bing

Your SEO optimized title page contents

Pages

Hamara Tube Channel

Friday, 15 February 2013

اللہ کو خُدا کہنا جائز یا ناجائز۔؟ ضرور پڑھیئے اُور شئیر کیجئے




بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

محترم قارئین السلامُ علیکم ہو سکتا ہے کبھی آپ کیساتھ بھی ایسا کوئی واقعہ پیش آیا ہو۔ کہ،، آپ نے کسی کو خُدا حافظ کہا ہو یا آپ کوئی ایسا شعر گُنگُنا رہے ہُوں ۔جِس میں لفظ خُدا کا استعمال ہوا ہو۔ اُور کسی نے آپ کو پکڑ کر جھنجوڑ دیا ہو کہ بھائی کیا کرتے ہو۔ اللہ کو خُدا کہتے ہو ۔۔۔؟ حالانکہ خُدا تو فارسی کا لفظ ہے اور فارسی تو جناب آتش پرستوں کی بھی زُبان ہے۔ لہذا توبہ کرو ورنہ کہیں ایسا نہ ہو کہ تُمہارا خاتمہ بھی آتش پرستوں کیساتھ ہو! عوامُ الناس جب اِس طرح کی باتیں سُنتے ہیں تو سِہم سے جاتے ہیں۔ اور اپنے دِل میں کہتے ہونگے۔ کہ بھئی اپنا ایمان تو خطرے میں تھا۔ اللہ بھلا کرے  اُن صاحب کا جنکی بدولت آتش پرستوں کیساتھ خاتمہ ہونے سے بچ گئے۔

بے شک اللہ کہنا لکھنا ہی سب سے افضل ہے۔ کہ یہ اسم ذات ہے کوئی صفتی اسم اِلہی اسکا مُتبادل ہُو ہی نہیں سکتا۔ کیونکہ ہر صفتی نام میں کسی ایک مخصوص صفت کا ذکر ہوتا ہے لیکن اسم اللہ تمام صِفات کا مظہر ہے۔ یا یُوں سمجھ لیجئے کہ ہر صفتی اسم اِک خوشنما پھول ہے تو اسم اللہ تمام پھولوں کا حسین گُلدستہ ہے لیکن اس کا مطلب یہ ہر گز نہیں کہ اللہ کریم کو خُدا عزوجل کہنا منع ہے۔

میں نے جب اِس طرح کی کئی ایک پوسٹ کو نیٹ پر پڑھا تو مجھے تشویش لاحق ہوئی کہ اس تحریر کولکھنے کا مقصد چاہے جو بھی رہا ہو۔ لیکن ایک بات ضرور ہے کہ اس کالم میں علامہ اقبال علیہ الرحمہ سے لیکر شیخ سعدی علیہ الرحمہ تک اور بر صغیر کے ہزاروں علماء کی ذات کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔

لہذا سب سے پہلے دارالافتاء حیدرآباد فون کیا اور فتویٰ معلوم کیا
فون نمبر 0092222621563
اسکے بعد دارالافتاء کنزالایمان کراچی
فون نمبر 00922134855174
پھر دارالافتاء نورالعرفان کراچی
فون نمبر 00922132203640
دارالافتا ء احکام شریعت میرپورخاص
فون نمبر 00923313718010
اسکے بعد مفتی محمد یعقوب سعیدی صاحب سے گفتگو  کی ۔۔۔اُور سبھی سے ایک ہی سوال دریافت کیا کہ جناب آپ اس مسئلہ کے متعلق کہ کیا اللہ کریم کو خدا کہہ کر پکارنا  جائز ہے یا ناجائز اور مجھے ہر جگہہ سے ایک ہی جواب مِلا کہ بالکل جائز ہے۔ اور سبھی علماءَ نے کہا کہ علماء اُمت کا اس پر اجماع بھی ہے لیکن بعض شر پسند عناصر مسلمانوں میں منافرت پھیلانے کیلئے ایسا پروپیگنڈہ کرتے ہیں جو قابل مذمت ہے۔

اور علامہ غلام رسول سعیدی طبیعان القران جلد 3 صفحہ 361 پر بحث کرتے ہوئے رقمطراز ہیں جسکا خلاصہ پیش خدمت ہے
کہ ایسے نام سے اللہ کو پکارنا جو اُس کی شان کے زیبا نہ ہو منع ہے ۔جیسے اللہ کے ساتھ میاں کا اضافہ کے یہ لفظ میاں انسانوں کیلئے بھی استعمال ہوتا ہے۔  یا اللہ کیساتھ سائیں کا اضافہ کہ،، سائیں فقیر کو بھی کہتے ہیں۔ اِس لئے اس کا اطلاق ممنوع ہے۔ جبکہ ایسے الفاظ سے اللہ کو پُکارنا جو اُس کی شان کے مطابق ہیں جیسے فارسی میں خدا اور ترکی میں تنکری کہ ان کے معنیٰ میں ابہام نہیں  بالکل جائز ہیں۔

محترم قارئین کرام ۔ اَب آتے ہیں اُس حدیث کی جانب جس کو یار لوگ بڑی ڈھٹائی کیساتھ اپنے حق میں پیش کیا کرتےہیں
مفہوم،،
نبی کریم (صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس شخص نے کسی قوم کی مشابہت اختیار کی تو وہ اُنہی میں سے ہوگا قیامت میں اُس کے ساتھ حشر ہوگا۔ (سنن ابو داود)۔

سیدی اعلحضرت امام احمد رضا(علیہ الرحمہ) فتاوی رضویہ جلد۸ صفحہ 622 پر ارشاد فرماتے ہیں۔

بحرالرائق ودرمختار و ردالمحتار وغیرہا ملاحظہ ہوں کہ'' بد مذہبوں سےمشابہت اُسی اَمر میں ممنوع ہے جو فی نفسہ شرعاً مذموم یا اس قوم کا شعار خاص یا خود فاعل کو ان سے مشابہت پیدا کرنا مقصود ہو ورنہ زنہار وجہ ممانعت نہیں

سیدی اعلحضرت نے تشبہ پر سیر حاصل گفتگو فرمائی ہے جسے آپ جلد نمبر اکیس تا چوبیس میں دیکھ سکتے ہیں جس کا خلاصہ کچھ یوں ہے کہ جس فعل کو کفار مذہب کا حصہ سمجھ کر رسماً ادا کرتے ہوں مثلا سینے پر زنار باندھنا یا صلیب لٹکانا یا بغل وغیرہ کے بال بڑھانا ، مونچھوں کا بہت ذیادہ بڑھانا جِس سے کسی بد مذہب کی مُشابِہت پیدا ہو یہ مشابہت ممنوع اور حرام ہے یا یہ کہ کُفار سے مُحبت کی بنا پر اُنکی نقالی کرے۔ یا اُنکے مذہبی تہواروں میں شریک ہونا، نا کہ کسی زبان کے استعمال سے مشابہت لازم آئے گی۔

لیکن محترم قارئین اِن لوگوں نے ایک ایسے مسئلے کو اپنی جانب سے متنازع بنادیا۔۔۔ جو کہ مسئلہ تھا ہی نہیں اور جس پر تمام مسلمانوں کا اجماع بھی ہے

اعتراضات

اکثر دیکھنے میں آیا ہے کہ جب ایسے لوگوں کو سمجھانے کی کوشش کی جائے تو یہ کہتے ہیں کہ جب اللہ کو خُدا کہہ سکتے ہیں تو  رَام اور وشنو کہہ کر کیوں نہیں پُکارتے؟

جواباً عرض ہے کہ رام کے ایک معنیٰ،، نہایت فرماں بردار،، بھی ہیں اور وشنو کے معنٰی ہِندؤں کے ہاں چار ہاتھوں والا رب،، بھی ہیں اور یقیناً یہ دونوں معنٰی مسلمانوں کے عقائد کے خلاف ہیں۔
اب دیکھتے ہیں کہ خدا کے لغوی معنیٰ کیا ہیں تو خدا کے لغوی معنٰی وہی ہیں جو اللہ کی شان کے مطابق ہیں یعنٰی مالک ،آقا ،باکمال ،معبود ، اور ربّ ۔

دوسرا اعتراض یہ ہوتا ہے کہ عرب شریف میں نبی پاک (صلی اللہ علیہ وسلم) کے دور مُبارک سے لیکر آج تک اللہ عزوجل کو خُدا نہیں کہا جاتا ۔

جواب
تو بھائی عربی اسقدر وسیع زُبان ہے۔ کہ عربی کے چھ لاکھ الفاظ وہ ہیں جو آج متروک ہوچُکے ہیں صرف اِسی بات سے اِس زُبان کی وُسعت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے لہذا یہ کہنا کہ عرب شریف میں فارسی نہیں بولی جاتی تو بھائی اُنہیں کیا ضرورت ہے کہ  عربی جیسی وسیع زُبان کے ہوتے ہوئے۔ جہاں صرف ایک جانور کے عربی میں بیس تیس تک نام ہوتے ہیں وہ فارسی کا استعمال کریں۔ جبکہ اردو عربی کے مُقابلے میں ایک محدود الفاظ رکھنے والی زُبان ہے اور لفظ خُدا کو فارسی سے شعری ضرورت کے پیش نظر لیا گیا ہے ناکہ مجوسیوں کی اتباع کی خاطر لہذا دانشمندی کا تقاضہ ہے اپنی ضرورتوں کو سمجھا جائے۔

اعتراض(3) فارسی کا استعمال آتش پرست کرتے رہے ہیں فلہذا فارسی سے گُریز از بس ضروری ہے؟

جواب مودبانہ عرض ہے کہ نبی آخرُالزماں خَتَمُ المرسلین (صلی اللہُ علیہ وسلم) کی بِعثت سے قبل مشرکین عرب عربی زُبان کا استعمال کیا کرتے تھے تو کیا ہمارے کریم آقا علیہ السلام نے اس زُبان سے بیزاری کا اظہار کیا؟ جواب ہوگا قطعی نہیں کیا اللہ کریم نے ناپسند فرمایا؟ بالکل نہیں بلکہ اللہ کریم کا کلام اِسی زُبان میں نازل ہوا۔ معلوم ہُوا کہ کہ زُبان توصرف رابطہ کا ذریعہ ہے ۔ ناکہ مذہب کی پہچان!اور آپکو وہ کروڑوں مسلمان کیوں نظر نہیں آتے جو فارسی زُبان استعمال کرتے ہیں۔

اعتراض4 ۔اَصل میں لفظ خُدا فارسی زبان کا لفظ ہے آتش پرستوں کے دو ۲ الٰہ تھے اُن میں ایک کا نام خُدائے یزدان اور دوسرے کا نام خُدائے اہرمن تھا اردو میں معنی ہوگا کہ اچھائی کا خُدا اور بُرائی کا خُدا۔

جواب،، یہی عقیدہ تو مشرکین عرب کا بھی تھا اور وہ بھی اپنے بیشُمار معبودوں کو اِلٰہ کہتے تھے جسکا ذکر جا بَجا قران مجید فُرقان حمید میں موجود ہے حوالے کیلئے دو آیات سورہ الحجر اور سورہ النحل سے پیش کرنے کی سعادت حاصل کررہا ہوں

الَّذِیۡنَ یَجْعَلُوۡنَ مَعَ اللہِ اِلٰھًا اٰخَرَ ۚ فَسَوْفَ یَعْلَمُوۡنَ ﴿۹۶﴾ 
جو اللہ کے ساتھ دوسرا معبود ٹھہراتے ہیں تو اب جان جائیں گے (سورۃ الحجر آیت96)

وَقَالَ اللہُ لَا تَتَّخِذُوۡۤا اِلٰـہَیۡنِ اثْنَیۡنِ ۚ اِنَّمَا ہُوَ اِلٰہٌ وَّاحِدٌ ۚ فَاِیَّایَ فَارْہَبُوۡنِ ﴿۵۱﴾ 
اور اللہ نے فرمایا دُو خدا نہ ٹھہراؤ وہ تو ایک ہی معبود ہے تو مجھی سے ڈرو (سورہ النحل آئت51)

اب دیکھئے کہ مشرکین عرب بھی اپنے بیشمار خداؤں کو اِلٰہ کہتے تھے تو اللہ کریم نے لفظِ اِلٰہ کہنے پر پابندی نہیں لگائی۔ بلکہ اپنے محبوب (صلی اللہ علیہ وسلم) کے ذریعے یہ تعلیم دی ۔ کہ اِلٰہ صرف ایک ہے۔ اُور وہ اللہ کریم کی یکتا اور بےمثال ذات ہے۔ اسی طرح ہم یہ تو کہیں گے کہ آتش پرستوں کے دو خُدا کا عقیدہ باطل ہے لیکن خُدا کہنے پر پابندی نہیں لگا سکتے کہ اس کے معنٰی وہی ہیں جو اِلٰہ کے معنیٰ ہیں۔

اعتراض(5) کیا خُدا کہنے کی کوئی دلیل قُران سے ثابت ہے؟

جواب جی ہاں سورہ الاِسراء آیت نمبر 110 میں اللہ کریم ارشاد فرماتا ہے
قُلِ ادْعُوا اللہَ اَوِادْعُوا الرَّحْمٰنَ ؕ اَیًّا مَّا تَدْعُوۡا فَلَہُ الۡاَسْمَآءُ الْحُسۡنٰی 
تم فرماؤ اللّٰہ کہہ کر پکارو یا رحمن کہہ کر جو کہہ کر پکارو سب اسی کے اچھے نام ہیں

اللہ کریم نے اِس آیت میں اُنہیں مخاطب کرتے ہوئے اِرشاد فرمایا ہے جو اللہ کریم کے ناموں میں جھگڑتے ہیں کہ سب اچھے نام اللہ کے ہیں۔
بس ہمیں بچنا ہے تو ایسے ناموں سے جو مالک حقیقی کے شایانِ شان نہ ہوں۔  اب آئیے اس آیت مبارکہ کا پس منظر بھی دیکھتے ہیں

شانِ نُزول : حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے فرمایا ایک شب سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے طویل سجدہ کیا اور اپنے سجدہ میں یااللہ یا رحمٰن فرماتے رہے ابو جہل نے سنا تو کہنے لگا کہ (حضرت) محمّد مصطفٰی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمیں تو کئی معبودوں کے پوجنے سے منع کرتے ہیں اور اپنے آپ دو کو پکارتے ہیں اللہ کو اور رحمٰن کو (معاذ اللہ) اس کے جواب میں یہ آیت نازِل ہوئی اور بتایا گیا اللہ اور رحمٰن دو نام ایک ہی معبودِ برحق کے ہیں خواہ کسی نام سے پکارو ۔

یہاں ایک بات یہ بھی معلوم ہوئی کہ اللہ کریم کے اچھے ناموں پر تنقید کرنا ابوجہل کا طریقہ ہے ناکہ صالحین کا۔

اعتراض(6) یہ جو علمائے کرام اللہ عزوجل کو خُدا کہنے کی اجازت دیتے ہیں۔ یہ اِنکی اپنی ذاتی رائے ہوتی ہے یہ اِذن قُران و سُنت سے نہیں دیتے؟

جواب ،، یہ عُلماءِ حق پر سراسر بُہتان ہے کیونکہ کوئی بھی عالم مفتی یا مُحدث قُران اور سُنت کے منافی فتوٰی صادر نہیں کرتا ۔ بلکہ اِنکا ہر فتویٰ قران اور سُنت کی ہی روشنی میں ہوتا ہے ا،سی لئے اِنہیں وارثینِ انبیاٗ  کا لقب مِلا ہے۔ 

اب یا تو اِن لوگوں کو فارسی زبان سے بغض تھا۔ یا پھر اُردو سے کینہ تھا۔ یا علماء برصغیر سے بیزاری۔۔۔ جُو بِنا سمجھے کروڑوں مسلمانوں کو بمعہ علماء کرام آتش پرستوں سے مُشابہت کی نوید سُنا کر معاذ اللہ ثمَ معاذ اللہ جہنم کی نوید سُنا ڈالتے ہیں

محترم قارئین کرام ایک حدیث کا مفہوم ہے۔

حضرت ابو ھریرہ رضی اللہ عنہُ سے مروی ہیکہ رسولِ اقدس علیہ الصلواۃ والسلام کا فرمانِ عبرت نشان ہے
فرمایا کہ جس نے بغیر علم کے کوئی فتویٰ دیا تو اُس کا گُناہ فتوٰی دینے والے پر ہوگا اور جس نے جان بوجھ کر اپنے بھائی کو غلط مشورہ دیا تو اُس نے اُس کے ساتھ خیانت کی
(۔(سنن ابو داود کتاب العلم باب التوقی فی الفتیا، جلد نمبر 3 صفحہ 449

لیکن یہاں حال یہ ہے کہ ایک حدیث سُنی کتاب دیکھنے کی نوبت نہیں آتی جو یاد رہا۔ صرف اُسی کو اپنی جانب سے قولِ نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) بتا کر بیان کر دیا جاتا ہے یا کسی کے نظریہ سے مُتاثر ہو کر کروڑوں مسلمانوں کو کفر کے فتوٰی سے نواز دیا جاتا ہے۔ نعوذُ باللہ۔

اور اس طرح مسلمانوں میں انتشار کی کیفیت پیدا کردی جاتی ہے جو قابل مذمت عمل ہے
اللہ کریم ہم سب کے ایمان کی حفاظت فرمائے ۔ اور ایسے نیم عالم خطرہ ایمان سے بھی  ہم سب کومحفوظ رکھے۔
میں نے تمام حقائق آپ کے سامنے رکھ دئیے ہیں اور تمام علماء کی رائے بھی آپکے سامنے پیش کردی ہے۔ لِہذا یہ اب  آپکا اخلاقی اُور دینی  فرض ہے۔کہ،، ہر ایسے شخص سے ہوشیار رہیں جو مسلمانوں میں تفرقہ بازی کا باعث ہو۔

اللہ کریم اپنے مدنی محبوب ﷺ کے طُفیل تمام مسلمانوں کو ایسے نام نہاد مذہبی لوگوں کے شر سے ہمیشہ محٖفوظ رکھے جو ہمارے ایمان کیلئے ہمیشہ خطرہ بنے رہتے ہیں۔۔
آمین بجاہِ النبی الامین وصلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وبارک وسلم


Thursday, 14 February 2013

یہ محتاجی نہیں اِک راز ہے۔


میں میلاد النبی صلی اللہُ علیہ وسلم کے حوالے سے لکھنے کیلئے ایک خاکہ اپنے ذہن میں تیار کررَہا تھا۔ لیکن موبائیل پر متواتر  بجنے والی  ٹیونز میرے تخیل کو کسی ایک نقطے پر مرکوز ہُونے ہی نہیں دے رہی تھی۔۔۔ بلاآخر میں نے مجبورہُوکر مُوبائیل کو چارجر سے جُدا کرنے کے بعد اپنے ہاتھ میں اُٹھا ہی لیا۔۔۔۔۔۔۔ السلامُ علیکم۔۔۔۔۔ وعلیکم السلام ۔۔۔ جی میں عشرت اقبال وارثی سے بات کرنا چاہتی ہُوں۔۔۔  جی محترمہ میں حاضر ہُوں فرمایئے۔۔۔۔ آواز سے میں نے اندازہ لگایا کہ،، شائد فون پر کوئی اُنیس یا بیس برس کی طالبہ مُوجود ہیں۔۔۔ اگرچہ بعد میں میرا خیال بالکل غلط ثابت ہُوا۔ جب دُوران گفتگو اُنہوں نے ہمت جمع کرکے کمال جراٗت سے مجھے سچ سچ  بتادیا کہ،، وُہ میری ہم عمر  ہیں۔ اُور ابھی حال ہی میں بیرونِ مُلک سے پاکستان تشریف لائیں ہیں۔ حالانکہ خواتین سب کچھ بتاسکتی ہیں۔ سِوائے اپنی صحیح عُمر کے۔۔۔!

عشرت وارثی صاحب  میں آپکے اکثر کالم ایک خاموش اُور گُمنام قاری کے طُور پر عرصہ دراز سے مُسلسل پڑھ رَہی ہُوں۔۔۔ آپ کے کالم فیضانِ اسم اعظم    کی سیریز میں خاصےاِشتیاق سے پڑھتی رَہی ہُوں۔۔۔ جِس میں مُوجود اکثر وظائف سے مجھے رُوحانی سکون بھی نصیب ہُوا۔ اُور کافی مسائل بھی  اُن وظائف کے توسل سے حل ہُوگئے۔۔۔ لیکن آج ایک سوال میرے ذہن کو پراگندہ کئے جارہا ہے۔اِسلئے مجھے آپ سے ایک بات معلوم کرنی ہے۔ کیا آپ میرے سوال کا جواب دینا پسند کریں گے۔۔۔؟

جی ضرور اگر  میرے کِسی کالم سے آپ کے ذہن میں تشنگی پیدا ہُوئی ہے۔ تُو میں کوشش کرونگا کہ اُس بات کو مزید وضاحت سے آپکو سمجھانے کی کُوشش کروں۔۔۔ میرا خیال تھا کہ وُہ محترمہ مجھ سے کسی رُوحانی مسئلے کے متعلق اِستفسار کریں گی۔۔۔ لیکن بعد میں میرا یہ خیال بھی خیالِ خام ثابت ہُوا۔

میرے حامی بھرنے کے بعد اُنہوں نے اپنی گفتگو کو مزید بڑھاتے ہُوئے کہا۔۔۔دراصل  پاکستان آنے کے بعد سے میرے مُعاشی حالات کافی ابتری کا شِکار ہُوگئے ہیں۔۔۔  اُور میں جتنا اِنہیں سُلجھانے کی کُوشش کرتی ہُوں۔ یہ مزید  بِگڑتے چلے جارہے ہیں۔۔۔  ابھی گُذشتہ دِنوں  میری  ایک چھوٹی بہن کا رِشتہ طے ہُوگیا۔۔۔ لیکن جیسا کہ میں نے ابھی بتایا کہ  ہمارے معاشی حالات کچھ عرصے سے بہتر نہیں ہیں۔ اُور لڑکے والوں کا اِصرار تھا کہ جلد از جلد شادی کی تاریخ  دے دی جائے۔ اسلئے ہمارے لئے سب سے اہم مسئلہ یہ تھا۔ کہ شادی کے اِخراجات کیلئے رقم کا بندوبست کہاں سے کیا جائے۔ ۔۔چند دِن اِسی سُوچ و بچار کی نظر ہُوگئے۔ پھر ایک دِن مجھے خیال آیا کہ آپ نے اپنے ایک کالم میں صلواۃُ الاسرار کے متعلق لکھا تھا۔ کہ اِس نفلی نماز کی برکت سے  بڑے سے بڑا مسئلہ حل ہُوجاتا ہے۔


 لِہذا میں نے چند دِن ہی صلواۃ الاسرار پڑھی تھی کہ،، میری چند فرینڈز نے مجھے  اِس شرط پر مطلوبہ رقم فراہم کردی کہ،، میں جلد از جلد یہ رقم لُوٹادُوں گی۔۔۔ مجھے بھی قوی اُمید تھی۔ کہ مجھے پاکستان میں کوئی نہ کوئی بہتر جاب مِل جائے گی۔ اُور میں وُہ رقم واپس لُوٹا دُونگی۔۔۔ لیکن بہن کی شادی سے فارغ ہُونے کے بعد کافی کُوشش کے باوجود بھی مجھے کوئی مُناسب جاب نہیں مِل پائی۔  جبکہ دُوسری طرف میری فرینڈز کا تقاضہ بڑھنے لگا۔ کہ میں وُہ رقم اُنہیں واپس لُوٹادُوں۔۔۔ لیکن آخر میں کہاں سے رقم لُوٹاسکتی تھی۔  کیوں کہ میرے پاس نہ ہی کوئی جاب ہے اُور نہ ہی کوئی اُور ذریعہ مُعاش۔۔۔ اسلئے میں نے اپنی فرینڈز کو تمام صورتحال بتاتے ہُوئے کہا۔۔۔ کہ میں رقم ادا کردونگی۔ لیکن اُس کیلئے کوئی  ٹائم فریم نہیں دے سکتی۔ کیوں کہ جب میرے پاس کوئی ذریعہ معاش ہی نہیں ہے۔ تو میں ٹائم ٹیبل کیسے دے سکتی ہُوں۔ البتہ اتنا ضرور ہے کہ میں خود قرض کے اِس وزن سے جلد از جلد اپنا دامن چُھڑانا چاہتی ہُوں۔

لیکن چند  ہفتے انتظار کے بعد ہی میری اُن دیرینہ فرینڈز کے رَویوں میں مُحبت اُور خُلوص کی جگہ۔۔۔ سرد مہری اُور درشتگی کا عنصر نمایاں ہُونے لگا۔۔ ۔  اُور جب اُنہیں یہ یقین ہُوگیا کہ،، میں فی الحال اُنکی رقم لُوٹانے کی پُوزیشن میں نہیں ہُوں۔ تو اُنہوں نے   میرے ساتھ بے رُخی کا ایسا برتاوٗ برتا۔۔۔ ۔ کہ،، جِسکا تصور میں کبھی خُواب میں بھی نہیں کرسکتی تھی۔ میری جتنی تذلیل کی گئی۔ وُہ نہ ہی میں بیان کرسکتی ہُوں۔ اُور نہ ہی آپ شائد اُس تذلیل کا اندازہ لگا سکتے ہیں۔۔۔ اِن مسلسل پریشانیوں کی وجہ سے  ایک وقت میری زندگی میں ایسا بھی آیا کہ مجھ میں جینے کی خاہش ہی ختم ہُوگئی۔۔۔ کیونکہ میں ذلت کی زندگی سے عزت کی مُوت کو پسند کرتی ہُوں۔ لیکن زندگی نے ایسے دُوراہے پر لاکھڑا کیا ہے۔ کہ نہ اپنے پروردیگار کی امانت اِس زندگی کا خاتمہ کرسکتی ہُوں۔۔۔۔ اُور نہ ہی قرض ادا کرنے کی پُوزیشن میں ہُوں۔

لیکن آج اِن تمام حالات کی وجہ سے میرے ذہن میں ایک سوال بار بار  پیدا ہُورہا ہے۔۔۔ جسکا کوئی جواب میرے ذہن کو مطمئن نہیں کرپارَہا ہے۔ اس لئے آپ سے رُجوع کررہی ہُوں۔ اُور میرا سوال یہ ہے ۔ کہ،،  جب سب کو مال و دُولت اللہ کریم عطا فرماتا ہے۔ تو ہمیں لُوگوں کا محتاج کیوں بنادیا۔؟  میرا مطلب یہ ہے۔ کہ،،  جب ہمیں کسی شئے کی ضرورت ہُوتی ہے۔ تو وُہ شئے ہمیں لوگوں سے کیوں مانگنی پڑتی ہے۔ آسمان سے کیوں ہمارے لئے نازل نہیں ہُوجاتی۔ ۔۔؟

ٹھیک ہے محترمہ ! میں آپکی تمام گفتگو  کا مافی الضمیر سمجھ گیا ہُوں۔ اُور آپکے سوال کی الجھن بھی۔۔۔۔  لیکن میں کوئی عالم فاضل تو ہُوں نہیں کہ ہر سوال کا سب کو تشفی بخش جواب دے پاوٗں۔۔۔۔ البتہ اللہ کریم سے مدد طلب کرتے ہُوئے  میں کوشش ضرور کروں گا۔ کہ آپکی الجھن  کو سُلجھا پاوٗں۔ باقی  بات کو  دِل میں اُتارنے والی ذات تو اللہ کریم کی ہے۔ وُہ جسکے لئے چاہے بات کو سمجھنا آسان کردے۔ میں نے اپنی گفتگو کا آغاز کرتے ہُوئے تہمید باندھی۔

 میری ناقص معلومات کے مُطابق اللہ کریم نے جب انسان کی تخلیق فرمائی۔ تو یہ تخلیقی عمل صرف ایک مخلوق کی پیدائش کا عمل نہیں تھا۔ بلکہ اللہ کریم نے جب چاہا کہ کوئی ایسی مخلوق ہُونی چاہیئے۔ جس میں فرماں برداری کیساتھ ساتھ نافرمانی کا مادہ بھی موجود ہُو۔ جس میں صرف اطاعت کا جذبہ ہی موجزن نہ ہُو ۔ بلکہ اُس میں نفسانی خواہشات بھی ہُوں۔ اُس میں شعور و آگہی کی نعمت بھی ہُو۔ تو اسکے پاس سفلی جذبات بھی ہُوں۔ اُسکے دِل میں جنت کی خواہش بھی ہُو۔ لیکن جلد پانے کی بے چینی بھی ہُو۔ اُسکے سامنے دُنیا کی رعنائیاں بھی ہُوں۔ تو اُس کے پیشِ نظر آخرت کے انعامات بھی ہُوں۔ پھر ان تمام چیزوں کیساتھ اُس کے پاس عقل کی نعمت بھی ہُو۔ جسکے ذریعے سے وُہ اچھے بُرے میں امتیاز کرسکے۔اُور اتنے سارے معملات میں گھرنے کے باوجود بھی اگر وُہ صحیح فیصلہ کرپائے۔ اُور عقبی کو دُنیا پر فوقیت دے پائے تو یقیناً ایسی مخلوق کے سر پہ ہی اپنی نیابت کا تاج سجانا چاہیئے ۔ چُنانچہ اللہ کریم نے حضرت انسان کو نہایت محبت کیساتھ یہ کہہ کر تخلیق فرمایا۔ کہ بے شک ہم نے انسان کو سب سے احسن صورت پر پیدا فرمایا۔

پھر صرف حضرت انسان کو پیدا نہیں فرمایا۔۔ بلکہ اُنکے لئے زمین میں تاثیر رکھی۔ کہ اناج پیدا کرسکے۔ چاند کی روشنی میں مٹھاس کو پُوشیدہ کردیا۔ تاکہ پھلوں میں لذت قائم رہے۔ سورج کی رُوشنی میں زندگی کی حرارت کو پنہاں کردیا۔ موسموں کو پیدا فرمایا۔ بادل کی ڈیوٹی لگائی کہ وُہ پانی کو ایک جگہ سے دوسری جگہ لیجاسکے۔ زمین میں استقامت کیلئے پہاڑ پیدا فرمائے۔ درختوں میں جسم کی تازگی کا سامان مُہیا کردیا گیا۔ جسم کو طاقتور رکھنے کیلئے  گوشت کے ذخائر چوپایوں میں رکھ دیئے گئے۔ اُور کچھ جانوروں کو سواری کا ذریعہ بنادیا گیا۔ الغرض صرف حضرت انسان کو نہیں بنایا۔ بلکہ اُسکے لئے ایک مکمل اُور مربوط سسٹم بنایا گیا۔ جس سے کوئی بھی ذی عقل اندازہ لگا سکتا ہے۔ کہ،، اس مخلوق کی تخلیق میں اللہ کریم کی محبت کس درجہ کمال کی ہُوگی۔ جسکے لئے اسقدر انتظام  اُور وسائل پیدا کیئے گئے ہیں۔۔۔

اُور جب اللہ  کریم نے اپنی  اِس خُوبصورت مخلوق کو زمین میں اپنا  خلیفہ بنانے کا اعلان فرمایا تو۔ شیطان نے احتجاج کیا،،، اُور اِس مخلوق کو حقیر جانا ۔ اللہ کریم نے اِسی مخلوق کی محبت میں معلم ملائکہ ابوالجنات شیطان کو اپنی بارگاہ سے مردود کہہ کر نکال دیا۔ پھر فرشتوں نے بڑے ادب سے عرض کیا اے پروردیگار یہ انسان تیری عظمت کا حق ادا نہیں کرپائے گا۔ دُنیا میں جاکر شر پھیلائے گا۔ خُون ریزی کرے گا۔ تو اللہ کریم نے علم اسماء کے نور سے حضرت انسان کو مزید جِلا بخشی۔ اُور فرشتوں  کو یاد دِلایا کہ جو میں جانتا ہُوں۔ وُہ تُم نہیں جانتے۔

اُور  انسانوں کے علاوہ میری کوئی ایسی مخلوق نہیں جسے میں نے نفس و شہوت عطا کی ہُو۔۔۔۔ لیکن یہ بھی صرف میں رَب ہی جانتا ہُوں ۔ کہ اِس نفس و شہوت کے باوجود بھی اِنہی انسانوں میں ایک گروہ  ہُوگا۔ جِسے نفسانی خُواہشات کے مقابلے میں میری رضا درکار ہُوگی۔ جو کھانا، پانی وافر مقدار میں موجود ہُونے  اُور  حاجت و جسمانی طلب کے باوجود اِس لئے نہیں کھائیں گے۔ کہ  اُس  وقت  کھانا میری مرضی نہ ہُوگی۔۔۔۔ حسین چہرے اُور خوشبودار بدن صرف میرے حکم کے باعث اُنہیں  اپنی طرف متوجہ نہیں کرپائیں گے۔ دُنیا کی رعنائیاں اُنکی نظر التفات کی متمنی ہُونگی۔ جب کہ وُہ مال و زر سے بیزار ہُونگے۔ میں کبھی دُولت کے انبار عطا کرتے ہُوئے اُنہیں آزماوٗں گا۔ تو کبھی مفلسی دے کر۔۔۔۔ لیکن میرے وُہ بندے جو خاص میرے ہُونگے  میری ہر آزمائش پر پُورا اُتریں گے۔۔۔۔۔ اِس لئے اے فرشتوں جب تُم اُنہیں دیکھ لو۔۔۔ تُو گواہ ہُوجانا کہ وُہ آزمائش پر پُورا اترنے والے ہیں۔

جواب بُہت آسان  ہے۔۔۔۔ کہ،، خدا قادر مطلق ہے۔ چاہے تو ہر مانگنے والے کو نعمت آسمان سے نازل کردے۔  لیکن پھر اِس بزم دُنیا کی ضرورت کیا تھی۔ خُدا نے جب تمام ارواح کو پیدا فرمایا۔ پیدا فرماتے ہی جنت عطا فرمادیتا۔ نہ کوئی مشقت ہُوتی نہ کوئی آزمائیش۔ لیکن فرشتوں کا سوال ادھورا رِہ جاتا کہ،، بلاآخر اِس انسان میں ایسا کیا ہے۔ ؟ کہ جسکی وجہ سے خلافت کا تاج حضرت انسان کو عطا کیا گیا۔ فرشتوں کے سر پہ نہیں سجایا گیا۔

اسلئے یہاں اپنی کمائی دوسروں کو دینے والا بھی آزمائش میں ہے۔ اُور لینے والا بھی۔ اب کون کیسے دیتا ہے۔ یا نہیں دیتا۔۔۔۔۔ اُور کون لیتا ہے۔ اُور کیسے واپس لُوٹاتا ہے۔ سب کا حساب رکھا جارہا ہے۔ جسے دُنیا میں جتنا کم مِلا ہے۔ اُسکا حساب بھی جلدی ختم ہُوجائے گا۔ اُور وُہ ہمیشہ ہمیشہ کیلئے اُس بھیڑ اُور سختی کے دِن جنت میں بھی پہلے چلا جائے گا۔ اُور جو دیکر ذلیل کرتا رَہا۔ حساب تو اُسے بھی دینا ہے۔ لیکن آخر ہے تو وُہ بھی اپنا۔ اسلئے اُسکے  حق میں بھی دُعا کردیا کریں۔۔۔۔۔ لیکن ہمیشہ کی زندگی کا لطف لینے سے قبل۔۔۔۔ امتحان تو دینا ہی پڑے گا۔۔۔۔
یہ وظیفہ محترمہ عاصمہ جی کی طرف سے اُن خاتون کیلئے جو  اس کالم کی وجہ تحریر ہیں

Monday, 11 February 2013

واعظ اُور طَوائف


یہ قریباً 17 برس پرانی بات ہے۔ آج ایک صاحب کو دیکھ کر پھر گُزرے زمانے کی یاد تازہ ہوگئی اور میں نے سُوچا کہ چَلو
آپ لوگوں سے بھی اُس واقعہ کو شئیر کرلیتا ہوں۔

میری عُمر اُس وقت یہی کوئی 23 برس کی رہی ہُوگی مجھے اُن دِنوں اگرچہ لکھنے کا کوئی خاص شُوق نہیں تھا بلکہ یُوں کہنا چاہیئے کہ ایسا کوئی چسکا ہی نہیں پَڑا تھا ۔مگر کتابوں سے مُحبت تب بھی زُورُوں پر تھی میری ایک کِتاب میرے دوست پڑھنے کیلئے ایسے لے گئے کہ پھر اُنکی واپسی کبھی نہیں ہوئی ۔کئی مرتبہ مُطالبے کے باوجود بھی جب کتاب نہ مِلی تُو سوچا دوبارہ بازار سے خَرید لیتا ہُوں ۔

شہر کے تمام بُک اِسٹالوں کی خاک چھاننے کے باوجود بھی وہ کِتاب مجھے مُیسر نہیں آئی ۔۔ کتاب کا نام تھا سیرتِ رسول عربیﷺ جِسے علامہ نور بخش توکلی دامت برکاتہم عالیہ نے کمالِ مُحبت اور شوق سے اِسطرح لکھا ہے کہ پڑھنے والے قاری کا عشق رسول ﷺ ہر ہر سطر پڑھ کر بڑھتا ہی چلا جاتا ہے ۔ اور اُس وقت مجھے اُسی بیش قیمت کتاب کی ضرورت تھی مگر کتاب تھی کہ مِل ہی نہیں رہی تھی تبھی مجھے یاد آیا کہ میں نے یہ کتاب اپنے ایک دوست کے پاس بھی دیکھی تھی جو اُن دِنوں ایک جنرل اسٹور چلایا کرتے تھے۔

جب میں اپنے دُوست کی شاپ پر پُہنچا تب دوپہر ڈھل رہی تھی اور شام ہونے کو تھی ۔ میں نے اپنے دوست کے پاس پُہنچنے کے بعد اپنا مُدعا ظاہر کیا۔ وہ دوست کہنے لگے کہ عشرت بھائی کتاب دُکان پر نہیں بلکہ گھر پر موجود ہے آپ میرے پاس بیٹھیں میں کسی بچےکو بھیج کر کتاب گھر سے منگوالیتا ہُوں۔ مجھے اپنے دوست کی یہ تجویز پسند آئی اور میں اُنکے پاس بیٹھ گیا۔

دُکان چُونکہ شہر کی مصروف شاہراہ پر تھی اسلیئے دُکان کا سائز کافی چھوٹا تھا کسی صاحب نے اپنے مکان میں ایک اچھی خاصی مارکیٹ بنا رکھی تھی دُکانوں کی لمبائی اگرچہ پندرہ فِٹ سے کسی طُور کم نہ رہی ہوگی مگر دُکانوں کی چوڑائی 7 فِٹ سے ہر گز ذیادہ بھی نہ رہی ہُوگی۔ جسکی وجہ سے برابر کی دُکانوں پر اگر دُکاندار کسی گاہک سے بات کر رہا ہُو تو وہ صاف سُنائی دیتی تھی۔

جنرل اِسٹور کیساتھ ہی ایک حجام کی دُکان تھی حجام ایک شخص کی شِیو بنارہا تھا اور وہ گاہک جو بظاہر پچاس پچپن برس کا ایک صحتمند شخص نظر آرہا تھا حجام سے شِکایت کر رہا تھا کہ حجام اچھا بلیڈ استعمال نہیں کرتا جسکی وجہ سے ہر تیسرے دِن اُس شخص کی شِیو بڑھ جاتی ہے۔

کُچھ وقت گُزرنے کے بعد اُس شخص نے گُفتگو کا رُخ مذہب کی جانب مُوڑ دِیا۔ چُونکہ گُفتگو کےموضوع میں میری پسندیدگی کا تمام سامان موجود تھا لِہذا میں نے بھی خاموشی سے اپنا تمام دھیان اِس گُفتگو کی جانب لگا دِیا۔

وہ بُوڑھا شخص اگرچہ اپنی وضع قطع سے ہر گز کوئی مبلغ نظر نہیں آتا تھا لیکن اُسکی نپی تُلی گُفتگو سے مجھے یہ اندازہ لگانے میں قطعی دُشواری پیش نہیں آئی کہ بِلا شُبہ اُس بوڑھے شخص کا مُطالعہ کافی وسیع تھا اور مذہبی معاملات کیساتھ ساتھ اُس شخص کی تاریخ پر بھی کافی مضبوط گرفت تھی وہ کتابوں کے حوالے ایسے تواتر سے پیش کررہا تھا کہ گُویا جیسے وہ تمام کتابیں اُسکے سامنے کُھلی پڑی ہُوں گُفتگو جُوں جُوں آگے بڑھتی جارہی تھی میں اُس شخص سے مُتاثر ہوتا چلا جارہا تھا۔ لیکن دھیرے دھیرے مجھ پر یہ انکشاف ہُونے لگا کہ موصوف کُچھ زیادہ ہی احساسِ برتری کے مَرض میں گرفتار ہیں کیونکہ وہ بار بار بڑے فخریہ لہجے میں اپنے علم اور اپنے مُطالعے کا ذکر کِسی نہ کِسی طرح اپنی گُفتگو میں لے آتے اور اُنہیں اِس بات کا زَعم بھی شدت کیساتھ تھا کہ شائد ہی کسی شخص کے پاس اِسقدر کتابوں کا ذخیرہ موجود ہُو جِیسا ذخیرہ اُنہوں نے دُنیا بھر کی نایاب کتابوں سے اپنی کوٹھی میں جمع کیا ہُوا ہے۔

وہ بوڑھا شخص شِیو بنوانے کے بعد ایک کُرسی پر براجمان ہُوگیا اور اپنے عملی قِصّوُں اور عِلمی گُفتگو سے موجود سامعین کو گرمانے لگا یہاں تک کہ درمیان میں عصر کی نماز کا وقت ہُوگیا میں اور میرا دوست نماز عصر کیلئے مسجد روانہ ہوگئے راستہ میں میرے دوست نے اُس بوڑھے شخص کے متعلق مجھے بتایا کہ وہ ایک بڑا زمیندار ہے اور ایک وسیع لائبریری اُسکے گھر میں موجود ہے صحت چُونکہ قابلِ رشک ہے اسلئے پنسٹھ سال سے زائد عُمر کے باوجود بھی وہ شخص پچاس برس کا نظر آتا ہے خُوش شکل ہونے کیساتھ ساتھ خُوش لِباس بھی واقع ہُوا ہے جہاں موصوف کو نئی گاڑیوں کا بُہت شوق ہے تو دوسری جانب کتابوں کی خریداری کا شُوق بھی جُنون کی حد تک ہے۔

عصر کی نماز سے فارغ ہُو کر جب ہم جنرل اِسٹور پر پُہنچے تُو میری مطلوبہ کتاب آچُکی تھی۔ دوسری جانب اُس شخص کا وعظ بھی جاری تھا میں چُونکہ اُس گُفتگو سے بُہت محظوظ ہُورہا تھا اِسلئے میں مزید گُفتگو سُننے کے اِشتیاق میں وہیں بیٹھ رَہا۔حجام کو بھی اِس تمام گُفتگو سے شائد بُہت لُطف حاصِل ہورہا تھا اِس لئے وہ بھی بڑے انہماک سے یہ گُفتگو سُن رہا تھا چار پانچ لُوگ جو شائد اپنی حجامت بنوانے کیلئے یا پھر اخبار کے مُطالعے کے لئے حجام کی دُکان پر آئے بیٹھے تھے وہ بھی اُس شخص کی باتوں یا وعظ کو بڑی دِلچسپی سے سماعت کر رہے تھے۔

سُورج کی روشنی آہستہ آہستہ مدہم پڑتی جارہی تھی میں نے گھڑی کی جانب نِگاہ دوڑائی تو معلوم ہُوا کہ نماز مغرب میں پندرہ منٹ باقی ہیں میں نے سُوچا اتنے اچھے ماحول کو چھوڑ کر جانا کُفرانِ نعمت ہُوگا لِہذا مغرب ادا کرنے کے بعد ہی گھر جاؤں گا۔ تبھی ایک انتہائی حَسین خاتون جنرل اِسٹور پر تشریف لائیں اور دھیمی آواز میں میرے دوست سے بات کرتے ہُوئے سامان کی لِسٹ میرے دوست کے ہاتھ میں تھما کر نظریں جُھکائے اپنے مطلوبہ سامان کا انتظار کرنے لگیں۔

جُونہی یہ خَاتون جنکی عُمر تقریباً 40 برس کے قریب ہوگی جنرل اِسٹور پر تشریف لائیں ۔ حیرت انگیز طُور پر اُن واعظ صاحب کا بیان کُچھ ہی لَمحوں میں اِختتام پذیر ہُو گیا۔ میرے نِگاہُوں کا مِحور چُونکہ وہ واعظ صاحب تھے ۔ اِس لئے مجھے بڑی حیرت ہُوئی جب میں نے یہ دیکھا کہ ابھی جُو شخص اللہ کریم اور اُسکے مِحبوب صلی اللہ علیہ وسلم کی باتیں کرتے نہیں تھکتا تھا وہی شخص بڑی ڈھٹائی اور بے شرمی سے اُن خاتون کے جِسم کا طواف اپنی ہَوس ناک نِگاہوں سے کئے جارہا تھا اور اِس بات سے بے خبر تھا کہ میں جو ابھی کُچھ لمحے پہلے اُسکی علمیت اور دُور اندیشی کا قائل ہُوچُکا تھا اُسکی یہ غیر اِخلاقی حَرکت دیکھ کر اپنی سابقہ رائے پر نادم ہُورہا ہُوں۔

چند لَمحوں بعد مجھے ایسا محسوس ہُونے لگا جیسے گِرد اَگِردمیں موجود ہر شخص کی نِگاہُوں کا مِحور صرف اور صِرف وہی خاتون ہُوں۔ میں نے ایک مرتبہ سیدنا اِمامِ غزالی رحمتہ اللہِ الوَالِی کی ایک تحریر پڑھی تھی جسمیں آپ نے انسانی نفسیات اور اُسکی مشاہداتی حِسوں کا تذکرہ کرتے ہُوئے لِکھا تھا کہ ۔ ایسا ممکن نہیں کہ کِسی خاتون کو کوئی مَرد گُھورے یا کوئی عورت کِسی مَرد کو گُھورے اور جِسے گُھورا جارہا ہُو اُسے خَبر نہ ہُوپائے ۔ اور یہاں تُو کِسی ایک شخص کی بات نہیں تھی بلکہ اُس خاتون کو بقولِ شاعر ،، زمانہ گُھور رہا تھا ۔ بلکہ میرا لِکھا ہُوا شعر اِس موقع پر بالکل فِٹ بیٹھ رَہا تھا۔
زمانہ گُھورتا ہے اور نِگاہیں ہیں تَعاقُب میں
نَظر نیچی سہی میری مگر ادراک ہُوتا ہے

اب یہ تُوممکن نہیں کہ اُس خاتون کو اِن نِگاہوں کی چُبھن کا اِدراک نہ ہُوا ہُو لیکن وہ بدستور اپنی نِگاہوں کو جھکائے ہُوئے کاؤنٹر پر موجود اشیاء کو اُلٹ پلٹ کر دیکھنے میں مصروف تھیں۔

اِسی اَثنا میں مسجد سے مؤذن کی اَذان کی صدا بُلند ہُونے لگی ۔ اُس خاتون نے فوراً اپنے سَر پہ موجود دوپٹہ صحیح کیا اور احترام اَذان میں مزید مستعد ہُو گئیں اور جونہی موذٔن نے اِسم مُحمد صلی اللہ علیہ وسلم پُکارا ۔ خاتون نے کَمالِ شُوقِ ادب ا ور حُسنِ عقیدت سے اسمِ مُحمد صلی اللہ علیہ وسلم کو چُوم کر اپنی آنکھوں سے لگا لیا۔

میرے دُوست نے اُن خاتون کا مطلوبہ سامان اور بِل اُن خاتون کو تھما دِیا اور رقم مِلنے کا انتظار کرنے لگا۔ لیکن جب تک اَذان بُلند ہُوتی رہی نہ ہی اُن خاتون نے اپنے ہُونٹوں کو جُنبش دِی اور نہ ہی اپنے پرس میں ہاتھ ڈالنے کی زِحمت گوارا کی۔ البتہ جُونہی اَذان خَتم ہُوئی اُس خاتون نے اپنے ہونٹوں کو جُنبِش دی اور نسبتاً اپنے ہاتھوں کو بُلند کردیا وہ غالِباً اَذان کے بعد دُعا مانگ رہی تھیں دُعا سے فارغ ہُونے کے بعد بِل پر نِگاہ ڈالی اپنے پَرس سے مطلوبہ رقم نِکالی ، رقم میرے دوست کے ہاتھوں میں تھمائی اور اپنے مطلوبہ سامان کے شاپر اُٹھا کر نذدیک کھڑی ایک گاڑی کی جانب بڑھنے لگی۔

چونکہ اَذان مغرب ہُوچُکی تھی اسلئے میں اور میرا دُوست نماز مغرب ادا کرنے کیلئے مسجد کی جانب بڑھنے لگے دُکان سے نِکلتے ہُوئے میری نِگاہ غیر اِرادی طُور پر اُس واعظ پر پڑی تُو مجھے محسوس ہُوا کہ واعظ صاحب ابھی تک ٹکٹکی جمائے اُس خاتون کو جاتا ہُوا دیکھ رہے تھے اور اب باقاعدہ اُنکا سانس بھی پھول رہا تھا جیسے کوئی شخص طویل مُسافت طے کرنے کے بعد ابھی ابھی منزل پر پُہنچاہُو اور اپنی سانسیں دُرست کر رہا ہو۔

جب ہم نماز مغرب ادا کرنے کے بعد واپس جنرل اِسٹور پر پُہنچے تو واعظ موصوف حجام کی دُکان پر شام کے اخبار کا مُطالعہ کر رہے تھے۔ تھوڑی دیر اَخبار کا مُطالعہ کرنے کے بعد وہ واعظ نُما شخص ایک بڑی سی گاڑی میں بیٹھ کر چَل دِیا میں نے مِحسوس کیا کہ اب اُس شخص کا سانس معمول کے مُطابق چَل رہا تھا۔

مغرب کی نماز کے بعد بازار بند ہُونا شروع ہُوگیا میرا دُوست گاہکوں سے فارغ ہُونے کے بعد میرے پاس آبیٹھا اور مجھ سے میری مصروفیت دریافت کرنے لگا۔ میں نے درمیان گُفتگو اپنے دُوست سے اُن خاتون کے متعلق اِستفسار کرتے ہوئے کہا ۔کیا بات ہے تُمہارے بازار میں کیا پہلی مرتبہ کوئی خوبصورت خاتون آئیں تھیں کہ ہر ایک اُس بیچاری کو ایسے دیکھ رَہا تھا جیسے زِندگی میں پہلی مرتبہ کِسی عورت کو دِیکھا ہُو۔

میرے دوست نے پہلے تو میرے سُوال پر ایک قہقہہ بُلند کیا اور اُسکے بعد مجھ سے کہنے لگے عشرت بھائی ایسی کوئی بات نہیں ہے۔ یہ بازار تو قائم ہی خَواتین کی وجہ سے ہیں اگر یہ خریداری کرنا چُھوڑ دیں تو آدھا بازار تو ویسے ہی گاہک نہ ہُونے کی وجہ سے بند ہُوجائے۔

بات دراصل یہ ہے کہ ابھی جُو خاتون مجھ سے سُودا لے کر گئی ہیں یہ آج سے پندرہ برس قبل شہر کی مشہور طوائف تھی اِسکی ایک جھلک دیکھنے کیلئے ہزاروں نِگاہیں بیتاب رَہا کرتی تھیں ہر ایرے غیرے کی تو ہِمت بھی نہیں ہُوتی تھی کہ مُلاقات کرسکے۔ اُس زمانے میں یہ بُہت شُوخ و چنچل ہُوا کرتی تھی۔ پھر نجانے کیا ہُوا کہ اِس نے لوگوں سے مِلنا جُلنا چُھوڑ دِیا بازاروں میں آنا چُھوڑ دِیا۔ پھر کُچھ عرصہ کے بعد ایک ڈاکٹر صاحب سے اِنکا نِکاح ہُوگیا ۔ اور یہ ڈاکٹر صاحب کے گھر میں بیٹھ گئیں ابتدا میں ڈاکٹر صاحب کو لوگوں نے کافی لعنت ملامت کی لیکن آہستہ آہستہ لوگ اِس بات کو بھولتے چلے گئے۔

لیکن عشرت بھائی ایک بات ضرور ہے کہ جب سے اِس طوائف نے گُناہوں کی زندگی سے توبہ اِختیار کی ہے کِسی نے انہیں نِگاہ اُٹھا کر چلتے نہیں دِیکھا۔ اور جِن لوگوں کا ڈاکٹر صاحب کے گھر میں آنا جانا ہے وہ بھی یہی کہتے ہیں کہ اب یہ خاتون گھر میں اکثر نماز و تِلاوت میں مشغُول نظر آتی ہیں۔ اسکے علاوہ علاقے کی خواتین کی مالی امداد ،کیساتھ ساتھ اُنکے مسائل کے حل کے لئے بھی پیش پیش نظر آتی ہیں۔

میرا وُہ دُوست مجھ سے نجانے اور کیا کُچھ کہتا رہا مجھے خَبر نہیں۔ میں تُو اُس وقت یہ سُوچ رَہا تھا کہ ۔ایک طرف وُہ وَا عِظ نُما شَخص تھا جُو دُنیا بھر کی کِتابوں کے مُطالعے کے باوجود بھی نہ اپنی نِگاہُوں میں حَیا پیدا کر سَکا ، نہ ہی اپنے اِخلاق کو سَنوار سَکا ۔ اور نہ ہی اُسکے وسیع مُطالعے سے اُسے نماز کی تُوفیق مِل سَکی۔ اگر کُچھ حاصِل ہُوا تُو صِرف اِحساس برتری کا مَرض ، خُود نمائی اور سب سے ممتاز نظر آنے کا سِفلی جَذبہ۔۔۔۔

جبکہ دوسری جَانِب وہ خاتُون تھی کہ جِسکے ماضی کی وجہ سے کُچھ لُوگ اُسے سابِقہ طَوائف کے طُور پر یاد رَکھے ہُوئے تھے۔ لیکن نہ جانے اُس کی تُوبہ کیسی مقبول تُوبہ تھی کہ جِس نے اُسکے شب و رُوز کو بَدل کے رکھ دِیا تھا ۔میں بے حیا لوگوں کے مُتعلق تُو کُچھ نہیں کہہ سکتا لیکن اتنا یقین کیساتھ کہہ سکتا ہُوں کہ اُس خَاتون کے چہرے پہ جُو تقدس میں نے دیکھا تھا ۔ کِسی شریف النفس اِنسان کو دُوبارہ چِہرہ دیکھنے کی جُرأت نہیں ہُوسکتی تھی۔

یہ کالم لکھتے ہُوئے مجھے مدینے کا وہ تاریخی واقعہ یاد آرہا ہے جہاں ایک عورت دربارِ مُصطٰفی صلی اللہ علیہ وسلم میں اپنے جُرمِ زِنا کا اقرار کر رہی تھی اور رؤف و رَحیم آقا ﷺ اُسے بار بار ٹال رہے تھے یہاں تک کہ اُس نے ایک بچّے کو جَنا پھر ارشاد ہُوا کہ ابھی بچّہ چھوٹا ہے اسے دودھ پِلاؤ مگر نہ جانے کیسی بے چینی تھی کہ مُدت شیر خُواری مکمل ہُونے کے بعد وہ عُورت پھر دربارِ مُصطٰفی صلی اللہ علیہ وسلم میں حاضِر ہُوگئی اور سنگسار ہُوکر پاک ہُونے کی خُواہش ظاہر کی۔ لِہذا اُسے سنگسار کردیا گیا۔ بعدِ سنگسار کریم آقا علیہ السلام نے اِرشاد فرمایا تھا ،، مفہوم،، جیسی تُوبہ اِس خاتون نے کی ہے اگرتمام مدینہ کے گُنہگاروں میں تقسیم کردی جائے تو سب کے لئے کافی ہُوجائے ۔۔۔۔۔۔اً

Sunday, 10 February 2013

فیضانِ دعوتِ اسلامی۔ شُکریہ



یہ اُن دِنِوں کی بات ہے جب میں میٹرک کے ایگزام سے فارغ ہوکر اپنے مستقبل کی تیاری کر رہا تھا۔ آنکھوں میں ہزار سپنے تھے دِل میں جوانی کی ترنگ تھی ۔ میں اکثر اپنے فیوچر کے بارے میں سوچا کرتا۔۔ مجھے بس ایک ہی دُھن سوار تھی کہ اپنی تعلیم مکمل کرنے کے بعد مجھے  لیکچرار بننا ہے۔ کیونکہ  مجھے مُعاشرے میں اساتذہ کا پیشہ سب سے مُقدس اور جاذِب نظر محسوس ہوتا تھا۔

مذہب سے قربت فقط اتنی تھی کہ پانچ وقت کی نماز پڑھ لیا کرتا تھا۔ اُنہی دِنوں ایک عجیب واقعہ پیش آیا اور بس اُس واقعہ سے میری زندگی کا رُخ ہی بدل گیا۔

میرے خاندان والوں کا عجب حال تھا اُن میں اکثر بُغض اولیاءَاللہ میں حد سے بَڑھےہوئے تھے ۔ جہاں اُولیاءَاللہ کے مزارات کو بُتوں سے تعبیر کیا جاتا تھا۔ اور اُنہیں نعت نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور فلمی گانوں میں کوئی فرق نظر نہیں آتا تھا۔ اور  صرف اتنا ہی نہیں بلکہ وُہ ہر ایک معاملے میں مُتشدد تھے۔ ایک رات میں عشاء کی نماز پڑھ کر مسجد سے نکل رہا تھا کہ میری نظر مسجد کے دروازے میں کھڑے اپنے کلاس فیلو پر پڑی میں نے لپک کر اُسے خود سے بغلگیر کرلیا۔۔۔ چُونکہ مسجد کے احترام سے ناواقف تھا اس لئے مسجد کے دروازے کے اندر ہی کلاس کے دیگر ساتھیوں کا حال احوال پوچھنا شروع کردیا۔

بات سے بات نکلتی چلی گئی اور ہم نے نا سمجھی میں کسی فلم سے مُتعلق گفتگو شروع کردی ہماری گفتگو جاری تھی کہ کسی نے دھیرے سے میرے کاندھے پر ہاتھ رکھا میں نے چونکتے ہوئے پلٹ کر دیکھا تو ایک نوجوان جس کے چہرے پہ داڑھی تھی اوروہ اپنے سر پہ ناسی رنگ کا عمامہ سَجائے میرے مُقابل کھڑا تھا۔

میں نے سوالیہ نظروں سے دیکھتے ہوئے پوچھا جی فرمائیے؟ اُس نُوجوان نے نہایت شفقت بھرے لہجے میں کہا آپ کے قیمتی وقت میں سے چند لمحے درکار ہیں!میں نے کہا جی کہیئے تب اُس نُوجوان نے کہا بھائی چند لمحوں کے لئے اگر مسجد میں ہی بیٹھ کر بات کرلیں تو بہتر ہوگا آپ کو بھی ثواب مِلے گا اور مجھے بھی۔۔۔۔۔  میرا دوست تو مولوی نما نوجوان کو دیکھتے ہی یہ کہہ کر کھسک لیا کہ مجھے دیر ہورہی ہے اور گھر والے پریشان ہورہے ہونگے جبکہ میں شرمیلی طبیعت کی وجہ سے انکار نہ کرسکا اور دوبارہ مسجد میں داخل ہوگیا۔

مسجد کے ایک کونے میں چند نوجوان قُرآنی قاعدہ ہاتھ میں لئے سبق یاد کر رہے تھے وہ نوجوان مجھے لیکر ایک طرف بیٹھ گیا اور بڑے دھیمے لہجے میں سمجھانے لگا کہ بھائی مسجد میں دُنیا کی بات کرنے سے نیکیاں ضائع ہوجاتی ہیں اور فلموں کی باتیں وہ بھی مسجد میں یہ تو اور بھی سخت گُناہ کا کام ہے ۔ 

میرا ندامت سے سر جُھک گیا تب اُنہوں نے میری حالت دیکھ کر کہا بھائی کوئی بات نہیں شاید آپ نے بھولے سے یہ گناہ کا کام کیا ہے ۔ آپ رَب عزوجل سے معافی مانگ لیجئے گا وہ نہایت ہی کریم ہے مُعاف فرمادیگا اُس کے بعد اُنہوں نے مجھے تجوید سے قرآن پڑھنے کی دعوت دی جو میں نے کچھ پس وپیش کے بعد قبول کرلی ۔ اب میں روزانہ عشا کی نماز کے بعد درس اور مدرسے میں بیٹھنے لگا جمعرات کو مدرسے کی چُھٹی ہوا کرتی کہ وہ سب  دعوتِ اسلامی کے ہفتہ وار اجتماع میں جایا کرتے تھے۔ چند ہفتے تو میں اپنے اُستاد کو ٹالتا رہا لیکن ایک مرتبہ اُنہوں نے ایسے دلنشین انداز میں التجا کی کہ میں انکار نہ کرسکا اور اجتماع میں جانے کی حامی بھر لی ۔

اور جب میں پہلی مرتبہ اجتماع میں گیا تو میری زندگی میں انقلاب برپا ہوگیا ۔ اصلاحی بیانات سُن کر میری طرح طرح کی ساری پلاننگز جو میں نے فیوچر کے لئے بنا رکھی تھیں ریت کی دیوار کی طرح ڈھنے لگیں۔ لیکن جب میں اجتماع سے واپس گھر پہنچا تو ابو نے ڈانٹ ڈپت سے میری خوب تواضع کی اور جب میں نے اجتماع کا بتایا۔ تو وہ مزید سیخ پا ہوگئے اور سمجھانے لگے کہ بیٹا اِن مولویوں کے چکر میں پڑوگے تو بہت پیچھے رہ جاؤ گے۔ میرے ابَّا پَکے کاروباری تھے دین کے معاملے میں وہ بالکل میری طرح ہی کورے تھے۔ اُس رات تو جیسے تیسے میری جان چھوٹ گئی لیکن جلد ہی مجھے بڑے ابا (تایا) کا بُلاوہ آگیا ۔ اور مجھے سمجھایا گیا بیٹا یہ ناسی پگڑی والوں کے چکر میں تُم کب سے آگئے بیٹا یہ لوگ اچھے نہیں ہیں ۔شرک کی دعوت دیتے ہیں مزاروں پہ سجدے کرتے ہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو خُدا کے برابر سمجھتے ہیں اور اِنہوں نے اپنا نیا دین بنایا ہوا ہے اسلئے خبردار جو آج کے بعد کبھی اِن کیساتھ بھی نظر آئے ۔

میں اپنے تمام تایا بلخصوص بڑے ابو کی بہت عزت کیا کرتا تھا اُن کے مُنہ سے یہ انکشافات سُن کر بھونچکا سا رِہ گیا قصہ مُختصر اُس دَن کے بعد میں نے اُس مسجد اور مدرسہ میں جانا چُھوڑ دیا۔ مگر ایک دَن سَرِ راہ اُسی نوجوان سے میری دُوبارہ مُلاقات ہوگئی۔ اُنہوں نے جب مدرسے نہ آنے کا سبب پوچھا تو میں نے تایا ابو والی تمام باتیں دُھرا دیں جِنہیں وہ بَڑے تَحمُل سے سُنتے رہے اور میری گُفتگو خَتم ہونے کے بعد گویا ہوئے اقبال بھائی آپ ہمارے ساتھ کافی دِن رہے ہیں کیا آپ نے اِن الزامات کو۔ جو آپکے تایا ابو نے ہم پر لگائے ہیں اُن میں سے کوئی بھی بات ہم میں پائی ؟ میں یہ تو نہیں کہوں گا کہ آپ کے تایا ابو جھوٹ بُول رہے ہیں مگر اتنا ضرور کہونگا کہ وہ دعوتِ اسلامی کے مُتعلق کچھ نہیں جانتے بھائی دعوتِ اسلامی تو اُسی دعوت کو عام کررہی ہے جِسے ہمارے پیارے آقا علیہ السلام نے بڑی محنت سے لوگوں تک پہنچایا ۔صحابہ کرام رضوانُ اللہ علیہم اجمعین نے پھیلایا اوربُزرگان دین نے جسکی آبیاری اپنے پسینے اور خون سے کی ہے۔

اقبال بھائی مجھے آپکی جانب سے پہلے ہی اندیشہ تھا کہ آپکے خاندان والے آپکو ضرور بھڑکائیں گے میں تو صرف دُعا ہی کرسکتا ہوں کہ اللہ کریم آپ کے لئے منزل کی تلاش آسان فرمادے بس اتنی استدعا ضرور کرونگا کہ آپ مجھ سے رابطہ نہ توڑیں جب تک کہ آپ حقیقت کو نہ پالیں اگر آپ مُناسب سمجھیں تو کل میرے پاس تشریف لائیں میں آپکو چند کتابیں دونگا جنہیں پڑھ کر آپ کے لئے منزل کا انتخاب آسان ضرور ہوجائے گا اُس نوجوان کی باتوں میں ایسا اخلاص تھا کہ باوجود اِس کہ مجھے بڑوں کی طرف سے سختی کیساتھ سمجھایا گیا تھا کہ دعوتِ اسلامی والوں سے رابطہ نہ رَکھوں میرے قدم خود بخود اُسی مسجد کی جانب اُٹھتے چلے گئے جہاں میری پہلی ملاقات اُس اسلامی بھائی سے ہوئی تھی۔

مسجد میں مجھے صرف ایک کتابچہ پیش کیا گیا جسکا نام تھا کنزالایمان اور دیگر تراجم کا تقابلی جائزہ یہ ایک چھوٹا سا کتابچہ تھا جس میں امام احمد رضا (علیہ الرحمہ) اور دیگر علماء کے تراجم کا تقابلی جائزہ پیش کیا گیا تھا بِلا مُبالغہ صرف اس ایک کتابچہ نے مجھ پر آشکارہ کردیا کہ جو لوگ قران کے ترجمہ میں اسقدر احتیاط پیش نظر رکھیں کہ کوئی دوسرا ترجمہ اُسکا مُقابل نہ بن سکے وہ لوگ غلط نہیں ہوسکتے چونکہ میرا خاندان والد صاحب اور ایک چچا کو چھوڑ کہ انتہائی مذہبی تھا اس لئے اچھی خاصی دینی کُتب موجود تھیں اب میں دونوں طریفین کی کُتب پڑھ رھا تھا البتہ فرق صرف اتنا تھاکہ دعوت اسلامی والوں کی کتابیں صرف مسجد میں ہی پڑھ سکتا تھا چند ماہ میں ہی مجھے مطالعے سے اندازہ ہوگیا کہ جِنہیں بدعتی اور بے دین کہا جارہا ہے حقیقت میں وہی لوگ اعتدال پسند ، عُشاقِ مصطفیٰ ، اور سُنتِ رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) کی پیروی کرنے والے ہیں اور مجھے کونسی منزل کا انتخاب کرنا ہے۔ یہ بات میں عِلم کی روشنی اور اللہ کریم کے فَضلِ خاص سے خُوب جان چُکا تھا۔

چند دن کے بعد ہی امیرِ اھلسُنت مدظلہُ العالی میرے شہر میرپورخاص تشریف لائے اور اُن کے چہرے پہ نظر پڑتے ہی میرے دِل نے کہا واللہ یہ چہرہ کسی اللہ کے ولی کامل کا ہی ہوسکتا ہے۔ میں نے کُھل کر دعوتِ اسلامی کا ساتھ دینے کا خود سے پیمان کیا اور اُسکے بعد میرے خاندان والوں کے لئے جیسے میں دُنیا میں نہ زِندہ نہ رَہا ۔پہلے پہلے تو مجھے صرف سمجھایا گیا بعد میں سوشل بائیکاٹ کردیا گیا کبھی سر سے عمامے کو نُوچ کر بازار کی گندی سڑک پر پھینکا گیا تو کبھی شادی میں بُھلا دیا گیا کبھی محفل میں بیگانہ بنایا گیا تو کبھی خلوت میں ڈرایا گیا۔ یعنی ہر وہ سِتم کیا گیا جس سے میرے دِل کو زخم پہنچے جب میں کبھی بُہت زیادہ دِل برداشتہ ہوجاتا تو امیر اھلسُنت مُدظلہُ العالی کی بارگاہ میں حاضر ہوجاتا تھا۔

اُس وقت چونکہ دعوتِ اسلامی کا تنظیمی کام ابتدائی مراحِل میں تھا۔ اسلئے کبھی نشست مُیسر آجاتی۔ تو کبھی امیر اھلسُنت مُدظلہُ العالی کیساتھ عام بسوں میں سفر کا موقع مِل جاتا۔ کبھی آپ اپنے کاشانہ اقدس پہ لیجا کر ساتھ کھانا کھلاتے۔ تو کبھی عام دِنوں میں اپنےساتھ افطار پہ بِٹھالیتے( کیونکہ آپ تقریبا پورا سال ہی روزے رکھا کرتے تھے) اُس وقت جس فیض کا دریا امیر اھلسُنت مُدظلہُ العالی کی ذات سے جاری تھا اور جسقدر آسانی سے ملاقات کے مواقع مُیسر تھے آج اُسکا تصور بھی مُحال ہے۔

ایک مرتبہ میرے والد اس نیت کیساتھ کراچی پہنچے کہ مولانا سے لڑوں گا کہ آپ نے ہمارے بچے کو بِگاڑ دیا ہے۔ یہ اچھا بھلا میرا کاروبار میں ہاتھ بٹاتا تھا مگر  آپ نے مولوی بنادیا۔۔۔۔۔ لیکن جب امیر اھلسُنت مُدظلہُ العالی سے مُلاقات ہوئی آپ نے میرے والد کو گھر چلنے کی دعوت دی گھر لیجا کر اپنے ساتھ کھانا کھلایا میرے ابو اُس درمیان امیر اہلسنت کے گھر کی سادگی اور امیر اھلسُنت مُدظلہُ العالی کے آداب طعام اور ادبِ رزق اور آپکے اخلاق سے اسقدر مُتاثر ہوئے کہ کھانے سے فارغ ہونے کے بعد جب امیر اھلسُنت مُدظلہُ العالی نے میرے والد سے کراچی آمد کا سبب پوچھا تو فقط اتنا کہہ سکے ،، مولانا میں تو آپ سے اپنا ایک بیٹا واپس لینے آیا تھا مگر آپ سے ملنے کے بعد دِل چاہتا ہے سارے بیٹے آپ ہی کو دے دوں ۔

آج الحمدُللہ دُنیا میں میری جو بھی پہچان ہے یہ سب میرے مُرشِد کریم سیدنا سراج الدین وارثی اور امیر اھلسُنت مولانا ابوالبلال محمد الیاس عطار قادری دامت برکاتہم عالیہ کی فیضان نظر کی مرہونِ مِنت ہے القصہ مختصر دعوت اسلامی اور امیر اھلسُنت مُدظلہُ العالی کے میری فیملی پر اسقدر احسانات ہیں جنکا شُکریہ میں تا زیست ادا نہیں کرپاوں گا اسلئے یہ چھوٹی سی نظم پیش کررہا ہُوں۔

شُکریہ اے دعوتِ اسلامی تیرا شُکریہ
آکہ فِتنوں سے ہمیں تونے بچایا شُکریہ

ظُلمتوں کی رات تھی اِک اِک دیا تھا بُجھ رہا
تُونے فانوسِ رضا آکر جلایا شُکریہ

دُور ہوتے جارہے تھے سُنتوں سے اُمتی 
سُنتوں کی راہ پہ تونے چلایا شُکریہ

تھے لباسِ خضر میں رہزن یہاں جلوہ نُما
تونے سیدھا راستہ ہم کو دکھایا شُکریہ

کاش عشرت وارثی محشر میں جب بیدار ہو
ساتھ ہو عطار کے ۔ اِنکا نِکما شُکریہ

Friday, 8 February 2013

تذکرہ اک پری کی مُحبت کا قسط24.


تذکرہ اک پری کی مُحبت کا قسط(۲۴)۔

گُذشتہ سے پیوستہ۔
اَمی جان کیا بات ہے۔ ماشاءَ اللہ آج آپکا چہرہ خُوشی سے مِثلِ قمر چمک رَہا ہے۔۔۔ کیا خُوشی کی کُوئی بُہت  بڑی خبر ہے۔۔۔؟ عمران نے نہایت بے تابی کے عالم میں اَمی سے دریافت کیا۔۔۔۔ ہاں بیٹا اللہ کریم نے واقعی ہم پر احسان فرماتے ہُوئے بڑا کرم فرمایا ہے۔ اُور یقیناً جب تُم وُہ خبر سُنو گے۔ تو تمہارا بھی خوشی سے وہی حال ہُوگا۔۔۔ اُور خوشخبری یہ ہے۔ کہ بابا صابر کے دیئے ہُوئے آم کی برکت سے تُمہارے ابو بالکل صحت مند ہُوچُکے ہیں۔ یہ خبر سُن کر عمران بابا صابرکی خدمت میں شُکریہ ادا کرنے کیلئے پُہنچ جاتا ہے۔ تب بابا صاحب اُس سے فرماتے ہیں کہ،،۔

دیکھو بیٹا۔ جب علم والوں کے پاس جایا کرو۔ تب اپنی زُبان کی بُہت حفاظت کرنا۔ کہ علم والوں کے سامنے گونگا بنے رہنے میں ہی عافیت ہے۔ ورنہ یہاں زُبان سے ایک غلط جُملہ نِکلا۔ اُور وَہاں تنبہی کا ہتھیار نِکلا۔ لیکن یہ ہتھیار بھی نافع ہی ہُوتا ہے۔ کوئی چاہے تو اپنے گمانی اشکال کو یقین سے بدل سکتا ہے۔ لیکن جب فقیروں کے پاس جایا کرو۔ تو اپنے دِل کو تھام کر رکھنا چاہیئے۔ کیونکہ اُنکا فتوی قُول پر نہیں بلکہ نیت پر لگایا جاتا ہے۔ اُور جب زُبان بگڑتی ہے تو اصلاح کے نوے فی صدی چانس ہُوتے ہیں۔ لیکن اگر دِل بگڑ جائے تو۔۔۔۔۔ اتنا کہنے کے بعد اچانک بابا صاحب نے یہاں وَہاں دیکھنا شروع کردیا۔

اب مزید پڑھ لیجئے۔

بابا صابر کی نظریں باغ کا طواف کرتے ہُوئے ایک درخت پر مرکوز ہُوگئیں۔ اسکے بعد بابا صاحب نے کسی نادیدہ ہستی کو مُخاطب کرتے ہُوئے کہا،، سُنو ! میرے ساتھ احمد وقاص والا کھیل مت کھیلو۔ ورنہ تُمہیں  اپنی اِس حرکت پر بُہت پچھتانا پڑےگا۔ چونکہ آج پہلی مرتبہ تُم نے میری اِجازت کے بغیر میرے اِحاطے میں داخل ہُونے کی کوشش کی ہے۔ اِسلئے میں تُم کو مُعاف کئے دیتا ہُوں۔ لیکن دوسری غلطی کسی صورت میں مُعاف نہیں کی جائے گی۔ جواب میں سامنے والے نے نجانے کیا کہا۔۔۔ اس بات کا احاطہ عمران کی سماعت اگرچہ نہیں  کرپائی۔ لیکن  بابا احمد وقاص کے تذکرے سے عمران کو اتنی بات تو سمجھ آہی گئی تھی۔ کہ یقیناً کوثر نے ہی بابا صابر صاحب کی گفتگو سُننے کیلئے یہاں آنے کی جراٗت کی ہے۔ عمران بابا صاحب سے اپنے نادیدہ محبوب  کے متعلق معلوم کرنا چاہتا تھا۔ لیکن بابا صاحب کے چہرے پر جلال کے آثار دیکھ کر  وُہ خاموشی اِختیار کرگیا۔

کچھ لمحے گُزرنے کے بعد بابا صابر صاحب یُوں نارمل ہُوگئے۔ جیسے کوئی واقعہ ہی پیش نہ آیا ہُو۔ اُن کے چہرے پر پہلے کی طرح ملاحت و شُگفتگی کا راج تھا۔۔۔۔۔ ہاں تو عمران میاں ہم نے تُم سے اپنی پہلی مُلاقات میں جمال ہانسوی رحمتہ اللہ علیہ کے متعلق استفسار کیا تھا۔ کیا تُم جاننا چاہتے ہُو کہ،، جمالِ ہانسوی کُون تھے۔۔۔؟۔۔۔ جی حضور میں ضرور اُس ہستی کے متعلق جاننا چاہُوں گا۔ جنکی زندگی کا عکس میری کہانی میں آپکو نظر آیا ہے۔ عمران نے سعادتمندی سے جواب دیتے ہُوئے کہا۔۔۔

تو بیٹا سُنو! جمال ہانسوی  صرف ایک بُزرگ ہستی کا نام ہی نہیں ہے۔ بلکہ جمال ہانسوی کی زندگی قیامت تک آنے والے عاشقوں کے لئے ایک درس  وتاریخ ہے۔۔۔۔ یہ ایک صاحب کمال بُزرگ تھے۔ جو  انتہائی حسین چہرے کے مالک ہُونے کے ساتھ ساتھ عِلم و فضل کا شاہکار بھی تھے۔ اُور   زمانے کے مشہور وَلی  حضرت خُواجہ بابا فرید الدین گنج شکر رحمتہ اللہ علیہ کے خاص اُور چہیتے مُرید بھی تھے۔ لیکن جمال ہانسوی رحمتہ اللہ علیہ کی ایک نادانستہ لغزش نے اُنہیں زمانے والوں کی نگاہ میں  ایک عرصہ تک گمنام بنا ڈالا تھا۔


یہ  ریاست ہانسی کے ایسے عالم تھے جنکا خطاب سُننے کیلئے لُوگوں کے دِل بے چین رہا کرتے تھے۔ اُور  انکے پاس عِلم کی دُولت کے ساتھ ساتھ دُنیاوی متاع کی بھی کوئی کمی نہ تھی۔ لیکن جب جمال ہانسوی کی پہلی نظر  شہزادہِ  بختیار کاکی رحمتہ اللہ علیہ پر پڑی تو اپنا سب کُچھ بابا فرید رحمتہ اللہ علیہ کے قدموں پر نچھاور کرڈالا۔ اُور عشق و  اَدب کی منزلیں اتنی سرعت سے طے کر ڈالیں۔ کہ  بُہت جلد بابا فرید رحمتہ اللہ علیہ کے ایسے منظورِ نظر بن گئے کہ،، بابا صاحب جب کسی کے سر پر ولایت کا تاج سجانا چاہتے تو  یُوں اِرشاد فرماتے۔ کہ پہلے ہانسی جاکر جمال سے مہر لگوا کر آوٗ۔۔۔ اُور جمال میرا ہے۔ جمال میرا ہے۔ کی صدا بابا صاحب کی زُباں سے اِتنی مرتبہ بُلند  ہُوئیں کہ،، لوگ جمالِ ہانسوی کی زندگی پر رشک کرنے لگے۔ اُور حاسدین کی نِگاہوں کے سامنے اندھیرا پھیلنے لگا۔

یہاں تک کہ جمال ہانسوی کے سر پہ امتحان کی گھڑی آپُہنچی۔ ۔۔۔۔ اِمتحان کی گھڑی۔۔۔۔؟ عمران نےبابا صاحب کے خاموش ہُوتے ہی   تعجب سے پُوچھا۔ ۔۔۔۔ہاں  بیٹا اِمتحان کی گھڑی۔ ۔۔ جسکی کی وجہ سے ایک معشوق طالب اپنے  حقیقی عاشق کی جُدائی کا شِکار ہُوگیا۔۔۔ آخر ایسا کیا  واقعہ ہُوگیا تھا۔۔۔؟ عمران نے بے چینی سے پہلو بدلتے ہُوئے استفسار کیا۔۔۔ بتا رہا ہُوں  بیٹا ذرا صبر سے تُو  کام لو۔ کُچھ لمحے توقف کے بعد بابا  صابرصاحب نے ایک مرتبہ پھر گفتگو کو جاری رکھتے ہُوئے کہا۔

 جیسا کہ میں نے ابھی بتایا تھا ۔ کہ ،،حضرت بابا فرید رحمتہ اللہ علیہ کی نِگاہوں میں جمال ہانسوی اپنے اخلاص و اَدب کی وجہ سے ایک خاص مقام حاصل کرچُکے تھے۔ جسکی وجہ سے بابا صاحب اکثر یہی کہتے سُنائی دیتے تھے۔ کہ جمال میرا ہے۔۔۔۔  ایک مُرشد کریم کی اپنے ایک خاص مُرید پر نظر کرم کا فیضان جاری تھا۔ کہ ایک دِن سلسلہ نقشبند کے پیشوا حضرت بہاوٗالدین ذکریا کی نِگاہ  حضرت جمال ہانسوی پر پڑ گئی۔ اُور  حضرت جمال ہانسوی کے کردار سے حضرت بہاوٗالدین ذکریا ملتانی ایسے مُتاثر ہُوئے کہ ،،حضرت بہاوٗالدین ذکریا نے بابا  فرید  رحمتہ اللہ علیہ سے اپنے تمام مُریدوں اُور خلفاٗ کے بدلے میں جمالِ ہانسوی کو مانگ لیا۔۔۔ جسکے جواب میں بابا فرید نے اِرشاد فرمایا کہ،، قیمت  تو جِنس کی وصول کی جاتی ہے۔ جبکہ جمال کوئی شئے نہیں بلکہ میرا جمال(حُسن) ہیں۔ اُور  بھلا کوئی اپنا جمال بھی کسی کو بیچتا ہے۔

بات بظاہر آئی گئی ہُوگئی تھی۔ لیکن جمال ہانسوی کے کردار نے شاہِ نقشبند کو ایسا مُتاثر کیا تھا۔ کہ کچھ ہی عرصہ کے بعد حضرت بہاوٗ الدین رحمتہ اللہ علیہ نے بذریعہ خط پھر اپنی اُسی خُواہش کا اظہار کرڈالا۔ البتہ اس مرتبہ ہمیشہ کیلئے نہ سہی عارضی طور پر ملتان بھیجنے کی درخواست کی گئی تھی۔ بابا فرید نے پھر وہی جواب دیا۔ کہ جمال صرف میرا ہے۔ اُور ہمیشہ میرا ہی رہے گا۔ اِس طرح شاہِ نقشبند نے تین مرتبہ اپنی خواہش کا اظہار فرمایا۔ لیکن حضرت بابا فرید چند دِن کُجا ایک لمحے کیلئے بھی جمالِ ہانسوی کو خُود سے جُدا کرنے کیلئے راضی نہیں تھے۔

اِس کے بعد تاریخ یہی بتاتی ہے کہ بظاہر شاہِ نقشبند نے خاموشی اختیار فرمالی۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ آپ نے اپنے رُوحانی تصرف سے دھیرے دھیرے جمالِ ہانسوی رحمتہ اللہ علیہ کے قلب کو اپنی محبت میں وارفتہ کردیا۔ چنانچہ ایک دِن خود ہی جمال ہانسوی نے  حضرت بہاوٗالدین  ذکریا رحمتہ اللہ علیہ سے ملنے کیلئے ملتان جانے کی خواہش کا اظہار کرڈالا۔ حضرت بابا فرید رحمتہ اللہ علیہ اپنے  مُرید خاص کو ٹالتے رہے۔ لیکن جمالِ ہانسوی رحمتہ اللہ علیہ کا خود پر بس ہی کہاں تھا۔ اسلئے وُہ مُرشد کریم کے چہرے پر پیدا ہُونے والی ناراضگی کو  دیکھ ہی نہ پائے جو لمحہ بہ لمحہ بڑھتی ہی چلی جارہی تھی۔ جمالِ ہانسوی  بار بار ایک ہی رَٹ لگائے جارہے تھے۔ کہ مجھے ہر حال میں ملتان جانا ہے۔ اب ایک طرف حضرت بابا فرید رحمتہ اللہ علیہ کئی بار شاہِ نقشبند کو  اپنی رُوحانی اُولاد کیلئےکُورا  سا جواب دے چُکے تھے۔ تو دوسری طرف وہی  دلبر پَسر خُود ملتان جانے کی ضد کئے بیٹھا تھا۔ جمالِ ہانسوی کی بار بار کی تکرار  رنگ لائی۔ اُور حضرت خُواجہ فریدالدین گنج شکر نے غیض کی حالت میں جمالِ ہانسوی کو اپنے دربار سے یہ کہہ کرنکل جانے کا حکم صادر فرمادیا۔ کہ اگر تُمہاری یہی ضد ہے ۔۔۔ تو ابھی اُور اِسی وقت میری نظروں سے  ہمیشہ کیلئے دُور ہُوجاوٗ۔

کہنے والے کہتے ہیں۔ کہ قہر سے مامور یہ جملہ سُن کر جمال ہانسوی کو ہُوش تو آگیا۔ لیکن اب بُہت دیر ہُوچکی تھی۔ حضرت جمال ہانسوی بابا فرید کے چہرے  کو جلال کی وجہ سے دیکھ بھی نہیں پارہے تھے۔ اب وُہ جانا نہیں چاہتے تھے۔لیکن۔ اب رُکنے کیلئے فضاٗ سازگار نہیں تھی۔ کہنے والے تو یہ بھی کہتے ہیں ۔ کہ بابا فرید کی ناراضگی کے بعد حضرت جمال ہانسوی کے چہرے کا رنگ متغیر ہُوگیا تھا۔ جیسے کسی دُلہن کے چہرے کی آب   اُسے دوسرے ہی دِن  گھر سے نکال دیئے جانے پر چھن جاتی ہے۔

بہرحال یہ کسی  دُنیاوی بادشاہ کی ناراضگی کا معاملہ نہیں تھا۔جویہ معاملہ  اتنی آسانی سےٹل جاتا۔ یہ تو خواجہ خواجگان کے شہزادے کی ناراضگی تھی۔ جس نے جمالِ ہانسوی سے صرف ظاہری آب و تاب ہی نہیں چھین لی تھی۔ بلکہ جمال ہانسوی اپنا ہوش و خرد بھی معتوب ہُوکر کھوچکے تھے۔ تاریخ کے اُوراق ہمیں یہی بتاتے ہیں کہ جمال ہانسوی دربار فرید سے نِکال دیئے جانے کے بعد کئی ماہ و سال تک زخم زخم جسم لئے بیابانوں میں دیوانوں کی طرح مارے مارے پھرتے رہے۔ اُور اُنہیں حالتِ دیوانگی میں اپنے زخموں  سے رَستے خُون کی بھی خبر  نہیں ہُوپاتی۔ کئی مریدین نے بابا فرید کی خدمت میں جمالِ ہانسوی کا حالِ زار بیان کرنے کا سُوچا۔ لیکن بابا صاحب کے جلالی چہرے پر نِگاہ پڑتے ہی اُن کی یہ آرزو دِل میں ہی دَم تُوڑ جاتی۔

 دوسری طرف بابا فرید بھی جمال ہانسوی کے چلے جانے کے بعد ہر وقت اَفسردہ دِکھائی دینے لگے تھے۔ اُور یہ کوئی معمولی بات نہیں تھی۔ کہ جس جمال پر بابا صاحب نے اتنا ناز کیا تھا ۔ جِسے بابا فرید اپنا جمال کہتے  رہےتھے۔ وہی جمال خُود رخصت لے کر دربار فرید سے نِکل کر دَر دَر کی ٹھوکریں کھارَہا تھا۔ حالانکہ  بظاہر ٹھوکر  جمالِ ہانسوی کھارہے تھے۔ لیکن ہر ٹھوکر کی چوٹ بابا صاحب کے دِل پر ثبت ہُورہی تھی۔۔۔ اتنا واقعہ سُنا کر بابا صابر کی آواز رندھ گئی ۔اُور وُہ اپنے دامن سے اپنی بہتی آنکھوں کو خشک کرنے لگے۔ عمران بھی اِس واقعہ سے آبدیدہ ہُوچُکا تھا۔ لیکن اُسکی نم آنکھوں کی رَوانی سے ذیادہ اُسکا دِل اِس کہانی کے انجام کیلئے متجسس تھا۔ تھوڑی دیر انتظار کے بعد عمران سے بابا صابر سے بڑی بےچینی سے استفسار کیا۔۔۔ کیا پھر حضرتِ جمال ہانسوی کبھی بابا فرید سے نہیں ملے۔؟

عمران کے استفسار پر بابا صابر  صاحب نے اپنی حالت پر قابو پاتے ہُوئے کہانی دُوبارہ سُنانی شروع کردِی۔۔۔۔۔ جب کافی عرصہ گُزر گیا۔ تب ایک دِن جمالِ ہانسوی کے ایک تاجر پیر بھائی کی مُلاقات جمال ہانسوی سے ہُوگئی۔ اُس نے جمال ہانسوی رحمتہ اللہ علیہ کی خطابت بھی  سُنی ہُوئی تھی ۔ اُور دربار  فرید میں جمالِ ہانسوی  کا مرتبہ بھی دیکھ رِکھا تھا۔ تمام ماجرا  جمال ہانسوی رحمتہ اللہ علیہ کی زُبانی سُن کر وُہ تاجر بُہت دیر تک رُوتا رہا۔۔۔ اُور اُس نے اپنے دِل میں ایک فیصلہ کرلیا۔۔۔۔ کہ چاہے کچھ بھی ہُوجائے وُہ آج  اَپنے رُوٹھے ہُوئے مُرشد کریم کو جمالِ ہانسوی کیلئے منا کر ہی دَم لے گا۔

چناچہ جب یہ تاجر مُرید بابا صاحب کی محفل میں پُہنچ گیا۔ تب جمال ہانسوی کی حالت نے زار و قطار  اُسےسسِکنے پر مجبور کردیا۔ بابا صاحب نے جب اُس تاجر مُرید کو یُوں بلکتے ہُوئے دیکھا۔ تو اُسکے غم کا مداوا کرنے کیلئےاُسے اَپنے سینے سے لگاکر رُونے کی وجہ دریافت کی۔ تب اُس نے رُوتے روتے جمالِ ہانسوی کی بربادی کی تمام داستان ہچکیاں لے لیکر بابا صاحب کے گُوش گُزار کردی۔ ایک مُدت کے بعد دربار فرید میں آج کسی کو ہمت ہُوئی تھی۔ کہ جمال ہانسوی کا تذکرہ  بابا صاحب کے سامنے پیش کرے۔ کچھ لوگوں کا خیال تھا ۔ کہ نافرمان جمال کا تذکرہ سُن کر بابا فرید پھر سے ناراضگی اُور ناپسندیدگی کا اِظہار فرمائیں گے۔ لیکن بابا فرید کے رُخساروں پر بہتے آنسو۔ اُور زُباں پر جاری یہ کلمہ۔ کہ،، جمال کے چلے جانے کے بعد چین تو ہمارے دِل کو بھی ایک لمحے کیلئے کہاں مُیسر آیا ہے۔ ۔۔ کچھ اُور ہی کہانی بیان کررہے تھے۔ تاجر نے بابا صاحب کو مغموم دیکھ کر جمال ہانسوی رحمتہ اللہ علیہ کیلیئے معافی طلب کی۔ جسکے جواب میں بابا فرید رحمتہ اللہ علیہ نے  جمالِ ہانسوی کیلئے معافی کا اعلان کرتے ہُوئے اُنہیں اپنے آستانے پر لائے جانے کی اجازت مرحمت فرمادی۔

جب جمالِ ہانسوی اپنے زخمی جسم سے بہتے ہُوئے خُون کیساتھ بابا فرید کی خِدمت میں ندامت سے سر جھکائے حاضر ہُوئے ۔تو بابا فرید اپنے رُوحانی فرزند کی ابتر حالت دیکھ کر آبدیدہ ہُوگئے۔ جسکے تمام بدن پر زخموں کے نِشاںسجے ہُوئے تھے۔ اُور چہرے کی رُونق کو زمانے کی دھوپ نے جُھلسا کر رکھ دیا تھا۔ وُہ چہرہ جِسے دیکھ کر بابا فرید رحمتہ اللہ علیہ کے چہرہ مبارک پر خوشی کے آثار نمودار ہُوجایا کرتے تھے۔ آج اُسی چہرے کے اعضاٗ پر اتنی دُھول پڑی تھی۔ کہ بظاہر جمال ہانسوی پہچانے بھی نہیں جارہے تھے۔ بابا فرید نے خود آگے بڑھ کر اپنے چہیتے روحانی پسر کو اپنے سینے سے یہ کہہ کر لگایا۔ کہ،، کیا ہم نے یہ حال بنانے کیلئے تُم کو خُود سے جُدا کرنے کی صعوبت برداشت کی تھی۔ کافی لمحے یونہی جمال ہانسوی بابا صاحب کے سینے پر سر رکھ کر اپنی بُھول کی معافی مانگتے رہے۔ اُور بابا صاحب نے تمام دربار میں اعلان فرمادیا کہ،، آج صرف ہمارا جمال واپس نہیں آیا بلکہ قُطبِ عَالم واپس آگیا ہے۔

اب عمران کو سمجھ آرہا تھا۔ کہ کیوں بابا صابر اُسے حضرت جمال ہانسوی کا عکس قرار فرمارہے تھے۔ عمران کی آنکھیں جہاں اِس غمناک واقعہ سے بھیگ رہی تھیں۔اُسکا  دِل  اپنے مُرشد کریم کی یاد میں مُرغ بسمل کی طرح  تڑپنے لگا تھا۔۔۔ عمران نے بھیگی پلکوں سے بابا صابر کی جانب جونہی دیکھا۔ تو بابا صابر نے بھرائی ہُوئی آواز میں عمران کو مخاطب کرتے ہُوئے کہا۔ بیٹا دِل کی بات سُنو! اُور  ہمیشہ دِل کی ہی ماننی چاہیئے۔اَرےتُو ایک پری کیلئے جو قیمت دینے کو تیار ہُوگیا ہے۔۔۔۔ اگر اپنے  مُرشد کی عظمت کو جان لیتا۔ تو ایسی ہزار پریاں اُنکے قدموں پر نثار کردیتا۔ 


جاری ہے۔۔۔

اُسکی الفت کا مزاہ سب سے الگ سب سے جُدا
جیسے سُورج کی تپش روکتی ہے کُوئی رِدا
جیسے ساقی نے پَلائی ہُو کسی تشنہ کو شراب
جیسے ٹل جائے کسی عاصی کے سر پہ سے عذاب

Wednesday, 6 February 2013

دہقان ہیں پریشاں مزدور رُو رہے ہیں





دہقان ہیں پریشاں “ مزدور “ رُو  رَہا ہے
ہر ایک آنسوؤں سے دامن بھگو رہا ہے

جسے - رہنما بنایا نشتر چبھو رہا ہے
کیا بنے گا قافلہ کا کہ امیر سو رہا ہے

یہ نالے یہ صدائیں پہنچیں گی عرش اک دن
اُسے بھی وہی ملے گا وہ جو آج بُو رہا ہے

وہ سمجھ رہے ہیں گنگا کی طرح مِرے وطن کو
تبھی آکہ ہر “ مُصاحِب “ یہاں ہاتھ دھو رھا ہے

یہاں دھونس دھاندلی ہے یہاں قُرب پروری ہے
جسے عشق ہو خودی سے وہ لہو لہو رہا ہے

نہ ہے شِیر نہ ہی شِیریں نہ ہے آب نہ روانی
نہ بدن ڈھکا ہوا ہے نہ ہی دانہ جُو رہا ہے

یہاں کون سُن رہا تجھے وارثی ِ عشرت
ہے سقیم حال تیرا کیوں جذب کھو رہا ہے

Sunday, 3 February 2013

کالا لباس اور اُجلا من


اگرچہ کتنی سادگی تھی اِس ایک جملے میں جو آج مجھے بذریعہ ایس ایم ایس مُوصول ہُوا تھا۔ لیکن اِس میسج میں پنہاں دَرد کو میرا حساس دِل بخُوبی محسوس کررِہا تھا۔ جسکا ایک ثبوت یہ بھی ہے۔ کہ میں نے آج اپنا قلم اسی سوال کے جواب کو تلاش کرنے کیلئے اُٹھایا ہے۔۔میسج می لکھا تھا کہ،، سر مجھے سیاہ لباس راس کیوں نہیں آتا۔ میں جب جب سیاہ لباس زیب تن کرتی ہُوں۔ تب کچھ نہ کچھ نقصان ضرور برداشت کرنا پڑتا ہے۔یا  پھرشائد میں ہی اِس رنگ کے قابل نہیں ہُوں۔

اِس میسج کو پڑھتے پڑھتے میرے لاشعور نے مجھے اُس فُون کال  تک پہنچا دیا۔۔۔۔ جو مجھے تقریباً تین برس قبل مُوصول ہُوئی تھی۔ میں اُس ٹیلیفون کال کو کبھی فراموش نہیں کرپاوٗں گا۔  اگرچہ اِن دونوں واقعات میں کوئی مماثلت نہیں ہے۔ لیکن دونوں واقعات میں عاجزی کا عنصر ضرور موجود ہے۔ جو کہ میرے پروردیگار کو بُہت پسند ہے۔۔۔۔۔

کتنا سُوز تھا اُس خاتون کی آواز میں۔۔۔ حالانکہ بقول اُن خاتون کے وُہ زندگی کی چالیس بہاروں کا سامنا کرچکی تھیں۔ لیکن دُورانِ گفتگو وُہ یُوں بلک بلک کر رُونے لگی تھیں۔۔۔۔۔ جیسے کسی پانچ برس کے بچے کی ماں اُس سے بازار میں بچھڑ جائے۔ اُور وُہ  حیران تنہا بازار میں کُھو گیا ہُو۔۔۔۔وُہ دیار غیر کے ایک مسلم مُلک میں لیکچرار ہُونے کے باوجود۔ اپنے سوالوں کے جواب نہیں ڈھونڈ پارہی تھی۔ اب نُوبت یہاں تک آپُہنچی تھی۔ کہ وُہ سفید لباس کو پاکیزگی کی علامت سمجھتے ہُوئے خُود کو  سفید لباس کا حقدار  بھی نہیں سمجھ رَہی تھی۔۔۔۔ کافی دیر تک وُہ صرف فون پر رُوتی ہی رہی۔ اُور میں خاموش تماشائی کی طرح فقط اُسکی سسکیوں اُور ندامت بھرے  ٹوٹے پھوٹےجملوں کا سامع بنا رَہا۔

پھر میرے ڈھارس بندھانے پر اُس نے گفتگو کا آغاز کرتے ہُوئے بتایا کہ،، وُہ ہند کے ایک بڑے شہر سے مُلازمت کیلئے اِس اسلامی مُلک میں آئی ہے۔ اُور گُذشتہ بارہ برس سے دیار غیر میں مقیم ہے۔۔۔ اُس  نے گفتگو جاری رکھتے ہُوئے مزید بتایا کہ،، ہمارا خاندان اگرچہ مختصر تھا۔لیکن خاندان کے تمام لوگ ہی اعلی تعلیم یافتہ ہُونے کیساتھ اچھی پُوسٹوں پر تعینات ہیں ۔۔۔ اُسے سولہ برس کی عُمر سےہی  اِس بات کا احساس ہُونے لگا تھا۔ کہ کوئی ہر وقت اسکے ساتھ رِہنے لگا ہے۔ اُور اس اِحساس کی ابتدا بھی اُسی دِن ہُوئی تھی۔ کہ جِس شام وُہ سفید لباس پہنے اپنی اماں کے گھر  کی چھت پر اپنے گیلے بالوں کو ڈُوبتے سورج کی نرم تپش سے سکھانے کی کوشش میں مصروف تھی۔ پھر یہ احساس بڑھتے بڑھتے اتنا قوی ہُوگیا۔ کہ میں اُس نادیدہ ہستی کے قدموں کی چاپ بھی محسوس کرنے لگی تھی۔ لیکن ایک بُہت عجیب بات یہ تھی۔ کہ مجھے اِس تمام معاملے میں کبھی خوف محسوس نہیں ہُوا۔ شروع شروع میں یہ بات میں نے اماں کو بتانے کی کوشش کی تھی۔ لیکن  چونکہ وُہ اپنے زمانے کی ایم اے انگلش تھیں۔ اُور اِن تمام باتوں کو توہم پرستی سے ذیادہ اہمیت دینے کی قائل نہیں تھیں۔ اسلئے میں نے اَماں سے بھی اُس نادیدہ ہستی کا تذکرہ کرنا چھوڑ دیا تھا۔


پھر جِس وقت میری عُمر بائیس برس کی ہُوئی۔ تب میں نے جان بوجھ کر اَماں سے اپنا بستر الگ کرلیا۔ کیونکہ  وُہ نادیدہ اب مجھے میرے لحاف میں محسوس ہُونے لگا تھا۔ اُور دھیرے دھیرے اُسکی شرارتیں گُستاخی میں بدلتی جارہی تھیں۔۔۔۔ اگرچہ میرے ساتھ جو کچھ ہُورہا تھا۔ ابتدا میں اِس تمام معاملے میں مجھے  گھبراہٹ محسوس ہُوتی تھی۔ ۔۔لیکن  دوسری طرف اُسکی دیدہ دلیری اُور دَر اندازی  بڑھتی ہُی چلی جارہی تھی۔ ۔۔۔ پھر رفتہ رفتہ مجھے بھی یہ سب کچھ اچھا لگنے لگا تھا۔ لیکن پھر رفتہ رفتہ مجھے اِس تمام معاملے سے گھن آنے لگی۔۔۔ اُور ایک تشنگی کا احساس ہر وقت میرے وجود کو ڈسنے لگا۔

اِن تمام وجوھات نے میرے ذہن کو عجیب پراگندہ کرڈالا تھا۔۔۔۔اگرچہ  اللہ کریم نے مجھے حُسن کی دُولت سے بے حد نوازا تھا۔ لیکن مجھے کبھی لڑکوں میں دلچسپی نہیں رہی تھی۔۔۔۔ میرا خیال تھا کہ میں ایم اے کرنے کے بعد اسلامی کلچر پر پی ایچ ڈی کرونگی۔ لیکن اب میرے ذہن میں گندے خیالات کے سِوا کوئی تعلیمی پلاننگ نہیں تھی۔۔۔۔ لیکن میرے لئے اَب مشکل یہ تھی کہ،، ہمارا گھرانہ اَعلی تعلیم یافتہ ہُونے کے باوجود بھی انتہائی مذہبی تھا۔ اسلئے خاندان کی کسی لڑکی کو اجازت نہیں تھی۔ کہ وُہ خاندان میں بھی کسی کزن سے  فالتو بات چیت کرسکے۔۔۔۔ میں اِسی شش و پنج میں مُبتلا تھی۔ تب ہی میں نے محسوس کیا کہ میرے ایک لیکچرار  مجھ میں دلچسپی لینے لگے ہیں۔۔۔ اگرچہ وُہ شکل و صورت سے  بالکل عام تھے۔ اُور مجھ سے قریباً عمرمیں بھی دس برس بڑے تھے۔ لیکن بہرحال وُہ ایک مرد تھے، اسلئے جب  انہوں نے میرے قریب آنے کی کوشش کی تو میں نے بھی خُوشدلی سے اُنکا استقبال کیا۔ جسکی وجہ سے جلد ہی ہمارا رشتہ اُستاد  اُور شاگرد کے دائرے سے نِکل کر دوستی تک پُہنچ گیا۔

پھر اُنہوں نے مجھے ٹیوشن کی پیشکش کی۔ جِسکی اجازت میں نے اپنی والدہ کے سامنے  کئی جھوٹ سچ رکھ کر حاصل کرلی۔۔۔ اُس لیکچرار کے بیوی بچے کسی دوسرے شہر میں تھے۔ جہاں وُہ ہر ہفتے کی شب چلے جایا کرتے تھے اُور پیر کی صبح یونیورسٹی آجایا کرتے تھے۔ اِس لئے ٹیوشن کے وقت ہم دُونوں کے سوا فلیٹ میں کوئی نہیں ہُوتا تھا۔ جسکی وجہ سے ہم دونوں ہی  جلد گُناہوں کی دلدل میں گرتے چلے گئے۔۔۔۔ لیکن یہ کیفیت بھی ذیادہ دِن نہیں چل پائی اُور مجھے اپنی عصمت کے گوہر نایاب کے کھونے کا دُکھ راتوں کو سُونے نہیں دیتا تھا۔ چھ ماہ اِسی حالت میں رہنے کے بعد میں نے اُن سے کہا کہ وُہ  میری ماں سے میرا رشتہ مانگ کر مجھ سے باقاعدہ نکاح کرلیں۔ مجھے انکی پہلی بیوی بھی قبول ہے۔۔۔۔ تب اُس شخص نے یہ کہہ کر مجھے ٹھکرادیا کہ جو لڑکی مرد کے ایک اشارے  پر اپنی عصمت کی چادر کو تار تار کرسکتی ہے۔ میں بھلا ایسی لڑکی پر ساری زندگی کیلئے کیسے بھروسا کرسکتا ہُوں۔ اِس واقعہ نے اگرچہ مجھے جھنجوڑ کر رکھ دیا۔ لیکن اب بُہت دیر ہُوچکی تھی۔۔۔۔ میں نے اگرچہ اس واقعہ کے بعد وُہ یونیورسٹی ہی نہیں بلکہ وُہ ملک بھی چھوڑ دیا۔ اُور آج تک شادی بھی نہیں کی۔۔۔ اُور نہ ہی شادی کرنا چاہتی ہُوں۔ کیونکہ مجھے لگتا ہے۔ کہ میں اپنے ہُونے والے شوھر کی امانت میں خیانت کرچکی ہُوں۔ اُور نہ ہی میں نے چودہ برس سے سفید لباس زیب تن کیا ہے۔ کیونکہ سفید لباس تو پاکیزگی کی علامت ہُوتا ہے نا۔۔۔۔؟ اُور میں تو سراپا گندگی کی پُوٹ ہُوں۔اگرچہ میں بے شُمار مرتبہ اپنے گناہُوں کی معافی اپنے رَب سے طلب کرچکی ہُوں۔ مگر یہ احساس گناہ مجھے ایک لمحے کیلئے بھی سکون سے جینے نہیں دیتا۔۔۔ جبکہ وُہ نادیدہ  احساس مجھے گُذشتہ چند ماہ سے پھر آمادہ گناہ کرنے لگا ہے۔۔۔۔ اتنا کہنے کے بعد وُہ خاتون ایک مرتبہ پھر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔۔۔ میرے پاس اسکے سِوا کوئی چارہ نہیں تھا۔ کہ،، اُسے خُوب رُو لینے دُوں۔ تاکہ اسکے دِل کی بھڑاس بھی نِکل جائے اُور میں اسکے گناہ پر شاھد بننے کے بعد اسکی توبہ پر بھی شاہد بن جاوٗں۔

اُسکے خاموش ہُونے پر میں نے گفتگو کا آغاز کرتے ہُوئے اُسے سمجھایا۔۔۔۔ میری پیاری بہن تُمہاری تمام دُکھ بھری کہانی سننے کے بعد میں اِس نتیجے پر پُہنچا ہُوں کہ آپ بھی لاکھوں خواتین کی طرح قومِ اجنہ کے کسی وحشی کی درندگی کا شکار ہُوگئی ہیں۔ جسکے علاج کیلئے میں بھرپور طریقے سے آپکی معاونت کرونگا۔۔۔۔۔ کاش آپکی والدہ صاحبہ نے اُس وقت آپکی بات پر کان دھر لئے ہُوتے تو آپکا پیچھا وُہ مُوذی کب کا چھوڑ کر اپنے انجام کو پُنچ گیا ہُوتا۔ دوسری بات یہ ہے کہ مجھے اِس تمام معاملے میں آپکی غلطی بُہت کم نظر آتی ہے۔ چونکہ آپ بیماری کی حالت میں تھیں۔ جسکی مثال یہ دی جاسکتی ہے کہ، اگر کسی شخص پر ذہنی امراض کا غلبہ ہُوجائے۔ اُور اگر اِسی حالت میں وُہ قتل کردے۔ تو  دُنیا کی عدالت بھی میدیکل رپورٹ آنے پر اُسے جیل میں ڈالنے یا فرد جرم عائد کرنے کے بجائے دِماغی بحالی مرکز میں بھیجتی ہے۔ اِسی طرح جو لوگ جنات یا جادو کے زیر اثر گناہ کربیٹھتے ہیں۔ تو کیا اللہ کریم کی عدالت سے اُنکو رعایت نہیں مِلے گی۔۔۔؟

  اسکے علاوہ جیسا کہ آپ نے کہا کہ آپ اللہ کریم سے بے شمار مرتبہ معافی مانگ چُکی ہیں۔۔۔ تب آپ اللہ کریم کی رحمت سے نا اُمید کیسے ہُوسکتی ہیں۔۔۔ کیونکہ وُہ تو ایسا کریم ہے۔ جسکی مثال انسانوں سے دی ہی نہیں جا سکتی۔ جب ایک ماں اپنے بچے کی لاکھ غلطیاں معاف کرسکتی ہے۔ اُور اپنے رحم کے باعث ایک انگارہ بھی اپنے بچے کی ہتھیلی پر نہیں رکھ سکتی۔۔۔۔ تب آپ اللہ کریم کی محبت کا تو اندازہ لگائیں جس نے ماں کو بھی پیدا فرمایا اُور رحم کو بھی۔۔۔۔ اُور اُس نے انسانوں کو ماں سے لاکھوں درجہ ذیادہ محبت سے پیدا کیا ہے۔ تو بھلا وُہ معافی طلب کرنے پر اپنے بندے کو کیوں معاف نہیں فرمائے گا۔۔۔۔۔ ارے وُہ تو اپنی مخلوق سے اتنا پیار کرتا ہے کہ اگر کوئی  انسان تمام زمین و آسمان بھی گناہ بھردے۔ جو کہ کوئی نہیں بھرسکتا۔۔۔۔ مگر بالفرض کوئی اتنے گناہ کرلے۔۔۔۔ اُور پھر صرف ایک مرتبہ سچے دِل سے معافی طلب کرلے۔۔۔۔ تو وُہ اتنا کریم پروردیگار ہے کہ بندہ ایک مرتبہ کہتا ہے۔ کہ مُولا میں گناہ کرنے کے بعد تیری بارگاہ میں عفو کیلئے حاضر ہُوں۔ تو ایسے گنہگار بندے کی ایک لبیک کی صدا پر  اللہ کریم دس مرتبہ قبول ہے قبول ہے کہتا ہے۔


پھر رنگ چاہے سفید ہُو یا سیاہ ہُو۔ چاہے وُہ کعبتہ اللہ کا غلاف ہی کیوں نہ ہُو۔ کسی مومن سے ذیادہ اسکی تقدیس و حرمت نہیں ہُوسکتی۔ اسلئے آپ سفید و سیاہ جو کپڑا  دِل چاہے پہنا کریں۔ کہ اُس کپڑے اُور رنگ کی عزت آپکی وجہ سے ہے۔ نہ کہ کسی رنگ و کپڑے کی وجہ سے  آپکی عزت۔ کعبہ کا غلاف سیاہ ہے ۔ اُور جنتیوں کا لباس سبز ہے۔ تو اسکی حکمت خدا ہی  بہتر جانے۔ لیکن کسی رنگ کی حرمت انسان سے ذیادہ نہیں ہُوسکتی۔ کیونکہ اُس کریم نے خُود  اپنے کلام پاک میں فرمادیا ہے۔ کہ اُس نے انسان سے حسین کسی کو نہیں بنایا۔۔۔۔۔

اُور نکاح تو سُنت ہے۔ گناہ سے بچنے کا ذریعہ ہے۔ پھر جو گناہ آپ نے شادی سے قبل کیا تھا۔ اُور اُسکی توبہ بھی مانگ لی۔ تو اب گناہ کہاں رہا۔ کہ توبہ کا پانی گناہ کے نشان تک دُھو ڈالتا ہے۔ اُور جب  نکاح ہی نہیں ہُوا۔ تو شوھر کی خیانت کیسی۔ خیانت تو جب ہُوتی کہ نِکاح قائم ہُو چُکا ہوتا۔ کیونکہ علماء بھی یہی فرماتے ہیں۔ کہ نکاح کے بعد عورت کی عصمت شوہر کی امانت ہُوتی ہے۔ اُور نکاح سے قبل کی خیانت اللہ اُور بندے کا معاملہ ہے۔ لہذا  توبہ کی توفیق  مِل جانے کے بعد اَب نکاح قائم کرلیجئے۔ تاکہ پھر کبھی شیطان لعین اپنی چالوں میں کامیاب نہ 
ہُوسکے۔

الحمدُ للہ عزوجل اللہ کریم کی عطا سے اُنہیں اپنے سوالوں کا جواب بھی مِل گیا تھا۔ اُور شیطانی وساوس بھی دُور ہُوئے۔ اُور آجکل وُہ ایک مقدس مقام پر اپنی ازدواجی زندگی صحت وعافیت کے ساتھ بسر کررہی ہیں۔اللہ کریم کی بارگاہ میں دُعا ہے۔ کہ وُہ میرے اس کالم کو ہمیشہ لوگوں کیلئے نافع و شافع بنائے۔ آمین بجاہِ النبی الکریم وصلی اللہ تعالی علیہ وآلہ واصحابہ و اِزواجہ  وبارک وسلم۔

Saturday, 2 February 2013

عکس دَر عکس کا اِظہار ہیں تیری آنکھیں



لکھنے والے کی اُجرت صرف آپکے خُوبصورت کمنٹس ہُوتے ہیں کم از کم اپنی رائے  لکھنے میں تو کنجوسی نہ  کیاکریں

Friday, 1 February 2013

کیا جب اعتبار مجھ پر۔۔۔؟



کیا جب اعتبار اُس نے ۔۔۔تو سب کچھ دے دیا مجھکو
ہُوا جب بَدگماں مجھ سے۔۔۔ تُو منگتا کہہ دیا مجھکو

اُڑی جب نیند آنکھوں سے۔۔۔نہیں سُونے دیا مجھکو
ہُوئی جب آنکھ بُوجھل۔۔۔۔ تب نِکما کہہ دیا مجھکو

Wednesday, 30 January 2013

NO WORRIES, NO TENSION


NO WORRIES ,NO TENSION

Come on let’s go with us and see our life
We were just friends we were just flies

No worries  , no tension
But I have to mention

That we have a duty………
Playing with friends and kitty

Some our things sharing with friends
Some of these gifted them

We were the glisten and like a flower
Now we are asunder like the drop of shower

                                      POETRY by : MEMOONA WARSI