bing

Your SEO optimized title page contents

Pages

Hamara Tube Channel

Showing posts with label TRUE STORY. Show all posts
Showing posts with label TRUE STORY. Show all posts

Monday, 17 February 2014

وُہ کھانا کہاں سے آیا تھا۔؟؟؟





محترم قارئین السلامُ علیکم

یہ جون 2004 کی بات ہے چند دوستوں نے جو کہ شعبہ تعلیم سے منسلک ہیں میرے پاس تشریف لائے کہ عشرت بھائی ہماری موسم گرما کی تعطیلات شروع ہوچُکی ہیں جس میں کُچھ دوستوں کا پروگرام تھا کہ اِن چھٹیوں کا فائدہ اُٹھاتے ہُوئے کیوں نہ سیر و تفریح کا پروگرام تشکیل دِیا جائے لیکن اَب تمام دوست اِس بات پر مُتفق ہوچُکے ہیں کہ کیوں نہ اِن چھٹیوں کا فائدہ اُٹھاتے ہُوئے مدنی قافِلہ میں سفر کیا جائے اِس طرح ایک تو حُکم قُرآن کی تعمیل بھی ہوجائے گی کہ بھلائی کا پیغام اپنے دوسرے مسلمان بھائیوں تُک پہنچانے کی سعادت حاصل ہوجائے گی نیز سیر ضمناً ہوجائے گی۔

میں نے اُنکی خِدمت میں عرض کیا دوستو تجویز تو بُہت اچھی ہے لیکن اگر آپ لوگ سیر کرنے کو غیر اِسلامی عمل سمجھ رہے ہیں تو آپکی اِطلاع کیلئے عرض کئے دیتا ہُوں کہ سیر کا حُکم تو قُرآِن پاک میں موجود ہے (وسِیرُ فِی الاْرضِ، ترجمہ اور زمین کی سیر کرو) اب رہی یہ بات کے اِس سیر کے آداب کے کیا تقاضے ہیں تُو اِس بِحث کو پھر کبھی کیلئے اُٹھا رکھتے ہیں۔

فی الحال تُو مجھے یہ جاننے میں دِلچسپی ہے کہ آخر آپ لوگ مجھے کیوں اپنے پروگرام سے آگاہ کرنے کیلئے تشریف لائے ہیں تب وہ کہنے لگے لو بتاؤ یہ بھی کوئی پوچھنے والی بات ہے بھئی ہم سبھی یہ چاہتے ہیں کہ آپ بھی اِس روحانی سفر میں ہمارے ساتھ رہیں۔

جوں ہی وہ دوست اپنی بات کہہ کر خاموش ہُوا تو ایک دوسرے دوست نے مذاقاً کہا اور اگر آپ نے کوئی بہانے بازی کی تُو ہم سب بھی نہیں جائیں گے اور یہ گُناہ بھی آپ کے سر رہے گا۔ میں اُن دِنوں گوشہ نشینی کی زندگی گُزار رہا تھا نہ کوئی خاص مصروفیت تھی نہ ہی کوئی اسقدر کاروبار وسیع تھا کہ کوئی معقول بہانہ کرسکتا سُو حامی بھرلی۔

اور یوں جون کے وسط تک ہم مدنی قافلے میں روانگی کیلئے حیدرآباد شہر میں حسن علی آفندی کے مدنی مرکز فیضانِ مدینہ جا پُہنچے وہاں جا کر ہمیں معلوم ہُوا کہ ہمارا قافِلہ راولپِنڈی بھیجا جارہا ہے اور ہمارے قافِلے کی تشکیل وہیں جا کر ہوگی راولپنڈی کا نام سُنتے ہی ہمیں لگا کہ ہمیں پھر دَس برس پہلے کی طرح اسلام آباد کے جنگل نُما شہر میں بھیج دِیا جائے گا سو میں نے اِرادہ کرلیا کہ جیسے ہی امیر قافِلہ کا اعلان ہوگا میں اُن سے صاف صاف کہہ دونگا چاہے کسی قریبی گاؤں دیہات میں بھیج دو لیکن میں اسلام آباد نہیں جاؤں گا اب کوئی اسلام آباد کا رہایشی بھائی یہ نہ سمجھ لے کہ ہمیں خُدانخواستہ اسلام آباد والوں سے کوئی دُشمنی ہے بلکہ ہماری بے رغبتی کی وجہ کُچھ ایسی تلخ یادیں ہیں کہ مجھے اِسلام آباد کے نام سے ہی اُس وقت اِلرجی محسوس ہوتی تھی، تھی سے مُراد یہ ہے کہ اب میں خود اِسلام آباد جانا چاہتا ہوں کہ وہاں سید محمد کی اَمی رہتی ہیں اور میں ایک مرتبہ اُنکی قدم بوسی کی خُواہش اپنے دِل میں پاتا ہوں۔

ویسے اِسلام آباد کا ذکر آہی گیا ہے تو میں اسلام آباد کی یاد سے جُڑا ایک واقعہ آپکو سُناتا چلوں کہ 1994 میں ہمارے قافلہ امیر کے پاس ایک نوجوان آیا یہ نوجوان درس وتدریس کی ہر محفل میں شمولیت بڑی پابندی کیساتھ کیا کرتا تھا اور قافلہ والوں سے بڑی مُحبت کیساتھ پیش آیا کرتا تھا، اُس دِن وہ بڑی لجاجت کیساتھ امیر قافَلہ سے درخواست کر رہا تھا کہ جناب کل جمعرات کی رات کا کھانا آپ تمام لوگ ہمارے گھر پہ کھائیں امیر قافلہ پہلے تو راضی نہیں ہُوئے لیکن کافی پَس و پیش کے بعد حامی بھر لی تمام شُرکائے قافلہ کے کھانے پکانے کی ذمہ داری مجھ فقیر کے حصے میں آئی تھی۔۔۔

 اگلے دِن صبح کے ناشتے کیساتھ ہی دوپہر کی سبزی بھی پکانے کے بعد میں نے برتن وغیرہ صاف کر کے رکھ دیئے دوپہر کے کھانے سے فارغ ہوکر ہم سب ہی درس و تدریس میں مشغول ہوگئے مغرب کی نماز پڑھ کر ہمیں اجتماع میں جانا تھا لیکن مغرب سے پہلے تک وہ نوجوان نہیں آیا بعد مغرب ہمیں اُس نوجوان نے یہ خبر آکر سُنائی کہ میری بڑی باجی نہیں مان رہیں ۔وہ کہتی ہیں کہ اگر کسی مولوی کو گھر لائے تو تُمہارے ساتھ اُن مولویوں کی بھی ٹانگیں توڑ دونگی میں آپ لوگوں سے بے حد شرمندہ ہوں ۔کہ ،،آپ لوگوں کو اپنے گھر نہیں لیجاسکتا، امیر قافِلہ نے اُس نوجوان کو تسلی دی کہ کوئی بات نہیں آپ نے تو خلوص کیساتھ دعوت دی تھی اور آپکو اس نیت کا ثواب  بھی ضرور ملے گا،۔یہ سُن کر وہ نوجوان تو چلا گیا اور امیر قافِلہ نے مجھے بُلا کر کہا کہ کھانا بنانے کا وقت تو ہمارے پاس ہے نہیں ۔۔۔لہٰذا آپ جائیں اور دیکھیں کوئی ہوٹل اگر کُھلا ہو تو اِہل قافِلہ کو کھانا کِھلا دیں اُس وقت ہمارا قافِلہ ٹمبر مارکیٹ کی ایک زیر تعمیر مسجد میں ٹِہرا ہُوا تھا اور مجھے معلوم تھا کہ مغرب کے بعد ہوٹل بند ہوجانے کی وجہ سے کھانا نہیں مِل سکے گا مگر اِہل قافِلہ کی دِل جوئی کی خاطر مسجد سے باہر نکل آیا دور دور تک کہیں کھانا نہیں مِلا تو مسجد واپس آگیا۔

مسجد میں دَاخل ہوتے ہُوئے میری نظر ایک لفافے پر پڑی جس پر لِکھا تھا، قافِلہ والوں کیلئے، میں نے وہ پیکٹ اُٹھایا اور امیرِ قافِلہ کو بتایا کہ جناب کھانا تو نہیں مِلا البتہ یہ پیکٹ دروازے کیساتھ رَکھا مِلا ہے ۔۔۔ امیر قافِلہ کے حُکم پر جب میں نے وہ پیکٹ کھولا تو اُس میں راجہ بازار کے ایک مشہور ہوٹل کے گَتے کے ڈبہ بند تین پیکٹ نِکلے جن میں بریانی، کباب، اور بروسٹ، تھے لیکن یہ کھانا اِتنا کم تھا کہ تین افراد کا بَمُشکل پیٹ بھر سکتا تھا ہمیں لگا کہ وہی نوجوان شرمندگی کی وجہ سے یہ کھانا رکھ گیا ہے اور چُونکہ کھانا تھوڑا ہے اس لئے شرمندگی کے باعث چِٹ لگا کر چلا گیا اور سامنے نہیں آیا ۔۔۔ بہرحال ہم گیارہ افراد اُس کھانے کے گرد حلقہ بنا کر بیٹھ گئے لیکن یہ کیسا کھانا تھا کہ تین افراد کا کھانا جو کہ بُہت لذیز بھی تھا خَتم ہونے کا نام نہیں لے رہا تھا یہاں تک کہ سب نے سیر ہوکر بلکہ یوں کہیے کہ ڈٹ کر کھایا اور کھانے سے فارغ ہونے کے بعد اللہ کا شُکر ادا کرتے ہوئے اجتماع گاہ کیلئے اسلام آباد کے مدنی مرکز کیلئے روانہ ہوگئے۔

دوسرے دِن ہمارے قافلہ کا کُوچ آبپارہ مارکیٹ سے نزد ایک مسجد کے لئے تھا کہ وہی نوجوان قافِلہ کی روانگی سے قبل آدھمکا اور ہم سے دوبارہ معذرت کرنے لگا امیر قافِلہ نے کہا کہ ماشاءَاللہ اسقدر زبردست کھانا آپ نے ہمیں کھلایا اگرچہ کھانا کم تھا لیکن قافِلہ کی برکت سے سب نے پیٹ بھر کر کھا لیا تھا اب معذرت کیوں کر رہے ہیں۔۔۔؟؟؟  وہ نوجوان حیرت سے کہنے لگا لیکن میں نے تو آپ لوگوں کو کوئی کھانا نہیں کِھلایا بلکہ میں نے خُود بھی احتجاجاً کل رات کھانا گھر پر نہیں کھایا میرے پاس تو اتنے پیسے بھی نہیں تھے کہ آپکو کِسی معمولی ہوٹل میں ہی کھانا کھلا سکتا۔

امیرِ قافِلہ نے اُس نوجوان سے دریافت کیا تو کل آپ کھانے کے پیکٹ مسجد میں رکھ کر نہیں گئے تھے؟ اس نوجوان نے کہا کہ آپ مجھ سے قسم لے لیں میں کچھ بھی رکھ کر نہیں گیا، اُس نوجوان کے جانے کے بعد ہم سب آپس میں چہ میگوئیاں کرنے لگے اگر کھانا اِس نوجوان نے نہیں کِھلایا تو آخر ہمیں کھِلایا کس نے اور ہمارا وہ میزبان ہمارے سامنے بھی کیوں نہیں آیا۔

تبھی امیرِ قافِلہ نے نہایت ٹِہرے ہوئے لہجے میں ہمیں مُخاطب کرتے ہوئے کہا دوستوں! ہمیں کھانا یقیناً اُسی رَبَّ العالمین نے کِھلایا ہے جسکے گھر ہم مہمان ٹِہرے تھے ۔جسکے دین کی خدمت کا جذبہ لیکر ہم اپنے گھروں سے نِکلے تھے۔۔۔ دوستوں! حضرتِ صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہُ کا فرمان ہے، مفہوم، جو اللہ کے کاموں میں لگ جاتا ہے اللہ کریم اُسکے کاموں میں لگ جاتا ہے ۔۔۔اور محترم قارئین ایسا ہمارے ساتھ ایک مرتبہ نہیں بلکہ دو مرتبہ ہُوا دوسری مرتبہ  دعوت کی مخالفت  اوربڑی بہن کا کردار ایک امی جان نے نِبھایا اور اُس دِن اِتِفاق سے ہمارے پاس دِن کا بچا ہُوا سالن موجود تھا صرف روٹی تنور سے لانی پڑی تھی ۔۔۔لیکن مُحترم قارئین کرام یہ وہ وجہ ہر گز نہیں تھی جسکے سبب ہمیں اسلام آباد پسند نہیں تھا بلکہ اِسلام آباد کی وہ خاموشی تھی جو مغرب کی نماز کے بعد سے ہی اسلام آباد کی سڑکوں پر اپنا راج کرلیتی تھی۔ جبکہ میرا تعلق اُس شہر سے ہے جہاں رات کے دو بجے تک بھی توے کی کھٹ کھٹ سُنائی دیتی ہے ہمارے شہر کی پلوشن فضا میں ایک پتنگے کو زندہ نہیں رہنے دیتی جبکہ اسلام آباد کی ہریالی نہ صرف اُنہیں جنم دیتی ہے بلکہ وزیرستان کی طرح اُن حشراتُ الارض کو پناہ بھی فراہم کرتی ہے۔

محترم قارئین یہ تو ضمنی بات تھی جو درمیان میں آگئی میری دِلچسپی حیدرآباد مرکز میں مُتوقع امیر قافلہ میں تھی اور جب امیر قافِلہ کا اعلان کیا گیا تو میری خُوشی کی اِنتہا نہ رہی امیر قافِلہ جناب محمد ندیم عطاری بھائی کو بنایا گیا تھا جو کہ میرے بُہت پُرانے دوست بھی تھے اور اب کافی عرصہ سے کوٹری شہر میں خِدمات اِنجام دے رہے تھے میری اُن سے قریباً پندرہ برس بعد مُلاقات ہورہی تھی۔ بہرحال قصہ مُختصر یہ کہ اسلام آباد والوں کی خُوش نصیبی تھی کہ پِنڈی پُہنچ کر قُرعہ مانسہرہ سے ناران تک کے نام نِکلا ہم سبھی مانسہرہ کیلئے روانہ ہوگئے اور یوں اسلام آباد والے میرے نِکمے وَجود سے محفوظ ہوگئے۔

مانسہرہ سے ناران تک کا سفر بھی نہایت یادگار سفر ہے جِسے بُھلانا بھی ناممکن ہے ہو سکتا ہے آج پھر کسی کو میرا کالم پڑھ کر نیند آرہی ہو لہٰذا اگلا سفر آئندہ پیش کرونگا۔۔ اللہ حافظ

Thursday, 6 June 2013

جب گاما بن گیا ،،شاہ جی،،


چند دِن قبل صبح  فیکٹری کے آفس میں  داخل ہُوتے ہی اِحسان وارثی بھائی کو دیکھا۔ تو حیرت کیساتھ بے حد خُوشی بھی ہُوئی۔ میں نے سلام دُعا کے بعد خُوش مزاجی سے صبح اتنی جلدی آنے کا سبب دریافت کیا۔ تو فرمانے لگے۔ روحانی پیج کے سوالات کو نمٹانے کیلئے یکسوئی کی تلاش تھی۔ اُور کچھ سوالات کے جوابات دینے کیلئے آپکی مدد بھی درکار تھی۔ ۔۔سُو مجھے اِس سے بہتر جگہ اُور کہاں مُیسر آسکتی تھی۔۔۔؟  کچھ دیر تک احسان بھائی مشاورت کے بعد جوابات مرتب کرنے بیٹھ گئے۔۔۔ پھر اچانک کچھ یاد آنے کے سبب مجھ سے گُویا ہُوئے۔ عشرت بھائی ایک اُور معاملے میں بھی آپکی مدد  اُور رہنمائی کی ضرورت ہے۔۔۔ میں نے مُسکرا کر کہا۔ کیسی مدد چاہیئے۔۔۔؟

عشرت بھائی کافی لُوگ آپکی تحریروں کی مدد سے لوگوں کے علاج کی سعی کرتے ہیں۔۔۔ اُور اِس میں کامیاب بھی رِہتے ہیں۔۔۔ لیکن مجھے آج ایک اسلامی بہن اُور اِسلامی بھائی کے لئے خاص اِجازت درکار ہے۔۔۔ ویسے تو بیشمار لوگوں نے روحانی علاج کرنے کیلئے آپکی اِجازت طلب کی ہے۔ لیکن میں جِن ۲ لوگوں کا تذکرہ کررہا ہُوں۔ یہ دُونوں کافی دِن سے میرے رابطے میں ہیں۔ اور اپنے علاقے میں کافی لوگوں کے رُوحانی علاج میں کامیابی حاصل کرچُکے ہیں۔ اِن میں سے  ایک خاتون تو کراچی میں رِہائش پذیر ہیں۔ جبکہ اسلامی بھائی کا تعلق  خیبر پختونخواہ  کے ایک شہرسے ہے۔۔۔۔

اگر آپکو لگتا ہے ۔کہ،، وُہ مناسب لُوگ ہیں۔ تو آپ خود ہی اِجازت مرحمت فرمادیتے۔آپکی اجازت بھی تُو میری ہی اِجازت ہے۔ ۔۔میں نے ایکبار پھر احسان بھائی کو مُسکرا کر دیکھتے ہُوئے کہا۔۔۔بھائی یہ تو آپکی محبت ہے۔کہ،،آپ مجھے اِس قابل سمجھتے ہیں۔ لیکن میں آپکی رائے معلوم کرنا چاہتا ہُوں۔ اُس کے بعد ہی اُن لوگوں کو جواب دُونگا۔۔۔۔ میں نے  کچھ سُوچتے ہُوئے اِحسان بھائی کو مشورہ دِیا ۔کہ،، اِس معاملے میں استخارہ کرلیتے ہیں۔ اگر اجازت مِل گئی تو۔ اُنہیں بھی اِجازت دیدیں گے۔ اُور اگر وُہ اِس مقدس مِشن کے لائق نہ ہُوئے تو  اُنہیں محبت سے ٹال دیجئےگا۔۔۔ احسان بھائی کچھ لمحے خاموش رہے۔ پھر کہنے لگے ۔بھائی آپ تو ہمیشہ لوگوں کو بُہت آسانی سے اِجازت دیدیتے ہیں۔ لیکن آج آپ نے استخارے کی شرط لگادی ہے۔ میں نے اِحسان بھائی کی پریشانی بھانپتے ہُوئے اُنہیں  اپنی زندگی کا ایک سبق آموز  واقعہ سُنانے کا قصد کیا۔ تاکہ،، اُنکی پریشانی دُور ہُوسکے۔

یہ ۲۰۰۸ کا واقعہ ہے۔ مجھ سےمیرے ایک   راجپوت دُوست نے ایک شخص کا ماجرا بیان کیا۔ اُنکے بقول ۔ پنجاب سے ایک فیملی نے دُو سال قبل نقل مکانی کرتے ہُوئے۔ ہمیشہ کیلئے میرپورخاص میں سکونت کا فیصلہ کیا تھا۔۔۔ اُن لوگوں کی پنجاب میں کچھ آبائی زمین تھی۔ جِس پر خاندانی تنازعے کی وجہ سے کئی افراد قتل ہُوچکے تھے۔ بلاآخر یہ صاحب اپنا حصہ اُونے پُونے داموں بیچ کر میرپورخاص شفٹ ہُوچکے تھے۔۔۔

  اُور اچھا خاصہ بزنس بھی سیٹ کرچکے تھے۔لیکن گُذشتہ چند ماہ سے اُن پر جنات قابض ہیں۔۔۔ ایک ہندوٗ سے رُوحانی علاج بھی چل رہا ہے۔ لیکن اِس چکر میں لاکھوں روپیہ وُہ ہِندو عامل اینٹھ چُکا ہے۔۔۔ جبکہ مسلسل بیماری کی وجہ سے کاروبار بھی ختم ہُوچکا ہے۔۔ سِوائے ذاتی مکان کے کچھ بھی باقی نہیں بچا۔۔۔گھر کا خرچ پُورا کرنے کیلئے اُنکے بچے جگہ جگہ نوکری کررہے ہیں۔۔۔۔ بیچارے زمیندار لُوگ تھے۔۔۔ اُنہیں کیا معلوم تھا۔کہ،، ہجرت کے بعد بھی سکون نہیں مِلے گا۔۔۔  دُوسری طرف بھابی جی کا بُہت بُرا حال ہے۔۔۔ ایک طرف شوھر کی بیماری۔۔ دوسری طرف گھر کے بے پناہ خرچے آج بھابی نے میری بیوی سے کہا کہ،، گھر کے اخراجات پُورے کرنے کیلئے اگر کسی بڑے گھر میں ماسی کی نوکری مِل جائے ۔تو میں خوشی خُوشی وُہ بھی  کرنے کیلئے تیار ہُوں۔۔۔جب میری بیوی نے مجھے یہ بات بتائی تو نجانے کیوں۔ میرے دِل میں یہی خیال آیا۔ کہ ،، میں عشرت بھائی کو سارا ماجرا سُناوٗں گا۔ شائد کوئی سبیل نِکل آئے۔ ۔۔ عشرت بھائی اگر آپ ایک نظر اُنکے گھر چل کر تمام معاملہ دیکھ لیں تو بڑی مہربانی ہُوگی۔


کچھ تو یہ قصہ بڑا دردناک تھا۔ پھر آنے والا بھی  میرابڑا خودار  مُخلص دُوست تھا۔ ۔۔۔اسلئے انکار کی کوئی گُنجائش ہی نہیں تھی۔۔۔ ورنہ  عموماًمیں کسی کے گھر جا کر علاج نہیں کرتا۔ بہرحال قصہ مختصر میں حسب وعدہ اُس شام اپنے دُوست کے گھر جا پُہنچا۔ جو کہ،، شہر کے مضافات میں واقع تھا۔ میرے وُہ دُوست مجھے مریض کے گھر لےگئے۔۔۔ گھر کی  اندرونی حالت سے مجھے اندازہ لگانے میں بالکل مشکل پیش نہیں آئی۔کہ،، اُنکا واقعی بُہت غریبی حال چل رہا تھا۔ مریض کا نام رفیق تھا۔  مگر  میرا دُوست  رفیق کو گامے کے نام سے مخاطب کررہا تھا۔۔۔۔ حالانکہ اکثر لوگ رفیق کو فیقے سے بدل دیتے ہیں۔ جو کہ صریح غلط طریقہ ہے۔کہ انسان پر اچھے نام کے اچھے اثرات جبکہ بُرے نام کے بُرے اثرات مُرتب ہُوتے ہیں۔۔۔

گامے کی حالت دیکھ کر بظاہر ایسا لگ رہا تھا۔ جیسے وُہ اپنی زندگی کی آخری سانسیں گِن رہا ہُو۔ گھر کی لائٹ شائد بِل نہ بھرنے کے سبب کٹ چکی تھی۔۔۔ اُور گامے کے جسم پر مکھیاں بھنبنا رہی تھی۔ ۔۔ جبکہ قریب ہی ایک دوسری چارپائی پر بیٹھا  ایک بوڑھا شخص حقے کی نِے سے شغل میں مصروف تھا۔ ۔۔  میں نے ایک خالی گوشے میں بیٹھ کر استخارہ کیا۔ تب مجھے معلوم ہُوا۔کہ گامے پر کوئی جن قابض نہیں تھا۔۔۔ بلکہ اُس پر شدید قسم کا کالا عِلم کیا گیا تھا۔۔۔ جو کہ،، عموماً جانی وار کرنے کیلئے کیا جاتا ہے۔ دوسری بات میرے عِلم میں جو آئی۔ وُہ میرے لئے بھی حیران کُن تھی۔ کہ،، جس ہندو عامل سے گامے کا علاج کروایا جارہا تھا۔۔۔ وُہ بھی دَرپردہ گامے کے دُشمنوں سے مِلا ہُوا تھا۔۔۔ اُور بجائے کالے علم کا توڑ کرنے کے وُہ خُود اُس جادو کو تقویت بخش رَہا تھا۔جوکہ،، گامے کو ہلاک کرنے کیلئے کیا گیا تھا۔

میں نے تمام صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد۔ پہلے تو گامے اُور اپنے دُوست کو سمجھایا۔ کہ آپ لوگ کیسے مسلمان ہیں۔۔؟ جو ایک مسلمان کا روحانی علاج کرنے کیلئے ایک ہندو سے رابطہ کررہے ہیں۔ اگر آپ یہ سوچ کر علاج کروارہے ہیں۔ کہ وُہ ہِندو عامل آپکی کچھ مدد کرپائے گا۔ تو  آپ لُوگ غلط  سُوچ رہے ہیں۔۔۔اُور یہ بالکل غلط طریقہ ہے۔۔۔ کیونکہ ہم مسلمان ہیں۔ اور اللہ کریم کے کلام اور اسکے اسمائے مبارکہ میں ایسی قوت ہے۔کہ دُنیا کا کوئی عِلم اسکا مقابلہ نہیں کرسکتا۔۔۔ دوسری بات یہ ہے۔کہ،، گامے پر جنات کے اثرات نہیں ہیں۔ بلکہ ایک غلیظ قسم کا جادو کیا گیا ہے۔۔۔ جسکا علاج انشاءاللہ عزوجل میں  قران مجید کی آیات سے کردونگا۔۔۔ اسلئے گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے۔ لیکن آپ لوگوں کو اسکے عوض مجھ سے ایک وعدہ کرنا ہُوگا۔ کہ،، چاہے کچھ بھی ہُوجائے آپ لوگ آئندہ اُس ہندو عامل سے رابطہ نہیں کروگے۔۔۔۔۔ میں نے جان بُوجھ کر ہِندوٗ عامل کی شرارت کا تذکرہ نہیں کیا تھا۔ ورنہ گامے کی فیملی کیساتھ  ساتھ گاما  خود بھی ذیادہ ڈر سکتا تھا۔۔۔

پہلے ہی ہفتے کے علاج کی برکت سے گامے نے بفضل خُدا چارپائی چھوڑ دی۔۔۔ میں صرف اپنے دُوست کے اِصرار پر ایک سے زائد مرتبہ خود اسکے علاج  کیلئے گامے کے گھر پر جاتا رہا۔ نتیجتاً صرف ایک ہی ماہ میں گاما بالکل ہشاش بشاش نظر آنے لگا۔۔۔ اُور کچھ کام دھندے کی ترکیب بھی بن گئی۔ علاج مکمل ہُونے کے باوجود گامے نے میری فیکٹری پر آنا جانا نہیں چھوڑا۔۔ ایک دِن کافی لوگوں کی بھیڑ دیکھ کر گاما مجھے کہنے لگا۔ اقبال بھائی آپ لُوگوں سے کچھ نذرانہ کیوں نہیں لیتے۔۔۔۔؟ میں نے مسکرا کر اسکی طرف دیکھ کر کہا۔۔۔ اللہ کریم نے مجھے محتاج اُور لاچار پیدا نہیں کیا ہے۔ پھر اِس فیکٹری سے مجھے ضرورت سے ذیادہ آمدنی ہُوجاتی ہے۔۔۔ پھر بھلا میں کیوں لُوگوں سے روحانی علاج کیلئے  رقم مانگوں۔۔۔۔میرا جواب سُن کر اُس سے کوئی دلیل نہ بن پڑی تو وُہ خاموش ہُوگیا۔۔۔ اِس واقعہ کے چند دِن بعد گامے نے مجھ سے فرمائش کی۔۔۔ کہ،، میں گامے کو اپنی شاگردی میں لے لُوں۔ میں نے گامے کا دِل رکھنے کیلئے اُسے اپنی شاگردی میں قبول کرلیا۔۔۔۔  میں پُوری ایمانداری سے گامے کی تربیت کرنے میں مشغول تھا۔لیکن گامے کو بُہت جلدی تھی۔۔۔ وُہ دیگر  ابتدائی وظائف کے بجائے ڈائریکٹ آخری سیڑھی تک پُہنچنا چاہتا تھا۔ پھر اُس نے ضد کی کہ،، پہلے مجھے استخارہ کرنا سِکھا دیں۔ اور جادو کے علاج کا طریقہ سِکھادیں۔۔۔ باقی وظائف میں بعد میں کرلوں گا۔

میرے کافی سمجھانے کے بعد بھی جب گامے کی سمجھ میں میری بات نہیں آئی۔ تو میں نے گامے کو استخارہ کرنے کا طریقہ ، اور جادو کی کاٹ کا طریقہ سِکھا دیا۔۔۔ میں نے اُسے جانچنے کیلئے کئی مرتبہ اپنے سامنے استخارہ کروایا۔ ایک  دو لوگوں کی کاٹ بھی کروائی۔ جِسکے بعد گامے نے نہایت احسن انداز میں میرے سامنے  ہی اُن لوگوں کی کاٹ کا عمل کیا۔۔۔ گامے کا باادب انداز دیکھ کر میرے دِل میں کبھی یہ خیال نہیں گُزرا کہ،، گاما اپنے دِل میں کیسے کیسے پلان مرتب کررہا ہے۔۔۔۔ وُہ میرے لاکھ منع کرنے کے باوجود بھی مجھے عجیب عجیب القاب سے پُکارتا۔۔۔ جِسے سُن کر دوسرے لوگ بھی اُسکے عشق و ادب کے گرویدہ ہُوجاتے تھے۔ کبھی  وُہ مجھے وڈی سرکار، کبھی مُرشد کہہ کر پُکارتا۔۔ کبھی میری چپل اپنے سینے سے لگا لیتا۔۔۔ تو کبھی اپنے سر پہ رَکھ لیا کرتا۔۔۔ اُسکے عشقیہ انداز دیکھ دیکھ کر کبھی کبھی تو میں بھی شرمندہ ہُوجاتا۔ کہ کہاں مجھ جیسا مجرم و گنہگار ۔اُور کہاں اُسکے القاب و انداز۔۔۔!

کچھ عرصہ مزید گذرنے کے بعد ایک دن گامے نے مجھ سے روحانی علاج کی اجازت طلب کی۔ اُس کا کہنا تھا۔کہ،، ہندو عامل کی وجہ سے کالونی کے اکثر لُوگ پریشان ہیں۔۔۔ اگر آپ مجھے اجازت عطا کردیں گے تو میں کالونی کے لُوگوں کی مدد کرنا چاہتا ہُوں۔۔۔ میں نے گامے کو اِجازت دینے کے بعد پیار سے سمجھایا کہ،، لوگوں کا علاج ضرور کرنا۔ مگر اُن سے کسی قسم کا فائدہ مت اُٹھانا۔۔ اور نہ ہی کوئی نذرانہ وصول کرنا۔۔۔ ورنہ لالچ کا پودا دِل میں جگہ بنا لے گا۔۔۔۔ گامے نے استفسار کیا۔ حضرت صاحب کیا روحانی علاج کا نذرانہ لینا گناہ ہُوتا ہے۔۔۔ ہمارے پنجاب میں تو بڑے نذرانے کا رواج ہے۔۔۔ میں نے اُسے محبت سے سمجھاتے ہُوئے کہا،، رواج تو ہمارے سندھ میں بھی ہے۔ اُور نذرانہ لینے میں کوئی گناہ بھی نہیں ہے۔ مگر اِس سے بندے کے دِل میں حرص  پیدا ہُوجانے کا خدشہ ہے۔۔۔ جس طرح میں نے تُمہارا علاج فی سبیل اللہ کیا تھا۔ تم بھی ہمیشہ لوگوں کا فی سبیل اللہ علاج کرنا۔

اِس واقعہ کے بعد گامے نے رفتہ رفتہ میرے پاس آنا کم کردیا۔۔۔ یہاں تک کہ،، مجھے اُسے دیکھے ہُوئے چھ ماہ سے زائد کا عرصہ گُزرگیا۔۔۔ کام کی مصروفیت کی وجہ سے میرے ذہن سے بھی گامے کا خیال دھندلا گیا۔ البتہ کبھی کبھار لوگوں کی زُبانی معلوم ہُوجاتا تھا۔ کہ،، گامے نے گھر میں آستانہ قائم کرلیا ہے۔ اُور کافی لُوگ روحانی علاج کے سلسلے میں گامے کے پاس آتے ہیں۔

ایک دِن میں شہر سے باہر تھا۔ کہ،، مجھے اپنے شہر سے ایک کال موصول ہُوئی۔۔۔  فون کرنے والا مجھ سے فوری طور پر ایک مریض کے سلسلے میں مِلنا چاہتا تھا۔ جبکہ مجھے واپس جانے میں کئی دِن لگ سکتے ہیں۔۔۔ میں نے اُس بندے کا عِلاقہ معلوم کیا۔ تو مجھے معلوم ہُوا۔کہ،، وُہ شخص گامے کی کالونی سے متصل علاقے کا رہنے والا ہے۔۔ سُو میں نے اُسے گامے کا پتہ بتاتے ہُوئے کہا۔۔۔ کہ گاما میرا شاگرد ہے۔ اُسے میرا سلام دینا۔ اُور فی الحال  آپ اُس سے رابطہ کرلو۔۔۔ اُس شخص نے کہا۔ ہم گامے شاہ جی کے پاس پاس جاچُکے ہیں۔۔۔ لیکن وُہ بُہت تگڑی رقم مانگ رہے ہیں۔ جو کہ ہم  غریب لُوگ نہیں دے سکتے۔ ہمیں کسی نے آپکا بتایا تھا۔کہ،، آپ فری علاج کرتے ہیں۔۔۔ سُو  آپ سےرابطہ کرلیا لیکن آپ بھی شہر سے باہر ہیں۔۔۔۔۔۔ میں نے  اُسے پیار سے سمجھاتے ہُوئے کہا۔۔۔ بھائی آپکو ضرور کچھ غلط فہمی ہُوئی ہے۔ میں جس گامے کے متعلق آپکو بتا رہا ہُوں۔۔۔ وُہ شاہ جی نہیں ہے۔بلکہ ذات کا جٹ ہے۔ جب آپ میرا سلام دے کر اُسکے پاس جاوٗ گے۔ تو میرا والا گاما آپ سے انشاءَ اللہ ایک پیسہ بھی نہیں مانگے گا۔

میں چند دِن بعد جب اپنے شہر پُہنچا تو وہی شخص جس نے مجھ سے فون پر رابطہ کیا تھا ۔ اگلے ہی دِن آدھمکا ۔۔۔ میں نے جب گامے سے مُلاقات کا احوال معلوم کیا۔ تو وُہ شخص نہایت افسردہ انداز میں کہنے لگا۔۔۔ جناب ہم آپ کے کہنے پر گامے شاہ جی کے گھر دُوبار گئے تھے۔۔۔ لیکن جب ہم نے آپکا نام بتا کر اپنا مسئلہ بیان کیا تو گامے شاہ جی  نےآپکو پہچانا ہی نہیں۔۔۔۔ وُہ کہتے ہیں،، میں کسی عشرت اقبال وارثی کو نہیں جانتا،، اُور نہ ہی  کوئی وارثی میرا اُستاد ہے۔میرے  رُوحانی اُستاد تو میرے ماموں ہیں۔ یا  میرے مُرشد ہیں۔ جو پنجاب میں ہُوتے تھے۔ اُور چند سال پہلے ہی وصال فرماچکے ہیں۔۔۔  اگر تُم لُوگ دس ہزار روپیہ دے سکتے ہُو۔ تو میں علاج کیلئے تیار ہُوں۔۔۔ ورنہ اپنی راہ لُو۔۔۔۔پتا نہیں مجھے کیوں ایسا لگا۔ کہ،، یہ شخص مجھ کو میرے  رُوحانی بیٹے گامے سے متنفر کرنے کی کوشش کررہا ہے۔ کیونکہ گامے کے ادب و عشق کا سارا منظر آج بھی میری آنکھوں میں تازہ تھا۔۔۔

میں نے اُن  لُوگوں سے مریض کی بابت معلوم کیا۔تو اُنہوں نے بتایا کہ،، مریض کی حالت ایسی ہرگز نہیں ہیں۔کہ،، اُسے گھر سے یہاں تک لایا جاسکے۔ اگر آپ کرم فرمادیں تو ہم رکشہ لے آتے ہیں۔ آپ گھر چل کر دیکھ لیں۔۔۔۔ شائد کوئی اُور وقت ہُوتا تو میں اُن لوگوں سے گھر چلنے سے معذرت کرلیتا۔ لیکن آج میرا بھی بُہت دِل چاہ رہا تھا۔کہ،، اپنے گامے کو اپنی آنکھوں سے دیکھ کر تمام شکوک و شبہات کو دِل سے کھینچ کر ہمیشہ ہمیشہ کیلئے باہر نِکال دُوں۔۔۔ میں نے اُن سے کہا رکشہ کی ضرورت نہیں ہے۔ میں اپنی سواری پر عصر کی نماز  کے بعد گامے کے گھر پُہنچ جاوٗنگا۔۔۔ اُور مغرب کے بعد آپ لوگوں کے ساتھ چلدوں گا۔ اسلئے آپ لُوگ بھی مغرب سے قبل گامے کے گھر آجانا۔۔۔

میں جب عصر کی نماز کے بعد گامے کے گھر پر پُہنچا تو حیرتیں میری منتظر تھیں۔۔۔ گامے کا گھر ایک عالیشان کوٹھی کا منظر پیش کرہا تھا۔ جبکہ اِس کوٹھی کے ڈرائینگ رُوم کے اندر  تا باہر مَرد و خواتین کی الگ الگ قطار لگی ہُوئی تھی۔ جو کہ اپنی باری پر اندر موجود گامے سے ملاقات کیلئے بے چین نظر آرہے تھے۔ جبکہ ڈرائنگ رُوم کے باہر ایک تختی پر نظم و ضبط سے متعلق ہدایات موجود تھیں۔۔۔ لیکن جس بات نے مجھے سب سے ذیادہ حیرت میں مُبتلا کیا۔ وُہ گامے کے نام کیساتھ ،،شاہ جی،، کا جلی حروف میں اضافہ تھا۔۔۔ میں ورطہ حیرت میں مُبتلا تھا۔ کہ  ،،گاما رَاتوں رات سَیّد کیسے بن گیا،، اچانک میری نظر گامے کے چودہ سالے بیٹے پر پڑی۔ جو مجھے پہچان کر میرے نذدیک آگیا تھا۔۔۔ مجھے چونکہ مغرب کے بعد علاج کیلئے بھی جانا تھا۔ سُو میں نے گامے کے بیٹے کو پیار کرتے ہُوئے کہا۔ کہ،، بابا سے کہو ۔۔۔ مجھے کہیں جانا ہے۔ اِس لئے جلد مُلاقات کرلیں۔۔۔ میرا خیال تھا۔کہ،، جیسے ہی گاما میرے متعلق سُنے گا۔ وُہ اُستاد جی کہتا ہُوا۔ ننگے پاوٗں دوڑتا ہُوا چلا آئے گا۔

 کافی دیر گُزر گئی لیکن گاما نہیں آیا۔۔۔ کچھ دیر بعد وہی بچہ اندر کوٹھی سے برآمد ہُوا۔ اُور میرے پاس آکر کہنے لگا۔۔۔  شاہ جی فرمارہے ہیں۔کہ،، ابھی میں بُہت مصروف ہُوں۔۔۔آپ یا تو اپنی باری کا انتظار کرلیں۔ یا کسی اُور دِن وقت لے کر آجائیں۔۔۔۔۔۔ مجھے اگر لُوگوں کی موجودگی کا اِحساس نہ ہُوتا۔ تو میں شائد وہیں صدمے سے ڈھیر ہُوجاتا۔۔۔ کچھ ہی دیر میں وُہ لُوگ بھی وہیں پُہنچ گئے۔ جنکے گھر مجھے علاج کیلئے جانا تھا۔۔۔ میں مزید شرمندگی سے بچنے کیلئے خاموشی سے اُن لُوگوں کیساتھ یہ سُوچ کر چل دیا۔۔۔ کہ،، آج چاہے جو بھی ہُوجائے۔ میں گامے سے ملاقات کئے بغیر واپس  اپنے گھرنہیں جاوٗنگا۔

مریض پر دَم کرنے کے بعد میں واپس تنہا گامے کی کوٹھی پر چلا آیا۔ مجھے مریض کے اہل خانہ کی زُبانی معلوم ہُوا کہ،، گامے شاہ  ظہر کے بعد سے لیکر عشا کی نماز تک لوگوں پر  لگاتار دَم کرتا ہے۔ لیکن ایک بھی نماز پڑھنے کیلئے اپنی نشست سے اُٹھ کر نہیں جاتا۔ اُور گامے شاہ کے چمچوں نے لوگوں میں یہ بات مشہور کردی ہے کہ،، گامے شاہ رُوحانی طور پر تمام نمازیں حرمِ پاک میں ادا کرتا ہے ۔۔۔ ۔۔۔اُس وقت کہیں کہیں سے اَذان عشاء بُلند ہُونے لگی تھی۔۔۔۔ گامے کے گھر سے لُوگوں کا رَش چھٹ چُکا تھا۔۔۔ ڈرائینگ رُوم میں  داخل ہُونے کے بعد میری نِگاہ    چند خواتین اُور گامے پر پڑی  جو بڑے انہماک سے ایک خاتون کے علاج میں مصروف تھا۔۔۔ میں خاموشی سے ایک کُونے میں بیٹھ گیا۔ گاما عجیب انداز سے اُس خاتون کی کمر اُور پسلیوں میں چٹکیاں بھر کر،، باہر نِکل، باہر نِکل ،، کی صدائیں بُلند کررہا تھا۔ دُوران علاج ایک مرتبہ گامے کی نِگاہ مجھ پر پڑی لیکن اُس نے مجھے کوئی خاص اہمیت نہیں دِی۔

تھوڑی دیر بعد جب وُہ خواتین  گامے کے سامنے اچھے خاصہ نزرانہ رکھ کر چلی گئیں۔۔۔ تب گامے نے خالی کمرے میں ایک طائرانہ نِگاہ دُوڑانے کے بعد مجھے مُخاطب کرتے ہُوئے کہا،، وارثی صاحب  آج ساڈی ضرورت کیوں پئے گی  تُہاں نُوں۔۔۔ میرا خیال تھا کہ،، مجھے پہچاننے کے بعد وُہ میرے قریب آجائے گا۔ لیکن وُہ اپنی مسند سے ٹس سے مَس نہ ہُوا۔۔۔ مجبوراً مجھے ہی آگے بڑھ کر اُسکی مسند کے  قریب جانا پڑا۔۔۔  گامے یہ سب کیا کررہے ہُو۔۔۔؟  کیا میں نے اِجازت دیتے ہُوئے تُم کو نذرانوں  اُور خواتین سے بالمشافہ ملاقات سے منع نہیں کیا تھا۔۔۔۔؟ میں نے گامے سے استفسار کیا۔۔۔۔۔ کیہڑی اِجازت وارثی صاحب۔۔۔ میں کوئی لاوارث نئیں آں۔۔۔ میرے  تےاپنے ماموں  بُہت وڈے عامل ہیں۔ میں اپنے ماموں دی اجازت لیکر لوکاں دا علاج کرریا واں۔۔۔۔ میں گامے کے بدلے تیور دیکھ کر حیران تو تھا ہی۔ لیکن میں جانتا تھا۔ کہ میں جتنے سوالات کرتا جاوٗں گا بات اُتنی ہی آگے بڑھتی چلی جائے گی۔۔۔ ورنہ  گاما میرے اِس ایک سوال کا بھی جواب دینے کے قابل نہیں تھا۔۔۔ کہ جب تُمہارے ماموں اتنے بڑے اُور پُہنچے ہُوئے عامل کامل تھے۔۔۔ تو اُس وقت تُمہاری مدد کو کیوں نہیں آئے۔۔۔۔؟ جب تُم بستر مَرگ پر پڑے ایڑیاں رگڑ رہے تھے۔۔۔ اور ماموں خود تجھے ہندو جوگی کے در پر لیجاتے تھے۔

لیکن میں جانتا تھا۔کہ میرے سوالات اُسے مزید جھوٹ کی دلدل میں غرق کرتے چلے جائیں گے۔۔۔ کیونکہ گامے کے مُنہ کو خُون لگ چکا تھا۔۔۔ دولت کی چمک نے اُس کی آنکھوں کو خیرہ کردیا تھا۔۔۔۔ لوگوں کی بھیڑ نے اُسکے قلب کی چمک چھین لی تھی۔۔۔ اسلئے اُسے آج اپنے محسن سے بھی خطرہ محسوس ہُونے لگا تھا۔۔۔۔

گامے ،،تُم مجھے یہ بتانا چاہ رہے ہُو۔۔۔ کہ یہ تمام  کرامتیں  اُور کمالات تُم میں تُمہارے ماموں نے ڈالی ہیں۔۔۔ اُور تُمہیں رُوحانی عِلاج کیلئے میری اجازت کی بالکل ضرورت نہیں ہے۔ ۔۔؟میں نے بڑے دِل گرفتہ انداز میں گامے سے آخری مرتبہ استفسار کیا۔۔۔۔ جی وارثی صاحب  تُساں سہی سمجھے ہُو۔۔۔ نہ مجھے پہلے تمہاری اجازت کی ضرورت تھی۔۔۔ اُور نہ آج ہی ضرورت ہے۔۔۔ گامے نے دُو ٹوک انداز میں جواب دیتے ہُوئے کہا۔۔۔۔۔ میں نے  الوداعی مُصافحہ کیلئے ہاتھ بڑھایا۔ تو گامے نے بھی بحث سے جان چھڑانے کیلئے دیوار سے ٹیک لگائے ہُوئے ہاتھ بڑھا دیا۔


میں نے  ایک لمحے کیلئے گامے کے ہاتھ کو مضبوطی سے دباتے ہُوئے کہا،، چُونکہ   آپکو میری اجازت کی ضرورت نہیں ہے۔ اُور نہ ہی آپکو میرا طریقہ پسند ہے۔ سُو آج میں اپنی اِجازت واپس لیتا ہُوں۔ اتنا کہنے کے بعد میں نے ایک جھٹکے سے اپنا ہاتھ گامے کے ہاتھ سے کھینچ لیا۔۔۔  اِس واقعہ نے مجھے اجازت کے معاملے میں بُہت محتاط بنا دیا تھا۔۔۔۔ کئی دِن تک میں بُہت افسردہ رَہا تھا۔۔۔ پھر دھیرے دھیرے  تمام معملات معمول پر آتے چلے گئے۔

میں نے کہانی ختم کرنے کے بعد احسان بھائی کے چہرے کی طرف دیکھا۔۔۔ تو اُنکی آنکھوں سے موتی ٹپک ٹپک کر زمین پر بِکھر رہے تھے۔۔۔۔ عشرت بھائی پھر گامے کا کیا ہُوا۔۔۔؟ احسان بھائی نے رُومال سے اپنی آنکھوں کو پُونچھتے ہُوئے کہا۔۔۔ 

گاما تین مہینے بعد اُسی مقام پر پُہنچ گیا۔۔۔ جس جگہ سے میں نے اُسے تھاما تھا۔۔۔۔ وُہ  ایکبار پھر میرے پاس آیا تھا۔۔۔ مجھ سے بُہت معافی مانگی اُور پھر سے   اپنے علاج  اُور اپنی شاگردی میں لینے کی درخواست کی۔۔۔ مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حدیث یاد تھی۔ کہ،، مومن ایک ہی سُوراخ سے ۲ بار نہیں ڈسا جاتا۔۔۔ سُو میں نے علاج کا وعدہ کرتے ہُوئے۔ سختی کیساتھ دُوباہ آنے کیلئے منع کردیا۔۔۔ میں نے ایکبار پھر اُسکی کاٹ ضرور کی۔ لیکن اُسے پھر کبھی شاگردی میں قبول نہیں کیا۔۔۔ کیونکہ مجھے پھر  کبھی استخارے میں اسکی اجازت نہیں مِلی۔۔۔ اے کاش میں نے اُسے  پہلی مرتبہ اجازت دیتے ہُوئے استخارہ کرلیا ہُوتا۔ تو مجھے  یہ صدمہ کبھی سہنا نہیں پڑتا۔۔۔ 

Wednesday, 10 April 2013

وُہ مُطلقہ ہے تو بانجھ ہم بھی ہیں۔



آج   آپکے سامنے میں  اپنے تین عزیز دُوستوں کے گھر کی کہانی پیش کرنا چاہُونگا۔ جِسکو پڑھنے کے بعد آپکو کہانی کا ٹائٹل عجیب نہیں لگے گا۔ بلکہ مجھے قوی یقین ہے۔ کہ کالم کے اختتام تک پُہنچنے سے قبل ہی ہماری سُوچوں میں ہم آہنگی پیدا ہُو چکی ہُوگی۔۔۔۔ البتہ فرعونیت جِن کا وطیرہ ہے۔ یا جو صنف نازک کو غلام سے ذیادہ اہمیت دینے کو تیار نہیں۔۔۔ اُن کو میں صرف دعوت فکر ہی دے سکتا ہُوں۔۔۔ کہ اگر کبھی توفیق مِلے تو اتنا ضرور سوچیئے گا۔ کہ یہ عورت آخر آئی کہاں سے ہے۔۔۔؟؟؟  کِس کے وجود کا حِصہ ہے۔۔۔؟ کیا ہر مرد میں ایک عورت نہیں ہُوتی ۔۔۔۔؟اُور کیا ہر عورت میں ایک نامکمل مرد پوشیدہ نہیں ہُوتا۔۔۔۔؟اُور اگر یہ عورت ہی نہ ہُوتی (جِسے تمام فساد کی جڑ گردانا جاتا ہے) تو ذرا عالمِ تصور میں جاکر سوچئیے تو سہی۔۔۔ کہ،، اِنکے بِنا  یہ دُنیا کتنی  بے رُونق بے رَنگ اُور بلیک اینڈ وائٹ ہوتی۔۔۔ ؟؟

میری پہلی کہانی میرے  دُوست ریاض الحسن  کے گھر سے شروع ہُوتی ہے۔ جو ایک گورنمنٹ کے اِدارے میں کم و بیش بیس برس سے کلرک سے ھیڈ کلرک کے منصب پر فائز نہایت ایمانداری سے اپنے فرائض کی بجاآوری میں مصروف عمل ہیں۔ نہ حرام کھاتے ہیں۔۔۔ اُور نہ کسی کو حرام کھانے دیتے ہیں۔ اُنکی انتہائی محدود آمدنی کے باوجود بھی اُنکے بچے اعلی تعلیم کے زیور سے آراستہ ہیں۔۔چار بیٹیوں کے بعد بڑی منت مُراد سے مانگے گئے دُو بیٹوں کی پیدائش کے باوجودبھی اُنکی محبت اُنکا رجحان آج بھی بیٹیوں کی طرف ذیادہ ہے۔

سب سے بڑی بیٹی  تنزیل نے جیسے ہی  بی کام میں پوزیشن حاصل کی۔۔۔ تبھی اتفاق سے ایک شادی کی تقریب میں کسی دوسرے شہر سے آئی ایک  خاتون کی نِگاہ تنزیل کے حسین چہرے پر پڑی۔ جو کہ شادی میں شریک تمام بچیوں میں کسی پری کی مانند دِکھائی دے رہی تھی۔ اُنہوں نے تنزیل سے بات چیت کے دوران اُنکی فیملی کے متعلق کُرید کرید کر معلومات حاصل کی۔۔۔ اُور ٹھیک ایک ہفتے بعد وُہ تنزیل کا رشتہ لے کر اُنکے گھر  چلی آئیں۔۔۔ ریاض الحسن صاحب نے  جواب دینے کیلئے کچھ مہلت طلب کی۔۔۔ جسکے جواب میں اُن خاتون نے اگلے ہفتے تک پھر آنے کا کہا اُور واپس لُوٹ گئیں۔۔۔

ریاض الحسن صاحب  نے  دُو دِن میں سرسری معلومات حاصل کرلیں۔۔۔ جس میں اُنہیں یہ بتایا گیا۔کہ،، لڑکا بھی انتہائی خوبصورت ہونے کیساتھ کافی خاموش طبع  اُور اعلی تعلیم یافتہ ہے۔۔۔ اُور کسی بھی بُرے فعل میں ملوث نہیں ہے۔۔۔ اُنکا اپنا کپڑے کا کارخانہ ہے۔۔ اُور وُہ لوگ کافی رہیس ہُونے کیساتھ ساتھ نہایت شریف الطبع واقع ہُوئے ہیں۔۔۔

ریاض الحسن یہ معلومات حاصل کرنے کے بعد  اپنی قسمت پر پُھولے نہیں سماتے تھے۔۔۔ اُنکی بیگم بھی اِس رشتے کو قُدرت کی غیبی مدد سے تعبیر کررہی تھیں۔۔۔ کہ کم از کم اب تنزیل اپنی باقی عمر غربت زدہ ماحول میں نہیں ۔بلکہ عیش و عشرت کے ساتھ بسر کرسکے گی۔۔۔ اِس لئے اگلے ہفتے جب وُہ خاتون دُوبارہ معلوم کرنے کی غرض سے آئی۔تو ریاض الحسن صاحب نے خُوشی خوشی یہ رِشتہ قبول کرلیا۔۔۔۔ لڑکے والوں کو شادی کی جلدی تھی۔۔۔ وُہ لُوگ شادی کے بعد دُولہا دُلہن کو ہنی مُون کے بجائے حج پر بھیجنے کی خُواہش رکھتے تھے۔۔۔ رِیاض الحسن صاحب خُود غربت کی وجہ سے ایک  مُدت سے دیار حبیب ﷺ کی حاضری کیلئے ترس رہے تھے۔۔۔ لیکن تنزیل شادی کے بعد  حج کیلئے روانہ ہُوگی۔ یہ سُوچ سُوچ کر ہی اُنکی رُوح سرشار ہورہی تھی۔

تین مہینے  کی مختصر مُدت میں ریاض الحسن صاحب نے لڑکے والوں کا اِسٹیس دیکھتے ہُوئے۔ جہیز و شادی کی تمام تیاری کیلئے  اپنی تمام جمع پُونجی کے علاوہ اپنے بھائی سے چند لاکھ روپیہ اِس شرط پر حاصل کرلیا۔ کہ تین برس بعد ریٹائرمنٹ مِلتے ہی سب سے پہلے اُنہیں رقم ادا کردی جائے گی۔۔۔ میں اگرچہ اُس شادی میں اپنی  نجی مصروفیت کی وجہ سے شامل نہیں ہُوپایا۔۔۔ لیکن مجھے  کسی نے بتایا  تھا کہ،، ریاض الحسن صاحب نے  تنزیل کی شادی کی تقریب  کو اتنا شاندار بنادیا تھا۔ کہ لڑکے والے بھی عش عش کر اُٹھے تھے۔

شادی کے دوسرے دِن  جب  ریاض الحسن صاحب اپنی فیملی کیساتھ دعوت ولیمہ میں شرکت کیلئے تنزیل  کے سُسرال پُہنچے۔ تو تنزیل نے اپنی والدہ کو علحیدگی میں ایک ایسی کہانی سُنائی ۔ جسے سُننے کے بعد تنزیل کی والدہ غم کی شِدت سے اپنے اُوسان کھو بیٹھی۔۔۔ تنزیل نے اپنی والدہ کو بتایا کہ جس لڑکے سے اُس کی شادی کی گئی ہے۔۔۔ وُہ تمام رات اُس سے معافی مانگتا رَہا ہے۔۔۔۔ کیونکہ اُس میں قُدرتی طور پر  ایک ایسا نقص موجود ہے۔ جسکا علاج کسی کے پاس موجود نہیں ہے۔۔۔۔ جسکی وجہ سے وُہ  کبھی زُوجیت کے حقوق پورے نہیں کرپائے گا۔۔۔ اُور اُس لڑکے کے بقول اُسکے والدین کو تمام کہانی معلوم ہے۔۔۔ لیکن وُہ لوگوں کے طعنوں سے بچنے کیلئے اِس اُمید پر تنزیل کو بیاہ لائے ہیں۔ کہ کبھی نہ کبھی تو اِس مرض کا  علاج بھی دریافت ہُوہی جائے گا۔۔۔تنزیل کو چُونکہ اپنے والدین کی غربت اُور اَپنی مزید تین بہنوں کی شادی کی فکر بھی لاحق تھی۔ اسلئے اُس نے اپنی امی سے لاکھ کہا کہ،، وُہ اُس لڑکے کیساتھ گُزارا کرلے گی۔۔۔ لیکن جب ریاض الحسن بھائی تک اُنکی بیگم کے توسط سے یہ خبر پُہنچی تو  وُہ صدمے سے نڈھال لڑکے کے والد کو ایک طرف لے گئے۔

ریاض الحسن کا خیال تھا۔کہ،، شائد لڑکا کسی اُور لڑکی کو پسند کرتا ہُوگا۔ جس نے والدین کے دباوٗ میں آکر تنزیل سے شادی تو کرلی ہے۔ لیکن اب اپنی جان چھڑانے کیلئے جھوٹ بول رَہا ہے۔۔۔ لیکن لڑکے کے والد کی مسلسل خاموشی کے بعد معافی نے ریاض الحسن کی آنکھیں کھول دیں۔ وُہ انتہائی شریف انسان ہیں۔ چاہتے تو بھری محفل میں لڑکے کی تمام فیملی کو تماشہ بنادیتے۔۔۔ لیکن صرف اتنا کہہ کر تنزیل کو واپس گھر لے آئے۔کہ،، آپ نے میری تنزیل کو کہیں کا نہیں چھوڑا۔۔۔ ہمارے معاشرے میں تو کنواری بچیوں کو آسانی سے رشتے نہیں مِلتے۔ پھر ایک دِن کی ہی سہی۔ لیکن شادی شُدہ لڑکی سے رِشتہ کون جوڑنا پسند کرے گا۔۔۔؟؟

ریاض الحسن بھائی کے ایما پر لڑکے نے چند دِن بعد تنزیل کو طلاق دے دی تھی۔۔۔ ایک برس تک شادی کا سامان مٹی کے ڈھیر میں بدلتا رہا۔ لیکن تنزیل کیلئے کوئی مناسب رشتہ نہیں مِل سکا۔۔۔ چند دِن پہلے اتفاق سے  ریاض الحسن بھائی سے سرراہ مُلاقات ہوگئی۔۔۔ تو اُنہوں نے تمام کہانی سُنانے کے بعد استدعا کرتے ہُوئے کہا،، عشرت بھائی تنزیل آپکی بھی تو بیٹی جیسی ہے۔ آپ ہی اُس کیلئے کوئی مناسب رشتہ ڈھونڈ دیں۔ میری تنزیل تو کنواری لڑکیوں جیسی ہی ہے۔ ۔۔ بس اُس بدنصیب پر شادی شُدہ کی مہر ثبت ہُوکر رِہ گئی ہے۔۔۔چاہے کوئی دوسری شادی کا خواہشمند ہی کیوں نہ ہُو۔ بس لوگ شریف ہُوں اُور اب ہم سے ذیادہ  جہیز کی ڈیمانڈ نہ کریں۔ تو میں تنزیل کو اُسکے ساتھ بیاہ دُونگا۔۔۔۔ تاکہ دوسری بچیوں کیلئے کچھ راہ کھل جائے۔

میرے ذہن میں دُو  دُوستوں کے رشتے تھے۔ ایک دُوست کی طلاق ہُوچُکی تھی۔  جبکہ دوسرے کو  کوئی مُناسب لڑکی نہیں مِل رہی تھی۔ دونوں کی عمر ہی ستائیس اٹھائیس برس کی ہُوگی۔ اُور دُونوں ہی بزنس مین ہیں۔۔۔ اسلئے میں نے ریاض الحسن بھائی کی ڈھارس بندھائی کہ انشا اللہ ایک ہفتے میں ایک نہ ایک رشتہ لیکر حاضر ہُوجاوٗں گا۔۔۔۔ میں نے اُسی دِن اپنے کنوارے دُوست سے رابطہ کیا۔ اُور اُنہیں بتایا کہ،، میں نے تُمہارے لئے ایک خوبصورت لڑکی دیکھی ہے۔ جو اعلی تعلیم یافتہ بھی ہے۔ اور نہایت شریف خاندان سے تعلق رکھتی ہے۔ وُہ صاحب کہنے لگے۔ عشرت بھائی جب آپ نے لڑکی دیکھ لی ہے تو۔ بس بسم اللہ کریں۔۔۔ میں نے کہا۔کہ،، لڑکی کیساتھ ایک مسئلہ ہے۔ انہوں نے استفسار کیا کیسا مسئلہ۔ ۔۔؟؟ تو میں نے اُس بدنصیب کی کہانی سُنادی۔۔۔ تمام کہانی سُننے کے بعد اُن کے چہرے پر کئی رنگ آکر گُزر گئے۔۔۔ آخر میں کہنے لگے عشرت بھائی،، مجھے تنزیل سے بے حد ہمدردی ہے۔ اُس بیچاری کیساتھ واقعی ذیادتی ہُوگئی۔ جہیز کی تو مجھے بھی پرواہ نہیں کہ،، مہینے کے دس بارہ لاکھ کما لیتا ہُوں۔۔۔ مگر میں کوئی ولی اللہ تو نہیں ہُوں۔۔۔ جو آنکھوں دیکھی مکھی نگل جاوٗں۔۔۔ اگرچہ وُہ کنواریوں جیسی ہے۔ مگر ہے تو مطلقہ۔ مجھے تو زمانہ نہیں جینے دیگا۔ کہ کنواری نہیں مِلی اسلئے مطلقہ کو بیاہ لایا۔۔۔

تمام رات میری آنکھیں تنزیل کی بدنصیبی پر نمناک رہیں۔۔۔ صبح ہُوتے ہی میں ایک نئی اُمنگ کیساتھ اپنے طلاق یافتہ دُوست کے پاس جا پُہنچا۔ میرے اِس دُوست نے تمام کہانی سُننے کے بعد میری ڈبڈبائی آنکھوں میں جھانکتے ہُوئے مجھ سے وعدہ کیا۔۔۔۔ کہ،، چاہے جو بھی ہُوجائے میں تنزیل کو اپنی عزت بنا کر ہی  دَم لُوں گا۔۔۔ میں نے وُہ تمام دِن بُہت خوش رِہ کر گُزارا۔ اُور یہی سوچتا رہا ۔کہ،، ابھی دُنیا اچھے لوگوں سے خالی نہیں ہُوئی ہے۔۔۔ اب بھی بے غرض اور مخلص لُوگ دُنیا میں موجود ہیں۔۔۔ لیکن یہ خوشی بھی ایک دِن سے ذیادہ قائم نہ رِہ سکی۔ جب میرے اِس دُوست نے مجھے بتایا کہ،، میں اپنے تمام گھر والوں کو راضی کرنے میں کامیاب ہُوگیا ہُوں۔۔۔ لیکن میری والدہ اُور میری بہنیں اِس رشتے کیلئے راضی نہیں ہیں۔ اُن کا کہنا ہے۔ کہ،، جب ہمارے گھر پر کنواری لڑکیاں دینے والوں کی لائن لگی ہے۔ تو کیا ہم لُوگ پاگل ہیں۔ جو ایک مطلقہ کو اپنے گھر بیاہ کر لائیں گے۔

 مجھے جب سے یہ جوابات سُننے کو مِلے ہیں ۔میں اکثر سُوچتا ہُوں۔ کہ،، تنزیل اگر  کنوار پن کے باوجود بھی مطلقہ ہے۔ تو  اخلاقی پستی اُور فکری بانجھ  کے حامل تو وُہ والدین بھی تھے۔ جو اپنے بیٹے کی نامردی کا علم رکھنے کے باوجود بھی کسی غریب کی بچی کو بیاہ لائے۔ اُور یہی  فکری بانجھ پن ہر ایک گھر میں نظر آتا ہے۔ جہاں ہمدردی تو کی جاتی ہے۔ لیکن کسی کا غم نہیں بانٹا جاتا۔۔۔ اُور اِس بانجھ پن کو سمجھنے کیلئے اتنا کافی ہے۔۔۔کہ،، ہم اُس رسول مہربان ﷺ کے اُمتی ہیں۔ جو دُنیا  و آخرت کی نعمتوں کے بااِذن پروردیگار مالک و مُختار ہونے کے باوجود۔ صرف ایک کنواری خاتون کو مومنوں کی ماں بننے کا شرف بخشتے ہیں۔ اور دس بیوہ و مطلقہ خواتین کو عزت کے تاج سے سرفراز کرتے ہیں۔

باتوں اُور دعووٗں میں چاہے کوئی قوم ہماری ہم عصر نہ ہُو۔۔۔۔ لیکن اخلاقی اُور عملی طور پر ہم ایک بانجھ قوم ہیں۔ جنکے خیالات کی رفتار  اتنی سست ہے کہ،،جیسے عقاب کے سامنے کوئی ممولہ ہُو۔۔۔۔ لفاظی کے تیروں سے ہم صرف اغیار کا ہی نہیں۔۔۔۔ اپنوں کا دامن بھی تار تار کرسکنے کا جگر رکھتے ہیں۔۔۔ بس نہیں رکھتے تو صرف لوگوں کے طعنوں کو سننے کا حوصلہ نہیں رکھتے۔۔۔ ایک مطلقہ کیساتھ ہمدری تو کرسکتے ہیں۔۔۔۔ مگر اُس کے سر پہ عزت کی چادر نہیں تان سکتے۔

مزید دو کہانیاں لکھنے کی فی الحال نہ تاب ہے۔ نہ حوصلہ۔۔۔ جیسے ہی یہ حوصلہ جُٹا پانے میں کامیاب ہوگیا۔ آپکی خدمت میں پیش کردونگا۔ آپ سب بھی تنزیل کیلئے دُعا کیجئے گا۔ کہ،، ریاض الحسن بھائی جِس دِن مجھے دوبارہ ملاقات کیلئے آئیں۔ تب تک میں کسی اللہ کے ولی کو  تنزیل کیلئے ڈھونڈنے میں کامیاب ہُوجاوٗں۔ کیونکہ ایسے کام تو بقول میرے دُوست اللہ کے ولی ہی کرسکتے ہیں!

Monday, 8 April 2013

میں ڈوبتا ہُوں سمندر اُچھال دیتا ہے


یہ 1998 کا واقعہ ہے جِسے اپنے مُحترم قارئین کرام کی خِدمت میں پیش کررہا ہوں جِسے پڑھ کر آپکے قلب سلیم میں اولیاءَ اللہ کی عظمت اِنشاءَاللہ مزید فِزوں ہُوگی ۔

یہ اُن دِنوں کی بات ہے جب مجھے اَبو نے اپنے بنگلے اور ایک نئی فیکٹری کی کنسٹرکشن کی ذمہ داری سُپرد کی ہُوئی تھی۔ جِسکا تیسرا سال مکمل ہُونے کو تھا اِس کے علاوہ ایک اِہم بات جو مجھے نہیں بھول سکتی وہ یہ تھی کہ میرے چھوٹے بھائی محمود کی فیملی اُن دِنوں حج پر روانگی کی تیاری میں مصروف تھی۔

ایک دِن میں کچھ سامان کی خریداری کے سلسلے میں گھر سے نِکلا، جب گھر سے کچھ فاصلے پر پُہنچا۔ تُو مجھے یاد آیا ۔کہ،، مجھے بلدیہ کے ایک انجینئر سے بھی ملاقات کرنی ہے۔ تبھی میرے دِل میں یہ خیال پیدا ہُوا کہ کیوں نہ پہلے ٹیلیفون پر ملاقات کا وقت طے کرلوں۔ کہ،، مُباداً انتظار نہ کرنا پڑے۔ اُس وقت موبائل فون کی اسقدر بے قدری نہیں تھی (بے قدری سے مُراد اِسکا غیر ضروری اور غیر اِخلاقی اِستعمال ہے) اب میرے پاس تین آپشن  موجودتھے۔
نمبر (۱) واپس گھر چلا جاؤں اور وہاں سے فون کرلُوں
نمبر (۲) بغیر وقت طے کیے مُلاقات کیلئے چَلا جاؤں
نمبر (۳) نزدیک ہی موجود اَبُو کی فیکٹری سے فون کرلوں

اب مصیبت یہ تھی کہ گھر واپس جانے کا مطلب تھا۔ کہ،، آدھا گھنٹہ مزید ضائع کَروں، اور بغیر وقت طے کئے ہوئے جانے میں یہ قباحت تھی کہ اکثر انجینئرز بغیر پیشگی اطلاع کیلئے وزٹ پر روانہ ہُوجاتے ہیں۔ جسکے سبب لوگوں کو انتظار کی زحمت برداشت کرنی پڑتی ہے، سُو نہ چاہتے ہُوئے بھی اَبُو کی فیکٹری جو میرے راستے میں واقع تھی کی جانب بڑھ گیا۔ میں اِس بات سے بے خبر تھا۔ کہ،، ایک ایسا حادثہ جِسکے اثرات تا زندگی میرے جِسم پر موجود رَہیں گے۔ میں اَبو کی فیکٹری جا پُہنچا۔ فیکٹری کے آفس میں اُس وقت محمود بھائی ، اور اَبو کے علاوہ میرا ایک دَس سالہ بھتیجا بھی موجود تھا۔ میں سلام دُعا کے بعد ایک کُرسی سنبھال کر فون مِلانے لگا ۔ دوسری جانب سے فون بِزی تھا ۔جسکی وجہ سے میں  وقفے وقفے سے فون مِلاتا رہا۔ تبھی میں نے دیکھا کہ دو مہمان ہاتھوں میں فروٹ کی تھیلیاں سنبھالے آفس میں سلام کرتے ہُوئے دَاخل ہُوئے۔

مجھے لگا کہ شائد وہ اَبو کے جاننے والے ہیں۔ اُور ہُوسکتا ہے کہ اَبو اور محمود بھائی کے بھی یہی تاثرات رہے ہُوں، دونوں مہمانوں نے ایک طائرانہ نظر آفس میں موجود ہم چاروں افراد  پر ڈالی ۔اُور اُسکے بعد پھلوں کے شاپر ایک کُرسی پر رکھتے ہُوئے بڑی پھرتی سے اپنے اپنے پسٹل قمیض کے نیچے سے نکالتے ہُوئے ہم پر تان لئے۔

اَبو کی شرافت اور سادگی کے اگرچہ سبھی معترف ہیں۔ لیکن اَبو ظُلم اور جبر کو برداشت کرنے والوں سے سخت نالاں رہتے آئے تھے۔ اُنکا فلسفہ ہے۔ کہ،، اگر لوگ ظلم اور جبر سہنا چھوڑ دیں۔ اور حالات کا ہمت سے مقابلہ کرتے ہُوئے ظالم کے سامنے ڈَٹ جائیں تو کسی ظالم کی ہِمت نہ ہُو کہ وہ مظلوم کو دَبا سکے۔ مجھے معلوم تھا کہ اُن ڈاکوؤں نے غلط جگہ کا انتخاب کرلیا ہے۔ لیکن سچویشن ایسی تھی۔ کہ،، ایک طرف محمود بھائی کی حج روانگی کا وقت قریب تھا۔ تُو دوسری جانب ایک بَچہ بھی ہمارے درمیان موجود تھا۔ میں نے آنکھوں سے اِشارہ کرتے ہُوئے اَبو اور بھائی کو ایکشن سے باز رہنے کی درخواست کی۔ جِسے اَبو اور بھائی نے اُس وقت مان بھی لیا تھا۔

وہ دونوں مہمان نُما ڈاکو ہمیں باور کرانے لگے کہ ہمارے باقی ساتھی باہر موجود ہیں۔ لہٰذا کوئی حماقت نہیں کرنا ورنہ کل تُم لوگوں کی خبر بمعہ تصویر کے اخبار میں چھپ سکتی ہے۔ کیونکہ جان لینا ہمارے لئے کوئی نئی بات نہیں ہے ۔اِسکے بعد وہ لوگ بڑی دیانتداری کیساتھ درازوں کی صفائی کرنے لگے ۔ جب  وُہ تمام کیش نِکال چُکے تو ہمیں ایک مرتبہ پھر کسی مہربان اور مُشفق اُستاد کی طرح سمجھانے لگے کہ خاموشی اختیار کرنے ہی میں ہماری کامیابی اور صحت کا راز مضمر ہے۔

اِس واردات کے دوران اُنہوں نے ٹیلیفونوں کے تاروں کو بھی بڑے بیدردی کیساتھ کئی جگہوں سے تُوڑ ڈالا ۔لیکن ایک خُوش آئند بات یہ ہُوئی کہ اُن شریف لوگوں نے دورانِ ڈکیتی نہ کوئی نازیبا کلمہ اپنے مُنہ سے نِکالا۔ اور نہ ہی ہماری جیبوں کو ٹٹولا ورنہ مجھے قَوی اندیشہ تھا۔ کہ،، محمود بھائی اور ابو کِسی معمولی  سی بے عزتی پر بھی اپنے غصہ پر کنٹرول نہ رکھ سکیں گے۔ بہرحال جونہی وہ دونوں ڈاکو آفس سے باہر  نکلے تو محمود بھائی کہنے لگے۔ کل ہی اَبو کے کہنے پر  فیکڑی میں  موجود  دونوں ہتھیار گھر بھیج دیئے گئے تھے ۔ مجھے لگتا ہے کسی نے مُخبری کی ہے۔ کہ آج ہم لوگ غیر مسلح ہیں۔ لیکن میں اِن دونوں کو چھوڑوں گا نہیں ! وہ یہ کہتے ہُوئے آفس سے بھاگتے ہُوئے باہر نِکلے۔ تو اُن ڈاکوؤں کی شامت اعمال تھی کہ اُنکی موٹر سایئکل اِسٹارٹ ہونے کا نام نہیں لے رہی تھی ۔محمود بھائی نے جمپ لگا کر ایک ڈاکو کو موٹر سایئکل سے نیچے گِرا لیا۔ ڈاکو کے نیچے گِرتے ہی موٹر سایئکل کا بیلنس بِگڑ گیا اور باقی دو ڈاکو بھی نیچے آرہے۔

 لیکن وہ لوگ کافی تربیت یافتہ تھے نیچے گرتے ہی فوراً اُٹھ کھڑے ہُوئے۔ اور دو ڈاکوؤں نے پھر سے اپنے پِسٹل باہر نِکال لئے ۔ اب سچویشن یہ تھی کہ وہ دونوں محمود بھائی کو ٹارگٹ بنارہے تھے۔ تبھی میں نے بڑھ کر ایک ڈاکو کو قابو کرلیا۔ چھینا جھپٹی میں اُس ڈاکو کا پَسٹل میرے ہاتھ میں آگیا۔ لیکن مجھے تو اسلحہ استعمال کرنا ہی نہیں آتا تھا۔ لہٰذا جونہی پسٹل میرے ہاتھ میں آیا میں نے اُس پسٹل کو کافی دور اُچھال دِیا۔ اور جیسے بَن پڑا اُس ڈاکو کی مرمت میں مصروف ہوگیا۔ دُوسرا ڈاکو مسلسل فائرنگ کر رہا تھا۔ جسکی وجہ سے محمود بھائی کو دِفاعی پوزیشن لینی پڑی۔ اور وہ ڈاکو سے کافی دور ہُوگئے۔ اُس ڈاکو نے دو فائر ابو کی جانب دو فائر محمود بھائی کی جانب اور مجھ پر تین فائر کئے لیکن گولی لگنے کا اِحساس ایک مرتبہ بھی پیدا نہیں ہُوسکا۔ جِسکے سبب میں یہ سمجھا کہ شائد یہ بھی اسلحہ چلانے کے معاملے میں میری طرح ہی اناڑی ہے ۔ اس وجہ سے میں اپنے شکار کی خوب مرمت میں مصروف رہا ۔۔۔ہم دونوں سڑک پر گُتھم گُتھا پڑے تھے۔۔۔۔ کبھی ڈاکو اوپر ہُوجاتا تھا تُو کبھی میں اوپر ہوجاتا تھا۔ اِس لڑائی میں دو تین مرتبہ مجھے ایسا مِحسوس ہُوا ۔کہ،، جیسے کسی نے مجھے سُوئی چبھوئی ہُو۔ مجھے لگا کہ شائد سڑک کے کنکر پتھر چُبھ رہے ہیں۔ تبھی میں نے دیکھا کی اُس ڈاکو نے ایک مزید فائر محمود بھائی کی جانب کیا اور محمود بھائی لڑکھڑا کر گر گئے۔

مجھے لگا کہ اب کی بار نشانہ محمود بھائی کو لگ گیا ہے۔ سُو میں نے  اُس ڈاکو کو چھوڑا اور محمود بھائی کی جانب دوڑنا چاہا۔ تبھی ایک مزید فائر ہُوا اور مجھے اپنی کولھے کی ہڈی کے چٹخنے کی آواز سُنائی دِی ۔میں نے مزید چلنا چاہا۔ مگر پاؤں میں ایسی شدید ٹیس اُٹھی کہ میں مزید نہیں چَل پایا۔ اور وہیں گِر کر ڈھیر ہُوگِیا۔۔۔ ڈاکوؤں نے اِس موقع کا فائدہ اُٹھاتے ہوئے فرار کو غنیمت جانا ۔۔۔اور موٹر سائیکل جِسے تیسرے شخص نے اِسٹارٹ کر رکھا تھا۔ پر سوار ہُوئے اور دور موجود مجمع کی جانب ہوائی فائرنگ کرتے ہُوئے فرار ہُوگئے۔۔۔ مجھ پر غُنودگی طاری ہونے لگی تھی۔۔۔ جب میں نے اپنے کپڑوں کو دیکھا تو وہ خُون سے تر بتر تھے۔ محمود بھائی پر ایسا غصہ سوار تھا۔ کہ،، اُنہوں نے بجائے میری جانب توجہ کرنے کے اپنی بائیک پر پھر ڈاکوؤں کا پیچھا کرنا شروع کردیا۔۔۔ کافی دور جانے کی بعد اُنہیں اِحساس ہُوا کہ وہ مجھے زخمی حالت میں چُھوڑ آئے ہیں۔۔۔۔ تو واپس پَلٹے لیکن تب تک اِسٹاف میں سے کوئی صاحب مجھے گاڑی میں ڈال کر سول ہسپتال کیلئے روانہ ہُوچُکے تھے۔

پولیس کاروائی کے بعد ایمرجنسی وارڈ میں  مجھ پر انکشاف ہُوا ۔کہ،، جِسے میں اناڑی سمجھ رہا تھا۔ وہ کمبخت تو پکا نشانہ باز نکلا۔ میرے جِسم کو پھاڑتے ہُوئے تین گولیاں جِسم سے آر پار ہوچُکی تھیں۔ جبکہ ایک گولی ڈاکٹروں کے مُطابق ابھی میرے جسم میں موجود ہوسکتی ہے۔ کیونکہ اُنکو میرے جسم پر زخموں کے سات نشانات مِلے تھے جِن میں سے چار سوراخ اِنٹری کے اور تین ایگزٹ کے تھے۔ وہاں موجود سرجن میں ایک  ڈاکٹر میرے دوست تھے ۔جِنہیں میں نے بتایا کہ مجھے مثانہ کی جگہ بُہت تکلیف محسوس ہورہی ہے جب اُنہوں نے اس جگہ کا معائنہ کیا۔ تو اعلان کیا کہ یہیں آٹھواں سوراخ ہے چوتھی گولی مثانے کو پھاڑتے ہوئے نکل چُکی ہے۔ جُوں جُوں دوست احباب کو اِس حادثے کا علم ہُوتا چلا گیا لوگوں کا رش ہسپتال میں بڑھتا جارہا تھا۔

ایکسرے، الٹرا ساؤنڈ اور دوسرے ٹیسٹوں کے بعد مجھے جب آپریشن تھیٹر لیجایا جارہا تھا۔ تبھی میں نے اَماں کو بد حواسی کے عالم میں اپنی جانب آتے دیکھا۔ مجھے معلوم تھا کہ اَمَاں کو اُس وقت تسلی کی ضرورت تھی۔ ورنہ وہ رُو رُو کر اپنا بُرا حال کرلیتیں لَہٰذا میں نے خُود کو سنبھالا۔ اُور جونہی اَماں میرے نزدیک آئیں اُنہوں نے آتے ہی میرے چہرے پہ اپنے ممتا بھرے بوسوں کی بارش کردی۔ پھر یکدم ڈاکٹروں کی جانب مُتوجہ ہُوتے ہوتے ہوئے گویا ہُوئیں۔ ڈاکٹر صاحب کہاں گولیاں لگیں ہیں میرے اقبال کو۔۔۔؟؟ اور اِس کی زندگی کو کوئی خطرہ تو نہیں ہے نہ۔۔۔؟؟؟

اِس سے پہلے کہ ڈاکٹر میرے مُتعلق کچھ کہتا میں نے اِماں کو اپنی جانب متوجہ کرتے ہُوئے بُولنا شروع کردیا،۔اَمَّاں کُچھ نہیں ہُوا ہے مجھے ۔ میں بالکل ٹھیک ہُوں ۔۔۔۔۔اگر مجھے کُچھ ہُوا ہوتا تُو اِتنے آرام سے باتیں کیسے کرپاتا۔۔۔؟ مجھے گولیوں سے کوئی خَطرہ نہیں ہے وہ تو میرے بدن کو صرف چھوتی ہُوئی گُزری ہیں۔ بس یُوں سمجھ لے چند خراشیں جسم پر پڑگئی ہیں۔ تیری دُعا میرے ساتھ ہے مجھے کیا ہُونا ہے۔

لیکن فیکٹری کے باہر جو اِتنا خون پڑا ہے لوگ بتارہے تھے کہ وہ تیرے جِسم سے بَہا ہے۔۔۔؟ اَماں غیر مطمئین لہجے میں استفسار کرنے لگیں۔۔۔ خُون تُو اماں ڈاکوؤں کا بھی بُہت بَہا تھا ۔۔۔ہُوسکتا ہے وہی خُون تُم نے دیکھ لیا ہُو۔ اَماں میرے اِس جواب سے اگرچہ بالکل مطمئین نہ ہوئیں ہُوں۔۔۔ مگر اُن کی تشویش میں میرے پُر اعتماد لہجے نے کچھ نہ کچھ کَمی ضرور کَر دِی تھی۔

اس کے بعد مجھے اسٹریچر پہ ڈال کر آپریشن تھیٹر منتقل کر دیا گیا جہاں ایک ڈاکٹر نے بیہوشی کا انجکشن لگایا اور اُسکے بعد ڈاکٹرز میرے اُدھڑے ہوئے جسم پر اپنے جوہر دِکھانے میں مصروف ہُوگئے۔ مجھ پر اگرچہ غنودگی طاری تھی لیکن میں اُن ڈاکٹرز کی تمام گُفتگو لفظ بہ لفظ سُن رہا تھا جب میرے دوست سرجن نے دوسرے سرجن سے یہ کہا کہ، سر جی باہر بُہت ہجوم جمع ہُوگیا ہے اور پیشنٹ کی حالت سیریس ہے اِسکا مثانہ بھی گولی سے پھٹ چُکا ہے اور خون بھی بُہت زیادہ بہہ چُکا ہے مریض کے بچنے کے چانسز بُہت کم ہیں اگر خدانخواستہ اِسے کچھ ہُوگیا تو اِتنے لوگوں کو کون سنبھالے گا۔۔۔۔؟ میرا مشورہ ہے کہ اِسے حیدرآباد یا کراچی کی جانب ریفر کردیں۔

مجھے اُس ڈاکٹر پر اُس وقت بُہت غصہ آرہا تھا جو دوست ہونے کے باوجود اپنی ذمہ داری سے جان چُھڑا رہا تھا۔۔۔ میں نہیں جانتا کہ وہ بیہوشی کی حالت تھی یا کومہ کی۔ لیکن میں سب کی بات سُن سکتا تھا۔ لیکن کہہ کچھ بھی نہ سکتا تھا۔ دوسرا فلیش بیک جب ہُوا تو میں حیدرآباد کے اسپتال میں پُہنچ چُکا تھا۔۔۔ جہاں چار ڈاکٹر مجھ پر جھکے ہوئے آپس میں چہ میگوئیاں کر رہے تھے۔۔۔ کہ،، میں رات بمشکل جی پاؤں گا۔۔۔۔ لیکن میں جانتا تھا کہ مجھے کُچھ نہیں ہُوگا۔ لیکن اُس وقت میں کُچھ کہنے کی پوزیشن میں نہیں تھا۔۔۔ صبح جب میری آنکھ کُھلی تو۔۔۔تو کئی اخبارات کے رِپورٹر حضرات اِس تمام معاملے کی گُن سُن لیتے ہسپتال پُہنچ چکے تھے۔۔۔ میں نے وزٹ پر آئے ایک  ڈاکٹر سے کہا کہ مجھے واپس میر پور خاص بھیج دیں ۔۔۔۔اُس نے کہا کہ تُمہاری پوزیشن ایسی ہرگز نہیں کہ تُمہیں سفر کرایا جائے۔۔۔ لیکن میں بضد تھا کہ مجھے اُسی سرجن دوست کے پاس جانا ہے ۔ جو میری بے بسی کی حالت میں مجھ سے جان چُھڑا رہا تھا ۔۔۔کافی پس و پیش کے بعد ڈاکٹر نے مجھ سے ایک کاغذ پر دستخط کروائے۔ جس میں لکھا تھا کہ اگر یہاں سے جانے کے بعد میری موت واقع ہوجاتی ہے یا میری حالت بِگڑ جاتی ہے۔ تو اسپتال انتظامیہ جوابداہ نہیں ہُوگی بلکہ میں خود اِسکا ذمہ دار ہونگا۔

بہرحال اسپتال سے جونہی ایمبولینس مجھے لیکر باہر نکلی تو ناہموار سڑک کے جھٹکوں کی وجہ سے پیشاب کی نلکی میں خون آنا شروع ہُوگیا لیکن میں نے واپسی کی تمام تجویز رد کرتے ہُوئے میر پور خاص کی جانب سفر جاری رکھنے کی تلقین جاری رکھی۔ اور بالآخر دو گھنٹے بعد میر پور خاص کے سِول اسپتال پُہنچ کر ہی دَم لیا ۔ میرا  ڈاکٹردُوست اپنے طرز عمل پر شرمندہ تھا۔ لیکن اُسکے کُفارے میں اُس نے بِلاشُبہ میری وہ خِدمت کی کہ جِسے میں زندگی بھر نہ بُھلا پاؤں گا۔

اِس حادثے میں میرے داہنے پاؤں کی ایک ہڈی بھی ٹوٹ گئی۔ اور ایک گولی کولھے کی پلیٹ سے ٹکرا کر مثانے کو پھاڑ گئی۔ ڈاکٹر نے بتایا کہ اکثر اِس مُقام پر گولی لگنے کے بعد گُردوں کی جانب مُوؤ کر جاتی ہے جس سے فوری موت واقع ہونے کا اندیشہ لاحق رہتا ہے۔ میں تقریباً 20 دن اسپتال میں داخل رہا دوست احباب اِس کثرت سے تیمارداری کیلئے تشریف لاتے کہ اسپتال کے بجائے وُہ  دوستوں کی محفل کا سماں ہوجاتا۔۔۔۔ ڈاکٹر صاحب نے میرا بیڈ ایک نسبتاً پرسکون گوشے میں لگوا دِیا تھا۔۔۔ جِس کے سبب دوسرے مریض بھی اِس آمدورفت سے مُتاثر نہ ہُوتے تھے۔

محترم قارئین ابتدائی دِنوں میں ڈاکٹر میری زندگی سے زیادہ پُرامید نہیں تھے۔۔۔ لیکن مجھ پر کبھی کوئی ایک لمحہ بھی ایسا نہیں آیا۔ جب میں اپنی زندگی سے نا اُمید ہُوا ہُوں۔۔۔۔ میرے ایک دوست نے جب اِس بات کا تذکرہ مجھ سے اسپتال میں کیا۔ اور کہنے لگے کہ اقبال بھائی جب ہم ابتدائی دِنوں میں کِسی بھی ڈاکٹر سے آپکی صحت کی بابت دریافت کرتے تھے۔۔۔۔ تُو وہ زیادہ پُر اُمید نہیں دِکھائی دئیے۔ لیکن آپ ہمیشہ آنے والوں کو بڑی خُود اعتمادی سے یہی بتاتے تھے۔ کہ،، آپ بُہت جلد صحتیاب ہوجائیں گے ۔اور بالاآخر آپکی قوتِ اِرادی نے آپ کو پھر سے ایک صحت مند اِنسان بنا دِیا۔۔۔۔ تب میں نے اپنے اُس رفیق کو بتایا کہ یہ کوئی قُوتِ اِرادی کی جیت نہیں تھی۔۔۔۔ بلکہ اِس کے پیچھے ایک کہانی ہے۔ جِس کی وجہ سے مجھے یقین تھا ۔۔۔۔کہ،، ابھی میری زندگی کا ( دی اینڈ) ہونے میں  بُہت وقت باقی ہے۔

میرے وہ دُوست مجھ سے  اصرار کرنے لگے۔ کہ،، ہمیں بھی وہ کہانی ضرور سُنائیں جِس کے سبب آپکو ایسا کامِل یقین تھا ۔کہ،، ہم نے یقینی موت بھی زندگی میں بدلتی دیکھی ہے۔ دوستوں کے بے حد اصرار پر میں نے یہ واقعہ اپنے دوستوں کو سُنانا شروع کیا ۔ یہ تقریباً 10 برس پُرانی بات ہے۔ ایک رات میں اپنے مُرشد کریم سیدنا سراج الدین وارثی دامتُ برکاتِہم عالیہ کی خِدمت میں حاضر تھا۔۔۔ میرے مُرشد کریم اکثر اپنا بچا ہُوا کھانا یا پانی مجھے عطا فرما دیتے۔۔۔۔ جِسے کھانے کے بعد میں خُود میں کافی زیادہ روحانی قُوت محسوس کیا کرتا تھا۔۔۔۔ اُس رات  بھی بابا صاحب بُہت خُوش دکھائی دے رہے تھے۔۔۔ اچانک بابا صاحب انگھیٹی کے پاس پُہنچے جِس پر ایک چھوٹی سی گَڑوی میں بابا صاحب کیلئے دودھ گرم ہُورہا تھا بابا صاحب نے انگھیٹی کی نیچے موجود راکھ کو ہٹایا۔ تو اُس میں ایک دیسی مرغی کا انڈہ دَبا ہوا تھا۔

 بابا صاحب، اُس انڈے کو نکال کر اُس پر جَمی راکھ کو ہَٹا کر چھیلنے لگے۔۔۔ میرے لئے یہ معاملہ انتہائی دِلچسپی کا حامِل تھا۔۔۔ جِسے میں بصد شوق سے دیکھ رہا تھا بابا صاحب نے آدھے سا زیادہ انڈہ کھانے کے بعد مجھے قریب آنے کا اِشارہ کیا۔۔۔ میں جونہی بابا صاحب کے نزدیک پُہنچا۔۔۔ بابا صاحب نے مُسکراتے ہُوئے وہ انڈہ میری جانب بڑھا دِیا۔۔۔ میں نے بڑے احترام سے وہ انڈہ لیا اور کھا لیا ۔اِسکا ذائقہ بالکل بوائل انڈے جیسا تھا۔ لیکن جونہی وہ انڈہ میرے حلق سے نیچے اُترا مجھ پر غشی طاری ہُوگئی۔ چاروں جانب نُور کی برسات کیساتھ ایسا محسوس ہونے لگا ۔جیسے آسمان پر ہزاروں چاند نِکل آئے ہُوں۔ اور اُنہی  سے نور کی برسات  مجھ پر ہورہی ہو۔۔۔ میرے پیر بھائی گھبرا کے میرے نزدیک جمع ہونے لگے ۔۔۔۔تبھی بابا صاحب نے اِرشاد فرمایا کہ گھبراؤ مت !! یہ ابھی ہوش میں آجائے گا۔۔۔ پھر ایک جملہ اِرشاد فرمایا،، شوق بہت زیادہ ہے مگر ابھی برداشت کا وقت نہیں آیا،، یہ کہہ کر کُچھ دودھ گَڑوی سے نکال کر میرے حَلق میں ٹپکایا جیسے ہی دودھ کا ذائقہ مجھے  زُبان پر محسوس ہُوا۔۔۔وُہ  تمام روشنی یکسر  غائب ہوگئی۔۔۔ اور میں نارمل ہُوگیا۔ اُسکے بعد کافی دِیر تک بابا صاحب میری جانب مُحبت بھری نِگاہُوں سے دیکھتے رہے۔

رات ایک بجے کے قریب بابا صاحب پر ایک وجد کی کیفیت طاری ہونے لگی۔ بابا صاحب نے میرا ہاتھ تھاما اور آستانہ مُبارک سے باہر نِکل آئے۔ دوسرے پِیر بھائیوں نے بھی ساتھ آنا چاہا۔۔۔۔ تو اُنہیں ہاتھ کے اِشارے سے منع فرمادِیا ۔۔۔۔ اِسکے بعد بابا صاحب میرا ہاتھ تھامے سنسان شاہراوٗں پر چلتے ہُوئے مجھ سے کہنے لگے۔ اقبال جانتے ہُو اگلے برس تُمہاری شادی ہُوجائیگی۔۔۔ بُہت اچھی شریک حیات مِلے گی تُمہیں۔۔۔ پہلے بیٹی آئے گی اور پھر بیٹا آئے گا۔۔۔۔ لیکن یہ سفر چار سال سے زیادہ نہیں چلے گا۔۔۔۔ اُسکے بعد تُم مکہ اور مدینہ دیکھو گے ۔۔۔۔ایک برس بعد تُمہارا دوسرا نکاح ہُوگا۔۔۔۔ اور اِسطرح کم وبیش  میرے مُرشد کریم بیس برس تک آئندہ پیش آنے والے واقعات کو بیان فرماتے رہے ۔۔۔۔پھر اچانک نہ جانے کیا ہُوا کہ ،،بابا صاحب نے میرا ہاتھ چھوڑ دیا۔۔۔۔ اور فرمانے لگے بُہت رات بیت گئی ہے۔۔۔۔ گھر جاؤ تُمہاری ماں پریشان ہُورہی ہے ۔۔۔میں بابا صاحب کی باتوں میں ایسا کھویا ہُوا تھا کہ بھول ہی گیا تھا کہ میرا ایک گھر بھی ہے۔ جہاں میری ماں میرا انتظار کر رہی ہُوگی۔۔۔۔ اُسکے بعد بابا صاحب ایک لمحہ بھی نہیں ٹہرے اور واپس آستانے کی جانب چل دیئے اور میں اپنے گھر کی جانب چل دیا۔

دوستوں بابا صاحب نے جو کچھ اُس رات مجھے بتایا تھا۔۔۔۔ خُدا کی قسم ایک بات بھی اُس کے خِلاف واقع نہیں ہوئی ۔۔۔ اسلئے جب سارے لوگ میری زندگی سے مایوس ہورہے تھے۔۔۔ تبھی مجھے یقین کامل تھا کہ،،، جن آئندہ آنے والے واقعات کا بابا صاحب نے ذکر فرمایا ہے۔۔۔۔ وہ بھی ضرور پیش آکر رہیں گے۔۔۔ جِسکے لئے میرا زندہ رہنا شرطِ اولین ہے۔ اِسی لئے  جب سب ڈاکٹرز میری زندگی سے نا اُمید ہُورہے تھے ۔۔۔ میرے پیشِ نظر میرے مُرشِد کریم کی باتیں تھیں ۔۔۔۔ جسکی وجہ سے میں سب سے کہہ رہا تھا۔ کہ،، ابھی مجھے کُچھ نہیں ہُوگا۔۔۔ کیونکہ ایک اللہ کا ولی مجھے کم از کم 20 برس کی زندگی کی نوید سُنا چُکا ہے۔ جس میں سے 10 برس گُزر چُکے ہیں۔ اور 10 برس کے واقعات کو ابھی ظہور میں آنا باقی ہے۔ اور اللہ کریم کبھی نہیں چاہے گا کہ اُسکا کوئی دوست دُنیا میں جھوٹا ثابت ہُو۔
 اور محترم قارئین آج اِس واقعہ کو 22 برس گُزر چُکے ہیں اور وہ تمام باتیں جو ایک مرد قلندر حضرت سیدنا سراج الدین وارثی دامتُ برکاتہم عالیہ جو میرے پِیرومُرشد بھی ہیں نے میرے مُتعلق اِرشاد فرمائی تھیں لفظ بہ لفظ ،، حرف بہ حرف سچ ثابت ہوئیں آجکل آپ دامتُ برکاتہم عالیہ اکثر حالتِ وجد کی کیفیت میں رِہتے ہیں آپکی پیدائش ہندوستان کے ضلع مانکپور میں 1860 میں ہوئی تھی۔۔۔ اِسطرح آپ کی عمر مُبارک آج 2010 میں تقریباً 150 برس بنتی ہے۔ اللہ کریم سے دُعا ہے کہ میرے مُرشد کریم کا سایہ مسلمانوں پر تادیر قائم رہے تاکہ لوگ اُن کے دریائے فیض سے مستفید ہُوتے رہیں۔

اِس کہانی کا دوسرا حصہ بھی انشا اللہ اِسی ہفتے میں پیش کرونگا۔۔۔۔

یہ واقعہ میں نے ۲۰۱۰ میں قلمبند کیا تھا۔ جس کے ایک برس بعدمیرے مُرشد کریم ٣ جمادی الثانی بمطابق ٥ مئی ٢٠١١ بروز جمعرات دُنیا سے پردہ فرما گئے ۔۔۔۔۔جبکہ میرے والد محترم ۲۸ دسمبر  ۲۰۱۲ کو انتقال فرماگئے۔۔۔۔ انا للہِ واِنا الیہِ راجعون
اللہ کریم اُنکے درجات کو مزید بُلند فرمائے اور ہم سب کو انکے دریائے فیض سے مستفید رکھے  آمین بجاہ النبی الامین و صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ و اصحابہ وبارک وسلم



Thursday, 14 February 2013

یہ محتاجی نہیں اِک راز ہے۔


میں میلاد النبی صلی اللہُ علیہ وسلم کے حوالے سے لکھنے کیلئے ایک خاکہ اپنے ذہن میں تیار کررَہا تھا۔ لیکن موبائیل پر متواتر  بجنے والی  ٹیونز میرے تخیل کو کسی ایک نقطے پر مرکوز ہُونے ہی نہیں دے رہی تھی۔۔۔ بلاآخر میں نے مجبورہُوکر مُوبائیل کو چارجر سے جُدا کرنے کے بعد اپنے ہاتھ میں اُٹھا ہی لیا۔۔۔۔۔۔۔ السلامُ علیکم۔۔۔۔۔ وعلیکم السلام ۔۔۔ جی میں عشرت اقبال وارثی سے بات کرنا چاہتی ہُوں۔۔۔  جی محترمہ میں حاضر ہُوں فرمایئے۔۔۔۔ آواز سے میں نے اندازہ لگایا کہ،، شائد فون پر کوئی اُنیس یا بیس برس کی طالبہ مُوجود ہیں۔۔۔ اگرچہ بعد میں میرا خیال بالکل غلط ثابت ہُوا۔ جب دُوران گفتگو اُنہوں نے ہمت جمع کرکے کمال جراٗت سے مجھے سچ سچ  بتادیا کہ،، وُہ میری ہم عمر  ہیں۔ اُور ابھی حال ہی میں بیرونِ مُلک سے پاکستان تشریف لائیں ہیں۔ حالانکہ خواتین سب کچھ بتاسکتی ہیں۔ سِوائے اپنی صحیح عُمر کے۔۔۔!

عشرت وارثی صاحب  میں آپکے اکثر کالم ایک خاموش اُور گُمنام قاری کے طُور پر عرصہ دراز سے مُسلسل پڑھ رَہی ہُوں۔۔۔ آپ کے کالم فیضانِ اسم اعظم    کی سیریز میں خاصےاِشتیاق سے پڑھتی رَہی ہُوں۔۔۔ جِس میں مُوجود اکثر وظائف سے مجھے رُوحانی سکون بھی نصیب ہُوا۔ اُور کافی مسائل بھی  اُن وظائف کے توسل سے حل ہُوگئے۔۔۔ لیکن آج ایک سوال میرے ذہن کو پراگندہ کئے جارہا ہے۔اِسلئے مجھے آپ سے ایک بات معلوم کرنی ہے۔ کیا آپ میرے سوال کا جواب دینا پسند کریں گے۔۔۔؟

جی ضرور اگر  میرے کِسی کالم سے آپ کے ذہن میں تشنگی پیدا ہُوئی ہے۔ تُو میں کوشش کرونگا کہ اُس بات کو مزید وضاحت سے آپکو سمجھانے کی کُوشش کروں۔۔۔ میرا خیال تھا کہ وُہ محترمہ مجھ سے کسی رُوحانی مسئلے کے متعلق اِستفسار کریں گی۔۔۔ لیکن بعد میں میرا یہ خیال بھی خیالِ خام ثابت ہُوا۔

میرے حامی بھرنے کے بعد اُنہوں نے اپنی گفتگو کو مزید بڑھاتے ہُوئے کہا۔۔۔دراصل  پاکستان آنے کے بعد سے میرے مُعاشی حالات کافی ابتری کا شِکار ہُوگئے ہیں۔۔۔  اُور میں جتنا اِنہیں سُلجھانے کی کُوشش کرتی ہُوں۔ یہ مزید  بِگڑتے چلے جارہے ہیں۔۔۔  ابھی گُذشتہ دِنوں  میری  ایک چھوٹی بہن کا رِشتہ طے ہُوگیا۔۔۔ لیکن جیسا کہ میں نے ابھی بتایا کہ  ہمارے معاشی حالات کچھ عرصے سے بہتر نہیں ہیں۔ اُور لڑکے والوں کا اِصرار تھا کہ جلد از جلد شادی کی تاریخ  دے دی جائے۔ اسلئے ہمارے لئے سب سے اہم مسئلہ یہ تھا۔ کہ شادی کے اِخراجات کیلئے رقم کا بندوبست کہاں سے کیا جائے۔ ۔۔چند دِن اِسی سُوچ و بچار کی نظر ہُوگئے۔ پھر ایک دِن مجھے خیال آیا کہ آپ نے اپنے ایک کالم میں صلواۃُ الاسرار کے متعلق لکھا تھا۔ کہ اِس نفلی نماز کی برکت سے  بڑے سے بڑا مسئلہ حل ہُوجاتا ہے۔


 لِہذا میں نے چند دِن ہی صلواۃ الاسرار پڑھی تھی کہ،، میری چند فرینڈز نے مجھے  اِس شرط پر مطلوبہ رقم فراہم کردی کہ،، میں جلد از جلد یہ رقم لُوٹادُوں گی۔۔۔ مجھے بھی قوی اُمید تھی۔ کہ مجھے پاکستان میں کوئی نہ کوئی بہتر جاب مِل جائے گی۔ اُور میں وُہ رقم واپس لُوٹا دُونگی۔۔۔ لیکن بہن کی شادی سے فارغ ہُونے کے بعد کافی کُوشش کے باوجود بھی مجھے کوئی مُناسب جاب نہیں مِل پائی۔  جبکہ دُوسری طرف میری فرینڈز کا تقاضہ بڑھنے لگا۔ کہ میں وُہ رقم اُنہیں واپس لُوٹادُوں۔۔۔ لیکن آخر میں کہاں سے رقم لُوٹاسکتی تھی۔  کیوں کہ میرے پاس نہ ہی کوئی جاب ہے اُور نہ ہی کوئی اُور ذریعہ مُعاش۔۔۔ اسلئے میں نے اپنی فرینڈز کو تمام صورتحال بتاتے ہُوئے کہا۔۔۔ کہ میں رقم ادا کردونگی۔ لیکن اُس کیلئے کوئی  ٹائم فریم نہیں دے سکتی۔ کیوں کہ جب میرے پاس کوئی ذریعہ معاش ہی نہیں ہے۔ تو میں ٹائم ٹیبل کیسے دے سکتی ہُوں۔ البتہ اتنا ضرور ہے کہ میں خود قرض کے اِس وزن سے جلد از جلد اپنا دامن چُھڑانا چاہتی ہُوں۔

لیکن چند  ہفتے انتظار کے بعد ہی میری اُن دیرینہ فرینڈز کے رَویوں میں مُحبت اُور خُلوص کی جگہ۔۔۔ سرد مہری اُور درشتگی کا عنصر نمایاں ہُونے لگا۔۔ ۔  اُور جب اُنہیں یہ یقین ہُوگیا کہ،، میں فی الحال اُنکی رقم لُوٹانے کی پُوزیشن میں نہیں ہُوں۔ تو اُنہوں نے   میرے ساتھ بے رُخی کا ایسا برتاوٗ برتا۔۔۔ ۔ کہ،، جِسکا تصور میں کبھی خُواب میں بھی نہیں کرسکتی تھی۔ میری جتنی تذلیل کی گئی۔ وُہ نہ ہی میں بیان کرسکتی ہُوں۔ اُور نہ ہی آپ شائد اُس تذلیل کا اندازہ لگا سکتے ہیں۔۔۔ اِن مسلسل پریشانیوں کی وجہ سے  ایک وقت میری زندگی میں ایسا بھی آیا کہ مجھ میں جینے کی خاہش ہی ختم ہُوگئی۔۔۔ کیونکہ میں ذلت کی زندگی سے عزت کی مُوت کو پسند کرتی ہُوں۔ لیکن زندگی نے ایسے دُوراہے پر لاکھڑا کیا ہے۔ کہ نہ اپنے پروردیگار کی امانت اِس زندگی کا خاتمہ کرسکتی ہُوں۔۔۔۔ اُور نہ ہی قرض ادا کرنے کی پُوزیشن میں ہُوں۔

لیکن آج اِن تمام حالات کی وجہ سے میرے ذہن میں ایک سوال بار بار  پیدا ہُورہا ہے۔۔۔ جسکا کوئی جواب میرے ذہن کو مطمئن نہیں کرپارَہا ہے۔ اس لئے آپ سے رُجوع کررہی ہُوں۔ اُور میرا سوال یہ ہے ۔ کہ،،  جب سب کو مال و دُولت اللہ کریم عطا فرماتا ہے۔ تو ہمیں لُوگوں کا محتاج کیوں بنادیا۔؟  میرا مطلب یہ ہے۔ کہ،،  جب ہمیں کسی شئے کی ضرورت ہُوتی ہے۔ تو وُہ شئے ہمیں لوگوں سے کیوں مانگنی پڑتی ہے۔ آسمان سے کیوں ہمارے لئے نازل نہیں ہُوجاتی۔ ۔۔؟

ٹھیک ہے محترمہ ! میں آپکی تمام گفتگو  کا مافی الضمیر سمجھ گیا ہُوں۔ اُور آپکے سوال کی الجھن بھی۔۔۔۔  لیکن میں کوئی عالم فاضل تو ہُوں نہیں کہ ہر سوال کا سب کو تشفی بخش جواب دے پاوٗں۔۔۔۔ البتہ اللہ کریم سے مدد طلب کرتے ہُوئے  میں کوشش ضرور کروں گا۔ کہ آپکی الجھن  کو سُلجھا پاوٗں۔ باقی  بات کو  دِل میں اُتارنے والی ذات تو اللہ کریم کی ہے۔ وُہ جسکے لئے چاہے بات کو سمجھنا آسان کردے۔ میں نے اپنی گفتگو کا آغاز کرتے ہُوئے تہمید باندھی۔

 میری ناقص معلومات کے مُطابق اللہ کریم نے جب انسان کی تخلیق فرمائی۔ تو یہ تخلیقی عمل صرف ایک مخلوق کی پیدائش کا عمل نہیں تھا۔ بلکہ اللہ کریم نے جب چاہا کہ کوئی ایسی مخلوق ہُونی چاہیئے۔ جس میں فرماں برداری کیساتھ ساتھ نافرمانی کا مادہ بھی موجود ہُو۔ جس میں صرف اطاعت کا جذبہ ہی موجزن نہ ہُو ۔ بلکہ اُس میں نفسانی خواہشات بھی ہُوں۔ اُس میں شعور و آگہی کی نعمت بھی ہُو۔ تو اسکے پاس سفلی جذبات بھی ہُوں۔ اُسکے دِل میں جنت کی خواہش بھی ہُو۔ لیکن جلد پانے کی بے چینی بھی ہُو۔ اُسکے سامنے دُنیا کی رعنائیاں بھی ہُوں۔ تو اُس کے پیشِ نظر آخرت کے انعامات بھی ہُوں۔ پھر ان تمام چیزوں کیساتھ اُس کے پاس عقل کی نعمت بھی ہُو۔ جسکے ذریعے سے وُہ اچھے بُرے میں امتیاز کرسکے۔اُور اتنے سارے معملات میں گھرنے کے باوجود بھی اگر وُہ صحیح فیصلہ کرپائے۔ اُور عقبی کو دُنیا پر فوقیت دے پائے تو یقیناً ایسی مخلوق کے سر پہ ہی اپنی نیابت کا تاج سجانا چاہیئے ۔ چُنانچہ اللہ کریم نے حضرت انسان کو نہایت محبت کیساتھ یہ کہہ کر تخلیق فرمایا۔ کہ بے شک ہم نے انسان کو سب سے احسن صورت پر پیدا فرمایا۔

پھر صرف حضرت انسان کو پیدا نہیں فرمایا۔۔ بلکہ اُنکے لئے زمین میں تاثیر رکھی۔ کہ اناج پیدا کرسکے۔ چاند کی روشنی میں مٹھاس کو پُوشیدہ کردیا۔ تاکہ پھلوں میں لذت قائم رہے۔ سورج کی رُوشنی میں زندگی کی حرارت کو پنہاں کردیا۔ موسموں کو پیدا فرمایا۔ بادل کی ڈیوٹی لگائی کہ وُہ پانی کو ایک جگہ سے دوسری جگہ لیجاسکے۔ زمین میں استقامت کیلئے پہاڑ پیدا فرمائے۔ درختوں میں جسم کی تازگی کا سامان مُہیا کردیا گیا۔ جسم کو طاقتور رکھنے کیلئے  گوشت کے ذخائر چوپایوں میں رکھ دیئے گئے۔ اُور کچھ جانوروں کو سواری کا ذریعہ بنادیا گیا۔ الغرض صرف حضرت انسان کو نہیں بنایا۔ بلکہ اُسکے لئے ایک مکمل اُور مربوط سسٹم بنایا گیا۔ جس سے کوئی بھی ذی عقل اندازہ لگا سکتا ہے۔ کہ،، اس مخلوق کی تخلیق میں اللہ کریم کی محبت کس درجہ کمال کی ہُوگی۔ جسکے لئے اسقدر انتظام  اُور وسائل پیدا کیئے گئے ہیں۔۔۔

اُور جب اللہ  کریم نے اپنی  اِس خُوبصورت مخلوق کو زمین میں اپنا  خلیفہ بنانے کا اعلان فرمایا تو۔ شیطان نے احتجاج کیا،،، اُور اِس مخلوق کو حقیر جانا ۔ اللہ کریم نے اِسی مخلوق کی محبت میں معلم ملائکہ ابوالجنات شیطان کو اپنی بارگاہ سے مردود کہہ کر نکال دیا۔ پھر فرشتوں نے بڑے ادب سے عرض کیا اے پروردیگار یہ انسان تیری عظمت کا حق ادا نہیں کرپائے گا۔ دُنیا میں جاکر شر پھیلائے گا۔ خُون ریزی کرے گا۔ تو اللہ کریم نے علم اسماء کے نور سے حضرت انسان کو مزید جِلا بخشی۔ اُور فرشتوں  کو یاد دِلایا کہ جو میں جانتا ہُوں۔ وُہ تُم نہیں جانتے۔

اُور  انسانوں کے علاوہ میری کوئی ایسی مخلوق نہیں جسے میں نے نفس و شہوت عطا کی ہُو۔۔۔۔ لیکن یہ بھی صرف میں رَب ہی جانتا ہُوں ۔ کہ اِس نفس و شہوت کے باوجود بھی اِنہی انسانوں میں ایک گروہ  ہُوگا۔ جِسے نفسانی خُواہشات کے مقابلے میں میری رضا درکار ہُوگی۔ جو کھانا، پانی وافر مقدار میں موجود ہُونے  اُور  حاجت و جسمانی طلب کے باوجود اِس لئے نہیں کھائیں گے۔ کہ  اُس  وقت  کھانا میری مرضی نہ ہُوگی۔۔۔۔ حسین چہرے اُور خوشبودار بدن صرف میرے حکم کے باعث اُنہیں  اپنی طرف متوجہ نہیں کرپائیں گے۔ دُنیا کی رعنائیاں اُنکی نظر التفات کی متمنی ہُونگی۔ جب کہ وُہ مال و زر سے بیزار ہُونگے۔ میں کبھی دُولت کے انبار عطا کرتے ہُوئے اُنہیں آزماوٗں گا۔ تو کبھی مفلسی دے کر۔۔۔۔ لیکن میرے وُہ بندے جو خاص میرے ہُونگے  میری ہر آزمائش پر پُورا اُتریں گے۔۔۔۔۔ اِس لئے اے فرشتوں جب تُم اُنہیں دیکھ لو۔۔۔ تُو گواہ ہُوجانا کہ وُہ آزمائش پر پُورا اترنے والے ہیں۔

جواب بُہت آسان  ہے۔۔۔۔ کہ،، خدا قادر مطلق ہے۔ چاہے تو ہر مانگنے والے کو نعمت آسمان سے نازل کردے۔  لیکن پھر اِس بزم دُنیا کی ضرورت کیا تھی۔ خُدا نے جب تمام ارواح کو پیدا فرمایا۔ پیدا فرماتے ہی جنت عطا فرمادیتا۔ نہ کوئی مشقت ہُوتی نہ کوئی آزمائیش۔ لیکن فرشتوں کا سوال ادھورا رِہ جاتا کہ،، بلاآخر اِس انسان میں ایسا کیا ہے۔ ؟ کہ جسکی وجہ سے خلافت کا تاج حضرت انسان کو عطا کیا گیا۔ فرشتوں کے سر پہ نہیں سجایا گیا۔

اسلئے یہاں اپنی کمائی دوسروں کو دینے والا بھی آزمائش میں ہے۔ اُور لینے والا بھی۔ اب کون کیسے دیتا ہے۔ یا نہیں دیتا۔۔۔۔۔ اُور کون لیتا ہے۔ اُور کیسے واپس لُوٹاتا ہے۔ سب کا حساب رکھا جارہا ہے۔ جسے دُنیا میں جتنا کم مِلا ہے۔ اُسکا حساب بھی جلدی ختم ہُوجائے گا۔ اُور وُہ ہمیشہ ہمیشہ کیلئے اُس بھیڑ اُور سختی کے دِن جنت میں بھی پہلے چلا جائے گا۔ اُور جو دیکر ذلیل کرتا رَہا۔ حساب تو اُسے بھی دینا ہے۔ لیکن آخر ہے تو وُہ بھی اپنا۔ اسلئے اُسکے  حق میں بھی دُعا کردیا کریں۔۔۔۔۔ لیکن ہمیشہ کی زندگی کا لطف لینے سے قبل۔۔۔۔ امتحان تو دینا ہی پڑے گا۔۔۔۔
یہ وظیفہ محترمہ عاصمہ جی کی طرف سے اُن خاتون کیلئے جو  اس کالم کی وجہ تحریر ہیں

Monday, 11 February 2013

واعظ اُور طَوائف


یہ قریباً 17 برس پرانی بات ہے۔ آج ایک صاحب کو دیکھ کر پھر گُزرے زمانے کی یاد تازہ ہوگئی اور میں نے سُوچا کہ چَلو
آپ لوگوں سے بھی اُس واقعہ کو شئیر کرلیتا ہوں۔

میری عُمر اُس وقت یہی کوئی 23 برس کی رہی ہُوگی مجھے اُن دِنوں اگرچہ لکھنے کا کوئی خاص شُوق نہیں تھا بلکہ یُوں کہنا چاہیئے کہ ایسا کوئی چسکا ہی نہیں پَڑا تھا ۔مگر کتابوں سے مُحبت تب بھی زُورُوں پر تھی میری ایک کِتاب میرے دوست پڑھنے کیلئے ایسے لے گئے کہ پھر اُنکی واپسی کبھی نہیں ہوئی ۔کئی مرتبہ مُطالبے کے باوجود بھی جب کتاب نہ مِلی تُو سوچا دوبارہ بازار سے خَرید لیتا ہُوں ۔

شہر کے تمام بُک اِسٹالوں کی خاک چھاننے کے باوجود بھی وہ کِتاب مجھے مُیسر نہیں آئی ۔۔ کتاب کا نام تھا سیرتِ رسول عربیﷺ جِسے علامہ نور بخش توکلی دامت برکاتہم عالیہ نے کمالِ مُحبت اور شوق سے اِسطرح لکھا ہے کہ پڑھنے والے قاری کا عشق رسول ﷺ ہر ہر سطر پڑھ کر بڑھتا ہی چلا جاتا ہے ۔ اور اُس وقت مجھے اُسی بیش قیمت کتاب کی ضرورت تھی مگر کتاب تھی کہ مِل ہی نہیں رہی تھی تبھی مجھے یاد آیا کہ میں نے یہ کتاب اپنے ایک دوست کے پاس بھی دیکھی تھی جو اُن دِنوں ایک جنرل اسٹور چلایا کرتے تھے۔

جب میں اپنے دُوست کی شاپ پر پُہنچا تب دوپہر ڈھل رہی تھی اور شام ہونے کو تھی ۔ میں نے اپنے دوست کے پاس پُہنچنے کے بعد اپنا مُدعا ظاہر کیا۔ وہ دوست کہنے لگے کہ عشرت بھائی کتاب دُکان پر نہیں بلکہ گھر پر موجود ہے آپ میرے پاس بیٹھیں میں کسی بچےکو بھیج کر کتاب گھر سے منگوالیتا ہُوں۔ مجھے اپنے دوست کی یہ تجویز پسند آئی اور میں اُنکے پاس بیٹھ گیا۔

دُکان چُونکہ شہر کی مصروف شاہراہ پر تھی اسلیئے دُکان کا سائز کافی چھوٹا تھا کسی صاحب نے اپنے مکان میں ایک اچھی خاصی مارکیٹ بنا رکھی تھی دُکانوں کی لمبائی اگرچہ پندرہ فِٹ سے کسی طُور کم نہ رہی ہوگی مگر دُکانوں کی چوڑائی 7 فِٹ سے ہر گز ذیادہ بھی نہ رہی ہُوگی۔ جسکی وجہ سے برابر کی دُکانوں پر اگر دُکاندار کسی گاہک سے بات کر رہا ہُو تو وہ صاف سُنائی دیتی تھی۔

جنرل اِسٹور کیساتھ ہی ایک حجام کی دُکان تھی حجام ایک شخص کی شِیو بنارہا تھا اور وہ گاہک جو بظاہر پچاس پچپن برس کا ایک صحتمند شخص نظر آرہا تھا حجام سے شِکایت کر رہا تھا کہ حجام اچھا بلیڈ استعمال نہیں کرتا جسکی وجہ سے ہر تیسرے دِن اُس شخص کی شِیو بڑھ جاتی ہے۔

کُچھ وقت گُزرنے کے بعد اُس شخص نے گُفتگو کا رُخ مذہب کی جانب مُوڑ دِیا۔ چُونکہ گُفتگو کےموضوع میں میری پسندیدگی کا تمام سامان موجود تھا لِہذا میں نے بھی خاموشی سے اپنا تمام دھیان اِس گُفتگو کی جانب لگا دِیا۔

وہ بُوڑھا شخص اگرچہ اپنی وضع قطع سے ہر گز کوئی مبلغ نظر نہیں آتا تھا لیکن اُسکی نپی تُلی گُفتگو سے مجھے یہ اندازہ لگانے میں قطعی دُشواری پیش نہیں آئی کہ بِلا شُبہ اُس بوڑھے شخص کا مُطالعہ کافی وسیع تھا اور مذہبی معاملات کیساتھ ساتھ اُس شخص کی تاریخ پر بھی کافی مضبوط گرفت تھی وہ کتابوں کے حوالے ایسے تواتر سے پیش کررہا تھا کہ گُویا جیسے وہ تمام کتابیں اُسکے سامنے کُھلی پڑی ہُوں گُفتگو جُوں جُوں آگے بڑھتی جارہی تھی میں اُس شخص سے مُتاثر ہوتا چلا جارہا تھا۔ لیکن دھیرے دھیرے مجھ پر یہ انکشاف ہُونے لگا کہ موصوف کُچھ زیادہ ہی احساسِ برتری کے مَرض میں گرفتار ہیں کیونکہ وہ بار بار بڑے فخریہ لہجے میں اپنے علم اور اپنے مُطالعے کا ذکر کِسی نہ کِسی طرح اپنی گُفتگو میں لے آتے اور اُنہیں اِس بات کا زَعم بھی شدت کیساتھ تھا کہ شائد ہی کسی شخص کے پاس اِسقدر کتابوں کا ذخیرہ موجود ہُو جِیسا ذخیرہ اُنہوں نے دُنیا بھر کی نایاب کتابوں سے اپنی کوٹھی میں جمع کیا ہُوا ہے۔

وہ بوڑھا شخص شِیو بنوانے کے بعد ایک کُرسی پر براجمان ہُوگیا اور اپنے عملی قِصّوُں اور عِلمی گُفتگو سے موجود سامعین کو گرمانے لگا یہاں تک کہ درمیان میں عصر کی نماز کا وقت ہُوگیا میں اور میرا دوست نماز عصر کیلئے مسجد روانہ ہوگئے راستہ میں میرے دوست نے اُس بوڑھے شخص کے متعلق مجھے بتایا کہ وہ ایک بڑا زمیندار ہے اور ایک وسیع لائبریری اُسکے گھر میں موجود ہے صحت چُونکہ قابلِ رشک ہے اسلئے پنسٹھ سال سے زائد عُمر کے باوجود بھی وہ شخص پچاس برس کا نظر آتا ہے خُوش شکل ہونے کیساتھ ساتھ خُوش لِباس بھی واقع ہُوا ہے جہاں موصوف کو نئی گاڑیوں کا بُہت شوق ہے تو دوسری جانب کتابوں کی خریداری کا شُوق بھی جُنون کی حد تک ہے۔

عصر کی نماز سے فارغ ہُو کر جب ہم جنرل اِسٹور پر پُہنچے تُو میری مطلوبہ کتاب آچُکی تھی۔ دوسری جانب اُس شخص کا وعظ بھی جاری تھا میں چُونکہ اُس گُفتگو سے بُہت محظوظ ہُورہا تھا اِسلئے میں مزید گُفتگو سُننے کے اِشتیاق میں وہیں بیٹھ رَہا۔حجام کو بھی اِس تمام گُفتگو سے شائد بُہت لُطف حاصِل ہورہا تھا اِس لئے وہ بھی بڑے انہماک سے یہ گُفتگو سُن رہا تھا چار پانچ لُوگ جو شائد اپنی حجامت بنوانے کیلئے یا پھر اخبار کے مُطالعے کے لئے حجام کی دُکان پر آئے بیٹھے تھے وہ بھی اُس شخص کی باتوں یا وعظ کو بڑی دِلچسپی سے سماعت کر رہے تھے۔

سُورج کی روشنی آہستہ آہستہ مدہم پڑتی جارہی تھی میں نے گھڑی کی جانب نِگاہ دوڑائی تو معلوم ہُوا کہ نماز مغرب میں پندرہ منٹ باقی ہیں میں نے سُوچا اتنے اچھے ماحول کو چھوڑ کر جانا کُفرانِ نعمت ہُوگا لِہذا مغرب ادا کرنے کے بعد ہی گھر جاؤں گا۔ تبھی ایک انتہائی حَسین خاتون جنرل اِسٹور پر تشریف لائیں اور دھیمی آواز میں میرے دوست سے بات کرتے ہُوئے سامان کی لِسٹ میرے دوست کے ہاتھ میں تھما کر نظریں جُھکائے اپنے مطلوبہ سامان کا انتظار کرنے لگیں۔

جُونہی یہ خَاتون جنکی عُمر تقریباً 40 برس کے قریب ہوگی جنرل اِسٹور پر تشریف لائیں ۔ حیرت انگیز طُور پر اُن واعظ صاحب کا بیان کُچھ ہی لَمحوں میں اِختتام پذیر ہُو گیا۔ میرے نِگاہُوں کا مِحور چُونکہ وہ واعظ صاحب تھے ۔ اِس لئے مجھے بڑی حیرت ہُوئی جب میں نے یہ دیکھا کہ ابھی جُو شخص اللہ کریم اور اُسکے مِحبوب صلی اللہ علیہ وسلم کی باتیں کرتے نہیں تھکتا تھا وہی شخص بڑی ڈھٹائی اور بے شرمی سے اُن خاتون کے جِسم کا طواف اپنی ہَوس ناک نِگاہوں سے کئے جارہا تھا اور اِس بات سے بے خبر تھا کہ میں جو ابھی کُچھ لمحے پہلے اُسکی علمیت اور دُور اندیشی کا قائل ہُوچُکا تھا اُسکی یہ غیر اِخلاقی حَرکت دیکھ کر اپنی سابقہ رائے پر نادم ہُورہا ہُوں۔

چند لَمحوں بعد مجھے ایسا محسوس ہُونے لگا جیسے گِرد اَگِردمیں موجود ہر شخص کی نِگاہُوں کا مِحور صرف اور صِرف وہی خاتون ہُوں۔ میں نے ایک مرتبہ سیدنا اِمامِ غزالی رحمتہ اللہِ الوَالِی کی ایک تحریر پڑھی تھی جسمیں آپ نے انسانی نفسیات اور اُسکی مشاہداتی حِسوں کا تذکرہ کرتے ہُوئے لِکھا تھا کہ ۔ ایسا ممکن نہیں کہ کِسی خاتون کو کوئی مَرد گُھورے یا کوئی عورت کِسی مَرد کو گُھورے اور جِسے گُھورا جارہا ہُو اُسے خَبر نہ ہُوپائے ۔ اور یہاں تُو کِسی ایک شخص کی بات نہیں تھی بلکہ اُس خاتون کو بقولِ شاعر ،، زمانہ گُھور رہا تھا ۔ بلکہ میرا لِکھا ہُوا شعر اِس موقع پر بالکل فِٹ بیٹھ رَہا تھا۔
زمانہ گُھورتا ہے اور نِگاہیں ہیں تَعاقُب میں
نَظر نیچی سہی میری مگر ادراک ہُوتا ہے

اب یہ تُوممکن نہیں کہ اُس خاتون کو اِن نِگاہوں کی چُبھن کا اِدراک نہ ہُوا ہُو لیکن وہ بدستور اپنی نِگاہوں کو جھکائے ہُوئے کاؤنٹر پر موجود اشیاء کو اُلٹ پلٹ کر دیکھنے میں مصروف تھیں۔

اِسی اَثنا میں مسجد سے مؤذن کی اَذان کی صدا بُلند ہُونے لگی ۔ اُس خاتون نے فوراً اپنے سَر پہ موجود دوپٹہ صحیح کیا اور احترام اَذان میں مزید مستعد ہُو گئیں اور جونہی موذٔن نے اِسم مُحمد صلی اللہ علیہ وسلم پُکارا ۔ خاتون نے کَمالِ شُوقِ ادب ا ور حُسنِ عقیدت سے اسمِ مُحمد صلی اللہ علیہ وسلم کو چُوم کر اپنی آنکھوں سے لگا لیا۔

میرے دُوست نے اُن خاتون کا مطلوبہ سامان اور بِل اُن خاتون کو تھما دِیا اور رقم مِلنے کا انتظار کرنے لگا۔ لیکن جب تک اَذان بُلند ہُوتی رہی نہ ہی اُن خاتون نے اپنے ہُونٹوں کو جُنبش دِی اور نہ ہی اپنے پرس میں ہاتھ ڈالنے کی زِحمت گوارا کی۔ البتہ جُونہی اَذان خَتم ہُوئی اُس خاتون نے اپنے ہونٹوں کو جُنبِش دی اور نسبتاً اپنے ہاتھوں کو بُلند کردیا وہ غالِباً اَذان کے بعد دُعا مانگ رہی تھیں دُعا سے فارغ ہُونے کے بعد بِل پر نِگاہ ڈالی اپنے پَرس سے مطلوبہ رقم نِکالی ، رقم میرے دوست کے ہاتھوں میں تھمائی اور اپنے مطلوبہ سامان کے شاپر اُٹھا کر نذدیک کھڑی ایک گاڑی کی جانب بڑھنے لگی۔

چونکہ اَذان مغرب ہُوچُکی تھی اسلئے میں اور میرا دُوست نماز مغرب ادا کرنے کیلئے مسجد کی جانب بڑھنے لگے دُکان سے نِکلتے ہُوئے میری نِگاہ غیر اِرادی طُور پر اُس واعظ پر پڑی تُو مجھے محسوس ہُوا کہ واعظ صاحب ابھی تک ٹکٹکی جمائے اُس خاتون کو جاتا ہُوا دیکھ رہے تھے اور اب باقاعدہ اُنکا سانس بھی پھول رہا تھا جیسے کوئی شخص طویل مُسافت طے کرنے کے بعد ابھی ابھی منزل پر پُہنچاہُو اور اپنی سانسیں دُرست کر رہا ہو۔

جب ہم نماز مغرب ادا کرنے کے بعد واپس جنرل اِسٹور پر پُہنچے تو واعظ موصوف حجام کی دُکان پر شام کے اخبار کا مُطالعہ کر رہے تھے۔ تھوڑی دیر اَخبار کا مُطالعہ کرنے کے بعد وہ واعظ نُما شخص ایک بڑی سی گاڑی میں بیٹھ کر چَل دِیا میں نے مِحسوس کیا کہ اب اُس شخص کا سانس معمول کے مُطابق چَل رہا تھا۔

مغرب کی نماز کے بعد بازار بند ہُونا شروع ہُوگیا میرا دُوست گاہکوں سے فارغ ہُونے کے بعد میرے پاس آبیٹھا اور مجھ سے میری مصروفیت دریافت کرنے لگا۔ میں نے درمیان گُفتگو اپنے دُوست سے اُن خاتون کے متعلق اِستفسار کرتے ہوئے کہا ۔کیا بات ہے تُمہارے بازار میں کیا پہلی مرتبہ کوئی خوبصورت خاتون آئیں تھیں کہ ہر ایک اُس بیچاری کو ایسے دیکھ رَہا تھا جیسے زِندگی میں پہلی مرتبہ کِسی عورت کو دِیکھا ہُو۔

میرے دوست نے پہلے تو میرے سُوال پر ایک قہقہہ بُلند کیا اور اُسکے بعد مجھ سے کہنے لگے عشرت بھائی ایسی کوئی بات نہیں ہے۔ یہ بازار تو قائم ہی خَواتین کی وجہ سے ہیں اگر یہ خریداری کرنا چُھوڑ دیں تو آدھا بازار تو ویسے ہی گاہک نہ ہُونے کی وجہ سے بند ہُوجائے۔

بات دراصل یہ ہے کہ ابھی جُو خاتون مجھ سے سُودا لے کر گئی ہیں یہ آج سے پندرہ برس قبل شہر کی مشہور طوائف تھی اِسکی ایک جھلک دیکھنے کیلئے ہزاروں نِگاہیں بیتاب رَہا کرتی تھیں ہر ایرے غیرے کی تو ہِمت بھی نہیں ہُوتی تھی کہ مُلاقات کرسکے۔ اُس زمانے میں یہ بُہت شُوخ و چنچل ہُوا کرتی تھی۔ پھر نجانے کیا ہُوا کہ اِس نے لوگوں سے مِلنا جُلنا چُھوڑ دِیا بازاروں میں آنا چُھوڑ دِیا۔ پھر کُچھ عرصہ کے بعد ایک ڈاکٹر صاحب سے اِنکا نِکاح ہُوگیا ۔ اور یہ ڈاکٹر صاحب کے گھر میں بیٹھ گئیں ابتدا میں ڈاکٹر صاحب کو لوگوں نے کافی لعنت ملامت کی لیکن آہستہ آہستہ لوگ اِس بات کو بھولتے چلے گئے۔

لیکن عشرت بھائی ایک بات ضرور ہے کہ جب سے اِس طوائف نے گُناہوں کی زندگی سے توبہ اِختیار کی ہے کِسی نے انہیں نِگاہ اُٹھا کر چلتے نہیں دِیکھا۔ اور جِن لوگوں کا ڈاکٹر صاحب کے گھر میں آنا جانا ہے وہ بھی یہی کہتے ہیں کہ اب یہ خاتون گھر میں اکثر نماز و تِلاوت میں مشغُول نظر آتی ہیں۔ اسکے علاوہ علاقے کی خواتین کی مالی امداد ،کیساتھ ساتھ اُنکے مسائل کے حل کے لئے بھی پیش پیش نظر آتی ہیں۔

میرا وُہ دُوست مجھ سے نجانے اور کیا کُچھ کہتا رہا مجھے خَبر نہیں۔ میں تُو اُس وقت یہ سُوچ رَہا تھا کہ ۔ایک طرف وُہ وَا عِظ نُما شَخص تھا جُو دُنیا بھر کی کِتابوں کے مُطالعے کے باوجود بھی نہ اپنی نِگاہُوں میں حَیا پیدا کر سَکا ، نہ ہی اپنے اِخلاق کو سَنوار سَکا ۔ اور نہ ہی اُسکے وسیع مُطالعے سے اُسے نماز کی تُوفیق مِل سَکی۔ اگر کُچھ حاصِل ہُوا تُو صِرف اِحساس برتری کا مَرض ، خُود نمائی اور سب سے ممتاز نظر آنے کا سِفلی جَذبہ۔۔۔۔

جبکہ دوسری جَانِب وہ خاتُون تھی کہ جِسکے ماضی کی وجہ سے کُچھ لُوگ اُسے سابِقہ طَوائف کے طُور پر یاد رَکھے ہُوئے تھے۔ لیکن نہ جانے اُس کی تُوبہ کیسی مقبول تُوبہ تھی کہ جِس نے اُسکے شب و رُوز کو بَدل کے رکھ دِیا تھا ۔میں بے حیا لوگوں کے مُتعلق تُو کُچھ نہیں کہہ سکتا لیکن اتنا یقین کیساتھ کہہ سکتا ہُوں کہ اُس خَاتون کے چہرے پہ جُو تقدس میں نے دیکھا تھا ۔ کِسی شریف النفس اِنسان کو دُوبارہ چِہرہ دیکھنے کی جُرأت نہیں ہُوسکتی تھی۔

یہ کالم لکھتے ہُوئے مجھے مدینے کا وہ تاریخی واقعہ یاد آرہا ہے جہاں ایک عورت دربارِ مُصطٰفی صلی اللہ علیہ وسلم میں اپنے جُرمِ زِنا کا اقرار کر رہی تھی اور رؤف و رَحیم آقا ﷺ اُسے بار بار ٹال رہے تھے یہاں تک کہ اُس نے ایک بچّے کو جَنا پھر ارشاد ہُوا کہ ابھی بچّہ چھوٹا ہے اسے دودھ پِلاؤ مگر نہ جانے کیسی بے چینی تھی کہ مُدت شیر خُواری مکمل ہُونے کے بعد وہ عُورت پھر دربارِ مُصطٰفی صلی اللہ علیہ وسلم میں حاضِر ہُوگئی اور سنگسار ہُوکر پاک ہُونے کی خُواہش ظاہر کی۔ لِہذا اُسے سنگسار کردیا گیا۔ بعدِ سنگسار کریم آقا علیہ السلام نے اِرشاد فرمایا تھا ،، مفہوم،، جیسی تُوبہ اِس خاتون نے کی ہے اگرتمام مدینہ کے گُنہگاروں میں تقسیم کردی جائے تو سب کے لئے کافی ہُوجائے ۔۔۔۔۔۔اً