bing

Your SEO optimized title page contents

Pages

Hamara Tube Channel

Tuesday, 18 February 2014

جواب مرشِدی بیگم۔ تحریر ڈاکٹر عنبل وارثی


 JAWAB E AAN KALIM….by AnBal Warsi

کچھ دن پہلے کالم مرشدی بیگم اور غلام پڑھا تو اس کا جواب لکھنے کی خواہش پیدا ہوئی اور دن پہ دن گزرتے گئے لیکن  کالم لکھا نہ جا سکا۔ پر کل میری اپنی دوست سے بات ہو رہی تھی تو باتوں میں  اُس نے کہا کہ کاش کوئی میری بھی خواہش کا خیال کرتا۔۔۔ کاش میرا بھی کسی کو خیال آتا۔۔۔ کوئی میرے بھی آرام کا خیال رکھتا۔ ہمارا تو بس یہی ہے۔ کہ،، کام کام اور کام اور باقی سب کریں آرام۔۔۔


میں نے کہا  ڈئیر ایسا کیا ہوا تم کیوں اُداس ہو ۔تو اُس نے کہا کہ،، اپنی بھی کیا زندگی ہے۔۔؟؟ تو بس اتنا کہہ کر خاموش ہو گئ۔ اور بات بدل دی۔ پر میرے ذہن میں اک نئی سوچ کا دَر وَا کر گئی ۔۔۔ اور آج میں آپ کے سامنے اس کالم کے ذریعے وہ سب کہنا چاہتی ہوں جو شوہر حضرات نام نہاد واویلا کرتے ہیں ۔۔۔ اور یقینا میری اس خواہش سے اتفاق نہیں کرینگے پر جیسے مرشدی بیگم اور غلام والا آرٹیکل پڑھا سب نے تو  یہ بھی آپکو  پڑھنا ہوگا۔

اک لڑکی چاہے غریب کی ہو یا امیر کی اُسکا کسی بھی  قوم یا قبیلے سے تعلق ہو۔ وہ اپنے ما ں باپ کے گھر کی شہزادی ہوتی ہے۔ بے شک اُسکو کھانے کو زیادہ نہ ملے ۔ پہنے کو قیمتی کپڑے نا ملیں ۔۔ پر ہُوتی وہ اک شہزادی ہی ہے۔۔۔
لیکن۔۔۔؟

جیسے ہی وہ  شادی ہو کر میکے کی دہلیز پار کرتی ہے ۔اُور سسرال میں قدم رکھتی ہے۔ ویسے ہی اُسکی حیثیت بدل جاتی ہے وہ شہزادی سے محکوم بندی یعنی  خادمہ بن جاتی ہے ۔۔۔ اور ایسی  بھیڑ بکری کی صورت ہوتی ہے کہ،، جس کو جنگل میں چھوڑ دیا جاتا ہے۔  یاسادہ سی مثال یوں دیتے ہیں۔ کہ،، ایک اسکول سے دوسرے اسکول میں اُسکا داخلہ ہوجاتا ہے۔ جہاں پرانے اسکول سے بالکل مختلف قوانین اور ضابطہِ حیات ہوتا ہے ۔۔۔ اسکا اٹھنا بیٹھنا، چلنا پھرنا، کھانا پینا، پہنا اوڑھنا سب شوہر اور سسرال کی مرضی سے ہوتا ہے۔ اور اُسکو یہ اصول ہ ضوابط کسی نے سکھانا بھی نہیں ہوتا۔ اور پھر بھی چھوٹی سی غلطی پہ بڑی سزا ملتی ہے۔۔۔ اور وہ حکم کی غلام بنی سب کچھ کرتی رہتی ہے کیوں  ایک بیوی نے صرف دینا ہی دینا ہوتا ہے لینا اسکا حق نہیں ہوتا۔

جی ہاں  ایک لڑکی سسرال میں اپنے شوہر ساس سسر جیٹھ نند    دیور جیسے رشتے نبھاتی ہے ۔میں نہیں کہتی کہ سب ایک جیسے ہوتے ہیں۔ پر ہمارے معاشرے میں ۹۵ فیصد ایسے لوگ ہیں ۔جو بیوی اُور بَہو کو انسان نہیں سمجھتے ۔۔۔ ایک عورت بیوی کا فرض نبھاتی ہے ۔ بہو کا، بھابھی کا، اور شوہر کے گھر کی ذمہ داری اٹھاتی ہے ۔۔ اسکے بچوں کی پرورش کرتی ہے۔ سسرالی رشتے ناتے نبھاتی ہے۔ اور ایک ایسی زندگی گزارتی ہے۔ جس  میں اسکی شخصیت ختم ہو  کر رِہ جاتی ہے۔ پر اس نے ہر ایک کو خوش کرنا ہوتا ہے۔ وہ اپنی پسند نا پسند بھول جاتی ہے۔ اور اُسکا دل مار دیا جاتا ہے وہ زندہ تو ہوتی ہے پر اُس میں خواہشیں مر جاتی ہیں کیونکہ اسکا تو کوئی خیال ہی نہیں کرتا۔۔۔ اسکو تو انسان بھی تصور نہیں کیا جاتا۔ بس وہ ایک بیوی ہوتی ہے۔۔۔ جس نے شوہر کو خوش رکھنے کا وعدہ کیا ہوتا ہے۔۔ ایک بہو ہوتی ہے ۔سسرال کے کڑوے کسیلے ماحول کو برداشت کرنا ہوتا ہے۔۔۔ اور ایک ماں ہوتی ہے ۔ جس نے اپنے بچوں کے لیے اپنی بھوک پیاس نیند سب قربان کرنا ہوتا ہے بس ۔۔۔

اور اس کے جواب میں شوہر وا ویلا کرتا ہے کہ،، جی میری بیوی تو مجھے وقت  ہی نہیں دیتی۔۔۔ میرا خیال نہیں کرتی بس کام کام اور کام اور گھر داری اور بچوں میں مصروف۔۔۔ تو میں کہاں جاوٗں ۔۔۔؟؟ آخر کار باہر ہی دوستیاں  کرونگا نا۔ باہر ہی دلچسپیاں ڈھونڈونگا ۔۔  بس  خامیاں ہی خامیاں نظر آتی ہے ۔۔۔ پر اسکو کوئی یہ نہیں کہتا کہ اللہ کریم  کے بندے تم اپنی بیوی کو وقت دو۔۔ اسکی سنو اپنی سناوٗ۔۔۔ جو خامیاں کمزوریاں تمہیں نظر آرہی ہیں ۔۔ انکو دُور کرو۔ اور بجائے باہر دوستیاں کرنے کے گھر بیٹھی شریف بیوی کو دوست سمجھو۔۔۔ تو دیکھو زندگی میں کتنی خوبصورتیاں آ جائینگی۔۔۔

پر نہیں جی ۔۔۔ اپنی بیوی کے علاوہ باقی سب کو وقت دیا جا سکتا ہے۔ اپنے آپکو مظلوم دکھانے کے لئے اپنی بیوی کو پھوہڑ، جاہل، کم عقل ،جھگڑالو،  بدصورت، بتایا جاتا ہے۔۔۔  ایک دوسری عورت کی ہمدردی حاصل کرنے کے لئے۔ آفرین ہے ۔۔اور جو ہو شکی شوہر تو جی پھر تو بیوی زندہ درگور ہی ہوجاتی ہے۔۔۔ کہ شکی شوہر تو سانس بھی آزادی سے نہیں لینے دیتا۔۔۔ اللہ کریم ہی اس کے حال پر رحم کرے تو کرے۔۔۔ ورنہ کسی انسان کے بس کی بات نہیں۔۔۔ ایسے شوہر کی شکی طبعیت ٹھیک کرنا۔۔۔


بجائے اس کے خوشگوار زندگی گزارنے کے لئے شادی سے پہلے یا بعد میں حضور پاک ﷺ کا اپنی ازواج مطہرات سے حسنِ سلوک کی تعلیم لیں۔۔۔بیویوں پر لطیفے گھڑے جاتے ہیں۔ جی ہاں۔۔۔ بیویوں پر جو لطیفے بنائے جاتے ہیں وہ یہ شوہر حضرات ہی بناتے ہیں۔ اور اپنے آپ کو مظلوم دکھاتے ہیں ۔۔۔ جیسےچائے اور شوہر کی قسمت میں جلنا لکھا ہے۔ چائےبھی عورت کے ہاتھوں  سے جلتی ہے اُور شوہر کی خوشیاں بھی ۔۔ایک چھوٹی سی غلطی زندگی بھر کی سزا دیتی ہے ۔ قبول ہے قبول ہے کہہ کر بیویاں آتی ہیں  ہیر کی طرح اور کچھ ماہ بعد چبھتی ہیں تیر کی طرح ۔۔۔

خدا کی پناہ ۔۔۔ اتنے خوبصورت جائز رشتے کو نبیوں کی سنت کو جسے اللہ کریم   اور رسول کریم ﷺ کو گواہ بنا کر قبول کرتے ہوں۔ اُس تعلق کی اتنی مٹی پلید کی جاتی ہے۔۔۔اور یہ بھول جاتے ہے کہ اللہ کریم نے عورت سے حسین مخلوق ہی نہیں بنائی ۔۔۔ اور شاعروں کی شاعری میک اپ بنانے والوں کا کاروبار بازار کی دکان سب عورت کی وجہ سے ہی چلتی ہیں ۔۔۔ تو زرا سوچئے کہ،، اگر عورت نا ہوتی۔ تو مَردوں کی دنیا تو صرف سیاہ اور سفید ہی ہوتی ۔۔۔ شاعروں کی شاعری کھیت پہاڑ دریا  درختوں  پتھروں تک ہی رہ جاتی۔ اور مردوں کے پاس سوائے ٹیکنالوجی  تاریں اور اسلحہ بنانے کے کوئی کاروبار ہی نہ ہوتا۔۔

بقول شاعر
وجود زن سے ہے تصور کائنات میں رنگ

کاش میرا یہ کالم پڑھ کر کوئی اپنی بیوی سے اتنا ہی کہہ دے ۔کے بھلے لوکے آج اپنی مرضی کا کوئی کھانا بنا لو۔۔۔
اور یہ کہے کہ آج سے تم میری دوست ہو ۔۔۔ اور اپنی بیوی کی کمی خامی کو دور کرنے کا سوچ لے ۔۔ پر جب دوست سمجھ لیا تو دوستوں کی خامیاں سے درگزر کیا جاتا ہے ۔۔۔



فریبی



صبا۔۔صبا۔۔۔کہاں ہُو بھئی۔۔۔؟  ۔کامران نے گھر میں داخل ہُوتے ہی چلانا شروع کردیا تھا۔۔۔ آرہی ہُوں۔۔۔ آرہی ہُوں۔۔۔ابھی مری نہیں ہُوں میں!  کیوں گلا پھاڑ کر   پُورے محلے کو سر پہ اُٹھا رہے ہُو۔۔۔۔؟ صبا  نے کمرے سے  ٹی وی  لاونج میں قدم رکھتے ہُوئے تیکھے انداز میں  اُونچی آواز  سے جواب دیا۔۔۔ لگتا ہے تمہارا غصہ ابھی تک ٹھنڈا نہیں ہُوا۔۔۔؟ اب  تم خُود ہی دیکھ لُو۔کہ،، میں تُمہیں کتنی محبت سے پُکار رَہا تھا۔۔۔ جسکے جواب میں تُم پھر مجھ پر  پھنکار رہی ہُو۔۔ حالانکہ میں اپنی چاہت کا اظہار کرنے کیلئے تُمہارے لئے تحفہ بھی لایا تھا۔۔۔ لیکن لگتا ہے کہ،، مجھے یہ تحفہ واپس لیجانا پڑے گا۔۔۔ کامران نے مصنوعی خفگی کا اظہار کرتے ہُوئے چہرے پر مسکراہٹ قائم رکھی۔۔۔

میں نے آپ سے کسی تحفے کی فرمائش نہیں کی۔۔۔ اُور مجھے آپ سے کوئی تحفہ چاہیئے بھی نہیں۔۔۔ ضرور ۔۔۔آپکو پھر کوئی مطلب ہُوگا  مجھ سے۔ یا پھر دُو چار دِن کیلئے  آپکا شہر سے باہر جانے کا اِرادہ ہُوگا۔۔۔ ورنہ آپ اُن شوہروں میں سے نہیں ہیں۔ جو بغیر مطلب کے بھی اپنی بیگموں کو تحفے دیدیا کرتے ہیں۔یا آوٹنگ پر لیجاتے ہیں۔ صبا نے ایک بار پھر ترکی بہ ترکی جواب دیتے ہُوئے کہا۔ لیکن  تحفہ کا ذکر سُن کراِس مرتبہ صبا کے لہجے میں پہلے کی طرح گھن گرج نہیں تھی۔ ۔۔۔

نجانے تُمہیں ہمیشہ یہ وہم کیوں رہتا ہے۔کہ،، میں تم سے اپنے مفادات کیلئے محبت کرتا ہُوں۔۔۔لڑائی جھگڑے آخر کس گھر میں نہیں ہُوتے ۔۔۔ میں مانتا ہُوں۔کہ،، کبھی کبھی مجھے کچھ ذیادہ غصہ آجاتا ہے۔۔۔ لیکن ہمیشہ میں ہی لڑائی کی ابتدا نہیں کرتا۔۔۔ کبھی کبھی تُمہارے بےجا شک ، اُور میری خُوامخواہ کردار کشی کی تمہاری عادت کی وجہ سے بھی میں جھنجلا جاتا ہُوں۔۔۔ لیکن ہمیشہ صلح کیلئے پہل بھی میں ہی کرتا ہُوں۔۔ اَب یہی دیکھ لُو کہ،، میں تو تمام باتوں کو پرسوں ہی بھلا چکا  تھا۔لیکن تُمہارا غصہ ابھی تک  تمہاری ناک پر دھرا ہے۔۔۔ خیر چھوڑو اِن باتوں کو میں ہمیشہ کی طرح اِس مرتبہ بھی صلح میں پہل کرنا چاہتا ہُوں۔۔۔ اُور دیکھو اِس مرتبہ میں تُمہارے لئے کتنا بیش قیمت تحفہ لایا ہُوں۔ اتنا کہہ کر کامران نے جیب سے کاغذ کا ایک لفافہ نکال کر زبردستی صبا کے ہاتھ میں رکھتے ہُوئے کہا۔۔۔۔۔  بھئی تُمہارے تحفے کی خریداری کے چکر میں بُہت ذیادہ تھک گیا ہُوں۔۔۔ اسلئےمیں تو فریش ہُونے کیلئے نہانے جارہا ہُوں۔اگر تمہیں تحفہ پسند آجائے تو مجھے بس ایک کپ چائے پلوا دینا۔۔۔

کامران کے واش رُوم میں داخل ہُونے کے بعد ۔۔۔صبا واپس اپنے کمرے میں داخل ہُو کر لفافہ کھولنے لگی۔۔۔ لفافے میں موجود تحفہ کو دیکھ کر صبا کی گھٹی گھٹی سی چیخ ہی نِکل گئی۔۔۔  قریباً ایک ماہ قبل  بھی کامران اُور صبا کی نُوک جھوک ہُوئی تھی۔۔۔ اِس لڑائی کے خاتمے پر کامران صبا کو شاپنگ مال لیکر گیا تھا۔ جہاں اُنہوں نے خُوب خریداری کی تھی۔  شاپنگ مال میں جیولری کارنر پر ایک خوبصورت  کنگن کا سیٹ ڈسپلے کیا گیا تھا۔ جس پر انتہائی خوبصورت کام کے ساتھ یکتا  ہیرے کے نَگ بھی آویزاں تھے۔۔۔ اُس دِن صبا نے بُہت کوشش کی تھی۔کہ کامران اُسے یہ سیٹ دِلوادے لیکن کامران نے ساڑھے چار لاکھ روپیہ کا یہ کنگن سیٹ اُسے  یہ کہہ کر  نہیں دِلوایا تھا۔ کہ فی الحال میرا بجٹ نہیں ہے۔۔۔ لیکن آج وہی بیش قیمت کنگن سیٹ صبا کے ہاتھ میں تھا۔ البتہ کامران نے سرپرائز کی خاطر کنگن کا کیس گاڑی میں ہی چھوڑ دیا تھا۔یا شائد وُہ جیولر کی دُوکان پر چھوڑ آیا تھا۔۔۔ چند لمحے صبا کنگن اُلٹ پلٹ کر دیکھتی رہی۔پھر اچانک کسی خیال کے تحت اپنے موبائیل پر نمبر پنچ کرنے لگی۔ دوسری جانب سے جیسے ہی کال رِیسیو کی گئی۔ صبا نے خُوشی سے بھنچی بھنچی آواز میں  اطلاع  دیتے ہُوئے کہا۔۔۔ ھیلو  گل رُخ مجھے وُہ کنگن مِل گئے ہیں۔۔۔ ارے ہاں بھئ   وہی   کنگن جنکا میں نے اُس دِن تُم سے تذکرہ کیا تھا۔۔۔ ہاں کامران نے ہی گفٹ کئے ہیں اُور کہاں سے آتے۔۔۔ بس تُم کل صبح ضرور آجانا۔ میں سب سے پہلے تمہیں وُہ کنگن دِکھانا چاہتی ہُوں۔۔۔آف کورس  بھلا تُم سے ذیادہ مجھے  کُون عزیزہے۔ جسکے ساتھ میں اپنی خاص خُوشی سیلیبریٹ کروں۔

  دوسرے دِن صبا   کامران کے چلے جانے کے بعد گلرُخ کو اپنے کنگن دِکھا رہی تھی۔۔۔ گُل رُخ بظاہر بُہت ذیادہ خُوشی کا اِظہار کررہی تھی۔ لیکن اُسکے اندر جو بے چینی   سانپ کی طرح اُسے ڈس رہی تھی۔ وُہ ذیادہ دیر صبا سے مخفی نہ رِہ سکی۔۔۔ بلاآخر صبا نے پُوچھ ہی لیا۔۔۔ یار گُلرُخ تُم اتنا دسٹرب کیوں نظر آرہی ہُو۔۔۔؟ کیا تُم کو  میرےکنگن پسند نہیں آئے۔۔۔ یا کوئی اُور بات ہے۔جِسے تُم مجھ سے چھپانے کی کُوشش کررہی ہُو۔۔۔؟

نہیں یار ایسی کوئی بات نہیں ہے۔ میں تو بس یہ سُوچ رہی تھی۔کہ،، تُم کتنی خُوش قسمت ہو۔ جِسے اتنا چاہنے والا شُوہر مِلا ہے۔ جو تمہاری ذرا ذرا سی ناراضگی کو دُور کرنے کیلئے لاکھوں کے تحائف تُمہاری نظر کردیتا ہے۔۔۔ اُور ایک میں ہُوں۔کہ،، جس سے محبت کرتی ہُوں۔۔۔ وُہ برملا شادی کے تذکرے کو بھی پسند نہیں کرتا۔۔ بس یہی موازنہ کررہی تھی۔ اسکے سِوا کچھ نہیں۔ گُل رُخ نے ہُونٹ چباتے ہُوئے افسردہ لہجے میں جواب دیا۔

یار ایسی بھی کوئی بات نہیں ہے۔ تم مجھ سے ہزار گُنا ذیادہ خوبصورت ہُو۔ دیکھنا جب تُمہاری شادی ہُوجائے گی نا! تب تُمہارا شوہر تمہیں مجھ سے بھی زیادہ قیمتی تحائف دیگا۔ بلکہ میں تو  سُوچتی ہُوں۔کہ،، کس کافر کا دِل چاہے گا کہ،، اتنی حسین بیوی کو چھوڑ کر کام پر جائے ۔۔۔مجھے تو ایسا لگتا ہے کہ،، وُہ شادی کے بعد تمہارے ہی قدموں میں پڑا رَہا کرے گا۔۔۔صبا نے قہقہ لگاتے ہُوئے ماحول کو خوشگوار بنانے کی کوشش کی۔۔۔ اُور ہاں ابھی ایک ماہ قبل تمہیں بھی تو تُمہارے منگیتر نے اتنی قیمتی ہیرے کی انگوٹھی دی تھی۔۔۔ صبا نے  گُلرُخ  کو یاد دِلاتے ہُوئے کہا۔۔۔ جواب میں گُل رُخ نے پھیکی سی مسکراہٹ بکھیرنے کے بعد چہرہ دوسری جانب پھیر کر  چپکے سےآنکھوں کے گوشوں کو خشک کرلیا۔

 تھوڑی ہی دیر بعد صبا کے گھر سے نِکل  کر گُل رخ  ایک ٹیکسی والے کو ایڈریس سمجھا کر ٹیکسی میں پچھلی نشست سے ٹیک  لگائے،موبائیل پر کسی سے  مختصر گفتگو کرنے کے بعد ،آنکھ موند کر  کسی نتیجے پر پُہنچنے کی کوشش کرنے لگی۔۔۔  ٹیکسی ایک خوبصورت  اپارٹمنٹ کے سامنے  جا کر ٹہر گئی۔۔۔ گُل رُخ نے جیبی آئینہ نکال کر اپنے چہرے پر نگاہ  ڈالی ٹشو پیپر سے چہرے کو صاف کیا۔ ۔۔ٹیکسی کا کرایہ اَدا کرنے کے بعد دروازہ کھول کر وُہ اپارٹمنٹ میں داخل ہُوگئی۔۔۔

گُل رُخ خیریت تو ہے نا۔۔؟ مجھے فوراً یہاں کیوں بُلوایا ہے۔۔۔ جبکہ میں نے تُم کو سمجھایا بھی تھا۔کہ،، ہمارا اِس طرح دِن دِہاڑے سرعام مُلاقات کرنا ہم دُونوں کو کسی پریشانی میں مبتلا کرسکتا ہے۔۔۔ اُور یہ بھی ممکن ہے کہ،، کوئی صبا کے  کان بھردے۔۔۔ اگر ایسا ہُوا تو بہت مشکل ہُوجائے گی۔۔۔۔
 کامران صاحب گھبرایئے مت!!! میں آج آپکو ہمیشہ کیلئے اِس پریشانی سے نجات دِلانے کیلئے ہی یہاں آخری مرتبہ آئی ہُوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آخری مرتبہ؟؟؟ کیا مطلب۔۔۔؟؟؟ تم کہنا کیا چاہتی ہُو۔۔۔ کیا کسی نے کچھ کہا ہے تُم سے۔۔۔؟ کامران نے پریشانی کے عالم میں گُلرخ کو دیکھتے ہُوئے استفسار کیا۔

مجھے کسی نے کچھ نہیں کہا۔۔۔۔ لیکن آج مجھے اپنی  حیثیت کا خوب اندازہ ہُوگیا ہے۔۔۔ اُور اسکے ساتھ مجھے یہ معلوم ہُوگیا ہے۔کہ آپ کے نذدیک میری  ذات ایک کھلونے سے ذیادہ اہمیت نہیں رکھتی۔۔۔۔ جب آپکی قانونی بیوی آپکو ٹھکرا دیتی ہے۔تب آپ کتے کی طرح دُم ہِلاتے ہُوئے دُوچار دِن کیلئے میری زندگی میں مجھے بھنبوڑنے کیلئے آجاتے ہیں۔۔۔۔ اُور مجھے یہ یقین دِلانے کی کُوشش کرتے ہیں۔کہ،، آپکے نذدیک  میں دُنیا  کی سب سے اہم ہستی ہُوں۔۔۔ لیکن دُوچار دِن بعد جب آپکا دِل مجھ سے بھر جاتا ہے۔تب آپ ضمیر کے قیدی بن کر واپس اپنی قانونی بیوی کے پاس لُوٹ جاتے ہیں۔۔۔

اُور اپنے گناہوں کے اِحساس کو مٹانے کیلئے۔ یا اپنی رُوح کو دھوکہ دینے کیلئے۔  اپنی جائز بیوی کیلئے بیش قیمت تحائف لے جاتے ہیں۔۔۔ کچھ دِن بعد یہ احساس جُرم کم ہُوجاتا ہے۔ تب آپ پھر  ایک نئے فساد کا جواز تلاش کرنے کی کوشش میں مگن ہُوجاتے ہیں۔۔۔ اُور اِس طرح یہ کھیل چلتا رِہتا ہے۔۔۔میں بھی کتنی بےوقوف تھی۔۔۔ جو یہ بات نہ سمجھ سکی کہ،، جو شخص اپنی جائز بیوی کو دھوکہ دے سکتا ہے۔ وُہ ناجائز رِشتے کو بھلا کب اہمیت کے قابل سمجھے گا۔۔۔۔صبا کی آواز اُسکے سینے میں دَم توڑنے لگی تھی۔۔۔ یا شائد  اُسکے آنسووٗں نے حلق کے ذریعے سے  باہر نکلنے کا راستہ تلاش کرلیا تھا۔

دیکھو گُل رُخ مجھے معلوم ہے۔کہ،، آج تم اپنی سہیلی سے مِلی ہُو۔۔۔ اُور میرے خیال میں اُس نے شک کی بنا پر تمہارے سامنے میرا ایسا نقشہ کھینچنے کی کوشش کی ہُوگی۔ جسکی وجہ سے تم مجھ سے دِلبرداشتہ  ہُوئی ہُو۔۔۔ لیکن یقین جانو میرے دِل میں تمہارا جو مقام ہے۔۔۔ تُم اُسکا تصور بھی نہیں کرسکتیں۔۔۔۔ کامران نے بات سنبھالنے کی آخری کوشش کی۔۔۔۔

نہیں کامران صاحب میں اِن  فریبی تصورات کی دُنیا  سے نکل کر حقیقت کی دُنیا میں قدم رَکھ چکی ہُوں۔ خُدا کیلئے مجھ سے  جھوٹی اور جذباتی باتیں نہ کریں۔۔۔۔ آپ مجھے کہتے ہیں۔کہ،، دُنیا میں آپ کو مجھ سے ذیادہ پیارا کوئی نہیں۔۔۔ لیکن۔۔۔۔ میرے مقدر میں پھر بھی جائز رِشتہ نہیں۔۔۔  جبکہ بقول آپکے جو عورت آپکو پسند نہیں اسکے بستر پر آپکی ستائس راتیں بسر ہوتی ہیں۔۔۔۔
جو  عورت آپکو پسند نہیں۔۔۔ وہی عورت فخر سے دُنیا والوں کے سامنے آپکے ساتھ شانہ بشانہ چلنے کا حق  بھی رَکھتی ہے۔۔۔ وہی اپنے گھر میں رہتی ہے۔۔۔ وہی خود کو منوانے کی طاقت بھی رکھتی ہے۔۔۔ وہی لاکھوں کے تحائف لیکر بھی ناراضگی کا حق بھی رکھتی ہے۔۔۔۔ تو  کامران صاحب ! آخر میں کُون ہُوں۔۔۔؟ آپکی داشتہ۔۔۔؟ جو اپنی چاہت کا برملا تذکرہ بھی نہیں کرسکتی۔۔۔

جسے خوش کرنے کیلئے آپ ہیرے کی انگوٹھی کہہ کر نقلی زرقون تھمادیتے ہیں۔۔۔۔ کتنا تضاد ہے کامران صاحب آپکی باتوں میں۔ اُور کتنی بے وقوف تھی میں۔ جو محبت اُور ہَوس میں تمیز نہیں کرپائی۔ اُور ایک فریبی شخص کی باتوں میں آکر اپنی ایسی سہیلی کو دھوکہ دینے کیلئے چل پڑی ۔جسے اپنی خوشیوں کو شئیر کرنے کیلئے بھی مجھ سے بہتر کوئی سجھائی نہیں دیتا۔۔۔۔ لیکن اب میں ایسا نہیں ہُونے دُونگی۔۔۔۔ نہیں ہُونے دُونگی۔۔۔۔ میں آج کے بعد صبا سے بھی کبھی نہیں مِلوں گی۔۔۔ کیونکہ میں نے اسکی پشت میں خنجر گھونپا ہے۔۔۔ مجھ میں اب اتنی اخلاقی سکت بھی نہیں ۔کہ،، اُسکی آنکھوں میں دیکھ کر اُسکا   سَامنا کرسکوں ۔۔۔ لیکن اتنی دُعا ضرور کروں گی کہ،، کاش وُہ  تمہارے تحفوں میں چھپی تمہاری شرمندگی اور ندامت کے  کینچلی میں بند سانپوں کو پہچاننے کے قابل ہُوجائے۔۔۔ اے کاش وُہ جان جائے کہ،، فساد کے بعد جو تحفے تُم اُسے دیتے آئے ہُو۔ وُہ محبت نہیں بلکہ گناہ کا کفارہ تھے۔

Monday, 17 February 2014

وُہ کھانا کہاں سے آیا تھا۔؟؟؟





محترم قارئین السلامُ علیکم

یہ جون 2004 کی بات ہے چند دوستوں نے جو کہ شعبہ تعلیم سے منسلک ہیں میرے پاس تشریف لائے کہ عشرت بھائی ہماری موسم گرما کی تعطیلات شروع ہوچُکی ہیں جس میں کُچھ دوستوں کا پروگرام تھا کہ اِن چھٹیوں کا فائدہ اُٹھاتے ہُوئے کیوں نہ سیر و تفریح کا پروگرام تشکیل دِیا جائے لیکن اَب تمام دوست اِس بات پر مُتفق ہوچُکے ہیں کہ کیوں نہ اِن چھٹیوں کا فائدہ اُٹھاتے ہُوئے مدنی قافِلہ میں سفر کیا جائے اِس طرح ایک تو حُکم قُرآن کی تعمیل بھی ہوجائے گی کہ بھلائی کا پیغام اپنے دوسرے مسلمان بھائیوں تُک پہنچانے کی سعادت حاصل ہوجائے گی نیز سیر ضمناً ہوجائے گی۔

میں نے اُنکی خِدمت میں عرض کیا دوستو تجویز تو بُہت اچھی ہے لیکن اگر آپ لوگ سیر کرنے کو غیر اِسلامی عمل سمجھ رہے ہیں تو آپکی اِطلاع کیلئے عرض کئے دیتا ہُوں کہ سیر کا حُکم تو قُرآِن پاک میں موجود ہے (وسِیرُ فِی الاْرضِ، ترجمہ اور زمین کی سیر کرو) اب رہی یہ بات کے اِس سیر کے آداب کے کیا تقاضے ہیں تُو اِس بِحث کو پھر کبھی کیلئے اُٹھا رکھتے ہیں۔

فی الحال تُو مجھے یہ جاننے میں دِلچسپی ہے کہ آخر آپ لوگ مجھے کیوں اپنے پروگرام سے آگاہ کرنے کیلئے تشریف لائے ہیں تب وہ کہنے لگے لو بتاؤ یہ بھی کوئی پوچھنے والی بات ہے بھئی ہم سبھی یہ چاہتے ہیں کہ آپ بھی اِس روحانی سفر میں ہمارے ساتھ رہیں۔

جوں ہی وہ دوست اپنی بات کہہ کر خاموش ہُوا تو ایک دوسرے دوست نے مذاقاً کہا اور اگر آپ نے کوئی بہانے بازی کی تُو ہم سب بھی نہیں جائیں گے اور یہ گُناہ بھی آپ کے سر رہے گا۔ میں اُن دِنوں گوشہ نشینی کی زندگی گُزار رہا تھا نہ کوئی خاص مصروفیت تھی نہ ہی کوئی اسقدر کاروبار وسیع تھا کہ کوئی معقول بہانہ کرسکتا سُو حامی بھرلی۔

اور یوں جون کے وسط تک ہم مدنی قافلے میں روانگی کیلئے حیدرآباد شہر میں حسن علی آفندی کے مدنی مرکز فیضانِ مدینہ جا پُہنچے وہاں جا کر ہمیں معلوم ہُوا کہ ہمارا قافِلہ راولپِنڈی بھیجا جارہا ہے اور ہمارے قافِلے کی تشکیل وہیں جا کر ہوگی راولپنڈی کا نام سُنتے ہی ہمیں لگا کہ ہمیں پھر دَس برس پہلے کی طرح اسلام آباد کے جنگل نُما شہر میں بھیج دِیا جائے گا سو میں نے اِرادہ کرلیا کہ جیسے ہی امیر قافِلہ کا اعلان ہوگا میں اُن سے صاف صاف کہہ دونگا چاہے کسی قریبی گاؤں دیہات میں بھیج دو لیکن میں اسلام آباد نہیں جاؤں گا اب کوئی اسلام آباد کا رہایشی بھائی یہ نہ سمجھ لے کہ ہمیں خُدانخواستہ اسلام آباد والوں سے کوئی دُشمنی ہے بلکہ ہماری بے رغبتی کی وجہ کُچھ ایسی تلخ یادیں ہیں کہ مجھے اِسلام آباد کے نام سے ہی اُس وقت اِلرجی محسوس ہوتی تھی، تھی سے مُراد یہ ہے کہ اب میں خود اِسلام آباد جانا چاہتا ہوں کہ وہاں سید محمد کی اَمی رہتی ہیں اور میں ایک مرتبہ اُنکی قدم بوسی کی خُواہش اپنے دِل میں پاتا ہوں۔

ویسے اِسلام آباد کا ذکر آہی گیا ہے تو میں اسلام آباد کی یاد سے جُڑا ایک واقعہ آپکو سُناتا چلوں کہ 1994 میں ہمارے قافلہ امیر کے پاس ایک نوجوان آیا یہ نوجوان درس وتدریس کی ہر محفل میں شمولیت بڑی پابندی کیساتھ کیا کرتا تھا اور قافلہ والوں سے بڑی مُحبت کیساتھ پیش آیا کرتا تھا، اُس دِن وہ بڑی لجاجت کیساتھ امیر قافَلہ سے درخواست کر رہا تھا کہ جناب کل جمعرات کی رات کا کھانا آپ تمام لوگ ہمارے گھر پہ کھائیں امیر قافلہ پہلے تو راضی نہیں ہُوئے لیکن کافی پَس و پیش کے بعد حامی بھر لی تمام شُرکائے قافلہ کے کھانے پکانے کی ذمہ داری مجھ فقیر کے حصے میں آئی تھی۔۔۔

 اگلے دِن صبح کے ناشتے کیساتھ ہی دوپہر کی سبزی بھی پکانے کے بعد میں نے برتن وغیرہ صاف کر کے رکھ دیئے دوپہر کے کھانے سے فارغ ہوکر ہم سب ہی درس و تدریس میں مشغول ہوگئے مغرب کی نماز پڑھ کر ہمیں اجتماع میں جانا تھا لیکن مغرب سے پہلے تک وہ نوجوان نہیں آیا بعد مغرب ہمیں اُس نوجوان نے یہ خبر آکر سُنائی کہ میری بڑی باجی نہیں مان رہیں ۔وہ کہتی ہیں کہ اگر کسی مولوی کو گھر لائے تو تُمہارے ساتھ اُن مولویوں کی بھی ٹانگیں توڑ دونگی میں آپ لوگوں سے بے حد شرمندہ ہوں ۔کہ ،،آپ لوگوں کو اپنے گھر نہیں لیجاسکتا، امیر قافِلہ نے اُس نوجوان کو تسلی دی کہ کوئی بات نہیں آپ نے تو خلوص کیساتھ دعوت دی تھی اور آپکو اس نیت کا ثواب  بھی ضرور ملے گا،۔یہ سُن کر وہ نوجوان تو چلا گیا اور امیر قافِلہ نے مجھے بُلا کر کہا کہ کھانا بنانے کا وقت تو ہمارے پاس ہے نہیں ۔۔۔لہٰذا آپ جائیں اور دیکھیں کوئی ہوٹل اگر کُھلا ہو تو اِہل قافِلہ کو کھانا کِھلا دیں اُس وقت ہمارا قافِلہ ٹمبر مارکیٹ کی ایک زیر تعمیر مسجد میں ٹِہرا ہُوا تھا اور مجھے معلوم تھا کہ مغرب کے بعد ہوٹل بند ہوجانے کی وجہ سے کھانا نہیں مِل سکے گا مگر اِہل قافِلہ کی دِل جوئی کی خاطر مسجد سے باہر نکل آیا دور دور تک کہیں کھانا نہیں مِلا تو مسجد واپس آگیا۔

مسجد میں دَاخل ہوتے ہُوئے میری نظر ایک لفافے پر پڑی جس پر لِکھا تھا، قافِلہ والوں کیلئے، میں نے وہ پیکٹ اُٹھایا اور امیرِ قافِلہ کو بتایا کہ جناب کھانا تو نہیں مِلا البتہ یہ پیکٹ دروازے کیساتھ رَکھا مِلا ہے ۔۔۔ امیر قافِلہ کے حُکم پر جب میں نے وہ پیکٹ کھولا تو اُس میں راجہ بازار کے ایک مشہور ہوٹل کے گَتے کے ڈبہ بند تین پیکٹ نِکلے جن میں بریانی، کباب، اور بروسٹ، تھے لیکن یہ کھانا اِتنا کم تھا کہ تین افراد کا بَمُشکل پیٹ بھر سکتا تھا ہمیں لگا کہ وہی نوجوان شرمندگی کی وجہ سے یہ کھانا رکھ گیا ہے اور چُونکہ کھانا تھوڑا ہے اس لئے شرمندگی کے باعث چِٹ لگا کر چلا گیا اور سامنے نہیں آیا ۔۔۔ بہرحال ہم گیارہ افراد اُس کھانے کے گرد حلقہ بنا کر بیٹھ گئے لیکن یہ کیسا کھانا تھا کہ تین افراد کا کھانا جو کہ بُہت لذیز بھی تھا خَتم ہونے کا نام نہیں لے رہا تھا یہاں تک کہ سب نے سیر ہوکر بلکہ یوں کہیے کہ ڈٹ کر کھایا اور کھانے سے فارغ ہونے کے بعد اللہ کا شُکر ادا کرتے ہوئے اجتماع گاہ کیلئے اسلام آباد کے مدنی مرکز کیلئے روانہ ہوگئے۔

دوسرے دِن ہمارے قافلہ کا کُوچ آبپارہ مارکیٹ سے نزد ایک مسجد کے لئے تھا کہ وہی نوجوان قافِلہ کی روانگی سے قبل آدھمکا اور ہم سے دوبارہ معذرت کرنے لگا امیر قافِلہ نے کہا کہ ماشاءَاللہ اسقدر زبردست کھانا آپ نے ہمیں کھلایا اگرچہ کھانا کم تھا لیکن قافِلہ کی برکت سے سب نے پیٹ بھر کر کھا لیا تھا اب معذرت کیوں کر رہے ہیں۔۔۔؟؟؟  وہ نوجوان حیرت سے کہنے لگا لیکن میں نے تو آپ لوگوں کو کوئی کھانا نہیں کِھلایا بلکہ میں نے خُود بھی احتجاجاً کل رات کھانا گھر پر نہیں کھایا میرے پاس تو اتنے پیسے بھی نہیں تھے کہ آپکو کِسی معمولی ہوٹل میں ہی کھانا کھلا سکتا۔

امیرِ قافِلہ نے اُس نوجوان سے دریافت کیا تو کل آپ کھانے کے پیکٹ مسجد میں رکھ کر نہیں گئے تھے؟ اس نوجوان نے کہا کہ آپ مجھ سے قسم لے لیں میں کچھ بھی رکھ کر نہیں گیا، اُس نوجوان کے جانے کے بعد ہم سب آپس میں چہ میگوئیاں کرنے لگے اگر کھانا اِس نوجوان نے نہیں کِھلایا تو آخر ہمیں کھِلایا کس نے اور ہمارا وہ میزبان ہمارے سامنے بھی کیوں نہیں آیا۔

تبھی امیرِ قافِلہ نے نہایت ٹِہرے ہوئے لہجے میں ہمیں مُخاطب کرتے ہوئے کہا دوستوں! ہمیں کھانا یقیناً اُسی رَبَّ العالمین نے کِھلایا ہے جسکے گھر ہم مہمان ٹِہرے تھے ۔جسکے دین کی خدمت کا جذبہ لیکر ہم اپنے گھروں سے نِکلے تھے۔۔۔ دوستوں! حضرتِ صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہُ کا فرمان ہے، مفہوم، جو اللہ کے کاموں میں لگ جاتا ہے اللہ کریم اُسکے کاموں میں لگ جاتا ہے ۔۔۔اور محترم قارئین ایسا ہمارے ساتھ ایک مرتبہ نہیں بلکہ دو مرتبہ ہُوا دوسری مرتبہ  دعوت کی مخالفت  اوربڑی بہن کا کردار ایک امی جان نے نِبھایا اور اُس دِن اِتِفاق سے ہمارے پاس دِن کا بچا ہُوا سالن موجود تھا صرف روٹی تنور سے لانی پڑی تھی ۔۔۔لیکن مُحترم قارئین کرام یہ وہ وجہ ہر گز نہیں تھی جسکے سبب ہمیں اسلام آباد پسند نہیں تھا بلکہ اِسلام آباد کی وہ خاموشی تھی جو مغرب کی نماز کے بعد سے ہی اسلام آباد کی سڑکوں پر اپنا راج کرلیتی تھی۔ جبکہ میرا تعلق اُس شہر سے ہے جہاں رات کے دو بجے تک بھی توے کی کھٹ کھٹ سُنائی دیتی ہے ہمارے شہر کی پلوشن فضا میں ایک پتنگے کو زندہ نہیں رہنے دیتی جبکہ اسلام آباد کی ہریالی نہ صرف اُنہیں جنم دیتی ہے بلکہ وزیرستان کی طرح اُن حشراتُ الارض کو پناہ بھی فراہم کرتی ہے۔

محترم قارئین یہ تو ضمنی بات تھی جو درمیان میں آگئی میری دِلچسپی حیدرآباد مرکز میں مُتوقع امیر قافلہ میں تھی اور جب امیر قافِلہ کا اعلان کیا گیا تو میری خُوشی کی اِنتہا نہ رہی امیر قافِلہ جناب محمد ندیم عطاری بھائی کو بنایا گیا تھا جو کہ میرے بُہت پُرانے دوست بھی تھے اور اب کافی عرصہ سے کوٹری شہر میں خِدمات اِنجام دے رہے تھے میری اُن سے قریباً پندرہ برس بعد مُلاقات ہورہی تھی۔ بہرحال قصہ مُختصر یہ کہ اسلام آباد والوں کی خُوش نصیبی تھی کہ پِنڈی پُہنچ کر قُرعہ مانسہرہ سے ناران تک کے نام نِکلا ہم سبھی مانسہرہ کیلئے روانہ ہوگئے اور یوں اسلام آباد والے میرے نِکمے وَجود سے محفوظ ہوگئے۔

مانسہرہ سے ناران تک کا سفر بھی نہایت یادگار سفر ہے جِسے بُھلانا بھی ناممکن ہے ہو سکتا ہے آج پھر کسی کو میرا کالم پڑھ کر نیند آرہی ہو لہٰذا اگلا سفر آئندہ پیش کرونگا۔۔ اللہ حافظ

عامل کامِل ابو شامِل قسط 27 پہلا شکار


گُذشتہ سے پیوستہ۔
یار یہ سب کیا ہے۔۔۔؟ کامل علی نے دبے دبے لہجے میں احتجاج کرتے ہُوئے ابو شامل کی جانب   اخباری اشتہار بڑھاتے ہُوئے کہا۔۔۔۔
کچھ بھی نہیں یار۔۔۔ بس شکار کیلئے چارہ ہی تو بِچھایا ہے۔۔۔۔ ابو شامل نے اپنے مخصوص انداز میں آنکھ مارتےہُوئے ایک خوبصورت سیلولر فُون کامل علی کی جانب بڑھا دیا۔۔۔ یہ موبائیل  کس لئےہے۔۔۔۔ اور جب کوئی گھر آئے گا تو جاناں کو کیا جواب دیں گے۔۔۔۔ کامل علی نے ابو شامل کے جواب دینے سے قبل ہی دوسرا سوال بھی داغ دِیا۔۔۔

اب مزید پڑھیئے۔

جاناں کو  سنبھالنا تُمہارا کام ہے۔  دھیرے دھیرے وُہ بھی اِس معاملہ کو قبول کرلے گی۔ اُور جہاں تک سوال ہے لُوگوں کے  گھر آنے کا۔ تو آپکی اطلاع کیلئے عرض ھیکہ،، ہم  لُوگوں سے ،، اِس گھر میں مُلاقات نہیں کریں گے۔ بلکہ میں نے  اِس مقصد کیلئے کچھ فاصلے پر ایک کوٹھی کرائے پر حاصل کرلی ہے۔ اشتہار میں رابطہ کیلئے اِسی موبائیل کا نمبر دِیا گیا ہے۔جو  اِس وقت تُمہارے ہاتھوں میں ہے۔  ابتدا میں کلائینٹ کیساتھ میں گفتگو کروں گا۔ اُس کے بعد ضروری ہُوا۔ تو مزید گفتگو تُم کرلینا۔۔۔ تُم جس قدر خاموش رَہو گے۔لُوگ اُسی قدر ذیادہ متاثر ہُونگے۔۔۔ ابو شامل نے تمام تفصیلات سے  کامل علی کو آگاہ کیا۔۔

اَبو شامِل شام  کے آخری پہر کامل علی کوٹھی دِکھانے کیلئے  اپنے ساتھ لےگیا۔۔۔۔ کُوٹھی دیکھ کر کامل علی کی آنکھیں کھلی کی کھلی رِہ گئی۔ تمام کوٹھی کو اتنی نفاست سے ڈیکوریٹ کیا گیا تھا۔کہ،،پہلی ہی نظر میں یہ کوٹھی کسی شاہی خاندان سے وابستہ فرد کے ذُوق کی مرہونِ منت  دِکھائی دیتی تھی۔۔۔۔ یار اتنی مہنگی کوٹھی کرائے پر لینے کی کیا ضرورت تھی۔ ۔۔۔ْ؟؟؟ کامل علی نے حیرت سے کوٹھی کے منقش دَر و دِیوار پر نِگاہ دُوڑاتے ہُوئے کہا۔۔۔

یار جب شِکار بڑا پھانسنا ہُو۔تب انتظام بھی  اچھی طرح ہی کرنا چاہیئے نا!!! ہمارے تمام شِکار کروڑ پتی یا اَرب پتی لُوگ ہُونگے۔ ہم نے غریب لُوگوںسے کیا لے لینا ہے۔ جو اُن بیچاروں پر  فضول محنت کریں۔۔ غریب آدمی اپنا پیٹ بھرلے وہی کافی ہے۔ وُہ ہماری ڈیمانڈ کیا خاک پُوری کریں گے۔ ابو شامل کی گفتگو جاری تھی۔کہ کامل علی کے موبائیل فون کی  گھنٹی بجنے لگی۔۔۔ کامل علی موبائیل  کو جیب سے باہر نِکال کر تذبذب سے دیکھنے لگا۔

 ابو شامِل نے فوراً   کامل علی  سے جھپٹ کرموبائیل اپنے ہاتھ میں لیےلیااُور اسپیکر آن کردیا۔ دُوسری جانب  سے کسی شخص نے بھاری لیکن شائستہ آوازمیں سلام کیا۔۔۔ ابوشامِل نے سلام کا جواب دینے کے بعد مدعا جاننے کی کوشش  کرتے ہُوئے کہا۔جی فرمایئے میں آپکی کیا خِدمت کرسکتا ہُوں۔۔۔ کیا میں کامل شاہ صاحب سے بات کرسکتا ہُوں۔ ؟؟؟ دوسری جانب  سے اِس مرتبہ نہایت عاجزی سے استفسار کیا گیا۔  ۔۔۔کامل علی نے اپنا تذکرہ سُن  کر فُون لینے کی کوشش کی لیکن ابو شامل نے اُسے ہاتھ کے اِشارے سے منع کرتے ہُوئے  کالر کو جوابدِیا۔۔۔ کیا آپ نے  حضرت صاحب سے مُلاقات کیلئے اپایٹمنٹ لی ہُوئی ہے۔۔۔ دُوسری جانب سے  آواز آئی جناب ملاقات کا وقت تو نہیں لیا ہے۔ لیکن کیا فون پر گفتگو بھی ممکن نہیں ہے۔؟

نہیں جناب ۔حضرت قبلہ شاہ صاحب بُہت مصروف شخصیت ہیں۔ اُنکے لئے ممکن نہیں ہے کہ،، وُہ ہر وقت لوگوں سے گفتگو یا مُلاقات کرسکیں۔ ۔ ویسے اگر کوئی ایمرجنسی ہے تو آپ مجھے بتاسکتے ہیں۔ اگر مجھے لگا کہ آپکا مسئلہ بُہت اہم ہے تو میں کوشش ضرور کرسکتا ہُوں۔کہ،، آپ کیلئے شیڈول سے قبل وقت حاصِل کرسکوں۔۔۔ ابوشامل نے کامل کی جانب دیکھتے ہُوئے اداکاری کی۔۔۔۔ دوسری جانب سے شکریہ ادا کرنے کے بعد کہا گیا۔ میرا نام نِفاست صدیقی ہے۔ میری عمر ساٹھ برس سے کچھ زائد ہے۔اُور مجھے قریباً دس برس سے جوڑوں میں شدید درد کی شکایت ہے۔میں نے اخبار میں آپکی جانب سے دِیا گیا اشتہار پڑھا تھا۔ کیا آپ مجھے جُوڑوں کے دَردسے  نجات دِلواسکتے ہیں۔۔۔

جناب  کامل شاہ صاحب چاہیں تو کس درد یا تکلیف  سے نجات نہیں  دِلواسکتے۔۔۔۔ لیکن۔۔۔۔۔   ابو شامل کی  لیکن کے بعد خاموشی نے دوسری جانب بے چینی پیدا کردی تھی۔۔۔ لیکن کیا جناب۔؟؟؟نِفاست علی نے نہایت بےچینی سے دریافت کیا۔۔۔ لیکن یہ کہ،، جناب جوڑوں کی یہ دوائی بُہت نایاب قسم کی جڑی بوٹیوں اُور خاص قسم کے عرقیات سے  تیار کی جاتی ہے۔ یہ کوئی عام قسم کی داوئی نہیں ہے۔۔۔ حالانکہ قبلہ شاہ صاحب اِن ادویات سے ایک رُوپیہ بھی منافع کی مَد میں نہیں لیتے۔ لیکن   اِن عرقیات سے حاصل شُدہ آئل کی ایک بوتل کی قیمت کوئی عام آدمی نہیں خرید سکتا۔۔۔ اسلئے میں معذرت خواہ ہُوں۔آپ شائد یہ بوتل خریدنا افورڈ نہیں کرپائیں گے۔ابوشامل نے انتہائی مہارت سے نفاست علی  کی عزت نفس پر چُوٹ کی۔

افورڈ نہیں کرپاوٗں گا۔  یہ آپ نے کیسے سُوچ لیا۔۔۔؟؟؟ جناب میں ایک بزنس مین ہُوں۔ اُور  لیدر ایکسپورٹ کے شعبے سے وابستہ ہُوں۔ آپ قیمت بتایئے۔ پھر میں آپکو بتاوٗنگا کہ،، میں کیا کچھ افورڈ کرسکتا ہُوں۔ نفاست علی نے تمکنت بھرے لہجے میں کہا۔۔۔۔ ابوشامل کا  چھوڑا ہُوا تیر عین نشانے پر لگا تھا۔۔۔۔۔۔ ٹھیک ہے جناب آپ ناراض نہ ہُوں ۔میں آپکو  قیمت بتاے دیتا ہوں۔جوڑوں کے درد کے آئل کی لاگت تقریباً نوے ھزار روپیہ ہے۔کیا آپ یہ قیمت افورڈ کرسکتے ہیں۔۔۔؟ابو شامل نے نِفاست علی کو جواب دِیتے ہُوئے سوال کیا۔۔۔
اُوہ! نَوے ھزار۔۔۔ سُنیں میں آپکو نَوے ھزار نہیں بلکہ پُورا ایک لاکھ روپیہ دُونگا۔۔۔  لیکن  مجھے آرام آناچاہیئے۔۔۔ کیا آپ مجھے یقین دِلا سکتے ہیں۔کہ،، مجھے اِس دوائی سے ضرور اِفاقہ ہُوگا۔ نِفاست علی صدیقی نے اپنے شک کا اِطہار کرتے ہُوئے کہا۔۔۔ ٹھیک ہے نِفاست صاحب میں کل آپکی قبلہ کامِل شاہ صاحب سے  مغرب کی نماز کے بعد مُلاقات کا بندوبست کئے دیتا ہُوں۔ مجھے یقین ہےکہ،، قبلہ شاہ صاحب سے مُلاقات کے بعد آپکو کسی قسم کا اِبہام نہ رہے گا۔ اسکے بعد اَبو شامِل نے نفاست صدیقی کو اِس نئی کوٹھی کا ایڈریس لکھوانے کے بعد کال کا سلسلہ منقطع کردِیا۔

کیوں میرے دُوست تم نے انسانوں کو مارکیٹنگ کرتے ہُوئے  تو ہزار مرتبہ دیکھا ہُوگا۔ لیکن کیا کسی انسان کو مجھ جِن زادے کی طرح مارکیٹنگ کرتے بھی دیکھا ہے۔۔۔ ابو شامل نے تفاخر سے سینہ پُھلاتے ہُوئے داد طلب نِگاہوں سے کامل علی کی جانب دیکھا۔۔۔۔۔۔ یار تمہاری پرفارمنس تو واقعی زبردست تھی۔۔۔ لیکن یہ بتاوٗ کہ نفاست صدیقی کو اعتبار کیسے دِلاوٗ گے۔۔۔۔ اُور یہ آئل جسکا ابھی  تُم نفیس صدیقی سے تذکرہ کررہے تھے۔ وُہ کہاں سے پیدا کرو گے۔ ۔۔۔ کامل علی نے  تعجب سے ابو شامل سے دریافت کیا۔

دَوا ئی کیلئے میں ابھی کوہ قاف کے شاہی حکیم بطلیموس سے رابطہ کرونگا۔ مجھے معلوم ہے۔ وُہ ہر قسم کے امراض کا شافی علاج کرتے ہیں۔ اُور مجھ سے خصوصی محبت رکھتے ہیں۔۔۔ اِس لئے مجھے کبھی  کسی کام کیلئے منع نہیں کریں گے۔۔۔ اُور جہاں تک نفاست صدیقی کو مطمئین کرنے کی بات ہے تو میرے خیال میں ہمارے کانٹے میں ایسی مچھلی آگئی ہے۔ جس کے پیچھے پیچھے دوسری مچھلیاں خود بخود چلی آئیں گی۔ اُور ہمیں  پبلسٹی کیلئے ذیادہ محنت نہیں کرنی پڑے گی۔ اِس لئے نِفاست صدیقی کو ہم ایڈوانٹیج دیں گے۔ اُور تعلقات کو  مستحکم کرنے کیلئے پہلے کسٹمر کو فری دوائی دیں گے۔ جسکی وجہ سے نفیس صدیقی جیسی بڑی پارٹی ہمیشہ ہمارے اِحسان تلے دبی رہے گی۔۔۔۔ ابوشامل نے مکارانہ انداز میں قہقہ بلند کرتے ہُوئے کہا۔۔۔۔جبکہ کامل علی ہونقوں کی طرح ابو شامل کے آئیڈیئے پر  دِل ہی دِل میں اُسے داد  دے رَہا تھا۔
جاری ہے۔۔۔

اُسکا کہنا ہے۔ کِسی اُور کو دیکھوں نہ کبھی
کیوں کہ اُسکو یہ میرا رُوپ بُرا لگتا ہے۔

مجھکو ہر چہرے میں آتی ہے نظر اِک وُہ ہی
جُو نہ بھر پائے یہ بہروُپ بُرا لگتا ہے۔


Friday, 7 February 2014

عامل کامِل ابو شامل قسط 26۔ بابا کامل شاہ گیند والے



گُزشتہ سے پیوستہ۔
 کامل علی نے بتایا کہ اُس نے جاناں کو اپنی فیملی کے متعلق سچ سچ بتادیا کہ،، اُسکا اِس بھری دُنیا میں کوئی نہیں ہے۔۔۔ جبکہ  افلاطون اُسکی دُور کی پھوپی کا بیٹا ہے ۔ جو پھوپی کے انتقال کے بعد اِس کے ہی ساتھ رِہتا ہے۔۔۔۔ کامِل  علی کے خاموش ہُوتے ہی  افلاطون نے ہاتھ نچا کر کامل کو مُخاطب کرتے ہُوئے کہا۔اُو !کمینے انسان  تمہارا بھلے دُنیا میں کوئی نہیں ہو۔ لیکن میرے ماں باپ دُونوں ہی زِندہ ہیں۔ تُم نے جیتے جی میری ماں کو کیوں مار ڈالا۔  اگر میرے والد کو معلوم ہُوگیا کہ تُم نے جیتے جی اُنکی اکلوتی بیگم کو  تخیل میں مار ڈالا ہے۔ تو مجھے قوی اُمید ہے کہ،، وُہ تمہارے ساتھ میرا بھی خُون پی جائیں گے۔۔۔ بہرحال مجھے خُوشی ہے کہ،، تم نے  جاناں کو مطمئین کردیا ہے۔ اُور اب میں تمہیں بزنس کا وُہ آئیڈیا بتانے جارہا ہُوں۔۔۔ جِسے سُن کر تم بھی مجھے داد دیئے بنانہیں رِہ سکو گے۔۔۔۔ کامل علی نے تجسس سے  اپنے تمام جسم کو کان کی صورت بنالیا۔ لیکن افلاطون کا بزنس آئیڈیاسُن کر کامل علی کا دِماغ چکرا گیا۔۔۔۔۔کیونکہ افلاطون کا کہنا تھا کہ،، ہم خواہشیں بیچنے اُور خُوف خریدنے کا بزنس  شروع کریں گے۔

اب مزیدپَڑھیئے۔
یہ کُونسا بزنس ہے۔؟؟؟ کامل علی نے حیرت سے  ابو شامِل کے چہرے کو تکتے ہُوئے  سُوال کیا۔۔۔
بُہت زبردست بزنس ہے میرے یار۔ اُور مجھے یقین ہے کہ،،  ایک مرتبہ بس بزنس چل نکلے ۔تب کوئی تمہیں کروڑ روپیہ کی بھی آفر کرے کہ،، یہ بزنس ختم کردو۔تب بھی تُم اِس بزنس کو ختم کرنے کا تصور بھی نہ کرپاوٗگے۔ ابو شامل نے مسکراتے ہُوئے  مُبہم  ساجواب دیا۔
یار  تُم کیا بکواس کررہے ہُو۔ مجھے تو کچھ بھی سمجھ نہیں آرہا۔ کامل علی نے بیچارگی سے مُنہ بَسورتے ہُوئے کہا۔

یار بُہت سیدھا سا بزنس ہے۔ اُور میں کوئی فارسی میں تم سے کلام نہیں کررَہا۔جُو تمہیں میری  بات سمجھ نہیں آرہی۔ دیکھو نا! ۔ دُنیا میں تقریباً ہر ایک انسان جاگتے اُور سُوتے میں مستقبل کے خُواب دیکھتا ہے۔  البتہ  سب  ایک جیسے خُواب نہیں دیکھتے۔ یہاں کوئی راتوں رات دُولتمند بننے کے خواب دیکھتا ہے۔ کوئی حَسین ساتھی پانے کا خواب دیکھتا ہے۔ کوئی راجہ اِندر بننے کے خُواب دیکھتا ہے۔ تو کوئی پریوں کے انتظار میں جاگتا ہے۔ کوئی طلسمی چراغ کا متلاشی ہے۔ تو کوئی اُولادِ نرینہ کے خُواب دیکھتا ہے۔ کوئی سکندر اعظم بننا چاہتا ہے۔ کوئی صرف طاقتور بننے کے خواب دیکھتا ہے۔ الغرض کوئی ایسا نہیں جو خواب نہ دیکھتا ہُو۔ البتہ تھوڑے سے لُوگ ہیں۔ جو اِن خوابوں کی تعبر کیلئے جلد بازی  اُور بے صبری کا مُظاہرہ نہیں کرتے۔ ورنہ اکثریت اُن لوگوں کی ہے جو ہر قیمت پرجلد از جلد  اپنے خوابوں کو حقیقت  کا رُوپ  دینےکیلئے ہر جائز اُور ناجائز طریقے کو بروےکار لانے سے بھی نہیں چوکتے ۔ بس ہم اُن لوگوں کو خواب بیچیں گے۔

جبکہ جو لوگ مشکلوں اُور تکالیف سے جلد گھبرا جاتے ہیں۔ اُور حالات کا  ڈٹ کرمقابلہ نہیں کرسکتے۔ ماوارائی مخلوقات کے چنگل میں پھنس جاتے ہیں۔یا خُوف کے جنگل  میں بھٹک کر واپسی کا راستہ بھول جاتے ہیں۔  ہم اُن تمام لُوگوں سے خُوف خرید لیں گے۔ البتہ  یہ اُور بات ہے کہ،، ہم سُودا  خریدیں یا بیچیں دُونوں صورتوں میں قیمت ہماری جیب میں ہی آئے گی۔ دوسری طرف تمہاری شہرت میں الگ چار چاند لگ جائیں گے۔ کیا بیوروکریٹ کیا ٹیکنو کریٹ۔کیا مُشیر اُور کیا وزیر ۔ہر ایک تمہارے دَر پر تمہاری  ایک نگاہ ناز کیلئے بیقرار کھڑا نظر آئےگا۔۔۔ویسے میں چاہوں تو  بغیر مشقت کے ہی  تُمہیں اتنی دُولت دے سکتا  ہُوں۔ جو تمہاری زندگی بھر کیلئے کافی ہُوسکتی ہے۔۔۔ لیکن اسطرح تمہاری شخصیت  لوگوں میں مشکوک بن کر رِہ جائے گی۔ جو میں کسی قیمت پر گوارہ نہیں کروں گا۔۔۔۔ جبکہ یہ بزنس تمہاری شخصیت کو مزید نکھارنے کا سبب بن جائے گا۔ البتہ تُم چاہو۔تو نقد نذرانے لینے کے بجائے کوئی ٹرسٹ بھی قائم کرسکتے ہُو۔ افلاطون نے طویل گفتگو کے بعد لمبا سانس لیکر اِستفہامیہ  نظروں سے کامل علی  کی جانب دیکھا۔

مطلب یہ کہ،، تم مجھے عامل یا بنگالی جادوگر بنانا چاہتے ہُو۔ حالانکہ تُم اچھی طرح جانتے ہُو۔کہ،،مجھے عملیات  کی الف ب  کی بھی خبر نہیں ہے۔کامِل علی نے افلاطُون کو گھورتے ہُوئے کہا۔
یار تُم الف ب نہیں جانتے  ۔لیکن لُوگوں کو یہ کبھی معلوم نہیں ہُو سکےگا۔۔۔ کیونکہ میں تمہارے ساتھ رہوں گا۔ اُور معاف کرنا مجھے الف، ب ہی کیا اِس سے آگے کے اسباق کا بھی عِلم ہے۔۔۔مطلب  یہ کہ،، فی الحال تمام کام میں کروں گا۔۔۔ اُور  نام کیساتھ ساتھ تجوری تُم بھرتے جانا۔۔۔۔ اُور ساتھ ساتھ اِن عُلوم کو تم میں منتقل کرتا رہوں گا۔جب تک کہ،، تمہیں میری حاجت نہ رہے۔۔۔ اِس طرح ہمارے درمیان دوستی کے علاوہ اُستاد شاگرد کا رشتہ بھی قائم ہُوجائے گا۔ افلاطون نے شرارت سے آنکھ مارتے ہُوئے کہا۔۔۔

یار مجھے تو یہ سب سُوچ کر ہی جھرجھری سی آرہی ہے۔ تمہارے ذہن میں نجانے کہاں سے یہ شیطانی آئیڈیا آگیا ہے۔۔۔ کیا ہم کوئی سیدھا سادا سا کام نہیں کر سکتے۔جہاں سے معقول آمدنی کا ذریعہ بن جائے ۔۔۔ اُور اُسکے بعد میں آرام سے۔۔۔۔۔؟؟؟  کامل علی نے ٹھنڈی آہ بھر کر جملہ ادھورا چھوڑ دیا۔

پہلی بات تو یہ ہے کہ،، ہم یہی بزنس کریں گے۔۔۔ البتہ  ایک ماہ بعد بھی تُمہاری یہی رائے رَہی ۔۔۔ تب میرا  تُم سے وعدہ ہے۔ کہ جیسا بزنس تُم کرنا چاہوگے۔میں ویسا ہی بزنس اِسٹارٹ کروَادونگا۔۔۔۔۔۔۔ لیکن  تمہارے ادھورے جملے آرام سے کیا۔۔۔کا کیا مطلب ہے۔؟؟؟یقیناً عکشہ یا نرگس سے عشق لڑانے کے  سِوا کوئی دوسری بات تم نہیں سُوچ سکتے۔۔۔ افلاطون نے کامل کا تمسخر اُڑاتے ہُوئے کہا۔

ہاں یار تُم سچ کہتے ہُو۔۔۔ میں فی الحال عکشہ کے ہی متعلق سُوچ رَہا تھا۔ کامل علی نے جھینپ کر اِقرار کرتے ہُوئے گفتگو جاری رکھی۔۔۔۔ یار کتنی عجیب بات ہے کہ،، مجھے نرگس سے اسقدر اُنسیت ہے کہ،، میں نے آج سے پہلے نرگس کے علاوہ کسی دوسری عورت کا تصور تک بھی نہیں کیا تھا۔۔۔۔لیکن۔ مجھے نجانے کیوں ایسا محسوس ہُوتا تھا۔۔۔۔ جیسے نرگس میں کچھ کمی ہے۔ جیسے اُسمیں کچھ نِسائیت کی کمی  ہُو۔ جیسے اُس میں کچھ ادھورا پن ھو۔۔۔ لیکن عکشہ کو دیکھ کر ایسے لگا تھا۔ جیسے وُہ کمی، وُہ اَدھورا پن ختم ہُوگیا ہو۔ اُور نرگس مکمل نسائیت کیساتھ میرے سامنے آکھڑی ہُوئی ھو۔۔۔۔ کامل علی جملہ مکمل کرنے کے بعد ایک مرتبہ پھر عکشہ کے تصور کو اپنے خیال میں لے آیا۔

ہاں دُوست یہ بات تم نے بالکل سچ کہی ہے۔ واقعی عکشہ نرگس کے مقابلے میں ایک بھرپُور عورت ہے۔ دراصل میرے خیال میں نرگس میں نِسائیت کی کمی اُسکی کم عمُر ی کی وجہ سے ہے۔ لیکن عکشہ عُمر کے اُس حِصے میں ہے۔جہاں عورت کی تکمیل ہُوجاتی ہے۔ اُور وُہ مزید جاذِبِ نظر دِکھائی دیتی ہے۔۔۔ویسے مجھے لگتا ہے۔کہ،، نرگس بھی شائد دَس برس کے بعد عکشہ ہی کی طرح بھرپُور عورت نظر آنےلگے گی۔۔۔ لیکن یہ بھی ہُوسکتا ہے کہ نرگس اپنی فٹنس کا دھیان نہ رکھے ۔اُور  بجائے عکشہ کے  جاپانی پہلوان نظر آنے لگے۔ افلاطون نے شرارت سے مُنہ پُھلا کر  پہلوانوں کی نقل اُتارتے ہُوئے جواب دِیا۔

ابو شامِل کی یقین دِہانی کے بعد کامل علی نے ہاں تو کردی۔۔۔ لیکن  کامل علی سے بابا عامل کامل علی کے تصور سے ہی کامل علی کے دِل میں خُوف کے بادل سمندر میں ٹھاٹیں مارتی ہُوئی لہروں کی طرح اُسکے دِل کو دِہلا رہے تھے۔۔۔ تیسرے دِن صبح ہی صبح ابو شامل اخبار لہراتا ہُوا۔کامل علی کو پُکارتے ہُوئے ڈائینگ ھال میں داخل ہُوا۔۔۔۔۔ خیریت تو ہے۔۔۔؟اتنا خوش کیوں نظر آرہے ہو۔؟؟؟کیا پرائز بانڈ  میں فرسٹ انعام نِکل آیا ہے۔۔۔؟ کامل علی نے چائے کی پیالی ہونٹوں سے جُدا کرتے ہُوئے ٹیبل پر رکھ دی۔۔۔۔۔

یار ہمیں انعام کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ میں انعام کی رقم سے سُو گُنا زائد رقم تمہارے قدموں میں ڈھیر کرسکتا ہُوں۔۔۔  اُور میں بزنس صرف زندگی میں  ایڈونچر پیدا کرنے کیلئے کرنا چاہتا ہُوں۔ البتہ تمہاری بات نے مجھے ایک نئی راہ دِکھا دی ہے۔۔۔۔ اب ھم خوابوں کے ساتھ انعامی بانڈ کے ایڈوانس نمبر بھی بیچیں گے۔۔۔۔ابو شامل مزید بھی کچھ کہنا چاہتا تھا۔ لیکن جاناں کو آتا دیکھ کر وُہ خاموشی سے اخبار کی تہہ بنانے میں مصروف ہُوگیا۔

تھوڑی دیر بعد تنہائی میسر آتے ہی کامل علی اخبار میں موجود نصف صفحہ پر مشتمل اِشتہار  حیرت سےپڑھ رہا تھا۔۔۔۔ عملیات کی دُنیا میں تہلکہ دُنیا بھر کے تمام جادوگروں کو  عامل کامل۔۔۔ بابا کامل شاہ  (گیند والے)کا کُھلا چیلنج۔۔۔ جادو اُور سفلی کے رُوحانی تُوڑ کے عالمی شہرت یافتہ عامل۔۔۔ جنکی زِندگی کا مقصد صرف دُکھی انسانیت کی خِدمت ہے۔۔۔۔ رُوٹھے ہُوئے محبوب کو اپنوں قدموں میں بُلانا ہُو ۔۔۔ یا دشمنوں کو شکست سے دوچار کرنا۔۔۔ ظالم شوھر کو راہِ راست پر لانا ہُو۔۔ یا گمراہ اُور بدچلن بیوی  کو اِشارے پر چلانا۔۔۔ لاٹری کا نمبر ہُو۔۔۔ یا  پرانی سے پُرانی بندش کھلوانا۔۔۔۔ بانجھ پن کے ستائے مرد  ہُوں۔۔ یا بیماری اور کورٹ کچھری میں الجھے ہُوئے افراد۔۔۔ یا آپکے بوڑھے والدین کو جُوڑوں میں درد کی دائمی شکایت ہُو۔ الغرض دُنیا  کاکوئی بھی پیچیدہ سے پیچیدہ  مسئلہ ہُو۔۔۔۔۔ تمام رکاوٹیں اُور تمام پریشانیاں با با کامل علی کی صرف ایک نظر سے دُور ہُوتی ہیں۔۔۔۔ آمد سے ایک ہفتہ قبل   فون پر اپنا ٹوکن نمبر ضرور حاصل کریں۔۔۔۔۔
نُوٹ۔۔۔۔ اگر کسی صاحب کے پاس چیتے کی چربی،، لُومڑی کی دُم۔ یا زندہ اُلو موجود ہُوں۔ تو ضرور رابطہ فرمائیں۔۔۔ آپ کو مُنہ مانگی قیمت اَدا کی جائے گی۔  اُسی نُوٹ کے  نیچے ایک موبائیل فون نمبر بھی درج تھا۔

یار یہ سب کیا ہے۔۔۔؟ کامل علی نے دبے دبے لہجے میں احتجاج کرتے ہُوئے ابو شامل کی جانب دیکھا۔۔۔۔ کچھ بھی نہیں یار۔۔۔ بس شکار کیلئے چارہ ہی تو بِچھایا ہے۔۔۔۔ ابو شامل نے اپنے مخصوص انداز میں آنکھ مارتےہُوئے ایک خوبصورت سیلولر فُون کامل علی کی جانب بڑھا دیا۔۔۔ یہ موبائیل  کس لئےہے۔۔۔۔ اور جب کوئی گھر آئے گا تو جاناں کو کیا جواب دیں گے۔۔۔۔ کامل علی نے ابو شامل کے جواب 
دینے سے قبل ہی دوسرا سوال بھی داغ دِیا۔۔۔

جاری ہے۔۔۔

اُسکا کہنا ہے۔ کِسی اُور کو دیکھوں نہ کبھی
کیوں کہ اُسکو یہ میرا رُوپ بُرا لگتا ہے۔

مجھکو ہر چہرے میں آتی ہے نظر اِک وُہ ہی
جُو نہ بھر پائے یہ بہروُپ بُرا لگتا ہے۔

Tuesday, 4 February 2014

میلی چادر بوسیده ڈھول


میلی چادر اُور پَھٹا ڈُھول۔۔۔ ناکام مجرم سے رُوح کا مناظرہ

آج زِندگی کی چوالیس بہاروں اُور اُن سے پہلے آنے والی تمام خِزاوٗں سے سلامت گُزر جانے کے بعد دِل میں پھر  سے یہ خاہش اَنگڑائی لیکر بیدار ہُونے کی سعی کرنے  کی جراٗت کررہی ہے۔ کہ،، میں اِن گُزرے ہُوئے چوالیس برس کا محاسبہ کرنے کی جسارت کروں۔۔۔ اُور یہ پہلی مرتبہ نہیں ہے۔ بلکہ  رُوح کے  انتھک کوششوں کے باوجود ،،رُوح اُور نفس میں ہمیشہ ہی ایک جنگ کا سماں پیدا ہُوجاتا ہے۔

رُوح چیخ چیخ کر  میری  بدعنوانیوں کی داستاں بیان کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ لیکن جیت ہمیشہ نفس کی ہی ہُوتی ہے۔۔۔جنگ کی ابتدا میں رُوح کچھ پُراُمید و پُر عزم دِکھائی دیتی ہے۔ لیکن میری بے حسی اُور بے توجہی کے باعث ہمیشہ  تھک ہار کر  نفس کے سامنے سِپر ڈال دیتی ہے۔ اُور مسلسل کئی برسوں سے بلاآخر جیت نفس کے حِصے میں ہی آتی ہے۔۔۔اِس جنگ کے زُور پکڑنے سے قبل ہی میرا  نفس ہمیشہ مجھے یہ باآور کرانے میں کامیاب ہُوجاتا ہے۔کہ رُوح مغالطہ میں ہے۔۔۔ حالانکہ منزل سامنے نہیں ہے۔ لیکن جو راستہ میں اِختیار کئے ہُوئے ہُوں۔ دراصل صرف یہی رستہ سہل ہے اُور اِسی راستے سے منزل تک پُہنچنا ممکن ہے۔ نفس کا انداز بیاں اتنا پُرکشش ،  پُرجوش،  دِلنشین، اُور سِحر اَنگیز ہُوتا ہے۔ کہ طبیعت رُوح کی آواز سننے  کی طرف مائل ہی نہیں ہُوپاتی۔ اُور رُوح کی پُکار  ہمیشہ صدائے صحرا کی طرح بالکل بے اثر ہُوجاتی ہے۔

آج شائد نفس کچھ مدہوش و بے فکر ہِے۔۔۔ سُو اِس لئے رُوح نے چالاکی سے کام لیتے ہُوئے میرے کانوں میں دھیمے دھیمے پُھسپسھسانا شروع کردیا۔ پہلے تو جی میں آیا کہ اپنے دِل کے کانوں میں خوب رُوئی ٹھونس کر لحاف میں سُوجاوٗں۔۔۔لیکن۔۔۔ دھیرے دھیرے رُوح کے سُوز نے میرے تمام جسم کو شل کردیا۔ جسکی وجہ سے نہ ہی میں اپنے نفس کو ہشیار کرپایا۔۔۔ اُور نہ ہی ہمیشہ کی طرح سے بے اعتنائی کا مظاہرہ کرپایا۔

تشبیہ۔

رُوح نے میری بےبسی دیکھ کرسب سے  پہلے میری توجہ اِس جانب مبذول کروائی کہ،، مجھے دُنیا میں کسی  مادی شئے سے اپنی تشبیہ اُور شناخت حاصل کرنی چاہیئے۔۔۔ میں نے کہا۔۔۔ کہ،، میں مسجودِ ملائک ہُوں۔ بھلا میری تشبہ کسی مادی شئے سے کب ممکن ہے۔۔۔ لیکن رُوح کا اِصرار بڑھتا گیا۔ کہ،، نہیں مادی شئے سے تشبیہ ضروری ہے۔تُم نے چوالیس برس میں میری کوئی بات نہیں مانی ہے۔ صرف آج کی رات موقع مِلا ہے۔ خدارا  ضد نہ کرو۔ اُور آج صرف میری سُن لُو۔جب ہم کسی نتیجے پر پُہنچ جائیں۔ تب تُم کو اِختیار ہُوگا۔ چاہو تو میرے تجزیئے کے مطابق منزل کو تلاش کرنے کی کوشش کرنا۔ چاہو تو اپنی سابقہ ڈگر پر لُوٹ جانا۔۔۔ مجھے آج اپنی بےبسی سے ذیادہ نفس کی بے فکری پر غصہ آرہا ہے۔۔۔ نہ وُہ یُوں اطمینان سے تان کر سُوتا۔۔۔ اُور نہ مجھے یُوں رُوح کے ہاتھوں یرغمال بننا پڑتا۔ لیکن اب کرا بھی کیا جا سکتا ہے۔

میں نے  عقل کے گھوڑے  دُوڑائے۔۔۔ کبھی خود کو پہاڑ سے، کبھی فلک سے، کبھی شجر سایہ دار سے تشبیہ دینے کی کوشش کی۔۔۔ لیکن میرے ہر خیال و انتخاب کی رُوح نے دھجیاں بکھیر کر رکھ دیں۔۔۔ اُس کے مسلسل انکار سے میں نے عاجز آکر کہہ دیا۔۔۔۔ جب تُمہارے خیال میں اِن میں کوئی بھی نہیں ہے ۔تو تُم خود ہی کیوں نہیں بتادیتے کہ،، مجھے کس شئے سے خُود کو تشبیہ دینی چاہیئے۔۔۔ رُوح  نے  پہلے تو فاتحانہ انداز سے میری جانب دیکھا۔ لیکن پھر مغموم لہجے میں کہا۔۔۔ پہلے مجھ سے وعدہ کرو۔کہ،، میرے رائے سن کر  بدک تو نہیں جاوٗ گے۔۔۔یا۔۔۔ یُوں تو نہیں کہو گےکہ،، جاوٗ ہمیں یہ آزمائشی اور اِحتسابی کھیل نہیں کھیلنا۔۔۔۔

میں نے نا چاہتے ہُوئے بھی حامی بھرلی۔کیونکہ،، میرے پاس اقرار کے سِوائے کوئی چارہ نہیں تھا۔  کیونکہ،، ایک طرف آج مجھےنفس کی مدد حاصل نہیں تھی۔ تو دوسری طرف میرے اندر بھی تجسس پیدا ہُوچلا تھا۔کہ آخر رُوح میرے متعلق کیسی تشبیہ کو اپنے من میں سجائے ہُوئے ہے۔۔۔؟

مجھ سے ایجاب و قبول کی سند حاصل کرنے کے بعد ،، رُوح نے مجھ سے کہا،،  میرے خیال میں تُمہاری تشبیہ،،  میلی چادر میں چھپے  پَھٹے  ڈُھول،، جیسی ہُونی چاہیئے۔۔۔۔۔ بےعزتی کے احساس سے میرے نتھنے پھولنے لگے۔ اُور مجھے یُوں محسوس ہُونے لگا۔ جیسے مجھے کسی نے زندہ  پکڑ کردِہکتی ہُوئی بھٹی میں جھونک دیا ہُو۔۔۔ اسقدر بےعزتی کا تصور شائد ہی نےمیں زندگی میں کبھی محسوس کیا ہُو۔

میں نے غُصیلے لہجے میں پجنکارتے ہُوئے  احتجاج کیا۔۔۔ تمہاری اتنی جراٗت بھی کیسے ہُوئی کہ،، میرے متعلق اتنی گھٹیا رائے اپنے ذہن میں رکھو۔۔۔ کیا تمہیں عِلم نہیں ہے۔کہ،، لُوگ میرے بارے میں کتنی اچھی رائےرکھتے ہیں۔ اُور میری کتنی عزت کرتے ہیں۔۔۔۔ رُوح نے مجھے بپھرتا دیکھ کر  فوراً مجھے میرا وعدہ یاد دِلایا۔کہ ،، ہم دونوں میں ابھی یہ معاہدہ طے پایا  ہے۔ کہ ہم غصے کے بجائے دلیل سے بات کریں گے۔ اُور جسکی دلیل مضبوط ہُوگی جیت بھی اُسی کی ہُوگی۔

میں نے گلا کھنکارتے ہُوئے کہا۔۔۔ لیکن ہمارے درمیان یہ معاہدہ نہیں ہُوا تھا۔ کہ تم میری عزت نفس کے ساتھ کسی بھی قسم کا کِھلواڑ کرو۔۔۔ اُور میں خاموش تماشائی کی طرح چپ چاپ سہتا رَہونگا۔۔۔۔ اُور جہاں تک  دلیل کی بات ہے۔۔۔ وُہ میں تُم سے ضرور  مانگوں گا۔کیونکہ مجھے قوی یقین ہے۔کہ تم اپنی بےہودہ الزام تراشی کے جواز میں کوئی دلیل پیش نہیں کرپاوٗگے۔۔۔


 میرے لہجے کی تُرشی سے ایک لمحے کیلئے رُوح پر مایوسی کی کیفیت طاری ہُوئی۔ جیسے بازی اُس کے ہاتھ سے نکل گئی ہُو۔ لیکن میرے دلیل طلب کرتے ہی وُہ پرسکون نظر آنے لگی۔ جیسے میں انجانے میں اسکے مطلب کی بات کردی ہُو۔ رُوح نے  میرے چہرے پر نظریں جماتے ہُوئے مجھ سے استفسار کیا۔تمہیں یہ تو معلوم ہی ہُوگا۔کہ پہلے زمانے میں لُوگ سُونا ، چاندی، ہیرے جواہرات۔ اپنے بوسیدہ کپڑوں میں چھپا کر رکھتے تھے۔۔۔؟

ہاں میں  نے بھی سُنا ہے ۔کہ پہلے زمانے کے لوگ اپنی قیمتی اشیاٗ کو ایسے ہی محفوظ کرتے تھے۔۔۔۔ لیکن دھیرے دھیرے چور ڈاکووٗں کو بھی اِس بات کی بھنک پڑگئی تھی۔اُور پھر سب سے پہلے چُور گھر میں داخل ہُونے کے بعد ایسی گٹھڑیوں کا گھنگالتے تھے۔۔۔ میں نے اپنی معلومات جھاڑتے  ہُوئے  یہ ثابت کرنے کی کُوشش کی کے میں بھی کوئی لاعلم اِنسان نہیں ہُوں۔

خُدا تُمہارا بھلا کرے۔ تم نے خود ہی میرے لئے معاملہ کو سمجھانا آسان کردیا۔ اُور مجھے اقرار۔و۔ انکار کی اذیت سے بچالیا۔۔۔رُوح نے خُوش ہُوتے ہی گفتگو جاری رکھی۔۔۔ جیسا کہ تم نے ابھی خود یہ ثابت کردیا ھے۔کہ تُم پچھلے زمانے کی یہ چالاکیاں خوب اچھی طرح جانتے ہُو۔ سُو میرا کہنا یہ ہے کہ،، تُم نے  لُوگوں کی نفسیات سے کھیلتے ہُوئے۔ خُود کو ایک  بناوٹی عاجزی کی میلی چادر میں چھپانے کی کوشش کی۔جس میں تمہیں خاطر خواہ کامیابی بھی حاصل ہُوئی۔ایک طرف تم نے خود پر عاجزی کی ملمع شدہ چادر اُوڑھ لی ۔ دُوسری طرف تُم لوگوں کو اپنی بڑائی کے جا بجا قصے سُنا کر یہ ثابت کرنے کی کوشش کرتے رہے۔کہ،، جیسے اِس میلی چادر میں کوئی پُوشیدہ خزانہ چھپا ہُو۔  تم چونکہ ایک چالاک اُور مکار اِنسان ہُو۔۔۔ تُم کو معلوم تھا کہ،، انسان ہمیشہ سے ہی پوشیدہ خزانوں کا مُتلاشی ریا ہے۔۔۔ اِس لئے لُوگ خزانے کی تلاش میں ضرور آئیں گے۔   یعنی میں یوں کہوں کہ بظاہر تم نے دانہ بچھا رکھا تھا۔۔۔ جیسے بھوکوں کے بُہت بڑے ہَمدرد ہُو۔ لیکن حقیقت یہی ہے۔کہ اِس دانے کے نیچے تُم نے کمال ہشیاری سے جال بھی بچھا رکھا تھا۔

لیکن میں دانہ اُور جال کیوں بچھانے لگا۔۔۔ مجھے اِس تمام معاملے سے کیا حاصل ہُوگا۔۔۔سب جانتے ہیں۔کہ میں کوئی پیشہ ور عامل یا لکھاری نہیں ہُوں۔ میں نے رُوہانسی آوازمیں احتجاج کیا ۔

فائدہ!!  ۔۔۔ کوئی ایک فائدہ ہُو تو گنِواوٗں۔۔۔۔ رُوح نے تمسخر اُڑانے والے لہجے میں کہا۔۔۔ مانا کہ تُم پروفیشنل نہیں ہُو۔۔۔ لیکن لُوگوں کی بھیڑ کسکو اچھی نہیں لگی۔۔۔ حب جاہ  اُور شُہرت کی بیماری جب کسی کو لگ جائے تو یہ ایک ایسا نشہ ہے جسکے لئے انسان اپنی تمام دُولت بھی داوٗ پر لگانے کیلئے تیار ہُوجاتا ہے۔جبکہ تُم  کو  تو دُولت بھی خرچ نہیں کرنی پڑ رہی تھی۔  تمہارے پاس دُولت سے بھی بڑا ہتھیار تھا۔ قلم کا ہتھیار۔ جِسے استعمال کرنا بھی تمہیں خُوب آتا ہے۔ لیکن افسوس قلم کی امانت کا بار بھی تم سے سنبھالا نہ گیا۔

مجھے رُوح کے طعنے تشنوں سے وحشت محسوس ہُونے لگی ہے۔ من چاہتا ہے۔ کوئی نفس کو خبر کردے ۔ اُور وُہ  میری مدد کو چلا آئے جیسے وُہ ہمیشہ چلا آتا ہے۔ اُور میری حمایت میں رُوح کے سامنے میرے ایسے ایسے قصیدے پڑھے کہ،، رُوح شرمندہ ہُوجائے۔ لیکن نجانے آج نفس کو کیسی مُوت پڑی ہے۔ کہ چوالیس برس کا ساتھ بھی  اُسے میرا معاون نہیں بناپایا۔ اُور اُسکی  ذرا سی غفلت سے آج سارا بنا بنایا کھیل بگڑنے کو ہے۔۔۔۔ میں نے بے بسی سے ہانپتے ہُوئے آخری پتہ بھی یہ کہتے ہُوئے اُسکی جانب پھینک دِیاکہ،، چلو مانا کہ میری چادر بوسیدہ ہے۔ اُور میں یہ بھی مان لیتا ہُوں کہ،، ہُوسکتا ہے۔ مجھ میں حُبِ جاہ کا چور موجود ہے۔۔۔۔ لیکن تُم نے مجھے پَھٹا ہُوا ڈھول کیوں کہا۔۔۔؟؟؟

رُوح نے اپنی کاری ضرب کا اثر محسوس کرتے ہُوئے۔ فاتحانہ انداز میں کہا۔ جب انسان اپنی ذات میں پُوشیدہ اسرار سے نظریں چُرا کر ایک ایسی راہ کو اپنا لیتا ہے۔ جہاں اُسکو صرف اپنی خُوشی عزیز ہُوجاتی ہے۔ تب وُہ نہ اچھا بھائی بن پاتا ہے۔ نہ اچھا بیٹا بن سکتا ہے۔ نہ بیٹیوں کے حقوق اسکی نگاہ میں ہُوتے ہیں۔ نہ  بیٹے کی اچھی تربیت پیش نظر ہُوتی۔ نہ وُہ اچھا دُوست ہُوتا ہے۔ نہ ہی معاشرے میں ایک کارآمد فرد کی طرح رِہتا ہے۔۔۔۔ اِس لئے۔۔۔ وُہ اپنی۔ دُنیا میں آمد کے سبق سے بھی ناآشنا رہتا ہے۔۔۔۔ حتیٰ کہ جِس معرفت کی خاطر اُس نے اتنا طویل اور تھکا دینے والاسفر کیا تھا۔۔۔ وُہ مقصد بھی آہستہ آہستہ پس منظر میں دھندلا جاتا ہے۔۔۔۔۔ اِس طرح وُہ ایک ناکام مجرم بن جاتا ہے۔۔۔ صرف ناکام مجرم۔۔۔ اور ناکام مجرم کی مثال پھٹے ڈُھول کی طرح ہی تو ہُوتی ہے۔۔۔ دُور سے دیکھو  تو ۔۔۔ خُوب حجم گھیرے ہُوئے ایک گٹھری۔۔۔ جِسے ہر ایک للچائی نظر سے پانے کی کوشش کرتا ہے۔ لیکن جب کھول کر دیکھو۔۔۔ تب چند بوسیدہ چمڑے کے پارچوں میں ملفوف لکڑیوں کا ڈھانچہ برآمد ہُوتا ہے۔

اِسلئے میری نگاہ میں تمہاری مثال اُسی   شکستہ ڈُھول جیسی ہے۔۔۔۔۔  رُوح کی صدا بازگشت کی طرح میری سماعتوں سے ٹکرانے لگی۔۔۔ یکایک مجھے ایسا محسوس ہُونے لگا جیسے فضاٗ میں لاکھوں آنکھوں کا سمندر اُمنڈ آیا ہُو۔۔۔ اُور  وُہ تمام آنکھیں نگاہوں ہی  نگاہوں میں ایک دوسرے سے میری چغلی کرتے ہُوئے کہہ رہی ہُوں کہ،، یہی ہے وُہ ۔۔۔ ناکام مُجرم۔۔۔ ناکام مُجرم۔۔۔۔ناکام مُجرم۔۔۔


Sunday, 2 February 2014

عامل کامل ابو شامل اِن کراچی قسط 25.


گذشتہ سے پیوستہ
ابو شامل نے بتایا کہ وُہ،، جس دِن جہلم سے واپس لُوٹ رہا تھا۔ تب اُسکی نگاہ سڑک کے کنارے بس کا انتظار کرتی ایک لڑکی پر پڑی۔۔۔ جس کو لُوٹنے کیلئے چند منچلے نوجوان قریب ہی کھڑی ایک کار میں موجود تھے۔  اُس لڑکی کا چہرہ دیکھنے کے بعدمیرے دِل نے گوارا نہیں کیا۔ کہ،، میں اُسے سنسان سڑک پر لُٹنے کیلئے تنہاہ چھوڑ دُوں۔۔۔ اِس لئے میں بھی اُس لڑکی کے قریب بظاہر بس کے انتظار میں کھڑا ہُوگیا۔۔۔ جسکی وجہ سے وُہ لڑکے تو وہاں سےفرار ہُوگئے۔ لیکن میں نے اپنی ٹیلی پیتھی کے ذریعے سے معلوم کرلیا۔کہ وُہ لڑکی لاہور کی رہنی والی ہے۔ اُور اپنے گھر سے بھاگ کر جہلم اپنی سہیلی کے سسرال چلی آئی ہے۔۔اُسکی سہیلی نے اُسکی خاطر مدارت تو بُہت کی لیکن اپنے سسرالی رشتہ داروں کے ڈر سے اپنے گھر میں ٹہرنے کی اجازت نہیں دِی۔ جسکی وجہ سے اب وُہ کراچی کیلئے نِکل رہی تھی۔ اور کراچی جانے والی کوچ کا انتظار کررہی  تھی۔۔۔ میں نے اُسکے ذہن سے اُسکے گھر کا پتہ لگایا۔ اُور اُن تک رسائی حاصل کی۔ تب مجھے معلوم ہُوا۔کہ،، اُسے یتیم خانے سے لیکر پرورش کرنے والے اَب اِسکا سودا کسی عیاش انسان سے کرچُکے ہیں۔۔۔ اُور سارے لاہور میں اُسکی تلاش جاری ہے۔


اب مزید پڑھیئے۔

یہ  لڑکی چونکہ نرگس   سے بُہت مشابہ تھی۔ اسلئے میں نے فوری طور پر فیصلہ کیا کہ،، میں اِس لڑکی کی مدد ضرور کرونگا۔ اِس طرح ایک طرف اِس بے سہارا لڑکی کی مدد بھی ممکن تھی۔تو دوسری طرف اِس طرح میں تمہارے دِل سے نرگس کا غم بھی غلط کرنا چاہتا تھا۔ اگرچہ تمہیں پورا حق حاصل ہے کہ،، تم مجھے ایک دُھوکہ باز دُوست سمجھ سکتے ہُو۔ لیکن خُدا گواہ ہے۔ کہ،، اِس تمام معاملے میں میری نیت صاف تھی۔  بس مجھ سے ایک غلطی ضرورسرزد ہُوئی ہے۔ کہ لڑکی کو میں  نے اِس تمام  معاملے کیلئے رضامندکرنے کیلئےٹیلی پیتھی کا سہارا لیا۔جس کے بعد وُہ میری معمول بن کر اِس تمام معاملے کیلئے رضا مند ہُوتی چلی گئی۔جبکہ دوسرا کام یہ کیا کہ،، اُسے نرگس کی شکل میں تمہارے سامنے پیش کردیا۔ اور جہاں تک میری معلومات ہیں تُم بھی جاناں کو نرگس سمجھ کر قبول کرچکے ہُو۔

لیکن میں نرگس سے محبت کرتا ہُوں۔ اُور صرف نرگس ہی میری  جسمانی اُور رُوحانی تسکین کا سبب بن سکتی ہے۔اُسکی کلون مجھے قبول نہیں ہے۔  یہ بھی اچھا ہُوا کہ،، تم نے مجھ پر جاناں کی اصلیت ظاہر کردی۔ورنہ نجانے میں کب تک نرگس کے دھوکے میں اُس لڑکی میں نرگس تلاش کرتا رہتا۔ کامل علی نے خفگی کا اِظہار کرتے ہُوئے کہا۔

دیکھو کامل علی  یہ بات تم بھی جانتے ہُو۔ کہ،، نرگس تکلیف دَہ ہی سہی لیکن ایک شادی شدہ زندگی بسر کررہی ہے۔ اور اُس نے حالات سے سمجھوتا بھی کرلیا ہے۔ اُور تم نے اُس سے ملاقات کرکے دیکھ لیا ہے۔کہ ،، وُہ اب تمہاری خاطر اپنی ازدواجی زندگی کو  دَاوٗ پر لگانا نہیں چاہتی۔ اُور  میرا خیال ہےکہ،، کہ وُہ کم از کم بیوگی سے قبل تمہاری جانب دیکھنے کی بھی رَوادار نہیں ہُوگی۔ اِس لئے میرا کہنا مانو،، اُور جاناں سے نکاح کرلو۔ اُور جہاں تک نرگس کا تعلق ہے۔تو میں تم سے وعدہ کرتا ہُوں۔کہ،، جس دِن بھی کوئی ایسی رَاہ نکلی کہ،، نرگس کی واپسی کا اِمکان نظر آیا۔میں خود آگے بڑھ کر نرگس کو تُم تک پُہنچادُوں گا۔ اِس لئے عقلمندی کا تقاضہ یہی ہے کہ،، فی الحال میری راےٗ قبول کرلو۔ کیونکہ،، بُہت جلد حالات تبدئل ہُونے والے ہیں۔ گھنشام داس کے چیلے اتنی آسانی سے پیچھا نہیں چھوڑیں گے۔ وُہ حتی الامکان کوشش کریں گے۔کہ،، اپنے گُرو کے قتل کا بدلہ لیں۔ اُور اتنے چھوٹے علاقے میں ہم اپنی شناخت کو ذیادہ دِن چھپا کر رکھنے میں کامیاب نہیں ہُو سکیں گے۔ افلاطون نے کامل علی کے چہرے پر نظریں جماتے ہُوےٗ اپنی گفتگو ختم کی۔

گھنشام داس کے ذکر  سے کامل چہرے پر ناراضگی کے اثرات  خُوف کے سائے میں ڈھل گئے۔ تھوڑی دیر تکرار کے بعد وُہ افلاطون کی رائے سے مطمئین نظر آنے لگا۔ اُور بلاآخر کامل علی نے   ،، گھنشام داس کے چیلوں سے حفاظت ،، روزگار کا کوئی مستقل  زریعہ  آمدنی ،،  محفوظ رہائش  گاہ ،، کے بعد ایمانداری سے  نرگس کی حصول یابی ،، کی کوشش کے ساتھ چند مزید شرائط  پر افلاطون کی جانب سے حامی  کےبعد اپنی رضامندی ظاہر کردی۔


کامل علی کا نکاح دوسرے ہی دِن جاناں کے ساتھ محلے کے امام صاحب نے ایک سادہ سی تقریب میں پڑھا دیا۔ اور تیسرے دِن افلاطون کی پلاننگ کے پیش نظر یہ تینوں افراد  نقل مکانی کرکے کورنگی کراچی کے ایک خوبصورت بنگلو میں شفٹ ہُوچکے تھے۔ چند دِ ن گُزرنے کےبعد ایک رات کھانے سے فارغ ہُو کر  گلی میں واک کرتے ہُوئے کامِل علی نے افلاطُون کو مُخاطب کرتے ہُوئے کہا۔یا رافلاطون تُم نے کاروبار کے متعلق کیا سُوچا ہے۔؟ْ؟؟ابھی تو خیر ہم یہاں نئے نئے وَارد ہُوئے ہیں۔ اِس لئے اَڑوس پڑوس والوں نے ذیادہ دلچسپی کا مظاہرہ نہیں کیا۔لیکن جلد ہی لُوگوں کو ہمارے متعلق تجسس پیدا ہُونے کے امکان کو رَد نہیں کیا جاسکتا۔ اگر کسی نے ہمارے ذریعہ معاش کے متعلق دریافت کرلیا تُو ہم کیا جواب دیں گے۔؟؟؟ ویسے کل یہی سوال جاناں نے مجھ سے کیا تھا۔ وُہ مجھ سے تمہارے متعلق اور میری فیملی کے متعلق بھی معلوم کررہی تھی۔

ابوشامل نے جاناں کے سوال پر چونکتے ہُوئے کہا،، یار بزنس کا آئیڈیا تو مجھے بُہت زبردست سُوجھا ہے۔ اُور مجھے اُمید ہے کہ میرا یہ آئیڈیا تمہیں بھی بُہت پسند آئے گا۔ لیکن فی الحال تُم مجھے یہ بتاوٗ کہ جاناں کو تم نے کیا جواب دِیا۔۔۔ اُور کیا جاناں تمہارے جواب سے مطمئین بھی ہُوگئی تھی یا نہیں۔؟ اُور اگر تمہیں لگتا ہے کہ،، وُہ تمہارے جواب سے مطمئین بھی ہُوگئی تھی۔یامجھے مزید ٹیلی پیتھی کا سہارالینا پڑےگا؟؟؟

کامل علی نے افلاطون کے اتنے ڈھیرسارے سوالات اُور اُسکی پریشانی سے محظوظ ہُوتے ہوئے جواب دِیا۔ یار اِس زمانے نے مجھے بھی بُہت سے مکاری کے گر سِکھا دیئے ہیں۔اِس لئے میرے دُوست خود کو اِس فیلڈ میں تنہا نہ سمجھو۔ بطاہر افلاطون کامل علی کے تبصرےپر جھینپ سا گیا۔ لیکن فوراً سنجیدگی سے کامل علی سے جواب کیلئے استفسار کرنے لگا۔۔۔ جواب میں کامل علی نے بتایا کہ اُس نے جاناں کو اپنی فیملی کے متعلق سچ سچ بتادیا کہ،، اُسکا اِس بھری دُنیا میں کوئی نہیں ہے۔۔۔ جبکہ  افلاطون اُسکی دُور کی پھوپی کا بیٹا ہے ۔ جو پھوپی کے انتقال کے بعد اِس کے ہی ساتھ رِہتا ہے۔

کمینے انسان  تمہارا بھلے دُنیا میں کوئی نہیں ہو۔ لیکن میرے ماں باپ دُونوں ہی زِندہ ہیں۔ تُم نے جیتے جی میری ماں کو کیوں مار ڈالا۔  اگر میرے والد کو معلوم ہُوگیا کہ تُم نے جیتے جی اُنکی اکلوتی بیگم کو  تخیل میں مار ڈالا ہے۔ تو مجھے قوی اُمید ہے کہ،، وُہ تمہارے ساتھ میرا بھی خُون پی جائیں گے۔۔۔ بہرحال مجھے خُوشی ہے کہ،، تم نے  جاناں کو مطمئین کردیا ہے۔ اُور اب میں تمہیں بزنس کا وُہ آئیڈیا بتانے جارہا ہُوں۔۔۔ جِسے سُن کر تم بھی مجھے داد دیئے بنانہیں رِہ سکو گے۔۔۔۔ کامل علی نے تجسس سے  اپنے تمام جسم کو کان کی صورت بنالیا۔ لیکن افلاطون کا بزنس آئیڈیاسُن کر کامل علی کا دِماغ چکرا گیا۔۔۔۔۔کیونکہ افلاطون کا کہنا تھا کہ،، ہم خواہشیں بیچنے اُور خُوف خریدنے کا بزنس  شروع کریں گے۔

جاری ہے۔۔۔

اُسکا کہنا ہے۔ کِسی اُور کو دیکھوں نہ کبھی
کیوں کہ اُسکو یہ میرا رُوپ بُرا لگتا ہے۔

مجھکو ہر چہرے میں آتی ہے نظر اِک وُہ ہی
جُو نہ بھر پائے یہ بہروُپ بُرا لگتا ہے۔

Friday, 31 January 2014

سب سے بہترین وظیفه


یوں تو هر وظیفے کی اھمیت اپنی جگه ایک تسلیم شده حقیقت ھے . جسے هزاروں نہیں بلکه لاکھوں لوگوں نے اپنی اپنی ضرورت کے تحت گاهے بگاھے موقع کی مناسبت سے آزمایا اور انہیں مجرب پایا.

لیکن روز روشن کی طرح یه بھی ایک حقیقت ھے که،، کلمه طیبه کے بعد اگر خالق کائنات نے اپنی پسندیده مخلوق کی توجه کسی وظیفے کی جانب مبذول کروائی ھے... بلکه کسی وظیفے کی تاکید فرمائی ھے تو وه اپنے محبوب صلی الله علیه وسلم پر درود و سلام کی صورت میں قران مجید میں ارشاد فرمائی ھے.




لہذا میرے مشاهدے میں یہی بات آئی ھے که جن لوگوں نے بے غرض ھو کر رضاۓ مصطفی صلی الله  کی خاطر درود پاک کے وظیفے کو اپنی زندگی کا شعار بنالیا...

ان لوگوں کو اسکے بعد نه کسی دوسرے وظیفے کی حاجت باقی رھی نه کسی چلے اور مراقبه کی حاجت پیش آئی..

شائد اسی واسطے اللّه کریم نے اپنے مدنی محبوب صلی الله علیه وسلم کی امت کی محبت کی خاطر اور انکی کامیاب زندگی کے پیش نظر درود پاک پڑھنا مؤمنوں کیلی
ۓ لازم قرار دیا... که ایک طرف یه امت مرحومه کی مغفرت کا سامان پیدا کرتا رھے. تو دوسری جانب انہیں مشکلات میں آسان راسته بھی دکھاتا رهے۔

حضرت امام جعفر صادق رحمتہ اللہ علیہ ارشاد فرماتے ہیں کہ جو شخص یہ چاہے کہ مجھے مصیبت اور مشکلات سے آسانی نصیب ہو جائے تو اُسے چاہیے کہ کثرت کے ساتھ حضور علیہ الصلوۃ والسلام   آپ کے اہل بیت اور آپکی آل پر درود سلام بھیجے، انشا   ء اللہ عزوجل چند دنوں میں ہی غم خوشی سے اور مشکلات  آسانیوں سے تبدیل ہوجائینگی۔.