bing

Your SEO optimized title page contents

Pages

Hamara Tube Channel

Sunday, 24 May 2015

عامل کامل ابو شامل (عامل در عامل) قسط 34



گُذشتہ سے پیوستہ۔

ایک دِن دلشاد کی نگرانی کرتے ہُوئے مجھے یہ بات معلوم ہُوئی۔کہ،، موصوف ویک اینڈ منانے کیلئے  اپنے  ایک جگری دوست کو مانسہرہ سے لیکر وادی کاغان  میں گُزارنے کا اِرادہ رکھتے ہیں۔ یہ سفر دلشاد سے ذیادہ میرے لئے اہمیت کا باعث تھا۔۔۔ اُور اِس سفر میں سب سے بڑی بات یہ تھی۔کہ،،  سفر کے دوران دلشاد نے اکثر  سفرپہاڑوں پر بنی تنگ گُزرگاہوں پر کرنا تھا۔جہاں لینڈ سلائیڈنگ معمول کی بات تھی۔ اُور اکثر گاڑیاں دریائے کُنہار کے عشق میں ڈوب جایا کرتی تھیں۔پھر وُہ وقت بھی  جلد آگیا،، جب دلشاد خُوب تیار ہُوکر عازم سفر ہُوا۔۔۔ میرا ارادہ تھا کہ وادی کاغان کو ہی ہمیشہ کیلئے دلشاد کا دائمی ٹھکانہ بنادوں۔ لیکن مانسہرہ آنے سے قبل ہی دلشاد نے جونہی فرح کے نمبر کی پیڈ پر پنچ کرنے شروع کئے ۔تو میرا دماغ اُلٹ گیا۔ اُور ساتھ ہی دلشاد کی گاڑی بھی سینکڑوں فٹ گہری کھائی کی نذر ہُوگئی۔ میں نے جب نیچے جا کر دیکھا تو وُہ  باقی ماندہ گاڑی میں خُون میں لت پت زندگی کی آخری سانسیں گِن رہا تھا۔ میرے جگر سے اُور میری زندگی سے کانٹا نکل رَہا تھا۔ اُور میں خُوشی سے یاھو ،،کا نعرہ بُلند کررہا تھا۔ وادیوں میں میرے نعرے کی گُونج سے ایکو پیدا ہُورہا تھا۔ جیسے تمام وادی بھی میرے ساتھ جشن مناتے ہُوئے یا ھو، یاھو ۔۔۔۔کے نعرے بُلند کررہی ہُو۔

اب مزید پڑھ لیجئے۔

مجھ میں اتنی اِخلاقی ہمت نہیں تھی۔کہ،، میں اپنی محبوبہ کو اُس رقیب دلشاد کیلئے رُوتا تڑپتا دیکھ سکوں۔ اسلئے میں نے  دلشاد کو ٹھکانے لگانے کے بعد بہتر یہی سمجھا۔کہ،، کیوں نہ کچھ دن دِل پر پتھر رکھ کر یہاں سے دُور چلا جاوٗں۔ اُور یہ وقت اپنی والدہ کیساتھ گُزاروں!!! میں تقریباً پندرہ دِن بعد اِس اُمید کیساتھ واپس لُوٹا تھا۔کہ،،  دلشاد کا غم کافی حد تک فرح کے دِل سے رفو ہُوچُکا ہُوگا۔ اُور اب مجھے فرح کو اپنے قریب لانے میں ذیادہ دُشواری کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔۔۔۔ لیکن جب میں سیالکوٹ پُہنچا تو مجھے یہ رُوح فرسا خبر سُننے کیلئے مِلی۔کہ،، دلشاد نہایت ڈھیٹ  قسم کا انسان واقع ہُوا تھا۔ وُہ اُس حادثے سے نہ صرف جانبر ہُوچُکا تھا بلکہ  اُسے علاج کیلئے کراچی لیجایا گیا ہے۔ جہاں وُہ بُہت تیزی سے رُو بہ صحت بھی تھا۔۔۔۔ جب مجھے معلوم ہُوا کہ،،  کراچی میں دلشاد کی ٹوٹی ہُوئی ہڈیوں کو ڈاکٹر محمدعلی شاہ جوڑنے میں کامیاب ہُوچکے ہیں۔ تو اُسی وقت میرے دِل میں یہ تدبیر آئی۔کہ،، اِس مرتبہ میں کوئی کسر نہیں چھوڑوں گا۔ ۔۔۔ یہی سُوچ کر جب میں کراچی  ہاسپٹل میں داخل ہُونے لگا۔ تبھی   میاں صاحب نے میرا راستہ رُوک کر مجھے خبردار کرتے ہُوئے کہا۔کہ،،  اگرمیں سلامت رہنا چاہتا ہُوں۔ تو اپنے ارادے سے باز آجاوٗںُ ۔قُدرت کے کاموں میں مداخلت نہ کروں اُور واپس لُوٹ جاوٗں۔ وگرنہ ہمیشہ کیلئے قید کرلیا جاوٗں گا۔ ۔۔ ۔۔ یہ میاں صاحب کون تھے۔اُور کیا تُم اُنہیں پہلے سے جانتے تھے؟؟؟ کامل علی، میاں صاحب کا نام سُن کر چُونک اُٹھا۔ اُس نے بےصبری سے دریافت کیا۔


مجھے معلوم تھا۔ تُم میاں صاحب کا تذکرہ سُن کر رہ نہیں پاوٗ گے۔ ابو شامل نے مسکراتے ہُوئے اپنی گفتگو جاری رکھی۔ ہاں میں اُنہی میاں صاحب کا تذکرہ کررہا ہُوں۔ جو عبدالرشید عرف شیدے کے پیر صاحب ہیں ۔ اُور فی زمانہ مُقام غوثیت پر فائز ہیں۔اُورمجھے یہ بھی معلوم ہے تم میاں صاحب کے پاس پہلی مرتبہ  ایک سرد رات میں گئے تھے اجازت  طلب کرنے کسی موکل کو قابو کرنے کیلئے!!! میاں صاحب کے ہماری قوم اُور میرے گھرانے پر بے شُمار احسانات ہیں۔ ہمارے خاندان  کے اکثر جنات نے قران مجید کی تعلیم اِنہی کے مدرسے سے حاصل کی ہے۔ اُور مسلمان جنات جوق در جوق اُنکے واعظ میں نہایت اہتمام سے شامل ہُوتے ہیں۔۔۔ اسلئے میری ہی   کیا مجال  ،،کسی بھی گروہِ  جِنات میں اتنی طاقت نہیں ہے۔ کہ،، وُہ میاں صاحب  کی  روحانی قُوت کا سامنا کرسکیں۔۔۔۔ اِس لئے میں بھی  اُس دن بااَدب طریقے سے واپس لُوٹ گیا۔۔۔۔ ویسے بھی مجھے اتنا تو یقین تھا۔کہ،، سینکڑوں فٹ کی بلندی سے گرنے کے بعد ڈاکٹر دلشاد اب عام لُوگوں کی طرح صحتمند زندگی نہیں گُزار پائے گا۔ اُور دُنیا کے کوئی بھی والدین اپنی ہونہار  صحت مند بچی کو ایک معذور کے حوالے نہیں کریں گے۔۔۔۔۔ لیکن میرے تمام خیالات  صرف مفروضے ہی ثابت ہُوئے۔ ڈاکٹر دلشاد ۲ ماہ بعد واپس سیالکوٹ لُوٹ آیا۔ اگر چہ اُسکی چال میں نقص پیدا ہُوچُکا تھا۔ اُور جسم بھی کافی لاغر ہُوچکا تھا۔۔ لیکن آج بھی فرح اُسی کیساتھ زندگی گُزارنے پر بضدتھی۔

مجھے ایک بات اچھی طرح سمجھ آچکی تھی۔کہ،، دلشاد  کو میں کسی بھی طرح سے فرح کے دِل و دماغ سے محو نہیں کرپاوٗں گا۔ اُور یہ بات میرے لئے  بُہت ذیادہ اذیت کا باعث تھی۔ مجھے زندگی میں آج تک کوئی ہرا نہیں پایا تھا۔ لیکن فرح کی دلشاد کیلئے جو چاہت تھی۔ یہ مجھے دھیرے دھیرے ناسور کی طرح اندر ہی اندر چاٹ رہی تھی۔ پھر مجھے ایک عجیب تدبیر سُوجھی۔ کہ،، کیوں نہ فرح کے حُسن کو عارضی طور پر اتنا گہنا دیا جائے۔ کہ ،، اگرچہ فرح کے والدین نے خُواہ اپنی بیٹی کی  ضد کی خاطر دلشاد کی معذوری قبول کرلی تھی۔ لیکن جب فرح کا حُسن ماند پڑنے لگے گا۔ اُور وُہ ناقابل علاج مریضہ دکھائی دینے لگے گی۔ تو یقیناً دِلشاد کی والدہ سوچنے پر  مجبور ہُوجائے گی۔ کہ،، اِس رشتہ کو باقی بھی رکھا جائے یا کہ ،، ختم کردیا جائے۔۔۔ میں فرح کو ایذا دینے کے متعلق سُوچ بھی نہیں سکتا تھا۔ لیکن میری محبت نے مجھے اُس وقت خُود غرض بناڈالا تھا۔۔۔

میں فرح کیلئے کچھ بھی کرنے کیلئے تیار تھا۔ چاہے اُسکے لئے مجھے کوئی بھی قدم اُٹھانا پڑے۔ پھر میں کونسا ہمیشہ کیلئے فرح کو بدصورت بنانے جارہا تھا۔ بس چند ماہ کی بات تھی۔ یہ رشتہ ختم ہُوجاتا۔ تو مجھے معلوم تھا۔کہ حکیم بطلیموس میری فرح کو واپس پہلے سے بھی ذیادہ حسین و جمیل بنانے کا گُر جانتے تھے۔ اِس لئے میں نےبُہت آہستگی سے فرح کے کھانے پینے میں ایک ایسی بُوٹی کا سفوف مِلانا شروع کردیا۔ جسکا استعمال  میں نے ایک جوگی کو اپنے جسم  کو فربہی سے بچانے کیلئے کرتے دیکھا تھا ۔۔۔  اِس سفوف کے استعمال کی وجہ سے کھانا مکمل طور پر ہضم نہیں ہُوپاتا۔ اُور جسم کا پانی سُوکھنے لگتا ہے۔  چند دِن کے بعد ہی فرح کے جسم پر اِس سفوف کا اثر ظاہر ہُونے لگا۔۔۔۔کبھی اُلٹی اُور کبھی دست کی ذیادتی نے  فرح کے جسم کو گھلانا شروع کردیا۔ فرح کیلئے والدین فرح کی گرتی صحت کے سبب شہر بھر کے قابل ڈاکٹروں سے رجوع کرنے لگے۔۔۔لیکن تمام رپورٹس دیکھنے کے بعد ہر ایک ڈاکٹر یہی کہہ رہا تھا۔ کہ،، جسم میں تمام اعضا کی کارکردگی  پرفیکیٹ ہے۔ کوئی جسمانی مرض  بھی سمجھ میں نہیں آتا۔۔۔ یا شائد  کوئی ایسا وائرس  فرح کے جسم میں جگہہ بناچُکاہے ۔ جسے ابھی تک پہچانا نہیں گیا۔۔۔

جب تمام میڈیکل رپورٹس سے  بھی بیماری کی تشخیص ممکن نہ ہُوسکی۔ تو عزیز رشتہ داروں  کو حسب سابق یہ  تمام معاملہ سفلی ،، جادو کا شاخسانہ دکھائی دینے لگا۔۔۔ فرح کی والدہ بھی  اِس رائے سے متفق تھیں۔ لہذا شام کو  فرح کے والدعلاقے کی مسجد کے قاری صاحب کو پکڑ لائے۔ اِن کے متعلق علاقے میں مشہور تھا۔کہ،، جنات اِنکا نام سُن کر تھرتھرانے لگتے ہیں۔ اُور جادو کی کاٹ کے تو وُہ ایسے ماہر ہیں ۔کہ،، جادو کرنے والوں پر جادو  اسطرح پلٹاتے ہیں۔کہ،، وُہ آئندہ جادو کرنے کے قابل ہی نہیں رہتا۔۔۔ جب قاری صاحب کمرے میں داخل ہُوئے تو اپنی طوطے جیسی ناک کمرے میں یُوں  بُلند کرنے لگے۔ جیسے جادو ، یا جنات کی بُو کا سراغ لگارہے ہُوں۔۔۔۔ سچی بات یہ ہے کہ جب میں نے کسی عامل کی آمد کا تذکرہ سُنا تھا۔ تو کچھ نہ کچھ تشویش  بہرحال مجھے بھی لاحق ہُوئی تھی۔۔۔۔ لیکن جونہی میں نے قاری عبدالمنان کو دیکھا تو میری ہنسی نکل گئی۔۔۔ وُہ ایک بے پیرا عامل تھا۔ جو سرے سے تکوینی معملات سے بے خبر تھا۔ اُور اپنی ذات  کی خُودی میں ایسا گُم تھا۔ کہ،، عملیات کی دنیا میں آنے سے قبل یہ جان ہی نہیں پایا کہ،، عملیات میں تاثیر اُنکے ہوتی ہے۔ جن پر کسی کامل اللہ والے کی نظر ہُو۔ وگرنہ ساری ریاضت لپیٹ کر بلعم بن باعورا کی طرح مُنہ پر مار دی جاتی ہے۔  قاری عبدالمنان  کو دیکھ کر میرے اندر کا شرارتی بچہ انگڑائی لیکر جاگ رہا تھا۔ میری حالت بھی بالکل اُس بچے کی مانند تھی۔۔۔۔ جوکسی دوسرے بچے  کے کھلونے کو دیکھ کر مسلنے اُور توڑنے کے پلان بنانے لگتا ہے۔

(جاری ہے)

اُسکا کہنا ہے۔ کِسی اُور کو دیکھوں نہ کبھی
کیوں کہ اُسکو یہ میرا رُوپ بُرا لگتا ہے۔

مجھکو ہر چہرے میں آتاہے نظر اِک وُہ ہی
جُو نہ بھر پائے یہ بہروُپ !!!  ۔بُرا لگتا ہے۔

جال ۔ در۔ جال قسط 2



جال ۔ در۔ جال قسط 2


گُذشتہ سے پیوستہ

نعمان کی زندگی میں اُسکے خوابوں کی بڑی اہمیت تھی لیکن وہ اُن خوابوں کے لئے اپنے جگری یار کو قربان نہیں کرسکتا تھا۔ لیکن آج کرامت صاحب کی گُفتگو نے بیشُمار اندیشے اور خُوف کے بادل نعمان کے سر پر ایستادہ کردئیے تھے۔ وہ جتنا اِن خیالات سے اپنی سوچ کو باز رکھنے کی کوشش کررہا تھا۔ اُسی قدر زیادہ خیالات کے ناگ اُسکے دِماغ پر اپنے مہیب پھَنّوں سے حملہ کر رہے تھے۔چند جُملے بار بار نعمان کے دِماغ میں گُونج رَہے تھے ۔۔ کیا فرقان کبھی میرا ساتھ چھوڑ سکتا ہے۔۔۔؟کیا میں فرقان کو اپنے خُوابوں کی بھینٹ چڑھا سکتا ہُوں۔۔۔؟ کیا ہماری دوستی کِسی نازک دوراہے پر کھڑی ہے۔۔۔؟ اور ایسے ہی بیشُمار سوالات نعمان کی سُوچوں کو منتشر کررہے تھے۔ نعمان کو ایسا محسوس ہُورَہا تھا جیسے یہ سوالات اُسکی دماغی شریانوں کو پھاڑ ڈالیں گے۔ پھر کُچھ سُوچ کر نعمان نے فُون کا رِیسیور اُٹھایا اور فرقان کے نمبر پنچ کرنے لگا۔ دوسری جانب سے فرقان نے جونہی السلامُ علیکم کہا۔ نعمان نے فرقان سے جلد فیکٹری میں آجانے کی استدعا کرتے ہُوئے فون کا ریسیور پٹختے ہُوئے اپنی آنکھیں بند کرلیں۔

اب مزید پڑھیئے۔

نعمان کو اِنتظار کرتے ہُوئے تقریباً ۴۰ منٹ ہُوچُکے تھے۔ وہ بڑی بیقراری سے فرقان کی آمد کا منتظر تھا۔ اُسنے اِن چالیس مِنٹوں میں بیسیُوں مرتبہ وال کلاک کی جانب نِگاہ اُٹھا کر دیکھا تھا۔ اور اب تُونعمان میں مزید انتظار کی تاب بھی نہ رہی تھی۔ وہ سُوچنے لگا ۔۔۔ کیا یہ وہی فُرقان ہے جو میری ایک کال پر دوسرے شہر سے بھی اِہم سے اِہم کام چھوڑ چھاڑ کر بھاگتا چَلا آتا تھا۔ مگر اب کتنا بدل گیا ہے میرا فُرقان۔ کہ شہر میں ہُونے کے باوجود بھی اِتنا دُور ہے۔ جیسے راستہ میں دریا یا پہاڑ حائل ہُوگئے ہُوں۔ کہاں تُو سارا دِن ساتھ گُزارنے کے باوجود بھی گُھر پُہنچتے ہی کال کیا کرتا کہ اب کیا پروگرام ہے۔ اور کہاں ساتھ چلنا ہے۔ اور کہاں یہ حالِ تغافُل جیسے میری کوئی اہمیت ہی نہ ہُو اُسکی زندگی میں۔

نعمان جُوں جُوں ماضی و حال کو میزان کے پلڑوں میں تُولتا چلا جارھَا تھا ۔ اُسے کرامت صاحب کے الفاظ کِسی ہتھوڑے کی مانند اپنے سر پر برستے مِحسوس ہُو رہے تھے۔ حالانکہ سِٹنگ رُوم میں دُو عدد اِسپلٹ ائر کنڈیشنر کمرے کو 18 سینٹی گریڈ کے درجہ حرارت پر رکھے ہُوئے تھے۔ لیکن نُعمان کی پیشانی پر ننھے ننھے پسینے کے قطرے چمکنے لگے تھے۔ شائد نعمان کے دِماغ کا ٹمپریچر کمرے کے درجہ حرارت سے کئی گُنَّا بڑھ چُکا تھا۔

نُعمان نے اپنی پیشانی پر آئے پسینے کے قطروں کو ٹِشو پیپر سے صاف کرتے ہُوئے فرقان کو دُوبارہ کال مِلانے کیلئے ٹیلیفون کا ریسیور اُٹھایا ہی تھا کہ اُس کہ کانوں میں فُرقان کی گاڑی کے ہارن کی آواز سُنائی دِی۔ نعمان نے سِٹنگ رُوم کی جہازی سائز وِنڈو سے باہر دِیکھا۔ تو اُسے فرقان کی کار کی جھلک دِکھائی دِی۔ نعمان کو فرقان کی آمد سے کُچھ اِطمینان حاصل ہُوا۔ نُعمان نے رِیسیور واپس رکھتے ہُوئے صوفہ کی پُشت سے اپنی کَمر لگالی۔

فُرقان السلامُ علیکم کہتا ہُوا دَروازے سے داخِل ہُوا ۔ نعمان نے جواب دیتے ہُوئے فرقان کے سراپا پر نِگاہ دُوڑائی تُو فُرقان کی ظاہری حالت دیکھ کر چُونک اُٹھا۔ ابھی چار دِن پہلے جب فرقان سے مُلاقات ہُوئی تھی تب سِوائے کُچھ خیالات کی تبدیلی کے کوئی واضح فرق نہیں تھا۔ لیکن آج فرقان نے ٹُو۔ پیس کیساتھ سر پر ایک سادہ سی ٹوپی بھی رکھی ہُوئی تھی جسکی وجہ سے اُسکے بالوں کا خُوبصورت اِسٹائل ٹوپی میں چُھپ کر رِہ گیا تھا۔ حالانکہ یہ وہی فرقان تھا جِسے اپنے بالوں کی اتنی پرواہ تھی کہ وہ کبھی لوکل برانڈ کا شیمپو بھی استعمال نہیں کیاکرتا تھا۔ کہ مُبادا کہیں بَالوں کی خُوبصورتی مانند نہ پڑجائے۔ سَر پہ ٹوپی کیساتھ فرقان کے چہرے پر تین ، چار دِن کی بڑھی ہُوئی شِیو بھی نعمان کو بُہت عجیب سی محسوس ہورہی تھی۔

نُعمان نے کھڑے ہُوکر فرقان سے نہ صرف مصافحہ کیا بلکہ مُعانقہ کرتے ہُوئے کہا۔ یار فرقان میں تُو سُوچ رَھا تھا کہ جب تُو آئے گا ۔تب میں تُجھے اپنی پریشانی اور اپنا حَالِ دِل سُناؤں گا۔ لیکن یار تُجھے دیکھ کر تُو لگتا ہے کہ تُو شائد مجھ سے بھی زیادہ ڈسٹرب ہے! یہ کہتے ہُوئے نعمان نے فُرقان کو اپنے ساتھ ڈبل صوفے پر بِٹھالیا۔ 

نہیں یار الحَمدُ للہ میں بالکل ٹھیک ہُوں۔ مجھے اب نہ کوئی اُلجھن ہے اور نہ ہی کوئی ذِہنی و جِسمانی پریشانی ہے۔ بلکہ میں تُو آجکل خُود کو بُہت ہلکا اور فریش محسوس کررہا ہُوں۔ البتہ تُم سُناؤ ۔ تُمہارے دِل کو کیا رُوگ لگ گیا ہے۔۔۔؟ فُون پر بھی تُمہاری آواز سے یہی مِحسوس ہُورھا تھا۔ جیسے تُم کِسی ذہنی خلقشار میں مُبتلا ہُو۔۔۔! ویسے یار مُجھے مُعاف کردینا مجھے آنے میں کُچھ تاخیر ہُوگئی۔ دراصل پروفیسر اَبُّو العمران حسان صاحب کا لیکچر اِتنا مسحور کُن اور پُر مغز تھا کہ میں باوجود کوشش کے بھی محفل سے نہیں اُٹھ پارہا تھا۔ بس جیسے ہی حسّان صاحب کا لیکچر ختم ہُوا میں فُوراً تیری جانب دوڑا چلا آیا۔ فُرقان نے مُعذرت کیساتھ ساتھ نعمان کو تاخیر کی وجوھات بتاتے ہُوئے اُسکی خیریت دریافت کی۔

یار فرقان میں اپنی پریشانی تُو تُمہیں بتا ہی دونگا، مگر میرے یار یہ تُم نے اپنا حُلیہ کیا بنا رکھا ہے۔۔۔؟ اور یہ تُم کِن چکروں میں پڑ گئے ہُو۔۔۔؟

میرے دوست یہ جوانی پلٹ کر واپس نہیں آئے گی۔ کیوں چار دِن کی زِندگی کو اِیسے مولوی ٹائپ لوگوں کے چکر میں ضائع کرنے پر تُلے ہُو۔۔؟ اگر ابھی زندگی کو انجوائے نہ کیا ۔ تُو کیا بُڑھاپے میں اِنجوائے کرو گے ۔۔۔؟ جب نہ قدم تُمہار اساتھ دیں گے ۔اور نہ ہی سانس قابو میں رہے گی۔ نعمان نے فرقان کی حالت کی طرف اِشارہ کرتے ہُوئے مُحبت سے سمجھایا۔

نعمان میرے بھائی میں بھی اپنے حُلیہ، جوانی، ڈھلتی عمر، اور بڑھاپے کو لیکر ہی متفکر ہُوں۔ لیکن بس تُمہارے اور میرے سُوچنے کا انداز جُدا ہُوگیاہے۔

میں ابھی شائد اپنے احساسات کو الفاظ کے سانچے میں ٹھیک طرح سے نہ ڈھال سَکوں ۔اور ہُوسکتا ہے کہ اپنی کم مایئگی کے اِحساس کی وجہ سے تُمہیں مطمئین بھی نہ کرپاؤں ۔اسلئے میرے خیال میں ہمیں اِس بِحث میں پڑنے کے بجائے وہ بات کرلینی چاہیئے جسکی خاطر تُم نے مجھے بُلایا ہے۔ میں تجھے بھی حَسّان صاحب سے ایک بار ضرور مِلانا چاہُوں گا۔ اور مجھے یقین ہے کہ تُم پہلی ہی مُلاقات میں اپنے تمام سوالوں کا اطمینان بخش جواب پاکر میری ہی طرح سُوچنے لگو گے۔ فُرقان کی اِس خُواہش کا نعمان نے تڑخ کا جواب دیتے ہُوئے کہا۔ مجھے کوئی ضرورت نہیں ہے ایسے پیٹ کے پُجاریُوں سے زندگی کا فلسفہ سمجھنے کی۔ جُو چندے کے نام پر ساری زِندگی اپنی تجوریوں کا وزن بڑھانے میں لگے رِہتے ہیں۔ اور میرا یہ وعدہ ہے تُجھ سے۔۔۔۔۔۔ کہ میں ایک دِن تجھے بھی اُس پروفیسر کے جھانسے سے ضرور نِکال لاؤں گا۔

پُروفیسر حَسّان صاحب کی شان میں ایسے نازیبا الفاظ سُن کر ایک لمحے کیلئے فُرقان کے گندمی چہرے کا رنگ سُرخ ہُوگیا۔ فرقان کا جی چاہا کہ وہ اِس گُستاخی کا بھرپور جواب نعمان کو دے یا فوراً احتجاجاً اپنی نِشست سے اُٹھ جائے۔ لیکن اُسے فوراً حسّان صاحب کا جمُلہ یاد آگیا جُو اُنہوں نے آج ہی بُہت زُور دیکر سامعین کوسمجھایا تھا۔ کہ انسان کا اصل اِمتحان حالت غُصہ میں ہُوتا ہے۔ اگر اِنسان بھڑک جائے تو شیطٰان غالب رہتا ہے اور یُوں بندہ ہَار جاتا ہے۔ لیکن اگر انسان اُس وقت حِلم و بردباری کا مظاہرہ کرے۔دلیل و حِکمت کا ساتھ نہ چُھوڑے۔ تب انسان غالب اور شیطان مغلوب ہُوجاتا ہے اب یہ بندے پر منحصر ہیکہ چاہے تو شیطان کو غالب کرے چاہے تُو خُود غالب رِہ کر اُس لعین کو مغلوب کردے۔

فُرقان نے بَمشکل اپنے جذبات پر قابو پاتے ہُوئے ایک مرتبہ پھر نعمان سے مُخاطب ہُوتے ہُوئے دھیمے لہجے میں کہا،، میرے خیال میں ہمیں اصل موضوع کی طرف لُوٹ آنا چاہیے،، ایسا نہ ہُوکہ نماز کا وقت ہُوجائے اور ہماری مُلاقات کا مقصد ہی فُوت ہوجائے۔ اور جہاں تک رہا ہماری لائف اِسٹائل کے انداز کی بات کا تعلق ۔ تو میرے خیال میں ہمیں اِسمیں ایک دوسرے پر جبر نہیں کرنا چاہیئے۔ ہاں کبھی وقت مِلا تو میں ضرور اس موضوع پر تُم سے تفصیلی گُفتگو کروں گا۔ کیونکہ میں سمجھتا ہُوں کہ ایک دوسرے کا نظریہ جاننے سے عِلم میں اضافہ ہُوتا ہے۔ فرقان نے گُفتگو کا موضوع بدلنے کی ایک آخری کوشش کرتے ہُوئے سپاٹ لہجے میں کہا۔

نعمان نے بھی فرقان کے لہجے کے کرب کو مِحسوس کرتے ہُوئے موضوع بدلنے میں ہی عافیت جانی ۔ اِس لئے نعمان نے اَصل موضوع کی جانب آتے ہُوئے۔ اُٹھ کر دیوار پر نصب کیبنٹ کا لاک کھول کر ایک فائل نِکالی اورمسکراتے ہُوئے فُرقان کی جانب بڑھادی۔

یہ کیا ہے۔۔۔؟ فرقان نے فائل ہاتھ میں لیتے ہُوئے نعمان سے کہا۔

یہ اُسی پیپر مِل کی فائل ہے جسکا تذکرہ میں نے تُم سے تُمہارے گھر پر کیا تھا۔ نعمان نے بدستور مُسکراتے ہُوئے اُسے یاد دِہانی کرائی۔

لیکن تُم نے خُود ہی تُو بتایا تھا کہ اس پروجیکٹ کیلئے ہمارے اکاؤنٹ میں خاطر خُواہ رقم موجود نہیں ہے۔ پھر یہ فائل دِکھانے کا مطلب۔ فُرقان نے استفہامیہ انداز میں نعمان کو دیکھا۔

لیکن میں نے تُم سے کہا تھا نا ! کہ ہمیں اِس پروجیکٹ کے لئے قرض مِل رہا ہے۔ اور یار تمہیں تو معلوم ہی ہے کہ یہ صرف میرا ہی نہیں بلکہ ہمارا مشترکہ خواب ہے۔ اور اب وقت آگیا ہے کہ ہم اِس خُواب کو حقیت کے رُوپ میں اپنے سامنے دِیکھیں۔ زمیں کا کوئی پرابلم ہی نہیں فیکٹری کیساتھ اضافی چھ ایکڑ زمین ہمارے پاس موجود ہے ہم اِس تمام زمیں کو فیکٹری میں شامل کرلیں تو ۔ ون یُونٹ میں دو پروجیکٹ کی دیکھ بھال بھی نہایت آسانی سے ہُو جائیگی اور اضافی بجلی بھی ہم آسانی سے اِس پروجیکٹ میں استعمال کرسکیں گے۔ کُچھ تعمیرات ہم اپنی رقم سے کرلیں گے باقی تعمیراتی کام اور مشینری کیلئے رقم بنک سے مِل جائے گی۔ جبکہ خام مال ہمیں بازار سے کریڈٹ پر مِل ہی جائے گا۔جس سے ہمارا مُنافع سہ گُنا ہوجائے گا۔ پھر تُم دیکھنا ہم کتنی جلد اِس شہر کے سب سے بڑے رئیس کہلائیں گے۔ نعمان نے تفصیل سے پروجیکٹ کے متعلق فرقان کوجُوشیلے لہجے میں بتاتے ہوئے کہا۔

لیکن نعمان تُم مجھے یہ تمام باتیں دوبارہ کیوں بتارہے ہُو۔۔۔؟ جبکہ ہم چار دِن قبل بھی اِس موضوع پر بات کرچُکے ہیں اور تُمہیں میرا جواب بھی معلوم ہے کہ میں بنک سے رقم اُدھار لینے کے قطعی حق میں نہیں ہُوں البتہ میں اب بھی اپنی بات پر قائم ہُوں کہ اگر کوئی انویسٹر مِل جاتا ہے تُو تُم بِلا شُبّہ اُسے بھی اپنی پارٹنر شِپ میں شامِل کرسکتے ہُو۔ مجھے بالکل اعتراض نہیں ہُوگا۔ فرقان نے اپنا جواب سُناتے ہُوئے کہا۔

یار تُمہاری عقل کیا گھاس چَرنے گئی ہے۔۔۔؟ البتہ تو کوئی بھی انویسٹر اتنی بڑی رقم ایک نئی فیکٹری میں لگائے گا ہی نہیں ۔اور اگر فرض کرلیں کوئی ایسا اِنویسٹر مِل بھی جاتا ہے تُو وہ کم از کم پچاس ساٹھ پرسنٹ منافع سے کم میں راضی نہیں ہُوگا۔ پھر ہم کیوں بیس یا پچیس پرسنٹ منافع کیلئے اِتنا جھمیلہ پالیں جب بنک خُود ہمیں تمام مطلوبہ رقم دینے کو تیار ہے۔ اور میرے خیال میں بنک کا انٹریسٹ زیادہ سے زیادہ مُنافع کا دس سے پندرہ پرسنٹ ہُوگا۔ نعمان نے غُصیلے لہجے میں جھنجلاتے ہوئے فرقان کو تُرکی بہ تُرکی جواب دِیا۔

پھر تُم اُس وقت کا انتظار کیوں نہیں کرتے جب تک کہ مطلوبہ رقم مُنافع کے ذریعہ سے ہماری دسترس میں نہیں آجاتی۔ فُرقان کے لہجے میں بھی نہ چاہتے ہُوئے تلخی کی کڑواہٹ دَر آئی تھی۔

اِسکا مطلب ہے واقعی ہمارے راستے جُدا ہُونے کا وقت بُہت نزدیک ہے۔ نجانے کسطرح یہ جُملہ نعمان کی زُبان سے بے اِختیار پِھسل گیا۔ نعمان خُود بھی اپنے اِس جُملہ پر حیران تھا۔ لیکن اب دِیر ہُوچُکی تھی تِیر کَمان سے نِکل چُکا تھا ۔ اور نشانہ بھی قائم کرچُکا تھا ۔ لیکن یہ نِشانہ نعمان کے نا چاہتے ہُوئے بھی فرقان کا سینہ ہی تھا۔

(جاری ہے)

Saturday, 23 May 2015

جَال ۔ دَر ۔ جَال قسط ۱



جَال ۔ دَر ۔ جَال


ارے آئیے کرامت صاحب میں تُو کب سے آپکی راہ دیکھ رَہا تھا ۔ وہ کیا خُوبصورت شعر ہے جو عموماً ایسے موقعوں پر پڑھا جاتا ہے ۔۔؟ ہاں یاد آیا۔
وہ آئے گھر میں ہمارے خدا کی قدرت ہے ۔۔۔! ! نعمان علی خان نے صوفے سے اُٹھ کر کرامت صاحب سے بغلگیر ہُوتے ہوئے شعر پڑھا۔

کیوں شرمندہ کرتے ہیں نعمان صاحب میں تُو خود آپکی فون کالز کا منتظر تھا اور دیکھئے جونہی آپ کا بُلاوا مِلا ۔بندہ خُود حاضر ہوگیا کہیئے کیا فرقان صاحب نے منظوری دے دی ۔ آپکے نئے پرپوزل کی۔۔ ؟ کرامت صاحب نے سِٹنگ رُوم میں رکھے ایک خُوبصورت صوفے پر بیٹھتے ہی بڑے اشتیاق سے نعمان صاحب کی جانب دیکھتے ہُوئے اِستفسار کیا ۔

منظوری تُو نہیں دِی لیکن میں بھی ہاں کرائے بغیر ماننے والوں میں سے نہیں ہُوں ۔آج نہیں تو کل فرقان بھائی کو منظوری دینی ہی پڑے گی۔ اور ویسے بھی فیکٹری چلانے کی تمام تر ذُمہ داری میری ہی تُو ہے۔ فرقان پہلے کونسا فیکٹری چلانے میں میری مُعاونت کرتا تھا جُو اب فیکٹری کے معاملات میں مُداخلت کرے گا۔ بس وہ تُو مجھ سے غلطی ہُوگئی جو انجانے میں اُس سے اِس پرپوزل کے بارے میں اُسکی رائے معلوم کربیٹھا۔ اگر مُجھے ذرا بھی بھنک مِل جاتی کہ فرقان آجکل مُولویوں میں اُٹھنے بیٹھنے لگا ہے تُو میں اُس سے اِس نئےپرپوزل کا تذکرہ ہی نہیں کرتا ۔ نعمان صاحب نے تفصیل سے کرامت صاحب کو تفصِیلات بتاتے ہُوئے کہا۔

لیکن اُن کی رضامندی تُو چاہیئے ہی ہُوگی نا ۔ بھئی آخر وہ بھی تُو پچاس پرسنٹ کے حِصےدار ہیں آپکی فیکٹری میں ۔اور بنک ڈاکومینٹس پر اُنکے سگنیچر بھی درکار ہُونگے اور بھی کافی مسائل درپیش ہُونگے۔ بنک لُون کی منظوری سے قبل۔ لیکن اُنہیں اعتراض کیا ہے بنک لُون لینےپر ۔ آخر مجھے بھی تُو وجہ معلوم ہُو۔ ویسے جہاں تک میری معلومات ہیں آجکل کسی فیکٹری کا بھی بنک کی شراکت کے بغیر چلائے جانے کا تصور ہِی مُحال ہے ۔اور آپ تُو ماشاءَاللہ جو پروجیکٹ شروع کرنے جارہے ہیں اُس میں ایک خطیر سرمائے کی ضرورت پیش آئیگی۔ اور میں نہیں سمجھتا کہ آپ اس پروجیکٹ کو بنک کی شراکت کے بَغیر چلا پائیں گے۔ کرامت صاحب نے بھی تفصیلی جائزہ پیش کرتے ہُوئے بنک کی اہمیت پر روشنی ڈالی ۔

آپ بجا فرماتے ہیں کرامت صاحب اور مجھے یہ بھی معلوم ہے کہ بنک کی شراکت کے بغیر اِس پروجیکٹ کو پایہ تکمیل تک نہیں پُہنچایا جاسکتا۔ اور نہ ہی اِس کے بِنَّا میں اپنا برسوں پُرانا خُواب حقیقت میں ڈھال سکوں گا ۔ لیکن یہ جُو مولوی ٹائپ لوگ ہُوتے ہیں اِنکا حال تُو آپ کو معلوم ہی ہے۔ یہ نا خُود ترقی کرتے ہیں اور نہ ہی کِسی اور کی ترقی برداشت کرسکتے ہیں ۔اسی لئے میں نے آپکو زِحمت دِی تھی تاکہ آپ سے معلوم کرسکوں ۔کہ کیا کوئی ایسی تدبیر نہیں ہُوسکتی کہ فرقان کو اِس تمام معاملے میں اِنوالو کئے بغیر یہ لُون حاصِل کیا جاسکے۔۔۔؟ نعمان نے اُمید بھری نِگاہوں سے بنک منیجر کرامت کو دیکھتے ہوئے کہا۔

نہیں نعمان صاحب ایسا بالکل بھی مُمکن نہیں ہے کیوں کہ بات دَس کروڑ کے لُون کی ہے کوئی پانچ دس ہزار رُوپے کی نہیں جو کوئی بے قاعدگی کی گُنجائش نِکالی جاسکے اتنی بڑی رقم بنک کِسی کو دینے سے قبل اُسکی سیکیورٹی کا خاطر خواہ انتظام ضرور کرے گی۔ یہ تو آپ خُوش نصیب ہیں جو میری معرفت آپکو یہ لُون ایک مہینے میں حاصِل ہُوجائے گا ورنہ لوگ اتنی کم شرح انٹریسٹ پر لُون حاصل کرنے کیلئے مہینوں نہیں بلکہ سالوں بنک کے چکر لگاتے ہیں تب کہیں جاکر سینکڑوں شرائط پُوری کرنے کے بعد ہی قرض حَاصِل کرپاتے ہیں۔ کرامت صاحب نے پہلو بدلتے ہُوئے جواب دِیا۔

میں جانتا ہُوں کرامت صاحب۔ اسمیں کوئی شک نہیں کہ ہماری ریپوٹیشن لاکھ بہتر سہی لیکن آپکی کوششوں سے ہی اِس لون کی آفر ہمیں ہُوئی ہے لیکن نہ جانے فرقان کس قِسم کے لوگوں کے چکر میں گرفتار ہُوگیا ہے۔ جو اُسے اُلٹی سیدھی پٹی پڑھاتے رِہتے ہیں۔ اور آپ تو جانتے ہی ہیں کہ ہمارے مُلک میں ایسے لوگوں کی ویسے بھی کوئی کَمی نہیں ہے جنہیں دوسروں کے کام میں خوامخواہ ٹانگ اَڑانے کی عادت ہُوتی ہے۔ آپ نے وہ مقولہ تُو ضرور سُنا ہُوگاکہ۔ نہ ہم خُود کھائیں گے اور نہ کِسی اور کو کھانے دیں گے۔ نعمان نے قہقہ لگاتے ہوئے کہا۔

لیکن نعمان صاحب آپ نے بتایا نہیں کہ فرقان صاحب کو آخر اعتراض کیا ہے اس ترقی کی راہ پر چلنے میں ؟ کرامت صاحب نے اپنا سوال ایک مرتبہ پھردُھراتے ہُوئے کہا۔

ارے کرامت صاحب کیا بتاؤں آپکو موصوف وہی دقیانوسی باتیں لے کر بیٹھ جاتے ہیں ۔ جیسی باتیں اکثر ناکام قسم کے لُوگ کرتے نظر آتے ہیں کہ بنک سے لین دین حرام ہے اور اُنکا سار ا نظام اور کاروبار سودی ہُونے کی وجہ سے کاروبار سے برکت چلی جاتی ہے ۔ اور پریشانیاں انسان کا پیچھا نہیں چھوڑتی۔ وغیرہ وغیرہ۔ نجانے کہاں سے فرقان کی مُلاقات ایک ریٹائرڈ پروفیسر صاحب سے ہُوگئی ہے۔ جناب خُود تو کِسی کالج سے لاکھوں روپیہ لیکر فارغ ہُوگئے ہیں۔ اب فرقان کو بھی اپنے پیچھے لگا لیا ہے۔ نعمان نے بات کو واضح کرنے کے بعد انٹر کام پر چائے کا آرڈر دیدیا۔

کُچھ دیر میں ملازم چائے کے دو گرما گرم کپ بِسکٹس کیساتھ سِٹنگ روم میں رکھ کر واپس چلا گیا۔ کرامت صاحب نے چائے کا کپ ہاتھ میں اُٹھاتے ہوئے نعمان صاحب کی طرف دیکھتے ہُوئے کہا۔ دیکھیئے نعمان صاحب میں دینی معاملات میں تُو اپنی کوئی رائے پیش نہیں کرونگا۔ کیونکہ میری دِینی معلومات نہ ہُونے کے برابر ہی سمجھیں ۔مگر میں آپ کو دھوکے میں نہیں رکھنا چاہتا۔ ہوسکتا ہے کہ اگلے ماہ یا دو ماہ میں میرا ٹرانسفر کِسی دوسرے شہر میں ہُوجائے۔ اُسکے بعد میں آپکی کوئی مدد نہیں کرپاؤں گا۔ اِس لئے اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپکا کام آسانی سے ہُوجائے تُو آپکو جلد از جلد فرقان صاحب کو راضی کرنا پڑے گا اِس کے بغیر کوئی چارہ نہیں ہے۔ یا دوسری صورت میں۔۔۔ کرامت صاحب نے بات کرتے کرتے جُملہ ادھورا چھوڑ دیا۔

دوسری کیا صورت ہے کرامت صاحب آپ کُھل کر بات کریں۔ نعمان نے پُر اشتیاق لہجے میں اِستفسار کیا۔ نعمان کا خیال تھا کہ شائد کرامت صاحب کوئی لین دِین کی بات کرتے ہُوئے جھجک رہے ہیں ۔

دوسری صورت یہ ہے نعمان صاحب کہ۔۔۔ فرقان صاحب آپکو اَٹارنی پاور دے دیں۔ یا آپ اُن سے کِسی طرح شراکت ختم کردیں۔ اسطرح فیکٹری کے تمام معاملات کی ڈیلنگ صرف آپ کے پاس آجائے گی اور میں آپکو قرضہ دِلوانے میں کامیاب ہُوجاؤں گا ۔لیکن اسکے لئے بھی آپکو جلد از جلد تمام ڈاکومینٹس تیار کروانے ہُونگے۔ یُوں سمجھ لیں کہ آپکے پاس زیادہ سے زیادہ بیس یا پچیس دِن ہُونگے۔ کرامت صاحب نے ہچکچاتے ہُوئے دوسری تجویز پیش کردی۔

ارے نہیں کرامت صاحب فرقان کیساتھ میری تب سے یاری ہے جب ہماری جیبوں میں ایک پھوٹی کُوڑی بھی نہیں ہُوتی تھی یہ کروڑوں کا بزنس تو چند سال سے ہے ورنہ ہمیں دیکھ کر تو لوگ یہی کہتے تھے کہ ۔ لُو آگئی 2 نکموں کی جُوڑی۔ اُس وقت ہماری جیب میں ایک چائے کے بھی پیسے نہیں ہُوتے تھے کہ آدھے آدھے کپ کی عیاشی ہی کر لیتے۔ فرقان اتنا سخت انسان نہیں ہے ۔ اُسے دولت کی اہمیت کا خُوب اندازہ ہے۔ اور وہ یہ بھی جانتا ہے کہ آج لوگوں میں ہماری جو عزت اور جو بھی ہماری کاروباری ساکھ ہے۔ وہ انہی پیسوں کی بدولت ہیں۔ میں فرقان کو پھر سے سمجھاؤں گا ۔اور مجھے یقین ہے وہ بلاآخر میری بات مان ہی جائے گا۔ نعمان نے جذباتی لہجے میں اپنی بات مکمل کرتے ہُوئے کہا۔

چلیں پھر ٹھیک ہے آپ فرقان صاحب سے بات کرلیں۔ کہتے ہیں ایک جگہ بار بار قطرہ گرنے سے تُو پتھر میں بھی سُوراخ ہُوجاتا ہے ۔ اور اپنے فرقان صاحب تُو نہایت نفیس اور سمجھدار انسان ہیں۔ ویسے بھی سُنا ہے کہ انسان کا قلب مُنقلب ہُوتا ہے۔ ہُوسکتا ہے اِس مرتبہ آپ کی بات اُنکے دِل کو چھو جائے آخر آپ اُنکے دوست اور خیر خُواہ ہیں ۔اور اس نئے پرپُوزل سے صرف آپکی ذات کو ہی تُو فائدہ نہیں پُہنچے گا پچاس فیصد مُنافع تُو اُنہیں بھی مِلے گا جو میرے خیال میں سالانہ دُو تین کروڑ سے کِسی طرح کم نہیں ہوگا۔ کرامت صاحب نے بات مکمل کرنے کے بعد کھڑے ہُو کر مُصافحہ کیلئے نعمان کی جانب ہاتھ بڑھاتے ہُوئے کہا۔

نعمان آفس کے گیٹ تک کرامت صاحب کو چھوڑنے کے بعد واپس آکراپنی آرام دہ نشست پر نیم دراز ہُوگیا۔ اُسے کرامت صاحب کی دوسری تجویز قطعی پسند نہیں آئی تھی۔ بلکہ اُسے حیرت اِس بات پہ تھی کہ کِس بات سے کرامت صاحب کو اتنی ہمت ہُوئی کہ اُنہوں نے مجھے فرقان سے علحیدگی کا مشورہ دے ڈالا۔ حالانکہ وہ ایسی کوئی بات کبھی اپنے ذہن کے پُوشیدہ گُوشے میں بھی نہیں لایا تھا۔ ۔چہ جائیکہ کرامت صاحب نے وہ بات اپنی زُبان سے ادا کردی۔ اور نعمان کو صرف گُمان نہیں بلکہ کامل یقین تھا کہ کبھی فرقان نے بھی ایسی کِسی بات کا تصور نہیں کیا ہُوگا۔

نعمان کی زندگی میں اُسکے خوابوں کی بڑی اہمیت تھی لیکن وہ اُن خوابوں کے لئے اپنے جگری یار کو قربان نہیں کرسکتا تھا۔ لیکن آج کرامت صاحب کی گُفتگو نے بیشُمار اندیشے اور خُوف کے بادل نعمان کے سر پر ایستادہ کردئیے تھے۔ وہ جتنا اِن خیالات سے اپنی سوچ کو باز رکھنے کی کوشش کررہا تھا۔ اُسی قدر زیادہ خیالات کے ناگ اُسکے دِماغ پر اپنے مہیب پھَنّوں سے حملہ کر رہے تھے۔چند جُملے بار بار نعمان کے دِماغ میں گُونج رَہے تھے ۔۔ کیا فرقان کبھی میرا ساتھ چھوڑ سکتا ہے۔۔۔؟کیا میں فرقان کو اپنے خُوابوں کی بھینٹ چڑھا سکتا ہُوں۔۔۔؟ کیا ہماری دوستی کِسی نازک دوراہے پر کھڑی ہے۔۔۔؟ اور ایسے ہی بیشُمار سوالات نعمان کی سُوچوں کو منتشر کررہے تھے۔ نعمان کو ایسا محسوس ہُورَہا تھا جیسے یہ سوالات اُسکی دماغی شریانوں کو پھاڑ ڈالیں گے۔ پھر کُچھ سُوچ کر نعمان نے فُون کا رِیسیور اُٹھایا اور فرقان کے نمبر پنچ کرنے لگا۔ دوسری جانب سے فرقان نے جونہی السلامُ علیکم کہا۔ نعمان نے فرقان سے جلد فیکٹری میں آجانے کی استدعا کرتے ہُوئے فون کا ریسیور پٹختے ہُوئے اپنی آنکھیں بند کرلیں۔

(
جاری ہے)

عامل کامل ابو شامل (قصہ فرح)قسط 33



گُذشتہ سے پیوستہ۔
   

کچھ ہی دِن بعد میرے والد صاحب نے میری غیر موجودگی کو محسوس کرتے ہُوئے کچھ سپاہی مجھے طلب کرنے کیلئے بھیج دیئے۔ لیکن میں نے واپسی سے صاف انکار کردیا۔۔۔ یہ کھیل کئی ماہ چلتا رہا۔ میری والدہ کے  بھی مسلسل واپسی کیلئے پیغامات مجھے موصول ہُورہے تھے۔ ایک دِن میں اپنی والدہ سے مُلاقات کیلئے اپنی ریاست پُہنچ گیا۔ اُور اُنہیں اپنی تمام دِلی کیفیات سے آگاہ کردیا۔ اُنہوں نے بھی مجھے کافی خبردار کیا۔کہ،، انسانوں کی دوستی یا دُشمنی ہم جنات کیلئے کبھی سُود مند ثابت نہیں ہُوتی۔ لیکن میں نے منت سماجت کرکے اُنہیں اِس بات کیلئے آمادہ کرلیا۔کہ،، میں اُن سے مُلاقات کیلئے وقتاً فوقتاًً ریاست آتا جاتا رُہوں گا۔ اُور جیسے ہی میرے ہاتھ گوہرِ مُراد لگا میں ہمیشہ کیلئے واپس لُوٹ آونگا۔ میں والدہ سے مُلاقات کے بعد جب سیالکوٹ پُہنچا ۔ تو ایک قیامت میری منتظر تھی۔۔۔ فرح جس میڈیکل یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کررہی تھی۔ اُسی یونیورسٹی کے ایک نوجوان  ڈاکٹر دلشاد احمد کی فیملی فرح کا رشتہ لیکر آئی تھی۔ فرح کی فیملی کو وُہ رشتہ اتنا پسند آگیا۔کہ،، اُنہوں نے  فرح کی رضامندی دیکھ کر فوراً ہی رشتہ کیلئے حامی بھرلی۔۔

اب مزید پڑھیئے۔

مجھے فرح کی فیملی سے ذیادہ فرح پر غصہ آرہا تھا۔ جسے میری تکلیف اُور محبت کا ذرہ سا بھی احساس نہیں تھا۔ ایک میں تھا جو اُس کیلئے شہزادوں جیسی زندگی چھوڑ کر جُوگی بن گیا تھا۔ اُور ایک وُہ بھی جس نے کتنی آسانی سے دلشاد کیلئے  شرماتے ہُوئےحامی بھر لی تھی۔۔۔ لیکن پھر مجھے  اپنی بے وقوفی کا احساس ہُوا۔کہ،، بھلا فرح میری تکلیف کو کیسے سمجھ سکتی ہے؟۔ اُس بیچاری کو  تویہ خبر ہی نہیں تھی کہ،، میں اُس کیلئے کیسے کیسے پاپڑ بیلتا پھر رَہا ہُوں۔ لیکن اب میں نے فیصلہ کرلیا تھا۔ کہ مجھے جلد از جلد فرح کو اپنی موجودگی کا احساس دِلوا دینا چاہیئے۔ سُو میں نے سب سے پہلے ایک چاندنی رات  میں  فرح کوسُوتے ہُوئے اغوا کرلیا۔ اُور اُسے ایک ایسی وادی میں لےگیا۔ جہاں کی خوبصورتی دیکھ کر انسان کو جنت کا گُمان ہُونے لگتا ہے۔ یہاں جا بجا پہاڑوں سے  بہتےچشمے اُور تمام زمین پر بچھی ریشمی گھاس، پھلوں سے لدے  قطار در قطار درخت ، اُور درختوں پر چہکتے پرندے ، انسانوں کو مدہوش کرنے کیلئے کافی تھے۔ جبکہ اُس رات بدر کامل کی چمک دمک نے ماحول پر عجیب سی رومانی کیفیت بھی  برپا کی ہُوئی تھی۔ میں نے خود کو سُنوار نے میں کوئی کسر نہیں اُٹھارکھی تھی۔ میں یقین سے کہہ سکتا ہُوں۔کہ،، اُس رات اگر  مجھے دُنیا کی  تمام مِس ورلڈ بھی دیکھ لیتیں۔ تو مجھے حاصل کرنے کیلئے وُہ ضرور ایک دوسرے پر سبقت لیجانے کی کوشش کرتیں۔

اُس رات میں بُہت ذیادہ پُراُمید تھا۔ اِس لئے تمام تیاری کے بعد میں نے بڑے پُر اعتماد انداز میں  اُسے جگانے  اُور خُود کو اُس پر ظاہر کرنے کا فیصلہ کرلیا۔۔۔ میں نے دھیرے سے کئی مرتبہ اُسکے قدموں پر بُوسے دیئے۔ وُہ ہر مرتبہ  کسمسا کر کروٹ بدلتی رہی۔ جسکے بعد میں  اُسکے قدموں پر مزیدایک بُوسہ کردیتا۔ یہاں تک کے اُس نے ایک اَدا سے آنکھوں کے دریچے ذرا سے وَا کردیئے۔ لیکن جونہی اُسکی نظر مجھ پر پڑی وُہ حیا سے سِمٹ کر  وحشت سے اپنے چاروں جانب دیکھ کر خوابناک لہجے میں گُویا ہُوئی!!! آپ کون ہیں، اُور میں یہاں کیسے آگئی ۔؟؟؟ میرا خیال تھا کہ،، وُہ جاگنے کے بعد   اس طلمسی  اُور رومانٹک ماحول میں خود سپردگی کی کیفیت میں ڈھل جائے گی۔ لیکن وُہ تو ایک ہراساں آہو ،،کی مانند سِمٹتی ہی چلی جارہی تھی۔۔۔ آپ پرستان  میں ہیں شہزادی فرح اُور میں یہاں کا شہزادہ ہُوں۔۔۔ میں نے حتی الامکان اپنے لہجے میں اپنایت اُور مٹھاس سمونے کی کوشش کی۔۔۔ اُس نے پہلی مرتبہ نارمل انداز میں میرے سراپے کا جائزہ کا  لیکر میری صداقت کو پرکھنے کی کوشش کی۔۔۔ وُہ رفتہ رفتہ ماحول سے متاثر ہُورہی تھی۔ لیکن  اُس کے اندر کی بے چینی بھی اُسکے چہرے پر مترشح تھی۔۔۔ آپ تو واقعی شہزادے لگ رہے ہیں۔ اُور یہ جگہہ بھی واقعی  کہانیوں کے پرستان ہی جیسی ہے۔۔۔ لیکن میں کوئی شہزادی نہیں ہُوں!!! اُور بائی دا ،وِے  آپکو میرا نام کیسے معلوم ہے؟؟؟ اُور میں اپنے گھر سے یہاں کیسے پُہنچ گئ؟۔۔۔۔۔۔۔ کس نے کہا۔کہ،، آپ شہزادی نہیں ہیں؟؟؟ آپ شہزادی فرح ہیں۔ اُور میرا نام شہزادہ ابوشامل ہے۔ اُور میں  اپنے دِل میں آپکو  اپنی ریاست کی ملکہ بنا کر دُنیا کی تمام نعمتوں کو آپکے قدموں میں ڈھیر کرنے کی خواہش کا ارادہ رکھتا ہُوں۔۔۔ میں نے اپنی خاہش کو الفاظوں میں سمونے کی کوشش کرتے ہُوئے اُسے بتایا۔


دیکھیئے  شہزادہ ابو شامل  صاحب میں واقعی آپکو نہیں جانتی۔ اُور نہ ہی میں کوئی شہزادی ہُوں۔ آپ کو ضرور کوئی غلط فہمی ہُوئی ہے۔ میں میڈیکل کی طالبہ ہُوں۔ اُور ابھی چند دِن پہلے ہی ،میری منگنی ہُوچُکی ہے۔ اُور عنقریب میری شادی بھی ہُونے والی ہے۔ ۔۔۔۔ فرح کی گفتگو جاری تھی کہ ،،میں نے اُسک بات کاٹتے ہُوئے کہا،، کیا مجھ میں کوئی کمی ہے؟ جو آپ مجھے ٹُھکرا کر کسی عام سے انسان کیساتھ زندگی گُزارنا چاہتی ہیں۔۔۔۔ دیکھیئے  میرا رشتہ میرے والدین کی  خُواہش اُور میری مرضی سے طے پایا ہے۔اسلئے میں کسی دوسرے مَرد کے متعلق سُوچنا بھی گناہ سمجھتی ہُوں۔ آپ پلیز جو بھی ہیں مجھے میرے گھر تک پُہنچادیں۔ ورنہ کہیں ایسا نہ ہُو۔کہ،، بدنامی کا داغ ہمیشہ کیلئے میری رِدائے عصمت کو گہنا کر  میلا کردے۔ اِس مرتبہ فرح  کے آبگینے مکمل طور پر چھلکنے کیلئے بیقرار ہُورہے تھے۔۔۔۔ فرح کے جواب نے میرے اَرمانوں کے تاج محل کو چکناچُور کرڈالا تھا۔ مجھ میں مزید سکت نہیں تھی۔ اُسکی بے اعتنائیوں کو برداشت کرنے کیلئے۔ اِس لئے  میں نے دُوبارہ نیند کی وادی میں  داخل کرنے کے بعد اُسے اُسکے  بستر پر  واپس پُہنچا دیا۔ صبح جب اُسکی آنکھ اپنے بستر پر کھلی تو اُسے رات کے تمام واقعات خُواب  کی طرح محسوس ہُوئے۔ اُس نے اللہ کا شکر ادا کیا۔کہ،، وُہ حقیقت کے بجائے خواب دیکھ رہی تھی۔

اِس واقعہ کے بعد میں نے کئی مرتبہ اُسے  حالت نیند سےاغوا کرکے دُنیا کی خُوبصورت ترین وادیوں میں اپنی محبت کا احساس دِلانے کی کوشش کی۔ لیکن اُس نے ہمیشہ مجھ پر دلشاد کو فوقیت دی۔۔۔  وُہ ہر مرتبہ صبح جاگنے کے بعد گُزری رات کے واقعات کو خُواب سے تشبیہ دیتی ۔ البتہ اَب وُہ اِن مُسلسل خوابوں کی وجہ سے پریشان رہنے لگی تھی۔۔۔۔اُسکے مُسلسل انکار کی وجہ سے میری طبیعت میں بھی بُہت ذیادہ جھلاہٹ رہنے لگی تھی۔ کبھی  کبھی دِل چاہنے لگتا۔کہ،، اُسے ہمیشہ کیلئے اغوا کرکے لیجاوٗں۔ لیکن پھر  جب یہ خیال آتا۔کہ،، زبردستی اپنے خیالات کسی پر تھوپنے سے کسی کے دِل میں محبت کے بجائے نفرت کا ذیادہ اندیشہ رہتا ہے۔ تو میں اپنے ارادے سے باز آجاتا۔۔۔ لیکن ایک بات مجھے بُہت اچھی طرح سے سمجھ  آچکی تھی۔کہ،، جب تک دلشاد کا کانٹہ ہمارے درمیان رہے گا۔میں کبھی بھی فرح کو حاصل نہیں کرپاوٗں گا۔۔۔ اسلئے میں نے فرح کے بجائے اَب دِلشاد کو اپنی توجہ کا مرکز بنالیا تھا۔ ۔۔۔ البتہ رات ڈھلتے ہی میں فرح کے رُوم میں داخل ہُوجاتا۔ اُور رات کا بیشتر حصہ اُس ہرجائی محبوب کی دید میں بسر ہُوجاتا۔

ایک دِن دلشاد کی نگرانی کرتے ہُوئے مجھے یہ بات معلوم ہُوئی۔کہ،، موصوف ویک اینڈ منانے کیلئے  اپنے  ایک جگری دوست کو مانسہرہ سے لیکر وادی کاغان  میں گُزارنے کا اِرادہ رکھتے ہیں۔ یہ سفر دلشاد سے ذیادہ میرے لئے اہمیت کا باعث تھا۔۔۔ اُور اِس سفر میں سب سے بڑی بات یہ تھی۔کہ،،  سفر کے دوران دلشاد نے اکثر  سفرپہاڑوں پر بنی تنگ گُزرگاہوں پر کرنا تھا۔جہاں لینڈ سلائیڈنگ معمول کی بات تھی۔ اُور اکثر گاڑیاں دریائے کُنہار کے عشق میں ڈوب جایا کرتی تھیں۔پھر وُہ وقت بھی  جلد آگیا،، جب دلشاد خُوب تیار ہُوکر عازم سفر ہُوا۔۔۔ میرا ارادہ تھا کہ وادی کاغان کو ہی ہمیشہ کیلئے دلشاد کا دائمی ٹھکانہ بنادوں۔ لیکن مانسہرہ آنے سے قبل ہی دلشاد نے جونہی فرح کے نمبر کی پیڈ پر پنچ کرنے شروع کئے ۔تو میرا دماغ اُلٹ گیا۔ اُور ساتھ ہی دلشاد کی گاڑی بھی سینکڑوں فٹ گہری کھائی کی نذر ہُوگئی۔ میں نے جب نیچے جا کر دیکھا تو وُہ  باقی ماندہ گاڑی میں خُون میں لت پت زندگی کی آخری سانسیں گِن رہا تھا۔ میرے جگر سے اُور میری زندگی سے کانٹا نکل رَہا تھا۔ اُور میں خُوشی سے یاھو ،،کا نعرہ بُلند کررہا تھا۔ وادیوں میں میرے نعرے کی گُونج سے ایکو پیدا ہُورہا تھا۔ جیسے تمام وادی بھی میرے ساتھ جشن مناتے ہُوئے یا ھو، یاھو ۔۔۔۔کے نعرے بُلند کررہی ہُو۔
(جاری ہے)

اُسکا کہنا ہے۔ کِسی اُور کو دیکھوں نہ کبھی
کیوں کہ اُسکو یہ میرا رُوپ بُرا لگتا ہے۔

مجھکو ہر چہرے میں آتاہے نظر اِک وُہ ہی
جُو نہ بھر پائے یہ بہروُپ !!!  ۔بُرا لگتا ہے۔

Thursday, 21 May 2015

عامل کامل ابو شامل قصہ فرح کا قسط 32



انتساب۔ کہانی کی یہ قسط (جانِ عشرت کاشف وارثی) اُور محترمہ ڈاکٹر عنبل وارثی کے نام کرتا ہُوں۔
گُذشتہ سے پیوستہ۔
   
ابھی تک اُسی ڈھونگی کی مدد کے انتظار میں ہُو۔  جتنی شدت سے اُس ڈھونگی کو پُکار رہے ہو اتنی شدت سے اگر تُم خُدا کو پکارتے تو وُہ تمہیں کب کا  مِل گیا ہُوتا!!!  گاڑی سے باہر وہی فقیر کامل علی کا  مذاق اُڑاتے ہُوئے قہقہ لگارہا تھا۔۔۔۔  بند کرو اپنی بکواس اُور دفع ہُوجاوٗ یہاں سے۔ کامل علی فقیر کو دیکھ آپے سے باہر ہُونے لگا۔۔۔۔ کسے دیکھ کر چِلا رہے ہیں آپ ؟؟؟؟۔۔۔۔۔ کیا تُم اندھی ہُو؟ جو تمہیں یہ فقیر دِکھائی نہیں دے رہا۔جاناں کی حیرت پر کامل علی نے گردن موڑ کر درشت لہجے میں جواب دیا۔۔۔۔ مجھے واقعی یہاں کوئی فقیر دکھائی نہیں دے رہا جانوں آپ کی طبیعت تو ٹھیک ہے نا؟؟؟!!! جاناں نے کار  کا شیشہ نیچے اُتارتے ہُوئے باہر جھانک کر ایکبار پھر تشویش بھرے انداز میں کامل کی طرف دیکھا۔۔۔۔۔۔ کامل  علی نے حیرت سے پہلے جاناں کی طرف دیکھا ۔ اُور پھر فقیر کی طرف دیکھا ۔ فقیر بدستور کامل علی کو استہزائیہ نظروں سے دیکھ رَہا تھا۔۔۔۔ میں پھر کہتا ہُوں تُم سے کہ،، نکل آوٗ اِس دلدل سے۔ اِس سے پہلے کہ،، واپسی کی راستہ کھو بیٹھو۔ فقیر نے پھر کامل علی کو  تاکید کرتے ہُوئے کہا۔۔۔۔ اتنی دیر میں سنگنل گرین ہُوچکا تھا۔پیچھے سے گاڑیوں کے ہارن شور مچانے لگے تھے ۔ کامل علی نے فقیر پر نگاہ رکھتے ہُوئے گاڑی فُٹ پاتھ پر ایک سائیڈ لگائی۔ اُور جونہی گاڑی سے اُتر کر باہر آیا۔ اتنی دیر میں وُہ فقیر ایک مرتبہ پھر کامل علی کی نگاہوں سے اُوجھل ہُوچکا تھا۔۔۔۔

اَب مزید پڑھیئے۔
کامل علی جُھلائے ہوئے انداز میں جب اپنے گھر پُہنچا تو  بنگلہ کے دروازے سے تالا غائب دیکھ کر چکرا گیا۔۔۔  لگتا ہے آج کوئی گھر کی بھی صفائی کرگیا ہے۔ کامل  کی بُڑبڑاہٹ سُن کر جاناں بھی ہراساں ہُوکر کہنے لگی۔پلیز آپ تنہا گھر میں داخل نہ ہُوں۔ ہوسکتا ہے ابھی تک کوئی گھر میں موجود ہُو۔ اُور کہیں وُہ آپ کو کچھ نقصان نہ پُہنچادیں۔۔۔ ٹھیک ہے، ٹھیک ہے،، پہلے میں باہر سے ہی تسلی تو کرلوں ،، کہ،، کوئی گھر میں موجود بھی ہے یا نہیں کامل نے کار کا دروازہ کھول کر  دبے پاوٗں مین گیٹ کی طرف بڑھتے ہوئےسرگوشی میں  جاناں کوجواب دیا۔۔۔۔ کامل علی جب دبے قدموں گیٹ سے اندر داخل ہُونے کی کوشش کررہا تھا۔ تبھی اُسے ابوشامل کی چہکتی آواز سُنائی دی۔۔۔ عجیب انسان ہُو بیگم کو باہر گاڑی میں چھوڑ کر اپنے ہی گھر میں چوروں کی طرح داخل ہُو رہے ہُو۔ یار  بیچاری بھابی کو بھی اندر لے آوٗ یہاں کوئی خطرہ نہیں ہے۔۔۔ اِس مرتبہ ابوشامل نے جملہ اتنی بُلند آواز میں کہا تھا کہ،، جاناں تک بھی اُس کی آواز پُہنچ چُکی تھی۔ اُور اب وُہ اطمینان سے گھر میں داخل ہُورہی تھی ۔  ابوشامل کو سامنے دیکھ کر جاناں نے شکوہ کیا۔۔۔ ابوشامل بھائی !!! بھلا یہ بھی  کوئی  طریقہ ہے اپنوں کو پریشان کرنے کا۔کہ،، بغیر بتائے پورا مہینہ غائب ہُوگئے۔۔۔ آپکو خبر بھی ہے کہ،، کامل آپکی وجہ سے کتنے پریشان تھے۔۔۔۔۔ جاناں کی موجودگی کی وجہ سے کامل کا  بس نہیں چل رہا تھا کہ ِ،، افلاطون کا چہرہ نُوچ   نُوچ کر لہولہان کردے۔ اِس لئے وُہ دِل پر جبر کرتے ہُوئے گاڑی  کار پُورچ میں داخل کرنے کیلئے انتہائی غصے میں باہر نکل گیا۔

رات کو بنگلے کی چھت پرتنہائی میسر آتے ہی کامل نے انتہائی غصہ کی حالت میں  ابوشامل پر سوالات کی یلغار کرتے ہُوئے آج کی ڈکیتی کے متعلق بتایا۔ ۔۔۔ تُمہارا غصہ اپنی جگہہ بجا ہے میرے دُوست لیکن جب تُمہیں اصل کہانی کا علم ہُوگا ۔ تو تُم مجھ پر غصہ کرنے کے بجائے مجھ سے ہمدردی کرنے لگو گے کیوں کہ میں کسی کی مدد کے چکر میں خُود ایک مصیبت میں گرفتار ہُوکرمُوت سے  بال بال بچا ہُوں۔۔۔۔ کامل کی خاموشی دیکھ کر ابو شامل نے اپنی گفتگو جاری رکھی۔۔۔۔ میں دراصل اُس دن نفاست صدیقی سے مُلاقات کے بعد اپنے کسی کام سے سیالکوٹ گیا تھا۔۔۔۔۔ سیالکوٹ گئے تھے مگر کیوں اُور تمہارا کونسا ضروری کام تھا سیالکوٹ میں؟؟؟ کامل علی نے بیچ میں لقمہ دیتے ہُوئے کہا،۔۔۔۔۔  یہ ایک الگ کہانی ہے میرے دُوست مگر سچی بات یہ ہے کہ،، میرا بھی کوئی اپنا رہتا ہے سیالکوٹ میں جسکی وجہ سے مجھے   اس شہر سےبُہت محبت ہے۔ اُور میری اِس کمزوری کا گھنشام داس کو بھی علم تھا۔ جسکی وجہ سے ہمارے درمیان میں جنگ کی ابتدا ہُوئی تھی۔۔۔۔۔۔ اسکا مطلب ہے۔کہ،، تم مجھ پر بھروسہ نہیں کرتے ہُو۔ ورنہ جس طرح میں نے اپنی زندگی کا ایک ایک ورق تمہارے سامنے کھول کر رکھ دیا تھا۔ اگر تم بھی مجھ پر اعتبار کرتے تو مجھ سے پردہ نہیں رکھتے۔  کامل علی نے دِل گرفتہ لہجے میں ابوشامل کی گفتگو کو کاٹتے ہُوئے کہا۔۔۔۔

نہیں یار کامل!! ایسی کوئی بات نہیں ہے۔ جسے میں تم سے چھپاوٗں۔۔۔ لیکن یہ ایک ایسی کہانی ہے جسے میں جب بھی یاد کرتا ہُوں تو آتشی ہُونے کے باوجود میرے سینے میں بھی نابرداشت ہُونے والا ایک اَلاوٗ دہک جاتا ہے۔ اس لئے میں کم ہی اُن یادوں سے واسطہ رکھتا ہُوں۔۔۔ ابوشامل نے   اپنی آواز میں درد سموتے ہوئے  ایک لمحے کیلئے خاموشی اختیار کرلی۔ جیسے وُہ  کچھ یاد کررہا ہُو۔۔۔۔۔ دراصل بات یہ ہے میرے دوست کہ،، تُم سے ملنے سے  ۶ ماہ قبل میں اپنے چند دوستوں کیساتھ جھیل سیف الملوک پر تفریح کیلئے آیا تھا۔ ہم تمام دوست وہاں خُوب ہلا گُلا کرتے ہُوئے اپنا وقت گُزار رہے تھے۔کہ،، اچانک ایکدن سیالکوٹ سے ایک فیملی گھومنے کیلئے ناران آئی۔ تو میں نے  زندگی میں پہلی مرتبہ ایسا حُسن کا شاہکار دیکھا۔ جسے دیکھ کر بیک وقت چاند کی چاندنی اُور گلاب کی پنکھڑیوں کی لطافت کا احساس  دِل میں پیدا ہُونے لگا۔۔۔ وُہ  لڑکی  جسکا نام فرح تھا۔بلاشبہ شہزادہ سیف الملوک کی بدیع الجمال کی طرح حسین تھی۔۔۔ اُسے دیکھ کر پہلی مرتبہ میرے دِل میں یہ احساس جاگا۔کہ،، زندگی کا سفر  دلپسند ساتھی کیساتھ   ہی گُزارنا چاہیئے۔ حالانکہ مجھے  میرے دوستوں نے اِس خیال سے باز رکھنے کیلئے بُہت جتن کئے۔اُور مجھے بُہت سمجھایا۔کہ وہ خاکی ہے۔ اُور ہم آتشی،،  اسلئے یہ مِلن کبھی ممکن نہیں ہُوگا۔لیکن کوئی نصیحت دِل پر کار گر نہیں گُزری۔ میں اُس فیملی کیساتھ ساتھ سیالکوٹ چلا آیا۔ جبکہ میرے تمام دوست میری ہٹ دھرمی اور ضد دیکھ کر واپس لُوٹ گئے۔

میں خاموشی سے رات دِن فرح کی نظروں سے اُوجھل ہُوکر اُسکے قریب ہی رہتا۔۔۔ اُسکی قربت نے مجھ پر عجیب سی کیفیت طاری کردی تھی۔۔ اُسکے پسینے کی خُوشبو، اُسکی سانسوں کا لمس، اُسکا ہر ایک انداز قاتلانہ تھا۔۔۔ میں اُس کے سامنے آکر اپنی محبت کا اظہار کرنا چاہتا تھا۔ لیکن ایک خُوف میرے دِل سے نکلنے کا نام نہیں لیتا تھا۔ کہ،، کہیں وُہ میری اصلیت جان کر  بھڑک نہ جائے،، یا کہیں مجھ سے خُوفزدہ نہ ہُوجائے۔ میں کسی ایسے موقعے کی تلاش میں تھا۔کہ،، کاش اُسے خُود میری ضرورت آپڑے۔ یا  وُہ خُود کسی نادیدہ ہستی کو  مدد کیلئے پُکارے تو میں لپک کر اُس کے سامنے ظاہر ہُوکر کہوں۔ کہ،، اے جان تمنا میں حاضر ہُوں تمام زندگی آپکی غلامی کا دَم بھرنے کیلئے۔۔۔۔ پھر  وُہ مجھے قبول کرلے۔ جسکے بعد میں تمام دُنیا کی خُوشیوں کو اُسکے قدموں میں ڈھیر کرتا چلا جاوٗں۔۔۔۔

کچھ ہی دِن بعد میرے والد صاحب نے میری غیر موجودگی کو محسوس کرتے ہُوئے کچھ سپاہی مجھے طلب کرنے کیلئے بھیج دیئے۔ لیکن میں نے واپسی سے صاف انکار کردیا۔۔۔ یہ کھیل کئی ماہ چلتا رہا۔ میری والدہ کے  بھی مسلسل واپسی کیلئے پیغامات مجھے موصول ہُورہے تھے۔ ایک دِن میں اپنی والدہ سے مُلاقات کیلئے اپنی ریاست پُہنچ گیا۔ اُور اُنہیں اپنی تمام دِلی کیفیات سے آگاہ کردیا۔ اُنہوں نے بھی مجھے کافی خبردار کیا۔کہ،، انسانوں کی دوستی یا دُشمنی ہم جنات کیلئے کبھی سُود مند ثابت نہیں ہُوتی۔ لیکن میں نے منت سماجت کرکے اُنہیں اِس بات کیلئے آمادہ کرلیا۔کہ،، میں اُن سے مُلاقات کیلئے وقتاً فوقتاًً ریاست آتا جاتا رُہوں گا۔ اُور جیسے ہی میرے ہاتھ گوہرِ مُراد لگا میں ہمیشہ کیلئے واپس لُوٹ آونگا۔ میں والدہ سے مُلاقات کے بعد جب سیالکوٹ پُہنچا ۔ تو ایک قیامت میری منتظر تھی۔۔۔ فرح جس میڈیکل یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کررہی تھی۔ اُسی یونیورسٹی کے ایک نوجوان  ڈاکٹر دلشاد احمد کی فیملی فرح کا رشتہ لیکر آئی تھی۔ فرح کی فیملی کو وُہ رشتہ اتنا پسند آگیا۔کہ،، اُنہوں نے  فرح کی رضامندی دیکھ کر فوراً ہی رشتہ کیلئے حامی بھرلی۔

(جاری ہے)

اُسکا کہنا ہے۔ کِسی اُور کو دیکھوں نہ کبھی
کیوں کہ اُسکو یہ میرا رُوپ بُرا لگتا ہے۔

مجھکو ہر چہرے میں آتاہے نظر اِک وُہ ہی
جُو نہ بھر پائے یہ بہروُپ !!!  ۔بُرا لگتا ہے۔

عامل کامل ابو شامل ڈاکو، حسینہ، اور فقیر قسط 31




گُذشتہ سے پیوستہ۔
   
کامل علی کی گفتگو نے وجاہت کے چہرے کی مایوسی کو اُمید کے دِیوں سے رُوشن کردیا تھا۔۔۔۔ کامل علی نے اُس سے وعدہ کرلیا تھا ۔کہ ،، وُہ  ہر حال میں اپنی توبہ پر قائم رہے۔ انشااللہ ایک ماہ میں اُسکی جان  اِن تمام چکروں سے آزاد ہُوجائے گی۔۔۔۔۔۔وجاہت اور نفاست صدیقی کے  جانے کے بعد کامل علی بھی   کوٹھی  کو تالہ ڈال کر تھکے تھکے قدموں سے گھر کی جانب روانہ ہُوگیا۔گھر  کے دروازے کے باہر ایک فقیر جیسے کامل علی کا ہی منتظر تھا۔ جیسے ہی کامل علی دروازے کے قریب پُہنچا وُہ فقیر بُڑبڑاتے ہوئے وہاں سے پلٹ گیا۔ کامل علی کے کان میں فقیر کے صرف  دُو   جملے ہی سمجھ آسکے  تھے،، تیری آج کی مزدوری تیرے پچھلے گناہوں کا کُفارہ بن گئی ہے،، ابھی بھی وقت ہے بدل لے خُود کو اُور نِکل جا اُس پاکھنڈی کے چکر سے۔۔۔۔

اَب مزید پڑھیئے۔

کامل چند لمحے گُم سُم اُس فقیر کی بات پر غُور  کرتا رَہا لیکن جُونہی فقیر گلی کے نُکڑ پر پُہنچا۔ کامل علی بے ساختہ دُوڑتا ہُوا گلی سے باہر نِکل آیا۔لیکن اُس فقیر کا گلی میں نام و نِشان تک نہ تھا۔ وُہ گُویا کسی چھلاوے کی مانند  کامل کی نظروں سے رُوپوش ہُوچکا تھا۔ البتہ گلی کے درمیان ایک ٹھیلے والا گُول گپے کا ٹھیلہ لئے گاہکوں کا منتظر  دکھائی دیا۔ کامل علی نے ٹھیلے والے سے فقیر کی بابت معلوم  کیا۔ تو وُہ ٹھیلے والا  نہایت یقین سے کہنے لگا۔کہ،، میں تقریباً آدھے گھنٹے سے اِسی مقام پر موجود ہُوں۔ لیکن میں نے کسی فقیر کو گلی میں جاتے یا نکلتے نہیں دیکھا۔ ۔۔۔۔۔ اچھا بھائی ،پھر مجھے ہی وہم ہُوا ہُوگا ۔کامل علی کھسیانے انداز میں واپس گھر کی جانب چل دیا۔

ایک ہفتے سے کامل علی اپنا تمام وقت جاناں کیساتھ ہی گُزار رَہا تھا۔ روزانہ سُورج ڈھلنے کے بعد وُہ آوٹنگ کیلئے  نکل جاتے۔ کبھی سنیما، کبھی پارک اُور پھر سمندر کنارے روزانہ ڈنر سے فارغ ہُوکر رات دیر گئے وُہ واپس آجاتے۔ ۔۔ لیکن ایک ہفتہ میں ہی کامل کا دِل اِس تفریح سے بھی اُکتانے لگا۔ ایک بےچینی تھی  اُس کے اندر جو ہر نئے گُزرتے دِن کیساتھ بڑھتی ہی چلی جارہی تھی۔۔۔۔حالانکہ جاناں بھی کامل علی کا دِل لبھانے کیلئے رُوز نت نئے لباس تبدئل کرتی۔۔ ویسے بھی جاناں چونکہ نرگس کی ہمشکل تھی۔ اسلئے کامل بھی اِس رفاقت سے بیحد خوش تھا۔ بس کبھی کبھی ایک احساس اُسے ستانے لگتا تھا۔ کہ جاناں لاکھ نرگس کی ہمشکل سہی لیکن نرگس نہیں ہے۔ وُہ ایکبار پھر نرگس سے مِلنا چاہتا تھا۔۔۔ لیکن یہ ابوشامل نہ جانے کہاں مَرگیا تھا۔ اُس نے تو کہا تھا کہ،، صرف مجھے سُوچنا، اُور میں تمہارے پاس چلا آوٗں گا۔ لیکن کامل علی کئی دن سے اُسے روزانہ  باقاعدہ آواز دے دیکر پُکار رَہا تھا لیکن وُہ جواب تک نہیں دے رَہا تھا۔۔۔۔

پھر اُسے وُہ فقیر یاد آنے لگتا۔۔۔ میرا  تو  ابو شامل کے سِوا نہ کوئی دُوست ہے۔ اُور نہ ہی ساتھی تو کیا اُس فقیر کا اشارہ ابوشامل کی طرف تھا۔۔۔ لیکن وُہ ابو شامل کو پاکھنڈی کیوں کہہ رَہا تھا۔ جبکہ ابو شامل ہی وُہ واحد ہستی تھا۔کہ جس نے اُسے مایوسی کے گھپ اندھیروں سے نِکالا۔ورنہ تو اُسکی زندگی کا مقصد ہی ختم ہُوچکا تھا۔۔۔ زندگی سے اگر ابو شامل کو نکال دُوں تو میرے پاس دکھوں اُور پچھتاوے کے سِوا باقی ہی کیا رِہ جائے گا۔ یہی سُووچتے ہُوئے وُہ فقیر کے خیال کو جھٹکنے کی کوشش کرتا۔ لیکن اگلے ہی دِن پھر وہی خیال اُسکی گرفت کیلئے حاضر ہُوجاتا۔

وقت  گُزرتا رہا لیکن ابو شامل ۲۰ دن بعد بھی واپس نہیں آیا۔ ایک دِن  کامل شام کی چائے پی رَہا تھا۔کہ،، جاناں  نے پانچ ہزار والی چار گڈیاں اُسکے سامنے ٹیبل پر رکھتے ہُوئے  استفسار کیا۔ آپ نے  سادہ سے لفافے میں بیس لاکھ کی رقم یونہی  کپڑوں کی الماری میں رکھ چھوڑی ہے۔ بھلا ایسی بھی کیا لاپرواہی کی ضرورت ہے؟؟؟ بندہ رقم تو کم از کم بنک یا محفوظ جگہ پر رکھے خُدانخواستہ آپکی غیر موجودگی میں کل کو کوئی چُور اُچکا گھر میں گھس آیا تو میں کیا کروں گی؟۔۔۔ کامل سمجھ گیا  ۔ہو نہ ہُو ۔ضروریہ  ابوشامل کی حرکت ہُوگی اُسی نے اتنی بڑی رقم کا انتظام کیا ہُوگا، ، کامل نے فوراً بات بناتے ہُوئے کہا۔۔۔  اُوہو!!! میں بھی کتنا بھلکڑ ہُوں میں نے یہ سُوچ کر بنک سے رقم نکلوائی تھی کہ،، اپنی جاناں کیلئے ایک چھوٹی سی گاڑی خریدو  ں گا۔ اور کچھ زیوارت خرید دُونگا۔۔۔ لیکن خود ہی بھول گیا۔۔۔ شکریہ جاناں کہ،، تُم نے یاد کروادیا۔ ہم آج ہی یہ سب کچھ خریدیں گے۔۔۔ کامل کے جواب سے جاناں کے چہرے پر ہزار بکھرنے لگے تھے۔۔۔۔ سچ کہہ رہے ہیں نا آپ؟؟؟ جاناں نے یقین و بے یقینی کی کیفیت  میں کامل کے کاندھے پر سر ٹکاتے ہُوئے کہا۔

 سب سے پہلے کامل علی اُور جاناں نے ایک گاڑی خریدی پھر جیولرز کی دکان سے  جاناں نے ایک خوبصورت قیمتی  ڈائمنڈ ہار خریدا جسکے بعد مزید خریداری کیلئے کامل کی جیب میں سکت نہیں رہی اِس لئے اُنہوں نے صدر سے آئسکریم کھانے کے بعد واپسی کا پروگرام بنالیا۔ جس وقت وُہ  کورنگی کراس کے نذدیک پُہنچے۔ ایک نوجوان لڑکی نے انہیں بس اسٹاپ سے کچھ پہلے لفٹ کیلئے اِشارہ دِیا۔ لڑکی تنہا  تھی اُور کچھ بدحواس  بھی نظر آرہی تھی۔ کامل اُسے نظر انداز کرتے ہُوئے آگے بڑھنا چاہتا تھا۔ لیکن جاناں یُوں ایک لڑکی کو تنہا  اُور پریشان دیکھ کر صبر نہ کرسکی۔ اسلئے کامل سے کہنے لگی۔جان!  نجانے یہ لڑکی کس مصیبت میں گرفتار ہے۔  اُور نجانے کب سے لوگوں سے لفٹ مانگ رہی ہُوگی۔ اگر ہم اِسکی مدد کردیں تو ہوسکتا ہے کبھی کوئی ہماری مدد کیلئے بھی تیار ہُوجائے۔ جاناں نے یہ بات اتنے پُر اثر انداز میں کہی کہ،، کامل  جاناں کی بات ٹال نہیں پایا ۔ اُور ریورس گیئر لگا کر لڑکی تک پُہنچ گیا۔

وُہ لڑکی تقریباً رُو دینے والے انداز میں گویا ہُوئی ،، بھائی میرا پرس   ۲موٹر سائیکل سوار  چھین کر بھاگ گئے ہیں۔ اگر آپ لُوگ مجھے بلال کالونی تک چھوڑدیں گے تو میں تمام زندگی آپ کو دُعائیں دُونگی۔ جاناں نے اُس لڑکی کو ساتھ بٹھا لیا۔ اور اب  گاڑی بلال کالونی کیلئے رَواں دَواں تھی۔ بریڈ چورنگی پہنچنے کے بعد لڑکی نے  بتایا کہ میرا گھر یہاں سے قریب ہے۔لڑکی نے گاڑی اندر کی جانب موڑنے کا اشارہ کیا۔   یہ ایک سنسان شاہراہ تھی ۔  ملجگی روشنی میں کچھ دُور    ۲ نوجوان  شائد ایک موٹر سائیکل کا وہیل کس رہے تھے۔ اُس لڑکی نے کامل سے کہا آپ مجھے یہاں ہی اُتار دیں یہ لڑکے میرے پڑوسی ہیں اور نذدیک ہی میرا گھر بھی ہے۔ کامل کی چھٹی حس اُسے کسی خطرے کا اشارہ دے رہی تھی۔ لیکن اُن لڑکوں نے بے پرواہی سے ایک اچٹتی نگاہ کار پر ڈالی اُور بائیک پر سوار ہُونے لگے۔ کامل علی نے تذبذب میں کچھ پہلے ہی گاڑی رُوک لی تھی۔ لڑکی نے گاڑی سے اُتر کر اُن لڑکوں کی طرف صدا لگائی۔۔ ظفر بھائی ۔ ظفر بھائی۔۔۔ وُہ لڑکی  اب جاناں کا شُکریہ ادا کررہی تھی۔ اُور کامل اِس انتظار میں تھا کہ،،  وہ لڑکی دروازہ بند کرے تو کار واپسی کیلئے موڑوں ۔ لیکن دیر ہُوچکی تھی۔ کیونکہ وُہ دونوں لڑکے پستول سنبھالے نذدیک آچکے تھے اُور اب کامل  اور جاناں کو باہر آنے کیلئے کہہ رہے تھے۔ تھوڑی ہی دیر میں وہ کامل کی جامہ تلاشی لے کر تمام سامان و موبائیل کیساتھ جاتے ہُوئے جاناں کا صرف ہیرے کا ہار ہی نہیں بلکہ روزمرہ  میں پہنے جانے والا ایک ایک زیور اُتروا کر رفو چکر ہُوچکے تھے۔ ۔۔

کامل علی  نے ڈرائیونگ کرتے ہُوئے بے بسی اُور لاچارگی میں کئی بار اسٹیرنگ وہیل پر کئی بار ہاتھ مار کر ابوشامل کو پُکارا!!! لیکن کوئی جواب نہیں آیا۔ کامل کا چہرہ بے عزتی کے احساس سے سُرخ ہُوا جارہا تھا۔ جسے دیکھ کر جاناں بھی اندر سے خُوفزدہ تھی۔کہ،، کہیں اتنے غصے میں ڈرائیونگ کرتے ہُوئے کامل ایکسیڈنٹ نہ کربیٹھے۔ گاڑی مین شاہراہ پر پُہنچی تو جاناں کی نظر  ایک پولیس موبائیل پر  پڑی۔۔۔ کامل ہمیں ان پولیس والوں کا بتانا چاہیئے۔ ہوسکتا ہے  وُہ لوگ پکڑے جائیں۔ اُور ہمیں ہمارا سامان واپس مِل جائے۔ جاناں نے ڈرتے ڈرتے کامل کو مخاطب کیا۔۔۔۔ چُپ چاپ گاڑی میں بیٹھی رہو۔ اُور اپنے مشورے اپنے پاس ہی رکھو سمجھیں۔۔۔ اگر ہماری پولیس ہی ٹھیک ہُوتی،، تو ہم یُوں سرشام لُٹے پٹے  واپس نہ جارہے ہُوتے۔ اِن کمبختوں کا بھی ضرور حصہ ہُوگا۔ اس لُوٹ مار میں کامل علی نے سختی سے جاناں کو ڈانٹتے ہُوئے کہا۔ جسکی وجہ سے جاناں ایک بار پھر سہم کر خاموش بیٹھ گئی۔۔۔۔۔۔۔۔

ابھی تک اُسی ڈھونگی کی مدد کے انتظار میں ہُو۔  جتنی شدت سے اُس ڈھونگی کو پُکار رہے ہو اتنی شدت سے اگر تُم خُدا کو پکارتے تو وُہ تمہیں کب کا  مِل گیا ہُوتا!!!  گاڑی سے باہر وہی فقیر کامل علی کا  مذاق اُڑاتے ہُوئے قہقہ لگارہا تھا۔۔۔۔  بند کرو اپنی بکواس اُور دفع ہُوجاوٗ یہاں سے۔ کامل علی فقیر کو دیکھ آپے سے باہر ہُونے لگا۔۔۔۔ کسے دیکھ کر چِلا رہے ہیں آپ ؟؟؟؟۔۔۔۔۔ کیا تُم اندھی ہُو؟ جو تمہیں یہ فقیر دِکھائی نہیں دے رہا۔جاناں کی حیرت پر کامل علی نے گردن موڑ کر درشت لہجے میں جواب دیا۔۔۔۔ مجھے واقعی یہاں کوئی فقیر دکھائی نہیں دے رہا جانوں آپ کی طبیعت تو ٹھیک ہے نا؟؟؟!!! جاناں نے کار  کا شیشہ نیچے اُتارتے ہُوئے باہر جھانک کر ایکبار پھر تشویش بھرے انداز میں کامل کی طرف دیکھا۔۔۔۔۔۔ کامل  علی نے حیرت سے پہلے جاناں کی طرف دیکھا ۔ اُور پھر فقیر کی طرف دیکھا ۔ فقیر بدستور کامل علی کو استہزائیہ نظروں سے دیکھ رَہا تھا۔۔۔۔ میں پھر کہتا ہُوں تُم سے کہ،، نکل آوٗ اِس دلدل سے۔ اِس سے پہلے کہ،، واپسی کی راستہ کھو بیٹھو۔ فقیر نے پھر کامل علی کو  تاکید کرتے ہُوئے کہا۔۔۔۔ اتنی دیر میں سنگنل گرین ہُوچکا تھا۔پیچھے سے گاڑیوں کے ہارن شور مچانے لگے تھے ۔ کامل علی نے فقیر پر نگاہ رکھتے ہُوئے گاڑی فُٹ پاتھ پر ایک سائیڈ لگائی۔ اُور جونہی گاڑی سے اُتر کر باہر آیا۔ اتنی دیر میں وُہ فقیر ایک مرتبہ پھر کامل علی کی نگاہوں سے اُوجھل ہُوچکا تھا۔۔۔۔


(جاری ہے)

اُسکا کہنا ہے۔ کِسی اُور کو دیکھوں نہ کبھی
کیوں کہ اُسکو یہ میرا رُوپ بُرا لگتا ہے۔

مجھکو ہر چہرے میں آتاہے نظر اِک وُہ ہی
جُو نہ بھر پائے یہ بہروُپ !!!  ۔بُرا لگتا ہے۔

Tuesday, 19 May 2015

عامل کامل ابو شامل( فقیریا افلاطون)قسط 30



گُذشتہ سے پیوستہ۔
  
یہ بات جب عائقہ کو معلوم ہُوئی تو۔ وُہ ایک دن وجاہت کے آفس پُہنچ گئی۔۔۔۔ وجاہت اِس تمام معاملے کو ختم کرنا چاہتا تھا۔کیونکہ اگر یہ معاملہ کورٹ میں چلا جاتا ۔یا گھر سے باہر نکل جاتا۔ ہر دُو صورت میں وجاہت کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہیں رہتا۔۔۔ لیکن اب عائقہ بضد تھی۔ کہ،، معاہدے کے مطابق وُہ عدیمہ کا طلاق دیدے۔ اُور کچھ عرصہ بعد وُہ   سب کچھ سمیٹ کر کینیڈا شفٹ ہُوجائیں۔۔۔۔ لیکن وجاہت جانتا ہے کہ ،، عدیمہ  کو طلاق دینے کا مطلب تھا ۔کہ ،، وجاہت سیدھا فُٹ پاتھ پر آجائے۔۔۔۔۔۔۔۔اُف میرے خُدایا یہ کہانی ہے یا کوئی مکڑی کا جالا؟؟؟  کامل علی نے ابوشامل کے خاموش ہُوتے ہی  دُونوں ہاتھوں سے اپنا سَر تھام لیا۔۔۔۔۔ یار سیدھی سادھی گُتھی تو ہر ایک گھر میں سُلجھالی جاتی ہے۔ عامِلوں سے لوگ تب ہی رجوع کرتے ہیں ۔جب اُنہیں یہ محسوس ہُونے لگتا ہے۔کہ،، اب ڈُور اُن کے ہاتھ سے نکل چکی ہے۔ اب تُم دیکھنا ہم اِس اُلجھی ڈُور کو کیسے سُلجھاتے ہیں ۔ جسکے بعد حُکومت میں ہمارا پہلا مُہرہ وجاہت دہلوی ہمارے لئے کیسے راہ ہموار کرتا چلاجائے گا۔ ابوشامل نے شیطانی مسکراہٹ چہرے پر سجاتے ہُوئے کامل علی کو  اپنےمخصوص انداز میں آنکھ ماری۔

اَب مزید پڑھیئے۔
اگلے دُو دِن کامل علی نے ابو شامل کے ایماٗ پر جاناں کیساتھ خُوب گھومتے پھرتے ہُوئے گُزارے۔ ابو شامل خُود بھی ۲ دِن سے نجانے کہاں غائب تھا عصر کے وقت وُہ جاناں کیساتھ سمندر کے نظاروں سے لُطف اندوز ہُونے کے بعد گھر کی جانب لُوٹ رَہا تھا۔۔۔۔ جاناں کا مزاج سیر و تفریح کی وجہ سے کافی خُوشگوار  ہُوگیا تھا۔ اُور وُہ بات بات پر اپنی مسکراہٹ کے جلوے بکھیر رہی تھی۔ اچانک کامل علی کو یاد آیا کہ،، آج نفاست صدیقی نے وجاہت کو لیکر آنا ہے۔ جبکہ  ابوشامل کی ابھی تک  کوئی خیر خبر نہیں تھی۔۔۔ حالانکہ اُسے یقین تھا۔کہ ابوشامل نے ضرور آستانے پر انتظامات  مکمل کررکھے ہُونگے۔ لیکن ابوشامل نے ابھی تک یہ نہیں بتایا تھا ۔کہ،، وجاہت کا مسئلہ کسطرح سے حل کرنا ہے۔ اُور یہی بات اُسکے  لئے پریشانی کا باعث بنی ہُوئی تھی۔

مغرب کے وقت آستانے پر پُہنچتے ہی کامل علی کے اُوسان خطا ہُوگئے۔ کوٹھی پر پڑا تالہ کامل علی کو مُنہ چڑا رَہا تھا۔ کامل علی نے فوراً کچھ سُوچ کر کُوٹھی کا ذیلی دروازہ  کھول   کر اپنے مخصوص کمرے میں خُود ہی  اپنا میک اپ کیا۔ اُور ایک خُوبصورت شال لپیٹ کر  کار پُورچ میں چہل قدمی شروع کردی۔ اچانک کسی گاڑی کے رُکنے کی آواز سُنائی دی۔۔۔ کامل علی نے پریشانی کے عالم میں  دروازے کی جانب دیکھا۔  لیکن نفاست صدیقی کیساتھ ایک خُوبرو جوان کو آتا دیکھ کر خُود کو سنبھالتے ہُوئے اپنے چہرے پر مسکراہٹ سجالی۔

حضور !!! آج آستانے شریف پر اتنی خاموشی کیوں ہے۔؟؟؟ نفاست صدیقی نے کامل علی کے ہاتھوں پر بُوسہ دیتے ہُوئے حیرت سے استفسار کیا۔ ۔۔۔دراصل آج ہماری طبیعت کچھ ناساز تھی۔ اسلئے یہاں آنے کا اِرادہ  بھی نہیں تھا۔۔۔ لیکن چونکہ آپ سے مُلاقات کا وعدہ بھی کیا تھا۔سُو وعدہ نبھانے کیلئے آنا پڑا۔۔۔ آنے والے جُوان نے بھی کامل علی کی دست بُوسی کی تو نفاست صدیقی نے تعارف کراتے ہُوئے عرض کیا۔ حضور یہی میرے وُہ دوست ہیں جنکا میں نے آپ سے تذکرہ کیا تھا۔۔۔۔۔ ہم جانتے ہیں۔ یہ وجاہت دہلوی ہیں۔ کامل علی نے لہجے کو پُراسرار بناتے ہُوئے اپنی ناک پر انگلی پھیری۔۔۔۔۔۔ جی ۔جی ۔ حضور والا میں دراصل بھول گیا تھا۔کہ،، آپ جیسی  باخبر ہستی  کو بھلا میں کیا کوئی خبر و تعارف دے سکتا ہُوں۔ نفاست صدیقی نے لجاجت سے اپنی کم علمی کا اعتراف کرتے ہُوئے کہا۔

وجاہت دہلوی نفاست صدیقی سے کامل  علی شاہ کے متعلق کافی کچھ سُن چکا تھا اُور اب نہایت اشتیاق   و عقیدت سے  اُسکی نگاہیں کامل علی کے چہرے کا طواف کررہی تھیں۔۔۔ کامل علی نے کن انکھیوں سے نفاست صدیقی کو  باہر ٹہرنے کا اشارہ کیا۔ اُور وجاہت کا ہاتھ تھام کر اُسے اپنے خاص کمرے میں لے آیا۔ نشست پر براجمان ہُوتے ہی کامل علی نے گفتگو شروع کردی۔۔۔ ہمیں نفاست نے بتایا تھا۔کہ ،، میرا ایک دوست مشکل میں ہے۔۔ ہمیں اِس سے ذیادہ معلوم کرنے کی ضرورت بھی نہیں تھی۔کیونکہ ہم وجاہت دہلوی کو بھی اتنا ہی جانتے ہیں۔جتنا کہ خُود کو جانتے ہیں۔ ہمیں معلوم ہے ۔کہ،، آپ  صرف ایک غلطی کی وجہ سے نہیں۔بلکہ ایک کبیرہ گُناہ میں متواتر ملوث رہنے کی وجہ سے اِس آفت میں گھرے ہیں۔۔۔ وجاہت دہلوی کا شرمسار چہرہ  جھک گیا۔ اُسکی آنکھوں میں جھلملاتے آنسو دیکھ کر کامل علی نے مزید چُوٹ لگانے کا اِرادہ کرتے ہُوئے اپنی گفتگو جاری رکھی۔

دیکھو میاں آپ خُود کو اِس معاملے چاہے کتنا ہی بے قصور ٹہراوٗ۔ لیکن حقیقت یہی ہے۔ کہ باوجود اِس کے کہ،، آپکو عائقہ نے بِہلایا اُور پُھسلایا ہے۔ لیکن آپ کو بہکنا نہیں چاہیئے تھا۔ کیونکہ آپ ایک شادی شُدہ زندگی گُزار رہے تھے۔ جبکہ  عائقہ اپنی نفسانی ضرورتوں کی وجہ سے پستی میں گر رہی تھی۔۔۔ جس طرح ایک کنوارے   مردسے  لاکھ درجہ خطرناک  رنڈوا، مرد ہُوتا ہے۔ بالکل اِسی طرح ایک مطلقہ  یا بیوہ بھی  حدودِ جوانی میں ہمیشہ آتش فشاں کے دہانے پر موجود ہُوتی ہے۔ کیونکہ وُہ شراب پی چکے ہُوتے ہیں۔ اُور تشنگی کا احساس اُنہیں متواتر نشے کی دستیابی کیلئے اُکساتا رہتا ہے۔۔۔ لیکن آپ کو کیا ہُوا تھا؟؟؟ کیوں کہ،، نہ ہی آپ تشنہ تھے۔ اُور نہ ہی میخانے میں شراب کا ،کال  پڑا تھا۔ آپ نے  بجائےیہ کہ،، اُس کی  جسمانی ضرورتوں کو سمجھتے ہُوئے پھر سے اُسکا گھر آباد کرتے۔ خُود ہی بہتی گنگا سے ہاتھ دُھونے شروع کردیئے۔ سالی تو بہن کی طرح ہُوتی ہے وجاہت صاحب  لیکن افسوس کہ،، آپ نے اُسے بھی اپنی ہوس کا آلہ بنالیا۔۔۔ کامل علی کی گفتگو جاری تھی۔ اُور خُود کامل کو بھی سمجھ نہیں آرہی تھی۔کہ،، وُہ کیا کہہ رَہا ہے۔ اُور کیوں کہہ رہا ہے۔۔۔ کامل علی  گفتگو رُوکنا چاہتا تھا۔ لیکن الفاظ خُود بخود اُسکی زبان سے پِھسل رہے تھے۔ کہ،، اچانک وجاہت علی ، کامل کے قدموں سے لپٹ کر بےاختیار رُونے لگا۔

وجاہت دہلوی کے اچانک اِس طرح بِلک بِلک کر رُونے کی وجہ سے کامل علی پہلے تو خُود نروس ہُوگیا۔لیکن پھر خُود کو سنبھالتے ہُوئے وجاہت کے سر پر ہاتھ پھیرنے لگا۔ جسکی وجہ سے وجاہت دھیرے دھیرے نارمل ہُوکر  واپس اپنی نشست پر بیٹھ کر کامل علی سے کہنے لگا،، حضور مجھ سے جانے انجانے میں بُہت بڑا گناہ سرزد ہُوگیا ہے۔  لیکن میں  آج اللہ کریم کی بارگاہ میں آپکو گواہ بناتے ہُوئے سچی توبہ کرتا ہُوں۔کہ آئندہ ایسے کسی بھی گُناہ کا ارتکاب نہیں کرونگا۔۔۔آپ اللہ کے نیک بندے ہیں۔ اسلئے آپ بھی اللہ کے حضور میری معافی اور استقامت کیلئے دُعا فرمادیں۔ اُور مجھے اِس مصیبت سے نکلنے کا راستہ بتادیں۔۔۔ ورنہ  کئی زندگیاں اُور میرا سب کچھ میری اِن غلطیوں کی وجہ سے تباہ و برباد ہُوجائے گا۔ اُور میں کسی کو مُنہ دِکھانے کے قابل نہیں رہوں گا۔۔۔

کامل علی اگرچہ یہاں ڈھونگ کیلئے آیا تھا۔لیکن وجاہت کی توبہ نے اُس کے دِل میں گُداز پیدا کردیا تھا۔ اب وجاہت علی اُسکے لئے صرف ایک گاہک نہیں تھا۔بلکہ وُہ دِل  ہی دِل میں اُسکے لئے اللہ کریم سے آسانی کا سوال کررہا تھا۔۔۔  دیکھو وجاہت بھائی انسان تمام زندگی نیکی اُور بدی کی کے درمیان موجود مہین سے پُل پر سفر کرتا رہتا ہے۔ جب اپنے پروردیگار کی  رحمت و محبت کی جانب متوجہ ہُوتا ہے ۔ تو فلاح کی جانب گامزن رہتا ہے۔ لیکن ذرا بھی دھیان بہکنے لگے۔ تو ابلیس لعین اُسے  ذلالت  کی خُوفناک گھاٹی اتنے پُرکشش انداز میں دِکھانے لگتا ہے کہ،، بندہ خُود اِس    سراب کو حقیقت سمجھنے پر مجبور ہُوجاتا ہے۔اُور خُود کو ہلاکت میں ڈالنے کیلئے  بیقرار ہُوجاتا ہے۔۔۔۔  لیکن جہاں اللہ کریم نے ابلیس کو بے پناہ قوت عطا فرمائی ہے۔ وہاں یہ بات بھی اظہر من شمس کی طرح واضح ہے۔کہ،، احساس ندامت اُور توبہ مومن  کا وُہ ہتھیار ہے۔جو شیطان کی تمام محنت پر یکلخت پانی پھیر دیتا ہے۔۔۔ جہاں وُہ کریم  ،،مجرموں پر عتاب نازل فرماتا ہے۔ وہیں یہ بھی اعلان فرماتا ہے۔کہ اے ابن آدم اگرچہ تونے اپنے گناہوں کے سبب تمام سمندر کو آلودہ کردیا ہُو۔ یا تمام زمین و فلک تیرے گناہوں سے بھر جائیں۔ مجھے قسم ہے اپنی رحمت کی۔جب بھی بندہ ندامت  کیساتھ سچے دِل سے توبہ کرے گا۔ مجھ سے بڑھ کر کسی کو قبول کرنے والا مہربان ،،نہیں پائے گا۔

کامل علی کی گفتگو نے وجاہت کے چہرے کی مایوسی کو اُمید کے دِیوں سے رُوشن کردیا تھا۔۔۔۔ کامل علی نے اُس سے وعدہ کرلیا تھا ۔کہ ،، وُہ  ہر حال میں اپنی توبہ پر قائم رہے۔ انشااللہ ایک ماہ میں اُسکی جان  اِن تمام چکروں سے آزاد ہُوجائے گی۔۔۔۔۔۔وجاہت اور نفاست صدیقی کے  جانے کے بعد کامل علی بھی   کوٹھی  کو تالہ ڈال کر تھکے تھکے قدموں سے گھر کی جانب روانہ ہُوگیا۔گھر  کے دروازے کے باہر ایک فقیر جیسے کامل علی کا ہی منتظر تھا۔ جیسے ہی کامل علی دروازے کے قریب پُہنچا وُہ فقیر بُڑبڑاتے ہوئے وہاں سے پلٹ گیا۔ کامل علی کے کان میں فقیر کے صرف  دُو   جملے ہی سمجھ آسکے  تھے،، تیری آج کی مزدوری تیرے پچھلے گناہوں کا کُفارہ بن گئی ہے،، ابھی بھی وقت ہے بدل لے خُود کو اُور نِکل جا اُس پاکھنڈی کے چکر سے۔۔۔۔
(جاری ہے)۔

اُسکا کہنا ہے۔ کِسی اُور کو دیکھوں نہ کبھی
کیوں کہ اُسکو یہ میرا رُوپ بُرا لگتا ہے۔

مجھکو ہر چہرے میں آتاہے نظر اِک وُہ ہی
جُو نہ بھر پائے یہ بہروُپ !!!  ۔بُرا لگتا ہے۔

Monday, 18 May 2015

عامل کامل ابو شامل قسط ۲۹



گُذشتہ سے پیوستہ۔
  
پندرہ منٹ بعد حسب وعدہ ابوشامل نے نفاست صدیقی کو  کامل علی کے آستانے نُما کمرے تک پُہنچا کر  آہستگی سے دروازہ باہر سے بند کردیا۔۔۔ سامنے فرشی نشست پر کامل علی آنکھیں بند کئے تسبیح پر انگلیاں گھما رہا تھا۔  نفاست صدیقی احترام سے قالین پر چلتے ہوئے کامل علی کے ہاتھوں کا بوسہ لینے کیلئے اِس بات سے بے خبرآگےبڑھ رَہا تھا۔کہ،،  اُسکے اُور کامل علی کے علاوہ ابو شامل بھی  غائبانہ طُور پر کامل علی کے ساتھ براجمان ہُو کر کامل علی کے کان میں سرگوشیاں کررہا ہے۔۔۔۔ نفاست صدیقی تم نے تو ہمیشہ دیسی علاج اُور خانقاہی سسٹم کی مخالفت کی ہے۔ اُور تم ہمیشہ یہی کہتے رہے ہُو نا کہ،، کالا سفید ، نوری  یا شیطانی  علم کچھ نہیں ہُوتا۔ یہ سب کم علم لوگوں کی فراغت کا  سرچشمہ ہے۔۔۔ مگر دیکھ لُو۔۔ آج تُم اُسی سسٹم کا حصہ بننے کیلئے یہاں موجود ہُو۔۔۔۔  نفاست صدیقی  کامل علی کی بارُعب آ  واز سُننے کے بعد ایک لمحے کیلئے ٹھٹک کر ٹہر گیا۔اُسے اپنی سماعت پر یقین نہیں آرہا تھا۔ بھلا کوئی کیسے اُسکے ماضی کو کھنگال کر اُس کے سامنے رکھ سکتا تھا۔۔۔ اُسے یقین آگیا۔کہ،، واقعی  دُنیا میں بُہت سے علوم ایسے بھی ہیں۔ جو انسان کے اندر بھی جھانکنے کی صلاحیت پیدا کرسکتے ہیں۔۔۔۔۔  نفاست صدیقی نے کامل کے ہاتھوں پر بُوسہ دیکر لرزتی ہُوئی آواز میں کہا۔۔۔۔ شاہ صاحب میں اپنی  سابقہ فکر  اُور مادی فلسفے پر نادم ہُوں۔ آپ مجھے معاف فرماکر اپنی غلامی میں قبول فرمالیں۔۔۔

اَب مزید پڑھیئے۔

اَبوشامِل نے آنکھوں سے قبولیت کا اِشارہ دِیا تو کامل نے اپنے لہجے کو گھمبیر بناتے ہُوئے کہا،، صدیقی صاحب میں جانتا ہُوں۔کہ،، آپ نہایت اخلاص کیساتھ یہ باتیں کررہے ہیں۔۔۔ لیکن ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ،، آپ اپنی تکلیف کے سلسلے میں بے یقینی کا شِکار ہُوچُکے ہیں۔ اُور آپکو لگتا ہے۔کہ،، شائد دُنیا میں کسی کے پاس آپکے مرض کی دَوا موجود نہیں ہے۔ ویسے بھی دُنیا ٹھگوں سے بھری ہُوئی ہے۔ اسلئے آپکا یہ اندیشہ بھی بجا ہے ۔کہ کہیں آپکی نوے ہزار کی رقم برباد ہی نہ ہُوجائے۔ اسلئے ہم نے فیصلہ کیا ہے۔کہ،،  آپ  سے محبت کی بنیاد ہم بھی اخلاص کے   مضبوط جذبوں کی زمین پر رکھتے ہُوئے یہ خاص الخاص  آئل آپکو تحفے کی صورت میں پیش کریں۔۔۔۔  نفاست صدیقی  نے ہدیہ پیش کرنے کی بُہت کُوشش کی لیکن کامل علی نے اُسکی ایک نہ چلنے دی۔۔۔۔ جسکی وجہ سے نفاست صدیقی یہ تحفہ لینے کیلئے مجبور ہُوگیا۔۔۔۔۔

حضور اگر مہربانی فرماکر  مجھے کل کچھ وقت عنایت فرمادیں ۔تو میرے ایک خاص دُوست کو بھی زیارت کا شرف حاصل  ہُوجائے۔ وُہ آجکل ایک بُہت بڑی مصیبت میں گرفتار ہے۔۔۔۔ نفاست صدیقی عرض کرنے کے بعد کامل علی کے چہرے کو بڑی عقیدت  وپُراُمید نگاہوں سے دیکھنے لگا ۔۔۔ جبکہ کامل علی  آنکھ بند کیئے   ابوشامل  کی گفتگو نہایت دھیان سے سُننے کے بعد نفاست صدیقی کی جانب متوجہ  ہُوا۔۔۔۔ بیچارہ ایک اَنار دُو بیماروں کے درمیان نزاع کا باعث بن گیا ہے۔ ہم جانتے ہیں۔کہ،، آپ وجاہت دہلوی کو ہم سے مِلوانا چاہتے ہیں۔۔۔ لیکن کل ہم مُلاقات نہیں کرپائیں گے آپ ایساکیجیئے گا۔ اُنہیں پرسوں مغرب کے فوراً بعد لے آئیے گا۔۔۔ نفاست صدیقی پر مزید حیرتوں کے پہاڑ ٹوٹ پڑے تھے۔ کیونکہ نفاست صدیقی نے ابھی تک وجاہت  دہلوی کا نام تک زبان پر نہیں لیا تھا۔جبکہ کامل علی نے تو  نام کیساتھ مرض تک جان لیا تھا۔۔۔ بہرحال  کامل علی سے مُلاقات نفاست صدیقی میں بُہت بڑی تبدئلی لے آئی تھی۔ وہی نفاست صدیقی جو  اچھے اچھوں کو گھاس نہیں ڈالتا تھا۔ آج کامل علی سے رُخصت ہُوتے ہُوئے بے تحاشہ کامل علی کے ہاتھ   اُور پیروں  پر بُوسوں کی بُوچھاڑ کررہا تھا۔

یار یہ وجاہت  دہلوی کی کیا کہانی ہے۔؟؟؟ نفاست صدیقی کے کوٹھی سے نکلتے ہی کامل علی نے ابو شامل سے استفسار کیا۔۔۔۔ ابو شامل قالین پر بیٹھ کر مُسکراتے ہُوئے کہنے لگا۔بُہت عجیب سی کہانی ہے میرے یار۔ اِس کہانی کی ابتدا میں وجاہت دہلوی خود کو دُنیا کا سب سے ذیادہ خُوش قسمت انسان سمجھتا تھا۔جبکہ انجام میں آجکل وُہ خُود کو دُنیا کا بدنصیب حیوان سمجھنے پر مجبور ہُوگیا ہے۔۔ یار پہلیاں مُت بُجھواوٗ    بلکہ صاف صاف بتاوٗ کہ،، اصل کہانی کیا ہے؟کامل علی نے ابو شامل کو ٹوکتے ہُوئے کہا۔۔۔۔۔یار کامل تُم بھی بُہت بے صبرے  واقع ہُوئے ہو۔ میری جان ایک اچھی اُور مزیدار کہانی سُننے کیلئے بڑے پاپڑ بیلنے پڑتے ہیں۔ یونہی آسانی سے کوئی کہانی ہاتھ نہیں آجاتی۔۔۔۔ چلو بہرحال خفا نہ ہُو۔ میں تُمہیں سُنائے دیتا ہُوں ابو شامل نے کامل کا بگڑا ہُوا موڈ دیکھ کر کہانی سنانی شروع کی۔

وجاہت دہلوی کی عُمر تقریباً پنتالیس برس کے قریب ہے۔ موصوف  ایک سرکاری اِدارے میں ڈائریکٹر کے فرائض انجام دے رہیں۔ چونکہ اُوپر کی آمدنی لامحدود ہے، اِس لئے جناب اکثر سیر سپاٹے کیلئے کسی نہ کسی بہانے  مُلک سے باہر پائے جاتے ہیں۔ صحت قابل رَشک ہے جسکی وجہ سے اپنی عُمر سے کم از کم  دس برس چھوٹے دِکھائی دیتے ہیں۔۔۔  چھ برس قبل ہی موصوف کو شادی کا خیال آیا تھا۔ لہذا ایک بہت بڑے صنعتکار کی ۲۸ برس کی بیٹی  عدیمہ  سے محبت کی شادی رَچالی۔۔۔۔ زندگی خُوب عیش و عشرت میں گُزر رہی تھی۔ کہ رَفتہ رَفتہ اُنہیں محسوس ہُونے لگا۔کہ عدیمہ کی بڑی بہن عائقہ بھی اِن میں بُہت ذیادہ دلچسپی  رکھتی ہے۔  ۔۔۔عائقہ اگر  چہ مطلقہ بھی تھی۔ اُور عدیمہ سے پانچ برس بڑی بھی تھی۔ اُس کے باوجود بھی  عائقہ کے نقوش و جسامت عدیمہ سے کئی گُنا ذیادہ متوجہ کرنے والے ہیں۔۔۔ پھر  شادی کو ایک برس بھی نہیں گُزرا تھا۔ کہ محترمہ نے  وجاہت کے سامنے اپنی تمام کیفیات بیان کردیں۔۔۔ ابتدا میں وجاہت کی شرافت اُسے عائقہ سے دُور رہنے میں کسی حد تک معاون رہی۔ لیکن عائقہ کسی نہ کسی بہانے اب اپنی بہن عدیمہ کے گھر چلی آتی۔ اور جب وجاہت کے گھر پہلے بیٹے زین کی پیدائش ہُوئی تو گویا عائقہ کو زین کی صورت میں روزانہ  گھر چلے آنے کا بہانہ دستیاب ہُوگیا۔ زین کے بعد وجیہ کی پیدائش نے عدیمہ کے حُسن کو مزید گہنا دیا۔۔۔۔ اُور اسطرح وجاہت صاحب بھی رفتہ رفتہ پکے آم کی مانند عائقہ کی گُود میں آگرے۔


اسطرح وجاہت دہلوی بیک وقت جائز و ناجائز دُو شوہروں کا کردار نبھانے لگے۔۔۔ ابھی چند ماہ قبل ہی  عدیمہ نے  خُود میں وجاہت کی عدم دلچپی کی وجوہات کی طرف توجہ دینی شروع کی۔ تو اِنہیں معلوم ہُوا کہ،، انکے دَر و دیوار کو کھوکھلا کرنے والی کوئی اُور نہیں اِنکی اپنی سگی بہن ہے۔ بات اگرچہ کھل جاتی تو اِسمیں سب سے ذیادہ نقصان عدیمہ کی فیملی کو ہی اُٹھانا پڑتا۔ اِس لئے عدیمہ نے سب سے پہلے عائقہ کو ہی تنبہی کی۔ لیکن عائقہ نے عدیمہ کی ایک نہیں چلنے دی۔ اُلٹا سارا الزام عدیمہ کے سر تھونپتے ہُوئے جتایا۔کہ،، وُہ خُود اپنے شوہر کو خُوشیاں نہیں دے پارہی ہے۔ اُور اپنے شوہر کی عدم دلچسپی کی سزا مجھے دینا چاہتی ہے۔۔۔۔بہرحال عدیمہ نے عائقہ کو خبردار کردیا ۔کہ،، وُہ اب اسکے گھر نہ آیا کرے۔ ورنہ وُہ پاپا کو سب کچھ بتانے پر مجبور ہُوجائے گی۔۔۔۔ دوسری طرف عدیمہ نے وجاہت کیساتھ سخت رویہ اپناکر باور کروادیا ۔ کہ وُہ  وجاہت اُور عائقہ کے ناجائز رشتے سے باخبر ہُو چکی ہے۔۔۔ اُور وجاہت کو  صرف بچوں کی خاطر ایک آخری موقع دینا چاہتی ہے۔۔۔ وجاہت اِس تمام صورتحال سے ایسا سٹپٹایا کہ،، عدیمہ کو یہ یقین دِلانے کیلئے کہ،، اُسکی زندگی میں عدیمہ سے بڑھ کر کچھ بھی نہیں ہے۔ اُس نے حال ہی میں اپنی تمام جائز و ناجائز آمدنی سے ایک اپارٹمنٹ کا پروجیکٹ شروع کیا  ہُوا تھا۔ وُہ تمام پروجیکٹ عدیمہ کے نام کرڈالا۔۔۔۔


یہ بات جب عائقہ کو معلوم ہُوئی تو۔ وُہ ایک دن وجاہت کے آفس پُہنچ گئی۔۔۔۔ وجاہت اِس تمام معاملے کو ختم کرنا چاہتا تھا۔کیونکہ اگر یہ معاملہ کورٹ میں چلا جاتا ۔یا گھر سے باہر نکل جاتا۔ ہر دُو صورت میں وجاہت کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہیں رہتا۔۔۔ لیکن اب عائقہ بضد تھی۔ کہ،، معاہدے کے مطابق وُہ عدیمہ کا طلاق دیدے۔ اُور کچھ عرصہ بعد وُہ   سب کچھ سمیٹ کر کینیڈا شفٹ ہُوجائیں۔۔۔۔ لیکن وجاہت جانتا ہے کہ ،، عدیمہ  کو طلاق دینے کا مطلب تھا ۔کہ ،، وجاہت سیدھا فُٹ پاتھ پر آجائے۔۔۔۔۔۔۔۔اُف میرے خُدایا یہ کہانی ہے یا کوئی مکڑی کا جالا؟؟؟  کامل علی نے ابوشامل کے خاموش ہُوتے ہی  دُونوں ہاتھوں سے اپنا سَر تھام لیا۔۔۔۔۔ یار سیدھی سادھی گُتھی تو ہر ایک گھر میں سُلجھالی جاتی ہے۔ عامِلوں سے لوگ تب ہی رجوع کرتے ہیں ۔جب اُنہیں یہ محسوس ہُونے لگتا ہے۔کہ،، اب ڈُور اُن کے ہاتھ سے نکل چکی ہے۔ اب تُم دیکھنا ہم اِس اُلجھی ڈُور کو کیسے سُلجھاتے ہیں ۔ جسکے بعد حُکومت میں ہمارا پہلا مُہرہ وجاہت دہلوی ہمارے لئے کیسے راہ ہموار کرتا چلاجائے گا۔ ابوشامل نے شیطانی مسکراہٹ چہرے پر سجاتے ہُوئے کامل علی کو  اپنےمخصوص انداز میں آنکھ ماری۔

(جاری ہے)۔

اُسکا کہنا ہے۔ کِسی اُور کو دیکھوں نہ کبھی
کیوں کہ اُسکو یہ میرا رُوپ بُرا لگتا ہے۔

مجھکو ہر چہرے میں آتاہے نظر اِک وُہ ہی
جُو نہ بھر پائے یہ بہروُپ !!!  ۔بُرا لگتا ہے۔