bing

Your SEO optimized title page contents

Pages

Hamara Tube Channel

Thursday, 22 August 2013

مقبوضہ کشمیر میں مسلمانوں کے حالات ۔۔۔۔۔ تحریر عاصمہ شوکت خان



مقبوضہ کشمیر میں مسلمانوں کے حالات کشمیر کی ریاست پاکستان اور انڈیا کے درمیان ایک بہت بڑا مسلہ ہے جو کہ تقسیم برصغیر سے لے کر اب تک بغیر کسی فیصلہ کے ویسے کا ویسا ہےبرصغیر میں نگریزوں کے دور حکومت میں ٦٣۵ ریاستیں جہںاں نواب یا راجے داخلی طور پر حکمران تھے ان میں سے ایک ریاست جموں کشمیر بھی ہے .١٩۴٧ کی مردم شماری کے مطابق کشمیر کی کل آبادی چالیس لاکھ کے قریب تھی ، آبادی کا بہت بڑا حصہ مسلمان آبادی پر مشتمل تھا . برطانوی حکومت نے اس ریاست کو ایک ڈوگرە راجہ گلاب سنگھ کے ہاتھ صرف ٧۵ لاکھ میں فروخت کر دیا تھا . ڈوگرە گلاب سنگھ اسکے جانشینوں نے مسلم رعایا پر ظلم جبر کے پہاڑ توڑے . معمولی جراٴم کی پاداش میں مسلمانوں کو کڑی سزاٴیں دی گئیں، تنگ آ کر ١٩٣٠ میں کشمیری مسلمانوں نے ڈوگرە راجہ کے خلاف آزادی کی تحریک شروع کر دی اور راجہ نے بھارت کے ساتھ الحاق کر لیا تب کشمیری عوام نے راجہ کے خلاف ہتھیار اٹھاۓ اور کشمیر کا کچھ حصہ حاصل کر لیا جو کہ آزاد جموں کشمیر کی شکل میں دنیا کے نقشے پر ظاہر ہوا اور باقی حصہ پر بھارت نے اپنی افواج بھیج کر قبضہ کر لیا . اب کشمیر ایک ایسا خطہ ہے جہاں پر سات لاکھ سے زائد بھارتی افواج موجود ہیں . بھارتی فوجوں کے مسلمان کشمیریوں پر ظلم و ستم نسل کشی کی حد تک پہنچ گۓ ہیں کشمیر کی یہ حالت سٹیٹ سپونسرڈ ٹیروریزم کی بہت بڑی شکل ہے. کشمیر کے لوگ ایکطرف تو بھارتی افواج کا ظلم و تشدد برداشت کر رہے ہیں اور دوسری طرف یونائیٹڈ نیشنز کی سیکیورٹی کونسل کشمیری عوام کو بغیر کسی خوف و حراس اور ظلم و ستم کے بہتر مستقبل کا وعدە کر رہی ہے جبکہ حقیقت میں کشمیری عوام کی امن حاصل کرنے کی کوششوں اور ان کے بنیادی انسانی حقوق کو بہت بری طرح سے پامال کیا جا رہا ہے یہ لوگ مسلسل بھارتی افواج کی بربریت کا شکار ہیں . بنیادی انسانی حقوق کے تمام چارٹر جن میں " ڈیکلریشن آف ہیومن رائٹس " ( ) اور "ہیومن رائٹس کوونینٹ" ( ) شامل ہیں سب بہت بری طرح سے پامال ہو رہے ہیں انڈیا کی افواج کشمیر کے اردگرد ایک لوہے کی دیوار کی طرح کھڑی ہیں جو کہ تمام بین الاقوامی بنیادی انسانی حقوق کی تنظیموں کو کشمیر کے اندر جانے کی راە میں رکاوٹ ہیں جبکہ ان تمام رکاوٹوں کے باوجود کچھ تنظیمیں ایسی ہیں جو کہ کشمیر کے اندر جا کر وہاں کی عوام کے پرتشدد پر رپورٹ ہر دوسرے دن پیش کر رہی ہیں مگر بھارتی افواج کے خلاف انٹرنیشنل لیول پر کوئ ایکشن نہیں لیا جا رہا، یہاں تک کہ انٹرنیشنل کمیونٹی میں نہ تو کسی نے اس رویہ کو برا کہا ہے اور نہ ہی اسے روکنے کی کوئ خاطر خواە کوشش کی ہے. کشمیر میں بنیادی انسانی حقوق کی پامالی ١٩٨٩ سے شدید حد تک بڑھ گئ ہے جس کی وجہ یہ ہے کہ کشمیری عوام پاکستان سے الحاق چاہتی ہے. اکتوبر ١٩٦٦ میں جموں کشمیر کے ہائ کورٹ کے جج نے کہا کہ ریاست میں قانون کا اصول اور استعمال ختم ہو چکا ہے اور دوسری طرف بھارتی حکومت کا دعوی ہے کہ بھارت کی جموں و کشمیر کے حوالے سے پالیسی بہت شفاف اور کھلے ذہن کی ہے جبکہ بھارت ہر طرح سے یونائٹڈ نیشنز کے پیش کردە طریقہ امن سے کوئ بھی تعاون کرنے سے انکار کر رہا ہے اسکا یہ انکار ہمیشہ سے برقرار ہے. بھارت کسی بھی بین الاقواممی تنظیم کو کشمیر میں بنیادی انسانی حقوق کا سروے کرنے کی اجازت نہیں دے رہا. مقبوضہ کشمیر میں تحریک آزادی کو کچلنے اور کشمیریوں کو دبانے کے لۓ متعددبدنام کالے قانون نافذالعمل ہیں ٹاڈا نیشنل پاور ایکٹ ، پونا نیشنل سیکیورٹی ایکٹ شامل ہیں ان ایکٹس کے تحت کشمیری عوام کے حقوق کی پامالی سرعام کی جا رہی ہےجبکہ ان سب حالات پر حقوق انسانی تنظیموں نے آنکھیں موند رکھیں ہیں . ٹاڈا جیسے کالے قانون کا نفاذ١٩٨۵ میں عمل میں لایا گیااور اسکے تحت بھارتی افواج کو سپیشل اختیارات دئیے گۓ کہ وە کسی بھی نہتےمظلوم کشمیری کو بغیر کسی وجہ کے ایک سال کے لیۓ جیل بھیج سکتے ہیں مقبوضہ علاقے میں سے ٹاڈا کے تحت ٧٧٢ افراد کو حراست میں لے کر بھارت کی مختلف جیلوں میں بھیج دیا گیا،اسکے ساتھ سپیشل پاور ایکٹ جو کہ ١٩٩٦ میں نافذ کیا گیا اس ایکٹ کے تحت بھارتی افواج کو کشمیریوں کی املاک تباە کرنے ، خواتین کی عصمت دری بے گناە افراد کی گرفتاری کے اختیارات دئیے گیۓ . اس کے بعد بدنام زمانہ قانون پونا ٢٠٠٠ کے تحت بھارتی افواج کو اضافی اختیارات دئیے گۓہیں اسکے تحت بھارتی افواج کسی بھی بے گناە کشمیری پر مسلک ہتھیار رکھنے کا الزام عائد کر کے اسے انسداد دہشت گردی کی شے میں بغیر مقدمہ چلاۓ تین ماە کے لیۓ جیل بھیجا جا سکتا ہے. ١٩٨۵ سے لے کر اب تک ٦٩٦۵ افراد ناجائز حراست میں ہیں . سفاک فوج دس ہزار نوجوانوں کو اغواٴ کر کے گمنام قبروں میں ابدی نیند سلا چکی ہے. ٩٢ ہزارخواتین بیوە اور ایک لاکھ سے زائد بچے عالمی طاقتوں کے غیر منصفانہ رویےکی وجہ سے باپ کی شفقت سے محروم یتیمی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں . ایک سروے کے مطابق مقبوضہ علاقے ہانڈی پورە ، بارە مولا اور کپواڑە کے ۵۵ دیہاتوں میں ٢٧٠٠کے قریب گمنام قبریں دریافت ہو چکی ہیں ،. اکتوبر ١٩٨٩ سے اب تک ٣٨٠٠٠ سے زائد کشمیری بھارتی افواج کے ہاتھوں مارے جا چکے ہیں ( ) نیشنل ہیومن رائٹس کمیشن ١٩٩٦۔١٩٩٧ کے مطابق ١٣٧۵ کشمیری مارے گۓ اور ٢٢٣١ کشمیری ١٩٨٨سے ٣٠ اپریل ١٩٩٧ کے درمیان زخمی ہوۓ . قابل اعتماد پریس رپورٹس کے مطابق ١٩٩٧ میں ١١١۴ ملیٹیٹ افراد مارے گۓ. ١۵ اکتوبر ١٩٩٦ کی ایمنیسٹی انٹرنیشنل پریس کی رپورٹ کے مطابق بھارتی حکومت ، جموں کشمیر میں انسانی حقوق کی بہت بری طرح سے پامالی کر رہی ہے اور اس رپورٹ کے مطابق ٢٠٠ شہریوں کو ناجائز حراست میں لے کر مار دیا گیا اور ۵٠٠، ٦٠٠افرد کو غائب کر دیا گیا، جو کہ ابھی تک لاپتہ ہیں بہت ساری رپورٹس کے مطابق کشمیری افراد جن میں زیادە تر مسلمان ہیں بھارتی افواج کے شدید تشدد کا نشانہ ہیں گزشتہ دو عشروں میں حراست اور جعلی مقابلوں کے درمیان ہزاروں افراد کو شہید کیا جا چکا ہے لیکن ان کے کے بارے میں تاحال کوئ تحقیقات نہیں کی گئ ہیں اکتوبر ١٩٨٩ سے لے کر اب تک ۵٠٠٠ خواتین کو زیادتی کا نشانہ بنایا جا چکا ہے . ایک رپورٹ کےمطابق ٢٣ فروری ١٩٩١ میں ایک بہت خاص واقعہ پیش آیا جس کے مطابق جموں کشمیر کے ایک گاوٴں کو نان فاسفوواە میں ٨٠٠٠ بھارتی فوجیوں نے گاوٴں پر قبضہ کر کے مردوں کو حراست میں لے لیا اور گھروں میں گھس گۓ اور اس رات میں ٢٣ سے ٦٠ عورتوں کو زیادتی کا نشانہ بنایا گیا . وہاں پر یہ واقعات بھی دیکھنےمیں آۓ ھیں کہ جوان لڑکیوں کو کچھ دن کے لیۓبھارتی افواج کے اڈے پر لیجایا جاتا ہے وہاں پر انہیں زیادتی کا نشانہ بنایا جاتا ہے اور پھر انہیں مار دیا جاتاہےیاپھر گھر واپس چھوڑ دیا جاتا ہے جن میں سے کچھ حاملہ ہونے کی صورت میں خودکشی کر لیتی ہیں زیادە تر بھارتی افواج ہی کشمیری خواتین کو زیادتی کا نشانہ بناتے ہیں نہ کہ دوسرے میلٹیٹ . زیادە تر یہ واقعات پیش آتے ہیں تب فوجی مایوسی کاشکار ہوں یا پھر شراب کے نشہ میں . بھارتی افواج کے تشدد کا نشانہ وە لوگ بنتے ہیں جو آزادی کی تحریکوں میں حصہ لیتے ہیں اور جو پاکستان کی حمایت کرتے ہیں . بھارتی افواج تشدد کے بہت سارے طریقے استعمال کرتے ہیں جن میں بے رحم مار پیٹ ، بجلی کے جھٹکے ، جسم کے اعضاٴ کو کاٹنا خاص طور پر ہاتھ اور پاوٴں کے انگھوٹوں سے جسم کو دو حصوں میں تقسیم کر دینا . جلا دینا ، جنسی خوف و حراس پھیلانا اور زیادتی کا نشانہ بنانا،وغیرە ٢٧مارچ ١٩٩٦ کو انسانی حقوق کے وکیل جلیل اندرابی کی لاش دریاۓ جہلم میں پائ گئ مگر اسکے قاتلوں کو کوئ سزانہیں دی گئ. جنوری ١٩٩٨ میں ١١ افراد جن میں عورتیں اور بچے بھی شامل تھے کو جموں کشمیر کے گاوٴں کادرانہ میں آگ لگا کر جلا دیا گیالیکن اب تک ان کے قاتل بھارتی افواج کو کوئ سزا نہیں دی گئ اس طرح کے تشدد کے واقعات آۓ روز پیش آتے ہیں مگر اس پر کوئ تنظیم کام نہیں کر رہی، مظلوم کشمیریوں کے قاتل سر عام پھر رہے ہیں تشدد کے واقعات میں یہ طریقہ بہت دیکھنےمیں آیا ہے کہ لوگوں کی ٹانگوں کو لکڑی سے دبا دیا جاتا ہےجس سے انکے مسلز ڈیمج ہو جاتے ہیں جو کہ گردوں کے فیل ہونے کا سبب بنتے ہیں ڈاکٹرز کے مطابق ١٩٩٠ تک ٣٧ افرد گردوں کے مرض میں مبتلا تھے جو کہ اب تک لا تعداد ہو چکے ہیں انڈین فورسز کے تشدد کی وجہ سے ٧۵ لاکھ افراد ذہنی مریض بن چکے ہیں ٦ لاکھ سے زائد افراد معزور ہو چکے ہیں ٢ لاکھ ٨ ہزار افراد بینائ سے محروم ہو چکے ہیں رپورٹ کے مطابق ١٩٩٠ سے ٢٠٠١ تک مقبوضہ علاقے میں ظلم و تشدد کی وجہ سے ذہنی اور جسمانی امراض کے شکار افراد میں مسلسل اضافہ ہو رہاہے مقامی ماہر نفسیات کے مطابق ہر چھٹا کشمیری کسی نہ کسی نفسیاتی بیماری کا شکار ہے انڈین افواج کا تشدد صرف افراد، گھروں ،سڑکوں یا جیلوں تک محدود نہیں بلکہ یہ لوگ نہ صرف ہسپتالوں میں توڑ پھوڑ کرتےہیں بلکہ وہاں پر ملیٹینٹ زخمی افراد کو مار دیتے ہیں یا پھر اپنی حراست میں لے لیتے ہیں اس کے علاوە وہاں پر موجود ڈاکٹرز اور ہسپتال کے دوسرے عملہ کو ڈراتے دھمکاتے ، تشدد کرتے اور کبھی مار بھ دیتےہیں سچ تو یہی ہے کہ بھارتی افواج کو کوئ سزا نہیں دی جاتی . آزادی کی تحریکوں یا انکوائری اور رپورٹس لکھ کرکشمیری عوام کو ان کے بنیادی حقوق اور آزادی نہیں دلائ جا سکتی.

Saturday, 3 August 2013

دَر سے اُٹھو تو اِسطرح(الودع ماہِ رمضان)۔


اُٹھو تو اسطرح (اعتکاف اسپیشل)۔
(ishrat iqbal warsi, mirpurkhas)

محترم قارئین کرام السلامُ علیکم

ہر سال دُنیا بھر میں لاکھوں مسلمان رمضانِ کریم کے آخری عشرے میں مساجد میں اعتکاف کے لئے بیٹھتے ہیں جِن میں ایک کثیر تعداد نوجوانوں کی بھی ہُوتی ہے۔

اعتکاف میں بیٹھنے کی سب سے بڑی فضیلیت تو میری نِگاہ میں یہی ہے کہ یہ میرے آقا کریم علیہ السلام کی سُنت مبارکہ ہے اس عظیم نسبت کے بعد تمام فضائل ضمنی نظر آتے ہیں کہ جس عمل کو پیارے آقا علیہ السلام سے نسبت حاصل ہُوجائے اُس کے بعد کسی فضیلت کسی دلیل کی حاجت باقی نہیں رِہ جاتی۔

البتہ ایک سوال ایسا ضرور ہے جو اکثر نوجوان کے ذہن میں اس عظیم سعادت کو حاصل کرلینے کے باوجود بھی دِماغ میں باقی رہ جاتا ہے کہ آخر ہم لوگ کیوں تقریباً 10 دِن تلک اپنے گھر والوں سے دور رہے اور آخر وہ کیا مقصد تھا کہ جس کی وجہ سے ہم نے یہ خلوت نشینی اختیار کی تھی؟

جواب اگر چہ انتہائی آسان ہے مگر عموماً ہماری نگاہ اور ہماری فراست اس جواب کا ادراک حاصل نہیں کرپاتی

فضیلت کے اعتبار سے کئی احادیث کریمہ موجود ہیں جنکی رُو سے اعتکاف کا ثواب کبھی نفلی حج کے برابر تو کبھی عمرہ کے برابر کہیں مغفرت کی بشارت تو کہیں انوار الہی کے جلوؤں کی نوید سُنائی دیتی ہے۔

لیکن میں پھر کہوں گا کہ تمام فضائل اپنی جگہہ لیکن کریم مُصطٰفی علیہ السلام کی عظیم سُنت کی نسبت اِن تمام فضائل سے بڑھ کر ہے کہ اللہ کریم نے قران مجید میں جابجا اپنے مدنی محبوب صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت اور اتباع کا حُکم عطا فرمایا ہے۔

میں یہاں سُنت کی مُحبت کے پیش نظر ایک روایت پیش کرنا چاہتا ہُوں جو انشاءَاللہ آپکے شوق کو مزید فِزوں کرنے کا سبب بنے گی روایت ہیکہ جب سیدنا مُوسیٰ علیہ السلام دریائے نیل سے گُزر چُکے اور فرعون کا تمام لشکر دریا بُرد ہُورہا تھا سیدنا مُوسی علیہ الصلواۃ والسلام نے دِیکھا کہ فرعون کے لشکر میں سے ایک آدمی دریا کی لہروں سے بچنے کی مسلسل سعی کررہا ہے اور بلاآخر وہ فرعون کا لشکری ڈوبنے سے محفوظ رِہ گیا۔ حضرت سیدنا موسٰی علیہ السلام کو گُمان ہُوا کہ شائد بچنے والا کوئی نیک مومن ہوگا لیکن سیدنا موسٰی علیہ السلام نے جب اُس محفوظ رہنے والے لشکری کو غُور سے دِیکھا تو آپکو دُکھ اور نہایت حیرت ہُوئی کہ وہ شخص جو اس عذاب سے محفوظ رہا تھا کوئی نیک مومن نہیں بلکہ ایک مسخرہ تھا جو کہ بازاروں میں حضرت سیدنا موسٰی علیہ السلام جیسا حُلیہ بنا کر سیدنا موسٰی علیہ کی نقلیں اُتارا کرتا تھا کبھی آپکی طرح لہجہ بناتا کبھی آپکی طرح عصا زمین پر مارتا ہر وقت لوگوں کو محظوظ کرنے کیلئے آپ جیسا لباس پہنتا اور آپ ہی کی طرح عمامہ سر پر باندھ کر آپکی جیسی چال میں خود کو ڈھال لیا کرتا تھا لوگ اُسکی اداکاری سے محظوظ ہوتے اور کُچھ نہ کُچھ سِکے اُسکی جانب اُچھال دِیا کرتے تھے جس سے اُسکا ذریعہ مُعاش قائم تھا۔

حضرت سیدنا موسٰی علیہ السلام نے بارگاہِ خُداوندی میں عرض کی اے میرے پروردیگار یہ شخص تو مجھے ایذا دِیا کرتا تھا لوگوں میں میری نقل اُتار کر میرا مذاق اُڑایا کرتا تھا تُونے اِسے کیوں عذاب سے محفوظ رکھا؟

اللہ کریم نے ارشاد فرمایا اے موسٰی آپ ٹھیک کہتے ہیں یہ شخص فرعون کا ساتھی ہے لیکن اے موسٰی اِس شخص نے تُمہاری مشابہت میں اپنا حلیہ اتنا بدل ڈالا ہے کہ جب یہ شخص دریا کی لہروں میں غرق ہُورہا تھا تب بھی مجھے اِس میں اپنے کلیم کی جھلک نظر آرہی تھی میری غیرت نے گوارا نہ کیا کہ جو میرے کلیم جیسا نظر آرہا ہُو میں اُسے فرعون کے ساتھ غرق کردوں۔ اِس وجہ سے میں نے اسے غرق ہونے سے محفوظ رکھا!!!!!!

محترم قارئین اگر یہ واقعہ ابھی تک آپکی سمجھ میں نہ آیا ہُو تو اِسے پھر پڑھیئے ، پھر پڑھیئے ، یہاں تک کہ یہ بات آپ کے ذہن کے ہر گوشے میں بیٹھ جائے کہ اگر موسٰی علیہ السلام کا اُمتی مذاق میں بھی سُنت اپنالے تو اللہ کریم کو سزا دینے میں حیا آجائے تو کیا مُصطٰفی کریم علیہ السلام کی مُحبت میں سُنت کو اپنانے والا رحمت خُداوندی سے محروم رہے گا؟ کیا وہ عذاب دِیا جائے گا

پس ثابت ہُوا کہ سُنت کی نسبت ہی سب سے عظیم تر دلیل ہے جسکے بعد کوئی ظاہری فضیلیت نہ بھی ہو تب بھی کوئی فرق نہیں پڑتا۔

لیکن ایک بات ضرور ہے اگر کوئی یہ عشرہ اعتکاف میں گُزار کر بھی دنیاوی شہوات کے قفس سے خُود کو آزاد نہ کراپائے، اپنی مغفرت کا پروانہ اپنے کریم مالک سے حاصل نہ کرپائے، ذکرِ الہی کی حلاوت کو نہ پاسکے، اپنی دینی اور دُنیاوی حاجات میں سُرخرو نہ ہوسکے تو اُسے اپنے عمل پر دِن اور رات کے ایک ایک لمحے پر ضرور غُور کرنا چاہیئے کوئی نہ کوئی کھوٹ یا کمی ضرور عمل میں باقی ہے ورنہ وہ تو بادشاہوں کا بادشاہ ہے، مشکل کشاؤں کا مشکل کُشا ہے ، دنیا کے تمام خزانوں کا اصل مالک وہی ہے وہ جسے چاہتا ہے بادشاہ بنادیتا ہے جِسے چاہے حاجت روائی کے لئے چُن لیتا ہے جِسے چاہے زمینوں کے خزانوں کا مالک کردے جِسے چاہے علم عطا کردے ایسے بادشاہ کے در پر ایک عشرہ پڑے رہنے کے بعد بھی اگر کوئی خالی ہاتھ ہے تہی دامن ہے تو یہ اُسکی اپنی بدنصیبی ہے کیونکہ دینے والا تو  جَواد ۔و۔ کریم ہے دینے والے کی اگر 
شان دیکھنی ہے تو اُسکے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم کی سخاوت دیکھ لو۔

اُسکے  کریم رب کے تو  دُوست کسی کو خالی ہاتھ نہیں بھیجتے۔ تو وہ جو بادشاہوں کا بادشاہ ہے کیسے گوارہ کرے گا کہ کوئی اُسکے در پہ آئے اور خالی ہاتھ چلا جائے۔ یقیناً کھوٹ ہے تو مانگنے والے میں یا شائد ہمیں مانگنا ہی نہیں آتا یا شائد جھولی پھیلانے سے قبل ہمیں یقین ہی نہیں ہوتا کہ ہماری خالی جھولی واقعی بھردی جائے گی

بقول علامہ شہیدی

اُسکے تو عام ہیں الطاف شہیدی سب پر
تُجھ سے کیا ضد تھی اگر تُو کسی قابل ہُوتا

Thursday, 4 July 2013

اِستقبالِ رمضان کیا آپ بھی تیار ہیں ؟


محترم اِسلامی بھائیوں! السلامُ علیکمُ

رمضانُ المُبارک کی آمد آمد ہے اہلِ ایمان ہمیشہ ہی سے رمضانُ المُبارک کی آمد کیلئے خُود کو ماہِ شعبان المعظم ہی سے تیار کرتے آئے ہیں ایمان والوں کو رمضانُ المُبارک کے آنے سے خُوشی اور اِسکے جانے پر غم مِحسوس ہُوتا ہے اور ایسا کیوں نہ ہُو کہ رمضانُ المُبارک ایسا مِہمان ہے جو خالی ہاتھ نہیں آتا بلکہ اَپنے ساتھ انعامات کے بادل بھی ساتھ لاتا ہے۔

جِس کی بارش میں نیکوکار ہی نہیں بلکہ گُنہگار بھی نہاتے ہیں اِس ماہ مُبارک میں نیکیوں کی بارش ایسے تواتر کیساتھ برستی ہے کی ماہِ رمضانُ المُبارک میں ایک لمحہ بھی ایسا نہیں ہُوتا کہ جِس میں یہ بارشِ انوار نہ بَرستی ہو ہر دِن کے اِختتام پر دس لاکھ ایسے مجرموں کو جِن پر عذاب لازم ہُوچُکا تھا وقتِ افطار آزادی کا پروانہ عطا کر دِیا جاتا ہے۔

حضور نبی کریم (صلی اللہُ علیہ وسلم) کا فرمانِ ذیشان ہے “مفہوم“ کہ جب ماہ رمضان کی پہلی شب آتی ہے تو جنت کے تمام دروازے کھول دیئے جاتے ہیں اور پورے مہینہ ایک بھی جنت کا دروازہ بند نہیں کیا جاتا اور اللہ کریم اِک نِدا دینے والے کو حُکم دیتا ہے کہ یُوں نِدا دو۔ اے بھلائی کے طلبگارو آگے بَڑھو، اے بُرائی کے پرستارو پیچھے ہٹو۔

پھر فرماتا ہے، ہے کوئی بخشش کا طلبگار کہ اُسے بَخش دِیا جائے؟ ہے کوئی مانگنے والا کہ جُو مانگے عطا کیا جائے؟ ہے کوئی تُوبہ کرنے والا تاکہ اُس کی تُوبہ قبول کی جائے صبح طلوع ہُونے تک اِسی طرح صدائیں دِی جاتی ہیں۔

حضرت سلمانِ فارسی (رضی اللہُ تعالی عنہُ) اِرشاد فرماتے ہیں کہ نبیِ رحمت شفیعِ اُمت نے شعبان المعظم کے آخری دِن اِرشاد فرمایا مفہوم اے لوگوں! تُم پر ایک عظیم مہینہ سایہ کر رہا ہے، اِس میں لیلتہُ القدر ہے جو ہزار مہینوں سے بِہتر ہے اللہ کریم نے اِس کے روزے فرض کئے اور رات کا قیام نفلی (عبادت) ہے جِس نے اِس ماہ میں ایک نیکی کی گویا اُس نے دوسرے مہینے میں فرض ادا کیا اور جِس نے اِس ماہ میں ایک فرض اَدا کیا گویا اُس نے دوسرے مہینے میں 70 فرض ادا کئے یہ صبر کا مہینہ ہے اور صبر کا ثواب جنت ہے اور یہ مواسات کا مہینہ ہے، اِس میں ایماندار کی روزی فراخ کردِی جاتی ہے جِس نے اِس ماہِ مُبارک میں کِسی کا روزہ اِفطار کروایا، اُس کے لئے ایک غلام آزاد کرنے کا اَجر ہے اور اُس کے گُناہوں کیلئے مُعافی ہے

مُحترم اِسلامی بھائیوں! یہ وہ مُبارک مہینہ ہے کہ جس میں گُنہگاروں کے دِل اللہ کریم کی جانب مائل ہوجاتے ہیں اور ہزار ہا گُنہگار اس موسم بہار کی وجہ سے ہمیشہ ہمیشہ کیلئے گُناہوں سے تائب ہوجاتے ہیں یہ وہ ماہِ مُبارک ہے کہ جِس کے سبب مسجدیں آباد ہُوجاتی ہیں مومنین کو شیاطین سے نجات مِل جاتی ہے گھروں سے قُرآن مجید کی صدائیں بُلند ہوتی ہیں۔

لیکن آہ افسوس صد افسوس بُہت سے ایسے بدنصیب مسلمان بھی ہوتے ہیں کہ اِس مہمان کا ادب نہیں کرپاتے جو فسق و فجور کی زندگی کو نہیں چھوڑ پاتے اور اپنی زندگی میں فیضان رمضان سے اِستفادہ حاصل نہیں کرپاتے جِن کے شب و روز میں کوئی انقلاب برپا نہیں ہُوتا کچھ ایسے ہُوتے ہیں جو ابتدائے رمضان میں تو خُوب جوش و خروش کا مُظاہرہ کرتے ہیں لیکن جُوں جُوں ماہ رمضان گُزرتا ہے واپس نفسانی خُواہشات کا شکار ہوجاتے ہیں جسکی وجہ سے مسجدوں کی رونقیں معدوم ہونے لگتی ہیں تراویح کی قطاروں میں کمی آنے لگتی ہے پھر وہی لہوولعب کا بازار گرم ہوجاتا ہے۔

مُحترم قارئین آئیے عہد کریں کہ اِس سال ہم اِس شان سے ماہِ صیام کا اِستقبال کریں گے کہ انشاءَاللہ ماہِ شعبان سے ہی اپنے گُناہوں سے آلودہ جِسموں کو رمضان کے استقبال کیلئے نیکیوں کی جانب مائل کریں گے ابھی سے عبادت پر کمر باندھیں گے اللہ کریم سے مدد لیتے ہُوئے اگر نماز نہیں پڑھتے تو نماز کی پابندی کریں گے جھوٹ سے خود کو بچائیں گے اپنی زُبان اپنی نگاہوں کی اپنی شرمگاہوں کی حِفاطت کریں گے تاکہ ہم رمضان الکریم کا اِستقبال اُس کے شایانِ شان طریقے سے کرسکیں۔

اور رمضان المبارک میں انٹرنیٹ کا استعمال صرف تلاوت قرآن کیلئے دینی مسائل کو سمجھنے کیلئے یا علم دین حاصل کرنے کیلئے کریں گے انشاءَاللہ عزوجل۔

اور فلموں ڈراموں یا گیم کھیلنے کیلئے کم از کم رمضانُ المُبارک کے احترام میں استعمال نہیں کریں گے اللہ کریم تمام مسلمانوں کو اِستقامت عطا فرمائے۔
(آمین بِجاہِ سیدُ المُرسلین و صلی اللہُ تعالٰی علٰی وَآلِہِ واصحابہِ وبارک وسلم)

Tuesday, 18 June 2013

کیسا مسلمان جِن ہے تُو۔۔۔؟


اگرچہ اِرادہ تُو یہی تھا۔کہ،، پنجاب سے واپس آنے کےبعد ہی کالم لکھنے کا سلسلہ دُوبارہ سے شروع کرونگا۔ لیکن آج عین سسٹر سے ڈھیروں باتیں کرنے کے بعد جب  غیر متوقع طُور پر پندرہ منٹ بعد ہی اُنکا میسج موصول ہُوا۔  تب پہلے تو  مجھے بُہت حیرت ہُوئی۔ لیکن پھر میں نے سُوچا کہ شائد عین سسٹر کوئی اہم بات بتانا بُھول گئی ہُونگی۔ جِسے اب لکھ کر بھیج دِیا ہُوگا۔

لیکن جب میں نے میسج کو کھول کر پڑھنا شروع کیا۔۔۔ تب غصے کیساتھ سا تھ  نِدامت نے میرا سَر شرم سے جھکا دیا۔ میری یہ پیاری سی گُڑیا  جیسی بہن جِسے آج سے ایک ماہ پہلے تک میں جانتا بھی نہیں تھا۔ اُور شائد آج دوسری مرتبہ ہی میری اُن سے گفتگو ہُوئی تھی۔۔۔ مجھے وُہ تکلیف دِہ کہانی لکھ کر بتا رہی تھی۔کہ بھیا،، اگرچہ تمہاری یہ بِہن تمہاری طرح ہی حالات سے لڑنا جانتی ہے۔۔۔ لیکن آجکل یہ ایک ایسی تکلیف دِہ زِندگی گُزارنے پر مجبور ہے۔۔۔ جِسکا تذکرہ کوئی  بھی بِہن اپنے بھائی سے آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر نہیں کرسکتی۔

عین سسٹر نے میسج میں لکھا تھا۔کہ ایک جِن کافی عرصہ سے مجھے ستا رہا ہے۔ ۔۔ جب بھی کِسی رشتہ کی ترکیب بننے لگتی ہے۔ یہ سرکش جِن اِس رِشتہ میں خرابی پیدا کردیتا ہے۔ جِسکے بعد وُہ رِشتہ خُود بخود ہی  پنپنے سے قبل ہی مُرجھاجاتا ہے۔۔۔ جب میں نے پہلی مرتبہ آپ سے رابطہ کیا تب آپ نے مجھے ایک وظیفہ پڑھنے کیلئے دِیا تھا۔ میں نے جیسے تیسے وظیفے کی ابتدا تُو کردی۔ لیکن میرے وظیفہ  شروع کرتے ہی اُس نے مجھے زمین پر دھکا دے دیا۔

اُور پھر  وُہ جِن زادہ مجھے مخاطِب کرکے کہنے لگا۔۔۔ تُم کیا سمجھتی ہُو۔کہ تُم وظیفہ پڑھنے میں کامیاب ہُوجاوٗگی۔ اُور میں تماشائی بن کر دیکھتا رَہونگا۔ عشرت وارثی تمہاری مدد کرے گا۔ اُور تمہیں  مجھ سے چُھڑا لےجائے گا۔۔۔سُنو میں  تمہیں کوئی وظیفہ نہیں پڑھنے دُونگا۔ کان کھول کر سُن لُو نہیں پڑھنے دُونگا۔ اُور یہ لیمن اپنے  جسم سے دُور کردو۔ دُور کردو اِنہیں کچھ نہیں ہُوتا اِن لیمووٗں سے۔۔ میں عشرت وارثی سے نہیں ڈرتا۔۔۔کیا ہُوا کہ،، وُہ مسلمان عامل ہے۔۔۔ عامل تُو میں بھی ہُوں۔ اُور مسلمان بھی ہُوں۔اُورکس کی مجال ہے کہ،، وُہ میرے شِکار کو مجھ سے لے جائے۔۔۔ تم صِرف میری ہُو۔اُور ہمیشہ میری ہی رَہوگی۔

میری پیاری عین  بہنا! میں اِس موضوع پر بعد میں بات کرونگا۔کہ،، وُہ آپکو بار بار یہ کیوں کہہ رَہا تھا۔ کہ،، مجھے عشرت وارثی سے کوئی خوف نہیں ہے۔ اُور یہ لیمن بیکار ہیں۔ اِسلئے اِنہیں پھینک دُو۔۔۔۔۔۔۔ لیکن اِس تحریر کے توسط سے پہلے میں چند باتیں اُس جِن زادے سے کرنا چاہتا ہُوں۔۔۔ اے کاش  اگر وُہ واقعی مسلمان ہے۔ تُواِس کی سمجھ میں میری بات آجائے۔ ورنہ پھر اِسکا بھی وہی عبرتناک حشر ہُوگا۔ جو لاکھوں سرکشوں کا ہُوچُکا ہے۔

سُنو  اے سرکش جِن زادے،، تمہیں واقعی عشرت اقبال وارثی سے ڈرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ کیونکہ عشرت وارثی بھی تُمہاری طرح ایک عاجز اُور گنہگار  بندہ ہے۔۔۔ لیکن تُم نے کہا ہے کہ،، تم مسلمان جِن ہُو۔ تو کیا تمہیں خُدا کا خوف بھی نہیں رَہا۔۔۔ سُنو!!! کتنی عجیب بات ہے۔کہ،، تُم خود کو مسلمان کہتے ہُو۔ یعنی خُود کو نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم کا غلام کہتے ہُو۔۔۔۔ کیا ایک مسلمان عورت کو تنگ کرتے ہُوتے تمہیں ایکبار بھی اپنے کریم آقا علیہ السلام کی بارگاہ میں حاضر ی کا سُوچ کر شرم نہیں آئی۔۔۔۔؟ خُوفِ خُدا شرمِ نبی۔۔۔ یہ بھی نہیں وُہ بھی نہیں۔۔۔؟

چلو مان لیتا ہُوں۔کہ،، تُم گناہ کی نیت سے عین سسٹر کو تنگ نہیں کرتے ہُونگے ۔۔۔ محبت کے جذبے سے مجبورِ محض ہوگے۔۔۔ تب تُم ہی کہو۔کہ،، کیا تمہارا عمل تمہارے دعوے کی نفی نہیں کرتا۔۔۔کہ جو آنکھ کو بھلے لگتے ہُوں۔ جُو دِل میں سماتے ہُوں۔ اُنکی راہ میں تو پھول بِچھائے جاتے ہیں۔ کانٹے نہیں بکھیرے جاتے۔۔۔ پھر تُم تو مسلمان ہُو۔۔۔ تب تُم کو شریعتِ محمدی صلی اللہ علیہ وسلم کا پاسبان ہُونا چاہیئے۔۔۔ اُور مجھے بتاوٗ۔ قُولِ مُصطفٰے صلی اللہ علیہ وسلم کی وُہ کونسی کڑی ہے۔ اُور احادیث طیبہ کے کِس مجموعے میں موجود ہے۔۔۔ کہ،،جسکی بنا پر ایک انسانی عورت ایک جِن کی منکوحہ بن سکتی ہے۔۔۔ یا کوئی مرد کسی جنّی سے نِکاح کرسکتا ہے۔۔۔؟ چُونکہ دعویٰ تُم نے مسلمانی کا کیا ہے۔ ۔۔ لہذا دلیل بھی تُم ہی لاوٗ۔۔۔ جو کہ تُم کبھی نہیں لاپاوٗگے۔

اِسلئے بحیثیت مسلمان میں تُم کو ایک موقع مزید دیتا ہُوں۔ کہ،، اپنی اصلاح کرلو۔ اُور میری مسلمان بہن کے گھر سے ہمیشہ ہمیشہ کیلئے چلے جاوٗ۔۔۔ کیونکہ صرف تمہارا عامل ہُونا تمہیں بچا نہیں پائے گا۔۔۔ میرا واسطہ ایسے بیشمار عامل جِنوں  اُور جِنیوں سے پڑ چکا ہے۔ جنکے دعوے بڑے بُلند تھے۔۔۔ لیکن جُونہی میں نے اُنکی شکایت دربار ِ غوثیہ میں لگائی۔۔۔ اُنکی   ناک ہمیشہ ہمیشہ کیلئے خاک آلودہ ہُوگئی۔۔۔

سُنو تم پہلے جِن نہیں ہُو۔ کہ جس نے مجھے مقابلے کیلئے للکارا ہُو۔ بیشمار ّآئے اُور ذِلت اُنکا مُقدر ٹہری۔۔۔ لیکن تُم نے مسلمان ہُونے کا دعویٰ کیا ہے۔ اِس لئے تمہیں ایک موقع اِس نسبت کی وجہ سے ضرور دینا چاہتا ہُوں۔ تاکہ بعد میں سند رہے۔۔۔  اِس تمام نصیحت کو سننے کے بعد بھی اگر تُم اپنی ضد پر قائم ہو۔۔۔۔ تو پھر کم از کم مردانگی دِکھاوٗ۔۔۔ اُور ایک کمزور عورت کو اپنی طاقت دِکھانے کے بجائے مجھ سے مقابلہ کرو۔۔۔ یا تُم میرے شہر میں آجاوٗ۔۔۔۔ ورنہ میں تُم سے مِلنے کیلئے آجاتا ہُوں۔میں چونکہ نِسبتوں کا غلام ہُوں۔ اِسلئے تمہیں بھی نسبت کی دعوت دیتا ہُوں۔کہ،، اپنی نسبت کو پہچانو۔ مسلمان عورتوں کو دیکھ کر اپنی رال ٹپکانے کے بجائے اُنکے محافظ و نِگہبان بن جاوٗ۔۔۔۔ تاکہ کل حشر کے میدان میں خُدا ۔و۔ مصطفٰے صلی اللہ علیہ وسلم کے حضور پیش ہُوتے وقت تُمہارا سر نِدامت سے جھکا ہُوا نہ ہُو۔۔۔کہ،، یہ زندگی فانی ہے۔۔۔ یہاں ہمیں دُعاوٗں کی ضرورت ہے بددُعاوٗں کی نہیں۔۔۔  نجانے کیوں مگر میرا دِل کہتا ہے۔کہ،، تُم پر میری نصیحت ضرور اَثر کرے گی۔ اُور تُم ظُلم چھوڑ کر میرے دست و بازو بن جاوٗ گے۔۔۔ آگے تمہارا مقدر ہے۔۔۔کہ،، جنکے نصیب میں ہدایت لکھی جاچُکی ہُوتی ہے۔نصیحت بھی صِرف وہی قبول کرتے ہیں۔۔۔والسلام

عین سسٹر اب کچھ باتیں میں آپ سے بھی کرنا چاہونگا۔۔۔۔ میں آپکو ۲ واقعات سُنانا چاہتا ہُوں۔۔۔ تاکہ آپ  کے ساتھ میری دُوسری اسلامی بہنوں کی سمجھ میں بھی آجائے کہ،، اُن لیموں اُور اِن وظائف کی کیا طاقت ہے۔۔۔ اُور کسی کو للکارا کب جاتا ہے۔۔۔۔ میری بہن ہمیشہ یاد رکھنا۔۔۔ للکارا صرف اُسے جاتا ہے۔جو اعصاب پر سوار ہُوجائے۔۔۔ اُور اگر یہ لیمن اتنے ہی بے اثر ہُوتے۔ تو اِنہیں ہٹانے کی نامعقول فرمائش کیوں کی جاتی ہے۔۔۔؟ 

ہمارے شہر میں ایک کاروباری  نوجوان پر ایک غلیظ اُور  نہایت طاقتور  کافِرہ جِنی مسلط ہُوگئی۔ اُس نوجوان کے بقول اُس نے پاکستان کے بڑے سے بڑے عامل کو خوب رقمیں دیں۔ یہاں تک کہ،، وُہ قلاش ہُوگیا۔ ۔۔لیکن ہر ایک عامِل نے بلآخر اُس سے معذرت کرلی۔کہ،، یہ میہڑی ہمارے بس کی نہیں ہے۔۔۔ جب اُس کے پاس دینے کیلئے رقم نہ رہی تو عامل حضرات نے بھی رفتہ رفتہ اُس نوجون سے مُنہ پھیر لیا۔پھر اُس نوجون کو کسی نے میرا پتہ بتادِیا۔

جب وُہ نوجون پہلی مرتبہ میرے پاس آیا تب ٹھیک ٹھاک بِھیڑ  بھی اُسکے ساتھ تھی۔۔۔میں نے جب بِھیڑ کا سبب معلوم کیا۔ تو اُن لوگوں نے مجھے بتایا کہ ایک مُدت سے یہ نوجوان اپنے گھر سے تنہا باہر نہیں نِکلتا۔۔۔ کیونکہ جیسے ہی نوجوان تنہا ہُوتا ہے۔ وُہ میہڑی اپنی غیلظ خواہشات  کے ہاتھوں مجبور ہُوکر اِسے ناپاک کردیتی ہے۔۔۔ بہرحال میں نے علاج کی حامی بھرلی۔۔۔ اُور لیمن دَم کردیئے۔۔۔ وُہ نوجوان تیسرے دِن ہی میری فیکٹری پر  اپنے بھائیوں کے ساتھ پھر چلا آیا۔ میں نے سبب معلوم کیا۔ تُو اُس نوجوان نے کہا۔کہ،، وُہ میہڑی آجکل بُہت غصے میں ہے۔۔۔ مجھ پر  مسلسل حملے بھی کررہی ہے۔۔۔ اُور آپکو گالیاں بھی بُہت دیتی ہے۔ اُسکا کہنا ہے۔کہ،، عشرت وارثی تو میرے سامنے ایک بچے سے ذیادہ حیثیت نہیں رکھتا۔ اگر تُم نے لیمن نہیں ہٹائے تو نہ صِرف میں تمہیں قتل کردونگی۔ بلکہ عشرت وارثی۔۔۔۔۔۔۔۔ کے بھی ایسا ڈنڈا کرونگی کہ،، علاج چھوڑ کر اپنے  بچوں کی فکر میں لگ جائے گا۔

وُہ اتنا سیدھا  ساد بندہ تھا۔کہ اُس نے تمام گالیاں میری فیکٹری پر آئے ہُوئے مہمانوں کا لِحاظ کیئے بغیر اُن کے سامنے من وعن بیان کرڈالیں۔۔۔مجھے حیرت تھی۔کہ،، وُہ میہڑی لیمن کے حصار کو توڑ کر اُس نوجوان تک کیسے پہنچ گئی۔۔۔۔ گالیوں کی بھی خیر تھی۔۔۔ لیکن اُس نے میرے بچوں کو نِشانہ بنانے کی بات کی تھی۔۔۔ نجانے  اچانک مجھے کیا ہُوا۔کہ،، میں نے فوراً نوجوان کے گھر جانے کا فیصلہ کرلیا۔ کیونکہ اُس میہڑی نے دعویٰ کیا تھا۔ کہ،، عشرت وارثی اپنی فیکٹری اُور گھر میں حِصار لگائے بیٹھا رِہتا ہے۔ عشرت وارثی سے کہو۔کہ،، اگر مرد بچہ ہے تُو تمہاری چُوکھٹ عبور کرکے دِکھائے۔۔۔ میں نے  الحمدُ  للہ  وُہ چوکھٹ بھی عبور کی اُور اُسے مقابلے کی دعوت بھی دِی۔۔۔لیکن وُہ شہر سے فرار ہُوچکی تھی۔۔۔


 دُوسرے دِن وہی نوجوان پھر  چند لوگوں کیساتھ میری فیکٹری چلا آیا۔ اُور مجھے بتانے لگا۔کہ،، رات وُہ میہڑی پھر آئی تھی۔۔۔ لیکن کل رات اُسکے لہجے میں التجا تھی۔۔۔ اب وُہ کہہ رہی ہےکہ،، مجھے عشرت وارثی سے کچھ لینا دینا نہیں ہے۔ وُہ اپنی جگہ صحیح ہے۔ میں اُس سے لڑنا نہیں چاہتی۔۔۔لیکن میں یہاں سینکڑوں برس سے رہتی چلی آئی ہُوں۔۔۔ میں تُمہیں بے شُمار دُولت سے نواز دُونگی۔۔۔ اُور تمہارے تمام نقصان کا اِزالہ بھی کردونگی۔۔۔بس تُم یہ لیمن اِس گھر سے نِکال دُو۔۔۔

میں نے حیرت سے کہا،، جب وُہ لیمن کے ہُوتے ہُوئے بھی تمہارے گھر میں داخل ہُوجاتی ہے۔ تو پھر لیمن نکلوانے کی ضد کیوں کررہی ہے۔۔۔؟ تب اُس  نوجوان نے بتایا۔کہ عشرت بھائی پہلے دِن میں بُہت ذیادہ ہراساں تھا۔تب مجھے ایسا لگا تھا۔کہ،، جیسے وُہ میرے گھر میں داخل ہُوگئی ہُو۔۔۔ لیکن کل جُونہی وُہ پھر پلٹ کر آئی۔تو میں نے آپکے دئیے ہُوئے وظائف پڑھنے شروع کردیئے۔جسکی وجہ سے میرے اُوسان بحال رہے۔ اُور مجھ پر یہ بھی انکشاف ہُوا۔کہ ،، اب وُہ گھر میں داخل نہیں ہُوپارہی ہے۔ بلکہ گھر کی دہلیز سے باہر کھڑے ہُو کر مجھ سے باتیں کرتی ہے۔اُور مجھے محسوس ہُورہا تھا۔کہ،، اب اُسکا جسم بھی کافی لاغر نظر آرہا تھا۔۔۔ جیسے اُسے کوئی خطرناک بیماری لگ گئی ہُو۔۔۔

تب میں نے اُس نوجوان کو سمجھایا۔کہ،، اب آپکو اُس سے ڈرنے کی چنداں ضرورت نہیں ہے۔۔۔ آپ  کے گھر میں دَم کئے ہُوئے لیمووٗں نے حِصار قائم کررکھا ہے۔ جسکی وجہ سے وُہ آپکو یہ محسوس ضرور کرواسکتی ہے۔کہ،، وُہ اب بھی آپ کے گھر میں داخل ہُوسکتی ہے۔ اُور آپکے جِسم سے کھیل سکتی ہے۔۔۔لیکن یہ صرف دماغی کنٹرول ہے۔۔۔ جِسے آج کے زمانے میں ٹیلی پیتھی کہا جاتا ہے۔ جِس میں معمول کو سمجھانے کی کوشش کی جاتی ہے۔کہ،، جو کچھ اُسکو دِکھائی دے رَہا ہے۔ وُہ ایک حقیقت ہے۔۔۔ حالانکہ وُہ صرف ایک شعبدہ بازی ہے۔۔۔ کیونکہ اللہ کریم کے کلام پاک کی برکت سے اُن لیمن سے ایسی الٹرا ریز نکل کر حِصار قائم کرلیتی ہیں۔۔۔ جن کے قریب آتے ہی طاقتور سے طاقتور جنات ہلاک ہُوجاتے ہیں۔۔۔ اسلئے اُن کی کوشش ہُوتی ہے کہ،، معمول کو  کسی بھی طرح یہ یقین دِلا دیا جائے کہ،، یہ لیمن اُنکا کچھ نہیں بِگاڑ سکتے۔۔۔ اُور جُو لوگ اُنکے دام میں آکر لیمن گھر سے نِکال دیتے ہیں۔۔۔ یہ پھر اُن پر اپنا تسلط قائم کرلیتے ہیں۔۔۔۔ الحمدُ للہ آج وہی نوجوان جو زمانے بھر کی بھیڑ اپنے ساتھ رکھ کر چلتا تھا۔۔۔ آج  مارکیٹنگ  کے شعبے سے وابسطہ ہے۔۔۔ اُور لُوگ آج اُسے دیکھ کر حیرت کرتے ہیں۔۔۔۔کہ جُو شخص ایک انڈہ خریدنے بھی محلہ میں تنہا نہیں جاتا تھا۔آج  مارکیٹنگ کی وجہ سے بعض اُوقات رات کے وقت بھی  شہر سے باہر تنہا نِکل جاتا ہے۔


دُوسرا واقعہ قریباً ۹۰۰ برس قبل کا واقعہ ہے۔ایک تاجر  مُلک با مُلک تجارت کی غرض سے جایا کرتا تھا۔ ایک مرتبہ وُہ تجارت کا سامان لیکر عجم کے کسی شہر میں پُہنچا۔ وہاں پُہنچ کر اُسے معلوم ہُوا۔کہ،، اُس کے پاس جو سُودا ہے۔اُس کیلئے یہ ایک زبردست منڈی ہے۔ لیکن وہاں کوئی ایسا شخص نہیں تھا۔جو اُسکا تمام سامان یکمشت خرید لیتا۔۔۔ تاجر نے سُوچا کیوں نہ وُہ تمام سامان بجائے کسی بڑے تاجر کے ہاتھوں فروخت کرنے کے چھوٹے دوکانداروں کو یہ تمام سامان فروخت کردے۔کہ،، ایسا کرنے سے نفع کئی گنا ہُونے کا اِمکان تھا۔ لِہذا اُس تاجر نے سامان کو محفوظ کرنے کیلئے ایک بڑے مکان کی تلاش شروع کردی۔۔۔کافی کوشش کے بعد اُسے ایک کشادہ مکان کے متعلق معلوم ہُوا۔مگر اُس مکان کیلئے شہر میں یہ بات مشہور تھی۔کہ اِس مکان میں کوئی بھی شخص ایک سے ذیادہ دِن نہیں ٹہرپایا ہے۔۔۔۔ جُو بھی شخص یہ مکان لیتا ہے۔ وُہ یا تو رات میں ہی شہر چھوڑ کر بھاگ جاتا ہے۔ یا پھر دوسری صبح اُسکی لاش ہی اُس مکان سے برآمد ہُوتی ہے۔یہ خوفناک کہانی سُننے کے باوجود بھی اُس تاجر نے وُہ مکان حاصِل کرلیا۔

رات  جب شہر کے لُوگوں کے سمجھانے کے باوجود  بھی تاجر نہیں مانا۔ اُور اُس خوفناک مکان میں داخل ہُوگیا۔ تو لوگوں کا خیال تھا۔کہ،، یا تو تاجر رات میں ہی اپنا تمام اسباب چھوڑ کر فرار ہُوجائے گا۔یا اپنے تمام سامان کے ساتھ صبح مردہ دِکھائی دیگا۔ لیکن لوگوں کی یہ خاہش پُوری نہ ہُوسکی۔۔۔ اُور وُہ تاجر صبح نماز فجر پڑھنے کیلئے مسجد چلا آیا۔۔۔لوگوں نے اُس سے بُہت ذیادہ استفسار کیا لیکن اُس نے کسی کو کچھ نہیں بتایا۔ یہاں تک کہ،، اُس تاجر کا تمام سامان فروخت ہُوگیا۔ اب تاجر کی خاہش تھی۔کہ،، شہر کا کوئی متمول شخص اُس سے وُہ مکان خرید لے۔ تاکہ،، وُہ واپس اپنے وطن کو لُوٹ سکے۔ لیکن تمام شہر میں اُس مکان کی اتنی کہانیاں مشہور تھیں۔جسکی وجہ سے کوئی بھی شخص وُہ مکان خریدنے کیلئے رضامند نہیں تھا۔

مجبور ہُوکر تاجر نے اعلان کردیا ۔ کہ،، جُو بھی شخص مجھ سے یہ مکان خریدے گا۔ میں اُسے اِس مکان اُور اپنی کامیابی کا راز بتادُونگا۔۔۔ یہاں تک کہ وَہی شخص جسکا یہ آبائی مکان تھا۔ اِسےخریدنے کیلئے رضامند ہُوگیا۔ تب اُس تاجر نے  سابقہ مالک مکان کو وُہ راز بیان کرتے ہُوئے بتایا۔ کہ،، جب پہلی رات میں اُس مکان میں گیا۔۔ تو مجھے رات کے آخری پہر اچانک  ایک لحیم شحیم  نوجوان نظر آیا۔ میں سمجھ گیا۔کہ،، وُہ کوئی جِن ہے۔۔۔ میں نے اپنے خُوف پر قابو پاتے ہُوئے آیتہ الکرسی پڑھنا شروع کردی۔۔۔۔ اچانک وُہ جِن قہقہے لگانے لگا۔۔۔جسکی وجہ سے میں  ڈر کر خاموش ہُوگیا۔ تب اُس جن نے مجھے کہا ۔کہ یہاں سے فوراً بھاگ جاوٗ۔ ورنہ میں ابھی تُم کو ہلاک کردُونگا۔۔۔۔۔ میں نے پھر آیتہ الکرسی پڑھنا شروع کردی۔۔۔ لیکن مجھے شدید حیرت کا جھٹکا لگا۔۔۔جب میں نے اُس جن کو بھی سینے پر ہاتھ باندھے آیتہ الکرسی پڑھتے دیکھا۔۔۔۔ مجھے  حیران دیکھ کر وُہ جِن مُسکرا کر کہنے لگا۔۔۔نادان انسان اِن وظیفوں کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔کیونکہ میں خود بھی ایک عامِل جِن ہُوں۔۔۔ تبھی  کسی نے مجھے سرگوشی کرتے ہُوئے کہا۔ اِس کمبخت کے ،،دام،،  میں مت آنا۔ تُم آیتہ الکُرسی مکمل کرو۔ میں نے دُوبارہ آیتہ الکرسی کا ورد شروع کردیا۔۔۔ وُہ جن پھر ہنستے ہُوئے میرے ساتھ ساتھ پڑھنے لگا۔میرا یقین کمزور ہُونے کو تھا۔کہ،، مجھے پھر وہی سرگوشی سُنائی دی۔۔۔ اِس کی جھانسے میں مت آوٗ ۔آیتہ الکرسی مکمل کرو۔ مجھے اُس غیبی آواز سے تقویت حاصِل ہُوئی ۔کہ چلو میں یہاں تنہا نہیں ہُوں۔۔۔ اُور جیسے ہی میں،، وَلَا یَوُٗدُہُ حِفْظُھُمَا وَ ھُوَ الْعَلِیُّ الْعَظِیْمُ،، کے نذدیک پہنچا تو وُہ جن میری منتیں کرنے لگا۔کہ،، خدا کے واسطے رُک جاوٗ۔۔۔ لیکن میں جانتا تھا۔کہ اگر میں رُک گیا۔ تو وُہ مجھے بھی ہلاک کردے گا۔ لہذا میں نے یہ آخری آیت پڑھ ڈالی۔ اُور جیسے ہی میں نے یہ آخری آیت پڑھی اُس کے جِسم میں آگ لگی گئی۔ اُور وُہ خبیث جِن جو کہ خُود کو عامل کہہ رَہا تھا ہلاک ہُوگیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میرے خیال میں سب کی سمجھ میں بات آگئی ہُوگی۔۔۔۔

کوئی بھی جِن جب تک طاقتور ہُوتا ہے۔ جب تک کہ معمول خود کو کمزور سمجھتا ہے۔ جونہی معمول کو اپنی نسبت اُور اپنی طاقت کا علم ہُوجاتا ہے۔ ایک نہیں ہزاروں جِن بھی دُم دَبا کر بھاگ لیتے ہیں۔۔۔(عشرت  اقبال وارثی)

Friday, 7 June 2013

کُتا اُور اِنسان۔۔۔


کیا آپ جانتے ہیں۔کہ،، اِنسان اُور کُتے کا ساتھ اِتنا ہی قدیم ہے۔ جتنا کہ،، حضرت اِنسان قدیم ہے۔۔۔۔۔؟ 
مجھے لگتا ہے۔کہ،، اکثر لُوگ میری بات پڑھ کر چُونک اُٹھے ہُونگے۔۔۔ اُور کئی لُوگ یہ بات بھی سُوچ رہے ہُوں گے۔کہ،، بھلا انسان اُور کُتے میں ایسی کیا بات مُشترک ہُوسکتی ہے۔کہ،، دُونوں ہی ایک جیسے قدیم ہُوں۔۔۔

چلئے میں آپکی مشکل کو آسان بنانے سے قبل آپکو تھوڑا سا مزید حیران کردُوں۔۔۔ جی ہاں مزید حیران۔۔۔ اُور وُہ اسطرح کہ،، کے نا صرف حضرت انسان اُور کتا ایک زمانہ، ایک مقام، میں پیدائش  کے عمل سے گُزرے ہیں۔۔۔۔بلکہ۔۔۔ حضرت انسان اُور کتے  کا خمیر  بھی ایک  ہی مَٹی سے اُٹھا  ہے۔۔۔۔ مجھے لگتا ہے۔کہ،، کچھ قارئین کا ذہن اُلجھنے لگا ہُوگا۔۔۔ اُور  ہُوسکتا ہے وُہ سُوچ رہے ہُوں۔کہ شائد اِرشاد بھائی کے ذہن میں گرمی چڑھ گئی ہے۔ جسکی وجہ سے اپنے دوسرے ہی کالم میں بہکی بہکی گفتگو کرنے لگے ہیں۔۔۔ تو چلیئے دُوستوں! میں سسپنس ختم کئے دیتا ہُوں۔ اُور حضرت انسان  سیدنا آدم علیہ الصلواۃ والسلام کی پیدائش کا واقعہ سُناتا ہُوں۔ تاکہ آپ لوگوں کی تشفی بھی ہُوجائے ۔ اُور میلادِ آدم پڑھنے سے ہم سب برکتوں سے بھی مالا مال ہُوجائیں۔کہ،، انبیاٗ کرام کا تذکرہ قلب کی سیاہی کو دُور کرنے کے لئے اکسیر ہے۔ اُور یہ ذکر انسان کو ہمیشہ باادب رہنے میں معاونت بھی فراہم کرتا ہے۔

روایت ہے کہ،، جب سیدنا آدم علیہ السلام کا  خمیر مقدس خاک اُور جنت کے پانی سے گُوندھ کر ایک جسم کی شکل میں تیار ہُوگیا۔۔۔ اُور سیدنا آدم علیہ السلام کی پیشانی کو نُورِ مُصطفی صلی اللہ علیہ وسلم سے سجا دیا گیا۔ تب فرشتوں اُور شیطان کو حُکم مِلا کہ،، آدم علیہ السلام کے جَسد خاکی کو سجدہ تعظیمی کیا جائے۔۔۔

لیکن سجدہ کرنے کیلئے تو جھکنا پڑتا ۔۔۔ اُور تعظیم کرنا تو اپنی برتری کے خاتمے کا نام ہے۔۔۔۔ سُو یہ سعادت فرشتوں کے نصیبوں کو ارجمند کرگئی۔ اُور ابلیس اپنی قابلیت کو دیکھ کر  تکبر اُور اپنی اَزلی بدبختی کے سبب تعظیم کی نعمت سے محروم رِہ گیا۔ فرشتوں نے جب یہ معاملہ دیکھا کہ،، جسے رَبّ کے فضل سے معلم بننے کی سعادت مِلی تھی۔ وُہ اکڑ کے باعث محروم رہا۔۔۔۔ اُور حکم کی تعمیل ہمارے  حصے میں آگئی ہے۔ تو فرشتوں نے ایک مزید سجدہ شکرانے کی خاطر ادا کیا۔۔۔ جبکہ شیطان یہ سمجھ ہی نہیں پایا۔کہ حکم تو ادب پر بھی فوقیت رکھنے والا عمل ہے۔ اُور یہی سبق تو وُہ ملائک کو ہزار بار پڑھا چکا تھا۔ لیکن۔ جب اپنی باری آئی تو ۔۔۔ جاہلوں کی طرح تاویلوں کی تلاش میں نِکل پڑا۔

شیطان  کی اِس جراٗت کی وجہ سے  اللہ عزوجل نے شیطان کو مَردُود، محروم،  نامرادی اُور  لعنت کے طُوق کیساتھ عرش کی رِفعتوں سے نِکل جانے کا حُکم اِرشاد فرمادیا۔۔۔ شیطان نے جب یہ سمجھا کہ،، حضرت انسان کی وجہ سے آج اِسے اپنے منصب سے ہاتھ دُھو کر نہایت ذِلت کیساتھ عَرش کی رِفعتوں سے نِکلنا پڑ رَہا ہے۔۔۔ تو اِس مردود نے   حسد کے غیض میں جلتے ہُوئےنہایت
،، حقارت سے،، سیدنا آدم علیہ السلام کے مُبارک جسم پر تھوک دِیا۔۔۔ فرشتے شیطان کی اِس جراٗت پر حیران تھے۔۔۔۔ کہ،، نافرمانی کا طُوق اپنی جگہ۔۔۔ لیکن حسد کی آگ نے شیطان کو یہ بھی سمجھنے کا موقعہ نہیں دیا۔۔کہ،، وُہ اپنا غلیظ تھوک ڈال کس ہستی پر رَہا ہے،، کہ،، جسکی پیشانی  نورِ مُصطفی صلی اللہ علیہ وسلم اُور،، لقد خلقنا الانسان فی احسنِ تقویم کے جلی حروفوں سے جگمگا رہی تھی۔۔۔۔

فرشتوں نے اپنی معصوم زُبانِ حال سے دریافت کیا،، اے ہمارے پروردیگار یہ تیرے محبوب بندے کا جسم ہے،، جِس پر شیطان نے اپنا ناپاک و غلیظ تھوک اُنڈیل دِیا ہے۔ اِس نجاست کا کیا کریں۔۔۔۔؟ اِرشاد باری تعالی ہُوا۔کہ،، اِس نجس تھوک کو میرے آدم کے جسم سے اُٹھا لیا جائے۔۔۔ چناچہ معصوم جماعتِ ملائک  نے معصوم نبی علیہ السلام کے شِکم پر پڑے شیطان کے نجس تھوک کو احتیاط سے اُٹھالیا۔ لیکن کچھ تھوک آپکے مطہر شکم کی مَٹی میں جذب ہُوچُکا تھا۔۔۔ اسلئے تھوک کے ساتھ کچھ مٹی بھی اِس مبارک مقام سے نِکل آئی۔۔۔ اب فرشتے پھر حیران تھے۔۔۔کیونکہ نجس و غلیظ رال  میں متبرک اُور منور و مطہر خاک آدم کے اجزاٗ بھی شامل ہُوچکے تھے۔ عرض کرنے لگے،، اے رَبّ ِمحمد صلی اللہ علیہ وسلم اَب اِس پاکیزہ مٹی اور نجس رال کا کیا کریں ۔ جو کہ،، ایک مرکب کی شِکل اِختیار کرچکی ہے۔۔۔ اللہ کریم نے کُن اِرشاد فرمایا۔ تب اِس  پاکیزہ مٹی اور شیطانی رَال کے مُرکب سے کُتے کی تخلیق نمودار ہُوئی۔

لِہذا تمام جانوروں میں  کُتا ہی وُہ جانور ہے۔ جو انسانوں سے بے پناہ اُنسیت محسوس کرتا ہے۔۔۔ ایک ایسا جانور جِسے مالک لاکھ دُھتکارے تب بھی وُہ مالک کا آستانہ نہیں چھوڑتا ہے۔۔۔ اگر مالک پر کوئی حملہ کردے۔ تو یہ کُتے کی ہی خاصِیت ہے کہ،، وُہ اپنی جان بھی وار کر اپنے مالک سے آخری دَم تک وفا نِبھاتا ہے۔۔۔۔لیکن اِسکے خمیر میں شیطان کی رال آج بھی موجود ہے۔ جسکی وجہ سے اسلام میں شوق کی خاطر کُتا پالنا حرام ہے۔ اُور شائد یہی وجہ ہے کہ،، جِس گھر میں کتا موجود ہُوتا ہے۔۔۔ آج ۔۔بھی ملائکہ اُس گھر میں داخل نہیں ہُوتے۔

لیکن کتنے ظلم کی بات ہے۔کہ،،  جب اللہ کریم نے احسن تقویم کا تاج حضرت انسان کے سر پہ رکھ دیا۔ اب اگر کوئی لفاظی کا سہارا لیتے ہُوئے اُسی احسن تقویم کو کتے سے تعبیر کرے۔۔۔ یا کسی انسان کو کتا کہہ کر مُخاطب کیا جائے۔ صرف اِس لئے کہ،، وُہ آپکو پسند نہیں آتا۔تب آپ قلم ،،جو کہ اللہ کریم کا انعام ہے۔ اِس انعام کا غلط استعمال کررہے ہیں ۔جسکا جواب بھی ایک دِن آپ ہی کو دینا ہُوگا۔۔۔ لیکن ایک بات تو ہے۔۔۔ بڑے بڑے اولیاء کرام و بزرگان دین نے کُتے کی وفاداری کی وجہ سے خُود کو سگ کہنے میں عزت تلاش کی ہے۔۔۔ اگر میں بھی اپنے مُرشدی عطار کا کُتا کہلاوٗں  یا اپنے اُستاد من عشرت وارثی کے دَر کا سگ بن جاوٗں۔۔۔ تو میری آنے والی نسلیں بھی اِس تمغے پر سَدا  ناز کرتی رہیں گی۔۔۔ کیوں کہ مجھے ایسی بکری بننا ہرگز پسند نہیں ہے۔ جو مطلب نِکل جانے پر اپنے ہی مالک کے پیٹ میں سینگ ماردے۔۔۔ اِس سے تو بہتر ہے۔ کہ میں کُتا ہی کہلاوٗں۔۔۔ اور اپنے مرشد و اُستاد کا ہمیشہ وفادار رَہوں۔۔۔آمین۔۔۔آمین۔۔۔آمین۔۔

لکھنے میں اگر کچھ غلطی رِہ گئی ہُو۔تو اپنے رب سے معافی کا طلبگار ہُوں۔۔۔ اُور اُمید کرتا ہُوں کہ،، اُستادِ من پبلش  کرنےسے قبل نظر کرم فرماتے ہُوئے اِسے نِکھار دیں گے۔

آپکا: محمد ارشاد محمود عطاری(وارثیٰ)

قادیانیوں سے دوستی کیسی ؟؟؟


قادیانی مُرتدین جماعت کا نام ہے۔ اورانکا مذھب  اِسلام نہیں بلکہ قادنیت ہے۔ یہ مسلمانوں کو دُھوکہ دینے کیلئے  خُود کو عام طور پر مرزائ اور احمدی کہتے ھیں۔۔۔ مگر میں تو ان خبیثوں کو احمدی کھنے کے حق میں نھیں ہُوں۔ کیونکہ احمد تو ھمارے نبی پاک صلی الله تعالی علیہ وآلہ وبارک  وسلم کا آسمانی اِسم مبارک ہے۔
.
قادیانیوں کا لیڈر غلام احمد  ملعون  تھا  جسکا تعلق قادیان سے تھا۔  جو کہ مسلمانوں کا ایک بُہت بڑا غدار تھا۔ اس نے ١٨۵٧ کی جنگ آزادی میں انگریزوں کی بُہت حمایت اور مدد کی تھی۔۔۔ ، اس نے اپنی اسلام خلاف تحریک کا آغاز ١٨٨٩ میں ھندوستان کے علاقے قادیان سے کیا،۔۔۔ اسے ہی اپنا صدر مقام بنایا۔ اور پاکستان کے قیام کے بعد شمالی علاقہ جات میں ربوٰە کے مقام پر بھی ایک برانچ بنا لی اور ساتھ ہی بنوت کا دعوی کر دیا ۔۔۔ یہ کبھی  خود کو حضرت عیسی علیہ اسلام بتاتا اور کبھی امام مہندی ہُونے کا دعوی کرتا۔۔۔ اور کبھی ولی الله اور کبھی نیا نبی ہُونے کا جھوٹا دعوی کرتا . ... الغرض اسکے تمام دعوے جھوٹے ھیں کیونکہ،، حدیث مبارکہ سے یہ بات ثابت ہے کہ،، نبی پاک صلی الله تعالی علیہ وآلہ وسلم کے بعد کوئ نبی یا رسول نھیں آۓ گا۔
 .
رسول پاک صلی الله تعالی علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ "تمام انبیاء اکرام جو کہ کم وبیش ایک لاکھ چوبیس ھزار ھیں۔ وە سب مل کر ایک عمارت ھیں اور اس عمارت کی ایک اینٹ باقی تھی وە میں ھوں۔۔۔ اور میرے آنے سے یہ عمارت مکمل ھو گئ ھے۔ اب میرے بعد کوئ نبی یا رسول نہیں آۓ گا۔۔۔"
"امام ابو حنیفہ ؒ کے زمانے میں یک شخص نے نبوت کا دعوی کیا اورکہا کہ،، مجھے موقع دُو میں اپنی نبوت کی علامت پیش کروں اس پر امام ابو حنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا کہ،، جو شخص  جُھوٹی نبوت کا دعویٰ کرنے والے سے نبوت کی دلیل طلب کرے گا وە بھی کافر ھو جاۓ گاکیونکہ ،،رُسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم نے فرمایا میرے بعد کوئ نبی نہیں۔۔۔

جبکہ قادیانی جسےاپنا نبی مانتے ھیں وە تو خبیث قضاۓ حاجت کے وقت گندگی میں لتھڑ کرمَرا تھا۔۔۔ مگر اُس کے پیروکارں کو پھر بھی سمجھ نہیں آتی۔۔۔ان باتوں سے یہ تو پتہ چل گیا۔ کہ یہ قادیانی مرتد ھیں۔۔۔ اور دائرا اسلام سے خارج ھیں . اسلامی جمہوریہ اِسلام پاکستان کے١٩٧٣ کےآئین کے مطابق قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دیا جا چکا ھے۔ یہ اب پاکستان سے عرب شریف کا ویزا نہیں لے سکتے، اس بات کے لیےٴ میں حکومت پاکستان اُور خاص طور پر علماء کرام  کو سراھتی ھوں۔ جنکی انتھک کوششوں کی وجہ سے مسلمانانِ ہند کو اِس فتنے سے پناہ  مِلی۔

.
اب میری ایک دوست کہتی ھے کہ ھم کسی جماعت کو بُرا نہ  کہیں چاھے۔۔ وە ھمارے ھم جماعت ھوں یا نہ ہُوں۔۔۔ ، مگر یہ بات دوسرے مذاہب کے لیےٴ شائد مان بھی لی جاۓ ۔۔مگر ان خبیث قادیانیوں کے لیےٴ بالکل بھی میں نہیں مان سکتی ۔۔۔ کیونکہ یہ لُوگ نا صِرف آستین کے سانپ ہیں۔۔۔ بلکہ شدید گستاخ رسول ہیں ۔صلی الله تعالی علیہ وسلم۔
 .
بلکہ اِنہوں نے تو اُس پاک ذات کی گستاخی کی ہے۔ جو محبوب خدا عزوجل ہیں جنکی خاطر رب عزوجل نے اس کائنات کو بنایا جس پاک ذات کا نام بابا آدم علیہ السلام نے پیدائش کے فوراَََ بعد عرش مولی پر لکھا دیکھا ۔۔۔ ارے اس پاک ذات صلی الله علیہ وسلم کی وجہ سے تو انسانوں کو اشرف المخلوقات کا لقب دیا گیا.۔۔۔ وُە تو سرور کائنات ھیں  سیدُ الانبیاء ہیں۔ مُحسنِ انسانیت ہیں  ۔ اُور ٖفخرِ موجودات ہیں۔۔۔

اب جو کوئی بھی رب عزوجل کے محبوب اعظم صلی الله علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کرے گا وُە اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنا رھا ھے۔
اور مسلمان ہُونے کےناطے  بطُور غلام ہمارے ایمان کا تقاضا تو یہ ھے کہ،، رسول پاک صلی الله تعالی علیہ وسلم کے اس فرمان کو سمجھیں کہ " کسی مومن کا ایمان تب تک مکمل نھیں ہُو سکتا۔۔۔ جب تک میں اسے اسکی جان ، مال،عزت اور ہر چیز سے بڑھ کر عزیز نہ ہُوجا ٴوں۔۔۔

اب اس حدیث مبارکہ کو ذہن میں رکھتے ھوۓ ہم اپنا محاسبہ کر لیں۔ تو ہمیں پتہ چل جاۓ گا۔ کہ ایک طرف تو ہم رسول پاک صلی الله تعالی علیہ وسلم سے محبت کا دعوی کرتے ھیں اور دوسری طرف ان مرتدوں اور گستاخوں سے دوستی بھی رکھتے ھیں۔۔۔ تو یہ کیسی محبت ھے؟؟؟؟؟؟؟ کیا ہمارا یہ عمل سرور کائنات کا دِل دُکھانے کیلئے کافی نہیں۔۔۔ اُور کل بروزِ حشر ہم کس چہرے کیساتھ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں شفاعت کیلئے حاضر ہُونگے۔۔۔ اگر کریم آقا علیہ السلام نے اُس وقت ناراضگی سے چہرہ انور کو پھیر لیا تو ہم کہاں جائینگے۔۔۔؟


عشق قاتل سے بھی ، مقتول سے ہمدردی بھی
یہ بتا کس سے محبت کی جزاٴ مانگے گا؟؟؟
سجدە خالق کو بھی ، ابلیس سے یارانہ بھی
حشر میں کس سے عقیدت کا صلہ مانگے گا؟

ہمیں اس بات کو بھی ذھن میں رکھنا چاھۓ کہ رسول پاک صلی الله تعالی علیہ وسلم ھی ھمارے ہادی اور غم خوار ھیں۔ آپ صلی الله تعالی علیہ وسلم نے ہی روز قیامت ہماری شفاعت فرمانی ھے۔۔۔ مگر جب ہم یہاں اس دنیا میں آپ صلی الله تعالی علیہ وسلم کے دشمنوں اور گستاخوں کے ساتھ روابت و تعلقات اور دوستیاں بنائیں گے تو قیامت کے دن کیسے رسول پاک صلی الله تعالی علیہ وسلم کی شفاعت کے حقدار بنیں گے؟ اگر وہاں آپ صلی الله تعالی علیہ وسلم کا سھارا بھی نہ ملا۔۔ پھر تُو یقیناً ھم ہی مارے جائیں گے . ھمارے اندر اتنی طاقت  کہاں کہ،، رب عزوجل کی ناراضگی کو برداشت کر پائیں۔
 .
اس لۓ ہماری بہتری تو اسی میں ھے۔۔۔ کہ اس دنیا میں اُن مرتدوں کے مخالف جا کر اور رب عزوجل اور اسکے رسول پاک صلی الله تعالی علیہ وسلم کے احکامات پر عمل کر کے اپنی دنیا اور آخرت سنوار لیں اور روز قیامت ہُونے والی شرمندگی سے بچ جائیں۔
.
بطور مسلمان مجھ پر فرض ھے کہ میں اپنے علم کےمطابق جتنا میں قادیانیوں کی چالوں کو جانتی ہُوں۔۔ آپ سب کو بھی آگاہی دوں ۔ اے کاش کہ،، اِسی بہانے سرور کائنات محمد مصطفی صلی الله تعالی علیہ وسلم کی مجھ گنہگار پر رحمت کی نظر پڑ جاۓ۔۔۔ اور میرا گناہوں کے بار سے ڈگمگاتا سفینہ پار لگ جاۓ۔۔۔ آمین بجاہِ النبی الا مین صلی الله تعالی علیہ وسلم

عام طور پر قادیانی لوگ جو چالاکیاں اور پھانسنے کے طریقے استعمال کرتے ھیں ۔ اُن میں سے کُچھ یہ ھیں۔۔۔
معاشی کفالت: قادیانیوں کا پورا ایک نیٹ ورک ھےجسکی شاخیں دنیا کے اکثر ممالک میں پائ جاتی ھیں انکی اکثریت پاکستان، انڈیا اور کینیڈا  اُور جرمنی میں پائ جاتی ھے. یہ خبیث معاشی طور پر کافی خوشحال ھیں، یہ لوگ غریبوں کو پیسے کا لالچ دے کراپنے مذھب میں داخل کرتےھیں اور کبھی دوسرے مذاھب میں شادیاں رچا کر اُن لوگوں کو اسلام کے نام پر مرتد بنادیتے ہیں۔
 .
یہ لوگ لوگوں کو فری کیمپ لگا کر کھانا اور ادویات دے کر ھمدردی حاصل کرتے ہیں۔ اُور انہیں اپنے مذھب میں شامل ھونے کی دعوت دیتے ھیں۔۔۔. اسکے علاوە یہ لوگ تعلیم کو بھی ہتھیا ر کے طور پر استعمال کر رھے ھیں ، انھوں نے ربوٰە کے مقام پر ایسا میڈیکل کالج بنایاھے۔۔ جھاں پر بچوں کو ایف۔ایس۔سی کے بعد ڈائریکٹ سپشلسٹ کی تعلیم دینا شروع کر دی جاتی ہے۔ تا کہ،، آگے جا کر یہ لوگ جلد از جلد اپنے پیشے کے ذریعہ سےمزید  نئےلوگوں کو پھانس سکیں۔۔۔
 .
حسن اخلاق کے نام پر لُوگوں کی چاپلوسی کرنا: دوسری چالاکی ہے جو  قادیانی کثرت سے استعمال کرتے ھیں وە اپنے بچوں کی تربیت کچھ ایسے انداز میں کرتے ہیں۔کہ،، لُوگوں کی چاپلوسی کرنا اِن کے رَگ و پے میں رَچ بس جاتی ہے۔۔۔ جسے عام لُوگ حسنِ اخلاق سمجھ کر اِنکے دامِ فریب میں پھنستے چلے جاتے ہیں۔
.
 چہرے پر  نادانی اُور بُھولپن کا جال سجائے رکھنا: تیسری چالاکی جو یہ قادیانی کرتےھیں وە انکی بناوٹی معصومیت ھے۔ان خبیث لوگوں سے جب کہا جاتاھے کہ تم اپنے مرتد لیڈر کی گندی اور غیر اخلاقی حرکتوں سے واقف ھو۔۔ تو یہ لوگ کہتے نظر آتے ھیں۔ کہ ھم تو ایسا کچھ نھیں جانتے۔۔۔ تب میرا دل چاھتاھےکہ ،، کاش زمین پھٹ جائے اُور یہ تمام غلیظ لُوگ جو نادان بننے کی اداکاری کررہے ہیں۔ زمین میں عذاب پانے کیلئے سَما جائیں۔
 .
آخر میں میں بس یہی کہنا چاھتی ھوں کہ میں یہ تحریر الله عزوجل اور اسکے مدنی محبوب صلی الله تعالی علیہ وسلم کی رضا حاصل کرنے کی خاطر لکھی ہے۔۔۔الله عزوجل اسےقبول فرماۓ آمین بجاہِ  النبی الا مین صلی الله تعالی علیہ وسلم . جزاک الله