bing

Your SEO optimized title page contents

Pages

Hamara Tube Channel

Showing posts with label Religion. Show all posts
Showing posts with label Religion. Show all posts

Wednesday, 18 September 2013

حیا کی خوشبو




اور وہ کہ جب کوئی بے حیائی یا اپنی جانوں پر ظلم کریں اﷲ کو یاد کر کے اپنے گناہوں کی معافی چاہیں اور گناہ کون بخشے سوا اﷲ کے اور اپنے کئے پر جان بوجھ کر اَڑ نہ جائیں
(سورت آل عمران آیت ١٣٥)

تم فرماؤ میرے رب نے تو بے حیائیاں حرام فرمائی ہیں جو ان میں کھلی ہیں اور جو چھپی اور گناہ اور ناحق زیادتی اور یہ کہ اﷲ کا شریک کرو جس کی اس نے سند نہ اتاری اور یہ کہ اﷲ پر وہ بات کہو جس کا علم نہیں رکھتے
(سور ت الاعراف آیت ٣٣ )

یہ خِطاب مشرکین سے ہے جو بَرہنہ ہو کر خانۂ کعبہ کا طواف کرتے تھے اور اﷲ تعالیٰ کی حلال کی ہوئی پاک چیزوں کو حرام کر لیتے تھے، ان سے فرمایا جاتا ہے کہ اﷲ نے یہ چیزیں حرام نہیں کیں اور ان سے اپنے بندوں کو نہیں روکا، جن چیزوں کو اس نے حرام فرمایا وہ یہ ہیں جو اﷲ تعالٰی بیان فرماتا ہے ان میں سے بےحیائیاں ہیں جو کھلی ہوئی ہوں یا چھپی ہوئی، قولی ہوں یا فعلی ۔

تفسیر خزائن العرفان

عراق کے مشہور شہر بصرہ میں ایک بزرگ گزرے ہیں جنہیں لوگ حضرت مِسکی (رحمتہ اللہ علیہ) کے نام سے پکارا کرتے تھے مسکی عربی لفظ ہے جسکے لغوی معنی ہیں مُشک والا مشکبار یعنی مُشک کی خوشبو میں بسا ہوا اور آپکا نام مِسکی مشہور ہونے کی وجہ صرف یہی بیان کی جاتی ہے کہ آپ سے ہر وقت مشک کی خوشبو آیا کرتی تھی حتیٰ کہ آپ جس راستے سے گزر جاتے وہ راستہ بھی مہک جاتا آپ علیہ الرحمہ جب مسجد تشریف لے جاتے تو لوگوں کو خوشبو کی مہک سے ہی معلوم ہوجاتا کہ حضرت مِسکی علیہ الرحمہ تشریف لا چکے ہیں

ایک مرتبہ کسی نے دریافت کیا حضور آپکو خوشبو پر کثیر رقم خرچ کرنی پڑتی ہوگی آپ نے مُسکرا کر جواب دیا نہ ہی میں نے کبھی خوشبو خریدی اور نہ ہی کبھی لگائی ہے مجھ سے جو ہر وقت مُشک کی خوشبو آتی ہے یہ ایک عجیب و غریب واقعہ ہے مزید استفسار پر آپ نے یہ واقعہ سُنایا کہ میں بغداد شریف کے ایک خوشحال گھر میں پیدا ہوا اور میری بھی تعلیم و تربیت اُمرا کے بچوں کے ساتھ ہوئی میں نہایت خوبصورت اور باحیا تھا میری شرم وحیا کو دیکھ کر کسی نے میرے والد کو مشورہ دیا کہ اِسے بازار میں بِٹھاؤ تاکہ اسکی حیا کچھ کم ہو اور اس طرح یہ لوگوں کیساتھ گُھل مِل کے رہنا بھی سیکھ جائے گا چناچہ میرے والد نے مجھے ایک (بَزَار) کپڑے کے تاجر کی دُکان پر بِٹھا دیا ایک دِن ایک بُڑھیا نے کچھ قیمتی کپڑے نِکلوائے پھر بَزَار سے کہنے لگی

میرے ساتھ کسی کو بھیج دو تاکہ جو پسند ہوں اُنہیں لینے کے بعد قیمت اور بقیہ کپڑے واپس لے آئے چناچہ دکاندار نے مجھے بھیج دیا بڑھیا مجھے ایک عظیم الشان محل میں لے گئی اور مجھے ایک آراستہ کمرے میں بھیج دیا جہاں پر زیورات سے آراستہ خوش لباس جوان لڑکی تخت پر بیٹھی ہوئی تھی یہ کمرہ اتنا حسین اور سجا ہوا تھا کہ اس سے قبل میری آنکھوں نے نہ دیکھا تھا مجھے دیکھتے ہی اُس لڑکی پر شیطان غالب آگیا وہ میرے قریب آکر مجھ سے چھیڑ خانی کرنے لگی اور مجھے گناہ کی دعوت دینے لگی میں نے گھبرا کر کہا اللہ عزوجل سے ڈر۔ مگر شیطان اُس لڑکی پر پوری طرح مُسلط تھا وہ نہ مانی۔

جب میں نے اُسکی ضد دیکھی تو میرے دِل میں گناہ سے بچنے کی ایک تدبیر آئی اور میں نے اُس لڑکی سے کہا کہ مجھے استنجا کی حاجت محسوس ہورہی ہے اُس کی آواز پر بیشمار کنیزیں حاضرہو گئیں اُس نے کہا اپنے آقا کو بیت الخلا لے جاؤ۔ میں جب بیت الخلا پہنچا تو فرار کی کوئی راہ نہ ملی اور مجھے اُس عورت کے ساتھ بدکاری کرتے ہوئے اپنے رب عزوجل سے حیا آرہی تھی چُناچہ مجھے ایک ہی رستہ سمجھ آیا اور میں نے استنجا خانے کی غلاظت سے اپنے ہاتھ منہ اور جسم بھر لئے اور کنیزوں کو خود سے ڈرانے لگا اور دیوانوں کی طرح چیخنے چلانے لگا کنیزیں خوفزدہ ہو کر پاگل پاگل چِلانے لگیں تمام کنیزوں نے مِل کر مجھے ایک ٹاٹ میں لپیٹا اور مجھے ایک باغ میں پھینک دیا گیا جب مجھے یقین ہوگیا کہ سب جاچُکے ہیں تب میں اُٹھا اور اپنے جسم اور کپڑوں کو دھو کر پاک کیااور اپنے گھر خاموشی سے چلا گیا اور اِس بات کا کسی سے تذکرہ نہیں کیا اُسی رات میں نے خواب میں ایک بُزرگ کو خواب میں دیکھا اُنہوں نے مجھ سے پوچھا کیا تُم مجھے جانتے ہو؟ میں نے عرض کیا نہیں اُنہوں نے کہا ـ 
میں جبرایئل ( علیہ السلام ) ہوں اُسکے بعد اُنہوں نے میرے منہ اور جسم پر ہاتھ پھیرا اور اُس وقت سے میرے جسم سے مُشک کی بہترین خوشبو آنے لگی ۔ یہ سیدنا جبرایئل علیہ السلام کے دست مُبارک کی خوشبو ہے
حوالہ ۔روض الریاحین

یا رب عزوجل ہمیں بھی اپنے پیارے محبوب ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کی حیا دار چشمان کرم کے صدقے حیا کی دولت عطا فرما اور بے حیائی سے بچا - آمین بجاہِ نبی الامین وصلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم

Tuesday, 3 September 2013

جاسوسی ضروری کیوں



محترم قارئین کرام السلام و علیکم

ایک خوبصورت واقعہ جس میں ہمارے لئے رہنمائی کے گوہر آبدار موجود ہیں آپکی جانب نہایت اخلاص سے پیش کر رہا ہوں اگر کسی کے دل میں گھر کر گیا تو میری محنت وصول ہو جائیگی ویسے میرا اس بات پہ پختہ یقین ہس کہ اللہ عزوجل کسی کی محنت ضائع نہیں کرتا

ایک مرتبہ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے دور خلافت میں مدینہ طیبہ کا رات میں دورہ فرما رہے تھے کہ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے گوش مبارک نے ایک مکان سے کچھ نا پسندیدہ آوازیں سنیں اور آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بے اختیار اس مکان کے قریب پہنچ کر اس مکان کے ایک سوراخ سے اندر دیکھنے لگے تو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ملاحظہ فرمایا کہ کچھ لوگ اندر شراب پی کر غل غپاڑہ مچا رہے ہیں آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ دروازے سے ہٹ کر سوچنے لگے کہ انہیں کیا سزا دی جائے لیکن اس وقت آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کسی کشمکش کا شکار ہوگئے اور واپس آکر سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے گھر کا دروازہ کھٹکھٹایا حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے رات کے اس پہر امیرالمومنین کو دیکھا تو حیرت سے دریافت فرمایا یا امیرالمومنین خیریت تو ہے؛ حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا یا سیدی ایک معاملے میں آپکی رائے فوراً درکار ہے لہٰذا فوری طور پر میرے ساتھ چلیے چنانچہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ آپ کے ساتھ چل دئے وقوعہ کی جگہ پہنچ کر حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس سوراخ کی طرف اشارہ فرمایا کہ یہاں سے دیکھیے اب بےساختہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بھی ان شرابیوں کو اس حال میں ملاحظہ فرما لیا اس کے بعد یکدم پلٹے اور حضرت عمر فاروق سے استفسار فرمایا کہ یا امیرالمومنین آپ مجھے یہ ماجرا کیوں دکھانا چاہتے تھے حضرت عمر فاروق نے رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرمایا کہ میں آپ سے معلوم کرنا چاہتا ہوں کہ ان شرابیوں کی سزا کیا ہے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا آپ بہتر جانتے ہیں لیکن حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بے حد اسرار پہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعا لیٰ عنہ نے ارشاد فرمایا ( ان شرابیوں پر کوئی حد جاری نہیں ہوگی اور نہ ہی انہیں سزا دی جاسکے گی) اور دلیل کے طور پر قرآن مجید کی آیت (لا تجسسو۔۔۔۔۔۔) مفہوم۔ اور لوگوں کی ٹوہ میں مت رہو۔ پیش کی اور ارشاد فرمایا چوں کہ ان لوگوں کا عیب ہم نےازخود تلاش کیا ہے نہ کہ لوگوں کی شکایت پر اور قرآن مجید میں تو جاسوسی یعنی ٹوہ لگانے کی ممانعت آئی ہے جسے سن کرحضرت عمر فاروق رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے فرمایا بس یہی الجھن میرے ذہن میں بھی تھی اللہ عزوجل آپکو جزائے خیر عطا فرمائے اور پھر آپ دونوں حضرات واپس پلٹ آئے اللہ اللہ یہ تھے ہمارے اسلاف اور ان کا کردار کہ ایک غلطی جو سہواً سرزد ہو گئی اس پہ شرمندہ بھی ہوئے اور نہ صرف اپنی اصلاح فرمالی بلکہ قیامت تک کے مسلمانوں کی اصلاح کا سامان بھی پیدا کر دیا-

اور ایک ہم ہیں کہ ایک دوسرے کی ٹوہ میں نہ جانے اپنا کتنا قیمتی وقت ضائع کردیتے ہیں کہ کسی طرح سامنے والے کی کوئی کمزوری کوئی عیب ہاتھ لگ جائے تاکہ اسے رسوا اور بدنام کر سکیں اب یہاں ہم کئی طرح کے گناہوں میں مبتلا ہو جاتے ہیں

مثلاً نمبر (۱)جاسوسی یا ٹوہ لگانا جسکی ممانعت قران مجید میں موجود ہے

  لو گوں کو عیب بتانے سے غیبت سرزد ھوگی یہ بھی سخت گناہ (۲)

اور نمبر (۳) کسی کی دل آزاری جبکہ ہمارے پیارے آقا علیہ السلام نے ہمیں احترام مسلم کی سخت تاکید فرمائی ہے پھر کیا خیال ہے کیوں نہ آپ اور میں مل کر عہد کریں کہ نہ کسی کی جاسوسی کریں گے نہ کسی کے لئے برا سنیں گے اور نہ کسی کی خود غیبت کریں گے انشاﺀ اللہ عزوجل

اللہ عزوجل مجھ گنہگار سمیت ساری دنیا کے مسلمانوں کی اصلاح اور مغفرت فرمائے اور اس کالم میں مجھ سے نادانستہ کوئی غلطی سرزد ہوگئی ہو تو اسے اپنے محبوب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے طفیل معاف فرمائے آمین بجاہ النبی الامین

Thursday, 18 April 2013

طلبِ حُور میں ملکہ کو بُھلا کیوں بیٹھے۔۔۔؟



شیخ و زاہد کی تمنا بھی یہی ہے۔ کہ عبادت  کے عوض حُور جنت ہاتھ آجائے۔ تو ہر گنہگار و اَبرار بھی حُوروں کا طلبگار نظر آتا ہے۔۔۔ کیونکہ دُنیا کی عورت  کی جوانی ایک نہ ایک دِن ڈھل ہی جاتی ہے۔۔۔ اُسکا حسن مانند پڑ ہی جاتا ہے۔۔۔ اگر نہانے سے باز رہے۔ تو جسم بدبو دینے لگتا ہے۔ اگر سر کی صفائی نہ کرے تو بالوں میں جوئیں پیدا ہُوجاتی ہیں۔۔۔مرض حیض بھی اِسمیں موجود ہے۔۔۔ کھانے پینے کے بعد جسم سے غلاظت کا اخراج بھی ہُوتا ہے۔۔۔۔جبکہ حُوریں اِن تمام کثافتوں سے غلاظتوں سے پاک ہیں۔ حُوروں کے ذکر ہی سے بندے کی طبیعت میں اُن سے مُلاقات کی خاہش  انگڑائی لیکر جاگنے لگتی ہے۔۔۔ اِن کی طلب بعض مَردوں کو گناہوں سے رُوک کر نیکی کی جانب متوجہ کردیتی ہے۔ کہ،، حوریں،، صرف مومنین کیلئے ہیں۔۔۔۔ گنہگاروں کیلئے نہیں۔۔۔ جب تک کہ وُہ اپنے گناہُوں کی سزا نہ پالیں۔

قران مجید میں حوروں کا تذکرہ آتا ہے۔۔۔
ان میں عورتیں ہیں عادت کی نیک صورت کی اچھی ﴿۷۰﴾  تو اپنے رب کی کونسی نعمت جھٹلاؤ گے، ﴿۷۱﴾  حوریں ہیں خیموں میں پردہ نشین ﴿۷۲﴾  تو اپنے رب کی کونسی نعمت جھٹلاؤ گے، ﴿۷۳﴾  ان سے پہلے انہیں ہاتھ نہ لگایا کسی آدمی اور نہ کسی جِن نے، ﴿۷۴﴾  تو اپنے رب کی کونسی نعمت جھٹلاؤ گے ﴿۷۵﴾  تکیہ لگائے ہوئے سبز بچھونوں اور منقش خوبصورت چاندنیوں پر، ﴿۷۶﴾  تو اپنے رب کی کونسی نعمت جھٹلاؤ گے، ﴿۷۷﴾  بڑی برکت والا ہے تمہارے رب کا نام جو عظمت اور بزرگی والا، ﴿۷۸﴾ سورہ الرحمن۔

اور سورہ واقعہ میں اِرشاد ہُوتا ہے۔۔۔
اور بڑی آنکھ والیاں حوریں ﴿۲۲﴾  جیسے چھپے رکھے ہوئے موتی ﴿۲۳﴾  صلہ ان کے اعمال کا ﴿۲۴﴾  اس میں نہ سنیں گے نہ کوئی بیکار با ت نہ گنہگاری ﴿۲۵﴾  ہاں یہ کہنا ہوگا سلام سلام ﴿۲۶﴾  
 بیشک ہم نے ان عورتوں کو اچھی اٹھان اٹھایا  ﴿۳۵﴾  تو انہیں بنایا کنواریاں اپنے شوہر پر پیاریاں، ﴿۳۶﴾  انہیں پیار دلائیاں ایک عمر والیاں ﴿۳۷﴾  دہنی طرف والوں کے لیے، ﴿۳۸﴾

 جبکہ احادیث مبارکہ میں بھی حوروں کا کثرت سے ذکر آیا ہے۔ حصول برکت کیلئے ایک بخاری شریف کی حدیث کا حصہ پڑھیں۔
  اگر اہل جنت میں سے کوئی عورت (حُور) زمین کی طرف رخ کرے تو وہ تمام فضا کو جو آسمان اور زمین کے بیچ میں ہے روشن کردے گی، اور اس کو خوشبو سے بھردے گی، اور بے شک اس کا دوپٹہ جو اس کے سر پر ہے تمام دنیا و مافیہا سے اعلیٰ و افضل ہے۔ (صحیح بخاری باب جہاد و السیر)


جبکہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ  ارشاد فرماتے ہیں

ترجمہ:جنت میں ایک حور ہے جس کا نام لعبۃ ہے اگروہ اپنا لعاب دہن (کڑوے) سمندر میں ڈالدے توسمندر کا تمام پانی شیریں ہوجائے، اس کے سینے پریہ لکھا ہوا ہے: جوشخص یہ پسند کرتا ہے کہ اس کومیرے جیسی حور ملے تواس کوچاہئے کہ میرے پروردگار کی فرمانبرداری والے اعمال کرے۔

اسلاف رحم اللہ اجمعین کی کتب سے حوروں کے واقعات۔ 
حضرت عطاء سلمی رحمۃ اللہ علیہ نے حضرت مالک بن دینار رحمۃ اللہ علیہ سے فرمایا: اے ابویحییٰ ہمیں (نیک اعمال کرنے کا) اور جنت میں جانے کا شوق دلائیں؟ توانہوں نے فرمایا: اے عطاء! جنت میں ایک حور ہے۔ جس کے حسن پر جنتی مرتے ہوں گے اگراللہ تعالیٰ جنت والوں کے لیے زندہ رہنے کا فیصلہ نہ کردیتا۔ تووہ اس کے حسن کودیکھ کرہی مرجاتے۔ چنانچہ حضرت عطاء حضرت مالک کی اس بات کوسننے کے بعد چالیس سال تک رنجور اور غمگین رہے۔                    
  (حلیۃ ابونعیم:۶/۲۲۱۔ حادی الارواح:۳۰۵)

 حضرت ابوسلیمان دارانی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ عراق میں ایک نوجوان بہت عبادت گزار تھا وہ ایک مرتبہ ایک دوست کے ساتھ مکہ مکرمہ کے سفر پرنکلا، جب قافلہ کہیں پڑاؤ کرتا تھا تویہ نماز میں مصروف ہوجاتا تھا اور جب وہ کھانا کھاتے تھے تویہ روزہ دار ہوتا تھا۔ سفر میں جاتے آتے وقت تک اس کا وہ دوست خاموش رہا۔ جب اس سے جدا ہونے لگا تواس سے پوچھنے لگا ۔اے بھائی! مجھے یہ توبتاؤ میں نے جوتجھے اتنا ذیادہ عبادت میں مصروف دیکھا ہے۔ اس پرتمھیں کس بات نے برانگیختہ کررکھا ہے۔۔۔؟ اُس نے بتایا کہ،، میں نے نیند میں جنت کے محلات میں سے ایک محل دیکھا ہے۔ جس کی ایک اینٹ سونے کی تھی۔ اور  دوسری چاندی کی تھی۔ جب اس کی تعمیر مکمل ہوئی۔ تواس کا ایک کنگرا  زبرجد کا تھا تودوسرا یاقوت کا ان دونوں کے درمیان حورعین میں سے ایک حور کھڑی تھی۔ جس نے اپنے بالوں کوکھول رکھا تھا۔اس کے اوپر چاندی کا لباس تھا ۔جب وہ بل کھاتی تھی تواس لباس میں بھی بل پڑجاتے تھے۔ اس نے (مجھے مخاطب کرکے) کہا،، اے خواہش پرست!اللہ عزوجل کی طرف میری طلب میں کوشش کر۔۔۔ اللہ کی قسم! میں تیرے طلب میں روز بروز نئے نئے طریقوں سے زیب وزینت کیے جارہی ہوں۔۔۔ چنانچہ یہ محنت جوتم نے دیکھی ہے۔ اس حور کی طلب کے لیے ہے۔ حضرت ابوسلیمان دارانی رحمۃ اللہ علیہ نے (یہ حکایت بیان کرکے) فرمایا یہ اتنی ساری عبادت توایک حور کی طلب میں ہے۔ اب  اس شخص کی عبادت کی کیا حالت ہونی چاہئے جو اس سے زیادہ کا طلبگار ہو۔                    
    (صفۃ الجنۃ ابن ابی الدنیا:۳۵۴)

حور کی طلب میں کوئی ملامت نہیں
حضت سفیان ثوری رحمۃ اللہ علیہ کوان کے شاگردوں نے شدت خوف اور کثرت مجاہدہ میں دیکھا توعرض کیا: اے شیخ! اگرآپ اس مجاہدہ کوکچھ کم کریں گے توبھی اپنی مراد کوپہنچ جائیں گے، انشاء اللہ تعالیٰ، فرمایا کیونکر میں پوری کوشش نہ کروں میں نے سنا ہے کہ اہل جنت اپنی منزل میں ہوں گے کہ ان پرایک بہت بڑا نور ظاہر ہوگا اور اس کی رونق اور شدت روشنی کی وجہ سے آٹھوں جنتیں روشن ہوجائیں گی اور اہل جنت سمجھیں گے کہ یہ نور اللہ کی جانب سے ہے اور سجدہ میں گرپڑیں گے اس وقت ایک منادی آواز دے گا کہ اپنے سراٹھاؤ یہ وہ نور نہیں ہے جس کا تمھیں گمان ہوا، یہ ایک حور کے چہرہ سے نورچمکا ہے جواپنے خاوند کے سامنے مسکرائی ہے اور اس کے مسکرانے سے یہ نور ظاہر ہوا ہے۔
تواے بھائیو! جوشخص خوبصورت حور کے لیے مجاہدہ کرے اسے توملامت نہیں کی جاتی، وہ شخص جوخدا کا طالب ہے اس کے مجاہدہ پرکیا ملامت ہے؟

بُہت سے لُوگ دُنیا میں اِس طرح کے عہد وپیمان کرلیتے ہیں۔۔۔ کہ اگر ہم دُنیا میں نہیں  مِل سکے۔ اُور ہماری شادی کسی دوسرے انسان سے ہُوگئی ۔ تو ہم کم از کم جنت میں ضرور ایک دوسرے کے شریک بنیں گے۔۔۔ علماٗ کرام ایسے عہد و پیمان کو جائز قرار نہیں دیتے ۔۔۔ کیونکہ کنواری لڑکی تو جنت میں کسی شادی شُدہ انسان کو مِل سکتی ہے۔۔۔۔ لیکن جنت میں بیوی اپنے شوہر کے ساتھ ہی  رہے گی۔۔۔ اور جنت کی حوروں کی سردار ہوگی۔۔۔ البتہ یہ ممکن ہے ۔کہ،، کسی خاتون کے ایک سے زائد نِکاح ہُوئے ہُوں۔ تو اللہ کریم اپنے خاص فضل سے اُسے اُن شوھروں میں سے کسی ایک کو چننے کی اجازت عطا فرمادے۔ یا اُن دونوں میں جو ذیادہ متقی اور پرہیز گار ہُو۔ اُسکی خاہش کا لحاظ رکھا جائے۔ ویسے جنت میں رہنے والوں میں نہ سفلی خواہشات ہُونگی۔نہ حسد ہُوگا۔اُور نہ ہی رقابت کا جذبہ ہُوگا۔۔۔ جنت میں سب کی عمر اور قد یکساں ہوگا اور بدن نقائص سے پاک، شناخت حلیہ سے ہوگی، جن خواتین کے شوہر بھی جنتی ہوں گے وہ تو اپنے شوہروں کے ساتھ ہوں گی اور حورِ عین کی ملکہ ہوں گی اور جن خواتین کا یہاں عقد نہیں ہوا ان کا جنت میں کسی جنتی مَرد  سے عقد کردیا جائے گا۔بہرحال دنیا کی جنتی عورتوں کو جنت کی حوروں پر فوقیت ہوگی۔ 

چُنانچہ مدنی تاجدار ہم غریبوں کے غمخوار و مددگار   کریم آقاﷺ سے حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا  روایت  کرتی ہیں ۔ وہ فرماتی ہیں کہ"میں نے رسول اللہﷺ نے پوچھا، یارسول اللہ، دنیا کی عورتیں بہتر ہیں یا حوریں؟حضورﷺ نے جواب دیا، دنیا کی عورتوں کو حوروں پر وہی فضیلت حاصل ہے جو ابرے کو استر پر ہوتی ہے۔ میں نے پوچھا کس بنا پر؟ فرمایا اس لیے کہ ان عورتوں نے نمازیں پڑھی ہیں، روزے رکھےہیں اور عبادتیں کی ہیں۔"(طبرانی)۔ 

اِن تمام باتوں سے ایک مسئلہ تو خُوب واضح ہُوگیا۔کہ،، دُنیا کی مُومن عورت حُوروں سے بھی افضل ہُوگی۔۔۔ اُور دُنیا کی یہی  موٗمنہ عورت جسے دُنیا میں نقص بدن کیساتھ   دُنیا کی تمام غلاظتوں سے  جنت میں پاکی حاصل ہُوجائے گی۔ اُور دُنیا میں جتنے بھی نقص عورتوں میں پائے جاتے ہیں۔ اُن نقائص میں سے ایک بھی نقص عورت میں باقی نہیں بچے گا۔۔۔ اُور جنت میں اُسکا مرتبہ حوروں سے بھی افضل ہُوجائے گا۔۔۔ تو ہم کیوں اِن جیتی جاگتی حوروں کی قدر نہ کریں۔۔۔۔ جنہیں اللہ کریم نے اپنی خاص عطا سے بغیر نیک اعمال کئے بھی ہمیں انعام میں سُونپ دِیا ہے۔

لیکن شائد ہمیں اِن دُنیاوی حوروں کی اِسی لئے قدر نہیں ہے۔ کہ نہ ہمیں اِنہیں پانے کیلئے مشقت کرنی پڑتی ہے۔۔۔ اور نہ ہی تقویٰ ، و زُہد کی راہ اپنانی پڑتی ہے۔۔۔ بلکہ ہمیں  یہ تھوڑے سے حق مہر کے عوض آسانی سے حاصل ہُوجاتی ہیں۔۔۔۔ جسکی وجہ سے ہم اِنکی قدر نہیں کرپاتے۔ اِنکے احسانات کو جانچ نہیں پاتے۔۔۔کہ کسطرح صبح اُس وقت جب ہم بستر پر خواب غفلت  میں پڑے ہُوتے ہیں۔۔۔ وُہ کتنی خاموشی سے  نرم بستر کو چھوڑ کر اپنے بچوں کو اسکول بھیجنے کیلئے تیاری میں خاموشی سے  مگن ہُوجاتی ہے۔۔۔ کسطرح ہمارے جاگنے سے قبل  ناشتہ کا اہتمام کرتی ہے۔ اُور کسطرح  بکھرے ہُوئے گھر کی ایک ایک شئے کو  اپنے سلیقے سے ہنرمندی سے ایک نئی زندگی بخش دیتی ہے۔ اُور جب ہم مَرد  حضرات رزق کی تلاش میں  گھر سےباہر نِکل جاتے ہیں۔ تو کس طرح وُہ ہمارے شریر بچوں کی نگہداشت میں اپنی خوشیوں کو بالائے طاق رکھ کر اپنی  زندگی  کا ایک ایک لمحہ نثار کردیتی ہیں۔۔۔

مانا کہ،، جنت کی یا  اُس میں رہنے والی حور کی تحقیر سے کفر لازم آتا ہے۔۔۔ لیکن  کیا ہم جس طرح دُنیا  کی اِن حوروں کے چہروں پر طمانچے ، کردار پر کیچڑ، اُور کارکردگی پر سوالیہ نشان کھڑے کرتے ہیں۔۔۔ کبھی سر بازار اور کبھی بند کمروں میں اِنہیں اِیذا دیتے ہیں۔۔۔۔ کفر نہ سہی گناہ کا کوئی ادنی سا احساس بھی ہمارے ضمیر کے آئینے کو جھنجوڑنے کیلئے دِل کے کسی نہاں خانے میں ارتعاش کا باعث بنتا ہے۔۔۔۔۔؟؟؟ یا ہم اُنکی خواہشات کا گلا گھونٹ کر۔ اُور اُنکے جذبات کو پامال کرتے ہُوئے گُزر جاتے ہیں۔۔۔؟؟  کیا دُنیا کی اِن حوروں کو ایذا دینے والوں کو کبھی یہ خیال نہیں آتا کہ،، جب حوروں کی ملکہ کا ہی آبگینہ دِل زخموں سے تار تار ہُوگا۔۔۔۔ تو جنت کی حوریں تو اِن مومنہ حوروں کی تابع ہُونگی۔ وُہ کس طرح اپنی ملکہ کو ایذا دینے والوں کو خوشی کا ساماں دیں گی۔۔۔۔ کاش حوروں کی طلب میں رات دِن شمع کی طرح پگھلنے والوں کو یہی ایک نکتہ سمجھ آجائے۔۔۔

Monday, 18 February 2013

نابینا بِھکاری۔


میرا یہ کالم جواب ہے۔ اُس تحریر کا جو ایک عاشقِ رسول صلی اللہ علیہ کے قلم سے لکھی گئی۔ جی ہاں میری مُراد  قابل احترام وباعمل اُور علم دُوست انسان جناب محترم افتخار الحسن رضوی دامت برکاتہم عالیہ سے ہے۔ جنہوں نے مجھ جیسے حقیر و نابینا انسان کیلئے اپنے قلم کو جنبش دِی تو مروت  و محبت میں مجھ جیسے انسان کیلئے اپنی تحریر میں نجانے کیسے کیسے القابات  کا استعمال کرڈالا۔  اُنکا یہ کالم ہماری ویب ڈاٹ کام پر جب پبلش ہُوا تب میں بستر علالت پر پڑا تھا۔ مجھے کامران  عظیمی بھائی کے توسط سے اِس کالم کے متعلق مکمل آگاہی حاصل ہُوئی ۔ کالم نشر ہُونے کے دوسرے دِن کے اختتام تک  بھی ہمت نہیں تھی۔ کہ جواباً شکریہ کے دو الفاظ ہی لکھ سکوں۔ لیکن اب جونہی طبیعت میں کچھ اِفاقہ محسوس ہُوا۔ میں اُنکے شکریہ کیساتھ کچھ حقائق  اپنے قارئین کرام کی  خِدمت میں پیش کرنا چاہتا ہُوں۔

افتخار الحسن رضوی بھائی پہلے تو میں آپکو بُہت بُہت مبارکباد پیش کرنا چاہتا ہُوں۔ کہ آپ نے جس گہوارے میں اپنی آنکھ کھولی۔ وہاں علم کی روشنی پہلے سے ہی موجود تھی۔ لیکن شائد آپکو اِسکی قدر و قیمت کا اندازہ اِسلئے نہ ہُوسکا ہُو۔ کہ آپ نے ہمیشہ اپنے اِرد گرد بینا لوگوں کو دیکھ کر یہی سُوچا ہُو۔ کہ،، شائد دُنیا میں ہر بچہ آنکھ کی نعمت سے مالا مال ہی پیدا ہُوتا ہُوگا۔۔ اسلئے آپ کے چاروں طرف آنکھ والے بینا مرد و خواتین موجود ہیں۔

لیکن جناب والا میں آپکو بتانا چاہتا ہُوں کہ،، ساری دُنیا کے بچے آپکی طرح خوش نصیب نہیں ہُوتے۔ دُنیا میں لاکھوں بچے میری طرح نابینا بھی پیدا ہُوتے ہیں۔ اُور اُنکے گرد اگرد بھی نابینا لوگوں کی بھیڑ ہی جمع ہُوتی ہے۔ جِس کے سبب اُنکو یہ محسوس ہُوتا ہے ۔ کہ شائد ساری دُنیا کے لُوگ  ہی نابینا ہیں۔ اُور اس لئے جب اُنہیں کوئی بتاتا ہے ۔ کہ میں الحمدُ للہ بینا ہُوں۔ اُور مجھے سب کچھ دِکھائی دیتا ہے۔ تو نابینا لوگ اُس بینا انسان کا مذاق اُڑاتے نظر آتے ہیں۔ کیونکہ اُنکا خیال ہُوتا ہے۔ کہ دُنیا میں کوئی بھی انسان بینا نہیں ہُوسکتا۔ اگر ایسا ہُوتا تو اُنہیں دکھائی کیوں نہیں دیتا۔۔؟

جناب والا۔ یہی حال میرا اُور میرے خاندان کا بھی تھا۔ کیونکہ میں جس خاندان میں پیدا ہُوا۔ وہاں کوئی بھی بینا انسان موجود نہیں تھا۔ اُور اِس وجہ سے  سِوائے میرے دادا کے میرے  اکثرخاندان والوں کو ہر اُس انسان سے شدید نفرت تھی۔ جو خود کو  آنکھ والا کہے۔ کیونکہ اُنکا خیال تھا۔ کہ جب کوئی یہ کہتا ہے۔ کہ مجھے نظر  آتا ہے۔  تو اِسکا صرف ایک ہی مطلب ہُوتا ہے۔ کہ وُہ ہمیں نابینا سمجھ کر   گالی دینے کا مرتکب ہُورہا ہے۔ اُور کسی میں ہمت نہ تھی۔ کہ وُہ  اُس آنکھ والے سے کلام کرے۔ یا بینائی کی حقیقت سےمتعلق استفسار کرے۔

لیکن افتخار صاحب مجھے ایک بات کا قوی یقین ہے۔ اُور وُہ یہ کہ میرے پروردیگار کو مجھ سے محبت ہے۔۔۔۔۔ جی ہاں میں یہ بات بالکل ہُوش و حواس میں رِہ کر کہہ رہا ہُوں۔۔۔۔ اُور میں اِس بات کو ثابت بھی کرسکتا ہُوں۔۔۔۔۔ آپ یہ بات تو مانتے ہیں نہ کہ،، کوئی بھی جب کسی کو   کوئی خاص تحفہ یا اسپیشل انعام  دیتا ہے۔ تو اِس انعام و  تحفہ کے پیچھے محبت کا لطیف جذبہ ضرور کارفرما ہُوتا ہے۔ اُور جِس سے محبت اُور  لگاوٗ نہ ہُو۔ اُسے کسی خاص تحفے یا انعام سے نہیں نوازا جاتا۔۔۔۔ اگر آپ کو میری مثال سمجھ آگئی ہے۔ تو آپ بھی لازماً میری بات کی تائید کردیں گے۔۔۔

دیکھئے نا ! میں بھی نابینا تھا۔ اُور نابینا لوگوں کے درمیان نا صرف  پلا بڑھا تھا۔ بلکہ پیدا بھی ایسے نابینا خاندان میں ہُوا تھا۔ جہاں  بچے کو پیدا ہُوتے ہی  کان میں اِذان کی  صدا بعد میں سُنائی دیتی ہے۔ اُور آنکھ والوں سے دشمنی کی گھٹی پہلے پلائی جاتی ہے۔۔۔۔ ایسے گھٹن زدہ ماحول میں آنکھ کھولنے کے باوجود۔۔۔۔  خُدا کے سِوا ۔اُور کون ہستی ہُوسکتی ہے۔ جِس نے میرے قلب کو آنکھ والوں کی عدوات سے پاک رکھا۔۔۔۔۔ اُور یہ اللہ کریم کی محبت کے سِوا کیا  معاملہ ہُوسکتا ہے۔ کہ مجھے صرف آنکھ والوں کی نفرت سے ہی نہیں بچایا۔  بلکہ آنکھ والوں کی محبت سے میرے  بے نُور دِل کو  آگہی بخشتے ہُوئے  جگمگا ڈالا ۔

یقین کیجئے! مجھے نہ کبھی اِس بات پر فخر رہا ہے۔ کہ میں ایک صنعتکار باپ کا بیٹا ہُوں۔ اُور نہ ہی مجھے اپنے حسب نسب کی برتری کا خمار رہا ہے۔ اُور نہ ہی مجھے اِس بات پر  کبھی غرور ہُوا ۔ کہ اللہ کریم کی عطا سے ہزاروں لوگوں کو میرے ہاتھ سے بذریعہ روحانی علاج شفا حاصل ہُوئی ہے۔ کیونکہ بقول جاوید بھائی عطاری اللہ کریم جب کام لینا چاہتا ہے۔ تو کسی فاسق و فاجر سے بھی کام لے لیتا ہے۔ عامل کامل ہُونا میرے نذدیک کبھی بھی  اہمیت کا حامِل نہیں رہا۔ کیونکہ عامل ہُونا ہی خُدا کی رضا کا حامل ہُونا نہیں ہُوتا۔۔۔۔

میری آنکھوں  میں جب بھی تشکر کے آنسووٗں نے جگہ پائی ہے۔ تو یہی سُوچ کر سجدہ شکر بجالایا ہُوں۔۔۔ کہ اے پروردیگار تیری محبت کے قربان جاوٗں۔۔۔ کہ،،  تُونے مجھے اندھوں کی گلی سے نِکال کر آنکھ والوں کے آستانے کا فقیر بناڈالا۔ تیرے واضح فرمان کے باوجود بھی جو لوگ  تیرے آنکھ والے (اُولیائے کرام) کی  عظمت کے منکر ہیں۔ تونے مجھے اُنہی میں پیدا فرمانے کے باوجود ۔اپنی خاص محبت سے میرے دِل کو مُنافقوں کے منفی اثر سے محٖفوظ رکھا۔۔۔۔ اُور جب تونے چاہا کہ میرا مقدر سنور جائے ۔ تب تونے اپنے خاص فضل و کرم سے اپنے آنکھ والے (اُولیائے کرام) کے قُلوب کو میری جانب مائل فرمادیا۔۔ ۔ اُور مجھ عاصی و بدکار و بد اطوار کے دِل میں  اُن نفوسِ قُدسیہ کی محبت ڈال دی۔۔۔۔

اے میرے پروردیگار۔ تیری عطا سے میں ایک بات بخوبی جان چُکا ہُوں۔ کہ یہ دنیا کا کارخانہ اُور اسمیں کئی جانے والی مزدوری ہی سب کچھ نہیں ہے۔ کوئی اپنے طویل سجدوں کے باوجود بھی شیطان کے نقش پا کا اسیر بن جاتا ہے۔ اُور کوئی بِن مانگے بھی اپنا حصہ خُوب اس دُنیا سے حاصل کرلیتا ہے۔ جسکی وجہ سے مجھ پر یہ بات رُوزِ رُوشن کی طرح عیاں ہُوگئی ہے کہ،،  تُو انعام صرف مزدوری پر عطا نہیں فرماتا۔ بلکہ تیرا جس پر فضل ہُوجائے وہی کامیاب رِہتا ہے۔

اے میرے پرور دیگار میری جھولی خالی ہے۔ نہ   میں نے طرز بندگی سیکھا۔۔۔۔اُور  نہ ہی اپنا کام ایمانداری سے کرپایا۔ اگرچہ میں جانتا ہُوں ۔ کہ یہ دُنیا امتحان گاہ ہے۔ پھر بھی دُنیا کی محبت سے پیچھا نہیں چھوٹتا۔ تُونے تو احسان فرماتے ہُوئے ہمیں اِس کمرہ امتحان میں مختصر وقت کیلئے رکھا۔ تاکہ گناہوں کے انبار ہماری کمر نہ تُوڑ کر رکھ دیں۔ مگر مجھ کو اِس کمرہ امتحان کی رنگینی ایسے بھا گئی۔ کہ  اِس کے گورکھ دھندے سے دِل ہی نہیں بھرتا۔ اگرچہ میں  جانتا ہُوں کہ ،، بُلاوے کا وقت نذدیک ہے۔ لیکن پھر بھی مفت کھانے کی ایسی عادت پڑی ہے۔ کہ مزدوری کو جی نہیں چاہتا۔ نتیجتاً  ابھی تک خالی ہاتھ ہُوں۔ اگر پاس کچھ ہے۔۔۔ تو یہ یقین کہ،،  جسطرح تونے میرے عیبوں پر دُنیا میں پردہ قائم رکھا۔ اجر دیئے جانے کے دِن بھی پردہ فرمائے گا۔ اُور رُسوا نہیں ہُونے دیگا۔  اے میرے کریم رَبّ  مجھے اُجرت نہیں چاہیئے۔ کیوں کہ اجرت تو مزدوری کی ہُوتی ہے۔ اُور مزدوری میں نے کی نہیں۔ اسلئے مجھے تو صرف بھیک چاہیئے ۔

اُور سخی کبھی یہ پسند نہیں کرتا کہ کوئی بھکاری اُس کے در سے خالی  ہاتھ چلا جائے۔ اسلئے قوی یقین ہے کہ ،، تو مجھے بھی بھیک میں اپنے خاص لُطف و کرم سے مغفرت کی بھیک  اُور اپنے محبوب اعظم صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت نصیب فرمائے گا۔ جسطرح بھیک میں تونے مجھے آنکھ والے (اُولیائے کرام) رحم اللہ اجمعین کی محبت  و قربت عطا فرمادی۔ اُور دُنیا کے مختلف کونوں میں بسے اہل محبت کی محبتوں کا  اسیر بنا ڈالا ہے۔

آمین آمین آمین ! بجاہِ النبی الکریم وَ صلی اللہ تعالی علیہ وَآلہ وَ اصحابہ و ازواجہِ و اولیائے ملتہ اجمعین  یا ربنا یا ربنا یا ربنا  واغفرلنا یا الرحم الرحمین۔

Friday, 15 February 2013

اللہ کو خُدا کہنا جائز یا ناجائز۔؟ ضرور پڑھیئے اُور شئیر کیجئے




بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

محترم قارئین السلامُ علیکم ہو سکتا ہے کبھی آپ کیساتھ بھی ایسا کوئی واقعہ پیش آیا ہو۔ کہ،، آپ نے کسی کو خُدا حافظ کہا ہو یا آپ کوئی ایسا شعر گُنگُنا رہے ہُوں ۔جِس میں لفظ خُدا کا استعمال ہوا ہو۔ اُور کسی نے آپ کو پکڑ کر جھنجوڑ دیا ہو کہ بھائی کیا کرتے ہو۔ اللہ کو خُدا کہتے ہو ۔۔۔؟ حالانکہ خُدا تو فارسی کا لفظ ہے اور فارسی تو جناب آتش پرستوں کی بھی زُبان ہے۔ لہذا توبہ کرو ورنہ کہیں ایسا نہ ہو کہ تُمہارا خاتمہ بھی آتش پرستوں کیساتھ ہو! عوامُ الناس جب اِس طرح کی باتیں سُنتے ہیں تو سِہم سے جاتے ہیں۔ اور اپنے دِل میں کہتے ہونگے۔ کہ بھئی اپنا ایمان تو خطرے میں تھا۔ اللہ بھلا کرے  اُن صاحب کا جنکی بدولت آتش پرستوں کیساتھ خاتمہ ہونے سے بچ گئے۔

بے شک اللہ کہنا لکھنا ہی سب سے افضل ہے۔ کہ یہ اسم ذات ہے کوئی صفتی اسم اِلہی اسکا مُتبادل ہُو ہی نہیں سکتا۔ کیونکہ ہر صفتی نام میں کسی ایک مخصوص صفت کا ذکر ہوتا ہے لیکن اسم اللہ تمام صِفات کا مظہر ہے۔ یا یُوں سمجھ لیجئے کہ ہر صفتی اسم اِک خوشنما پھول ہے تو اسم اللہ تمام پھولوں کا حسین گُلدستہ ہے لیکن اس کا مطلب یہ ہر گز نہیں کہ اللہ کریم کو خُدا عزوجل کہنا منع ہے۔

میں نے جب اِس طرح کی کئی ایک پوسٹ کو نیٹ پر پڑھا تو مجھے تشویش لاحق ہوئی کہ اس تحریر کولکھنے کا مقصد چاہے جو بھی رہا ہو۔ لیکن ایک بات ضرور ہے کہ اس کالم میں علامہ اقبال علیہ الرحمہ سے لیکر شیخ سعدی علیہ الرحمہ تک اور بر صغیر کے ہزاروں علماء کی ذات کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔

لہذا سب سے پہلے دارالافتاء حیدرآباد فون کیا اور فتویٰ معلوم کیا
فون نمبر 0092222621563
اسکے بعد دارالافتاء کنزالایمان کراچی
فون نمبر 00922134855174
پھر دارالافتاء نورالعرفان کراچی
فون نمبر 00922132203640
دارالافتا ء احکام شریعت میرپورخاص
فون نمبر 00923313718010
اسکے بعد مفتی محمد یعقوب سعیدی صاحب سے گفتگو  کی ۔۔۔اُور سبھی سے ایک ہی سوال دریافت کیا کہ جناب آپ اس مسئلہ کے متعلق کہ کیا اللہ کریم کو خدا کہہ کر پکارنا  جائز ہے یا ناجائز اور مجھے ہر جگہہ سے ایک ہی جواب مِلا کہ بالکل جائز ہے۔ اور سبھی علماءَ نے کہا کہ علماء اُمت کا اس پر اجماع بھی ہے لیکن بعض شر پسند عناصر مسلمانوں میں منافرت پھیلانے کیلئے ایسا پروپیگنڈہ کرتے ہیں جو قابل مذمت ہے۔

اور علامہ غلام رسول سعیدی طبیعان القران جلد 3 صفحہ 361 پر بحث کرتے ہوئے رقمطراز ہیں جسکا خلاصہ پیش خدمت ہے
کہ ایسے نام سے اللہ کو پکارنا جو اُس کی شان کے زیبا نہ ہو منع ہے ۔جیسے اللہ کے ساتھ میاں کا اضافہ کے یہ لفظ میاں انسانوں کیلئے بھی استعمال ہوتا ہے۔  یا اللہ کیساتھ سائیں کا اضافہ کہ،، سائیں فقیر کو بھی کہتے ہیں۔ اِس لئے اس کا اطلاق ممنوع ہے۔ جبکہ ایسے الفاظ سے اللہ کو پُکارنا جو اُس کی شان کے مطابق ہیں جیسے فارسی میں خدا اور ترکی میں تنکری کہ ان کے معنیٰ میں ابہام نہیں  بالکل جائز ہیں۔

محترم قارئین کرام ۔ اَب آتے ہیں اُس حدیث کی جانب جس کو یار لوگ بڑی ڈھٹائی کیساتھ اپنے حق میں پیش کیا کرتےہیں
مفہوم،،
نبی کریم (صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس شخص نے کسی قوم کی مشابہت اختیار کی تو وہ اُنہی میں سے ہوگا قیامت میں اُس کے ساتھ حشر ہوگا۔ (سنن ابو داود)۔

سیدی اعلحضرت امام احمد رضا(علیہ الرحمہ) فتاوی رضویہ جلد۸ صفحہ 622 پر ارشاد فرماتے ہیں۔

بحرالرائق ودرمختار و ردالمحتار وغیرہا ملاحظہ ہوں کہ'' بد مذہبوں سےمشابہت اُسی اَمر میں ممنوع ہے جو فی نفسہ شرعاً مذموم یا اس قوم کا شعار خاص یا خود فاعل کو ان سے مشابہت پیدا کرنا مقصود ہو ورنہ زنہار وجہ ممانعت نہیں

سیدی اعلحضرت نے تشبہ پر سیر حاصل گفتگو فرمائی ہے جسے آپ جلد نمبر اکیس تا چوبیس میں دیکھ سکتے ہیں جس کا خلاصہ کچھ یوں ہے کہ جس فعل کو کفار مذہب کا حصہ سمجھ کر رسماً ادا کرتے ہوں مثلا سینے پر زنار باندھنا یا صلیب لٹکانا یا بغل وغیرہ کے بال بڑھانا ، مونچھوں کا بہت ذیادہ بڑھانا جِس سے کسی بد مذہب کی مُشابِہت پیدا ہو یہ مشابہت ممنوع اور حرام ہے یا یہ کہ کُفار سے مُحبت کی بنا پر اُنکی نقالی کرے۔ یا اُنکے مذہبی تہواروں میں شریک ہونا، نا کہ کسی زبان کے استعمال سے مشابہت لازم آئے گی۔

لیکن محترم قارئین اِن لوگوں نے ایک ایسے مسئلے کو اپنی جانب سے متنازع بنادیا۔۔۔ جو کہ مسئلہ تھا ہی نہیں اور جس پر تمام مسلمانوں کا اجماع بھی ہے

اعتراضات

اکثر دیکھنے میں آیا ہے کہ جب ایسے لوگوں کو سمجھانے کی کوشش کی جائے تو یہ کہتے ہیں کہ جب اللہ کو خُدا کہہ سکتے ہیں تو  رَام اور وشنو کہہ کر کیوں نہیں پُکارتے؟

جواباً عرض ہے کہ رام کے ایک معنیٰ،، نہایت فرماں بردار،، بھی ہیں اور وشنو کے معنٰی ہِندؤں کے ہاں چار ہاتھوں والا رب،، بھی ہیں اور یقیناً یہ دونوں معنٰی مسلمانوں کے عقائد کے خلاف ہیں۔
اب دیکھتے ہیں کہ خدا کے لغوی معنیٰ کیا ہیں تو خدا کے لغوی معنٰی وہی ہیں جو اللہ کی شان کے مطابق ہیں یعنٰی مالک ،آقا ،باکمال ،معبود ، اور ربّ ۔

دوسرا اعتراض یہ ہوتا ہے کہ عرب شریف میں نبی پاک (صلی اللہ علیہ وسلم) کے دور مُبارک سے لیکر آج تک اللہ عزوجل کو خُدا نہیں کہا جاتا ۔

جواب
تو بھائی عربی اسقدر وسیع زُبان ہے۔ کہ عربی کے چھ لاکھ الفاظ وہ ہیں جو آج متروک ہوچُکے ہیں صرف اِسی بات سے اِس زُبان کی وُسعت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے لہذا یہ کہنا کہ عرب شریف میں فارسی نہیں بولی جاتی تو بھائی اُنہیں کیا ضرورت ہے کہ  عربی جیسی وسیع زُبان کے ہوتے ہوئے۔ جہاں صرف ایک جانور کے عربی میں بیس تیس تک نام ہوتے ہیں وہ فارسی کا استعمال کریں۔ جبکہ اردو عربی کے مُقابلے میں ایک محدود الفاظ رکھنے والی زُبان ہے اور لفظ خُدا کو فارسی سے شعری ضرورت کے پیش نظر لیا گیا ہے ناکہ مجوسیوں کی اتباع کی خاطر لہذا دانشمندی کا تقاضہ ہے اپنی ضرورتوں کو سمجھا جائے۔

اعتراض(3) فارسی کا استعمال آتش پرست کرتے رہے ہیں فلہذا فارسی سے گُریز از بس ضروری ہے؟

جواب مودبانہ عرض ہے کہ نبی آخرُالزماں خَتَمُ المرسلین (صلی اللہُ علیہ وسلم) کی بِعثت سے قبل مشرکین عرب عربی زُبان کا استعمال کیا کرتے تھے تو کیا ہمارے کریم آقا علیہ السلام نے اس زُبان سے بیزاری کا اظہار کیا؟ جواب ہوگا قطعی نہیں کیا اللہ کریم نے ناپسند فرمایا؟ بالکل نہیں بلکہ اللہ کریم کا کلام اِسی زُبان میں نازل ہوا۔ معلوم ہُوا کہ کہ زُبان توصرف رابطہ کا ذریعہ ہے ۔ ناکہ مذہب کی پہچان!اور آپکو وہ کروڑوں مسلمان کیوں نظر نہیں آتے جو فارسی زُبان استعمال کرتے ہیں۔

اعتراض4 ۔اَصل میں لفظ خُدا فارسی زبان کا لفظ ہے آتش پرستوں کے دو ۲ الٰہ تھے اُن میں ایک کا نام خُدائے یزدان اور دوسرے کا نام خُدائے اہرمن تھا اردو میں معنی ہوگا کہ اچھائی کا خُدا اور بُرائی کا خُدا۔

جواب،، یہی عقیدہ تو مشرکین عرب کا بھی تھا اور وہ بھی اپنے بیشُمار معبودوں کو اِلٰہ کہتے تھے جسکا ذکر جا بَجا قران مجید فُرقان حمید میں موجود ہے حوالے کیلئے دو آیات سورہ الحجر اور سورہ النحل سے پیش کرنے کی سعادت حاصل کررہا ہوں

الَّذِیۡنَ یَجْعَلُوۡنَ مَعَ اللہِ اِلٰھًا اٰخَرَ ۚ فَسَوْفَ یَعْلَمُوۡنَ ﴿۹۶﴾ 
جو اللہ کے ساتھ دوسرا معبود ٹھہراتے ہیں تو اب جان جائیں گے (سورۃ الحجر آیت96)

وَقَالَ اللہُ لَا تَتَّخِذُوۡۤا اِلٰـہَیۡنِ اثْنَیۡنِ ۚ اِنَّمَا ہُوَ اِلٰہٌ وَّاحِدٌ ۚ فَاِیَّایَ فَارْہَبُوۡنِ ﴿۵۱﴾ 
اور اللہ نے فرمایا دُو خدا نہ ٹھہراؤ وہ تو ایک ہی معبود ہے تو مجھی سے ڈرو (سورہ النحل آئت51)

اب دیکھئے کہ مشرکین عرب بھی اپنے بیشمار خداؤں کو اِلٰہ کہتے تھے تو اللہ کریم نے لفظِ اِلٰہ کہنے پر پابندی نہیں لگائی۔ بلکہ اپنے محبوب (صلی اللہ علیہ وسلم) کے ذریعے یہ تعلیم دی ۔ کہ اِلٰہ صرف ایک ہے۔ اُور وہ اللہ کریم کی یکتا اور بےمثال ذات ہے۔ اسی طرح ہم یہ تو کہیں گے کہ آتش پرستوں کے دو خُدا کا عقیدہ باطل ہے لیکن خُدا کہنے پر پابندی نہیں لگا سکتے کہ اس کے معنٰی وہی ہیں جو اِلٰہ کے معنیٰ ہیں۔

اعتراض(5) کیا خُدا کہنے کی کوئی دلیل قُران سے ثابت ہے؟

جواب جی ہاں سورہ الاِسراء آیت نمبر 110 میں اللہ کریم ارشاد فرماتا ہے
قُلِ ادْعُوا اللہَ اَوِادْعُوا الرَّحْمٰنَ ؕ اَیًّا مَّا تَدْعُوۡا فَلَہُ الۡاَسْمَآءُ الْحُسۡنٰی 
تم فرماؤ اللّٰہ کہہ کر پکارو یا رحمن کہہ کر جو کہہ کر پکارو سب اسی کے اچھے نام ہیں

اللہ کریم نے اِس آیت میں اُنہیں مخاطب کرتے ہوئے اِرشاد فرمایا ہے جو اللہ کریم کے ناموں میں جھگڑتے ہیں کہ سب اچھے نام اللہ کے ہیں۔
بس ہمیں بچنا ہے تو ایسے ناموں سے جو مالک حقیقی کے شایانِ شان نہ ہوں۔  اب آئیے اس آیت مبارکہ کا پس منظر بھی دیکھتے ہیں

شانِ نُزول : حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے فرمایا ایک شب سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے طویل سجدہ کیا اور اپنے سجدہ میں یااللہ یا رحمٰن فرماتے رہے ابو جہل نے سنا تو کہنے لگا کہ (حضرت) محمّد مصطفٰی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمیں تو کئی معبودوں کے پوجنے سے منع کرتے ہیں اور اپنے آپ دو کو پکارتے ہیں اللہ کو اور رحمٰن کو (معاذ اللہ) اس کے جواب میں یہ آیت نازِل ہوئی اور بتایا گیا اللہ اور رحمٰن دو نام ایک ہی معبودِ برحق کے ہیں خواہ کسی نام سے پکارو ۔

یہاں ایک بات یہ بھی معلوم ہوئی کہ اللہ کریم کے اچھے ناموں پر تنقید کرنا ابوجہل کا طریقہ ہے ناکہ صالحین کا۔

اعتراض(6) یہ جو علمائے کرام اللہ عزوجل کو خُدا کہنے کی اجازت دیتے ہیں۔ یہ اِنکی اپنی ذاتی رائے ہوتی ہے یہ اِذن قُران و سُنت سے نہیں دیتے؟

جواب ،، یہ عُلماءِ حق پر سراسر بُہتان ہے کیونکہ کوئی بھی عالم مفتی یا مُحدث قُران اور سُنت کے منافی فتوٰی صادر نہیں کرتا ۔ بلکہ اِنکا ہر فتویٰ قران اور سُنت کی ہی روشنی میں ہوتا ہے ا،سی لئے اِنہیں وارثینِ انبیاٗ  کا لقب مِلا ہے۔ 

اب یا تو اِن لوگوں کو فارسی زبان سے بغض تھا۔ یا پھر اُردو سے کینہ تھا۔ یا علماء برصغیر سے بیزاری۔۔۔ جُو بِنا سمجھے کروڑوں مسلمانوں کو بمعہ علماء کرام آتش پرستوں سے مُشابہت کی نوید سُنا کر معاذ اللہ ثمَ معاذ اللہ جہنم کی نوید سُنا ڈالتے ہیں

محترم قارئین کرام ایک حدیث کا مفہوم ہے۔

حضرت ابو ھریرہ رضی اللہ عنہُ سے مروی ہیکہ رسولِ اقدس علیہ الصلواۃ والسلام کا فرمانِ عبرت نشان ہے
فرمایا کہ جس نے بغیر علم کے کوئی فتویٰ دیا تو اُس کا گُناہ فتوٰی دینے والے پر ہوگا اور جس نے جان بوجھ کر اپنے بھائی کو غلط مشورہ دیا تو اُس نے اُس کے ساتھ خیانت کی
(۔(سنن ابو داود کتاب العلم باب التوقی فی الفتیا، جلد نمبر 3 صفحہ 449

لیکن یہاں حال یہ ہے کہ ایک حدیث سُنی کتاب دیکھنے کی نوبت نہیں آتی جو یاد رہا۔ صرف اُسی کو اپنی جانب سے قولِ نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) بتا کر بیان کر دیا جاتا ہے یا کسی کے نظریہ سے مُتاثر ہو کر کروڑوں مسلمانوں کو کفر کے فتوٰی سے نواز دیا جاتا ہے۔ نعوذُ باللہ۔

اور اس طرح مسلمانوں میں انتشار کی کیفیت پیدا کردی جاتی ہے جو قابل مذمت عمل ہے
اللہ کریم ہم سب کے ایمان کی حفاظت فرمائے ۔ اور ایسے نیم عالم خطرہ ایمان سے بھی  ہم سب کومحفوظ رکھے۔
میں نے تمام حقائق آپ کے سامنے رکھ دئیے ہیں اور تمام علماء کی رائے بھی آپکے سامنے پیش کردی ہے۔ لِہذا یہ اب  آپکا اخلاقی اُور دینی  فرض ہے۔کہ،، ہر ایسے شخص سے ہوشیار رہیں جو مسلمانوں میں تفرقہ بازی کا باعث ہو۔

اللہ کریم اپنے مدنی محبوب ﷺ کے طُفیل تمام مسلمانوں کو ایسے نام نہاد مذہبی لوگوں کے شر سے ہمیشہ محٖفوظ رکھے جو ہمارے ایمان کیلئے ہمیشہ خطرہ بنے رہتے ہیں۔۔
آمین بجاہِ النبی الامین وصلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وبارک وسلم


Friday, 25 January 2013

پیغامِ جشن عید میلاد النبی ﷺ


        فصاحتِ عرب اُور بلاغت عرب نے اگر چہ دُنیا کو گوُنگا (عجمی) بنا کر حیران و پریشان کر رکھا تھا۔  اُور سُخنِ عرب کے آگے دُنیا بھرکے  شاعر و ادیب  اپنی اپنی گردنوں کو  جُھکا لیا کرتے تھے۔  حالانکہ  شام و فلسطین میں اُس وقت دُنیا کے سب سے بڑے دانشور ،منجم  اُور راہب موجود تھے۔ جو دُنیا بھر کے علمی تشگان کی نِگاہوں کا مِحور  بھی تھے۔لیکن بات جب بھی علم کی بُلندیوں کی آتی۔ یا شجاعت کے تذکرے بیان ہُوتے۔۔۔تو ۔۔۔ مجبوراً  یہ عِلم کے علمبردار یک زُباں ہُوکر ،، مردانِ عرب ،، کے گُن گاتے نظر  آتے تھے۔

لیکن تخیل کی معراج  اُور فکری بُلندی و نُدرتِ خیال کے باوجود یہی ،،مردانِ عرب،، شقاوتِ قلبی اُور بے حِسی کی دُوڑ میں بھی  برتری کے سبب  اقوام عالم میں اپنی انفرادیت کی وجہ سے ذلیل و خُوار بھی تھے۔ اقوامِ عالم میں جہاں اِنکی فصاحت و بلاغت کے نغمے بُلند تھے۔ وہیں۔ اِنہیں وِحشی۔ حیوان، اُور جلاد کے القاب سے بھی پُکارا جاتا تھا۔

اگرچہ تمام دُنیا میں ہی اُس وقت ،،نسوانیت ،،عزت نفس کیلئے بِلک بِلک کر تڑپتے ہُوئے کسی مسیحا کی منتظر تھی۔ لیکن  اہل عرب نے تو ایک قدم آگے بڑھ کر اِنکی اَفزائش کو بھی کنٹرول کرنا شروع کردیا تھا۔ بچیوں کی پیدائش کو اپنے لئے رُسوائی کا سبب سمجھنے والی یہ قُوم ۔ اب  دُنیا کو ایک نیا رستہ دِکھانے لگی تھی۔ چُنانچہ لڑکیوں کی پیدائش پر اُنہیں زِندہ درگور کیا جانے لگا تھا ۔ عورت کو صرف بستر کی زینت سمجھا جانے لگا تھا۔ باپ کے مرنے کے بعد وراثت کے حقدار صرف مرد تھے۔ اُور مرد بھی وُہ ۔جو۔طاقتور ہو۔ ورنہ کمزور کو اپنا حصہ وصول کرنے کا کوئی حق نہیں تھا۔

صاف پانی کے ایک جوہڑ کیلئے قتل و غارت گری کا نہ تھمنے والا سلسلہ شروع ہُوجاتا۔ غریب کو امیر کے پہلو میں بیٹھنے کا حق نہیں تھا۔ معمولی جھگڑوں کی وجہ سے خاندان کے خاندان صفحہ ہستی سے مِٹ جاتے۔ اشرافیہ کیلئے گُناہ عیب کی بات نہیں تھی۔ جبکہ قانون کا اِطلاق  صرف نادار پر ہُوتا۔  علاقائی معملات میں مشاورت بھی صرف اُمرا سے لی جاتی۔ مَزدُورں اُور غُربا کی عزت نفس کا خُوب مَذاق اُڑایا جاتا۔ جِس پر احتجاج کرنے والوں کو بے ادب و گُستاخ گردانا جاتا تھا۔ جسکے عوض بسا اُوقات اُنہیں اپنی عزت و آبرو یا جان سے بھی ہاتھ دُھونا پڑ جاتا۔

ایسے حالات میں جب  کہ،، انسانیت تڑپ تڑپ کر  زَلالت کی عمیق گھاٹی میں جاں بلب ہُوئی جارہی تھی۔۔۔۔ خُدا کی برتری کا تصور اگرچہ اِن مردانِ عرب میں موجود تھا۔ لیکن ایک خُدا کی پرستش انہیں گوارا نہیں تھا۔ شائد اِسی لئے اپنی ضرورت کیلئے اُنہوں نے بے شُمار خُداوٗں کے تصور کو ایجاد کرلیا تھا۔ اب ہر ایک ضرورت کیلئے ایک الگ خُدا کو پُکارا جانے لگا تھا۔

شرک کا بازار صبح  وشام گُمراہی کے گُماشتوں میں اِضافہ  کا سبب تھا۔ لُوگ توہم پرستی اُور بد عقیدگی کی دَلدل میں سر تا پاوٗں ڈُوب چکے تھے۔وُہ  ظُلمت کی شب طاری تھی۔ کہ جس میں اُجالا کوئی نہ تھا۔۔۔۔ تیرگی نے نا صرف فلک کی روشنی کو زمین پر اُترنے سے رُوک رَکھا تھا۔ بلکہ اِس تیرگی کے راج سےقلوبِ انسانی بھی  بیمار وُ  مُردہ   ہُوچُکےتھے۔

پھر خالقِ کائنات نے انسانوں پر رحم فرمایا اُور احسانِ عظیم فرماتے ہُوئے۔ اُنہیں اِس تیرگی سے نِکالنے کیلئے نور کا اہتمام فرمایا:

اُور بلاآخر اتنی ظُلمت و گمراہی کے بعد ۱۲ ربیع الاول کی ایک سحر نے زمانے کی تیرگی کا سینہ چاک کرتے ہُوئے تمام کائنات میں رنگ و نور کی بارش کردی۔  آج سردار مکہ کے بیٹے عبداللہ (رضی اللہُ عنہ) اُور آمنہ بی بی( سلامُ اللہ علیہا )کے گھر کائنات کے تاجدار کی ولادت ہُوگئی ہے۔ جِس کے سبب شیطان اپنے سر پر مٹی ڈالتا پھر رَہا ہے۔۔۔۔اُور آج اُسکے  شیطانی وفود جو  کل تک جوق در جوق آسمانِ فلک تک   آسمانی خبریں سُننے کیلئے بے دھڑک چلے جایا کرتے تھے۔ آج شہابِ ثاقب کے سبب اپنے جلے ہُوئے جسموں کیساتھ حیران و پریشان یہاں سے وہاں سراسیمگی کی حالت میں دوڑتے نظر آرہے ہیں۔ اُور اُنکی زُبان پر ایک ہی سوال ہے۔۔۔ کہ یہ کس کی آمد ہُوئی ہے۔۔۔؟؟؟ جسکی وجہ سے اُنکی آنکھوں کی بصارت زائل ہُونے لگی ہے۔ قُوتِ پرواز مدہم پڑگئی ہے۔۔۔ اُور فرشتے اُنہیں اپنے نورانی کُوڑوں کی مدد سے آسمان فلک تک آنے سے رُوک رہے ہیں۔۔۔؟؟؟

محبوب  خُدا (صلی اللہ علیہ وسلم )کی آمد نے صرف قبائل عرب کی زندگیوں پر ہی اثرات مرتب نہیں فرمائے تھے۔ بلکہ آپکی آمد کی برکت کا فیض رفتہ رفتہ تمام اقوام عالم کو مستفید فرمانے لگا۔ آپکی صداقت ،امانت، حُسنِ اِخلاق، ایثار، اُور  آپکی خُوبصورت گفتگو نے اِن جہلائے عرب کی زِندگیوں میں عجیب اِنقلاب برپا کردیا تھا۔وُہ اب ضرورت کیلئے خُدا تراشنے کے بجائے ایک واحد معبود کی رضا کی جستجو میں مستغرِق تھے۔


آپ کی دعوت کو قبول کرنے والے مردانِ عرب کی زندگیاں یکسر تبدئل ہُوچُکی تھیں۔  جِنہیں دیکھ دیکھ کر اقوامِ عالم بھی تجسس کے عَالم میں  اسلامی تعلیمات سے آگاہی کی خُواہشمند تھی۔ کیوں کہ تفرقوں میں بٹے ہُوئے عرب قبائل نا صرف ایک جسم کی مانند ہُوچُکے تھے۔  بلکہ اب وُہ ایک دوسرے کی تکلیف کو بھی محسوس کرنے لگے تھے۔ عورت کو پاوٗں کی جُوتی  اُور صرف بستر کی زینت سمجھنے والے اب   بنتِ حَوا کی عظمت تسلیم کرنے لگے تھے۔ بلکہ جنت کا رستہ(ماں کی صورت) اُسی عورت کے تلوئے سے تلاش کیا جانے لگا تھا۔ اُور بیٹی کو زِحمت کے بجائے رحمت کا لقب مِل چُکا تھا۔۔۔ بیوی کو دین میں مددگار سمجھا جانے لگا۔ اب جھگڑوں کے بجائے ایثار سے کام لیا جانے لگا تھا۔

غربا کی بات تو چھوڑیئے زرخرید غلاموں کو بھی نسب کے بجائے نسبت کی وجہ سے یا سیدی کہہ کر پُکارا جانے لگا تھا۔۔۔  رسولِ عربی صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات نے امیر و غریب کا فرق مِٹا دیا تھا۔ اب کسی عربی کو کسی عجمی پر فوقیت نہیں تھی۔ کِسی امیر کو کِسی غریب کی عزت اُچھالنے کی اِجازت نہیں تھی۔ کوئی سردار ہُونے کے باعث عزت دار نہیں تھا۔ اُور نہ ہی کوئی غریب ہُونے کی وجہ سے کمتر تھا۔ لوگوں میں بڑائی کا معیار  عِلم ،تقویٰ اُور پرہیزگاری کی وجہ سے تھا۔ کریم آقا علیہ السلام کی تعلیمات کے سبب باشندگان عرب کی زندگی میں جو انقلاب برپا ہُوا۔ اِس سے تمام عَالم ناصرف مُتاثر ہُورہا تھا۔بلکہ وُہ سب بھی اِس کے اثرات سے اپنا کھویا ہُوا وقار حاصل کرنے کے متمنی تھے۔ بس خطرہ تھا اِس نظام سے تو صرف اُن لوگوں کو تھا۔ جِنہوں نے بادشاہ بن کر اپنے وجودکو از خود  خُدا کے منصب پر فائز کررکھا تھا۔ اُور  مخلوقِ خدا سے اپنی نیاز مندی اُور پرستش کے خواہاں تھے۔

اُور یہ بھی میرے کریم آقا صلی اللہُ علیہ وسلم کی تعلیمات کا اعجاز ہے۔ کہ انبیائے سابقہ کی تعلیمات کو اُنکی اُمتیں بعد میں فراموش کردیا کرتی تھیں۔ جبکہ  رسول کریم صلی اللہُ علیہ وسلم کے ظاہری وِصال کے بعد بھی خلفائے راشدین نے آپ صلی اللہُ علیہ وسلم کی تعلیمات کو بڑی سے بڑی ترغیب پر بھی  ایک لمحے کیلئے نظر انداز نہیں کیا۔ چُنانچہ  سیدنا عمر فاروق رضی اللہُ عنہ کے زمانہ خلافت میں جِس وقت فتوح شام کیلئے مجاھدین کی اشد ضرورت تھی۔ اُور حبلہ بن ایہم غسانی قبیلے کے چالیس ہزار افراد کیساتھ دائرہ اسلام میں داخل ہُوتا ہے۔ اُور طوافِ کعبہ کے دُوران ایک غریب شخص کا پاوٗں اسکے احرام کی چادر پر پڑ جاتا ہے۔ جسکے سبب حبلہ بن ایہم کے کاندھے سے چادر کھسک جاتی ہے۔ اُور وُہ غصہ میں آکر اُس غریب کے چہرے پر تھپڑ مار کر اُسکے دانت تُوڑ دیتا ہے۔ اُور جب فریادی سیدنا عُمر رضی اللہُ عنہ سے فریاد کرتا ہے۔

تب آپ حکم صادر فرماتے ہیں کہ،، حبلہ یا تو اِس غریب سے معافی طلب کرو۔ اُور اسے راضی کرو۔ ورنہ قصاص میں خُود بھی تھپڑ کھانے کیلئے تیار ہُوجاوٗ۔ جسکے جواب میں حبلہ بن ایہم اپنی اہمیت کا تذکرہ کرتے ہُوئے کہتا ہے کہ،، میری وجہ سے چالیس ہزار لوگ مسلمان ہُوئے ہیں۔ لِہذا مجھے رعایت دی جائے۔ کیوں کہ میں غُسانی قبیلے کا سردار بھی ہُوں۔۔۔ لیکن قربان جایئے سیدنا عُمر فاروق رضی اللہُ عنہ کے ۔آپ جواب میں کہتے ہیں کہ،، میرے آقا علیہ السلام کی یہی تعلیمات ہیں۔ کہ امیر و غریب میں کوئی فرق نہیں۔ اسلام میں سب برابر ہیں۔ لہذا ہر دُو میں سے ایک سزا تو برداشت کرنی ہی پڑے گی۔۔۔ جسکی وجہ سے حبلہ بن ایہم رَاتوں رات بھاگ کر مُرتد ہُوجاتا ہے۔ لیکن سیدنا عُمر فاروق  قولِ مصطفٰی صلی اللہُ علیہ وسلم پر کوئی سمجھوتا کرنے کیلئے تیار نہیں ہُوتے ۔ اُور قیامت تک کے مسلمانوں کیلئے ایک مِثال قائم فرمادیتے ہیں۔ اُور بلاآخر یہ حبلہ سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے ہاتھوں واصلِ جہنم ہُوجاتا ہے۔

محترم قارئین کرام دِل پر ہاتھ رکھ کر کہیئے کہ،، پیارے مصطفٰے (صلی اللہُ علیہ وسلم) اُور خلفائے راشدین کی تعلیمات کی روشنی میں۔  کیایہی سبق موجود نہیں ہے۔  کہ،، ہر ایک مسلمان کی عزت دوسرے مسلمان پر فرض ہے۔۔۔؟ لیکن کیا ہم دوسرے مسلمانوں کی تکریم کرتے ہیں۔۔۔؟ اُور کریم آقا علیہ السلام نے تو ہمیں ٹولیوں اُور گروہوں سے نِکال کر ایک قُوم بنا دیا تھا۔ لیکن کیا ہم پھر سے بکھر بِکھر کر ٹولیوں کی صورت اختیار نہیں کرتے جارہے۔۔۔؟ کیا عید میلاد النبی کا دِن ہمیں یہ سبق نہیں دے رَہا۔ کہ خُدا عزوجل اُور میٹھے مُصطفٰے صلی اللہُ علیہ وسلم کے نام پر پھر سے ایک ہُوجاوٗ۔اُور  رَسُولِ  محترم صلی اللہ علیہ وسلم کے اختیارات مانپنے کے بجائے اُنکے نام پر نِثار ہُوجاوٗ۔ تاکہ کل حشر میں شرمندہ نہ ہُونا پڑے۔