دشوار ترین راستوں کو طے کرتے ہُوئے یہاں  تک پُہنچے ہیں۔۔۔۔ اُور ہمیں ہمارے نبی ﷺ نے  یہ بھی بتادیا گیا ہے ۔کہ،، یہاں فتح صرف اور صرف  ہماری منتظر ہے۔۔۔۔ اسلئے یا تو تم لُوگ مسلمان ہُوجاوٗ۔۔۔ یا صلح کرتے ہُوئے جزیہ ادا کرو۔۔۔۔ ورنہ ہمیں نبی محترم ﷺ کی عترت کی قسم ہے۔۔۔۔۔ ہم آخری دَم تک اپنی تلوروں کو نیام میں نہیں ڈالیں گے۔۔۔

لیکن بیت المقدس کی فتح آپکے ہاتھ ممکن نہیں ہے۔ کیونکہ میں فاتح بیت المقدس کو اچھی طرح پہچانتا ہُوں۔۔۔۔ بطریق اعظم نے تھوک نگلتے ہُوئے بلاآخر دِل کی بات کہہ ہی ڈالی۔۔۔۔

تُم کیسے جانتے ہُو۔  بیت المقدس کے فاتح کو۔۔۔۔؟ حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ نے  بطریق اعظم کے چہرے کو پڑھنے کی کوشش کی۔۔۔ جسکے بعد آپکو یہ اندازہ لگانے میں قطعی دشواری پیش نہیں آئی۔کہ،، بطریق قمامہ کم از کم اِس وقت جھوٹ نہیں بُول رَہا ہے۔
بطریق قمامہ نے جواب دیتے ہُوئے کہا۔۔۔ میں یہ بات اسلئے جانتا ہُوں کہ مجھے تورات و زبور نے  اُس عظیم ہستی کے متعلق آگاہی بخشی ہے۔۔ لیکن میں اُن کے متعلق  تُم سے ذیادہ گفتگو نہیں کرنا چاہتا۔۔۔۔۔ حضرت ابو عبیدہ رضی اللہُ عنہ نے ارشاد فرمایا۔۔۔ علم چھپانا گناہ کبیرہ ہے۔ کم از کم کچھ نہ کچھ تو بتادو۔ کہ،، اُنکا نام کیا ہے۔۔۔۔؟ اُور انکا حلیہ مبارک کیسا ہے۔۔۔؟ بطریق قمامہ نے جھجکتے ہُوئے صرف اتنا بتایا کہ،، اُن کا ایک نام فارِق ( یعنی حق و باطل میں تفریق کرنے والا ہے) وُہ سرخ رنگت  والے ہیں۔۔۔ اُور شیطان اُن کے اِسم گرامی سے کپکپاہٹ کا شکار ہُوجاتا ہے۔۔۔ جیسے کسی کو گرم بخار لاحق ہُوجاتا ہے۔۔۔ حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ تعالی عنہ کے چہرے پر بطریق قمامہ کی گفتگو سُن کر بشاشت لُوٹ آئی۔۔۔۔ آپ نے اعتماد بھرے لہجے میں اِرشاد فرمایا۔۔۔۔ کہ اگر وُہ ہستی تمہارے پاس آجائے تُو تمہارا رد عمل کیا ہُوگا۔۔۔۔؟ بطریق قمامہ نے چند لمحے خاموش رہنے کے بعد کہا۔۔۔ ہماری قوم میں اُن سے لڑنے کی ہمت نہیں ہے۔۔۔۔ اگر وُہ خود تشریف لے آئے تو ہمارے پاس اِس کے سِوا کوئی چارہ نہیں۔ کہ خاموشی سے بیت المقدس کی  چابیاں اُنکے حوالے کردیں۔۔۔

حضرت ابو عبیدہ بن جراح نے بطریق قمامہ سے مُلاقات کے بعد سب سے پہلا کام یہ کیا۔کہ ،، ایک برق رفتار گھوڑے پر ایک سمجھدار قاصد کو مدینے کی جانب  خصوصٰی  رقعہ دے کر امیر المومنین کی خدمت میں روانہ کردیا۔

یہ قاصِد تیز رفتاری سے سفر کرتے ہُوئے بُہت جلد مدینۃ النبی ﷺ پہنچ کر سیدھا سیدنا حضرت عُمرِ فاروق رضی اللہ تعالی عنہ کی خدمت میں  بلا تاخیرحاضر ہوگیا۔ دَست بوسی کی سعادت حاصل کرنے کے  فوراً بعد اِس قاصد نے وُہ رقعہ نہایت احترام سے آپکی خدمت میں پیش کردیا۔۔۔۔ رُقعہ میں حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ تعالی عنہ نے سلام   عرض کرنے کے بعد اب تک کی تمام فتوحات کا تذکرہ کرنے کے بعد بیت القدس کی تازہ ترین صورتحال کا ذکر کرتے ہُوئے لکھا تھا۔ کہ اگر امیرالمومنین کرم فرماتے ہُوئے خُود چند دِن کیلئے  بیت المقدس تشریف لے آئیں۔۔۔ تو بیت المقدس بغیر کسی جانی نقصان کے بُہت آسانی سے فتح ہُوسکتا ہے۔

امیر المومنین حضرت سیدنا عمرِ فاروق رضی اللہُ تعالی عنہ نے  جید صحابہ کرام سے مشاورت کے بعد اِس درخواست کو قبول فرماتے ہُوئے۔ فوراً شام کی جانب جانے کا فیصلہ کرلیا۔۔۔ اُور چند بعد جب  بیت المقدس کا  ،  تپتی  دھوپ میں محاصرہ کرنے والے مجاہدین کو معلوم ہُوا۔ کہ،، امیرالمومنین مدینے سے عنقریب بیت المقدس پہنچنے والے ہیں۔ تو اِنکے خزاں رسیدہ چہروں پر گویا بہار نے  جگہ بنالی تھی۔۔۔ ہر ایک مجاہد دیدارِ امیر المومنین کیلئے بیتاب و بیقرار تھا۔۔۔ امیر المومنین حضرت سیدنا عمرِ فاروق رضی اللہُ تعالی عنہ۔ اِس شان سے بیت المقدس کی سرزمین پر جلوہ افروز ہُوئے۔کہ،، دیکھنے والوں کی بیساختہ چیخیں نِکل نکل گئی۔

 محتر م قارئین کرام!!! میرا خیال تھا کہ میں دُو اقساط میں اِس عجیب وُ  دلپزیر واقعہ کو سمیٹ کر آپکی خدمت میں پیش کردونگا۔ لیکن معذرت کیساتھ کہ میں اِس سعی میں کامیاب نہ ہُوسکا۔۔۔ کالم کافی طوالت اختیار کرچکا ہے۔ اِس لئے انشاءَ اللہ تیسری  قسط میں بقیہ کہانی کو سمٹنے کی آرزو کیساتھ اجازت چاہُوں  گا۔

آپکی محبتوں کا اسیر:عشرت اقبال وارثی

Sunday, 5 February 2012

عشق کے رنگ2 (فاتح اعظم)۔ پہلی قسط


حیران کُن بات تھی کہ وُہ نیند کی حالت میں بھی یہ بات بخوبی جانتا تھا کہ ،، وُہ ایک خواب دیکھ رَہا ہے۔اُور صرف اتنا ہی نہیں۔ بلکہ اُسے تو یہ بھی معلوم تھا۔ کہ اِس خواب میں مزید کیا کیا واقعہ پیش آنے والاہے۔ اُور اِسکی وجہ اُسکی رُوحی قوت کا مشاہدہ بھی نہیں تھی۔ بلکہ وُہ اِس خواب کو گُذشتہ چند ماہ میں اتنے تواتر کیساتھ دیکھ چُکا تھا۔ کہ،، اِس خواب کو کسی بھی وقت اُسکی تمامتر جزیئات کیساتھ  حرف بحرف بیان کرسکتا تھا۔

چُنانچہ آج بھی خواب میں وُہ وہی  مناظر دیکھ رہا تھا۔ جنہیں وُہ کئی مرتبہ پہلے بھی دیکھ چُکا تھا۔ آج بھی  وہی بدرِ کامل اُسکی نِگاہوں کے سامنے موجود تھا۔ جسکی لطافت اُور حجم میں آہستہ آہستہ اِضافہ ہُوتا چلا جارہا تھا۔ اُور آج بھی ہمیشہ کی طرح اُس چاند کے گرد  تیس نُوری دائروں میں پانچ جھلملاتے ستارے موجود تھے۔ پھر اُن چاند ستاروں نے پہلے کی طرح تمام زمین کو اپنے لطیف سائے میں سمیٹ لیا تھا۔

پھر حسبِ سابق پہلے تارے نے دُنیا پر اپنا عکس ڈالا۔ جسکی وجہ سے بادشاہوں کے تخت اُلٹنے لگے۔  اُور سر کشوں کے سر تن سے جُدا ہُونے لگے۔لیکن جب وُہ ستارہ اُسکے شہر کی جانب بڑھنے لگا۔ تب ہمیشہ کی طرح منظر بدل گیا۔ اُور وہ ستارہ پھر سے چاند کے جِلو میں جگمگانے لگا۔ اب اُسکی نگاہیں دوسرے ستارے پر مرکوز تھیں۔ کیونکہ ہمیشہ یہ دوسرا ستارہ ہی  کردار کے لِحاظ سے اُسکے خُواب میں مرکز و محور کی حیثیت کا حامِل  ہُوا کرتا تھا۔

پھر دوسرے ستارے نے زمانے کی جانب بڑھنا شروع کیا۔۔۔۔۔ خواب دیکھنے والے کو ایسا محسوس ہُونے لگا جیسے کسی بھی لمحے میں اُسکے دِل کی رفتار تھم جائے گی۔ اُور سانسوں کا رشتہ اُسکے جسم سے ہمیشہ کیلئے منقطع ہُوجائے گا۔ کیونکہ یہ دوسرا ستارہ پہلے ستارے کے مقابلے میں   بڑی پھرتی اُور قوت سے دُنیا کے گرد چکر لگاتا ہے۔۔۔ اُور یہ دُوسرا ستارہ جہاں جہاں سے گُزرتا ہے۔ بڑے بڑے  صنم کدے اُور اُن میں ایستادہ بُت۔ اِس جگمگاتے ستارے کے قدموں میں خود ڈھیر ہُونے لگتے ہیں۔ اُور بلا آخر یہ ستارہ اِس کے شہر کے مقابل پُہنچ جاتا ہے۔ اِس ستارے کے  ہَزاروں ہاتھ اُسکے شہر کی جانب بڑھنے لگتے ہیں۔ جِن میں سے دو قوی اُور نمایاں ہاتھ اسکے شہر کو دبوچ لیتے ہیں۔ اُور وُہ جس  عظیم الشان تخت پر بیٹھا ہُوتا ہے۔ وُہ تخت بھی اُلٹ دیا جاتا ہے۔ جسکی وجہ سے وُہ کافی اُونچائی سے زمین پر گِرتا چلا جاتا ہے۔ اُور تبھی اچانک خُوف کی شِدت سے اُسکی آنکھ کھل جاتی ہے۔

پسینے سے شرابور پیشانی پر ہاتھ پھیرتے ہُوئے وُہ پسینے کے قطرات کو اپنی لانبی انگلیوں کی مدد سے جھٹکتے ہُوئے سُوچنے لگا۔۔۔ کہ،، کیا تقدیر کی جانب سے لائے جانے والے انقلاب کا وقت آچکا ہے۔۔۔؟ یا  یہ بھی  ایک تنبہی پیغام ہے۔۔۔۔؟ پھر دوسرے ہی لمحے وُہ اپنی دوسری رائے پر تبصرہ کرتے ہُوئے بڑبڑانے لگا۔ یہ صرف تنبہی پیغام نہیں ہُوسکتا۔ ورنہ یہ خُواب اُسے بار بار اتنے تسلسل سے ایسے حالات میں نہ دِکھایا جاتا۔ جب کے دشمن فوج نے قلعہ کا مُحاصرہ کررکھا تھا۔ حالانکہ عام حالات میں  وُہ محاصرہ کی وجہ سے اتنا خائف ہرگز نہ ہُوتا۔ کیونکہ شہر کے مضبوط دروازے اُور نا قابل تسخیر فصیلوں کی موجودگی میں کسی بیرونی قُوم کا شہر میں داخِل ہُونا مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن تھا۔۔۔ اِس پر سُونے پر سہاگہ،، کے مِصداق کھلے میدان میں دشمن افواج کو شدید ترین سردی کا سامنا تھا۔ جبکہ مخبروں کی اِطلاع کے مُطابق اُن بیرونی حملہ آواروں کے پاس اِن سَرد ترین ہُواوٗں سے مقابلہ کرنے کیلئے کوئی خاص سامان بھی موجود نہیں تھا۔ اِس کے عِلاوہ شہر میں موجود اناج کے وسیع ذخائر کم از کم ایک برس کیلئے کافی تھے۔ جبکہ کسی  فوجی قافلے کیلئے ممکن ہی نہیں تھا۔ کہ وُہ ایک ماہ کی خوراک کا ذخیرہ بھی اپنے ساتھ زادِ راہ کے طور پر لے کر چل سکے۔ اُور بنا  اِناج و پانی کوئی کب تک کسی شہر کا محاصرہ کرسکتا تھا۔۔۔ لیکن اِن تمام تر حقیقتوں کے باجود۔۔۔ وُہ مطمئین نہیں تھا۔ کیونکہ آئے دِن کے یہ خُواب اُور اِسکی تعبیر کچھ اُور ہی داستان بیان کررہی تھی۔

وُہ صِرف اِس شہر کا ہی  سب سے بڑا عالم نہیں تھا۔ بلکہ  ملک شام  میں بسنے والے تمام شہروں کے عالم بھی اُسکی قابلیت کا لُوہا تسلیم کرچکے تھے۔  کیونکہ وُہ  سابقہ آفاقی کتب توریت زَبور و انجیل کا زبردست حافظ تھا۔  اُور اُس جیسا مُعبر  بھی تمام مُلک شام میں کوئی  اُورنہیں تھا۔ جو  کسی خواب کی تعبیر وتشریح میں وضاحت و سلاست میں اُسکا مقابلہ کرسکے۔۔ اِسلئےصرف عوام ہی نہیں بلکہ خواص میں بھی اُسے نہایت قدر کی نِگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔ اُور اِسے بطریقِ اعظم قمامہ کے نام سے پہچانا جاتا تھا۔

 وُہ اپنے خُواب کی تعبیر سے بخُوبی واقف تھا۔ اُس نے اِلہامی کُتب میں اُس شخص کے متعلق بُہت تفصیل سے پڑھ رکھا تھا۔ جو اِس شہر کو بغیر کسی فوج کے بھی فتح کرنے کی  خداداد صلاحیت سے مالا مال ہُوگا۔ اُور صرف اتنا ہی نہیں بلکہ وُہ تو اُس عظیم  فاتح کے  نام  وحُلیہ سے بھی واقف ہُوچُکا تھا۔ لیکن وُہ فاتح اعظم اِسکی زندگی میں اِس شہر کو فتح کرلے گا۔۔۔ یہ بات تو کبھی اُسکے خاب وخیال میں بھی نہیں آئی تھی۔۔۔مگر اِس آگہی کے باوجود بھی  وُہ یہ بات بھی اچھی طرح جانتا تھا۔ کہ اگرچہ حاکم وقت کی وقعت بھی اُسکے سامنے کسی کٹھ پُتلی سے ذیادہ نہ ہُونے کے باوجود ۔۔۔اگر وُہ اپنے خواب کی تعبیر عام لوگوں میں بیان کردے۔ تو   شہر میں موجود کم وبیش ایک لاکھ جنونی لوگ اُسے متفقہ طُور پر قتل کرنے میں ایک لمحے کی تاخیر بھی نہیں کریں گے۔ لیکن اِس راز کو سینے میں چھپانے کے باعث اُس پر ایک عجیب سے کیفیت طاری رہنے لگی تھی۔ کبھی کبھی تو اُسے ایسا بھی محسوس ہُونے لگتا۔ جیسے گھٹن کے باعث  کسی بھی لمحےاُسکی سانس ہی رُک جائے گی۔

کافی غُور و خُوض کے بعد بطریقِ اعظم قمامہ سورج کی پہلی کرن نمودار ہُوتے ہی اِس نتیجے پر پُہنچ چُکا تھا کہ،،  اُسے شہر کے معززین کو پہلے سے ہی  تمام  حالات سے آگاہ کرکے اپنا ہم خیال و ہمنوا بنا لینا چاہیئے۔۔۔۔۔ کچھ وقت سجدے میں پڑے رہنے کے بعد وُہ الہامی کتب سے اخذ کئے گئے مناجات میں مصروف رہنے کے بعد اپنے عالیشان محل نُما مکان سے باہر نِکل کر فصِیلِ قلعہ کی سیڑھیاں عبور کرنے لگا۔۔۔ اُسے یہ دیکھ کر  بُہت خُوشی حاصِل ہُوئی کہ فصیل پر موجود پہرے دار  تمام رات جاگنے کے باوجود بھی نہایت مستعدی سے اپنے فرائض انجام دینے میں منہمک تھے۔

لیکن  فصیل کی بُرج سے نیچے جھانکنے کے بعد بطریقِ اعظم قمامہ کی یہ خُوشی  اُسکے چہرے پر ذیادہ دیر قائم نہ رِہ سکی۔۔۔ کیونکہ حملہ آور فوج کے سپاہیوں کے چہرے ناصرف کسی انجانی خوشی کے باعث دَمک رہے تھے۔ بلکہ وُہ  نہایت جُوش خروش کا مظاہرہ کرتے ہُوئے کسی نعرے کے جواب میں باآواز بُلند نعرے  بھی لگارہے تھے۔۔۔

آخر یہ اِتنے جُوش و خروش کا مظاہرہ کیوں کررہے ہیں۔۔۔۔؟ حالانکہ گُذشتہ عشرے  میں میں اِن لوگوں نے ایسا کوئی رَد عمل نہیں دِکھایا۔۔۔۔؟    بطریقِ اعظم قمامہ  نے پیشانی پر تیوریاں چڑھاتے ہُوئے قریب کھڑےفوجی  افسر سے سوال کیا۔۔۔۔  عالیجاہ! ہمارے  مخبروں  کی اطلاع کے مطابق اِن حملہ آوروں کا سپہ سالار آج مزید فوج لے کر جلد ہی اِن تک پُہنچنے والا ہے۔ یہ لوگ اُنہی کے استقبال کی تیاریوں میں مصروف ہیں۔ اُسی فوجی افسر نے دھیمے لہجے میں  ادب سے اپنے سَر کو خم کرتے ہُوئے  بطریقِ اعظم قمامہ کو جواب دِیا۔۔۔۔ فوجی افسر کی زُبانی دُشمن فوج کے سپہ سالار اعظم کی آمد کی اطلاع نے ایک مرتبہ پھر بطریقِ اعظم قمامہ کے چہرے کو رنجیدہ کردیا۔ وُہ سوچنے لگا کہیں یہ  سپہ سالار وہی عظیم انسان تو نہیں ہے۔ جو انبیاٗ کرام کی مقدس سرزمین اِن سے چھین لینے والا ہے۔۔۔۔؟

شہر کے وسط میں قائم بطریقِ اعظم قمامہ کے دربار میں فوج کے سرکردہ افسران کیساتھ ساتھ شہر کے بڑے بڑے رَوٗسا اُور معززین کی اچھی خاصی تعدا د بھی موجود تھی۔۔۔ ہر ایک شخص بے چینی کے عالم میں یہ بات جاننے کا خُواہاں تھا کہ،، آخر بطریقِ اعظم قمامہ نے اُنہیں کیوں اُور کس لئے اتنی عجلت میں اپنے دربار میں مدعو کیا ہے۔۔۔ کیا کسی  جنگی حکمت عملی کیلئے۔۔۔؟۔یا۔۔۔ جنگ کو کسی منطقی انجام تک پُہنچانے کیلئے کوئی اہم فیصلہ صادر کیا جانے والا ہے۔۔۔؟ بلاآخر کافی انتظار کے بعد بطریقِ اعظم قمامہ نے تمام لوگوں کو مخاطب کرتے ہُوئے لب کُشائی کی۔

میرے بچوں! جیسا کہ تم جانتے ہُو کہ،، میں نے ہمیشہ  ایک باپ کی طرح تُمہارے مفادات کی حِفاظت کی ہے۔  اُور ہم انبیاٗ کی اِس سرزمین کے وارث ہیں۔ اُور میرا اِس بات پر پُختہ یقین ہے کہ کوئی بھی قُوم قتل و غارت گری یا حملہ کرکے ہم سے اِس سرزمین کو نہیں چھین سکتی۔ لیکن میرے بچوں کچھ باتیں زمانے میں ایسی بھی ہُوا کرتی ہیں ۔ جنکا حالات سے بظاہرکوئی واسطہ نہیں ہُوتا ۔ لیکن انقلابِ زمانہ اِسے ہی کہا جاتا ہے۔ جسکی اُمید انسان کو بالکل نہیں ہُوتی۔ لیکن ہُونی بلاآخر ہُو کر ہی رہتی ہے۔۔۔ اتنا کہنے کے بعد بطریقِ اعظم قمامہ نے ایک طائرانہ نِگاہ  دربار موجود لوگوں پر ڈالی جنکے چہرے اضطراب کے باعث تنے ہُوئے تھے۔۔۔۔ بطریقِ اعظم قمامہ کی طویل خاموشی سے بے چین ہُوکر ایک فوجی افسر نے  نہایت تعظیم سے کھڑے ہُوکر سوال کرنے کی اجازت طلب کی۔۔۔ اجازت ملنے پر اُس نے عرض کی۔

اے ہمارے رُوحانی باپ۔ آج ایسا کیا عجیب معاملہ پیش آگیا ہے۔ کہ جسکے سبب آپ واضح گفتگو فرمانے کے بجائے تمہید و اِمثال کا سہارا لے رہے ہیں۔۔۔؟ آپ کو خُدا نے بے مِثال علم سے نوازا ہے۔ جسکی وجہ سے آپ وُہ بھی دیکھ لیتے ہیں۔ جو بات ہمارے وہم و گُمان میں بھی نہیں ہُوتی۔ اِس لئے خُدارا ہم کم عِلموں کو اپنے علم کی روشنی میں صاف صاف بتادیجئے۔ کہ آخر ہم پر ایسی کونسی اُفتاد ٹُوٹنے والی ہے۔ جِس نے آپکے لہجے کو شکستہ اُور سُخن کومضطرب کردیا ہے۔۔

فوجی افسر کے خاموشی سے دُوبارہ اپنی نشست پر بیٹھ جانے کے بعد بطریقِ اعظم قمامہ نے اپنا خواب تفصیل سے تمام حاضرین کو سُنا ڈالا۔ ۔۔ خواب کے اختتام پر ایک ضعیف بطریق کی خواہش پر بطریقِ اعظم قمامہ نے اِس خواب کی شرح بیان کرتے ہُوئے کہا۔۔۔ میرے بچوں! تمام سابقہ کتب  کے مخفی اُور ظاہری عُلوم کی روشنی میں مجھے اِس خواب کی ایک  ہی تعبیر سمجھ آتی ہے۔ اُور وُہ یہ ہے کہ بدر کامل سے یہی مُراد لی جائے گی کہ،، نبیِ آخر زَماں ﷺ کا زمانہ آچکا ہے۔  جنکے  سایہ رحمت میں تمام کائنات چھاوٗں کی مُتلاشی ہُوگی۔  پانچ ستاروں کی قربت یہ بات ثابت کرتی ہے کہ اُن کے پانچ وزیر ہُونگے۔ جو دُنیا پر حُکمرانی کریں گے۔ جبکہ تیس نورانی دائروں کا مطب غالباً اُن پانچ وزیروں کی حکومت کے تیس برس کو ظاہر کرنے کیلئے واضح کئے گئے ہیں۔ اُور پہلے ستارے کی پیش قدمی اِس بات کا استعارہ ہے کہ،، وُہ  آخری نبی ﷺ دُنیا سے وصال ظاہری فرماچُکے ہیں۔

جبکہ  خُواب میں دوسرے ستارے کی پیش قدمی اُور ہمارے شہر تک آمد یہ سمجھانے کیلئے ہے کہ،، پہلا ستارہ یعنی خلیفہ الرسول ﷺ جنہیں صاحب کے نام سے پُکارا جائے گا۔ یہ مصاحب رسولﷺ بھی دُنیا سے پردہ فرماچکے ہیں۔ اُور اب  انہی مصاحب کے رفیق کی حکومت قائم ہے۔ جنکے دُور حکومت میں انبیاٗ کرام کی سرزمین بیت المقدس سے ہمیں ہاتھ دھونا پڑسکتے ہیں۔۔۔

بطریقِ اعظم قمامہ  کی گفتگو نے تمام حاضرین کو غَم  وغصے کی جیتی جاگتی تصویر بنا ڈالا تھا۔۔۔ ایک جذباتی معمر بطریق سے یہ سب کچھ سُن کر  رَہا نہ گیا۔ تو وُہ کھڑا ہُو کر جذباتی انداز میں کہنے لگا۔۔۔ اِس کا مطب یہ ہُوا کہ،، سرزمین بیت المقدس جس پر صدیوں سے ہمارے آباء  کا تسلط قائم تھا۔ ہم تھالی میں سجا کر آنے والی غیر قوم کے حوالے کردیں۔۔۔؟  اگر وُہ ایک نبی ﷺ کے وارث ہیں تُو کیا ہم انبیاٗ کی سرزمین کے وارث نہیں ہیں۔؟ کیا ہمارے پاس دُنیا کی بہترین فوج موجود نہیں ہے۔۔۔؟ کیا ہمارا شہر ناقابل تسخیر نہیں ہے۔۔۔ اُور کیا ہم نے قلعہ میں ایک برس کا اِضافی اناج اُور پانی کی جھیل  یہی دِن دیکھنے کیلئے بنائی تھی۔ کہ کچھ  بیرونی دُنیا کے لُوگ ہم پر حملہ کریں اُور ہم نَامَردوں کی طرح اپنا شہر اُنکے حوالے کردیں۔۔۔ معمر بطریق کی جذباتی تقریر سے سامعین کا سَرد خون بھی ایک مرتبہ پھر جُوش مارنے لگا تھا۔۔۔

(جاری ہے)
اِسکا بقیہ حصہ انشاءَاللہ عزوجل بِلا تاخیر آپکی نذر کرنے کی بھرپور سعی کے ساتھ اِجازت چاہُوں گا۔