bing

Your SEO optimized title page contents

Pages

Hamara Tube Channel

Thursday, 1 January 2015

فیضان اسم اعظم٣ (جادو سے حِفاظت) مُشکلات سے نِجات




محترم قارئین السلامُ علیکم ۔

آج مسلمان دُنیا میں پریشان حال ہیں کوئی معاشی مسائل میں گرفتار ہے تو کوئی گھریلو مسائل کا شکار ہے کوئی بیمار ہے۔ تو کسی پہ قرض کا بار ہے اقوام عالم میں ہم جو کل تک حُکمرانی کا تاج پہنے ہوئے تھے آج اُنہی اقوام میں ہماری پستی اور کمزوری کا یہ حال ہے کہ (ایک اخباری رپورٹ کے مُطابق امریکہ میں) ہمارے لئے علیحدہ سے ایسی اسکرینگ مشین لگوائی جارہی ہیں جس سے گزرتے ہوئے ہم برہنہ دَکھائی دیں گے اور وجہ صاف ہے کل تک ہمیں جو تاجِ سُلطانی عطا ہوا تھا تو رَبّْ عزوجل کی فرمانبرداری کی وجہ سے اور آج جو ذلت ہمارا مُقدر ہوئی ہے تو فقط ہماری بڑھتی ہوئی نافرمانیوں کی وجہ سے۔ قُرآنِ مجید فُرقانِ حمید میں اللہ رَبُّ العالمین ارشاد فرماتا ہے۔

وَمَنۡ اَعۡرَضَ عَنۡ ذِكۡرِىۡ فَاِنَّ لَـهٗ مَعِيۡشَةً ضَنۡكًا

ترجمہ کنزالایمان سورہ طہ آیت نمر 
۱۲۴ 

اور جس نے میری یاد سے منہ پھیرا تو بیشک اس کے لیے تنگ زندگانی ہے

آئیے ہم سب مِل کو اللہ عزوجل کے ذکر کی ایسی دُھوم مچائیں کہ ہم سے ہمارا کریم رَبّ راضی ہوجائے

لا الہ الا انت سبحنک انی کنت من الظالمین)۔(سورہ انبیاء آیت نمبر۸) )

علامہ ابن جریر طبری (رحمۃ اللہ علیہ) نے اپنی مشہور زمانہ تفسیر میں حضرت سعد بن ابی وقاص سے روایت کی ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ جناب رسول اللہ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اِرشاد فرمایا

:”
اسم اللہ الاعظم الذی اذا دعی بہ اجاب و اذا سئل بہ اعظے دعوۃ یونس بن متّی”۔

ترجمہ:اللہ تعالیٰ کا وہ اسمِ اعظم کہ جب اس کے ساتھ دعا کی جائے تو وہ قبول فرمائے اور جب اس کے ذریعہ سے سوال کیا جائے تو وہ عطا فرمائے وہ حضرت یونس بن متّٰی علیہ السلام کی دعا ہے ۔

حضرت سعد بن ابی وقاص (رضی اللہ تعالیٰ عنہُ)اِرشاد فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کیا “یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم!یہ حضرت یونس علیہ السلام کے لئے ہی خاص تھی یا تمام مسلمانوں کے لئے عام ہے ؟”۔
آپ(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)نے اِرشاد فرمایا :” جسکا مفہوم ہے٬ یہ دُعا صرف حضرت یونس علیہ السلام کیلئے مخصوص نہیں بلکہ تمام مسلمانوں کے لئے عام ہے”۔

کیا تو نے قران نہیں پڑھا کہ 
فاستجبنا لہ ونجیناہ من الغم و کذلک ننجی المومنین

ترجمہ:ہم نے ان کی دعا قبول فرمائی ۔ اور ان کو غم سے چھڑایا اور اسی طرح ہم مومنوں کو چھڑاتے ہیں۔
پس جو بھی اس دعا کو پڑھے۔ اس سے اللہ تعالیٰ کا قبولیت کا وعدہ ہو چکا۔

علامہ ابن جریر (رحمۃ اللہ علیہ)اِرشاد فرماتے ہیں کہ اس دعا میں اسم اعظم ہے اور اس کے ذریعہ جو دعا کی جائے گی وہ قبول کی جائے گی اور جو خواہش ہوگی وہ پوری کی جائے گی۔

محترم قارئین جب کوئی مسلمان روحانی علاج کے سلسلے میں میرے پاس آتا ہے اور جب مجھے یہ بتاتا ہے کہ میں ہر جگہ علاج کی خاطر گیا ۔لیکن کوئی افاقہ نہیں ہوا۔۔۔ لوگوں نے خوب مجھ سے پیسے بٹورے۔۔۔ اور چکر لگوا لگوا کر پریشان الگ کیا۔۔۔ تو مجھے انتہائی دُکھ ہوتا ہے کہ کس طرح جعلی عامل حضرات لوگوں سے کھیل رہے ہیں۔ لیکن مجھے حیرت تب ہوتی ہے جب کسی اچھے خاصے پڑھے لکھے فرد کو سمجھانا مُشکل ہوجاتا ہے ۔کہ،، بھائی!  آپکے ساتھ کوئی روحانی مسئلہ سرے سے ہے ہی نہیں تو میں آپ کو مرض کیا بتاؤں۔۔؟ لیکن مجھ سے اسرار کیا جاتا ہے کہ آپ اچھی طرح سے پھر چیک کریں ۔۔۔جبکہ مجھے سمجھانا مُشکل ہو جاتا ہے ۔کہ،، بھائی آپ صرف آزمائش میں مبتلا ہیں۔۔۔ آپ اسم اعظم پڑھیں کہ احادیث مُبارکہ میں آیا ہے کہ اس کے پڑھنے سے بڑی سے بڑی مُصیبت ٹل جاتی ہے آپ بھی اِس اسم اعظم ( لا الٰہ الا انت سُبحنک انی کنتُ من الظلمین) کا ورد کریں۔ گھر پہ آیت کریمہ کا ورد کروائیں اپنے لئے خود بھی دُعا کریں مدرسے میں حُفاظ بچوں سے بھی ورد بھی کروائیں اور دُعا بھی۔ اور اپنے دوست احباب سے بھی دُعا کی استدعا کریں کہ ایک حدیث پاک کا مفہوم ہے کہ ایک مسلمان کی اسکے دوسرے مسلمان بھائی کی غیر موجودگی میں مانگی ہوئی دُعا رَد نہیں ہوتی خوب صدقہ اور خیرات کریں کہ صدقہ بھی رد ٔ بلا ہے۔ 

اور مجھے غصہ تب آتا ہے جب کوئی مسلمان یہ بتائے کہ میں تو ہندو جوگیوں یا جادوگروں سے بھی علاج کرواچُکا ہوں ۔۔۔تب اپنے غصے کو پی کر اُنہیں سمجھانا پڑتا ہے کہ بھائی قرآن مجید کے ہوتے ہوئے تمہیں کیا سوجھی کہ جوگیوں اور جادوگروں کے پاس جانے کی حاجت پیش آئی ۔۔۔کیا تم نے سیدنا موسیٰ علیہ السلام کا واقعہ نہیں پڑھا۔ 

کیا تم نے ہاروت ماروت کا واقعہ نہیں پڑھا۔۔۔؟ کیا تم نے خواجہ خواجگان معین الدین چشتی (رحمتہ اللہ علیہ) کا واقعہ نہیں سُنا۔۔۔؟ کہ،، کس طرح اُن کی جوتی نے زمانے کے سب سے بڑے جادوگر کا سر نیچا کیا تھا۔ کس طرح کوئی مسلمان۱۱۱ کسی جوگی یا جادوگر کے پاس استمداد کے لئے جاسکتا ہے۔ کہ جادو سیکھنا۔ جادو کرنا۔ جادو کروانا۔ جادو پر اعتقاد رکھنا سب حرام اور جہنم میں لیجانے والے کام ہیں اکثر سننے میں آیا ہے جادوگر اس طرح کے کُفریہ کلمات پڑھنے کے لئے دیتے ہیں کہ اُنکے پڑھنے سے کفر لازم آتا ہے حالانکہ پڑھنے والے کو خبر بھی نہیں ہوتی ۔ کیا ہمارے پاس قُرانِ مجید جیسی عظیم دولت موجود نہیں ؟ کیا ہمارے پیارے آقا مَدنی مُصطٰفےٰ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے قُرآنِ پاک کی تشریح ہمارے لئے نہیں فرمائی؟ کیا ہمیں نہیں بتایا گیا کہ دُعا مومن کا ہتھیار ہے ۔

(جادُو سے حِفاظت)
جو مُسلمان ہر نماز کے بعد یا کم از کم روزانہ کسی ایک نماز کے بعد سات مرتبہ اپنے سینے پر( یا مُمیت) پڑھ کر دَم کرے وہ ہمیشہ جادو سے محفوظ رہے گا۔ یہ عمل میرا آزمودہ بھی ہے۔

مُحترم قارئین کرام قُرآنِ مجید فُرقانِ حمید میں جہاں اِنسانوں کے لئے مُکمل ضابِطہ حیات ہے ۔وہیں یہ مومن کا زبردست ہتھیار بھی ہے ۔کیا آپ کو معلوم ہے ۔۔۔؟ کہ جیسے انسان شریر جنات اور شیاطین سے ڈرتا ہے۔۔۔۔ ویسے ہی شیاطین اور جنات بھی انسانوں بالخصوص مسلمانوں سے ڈرتے ہیں۔۔۔ کہ،، وہ جانتے ہیں کہ مسلمانوں کے پاس کلام الہی کی ڈھال بھی ہے۔۔۔ اُور دُو  دَھاری تلوار بھی ۔اور شیاطین اور خبیث جنات تب تک کسی مُسلمان پر حملہ نہیں کرتے۔ جب تک کہ ،،اُنہیں یہ یقین نہ ہوجائے۔ کہ،، سامنے والے کو نہ ہی اپنے ہتھیار کا علم ہے۔ اور نہ ہی چَلانے کا طریقہ معلوم ہے۔ میں آپ کو اپنا ایک واقعہ سُناتا ہوں۔ جو کہ ،، مُجھے اسلام آباد میں پیش آیا تھا۔ ہُوا  یُوں کہ جب میں پہلی مرتبہ ایک مذہبی جماعت  (دعوت اسلامی) کے ساتھ تبلیغ دین کی نیت سے ایک ماہ کے مدنی قافلے کی صورت میں اسلام آباد پہنچا ۔

یہ اُنیس سو چھیانوے کا واقعہ ہے۔تو میرا یہ معمول تھا کہ رات ۱۱ بجے اپنے امیر صاحب سے اجازت لیکر میرپورخاص کال کرنے کیلئے  مسجد سے روانہ ہُوجاتا اُور تقریباً رات ۱۲  بجے تک واپس مسجد میں لُوٹ  آتا۔۔۔ کال کرنے کیلئے مُجھے کافی دور جانا پڑتا تھا۔۔ اور درمیان میں کُچھ سُنسان علاقہ پڑتا تھا۔۔ اور ایک نالہ جو (شائد) نکاسی بارش کے لئے بنایا گیا تھا ۔ راستے میں پڑتا تھا۔۔۔ ایک دِن میں اور میرے ساتھ ایک بڑی عمر کے ساتھی حاجی نظام صاحب  جو قافلے میں ہمارے ساتھ ہی آئے ہوئے تھے ۔فون کال کر کے واپس آرہے تھے۔ کہ،، نالہ  قریب آنے سے قبل تیز آواز میں گانا گانے کی نِسوانی آواز ہمارے کانوں سے ٹکرائی۔۔۔ میرے ساتھی نے مجھ سے کہا۔ اقبال بھائی رات کے اس پہر کون اِس ویران جگہ پر گانا گا رہا ہے۔۔۔ حیرت مجھے بھی تھی کہ واقعی اتنی رات کو کون گانا گارہا ہوگا۔۔۔ لیکن ہم نے گانے سے دھیان ہٹا کر مسجد کی جانب پیش قدمی جاری رکھی۔۔۔


لیکن جب ہم اُس نالے کے قریب پُہنچے۔۔۔ تو میری حیرت کی اِنتہا نہ رہی۔ جب میں نے اُس نالے میں چند خَواتین کو رقص کرتے دیکھا ۔۔۔وہی خواتین رقص کیساتھ ساتھ گانا بھی گارہی تھیں اور سب سے زیادہ حیرت مجھے اس بات پر تھی کہ اُن کے قَد بیس فُٹ سے بھی زائد نظر آرہے تھے۔ مجھے اگرچہ اُن طویل قامت خواتین کو دیکھ کر کوئی خاص خُوف کا احسا س نہیں ہُوا تھا۔ لیکن میرے ساتھ جو اسلامی  بھائی تھے۔۔۔ وہ خُوف سے اُس وقت اپنی آواز کھوچُکے تھے اور بار بار میرے دامن کو کھینچ کر وہاں سے بھاگنے کا اِشارہ کر رہے تھے۔۔۔ میں نے اُن سے کہا آپ اپنے خُوف پر قابو رکھیں ۔۔۔ کیونکہ اگر اِنہیں ذرا بھی  اِس بات کا اِحساس ہوگیا ۔کہ،، ہم اِن سے ڈر رہے ہیں۔ تو پھر یہاں سے سلامت نِکلنا مُشکل ہوجائے گا ۔میں نے وہاں بُلند آواز سے یا غُوثِ اعظم دستگیر کا نعرہ بُلند کیا۔۔ اور فوراً ہی وہ مَخلوق ہمارے سامنے سے غائب ہوگئی۔ میرے اُن ساتھی کو تیز بُخار چَڑھ گیا۔ جو دوسرے یا تیسرے دِن تک  باقی رہا۔ اور آج بھی جب کبھی اُن سے مُلاقات ہوتی ہے۔ تو وہ اُس ذکر سے ہی کتراتے ہیں۔ میں نے جب واپس آنے کے بعد اپنے روحانی اُستاد سے اِس واقعہ کا تذکرہ کیا۔ تو اُنہوں نے مجھے بتایا کہ دراصل وہ قومِ جِنّات سے تھیں۔ اگر اُس وقت تم اُنکے قد دیکھ کر ڈر جاتے ۔۔۔تو وہ تُمہیں شکار کر لیتیں۔ لیکن تُمہاری بے خُوفی سے وہ خُوفزدہ ہوگئیں۔۔۔ بے شک اللہ عزوجل نے اِنسان کو اشرف المخلوقات بنایا ہے اور دوسری مخلوقات کو اپنا مُطیع بنانے کی صلاحیت صرف اِنسان کو بَخشی گئی ہے ۔۔لیکن اکثر اِنسان اپنے مرتبے سے بے خبر ہوتے ہیں۔

مُحترم قارئین حسب سابق آپ  بلاگ پر کمنٹس باکس کے ذریعے اپنے لئے اسم اعظم حاصل کرسکتے ہیں اور دیگر روحانی رہنمائی کے لئے فیس بک پر مجھے میسج بھی کرسکتے ہیں۔ اسم اعظم یا کسی بھی قسم کی رہنمائی کی کوئی دُنیاوی فِیس نہیں ہے۔۔ مُجھے فقط آپ سب کی دُعا درکار ہے باقی اللہ نے اپنے سوھنے محبوب (صلی اللہ علیہ وسلم)کے صدقے میں دُنیا کی ہر نعمت عطا کی ہے۔۔ الحمدُللہ عزوجل

فیس بُک ایڈریس نوٹ فرمالیں

http://www.facebook.com/ishratiqbal.warsi

اب آخر میں جادو اور اُس کی مذمت کا احوال قُرآنِ مجید سے پڑھتے ہیں

اور اس کے پیرو ہوئے جو شیطان پڑھا کرتے تھے سلطنتِ سلیمان کے زمانہ میں (
۰) اور سلیمان نے کفر نہ کیا (الف) ہاں شیطان کافر ہوئے (ب)لوگوں کو جادو سکھاتے ہیں اور وہ (جادو) جو بابل میں دو فرشتوں ہاروت اور ماروت پر اترا اور وہ دونوں کسی کو کچھ نہ سکھاتے جب تک یہ نہ کہہ لیتے کہ ہم تو نری آزمائش ہیں تو اپنا ایمان نہ کھو (ج) تو ان سے سیکھتے وہ جس سے جدائی ڈالیں مرد اور اس کی عورت میں اور اس سے ضرر نہیں پہنچا سکتے کسی کو مگر خدا کے حکم سے (د) اور وہ سیکھتے ہیں جو انہیں نقصان دے گا نفع نہ دے گا اور بیشک ضرور انہیں معلوم ہے کہ جس نے یہ سودا لیا آخرت میں اس کا کچھ حصہ نہیں اور بیشک کیا بری چیز ہے وہ جس کے بدلے انہوں نے اپنی جانیں بیچیں کسی طرح انہیں علم ہوتا 
سورہ البقرہ آیت نمبر102

شان نُزول : حضرت سلیمان علیہ السلام کے زمانہ میں بنی اسرائیل جادو سیکھنے میں مشغول ہوئے تو آپ نے ان کو اس سے روکا اور ان کی کتابیں لے کر اپنی کرسی کے نیچے دفن کردیں۔ حضرت سلیمان علیہ السلام کی وفات کے بعد شیاطین نے وہ کتابیں نکلوا کر لوگوں سے کہا کہ سلیمان علیہ السلام اسی کے زور سے سلطنت کرتے تھے بنی اسرائیل کے صلحاء و علماء نے تو اس کا انکار کیا لیکن ان کے جہال جادو کو حضرت سلیمان علیہ السلام کا علم بتاکر اس کے سیکھنے پر ٹوٹ پڑے ۔ انبیاء کی کتابیں چھوڑ دیں اور حضرت سلیمان علیہ السلام پر ملامت شروع کی سید عالم صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ تک اسی حال پر رہے اللہ تعالیٰ نے حضور(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر حضرت سلیمان علیہ السلام کی برا ت میں یہ آیت نازل فرمائی۔

(الف)
کیونکہ وہ نبی ہیں اور انبیاء کفر سے قطعاً معصوم ہوتے ہیں ان کی طرف سحر کی نسبت باطل وغلط ہے کیونکہ سحر کا کفریات سے خالی ہونا نادر ہے۔

(ب)
جنہوں نے حضرت سلیمان علیہ السلام پر جادوگری کی جھوٹی تہمت لگائی۔

(ج)
یعنی جادو سیکھ کر اور اس پر عمل و اعتقاد کر کے اور اس کو مباح جان کر کافر نہ بن یہ جادو فرماں بردار و نافرمان کے درمیان امتیاز و آزمائش کے لئے نازل ہوا جو اس کو سیکھ کر اس پر عمل کرے کافر ہوجائے گا بشرطیکہ اس جادو میں منافی ایمان کلمات و افعال ہوں جو اس سے بچے نہ سیکھے یا سیکھے اور اس پر عمل نہ کرے اور اس کے کفریات کا معتقد نہ ہو وہ مومن رہے گا یہی امام ابومنصور ما تریدی کا قول ہے مسئلہ جو سحر کفر ہے اس کا عامل اگر مرد ہو قتل کردیا جائے گا مسئلہ: جو سحر کفر نہیں مگر اس سے جانیں ہلاک کی جاتی ہیں اس کا عامل قطاَّع طریق کے حکم میں ہے مردہو یا عورت 

مسئلہ :جادوگر کی توبہ قبول ہے (مدارک)

(د)
مسئلہ : اس سے معلوم ہوا مؤثر حقیقی اللہ تعالیٰ ہے اور تاثیر اسباب تحت مشیت ہے۔


Friday, 26 September 2014

میں دُنیا کو بدل سکتا ھُوں۔

اسکول تقریر 


معزز  حاضرین، اساتذہ کرام،  اُور جناب صدر اَلسلامُ علیکم

خُودی کو کر بُلند اِتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے
خُدا بندے سے خُود پُوچھے بتا تیری رضا  کیاہے

جنابِ صدر میری آج کی تقریر کا موضوع ہے ،، میں دُنیا کو بدل سکتا ھُوں،،
جناب صدر  اگرچہ میری عمر کے لحاظ سے  میری تقریر کا یہ عنوان کہ،، میں دُنیا کو بدل سکتا ھُوں،، بُہت عجیب سا مِحسوس ہُورَہا ہُوگا۔ لیکن میں اپنی تقریر میں دلائل کیساتھ یہ  بات ثابت کرنے کی کوشش کرونگا۔ کہ جب کوئی انسان اپنی ذات میں  اللہ کریم کی مدد سےاچھے خصائل پیدا کرنے میں کامیاب ہُوجاتا ہے اُور دلجمعی کیساتھ اپنے اِرادوں کی تکمیل کیلئے ہر لمحہ کوشاں رِہتا ہے ۔ تو  وُہ دراصل دُنیا کیلئے ایک آئیڈیل کی صورت اختیار کرتا چلا جاتا ہے جسکی   پاکستان میں دُو مثالیں ماضی قریب میں ارفع کریم اُور حال ہی میں ملالہ یوسف زئی کی صورت میں موجود ہیں۔

جنابِ صدر ۔۔۔۔۔۔ اِس وقت دُنیا  کے ہر گوشے میں  ایک عجیب بے چینی کا راج مسلط ہے ۔ جسکی وجہ سے دُنیا  ظُلمت ، معاشرتی تفریق، اُور  بدحالی کا شکار ہُوتی چلی جارہی ہے۔  کچھ اقواموں نے  اگرچہ معاشرتی طور پر تو خُود کو مستحکم کرلیا ہے۔ لیکن  خُوشحالی کے ثمرات کو صرف خُود تک محدود رَکھے ہُوئے ہیں ۔ شائد یہی وجہ ہے ۔کہ معاشرتی ترقی کے باوجود بھی اُن میں سے اکثریت ایسی اقوام کی ہیں۔ جُنکے قُلوب رُوحانی خوشی سے خالی ہیں۔

جناب صدر ۔۔۔۔۔دُنیا میں تبدیلی کیلئے ہمیشہ انقلابات آتے رہے ہیں۔ اُور اِن انقلاب کے بعد یقیناّ  فلاحی ریاستوں کا تصور  بھی اُبھر کر سامنے آتا رَہا ہے۔ لیکن یہ بھی حقیققت ہے۔کہ اِن انقلابات کے بعد یہ تبدئلیاں انسانوں کی خُود غرضیوں  کی نذر ہُوتی رہی ہیں۔  اللہ کریم کی مشیت بھی یہی ہے کہ انسان  اللہ کریم کی معرفت حاصل کرکے  اپنی نیابت کے احساس کو ذِمہ داری سے پہچان کر ۔زمانے کے چیلنجز کا مقابلہ پامردی سے کرتا رہے۔ اُور لوگ ایک دوسرے کیلئے آسانیاں پیدا کرتے رہیں ۔

جناب صدر۔۔۔۔۔۔ دُنیا کو بدلنے کیلئے تین اشیاٗ کی اہمیت سے کوئی ذی شعور انکار نہیں کرسکتا۔ 
نمبر ۱ سچائی۔
نمبر ۲ انصاف
نمبر ۳ علم

جناب صدر دُنیا کی وُہ قومیں جنہوں نے اِن تین اُصولوں کی پاسداری کی ہے ۔ اُنکا مقام دُنیا کی دیگر اقوام میں ایسا ہی ہے۔ جیسا کہ  ایک بادشاہ کا مقام اپنی رعایا میں ہُوتا ہے۔۔۔۔ جناب والا۔۔۔۔  جیسا کہ ہر ذی شعور انسان جانتا ہے۔کہ دُنیا میں تبدئلیاں  لانے والوں لوگوں میں سب سے اُونچا مقام انبیاٗ کرام علیم السلام کا رَہا ہے ۔ اُور تمام انبئیا کرام علیم السلام ہمیشہ سچائی، انصاف، اُور علم کے سب سے بڑے علمبردار رہے ہیں۔ یہاں تک کہ  صرف  اُنکے اپنے ہی نہیں بلکہ اُنکے بدترین دُشمنوں کی زُبانوں پر برملا یہ جملہ آجاتا۔ کہ،، ہمیں آپکی صداقت ، دیانت، اُور علم پر کوئی شُبہ نہیں۔۔۔

جناب والا  سچائی انسان کو  صرف باہر سے ہی نہیں تراشتی بلکہ سچائی انسان کو اندر سے بھی بہادر بنادیتی ہے۔ اور یہ سچائی  کا ہی معجزہ ہے۔ کہ ایک نہ ایک دن یہی سچائی انسان کو ہر دُوسرے انسان کیلئے قابل تقلید کی راہ دِکھاتی ہے۔۔۔۔ اور جب معاشرے میں انصاف کا چلن عام ہُوجاتا ہے۔ تو ایک غریب گڈریا بھی اِس قدر طاقتور ہُوجاتا ہے۔ کہ وُہ اُس شخص کے بھی  کُرتے کا اِحتساب کرلیتا ہے جنکے نام سے رُومن امپائر تھرا جاتی ہے قیصر و کسری بھی جنکی ہیبت سے تھرتھراتے ہیں۔

اُور جناب والا یہ علم کی معراج ہے کہ نبیوں کے سالار، دُو جہاں کے تاجدار کی جانب پہلی وحی اِسی علم کے متعلق بھیجی جاتی ہے۔ اللہ کریم نے جہاں جہاں علم و حکمت میں غور و فکر کی دعوت دی ہے۔ تب تب اہل علم و دانش کو خاص طور پر مخاطب فرمایا ہے۔ اُور رسولِ کریم نے علم کی دعوت دیتے ہُوئے  اُسکی اہمیت اس طرح جتائی کہ،، علم حاصل کرو ماں کی گُود سے زندگی کی آخری شام تک۔۔۔۔ جبکہ دوسری جگہ اِرشاد فرمایا۔کہ علم حاصل کرو چاہے تمہیں چین ہی کیوں نہ جانا پڑے۔۔۔

جناب والا   اسلئے صرف میں ہی نہیں یہاں موجود  ہر ایک بچہ دُنیا کو علم کی رُوشنائی سے ظلمت کدوں سے نکال سکتا ہے۔  بس ہمیں   اسکے لئے علم کی شمع سے شمع جلاتے جانا ہے۔ سچائی اُور انصاف کے دامن کو اپنے ہاتھ سے جانے نہیں دینا ہے۔ اور اِس علم کے سفر میں صرف مردوں کی اجارہ داری قائم نہیں کرنی خواتین کو بھی شامل کرنا ہے ۔کیونکہ علم حاصل کرنا  صرف مَرد وں پر ہی فرض نہیں۔ ہر عورت پر بھی فرض  ہے ۔کیونکہ ہر مرد کی تربیت  بھی سب سے پہلے ایک عورت ہی کرتی ہے۔۔۔  شائد اِسی لئے نپولین بُونا پارٹ نے اپنی قُوم سے مُخاطب ہُوتے ہُوئے کہا تھا۔۔۔۔ کہ،، تُم مجھے پڑھی لکھی مائیں دُو۔ میں اسکے بدلے میں تمہیں ایک بہترین معاشرہ دُونگا۔۔۔۔

میرے ہاتھ میں قلم ہے میرے ذِہن میں اُجالا
مجھے کیا دَبا سکے گا ۔۔۔۔۔۔۔۔کوئی ظُلمتوں کا پالا   

Wednesday, 21 May 2014

تذکرہ جنات۔ محبت ،ہَوس اُور علاج ۔


اللہ کریم نے اپنی عبادت  کے واسطے انسان و جنات کو پیدا فرمایا: القران ۔اُور اپنے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم کا چرچا بُلند فرمانے کیلئے بَزم کائنات کو سجایا۔ (مفہوم : حدیث لولاک)جس طرح سیدنا آدم علیہ السلام کو ابو البشر کہا جاتا ہے۔کہ ،، آپ تمام انسانوں کے باپ ہیں۔ اِسی طرح شیطانِ لعین کو ابو الجن کہا جاتا ہے۔ جن کے لغوی معنی ہیں،، نظر نہ آنے والا،، جنات اُور فرشتوں کی ظاہری تخلیق اِنسانوں سے پہلے کی گئی۔ جسکا جواز یہ ہے کہ،، فرشتوں اُور شیطان کو سیدنا آدم علیہ السلام کو سجدہ کرنے کا حُکم مِلا ۔ تو معلوم ہُوا ۔کہ ،، فرشتے اُور جنات پہلے سے موجود تھے۔ اُور آدم علیہ السلام کی یعنی انسانوں کی تخلیق کا مرحلہ بعد میں پیش آیا۔بعض علما کرام کی روایت کیمطابق جنات کی پیدائش کا عمل سیدنا آدم صفی اللہ سے دُو ہزار برس قبل  پہلے وجود میں آیا۔۔۔ جبکہ سیدی اعلحضرت اِمام احمد رضا علیہ الرحمہ کی تحقیق کے مطابق اہرام مصر کو جنات نے سیدنا آدم علیہ السلام کی تخلیق سے قبل تعمیر کرلیا تھا۔ لیکن یہ بات بھی یاد رکھنے کے قابل ہے ۔کہ،، یہ سبقت صرف ظاہری جسم پر ہے۔ وگرنہ مسلمانوں کا اجماع اِس بات پر ہے۔ کہ ،، اللہ کریم نے سب سے پہلے اپنے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم کو تخلیق فرمایا۔  اُور سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی خاطر ہی  یہ بزمِ کائنات سجائی گئی ہے۔


قران مجید میں انسان کو مٹی سے اُور جنات کو آگ سے تخلیق کئے جانے کا تذکرہ مِلتا ہے۔ اُور صحیح مسلم شریف کی ایک حدیث کے مضمون کے مطابق حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ حضور پاک، صاحب لولاک ﷺ نے فرمایاکہ،، اللہ کریم نے فرشتوں کو نور سے، جنات کو آگ کے شعلہ سے اور سیدنا آدم علیہ السلام کو مٹی سے پیدا کیا گیا ہے۔ (صحیح مسلم )۔


چونکہ جنات کو اُنکی خواہش کیمطابق اللہ کریم نے انسانی آنکھوں سے مخفی رکھا ہے۔ اسلئے ہمیں جنات ظاہری آنکھوں سے نظر نہیں آتے۔ اِسکے علاوہ عُلماٗ کرام فرماتے ہیں۔کہ،، انسانی آنکھ کے اُوپر ایک ایسا پردہ ہمہ وقت تنا رِہتا ہے۔ جو انسانوں کی نِگاہوں سے دوسری مخلوقات کو پُوشیدہ رکھتا ہے۔ لیکن اگر یہ پردہ ہٹ جائے ۔ تو انسان جنات اُور دوسری مخلوقات کو اِنہی آنکھوں سے دیکھ سکتا ہے۔۔۔۔ چونکہ جنات ہم انسانوں کو نظر نہیں آتے۔ اسلئے بعض لُوگ جنات کے وجود کا انکار کردیتے ہیں۔ لیکن یاد رکھیئے۔کہ،، بطور مسلمان ہمارا جنات اُور اُن تمام مخلوقات پر ایمان لانا۔ جنکا تذکرہ قرانِ مجید میں یا اَحادیث طیبہ میں آیا ہے۔۔۔ ہمارے دین کا لازمی جزو ہے۔ اسلئے جب کوئی شخص جنات ،فرشتوں، حُوروں، جنت، یا دوزخ   میں کسی ایک بھی شئے کا اِنکار کرتا ہے۔ تو درحقیقت وُہ قران مجید کی آیات کا اِنکار کررہا ہُوتا ہے۔ جسکی وجہ سے  اُسکاایمان ضائع ہُوجاتا ہے۔ لِہذا بطور مسلم ہم پر لازم ہے کہ،، چاہے ہماری آنکھیں  اِن مخلوقات کا اِدراک نہ کرپائیں۔ یا  ہماری محدود عقل میں وُہ بات نہ سَما پائے۔ ہمیں ہر اُس بات پر ایمان لانا ہے۔ جسکا تذکرہ رَب فرمائے یا اُسکا مدنی محبوب صلی اللہ علیہ وسلم بتائے۔


اَحادیث طیبہ کی روشنی میں ہمیں معلوم ہُوتا ہے۔ کہ جب ایک انسان دُنیا میں پیدا ہُوتا ہے۔ تو اُسکے ساتھ (۹) جنات بھی دُنیا میں پیدا ہُوتے ہیں۔  جِس سے ایک بات صاف ظاہر ہے۔کہ،، جناتوں کو انسانوں کے مقابلے میں نو گُنا برتری حاصل ہے۔ لیکن اگر غور کیا جائے تو یہ تعداد (۹) گُنا سے کہیں ذیادہ ہُوگی۔۔۔ کیونکہ انسانوں کی اُوسط عُمر فی زمانہ ساٹھ برس ہے۔ جبکہ بعض جنات کی عُمر ہزار برس سے بھی تجاوز کرجاتی ہے۔ اسلئے جب انسان اپنی طبعی عُمر مکمل کرنے کے بعد انتقال کرجاتا ہے۔ تب بھی جنات کی نشو نما کا عمل جاری رِہتا ہے۔ جسکی وجہ سے اِنکی کثرت میں اضافہ ہُوتا رِہتا ہے۔

 نبی کریم روٗف  الرحیم صلی اللہ علیہ وسلم  کے ارشادات کی روشنی میں جنات کی خوراک میں ہڈی اور لید کے علاوہ جس کھانے پر بسم اللہ نہ پڑھی جائے۔ اُور  لوبیا (نامی سبزی)  بھی جنات کی غذائیں ہیں۔ اسلئے کریم آقا صلی اللہ علیہ وسلم نے ہڈی اُور لید سے استنجا کرنے کی  یہ کہہ کرممانعت فرمائی ہے۔ کہ،، یہ تُمہارے (جن) بھائیوں کی غذا کے ذرائع ہیں۔۔۔ مفہومِ حدیث

جنات کہاں بسیرا کرتے ہیں۔؟

امام جلال الدین السیوطی لکھتے ہیں کہ جنات اکثر و بیشتر نجاست کی جگہوں پر ہوتے ہیں مثلاً کھجوروں کا جھنڈ ، بیت الخلاء، کچرے کے ڈھیر اور غسل خانوں میں رہتے ہیں (شیطان جن) (لقط المرجان فی احکام الجان ، مساکن الجن، ص 68)۔ اس کے علاوہ جنات ٹیلوں ، وادیوں ، بلوں(سوراخوں ) ویرانوں میں ، اور انسانوں کے ساتھ اُنکے مکانوں میں بھی رہتے ہیں ۔ چکنائی والے کپڑے اور جھاڑیوں میں بھی  جنات رہتے ۔


انسانوں کی طرح جنات میں بھی مذاہب ہُوتے ہیں۔ فرقے ہُوتے ہیں۔اِن میں بھی محبت ، اُور نفرت کے جذبات پائے جاتے ہیں۔ حسد، رقابت، شہرت کی خاہش، جھوٹ اُور چغلی جیسے امراض  اِن میں بھی پائے جاتے ہیں۔۔۔ یہ آپس کی محبت و نفرت کے علاوہ اِنسانوں سے بھی بغض، محبت یا نفرت کرتے ہیں۔ عموماً مسلمانوں کی چھتوں پر مسلمان جن رہتے ہیں۔ جبکہ کُفار و بدمذہبوں کے گھر میں کافر و بد مذہب جنات رِہتے ہیں۔۔۔

لیکن اگر مسلمانون کے گھر میں فحاشی ہُو۔ یا اللہ کریم کا قطعی ذکر نہ کیا جائے ۔ تو یہ مسلمان جنات اُس گھر سے کُوچ کرجاتے ہیں۔ اُور اِنکے نہ ہُونے سے کافر جن اُن گھروں پر قبضہ جمالیتے ہیں۔ اُور اہل خانہ کیلئے پریشانی کا سبب بن جاتے ہیں۔ اِس بات سے یہ بھی معلوم ہُوتا ہے۔کہ مسلمان گھروں میں مسلمان جِنوں کی موجودگی فائدہ مند ہُوتی ہے۔کہ،، اِس طرح کم از کم شیاطین جنات اُن گھروں پر دھاوا نہیں بُولتے۔۔۔جسطرح انسانوں کو پریوں  کے تذکرےسے اُنسیت محسوس ہُوتی ہے۔ اِسی طرح جنات کو بھی بعض انسانوں سے خُوامخواہ کی محبت ہُوجاتی ہے۔ ۔۔ لیکن جسطرح انسانوں کو جنات کے تذکرے سےہی  ڈر محسوس ہُونے لگتا ہے۔ بالکل اِسی طرح جنات کو بھی انسانوں سے ڈر محسوس ہُوتا ہے۔ اِن کی حتی الامکان کوشش یہی ہُوتی ہے۔ کہ،، انسان اِنکی موجودگی کو محسوس نہ کرسکے۔۔۔۔ لیکن حد سے ذیادہ قربت کی وجہ سے انسانوں کی چھٹی حس اُنہیں اِنکی موجودگی سے با خبر کردیتی ہے۔۔۔

بعض مرتبہ یہ انسانوں کو اغوا بھی کرلیتے ہیں۔ کتب تواریخ ایسے ہزاروں واقعات سے بھری پڑی ہے۔۔۔ بعض اُوقات یہ انسانوں سے  جنسی تسکین حاصِل کرنے کیلئے فزیکل ریلیشن شپ قائم کرلیتے ہیں۔۔۔۔ لیکن میری ناقص معلومات کے مطابق اللہ کریم نے انسانون کو جنوں پر ایک فوقیت یہ بھی دِی ہے۔کہ،، جنات،،  انسانی عورت کو حاملہ نہیں کرسکتے۔ ورنہ آج دُنیا کا ایک الگ نقشہ سامنے ہُوتا۔ اُور ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں بچیاں کنوار پن کے باوجود ماں بن جاتیں۔۔۔ جبکہ انسانی مرد کا تعلق اگر کسی جنی سے قائم ہُوجائے تو وُہ جنی انسان سے ملنے کی وجہ سے حاملہ ہُوسکتی ہے۔۔۔ بعض اُوقات یہ جنات  انسانوں کو اُنکے بستروں سے اُٹھا کر اپنی دُنیا میں لیجاتے ہیں۔ اُور صبح نمودار ہُونے سے پیشتر اُنہیں اُنکے بستر پر چھوڑ جاتے ہیں۔۔۔ اغوا ہُونے والے مرد وں یا عورتوں میں سے بُہت کم تعداد کو رات کے مناظر ذہن میں یاد ہُوتے ہیں۔۔۔لیکن چُونکہ صبح اُنکی آنکھ اپنے بستر پر ہی کھلتی ہے۔۔۔ اِس لئے اُنہیں یقین ہی نہیں آتا کہ،، رات وُہ کسی اُور دُنیا میں موجود تھے۔ اسلئے وُہ اِس تمام واقعہ کو ایک خُوشنما خواب سے ذیادہ اہمیت نہیں دیتے۔۔۔ لیکن بار  بار  اِسطرح کے  خوابوں سے اُنکا بھانڈا پُھوٹنے کا خدشہ رِہتا ہے۔ اِس لئے اکثر لوگوں کے ذہن سے اِن تمام واقعات کو محو کردیا جاتا ہے۔

میں ایسے بُہت سے لوگوں کو جانتا ہُوں۔ کہ،، جنکے ساتھ جنات نے فزیکل ریلیشن قائم کر رکھا تھا۔۔۔ وُہ سبھی لُوگ میرے پاس روحانی علاج کیلئے تشریف لائے تھے۔ اُور تمام معاملے سے باخبر تھے۔۔۔ اِن میں مرد بھی تھے اُور خواتین بھی۔ سب کے ساتھ ایک مسئلہ،، کامن ،،تھا۔۔۔ کہ،، جنسی تعلق کی ذیادتی کی وجہ سے اب اُنکی پنڈلیوں اُور کمر میں شدید دَرد رہنے لگا تھا۔۔۔۔ اُور آپکو سُن کر شائد حیرت ہُو،، کہ اُن میں کچھ مَرد و خواتین ایسے بھی تھے۔ جو اِس تکلیف سے تو نجات حاصل کرنا چاہتے تھے۔ لیکن وُہ یہ نہیں چاہتے تھے۔ کہ،، وُہ جِن یا جنی اُنہیں چھوڑ کر چلی جائے۔۔۔ اُنکی خاہش تھی۔کہ،، آپ صرف اِس دَرد کا مداوا کردیں۔۔۔ لیکن ایسا کوئی رُوحانی علاج نہ کریں۔کہ،، جسکی وجہ سے وُہ جنات ہم سے خفا ہُوجائیں۔ جب میں نے اُن احباب سے اِسکی وجہ جاننے کی کوشش کی تو کچھ عجیب و غریب صورتحال سامنے آئی۔ کچھ لُوگوں کو اِس تمام معاملے میں لُطف محسوس ہُونے لگا تھا۔ کہ ،، جنات رُوپ بدل بدل کر اِنکی سفلی خواہشات کی تکمیل کا سبب  بن رہے تھے۔۔۔ جبکہ کچھ لُوگوں کو خزانوں، اُور دفینوں کا لالچ دِیا گیا تھا۔۔۔ جبکہ ایک خاتون نے مجھے یہ کہا۔کہ،، وُہ مجھے ایسی باتوں کا علم دیتا ہے۔۔۔ جسکی وجہ سے علاقے میں مجھے نمایاں اہمیت حاصل ہے۔۔۔

میں نے اُن لوگوں کو لاکھ سمجھایا کہ،، یہ مِلاپ آپکی زندگی کو تباہ کردے گا۔۔۔  آپکی ہڈیوں کا رس نِکال دے گا۔۔۔ اُور تمام جسم کو کھوکھلا  کردے گا۔کیونکہ جنات کا عنصر آگ ہے۔ جبکہ انسان ہَوا، پانی اُور مٹی کا مرکب ہے۔ اسلئے یہ مِلاپ کسی بھی طرح انسانوں کے حق میں بہتر نہیں ہے۔ اور شریعت مطہرہ میں بھی انسان اُور جنات کا نہ اِسطرح  مِلن جائز ہے۔۔۔ اُور نہ ہی نِکاح جائز ہے۔ لیکن اُن میں سے اکثریت نے میری بات نہیں مانی۔ اور جب اُن میں سے چند لوگوں نے ایک عرصہ بعد مجھ سے رابطہ کیا۔۔۔ تب تک بُہت دیر ہُوچکی تھی۔ اُور علاج کا وقت گُزر چکا تھا۔

یہ بھی ضروری نہیں ہے۔کہ تمام جنات انسانوں سے فزیکل ریلیشن شپ قائم کرنے کیلئے ہی محبت کرتے ہیں۔۔۔ اِن میں بعض نیک النفس بھی ہُوتے ہیں۔ جو کسی قسم کا جنسی تعلق تو قائم نہیں رکھتے۔۔۔ لیکن جس طرح ایک تنہا عورت اُور مرد کا تنہائی میں مِلنا بُرائی کا موجب ضرور ٹہرتا ہے۔۔۔ اِسی طرح یہ پاک محبت بھی ایک نہ ایک دِن ہُوس کا شکار ہُوکر رہتی ہے۔ نتیجتاً اُسکے بعد اِن خواتین و مرد حضرات کو بھی ایک نہ ایک دِن اُسی تکلیف کا سامنا کرنا پڑجاتا ہے۔

جنات کی اقسام
علامہ بدرالدین محمد دین احمد عینی بخاری شریف کی شہرہ آفاق شرح عمدة القاری میں جنات کی چند اقسام تحریر کرتے ہیں۔ (۱) غول: یہ سب سے خطرناک اور خبیث جن ہے جو کسی سے مانوس نہیں ہوتا ۔ جنگلات میں رہتا ہے مختلف شکلیں بدلتا رہتا ہے اور رات کے وقت دکھائی دیتا ہے اور تنہا سفر کرنے والے مسافر کو عموماً دکھائی دیتا ہے جو اسے اپنے جیسا انسان سمجھ بیٹھتا ہے، یہ اس مسافر کو راستے سے بھٹکاتا ہے ۔(۲)سعلاة: یہ بھی جنگلوں میں رہتا ہے جب کسی انسان کو دیکھتا ہے تو اس کے سامنے ناچنا شروع کردیتا ہے اور اس چوہے بلی کا کھیل کھیلتا ہے ۔ (۳) غدار: یہ مصر کے اطراف اور یمن میں بھی پایا جاتا ہے اسے دیکھتے ہی انسان بے ہوش ہو کر گر جاتاہے ۔ (۴) ولھان: یہ ویران سمندری جزیروں میں رہتا ہے اس کی شکل ایسی ہے جیسے انسان شتر مرغ پر سوار ہوتا ہے جو انسان جزیروں میں جا پڑتے ہیں انہیں کھا لیتا ہے۔ (۵) مشق: یہ انسان کے آدھے قد کے برابر ہوتا ہے ، دیکھنے والے اسے بن مانس سمجھتے ہیں ۔ سفر میں ظاہر ہوتا ہے ۔ (۶) بعض جنات انسانوں سے مانوس ہوتے ہیں اور انہیں تکلیف نہیں پہنچاتے ہیں ۔(۷) بعض جنات کنواری لڑکیوں کو اٹھالے جاتے ہیں۔ (۸) بعض کتے کی شکل کے ہوتے ہیں ۔ (۹) بعض چھپکلی کی شکل میں ہوتے ہیں۔ (عمدة القاری ، ج 10، ص 644/جنات کی حکایات ص 10)

جنات کی شکل
جنات کو اللہ عزوجل نے یہ ادراک دیا ہے کہ وہ انسانوں کو دیکھ سکے لیکن انسانوں کو یہ کمال نہیں ملا کہ وہ جنات کو دیکھ پائے ہاں جنات اگر کسی اور شکل میں ظاہر ہو تو پھر اسے دیکھا جاسکتا ہے ۔ امام شافعی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ جو عادل شخص یہ گمان کرے کہ اس نے جن کی دیکھا ہے (اصل شکل میں ) تو میں اس کی گواہی کو باطل قرار دیتا ہوں۔
علامہ بدرالدین شبلی حنفی رحمہ اللہ لکھتے ہیں کہ بلاشبہ جنات انسانوں اور جانوروں کی شکل اختیار کرلیتے ہیں چنانچہ وہ سانپوں ، بچھووں ، اونٹوں ، بیلوں ، گھوڑوں ، بکریوں ، خچروں ، گدھوں اور پرندوں کی شکلوں میں بدلتے رہتے ہیں۔ ( اکام المرجان فی احکام الجان،ص 21)
علامہ فخرالدین رازی رحمہ اللہ لکھتے ہیں کہ بلاشبہ جنات بھی انسانوں کی طرح شریعت کے مکلف ہیں۔ ۔تفسیر الکبیر، ج10، ص 625
اسی طرح علمائے کرم تحریر کرتے ہیں کہ جنات ہر چیز میں نبیﷺ کی شریعت کے مکلف ہیں۔ اخبار وآثار میں وارد ہے کہ مومنین جنات نماز پڑھتے ہیں ، روزے رکھتے ہیں، حج کرتے ہیں، تلاوت قرآن کرتے ہیں ، علوم دینیہ اور روایات حدیث انسانوں سے حاصل کرتے ہیں اگرچہ انسانوں کو اس کا پتہ نہ چلے۔
لیکن یہ تمام باتیں مسلم جنات میں پائی جاتی ہیں جس طرح انسانوں میں کفار موجود ہی اسی طرح جنات میں بھی کفار ہیں۔
اسی طرح اچھے اور برے جنات بھی ہوتے ہیں ۔ جن میں تلاوت کرنے والے جنات ، خوفِ خدا عزوجل کی وجہ سے جاں سے گزرنے والے جنات، تہجد گزارجنات، عمرہ ادائیگی ، کعبہ مشرفہ کا طواف وغیرہ کرنے والے نیک جنات  بھی ہوتے ہیں۔

بہت سے دوست احباب کے نزدیک جنات انسان پر قابض نہیں ہو سکتے ہیں ۔ علامہ محمود آلوسی لکھتے ہیں کہ بعض اجسام میں ایک بدبو داخل ہوتی ہے ۔ اور اس کے مناسب ایک خبیث روح اس پر قابو پالیتی ہے اور انسان پر مکمل جنون طاری ہو جاتا ہے۔ بسااوقات یہ بخارات انسان کے حواس پر غالب ہوکر حواس معطل کردیتے ہیں اور وہ خبیث روح انسان روح کے جسم پر تصرف کرتی ہے او اس کے اعضاءسے کلام کرتی ہے ۔ چیزوں کو پکڑتی ہے اور ڈوڑتی ہے حالانکہ اس شخص کو بالکل پتہ نہیں چلتا اور یہ بات عام مشاہدات سے ہے جس کا انکار کوئی ضدی شخص ہی کر سکتا ہے ۔ (روح المعانی ، ج ۳، ص 28)

امام اہل سنت کا فتویٰ

اعلیٰ حضرت ، امام اہل سنت مولانا احمد رضا خاں رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حاضرات( شریر جنات مختلف روپ میں آکر مسلمانوں کو ستاتے ہیں ۔ بلکہ بسااوقات تو انسانی جسم میں ظاہر ہو کر کسی بزرگ کے نام سے منسوب کرتے ہیں اور پھر لوگوں کے سوالات کے الٹے سیدھے جوابات دیتے ہیں ، بیماریوں کا علاج بتاتے ہیں وغیرہ ۔ اسی کو فی زمانہ حاضری کا نام دیا جاتا ہے ) کر کے موکلاں جن سے پوچھتے ہیں فلاں مقدمہ میں کیا ہوگا؟ فلاں کام کا انجام کیا ہوگا؟ یہ حرام ہے ۔ (تو اب جن غیب سے نرے جاہل ہیں ان سے آئندہ کی بات پوچھنی عقلاً حماقت اور شرعاً حرام اور ان (جنات) کی غیب دانی کا اعتقاد ہوتو کفر ۔ (فتاویٰ افریقہ ، ص 177)
کیا جنات انسان کو تکلیف دے سکتے ہیں؟

جنات انسان کو دو طرح سے تکلیف دے سکتے ہیں (۱) اس کے جسم سے باہر رہتے ہوئے (۲) اس کے جسم میں داخل ہو کر ۔
پہلی قسم کی مثال میں دو احادیث مبارکہ پیش خدمت ہے۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ شہنشاہِ مدینہ ﷺ ے روایت کرتے ہیں ”ابن آدم کو جو بچہ پیدا ہوتا ہے اس کی پیدائش کے وقت شیطان اس کو مس کرتا ہے (یعنی چھوتا ہے ) اور شیطان کے مس کرنے سے وہ بچہ چیخ مار کر روتا ہے ماسواءحضرت مریم رضی اللہ عنہا اور ا ن کے بیٹے کے (صحیح بخاری ، حدیث 3431، ج ۲، ص 453)۔حضرت ابو موسی رضی اللہ عنہ نبی ﷺ کا ارشاد نقل کرتے ہیں کہ میری امت طعن اور طاعون سے ہلاک ہوگی۔ عرض کی گئی کہ یا رسول اللہ ﷺ طعن کے بارے میں تو ہم نے جان لیا مگر یہ طاعون کیا ہے؟ ارشادر فرمایا: یہ تمہارے دشمن جنات کے نیزوں کی چھبن ہے اس کا مارا ہوا شہید ہے۔ (المسند امام احمد، حدیث 19545، ج ۷،ص 131)

دوسری قسم میں جنات کا انسان کے بدن میں داخل ہو نا بھی قرآن و احادیث سے ثابت ہے چنانچہ قرآن مجید میں ارشادہے ترجمہ: قیامت کے دن نہ کھڑے ہوں گے مگر جیسے کھڑا ہوتا ہے وہ جسے آسیب نے چھو کر مخبوط بنادیا ) پ ۳، البقرہ 275(۔ علامہ محمد بن انصاری قرطبی اس آیت مبارکہ کے تحت لکھتے ہیں یہ آیت اس شخص کے انکار کے فساد پر دلیل ہے جو یہ کہتا ہے کہ انسان کو پڑنے والا دورہ جن کی طرف سے نہیں اور گمان کرتا ہے کہ یہ طبیعتوں کا فعل ہے اور شیطان انسان کے نہ تو اندر چلتا ہے اور نہ چھوتا ہے ۔
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک عورت آقا ﷺ کے پاس اپنے بیٹے کو لائی اور عرض گزار ہوئی کہ یارسول اللہ ﷺ میرے بیٹے کو جنون ِ عارض ہوتا ہے اور یہ ہم کو تنگ کرتا ہے ۔ آپﷺ نے اس کے سینے پر ہاتھ پھیرا اور دعا کی ۔ اس کے قے کی اور اس کے پیٹ سے سیاہ کتے کے پلے کی طرح کو ئی چیز نکلی ۔ (مسند الدارمی ، حدیث 19، ج ۱، ص 24)

جنات کا انسانوں سے ڈر
حیران کن بات یہ ہے کہ جہاں انسان جنات سے ڈرتا ہے وہاں جنات بھی انسانوں سے ڈرتے ہیں ۔ حضرت مجاہد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جتنا تم (انسانوں) میں سے کوئی شیطان سے گھبراتا ہے اس سے بھی زیادہ وہ تم سے گھبراتا ہے لہذا جب وہ تمہارے سامنے آئے تو اس سے نہ گھبرایا کرو ورنہ تم پر سوار ہوجائے گا البتہ تم اس کے مقابلے کے لیے تیار ہوجایا کرو تو وہ بھاگ جائے گا۔ (لقط المرجان فی احکام الجان ، ص 138)

جنات کے شر سے بچنے کے طریقے
 (۱)اللہ تعالیٰ کی پناہ طلب کرنا (۲) تلاوت قرآن کریم (۳) ذکر اللہ عزوجل کی کثرت (۴) اذان دینا
(
۵) لاالہ الااللہ وحدہ لاشریک لہ لہ الملک ولہ الحمد وھو علی کل شیئٍ قدیر (سومرتبہ روزانہ)  (6) جنات اور جادو وغیرہ کے وظائف (۷ ) چکنائی والی چیزیں جلد دھو ڈالنا (۸) گھر میں لیمو رکھنا (۹) سفید مرغ رکھنا (۱۰) تعویزات کا استعمال (۱۱) سورہ البقرہ کی آیت نمبر ۱۶۳ تا ۱۶۴ کی تلاوت سے بھی شیطان جن بھاگ جاتے ہیں۔(۱۲) اَعُوذُ بِکَلِمَاتِ اﷲِ التَّامَّتِہ مِن غَضَبَہ وَ عِقَابِہ وَمِن شَرِّ عِبَادِہ وَ مِن ہَمَزَاتِ الشَّیَاطِینِ وَ اَن  یَّحضُرُونَ۔ (ابوداود و ترمذی)۔

اِنسانوں میں جِنات کے اثرات کی چند علامات۔۔۔

جسطرح جادو کے اثرات کی وجہ سے ناف کے قریب درد محسوس ہُوتا ہے۔ اِسی طرح جناتوں کے انسانی جسم پر اثرات کی وجہ سے انسانوں کو کئی پراپلم کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ جیسے مُسلسل سر درد ،  بغیر کام کئے بھی جسم میں تھکن کا اِحساس رِہنا۔۔۔ گندے خواب و خیال کی وجہ سے ذِہن کا پراگندہ رِہنا۔۔۔خواتین  کی پنڈلیوں ، کمر، اُور شانوں میں دَرد کی موجودگی۔ بالخصوص صبح جاگنے کے وقت اِس درد کا احساس خاص طور پر محسوس ہُوتا ہے۔ اسکے علاوہ کنواری بچیوں کے  جسم پر ایسے نشانات کا اُبھر آنا۔ جیسےکہ زچگی کے بعد شادی شُدہ خواتین کے جسم پر بن جاتے ہیں۔


الحمدُ للہ عزوجل جنات سے حفاظت  اُور  اِن کے اَثرات سے چھٹکارے کیلئے  عرصہ دراز پہلے  لیموں پر دَم کرنے کا ایک مجرب طریقہ دِل میں القاء ہُوا تھا۔ جسکی بدولت دُنیا بھر میں ایسے ہزاروں لُوگوں نے بھی خبینث شیطانی جنات  سےنجات حاصل کی ہے۔جنہیں بے شمار عامِلوں نے لاکھوں روپیہ ٹھگنے کے بعد  بھی جواب دیدیا تھا۔ اللہ کریم کے فضل و اِحسان سے آج وُہ تمام لوگ ایک نارمل زندگی گُزار رہے ہیں۔ تمام عاشقان مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم اُور محبین صحابہ کرام و اُولیائے کرام رحم اللہ اجمعین کو میری جانب سے اِس عمل کی اجازت ہے۔ جب آپ آزمائیں گے۔ تو آپ بھی اس عمل کی تاثیر و کمال دیکھ کر حیران رِہ جائیں گے۔۔۔ صرف بے ادب و گستاخ قسم کے لوگ اِس عمل سے کوئی فائدہ نہیں اُٹھاسکتے۔ اسلئے اِس قسم کے لوگوں کو زِحمت اُٹھانے کی چنداں ضرورت بھی نہیں ہے۔۔۔


لیموں پر دَم کرنے کا طریقہ۔ درج ذیل تصویر میں موجود ہے۔ مزید  مفت رہنمائی حاصل کرنے کیلئے آپ احسان وارثی بھائی سے  بھی رابطہ کرسکتے ہیں۔
03332969939موبائیل:


انشاءَاللہُ الکریم ۲ ماہ تک اِسی طریقہ سے دَم کرتے رہنے سے جنات کے اثرات سے نجات مِل جائے گی۔


Monday, 10 March 2014

تذکرہ اِک پری کا۔۔26 جھلک یار پھر آئی نظر۔



تذکرہ اِک پری کا۔۔۲۶ جھلک یار پھر آئی نظر۔ 



عِمران احمد وقاص گُذشتہ پندرہ  بیس دِنوں سے بابا صابر صاحب کو دیوانوں کی طرح ڈُھونڈ رَہا تھا۔۔۔ وُہ جاننا چاہتا تھا کہ،، بابا صابر صاحب نے مُرشد کریم سے کوثر کے متعلق  مُلاقات کی اجازت حاصل کرلی ہے۔یا نہیں۔ لیکن بابا صابر صاحب علی پُور کے مجذوب کا قصہ سُنا کر ایسے غائب ہُوئے تھے ۔جیسے گُویا اُنکو زمین نِگل گئی ہُو۔ یا وُہ آسمان کی سیر کو چلے گئے ہُوں۔۔۔ جُوں جُوں دِن گُزرتے جارہے تھے۔ عمران احمد وقاص کی وحشتوں میں اِضافہ ہُوتا چلا جارہا تھا۔۔۔عمران کو کبھی کبھی  یہ بھی خیال ستاتا۔کہ،، بابا وقاص نے بھی ایک دِن کُوثر  سے مُلاقات کرانے کا پروگرام مرتب کیا تھا۔لیکن وُہ شہر سے اتنی عجلت میں  ایسے  نِکلے ۔کہ،، دُنیا ہی چھوڑ کر چلے گئے۔ اُور اب بابا صابر صاحب اُسکے لئے اِجازت حاصل کرنا چاہتے تھے۔ تو کہیں۔۔۔؟؟؟؟؟ بُہت سے اندیشے عمران کو سہماتے۔لیکن عمران کو یقین تھا۔کہ،، اس مرتبہ اُسکے ساتھ پہلے جیسا کوئی واقعہ نہیں ہُوگا۔اُور ایک  نہ ایک دِن  اُسے کُوثر مِل کر ہی رَہے گی۔۔۔

آج  عمران  حسب سابق  فجر پڑھ کر شہر کے بیرونی دروازے پرچلا آیا تھا۔ لیکن بابا صابر کا آج بھی کوئی سراغ نہیں مِل سکا تھا۔ واپسی میں عمران اُس ہُوٹل پر گیا۔ جہاں اکثر بابا صابر ناشتے کی غرض سے جایا کرتے تھے۔ لیکن ہُوٹل والوں کا کہنا تھا۔کہ،، اُنہوں نے بھی گُذشتہ کئی دِن سے بابا صاحب کو نہیں دیکھا ہے۔ جبکہ ایک ویٹر کا خیال تھا۔ کہ،،  شائد بابا صاحب کی  رُوحانی ڈیوٹی کسی دُوسرے شہر میں لگ گئی ہے۔۔۔ کیوں کہ پہلے بھی ایسا کئی مرتبہ ہُوچکا ہے ۔کہ کوئی ڈیوٹی والے بُزرگ اچانک غائب ہُوگئے۔ اُور دُوسرے ہی دِن ایک نئے بُزرگ رُوحانی ڈیوٹی نبھانے کیلئے نمودار ہُوگئے۔۔۔ ویٹر کی گفتگو سے عِمران کا دِل ڈوبنے لگا تھا۔۔۔۔ اچانک ایک خیال کے تحت عمران نے چُونکتے ہُوئے ویٹر سے استفسار کیا۔۔۔ سُنو!!! کیا تُم نے بابا صاحب کی غیر مُوجودگی میں کسی دُوسرے بُزرگ کو یہاں آتے ہُوئے دیکھا ہے۔۔۔؟؟؟۔۔۔

نہیں جناب ایسا پہلی مرتبہ ہُوا ہے۔ کہ،، ایک بُزرگ کے رُوپوش ہُونے کے باوجود کوئی دُوسرا درویش نمودار نہیں ہُوا۔۔۔ ویٹر نے حیرت سے اپنی لاعلمی کا اظہار کرتے ہُوئے جواب دیا۔۔۔۔۔ اِسکا مطلب ہے۔کہ ،،ابھی بابا صابر شہر میں ہی موجود ہیں۔ اُور اُنکی ڈیوٹی کسی دوسرے شہر میں نہیں لگی ۔ورنہ۔  ڈیوٹی کی تبدیلی پر کوئی نہ کوئی نیا درویش ضرور نمودار ہُوجاتا۔ عمران نے بڑبڑاتے  ہُوئے خُود کو تسلی دی۔۔۔۔۔ عمران ہُوٹل سے نکلنے لگا تو اُسکی نِگاہ قیصر دیوانے پر پڑی۔ عمران نے  اکثر قیصر دیوانے کو بابا صابر کے اِردگرد  گھومتےدیکھا تھا۔ البتہ وُہ کبھی عمران کی موجودگی میں بابا صابر کے اتنے نذدیک نہیں آتا تھا۔ کہ،، دُور سے دیکھنے پر بابا صاحب کے قریب  کھڑا دِکھائی دے جائے۔

عمران قیصر دیوانے کے نذدیک سے گُزرنے لگا۔ تو قیصر دیوانے نے صدا لگائی ،، سُونا کی نہاری کھالے بڑا مزہ آئے گا۔۔۔ عمران نے  پھیکی سی مسکراہٹ سجاتے ہُوئے قیصر دیوانے کی طرف دیکھا۔ اُور شہر کی جانب چلدیا۔۔۔  کئی دِن سے بابا صابر کی گمشدگی کی وجہ سے عمران کی بھوک پیاس اُڑ چکی تھی ۔لیکن آج شہر لُوٹتے ہُوئے حیرت انگیز طُور پر عمران کو بھوک کا احساس ستانے لگا تھا۔وُہ جلد از جلد گھر پُہنچنا چاہتا تھا۔ لیکن اُسکے ذہن میں قیصر دیوانے کا جملہ گونجنے لگا تھا۔ سُونا کی نہاری کھالے بڑا مزہ آئے گا۔۔۔ پھر اِنہی جملوں کی تکرار نے عمران کو  نہاری نان کے ناشتے کیلئے راضی کرلیا۔

عِمران نگاہیں جمائے واک کرتا ہُوا شہر کے واحد اسٹیڈیم کے قریب سے گُزرنے لگا۔ تو  خُوشبو کے ایک لطیف جُھونکے نے اُسکی سانسوں کو معطر کردیا۔ بھلا عمران اِس خُوشبو کو کیسے بُھول سکتا تھا۔ جو اُسکے محبوب کے پسینے میں رَچی بسی تھی۔ عمران کے بڑھتے قدم ٹھٹک کر رُک گئے۔ اُور وُہ بیخودی کے عالم میں  چہار جانب گُھوم گُھوم کر دیکھنے لگا۔۔۔ کبھی یہ خُوشبو سپیدے کے درختوں  کی طرف سے آتی محسوس ہُوتی اُور کبھی عمران کو یُوں محسوس ہُونے لگتا۔ جیسے کوئی سراپا اُسکے جسم سے لپٹ لپٹ کر  اَٹھکلیاں دِکھا رہا ہُو۔ عمران سرشاری کے عالم میں  دھمے لہجے میں  کوثر کوثر پُکارتا ہُوا۔ کبھی سپیدے کے پیڑوں کے پیچھے محبوب کی جَھلک دیکھنے کیلئے  پُہنچ جاتا۔ اُور جب وَہاں موجود نہ پاتا تو  درختوں کی شاخوں پر اُسے ڈھونڈنے لگتا۔ یہ آنکھ مچولی کا کھیل جاری  ہی تھا۔۔۔ کہ،، ڈاکٹر رضوان کی آواز نے عمران کی محویت میں دراڑ پیدا کردی۔۔۔

 ڈاکٹر رضوان صاحب کا کلینک عمران کے گھر سے کچھ ہی فاصلے  پر موجود تھا۔۔۔۔ وُہ شائد واک کرنے کیلئے نِکلے تھے۔ اُنہوں نے عمران کو دُور سے درختوں سے لپٹے دیکھا ۔تو ماجرہ معلوم کرنے کیلئے اُسکے قریب چلے آئے تھے۔۔۔ ڈاکٹر صاحب کے استفسار پر عمران نے بتایا کہ،، اُس نے  زندگی میں  پہلی مرتبہ درختوں پر ایک رنگین گِلہری کو دیکھا ہے۔ جُو اَب نظروں سے اُوجھل ہُوچکی ہے۔۔۔۔ ڈاکٹر صاحب نے عمران کو سمجھاتے ہُوئے کہا۔۔  عمران بیٹا یُوں تنہائی میں درختوں سے لپٹنا چِمٹنا مناسب بات نہیں ہے۔ دُنیا میں بیشمار مخلوقات ہیں۔ جو انسانوں کو اپنی جانب متوجہ کرنا چاہتی ہیں۔۔۔ لیکن بعض اُوقات اِن کو دیکھنا مہنگا پڑجاتا ہے۔ اُور بعض مرتبہ انہیں دیکھنے کے بعد انسان اپنے ہُوش حواس بھی قائم نہیں رکھ پاتا۔ اُور دیوانوں کی دُنیا میں پُنچ  کر ہمیشہ کیلئے اپنوں سے دُور بھی ہُوجاتا ہے۔ عمران نے سعادت مندی سے اپنی گردن جُھکاتے  ہُوئے ڈاکٹر رضوان کو یقین دِلانے کی کوشش کی۔کہ،، وۃ آئندہ اِس معاملے میں اِحتیاط برتے گا۔۔۔ اُور ڈاکٹر رضوان کے ہمراہ شہر کی جانب بڑھ گیا۔


سُونا رِیسٹورنٹ پُہنچ کر عمران کو احساس ہُوا۔کہ،، آج معمول سے کئی گُنا ذیادہ خریدار نہاری خریدنے  اُور کھانے کیلئے رِیسٹورنٹ میں موجود ہیں۔۔ یُوں تو سُونا رِیسٹورنٹ کی نہاری ویسے بھی شہر بھر میں بُہت مشہور تھی۔ لیکن آج کچھ ذیادہ ہی خوشبو کی لپٹیں عمران کے مسام دِماغ کو معطر کررہی تھیں۔۔ جبکہ اتنی عمدہ خُوشبو کی وجہ سے  بُھوک  کا اِحساس بھی کئی گُنا بڑھ چکا تھا۔۔۔ تقریباً آدھے گھنٹہ بعد عمران ایک ٹیبل کی کرسی پر قبضہ جمانے میں کامیاب ہُوچُکا تھا۔۔۔۔ نہاری کھاتے ہُوئے  ہر نوالے کیساتھ عمران کو حیرت کے شدید جھٹکے لگ رہے تھے۔۔۔ کیونکہ نہاری کی لذت اُور خُوشبو عام دِنوں کے مقابلے میں سُو گُنا ذیادہ تھی۔۔۔ عمران نے سُوچا۔کہ کھانے سے فارغ ہُونے کے بعد وُہ اَمی اَبو کیلئے بھی ضرور پارسل لیکر جائے گا۔۔۔ تبھی اُسکے کانوں میں ایک ویٹر کی آواز گُونجی۔جو گاہکوں کو مُخاطب کرتے ہُوئے اعلان کررہا تھا۔کہ،، نہاری ختم ہُوچکی ہے۔۔۔۔

عمران کو افسوس تو بُہت ہُوا لیکن اب کرا بھی کیا جاسکتا تھا۔۔۔ عمران  کھانے سے فارغ ہُوکر جب کاونٹر پر بِل اَدا کرنے کیلئے پُہنچا۔ تو اُس وقت رإیسٹورنٹ کا مالک باورچی پر  دھیمے لہجے میں برس رَہا تھا۔ کہ تُم نے اتنے ذیادہ مصالحہ جات نہاری میں کیوں ڈالے ہیں۔۔۔؟ اگر اِس قیمت پر نہاری میں اتنے مصالحے ڈالے جائیں گے۔ تو ایک دِن رِیسٹورنٹ کا دِیوالیہ نَکل جائے گا۔۔۔۔  جبکہ باورچی کا اِصرار تھا۔کہ،، اُس نے اُتنے ہی مصالحے نہاری کی دیگ میں ڈالے ہیں۔جتنے کے رُوزانہ ڈالے جاتے ہیں۔۔۔ مالک اُور باوررچی کی توتکار جاری تھی۔ اُور عمران سُوچ رَہا تھا۔کہ،، ریسٹورنٹ کا مالک کتنا خُود غرض ہے کہ ،، بجائے باورچی کی تعریف کرنے کے۔۔۔ذرا سے مصالحے کی مقدار بڑھ جانے پر باورچی سے جھگڑ رَہا ہے۔۔۔ حالانکہ جو نہاری پہلے ظہر کی نماز تک نہیں بکتی تھی۔ انہی مصالحوں کی بدولت آج صبح سویرے ہی ختم ہُوچکی ہے۔۔۔ کیا ہی اچھا ہُو کہ،، نہاری کی ذرا سی قیمت بڑھا کر معیار میں اضافہ کرلیا جائے۔۔۔ عمران کی سُوچوں کا تانا بانا جاری  ہی تھا۔۔۔ کہ علاقے کے چوکیدار نے  جو شائد کافی دیر سے مالک اُور باور چی کی تکرار ملاحظہ کررہا تھا مُداخلت کرتے ہُوئے  رِیسٹورنٹ کے مالک کو ایک نئی کہانی سُنانے لگا۔

چوکیدار کا دَعوی تھا۔کہ،، آج نہاری میں ذایقے کی وجہ مصالحہ جات نہیں ہیں۔۔۔ بلکہ یہ نہاری کی خُوشبو اُور لذت کسی اُور وجہ سے ہے۔۔۔۔  رِیسٹورنت کے مالک نے حیرت سے چوکیدار کی بات سُن کر کہا۔۔۔ خان صاحب اگر نہاری میں ذائقے کی وجہ مصالحے نہیں ہیں۔ تو پھر کس وجہ سے نہاری کی دیگ سے اتنی عمدہ خُوشبو برآمد ہُورہی تھی۔۔۔۔؟؟؟  خان صاحب فرمانے لگے۔۔ ہم کو کسی کا جھوٹا طرفداری نہیں کرنا ہے۔ کیونکہ کل ہم کو بھی خُدا کی بارگاہ میں حاضر ہُوکر جواب دینا ہے۔۔۔ اسلئے ہم جو بھی بات کریگا بالکل سچ کرے گا۔ بلکہ اگر تم ہم سے ہماری بات کا گواہ مانگے تو ہم وُہ گواہ بھی دینے کیلئے تیار ہے۔۔۔ دراصل کا رات جب تُم لُوگ دُکان بند کرکے چلا گیا تھا۔ ہم چکر لگانے کے واسطے دُوسری گلیوں میں چلا گیا تھا۔لیکن جب ہم واپس آیا تو ہم نے دیکھا۔ کہ،، بابا صابر نے دیگ کا ڈھکن کھول رکھا تھا۔ اُور ایک بُہت بڑا گُوشت کا ٹکڑا اُس کے ہاتھ میں تھا۔  جب ہم اُسکے قریب پُہنچا تو اُس نے اُس  نے گوشت کے ٹکڑے سے تھوڑا سا گوشت نُوچ کر کھایا اُور باقی گوشت واپس دیگ میں یہ کہتے ہُوئے ڈال دیا۔کہ،، کل ہمارا ایک بچہ یہاں کھانا کھانے آئے گا۔ بس اُسی کے واسطے انتظام کررہا ہُوں۔۔۔۔ 

اِس لئے خُدا کا قسم ہم کو پورا یقین ہے۔کہ،، نہاری میں لذت اُور خُوشبو اُس اللہ والے کے  گُوشت کو جھوٹا کرنے سے آئی ہے۔مصالحہ ڈالنے کی وجہ سے نہیں آئی۔۔۔ اُور ہم صرف یہی بات بتانے کیلئے آج صبح صبح آیا ہے۔ ورنہ یہ وقت ہمارے سُونے کا وقت ہے۔۔۔۔ خان صاحب کی نیک نامی اُور ایمانداری کی وجہ سے رِیسٹورنٹ کے مالک نے  نا صِرف خان صاحب کی بات کو صدقِ دِل سے قبول کرلیا۔بلکہ اُس نے باورچی سے بھی فوراً  اپنے رویئے پر معذرت کرلی۔۔۔ جبکہ عمران کیلئے یہ خبر ہی خُوشی بڑھانے کیلئے کم نہ تھی۔کہ،، بابا صابر شہر ہی میں موجود ہیں۔۔۔۔ بلکہ اُسکا دِل گواہی دے رِہا تھا۔کہ،، بابا صاحب نے اپنے کشف سے میری یہاں آمد کو جان لیا تھا۔ اُور وُہ صرف میرے ہی لئے دیگ کے کھانے کی رُونق بڑھانے آئے تھے۔

عمران اِسی کیف و مستی کی حالت میں  بابا صابر کی تلاش میں ایک مرتبہ پھر شہر کے بیرونی دروازے کی طرف بڑھنے لگا۔۔۔ اِسٹیڈیم کے باہر اُنہی درختوں کے قریب سے گُزرتے ہُوئے عمران کو پھر اُنہی معطر معطر جُھونکوں نے مسحور کردیا۔پھر اُسکے قدم  اُسی جگہ ٹہر گئے۔ کہ اچانک  عقب سے کوثر کی کھنکتی ہُوئی آواز عمران کے کانوں میں  نقرئی گھنٹیوں کی طرح  جلترنگ بکھیرنے لگی۔۔۔۔ بالم کیسی لگی نہاری  کی دعوت آپکو۔۔۔؟؟؟ عِمران نے پلٹ کر دیکھا ۔تو  کوثر کو دیکھتا ہی چلا گیا۔۔۔۔ کوثر اپنی تمام تر حشر سامانیوں کیساتھ  اپنے حُسن کے جَلوے بکھیرنے کیلئے ایکبار پھر  عمران کے سامنے  کھڑی مسکرا رہی تھی۔

جاری ہے۔۔۔

اُسکی الفت کا مزاہ سب سے الگ سب سے جُدا
جیسے سُورج کی تپش روکتی ہے کُوئی رِدا
جیسے ساقی نے پَلائی ہُو کسی تشنہ کو شراب
جیسے ٹل جائے کسی عاصی کے سر پہ سے عذاب .


کسی کا کہنا ہے۔کہ افسانہ نگاری اُور لوگوں سے میل جُول بڑھانا ہی میری روحانی ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رُکاوٹ ہیں۔۔۔ لیکن مجھے صرف اتنا معلوم ہے۔ جو مخلوق خُدا سے محبت نہیں کرسکتا۔ وُہ  خالق سے محبت کے دعوے میں  بھی جُھوٹا ہے۔۔۔ اُور مجھے  انشا اللہ خالق ،،مخلوق کی خدمت سے ہی ملے گا۔ اِس بات پر میرا  کامِل یقین بھی ہے اُور بھروسہ بھی۔