bing

Your SEO optimized title page contents

Pages

Hamara Tube Channel

Showing posts with label Poetry by:ishrat iqbal warsi. Show all posts
Showing posts with label Poetry by:ishrat iqbal warsi. Show all posts

Saturday, 6 February 2016

رَنگِ قادری




جو چاہیے تُجھےخُدا, تو رنگِ قادری چڑھا.
یہاں وہاں ملے گا کیا, تو رنگِ قادری چڑھا.

نہر رَواں دَواں سہی, ڈوبنا یہاں نہیں
مزاہ لے بحر عشق کا , تو رنگِ قادری چڑھا

ہیں شاخ سب ہری بھری پھول سے  لدی لدی.
جو شجرہ قادری پڑھا , تو رنگِ قادری چڑھا

بے خوف رِہ,  نہ رنج کھا, کیا فکر حشر و نار کا
دامن میں لینگے یہ چُھپا تو رنگِ قادری چڑھا.

جو انکے گیت گائے گا, وہ ایک دن پائے گا.
ولی, علی نبی خُدا ,, تو رنگِ قادری چڑھا

تلاش خضر میں یہاں وَہاں بھٹکنا چھوڑ دے.
ملیں گے تجھ کو مصطفیٰ ,تو رنگِ قادری چڑھا.

منافقوں سے دُور ھو , ادب کی راہ سیکھ لے
وصال و قرب پائے گا, تو رنگِ قادری چڑھا.

مشقتوں میں پڑ گیا, جو اِنکے در  سے پھر گیا
بنالے دِل کو آئینہ , تو رنگِ قادری چڑھا

کہیں گے تجھ سے بالیقیں وارثی عشرت حزیں
سُنا تو بزمِ اُولیاء, تو رنگِ قادری چڑھا


Saturday, 16 January 2016

میرے سرکار کی آنکھیں



Meray Sarkar ki Aankhein
Download


مازاغ البصر, میرے سرور تیری آنکھیں
اُمت پہ نگہبان ہیں رَہبر تیری آنکھیں

مَستور, یہی راز ہے آیت اَلم تَرا
بااِذن مشاہد ہیں زماں پر تیری آنکھیں


اللہ وہ خلیل و ذبیح ,تیغ وُہ منظر
تھے رُوبرُو وہ پسر و پدر بَر تیری آنکھیں

تیری عطا سے قلب میں رُویت ہوئی مُمکن
دیکھیں خُدا کو اللہُ اکبر تیری آنکھیں

سُو جَمل تھے نثار وُہ تیرے ہی نام پر
مجھ سے کروڑ لاکھ نحر بر تیری آنکھیں

اِک آنکھ ہماری ہے جو غافل رہی مگر
ہیں واسطے اُمت کی گوہر تر تیری آنکھیں

جُھک جائیں تو غروب جو اُٹھ جائیں تو طُلوع
شمس و قمر ہیں محوئے منور تیری آنکھیں

بے خبر نہیں تجھ سے بھی گستاخ  بے خبر
اِن پہ فقط نہ اُن پہ ہے سب پر تیری آنکھیں

دیکھا جو ساقیہ تجھے معراج کی گھڑی
تکتی ہیں سلسبیل وُہ کوثر تیری آنکھیں

اُنکی نگاہ میں وارثی عشرت بنی رہے.
ٹھنڈا کلیجہ دل رہے, بہتر تیری آنکھیں

Friday, 15 January 2016

میرے سرکار کا دہن




یہ ارض و سما کیا جِناں ہے دہن سے
جِناں کیا یہ ہر دُو جہاں ہے دہن سے.

فصاحت کا چشمہ رَواں ہے دہن سے.
بلاغت کا دریا عیاں ہے دہن سے

مِلی ہے جو پرواز انکا کرم ہے.
کہ ہر سانس مدحِ زُباں ہے دہن سے

لجاتے ہیں گُل بھی جسے دیکھتے ہی
کہ حُسنِ چمن کا نشاں ہے دہن سے

پلٹتا ہے سورج , قمر چِر کے دو ہو
سُنے جب ذرا سی اذاں ہے دہن سے

جو تشنہ تھا خُود تِشنگی کیا مِٹاتا
ہُوا قَند شُوراں کُنواں  ہے دہن سے

سحر ٹوٹ جائے, وہ زُنّار چُھوٹیں،
وہ شیریں سُخن کا بیاں ہے دہن سے

جو لِکھوایا مجھ سے وہ مقبول کرنا
یا , مُولانا حضرت , سماں ہے دَہن سے

نہیں پِسرِ عباس کی مِثل کوئی .
یہ تفسیر و حکمت لِساں ہے دہن سے

کہاں تیری مِدحت کہاں مجھ سا منگتا
کہ ممکن ثنا حق کہاں ہے دہن سے

بچا ہے جو پانی وُہ مُشکِ خُتن ہے
کہ ہر ایک خُوشبو کی جاں ہے دہن سے

یہ لفظوں کی بارش عطا ہے اُنہی کی
خیال و فکر بھی کماں ہے دہن سے

کیا حسان و رُومی کیا جامی و سعدی
ہر اِک انکا رطب اللسَّاں ہے دہن سے

پئے چار یاروں کے وارثی عشرت
عطا وہ چبایا جو ناں ہے دہن سے

14 January 2015

منا فقت




صورت چنگی،من وچ تنگی,     کی کرنا صورت موہنی دا .....
مٹھی بولی،لفظ نبولی ، کی کرنا گلاں سوھنی دا.... 

وارثی عشرت لوکی جہیڑےآندے نظر مسکین بڑے، 
دل وچ رکھ دے ، بہت پلیدی،رولا پاندے پاکی دا..   

وارثی عشرت لوکی جیہڑے آندے نظراُنج ھوندے نئی,
گلاں کردے صبر شکر دیاں تے رونا روندے ھونی دا


Tuesday, 12 January 2016

کھٹا میٹھا عشق





سب کُج اِتہوں مل جاندا اے۔ کیوں وَل ہُور میں آواں؟
کھایا جس دا عُمر میں ساری گیت اُسی دے گاواں۔

سوھنے سراج دا نقشہ ہر دَم دل دا پہرہ دیوے۔
کیوں نہ ایسے مُرشد توں میں واری صدقے جاواں۔

جے تُوں رُوٹھے , تینوں ماہی میں کیویں مناواں۔
باجھوں تیرے حال میں دل دَا کِس نُوں جا سُناواں۔

عشق دی امبڑی کھٹی میٹھی جلوے نال شہد دے۔
ہر دَم تیرے ذِکر تُوں مُرشد سانواں نُوں مہکاواں۔

وارثی عشرت جمدے ناہیں دُودھ بِنا مُرشد دے۔
شُکر خدا دا کرئیے ہَر دَم دِتیاں ٹھنڈیاں چھاواں۔

عشرت اقبال وارثی




میرے سرکار کا پسینہ




Meray Sarkar ka Paseena
Download

وجود عطر میں خوشبو تیرے پسینے سے.
جو مہکی گُل میں ہے وُہ بُو تیرے پسینے سے.

جلے وہ آگ میں دَستر کہاں سے وُہ بِستر
جو یاوری سے گیا چُھو تیرے پسینے سے

مِلی ہے چھینٹ جِسے وُہ ہُوا زمانے میں.
رضا و رُومی کا پَرتو تیرےپسینے سے.

تیرے ہی ذکر سے ہر بزم بزم مہکائیں.
یہ اہلبیت سُو بہ سُو تیرے پسینے سے

یہ سیدہ ہیں طاہرہ ہیں  طیبہ زہرا
ملی ہے انکو سبھی ضُو تیرے پسینے سے

تھا کون اُنکی مثل پوچھیئے صحابہ سے.
جنہیں ہے عشق تیرے مُؤ تیرے پسینے سے
وَہی کریم تھے اخلاق کربلا میں عیاں 

وَہی مہک تھی چار سُو تیرے پسینے سے.
وُہ بُوتُراب کا مٹی سے چمٹ کر رہنا
وُہ لمسِ پا وُہ جستجو تیرے پسینے سے

جُدا کرے جو ابوبکر و عُمر عثماں کو
نہ پائے کچھ بھی وُہ عُدو تیرے پسینے سے

سراج و وَارث و غوث الورای کا صدقہ دو.
ملے پئے میرے باھو تیرے پسینے سے

تمہاری چشم کے فیضان سے ہے رنگِ چمن
چہار سُو میں کو بہ کُو تیرے پسینے سے

لحد میں وارثی عشرت بھی جھوم جائے گا
ملے کفن کیلئے جو تیرے پسنے سے


Monday, 11 January 2016

میرے سرکار کی زلفیں





اللہ اللہ کیا معطر ہیں تمہاری زلفیں
نکہتء شب کا سمندر ہیں تمہاری زلفیں

غلاف کعبہ نے لہرا کہ جنہیں چوم لیا
سیاہ وہ دلکش و دلبر ہیں تمہاری زلفیں

جہاں پہ طائر قدسی کے قدم جل جائیں
محوے پرواز وہاں پر ہیں تمہاری زُلفیں

کیا استعارے ہیں اچھے , یہ نجم اور قمر
کہ لیل و نجم کا محور ہیں تمہاری زُلفیں

نکلنا چاند کا شرماتے ہوئے بادل سے
مچلنا مثل جبیں پر ہیں تمہاری زلفیں

کتنا محمود کیا نام تک پکارا نہیں
یادِ والیل میں عنبر ہیں تمہاری زُلفیں


فقط سبب تھا یہی خالد کی فتوحاتوں کا

کہ تاج مَلک کے اندر ہیں تمہاری زلفیں

عشرت وارثی فیضان ہے یہ مُولائے رُوم
مثلٍ قرطاس پہ گوہر ہیں تمہاری زُلفیں

میرے سرکار کی بینی



الف کا راز عیاں بےظِہار بینی سے
نگاہِ شوق نے پایا قرار بینی سے

قمر گدائے ضیاء بار بار بینی سے
صبحِ کا نور تیری آشکار بینی سے

کّمِثلِ شمس و قمر کیسے استعارے بیاں؟
کوئی مثال نہیں طرحدار بینی سے

سقیم حال ہوں سرکار کرم فرمائیں
ملے طفیلِ عطا وضعدار بینی سے

میرے نصیب بھی ستواں ہو سرور عالم
نیاز و ناز ملے آبشارِ بینی سے

کرم کریماں ہو احباب پر میرے ذیادہ
اُنہیں بھی بھیک ملے رازدار بینی سے

میری نسل سے نہیں کوئی بے ادب گزرے
پئے حُسین و حَسن تاجدار بینی سے

کیا حور و غلماں, عرش اور فرش کا حصہ
ہے فیضیاب خلق حصہ دار بینی سے

کیا اب بھی کوئ گلہ وارثی عشرت باقی
رواں ہے قلم و سخن شاہکار بینی سے

Friday, 1 March 2013

ڈھونڈوں کہاں تجھے۔۔۔؟


ڈھونڈوں کہاں تجھے۔۔۔؟

اے دِل یہ تجھے کیسی ضد ہے۔؟ کیوں الجھے ہے چندا سے تُو
اَب اِسکی چاندنی راتوں میں۔ بیکار جگانا چھوڑ بھی دے


بُوجھل ہی سہی خُودار تو ہے۔آنکھوں میں بسا ہر اَشک تیرا
ساحل پہ کھڑوں کو دیکھ نہ اَب۔آنکھوں کو تھکانا چھوڑ بھی دے


یہ مُوتی مُوتی پلکوں سے۔ خیرات جو اکثر کرتے ہُو
اِن اشکوں کو برباد  نہ کر۔ اَب اِنکو بہانا چھوڑ بھی دے


اِس رَستے میں قذاق جو ہیں۔ مُوجود خِضر بھی رستے میں
صِحرا،و، چمن سب دِل میں ہیں۔اِن کو بہکانا چھوڑ بھی دے


قطرہ قطرہ پتھر میں اگر رَستے کا نِشاں  دِکھلاتا ہے
تب وارثی عشرت رَستوں میں پتھر کو سجانا چھوڑ بھی دے

                                                    آمدِ خیال  ۲۰۱۳۔۰۳۔۰۸

Wednesday, 6 February 2013

دہقان ہیں پریشاں مزدور رُو رہے ہیں





دہقان ہیں پریشاں “ مزدور “ رُو  رَہا ہے
ہر ایک آنسوؤں سے دامن بھگو رہا ہے

جسے - رہنما بنایا نشتر چبھو رہا ہے
کیا بنے گا قافلہ کا کہ امیر سو رہا ہے

یہ نالے یہ صدائیں پہنچیں گی عرش اک دن
اُسے بھی وہی ملے گا وہ جو آج بُو رہا ہے

وہ سمجھ رہے ہیں گنگا کی طرح مِرے وطن کو
تبھی آکہ ہر “ مُصاحِب “ یہاں ہاتھ دھو رھا ہے

یہاں دھونس دھاندلی ہے یہاں قُرب پروری ہے
جسے عشق ہو خودی سے وہ لہو لہو رہا ہے

نہ ہے شِیر نہ ہی شِیریں نہ ہے آب نہ روانی
نہ بدن ڈھکا ہوا ہے نہ ہی دانہ جُو رہا ہے

یہاں کون سُن رہا تجھے وارثی ِ عشرت
ہے سقیم حال تیرا کیوں جذب کھو رہا ہے

Saturday, 2 February 2013

عکس دَر عکس کا اِظہار ہیں تیری آنکھیں



لکھنے والے کی اُجرت صرف آپکے خُوبصورت کمنٹس ہُوتے ہیں کم از کم اپنی رائے  لکھنے میں تو کنجوسی نہ  کیاکریں

Friday, 1 February 2013

کیا جب اعتبار مجھ پر۔۔۔؟



کیا جب اعتبار اُس نے ۔۔۔تو سب کچھ دے دیا مجھکو
ہُوا جب بَدگماں مجھ سے۔۔۔ تُو منگتا کہہ دیا مجھکو

اُڑی جب نیند آنکھوں سے۔۔۔نہیں سُونے دیا مجھکو
ہُوئی جب آنکھ بُوجھل۔۔۔۔ تب نِکما کہہ دیا مجھکو

Sunday, 27 January 2013

کبھی اِسکا دَر کبھی اُسکا دَر


کبھی اِسکا دَر کبھی اُسکا دَر

نہ میں خاص نہ ہی میں عام ہوں نہ ہی بادہ نو نہ ناصِحٰہ کا کلام ہوں

کہیں درمیاں میں ہوں کھڑا ہوا

نہ نجیب نہ ہی غریب ہوں نہ سلیم نہ ہی کلیم ہوں نہ ہی رند ہوں نہ پارسہ نہ ہی کوئی تشنہ کام ہوں

کہیں درمیاں میں ہوں کھڑا ہوا

کبھی میکدہ کبھی آستاں کبھی بےقرار کبھی شادماں نہ ہی وحشتوں کا اسیر ہوں نہ ہی زندگی کا غلام ہوں

کہیں درمیاں میں ہوں کھڑا ہوا

کبھی بے یقیں کبھی دیدہ ور کبھی اِسکا در کبھی اُسکا در کبھی نِکہتوں کا پیام ہوں

کہیں درمیاں میں ہوں کھڑا ہوا

کبھی ہنس دئیے کبھی رُو دئیے کبھی چُپ رہے دیکھا کئے کبھی صُبحر ہوں تو کبھی شام ہوں

کہیں درمیاں میں ہوں کھڑا ہوا

کبھی جگنوؤں کی لپک جھپک کبھی آہو جیسے سُبک سُبک کبھی کہکشاؤں کی چمک دَمک کبھی سُرمئی سی کوئی شام ہوں

کہیں درمیاں میں ہوں کھڑا ہوا

کبھی شاعری کبھی فلسفہ کبھی جلوتوں میں واعظ نُماء کبھی خلوتوں میں بہک گیا سا خیال ناتمام ہوں

کہیں درمیاں میں ہوں کھڑا ہوا

عشرت اقبال وارثی 2009

Friday, 25 January 2013

میرے سَرکار کے نَاخُن.



میرے سَرکار کے نَاخُن
ہِلالِ چاند میں آئے نظر تیرے ناخُن
مُرادِ شاد لُٹائے گُوہر تیرے ناخُن

کیا نور بار مُنیر و مہر تیرے ناخُن
سَجاؤں کاش میں سر پہ کنور تیرے ناخُن

میرے بھی گھر میں اُجالے بکھیر دُو آقا
کبھی تُو میرے بھی آجائیں گھر تیرے ناخُن

سِکندری کی ہَوس ہو نہ سروری کی اُسے
نظر میں جِس کے سمائے بَدر تیرے ناخُن

تُمہارے نُور سے نارِ نمر میں ٹھنڈک تھی
بُجھے گی نارِ حشر دیکھ کر تیرے ناخُن

صدا یہ آئے کہ نعلین پہن کر رکھئے
کہ بُجھ نہ جائے سقر دیکھ کر تیرے ناخُن

سراپا حُسن مجسم بنایا قدموں کو
بنائے خُوب سے بھی خُوب تر تیرے ناخن

کہاں یہ تاب تھی لکھتا یہ وارثی عشرت
کرم تھا آپکا لکھی نثر تیرے ناخُن

وَہاں پہ شُوق سے نازُک سی انگلیاں قُرباں
یہاں نِثار ہیں مَردانِ سر تیرے ناخُن

اُتارے ہیں جو شَہا وہ عطا مجھے کردو
اِنعام ہو میرے اَشعار پر تیرے ناخُن

فِرِشتے آیئں زِیارت کو میری تُربت پہ
جو میری آنکھ پہ آجایئں گر تیرے ناخُن

فلک پہ قُوس و قزح ہے اِنہی کی طلعت سے
اندھیری رات میں روشن سحر تیرے ناخُن

ہزار بار مُبارک ہو وارثی عشرت
تیرا کلام ہے زِیرِ نظر تیرے ناخُن

کلام: عشرت اقبال وارثی

Monday, 24 December 2012

اِنگلش قافیہ اُردو رَدِیف


اِنگلش قافیہ اُردو رَدِیف
Poet: ishrat iqbal warsi

رُونی صُورت نہ بَنا غِم سے بھرے پُوز نہ دے
کُچھ تُو کامیڈی دِکھا نَقل بھرے  شُوز  نہ دے


کوئی مُوبائیل دِلا دے یا کوئی اچھی گھڑی
مجھ کُو بیکار نِکموں کی طرح  رُوز  نہ دے

عشرتِ وارثی یہ ۔ دَرد ۔بھرے انجکشن
رُوکدُو اَب تُو اِنہیں اُور مجھے۔ ڈُوز۔ نہ دے
۔۔

In English .Pose. Dose. Rose. shows
دِکھاوا ۔ پُھول۔خُوراک ۔اَنداز ۔۔۔ بمعنیٰ اُردو