bing

Your SEO optimized title page contents

Pages

Hamara Tube Channel

Thursday, 21 May 2015

عامل کامل ابو شامل قصہ فرح کا قسط 32



انتساب۔ کہانی کی یہ قسط (جانِ عشرت کاشف وارثی) اُور محترمہ ڈاکٹر عنبل وارثی کے نام کرتا ہُوں۔
گُذشتہ سے پیوستہ۔
   
ابھی تک اُسی ڈھونگی کی مدد کے انتظار میں ہُو۔  جتنی شدت سے اُس ڈھونگی کو پُکار رہے ہو اتنی شدت سے اگر تُم خُدا کو پکارتے تو وُہ تمہیں کب کا  مِل گیا ہُوتا!!!  گاڑی سے باہر وہی فقیر کامل علی کا  مذاق اُڑاتے ہُوئے قہقہ لگارہا تھا۔۔۔۔  بند کرو اپنی بکواس اُور دفع ہُوجاوٗ یہاں سے۔ کامل علی فقیر کو دیکھ آپے سے باہر ہُونے لگا۔۔۔۔ کسے دیکھ کر چِلا رہے ہیں آپ ؟؟؟؟۔۔۔۔۔ کیا تُم اندھی ہُو؟ جو تمہیں یہ فقیر دِکھائی نہیں دے رہا۔جاناں کی حیرت پر کامل علی نے گردن موڑ کر درشت لہجے میں جواب دیا۔۔۔۔ مجھے واقعی یہاں کوئی فقیر دکھائی نہیں دے رہا جانوں آپ کی طبیعت تو ٹھیک ہے نا؟؟؟!!! جاناں نے کار  کا شیشہ نیچے اُتارتے ہُوئے باہر جھانک کر ایکبار پھر تشویش بھرے انداز میں کامل کی طرف دیکھا۔۔۔۔۔۔ کامل  علی نے حیرت سے پہلے جاناں کی طرف دیکھا ۔ اُور پھر فقیر کی طرف دیکھا ۔ فقیر بدستور کامل علی کو استہزائیہ نظروں سے دیکھ رَہا تھا۔۔۔۔ میں پھر کہتا ہُوں تُم سے کہ،، نکل آوٗ اِس دلدل سے۔ اِس سے پہلے کہ،، واپسی کی راستہ کھو بیٹھو۔ فقیر نے پھر کامل علی کو  تاکید کرتے ہُوئے کہا۔۔۔۔ اتنی دیر میں سنگنل گرین ہُوچکا تھا۔پیچھے سے گاڑیوں کے ہارن شور مچانے لگے تھے ۔ کامل علی نے فقیر پر نگاہ رکھتے ہُوئے گاڑی فُٹ پاتھ پر ایک سائیڈ لگائی۔ اُور جونہی گاڑی سے اُتر کر باہر آیا۔ اتنی دیر میں وُہ فقیر ایک مرتبہ پھر کامل علی کی نگاہوں سے اُوجھل ہُوچکا تھا۔۔۔۔

اَب مزید پڑھیئے۔
کامل علی جُھلائے ہوئے انداز میں جب اپنے گھر پُہنچا تو  بنگلہ کے دروازے سے تالا غائب دیکھ کر چکرا گیا۔۔۔  لگتا ہے آج کوئی گھر کی بھی صفائی کرگیا ہے۔ کامل  کی بُڑبڑاہٹ سُن کر جاناں بھی ہراساں ہُوکر کہنے لگی۔پلیز آپ تنہا گھر میں داخل نہ ہُوں۔ ہوسکتا ہے ابھی تک کوئی گھر میں موجود ہُو۔ اُور کہیں وُہ آپ کو کچھ نقصان نہ پُہنچادیں۔۔۔ ٹھیک ہے، ٹھیک ہے،، پہلے میں باہر سے ہی تسلی تو کرلوں ،، کہ،، کوئی گھر میں موجود بھی ہے یا نہیں کامل نے کار کا دروازہ کھول کر  دبے پاوٗں مین گیٹ کی طرف بڑھتے ہوئےسرگوشی میں  جاناں کوجواب دیا۔۔۔۔ کامل علی جب دبے قدموں گیٹ سے اندر داخل ہُونے کی کوشش کررہا تھا۔ تبھی اُسے ابوشامل کی چہکتی آواز سُنائی دی۔۔۔ عجیب انسان ہُو بیگم کو باہر گاڑی میں چھوڑ کر اپنے ہی گھر میں چوروں کی طرح داخل ہُو رہے ہُو۔ یار  بیچاری بھابی کو بھی اندر لے آوٗ یہاں کوئی خطرہ نہیں ہے۔۔۔ اِس مرتبہ ابوشامل نے جملہ اتنی بُلند آواز میں کہا تھا کہ،، جاناں تک بھی اُس کی آواز پُہنچ چُکی تھی۔ اُور اب وُہ اطمینان سے گھر میں داخل ہُورہی تھی ۔  ابوشامل کو سامنے دیکھ کر جاناں نے شکوہ کیا۔۔۔ ابوشامل بھائی !!! بھلا یہ بھی  کوئی  طریقہ ہے اپنوں کو پریشان کرنے کا۔کہ،، بغیر بتائے پورا مہینہ غائب ہُوگئے۔۔۔ آپکو خبر بھی ہے کہ،، کامل آپکی وجہ سے کتنے پریشان تھے۔۔۔۔۔ جاناں کی موجودگی کی وجہ سے کامل کا  بس نہیں چل رہا تھا کہ ِ،، افلاطون کا چہرہ نُوچ   نُوچ کر لہولہان کردے۔ اِس لئے وُہ دِل پر جبر کرتے ہُوئے گاڑی  کار پُورچ میں داخل کرنے کیلئے انتہائی غصے میں باہر نکل گیا۔

رات کو بنگلے کی چھت پرتنہائی میسر آتے ہی کامل نے انتہائی غصہ کی حالت میں  ابوشامل پر سوالات کی یلغار کرتے ہُوئے آج کی ڈکیتی کے متعلق بتایا۔ ۔۔۔ تُمہارا غصہ اپنی جگہہ بجا ہے میرے دُوست لیکن جب تُمہیں اصل کہانی کا علم ہُوگا ۔ تو تُم مجھ پر غصہ کرنے کے بجائے مجھ سے ہمدردی کرنے لگو گے کیوں کہ میں کسی کی مدد کے چکر میں خُود ایک مصیبت میں گرفتار ہُوکرمُوت سے  بال بال بچا ہُوں۔۔۔۔ کامل کی خاموشی دیکھ کر ابو شامل نے اپنی گفتگو جاری رکھی۔۔۔۔ میں دراصل اُس دن نفاست صدیقی سے مُلاقات کے بعد اپنے کسی کام سے سیالکوٹ گیا تھا۔۔۔۔۔ سیالکوٹ گئے تھے مگر کیوں اُور تمہارا کونسا ضروری کام تھا سیالکوٹ میں؟؟؟ کامل علی نے بیچ میں لقمہ دیتے ہُوئے کہا،۔۔۔۔۔  یہ ایک الگ کہانی ہے میرے دُوست مگر سچی بات یہ ہے کہ،، میرا بھی کوئی اپنا رہتا ہے سیالکوٹ میں جسکی وجہ سے مجھے   اس شہر سےبُہت محبت ہے۔ اُور میری اِس کمزوری کا گھنشام داس کو بھی علم تھا۔ جسکی وجہ سے ہمارے درمیان میں جنگ کی ابتدا ہُوئی تھی۔۔۔۔۔۔ اسکا مطلب ہے۔کہ،، تم مجھ پر بھروسہ نہیں کرتے ہُو۔ ورنہ جس طرح میں نے اپنی زندگی کا ایک ایک ورق تمہارے سامنے کھول کر رکھ دیا تھا۔ اگر تم بھی مجھ پر اعتبار کرتے تو مجھ سے پردہ نہیں رکھتے۔  کامل علی نے دِل گرفتہ لہجے میں ابوشامل کی گفتگو کو کاٹتے ہُوئے کہا۔۔۔۔

نہیں یار کامل!! ایسی کوئی بات نہیں ہے۔ جسے میں تم سے چھپاوٗں۔۔۔ لیکن یہ ایک ایسی کہانی ہے جسے میں جب بھی یاد کرتا ہُوں تو آتشی ہُونے کے باوجود میرے سینے میں بھی نابرداشت ہُونے والا ایک اَلاوٗ دہک جاتا ہے۔ اس لئے میں کم ہی اُن یادوں سے واسطہ رکھتا ہُوں۔۔۔ ابوشامل نے   اپنی آواز میں درد سموتے ہوئے  ایک لمحے کیلئے خاموشی اختیار کرلی۔ جیسے وُہ  کچھ یاد کررہا ہُو۔۔۔۔۔ دراصل بات یہ ہے میرے دوست کہ،، تُم سے ملنے سے  ۶ ماہ قبل میں اپنے چند دوستوں کیساتھ جھیل سیف الملوک پر تفریح کیلئے آیا تھا۔ ہم تمام دوست وہاں خُوب ہلا گُلا کرتے ہُوئے اپنا وقت گُزار رہے تھے۔کہ،، اچانک ایکدن سیالکوٹ سے ایک فیملی گھومنے کیلئے ناران آئی۔ تو میں نے  زندگی میں پہلی مرتبہ ایسا حُسن کا شاہکار دیکھا۔ جسے دیکھ کر بیک وقت چاند کی چاندنی اُور گلاب کی پنکھڑیوں کی لطافت کا احساس  دِل میں پیدا ہُونے لگا۔۔۔ وُہ  لڑکی  جسکا نام فرح تھا۔بلاشبہ شہزادہ سیف الملوک کی بدیع الجمال کی طرح حسین تھی۔۔۔ اُسے دیکھ کر پہلی مرتبہ میرے دِل میں یہ احساس جاگا۔کہ،، زندگی کا سفر  دلپسند ساتھی کیساتھ   ہی گُزارنا چاہیئے۔ حالانکہ مجھے  میرے دوستوں نے اِس خیال سے باز رکھنے کیلئے بُہت جتن کئے۔اُور مجھے بُہت سمجھایا۔کہ وہ خاکی ہے۔ اُور ہم آتشی،،  اسلئے یہ مِلن کبھی ممکن نہیں ہُوگا۔لیکن کوئی نصیحت دِل پر کار گر نہیں گُزری۔ میں اُس فیملی کیساتھ ساتھ سیالکوٹ چلا آیا۔ جبکہ میرے تمام دوست میری ہٹ دھرمی اور ضد دیکھ کر واپس لُوٹ گئے۔

میں خاموشی سے رات دِن فرح کی نظروں سے اُوجھل ہُوکر اُسکے قریب ہی رہتا۔۔۔ اُسکی قربت نے مجھ پر عجیب سی کیفیت طاری کردی تھی۔۔ اُسکے پسینے کی خُوشبو، اُسکی سانسوں کا لمس، اُسکا ہر ایک انداز قاتلانہ تھا۔۔۔ میں اُس کے سامنے آکر اپنی محبت کا اظہار کرنا چاہتا تھا۔ لیکن ایک خُوف میرے دِل سے نکلنے کا نام نہیں لیتا تھا۔ کہ،، کہیں وُہ میری اصلیت جان کر  بھڑک نہ جائے،، یا کہیں مجھ سے خُوفزدہ نہ ہُوجائے۔ میں کسی ایسے موقعے کی تلاش میں تھا۔کہ،، کاش اُسے خُود میری ضرورت آپڑے۔ یا  وُہ خُود کسی نادیدہ ہستی کو  مدد کیلئے پُکارے تو میں لپک کر اُس کے سامنے ظاہر ہُوکر کہوں۔ کہ،، اے جان تمنا میں حاضر ہُوں تمام زندگی آپکی غلامی کا دَم بھرنے کیلئے۔۔۔۔ پھر  وُہ مجھے قبول کرلے۔ جسکے بعد میں تمام دُنیا کی خُوشیوں کو اُسکے قدموں میں ڈھیر کرتا چلا جاوٗں۔۔۔۔

کچھ ہی دِن بعد میرے والد صاحب نے میری غیر موجودگی کو محسوس کرتے ہُوئے کچھ سپاہی مجھے طلب کرنے کیلئے بھیج دیئے۔ لیکن میں نے واپسی سے صاف انکار کردیا۔۔۔ یہ کھیل کئی ماہ چلتا رہا۔ میری والدہ کے  بھی مسلسل واپسی کیلئے پیغامات مجھے موصول ہُورہے تھے۔ ایک دِن میں اپنی والدہ سے مُلاقات کیلئے اپنی ریاست پُہنچ گیا۔ اُور اُنہیں اپنی تمام دِلی کیفیات سے آگاہ کردیا۔ اُنہوں نے بھی مجھے کافی خبردار کیا۔کہ،، انسانوں کی دوستی یا دُشمنی ہم جنات کیلئے کبھی سُود مند ثابت نہیں ہُوتی۔ لیکن میں نے منت سماجت کرکے اُنہیں اِس بات کیلئے آمادہ کرلیا۔کہ،، میں اُن سے مُلاقات کیلئے وقتاً فوقتاًً ریاست آتا جاتا رُہوں گا۔ اُور جیسے ہی میرے ہاتھ گوہرِ مُراد لگا میں ہمیشہ کیلئے واپس لُوٹ آونگا۔ میں والدہ سے مُلاقات کے بعد جب سیالکوٹ پُہنچا ۔ تو ایک قیامت میری منتظر تھی۔۔۔ فرح جس میڈیکل یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کررہی تھی۔ اُسی یونیورسٹی کے ایک نوجوان  ڈاکٹر دلشاد احمد کی فیملی فرح کا رشتہ لیکر آئی تھی۔ فرح کی فیملی کو وُہ رشتہ اتنا پسند آگیا۔کہ،، اُنہوں نے  فرح کی رضامندی دیکھ کر فوراً ہی رشتہ کیلئے حامی بھرلی۔

(جاری ہے)

اُسکا کہنا ہے۔ کِسی اُور کو دیکھوں نہ کبھی
کیوں کہ اُسکو یہ میرا رُوپ بُرا لگتا ہے۔

مجھکو ہر چہرے میں آتاہے نظر اِک وُہ ہی
جُو نہ بھر پائے یہ بہروُپ !!!  ۔بُرا لگتا ہے۔

عامل کامل ابو شامل ڈاکو، حسینہ، اور فقیر قسط 31




گُذشتہ سے پیوستہ۔
   
کامل علی کی گفتگو نے وجاہت کے چہرے کی مایوسی کو اُمید کے دِیوں سے رُوشن کردیا تھا۔۔۔۔ کامل علی نے اُس سے وعدہ کرلیا تھا ۔کہ ،، وُہ  ہر حال میں اپنی توبہ پر قائم رہے۔ انشااللہ ایک ماہ میں اُسکی جان  اِن تمام چکروں سے آزاد ہُوجائے گی۔۔۔۔۔۔وجاہت اور نفاست صدیقی کے  جانے کے بعد کامل علی بھی   کوٹھی  کو تالہ ڈال کر تھکے تھکے قدموں سے گھر کی جانب روانہ ہُوگیا۔گھر  کے دروازے کے باہر ایک فقیر جیسے کامل علی کا ہی منتظر تھا۔ جیسے ہی کامل علی دروازے کے قریب پُہنچا وُہ فقیر بُڑبڑاتے ہوئے وہاں سے پلٹ گیا۔ کامل علی کے کان میں فقیر کے صرف  دُو   جملے ہی سمجھ آسکے  تھے،، تیری آج کی مزدوری تیرے پچھلے گناہوں کا کُفارہ بن گئی ہے،، ابھی بھی وقت ہے بدل لے خُود کو اُور نِکل جا اُس پاکھنڈی کے چکر سے۔۔۔۔

اَب مزید پڑھیئے۔

کامل چند لمحے گُم سُم اُس فقیر کی بات پر غُور  کرتا رَہا لیکن جُونہی فقیر گلی کے نُکڑ پر پُہنچا۔ کامل علی بے ساختہ دُوڑتا ہُوا گلی سے باہر نِکل آیا۔لیکن اُس فقیر کا گلی میں نام و نِشان تک نہ تھا۔ وُہ گُویا کسی چھلاوے کی مانند  کامل کی نظروں سے رُوپوش ہُوچکا تھا۔ البتہ گلی کے درمیان ایک ٹھیلے والا گُول گپے کا ٹھیلہ لئے گاہکوں کا منتظر  دکھائی دیا۔ کامل علی نے ٹھیلے والے سے فقیر کی بابت معلوم  کیا۔ تو وُہ ٹھیلے والا  نہایت یقین سے کہنے لگا۔کہ،، میں تقریباً آدھے گھنٹے سے اِسی مقام پر موجود ہُوں۔ لیکن میں نے کسی فقیر کو گلی میں جاتے یا نکلتے نہیں دیکھا۔ ۔۔۔۔۔ اچھا بھائی ،پھر مجھے ہی وہم ہُوا ہُوگا ۔کامل علی کھسیانے انداز میں واپس گھر کی جانب چل دیا۔

ایک ہفتے سے کامل علی اپنا تمام وقت جاناں کیساتھ ہی گُزار رَہا تھا۔ روزانہ سُورج ڈھلنے کے بعد وُہ آوٹنگ کیلئے  نکل جاتے۔ کبھی سنیما، کبھی پارک اُور پھر سمندر کنارے روزانہ ڈنر سے فارغ ہُوکر رات دیر گئے وُہ واپس آجاتے۔ ۔۔ لیکن ایک ہفتہ میں ہی کامل کا دِل اِس تفریح سے بھی اُکتانے لگا۔ ایک بےچینی تھی  اُس کے اندر جو ہر نئے گُزرتے دِن کیساتھ بڑھتی ہی چلی جارہی تھی۔۔۔۔حالانکہ جاناں بھی کامل علی کا دِل لبھانے کیلئے رُوز نت نئے لباس تبدئل کرتی۔۔ ویسے بھی جاناں چونکہ نرگس کی ہمشکل تھی۔ اسلئے کامل بھی اِس رفاقت سے بیحد خوش تھا۔ بس کبھی کبھی ایک احساس اُسے ستانے لگتا تھا۔ کہ جاناں لاکھ نرگس کی ہمشکل سہی لیکن نرگس نہیں ہے۔ وُہ ایکبار پھر نرگس سے مِلنا چاہتا تھا۔۔۔ لیکن یہ ابوشامل نہ جانے کہاں مَرگیا تھا۔ اُس نے تو کہا تھا کہ،، صرف مجھے سُوچنا، اُور میں تمہارے پاس چلا آوٗں گا۔ لیکن کامل علی کئی دن سے اُسے روزانہ  باقاعدہ آواز دے دیکر پُکار رَہا تھا لیکن وُہ جواب تک نہیں دے رَہا تھا۔۔۔۔

پھر اُسے وُہ فقیر یاد آنے لگتا۔۔۔ میرا  تو  ابو شامل کے سِوا نہ کوئی دُوست ہے۔ اُور نہ ہی ساتھی تو کیا اُس فقیر کا اشارہ ابوشامل کی طرف تھا۔۔۔ لیکن وُہ ابو شامل کو پاکھنڈی کیوں کہہ رَہا تھا۔ جبکہ ابو شامل ہی وُہ واحد ہستی تھا۔کہ جس نے اُسے مایوسی کے گھپ اندھیروں سے نِکالا۔ورنہ تو اُسکی زندگی کا مقصد ہی ختم ہُوچکا تھا۔۔۔ زندگی سے اگر ابو شامل کو نکال دُوں تو میرے پاس دکھوں اُور پچھتاوے کے سِوا باقی ہی کیا رِہ جائے گا۔ یہی سُووچتے ہُوئے وُہ فقیر کے خیال کو جھٹکنے کی کوشش کرتا۔ لیکن اگلے ہی دِن پھر وہی خیال اُسکی گرفت کیلئے حاضر ہُوجاتا۔

وقت  گُزرتا رہا لیکن ابو شامل ۲۰ دن بعد بھی واپس نہیں آیا۔ ایک دِن  کامل شام کی چائے پی رَہا تھا۔کہ،، جاناں  نے پانچ ہزار والی چار گڈیاں اُسکے سامنے ٹیبل پر رکھتے ہُوئے  استفسار کیا۔ آپ نے  سادہ سے لفافے میں بیس لاکھ کی رقم یونہی  کپڑوں کی الماری میں رکھ چھوڑی ہے۔ بھلا ایسی بھی کیا لاپرواہی کی ضرورت ہے؟؟؟ بندہ رقم تو کم از کم بنک یا محفوظ جگہ پر رکھے خُدانخواستہ آپکی غیر موجودگی میں کل کو کوئی چُور اُچکا گھر میں گھس آیا تو میں کیا کروں گی؟۔۔۔ کامل سمجھ گیا  ۔ہو نہ ہُو ۔ضروریہ  ابوشامل کی حرکت ہُوگی اُسی نے اتنی بڑی رقم کا انتظام کیا ہُوگا، ، کامل نے فوراً بات بناتے ہُوئے کہا۔۔۔  اُوہو!!! میں بھی کتنا بھلکڑ ہُوں میں نے یہ سُوچ کر بنک سے رقم نکلوائی تھی کہ،، اپنی جاناں کیلئے ایک چھوٹی سی گاڑی خریدو  ں گا۔ اور کچھ زیوارت خرید دُونگا۔۔۔ لیکن خود ہی بھول گیا۔۔۔ شکریہ جاناں کہ،، تُم نے یاد کروادیا۔ ہم آج ہی یہ سب کچھ خریدیں گے۔۔۔ کامل کے جواب سے جاناں کے چہرے پر ہزار بکھرنے لگے تھے۔۔۔۔ سچ کہہ رہے ہیں نا آپ؟؟؟ جاناں نے یقین و بے یقینی کی کیفیت  میں کامل کے کاندھے پر سر ٹکاتے ہُوئے کہا۔

 سب سے پہلے کامل علی اُور جاناں نے ایک گاڑی خریدی پھر جیولرز کی دکان سے  جاناں نے ایک خوبصورت قیمتی  ڈائمنڈ ہار خریدا جسکے بعد مزید خریداری کیلئے کامل کی جیب میں سکت نہیں رہی اِس لئے اُنہوں نے صدر سے آئسکریم کھانے کے بعد واپسی کا پروگرام بنالیا۔ جس وقت وُہ  کورنگی کراس کے نذدیک پُہنچے۔ ایک نوجوان لڑکی نے انہیں بس اسٹاپ سے کچھ پہلے لفٹ کیلئے اِشارہ دِیا۔ لڑکی تنہا  تھی اُور کچھ بدحواس  بھی نظر آرہی تھی۔ کامل اُسے نظر انداز کرتے ہُوئے آگے بڑھنا چاہتا تھا۔ لیکن جاناں یُوں ایک لڑکی کو تنہا  اُور پریشان دیکھ کر صبر نہ کرسکی۔ اسلئے کامل سے کہنے لگی۔جان!  نجانے یہ لڑکی کس مصیبت میں گرفتار ہے۔  اُور نجانے کب سے لوگوں سے لفٹ مانگ رہی ہُوگی۔ اگر ہم اِسکی مدد کردیں تو ہوسکتا ہے کبھی کوئی ہماری مدد کیلئے بھی تیار ہُوجائے۔ جاناں نے یہ بات اتنے پُر اثر انداز میں کہی کہ،، کامل  جاناں کی بات ٹال نہیں پایا ۔ اُور ریورس گیئر لگا کر لڑکی تک پُہنچ گیا۔

وُہ لڑکی تقریباً رُو دینے والے انداز میں گویا ہُوئی ،، بھائی میرا پرس   ۲موٹر سائیکل سوار  چھین کر بھاگ گئے ہیں۔ اگر آپ لُوگ مجھے بلال کالونی تک چھوڑدیں گے تو میں تمام زندگی آپ کو دُعائیں دُونگی۔ جاناں نے اُس لڑکی کو ساتھ بٹھا لیا۔ اور اب  گاڑی بلال کالونی کیلئے رَواں دَواں تھی۔ بریڈ چورنگی پہنچنے کے بعد لڑکی نے  بتایا کہ میرا گھر یہاں سے قریب ہے۔لڑکی نے گاڑی اندر کی جانب موڑنے کا اشارہ کیا۔   یہ ایک سنسان شاہراہ تھی ۔  ملجگی روشنی میں کچھ دُور    ۲ نوجوان  شائد ایک موٹر سائیکل کا وہیل کس رہے تھے۔ اُس لڑکی نے کامل سے کہا آپ مجھے یہاں ہی اُتار دیں یہ لڑکے میرے پڑوسی ہیں اور نذدیک ہی میرا گھر بھی ہے۔ کامل کی چھٹی حس اُسے کسی خطرے کا اشارہ دے رہی تھی۔ لیکن اُن لڑکوں نے بے پرواہی سے ایک اچٹتی نگاہ کار پر ڈالی اُور بائیک پر سوار ہُونے لگے۔ کامل علی نے تذبذب میں کچھ پہلے ہی گاڑی رُوک لی تھی۔ لڑکی نے گاڑی سے اُتر کر اُن لڑکوں کی طرف صدا لگائی۔۔ ظفر بھائی ۔ ظفر بھائی۔۔۔ وُہ لڑکی  اب جاناں کا شُکریہ ادا کررہی تھی۔ اُور کامل اِس انتظار میں تھا کہ،،  وہ لڑکی دروازہ بند کرے تو کار واپسی کیلئے موڑوں ۔ لیکن دیر ہُوچکی تھی۔ کیونکہ وُہ دونوں لڑکے پستول سنبھالے نذدیک آچکے تھے اُور اب کامل  اور جاناں کو باہر آنے کیلئے کہہ رہے تھے۔ تھوڑی ہی دیر میں وہ کامل کی جامہ تلاشی لے کر تمام سامان و موبائیل کیساتھ جاتے ہُوئے جاناں کا صرف ہیرے کا ہار ہی نہیں بلکہ روزمرہ  میں پہنے جانے والا ایک ایک زیور اُتروا کر رفو چکر ہُوچکے تھے۔ ۔۔

کامل علی  نے ڈرائیونگ کرتے ہُوئے بے بسی اُور لاچارگی میں کئی بار اسٹیرنگ وہیل پر کئی بار ہاتھ مار کر ابوشامل کو پُکارا!!! لیکن کوئی جواب نہیں آیا۔ کامل کا چہرہ بے عزتی کے احساس سے سُرخ ہُوا جارہا تھا۔ جسے دیکھ کر جاناں بھی اندر سے خُوفزدہ تھی۔کہ،، کہیں اتنے غصے میں ڈرائیونگ کرتے ہُوئے کامل ایکسیڈنٹ نہ کربیٹھے۔ گاڑی مین شاہراہ پر پُہنچی تو جاناں کی نظر  ایک پولیس موبائیل پر  پڑی۔۔۔ کامل ہمیں ان پولیس والوں کا بتانا چاہیئے۔ ہوسکتا ہے  وُہ لوگ پکڑے جائیں۔ اُور ہمیں ہمارا سامان واپس مِل جائے۔ جاناں نے ڈرتے ڈرتے کامل کو مخاطب کیا۔۔۔۔ چُپ چاپ گاڑی میں بیٹھی رہو۔ اُور اپنے مشورے اپنے پاس ہی رکھو سمجھیں۔۔۔ اگر ہماری پولیس ہی ٹھیک ہُوتی،، تو ہم یُوں سرشام لُٹے پٹے  واپس نہ جارہے ہُوتے۔ اِن کمبختوں کا بھی ضرور حصہ ہُوگا۔ اس لُوٹ مار میں کامل علی نے سختی سے جاناں کو ڈانٹتے ہُوئے کہا۔ جسکی وجہ سے جاناں ایک بار پھر سہم کر خاموش بیٹھ گئی۔۔۔۔۔۔۔۔

ابھی تک اُسی ڈھونگی کی مدد کے انتظار میں ہُو۔  جتنی شدت سے اُس ڈھونگی کو پُکار رہے ہو اتنی شدت سے اگر تُم خُدا کو پکارتے تو وُہ تمہیں کب کا  مِل گیا ہُوتا!!!  گاڑی سے باہر وہی فقیر کامل علی کا  مذاق اُڑاتے ہُوئے قہقہ لگارہا تھا۔۔۔۔  بند کرو اپنی بکواس اُور دفع ہُوجاوٗ یہاں سے۔ کامل علی فقیر کو دیکھ آپے سے باہر ہُونے لگا۔۔۔۔ کسے دیکھ کر چِلا رہے ہیں آپ ؟؟؟؟۔۔۔۔۔ کیا تُم اندھی ہُو؟ جو تمہیں یہ فقیر دِکھائی نہیں دے رہا۔جاناں کی حیرت پر کامل علی نے گردن موڑ کر درشت لہجے میں جواب دیا۔۔۔۔ مجھے واقعی یہاں کوئی فقیر دکھائی نہیں دے رہا جانوں آپ کی طبیعت تو ٹھیک ہے نا؟؟؟!!! جاناں نے کار  کا شیشہ نیچے اُتارتے ہُوئے باہر جھانک کر ایکبار پھر تشویش بھرے انداز میں کامل کی طرف دیکھا۔۔۔۔۔۔ کامل  علی نے حیرت سے پہلے جاناں کی طرف دیکھا ۔ اُور پھر فقیر کی طرف دیکھا ۔ فقیر بدستور کامل علی کو استہزائیہ نظروں سے دیکھ رَہا تھا۔۔۔۔ میں پھر کہتا ہُوں تُم سے کہ،، نکل آوٗ اِس دلدل سے۔ اِس سے پہلے کہ،، واپسی کی راستہ کھو بیٹھو۔ فقیر نے پھر کامل علی کو  تاکید کرتے ہُوئے کہا۔۔۔۔ اتنی دیر میں سنگنل گرین ہُوچکا تھا۔پیچھے سے گاڑیوں کے ہارن شور مچانے لگے تھے ۔ کامل علی نے فقیر پر نگاہ رکھتے ہُوئے گاڑی فُٹ پاتھ پر ایک سائیڈ لگائی۔ اُور جونہی گاڑی سے اُتر کر باہر آیا۔ اتنی دیر میں وُہ فقیر ایک مرتبہ پھر کامل علی کی نگاہوں سے اُوجھل ہُوچکا تھا۔۔۔۔


(جاری ہے)

اُسکا کہنا ہے۔ کِسی اُور کو دیکھوں نہ کبھی
کیوں کہ اُسکو یہ میرا رُوپ بُرا لگتا ہے۔

مجھکو ہر چہرے میں آتاہے نظر اِک وُہ ہی
جُو نہ بھر پائے یہ بہروُپ !!!  ۔بُرا لگتا ہے۔

Tuesday, 19 May 2015

عامل کامل ابو شامل( فقیریا افلاطون)قسط 30



گُذشتہ سے پیوستہ۔
  
یہ بات جب عائقہ کو معلوم ہُوئی تو۔ وُہ ایک دن وجاہت کے آفس پُہنچ گئی۔۔۔۔ وجاہت اِس تمام معاملے کو ختم کرنا چاہتا تھا۔کیونکہ اگر یہ معاملہ کورٹ میں چلا جاتا ۔یا گھر سے باہر نکل جاتا۔ ہر دُو صورت میں وجاہت کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہیں رہتا۔۔۔ لیکن اب عائقہ بضد تھی۔ کہ،، معاہدے کے مطابق وُہ عدیمہ کا طلاق دیدے۔ اُور کچھ عرصہ بعد وُہ   سب کچھ سمیٹ کر کینیڈا شفٹ ہُوجائیں۔۔۔۔ لیکن وجاہت جانتا ہے کہ ،، عدیمہ  کو طلاق دینے کا مطلب تھا ۔کہ ،، وجاہت سیدھا فُٹ پاتھ پر آجائے۔۔۔۔۔۔۔۔اُف میرے خُدایا یہ کہانی ہے یا کوئی مکڑی کا جالا؟؟؟  کامل علی نے ابوشامل کے خاموش ہُوتے ہی  دُونوں ہاتھوں سے اپنا سَر تھام لیا۔۔۔۔۔ یار سیدھی سادھی گُتھی تو ہر ایک گھر میں سُلجھالی جاتی ہے۔ عامِلوں سے لوگ تب ہی رجوع کرتے ہیں ۔جب اُنہیں یہ محسوس ہُونے لگتا ہے۔کہ،، اب ڈُور اُن کے ہاتھ سے نکل چکی ہے۔ اب تُم دیکھنا ہم اِس اُلجھی ڈُور کو کیسے سُلجھاتے ہیں ۔ جسکے بعد حُکومت میں ہمارا پہلا مُہرہ وجاہت دہلوی ہمارے لئے کیسے راہ ہموار کرتا چلاجائے گا۔ ابوشامل نے شیطانی مسکراہٹ چہرے پر سجاتے ہُوئے کامل علی کو  اپنےمخصوص انداز میں آنکھ ماری۔

اَب مزید پڑھیئے۔
اگلے دُو دِن کامل علی نے ابو شامل کے ایماٗ پر جاناں کیساتھ خُوب گھومتے پھرتے ہُوئے گُزارے۔ ابو شامل خُود بھی ۲ دِن سے نجانے کہاں غائب تھا عصر کے وقت وُہ جاناں کیساتھ سمندر کے نظاروں سے لُطف اندوز ہُونے کے بعد گھر کی جانب لُوٹ رَہا تھا۔۔۔۔ جاناں کا مزاج سیر و تفریح کی وجہ سے کافی خُوشگوار  ہُوگیا تھا۔ اُور وُہ بات بات پر اپنی مسکراہٹ کے جلوے بکھیر رہی تھی۔ اچانک کامل علی کو یاد آیا کہ،، آج نفاست صدیقی نے وجاہت کو لیکر آنا ہے۔ جبکہ  ابوشامل کی ابھی تک  کوئی خیر خبر نہیں تھی۔۔۔ حالانکہ اُسے یقین تھا۔کہ ابوشامل نے ضرور آستانے پر انتظامات  مکمل کررکھے ہُونگے۔ لیکن ابوشامل نے ابھی تک یہ نہیں بتایا تھا ۔کہ،، وجاہت کا مسئلہ کسطرح سے حل کرنا ہے۔ اُور یہی بات اُسکے  لئے پریشانی کا باعث بنی ہُوئی تھی۔

مغرب کے وقت آستانے پر پُہنچتے ہی کامل علی کے اُوسان خطا ہُوگئے۔ کوٹھی پر پڑا تالہ کامل علی کو مُنہ چڑا رَہا تھا۔ کامل علی نے فوراً کچھ سُوچ کر کُوٹھی کا ذیلی دروازہ  کھول   کر اپنے مخصوص کمرے میں خُود ہی  اپنا میک اپ کیا۔ اُور ایک خُوبصورت شال لپیٹ کر  کار پُورچ میں چہل قدمی شروع کردی۔ اچانک کسی گاڑی کے رُکنے کی آواز سُنائی دی۔۔۔ کامل علی نے پریشانی کے عالم میں  دروازے کی جانب دیکھا۔  لیکن نفاست صدیقی کیساتھ ایک خُوبرو جوان کو آتا دیکھ کر خُود کو سنبھالتے ہُوئے اپنے چہرے پر مسکراہٹ سجالی۔

حضور !!! آج آستانے شریف پر اتنی خاموشی کیوں ہے۔؟؟؟ نفاست صدیقی نے کامل علی کے ہاتھوں پر بُوسہ دیتے ہُوئے حیرت سے استفسار کیا۔ ۔۔۔دراصل آج ہماری طبیعت کچھ ناساز تھی۔ اسلئے یہاں آنے کا اِرادہ  بھی نہیں تھا۔۔۔ لیکن چونکہ آپ سے مُلاقات کا وعدہ بھی کیا تھا۔سُو وعدہ نبھانے کیلئے آنا پڑا۔۔۔ آنے والے جُوان نے بھی کامل علی کی دست بُوسی کی تو نفاست صدیقی نے تعارف کراتے ہُوئے عرض کیا۔ حضور یہی میرے وُہ دوست ہیں جنکا میں نے آپ سے تذکرہ کیا تھا۔۔۔۔۔ ہم جانتے ہیں۔ یہ وجاہت دہلوی ہیں۔ کامل علی نے لہجے کو پُراسرار بناتے ہُوئے اپنی ناک پر انگلی پھیری۔۔۔۔۔۔ جی ۔جی ۔ حضور والا میں دراصل بھول گیا تھا۔کہ،، آپ جیسی  باخبر ہستی  کو بھلا میں کیا کوئی خبر و تعارف دے سکتا ہُوں۔ نفاست صدیقی نے لجاجت سے اپنی کم علمی کا اعتراف کرتے ہُوئے کہا۔

وجاہت دہلوی نفاست صدیقی سے کامل  علی شاہ کے متعلق کافی کچھ سُن چکا تھا اُور اب نہایت اشتیاق   و عقیدت سے  اُسکی نگاہیں کامل علی کے چہرے کا طواف کررہی تھیں۔۔۔ کامل علی نے کن انکھیوں سے نفاست صدیقی کو  باہر ٹہرنے کا اشارہ کیا۔ اُور وجاہت کا ہاتھ تھام کر اُسے اپنے خاص کمرے میں لے آیا۔ نشست پر براجمان ہُوتے ہی کامل علی نے گفتگو شروع کردی۔۔۔ ہمیں نفاست نے بتایا تھا۔کہ ،، میرا ایک دوست مشکل میں ہے۔۔ ہمیں اِس سے ذیادہ معلوم کرنے کی ضرورت بھی نہیں تھی۔کیونکہ ہم وجاہت دہلوی کو بھی اتنا ہی جانتے ہیں۔جتنا کہ خُود کو جانتے ہیں۔ ہمیں معلوم ہے ۔کہ،، آپ  صرف ایک غلطی کی وجہ سے نہیں۔بلکہ ایک کبیرہ گُناہ میں متواتر ملوث رہنے کی وجہ سے اِس آفت میں گھرے ہیں۔۔۔ وجاہت دہلوی کا شرمسار چہرہ  جھک گیا۔ اُسکی آنکھوں میں جھلملاتے آنسو دیکھ کر کامل علی نے مزید چُوٹ لگانے کا اِرادہ کرتے ہُوئے اپنی گفتگو جاری رکھی۔

دیکھو میاں آپ خُود کو اِس معاملے چاہے کتنا ہی بے قصور ٹہراوٗ۔ لیکن حقیقت یہی ہے۔ کہ باوجود اِس کے کہ،، آپکو عائقہ نے بِہلایا اُور پُھسلایا ہے۔ لیکن آپ کو بہکنا نہیں چاہیئے تھا۔ کیونکہ آپ ایک شادی شُدہ زندگی گُزار رہے تھے۔ جبکہ  عائقہ اپنی نفسانی ضرورتوں کی وجہ سے پستی میں گر رہی تھی۔۔۔ جس طرح ایک کنوارے   مردسے  لاکھ درجہ خطرناک  رنڈوا، مرد ہُوتا ہے۔ بالکل اِسی طرح ایک مطلقہ  یا بیوہ بھی  حدودِ جوانی میں ہمیشہ آتش فشاں کے دہانے پر موجود ہُوتی ہے۔ کیونکہ وُہ شراب پی چکے ہُوتے ہیں۔ اُور تشنگی کا احساس اُنہیں متواتر نشے کی دستیابی کیلئے اُکساتا رہتا ہے۔۔۔ لیکن آپ کو کیا ہُوا تھا؟؟؟ کیوں کہ،، نہ ہی آپ تشنہ تھے۔ اُور نہ ہی میخانے میں شراب کا ،کال  پڑا تھا۔ آپ نے  بجائےیہ کہ،، اُس کی  جسمانی ضرورتوں کو سمجھتے ہُوئے پھر سے اُسکا گھر آباد کرتے۔ خُود ہی بہتی گنگا سے ہاتھ دُھونے شروع کردیئے۔ سالی تو بہن کی طرح ہُوتی ہے وجاہت صاحب  لیکن افسوس کہ،، آپ نے اُسے بھی اپنی ہوس کا آلہ بنالیا۔۔۔ کامل علی کی گفتگو جاری تھی۔ اُور خُود کامل کو بھی سمجھ نہیں آرہی تھی۔کہ،، وُہ کیا کہہ رَہا ہے۔ اُور کیوں کہہ رہا ہے۔۔۔ کامل علی  گفتگو رُوکنا چاہتا تھا۔ لیکن الفاظ خُود بخود اُسکی زبان سے پِھسل رہے تھے۔ کہ،، اچانک وجاہت علی ، کامل کے قدموں سے لپٹ کر بےاختیار رُونے لگا۔

وجاہت دہلوی کے اچانک اِس طرح بِلک بِلک کر رُونے کی وجہ سے کامل علی پہلے تو خُود نروس ہُوگیا۔لیکن پھر خُود کو سنبھالتے ہُوئے وجاہت کے سر پر ہاتھ پھیرنے لگا۔ جسکی وجہ سے وجاہت دھیرے دھیرے نارمل ہُوکر  واپس اپنی نشست پر بیٹھ کر کامل علی سے کہنے لگا،، حضور مجھ سے جانے انجانے میں بُہت بڑا گناہ سرزد ہُوگیا ہے۔  لیکن میں  آج اللہ کریم کی بارگاہ میں آپکو گواہ بناتے ہُوئے سچی توبہ کرتا ہُوں۔کہ آئندہ ایسے کسی بھی گُناہ کا ارتکاب نہیں کرونگا۔۔۔آپ اللہ کے نیک بندے ہیں۔ اسلئے آپ بھی اللہ کے حضور میری معافی اور استقامت کیلئے دُعا فرمادیں۔ اُور مجھے اِس مصیبت سے نکلنے کا راستہ بتادیں۔۔۔ ورنہ  کئی زندگیاں اُور میرا سب کچھ میری اِن غلطیوں کی وجہ سے تباہ و برباد ہُوجائے گا۔ اُور میں کسی کو مُنہ دِکھانے کے قابل نہیں رہوں گا۔۔۔

کامل علی اگرچہ یہاں ڈھونگ کیلئے آیا تھا۔لیکن وجاہت کی توبہ نے اُس کے دِل میں گُداز پیدا کردیا تھا۔ اب وجاہت علی اُسکے لئے صرف ایک گاہک نہیں تھا۔بلکہ وُہ دِل  ہی دِل میں اُسکے لئے اللہ کریم سے آسانی کا سوال کررہا تھا۔۔۔  دیکھو وجاہت بھائی انسان تمام زندگی نیکی اُور بدی کی کے درمیان موجود مہین سے پُل پر سفر کرتا رہتا ہے۔ جب اپنے پروردیگار کی  رحمت و محبت کی جانب متوجہ ہُوتا ہے ۔ تو فلاح کی جانب گامزن رہتا ہے۔ لیکن ذرا بھی دھیان بہکنے لگے۔ تو ابلیس لعین اُسے  ذلالت  کی خُوفناک گھاٹی اتنے پُرکشش انداز میں دِکھانے لگتا ہے کہ،، بندہ خُود اِس    سراب کو حقیقت سمجھنے پر مجبور ہُوجاتا ہے۔اُور خُود کو ہلاکت میں ڈالنے کیلئے  بیقرار ہُوجاتا ہے۔۔۔۔  لیکن جہاں اللہ کریم نے ابلیس کو بے پناہ قوت عطا فرمائی ہے۔ وہاں یہ بات بھی اظہر من شمس کی طرح واضح ہے۔کہ،، احساس ندامت اُور توبہ مومن  کا وُہ ہتھیار ہے۔جو شیطان کی تمام محنت پر یکلخت پانی پھیر دیتا ہے۔۔۔ جہاں وُہ کریم  ،،مجرموں پر عتاب نازل فرماتا ہے۔ وہیں یہ بھی اعلان فرماتا ہے۔کہ اے ابن آدم اگرچہ تونے اپنے گناہوں کے سبب تمام سمندر کو آلودہ کردیا ہُو۔ یا تمام زمین و فلک تیرے گناہوں سے بھر جائیں۔ مجھے قسم ہے اپنی رحمت کی۔جب بھی بندہ ندامت  کیساتھ سچے دِل سے توبہ کرے گا۔ مجھ سے بڑھ کر کسی کو قبول کرنے والا مہربان ،،نہیں پائے گا۔

کامل علی کی گفتگو نے وجاہت کے چہرے کی مایوسی کو اُمید کے دِیوں سے رُوشن کردیا تھا۔۔۔۔ کامل علی نے اُس سے وعدہ کرلیا تھا ۔کہ ،، وُہ  ہر حال میں اپنی توبہ پر قائم رہے۔ انشااللہ ایک ماہ میں اُسکی جان  اِن تمام چکروں سے آزاد ہُوجائے گی۔۔۔۔۔۔وجاہت اور نفاست صدیقی کے  جانے کے بعد کامل علی بھی   کوٹھی  کو تالہ ڈال کر تھکے تھکے قدموں سے گھر کی جانب روانہ ہُوگیا۔گھر  کے دروازے کے باہر ایک فقیر جیسے کامل علی کا ہی منتظر تھا۔ جیسے ہی کامل علی دروازے کے قریب پُہنچا وُہ فقیر بُڑبڑاتے ہوئے وہاں سے پلٹ گیا۔ کامل علی کے کان میں فقیر کے صرف  دُو   جملے ہی سمجھ آسکے  تھے،، تیری آج کی مزدوری تیرے پچھلے گناہوں کا کُفارہ بن گئی ہے،، ابھی بھی وقت ہے بدل لے خُود کو اُور نِکل جا اُس پاکھنڈی کے چکر سے۔۔۔۔
(جاری ہے)۔

اُسکا کہنا ہے۔ کِسی اُور کو دیکھوں نہ کبھی
کیوں کہ اُسکو یہ میرا رُوپ بُرا لگتا ہے۔

مجھکو ہر چہرے میں آتاہے نظر اِک وُہ ہی
جُو نہ بھر پائے یہ بہروُپ !!!  ۔بُرا لگتا ہے۔

Monday, 18 May 2015

عامل کامل ابو شامل قسط ۲۹



گُذشتہ سے پیوستہ۔
  
پندرہ منٹ بعد حسب وعدہ ابوشامل نے نفاست صدیقی کو  کامل علی کے آستانے نُما کمرے تک پُہنچا کر  آہستگی سے دروازہ باہر سے بند کردیا۔۔۔ سامنے فرشی نشست پر کامل علی آنکھیں بند کئے تسبیح پر انگلیاں گھما رہا تھا۔  نفاست صدیقی احترام سے قالین پر چلتے ہوئے کامل علی کے ہاتھوں کا بوسہ لینے کیلئے اِس بات سے بے خبرآگےبڑھ رَہا تھا۔کہ،،  اُسکے اُور کامل علی کے علاوہ ابو شامل بھی  غائبانہ طُور پر کامل علی کے ساتھ براجمان ہُو کر کامل علی کے کان میں سرگوشیاں کررہا ہے۔۔۔۔ نفاست صدیقی تم نے تو ہمیشہ دیسی علاج اُور خانقاہی سسٹم کی مخالفت کی ہے۔ اُور تم ہمیشہ یہی کہتے رہے ہُو نا کہ،، کالا سفید ، نوری  یا شیطانی  علم کچھ نہیں ہُوتا۔ یہ سب کم علم لوگوں کی فراغت کا  سرچشمہ ہے۔۔۔ مگر دیکھ لُو۔۔ آج تُم اُسی سسٹم کا حصہ بننے کیلئے یہاں موجود ہُو۔۔۔۔  نفاست صدیقی  کامل علی کی بارُعب آ  واز سُننے کے بعد ایک لمحے کیلئے ٹھٹک کر ٹہر گیا۔اُسے اپنی سماعت پر یقین نہیں آرہا تھا۔ بھلا کوئی کیسے اُسکے ماضی کو کھنگال کر اُس کے سامنے رکھ سکتا تھا۔۔۔ اُسے یقین آگیا۔کہ،، واقعی  دُنیا میں بُہت سے علوم ایسے بھی ہیں۔ جو انسان کے اندر بھی جھانکنے کی صلاحیت پیدا کرسکتے ہیں۔۔۔۔۔  نفاست صدیقی نے کامل کے ہاتھوں پر بُوسہ دیکر لرزتی ہُوئی آواز میں کہا۔۔۔۔ شاہ صاحب میں اپنی  سابقہ فکر  اُور مادی فلسفے پر نادم ہُوں۔ آپ مجھے معاف فرماکر اپنی غلامی میں قبول فرمالیں۔۔۔

اَب مزید پڑھیئے۔

اَبوشامِل نے آنکھوں سے قبولیت کا اِشارہ دِیا تو کامل نے اپنے لہجے کو گھمبیر بناتے ہُوئے کہا،، صدیقی صاحب میں جانتا ہُوں۔کہ،، آپ نہایت اخلاص کیساتھ یہ باتیں کررہے ہیں۔۔۔ لیکن ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ،، آپ اپنی تکلیف کے سلسلے میں بے یقینی کا شِکار ہُوچُکے ہیں۔ اُور آپکو لگتا ہے۔کہ،، شائد دُنیا میں کسی کے پاس آپکے مرض کی دَوا موجود نہیں ہے۔ ویسے بھی دُنیا ٹھگوں سے بھری ہُوئی ہے۔ اسلئے آپکا یہ اندیشہ بھی بجا ہے ۔کہ کہیں آپکی نوے ہزار کی رقم برباد ہی نہ ہُوجائے۔ اسلئے ہم نے فیصلہ کیا ہے۔کہ،،  آپ  سے محبت کی بنیاد ہم بھی اخلاص کے   مضبوط جذبوں کی زمین پر رکھتے ہُوئے یہ خاص الخاص  آئل آپکو تحفے کی صورت میں پیش کریں۔۔۔۔  نفاست صدیقی  نے ہدیہ پیش کرنے کی بُہت کُوشش کی لیکن کامل علی نے اُسکی ایک نہ چلنے دی۔۔۔۔ جسکی وجہ سے نفاست صدیقی یہ تحفہ لینے کیلئے مجبور ہُوگیا۔۔۔۔۔

حضور اگر مہربانی فرماکر  مجھے کل کچھ وقت عنایت فرمادیں ۔تو میرے ایک خاص دُوست کو بھی زیارت کا شرف حاصل  ہُوجائے۔ وُہ آجکل ایک بُہت بڑی مصیبت میں گرفتار ہے۔۔۔۔ نفاست صدیقی عرض کرنے کے بعد کامل علی کے چہرے کو بڑی عقیدت  وپُراُمید نگاہوں سے دیکھنے لگا ۔۔۔ جبکہ کامل علی  آنکھ بند کیئے   ابوشامل  کی گفتگو نہایت دھیان سے سُننے کے بعد نفاست صدیقی کی جانب متوجہ  ہُوا۔۔۔۔ بیچارہ ایک اَنار دُو بیماروں کے درمیان نزاع کا باعث بن گیا ہے۔ ہم جانتے ہیں۔کہ،، آپ وجاہت دہلوی کو ہم سے مِلوانا چاہتے ہیں۔۔۔ لیکن کل ہم مُلاقات نہیں کرپائیں گے آپ ایساکیجیئے گا۔ اُنہیں پرسوں مغرب کے فوراً بعد لے آئیے گا۔۔۔ نفاست صدیقی پر مزید حیرتوں کے پہاڑ ٹوٹ پڑے تھے۔ کیونکہ نفاست صدیقی نے ابھی تک وجاہت  دہلوی کا نام تک زبان پر نہیں لیا تھا۔جبکہ کامل علی نے تو  نام کیساتھ مرض تک جان لیا تھا۔۔۔ بہرحال  کامل علی سے مُلاقات نفاست صدیقی میں بُہت بڑی تبدئلی لے آئی تھی۔ وہی نفاست صدیقی جو  اچھے اچھوں کو گھاس نہیں ڈالتا تھا۔ آج کامل علی سے رُخصت ہُوتے ہُوئے بے تحاشہ کامل علی کے ہاتھ   اُور پیروں  پر بُوسوں کی بُوچھاڑ کررہا تھا۔

یار یہ وجاہت  دہلوی کی کیا کہانی ہے۔؟؟؟ نفاست صدیقی کے کوٹھی سے نکلتے ہی کامل علی نے ابو شامل سے استفسار کیا۔۔۔۔ ابو شامل قالین پر بیٹھ کر مُسکراتے ہُوئے کہنے لگا۔بُہت عجیب سی کہانی ہے میرے یار۔ اِس کہانی کی ابتدا میں وجاہت دہلوی خود کو دُنیا کا سب سے ذیادہ خُوش قسمت انسان سمجھتا تھا۔جبکہ انجام میں آجکل وُہ خُود کو دُنیا کا بدنصیب حیوان سمجھنے پر مجبور ہُوگیا ہے۔۔ یار پہلیاں مُت بُجھواوٗ    بلکہ صاف صاف بتاوٗ کہ،، اصل کہانی کیا ہے؟کامل علی نے ابو شامل کو ٹوکتے ہُوئے کہا۔۔۔۔۔یار کامل تُم بھی بُہت بے صبرے  واقع ہُوئے ہو۔ میری جان ایک اچھی اُور مزیدار کہانی سُننے کیلئے بڑے پاپڑ بیلنے پڑتے ہیں۔ یونہی آسانی سے کوئی کہانی ہاتھ نہیں آجاتی۔۔۔۔ چلو بہرحال خفا نہ ہُو۔ میں تُمہیں سُنائے دیتا ہُوں ابو شامل نے کامل کا بگڑا ہُوا موڈ دیکھ کر کہانی سنانی شروع کی۔

وجاہت دہلوی کی عُمر تقریباً پنتالیس برس کے قریب ہے۔ موصوف  ایک سرکاری اِدارے میں ڈائریکٹر کے فرائض انجام دے رہیں۔ چونکہ اُوپر کی آمدنی لامحدود ہے، اِس لئے جناب اکثر سیر سپاٹے کیلئے کسی نہ کسی بہانے  مُلک سے باہر پائے جاتے ہیں۔ صحت قابل رَشک ہے جسکی وجہ سے اپنی عُمر سے کم از کم  دس برس چھوٹے دِکھائی دیتے ہیں۔۔۔  چھ برس قبل ہی موصوف کو شادی کا خیال آیا تھا۔ لہذا ایک بہت بڑے صنعتکار کی ۲۸ برس کی بیٹی  عدیمہ  سے محبت کی شادی رَچالی۔۔۔۔ زندگی خُوب عیش و عشرت میں گُزر رہی تھی۔ کہ رَفتہ رَفتہ اُنہیں محسوس ہُونے لگا۔کہ عدیمہ کی بڑی بہن عائقہ بھی اِن میں بُہت ذیادہ دلچسپی  رکھتی ہے۔  ۔۔۔عائقہ اگر  چہ مطلقہ بھی تھی۔ اُور عدیمہ سے پانچ برس بڑی بھی تھی۔ اُس کے باوجود بھی  عائقہ کے نقوش و جسامت عدیمہ سے کئی گُنا ذیادہ متوجہ کرنے والے ہیں۔۔۔ پھر  شادی کو ایک برس بھی نہیں گُزرا تھا۔ کہ محترمہ نے  وجاہت کے سامنے اپنی تمام کیفیات بیان کردیں۔۔۔ ابتدا میں وجاہت کی شرافت اُسے عائقہ سے دُور رہنے میں کسی حد تک معاون رہی۔ لیکن عائقہ کسی نہ کسی بہانے اب اپنی بہن عدیمہ کے گھر چلی آتی۔ اور جب وجاہت کے گھر پہلے بیٹے زین کی پیدائش ہُوئی تو گویا عائقہ کو زین کی صورت میں روزانہ  گھر چلے آنے کا بہانہ دستیاب ہُوگیا۔ زین کے بعد وجیہ کی پیدائش نے عدیمہ کے حُسن کو مزید گہنا دیا۔۔۔۔ اُور اسطرح وجاہت صاحب بھی رفتہ رفتہ پکے آم کی مانند عائقہ کی گُود میں آگرے۔


اسطرح وجاہت دہلوی بیک وقت جائز و ناجائز دُو شوہروں کا کردار نبھانے لگے۔۔۔ ابھی چند ماہ قبل ہی  عدیمہ نے  خُود میں وجاہت کی عدم دلچپی کی وجوہات کی طرف توجہ دینی شروع کی۔ تو اِنہیں معلوم ہُوا کہ،، انکے دَر و دیوار کو کھوکھلا کرنے والی کوئی اُور نہیں اِنکی اپنی سگی بہن ہے۔ بات اگرچہ کھل جاتی تو اِسمیں سب سے ذیادہ نقصان عدیمہ کی فیملی کو ہی اُٹھانا پڑتا۔ اِس لئے عدیمہ نے سب سے پہلے عائقہ کو ہی تنبہی کی۔ لیکن عائقہ نے عدیمہ کی ایک نہیں چلنے دی۔ اُلٹا سارا الزام عدیمہ کے سر تھونپتے ہُوئے جتایا۔کہ،، وُہ خُود اپنے شوہر کو خُوشیاں نہیں دے پارہی ہے۔ اُور اپنے شوہر کی عدم دلچسپی کی سزا مجھے دینا چاہتی ہے۔۔۔۔بہرحال عدیمہ نے عائقہ کو خبردار کردیا ۔کہ،، وُہ اب اسکے گھر نہ آیا کرے۔ ورنہ وُہ پاپا کو سب کچھ بتانے پر مجبور ہُوجائے گی۔۔۔۔ دوسری طرف عدیمہ نے وجاہت کیساتھ سخت رویہ اپناکر باور کروادیا ۔ کہ وُہ  وجاہت اُور عائقہ کے ناجائز رشتے سے باخبر ہُو چکی ہے۔۔۔ اُور وجاہت کو  صرف بچوں کی خاطر ایک آخری موقع دینا چاہتی ہے۔۔۔ وجاہت اِس تمام صورتحال سے ایسا سٹپٹایا کہ،، عدیمہ کو یہ یقین دِلانے کیلئے کہ،، اُسکی زندگی میں عدیمہ سے بڑھ کر کچھ بھی نہیں ہے۔ اُس نے حال ہی میں اپنی تمام جائز و ناجائز آمدنی سے ایک اپارٹمنٹ کا پروجیکٹ شروع کیا  ہُوا تھا۔ وُہ تمام پروجیکٹ عدیمہ کے نام کرڈالا۔۔۔۔


یہ بات جب عائقہ کو معلوم ہُوئی تو۔ وُہ ایک دن وجاہت کے آفس پُہنچ گئی۔۔۔۔ وجاہت اِس تمام معاملے کو ختم کرنا چاہتا تھا۔کیونکہ اگر یہ معاملہ کورٹ میں چلا جاتا ۔یا گھر سے باہر نکل جاتا۔ ہر دُو صورت میں وجاہت کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہیں رہتا۔۔۔ لیکن اب عائقہ بضد تھی۔ کہ،، معاہدے کے مطابق وُہ عدیمہ کا طلاق دیدے۔ اُور کچھ عرصہ بعد وُہ   سب کچھ سمیٹ کر کینیڈا شفٹ ہُوجائیں۔۔۔۔ لیکن وجاہت جانتا ہے کہ ،، عدیمہ  کو طلاق دینے کا مطلب تھا ۔کہ ،، وجاہت سیدھا فُٹ پاتھ پر آجائے۔۔۔۔۔۔۔۔اُف میرے خُدایا یہ کہانی ہے یا کوئی مکڑی کا جالا؟؟؟  کامل علی نے ابوشامل کے خاموش ہُوتے ہی  دُونوں ہاتھوں سے اپنا سَر تھام لیا۔۔۔۔۔ یار سیدھی سادھی گُتھی تو ہر ایک گھر میں سُلجھالی جاتی ہے۔ عامِلوں سے لوگ تب ہی رجوع کرتے ہیں ۔جب اُنہیں یہ محسوس ہُونے لگتا ہے۔کہ،، اب ڈُور اُن کے ہاتھ سے نکل چکی ہے۔ اب تُم دیکھنا ہم اِس اُلجھی ڈُور کو کیسے سُلجھاتے ہیں ۔ جسکے بعد حُکومت میں ہمارا پہلا مُہرہ وجاہت دہلوی ہمارے لئے کیسے راہ ہموار کرتا چلاجائے گا۔ ابوشامل نے شیطانی مسکراہٹ چہرے پر سجاتے ہُوئے کامل علی کو  اپنےمخصوص انداز میں آنکھ ماری۔

(جاری ہے)۔

اُسکا کہنا ہے۔ کِسی اُور کو دیکھوں نہ کبھی
کیوں کہ اُسکو یہ میرا رُوپ بُرا لگتا ہے۔

مجھکو ہر چہرے میں آتاہے نظر اِک وُہ ہی
جُو نہ بھر پائے یہ بہروُپ !!!  ۔بُرا لگتا ہے۔

Saturday, 16 May 2015

عشق کے رنگ شیخ صنعان کے سنگ آخری قسط نمبر11



گُذشتہ سے پیوستہ

اچھا  پھر یہ بتاوٗ۔ اگر  تُم نہ شراب  پیتے ہُو۔ اُور نہ ہی خنزیر کا گُوشت کھاتے ہُو۔۔۔ تو ایک ایسی لڑکی سے کیوں شادی کرنا چاہتے ہُو۔ جو یہ دونوں  چیزیں حلال جانتی ہے۔۔۔۔ اُور میں ایک ایسے شخص کے ہاتھ میں اپنی بیٹی کا ہاتھ کیسے دے سکتا ہُوں ۔ جو ہمارے کھانے پینے کو حلال نہیں سمجھتا۔؟؟؟؟۔ اب یا تو تُم شراب و کباب میں ہمارا ساتھ دیکر ثابت کرو۔کہ،، تم ہمارے جیسے ہی ہُو۔ اُور ٹریسا کے قابل ہُو۔ یا پھر وعدہ خلافی کا اعتراف کرتے ہُوئے ہمیشہ کیلئے تبوک سے چلے جاوٗ۔۔۔۔  راہب نشے کی حالت میں چِلا چلا کر بُول رہا تھا جسکی وجہ سے تمام مہمان متوجہ ہُوکر بوڑھے راہب اور شیخ کے قریب سِمٹنے لگے تھے۔ اور اَب سب یہی نعرہ لگارہے تھے۔ کہ ثابت کرو یا واپس جاوٗ۔۔۔۔۔ شیخ صنعان کچھ لمحے تمام تماشائیوں کو دیکھتے رہے۔۔۔ اُور پھر اچانک خنزیر کے کباب نُوچ نُوچ کر اپنے حلق سے اُتارنے لگے۔ اتنے میں کسی شراتی  یہودی نے شیخ صنعان کے سامنے   شراب کا جام بھی پیش کردیا۔ اُور   شیخ صنعان نے بغیر کسی تاثر کے اُسے بھی اپنے حلق سے انڈیل لیا۔۔۔۔۔

اَب مزید پڑھیئے۔

شیخ محمود  اُور شیخ فرید اپنے مرشد کریم کی حالت دیکھ کر چیختے ہُوئے یہودیوں پر جھپٹ پڑے لیکن شیخ صنعان نے اُنہیں خبردار کرتے ہُوئے کہا کہ،،  مجھ پر یہودی کوئی جبر نہیں کررہے۔ جسکی وجہ سے تُم انہیں انتقام کا نشانہ بناسکو۔ بلکہ کیا تُم نے نہیں دیکھا کہ،، میں نے اپنی مرضی اُور اختیار سے  سب کچھ کھایا پیا ہے۔ لہذا اگر تمہارے دِل میں میری  تھوڑی سی بھی عزت باقی ہے۔ تو فوراً اِس محفل سے نکل جاوٗ۔

تھوڑی دیر بعد ہی  بوڑھےراہب کا ملازم یہ تمام واقعہ بلا کم و کاست ٹریسا کو سُنا رہا تھا۔۔۔ کیا  تُم نے اپنی آنکھوں سےشیخ صنعا ن کو شراب و کباب کھاتے دیکھا ہے۔ اُن کے چہرے پر تاثرات کیسے تھے۔ اور سب سے اہم بات یہ کہ،،  وُہ تو مسلمانوں کے مذہبی پیشوا ہیں ۔ پھر اپنے مذہب میں حرام  کردہ چیزوں کو کیسے کھا سکتے ہیں۔۔؟؟؟؟ ٹریسا نے تجسس سے کئی سوالات ایک ساتھ کرڈالے۔۔۔۔ جی خانم میں نے اپنی آنکھوں سے اُنہیں سب کچھ  تیار کرتے اُور کھاتے پیتے دیکھا ہے۔ البتہ اُنکی حالت دیکھ کر میں وثوق سے کہہ سکتا ہُوں۔کہ وُہ سب کچھ بڑی بےبسی اُور بیچارگی کی حالت میں صرف آپکو حاصل کرنے کیلئےکررہے ہیں۔ البتہ مجھے تو ایسا لگتا ہے جیسے وُہ آسیب زدہ ہُوں۔ نہ کوئی فالتو بات کرتے ہیں۔ نہ کوئی احتجاج۔ بس جیسے اُنہوں نے خُود  کو حالات کے سپرد کردیا ہُو۔ ملازم نے نہایت تاسف سے شیخ صنعان کی حالت زار پر تبصرہ کرتے ہُوئے کہا۔۔۔ یہ تبصرہ سُننے کے بعد ٹریسا کے دل میں آج شیخ صنعان کیلئے کچھ نئے جذبے پنپنے لگے تھے۔

اُس رات بوڑھے راہب کا خیال تھا کہ،، سُور کاٹنے اُور کباب بنانے کیلئے شیخ صنعان کبھی راضی نہ ہُونگے۔ لیکن جب شیخ صنعان اِس مرحلے سے بھی گُزر گئے۔ تو خلاف توقع راہب نے شراب و کباب کھانے کیلئے اصرار کرڈالا حالانکہ پہلے اُس کے دماغ میں ایسی کوئی بات سرے سے موجود ہی نہیں تھی۔ لیکن شیخ صنعان نے اُسکی یہ خاہش بھی پُوری کرکے گُویا جلتی پر تیل چھڑک دیا تھا۔ جسکی وجہ سے راہب نے شیخ صنعان کو نیا حُکم جاری کردیا کہ،، اب ہر ہفتے ایک سُور کاٹ کر ہمارے گھر پُہنچانا ہُوگا۔ اور ہمارے ساتھ تناول بھی کرنا ہُوگا شیخ صنعان نے یہ شرط بھی  بلا چُون چرا تسلیم کرلی تھی۔

جلد ہی یہ خبر تبوک  میں بہت سے لوگوں تک پُہنچ چکی تھی۔کہ اصفہان سے آنے والے عظیم شیخ نے اپنا مذہب ایک لڑکی کی خاطر بوڑھے یہودی راہب کے  ہاتھ فروخت کردیا ہے۔ اُور  ہر ہفتہ نا صرف شیخ اپنے ہاتھوں سے خنزیر کا گوشت بناتا ہے۔ بلکہ شراب و کباب  سے بھی شُغل کرنے لگا ہے۔ لوگوں کے دل سے شیخ صنعان کی عقیدت نکل کر نفرت کا رُوپ دَھار چکی تھی۔۔۔ اُور اِس تبدیلی  کا سہرا بہرحال  یہودی راہب کے سر جاتا تھا۔

شیخ فرید اُور شیخ محمود اپنے شیخ کی واپسی کے آج بھی تبوک میں منتظر تھے۔ لیکن اب تو لُوگوں کے سوالات سے عاجز آکر اُنہوں نے حجرے سے نکلنا بھی بند کردیا تھا۔ یہ  بھی بُہت غنیمت تھا ۔کہ،، اُنہیں رہنے کیلئے اِمام مسجد نے جو حجرہ دیا تھا ۔ وُہ ابھی تک خالی کرنے کیلئے کوئی اِشارہ تک نہیں دِیا تھا۔ بلکہ اِمام مسجد بھی دِل کی گہرائیوں سے چاہتے تھے ۔کہ شیخ باعزت طریقے سے لُوٹ آئیں۔ تاکہ مسلمانوں پر یہودیوں کو جو ہنسنے کا جواز میسر آگیا ہے۔ یہ سلسلہ ختم ہوجائے۔۔۔۔

رات آدھی سے ذیادہ بیت چُکی تھی۔ لیکن شیخ فرید غُم مُرشد میں نرم بستر پر اِس طرح کروٹیں بدل رہے تھے۔ جیسے دُونوں اطراف سے بُہت سے سانپ اُنہیں جکڑ لینے کی کوشش کررہے ہُوں۔۔۔۔ کیا بات ہے بھائی فرید میں بُہت دیر سے دیکھ رہا ہُوں کہ،، آج تم مرغِ بسمل کی طرح اذیت سے دُوچار ہُو؟؟؟۔۔۔ شیخ محمود نے بستر سے اُٹھ کر فرید کی پیشانی کو چُھوتے ہوئے استفسار کیا۔ شیخ فرید بھی محمود کی  قربت کو محسوس کرنے کے بعد بستر سے اُٹھ بیٹھے۔ اُور اچانک بلک بلک کر رُوتے ہُوئے کہنے لگے ۔ بھائی ہمارے مُرشد کریم کی عظمت و رِفعت کو کس کی نظروں نے گہنا کر رکھ دیا۔ وُہ  بدر کامل کی طرح پورے اصفہان کو جگمانے والے تھے۔ کس طرح خُود ظلمتوں کی وادی میں ڈُوب گئے؟؟؟۔۔۔۔ میرے بھائی فرید مجھے تو خُود اِس معاملے کی سمجھ نہیں آرہی ۔کہ جِن کی ایک نگاہ سے ولی پیدا  ہُوتے تھے۔ وُہ خُود کیسے دامِ فریب میں مُبتلا ہُوگئے۔۔۔۔۔ لیکن محمود بھائی مجھے کچھ کچھ سمجھ آرہا ہے۔ شیخ فرید نے کھوئے کھوئے لہجے میں سُوچتے ہُوئے کہا۔۔۔۔۔ کیا سمجھ آرہا ہے بھائی فرید مجھے بھی بتاوٗ ۔ خُدا کی قسم اگر میرے اختیار میں ہُوا۔ تو میں اپنے مُرشد کیلئے اپنی جان بھی نچھاور  کرنے کیلئے تیار ہُوں۔

محمود تمہیں یاد ہے حج کیلئے آنے والا وُہ قافلہ جو بغداد سے تبوک پُہنچا تھا۔ اُور امیر قافلہ نے جب شیخ بغداد  عبدالقادر الجیلانی  (رحمتہ اللہ علیہ)  کا یہ قول ہمارے مُرشد کے سامنے پیش کیا تھا کہ،، تمام اُولیا کی گردن ہمارے قدم تلے ہے،، جسکے جواب میں مرشد کریم نے کہا تھا۔ کہ میں تو خُود محبوبین میں سے ہُوں۔ اُور میری گردن ہر ایک ولی کے قدم سے آزاد ہے۔۔۔۔۔۔ ہاں ہاں فرید بھائی مجھے یاد ہے۔ اُس واقعہ کے بعد ہم میں بھی جُرات نہیں تھی۔کہ  مرشد کریم کے جلال کا سامنا کرسکیں۔شیخ محمود نے جواب دیتے ہُوئے کہا۔۔۔ پتہ نہیں کیوں لیکن محمود بھائی میرا دِل گواہی دیتا ہے۔ کہ،، ہمارے شیخ اُسی دِن سے بیمار پڑتے چلے گئے۔  میرے منہ میں خاک مگر یہی شیخ کا  کلمہ ہوسکتا ہے اُنکی رجعت کا باعث بن گیا ہُو۔ اِس لئے میں نے فیصلہ کیا ہے۔کہ،، میں کل ہی بغداد روانہ ہُوجاوٗں گا۔ اُور شیخ عبدالقادر جیلانی (رحمتہ اللہ علیہ) کی بارگاہ میں اپنے شیخ کی آسانی کیلئے سوال کروں گا۔۔۔۔پھر ٹھیک ہے میں بھی تمہارے ساتھ ہی چلوں گا۔ شیخ محمود نے فوراً جواب دیا۔۔۔۔ نہیں میرے بھائی یہاں مسلمان تک ہمارے شیخ کی جان کے دُشمن ہُوئے جاتے ہیں۔ ایسا غضب نہ کرو۔ بلکہ یہاں شیخ کی حفاظت کیلئے تُم ثابت قدم رَہو۔ اُور بغداد جانے کی ذمہ داری مجھ پر ڈال دُو۔

اگلی صبح بغداد  جانے والے ایک  شامی قافلہ کے ہمراہ شیخ فرید عازم سفر تھے۔۔۔۔ قافلےمیں  خُوش قسمتی سے شیخ فرید کی مُلاقات ایک کم گُو نوجوان رافع سے ہُوگئی ۔جو اتفاق سے سیدنا عبدالقادر جیلانی (رحمتہ اللہ علیہ)  کا عاشق و مُرید تھا۔ جب اُسے معلوم ہُوا کہ،، شیخ فرید خاص طور میرے  مُرشد کریم کی زیارت کیلئے تبوک جارہے ہیں۔ تو وُہ راستے شیخ فرید پر خاص مہربانی کرتا رَہا۔ اُس نے بتایا کہ شیخ عبدالقادر جیلانی (رحمتہ اللہ علیہ)  نے جب سے  سیادت اولیا کا اعلان فرمایا ہے۔ مشرق  و مغرب اُور شُمال تا جنوب سے اُولیائے کرام کی جماعتیں جُوق در جُوق   اپنی گردنیں   عملی طور پر آپکے قدموں تلے پیش کرنے آرہی ہیں۔سُنا ہے کسی ایک بدنصیب عارف کے علاوہ کائنات میں موجود ہر ایک ولی نے آپکی قیادت کو قبول کرکے خُود کو رجعت سے محفوظ کرلیا ہے۔ رافع کے اِس جملے  کو سُن کر شیخ فرید کے چہرے پر کئی رنگ آکر گُزر گئے۔۔۔ 

بغداد پُہنچ کر رافع جب سُورج ڈھلنے کے بعد شیخ فرید کو لیکر مدرسہ  قادریہ پُہنچا۔ تو   لوگوں کا  جم غفیر مدرسہ کے احاطے میں دیکھ کر حیران ہُو کر پوچھنے لگا۔ کیا یہاں آج کوئی جلسہ ہے۔؟؟؟ میرے بھائی صرف آج ہی نہیں یہاں روزانہ ایسا ہی لوگوں کا ہجوم جمع ہوتا ہے۔ اُور ابھی تو چوتھائی حصہ لوگ بھی نہیں پُہنچے ہیں۔ تھوڑی دیر میں ہی یہاں تِل دھرنے کو بھی جگہ باقی نہ رہے گی۔ یہاں صرف غُوث پاک (رحمتہ اللہ علیہ)  کے کلام کو  محفوظ کرنے والوں کی تعداد ہی ستر ہزار سے ذیادہ ہوجاتی ہے۔ جبکہ کئی ہزار لوگ وُہ ہُوتے ہیں ۔ جو روزانہ یہاں توبہ کی توفیق حاصل کرتے ہیں۔۔۔۔ اُور کئی  جوان و پیر ہر مجلس میں عشقِ الہی میں ایسے گُم ہُوجاتے ہیں ۔ کہ  ،، اپنی جان  جانِ آفرین کے سُپرد کرتے ہُوئے دُنیا سے ہمیشہ کیلئے ناطہ تُوڑ لیتے ہیں ۔
جُوں جُوں وقت گُزرتا گیا ۔رافع کے قُول کی تائید ہُوتی چلی گئی شیخ فرید نے جب کلامِ غوث الاعظم کی آبشار سُنی تو اُسے یُوں محسوس ہُونے لگا۔ جیسے وُہ غموں کے آزار سے نکل کر جنت کی سیر کو آنِکلا ہُو۔ آپ کے سادہ جملوں کی تاثیر بِلا شُبہ آب حیات سے بڑھ کر ۔ اُور آپکے چہرے کے گرد نُور کا ہالا چاند کو شرمانے اُور دِلوں کو مُوہ لینے کیلئے کافی تھا۔سُبحان اللہِ وبحمدہ ِ سُبحان اللہ العظیم۔

آپ کی آواز اتنی نرم و رَسیلی  تھی کہ"  جیسے کانوں میں رَس گھولتی ہُوئی  نس  نَس میں عشق ِ الہی  کی قندیل آویزاں ہو رہی ہُوں ۔ اُور  دل کے تمام دریچوں  میں تاثیر کے شگوفے پھوٹتے محسوس ہُونے لگے تھے۔ جس پر کمال یہ بھی کہ" اتنی دھیمی آواز بھی لاکھوں کے مجمے میں سب کو یکساں سُنائی دے۔ الفاظ اتنے دلکش و سادہ ہونے کے باوجود ذہن میں ایسے عجیب و غریب مفاہیم کو جنم دینے لگے ۔ جیسے سُننے والا لُوح محفوظ کا مطالعہ و مُشاہدہ کررہا ہو۔

شیخ فرید کی یُوں تو تمام زندگی ہی  ایک سیلانی  کی مانند اسفار میں گُزری تھی۔ آپ نے رُومی نقوش کی کاٹ بھی دیکھ رکھی تھی۔ اُورہند کے نمکین حُسن کو بھی  مُلاحظہ کیا تھا۔ فارس کے گلاب و زعفران کی آمیزش سے خد و خال کیساتھ ساتھ سُرخ و سپید ترُکوں کا بھی مُشاہدہ کیا تھا۔لیکن چہرہ ءِ غُوث الاعظم پر نگاہ پڑتے ہی خود بخود نگاہیں جھکا لینے کو جی چاہنے لگا۔کہ" مُبادا مسلسل دید بے اَدبی میں نہ شُمار ہوجاۓ۔ دل کی دھڑکنیں بیتابی سے صدا بلند کرنے لگی تھیں۔کہ" واقعی رَسول اللہ ﷺ کے خُون کی یہی شان ہے۔ کہ" اِنہیں اُولیاء اللہ کی سرداری سُونپی جاۓ۔ لاریب اِنہی حُسن و جمال کے پیکر کو سزاوار ہے یہ کہنا۔ کہ" میرا قدم ہر ایک ولی کی گردن پر ہے۔ اُور بیشک میں گواہی دیتا ہُوں کہ" آپ قدم ذیشان میری بھی گردن و پیشانی بلکہ چشم و  قلب  پر بھی ہے۔شیخ صنعان کی بس اب ایک ہی آرزو تھی کہ" بس کسی طرح نگاہِ غوث الاعظم اِس ادنیٰ فقیر پر پڑ جائیں۔ اور آپ اداۓ ناز سے فرمائیں۔ کہ" مانگ اے بھکاری کیا مانگتا ہے۔ اور میں اپنے من کی مُراد مانگ کر ہمیشہ کیلیۓ اَمر و سرخرو ہوجاؤں۔

رافع نے شیخ فرید کو پیشکش کی تھی کہ آپ میرے ساتھ میرے  گھر چل کر رہیں۔ لیکن شیخ فرید کا اصرار تھا۔کہ جب تک دِل کی مُراد پُوری نہ ہُوگی اِس آستاں سے ایک لمحے کیلئے بھی جُدا ہُونا گوارا نہیں۔ شیخ فرید نے مدرسہ غوث الاعظم میں مسقل ڈیرے ڈال لئے تھے۔ آپکا دن روزہ اور تلاوت میں گُزر جاتا۔ جبکہ رات وعظ کے بعد قیام الیل کیلیے وقف ہوچکی تھی۔ آپ کئی دن سے منتظمین مدرسہ سے اپنے لیۓ کوئی خدمت کا سوال کررہے تھے۔ لیکن ہمیشہ ایک ہی جواب سُننے کو ملتا کہ" مدرسہ کی تمام ذمہ داریاں ایک عرصے سے از خود لوگوں نے سنبھال رکھی ہیں۔ اُور اِن میں سے کوئی اس نعمت کے ایثار کیلئے تیار نہیں۔ ایک دن شیخ فرید کے اصرار پر رافع نے بھی بُہت کوشش کی لیکن کامیابی نصیب نہیں ہوئی۔ اِسی دوران کہیں سے آواز بُلند ہوئی کہ" کسی کو خاکروب کی بھی خبر ہے۔ وُہ کئی دن سے غیر حاضر ہے۔ جسکی وجہ سے طلبا کو بیت الخلا میں اذیت کا سامنا کرنا پڑرَہا ہے۔ یہ سُن کر شیخ فرید کی آنکھیں چمک اُٹھیں۔

شٰیخ فرید نے اَز خُود اپنے لئے  ایک کام تلاش کرلیا تھا۔ آپ فجر  سے قبل اُور عصر کی نماز کے بعد لباس تبدئل کرکے طلباٗ کے بیت الخلا کی صفائی کیلئے پُہنچ جاتے۔ اُور جب صفائی سُتھرائی سے فارغ ہُوجاتے تب غُسل  و لباس کی تبدئلی کے بعد دُوبارہ عبادت و تحصیل علم  میں سرگرداں ہُوجاتے۔ ایک دِن کافی حبس کے بعد اچانک موسم سُہانہ ہُوگیا۔ اُور عصر کی نماز کے بعد موسلادھار بارش برسنے لگی۔ یہ وہی وقت تھا۔ جب شیخ فرید غلاظت کا ٹوکرہ ،اپنے  ہاتھوں میں تھامے اُسے جنگل کے سُپرد کرنے جارہے تھے۔

بارش کی بوچھاڑ کی وجہ سے  کھجور  کے پَتوں سے بنی ٹوکری غلاظت کو خُود میں مقید رکھنے میں ناکام ہُوتی نظر آنے لگی۔ تو شیخ فرید کو خطرہ محسوس ہُونے لگا کہ،، کہیں ٹُوکری سے غلاظت بہہ کر  مدرسہ کے صحن کو آلودہ نہ کردے۔ یہ خیال آتے ہی شیخ محمود کے ذہن میں ایک تدبیر آئی ۔ اُور آپ نے ایک ہاتھ سے  ٹوکری کو سنبھالا جبکہ دُوسرے ہاتھ سے کاندھوں پر پڑی چادر  کو سمیٹ کر سَر پر رَکھنے کے بعد دُونوں ہاتھوں کی مدد سے غلاظت کی ٹوکری کو  اُس چادر پر رَکھ لیا۔ اَب گندگی بہہ بہہ کر سَر پر موجود چادر   و قمیص کو آلودہ کرنے لگی تھی۔ لیکن شیخ فرید  بُہت تیز چلتے ہُوئے مدرسے کی حُدود سے نِکلنے میں کامیاب ہُوچُکے تھے۔ آپ کو اُس وقت معلوم ہی نہیں ہُوسکا کہ،،  سُلطانُ اُولیا ، شاہ جیلانی، محبوب سُبحانی، پروازِ لامکانی ۔ (رحمتہ اللہ علیہ) اپنی نگاہِ کریمانہ  سے آپکی تمام کشمکش کو نہایت اشتیاق سے دیکھ کر تبسم فرمارہے ہیں۔

بوڑھا راہب شیخ صنعان کی مستقل مزاجی سے ایک  نفسیاتی مریض بَن چُکا تھا۔ اب اُسے ہر وقت بس یہی ایک  دھڑکالگا رہتا تھا۔کہ،، کہیں شیخ صنعان واقعی  اُسکی بیٹی کو اِس سے جُدا کرنے میں کامیاب تو نہیں ہُوجائے گا۔ اُور ویسے بھی اُسکے لئے یہ بات بھی کسی تکلیف سے کم نہ تھی۔کہ،، جُوں جُوں راہب کے صبر کا پیمانہ لبریز ہُونے لگا تھا۔ وُہ شیخ صنعان کیساتھ مزید سختی سے پیش آنے لگا تھا۔ لیکن چند دِن سے وُہ محسوس کررہا تھا۔ کہ ٹریسا دبے دَبے لفظوں میں شیخ صنعان کی حمایت میں بُولنے لگی تھی۔ ۔۔ جسکی وجہ سے شیخ صنعان نے آج ایک جُوا کھیلنے کا اِرادہ کیا تھا۔ اُور نجانے کیوں  ہزار اندیشوں کے باوجود بھی اُسے لگتا تھا کہ،، یہ بازی ہر گز شیخ صنعان نہیں جیت پائے گا۔

تھوڑی دیر بعد جب بوڑھے راہب کے ایما پر شیخ صنعان کمرے میں نظریں جھکائے داخل ہُوئے ۔ اُنہیں دیکھ کر ایسا لگ رَہا تھا۔ جیسے کسی مریض نے مُدتوں سے کھانا پینا چھوڑ دیا ہُو۔ نقاہت کی وجہ سے چہرے کی آب و تاب بھی ماند پڑچُکی تھی۔ لیکن وُہ آج بھی ہمیشہ کی طرح بغیر کسی سہارے کے ایسے کھڑے تھے۔ جیسے کوئی بُوڑھا برگد کا پیڑ ہَزاروں ٹہنیوں کا بُوجھ خُود پر لادے جھکنے کیلئے تیار نہ ہُو۔۔۔ راہب نے شیخ کے چہرے پر نگاہیں جماتے ہُوئے گفتگو کا آغاز کیا۔ شیخ صنعان میں آج تُم سے  حتمی اُور آخری بازی کھیلنے جارہا ہُوں۔ جس میں جیت کسی ایک کا مُقدر ٹہرے گی۔ جبکہ دوسرے کے مقدر میں دائمی ہار ہُوگی۔ لیکن اِس بازی میں   میری طرف سے کوئی جبر نہیں ہے ۔ اگر تُم  یہ کھیل نہ کھیلنا چاہو۔ تو میری طرف سے تُمہیں مکمل چُھوٹ حاصل ہے۔کہ،، تُم خاموشی سے واپس لُوٹ جاوٗ۔ اُور اِس تمام  واقعہ اور ٹریسا کی محبت کو ڈراوٗنا خواب سمجھ کر بھولنے کی کُوشش کرنا۔

راہب  کیاتُم  نہیں جانتے ۔کہ،، ٹریسا کی محبت میرے لئے کوئی کھیل نہیں ہے۔ اُور اُسے چھوڑنا یا بھولنا بھی میرے اختیار میں نہیں ہے۔ میں تمہارے تمام ستم صرف ٹریسا کی وجہ سے برداشت کررہا ہُوں۔ اُور میں نے تُمہاری تمام جائز اُور ناجائز شرائط کو بنا کسی حیل و حجت کے پُورا کیا ہے۔ میری تو یہی استدعا  ہے۔کہ اَب تم  بھی ٹریسا سے میری لازوال محبت کے جذبے کی قدر کرتے ہُوئے جبر کی راہ سے باز آجاوٗ۔ اُور ٹریسا کا ہاتھ مجھےاِس یقین کیساتھ سُونپ دُو۔ کہ دُنیا میں مجھ سے ذیادہ ٹریسا کو کوئی محبت نہیں دے پائے گا۔۔ شیخ صنعان نے راہب کو جواب دیتے ہُوئے پُراُمید نگاہوں سے دیکھا۔

ٹھیک ہے ابھی معلوم ہُوجائے گا۔ کہ،، تمہاری باتوں میں کتنی صداقت ہے۔ اُور تُم ٹریسا کیلئے واقعی کیا کچھ کر سکتے ہُو۔۔۔ بس ایک آخری امتحان اُور باقی ہے۔ اُور وُہ امتحان یہ ہے کہ،، میں چاہتا ہُوں۔کہ،، اگر واقعی تُمہیں ٹریسا دنیا کی ہر شئے سے بڑھ کر عزیز ہے تو یہ کتاب کھول کر دیکھو اُور پھر ٹریسا کی خاطر اِس کتاب کے ورق ورق کو پھاڑ کر جلتے ہُوئے آتشدان کی نذر کردو۔ میں وعدہ کرتا ہُوں کہ اِس امتحان  میں کامیابی کے بعد میں تمہارے اُور ٹریسا کے راستے کی دیوار نہیں بنونگا۔ یہ کہتے ہُوئے بُوڑھے راہب نے ایک کتاب شیخ صنعان کی جانب بڑھادی۔۔۔۔ شیخ صنعان نے جب کتاب  کو کھول کر دیکھا تو اُنکی پیشانی پسینے کے قطرات سے شرابور ہُونے لگی۔ کیوں کہ راہب نے جو کتاب اُسکے ہاتھ میں تھمائی تھی۔ وُہ قران مجید تھی۔۔۔۔۔۔ بُوڑھے راہب  نے شیخ  کے چہرے پر تغیر کے رنگ دیکھ لئے تھے۔ اُور وُہ دِل ہی دِل میں اپنی فتح کا جشن منانے لگا تھا۔ دوسری طرف آہستہ آہستہ شیخ صنعان خود کو سمجھانے میں مصروف تھے۔ کہ،، آج کسی بھی طرح ہار میرا مقدر نہیں ہُوگی۔ چاہے مجھے کوئی بھی قیمت ادا کرنی پڑجائے۔


حُضور سیدنا غُوث اعظم (رحمتہ اللہ علیہ) نے شیخ فرید کو دیکھ کر  فوراً ایک نشست کا اِرادہ ظاہر فرمایا تھا۔ جسکی وجہ سے  مدرسے میں چہار جانب اعلانات ہورہے تھے۔کہ سُلطانُ اُولیا ئے جن و انس  (رحمتہ اللہ علیہ) بیان فرمائیں گے۔ اسلئے سب جلد از جلد  مدرسے میں پُہنچ جائیں۔شیخ فرید بھی اعلان سُن کر فوراً حمام سے غُسل کرآئے تھے۔ اُور ایک پاکیزہ پُوشاک زیب تن کئے محفل میں  آگےموجود تھے۔۔۔ کچھ لمحوں بعد شاہِ بغداد(رحمتہ اللہ علیہ)  تشریف لے آئے آپ کے چہرے پر  آج بھی وہی نوری ہالہ موجود تھا ۔لیکن آج آپکے چہرہ مبارک پر تشویش کے رنگ بھی نُمایاں تھے۔۔۔۔ یکایک آپ کے لبہائے ناز نے جُنبش فرمائی ۔ اُور شیخ فرید کی سماعت سے یہ الفاظ ٹکرائے۔۔۔۔ آج  کی یہ نشست بہت اہمیت کی حامل ہے۔کیونکہ ہم دیکھ رہے ہیں کہ،، کِسی کا پیر ،، جو کل تک محبوبین کے مقام پر فائز تھا۔ہماری بے ادبی کے سبب آج کافر ہُونے جارہا ہے۔!!!

شیخ فرید  ایک ہی لمحے میں جملے  میں چھپے پیغام  کا  بخوبی اِدراک حاصل کرچُکے تھے۔ اُور خُوب اچھی طرح جان چُکے تھے۔ کہ شیخ صنعان کا ایمان خطرات کے طوفان میں بالکل اُسی طرح ہچکولے لے رَہا ہے۔۔۔ جیسے طلاطم خیز موجوں میں  کوئی  کشتی بغیر ملاح  کے ڈولنے لگتی ہے۔۔۔۔شیخ فرید نے مُلتمس نگاہوں سے سیدنا غُوث پاک کی جانب دیکھا،، تو آپ (رحمتہ اللہ علیہ) شیخ فرید کی جانب  ہی متوجہ کرم تھے۔ شیخ فرید نے موقع غنیمت جان کر عرض کیا،، حضور آپ سب جانتے ہیں میرے دِل کا حال،، آپکو آپکی آلِ پاک کا واسطہ، اُور واسطہ اُس عزت و کرامت کے تاج کا، جسے رَبِّ کریم نے آپ کے سر پر سجایا ہے۔ حضور اُنہیں معافی عطا کردیں۔۔۔ ورنہ اُن کیساتھ ہزاروں  راہِ حق کے مسافر بھی ہلاک ہُوجائیں گے۔۔۔۔ نجانے شیخ فرید کی التجاوٗں میں کیسا درد پنہاں تھا۔ کہ،، یکا یک دریائے غوثیت ماب میں  جُوش پیدا ہُوا۔ اُور حضور سیدنا غُوث الاعظم (رحمتہ اللہ علیہ) نے قریب رکھے آفتابے سے ایک چِلو پانی لیکر ہَوا میں یہ کہتے ہُوئے اُچھال دیا۔۔۔ ہُوش میں آجاوٗ شیخ کہ،، غفلت کا وقت ایک عاشق مُرید کے سبب  اپنے اختتام کو پُہنچتا ہے۔


وہاں بغداد میں جس وقت شیخ فرید جناب غُوث الاعظم میں فریاد پیش کررہے تھے۔ عین اُسی وقت تبوک میں شیخ صنعان قران مجید کو جلانے کیلئے خُود کو تیار کرچُکے تھے۔ اچانک اُن کے چہرے پر پانی کی چھینٹیں پڑی۔۔۔۔ غفلت کے پردے اُتر گئے۔۔۔ اُور اُنہیں بغداد میں جہاں ایک طرف شیخ فرید التجا کرتے ہُوئے دِکھائی دیئے ۔ تو دوسری جانب حضور غُوثِ الاعظم (رحمتہ اللہ علیہ)  کی بے پناہ سخاوت،  عفو و درگزر سے مُزین ہستی شیخ فرید کی التجا کو قبولیت کا شرف عطا کرتے دِکھائی دی۔۔۔۔ ظلمتوں کی دبیز تہہ رُوح  کو آزاد کرچُکی تھی۔  جا بجا روشنی کے مینار شیخ صنعان کو مبارکباد پیش کررہے تھے۔۔۔۔ جبکہ شیخ صنعان (رحمتہ اللہ علیہ) شرمندگی سے بار بار قران مجید کے بُوسے لے رہے تھے۔

شیخ صنعان کے بدلتے تیور دیکھ کر راہب نے پھبتی کسی،، شیخ کیا پھر اِرادہ بدل گیا ہے؟؟؟۔۔ شیخ صنعان (رحمتہ اللہ علیہ) نے نہایت متانت سے جواب دیا۔۔۔۔ نہیں  بس سَراب   اُور منزل کا فرق معلوم ہُوگیا ہے۔ سُنو راہب!!! میں  تُم سے ہار کر بھی جیت گیا ہُوں۔۔۔ جبکہ تُم مجھ سے بظاہر جیت کر بھی یہ بازی ہار چُکے ہُو۔ اتنا کہہ کر شیخ صنعان مُڑے ہی تھے کہ،، دیوار کی آڑ سے ٹریسا نکل آئی اور شیخ صنعان سے استفسار کرنے لگی۔۔۔ شیخ جاتے جاتے یہ بھی بتادیجئے ۔کہ،، اِس تمام کھیل میں میرا کیا قصور تھا۔ آپ کہاں جارہے ہیں۔ اُور مجھے یہاں کس کیلئے چھوڑے جاتے ہیں؟؟؟

سُنو ٹریسا!!! میں اپنے دعوے سے تائب ہُوچکا ہُوں۔۔۔ بُہت دقت سے غفلت کی نیند سے جاگا ہُوں۔ مجھے اِس غفلت کی نیند سے جگانے والا میرا آقا بغداد میں میرا منتظر ہے ۔ سُو شرف غلامی کی سعادت و سَند حاصل کرنے کیلئے سُوئے بغداد جارہا ہُوں۔۔۔شیخ صنعان یہ کہتے ہُوئے دروازے کی جانب بڑھے۔ تبھی ٹریسا نے  بُوڑھے راہب کو مخاطب کرتے ہُوئے آخری جملے کہے ،، بابا آپ واقعی یہ شرط ہار چُکے ہیں۔ اب چونکہ شیخ نے یہ بازی جیت لی ہے اسلئے میں بھی ہمیشہ ہمیشہ کیلئے شیخ کیساتھ جارہی ہُوں۔ اب یہ بغداد رہیں یا اصفہان۔۔۔ جہاں جہاں شیخ صنعان کے قدم پُہنچیں گے اِنکی باندی بھی اِنکے ساتھ موجود رہے گی۔ 
ختم شُد۔۔۔۔

اللہ کریم کی بارگاہ میں دعا ہے کہ،، یہ کہانی لکھتے ہُوئے نادانستگی میں کوئی گستاخی یا بے ادبی کا ارتکاب ہُوگیا ہُو ۔۔۔ اِس عاجز و گنہگار کو معافی عطا کردی جائے۔۔آمیں بجاہِ النبی الامین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم۔

Friday, 1 May 2015

خُدا کی تلاش!



محترم قارئین السلامُ علیکم
کل رات جب میں چھت پر چادر بِچھا کر سونے کی تیاری کر ہی رہا تھا ۔تبھی میری چار سالہ بیٹی  جائزہ علی بڑی آہستگی سے چلتی ہُوئی میرے قریب آئی۔ اُور مجھ سے لپٹ گئی ۔ اُس نے اپنے ننھے سے سر کو میرے سینے پر رکھا۔ اور ہاتھوں کے شکنجے میرے جسم کے گرد کسنے لگی۔ میں نے پوچھا بیٹا کیا بات ہے کیا نیند نہیں آرہی؟
نہیں بابا آپ سے ایک بات پوچھنی ہے- 

میں نے کہا پوچھو بیٹا کیا بات ہے وہ آسمان کی طرف اشارہ کر کے پوچھنے لگی بابا یہ آسمان میں کیا چیز چمکتی ہے؟
میں نے کہا بیٹا یہ ستارے ہیں-

تب اُس نے دوسرا سوال داغا بابا کیا یہ ہمارے گھر سے بڑے ہیں یا چھوٹے؟
میں نے کہا بیٹا یہ ستارے ہمارے گھر سے بھی بڑے ہیں بلکہ ہمارے شہر بھی بڑے ہیں بلکہ شائد ہماری زمین سے بھی بڑے ہیں-

تب اُس نے حیرت سے پوچھا بابا یہ ستارے اتنے بڑے ہیں تو آسمان میں کس چیز سے لٹکے ہوئے ہیں؟
میں نے کہا بیٹا یہ کسی چیز سے بھی نہیں لٹکے بلکہ اللہ کریم کی قدرت سے آسمان میں لٹکے ہیں تبھی میں نے محسوس کیا کہ میری بیٹی کی گرفت میرے جسم پہ مزید سخت ہوگئی، میں نے اپنے ایک ہاتھ کو اس کے ننھے ہاتھوں کی گرفت سے نِکالا اور اُس کے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے پوچھا بیٹا مگر تم پریشان کیوں ہورہی ہو؟

تب اُس نے اپنے خدشے کا اظہار کیا بابا مجھے ڈر لگتا ہے کہیں یہ ستارے آسمان سے گِر نہ پڑیں! بابا کیا یہ ستارے گِر نہیں سکتے؟ 
میں نے جواباً کہا بیٹا اللہ کریم اپنے بندوں سے بُہت محبت کرتا ہے اس لئے وہ اِن ستاروں کو کبھی ہم پر نہیں گرنے دیگا-

بابا کیا اللہ تعالیٰ ہم سے کبھی ناراض ہوگیا تو وہ ہم پر ستارے گِرا دیگا؟ اُس نے اگلا سوال داغا
نہیں بیٹا وہ اپنے بندوں پر بُہت مہربان ہے وہ ہم سے ناراض بھی ہوجاتا ہے تو معافی مانگنے پر فوراً خوش بھی ہو جاتا ہے وہ بُہت مہربان ہے بیٹا تُمہاری امّی تم سے جِتنا پیار کرتی ہیں وہ اُس سے بھی بُہت بُہت زیادہ مُحبت کرتا ہے-

بابا اگر مجھ سے غلطی ہوجائے اور میں معافی مانگوں تو کیا اللہ تعالی مجھے معاف کردیگا؟
ہاں بیٹا وہ سبھی کو معاف فرما دیتا ہے-

میں نے دیکھا میرے اس جواب سے اُس کہ چہرے پر اطمینان کی لہر دوڑ گئی اور اُس کی گرفت بھی میرے جسم پر کمزور پڑنے لگی تھی-

بابا جب تمہیں کسی پر غصہ آتا ہے۔ تو تُم بھی معاف کر کے خوش ہوجاتے ہو۔۔۔؟
میں نے اُسکی جانب دیکھا اور سوچا یہ آج مجھ سے کیسے سوال کر رہی ہے۔ لگتا ہے جیسے میرا ٹیسٹ لیا جارہا ہو۔۔۔ حالانکہ میں جانتا ہوں وہ اکثر ایسے سوالات اپنی ماں سے بھی کرتی ہے۔ جس کے جوابات اُس سے نہیں بن پاتے اور وہ مجھ سے کہتی ہے کیا بچی ہے یہ ۔۔۔؟ لگتا ہے  جیسے ہر وقت سوالات کی پٹاری لئے گھومتی ہے۔۔۔ اُور میں ہمیشہ یہ کہہ کر ٹال دیتا تھا کہ بھئی اس کے نام کا عدد آٹھ ہے۔ بُہت اونچی پرواز ہوتی ہے ۔ بیگم صاحبہ عدد آٹھ والوں کے تخیّلات کی۔

بابا سوگئے کیا۔۔۔؟ میری بیٹی نے مجھے جھنجوڑتے ہوئے پوچھا۔ 
نہیں بیٹا جاگ رہا ہوں میں نے اُس کے سر میں انگلیاں گھوماتے ہوئے کہا۔

بابا آپ نے بتایا نہیں آپ بھی غصہ میں معاف کر دیتے ہونا؟
نہیں بیٹا میں اتنی جلدی معاف نہیں کرپاتا۔ کیونکہ میں بُہت گُنہگار انسان ہوں۔ خُود کو سمجھانے میں وقت لگ جاتا ہے۔۔۔ بابا آپ بھی معاف کردیا کریں نا۔ کہیں اللہ تعالیٰ ناراض ہوگیا تو یہ ستارے کہیں ہم پر گِر نہ جائیں۔۔۔ اُس نے معصومیت سے مجھ سے التجا کرتے ہُوئے کہا۔۔۔ ہاں بیٹا آئندہ کوشش کرونگا ۔ میرے اس جواب کے بعد اُس نے اطمینان سے آنکھیں موند لیں جیسے کوئی اہم پیغام یا امانت دیکر کوئی قاصد کوئی امانتدار کسی بوجھ کے فِکر سے آزاد ہوجاتا ہے۔

چند لمحوں میں ہی وہ میرے پہلو  میں خواب خرگوش کے مزے لوٹ رہی تھی۔ اور میری آنکھیں جو چند لمحوں قبل خمارِ نیند سے جُھکی جارہی تھیں۔ خلا میں ستاروں کو ایسے دیکھ رہیں تھیں گویا جیسے زندگی میں پہلی بار ستاروں کو دیکھا ہو۔

پھر مجھے اپنی جوانی کا وہ واقعہ یاد آیا جب میں ایک درویش کی کُٹیا میں اُس سے پوچھ رہا تھا کہ بابا خُدا کو پانے کا آسان طریقہ کیا ہے ۔۔۔؟ کیونکہ میں نے کتابوں میں پڑھا ہے ۔ کہ،،پہلے لوگ اپنی آدھی سے زیادہ زندگی اللہ عزوجل کو پانے کیلئے دُنیا سے کٹ جاتے تھے ۔جنگل نشین ہوجایا کرتے تھے خود پر دُنیا کی نعمتوں کے دروازے بند کرلیا کرتے تھے۔ تب اُس درویش نے مجھ سے مُخاطب ہو کر استفسار کیا ۔
 بیٹا خُدا کی چاہت جانتے ہُو۔۔۔؟
 اُور بِیٹا وہ کیا چیز ہے جو واقعی صرف تمہاری ہے۔۔۔۔۔؟

میں نے عرض کی حضور  کچھ نہیں جانتا۔ میں تو بالکل تہی دامن ہُوں۔ بس اتنا جانتا ہُوں۔کہ،، سب کچھ اللہ کریم کی امانت ہے ۔میرا تو کُچھ بھی نہیں یہ جان، یہ صحت، یہ مال، یہ عزت، سبھی پہ اللہ کا اختیار ہے میرا تو کچھ بھی نہیں۔

وہ مُسکراتے ہوئے فرمانے لگے ۔۔نہیں!  بیٹا تم نے جو کچھ کہا ٹھیک ہے۔ مگر ایک چیز ہے ۔۔۔۔جو صرف تُمہارے اختیار میں ہے۔ وہی قیمتی متاع ہے انسان کے پاس جس کی قربانی اللہُ سُبحانہُ تعالیٰ کو بےحد پسند ہے۔

میں عقل کے گھوڑے دوڑاتا رہا ۔۔۔تمام باتوں کو بار بار دماغ میں دُہراتا رہا۔۔۔ لیکن کچھ پلے نہیں پڑا۔۔۔ تب  بڑے ادب سے اُس درویش کے قدموں کو دباتے ہوئے عرض کرنے لگا ۔ کہ،، بابا میں بُہت کم فہم ہوں ان کتابوں کو میں پڑھ تو لیتا ہوں۔ لیکن شائد سمجھنے سے قاصر ہوں ۔ اِسلئےآپ ہی بتا دیجئے نا ۔کہ،، آخر وہ ایسی کیا چیز ہے۔ جسکی مجھے خبر نہیں اور اُسکی قربانی اللہ کریم کو بے حد پسند ہے

اُس درویش نے اپنے قدموں کو سمیٹا اور چار زانوں بیٹھ گئے میری جانب بڑے غور سے دیکھا اور ایک جذب کی کیفیت میں فرمانے لگے بیٹا جانتے ہو انسان اشرف المخلوقات کیوں ہے؟

میں نے ادب سے عرض کی حضور آپ ہی ارشاد فرمائیں ۔۔تب وہ درویش فرمانے لگے بیٹا اس لئے کہ اللہ کریم نے انسان کو عقل دی پرکھنے کیلئے، شعور دیا خیر اور شر کو سمجھنے کیلئے، پھر اپنا آئین دیا جس سے وہ اللہ کریم کی رضا اور ناراضگی کو جان سکے ۔۔۔لیکن اس انسان کو اللہ کریم نے پابند نہیں کیا بلکہ اِس انسان کو اختیار دیا  ہے۔کہ،، چاہے تو دُنیا کی زندگی میں خیر کا رستہ اپنائے چاہے تو شر کے راستے پر چلے۔۔۔ چاہے تو آخرت کی تیاری میں مشغول رہے چاہے تو دُنیا کی رنگینیوں میں خود کو گُما لے۔

بیٹا یہی اختیار، یہی چاہت، یہی خواہش انسان کی سب سے بڑی متاع ہے۔ تم نے مجھ سے پوچھا ہے کہ اللہ کریم کو پانے کا آسان طریقہ کیا ہے ۔۔تو بس اپنی یہی چاہت، اپنا اختیار، اپنی خواہش کو اللہ کریم کے سپرد کردے تجھے خُدا مل جائے گا تُجھے کبھی جنگلوں کا رُخ نہیں کرنا پڑے گا تُجھے کبھی صحراؤں کی خاک نہیں چھاننی پڑے گی تجھے خُدا کو ڈھونڈنے کیلئے پہاڑوں پر بھی جانے کی ضرورت پیش نہیں آئے گی کیونکہ وہ تو تیری شہہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہے ہاں البتہ یہ ہوسکتا ہے کہ جب تو خدا کو پالے تو تیرے اندر کی تپش اسقدر بڑھ جائے کہ تجھے انسانوں کی بھیڑ سے ڈر لگنے لگے یا تجھے لگے کہ تیرے وجود کی آتش اس بھیڑ سے سرد پڑنے لگی ہے تب جنگل، پہاڑ ، دریا سبھی تیرے منتظر ہونگے تو جہاں بھی ہوگا خدا سے بات کرلے گا-

بیٹا یہ آسان رستہ نہیں بلکہ بُہت کٹھن راہ ہے اس راہ پہ چلنا ہر ایک کے بس کی بات بھی نہیں، اس راہ پہ چلنے والوں کو اپنے نفس سے لڑنا پڑتا ہے اپنے من سے لڑنا پڑتا ہے، اپنی چاہت کو قربان کرنا بَچّوں کا کھیل نہیں پہلے سوچ لے تجھے اپنی ذات کے بُت کو مسمار کرنا پڑے گا، انا کے جام کو بہانا ہوگا، گالی بکنے والے سے خندہ پیشانی سے مِلنا پڑے گا تُہمت لگانے والے سے ہنس کر ملنا پڑے گا، مارنے والے کے سامنے دوسرا گال پیش کرنا پڑے گا، نرم بستر کو طلاق دینی پڑے گی، طرح طرح کے پکوانوں سے نظر موڑ کر سوکھی روٹی پر قناعت کی عادت ڈالنی ہوگی انسانوں سے مُحبت کرنی ہوگی صرف مُحبت۔

اپنے وجود میں موجود نفرت، غصے، حسد کے آتش کدے پر ندامت کا پانی ڈالنا ہوگا ۔جو کُچھ بھی تیرے پاس ہے۔ وہ سب خُدا کا ہی تو ہے۔۔ تو صرف اُسکا امین ہے۔۔۔ لہذا  جب تجھ سے واپسی کا تقاضہ ہو ۔تو یہ مت کہنا کہ میرا تھا، میں نے دِیا، بلکہ ہمیشہ یہی کہنا کہ،، جس کا تھا اُسی کو لوٹا دیا۔ مصیبت کے وقت واویلہ نہ کرنا۔ بلکہ صبر کرنا کہ وہ صابروں کو پسند کرتا ہے۔ ہر لمحہ اپنے عمل پر نظر رکھنی پڑے گی۔ اپنا احتساب کرنا پڑے گا ۔کہ،، تیرا عمل تیری مرضی کے مُطابق ہے۔ یا اللہ کریم کی مرضی کے مُطابق۔۔۔ تو وہ کر رہا ہے جو تیری چاہت ہے ۔یا وہ کر رہا ہے جو اللہ کریم کی چاہت ہے۔ کبھی تیری چاہت ہوگی کہ نرم وگرم بستر سے خود کو جُدا نہ کرے لیکن تبھی اللہ کی چاہت ہوگی کہ تو بستر کو چھوڑ کے اُس کی بارگاہ میں حاضر ہو، کبھی تیری چاہت ہوگی کہ تیرا مال تیری جیب میں رہے۔ اُس وقت ہوسکتا ہے اُس کی چاہت یہ ہو ۔کہ،،  تو وہ مال جو تو نے بڑی محنت سے کمایا ہے کسی دوسرے کی ضرورت پر خرچ کردے۔

کبھی تیری چاہت ہوگی ۔کہ،، سخت گرمی کے سبب ٹھنڈا پانی پئے یا اپنے پیٹ کی آگ بُجھانے کیلئے کچھ کھالے۔ لیکن اُس کی چاہت ہوگی کہ تو روزہ دار رہے۔۔۔ کبھی سخت سردی کے سبب تیری چاہت ہوگی کہ،، ٹھنڈا پانی تیرے جسم کو نہ چُھوئے تبھی اُس کی چاہت ہوگی کہ اُسی ٹھنڈے پانی سے سخت جاڑے میں تو  وضو کرے۔ کبھی تیری چاہت تجھ سے تقاضہ کرے گی کہ تنہا ئی میں نرم بسترپر جسم کی تھکان مِٹالے۔ تبھی ہُوسکتا ہے  اُسکی چاہت کا تقاضہ ہو۔ کہ،، کسی کے دُکھ میں شریک ہوجا اور کسی کے دُکھ درد کو بانٹنے کے لئے سفر اختیار کر۔۔۔ کبھی تیری چاہت ہوگی کہ سامنے والے کا مُنہ نوچ لے تبھی اُسکی چاہت ہوگی کہ تو اُسے سینے سے لگا لے۔۔۔کبھی نفسانی خواہشات تجھے اپنی جانب بُلائیں گی اُور تیرا من بھی چاہے گا۔ مگر اُس کی چاہت تقاضہ کرے گی میرے سِوا سب سے بےنیاز ہوجا۔۔۔ بیٹا اپنی چاہت ،اپنی مرضی، اپنی خواہش، کی قربانی ہی وہ راستہ ہے۔۔۔ جِس پر چل کر بندہ خُدا کو پالیتا ہے۔

اگر اپنی چاہت کو قربان کرنے کا حوصلہ ہے۔ تو اِس راہ پر ضرور قدم رکھ۔۔۔ وہ کسی کی کوشش کو ضائع نہیں کرتا۔۔۔ لیکن یہ بھی یاد رکھنا کہ معرفت کی منزل کو پانے کا سفر اسقدر دُشوار ہے کہ ہزاروں مسافر اس راہ پر چلتے ہیں۔ لیکن سفر شروع ہونے کے بعد اس کی تکالیف پر صبر چند ایک ہی کر پاتے ہیں۔۔۔ اور وہ بھی آدھی منزل ہی سر کرپاتے ہیں۔۔۔ منزل پر تو ایک دُو  ہی پہنچ پاتے ہیں۔ تو بھی کوشش کر دیکھ شائد تُجھے بھی منزل مل جائے۔ اگر تو نے دُنیا کی صعوبتوں پر صبر کو عادت بنالیا۔  اُور اپنی چاہت اُسکی چاہت پر قربان کردی ۔ تو ضرور خدا عزوجل کو پالے گا۔ مجھے اِس سے ذیادہ آسان راستہ کی خبر نہیں- بُول چلنا چاہے گا اِس راستہ پر درویش نے مسکراتے ہوئے میری جانب دیکھا تھا۔۔۔؟

میں اِنہی خیالات میں گُم تھا کہ میری بَچّی نے کسمسا کر دوبارہ میرے سینے پر ہاتھ رکھا میں نے چونک کر اُس کی جانب دیکھا تو وہ عالمِ نیند میں مُسکرا رہی تھی جیسے مُجھ سے سوال کر رہی ہو۔ کہ،، بابا کیا سوچا ہے آپ نے ۔۔۔؟چلیں گے اِس راہ پر اور میں نے زِیرِ لب بے اختیار کہا۔ کہ،، کوشش ضرور کرونگا اگر اللہ کریم کا فضل مجھ گُنہگار پر بھی ہُوا انشا ءَاللہ عزوجل ۔۔۔۔آج شاعر مشرق کا یہ شعر بھی رات کی تنہائی میں مجھے کُچھ سمجھانے کی کوشش کررہا ہے اور بُہت لُطف دے رہا ہے۔

خُدا کے بندے ہیں ہَزاروں بَنّوں میں پھرتے ہیں مارے مارے
میں اُسکا بندہ بَنُوں گا جس کو خُدا کے بندوں سے پیار ہوگا

جولائی۔۔۔ ۲۰۱۰