bing

Your SEO optimized title page contents

Pages

Hamara Tube Channel

Thursday, 13 December 2012

تذکِرہ اِک پری کی مُحبت کا (حصہ پنجم)۔

عمران بابا وقاص سے ملکر جب اپنے گھر پُہنچا تو اُسکے چہرے پہ خوشی کے تاثرات اُسکی بیوی سے بھی چُھپے نہ رہ سکے عمران کو کھانا پروستے ہوئے کہنے لگی کیا بات ہے آج کل بڑے خوش نظر آرہے ہیں نہ کسی سے زیادہ بات کرتے ہیں نہ ہی مجھے پہلے جیسی اہمیت دِی جارہی ہے کیا بات ہے کہیں کوئی چکر تو نہیں چَل رہا؟

عمران نے بیگم کے لہجے میں چُھپے ہوئے طنز کو محسوس کرتے ہُوئے سوچا آج اِسے بھی بَتا دینا چاہیے کہ جس انسان کو وہ ایک عام سا مرد سمجھتی ہے اُسکے عشق میں کوئی عام لڑکی نہیں بلکہ ایک اعلٰی نسب کی پری گرفتار ہے ، عمران کچھ کہنا ہی چاہتا تھا کہ اُسے بابا وقاص کی بات یاد آگئی کہ اس معاملے کو ابھی کسی پر عیاں نہیں کرنا ہے ویسے بھی عمران کو یقین تھا کہ اُس کی بیگم اِس کی بات کا کبھی بھی اعتبار نہیں کرے گی بلکہ ہوسکتا ہے وہ سارے گھر میں اسکا مذاق بنا دے کیونکہ وہ اکثر عمران سے اپنا موازنہ کرتے ہوئے احساس برتری کے مرض میں مُبتلا ہوجاتی تھی اُسکا خیال تھا کہ عمران جیسے بندے سے کوئی لڑکی عشق تو کجا محبت کا اظہار بھی نہیں کرسکتی تھی کیونکہ عمران کے پاس پیسہ تو تھا لیکن اِتنا سادہ طبعیت کہ اُسے فرق ہی نہیں پڑتا کہ اُس نے جو کپڑے پہن رکھے ہیں وہ استری شُدہ ہیں یا سلوٹ زدہ ہیں اور اِسٹائل تو جیسے عمران کو کبھی چُھو کر بھی نہیں گُزرا بھلا ایسے مرد میں کون بے وقوف عورت انٹرسٹ لے سکتی ہے۔

عمران نے موقع کی نزاکت کے پیش نظر اس طنزیہ سوال کا مُبہم سا جواب دیتے ہوئے کہا یہ بات تو تُم مجھ سے بہتر جاتی ہو کہ میں کسی کے عشق کے قابل کہاں!

ہاں یہ بات تو ہے! مگر چچا غالب کا وہ شعر ہے نا ۔ بےوقوفوں کی کمی نہیں غالب ایک ڈھونڈو ہزار ملتے ہیں۔ بیگم نے بھی تُرکی بہ تُرکی جواب دیا ۔

عمران جانتا تھا کہ اِس گُفتگو کا انجام خطرناک ہونے والا تھا، لہٰذا جلد جلد لقمے مُنہ میں ڈالے اور ہاتھ مُنہ دھو کر لائٹ آف کی اور بستر پر دراز ہو کر آنکھیں موند لیں اور تصور میں اُس مہ جبیں شیریں کلام حسینہ کا جلوہ تلاش کرنے لگا جو ہمیشہ خُوابوں میں اُسکے ساتھ رہا کرتی تھی اِس ناکام کوشش میں کب عمران کو نیند آگئی پتہ ہی نہیں چلا ۔

عمران بڑی بے تابی سے دِنوں کے گُزرنے کا انتظار کر رہا تھا اللہ اللہ کرتے جب تیسرا دِن آیا تو عمران خلافِ معمول صبح سات بجے ہی بابا وقاص کے آستانے پر حاضر ہوگیا بابا وقاص کسی کتاب کا مُطالعہ کر رہے تھے عمران کو دیکھتے ہی مُسکرا کر کہنے لگے بیٹا لگتا ہے تُم رات بھر نہیں سوئے ہُو بھائی تھوڑا سا صبر مزید کرلو بس آج دوپہر تک تُمہاری مُلاقات اُس سے ہو جائے گی۔

عمران خجل سا ہو کر کہنے لگا نہیں بابا ایسی بات نہیں وہ تُو میں یہاں سے گُزر رہا تھا سوچا آپ کو سلام کرتے ہوئے جاؤں۔

اچھا بیٹا اب تُم اپنے کام پر جاؤ اور ظہر کے وقت مطلوبہ سامان کے ساتھ آجانا اور دوپہر کا کھانا بھی ہمارے ساتھ ہی کھانا عمران سلام کرتے ہوئے واپس پلٹ آیا آفس پہنچ کر کام تو خیر کیا کرتا گھڑی کا طواف نظروں سے کرتا رہا جونہی گھڑی نے دوپہر کے 12 بجنے کا اعلان کیا عمران نے موٹر بائیک نکالی اور بازار روانہ ہوگیا سب سے پہلے عمران نے مطلوبہ پرفیوم خریدا اُسکے بعد موتیا کا ایک گجرا بنوایا پھر ایک خیال کے تحت دو عدد موتیا کے کنگن بھی بنوا لئے یہاں سے فارغ ہونے کے بعد عمران شہر کی مشہور مٹھائی کی دُکان سے مٹھائی خرید کر بابا وقاص کے آستانے پُہنچ گیا جس وقت عمران بابا وقاص کے آستانے پر پُہنچا تو گھر سے لذیذ کھانوں کی مہک آرہی تھی بابا وقاص نے عمران کو دیکھتے ہوئے شُوخی سے کہا بس میاں ایک گھنٹہ اور باقی ہے تُم ظہر کی نماز پڑھ آؤ واپسی میں یا باسِطُ کا ورد کرتے ہوئے نظریں جھکائے واپس آجانا تب تک کھانا بھی تیار ہوجائے گا اور مہمان بھی آجائیں گے۔

عمران ظہر کی نماز سے سوا ایک بجے تک فارغ ہوگیا اُسکے بعد نجانے عمران کے دِماغ میں کیا سمائی کے بابا وقاص کے گھر سے دور راستہ پر ایک پُرانی کوٹھری بنی ہوئی تھی موٹر سایئکل اندر کھڑی کرنے کے بعد عمران بابا وقاص کے مکان کی جانب تکنے لگا عمران کا مقصد اگرچہ صرف اِتنا ہی تھا کہ وہ اُس مہ جبین کو ایک نظر مُلاقات سے قبل دیکھنا چاہتا تھا اور اُسکی راہ کا تعین کرنا چاہتا تھا ۔ تقریباً ایک گھنٹہ گُزر گیا مگر وہ نہ آئی عمران مجبوراً کوٹھری سے باہر آیا اور بابا وقاص کے گھر کی جانب چَل دَیا بابا وقاص کے آستانے پر پُہنچ کر جونہی عمران بابا وقاص کے سامنے آیا تو عمران کے پیروں تلے زمیں نکل گئی بابا وقاص غضبناک آنکھوں سے عمران کو گُھور رہے تھے۔

بابا وقاص گرجتے ہوئے لہجے میں عمران سے گُویا ہوئے کر آئے جاسوسی تُمہیں اگر جاسوسی ہی کرنی تھی تو کیوں بُلایا تھا اُسے۔ کِس پر شک کر رہے اُس پر یا مجھ پر، وہ روتی ہوئی چلی گئی ہے اب شائد کبھی نہ آئے لہٰذا تُم بھی اپنا سامان اُٹھاؤ اور یہاں سے چلے جاؤ اور آئندہ اپنی صورت مجھے پھر کبھی نہ دِکھانا۔

بابا وقاص اِسکے بعد ایک کمرے میں چلے گئے جبکہ عمران حیران و پریشان گُم سُم سا کھڑا تھا کہ کسی نے اُس کے شانے پر ہاتھ رکھ دیا۔

(جاری ہے)

تذکِرہ اِک پری کی مُحبت کا (حصہ چہارم)۔

محترم قارئین السلامُ علیکم 
مجھے معلوم ہے کافی احباب اس سلسلے کی تاخیر کی وجہ سے مجھ سے شاید خفا ہیں اور کچھ بدگُمان بھی ہوسکتے ہیں لیکن کیا کروں ایک تو رمضان المبارک کے بعد سے اِک طرف میری صحت لکھنے لکھانے کی متحمل نہ تھی کہ عارضہ جگر میں مُبتلا تھا اور بے شمار لوگ ملاقات کیلئے آجاتے ہیں جس سے صرف نظر نہیں کیا جاسکتا تو دوسری جانب کاٹن کا سیزن شروع ہونے کی وجہ سے فیکٹری میں کام کا اسقدر پریشر ہے کہ بالکل ہی لکھنے لکھانے کا سلسلہ موقوف سا ہو کر رہ گیا جس کیلئے آپ سب سے معذرت خواہ ہوں ویسے بھی میں کوئی رائٹر تو ہوں نہیں۔ بس ہماری ویب کی اس محفل سے ایسی اُنسیت سی ہوگئی ہے کہ چاہے لکھوں کچھ بھی نا اسے دیکھے بنا چین بھی نہیں آتا پس جسقدر صحت اجازت دے گی آپ کی خدمت میں حاضری دیتا رہوں گا 

اب سلسلہ کو وہیں سے شروع کرتے ہیں۔
عمران بابا وقاص کی گفتگو میں ایسا کھو گیا کہ بابا وقاص کے خاموش ہونے کے بعد بھی اِس سحر سے باہر نا آسکا جب بابا وقاص نے اُس کے شانے کو جھنجوڑا تو عمران کو ایسا محسوس ہُوا کہ جیسے کسی نے نیند سے جگا دِیا ہو۔ کیا ہُوا عمران میاں کہاں کھو گئے تھے؟ بابا وقاص نے سوال کیا تو عمران نے نہایت یاس کی کیفیت سے بابا کے قدموں کی جانب دیکھتے ہُوئے کہا بابا مجھے نہیں معلوم کہ کوئی پری مجھے کیوں چاہتی ہے نا ہی میں ایسا حسین ہوں کہ کوئی پری مجھ پر عاشق ہوجائے اور نہ ہی ایسی کوئی خواہش میرے دِل میں کبھی پیدا ہُوئی البتہ تمام بچوں کی طرح مجھے بھی اس مخلوق کی کہانیوں سے ہمیشہ دلچسپی رہی ہے لیکن ایسا تو کبھی سوچا بھی نہیں کہ کوئی پری میری ہوجائے چہ جائیکہ وہ مجھ پر عاشق ہوجائے البتہ جب سے آپ نے مجھے یہ بات بتائی ہے کہ وہ لڑکی جسے میں نہیں دیکھ پایا ایک پری تھی جسم میں ایک سنسنی سی محسوس کر رہا ہوں اور مجھے اُس لمحے پر افسوس ہورہا ہے کہ میں نے اُس وقت کیوں اُس سے آنکھیں چُرائیں کاش میں اُسے ایک نظر ہی دیکھ لیتا، یہ کہہ کر عمران بابا وقاص کی جانب دیکھنے لگا۔

بابا وقاص نے بڑے پیار سے عمران کے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے گفتگو کا سلسلہ شروع کیا عمران بیٹا تمہارے پہلے سوال کا جواب تو یہ ہے کہ عشق صرف حسین چہروں سے نہیں کیا جاتا بلکہ جنکے اخلاق اچھے ہوں جنکی عادات اچھی ہوں اُنکے عشق میں بھی لوگوں کے دِل گرفتار ہوجایا کرتے ہیں یہ تو میں بھی نہیں جانتا کہ تُمہاری کس بات پر وہ اپنا دِل ہار بیٹھی ہے۔ لیکن مجھے اتنا ضرور معلوم ہے کہ وہ تُمہاری خاطر کچھ بھی کرسکتی ہے کیونکہ وہ تُم سے واقعی سچا پیار کرتی ہے اور جہاں تک بات ہے اُس دِن کی محرومی کا تو تمہارے لئے خوشخبری یہ ہے وہ کوئی پہلی اور آخری مُلاقات نہیں تھی بلکہ اب یہ مُلاقات کا سلسلہ رُکنے والا نہیں۔ بیٹا انسانوں کی آنکھ میں ایک پردہ ایسا حائل ہوتا ہے کہ مخلوق اجنہ جسکے سبب نظر نہیں آتی لیکن تُم اب جب چاہو اِس مخلوق کو باآسانی دیکھ سکو گے لیکن ہمیشہ احتیاط کے دامن کو پکڑے رہنا اور کوشش کرنا کہ جس قدر ممکن ہو اُنکی آنکھوں میں جھانک کر گفتگو نا کرنا کہ فی الحال تُمہاری بینائی کے زائل ہونے کا اندیشہ ہے۔

بابا کیا آپ میری اُس پری سے مُلاقات کرواسکتے ہیںَ؟ عمران نے استعجاب کے عالم میں سوال کیا،

کیوں نہیں! بابا وقاص نے بڑے یقینی لہجے میں جواب دِیا لیکن اُس کے لئے تمہیں اب تین روز مزید انتظار کرنا ہوگا اور ملاقات سے قبل کچھ تیاری بھی کرنی ہوگی بابا وقاص کی اِس بات سے جیسے عمران کے بدن میں اِک خُوشی کی لہر بیدار ہوگئی بابا وقاص نے عمران کو ایک اسم اِلہی بتاتے ہوئے خاص تعداد میں روزانہ بِلا ناغہ پڑھنے کی تاکید کرتے ہوئے سورہ کوثر کو بھی ایک خاص تعداد میں پڑھنے کیلئے کہا اس کے علاوہ تیسرے دِن موتیا کے گجرے کیساتھ ایک خاص خوشبو نئے کپڑوں پر لگا کر آنے کی خاص تاکید کرتے ہوئے کافی معلوماتی باتیں بتائیں جو کہ بابا وقاص کے مطابق عمران کے علم میں ہونا ضروری تھیں عمران پر اِک سرشاری کی کیفیت طاری تھی اُسے یقین ہی نہیں آرہا تھا کہ تین دِن بعد اُسکی ایک پری سے ملاقات ہونے جارہی ہے جو اُس سے بے پناہ محبت بھی کرتی ہے اور نا صرف محبت کرتی ہے بلکہ خود بھی عمران سے مُلاقات کی مُتمنی ہے۔

اسکے بعد بابا وقاص نے تنبیہ لہجے میں عمران سے الوداعی مصافحہ کرتے ہوئے ایک بات اور سرگوشی کے انداز میں کہی کہ بیٹا کچھ بھی ہوجائے اِس ملاقات سے قبل کسی سے اِس بات کا تذکرہ بھول کر بھی نہیں کرنا کہ خدانخواستہ ظالم شکاریوں کو اِس کی بھنک لگ جائے اور وہ شکنجہ لگا کر بیٹھ جائیں اگر ایسا کچھ ہُوا تو نہ صرف تم تمام عمر پچھتاؤ گے بلکہ میرا ضمیر بھی ہمیشہ مجھے ملامت کرتا رہے گا کہ اس معاملے میں رازداری شرط اولین کی حیثیت رکھتی ہے بابا وقاص یہ کہتے ہوئے عمران کو الوداع کرنے کیلئے کھڑے ہوگئے مجبوراً عمران کو بھی کھڑا ہونا پڑا اگرچہ اُسکا من ابھی بابا وقاص سے مزید باتیں کرنے کو چاہ رہا تھا لیکن ادب کے پیش نظر عمران خاموشی سے جانے کیئے تیار ہوگیا بابا وقاص کے گھر سے نکل کر اپنے گھر جاتے ہوئے عمران کو ایسا محسوس ہورہا تھا جیسے وہ شاہراہ پر نہیں بلکہ فضاؤں میں اُڑ رہا ہو

(جاری ہے)

انشاءاللہ کوشش کروں گا کہ اب بِلا تاخیر یہ سللہ جلد از جلد اپنے انجام کو پُہنچ جائے
اپنی دُعاؤں میں ہمیشہ یاد رکھیئے گا والسلام مع الاکرام آپ سب کیلئے دُعا گو آپکا بھائی۔۔۔

تذکِرہ اِک پری کی مُحبت کا (حصہ سُوئم)۔

عمران نمازِ عِشاء سے فراغت کے بعد رات کے کھانے میں شریک ہُوگیا اور جب کھانے سے فارغ ہوکر اپنے کمرے میں پُہنچا تُو بَچّے سُو چُکے تھے عمران نے بستر پر دراز ہُوتے ہی بابا وقاص کی لکھی کتاب نکالی اور اُسے پڑھنا شروع کردیا پانچواں باب جناتوں کی انسانوں میں دلچسپی اور محبت سے مُتعلق تھا۔

چھٹا باب پریوں کی زندگی اُنکی ترجیحات اُنکی اقسام اُنکے رہن سہن اور اُنکی مشہور مُحبتوں کے افسانوں سے مُزیّن تھا جِس میں اِنکے قبائل کا بھی تفصیلی احوال پیش کیا گیا تھا تو دوسری جانب اِنکی انسانوں میں دلچسپی کی وجوہات کا بھی تذکرہ موجود تھا یہ کس طرح زمین کی سیر کرتی ہیں اور کسطرح دُنیائے زمین پر اپنے پَروں کو مخفی کر لیتی ہیں یہ مریخ اور پرستان سے آتے ہُوئے کسطرح وہاں کے کونسے جواہر لا کر یہاں کسطرح جوہریوں کو فروخت کرکے اُسکے عوض خریداری کرتی ہیں۔

کیا یہ اپنے مُحافظین کیساتھ سیر وتفریح کرتی ہیں یا تنہا سفر کرتیں ہیں۔ کیا پریوں کی انسانوں سے شادیوں کی کوئی اِمثال بھی دریافت ہوئیں ہیں، اگر انسان اور پریوں کے درمیان ازدواجی تعلقات قائم ہُوجائیں تو یہ بَچے اِنسان کہلائیں گے یا جنات؟

جبکہ ساتویں باب میں بابا وقاص کے اپنی زندگی کے تجربات درج کئے گئے تھے اس میں ایک واقعہ جو ایک پری اور بابا وقاص کے درمیان مکالمے کی صورت میں تھا عمران کے لئے نہایت دلچسپی کا باعث تھا اِس کِتاب میں قاری کے لئے ایسی دلچسپ معلومات تھیں کہ شائد کوئی بھی قاری اِسے ایک مرتبہ پڑھ کر آسودہ نہیں ہُوسکتا تھا، عمران کو یوں تو تمام کِتاب ہی اپنے سحر میں جکڑے رہی لیکن چَھٹے باب کو عمران نے کئی بار پڑھا یہاں تک کہ اُسے نیند آگئی۔

حسبِ معمول جب عمران بابا وقاص کے آستانے پر پُہنچا تو خَادم حُسین عُرف ( خادم میاں) نے اُسے بتایا کہ بابا وقاص شہر کِسی کام کے سلسلے میں گئے ہُوئے ہیں اور چونکہ کل بابا وقاص کراچی جارہے ہیں اِس لئے اُنہوں نے خاص تاکید کی ہے کہ عمران سے کہنا کہ آج رات مُلاقات کیلئے ضرور آئے عمران نے کِتاب خادم حُسین کے حوالے کی اور اُسے خاص حِفاظت کی خاص تاکید کرتے ہُوئے اپنے آفس کیلئے روانہ ہُوگیا۔

عمران کا یہ پُورا دِن بھی بے چینی کی حالت میں گُزرا سارا دِن نظر گھڑی کا طواف کرتی رہی اللہ اللہ کرتے بڑی مشکل سے شام ہُوئی تو عمران نماز مغرب پڑھ کر بابا وقاص کے آستانے کیلئے چَل پَڑا دِل میں عجیب عجیب سے خیالات تھے کہ بابا وقاص سے اب بھی نجانے مُلاقات ہُو بھی پائے گی یا اُسے دوبارہ خالی ہاتھ لوٹنا ہوگا، آخر ایسی کونسی بات ہے جِسکے لئے بابا اِتنے لیت و لعل سے کام لے رہے ہیں اور آخر اِس کتاب کا مجھ سے یا میری زندگی سے کیا ربط ہے کیا رشتہ ہے؟ سوالات کا ایک لامتناہی سلسلہ تھا جو تسلسُل سے عمران کے دِماغ مٰیں ہلچل بَپا کئے ہُوئے تھے۔

عمران جونہی وقاص بابا کے آستانے پر پُہنچا تو کُھلے دروازے سے بابا وقاص کو برآمدے میں بیٹھا دیکھ کر اُسکی سانس میں سانس سمائی بابا نے اندر آنے کا اِشارہ کیا تو عمران نے برآمدے میں پُہنچ کر بابا وقاص کی دست بُوسی کی اور بابا وقاص کے سامنے ادب سے زانوئے تِلمذ ہوگیا، بابا وقاص نے عمران سے کِتاب پر تبصرہ کی خُواہش کا اِظہار کیا۔ جواباً عمران نے بابا وقاص سے عرض کیا بابا میری تمام زندگی کی معلومات آپ کی قُومِ اَجِنّہ پر لکھی گئی اِس نایاب کِتاب کے پانچ صفحات کے برابر بھی نہیں ہے۔ میں نے اپنی زندگی میں ایسی کِتاب پڑھی تُو کُجا دیکھی بھی نہیں مجھے لگتا ہے کہ اِس کتاب کو ضرور پبلش ہونا چاہیے میری تو یہی خُواہش ہے کہ آپ اپنے فیصلے پر ایک مرتبہ ضرور نظر ثانی فرمائیں۔

اچھا تُم اِتنا اصرار کر رہے تو میں اس پر سوچوں گا لیکن عمران تُم نے میرے اِس سوال کا جواب نہیں دِیا کہ تُم اپنے خاندان والوں سے اِتنے مُختلف کیسے ہُوگئے؟ عمران کی خاموشی پر بابا وقاص نے عمران سے دوسرا سوال پوچھا اچھا یہ بتاؤ خُواب دیکھتے ہُو عمران نے بتایا کہ وہ اکثر ایک شہزادی کو اپنے خُوابوں میں دیکھتا ہے جو آتی ہے اور مجھے ہمیشہ ایک ایسی جھیل پر اپنے ساتھ لے جاتی ہے جو ایک سربفلک پہاڑ پر واقع ہے جِس پر برف کی تِہہ جمی ہے یہ خُواب میں نے اپنی زندگی میں متعدد بار دیکھا ہے اور اب تو خُواب میں بھی مجھے ہندی فلم فارمولے کی طرح پہلے ہی سے معلوم ہُوتا ہے کہ آئندہ میرے ساتھ کیا ہُونے والا ہے!

تو کیا تُمہیں بھی واقعی ایسا ہی لگتا ہے کہ تُم ہمیشُہ خُواب ہی دیکھتے ہُو؟ بابا وقاص نے اگلا سوال داغ دِیا۔

سُوتے میں جو دیکھا جائے اُسے سب خُواب ہی کہتے ہیں عمران نے جواب دیتے ہُوئے کہا،

ایسا تُمہارا خیال ہے کیونکہ رات کو سُوتے ہُوئے تُم جِس بِستر پر ہُوتے ہُو صبح اُس ہی بستر پر آنکھ کھولتے ہُو، خیر چُھوڑو اِس بحث کو رات جو کِتاب میں نے تمہیں پڑھنے کیلئے دی تھی اِسکا ایک خاص پس منظر تھا۔ عام طور پر جب لوگ جنات کا ذکر سُنتے ہیں تو خُوف زدہ ہُوجاتے ہیں حالانکہ جِس قدر انسان جِنات سے خائف رہتے ہیں اُس سے کہیں زیادہ عام جِنات اِنسانوں سے ڈرتے ہیں لیکن جب اُنہیں معلوم ہُوجاتا ہے کہ یہ حضرت اِنسان خُود اِن سے خُوفزدہ ہیں تو بعض جِنات اِسکا لطف اُٹھانے لگتے ہیں اور اِنسانوں کے ذہنوں پر ایسے حاوی ہُوجاتے ہیں کہ پھر تمام عُمر اِسی خُوف کے سائے میں زندگی گُزار دیتے ہیں لیکن عمران یہ تمام مخلوق اِتنے خونخوار ہر گز نہیں ہُوتے جس قدر اِسکا چرچا کیا جاتا ہے اِنکے بھی اِحساسات ہُوتے ہیں یہ بھی مُحبت کرنا جانتے ہیں جبکہ اِنکی مُحبت کو سمجھا جائے اِنکے ساتھ مُحبت کیساتھ پیش آیا جائے اِنکی عزت نفس کا خیال کیا جائے ایک ذرا سی غلط فہمی دونوں فریقین کے درمیان دیوار حائل کئے رکھتی ہے۔ جبکہ میں چاہتا ہُوں کہ تُمہارے من سے اس خوف کو نِکال سکوں اور میری اِس آرزو میں کِسی کی التجا بھی شامل ہے، کیا تمہیں یاد ہے وہ پہلا دِن جب تُم پہلی مرتبہ میرے گھر آئے تھے اُس دِن ایک لڑکی بھی تمہارے آنے کے بعد میرے پاس آئی تھی۔

عمران بھلا کِس طرح اُس نازنین کو بھول سکتا تھا کہ جِس کے بدن کی خوشبو آج بھی عمران کے مسام دِماغ کو معطر کئے ہُوئے تھی، عمران نے نظریں جھکاتے ہُوئے عرض کیا حضور کوئی خاتون آئیں ضرور تھیں لیکن میں اُنہیں دیکھ نہیں پایا تھا میری حیا مانع رہی جسکی وجہ سے میں اُسے دیکھ نہیں پایا اور اُنکی رویت سے محروم رہ گیا۔

عمران کی بات خَتم ہُوتے ہی بابا وقاص نے زور دار قہقہہ لگاتے ہُوئے کہا، یہ بھی خُوب کہی کہ دیدار سے محروم رِہ گئے ساری زندگی جسکے ساتھ سپنوں میں سیر کرتے رہے اور جب وہ حقیقت بن کر سامنے آئی تو دیکھنے سے محروم رِہ گئے بھئی بُہت خُوب لطیفہ سُنایا عمران میاں آپ نے مُجھے، عمران ہَونقُوں کی طرح بابا وقاص کو دیکھ رہا تھا اور بابا وقاص کی بات کو سمجھنے کی کوشش کررہا تھا ۔ تو کیا یہ وہی لڑکی تھی جو میرے خوابوں میں شہزادی بن کر آتی رہی ہے عمران نے بابا وقاص سے سوال کیا؟

ہاں وہ وہی تھی جو پندرہ برس کی عُمر سے تُمہارے خوابوں میں آتی ہے بابا وقاص نے جواب دیتے ہُوئے کہا۔ لیکن تُم اب بھی نہیں جانتے کہ وہ کون ہے ایک زمانہ اُسکا دیوانہ ہے بڑے بڑے عامِل اُسکو پانے کی خُواہش اپنے دِل میں لئے اُسکی ایک جھلک پانے کیلئے دیوانے ہُورہے ہیں اور اِک تُم ہو جو اُسکی مُحبت سے بے خبر ہُو وَہی تو ہے جو تُمہارے اندر ایک آتش جلائے رکھتی آئی ہے جو تُمہارے بَچپن کی اِک ادا پر اپنا دِل ہارے تُم پہ فِدا ہے اُسی نے مجھ سے درخواست کی تھی کی میں تُمہارے درمیان رابطہ کی کڑی بَنُوں اور وہی تھی جو تُمہیں تُمہاری مرضی کیخلاف میرے گھر تک لائی تھی جِس نے تُمہارے لئے اپنے خاندان سے بَغاوت کی ہے جُو ہزاروں پابندیوں اور پہروں کو تُمہاری چاہ میں کِسی خَاطر میں نہیں لاتی۔ 

لیکن آخر وہ ہے کُون؟ مجھے کیوں چاہتی ہے میرے سامنے کیوں نہیں آتی؟ اور اُس پر کس نے پہرے لگائے ہیں اور آخر کیوں لگائے ہیں؟ عمران نے ایک ہی سانس میں کئی سوالات کر ڈالے۔

بابا وقاص چند لمحے خاموش رہے گویا عمران کی بے چینی اُسکے تجسس سے لُطف اندوز ہُورہے ہُوں جب عمران کا ضبط ٹوٹنے لگا تو بابا وقاص گویا ہُوئے بیٹا اُس پر پہرے اُسکے والدین نے لگائے ہیں، رہا یہ سوال کہ وہ تُمہیں کیوں چاہتی ہے تو بیٹا مُحبت ایسا لطیف جذبہ ہے کب کِس کے دِل میں گھر بنا لے خبر نہیں ہُوتی اور جب یہ جذبہ قلب میں اپنی ماہیت کو پالیتا ہے تو دُنیا کی کوئی طاقت اِس کی بہار کو خِزاں میں تبدیل نہیں کرسکتی دُنیا کو کوئی ظلم اِسکو پَھلنے پُھولنے سے نہیں روک سکتا۔

اور بیٹا وہ کوئی عام لڑکی نہیں ہے نا ہی کوئی عام سی شہزادی ہے نا ہی تُمہارے وطن سے تعلق رکھتی ہے بلکہ وہ اِک پری ہے جو قبیلہ ایمن کے ایک معزز سردار کی لخت جِگر ہے، نُور نظر ہے جِس کا حُسن بیمِثال ہے جِسکا خاندان ذیشان ہے جِسکا قبیلہ ممتاز ہے۔
(جاری ہے)

مُحترم قارئین میری کوشش ہوگی کہ یہ سچی کہانی رمضان المبارک کی آمد سے قبل ختم ہُوجائے جسکی وجہ سے میں نے اِس کہانی میں کافی اِختصار سے کام لیا ہے اگر رمضان المبارک سے قبل اِس کے اِختتام میں ناکام رہا تو اِس کا بقیہ حصہ عید کے بعد پیش کروں گا تاکہ رمضانُ المبارک میں آپ یکسوئی کیساتھ عبادت کی سعادت حاصل کر سکیں۔

تذکِرہ اِک پری کی مُحبت کا (حصہ دوئم)۔


محترم قارئین السلامُ علیکم
عمران، بابا وقاص سے مل کر جب اپنے آفس پُہنچا تو تمام دِن اِسی اُدھیڑ بَن میں سوچتے ہُوئے گُُزر گیا کہ آج کا دِن کس قدر عجیب و غریب واقعات کو خُود میں سَموئے ہُوئے تھا عمران ایک سِرا تھامتا تو دوسرا سِرا ہاتھ سے نکل جاتا کب دن ڈھلا اور کب شام کے سائے گہرے ہوگئے کچھ خبر ہی نہ ہوئی لیکن عمران ایک فیصلے پر پُہنچ چُکا تھا کہ اب وہ کِسی صورت اُس راستے سے نہیں گُزرے گا جس راستے پر بابا وقاص کا گھر موجود تھا۔

مغرب کی نَماز سے قبل عمران واک کرتا ہُوا ایک دوسرے راستے سے اپنی منزل کی جانب گامزن تھا مگر جُوں جُوں عمران اپنے گھر کے نزدیک تر ہوتا چلا جارہا تھا۔ یوں محسوس ہُورہا تھا جیسے قدم من بھر کے ہوگئے ہُوں ہر قدم پر سینے پر وزن بڑھ رہا تھا جب عمران کی منزل صرف چند مزید قدموں کی دوری پر تھی تبھی عمران کے دِل میں ایک عجیب سے خیال نے جگہ بنانی شروع کردی کہ کہیں جو کچھ عمران نے آج دیکھا تھا کہیں وہ ایک خُوشنما سَپنا تو نہیں تھا کیونکہ اِس راہ سے عمران ہَزاروں مرتبہ اِس راہ سے گُزرا تھا لیکن کبھی بابا وقاص سے اِس راستے پر آمنا سامنا نہیں ہُوا تھا یقیناً یہ کوئی خُواب تھا کوئی سَراب تھا جسکا حقیقت سے کوئی دور کا بھی واسطہ نہیں ہُوسکتا۔ یہ خیال اتنی سرعت اور یقین سے عمران کے سینے میں موجود دِل کے راستے دِماغ میں جگہ بنانے لگا تھا کہ عمران کے قدم گھر جانے کے بجائے بابا وقاص کے گھر کی جانب خُود بَخُود اُٹھنے لگے تھے۔

اِس نئے تجسس نے عمران سے سوچنے سمجھنے کی تمام صلاحتیں جیسے چھین لی تھیں اور جب عمران بابا وقاص کے گھر کے نزدیک پُہنچا تو ایک ہجوم کو بابا وقاص کے گھر میں داخل ہوتے دیکھا عمران کو بھی تجسس ہُوا کہ دیکھوں آخر اس قدر لوگ بابا وقاص کے گھر میں آخر کرنے کیا جارہے ہیں عمران بھی اُن لوگوں کے پیچھے پیچھے بابا وقاص کے گھر میں داخل ہوگیا وہ لوگ اندر بِچھی دَریوں پر بیٹھ رہے تھے جبکہ کُچھ لوگ پہلے ہی سے اُن دَریوں پر بیٹھے ہُوئے تھے اور بابا وقاص سفید رنگ کے لِباس میں ملبوس مصلے پر مغرب کی نماز ادا کر رہے تھے۔ چہرے پر موجود سفید داڑھی بھی اُنکی نورانیت میں مزید اِضافہ کئے دے رہی تھی ۔ تب عمران کو خیال آیا کہ اُس نے تُو ابھی تک نماز مغرب ادا ہی نہیں کی لہٰذا فوراً بابا وقاص کے پیچھے زمین پر بِچھی چَٹائی پر لوگوں کیساتھ نماز مغرب ادا کرنے میں مشغول ہوگیا عِمران نماز سے فراغت کے بعد لوگوں کے پیچھے آکر بیٹھ گیا جب کہ بابا وقاص کچھ وظائف پڑھنے میں مشغول رہے وظائف سے فارغ ہونے کے بعد بابا وقاص نے چہرہ لوگوں کی جانب گُھما کر سب کو سلام کیا اور لوگ بابا کے ہاتھ پر بوسہ دینے لگے بابا وقاص کے چہرے پر اِس وقت ایک عجیب سی آب و تاب تھی جو دِل کو اپنی جانب کھینچ رہی تھی۔

عمران جب بابا وقاص کے ہاتھ پر بوسہ دینے کیلئے بڑھا تو بابا وقاص نے عمران کو کھینچ کر اپنے برابر بِٹھا لیا عمران ایک عجیب سا کیف بابا وقاص کیساتھ بیٹھنے میں محسوس کر رہا تھا آہستہ آہستہ لوگ اپنے مسائل بابا وقاص کو بتانے لگے جبکہ بابا وقاص اُن لوگوں کو کُچھ پڑھنے کیلئے بتا دیتے اور کسی پر کچھ پڑھ کے دَم کر دیتے کچھ لوگ صرف سلام کرتے ہُوئے روانہ ہورہے تھے جبکہ کچھ لوگ کچھ نذرانہ بھی پیش کر رہے تھے آخرکار یہ مرحلہ اپنے اِختتام کو پُہنچا اور عمران کے علاوہ صرف ایک دھان پان سا شخص اور باقی رہ گیا جو لوگوں کے جانے کے بعد دَریاں اور چٹائیاں سمیٹنے لگا۔

بابا وقاص نے اُس شخص کو پُکار کر اپنے پاس بُلایا اور تیز آواز میں اُس سے کہنے لگے خادم میاں ہمارے مہمان آئے ہیں اِنہیں چائے نہیں پِلاؤ گے؟ اُس دھان پان سے شخص نے اثبات میں سر ہلایا اور چائے بنانے چلا گیا۔ تب بابا وقاص نے عمران کو متوجہ کرتے ہُوئے کہا کیا بات ہے عمران میاں ہمارے پاس آنے میں یہ تردد کیسا؟ عِمران سوچنے لگا کہ کیا جواب دے اور جب کُچھ سمجھ نہیں آیا تو کہنے لگا مجھے یہ سب کُچھ بڑا عجیب سا لگ رہا ہے۔

اِسی وجہ سے ہمارے پاس نہیں آنا چاہ رہے تھے لیکن آنا تو پَڑ ہی گیا تُمہیں بابا وقاص کی اِس بات نے عمران کو مزید چُونکا دیا کہ آخر یہ تمام باتیں بابا وقاص کو ازخُود کیسے معلوم ہو جاتی ہیں۔ تبھی بابا وقاص دوبارہ گویا ہُوئے عمران میاں اپنے ذہن کو اِتنا مت تھکاؤ کہ ہم تُم سے وہ بات ہی نہ کرپایئں کہ جسکی خاطر تُہمیں تُمہاری مرضی کے بغیر دو مرتبہ یہاں لائے ہیں بس ایک بات جان لو کہ ہم تُمہارے خیر خُواہ ہیں تُمہارے دُشمن نہیں ویسے تُمہیں ایک بات اور بتانا چاہتے ہیں کہ اگرچہ ہم تُم سے عمر میں بڑے ضرور ہیں لیکن تُم ہمارے ایک رشتہ سے پیر بھائی بھی ہُو اور ہمارے پاس تُمہاری ایک امانت ہے جِسے ہَم تُمہیں سونپنا چاہتے ہیں لیکن پہلے تُمہیں ہم پر اعتبار قائم کرنا ہُوگا تبھی کُچھ بات بنے گی۔

بابا وقاص کی گُفتگو جاری تھی کہ خادم میاں چائے لیکر حاضر ہوگئے چائے کے ساتھ کُچھ بِسکٹ بھی تھے جِن سے تازگی کی مِہک اُٹھ رہی تھی، بابا وقاص نے چائے کی ٹرے اپنے پاس رکھی اور مصلے کے نیچے سے وہ تمام رقم جو نذرانے میں آئی تھی خادم میاں کو تھماتے ہُوئے کہا اس رقم سے صبح نیاز کی تیاری کرلینا اور اب تُم اپنے گھر جاسکتے ہو۔ عمران نے اپنا والٹ نکالتے ہُوئے کچھ رقم اِس میں بطور حصہ ملانے کیلئے کھولا ہی تھا کہ بابا وقاص نے ہاتھ کے اِشارے سے منع کردیا اور کہنے لگے عمران میاں ابھی نہیں پہلے اعتماد کا رشتہ بحال ہو لینے دیجئے اُسکے بعد ہم آپ سے رقم ضرور لیں گے، خادم میاں کے جانے کے بعد عمران چائے پینے لگا جبکہ بابا وقاص اُٹھ کر سامنے والے کمرے میں چلے گئے تمام گھر صبح کی طرح خالی ہوچُکا تھا بابا وقاص جس کمرے میں گئے تھے اُسکے سامنے والے کونے میں ایک بڑا سا چراغ جل رہا تھا جسکے اوپر کتابوں سے بھری ایک شیلف نظر آرہی تھی جس میں سے بابا وقاص کوئی کتاب نکال رہے تھے۔ کتاب نکال کر بابا وقاص نے کمرے کو دوبارہ کُنڈی لگائی اور یہ کتاب ایک چارپائی کے سرہانے رکھتے ہُوئے عمران سے کہنے لگے عمران میاں یہ کِتاب میں نے اپنی جوانی میں لکھی تھی تُم میری زندگی میں اُن چند اشخاص میں سے ایک ہو جنہیں میں نے یہ کِتاب پڑھنے کی اجازت دی ہے اِس کتاب کو پڑھنے کے بعد تُمہیں میری تمام باتیں با آسانی سمجھ آجائیں گی، چائے پی کر اِسے پڑھ لینا جب تک میں عشاء کی نماز ادا کرلوں، بابا وقاص نے جونہی نماز کی نیت باندھی عمران نے اُس کِتاب کا جائزہ لینا شروع کردیا یہ تقریباً دو سُو صفحات پر مُبنی کتاب تھی جو ہاتھ سے لکھی ہُوئی تھی کِتاب اگرچہ کافی اچھی حالت میں موجود تھی لیکن اِس کی بوسیدگی سے ظاہر ہُورہا تھا کہ کافی عرصہ پہلے لکھی گئی ہے یہ کِتاب انتہائی نفاست سے مُجلد کی گئی تھی جس کے سبب دور سے دیکھنے پر پبلش بُک ہی کی طرح نظر آرہی تھی اِس میں سات ابواب قائم کئے گئے تھے پہلے باب کو شروع کرتے ہی احساس ہوگیا کہ یہ قومِ اجنّہ کے موضوع پر لکھی ہُوئی کتاب تھی، کِتاب شروع کرتے ہی عمران مصنف کو داد دینے لگا کتاب کا اسلوب نہایت دلنشین انداز لئے ہُوا تھا عمران جونہی پہلے باب سے دوسرے باب کی جانب پیش قدمی کرنے لگا تو وہ اس بات کا قائل ہُوچکا تھا کہ بِلاشُبہ یہ ایک نایاب کِتاب تھی جو اِس موضوع پر لکھی گئی تھی مصنف کا انداز بیاں پڑھنے والے قاری کو ایک سحر میں جکڑے رکھتا ہے کہیں کوئی جھول نہیں، کوئی ربط ٹوٹا ہُوا نہیں تھا کہ جس سے پڑھنے والے کو تشنگی یا بُوریت کا اِحساس ہُو پہلے باب میں جنات سے متعلق بُہت اہم معلومات تھیں کہ کِس طرح جنّات اپنی غذا حاصل کرتے ہیں اُنکی پیدائش سے لیکر موت تک کے تمام حالات پر سیر حاصل گُفتگو کی گئی تھی اور اِسمیں بتایا گیا تھا کہ کن معاملات میں جِنّات کو انسانوں کی ضرورت پیش آتی ہے۔ اِنکا مزاج انسانی مزاجوں سے کیوں اور کیسے مُختلف ہُوتا ہے، اور جِس طرح سے عام انسان جِنات سے خوفزدہ رہتے ہیں بِالکل اِسی طرح عام جِنات بھی انسانوں سے خُوفزدہ رہتے ہیں جس طرح انسانوں میں مذہبی اور غیر مذہبی لوگ ہوتے ہیں اِسی طرح قُومِ اَجِنّہ میں بھی مذہبی اور غیر مذہبی جنات ہوتے ہیں۔

اِسکے علاوہ جِناتوں کے کیا مشاغل ہُوتے ہیں، اور یہ کہاں رہنا پسند کرتے ہیں اور کس قسم کے اِنسانوں سے مانوس ہوتے ہیں علم دین کسطرح حاصل کرتے ہیں اور کیوں اَنسانوں کو تنگ کرتے ہیں۔۔۔۔۔۔ وغیرہ وغیرہ۔۔۔۔۔۔

جبکہ دوسرے۔ تیسرے اور چوتھے باب میں اِنکی بے شُمار حِکایات درج تھیں اور جنہیں پڑھنے میں عمران اس قدر مشغول رہا کہ جب چوتھے باب کو پڑھ چُکنے کے بعد کِتاب سے نظر اُٹھا کر دیکھا تو بابا وقاص کو اپنے قریب بیٹھے پایا عمران شرمندہ سا ہوگیا، اور بابا وقاص سے عرض کرنے لگا کہ اس قدر خوبصورت اور نایاب کِتاب کو تُو مارکیٹ میں آنا چاہیے تھا مجھے یقین ہے کہ یہ کِتاب ریکارڈ بزنس کرے گی۔ کیا آپکو کوئی پبلشر نہیں مِلا جو اِس کِتاب کو چھاپتا؟ بابا وقاص نے سنجیدگی سے صرف اِتنا کہا کہ جِن پبلشروں کو اِس کِتاب کی بھنک پڑی وہ بھی بُہت مصر رہے کہ آپ ہمیں اِس کِتاب کو چھاپنے کی اِجازت دیدیں یہ کِتاب مارکیٹ میں دُھوم مچا دے گی، لیکن عمران میاں میں نے یہ کِتاب بزنس، یا اپنی شہرت کیلئے نہیں لکھی تھی بلکہ تشنہ کاموں کی پیاس بُجھانے کیلئے لِکھی تھی لیکن یار لوگ اِسے بھی کمائی کا ذریعہ بنانے میں مگن تھے سُو میری حمیت نے اِسے گوارہ نہیں کیا اور یہ کِتابیں میرے بُڑھاپے اور تنہائی کا آخری سہارا بن گئیں اور مجھے خوشی ہے کہ میری ریاضت اور میرا مُشاہدہ دُکانوں کی سَستی زینت اور نمائش بننے سے بچ گیا۔

عمران میاں مجھے معلوم ہے کہ تُم اِس کتاب کو آج ہی خَتم کرنے کے خُواہشمند ہونگے لیکن رات کافی ہُوچُکی ہے اور تُمہارے گھر والے بھی پریشان ہُورہے ہُونگے اور ابھی تُم نے عشاء کی بھی نماز قائم کرنی ہے لہٰذا تُمہیں گھر جانا چاہیے، عمران یہ سُن کر مایوس سا ہُوگیا کہنے لگا بابا میں اِس کِتاب کو مکمل پڑھنا چاہتا ہُوں اگر آپ اِجازت دیں تو میں ایک ڈیڑھ گھنٹے میں یہ کِتاب خَتم کرلونگا۔ 

بابا وقاص نے جواباً عمران کو سمجھاتے ہُوئے کہا عمران بیٹا میری یہ خُواہش نہیں ہے کہ تُم اِس کِتاب کو صرف پڑھ لو بلکہ میں چاہتا ہوں کہ تُم اِس کِتاب کو سمجھ کر پڑھو تبھی اِس کتاب کی قیمت ادا ہوگی تبھی میری محنت وصول ہوگی اگرچہ میں اپنی ذاتی کِتابیں کسی کو پڑھنے کیلئے مُستعار ہرگز نہیں دیتا لیکن چُوں کہ تُم میرا عکس ہُو اسلئے میں تُمہیں یہ کِتاب ایک رات کیلئے دےسکتا ہُوں بشرطیکہ تُم مجھ سے یہ وعدہ کرو کہ اِس کِتاب کی حِفاظت امانت سمجھ کر کرو اور اِسے کِسی اور کو میری اِجازت کے بِنا پڑھنے کیلئے نہ دو گے کہو کیا میری یہ شرط تُمہیں منظور ہے؟ عِمران کو بے حد خُوشی تھی کہ بابا وقاص نے یہ نایاب کِتاب اُسے ایک رات پڑھنے کیلئے رضامندی ظاہر کردی تھی لہٰذا فوراً سے پیشتر وعدہ کرلیا کہ میں آپکے احکامات کی دِل وجان سے پاسداری کرونگا۔ اور اس کِتاب کو ایک لِفافے میں ڈال کر مُصافحہ کیلئے کھڑا ہوگیا۔

عمران جونہی بابا وقاص کے گھر سے نکل کر شاہراہ پر آیا تُو اُسے یاد آیا کہ بابا وقاص نے اُسے کسی ضروری بات کیلئے بُلوایا تھا وہ ضروری بات تو رہ ہی گئی عمران کو واپس جانا بھی مُناسب نہیں لگا لیکن آخر ایسی کیا ضروری بات ہے جس کیلئے بابا وقاص نے مجھے بُلایا تھا اور آخر اُس بات کو سمجھنے کیلئے اِس کِتاب کا مُطالعہ کیوں ضروری ہے؟ یہ ایسے سوالات تھے جنکا جواب عمران جلد از جلد جاننے کا خُواہشمند تھا لیکن عمران کو ایک بات کا یقین ضرور ہوگیا تھا کہ بابا وقاص جو بھی ہُو ایک دیندار شخص ہے اور اب اُسے بابا وقاص سے کوئی خُوف مِحسوس نہیں ہُورہا تھا نہ ہی اِس مُلاقات کے بعد اجنبیت کا اِحساس باقی رہا تھا بلکہ اِس مُلاقات کے بعد عمران کے اعتماد میں اِضافہ ہُوا تھا۔

(جاری ہے)

تذکِرہ اِک پری کی مُحبت کا . 1

محترم قارئین السلامُ علیکم 
بعض لوگوں کی زندگی میں حادثات اسقدر تواتر سے آتے ہیں کہ وہ اِن حادثات کے عادی ہُوجاتے ہیں اور اُنہیں زندگی کی تلخی تکلیف کے بجائے مَزہ دینے لگتی ہے جب کہ کُچھ لوگ چھوٹے چھوٹے حادثات پر ہی گَھبرا جاتے ہیں اور زندگی سے فرار کی راہ ڈھونڈنے لگتے ہیں یا پھر وہ کِسی کو بھی خُوش نہیں دیکھنا چاہتے۔

آج میں جو سچی کہانی سُنانے جارہا ہُوں اُسکے مرکزی کردار کی خُواہِش ہے کہ اِس کہانی میں اُس کا نام نہ آنے پائے کیونکہ اُس نے کِسی سے وعدہ کیا تھا کہ وہ کِسی کو اِن کرداروں کی سچی مُحبت کا تذکرہ نہیں کرے گا ویسے وہ کردار اِتنا نامانوس بھی نہیں کہ لوگ اُسے جانتے ہی نہ ہُوں شاید آپ بھی اُس کردار کو پہچان جائیں۔ لیکن یہ واقعہ سُنانے سے پہلے میں آپ سے ایک وعدہ لینا چاہُوں گا کہ چاہے آپ اُس کردار کو پہچان جائیں مُجھ سے نہ ہی کمنٹس باکس کے ذریعے اُس کردار کا اصل نام پوچھیں گے اور نہ ہی اُس کردار کو بُوجھنے کی کوشش کَریں گے اگر آپ نے میری معروضات پر عمل کیا تو میں آپکی خِدمت میں بیشُمار مزید سَچی کہانیاں بھی پیش کرنے کی سعی کرتا رَہوں گا۔

یہ کہانی جس نوجوان کی ہے وہ ایک کھاتے پیتے گھرانے کا چَشمُ چِراغ تھا نہایت ہی شرمیلا اور دِینی ذہن رکھنے والا ایک سیدھا سادھا سا بے ضرر نوجوان جو اپنے مُلازمین کیساتھ بھی دوستوں جیسا سلوک روا رکھتا تھا اِس نوجوان کی بچپن سے ہی ایک جسمانی کمزوری تھی کہ وہ اکثر پیٹ کے عارضے میں مُبتلا ہوجایا کرتا تھا ایک مرتبہ عین نوجوانی میں اُسکے پیٹ میں شدید درد رہنے لگا، کافی علاج معالجے کے بعد بھی جب کُچھ اِفاقہ نہیں ہُوا تُو اُسکے ایک طبیب دوست نے اُسے مشورہ دِیا کہ وہ زِیادہ سے زِیادہ پیدل چَلا کرے اِس طرح ممکن ہے کہ آپ کی تکلیف میں کُچھ کَمی آجائے اور یہ بھی ممکن ہے کہ آپکا مرض ہی جَڑ سے خَتم ہُجائے۔

اُس نوجوان نے جسکا ہم فرضی نام (عمران احمد وقاص) تَصَور کئے لیتے ہیں کو اپنے دوست کا یہ مشورہ بُہت پسند آیا اور عمران نے سوچا اِس طریقہ کو بھی آزمانا چاہیئے ہوسکتا ہے یہ واک کرنا اُسے اِس دائمی مرض سے نِجات دِلواسکے لہٰذا عمران نے سب سے پہلا کام تو یہ کیا کہ اپنی موٹر بائیک کو اپنے سب سے چھوٹے بھائی کو دے ڈالا، اور خُود اپنے آفس کیلئے پیدل جانے کے فیصلے کو عملی جامہ پہنانے کے لئے جب پہلے دِن چار کلومیٹر کا سفر طے کیا تو عمران کے پاؤں میں سوجن آگئی کیونکہ کافی عرصہ سے عمران نے پیدل سفر کی عادت کو ترک کر رکھا تھا، اگلے دِن پیدل چلنے کے تصور ہی سے عمران کے ماتھے پر پسینہ آنے لگا تھا لیکن مسئلہ یہ تھا کہ اَب چھوٹے بھائی سے موٹر بائیک کس طرح واپس مانگی جائے بُہت سوچ بِچار کے بعد عمران اس فیصلہ پر پُہنچا کہ کِسی نہ کِسی طرح ایک ہَفتہ گُزار لیا جائے اور اُسکے بعد کِسی حِکمت سے وہ گاڑی واپس لی جائے، لیکن جب ویک اینڈ آیا تو عمران اِس سفر کا نہ صرف عادی ہُوچُکا تھا بلکہ اُسے اپنے مرض میں بھی کافی اِفاقہ مِحسوس ہُونے لگا تھا اور اب یہ سفر تھکن اور تکلیف کے بجائے عمران کو مَزہ دینے لگا تھا۔

لہٰذا عمران نے فیصلہ کیا کہ وہ اس واک کو مزید قائم رکھے گا، یہ سفر یونہی جاری تھا کہ عمران کیساتھ ایک عجیب واقعہ پیش آگیا جیسا کہ میں ابتدا ہی میں عمران کے مُتعلق لکھ چُکا ہوں کہ وہ نہایت ہی شرمیلا نوجوان تھا اُسے کسی دوست کے گھر میں بھی داخل ہُوتے ہوئے شرم آتی تھی حتٰی کہ اُسے اپنی بہنوں کے گھر جاتے ہُوئے بھی شرم مِحسوس ہُوا کرتی تھی، لیکن ایک دِن جب وہ واک کرتا ہُوا اپنے آفس کیلئے جارہا تھا یکایک اُسے نہ جانے کیا سوجھی کہ وہ ایک سنسان مقام سے گُزرتے ہُوئے وہاں موجود چند کچے پکے گھروں میں سے ایک گھر میں بِلا اِجازت مالک مکان کے بغیر دَستک دئے داخل ہوگیا گھر میں داخل ہُوتے وقت اُسے بالکل احساس نہیں تھا کہ وہ ایک غیر اِخلاقی اور غیر شرعی عمل کا مُرتکب ہورہا ہے مگر جونہی وہ گھر کی دِہلیز عبور کرکے اندر داخل ہُوا تو اُسے اِحساس ہُوا کہ اُس سے ایک جُرم سرزد ہُوچُکا ہے عمران فوراً پلٹنا چاہتا ہی تھا کہ اُسے برآمدے میں ایک بوڑھا شخص نظر آیا جوایک بنیان اور تہنبد میں ملبوس تھا اور ایک چارپائی پر بیٹھا عمران کو گھور رہا تھا۔

عمران کی نظر جونہی اُس بوڑھے شخص پر پڑی تو اُس کے رہے سہے اوسان بھی خطا ہوگئے ابھی عمران اپنے ذہن میں کوئی معقول بہانہ تراش ہی رہا تھا کہ اُس بوڑھے شخص نے گونجدار آواز میں عمران کو مُخاطب کرتے ہُوئے اُسے اپنے قریب آنے کی دعوت دِی اور بوڑھے شخص کی آواز میں ایسا سحر تھا کہ عمران بِلا چُون و چِراں کئے اُس بوڑھے شخص کے قریب پُہنچ کر شرمندہ سا کھڑا ہوکر کہنے لگا، جناب مجھے خبر نہیں کہ میں کِس طرح آپکے مکان میں بلا اِجازت کے داخل ہوگیا لیکن میں اپنے اِس عمل پر بُہت شرمندہ ہوں اور آپ سے معافی چاہتا ہُوں۔

وہ بُوڑھا شخص عمران کا یہ عُذر سُن کر مُسکراتے ہُوئے کہنے لگا میاں غلطی کی ہے تو غلطی کی سزا بھی ضرور پاؤ گے عمران نے نہایت عاجزی سے عرض کیا جناب آپ جو سزا دیں گے وہ مجھے قبول ہے لیکن میں پھر آپ سے یہی عرض کروں گا کہ مجھ سے یہ جُرم بے ساختگی میں سرزد ہُوا ہے میں شائد بے خیالی میں آپکے گھر میں داخل ہُوا ہوں لیکن پھر بھی جُرمانہ دینے کے لئے تیار ہُوں آپ کہیں مجھے کیا جُرمانہ دینا ہوگا عمران اپنی بات کہہ کر خاموش ہُوگیا اور اُس بوڑھے شخص کے جواب کا انتظار کرنے لگا اُسے اِس بات پر بھی تعجب ہورہا تھا کہ اتنے بڑے گھر میں کوئی شور شرابا نہیں تھا ایسی خاموشی تھی جیسا کہ عموماً قبرستانوں میں ہُوا کرتی ہے نہ ہی اتنی دیر ہُونے کے باوجود گھر کا کوئی دوسرا فرد ہی سامنے آیا تھا۔

بوڑھے شخص نے پاندان سے ایک پان نکال کر اپنے مُنہ میں رکھتے ہُوئے عمران سے کہا کہ تُمہاری سزا یہ ہے کہ ایک گھنٹے تک تُمہیں میرے پاس بیٹھنا ہُوگا یہ عجیب سزا سُن کر عمران بُہت متعجب ہُوا کیونکہ عمران کا خیال تھا کہ یہ بوڑھا شخص شاید اُس سے جُرمانے میں کچھ رقم طلب کرے گا لیکن یہ عجیب شخص تھا جو اپنے گھر میں بِلا اِجازت گھسنے والے کو مزید کُچھ دیر اپنے گھر میں رکھنے کا خُواہشمند تھا اُس بُوڑھے شخص کی اِس معصوم خواہش پر عمران کے من میں پیدا ہوتے خدشات دَم توڑنے لگے عمران نے سوچا شاید یہ شخص تنہائی کا مارا ہے اور میرے ساتھ کُچھ ٹائم پاس کرنا چاہتا ہے لہٰذا عمران اُس بوڑھے شخص کے اِشارے پر چارپائی کے دوسرے کنارے پر بیٹھ گیا۔

جب عمران سے اُس بُوڑھے شخص نے نام دریافت کیا تو عمران نے اپنا پُورا نام دُھرا دیا نام سُنتے ہی اُس بُوڑھے شخص نے ایسا زوردار قہقہ لگایا کہ عمران بے ساختہ چارپائی سے اُتر کر اُس بوڑھے شخص کو دیکھنے لگا اب عمران کو اُس بُوڑھے شخص کی دِماغی صحت پر شُبہ ہُونے لگا تھا کہ کہیں یہ بُوڑھا شخص پاگل تو نہیں ہے جو اسقدر زور زور سے ہنس رہا تھا جیسے میں نے اپنا نام نہیں بتایا ہُو بلکہ کوئی لطیفہ سُنا ڈالا ہُو کُچھ دیر میں بوڑھے شخص کو ہنستے ہنستے کھانسی کا دورہ پڑگیا عمران نے قریب ہی رکھے مٹکے سے گلاس میں پانی اُنڈیل کر اُس بوڑھے شخص کو پیش کیا پانی پی کر وہ نارمل ہوگیا اور کہنے لگا بیٹھو، عمران کے بیٹھتے ہی وہ کہنے لگا برخوردار کیا میرا نام نہیں پوچھو گے؟

عمران نے بَڑے ادب و تحمل سے عرض کیا جناب کیا اِسمِ گِرامی ہے آپ کا ؟ بوڑھے نے کہا(عمران احمد وقاص) اب حیرت زدہ ہونے کی باری عمران کی تھی کیونکہ آج سے پہلے عمران کو یہی گُمان تھا کہ شاید دُنیا میں وہ واحد شخص ہے جس کا کوئی مکمل ہم نام موجود نہیں لیکن آج اُسکا ہم نام اُسکے سامنے موجود تھا۔ عمران نے اُس بُوڑھے شخص کو مُخاطب کرتے ہوئے کہا اِسکا مطلب ہے کہ آپ میرے ہم نام ہیں؟ میں تُمہارا ہم نام نہیں ہُوں برخوردار بلکہ تُم میرے ہَم نام ہو کیونکہ میں تُم سے بڑا ہوں اور مجھے تُم سے پہلے یہ نام مِل چکا تھا، اور ابھی کچھ ہی دیر پہلے ایک عمران احمد وقاص یہاں سے ناراض ہُو کر گیا ہے کمبخت کو بُہت جلدی تھی دس برس ساتھ رہا لیکن خالی ہاتھ ہی واپس چلا گیا بُوڑھے شخص نے تصیح کرتے ہُوئے جواباً کہا۔ یہ اطلاع عمران کیلئے مزید حیرت کا باعث تھی کہ کوئی اور عمران احمد وقاص بھی ہے جسکا اِس بوڑھے شخص کیساتھ پُرانا تعلق تھا۔ عمران کچھ مزید پُوچھنا چاہتا تھا کہ اُس بوڑ ھے شخص نے ہاتھ کے اِشارے سے خاموش رہنے کا اِشارہ کیا۔ 

تبھی کِسی نوجوان لڑکی کی سریلی آواز سُنائی دِی وہ دروازے سے داخِل ہُوئی اور اُس بوڑھے کو سلام کرتی ہُوئی چارپائی کے نزدیک آپہنچی عمران نے چونکہ آواز سُنتے ہی اپنی نگاہیں جھکا لی تھیں جسکی وجہ سے وہ اُس نازنین کے چہرے اور سراپے پہ تو نظر نہ ڈال سکا لیکن عمران کی جُھکی ہوئی نگاہوں نے اُس کے حَسِین قدموں کو ضرور دیکھا وہ پاؤں واقعی خُوبصورتی کا شاہکار تھے آواز ایسی کھنکتی ہُوئی کہ مانو، کانوں میں رس گھولنے، والا محاورہ آج سچ محسوس ہورہا تھا اور جسم سے ایسی بھینی بھینی خوشبو اُٹھ رہی تھی کہ سیدھی مسام دماغ کو معطر کر رہی تھی گویا چمن کے تمام پھول عمران کی گود میں اُتر آئے ہُوں۔

وہ وہاں بیٹھنے کی اجازت طلب کررہی تھی اور وہ بُوڑھا شخص اُس پر برہم ہورہا تھا کہ دیکھتی نہیں ہو کہ ہم اپنے مہمان کا تعارف حاصل کررہے ہیں اتنی جلد بازی اچھی نہیں ہوتی ابھی تُم جاؤ ہم بعد میں تُمہارا مسئلہ حل کردیں گے اور جو تُمہارا ہے وہ تُمہیں مِل جائے گا ہمیں ابھی بُہت کام کرنا ہے بُہت تیاری کرنی ہوگی جب جا کر تمہیں تُمہارا گوھر مُراد مِلے گا، اُس نازنین کی چِہکتی ہُوئی مترنم آواز اُداسی میں بدل گئی وہ سلام کرتے ہُوئے وہاں سے لوٹ گئی، اِس واقعہ کے بعد اُس بوڑھے کی شخصیت عمران کو کُچھ پُراسرار سی محسوس ہونے لگی تھی ابھی عمران اِس سحر آلود ماحول میں کھویا ہُوا تھا کہ بابا وقاص کے سوال نے عمران کو اُس ماحول سے باہر نکال لیا بابا وقاص عمران سے اُسکی دوسری شادی کے بابت معلوم کررہے تھے عمران حیرت سے بابا وقاص کا چہرہ تکنے لگا کہ اِنہیں کس طرح دوسری شادی کے مُتعلق معلوم ہُوا کہ بابا وقاص پھر گویا ہُوئے کہ حیرت زدہ ہُونے کی ضرورت نہیں ہے۔ جتنا مجھے اپنے متعلق معلوم ہے اُتنا ہی میں تُمہارے متعلق بھی جانتا ہوں کیونکہ تُم میرا عکس ہُو اور کوئی اپنے عکس سے بھلا کِس طرح غافِل ہوسکتا ہے اور اُسکے بعد گفتگو جاری رکھتے ہُوئے بابا وقاص نے چند ایک وہ باتیں بھی عمران کو بتانی شروع کردیں جو عمران کے سِوا اُسکے گہرے دوستوں کو بھی معلوم نہیں تھیں۔

اِسکے بعد بابا وقاص نے عمران سے ایک عجیب سا سوال کیا کہنے لگے عمران کبھی تُم نے یہ سوچا کہ تُم اپنے تمام خاندان سے مُختلف کیوں ہُو تُم میں یہ انفرادیت کیسے پیدا ہُوئی؟ عمران نے جواباً کہا مجھے نہیں معلوم کہ کیوں میں اپنے خاندان والوں سے اِتنا مُختلف ہُوں مجھے تو یہ بھی نہیں معلوم کہ آپکو میرے متعلق اسقدر خاص معلومات کہاں سے حاصل ہوئیں اور سب سے بڑھ کر یہ کہ میں یہاں کیا کررہا ہُوں اور یہاں کیسے آیا ہُوں؟ وہ مُسکرا کر کہنے لگے میں نے کہا نا کہ تُم میرا عکس ہُو اور تُمہارے دوسرے سوال کا جواب یہ ہے کہ تُم یہاں اپنی مرضی سے نہیں آئے بلکہ لائے گئے ہُو۔ وہ عمران سے بات جاری رکھے ہُوئے تھے کہ اچانک اپنی دائیں جانب کی دیوار کو دیکھنے لگے اور پھر کہنے لگے عمران مِیاں اب تُم جاؤ کچھ ایمرجنسی ہوگئی ہے جسکی وجہ سے میں مزید تُم سے بات نہیں کر پاؤں گا لیکن رات کو ضرور واپس آنا مجھے تُم سے کچھ ضروری باتیں کرنی ہیں عمران نے گھڑی میں دیکھا تو معلوم ہُوا کہ وہ ڈیڑھ گھنٹے سے زائد وقت یہاں گُزار چُکا تھا عمران جونہی مُصافحہ کرنے کیلئے چارپائی سے اُٹھا تو دروازے کی بیل بج اُٹھی بابا وقاص نے مُصافحہ کرتے ہُوئے مجھے پھر آنے کی تاکید کی اور میرے ساتھ دروازے تک آئے دروازے پر کچھ لوگ ایک بیہوش بچے کو اُٹھائے کھڑے تھے بابا نے عمران کو رخصت کرتے ہوئے اُن لوگوں کو اندر آنے کی دعوت دِی وہ لوگ بچے کو لیکر بابا وقاص کے گھر میں داخل ہُوگئے۔

جبکہ عمران اپنے آفس کی جانب جاتے ہُوئے آج کے اِس عجیب حادثے کے مُتعلق سوچ رہا تھا کہ آخر بابا وقاص کو میرے معاملات کی آگاہی آخر کس ذریعے سے حاصل ہُوئیں، وہ نوجوان لڑکی کون تھی جو بابا وقاص سے مدد مانگنے آئی تھی، اور بابا وقاص کو آخر پہلے ہی سے کیسے معلوم ہوگیا کہ کوئی اُن کے دروازے پر ایمرجنسی میں بچے کو لانے والا ہے، اور آخر بابا وقاص کو مجھ کو کیا ضروری بات کرنی ہے جِس کیلئے اُس نے مجھے پھر آنے کی دعوت دِی ہے، اِس کے علاوہ بابا وقاص خُود کون ہے اور اِس بیابان میں کیوں ٹہرا ہے ایسے ہی بیشُمار سوالات تھے جنکے جوابات عمران کے پاس فی الحال نہیں تھے اور اُسے فیصلہ کرنے میں بُہت دشواری محسوس ہو رہی تھی کہ آیا اُسے شام کو واپس آنا بھی چاہیئے کہ نہیں؟

(جاری ہے)

عشق کے رنگ (عاشقِ اکبر)۔


محترم قارئین کرام اپنی زندگی کا سب سے قیمتی سب سے خاص کالمز کا سلسلہ شروع کرنے جارہا ہُوں۔ اگر زندگی نے مُہلت دی تو سرکار صلی اللہ علیہ وسلم کی اُمت میں سے بہترین افراد پر کالمز کا سلسلہ ١٠٠ اقساط پر محیط ہُوگا۔ حُسن اخلاص کے ساتھ اللہ کریم کی بارگاہ میں دُعاگو ہُوں کہ مجھے اُس وقت تک مُوت نہ آئے جب تک کہ میں اسکی سو اقساط نہ لکھ لُوں اللہ کریم اَس عاجز کو جلد از جلد یہ سو اقساط لکھنے کی توفیق اپنے خاص فضل سے اپنے مدنی محبوب صلی اللہ علیہ وسلم کے طُفیل عطا فرمائے (آمین بِجاہِ النبی الکریم) وصلی اللہُ تعالٰی علیہ وآلہ واصحابہ وازوجہ و اولیائے اُمتہ اجمعین

عاشِق اکبر

بنو تمیم کے کئی افراد بڑی سُرعت کیساتھ ایک انتہائی حَسین نوجوان کو زخمی حالت میں اپنے ہاتھوں پر اُٹھائے سرپٹ دوڑے چلے جارہے تھے۔ ایک نوجوان اِن سب سے آگے راہ میں آنے والے لوگوں کو چِلَّا چِلَّا کر دائیں بائیں ہُونے کا اِشارہ کر رہا تھا۔ کِسی راہ گیر نے زَخمی نوجوان کو پہچاننے کی کوشش کی لیکن یہ کُوشش بے سُود اور لاحاصل ہی رہی کیونکہ اُس زخمی نوجوان کا تمام چہرہ خُون سے تر بتر تھا۔ جبکہ جسم سے جابجا رَستا ہُوا خُون زُبان حال سے حملہ آوروں کی سفاکیت کی داستان سُنا رہا تھا۔

پھر یہ تمام افراد ایک مکان کے نزدیک پُہنچ کر تیز تیز آواز میں چِلَّانے لگے۔ ابُو قحافہ ابو قحاقہ کہاں ہُو۔۔۔؟ دیکھو ظالموں نے عبداللہ کو اِنکے ہی خُون سے نِہلا ڈالا ہے۔ معلوم نہیں سانسوں کی لے برقرار بھی ہے یا تھم چُکی ہیں ۔ جلد ہی ارد گِرد میں جِس نے بھی عبداللہ پر جان لیوا حملہ کی خبر سُنی وہ فوراً دوڑتا ہُوا چلا آیا۔

بُہت جلد اِس مکان کے باہر لوگوں کا جَم غفیر جمع ہُوگیا۔ لُوگ عبداللہ کی اِس حالت پر غم و غصہ کا اظہار کررہے تھے۔ حالانکہ بیشتر آنے والوں کا تعلق عبداللہ کے مذہب سے بھی نہیں تھا۔ جِس سے یہ معلوم کرنا چنداں مشکل نہ تھا۔ کہ عبداللہ کی ذات میں بے شُمار خُوبیاں موجود ہیں۔ اور وہ صرف گُفتار کے غازی نہیں ہیں۔ بلکہ حُسنِ اخلاق کی اعلی صفات کے حامِل ہُونے کیساتھ ساتھ لوگوں کے دُکھ درد میں بھی ہمیشہ کام آنے والے ہیں۔ تبھی تُو ہر آنے والے کی آنکھ یُوں نَم تھی۔ جیسے گُویا کوئی اُنکا اپناعزیز بستر مَرگ پر جاں بلب ہُو۔ یا اُن سے رُوٹھ کر دُور بُہت دُور جا چُکا ہُو۔

عبداللہ بن عُثمان ہمیشہ مظلوموں کی مدد کرنے میں پیش پیش رَہا کرتے تھے۔ اُنکے دِل کا آبگینہ اِتنا حساس و نازک تھا۔ کہ وہ کِسی کو بھی پریشان حال نہیں دیکھ سکتے تھے۔

لوگ ایک دوسرے سے حادثہ کی وجوھات جاننے کی کوشش میں مصروف تھے۔ عبداللہ بن عُثمان کے اعلٰی اخلاق اور کردار کی وجہ سے کوئی سُوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ،، کہ کوئی شقیُ القلب اِن پر حملے کی جُرات بھی کرسکتا ہے۔

حَملہ آوروں نے زدوکُوب کرنے میں کوئی کسر باقی نہیں چھوڑی تھی۔ طبیب کو فوراً طلب کرلیا گیا تھا۔ مگر اکثر لُوگ عبداللہ کی حالت دیکھنے کے بعد یہی رائے دے رہے تھے کہ عبداللہ بمشکِل جانبر ہُوپائیں گے۔

پھر یہ لوگ قافلہ کی صورت میں کعبہ اللہ پُہنچ کر اعلان کرتے ہیں۔ کہ اگر عبداللہ بن عثمان اپنی زندگی کی بازی ہار گئے تو قاتل یہ نا سمجھ لیں کہ قاتلوں کو مُعاف کردیا جائے گا۔ بلکہ ہم اِس مقدس مُقام پر کھڑے ہُوکر سبھی لوگوں کو گواہ بناتے ہیں کہ اُنکی جان کے بدلے قاتلوں کی زندگی کو مُوت سے ہمکنار کرنے کے بعد ہی دَم لیں گے۔ اُور مکہ کے رِہنے والوں کان کھول کر سُن لُو کہ ہم عتبہ بن ربیعہ کو بالخصوص قتل کریں گے۔کیونکہ ہمیں معلوم ہُوا ہے کہ عتبہ بن ربیعہ نے سب سے زیادہ بڑھ چڑھ کر عبداللہ بن عُثمان کے جِسم کو نِشانہ بنایا ہے۔

حالانکہ ابھی ایک گھڑی پہلے یہی عبداللہ جنکی عُمر اَڑتیس اور چالیس برس کے درمیان ہُوگی۔ جب بڑی متانت اور سنجیدگی کیساتھ چلتے ہُوئے کعبہ اللہ کے نزدیک آکر کھڑے ہُوئے تھے۔ تب لوگ اُنکے سُرخ و سفید چہرہ کو دیکھ کر گُویا جُھلستی دوپہر میں مہتاب کی ٹھنڈک سے لُطف اندوز ہُو رہے تھے۔ جبکہ اِنکی ، کُشادہ جبین پر ہمیشہ کی طرح چمکتے ہُوئے پسینے کے قطرات جھلملاتے ستاروں کی مانند اٹکھیلیاں کررہے تھے۔ اندر کو دَبے ہُوئے رُخسار وعارض، اور کنپٹیوں کا احاطہ کئے ہُوئے سیاہ بالوں میں سے جھانکتی سفیدی آپکے تدبر اور فراست کا اعلان کررہی تھی جبکہ جُھکی جُھکی نِگاہیں حَیا کے ترانے گارہی تھیں۔ تمام مکہ ہی اِنکا گرویدہ تھا۔

مکہ میں بسنے والےسبھی قبائل اِنکی شرافت اور اعلٰی کردار کے گواہ تھے۔ یہ مکہ اور اُسکے مضافات میں گُمشدہ لوگوں کو ڈُھونڈ لاتے تھے۔ یہ وہ تھے جنکے دَر سے کوئی خالی نہیں جاتا تھا۔ اور جب خُون بہا کو کوئی معاملہ اُلجھ جاتا تب اِنہی کو یاد کیا جاتا۔ یہ تشریف لاتے اور مسئلہ کِسی نہ کِسی نتیجے پر ضرور پُہنچ جاتا۔ الغرض ایسا کُون تھا۔ جو اِنکی عظمت کا قائل نہ ہُو۔اور ایسا کوئی نہیں تھا جو انکی فہم و فراست پر مائل نہ ہُو۔

لیکن ایسا پہلی بار ہُوا تھا کہ انہوں نے مکہ کے لوگوں کو پُکارا ہُو۔ لوگ جوق در جوق اِنکے قریب جمع ہُونے لگے تھے۔ لیکن جُونہی عبداللہ بن عُثمان نے لوگوں کے جمع ہُونے کے بعد لُوگوں کو خُطبہ دیتے ہُوئے اللہ کریم اور اُسکے مدنی محبوب ﷺ کا اطاعت کا دَرس دینا شروع کیا۔ مکہ کے جُہلاء نے اُنکے احسانات کو بُھلا ڈالا اور اُن پر حملہ کردیا۔

بنو تمیم کے لوگوں کو اگرچہ عبداللہ بن عُثمان کے جِسم پر طاری سکتے اور مسلسل غَشی کے دُوروں کی وجہ سے اُن کے بچ جانے کی بُہت کم اُمید باقی تھی۔ لیکن شام ہُوتے ہُوتے عبداللہ بن عُثمان نے آنکھیں کُھول دیں ۔

کِسی نے اُنکو ہُوش میں آتا دیکھ کر اِنہیں دُودھ پِلانے کا مشورہ دِیا تُو کِسی نے کہا کہ اِنہیں کھانا اور پھل کِھلائے جائیں۔ تاکہ کمزوری کا کُچھ تدارک ہُو۔ عبداللہ بن عُثمان کی والدہ ماجدہ اُم الخیر سلمی نے جب اپنے بیٹے کو ہُوش میں آتے دیکھا تُو اُنکے چہرے سے غَم کے بادل چھٹ گئے اور مسرت سے اُنکے دِل کی کلیاں کِھل اُٹھیں۔

دِل ہی دِل میں خُدا کا شُکر ادا کرنے کے بعد جب اُنہوں نے کھانے کیلئے کوئی شئے اپنے بیٹے کی جانب بڑھائی۔ تُو سعادت مند عبداللہ بن عُثمان نے ہاتھ کے اِشارے سے ماں کو منع کرتے ہُوئے نحیف و نراز آواز میں دریافت کیا ۔۔۔ میرے آقا۔ محمدالرسول اللہ ﷺ کیسے ہیں۔۔۔؟ کہیں ناپاک دُشمنوں نے اُنہیں تُو ایذا و نقصان نہیں پُہنچادِی۔۔۔؟

اُم الخیر سلمیٰ نے اپنے جوان بیٹے کی حالت پر آبدیدہ ہُوتے ہُوئے کہا۔ بیٹا میں نہیں جانتی کہ ،، محمد بن عبداللہ ﷺ کے ساتھ لوگوں نے کیا معاملہ کیا۔! البتہ میں اتنا جانتی ہُوں کہ تُم پر اِس وقت کمزوری غالب ہے۔ اِس لئے میرے بچے تُمہیں سب سے پہلے کُچھ کھالینا چاہیئے۔

ماں کا جواب سُن کر عبداللہ بن عُثمان رضی اللہ تعالٰی عنہُ تڑپ کر بُولے،، خُدا کی قسم جب تک میں اپنے آقا سیدنا مُحمد الرسول اللہ (صلی اللہُ علیہ وسلم )کی خیریت نہ معلوم کرلوں اپنے حلق سے ایک قطرہ پانی یا ایک دانہ اناج بھی نہ اُتاروں گا۔

بنو تمیم کے وہی لُوگ جو ابھی کُچھ ہی لمحوں قبل عبداللہ بن عُثمان رضی اللہ تعالی عنہُ کا انتقام لینے پر تُلے تھے۔ اُنکے لب پر آقائے نامدار ﷺ کا نامِ مُبارک سُن کر تِلملا اُٹھے۔ کسی نے آواز لگائی کہ،، چلو بھائیوں واپس چلیں۔ عبداللہ کو اپنی حالت سے زیادہ اپنے آقاﷺ کی پرواہ ہے حالانکہ اُنہی کی وجہ سے یہ آج مرتے مرتے بچے ہیں۔

تھوڑی دیر میں کافی لوگ واپس لُوٹ گئے۔ تب عبداللہ بن عُثمان نے سرگوشی کے انداز میں اپنی ماں کی منت سماجت کرتے ہُوئے عرض کیا۔ امی جان میرے حال پر رَحم کھائیں اور مجھے میرے کریم آقا علیہ السلام کی خیریت کی خبر لادیں۔ آپ خطاب کی بیٹی اُور عُمر (رضی اللہُ عنہُ) کی بِہن اُم جمیل فاطمہ رضی اللہ تعالی عُنہما کے گھر چلی جائیں۔ اُنہیں ضرور میرے سوھنے مُصطفٰے ﷺ کی خیریت سے آگاہی ہُوگی۔

حضرت اُم الخیر سلمیٰ رضی اللہ تعالی عنہما جو کہ ابھی تک ایمان نہیں لائی تھیں بیٹے کی حالت دیکھ کر بیتاب ہُوگئیں۔ اور بڑی بیقراری کی حالت میں اُمِ جمیل فاطمہ (رضی اللہُ تعالٰی عنہما) کے دولت کدے پر جا پُہنچیں۔ حالانکہ یہ وہ وقت تھا۔ جب کُفار بداطوار کی نِگاہیں ہر اُس شخص پر جمی تھیں۔ جو مسلمانوں سے میل مِلاپ رکھنے کی کوشش کرتا۔ یا اُنکی کِسی بھی طرح مدد کی کوشش میں کُوشاں نظر آتا۔

حضرت اُم جمیل فاطمہ (رضی اللہُ تعالٰی عنہما)نے جب اُم الخیر سلمی (رضی اللہُ تعالٰی عنہما) جو کہ ابھی تک ایمان کے اظہار سے محروم تھیں۔ کہ لبوں سے اپنے کریم آقا علیہ السلام کا اِسم مبارک سُنا اور آپ کے کاشانہ ٗ مبارک کے متعلق اُم الخیر کو متجسس پایا تُو آپ تشویش میں مُبتلا ہُوکر فرمانے لگیں۔ کہ میں یہ تُو نہیں بتاسکتی کہ اِس وقت اللہ کے رسولﷺ کہاں تشریف فرما ہیں۔ البتہ اگر آپ اِجازت دیں تُو میں آپ کے گھر چل کر آپ کے بیٹے کو دیکھ سکتی ہُوں۔ اُم الخیر سلمی کا شُمار مکہ کی جہاندیدہ خواتین میں ہُوتا تھا۔ آپ سمجھ گئیں کہ اُم جمیل اپنے سوھنے نبی ﷺ کے معاملے میں اُن پر اعتبار نہیں کرنا چاہتی۔ لِہذا اُنہوں نے حضرت اُمِ جمیل فاطمہ (رضی اللہُ تعالٰی عنہما) کو ساتھ لیا اور اپنے گھر تشریف لے آئیں۔

جب حضرت اُم جمیل فاطمہ کی نِگاہ حضرت عبداللہ بن عُثمان (رضی اللہُ عنہُ) پر پڑی تُو بے اِختیار اُم الخیر سلمی (رضی اللہُ تعالٰی عنہما) سے رُوتے ہُوئے کہنے لگیں۔۔۔۔ خُدا نمٹے اُن ظالموں سے جنہوں رسول اللہ (صلی اللہُ علیہ وسلم) کے خاص مصاحب ابو بکر صدیق (رضی اللہُ تعالی عنہُ) کو اِس حال میں پُہنچایا ہے۔

حضرت اَبو بکر صِدیق (رضی اللہُ تعالی عنہُ) جنکا اسم مُبارک عبداللہ ہے اور والد کا اسم گرامی عُثمان ہے جنکی کُنیت ابو قحافہ ہے جبکہ آپکی کُنیت ابوبکر ہے (رضی اللہُ تعالٰی عنہُ) آپ نے اُم جمیل فاطمہ (رضی اللہُ تعالٰی عنہماُ)سے بڑی بیقراری کے عالم میں سرکار ﷺ کے متعلق دریافت کیا۔ حضرت اُم جمیل فاطمہ (رضی اللہُ تعالٰی عنہماُ) نے اشارے سے آپکی والدہ کی جانب اِشارہ کیا۔ کہ یہ بھی سُن رہی ہیں۔ حضرت اَبو بکر صِدیق (رضی اللہُ تعالٰی عنہُ)نےفرمایا کہ فکر نہ کریں میری والدہ مسلمانوں کی دُشمن نہیں ہیں۔

تب حضرت اُمِ جمیل (رضی اللہُ تعالٰی عنہماُ)نے بتایا کہ اللہ عزوجل کے محبوب دانائے غیوب ﷺ دارِ ارقم میں موجود ہیں ۔ حضرت اَبو بکر صِدیق (رضی اللہُ تعالٰی عنہُ) یہ جان کر فوراً کریم آقا علیہ السلام کی خِدمت میں حاضر ہُونے کیلئے اُٹھنے لگے۔ تب آپکی والدہ ماجدہ نے فرمایاکہ،، ابھی دِن کی روشنی باقی ہے۔ اور تُمہیں دیکھنے کیلئے لوگ بھی آرہے ہیں۔ اگر ایسی حالت میں جاؤ گے تو سبکو تُمہارے نبی ﷺ کی رِہائش کا ٹھکانہ معلوم ہُوجائے گا۔ لِہذا تُمہیں احتیاط کرنی چاہیئے۔ جب سورج ڈوب جائے گا تب چلے جانا۔

حضرت اَبو بکر صِدیق (رضی اللہُ تعالٰی عنہُ) نے فراق رسول ﷺ میں یہ گھڑیاں کیسے گُزاری ہُونگی ۔ ہم شائد اسکا اندازہ نہ لگا پائیں لیکن تاریخ گَواہ ہے کہ جب حضرت اَبو بکر صِدیق (رضی اللہُ تعالٰی عنہُ) دارِ ارقم پُہنچ کر رسول اکرم ﷺ کے قدموں سے لِپٹ کر سکون حاصِل کرنے کیلئے بڑھے تب اللہ کریم کے مدنی محبوب ﷺ نے خُود آگے بڑھ کر اپنے عاشقِ اکبر حضرت اَبو بکر صِدیق (رضی اللہُ تعالٰی عنہُ) کو اپنے سینہٗ مبارک سے لگالیا تھا۔ اور نجانے کتنے ہی لمحات تک عاشقِ اکبر(رضی اللہُ تعالٰی عنہ) اور محبوب اکبر(صلی اللہُ علیہ وسلم) ایک دوسرے سے لِپٹ کر رُوتے رہے۔

(جاری ہے)

پلکوں سے دَرِ یار پہ دستک دینا
اُونچی آواز ہُوئی زَندگی کا سرمایہ گیا

Wednesday, 12 December 2012

فیضانِ اسمِ اعظم تمام مُشکلات کا بہترین حل قسط (۱)۔


محترم قارئین السلامُ علیکم

اکثر لوگ جب حد سے زیادہ پریشان ہوجاتے ہیں تب وہ اسم اعظم معلوم کرنا چاہتے ہیں تاکہ اُس اسمِ اعظم کے ذریعے سے اللہ عزوجل کی بارگاہ میں دُعا کریں -اور اُنکی تمام دُعائیں قبول ہوں اور جب ہم اسمِ اعظم کی تلاش میں مضامینِ اسم اعظم کا مطالعہ کرتے ہیں تو بیشمار اسم الہیہ ہمیں نظر آتے ہیں جو صحیح اسناد کیساتھ اور احادیث کا حوالہ لئے ہوتی ہیں لیکن کسی ایک اسمِ الہی پر علما کرام کا اجماع نظر نہیں آتا اِس صورتحال کا تذکرہ میں نے اپنے اساتذہ سے کیا تو میری رہنمائی کی خاطر اُنہوں نے مجھے علم الاعداد کے ذریعے اپنے نام کے مطابق اسمِ اعظم نکالنے کا طریقہ تجویز کیا جب میں نے خود اِسے آزمایا تو مجرب و باکمال پایا لہٰذا ایک عرصے سے اِس کے کمالات کا مُشاہدہ کررہا ہوں اور جو لوگ روحانی علاج کی خاطر میرے پاس آتے ہیں اُنہیں بھی روحانی علاج کیساتھ اُنکے نام کے مطابق اسمِ اعظم تجویز کردیتا ہوں یوں تو اللہ عزوجل کے ہر اسم کی برکتیں بیشمار اور بے حساب ہیں۔ لیکن جب ہم اِنہیں اپنے نام کے مطابق ایک خاص تعداد مُتعین کر کے پڑھتے ہیں تو یہی اسم خاص اسمِ اعظم کا کام دیتا ہے۔ لہٰذا میں نے حصولِ ثواب کی خاطر مُناسب جانا کہ اسے سلیس انداز میں آپکے سامنے پیش کروں اور پریشان حال لوگوں کی دُعا پاؤں۔

اور اﷲ ہی کے ہیں بہت اچھے نام تو اسے ان سے پکارو اور انہیں چھوڑ دو جو اس کے ناموں میں حق سے نکلتے ہیں وہ جلد اپنا کیا پائیں گے
سورت الاعراف آیت
۱۸۰ ۔

حدیث شریف میں ہے اللہ تعالٰی کے ننانوے نام جس کسی نے یاد کر لئے جنّتی ہوا۔ عُلَماء کا اس پر اتفاق ہے کہ اسمائے اِلٰہیہ ننانوے میں منحصَر نہیں ہیں۔ حدیث کا مقصود صرف یہ ہے کہ اتنے ناموں کے یاد کرنے سے انسان جنّتی ہو جاتا ہے۔

شانِ نُزول : ابو جہل نے کہا تھا کہ محمّد (مصطفٰے صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کا دعوٰی تو یہ ہے کہ وہ ایک پروردگار کی عبادت کرتے ہیں پھر وہ اللہ اور رحمٰن دو کو کیوں پکارتے ہیں؟ اس پر یہ آیتِ کریمہ نازِل ہوئی اور اس جاہِل بے خِرَد کو بتایا گیا کہ معبود تو ایک ہی ہے نام اس کے بہت ہیں۔

تفسیر خزائنُ العرفان
اُم المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رضی اللہ تعالیٰ عنہما) نے یوں دُعا مانگی اللھمہ انی ادعوکَاللہُ و ادعوکَ الرَحمٰنُ و ادعوکَ البرُ الرَحیِمُ و ادعوکَ بِاسما ئکَ الحسنیٰ کلھا ما علمتُ منھا ومالم اعلمُ ان تغفر لی وترحمنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سُن کر ارشاد فرمایا کہ اس میں (اسمِ اعظم ) ہے ۔ ۔ ۔ ابنِ ماجہ ۔ ۔۔

ایک مرتبہ پیارے آقا علیہ السلام نے ایک شخص کو یوں کہتے سُنا۔ الھمَ اِنِی اسئلُکَ بِانِی اشھَدُ انک انت اللہُ لا الہَ الا انتَ الاحدُ الصمَدُ الذی لم یلد ولم یُولَد ولَم یَکُن لہُ کُفوا احد
آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اِرشاد فرمایا خدا کی قسم تو نے اللہ تعالیٰ سے وہ اسمِ اعظم لے کر سُوال کیا ہے کہ جب اُس سے سوال کیا جاتا ہے اللہ تعالیٰ عطا کرتا ہے اور جب اُس سے دُعا کی جاتی ہے قبول فرماتا ہے
حوالہ احمد ۔ ابنِ ابیِ شیبہ ۔ ابو داود ۔ ترمذی ۔ ابنِ ماجہ

حروف ---- ا - ب - ج - د - ھ - و - ز - ح - ط - ی - ک - ل - م - ن

عدد ---- 1 - 2 - 3 -4 -5 - 6 -7 -8 - 9 - 10 - 20 -30 - 40 -50

حروف -- س - ع - ف - ص ۔ ۔ق۔۔۔ ر ۔۔۔۔ ش۔۔ ت ۔۔ ث ۔۔ خ ۔۔۔ ذ ۔ ۔ض ۔۔ ظ۔۔ ۔۔غ -
عدد –      60  -70 - 80 -90 -100 -200 -300 -400 -500 -600 -700 -800 -900 -1000

لہٰذا میں اپنی جانب سے خلوص دل کیساتھ کوشش کرونگا کہ آپکو بھی اپنے نام کا اسمِ اعظم نکالنے کا طریقہ سمجھا پاؤں اور اگر پھر بھی آپ ناکام رہیں تو مجھے اس ایڈریس پر میسج کیجیے گا انشااللہ کوشش کروں گا کہ آپکی مُعاونت کرسکوں
http://www.facebook.com/ishratiqbal.warsi

مثال کے طور پر ہم اطہر کا اسم اعظم بنانا سیکھتے ہیں اطہر میں چار حرف ہیں
( ا ۔ ط ۔ ہ ۔ ر ) جسکی عددی قیمت مندرجہ بالا چارٹ سے یہ نکلی )
1+9+5+200 = 215
الف کا 1 ط کے 9 ھ کے 5 اور ر کے 200 ان سب کو جمع کیا تو جواب ملا 215
اب ہمیں اسمائے حُسنیٰ میں سے ایسا اسمِ الہی چاہیے جسکے عدد دو سو پندرہ ہوں اور اگر کوئی ایسا اسمِ باری نہ ملے تو ایک سے زائد اسمِ باری کو مِلا لیں جیسے ایک اسمِ الہی
اللہ جسکے عدد ہیں 66
معطی جسکے عدد ہیں 129
ہادی جسکےعدد ہیں 20
ان تمام اعداد کو جمع
کیا تو حاصل عدد مِلا 215
اسکو دوگنی تعداد یعنی 430 مرتبہ پڑھیں
( یا اللہُ یا معطیُ یا ھادِیُ )
تو یہ انشا اللہ اطہر کیلئے اسمِ اعظم کا کام دیگا

اپنے معمولات زندگی میں سے کچھ وقت اسمِ اعظم پڑھنے کیلئے متعین کرلیں اور اُس وقت کی پابندی کریں انشا ءاللہ زندگی سہل ہو جائیگی اور تمام امور خود بَخود بہتر طریقے سے انجام پانے لگیں گے اس طریقے سے فائدہ اُٹھانے کی ہر مسلمان کو اجازت ہے جسکے دِل میں انبیاء کرام علیہ السلام صحابہ کرام رضوانُ اللہِ تعالیٰ اجمین اور اولیائے عظام کی محبت موجود ہو

نوٹ اسمِ اعظم شروع کرنے سے قبل اگر کوئی یتیم بچہ میسر آجائے تو اُسکی خیر خواہی فرما دیں اور اگر ایسا بچہ نہ ملے تو بُزرگانِ دین کی فاتحہ کا اہتمام کرلیں والسلام



Thursday, 6 December 2012

عامل کامل ابو شامل قسط 18 (طمانچہ)




عامل کامِل اَبُو شامِل قسط  ۔۱۸ (طمانچہ )۔

گُذشتہ(۱۷)۔ اقساط کا خُلاصہ۔۔۔

یہ کہانی ہے۔ ایک ایسے نُوجوان کامِل علی کی جِس کے سر سے اُسکے والد کا سایہ بچپن میں ہی اُٹھ گیا۔۔۔ والدہ کی نوجوانی میں بیوگی سے بے شُمار مسائل جنم لینے لگتے ہیں۔ حالات سے تنگ آکر کامل علی کی بیوہ والدہ پھر سے مولوی رمضان کی دُلہن بن جاتی ہے۔ ۔ کامِل علی کو  اپنے ہمسائے چاچا ارشد کی بیٹی نرگس سے بُہت دِلی لگاوٗ پیدا ہُوجاتا ہے۔جُو دھیرے دھیرے مُحبت میں تبدئل ہُوجاتا ہے۔

حالات  اُور زمانے کے بار بار ستائے جانے پر کامل علی  رُوحانی عملیات کی جانب راغب ہُوجاتا ہے۔ تُو وہ تمام زمانے سے خاص کر چاچا ارشد سے بدلہ لینا چاہتا ہے۔ لیکن بار بار چلہ کاٹنے کے باوجود بھی ناکامی اُسکا مقدر ٹہرتی ہے۔ وُہ ایک بنگالی جادوگر کی شاگردی اِختیار کرنا چاہتا ہے۔ لیکن ہر بار ایک مَجذوب(بابا صابر) اُسکے راستے میں دیوار کی مانند کھڑا ہُوجاتا ہے۔ اُستاد عبدالرشید کے بار بار سمجھانے پر بھی جب کامل علی عملیات سے باز نہیں آتا۔ تب اُستاد عبدالرشید اُسے ایک اللہ کے ولی  ،،میاں صاحب ،،  کے پاس بھیجتا ہے۔ لیکن یہاں بھی ناکامی کامل علی کا پیچھا نہیں چھوڑتی۔ اُور وہ خالی ہاتھ ہی اپنے گھر لُوٹ آتا ہے۔

افلاطون نامی ایک نوجوان کامل علی کے گھر میں گُھسنے کی کوشش کرتا ہے ۔ لیکن کامل علی دھکے دے کر اُسے گھر سے نِکال دیتا ہے۔ لیکن جب وُہ  دروازے میں کنڈی لگا کر پلٹتا ہے۔ تُو اُسی نوجوان کو اپنے بستر پر دراز دیکھتا ہے۔ افلاطُوں جسکی کُنیت ابو شامل ہے۔ اُسے بتاتا ہے ۔ کہ وُہ ایک جِن زادہ ہے۔ اُور ایک عامِل اُسکے پیچھے پڑا ہے کیونکہ وُہ کافی طاقتور جن ہے۔ افلاطُون پیشکش کرتا ہے کہ اگر  کامل علی اُس عامل سے بچانے میں اِسکی مدد کرے تُو،، افلاطُون  دُوست بن کر  دُنیا کی ہر شئے کو اسکے قدموں میں لاکر ڈال سکتا ہے۔ کامل علی افلاطون کی پیشکش قبول کرلیتا ہے۔ دُونوں جہلم جلباب سے مُلاقات کا پروگرام بنا لیتے ہیں۔ جلباب سے مُلاقات کے بعد   ابو شامل  کراچی پُہنچ کر کامل علی کو تنہا نرگس کے فیلٹ تک پُہنچا کر غائب ہُوجاتا ہے۔ نرگس کامل علی کو سمجھاتی ہے کہ وُہ واپس لُوٹ جائے۔ کیونکہ وُہ اپنی سابقہ زندگی کو بُھلانے کی کُوشش کررہی ہے

اَب مَزید پڑھیئے۔۔۔

نرگس کی گفتگو کامل علی کے سینے کو برچھی کی طرح چھلنی کئے جارہی تھی۔۔۔ جسکی وجہ سے نہایت رازداری سے اُسکی آنکھیں اَشکوں کو الودع کہہ رہی تھیں۔۔۔ کامل علی سُوچ رَہا تھا۔۔۔ کیا یہ وہی نرگس ہے ۔ جو مجھے دیکھے بِنا چین سے سُو بھی نہیں پاتی تھی۔۔۔ اُور کیا یہ وہی نرگس ہے کہ جِس کو پانے کیلئے وُہ تمام زمانے سے لڑنے کیلئے تیار تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟

نرگس نے ایک لمحے کیلئے کامل علی کی بھیگی پَلکوں کو دیکھا۔ تُو اُسے ایسا محسوس ہُوا کہ،، کہ وُہ ذیادہ دیر تک اپنے جذبات کو کامل علی سے چُھپانے میں کامیاب نہ ہُو سکے گی۔۔۔ شائد اِسی لئے وُہ چند لمحوں کیلئے کامل علی کے سامنے سے اُٹھ کر کچن کی جانب چلی آئی ۔۔۔ چائے کا پانی پتیلی پر چڑھاتے ہُوئے اُس کی عجیب کیفیت تھی۔ دِل کی خُواہش تھی کہ،، کہ وُہ کامل علی سے لپٹ کر اتنا رُوئے   کہ سینے کے غُبار کو باہر نِکل جانے کا راستہ دِکھائی دے جائے۔  جب کہ عقل اُسے مسلسل یہ بات سمجھانے  کی کُوشش میں مصروف تھی۔ کہ،، اب وُہ کامل علی کی محبوبہ نہیں ۔۔۔ بلکہ کسی دُوسرے شخص کی بیوی ہے۔اُور  ایک عدد بچے کی مَاں بھی ہے۔۔۔۔ ابھی تک تُو اُس کی زندگی کا پس منظر صرف اسکے والدین کے علم میں ہے۔ جسکے باوجود بھی وُہ اپنے شوھر کا دِل نہیں جیت پائی۔ اگر یہ پس منظر کل کو شوہر پر بھی آشکار ہُوگیا۔۔۔۔ تُو۔۔۔ مستقبل میں بہتری کی جُو  موہوم سی  آس باقی ہے وُہ بھی جاتی رہے گی۔۔۔ دُنیا والے جو رُسوائی کی کالک چہرے پر مَلیں گے۔ وُہ الگ سے  تکلیف کے احساس میں ہمیشہ کیلئے جکڑ دے گی۔ چائے تیار ہُونے تک  نرگس ایک فیصلہ پر پُہنچ چکی تھی۔

چائے کی پیالی کامل علی کی جانب بڑھاتے ہُوئے نرگس نے دیکھا کہ کامل علی کی پلکیں ابھی تک اَشکوں کے بُوجھ سے جھکی ہُوئی ہیں۔۔۔۔ایک پیالی چائے حلق سے اُتارنے میں کامل علی کو پندرہ منٹ لگ گئے۔ جُونہی اُس نے چائے کی خالی پیالی زمین پر رکھ کر رُومال سے اپنے آنسووٗں کو چھپانے کی کُوشش کی۔۔۔۔۔ نرگس نے دِل گرفتہ لہجے میں کامل علی کو مُخاطب کرتے ہُوئے کہا۔۔۔ اِن آنسووٗں کا اب کوئی فائدہ نہیں ہے کامل۔ مردوں کو فیصلہ لیتے ہُوئے ہمت سے کام لینا ہُوتا ہے۔۔ نا کہ آنسووٗں سے۔۔۔ یہ آنسو تو ہم جیسی کمزور  مخلوق کی آنکھوں میں ہی بھلے لگتے ہیں۔۔۔

کیا واپسی کو کوئی راستہ باقی نہیں بچا نرگس۔۔۔؟  میں نے آج تک  زندگی میں تُمہارے سِوا کسی اُور شئے کی خُواہش نہیں کی۔۔۔۔ خُدا جانتا ہے کہ تُم کو پانے کیلئے میں کتنا روتا اُور  تڑپتا رَہا ہُوں ۔ میں اب تک صرف تُمہاری اُمید پر جینے کی کوشش کرتا چلا آیا ہُوں۔۔۔ اُور سچ کہتا ہُوں کہ،، اگر اب بھی تُم مجھے نہ ملیں تو  میں تُمہارے بِنا اب مَزید نہیں جی پاوٗں گا۔۔۔۔ کامل علی نے التجا کرتے ہُوئے بے اختیار اپنے دونوں ہاتھ نرگس کے سامنے پھیلا دیئے۔

کامل اب ہم بچے نہیں رہے ہیں۔۔۔ کہ وقت و حالات کا اِدراک نہ کرپائیں۔۔۔ تمہارے آنسو اب مجھے جذباتی نہیں کر پائیں گے۔۔۔ کاش تُم نے اُس وقت ہمت دِکھائی ہُوتی،،کہ،، جب میرے والد میرا ہاتھ ایک شادی شُدہ آدمی کے ہاتھ میں دے رہے تھے۔۔۔۔ لیکن نہیں تُم نے اُس وقت حالات سے سمجھوتا کرلیا تھا۔۔۔ میں ہر پل تمہاری منتظر رہی۔۔۔۔ کہ ،، کِسی دِن تُم آوٗ گے۔ اُور میرے بابا سے میرا ہاتھ مانگو گے۔۔۔۔ مگر تُم  نہیں آئے۔ بلکہ بُزدِلوں کی طرح سے مُحلہ ہی چھوڑ گئے۔۔ کاش۔۔۔ اُس وقت تُم نے سُوچا ہُوتا۔۔۔ کہ میں کسطرح اِس ادھورے پن کیساتھ اپنی بقیہ زندگی گُزار پاوٗنگی۔۔۔ مگر تُم نے پلٹ کر ایکبار  بھی میری خبر تک نہ لی۔ اُور جہاں تک بات ہے میرے بِن جینے کی تُو جسطرح میں نے تمہارے بنا جینا سیکھ لیا ہے ۔تُم بھی ایک دِن سیکھ جاوٗ گے۔کوئی کِسی کی ہم نشینی کے بغیر نہیں مرتا۔ اُور کوئی بھی رستہ دُشوار تُو ہُوسکتا ہے ۔لیکن ناممکن نہیں ہُوسکتا۔ چلتے چلتے راستے مانوس ہُوہی جاتے ہیں ۔ چاہے پاوٗں میں آبلے ہی کیوں نہ پڑجائیں۔۔۔ آخری جُملہ ادا کرتے ہُوئے نرگس کی آواز نہ صرف بَھرا گئی بلکہ کافی بُلند بھی  ہُوچکی تھی۔۔۔ نرگس کی  تیز آواز کی وجہ سے ننھے طارق نے کسمسا کر اپنی آنکھیں کُھول دیں۔۔۔ نرگس نے فوراً  بچےکو اپنے بازوٗں میں لیکر تھپکنا شروع کردیا۔ جسکی وجہ سے اُس نے واپس اپنی آنکھیں مُوند لیں۔۔۔

نرگس ایسا نہیں تھا۔ کہ میں نے چچا ارشد سے بات نہیں کی تھی۔۔۔ مگر اُس وقت وُہ اتنے جذباتی تھے کہ اُنہیں میری کوئی بات ہی سمجھ نہیں آرہی تھی۔۔۔ اُور محلہ بھی میں نے ڈر کر یا حالات سے سمجھوتا کرتے ہُوئے نہیں چھوڑا تھا۔۔۔ بلکہ میں تُو صرف اس لئے محلہ چھوڑ کر چلا گیا تھا۔ کہ میں چاہتا تھا کہ چچا ارشد کا غُصہ کچھ ٹھنڈا ہُوجائے۔ میرا خیال تھا کہ وُہ وقت کیساتھ نارمل ہُوجائیں گے۔ مگر ایسا نہیں ہُوا۔ یہ میری بدقسمتی تھی۔۔ لیکن خُدا گواہ ہے کہ مجھے تو تمہاری شادی تک کی خبر بُہت بعد میں مِلی تھی۔۔۔ جسکی وجہ سے میری حالت غیر ہُوگئی تھی۔۔۔۔ نرگس کے تیز جملوں کے برعکس کامل علی  نے ٹھنڈے انداز میں اپنی صفائی پیش کرتے ہُوئے کہا۔

دیکھو کامل علی جُو ہُونا تھا سُو ہُوچکا۔۔۔ اب گَڑے مُردوں کو واپس اُکھاڑنے سے کچھ بھی حاصِل ہُونے والا نہیں ہے۔۔۔ لِہذا ہُوش مندی کا یہی تقاضہ ہے کہ اب ہم اپنی راہیں جُدا کرلیں۔۔۔ اُور جو ہمارے مقدر میں لکھا جا چُکا ہے۔ اُس پر راضی رہنے کی کوشش کرتے رہیں۔ ویسے بھی جب شیشہ ایک مرتبہ ٹوٹ جاتا ہے تب لاکھ جُوڑنے پر بھی اُس میں بال باقی رِہ ہی جاتا ہے۔۔۔۔ نرگس نے کامل علی کو سمجھاتے ہُوئے کہا۔

بار بار ماحول میں تیز جملوں کی  بازگشت نے ننھے طارق کو  ایک مرتبہ پھر بے چین کردِیا تھا۔۔۔ لیکن اب کی مرتبہ وُہ خاموشی سے مُنہ نہیں بسور رَہا تھا۔۔۔ بلکہ اُس نے تیز لے میں کوئی سُر چِھیڑ دیا تھا ۔ جو ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا۔ نرگس کے بچے کی  بے وقت کی راگنی نے تمام ماحول کو یکسر بدل کر رکھ دیا تھا۔ نرگس بار بار  اپنے بچے کو تھپکتے ہُوئے کبھی کمرے سے برآمدے تک چلی جاتی۔ اُور پھر تھوڑی دیر میں واپس لُوٹ آتی۔ کامل علی بچے کے پرسکون ہُونے کا اِنتظار کرتا رَہا۔۔۔ لیکن لگتا تھا کہ،، جیسے مُنے کو بھی کامل کی گھر میں انٹری اچھی نہیں لگی تھی۔۔۔ کامل کی خُواہش تھی کہ رات کُچھ مزید ٹہر جائے۔۔۔ لیکن کسی مرغ کی صدا کامل علی کو یہ سمجھانے کی کوشش کررہی تھی۔ کہ وقت تو کب کا گُزر چُکا ہے۔ وُہ کسی کا انتظار نہیں کرتا۔۔۔۔ بلکہ جب کوئی اُسکی  رفتار کو روکنے کی کوشش کرتا ہے۔ تب یہ اپنی رفتار اُسکے لئے مزید تیز کر دیتا ہے۔


میرے خیال میں صبح ہُونے میں ذیادہ وقت باقی نہیں ہے ۔ اسلئے بہتر  یہی ہے۔ کہ  اگر تُمہارے دِل میں میرے لئے ذرا بھی عزت  باقی ہے ۔ تُو تُم کو تھوڑی دیر میں  یہاں سے چلے جانا چاہیئے۔ نرگس نےننھے  طارق کی کمر سہلاتے ہُوئے  کامل علی کو مخاطب کیا۔

 آج نرگس کی زُباں سے بُزدلی کے طعنے اُور واپس لُوٹ جانے کی لگاتار التجائیں۔۔۔ کامل کو اپنے چہرے پر طمانچے کی طرح محسوس ہُورہی تھیں۔ وُہ کُچھ کہنا ہی چاہتا تھا کہ  کامل کو اپنے کان میں ابو شامل کی سرگوشی سُنائی دی۔ میرے خیال میں اِس وقت ذیادہ بِحث مُناسب نہیں ہے۔ جلد بازی  اکثر بنے بنائے کام کو بِگاڑنے کا باعث بن جاتی ہے۔اسلئے  ہم پھر کسی وقت کا انتخاب کریں گے۔ جب تک نرگس  کوبھی اپنی رائے پر نظر ثانی کرنے کا موقع مِل جائے گا۔۔۔ کامل علی کو ابو شامل کی رائے میں وزن محسوس ہُوا ۔  کامل نے نرگس کو الوداعی سلام کرنے کے بعد اجازت لی ۔ اُور فلیٹ سے نکل کر رُوڈ کی جانب چلتے ہُوئے ابو شامل سے دِل گرفتہ لہجے میں  گُویا ہُوا۔۔۔۔ یار میں نے تُو کبھی سُوچا بھی نہیں تھا۔ کہ  وقت گُزرنے کیساتھ نرگس اِتنا بدل جائے گی۔۔۔؟

یار پہلے تُو میں معذرت چاہتا ہُوں کہ ،، میں بنا بتائے نرگس کے گھر میں داخل ہُوگیا تھا۔ ابو شامل نے ظاہر  ہوکر شرمندگی کا اِظہار کرتے ہُوئے اپنی گفتگو جاری رکھی۔۔۔ دراصل میں خُوش ہی  اسقدر ذیادہ تھا۔ کہ مجھے اِس بات کا بالکل بھی خیال نہیں رَہا۔۔۔ اُور جہاں تک نرگس کی بے رُخی کی بات ہے۔۔۔۔ تو میرے یار۔۔۔ انسان ہُوں یا جِن سبھی کے جذبات ہُوتے ہیں۔ اُور مجھے  تُو پہلے ہی نرگس سے اِس رِی ایکشن کی توقع تھی۔۔۔ لیکن اسکا مطلب یہ ہرگز نہیں ہے ۔ کہ بازی تُمہارے ہاتھوں سے  بالکل نِکل چُکی ہے۔ ۔۔ بلکہ جسطرح پانی کی ایک ایک بُوند گرنے سے پہاڑ میں رستہ بن جاتا ہے۔۔۔ بس ہم بھی اِسی طرح دھیرے دھیرے نرگس کے دِل میں راستہ بنا لیں گے۔ اب چاہے پہلے دروازہ کُھلے یا کھڑکی ہَوا آنے جانے کا رستہ تُو بن ہی جائے گا۔۔۔ ابو شامل نے مُسکرا  کراپنے مخصوص انداز میں کامل کو آنکھ مارتے ہُوئے کہا۔۔۔۔

یار تُمہاری باتوں سے مجھے بُہت حُوصلہ مِلا ہے۔ ورنہ  نرگس نے تُو تمام خوشیوں کے چراغوں کو ہی پُھونک ڈالا تھا۔۔۔ ویسے تُم خُوش کس بات پر تھے۔یہ تُم نے نہیں بتایا۔۔۔ کامل علی نے جوابی آنکھ مارتے ہوئے مُسکرانے کی  ناکام کوشش کی۔۔۔ بتا تا ہُوں یار۔۔۔ آج تو میں جہلم فتح کرکے آیا ہُوں۔لیکن پہلے گھر تُو پُہنچ جائیں۔ پھر ساری کہانی سُناتا ہُوں۔ ابو شامل نے فاتحانہ انداز میں اپنے ہاتھ بُلند کرتے ہُوئے کہا۔
 (جاری ہے)۔


اُسکا کہنا ہے۔ کِسی اُور کو دیکھوں نہ کبھی
کیوں کہ اُسکو یہ میرا رُوپ بُرا لگتا ہے
مجھکو ہر چہرے میں آتی ہے نظر اِک وُہ ہی
جُو نہ بھر پائے یہ بہروُپ بُرا لگتا ہے

دانائی کے موتی




اُس دِن میں حسب معمول جب اپنے رُوحانی اُستاد کے کاشانے پر حاضر ہُوا۔ تب اِتفاق سے سلیم صاحب بھی وہاں پہلے سے ہی موجود تھے۔ جو کہ عموماً ہر ہفتہ کی شام ہی وہاں مُوجود پائے جاتے تھے۔( میں جب بھی لفظ رُوحانی اُستاد کا استعمال کرتا ہُوں۔ تب میری مُراد ہمیشہ اپنے اُستاد عشرت اقبال وارثی (رحمتہ اللہ علیہ )۔ سے ہُوتی ہے ۔ نا کہ اپنے مُرشدِ کریم سے۔۔۔ کیونکہ اپنے مُرشد کریم (رِحمتہ اللہ علیہ ) کو میں ہمیشہ مُرشدِ کریم ہی لکھتا ہُوں۔۔۔میرے یہ اُستاد جو کہ اتفاق سے میرے ہم نام تھے۔ بلکہ بقول اُنکے میں اُنکا ہم نام تھا۔۔۔ اُور یہ اُنکی مجھ پر خاص نوازش تھی۔ کہ وُہ میری تشنگی مِٹانے کیلئے خُود کراچی سے میرپُورخاص تشریف لائے تھے۔ یعنی پیاسہ کُنویں تک نہ پُہنچ سکا۔ تُو خُود کُنواں ہی پیاسے کے پاس چلا آیا تھا۔اُنکا یہ اِحسان ( جو کہ درحقیقت میرے مُرشدِ کریم کا ہی فیضان تھا)میں تا زِندگی بُھلا نہیں پاوٗں گا۔۔۔!

سلیم صاحب ہمیشہ کی طرح آج بھی اپنی ناکامیوں اُور مایُوسیوں کا رُونا رُو رہے تھے۔۔۔ جبکہ اُستاد مُحترم ہمیشہ کی طرح اُنکی دِلجوئی کا سامان فرمارہے تھے۔۔۔ جب سلیم صاحب واپس چلے گئے۔ تب میں نے تنہائی مُیسر آتے ہی اُستاد محترم سے سُوال کرڈالا۔۔۔ جناب میں کافی دِنوں سے دیکھ رہا ہُوں کہ سلیم صاحب آپ کے پاس ہر ہفتہ تشریف لاتے ہیں۔ اپنی پریشانیوں کا تذکرہ کرتے ہیں۔ پھر آپ اُنہیں کُچھ پڑھنے کیلئے بتاتے ہیں۔ لیکن وُہ ہمیشہ یہی کہتے نظر آتے ہیں کہ تمام وَظائف اُور تمام دُعاوٗں کے باوجود اُنکی کوئی دُعا قبولیت کا شرف حاصل نہیں کرپاتی۔۔۔

میرے اُستاد نے مُسکرا کر میری جانب دیکھتے ہُوئے کہا: تُو جونیئر عشرت وارثی صاحب آپکو کیا لگتا ہے۔ کیا وجہ ہُوسکتی ہے۔۔۔؟ جب بھی اُنکا مُوڈ خُوشگوار ہُوتا۔ یا اُنہیں میری کِسی بات پر پیار آتا۔ وُہ اِسی طرح مجھے جونیئر عشرت وارثی کہہ کر مُخاطب کیا کرتے تھے۔ میں نے اپنے دُونوں ہاتھ نفی میں ہِلاتے ہُوتے اپنی لاعلمی کا اِظہار کرتے ہُوئے کہا۔۔۔ حضرت میں کیا جانُوں۔۔۔ آپ ہی بتادیجئے نا۔

بھئی وجہ معلوم ہُونا چاہیئے نا۔۔ اُور صرف وجہ ہی معلوم نہیں ہُونا چاہیئے۔ بلکہ اُسکی علت کے اسباب، اُور مرض کی تشخیص کے ساتھ اُسکا علاج بھی معلوم ہُونا چاہیئے۔ کیونکہ ہم نے تُو اپنی ساری زندگی ایک حُکم کے سبب گُمنامی کی نظر کرڈالی۔ لیکن تُمہارے ساتھ ایسا نہیں ہُوگا۔ تُم سے سوال بھی کئے جائیں گے اُور لُوگ جواب کی اُمید بھی رکھیں گے۔۔۔ پس جب تُم سے کوئی عِلمی سوال کیا جائے ۔ جسکا جواب تُم جانتے ہُو۔ تو جواب ضرور دینا۔۔۔ اُورجب کوئی تشنہ لب تُمہارے در تک پُہنچنے میں کامیاب ہوجائے۔ تب اُسکی پیاس بُجھانے میں بھی بُخل سے کام نہیں لینا۔ البتہ جاہلوں اُور کم علموں سے مُباحث سے ہمیشہ گُریز کرنا۔ ورنہ وقت کے ضیاع کے سِوا کُچھ بھی حاصِل نہ کرپاوٗ گے۔ ۔۔

جناب جب آپ نے اپنے لئے گُمنامی کو پسند کرلیا ہے۔ تو مجھے بھی اِسی راہ کا مُسافر بنادیجئے نا۔۔۔ کیونکہ لوگوں کے ہجوم میں رِہنے سے ذیادہ مجھے بھی تنہائی کے لمحات پسند آتے ہیں۔۔۔ میں نے گُمنامی کی زِ ندگی کی خُواہش کرتے ہُوئے اپنے اُستاد کی جانب دیکھا۔۔۔ ارے بیٹا یہ کوئی میرے اِختیار کی بات تھوڑی نا تھی۔ وُہ تُو بس حُکم کی تعمیل مقصود تھی۔ سو ناچار پڑا اِِس راہ جانا۔۔۔۔ اُنہوں نے پھر سے تبسم فرماتے ہُوئے کہا۔

حضرت میں نے ایک سَادہ سا سُوال کیا تھا۔۔۔؟ شائد آپ جواب دینا نہیں چاہتے۔۔ میں نے اپنا سوال پھر سے دُہراتے ہُوئے ملتجانہ لہجے میں فریاد کی۔ میرے سوال دُہرائے جانے کے بعد وُہ چند لمحے خاموش رہے۔۔۔ پھر دھیمے دھیمے لہجے میں گُفتگو کی ابتداء کرتے ہُوئے سنجیدگی سےفرمانے لگے۔ بیٹا۔ اللہ کریم انسانوں سے جسقدر مُحبت کرتا ہے اِسکا کوئی تصور بھی نہیں کرسکتا۔ اُور نہ ہی دُنیا میں ایسا کوئی پیمانہ موجود ہے کہ،، جِسکے ذریعہ سے پروردِیگار کی اپنے بندوں سے مُحبت کو مَاپا جاسکے۔۔اُور حضرتِ انسان سے اُس کریم رب عزوجل کی اِس مُحبت کی سب سے بڑی دلیل کے لئے یہی بات کافی ہے۔ کہ،، اُس کریم نے اپنے محبوب ﷺ اُور تمام انبیا کرام کو انسانوں کے درمیان ہی مبعوث فرمایا۔۔۔

پھر کیا وجہ ہُوسکتی ہے اللہ کریم اپنے بَندوں کی دُعا قبول نہ فرمائے۔۔۔؟ اُنہوں نے خُود ہی سُوال قائم کرتے ہُوئے میری جانب دیکھا۔۔۔ میری خاموشی اُور مِحویت کو دیکھ کر اُنہوں نے پھر سے سلسلہِ کلام جاری رکھتے ہُوئے مزید ارشاد فرمایا۔۔۔وُہ کریم و مہربان رَبّ تُو اپنے بندوں کی تمام دُعاوٗں کو قبول فرماتا ہے۔ سِوائے اُس دُعا کے کہ،، جِس میں انسانوں کے لئے ضرر موجود ہُو۔۔۔

لیکن پھر بھی کِسی مانگنے والے کو اگر اپنے مَن کی مُراد حاصِل نہیں ہُوتی تُو جان لُو کہ،،، اُس اِنسان کے لئے وُہ شئے فائدہ مند نہیں ہے۔۔۔ اب چاہے وقتی ضرر ہُو یا دائمی نقصان ہُو۔ خُدا عزوجل کے نہ دینے میں کوئی نہ کوئی حکمت ضرور پُوشیدہ ہے۔ ۔۔۔ حضرت وقتی ضرر اُور دائمی نقصان سےآپکی کیا مُراد ہے۔۔۔۔؟ میں نے وضاحت طلب نظروں سے سُوال کرتے ہُوئے کہا۔

دیکھو بیٹا وقتی ضرر کا مطلب ہے کہ،، کچھ وقت کا نقصان۔ بِلا تشبیہ،، اِسے اِس مِثال سے سمجھنے کی کوشش کرو کہ،، جیسے مدرسہ کا کوئی طالب اپنا سبق یاد کرتے کرتے اپنے اُستاد سے کہے کہ مجھے کھیلنے کی اِجازت دی جائے۔ حالانکہ اُس طالب کی یہ مانگ پُوری کرنے میں اُستاد کا کوئی حرج و نُقصان نہیں ہے۔ لیکن اُستاد جانتا ہے کہ اگر یہ وقت طالب نے کھیل میں گُزار دِیا تُو وُہ کلاس میں موجود دوسرے بچوں سے بُہت پیچھے رِہ جائے گا۔ اِس لئے وُہ اِس طالب عِلم کی یہ ادنی سی خُواہش اسلئے پُوری نہیں ہُونے دیتا۔ کہ اُستاد کی نِگاہ مستقبل کے خطرات کو بھانپ لیتی ہے۔ جبکہ بچہ یہ بات اُس وقت نہیں سمجھ پاتا اُور اُسے لگتا ہے کہ جیسے اُستاد اُسکی خُوشیوں کا دُشمن ہُو۔ یا وُہ اِس سے قطعی مُحبت نہیں کرتا۔۔۔ جبکہ دائمی نُقصان سے یہ مُراد لی جاسکتی ہے۔۔۔ کہ بُہت سے شئے اگرچہ دیکھنے میں آنکھوں کو پُرکشش معلوم ہُوتی ہیں۔۔۔ لیکن درحقیت اُن اشیا کی قربت انسان کو خاکستر کرڈالتی ہے۔ جیسے کہ دِہکتا ہُوا انگارہ۔ ۔۔۔جُو کہ بطاہر دیکھنے میں سُرخ یاقوت کی طرح ہی پُرکشش نظر آتا ہے۔۔۔۔ لیکن کیا کوئی بچہ اپنے والدین سے ہزار بار بھی اِس دہکتے انگارے کو ایک لمحہ کیلئے بھی اپنے ہاتھ میں لینے کی خواہش ظاہر کرے۔ ۔۔۔تُو کیا والدین ایک مرتبہ بھی اپنے گُوشہءِ جگر کو اِس بات کی اِجازت دیں گے۔۔۔؟ یقیناً وُہ ہزار مرتبہ ہی اپنے بچے کی اِس خُواہش کو رَد کردیں گے۔

بے شک آپ نے بجا فرمایا۔۔۔ مگر اِس کے عِلاوہ بھی کوئی بات دُعا کی قبولیت میں مانع ہُوسکتی ہے۔۔۔ میں نے اُن کے خَاموش ہُوتے ہی اگلا سوال پیش کردِیا۔۔۔۔۔ ہاں اگر یہ وجہ نہ ہُو تو
۲ دیگر وجوہات بھی ہُوسکتی ہیں۔۔۔ اُستادِ محترم نے اَثبات میں اپنی گردن ہِلاتے ہُوئے جواب دیا۔۔۔ اُن ۲ وجوہات پر بھی روشنی ڈال دیجئے نا۔۔ تاکہ میرے علم میں مزید کُچھ اضافہ ہُوسکے۔۔۔؟ میری دَرخواست پر اُنہوں نے اپنی کلائی پر نِگاہ ڈالتے ہُوئے کہا۔ رات بُہت بیت چُکی ہے تُمہارے گھر والے بھی تشویش میں مُبتلا ہُونگے۔۔۔ اِس لئے اب جاوٗ ۔ کل جب آوٗ گے تب گُفتگو کو یہیں سے شروع کریں گے۔۔۔ میں جانتا تھا کہ،، اب میں لاکھ مِنت کروں تب بھی اُنکا اِرادہ نہیں بدلنے والا ہے۔ کیونکہ وُہ والدین اُور حُقوقُ العباد کا بُہت ذیادہ خیال رلھنے والے ہیں۔ ناچار مجھے گھر جانا پڑا۔۔۔۔ لیکن دوسرے دِن عشاءَ کی نماز سے فارغ ہُوتے ہی میں اُن کے آستانے پر پُہنچ گیا۔۔۔

اُنہوں نے مجھے اپنے گلے سے لگانے کے بعد اپنے قریب بِٹھالیا۔۔۔ پھر مُسکرا کر میری بے چینی کو بھانپتے ہُوئے فرمانے لگے۔۔۔ رات نیند تُو آگئی تھی نا۔۔۔؟میں نے اُنکا اِشارہ سمجھتے ہُوئے کہا۔۔۔ جی حضرت نا چاہتے ہُوئے بھی آہی گئی تھی۔۔۔۔ دیکھو بیٹا ماں باپ کے نافرمان کو جنت تو کُجا دُنیا ہی تنگ پڑجاتی ہے۔۔۔ اُور پھر جِسے خُدا کی تلاش ہُو۔یا۔۔ آخرت کی فِکر ہُو۔۔۔اُسے تو اُور بھی پھونک پھونک کر قدم بڑھانے چاہیئں۔ ورنہ ایک ٹھوکر ہی آسمان کی بُلندیوں سے قصر مذلت کی گھاٹیوں میں گِرانے کیلئے کافی ہُوتی ہے۔۔۔ میں نے اُنکا مطلب سمجھ کر اپنی گردن رضا کے واسطے خم کرتے ہُوئے کہا۔ آپ بجا فرماتے ہیں حضرت آئیندہ اُور ذیادہ اِحتیاط کرونگا۔۔۔۔ اُن کے چہرے پر میرے جواب سے خُوشی کی ایک لہر سی دُوڑ گئی۔

کُچھ لمحے مزید وَالدین کے حقوق سے ،متعلق نصیحت فرمانے کے بعد آپ نے اپنی گُفتگو کو دُوباہ کل کی گُذشتہ باتوں سے جُوڑتے ہُوئے ارشاد فرمایا۔ بیٹا جیسا کہ کل میں بتارہا کہ اگر کسی دُعا میں انسان کے لئے ضرر بھی نہ ہُو۔ تو
۲ مزید وجوھات بھی دعا کی قبولیت میں مانع ہُوسکتی ہیں۔ جس میں پہلی وجہ تو یہ ہُوسکتی ہے۔ کہ انسان اللہ کریم کی واضح ممانعت کے باوجود سرکشی پر اُتر آئے۔ اُور کِسی ایسے فعل میں مشغول ہُوجائے ۔ جو خُدا کی رضا کے بالکل برخلاف جاتا ہُو۔ جیسے شرک یا سودی معملات میں مشغول ہُوجانا۔۔۔جبکہ دُوسری وجہ یہ ہُوسکتی ہے۔ کہ انسان کا اپنے رَبّ سے ربط باقی نہ رہے۔۔ ۔

حضرت پہلی وجہ تُو مجھے سمجھ آگئی۔ لیکن دوسری وجہ عقل میں نہیں سمائی۔ بھلا یہ کسطرح ممکن ہے کہ بندے کا خالق سے ربط ہی باقی نہ رہے یہ تُو ناممکن سی بات لگتی ہے۔۔۔ اِس بات سے آپ کی کیا مُراد ہے۔۔۔؟ اُور آخر کسطرح یہ اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ بندے کا خُدا سے ربط ختم ہُوچُکا ہے۔میں نے بیچ میں لُقمہ دیتے ہُوئے کئی سُوالات کرڈالے۔۔۔ ۔۔۔بُہت اچھے سوالات کئے ہیں تُم نے۔ اُنہوں نے تحسین بھرے لہجے میں سَراہتے ہُوئے مجھے مُخاطب کیا۔۔۔ دَراصل رَبط باقی نہ رہنے سے میری مُراد یہ تھی کہ،، بندے کا اِسطرح سے اپنی زندگی کے سفر کو طے کرنا کہ جِسمیں اُسکی اپنی خُواہشات تُو موجود ہُوتی ہیں۔ لیکن اپنے مالک کی رضا شامل نہیں ہُوتی۔جِسکی وجہ سے بندے کا انتہائی کمزور تعلق اپنے رَب سے باقی رِہ جاتا ہے۔۔۔ اُور جِس پیرائے میں تُم سُوچ رہے ہُو۔ واقعی اُس پیرائے میں تو کبھی بھی خالق کا مخلوق سے رَبط ٹُوٹ ہی نہیں سکتا۔ یعنی بندہ جب بھی پلٹ کر خالق کو پُکارے گا۔ تب تب خالق کووُہ اپنے بُہت نذدیک پائے گا۔۔۔ لیکن میں جس تعلق کی بات کررہا ہُوں۔۔۔ وُہ ایسا ربط ہے جِس میں بندہ ہر لحظہ ہر ساعت خُود کو رب کے سامنے حاضر مِحسوس کرتا ہے۔ اُور یہی احساس اُسے گُناہ اُور نافرمانی سے دُور رکھنے کا باعث ہُوتا ہے۔ اُور اسکی تشخیص ہر ایک شخص تھوڑے سے غُور و فِکر کے بعد خُود حاصِل کرسکتا ہے۔

اِ س ربط کے کمزور ہُونے کی ایک نِشانی تو یہ ہے۔۔۔ کہ عموما جب بندے سے کوئی خطا کوئی گُناہ سرذد ہُوجاتا ہے۔ تب اُسکے مَن میں اِحساس نِدامت پیدا ہُوتا ہے جسکی وجہ سے وُہ بندہ اپنی خطا کی معافی اپنے رَب سے طلب کرلیتا ہے۔ اُور پاک ہُوجاتا ہے۔۔۔ لیکن متواتر گُناہ کرنے کے بعد بھی اگر احساس شرمندگی نہ ہُو۔۔۔ تُو سمجھ لینا چاہیئے کہ ربط خطرے میں ہے۔۔۔!

دوسری نشانی یہ ہے کہ ۔۔۔ جِس بندے کو مخلوقِ خُدا خُود سے کمتر ا‘ور حقیر نظر آنے لگے۔۔۔ اُن کا خُون ، اُنکی آبرو ، بے
قیمت نظر آنے لگے۔ تب جان لینا چاہیئے کہ خُدا سے ربط ٹوٹنے کو ہے۔ کیونکہ اِسکا نفس خُود خُدائی کا خواہشمند ہے۔۔۔۔! تب اُسکی دُعائیں کیوں کر مستعجاب ہُونگی۔۔۔؟

اُور بیٹا آخری بات یہ ہے کہ۔۔۔ جب تُمہیں کسی بندے کا خُدا سے ربط معلوم کرنا ہُو۔۔۔ تب یہ دیکھ لینا کہ وُہ خُدا کے بندوں سے کسقدر محبت رکھتا ہے َ جو مخلوقِ خُدا کی اذیتوں پر جسقدر تکلیف محسوس کرے گا۔ اُور اُن کےمصائب و پریشانیوں کو دُور کرنے میں مصروفِ عمل نظر آئے گا۔۔۔ اُسکا ربط، اُسکا تعلق اپنے پروردیگار سے اُسی قدر مضبوط ہُوگا۔۔۔ اُور جو مخلوقِ خُدا سے بیزار نظر آئے۔یا ۔ جِسکو۔ مخلوقِ خُدا کی ہلاکت و پریشانی سے خُوشی حاصل ہُو۔۔۔ دراصل وہی خَسارے میں ہے ۔ اُور وہی رَبط کُھو بیٹھا ہے۔۔۔

اُستادِ محترم کی گُفتگو میں ایسی چاشنی اُور اُن میں ایسی دانائی وحکمت کے گُوہر پُوشیدہ تھے۔ کہ دِل سے صِرف ۔۔ ھل مِن مزید۔۔۔ کے ترانے بُلند ہُورہے تھے مگر نجانے کیا ہُوا۔۔۔ کہ اُستاد محترم چُونک کر ایکدم کھڑے ہُوگئے ۔ اُور مجھ سے فرمانے لگے۔۔ عشرت میاں ہمارے کُچھ مہمان آنے والے ہیں۔ اسلئے اِس موضوع پر پھر کبھی گُفتگو کریں گے۔۔۔ فی الحال آپکو یہاں سے جانا ہُوگا۔ اتنا کہہ کر اُنہوں نے مجھ سے مُصافحہ کیلئے ہاتھ بڑھادیا۔ نہ چاہتے ہُوئے بھی مجھے اُن سے الوداعی مصافحہ کرنا پڑا ۔۔۔ پھر وُہ صدر دروازے کی جانب بڑھے۔ اُور کُنڈی کھول کر دروازے میں کسی کے استقبال کیلئے کھڑے ہُوگئے۔۔۔ میں اپنی چپلیں سنبھالے جب دروازے کے نذدیک پُہنچا ۔تب تک کُچھ لُوگ ایک بچے کو ہاتھوں میں تھامے دروازے سے اندر داخل ہُورہے تھے۔ ملجگی رُوشنی میں جب میں نے اُنکے چہرے دیکھنے کی کُوشش کی۔ تُو اُنکی سُرخ آنکھوں میں دِہکتے چراغوں کو دیکھ کر میرے جِسم کا رُواں رُواں کھڑا ہُوگیا۔ آنے والے مہمانوں کو دیکھ کر مجھے اِس قدر بہرحال اندازہ ہُو ہی چُکا تھا۔ کہ آنے والے چاہے جو بھی ہُوں۔۔۔مگر وُہ کم از کم انسان نہیں ہیں۔۔۔۔۔۔۔

پَلکوں سے دَرِ یار پہ دَستک دینا
اُونچی آواز ہُوئی عُمر کا سرمایہ گیا

Monday, 4 June 2012

sind mills photo

Sindh oil mills near chandni chowck opp dr chetan das hotwani mirpurkhas
Plot size 30*90 ft
Total area 2700 sq ft