bing

Your SEO optimized title page contents

Pages

Hamara Tube Channel

Showing posts with label حالات ِ حاضرہ. Show all posts
Showing posts with label حالات ِ حاضرہ. Show all posts

Saturday, 22 February 2014

میں بھی طالبان ہُوں مگر۔۔۔۔؟




کل میری بیٹی جُونہی اسکول سے واپس گھر آئی۔ بَستہ رکھتے ہی میرے پاس آبیٹھی۔ حالانکہ وہ شدید گرمی کی وجہ سے پسینے میں شرابُور تھی۔ لیکن اُسکی بے چینی دیکھ کر ہی میں سمجھ گیا کہ وہ اپنے ذہن میں کوئی اُلجھا ہُوا سوال لئے ہُوئے بُہت مضطرب ہے ۔ وَگرنہ اسکول سے وَاپسی پر وہ ہمیشہ اپنا ڈریس تبدیل کرنے کے بعد سب سے پہلے کھانے کی صدا ہی بُلند کرتی ہے۔


میں نے اُسکی بے چینی دیکھتے ہُوئے استفسار کیا۔۔۔ بیٹا خیریت تُو ہے آج آپ کھانا اسکول کینٹین سے تُو نہیں کھا آئیں۔۔۔۔۔؟


وہ کہنے لگی ۔۔۔نہیں بابا ایسی تُو کوئی بات نہیں ہے۔۔۔ بس باباجانی کُجھ جاننا چاہتی ہُوں۔۔۔ آپ مجھے جہاد سے متعلق کُچھ بتائیں ۔۔۔؟ اور یہ بھی کہ شہید کُون ہُوتے ہیں۔۔۔۔؟


میں نے اُسے کہا کہ بیٹا پہلے لباس تبدیل کرلو۔ پھر کھانا کھالو ۔اُسکے بعد میں تفصیل سے تُمہارے سوال کا جواب دے دیتا ہُوں۔۔۔!


لیکن وہ شائد اپنے سوالوں کے جواب کیلئے اتنی زیادہ متجسس تھی۔ کہ کہنے لگی نہیں بابا جانی پہلے آپ میرے سوالوں کا جواب دے دیں۔ اُسکے بعد میں کھانا کھالونگی۔ کیونکہ جب تک مجھے میرے سوالوں کا جواب نہیں مِلے گا میں بے چین ہی رَہوں گی۔۔۔ مجھے معلوم ہے کہ وہ ہمیشہ سے ہی ہر نئی بات پر متجسس ہوجاتی ہے۔ اور جب تک اُسے اپنے سوال کا جواب نہ مِل جائے وہ چین سے نہیں بیٹھتی ہے۔ لہذا میں نے ہمیشہ کی طرح ہَار مانتے ہُوئے اُسکے سوالوں کا جواب پہلے دینے کیلئے حامی بھر لی۔ اور اُسکے سوالوں کا جواب دیتے ہُوئے اُسے بتانے لگا۔


بیٹا جہاد کا حُکم قران مجید فرقانِ حمید میں کئی جگہوں پر آیا ہے۔ جہاد کے معنیٰ جدوجہد اور کوشش کے ہیں۔ جہاد فی سبیل اللہ کو آسان لفظوں میں اسطرح کہہ سکتے ہیں۔ کہ اللہ کریم کی راہ میں کوشش کرنا۔


میں نے ابھی گُفتگو شروع ہی کی تھی۔ کہ میری بچّی درمیان میں بُول پڑی۔۔ بابا کوشش کرنا۔۔ یا۔۔ اللہ کریم کی راہ میں گردن کَٹوانا،، کیونکہ ہماری ٹیچر نے ہمیں بتایا تھا کہ اللہ کریم کی راہ میں جان دینے کو جہاد کہتے ہیں۔۔۔؟


ہاں بیٹا اللہ کریم کی راہ میں لڑتے ہُوئے اپنی جان قربان کرنا جہاد ہے۔ لیکن تُم اگر میری بات کو تَسلی سے سُنو گی تو میں تُمہیں جِہاد سےمتعلق تفصیل سے بتا سکوں گا۔


جی بابا جان آپ بتایئے اب میں بِلا ضرورت نہیں بُولونگی۔ اُس نے اپنی کہنیوں کے پیالے میں اپنے چہرے کو سجاتے ہُوئے کہا۔۔۔


دیکھو بیٹا جہاد کی کئی اِقسام عُلماءِ کرام نے بیان کی ہیں اور اِن اقسام پر سبھی عُلماء کا اجماع بھی ہے۔ کیونکہ یہ سبھی اقسام قران وسنت کی روشنی کے عین مطابق ہیں۔ اور جِہاد کا مُنکر بلاتفاق،، کافر،، ہے۔ البتہ جہاد کے طریقہ کار پر ایک گروہ کا دوسرے گِروہ سے اُصولی اختلاف ممکن ہے۔


جہاد کی یہ پانچ اقسام بُہت مشہور ہیں نمبر1۔جہاد بالعِلم ۔ نمبر2۔جہاد بالمال۔نمبر3۔جہاد بالعمل۔ نمبر4۔جہادبالنفس۔ نمبر5۔جہاد بالقتال۔


بیٹا ، جہاد علم،،کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کریم اور اُسکے مدنی محبوب ﷺ کے احکامات کو سیکھ کر دُنیائے انسانیت تک اُسکی روشنی کو پہنچانا۔ تاکہ ظُلمت کو دین کی روشنی سے منور کیا جاسکے۔ تاکہ تِیرگی چھٹ جائے اور لوگوں کو صحیح اور غلط میں تمیز کرنے میں آسانی ہُوجائے۔ کوشش کرنا انسان کا کام ہے جبکہ ہدایت دینا اللہ کریم کا کام ہے۔ اور قران مجید میں بھی اِسکا واضح حُکم موجود ہے مفہوم،، تم میں ایک ایسی جماعت ہونی چاہیئے جو نیکی کا حُکم کرے اور بُرائی سے رُوکے۔


جبکہ مال سے جہاد کے معنیٰ ہیں کہ اپنی حلال ذرائع سے حَاصِل کی گئی دولت کو اللہ کریم کی راہ میں خرچ کیا جائے۔ اب چاہے وہ رقم مجاھدینِ اسلام کو دِی جائے یا کِسی نادار و بیوہ کو دی جائے ۔ چاہے مدارِس میں پُہنچادی جائے۔ یا کِسی فلاحی کام میں خرچ کردی جائے۔ کیونکہ مال محنت سے کمایا اور جمع کیا جاتا ہے اسلئے اسکا استعمال بھی انسان کے نفس پر گِراں گُزرتا ہے لِہذا جب اتنی کوشش کے بعد کمایا ہُوا مال انسان راہِ خدا میں خرچ کرتا ہے تب شیطان طرح طرح کے وسوسے انسان کے دِل میں پیدا کرتا ہے۔ اور شیطان و نفس سے لڑتے ہُوئے جب انسان خُوشدلی سے راہِ خُدا میں مال خرچ کردیتا ہے۔ تُو یہ بھی جہاد کے زِمرے میں آتا ہے۔ جیسا کہ اللہ کریم اپنے کلامِ پاک میں ارشاد فرماتا ہے۔ایمان رکھو اللہ اور اس کے رسول پر اور اللہ کی راہ میں اپنے مال و جان سے جہاد کرو، یہ تمہارے لیے بہتر ہے اگر تم جانو۔۔۔ سورہ اَلصّٰف آیت نمبر ۱۱۔


اور بِٹیا جہادِ عمل کے متعلق بھی سُنو: جب بحیثیت مسلمان ہم نے اپنی دینی اور دُنیاوی ضروریات کے مُطابق اسلام کی تعلیمات کو سیکھ اور سمجھ لیا تب ہم پر لازم ہے کہ صِرف گُفتار کے غازی نہ بنیں۔ بلکہ جو علم حاصِل کیا ہے اُس پر عمل بھی کریں۔ چاہے شیطن لاکھ حیلے سمجھائے ۔چاہے اُن پر عمل سے دُنیاوی فائدہ ہمارے ہاتھ آئے یا دُنیاوی نقصان ہمارا مُقدر بنے ۔ یا ہمیں اس پر عمل کی کوئی بھی قیمت ادا کرنی پڑے۔ لیکن رضائے رَبُّ الانام کی خاطر ہمیں اس پر عمل پیرا ہونا ہی چاہیئے اور یہی عملی جہاد ہے۔


جبکہ جہاد بالنفس اپنی خُواہشات کو اللہ کی مرضی پر قربان کردینے کا نام ہے۔ جیسے سردیوں کی صبح میں فجر کی نماز نفس پر بھاری ہُوتی ہے۔ مگر یہی عمل اللہ کو محبوب ہے۔ تب یہ نہ دیکھو کہ اِس عمل میں مشقت ہے بلکہ یہ دِیکھو کہ اللہ کریم کی چاہت کیا ہے۔ جسطرح جُھلسا دینے والی گرمی میں روزہ رکھنا نفس پر گِراں گُزرتا ہے مگر اللہ کریم اس عمل پر اپنی خوشی کا اِظہار فرشتوں کے سامنےفرماتا ہے۔ اور کبھی جب کوئی سائل اپنی ضرورت بیان کرتا ہے تو نفس سمجھاتا ہے کہ تجھے اسکی ذیادہ ضرورت ہے۔ لیکن اگر سائل کی ضرورت پوری کردی جائے تو خُدا خُوش ہوتاہے۔ اسی طرح ہر وہ عمل جو نفس پر شاق گُزرے لیکن وہی عمل خُدا کی خوشنودی کا باعث ہُو ۔ تب خُدا و رَسولﷺ کی رضا کو مقدم رکھنا جہادِ نفس ہے۔


اور بیٹا ایک جہادِ قتال ہُوتا ہے یعنی کافر سے اللہ کریم کی رضا کیلئے قتال یعنی لڑائی کرنا۔ اسکا بھی قران مجید میں کئی جگہوں پر حُکم موجود ہے اور اسکی بھی بڑی نرالی شان ہے چُنانچہ قران مجید میں ارشاد ہُوتا ہے کہ،، اور لڑو اللہ کی راہ میں اور جان لو کہ اللہ سنتا جانتا ہے، سورہ البقرۃ آیت ۲۴۴۔۔۔ جبکہ دوسری جگہ اِرشاد ہُوتا ہے کہ،،اور جو خدا کی راہ میں مارے جائیں انہیں مردہ نہ کہو بلکہ وہ زندہ ہیں ہاں تمہیں خبرنہیں ۔سورہ البقرۃ ۱۵۴


یعنی جو جہاد میں، اللہ کی راہ میں مارا جائے وہ شہید کہلاتا ہے اور قران کریم کا فیصلہ ہے کہ ،،شہید مرتا نہیں بلکہ زندہ رِہتا ہے۔ لیکن یہ بات اور ہے کہ۔ ہم اُنکی زندگی کے اطوار کو نہیں جان پاتے۔ اور وہ کیسے کھاتے پیتے ہیں یہ نہیں سمجھ پاتے ۔مگر وہ زندہ ہیں۔ کیونکہ یہ اللہ کریم کا فرمان ہے۔ اور جہاد کے فضائل میں بے شُمار اَحادیثِ مبارکہ بھی کُتب اَحادیث میں موجود ہیں۔ جیسا کہ بُخاری شریف کی یہ حدیث ہے۔


ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اس نے کہا۔لوگوں میں سے افضل کون ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایسا آدمی جو اللہ کی راہ میں اپنی جان و مال سے جہاد کرتا ہے۔“ اس نے کہا:”پھر کون؟آپ صل اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ آدمی جو لوگوں سے الگ ہو کر کسی گھاٹی میں اللہ کی عبادت کرے اور لوگ اس کے شر سے محفوظ رہیں۔“بخاری، کتاب الجہاد۔6782


لیکن میری بَچّی ۔۔اِس جہاد مقاتل کیلئے کُچھ قانون ہیں۔ کبھی یہ فرضِ کفایہ ہُوتا ہے ۔ تو کبھی یہ فرضِ عین ہُوتا ہے۔اور کبھی مُباح کی صورت اختیار کرجاتا ہے۔ اور اسکے بے شُمار آداب و احکامات اور اُصول خود اللہ عزوجل اور اُسکے مدنی محبوب (صلی اللہ علیہ وسلم) نے بیان فرمائے ہیں جبکہ کُچھ آثارِ صحابہ (رِضوان اللہ علیہم اجمعین)سے ثابت ہیں ۔ جِنکا پاس رکھنا ہر مُجاھِدِ اسلام اور امیرِ مجاھِدین و لشکر پر لازم و فرض ہے۔اگر اِن قواعد اور احکامات کو پسِ پشت ڈال کر جہاد کیا جائے۔ تو ایسی لڑائی نہ صِرف جہاد کی رُوح کی عین منافی تصور کی جائے گی۔ بلکہ جہاد کے بجائے دھشت گردی کے زمرے میں شامل ہُوجائے گی۔


بابا ایک بات اور بتائیں کہ یہ طالِبان کون ہُوتے ہیں۔۔۔؟ میری ٹیچر مجھے بتارہی تھیں کہ طالِبان اللہ تعالی کے نیک ترین بندے ہُوتے ہیں۔ بلکہ یہ سب وِلایت کے درجے پر ہیں۔ پھر بابا جان آپ طالبان کیساتھ جِہاد میں شامِل کیوں نہیں ہُوتے۔۔۔۔؟



میری بَچّی طالبان ۔ طالِب کی جمع ہے۔ جِس کے معنی ہیں۔۔خواہشمند۔ آرزومند۔ مانگنے والا۔ طلب کرنے والا۔مشتاق ۔ ان تمام معنوں سے تم مجھے دیکھو گی۔ تُو ضرور مجھے طالبان کی صف میں دست بَدستہ پاوٗ گی۔ میں شہادت کیلئے مشتاق ہُوں ۔ اور ہر نماز میں اپنے رب عزوجل سے شہادت کی موت کی تمنا کا سوال کرتا ہُوں۔ میں روشنی کا خُواہشمند ہُوں۔ میں عِلم کے لئے حَریص ہُوں۔ میں مسلمانوں کی ترقی کا آرزومند ہُوں۔ میں عافیت کا طلبگار ہُوں۔ اور کُفار کے مقابل میں مسلمانوں کو تفرقہ پرستی سے بیزار شانہ بشانہ کھڑا دیکھنا چاہتا ہُوں۔


مگر بابا میں تو آپ سے اُن طالبان کی بابت گُفتگو کررہی ہُوں۔ جو موت سے نہیں گھبراتے، جو سینے پر بم باندھ کر شہادت کی موت کے متمنی رِہتے ہیں۔ میری بیٹی نے میری گُفتگو رُوکتے ہُوئے مجھے اپنی طرف ایک مرتبہ پھر متوجہ کرتے ہُوئے سوال کیا۔


میری بچی مجھے اُنکے ساتھ جہاد میں پیش پیش رہنے میں کوئی حرج نہیں ہُوتا۔ اگر میں نے احادیث مبارکہ اور آثارِ صحابہ (رِضوان اللہ تعالی اجمعین) کا بغور مطالعہ نہیں کیا ہُوتا ۔


مگر میں جتنا مُطالعہ کرتا چلا جاتا ہُوں مجھے طالبان کا طریق جہاد نہ صرِف صحابہ کرام (رِضوان اللہ تعالی اجمعین) کے طریقہ ءِجہاد سے مُختلف نظر آتا ہے بلکہ اُس جہاد سے متصادم نظر آتا ہے۔


جیسا کہ بُخاری شریف اور مسلم شریف کی کئی احادیث میں کافر بچوں، بُوڑھوں اور خواتین کو قصداً قتل کرنے کی ممانعت موجود ہے مگر یہ کافر بچوں اور خواتین تو کُجا۔ اسکولوں میں دَرس وتَدریس میں مشغول مسلمان بچوں، بچیوں اور خواتین کو قتل سے دریغ نہیں کرتے ۔جبکہ حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ ارشاد فرماتے ہیں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ۔ جو شخص لا الہ الا اللہ کا اقرار کرے اس سے ہاتھ اور زبان کو روکنا۔ کہ ہم نہ تو کسی گناہ کی وجہ سے اسے کافر قرار دیں اور نہ کسی عمل کی وجہ سے اسے اسلام سے خارج سمجھیں۔۔ (ابوداؤد)۔


صحیح مسلم شریف میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجاہدین کو فرمان دیا کرتے تھے کہ اللہ کی راہ میں جہاد کرو خیانت نہ کرو، بدعہدی سے بچو، ناک کان وغیرہ اعضاء نہ کاٹو، بچوں کو اور زاہد لوگوں کو جو عبادت خانوں میں پڑے رہتے ہیں قتل نہ کرو۔


مسند احمد کی ایک روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرمایا کرتے تھے اللہ کا نام لے کر نکلو اللہ کی راہ میں جہاد کرو کفار سے لڑو ظلم وزیادتی نہ کرو دُھوکہ بازی نہ کرو۔ دشمن کے اعضاء بدن نہ کاٹو درویشوں کو قتل نہ کرو،


بخاری ومسلم میں ہے کہ ایک مرتبہ ایک غزوہ میں ایک عورت قتل کی ہوئی پائی گئی حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے بہت بُرا مانا اور عورتوں اور بچوں کے قتل کو منع فرما دیا،


اگرچہ ابتداءِ اسلام میں اسکی اِجازت باقی تھی لیکن جُوں جُوں وقت گُزرتا گیا یہ احکام بھی تبدیل ہُوتے رہے چُنانچہ حضرت علامہ کمال الدین ابن ہمام فتح القدیر کی جلد پنجم میں ارشاد فرماتے ہیں کہ ابتداءِ اسلام میں مشرک عورتوں اور بچوں کو بھی قتل کردیا جاتا تھا۔ اِس لئے عورتوں سے بھی جزیہ وصول کیا جاتا تھا۔ اور جب عورتوں کے قتل کا حُکم منسوخ ہوگیا تو جزیہ لینے کا حُکم بھی ساقط ہُوگیا۔


جبکہ موجودہ دُور کے طالبان نہ صرف کافروں کے بچوں اور عورتوں کے قتل کو جائز سمجھتے ہیں بلکہ وہ اپنے مقصد کے حصول کیلئےمسلمانوں کی مساجد اور مزارات پر حملوں کے ذریعہ بے گُناہ مسلمانوں کو بھی خُون سے نہلانے میں کوئی عار محسوس نہیں کرتے۔ حالانکہ مومن کی تُو پہچان ہی یہی ہے کہ اُس سے دیگر مسلمان محفوظ و مامون رہیں۔


کہاں تو آقائے نامدار (صلی اللہ علیہ وسلم) کافروں کا مثلہ یعنی کان ناک کاٹنے سے روکیں اور کہاں یہ نام نہاد مجاھدین جنہوں نے کافروں کو چھوڑ کر مسلمانوں کی لاشوں کو قبروں سے نِکال کر نہ صِرف مُثلہ کیا بلکہ اُنکی لاشوں کی بےحُرمتی کے بعد اُن لاشوں کو چوراہے پر لٹکادِیا۔ تاکہ مسلمانوں میں انکا خُوف اور دبدبہ قائم ہُوجائے۔ میرے ایک میجر دوست جنکی ڈیوٹی وزیرستان میں تھی۔ مجھے اکثر بتایا کرتے تھے۔ کہ افواجِ پاکستان کے سپاھی جب طالبان کے ہاتھ لگ جاتے تب کبھی کوئی ایسی لاش واپس نہیں ملتی۔ کہ جسکے اعضاء سلامت ہُوں۔


جبکہ ایسے اعمال میں ملوث افراد اور انکی امداد کرنے والے صاحبان کو بُخاری ، مسلم ، اور ابو داوٗد شریف میں موجود اس مشترکہ حدیث پاک کو دیکھنا چاہیئے جو لفظوں کے معمولی فرق کیساتھ تین مستند محدثین (رحم اللہِ اجمعین) نے بیان فرمائی ہے


حضرت علی رضی اﷲ عنہ نے حضور سید عالمﷺ کی خدمت میں کچھ خام سونا مٹی میں لگا ہوا بھیجا تو آپﷺ نے وہ چار آدمیوں میں تقسیم فرمادیا (یعنی اقرع بن حابس حنظلی مجاشعی، عینیہ بن بدرالغزاری، زید الخیل طائی اور علقمہ بن علاثہ عامری کے درمیان) قریش اور انصار اس پر ناراض ہوئے اور کہاکہ نجد کے رئیسوں کو مال عطا فرمادیا اور ہمیں نظر انداز کردیا گیا۔ آپﷺ نے ارشاد فرمایا کہ میں ان کے دلوں میں اسلام کی محبت ڈالتا ہوں۔ پس ایک آدمی آگے بڑھا جس کی آنکھیں دھنسی ہوئی تھیں، گال پھولے ہوئے تھے، پیشانی ابھری ہوئی تھی اور داڑھی گھنی تھی اور سر مُنڈا ہُوا تھا۔ اس نے کہا اے محمدﷺ! اﷲ تعالیٰ سے ڈر و۔(معاذ اﷲ) آپﷺ نے فرمایا! اﷲ تعالیٰ کی اطاعت کون کرے گا؟ اگر میں اس کی نافرمانی کرتا ہوں۔ اﷲ تعالیٰ نے تو مجھے زمین والوں پر امانت دار شمار فرمایا ہے، لیکن کیا تم مجھے امانتدار نہیں سمجھتے؟ پس ایک آدمی نے اسے قتل کرنے کا سوال کیا۔ میرے خیال میں وہ حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ تھے، آپﷺ نے منع فرمایا جب وہ لوٹ گیا تو آپﷺ نے فرمایا اس کی نسل یا پیٹھ سے ایسے لوگ پیدا ہوں گے جو قرآن مجید پڑھیں گے لیکن (قرآن) ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا۔ وہ اسلام سے نکلتے ہوئے ہونگے جیسے کمان سے تیر نکل جاتا ہے۔ وہ اہل اسلام کو قتل کریں گے اور بت پرستوں کو چھوڑ دیا کریں گے۔ اگر میں انہیں پائوں تو قوم عاد کی طرح مٹا کر رکھ دوں ۔


پھر جہاد کے اُصول و قواعد کو کوئی بھی حضرت ابوبکر صدیق و عُمرِ فاروق ، حضرت ابو عبیدہ بن جراح اور حضرت خالد بن ولید (رِضوان اللہ تعالی علیہم اجمعین)سے ذیادہ جاننے کا دعویدار نہیں ہُوسکتا اور بالفرض کوئی دعویٰ کرے تو اُس سے بڑا دُنیا میں کوئی جھوٹا نہ ہُوگا۔ اِن تمام جَیّد و کبائر صحابہ کرام نے فتوحُ الشام کے موقع پر اپنے متبعین کو یہی ہدایت جاری فرمائی کہ۔ کافروں کے بچوں، عورتوں، بُوڑھوں، درویشوں ، مذہبی رہنماوٗں کو قتل نہ کیا جائے اُنکی املاک کو جان بوجھ کر نشانہ نہ بنایا جائے، فصلوں میں آگ نہ لگائی جائے ،ہرے درختوں کو نہ کاٹا جائے۔ مگر ایک یہ طالبان ہیں جو مسلمان عورتوں کو سر بازار کوڑے مارتے نظر آتے ہیں۔ مسلمانوں کی جان اور املاک کی ہلاکت پر خُوش ہُوتے ہیں۔ اسلحہ کی خریداری کیلئے مسلمان تاجروں کو اغوا کرتے نظر آتے ہیں۔ اور بعض اوقات اپنی ناقص پلاننگ سے تمام اُمت مسلمہ کو ہلاکت میں ڈالنے سے بھی نہیں چُوکتے۔ یہاں تک کہ مسلمانوں کے قتل میں ملوث یہ نام نہاد مجاھدین ہندوستان گورنمنٹ سے امداد لینے کو بھی جائز سمجھتے ہیں۔


بابا یہ کیسے ممکن ہے کہ طالبان جو اتنے منظم ہیں وہ پلاننگ نہ کرتے ہُوں۔ میری ٹیچر بتارہی تھیں کہ اُنکی پلاننگ اتنی زبردست تھی کہ امریکہ کی تمام خُفیہ ایجنسیاں طالبان کا مُنہ دیکھتی رِہ گئیں اور طالبان نے ورلڈ ٹریڈ سینٹر کو مٹی کا ڈھیر بنا دِیا۔


بیٹا ہُوسکتا ہے کہ بعض لوگوں کو یہ بڑی ہمت اور بہادری کا کام لگتا ہُو۔ کہ تین سو مرد و عورت کو دو میناروں کیساتھ زمین بُوس کردِیا گیا ۔ اور امریکی دیکھتے رِہ گئے۔ لیکن اِس عمل کی مسلمان اُمہ نے جو قیمت ادا کی ہے وہ اُن ۲ ٹاوروں سے لاکھ گُنا زائد ہے۔ اسکے علاوہ امریکی اور یورپی مسلمان اس حادثے کی جو قیمت آج تک چُکارہے ہیں اسکے نقصان کا اندازہ لگانا بھی ممکن نہیں ہے۔


بیٹا فتاوٰی عالمگیری جو کہ مسلمانوں کی متفقہ فقہی کتاب ہے ۔اِسکی دوسری جلد میں علامہ نظام الدین جہاد کے مُباح ہونے کی دُو شرائط بیان فرماتے ہُوئے لکھتے ہیں۔


نمبر ۱ ۔دین کے دُشمن اسلام قبول کرنے سے انکار کردیں۔ اور دُشمنانِ اسلام اور مسلمانوں میں جنگ بندی کا کوئی معاہدہ بھی موجود نہ ہُو تب جہاد مباح ہوگا۔یا

نمبر۲ ۔مسلمانوں کو یہ توقع اور مکمل یقین ہُو کہ جنگ میں مسلمانوں کو کُفار پر غلبہ حاصِل ہوجائے گا۔ اگر مسلمانوں کو نہ ہی ایسی کوئی توقع ہُو ۔ اور نہ ہی فتح کامل کا یقین ہُو۔ تب اُنکے لئے کُفار سے جہاد جائز نہیں ہے ۔ کیونکہ جب تک مسلمانوں کو جنگی سامان اور قُوت میں برتری حاصِل نہ ہُوجائے تب تلک کُفار سے لڑنا جہاد نہیں بلکہ خُودکشی ہے۔

اب بِیٹا آپ خُود فیصلہ کرو کہ طالبان کا امریکہ پر حملہ جہاد تھا ۔ یا بے وقوفی اور خُود کشی تھی۔ میں نے بیٹی کی جانب مُڑ کر دیکھا۔ تو وہ اُداس چہرے سے میری جانب تَک رہی تھی۔ مجھے اپنی جانب متوجہ دیکھ کر پھر گُویا ہُوئی۔ تو بابا۔ اسکا مطب یہ ہُوا کہ اب جہاد نہیں ہُوگا۔ اور آپ بھی اسمیں حِصہ نہیں لیں گے۔۔۔؟

کِیوں نہیں میری بَچی۔۔۔ جہاد کبھی موقوف نہیں ہُوتا۔ جہاد کسی ایک واقعہ کا نام تُو نہیں ہے۔ یہ تُو ایک مسلسل عمل کا نام ہے۔ جب جب ہماری سرحدوں پر کفر حملہ کرے گا۔ ہم اُن سے جہاد بالقتل کریں گے۔ اور جب ہم اِس قابل ہُوجائیں گے کہ کفر کے مُقابل میں عسکری قوت جمع کرپائیں تب یکجا ہُوکر اُنکی سرحدوں پر جاکر بھی اُنہیں للکاریں گے۔


لیکن اِس وقت تمام مسلم اُمہ کے عُلماءَ اور حُکمرانوں کی دینی اور مِلی ذِمہ داری ہے کہ وہ سب آپس کے تمام اِختلافات کو دُور کرکے باہمی رضامندی سے جہاد سے متعلق تعلیمات مُصطفےٰ ﷺ پر از سرنو غور و فِکر کے بعد اُن تمام خرافات کو مجاھدین اسلام سے دُور کرنے کی کوشش کریں جُو جہاد کے نام پر رفتہ رفتہ مجاھدین کے اَذہان میں پیوستہ کردِی گئی ہیں۔ جسکی وجہ سے وہ مسلمانوں کے نمائندہ بننے کے بجائے صرف ایک گروہ کی نمائندہ تنظیم بنتی چلی جارہی ہے۔
جِسے بعض اوقات مسلکی فوائد وبرتری کیلئے مساجد پر خُودکش حملوں کیلئےبھی استعمال کیا جانے لگاہے۔یہ اسلئے بھی بُہت ضروری ہے تاکہ کوئی جہاد کے نام پر اسلام کو بدنام نہ کرسکے۔ اُور یہ اسلئے بھی ضروری ہے ۔تاکہ جہاد اور دہشگردی میں فرق واضح ہُوسکے۔ اور مجاھدین میں نظم قائم کیا جاسکے ۔تاکہ ایک محاذ پر بالفرض مجاھدین کمزور پڑیں تُو اُنکی امداد کیلئے دوسرے مجاھِدین کو بھیجا جاسکے۔ اور سب سے اہم بات یہ کہ جہاد کیلئے حاکم شہر یا حاکمِ صوبہ یا حاکمِ مُلک بُلائے۔ یہ نہ ہُو کہ جسکا دِل چاہے اپنا ایک گروپ بنا کر جِہاد کے نام پر اپنی جیب گرم کرتا رہے۔اُور وہ تُو کمانڈر بن کر خود ائر کنڈیشن کمروں میں بیٹھ کر اپنے بچوں کو آکسفورڈ یونیورسٹی بھیج دے۔ اور غریبوں کے بچوں کو جہاد کی ترغیب دیتا رہے۔

جبکه پاکستان میں موجود طالبان کا طریقه خوارج کے جد امجد  چھٹی صدی کے عظیم فتنہ گر حسن بن صباح اور احمد بن غطاش کی تعلیمات کا عکس نظر آتا ھے. جنہوں نے سینکڑوں علمائے کرام کو قتل کیا ۔۔ اُور مسلمانوں پر کفر کے فتوے لگائے۔ اور اقتدار کی خواہش میں اسلامی فوج سے برسرپیکار رہے.. وه لوگ بھی کفار کو چھوڑ کر مسلمانوں کو قتل کرتے ھوۓ نظر آتے تھے اور یه لوگ بھی کفار سے جہاد کرنے کے بجاۓ مسلمانوں کو قتل کرتے ھیں... جبکه اسلام میں ایک انسان کے ناجائز قتل کو بھی تمام انسانیت کے قتل عام سے تشبیه دی گئ ھے... اس قسم کی حرکات دراصل  بیرونی قوتوں کے ایما پر۔۔اسلامی جہاد  کو اقوام عالم میں بدنام کرنے کی کوشش ھیں. تاکه جہاد کو اسقدر بدنام کردیا جاۓ که " کبھی کوئی جہادکا نام بھی اپنی زباں پر نه لاسکے  


باتوں کا سلسلہ جاری تھا کہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مسجد سے موذن کی صدا بُلند ہُونے لگی جو عصر کی نماز کا اعلان کررہا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔!لِہذا میں قُولی جہاد سے عملی جہاد کیلئے روانہ ہُونے لگا۔۔۔۔ اِس اُمید پر کہ اللہ کریم نے مزید توفیق عطا فرمائی تو مزید بھی اِس موضوع پر ناصِرف مطالعہ جاری رکھوں گا بلکہ جہاد بالعِلم بھی کرتا رَہونگا۔ انشاءَاللہ عزوجل

جہالت و ظُلم کے خلاف جنگ جاری رہے گی۔۔۔۔۔۔۔۔ انشاءَاللہ عزوجل


پلکوں سے دَرِّ یار پہ دستک دینا

اُونچی آواز ہُوئی عُمر کا سرمایہ گیا

Thursday, 6 June 2013

فیس بُک پر جعلی عاملوں کی آمد


مورخہ ۲ جُون کی رات مجھے کراچی سے ایک اِسلامی بِہن کی کال مُوصول ہُوئی۔۔۔ جِسے سُننے کے بعد میرا دِل دہل کر رِہ گیا۔ آنکھوں سے جھڑی لگ گئی۔ اُور اِسی بے قراری میں تمام رات سسکتے سسکتے بیت گی۔ ۔۔یہاں تک کہ،، موذن کی صدا بُلند ہُونے لگی۔ اُور میں وقتی طُور پر کچھ دیر کیلئے اِس خوفناک گُفتگو کے سحر سے نکلنے میں کامیاب ہُوپایا۔۔۔ میں گُذشتہ شب ہی اِس موضوع پر  ایک تحریر لکھنا چاہتا تھا۔ لیکن رات تین بجے تک بھی پہلے سے تیار ایک پُوسٹ پر،، فُٹ نُوٹ سے ذیادہ کچھ نہیں لکھ پایا۔

مجھے اِس کال میں اُس اِسلامی بہن نے رُوتے ہُوئے بتایا۔کہ،، اُنہوں نے فیس بُک پر ایک شخص سے رُوحانی علاج کیلئے رابطہ کیا۔ رُوحانی عِلاج کیلئے یہ رابطہ تقریباً ایک ماہ سے قائم تھا۔ جِس میں اِس اِسلامی بہن نے کئی مرتبہ اُس معالج سے فون پر گفتگو کی۔۔۔ پھر اُس معالج کے اِصرار پر انہوں نے  مزید علاج کی خاطر وڈیو کالز پر بھی کئی مرتبہ گفتگو کی۔ جب کہ ای میلز پر بھی اِس رُوحانی علاج کا سلسلہ جاری تھا۔ اِن تمام کالز اُور برقی خطوط میں اُنہوں نے جذبات کی رُو میں بِہہ کر اپنے ایسے راز بھی اُس معالج سے شئیر کرلئے۔ جو کہ عمومی طور پر خَواتین اپنے گھر والوں کو بھی نہیں بتاتی ہیں۔

جب علاج کو ایک ماہ کا عرصہ گُزر گیا۔ اُور اِن اِسلامی بہن کو علاج سے کوئی خاطر خُواہ فائدہ نظر نہیں آیا۔تو انہوں نے شکایتاً اُس معالج سے کہا۔کہ،، مجھے آپ سے مسلسل رابطہ کرتے ہُوئے  ایک ماہ کا عرصہ ہُوگیا ہے۔ لیکن نہ ہی مجھے میرے مقصد میں کوئی ہلکی سی کامیابی کی رمق نظر آئی ہے۔ اُور نہ ہی مجھے  اِس علاج سے قلبی سکون مِل رہا ہے۔ اسلئے اگر آپ سے یہ معاملہ ہینڈل نہیں ہُوپارہا ہے۔ تو برائے مہربانی مجھے جواب دے دیں۔ تاکہ میں کہیں اُور سے اپنا مسئلہ حل کراسکوں۔ اِسلامی بہن کے  اِس جملے کو سُن کر اصولاً ہُونا تو یہ چاہیئے تھا۔کہ،، وُہ معالج انکی دلجوئی کرتے۔یا اِنہیں اجازت دیدیتے ۔کہ،، آپ جہاں سے چاہیں علاج کروالیں۔ کیونکہ ہُوسکتا ہے۔ آپکے  نصیب کی نعمت کہیں اُور موجود ہُو۔۔۔۔ لیکن وُہ عامل اِس اِسلامی بہن کی باتیں سُن کر بھڑک اُٹھا۔ اُور کہنے لگا۔کہ،، میں کل آپکو جواب بذریعہ میل دیدوں گا۔

اگلے دِن جب اُس اِسلامی بہن نے اپنی میلز چیک کی تو اُنہیں اُس معالج کی جانب سے ایک برقی خط مُوصول ہُوا۔ جِس میں اُس پست ذِہن عامل نے اِس اِسلامی بہن کو خبردار کرتے ہُوئے بتایا۔کہ اُنکی تمام گفتگو  آڈیو، وڈیو، اُور تحریر کی صورت میں اِنکے پاس محفوظ ہے۔۔۔ جسے،، جب چاہے وُہ اسکے گھر والوں کو بھیج سکتا ہے۔۔۔ اُور شوشل میڈیا پر فرضی اکاونٹ سے اَپ لُوڈ کرسکتا ہے۔۔۔ اُور اسکے بعد اُس جعلی عامل نے اُنہیں بلیک میل کرنا شروع کردیا ہے۔ جسکی وجہ سے وُہ مسلسل ذہنی دباوٗ کا شکار ہے۔۔۔ اتنا واقعہ بیان کرنے کے بعد اُس اِسلامی بہن نے ایک مرتبہ پھر ہچکیوں سے رُونا شروع کردیا۔ وُہ اِسلامی بہن رُوتے ہُوئے ایک ہی بات بار بار دہرائے جارہی تھی۔کہ،، بھائی میں نے تو اُس کمبخت کو ایک دین دار انسان سمجھ کر، اپنا مسیحا جان کر اِحوال دِل سُنایا تھا۔ مجھے کیا خبر تھی کہ ،، یہاں رہنما کے بھیس میں رَہزن بھی پھرتے ہیں۔ جو رازوں کے امین بننے کے بجائے ایک سوداگر کی طرح پیشکش کرتے ہیں۔

غُصہ تو مجھے اِس اِسلامی بہن پر بھی بُہت آیا تھا۔۔۔ میرا دِل چاہ رہا تھا۔کہ،، اُسے بے نُقط کی سُناوٗں۔کہ،، بے وقوف عورت آخر تجھے ایسی کیا مُوت پڑی تھی۔ کہ،، تُونے ایک انجانے شخص کے سامنے وُہ باتیں بھی بیان کرڈالیں جو کہ،، ایک عورت اپنے سائے سے بھی کہنے میں ڈرتی ہے۔۔۔ تجھے ایسی کون سی آفت پڑی تھی۔کہ،، تُونے ایک غیر مرد سے بِلا ضرورت شرعی وِڈیو کالز کا سلسلہ قائم رکھا۔۔۔لیکن میں کیا کرتا۔کہ،، وُہ تو پہلے ہی اَدھ مری ہُوئی تھی۔۔۔ اُورنجانے کِس بہن یا بھائی نے اُسے کتنی اُمید و آس دِلا کر مجھے کال کرنے کیلئے اُکسایا ہُوگا۔۔۔ اِسلئے میں اُسے کچھ نہیں کہہ پایا۔ البتہ میں نے اُسے تسلی دیتے ہُوئے اِتنا ضرور کہا۔۔۔ کہ،، میری بہن  چہرے پر معصومیت سجائے بظاہر خُوش اِخلاق و ملنسار نظر آنے والا ہر انسان مخلص دُوست و رِہبر نہیں ہُوتا۔ یہاں بے شُمار قذاق  اپنے چہروں کی کراہیت کو نِقاب میں۔ اُور اپنے سفلی جذبات کو دِل میں سجائے پھرتے ہیں۔۔۔ اسلئے احتیاط لازم ہے۔ البتہ بطور ایک بھائی کے میرا تُم سے یہ وعدہ ہے۔ کہ،، وُہ سفلی خواہشات کا غلام عامل میری بہن کو کوئی نقصان نہیں پُہنچا پائے گا۔ اُور اگر میں اپنے  وعدے کو نبھا نہیں پایا ۔ تو بے شک حشر کے میدان میں اِس بھائی کے دامن کو تار تار کرڈالنا۔

میں اُس اِسلامی بہن کا چہرہ تو نہیں دیکھ پارہا تھا لیکن اُسکے لہجے میں اچانک پیدا ہُوتے ہُوئے اعتماد کی وجہ سے مجھے کامل یقین ہے۔کہ،، اُسکی آنکھوں میں ایک بھائی کو پالینے کے بعد خوفزدہ ہرنی کا تاثر باقی نہ رَہا ہُوگا۔۔۔ میرا جواب سُن لینے کے بعد اُسکی ہچکیاں بھی یکسر بند ہُوچکی تھیں۔ اُور اب اسکے لہجے میں پہلے جیسا خوف کا احساس بھی نہیں تھا۔ وُہ کافی دیر تک مجھے  اُور میری فیملی کوفون پر دعائیں دیتی رہی۔

اِس گفتگو کے اِختتام پر جہاں مجھے اپنی اِسلامی بہنوں کی عصمت کی فکر ستا رہی تھی۔۔۔ وہیں دوسری طرف میں اِس قِسم کے عامِلوں کے مُتعلق سُوچنے لگا۔ جو کبھی چند ٹکوں کی خاطر۔۔۔ تو کبھی جھوٹی شہرت کی طلب میں۔۔۔اُور۔۔۔ کبھی اپنے سفلی جذبات کو تسکین پُہنچانے کیلئے قریہ قریہ نقب لگائے پھرتے ہیں۔۔۔ جِس وقت میں نے  انٹرنیٹ پر اُور بالخصوص فیس بُک پر مُفت  رُوحانی علاج کا سلسلہ شروع کیا تھا۔ اُس وقت سرچ کرنے پر مجھے  غیر سیاسی عالمگیر تحریک ،، دعوت اسلامی،، کے عِلاوہ کوئی رُوحانی علاج کی سائٹ نظر نہیں آتی تھی۔۔۔ اُور دعوت اسلامی والے ماشاءَاللہ اتنے محتاط لوگ ہیں۔کہ،، فتنے کے ڈر سے خواتین سے بات ہی نہیں کرتے۔۔۔ جبکہ آج یہ حال ہے۔کہ آپ صرف روحانی لفظ لکھ کر سرچ کرلیجئے۔ تو آپکو سینکروں  ٹائٹل نظر آجائیں گے۔ جہاں پر حقیقی علاج کرنے والے لُوگ بھی یقیناً ہُونگے۔۔۔

لیکن ایسے لوگوں کی بھی کمی نہیں ہے۔ جو صرف لوگوں کے جذبات سے کھیلنے،اُور انہیں بلیک مِیل کرنے کیلئے میدان میں اُتر آئے ہیں۔۔۔ جنکے دعوے تو بڑے بڑے ہُونگے۔ لیکن اِن میں سے بعض تو وُہ بھی ہُونگے۔ جِن سے اگر آپ موٗکل کی اقسام اُور انکے طریقہ ،یا موکلین کے سردار کی بابت دریافت کرلیں۔ تو وُہ لوگ آپکو بغلیں جھانکتے نظر آئیں گے۔ جب کہ اُن سے بات کی جائے تو ایسے ایسے دعوے کہ الامان الحفیظ،، جیسے اُن سے بڑا
رُوحانی اِسکالر تمام رُوئے زمین پر  کوئی نہ ہُو۔۔۔ حالانکہ اُن میں ایسے بھی لُوگ موجود ہیں۔ جنہیں خُود نفسیاتی اُور رُوحانی علاج کی اشد ضرورت ہے۔ ۔۔

اے کاش  اِس کالم کو پڑھنے کے بعد  اللہ کریم کی توفیق سے کوئی جعلی عامل اپنی حرکتوں سے باز آجائے۔ تو میرے لکھنے کا مجھے ثمر مِل جائے۔  عاشقِ ماہِ رِسالت سیدی اعلحضرت اِمام احمد رضا  علیہ الرحمۃ الرحمن اپنے ایک فتوے میں اِرشاد فرماتے ہیں۔کہ،، نااِہل آدمی کا علاج کرنا حرام ہے،، اگرچہ وُہ ثواب کی توقع پر کام کررہا ہُو۔ لیکن ثواب کے بجائے وُہ اپنے لئے حرام عمل کی وجہ سے آخرت میں نار  جہنم کا سامان جمع کررہا ہُوتا ہے۔ اسلئے ایسے آدمی پر لازم ہے۔ کہ،، وُہ  علاج کا سلسلہ موقوف کردے۔ اُور اپنے گُناہ پر شرمندہ ہُوکر اللہ کریم کی بارگاہ میں خوب گڑگڑا کر  اپنے اِس عمل کی معافی طلب کرے۔۔۔لیکن یہ توفیق بھی ہر ایک کو نہیں مِلتی۔۔۔۔۔جِسے توفیق دے خدا۔ وُہ آخرت کو داوٗ پر لگائے کیوں۔۔۔؟

میں اپنے تمام اِسلامی بھائیوں اُور بہنوں سے التجا کرتا ہُوں۔کہ،، خُدارا ایسے جعلی عامِلوں کی بھرپور مذمت کریں۔۔۔ جب بھی کوئی رُوحانی مسئلہ در پیش آئے۔ تو کسی جید عالمِ دین سے رابطہ فرمائیں۔۔۔۔ اپنے راز کسی انجان آدمی کو نہ بتائیں۔ چاہے وُہ اپنے متعلق آپکو کتنا ہی یقین دِلانے کی کوشش کرے۔ بلکہ ہُوسکے تو اپنے رُوحانی مسائل کے لئے حتی الامکان،،  دعوت اسلامی ،، والوں سے رابطہ فرمالیں۔۔۔ جنکے مراکز دُنیا بھر کے بڑے بڑے شہروں اُور پاک و ہند کے ہر چھوٹے بڑے شہر میں موجود ہیں۔


مجھے چند اِسلامی بھائیوں اُور بہنوں نے بتایا ہے کہ،، چند لُوگ خُود کو میرا رُوحانی شاگرد بتا کر فیس بُک اُور دوسری سائٹس پر علاج کررہے ہیں۔ اسلئے میں آپ سب کو بتانا چاہتا ہُوں کہ،، فیس بُک ،، پر فی الحال میں نے صرف    محترم اِحسان الحق عطاری(  وارثی) بھائی کو رُوحانی علاج کی اِجازت دی ہے۔۔۔
دارالافتاء احکام شریعت کے ایڈمن حضرت قبلہ مفتی ،، ابو السعد محمد بلال رضا  (عطاری)قادری دامت برکاتہم عالیہ ہیں۔۔۔۔ معاونین میں کویت سے محترم کاشف اکرم (وارثی) بھائی ہیں۔ جبکہ   پوسٹوں کی شیرنگ اُور ایڈیٹنگ کے شعبے میں ،،محمد اِرشاد محمود عطاری (وارثی) بھائی کو اِجازت حاصل ہے۔ اِس وقت ٹوٹل تین پیج موجود ہیں۔  جبکہ چُوتھا پیج،، قانونی مشورے سے متعلق ہے۔ جسکی تکمیل کا کام جاری ہے۔ اُور اسکے ایڈمن محترم محمد آصف زئی (عطاری) ایڈوکیٹ ہائی کورٹ حیدرآباد ہونگے ۔ ۔۔اسکے علاوہ ایک  بلاگ اسپاٹ کا پیج ہے۔ جہاں میری تحریروں کیساتھ قبلہ مفتی محمد بلال قادری بھی ایڈمن کی صورت میں موجود ہیں۔۔۔ نیچے تمام پیج اور بلاگ کے لِنک موجود ہیں۔ اسکے علاوہ  فیس بُک ،، پر ہمارا کوئی پیج نہیں ہے۔ اگر آپ کسی ایسے شخص کو دیکھیں جو خود کو میرا،، رُوحانی شاگرد ،،ظاہر کرکے لوگوں کو رُوحانی علاج کی دعوت دے رَہا ہُو۔۔۔ تو برائے کرم مجھے فیس بُک پر ضرور اطلاع دیں۔۔۔
ہمارے تمام  لنک یہ ہیں۔۔۔





میں نے بُہت عرصہ قبل ہی اپنے تمام کالمز  سے استفادہ حاصل کرنے کی تمام صحیح العقیدہ مسلمانوں کو اجازت عام دے دی تھی۔۔۔ جسکی وجہ سے کافی اسلامی بھائیوں نے تو یہاں تک جراٗت کی ۔کہ،، انہوں نے میری تحریروں کو اپنے نام سے شئیر کرنا شروع کردیا۔۔۔ لیکن میں نے کبھی ایسے لوگوں سے باز پُرس نہیں کی۔۔۔ لیکن  دُوسروں کی تحریر کو  اپنے نام سے  آگے بڑھانا اگرچہ عِلمی خیانت میں شُمار ہُوتا ہے۔۔۔ لیکن اتنا خطرناک معاملہ نہیں ہے۔ ۔۔۔لیکن  نااِہل آدمی کا  علاج کرنا  ضرورایک خطرناک عمل  ہے۔۔۔ جسکا اَثر ناصرف روحانی مریضوں کو  حقیقی علاج سے دُور رکھتا ہے۔ بلکہ علاج کرنے والا بھی ایک نہ ایک دِن مصیبتوں میں گِھر کر رِہ جاتا ہے۔۔۔ جسکی وجہ سے نا صرف عامل رِجعت کا شکار ہُوجاتا ہے۔ بلکہ اُسکی فیملی کو بھی اِسکا خمیازہ بھگتنا پڑتا ہے۔۔۔۔ اُور جھوٹے دعووٗں کی وجہ سے آخرت الگ داوٗ پر لگ جاتی ہے۔


ایسا ہی ایک واقعہ پڑھنے کیلئے ،، جب گاما بن گیا شاہ جی،، کا کالم یہاں کلک کر کے  ضرور پڑھیں ۔

Wednesday, 17 April 2013

عُورتوں کا سب سے بڑا دُشمن کُون۔۔۔؟


کتنی عجیب بات ہے۔ کہ میرا تعلق مردوں کی جنس سے ہے۔ لیکن چند دِن قبل میرے ایک لکھاری دُوست نے مجھے ،،خواتین کا رائیٹر،، کے خطاب سے نِواز ڈالا۔ جب میں نے اُن سے ایسا کہنے کا سبب معلوم کیا۔۔۔ تو بڑی معصومیت سے جواب دیا۔کہ،، آپکی تحریریں اتنی کثرت سے خواتین کے حقوق  اُور اُن سے ہمدردی کے اظہار پر لکھی جا چُکی ہیں۔۔۔ کہ،، اکثر مرد حضرات کی آپ کے متعلق یہی رائے ہے۔ جو کہ میں بیان کررہا ہُوں۔۔۔ جسکا ثبوت آپکا  فیس بُک کا پیج بھی دیگا۔ جہاں  قریبا ایک مرد کے مُقابلے میں نو خواتین آپکے پیج کو لایئک کررہی ہیں۔ جبکہ ہزاروں تو ایسی بھی خواتین موجود ہُونگی۔ جو آپکا پیج تو لایئک کرنا چاہتی ہونگی۔ لیکن اپنے فیملی بیک گراونڈ  کی وجہ سےلایئک نہیں کرپاتی ہُونگی۔ میں نے پہلی مرتبہ اپنے دوست کے انکشاف پر جب فیس بُک کی آڈیوئن کو چیک کیا۔ تو اُنکی بات کی تصدیق  بھی ہُوگئی۔ جہاں سولہ سُو خواتین کے درمیان صرف ایک سُو ستر مرد حضرات موجود تھے۔۔۔

 آج  دُوپہر  میری سُمیرا سسٹر سے بات ہُورہی تھی۔ جو کہ پیشے کے اعتبار سے ایک کامیاب وکیل بھی ہیں۔ تو اُنہوں نے درمیانِ گفتگو ایک عجیب خواہش کا اِظہار کیا۔۔۔ وُہ کہنے لگیں۔ وارثی بھائی آپ خواتین کے مسائل پر اتنا لکھتے ہیں۔ تو اِس موضوع پر کیوں نہیں لکھتے۔ کہ،، ہمارے معاشرے میں عورت کی سب سے بڑی دُشمن بھی ایک عورت ہی ہُوتی ہے۔ میں نے عرض کیا سسٹر ایک عرصہ سے اِس موضوع پر لکھنے کی خواہش دِل میں موجود ہے۔۔۔ لیکن خواتین کی بدگمانیوں سے محفوظ رہنے کیلئے نہیں لکھ پاتا۔۔۔۔ مگر  سُمیرا ایڈوکیٹ  سسٹر کا کہنا تھا۔کہ،، لُوگ آپکی تحریریں پسند بھی کرتے ہیں۔۔۔ اُور آپکے پڑھنے والوں کا حلقہ بھی وسیع ہے اِس لئے آپکو اِس موضوع پر ضرور لکھنا چاہیئے۔۔۔ سُو میں آج اپنا یہ آرٹیکل محترمہ  سُمیرا جنجوعہ  ایڈوکیٹ سسٹر کے نام منسوب کرتا ہُوں۔ جنہوں کی وجہ سے یہ کالم لکھنے کی تحریک ذہن و قلب میں بیدار ہُوئی۔


 لیکن دوسری طرف کچھ خواتین  ایسی بھی ضرور ہُونگی۔۔۔ جو یہ کالم پڑھ کر کہیں گی۔کہ،، آخر ہے  نہ مَرد ذاتی،، مَردوں کی لاج بچانے کیلئے عورتوں کیخلاف ہی  لکھ ڈالا۔۔۔۔ بہرحال ہر ایک انسان چاہے وُہ مَرد ہُو یا عورت اُسے حق حاصِل ہے۔کہ وُہ اپنے خیالات کا اِظہار برملا کرسکے۔۔۔ میں  اپنے بلاگ پر تمام آراء کا خیر مقدم انتہائی خوش اخلاقی سے کرنے کی سعی کرونگا۔


مجھے  بطور ایک رُوحانی معالج کے مہینے میں ہزاروں برقی خطوط اپنے قارئین سے موصول ہُوتے ہیں۔۔۔ جن میں پچانوے فی صد کی شرح سے خواتین کے خطوط ہُوتے ہیں۔ جبکہ کم و بیش جب سے اپنا  سیلولر نمبر فیس بُک پر شُو کیا ہے۔ پانچ سُو سے زائد ماہانہ کالز بھی مُوصول ہُوتی ہیں۔۔۔۔ جن میں خواتین اپنے مسائل کا ذکر کرتے ہُوئے مَردوں کو موردِ الزام ٹہراتی ہیں۔۔۔۔ لیکن تعجب خیز اَمر یہ ہے۔ کہ اکثر خواتین کا یہی  اِظہارخیال سامنے آتا ہے۔ کہ اُنکے مَرد اتنے بُرے نہیں ہیں۔۔۔ وُہ تو شروع شروع میں اللہ کی گائے تھے۔۔۔ لیکن رفتہ رفتہ ،، کسی  نند  کی حاسِد نظر نے اُنکے ہنستے بستے گھر میں آگ لگا دی۔۔۔   کسی کی ساس نے اپنے بھولے بھالے بیٹے کے کان بھرنا شروع کردیئے۔ اُور نوبت طلاق تک آپُنچی ہے۔۔۔کبھی تمام جرم دیورانی، جیٹھانی کے کھاتے میں آتا ہے۔ یا کسی باہر والی نے اُنکے شوہر یا منگیتر کو  اپنی اَداوٗں  سے بھٹکا ڈالا ،بہکا ڈالا۔۔۔ یا اُن پر سفلی جادو کروا دِیا۔۔۔ 


متوسط گھرانوں میں جہاں ماسیاں گھر کی صفائی ستھرائی کرتی ہیں۔۔۔ وہاں بھی گھر کی مالکن کو  ملازموں میں سب سے ذیادہ  خطرہ صرف ایک خوبصورت مُلازمہ عورت سے ہی درپیش ہُوتا ہے۔ اِسی لئے تو چھانٹ چھانٹ کر بدصورت ماسیوں کو کام پر رکھا جاتا ہے۔۔۔ کہ مرد نہ بہک سکے۔۔۔لیکن  مَردوں سے تمام شکووٗں کے باوجود خطرہ یہاں بھی ایک عورت سے  ہی درپیش ہُوتا ہے۔


ہمارے معاشرے میں جتنی بھی طلاقیں واقع ہُوتی ہیں۔۔۔ اگر آپ ایماندای سے اُسکا تجزیہ کریں۔ اُور اسکی وجہ بھی مُطقہ خواتین سے معلوم کریں۔ تو  تقریبا ننانوے فیصد خواتین تمام فساد کی جڑ کسی ایک عورت کو ہی  بتاتی ہیں۔۔۔ اب چاہے وُہ   فسادی عورت ایک ساس ہُو۔یا  ایک نند ہُو۔ سسرال میں رہنے والی ہُو۔ یا باہر والی ہُو۔  صرف ایک فی صد خواتین بمشکل ایسی مُیسر آئیں گی۔ جو شائد طلاق کی وجہ سُسر ، جیٹھ، دیور، یا شوھر کے دُوست کو گردانتی ہُونگی۔۔۔۔


پھر اگر یہی مُطلقہ یا  کوئی بیوہ عورت ہمارے معاشرے میں پھر  اپنی زندگی کا اِک نئے سِرے سے آغاز کرنا چاہے۔۔۔ تب،، یقین کیجیئے کوئی بھی مرد اُسکی اتنی مخالفت نہیں کرتا۔ چاہے وُہ  لڑکا ہو۔ یا اُسکے بھائی ہُوں۔ یا اُسکا والد ہُو۔۔۔ لڑکا  اگرچہ رضامند ہو بھی جائے،، لیکن یہاں بھی  ایک عورت ہی  دیوار کی صورت  درمیان میں یہ کہتے ہُوئے حائل ہوجاتی ہے۔کہ،، کیا کنواریوں کا کال پڑگیا ہے۔ جو ایک کنواری یا مطلقہ کو اپنے گھر کی زینت بنائیں۔ اَب یہ عورت لڑکے کی بہنیں بھی ہُوسکتی ہیں  اور ماں  بھی ہُوسکتی ہے۔۔۔

آج صرف ہمارے مُلک میں ہی دیکھیں تو ایک کروڑ سے زائد غریب  بچیاں رِشتوں کے انتظار میں اپنے  سَروں کو چاندی کے کھیت بنا رہی ہیں۔ جبکہ یہ ایک اسلامی مملکت ہے۔ دین اسلام میں خُوشحال مَردوں کو چار شادیوں کی اجازت حاصِل ہے۔۔۔ لیکن یہ مقولہ بھی کسی مرد کا نہیں ہے۔ کہ سُوکن تو لکڑی کی بھی بُری ہُوتی ہے۔۔۔ ہمارے یہاں بچیوں کی پرورش ہی اِس انداز میں کی جاتی ہے۔۔۔ کہ لفظ سوکن اور سُوتیلا گالی کے معنی میں مستعمل ہُونے لگا ہے۔ ۔۔صرف ہمارے مُلک پاکستان میں ایسے لاکھوں خوشحال  افراد  موجود ہیں۔۔۔ جو ایک سے زائد بیویوں کے حقوق  ایمانداری سے پورے کرسکتے ہیں۔۔۔ لیکن اِن غریب  بچیوں کے رشتوں میں لالچ و حرص کے علاوہ جو سب سے بڑی دیوار موجود ہے۔۔۔ وُہ بھی عورتوں کے حقوق پر مال بنانے والی خواتین  کی این جی اُوز ہیں۔۔۔ جنہوں نے غیر مُلکی ایجنڈے پر عمل کرتے ہُوئے ایک عورت کو ہی دوسری عورت کے مقابل لا کھڑا کیا ہے۔ کیا یہ ایک حقیقت نہیں ہے۔کہ،، ایک عورت اپنے مرد کو زانی تو برداشت کرلیتی ہے۔۔۔ لیکن اُسکی دوسری  جائز بیوی کو برداشت نہیں کرسکتی۔


 کیا ہمارے معاشرے میں بیٹے کو ڈالر سے تعبر کرنے والی بھی ایک عورت نہیں ہُوتی۔۔۔ جو اپنے بیٹے کی پرورش کا تمام خرچہ بھی اپنی بہو کے گھر والوں سے نِکلوانا چاہتی ہے۔۔۔۔ اُور اگر لفظ  سُوکن واقعی ایک عذاب ہوتا ہے۔ تو کیاوجہ ہے۔۔۔ جب بیٹی کے  لئے سوکن کو عذاب کہنے والی عورت ہی بیٹے کے شانوں کو تھپتپاتے ہوئے  اپنی بہو پر سوکن لانے میں خُود پیش پیش نظر آتی ہے۔۔۔۔ اُور بہو کو بیٹے کی نظروں سے گرانے کیلئے جادو ٹونے کا سہارا لینے میں بھی نہیں شرماتی۔۔۔۔۔؟


میں یہاں ایک لطیف نکتہ بھی پیش کرنا چاہوں گا۔۔۔ آج سے قریباً دس برس قبل کسی نے مجھ سے ایک سوال کیا تھا۔ کہ،، عشرت بھائی کیا وجہ ہے۔ جو لڑکا شادی سے پہلے اپنی ماں اُور بہنوں کے پلو سے بندھا رِہتا ہے۔ وُہ بیوی کے آتے ہی اُسکا  غلام کیسے بن جاتا ہے۔۔۔ ؟؟؟ آخر  اِن  عورتوں کے پاس ایسی کونسی گیڈر سنگھی ہُوتی ہے۔ جو،،  یہ راتوں رات لڑکے کو  ماں اور بہنوں سے متنفر کرنے میں کامیاب ہوجاتی ہیں۔۔۔ سوال اتنا دلچسپ تھا۔ کہ،، میں کئی دِن اِس سوال پر تحقیق کرتا رَہا۔۔۔ اور بلاآخر ایک نتیجے پر پُہنچ گیا۔۔۔ جب میں نے اپنا یہ خیال اہل علم حضرات کے سامنے  رکھا۔۔۔ تو اِس تحقیق کو کافی پزیرائی بخشی گئی۔۔۔


سائنس ہمیں بتاتی ہے۔کہ،، انسان کے خُون سے اُسکے جینز بچوں میں منتقل ہوتے ہیں۔۔۔ انہی جینز کی وجہ سے انسان اپنے بچوں سے محبت کرتا ہے۔ اور بچے والدین سے انہی جینز  کی وجہ سے پیار دُلار کرتے ہیں۔۔۔ اِسی فارمولے کو دیکھتے ہُوئے مجھے یہ خیال آیا۔ کہ آخر بچوں کو نیک لوگوں کے ہاتھوں سے گھٹی کیوں دِلوائی جاتی ہے۔۔۔؟ اِسی لئے نا ! کہ،، ہمارا بچہ نیک آدمی کا جھوٹا کھائے گا۔۔۔ تو ایک دِن اِسکے اثر سے یہ بھی نیک بن جائے گا۔۔۔۔ تو معلوم یہ ہُوا ۔کہ انسانی لعاب (تھوک)  بھی محبت کی تاثیر پیدا کرتا ہے۔ ۔۔۔اُور  ہر انسان کے پسینے کی مہک جُدا ہوتی ہے۔۔۔  کیوں کہ مشاہدے میں یہ بات بھی دیکھنے میں آئی ہے۔ کہ سراغ رَساں کتوں کے ذریعے سے چُوروں کا اُنکی مہک سے ہی  پتہ لگایا جاتاہے۔ تو اِس پسینے کی بھی یقیناً خون اور  لعاب کی طرح ایک تاثیر ہوگی۔۔۔۔؟  شادی سے پہلے  لڑکا ماں کے ہاتھ کی بنی رُوٹی کھاتا رہا۔۔۔ انسانی جسم سے پسینے کا اخراج مسلسل جاری رِہتا ہے۔۔۔۔ جبکہ کچن میں گرمی کی وجہ سے اِس اخراج میں مزید اِضافہ ہوجاتا ہُوگا۔۔۔۔ اسلئے آٹے کو گوندھتے ہُوئے ماں کے ہاتھوں سے یہ پسینہ مسلسل بہتے ہُوئے آٹے میں جذب ہوتا رِہتا ہے۔۔۔ اور روٹی کیساتھ ساتھ یہ پسینہ بھی معدے کے ذریعے سے خون کی شریانوں تک پُہنچتا رِہتا ہے۔۔۔ اب ایک طرف  خون کے جینز کی تاثیر ہوتی ہے۔ تو دوسری جانب پسینے کی مہک بھی خُون میں رچ بس جاتی ہے۔۔۔ جسکی وجہ سے بریڈ کھانے والی قوموں کے مقابلے میں ہمارے یہاں ماں سے  قبل شادی ذیادہ محبت کی جاتی ہے۔


لیکن جیسے ہی بہو میکے سے سُسرال میں پُہنچتی ہے۔۔۔  ماں فوراً  کچن سے تمام ناطے توڑ کر اُس کچن کی تمام ذمہ داری بہو کے ہاتھوں میں تھمادیتی ہے۔۔۔ جِس کے نتیجے میں بیٹے کی شریانوں تک ماں کا پسینہ تو نہیں پہنچتا۔ البتہ اِس کمی کا اِزالہ بیوی کا لعاب اُور پسینہ کردیتا ہے۔ سُو دھیرے دھیرے محبت کا ایک نیا احساس اُس بیٹے کے جسم میں جنم لینے لگتا ہے۔۔۔ اور پرانا احساس کم ہُونے لگتا ہے۔۔۔ نتیجتاً   روٹی کے ہر نوالے  اور بوسہ فاحشہ کی بدولت  وہی لڑکا جو ہر وقت ماں کی محبت کے گیت گاتا تھا۔۔۔ اب ایک نئی محبت کی تجدید کررہا ہوتا ہے۔۔۔۔ اِس پر سونے پر سہاگہ،، کے مصداق وہی ماں جو اپنے بیٹے سے دِن رات محبت کی باتیں کیا کرتی تھی۔۔۔۔ اب صبح و شام  بیوی کی غلامی کے طعنوں سے نوازتی ہُوئے یہ بات بھول جاتی ہے۔کہ،، اگر کسی نئی آنے والی نے اُس کے بیٹے کو اپنی محبتوں کے محور میں جکڑ لیا ہے۔ تو کبھی اُس نے بھی اِسی راہ سے سفر کرتے ہُوئے کسی اُور ماں سے اُسکے بیٹے  کو چرایا تھا۔۔۔ اُور لاشعوری طور پر یہی  روزانہ کے مِلنے والے طعنے تشنے ایک دِن اولاد کو ماں سے دور جانے پر مجبور کردیتے ہیں۔ لیکن احساسِ محبت کا یہ  سارا عمل اتنا چپکے چپکے  ہوتا ہے۔کہ،، اِس لاشعوری تبدئلی کو نہ بیٹا سمجھ پاتا ہے۔ اور نہ ہی ماں سمجھ پاتی ہے۔


مجھے یہ بات کہنے میں بالکل ہچکچاہٹ محسوس نہیں ہورہی۔ کہ واقعتاً عورتوں کے استحصال میں مَردوں کا بھی ہاتھ ہے۔۔۔۔عورت کو غلام بنانے کی اُسے اپنے قدموں تلے مسلنے اُور روندنے  کی خاہش مَردوں  میں بھی پائی جاتی ہے۔۔۔۔لیکن! یہ بھی ایک اٹل حقیقت ہے۔ کہ ایک عورت کی تذلیل میں، اُسکے آشیانے کو خاکستر کرنے  اُور اُسے بے آسرا کرنے میں جتنا ہاتھ  ایک دوسری عورت کا ہُوتا ہے۔ اُس کے مقابلے میں مَردوں کا حصہ شائد ایک فی صد بھی نہ بنتا ہُو۔۔۔۔۔ ہوسکتا ہے۔کہ،، آپ میری رائے سے ایک فی صد بھی اتفاق نہ کریں۔۔۔ اُور اِسے عورت اور مَرد کی جنگ بنانے پر مُصر رہیں۔ لیکن ۔۔۔۔ میں نے خُدا گواہ ہے۔۔۔ صرف سچائی پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔ مردوں کی برتری ثابت کرنے کیلئے نہیں لکھا۔۔۔ کیونکہ رہنا تو  مجھے بھی آخر مُرشدی بیگم کے سائے میں  ہی ہے۔ اور بیلن و چمٹہ آخر کس گھر میں نہیں پائے جاتے!!! 

Saturday, 2 March 2013

کاش میں اِک گجر ہُوتا۔


  کاش میں بھی اِک گجر ہُوتا۔

چند دِن قبل ایک ویب سائٹ پر ایک کالم دیکھا۔ جسے پڑھنے کے بعد مجھے سخت حیرت کیساتھ دِلی رنج بھی ہُوا ۔ کہ لُوگ کیوں سستی شہرت حاصل کرنے  کیلئے ایسے کام کرجاتے ہیں۔۔۔ کہ،، جسکے سبب احسان فراموشی کے طوق کیساتھ لوگوں کی دِل آزاری کا سامان بھی  پیدا ہُوتا ہے۔ اُس کالم کا نام تھا۔ ،، گجروں کی رنگین مزاجیاں،، لیکن کالم میں اخلاقیات کی ایسی دھجیاں اُڑائی گئ۔ کہ،،  الامان الحفیظ،، کسی سطر میں گجروں کو جھگڑالو کہا گیا۔ تو کسی سطر میں واہیات رقصوں کا شیدائی۔ کہیں ان پڑھ کہا گیا تو کبھی بے وقوف اُور ضدی۔۔۔ لیکن موصوف کے دِل کو پھر بھی قرار نہ آیا تو آخر میں سانپ سے ذیادہ نقصان دہ گردان لیا۔ پتہ نہیں اتنا کچھ کہنے کے بعد بھی اُنکی تشفی ہُوپائی یا نہیں۔۔۔ لیکن میرا نہیں خیال کہ،، یہ کالم لکھنے کے بعد اُنکے ضمیر نے اُنہیں چین سے رہنے دِیا ہُوگا۔۔۔

کہیں آپ یہ تو نہیں سُوچ رہے کہ،، میں بھی ایک گجر ہُوں۔ اُور اب اُس کالم کا بدلہ لینے کیلئے جوابی کالم تحریر کررہا ہُوں۔۔۔ تو ایسا بالکل نہیں ہے۔  حالانکہ میرا تعلق اُردو بولنے والے گھرانے سے ہے۔ جنہیں اُردو کے علاوہ کوئی علاقائی  زُبان ڈھنگ سے بولنی نہیں آتی۔ اُور ہمیں آج بھی کئی لُوگ پاکستانی کہنے کے بجائے ہجرت کی بنا پر ہندوستانی  ہی پُکارتے ہیں۔لیکن لوگ چاہے ہمیں کسی بھی نام سے پُکاریں ہمیں فخر ہے کہ اِس مُلک کی بنیادوں میں ہمارے لاکھوں آبا وٗ اجداد کا خون شامل ہے۔ اُور ہمیں پاکستانی ہُونے پر فخر ہے۔ لیکن میرے دِل کی خواہش ہے کہ ،، کاش میں بھی اِیک گجر ہُوتا۔ اِس لئے اپنے کالم کا عنوان بھی یہی رکھنا پسند کیا ہے۔

ایک سال قبل تک مجھے بھی گجروں کے متعلق ذیادہ معلومات نہیں تھی۔ اسلئے سرراہ چلتے ہُوئے جب کسی پوسٹر پر،، وحشی گجر،، یا ضدی گجر ٹائپ نام  لکھا دیکھ لیا کرتا۔ تو مجھے بھی ایسی ہی بدگُمانی ہُوتی۔۔۔ کہ شائد گجر بُہت مار دھاڑ کرنے والی قُوم ہُوگی۔۔۔۔لیکن۔۔۔  ہوسکتا ہے واقعی گجروں میں تعلیمی شرح اسقدر ذیادہ نہ ہو۔ لیکن پچھلے سال میرے ایک دُوست لاہور سے تشریف لائے ۔(حالانکہ میرے وُہ دوست گجر نہیں ہیں)۔تب مجھے پہلی مرتبہ اُنکی زُبانی گجروں کی ایک ایسی خُوبی کا علم ہُوا۔ جس پر لاکھوں تعلیم یافتہ قربان کئے جاسکتے ہیں۔۔۔ اُور اِس خوبی پر میں گجروں کی جوتی اپنے سر پر رکھنے میں اپنی خوش بختی سمجھوں گا۔۔۔۔ جی ہاں مجھ سے ذیادہ بھلا اُور کون اُنکی اِس خوبی کی قیمت جان سکتا ہے۔

کیوں کہ گجروں کو جو خوبی ورثے میں مِلی ہے۔ میں نے اُس خوبی کی ایک ادنی جھلک کیلئے اپنی زندگی داوٗ پر لگادی ۔ تب جاکر اُس خُوبی کا ایک معمولی حصہ اپنی جھولی میں سمیٹ پایا ہُوں۔۔۔۔ جن دِنوں میرے یہ دُوست لاہور سے میرپورخاص تشریف لائے اُن دِنوں داتا کی نگری میں داتا صاحب رحمتہ اللہ علیہ کا عرس مبارک منایا جارہا تھا۔ میں اپنے شوق کی وجہ سے کرید کرید کر اپنے اُس دوست سے داتا صاحب رحمتہ اللہ علیہ کے عرس کی تقریب کے متعلق استفسار میں مگن تھا۔ تب ہی میرے دُوست نے مجھے بتایا کہ ،، گجر جنکا آبائی پیشہ دودھ فروخت کرنا ہے۔ وُہ داتا صاحب رحمتہ اللہ علیہ کے عرس کے موقع پر دُودھ فروخت نہیں کرتے۔۔۔۔ بلکہ اپنا تمام دُودھ زائرین میں مفت تقسیم کردیتے ہیں۔ ۔۔میرے لئے یہ بات انہونی تھی۔۔۔۔ بھلا کوئی کسی سے اتنی محبت بھی کرسکتا ہے۔ کہ جس سے محبت کرتا ہُو۔۔۔ اُسکی خوشی پانے کیلئے اپنے بچوں کی روزی رُوٹی ہی پیش کردے۔۔۔۔ میرے تجسس کو بھانپ کر میرے دُوست نے مجھے مزید بتایا کہ گجر قُوم ہی ایسی ہے۔۔۔ جو اُولیائے کرام کی محبت کو زندگی کا حاصل جانتی ہے۔۔۔یہ  اپنے بچوں کو تو بھوکا دیکھ سکتے ہیں۔ لیکن اللہ کریم کے محبوب بندوں سے مُنہ نہیں مُوڑ سکتے۔۔۔

یہ پہلا واقعہ تھا۔ جسے سُننے کے بعد میری ایک ایک نس میں گجروں کی محبت رچ بس گئی۔ اُور میں دِل سے اُنکا شیدائی ہُوگیا۔ ۔ اگرچہ اچھے بُرے لُوگ کہاں اُور کِس قُوم میں نہیں ہُوتے۔۔؟  لیکن مجموعی طُور پر مجھے گُجر برادری سے بُہت محبت ہے۔

رمضان البارک کی غالباً دوسری رات تھی۔ جب ایک چمکتے چہرے والے  خُوبرو نوجوان سے میری  پہلی مُلاقات ہُوئی۔ نام تھا محمد ارسلان گجر انتہائی تعلیم یافتہ ہُونے کیساتھ مجھے اُنکی جس عادت نے انکا گرویدہ بنادیا۔ وُہ تھا اُن کے  خُون میں شامل ادب اُور عشق کی روانی۔۔۔ اُور مجھے اُس نوجوان کی ایک اُور عادت بھی نہایت پسند آئی کہ چاہے سامنے کتنے ہی بڑے اسٹیٹس کا حامل افسر کھڑا ہُو۔ یہ حق بات کہنے میں ذرا نہیں جھجکتا۔ چاہے اس کے بعد اُسے اپنی بات کی جو بھی قیمت ادا کرنی پڑے۔ پھر انہی کے توسط سے مجھے معلوم ہُوا۔ کہ مجھے حق کی تلاش میں جس انسان نے سب سے ذیادہ مدد فراہم کی۔ میرے وُہ محسن شریف بھائی اِن کے ہُونے والے سُسر ہیں۔ یعنی جس شخص نے مجھے نابیناوٗں کی بستی سے آنکھ والوں کی جانب ہجرت میں مدد فراہم کی وُہ بھی ایک گجر تھے۔


پھر گجر قُوم کو کم عقل جھگڑالو اُور کم تعلیم یافتہ کہنے والوں کو اپنی بات کی دلیل میں مفتی منیب الرحمن دامت برکاتہم عالیہ کے پائے کا کوئی عِلمی انسان بھی سامنے لانا چاہیئے۔ کہ اُن جیسا اعلی تعلیم یافتہ معاملہ فہم  اُور نفیس گفتگو کرنے والا عالم میں نے زمانے میں کہیں نہیں دیکھا۔ اُور مفتی پاکستان منیب الرحمٰن بھی گجر ہیں۔ پھر پاکستان کا نام زُبان پر لینے سے قبل یہ سُوچ لینا چاہیئے کہ،، لفظِ پاکستان کے خالق چوہدری رحمت علی بھی گجر تھے۔ اُور صاحبِ سیف الملوک میاں محمد بخش  (کھڑی شریف والے) رحمتہ اللہ علیہ بھی گجر تھے۔

کشمیر کی آزادی کیلئے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والوں میں اکثریت گجروں کی ہے۔ اُور رُوس سے لیکر امریکہ تک کو خاک چٹانے والے افغانیوں میں اکثر  گجر ہیں۔ اُور ملک  پاکستان کی سرحدوں کی حفاظت کرنے والے ہاتھ بھی اکثر گجروں کے ہیں۔۔۔ یعنی اِن گجروں کے ہم پر اتنے احسانات ہیں کہ قرض چکانے کو ایک عمر درکار ہے۔

گجر چاہے دنیاوی تعلیم کے میدان میں پیچھے ہُوں۔۔۔ لیکن عشق و ادب میں دُور دُور تک کوئی اِنکا ثانی نظر نہیں آتا۔ اُور یہ وُہ دُولت ہے کہ،،جسکے سامنے تخت سکندری کی بھی کوئی  وقعت نہیں ہے۔۔۔۔ اسی لئے تو میں کہتا ہُوں ۔کہ،، کاش میں بھی اِک گجر ہُوتا۔



Friday, 1 March 2013

آپ فیس بُک پر کیوں آتے ہیں۔۔۔؟


آپ فیس بُک پر کیوں آتے ہیں۔۔۔؟

پاکستان سے لاکھوں نوجوانوں سمیت ہر ایک عُمر کے لوگ روزانہ فیس بُک پر لاگ اِن ہُوتے ہیں۔ اُور مزے کی بات یہ ہے کہ اِن سب کے آنے کی وجوہات مختلف ہُوتی ہیں۔ آج میں اسی موضوع پر اپنے قلم کو تحریک دے رَہا ہُوں۔ اگر میری اِس تحریر سے کسی ایک انسان کو بھی فائدہ پُہنچ گیا تو لکھنے کی محنت رائیگاں نہیں جائے گی۔ اب میں اُن اسباب کو قلمبند کروں گا۔ جو ممکنہ طور پر لوگوں کی فیس بُک پر آمد کا سبب بنتے ہیں

۱۔ نوجوان لڑکے لڑکیاں اپنے فرینڈز سرکل سے چیٹ کیلئے
۲۔بیرون مُلک گھر کے افراد سے بات کرنے کیلئے
۳۔ وقت گُزاری کیلئے۔
۴۔تصاویر دیکھنے اُور دِکھانے کیلئے۔
۵۔ اپنا جیون ساتھی چُننے کیلئے۔
۶۔ منگیتر یا محبوب کو دیکھنے  یا مُلاقات  و گفتگو کیلئے۔
۷۔شعر و شاعری لطائف  اُور معلومات حاصل کرنے کیلئے۔
۸۔ جنسی تسکین کیلئے۔
۹۔ اپنی رائے دوسروں تک پُہنچانے کیلئے۔
۱۰۔ لکھنے لکھانے کیلئے۔
۱۱۔دینی کام  اُور آگہی پھیلانے کیلئے۔
۱۲۔ دُوسروں کی خدمت کیلئے یعنی انسانی فلاحی کام  کیلئے ۔

اِن ۱۲ ۔اِقسام کے علاوہ بھی بے شُمار وجوہات ممکن ہیں۔ جنکی وجہ سے آپ فیس  پر لاگ اِن ہُوتے ہُوں۔ لیکن میں صرف اتنا پیغام دینا چاہتا ہُوں۔ کہ اگر آپ فیس بُک پر لاگ اِن ہُونے سے قبل آخر الذکر ۲ وجوہات کی نیت کرتے ہُوئے لاگ اِن ہُونگے تو آپ کا فیس بُک پر آنا  بھی بیکار نہیں جائے گا۔ بلکہ ثواب کا باعث بن جائے گا۔ اُور ممکن ہے کہ کل محشر میں آپکی یہی نیت آپکے کام آجائے۔۔۔ کیوں کہ 
موٗمن کی نیت اُسکے عمل سے بہتر ہُوتی ہے۔

اِس تحریر پر اپنی رائے ضرور دیں ۔ تاکہ علم و آگہی کا یہ سفر جاری رہے۔۔۔ شُکریہ