bing

Your SEO optimized title page contents

Pages

Hamara Tube Channel

Thursday, 28 May 2015

عامل کامل ابو شامل (طلسم سے آزادی)قسط 38.akas



گُذشتہ سے پیوستہ۔

دوسرے دِن جب میں نے سفید اُلو کی بابت شرف قلندری کو  اشارے کنایہ میں بتایا ۔ تو ایک اطمینان بخش مسکراہٹ شرف کے چہرے پر بھی پھیل گئی۔ اگلے دِن تک شرف نے انتہائی رازداری سے ایک دو شاخہ لکڑی اور لچکیلی چھال کی مدد سے ایک غلیل تیار کرکے اُنہی درختوں کے نذدیک چھپادی تھی۔  اُور حُسن اتفاق کہیئے  ۔ بلکہ اللہ کریم کی مدد  سمجھیئے۔ کہ ،، اگلے ہی دن جب شرف غلیل کا معائنہ کررہا تھا۔تبھی وُہ سفید اُلو بلندی سے پرواز کرتے ہُوئے  اچانک کسی چوہے کو دیکھ کر ہمارے قریب جھپٹا۔۔۔  شائد شرف قلندری اُسکا اِرادہ بھانپ چکا تھا۔ اسلئے جیسے ہی وُہ شرف کے نشانے کی ذد میں آیا۔ شرف نے ایک نوکیلا پتھر غلیل کے ذریعے اُلو کی جانب داغ دیا۔ پتھر کی نوک نے اُلو کو  اگرچہ زخمی کردیا تھا۔ لیکن وُہ اپنے شکار کو چھوڑنے پر آمادہ نہیں تھا۔ اُلو نے مُڑ کر ایک غضبناک نگاہ  ہم دُونوں پر ڈالی۔ اُور اُسی وقت وُہ  ایک درخت سے ٹکرا کر زمین پر گر پڑا۔ شائد قدرت ہمیں  آزادی حاصل کرنے کیلئے ایک بھرپور موقع دینا چاہتی۔ میں نے دوڑتے ہُوئے ایک بڑا سا پتھر اُٹھالیا۔ اُلو نے بھی موقع کی نزاکت بھانپ کر شکار چھوڑ دینا مناسب سمجھا۔ لیکن تب تک میں اُس کے قریب پُہنچ کر اُسکے بڑے سے سر کو نشانہ بنا چکا تھا۔ وُہ ایک مرتبہ پھڑپھڑاکر جونہی لہرایا۔ تو میں نے وحشت سے اُسکے سر کو کچلنا شروع کردیا۔۔ تھوڑی ہی دیر میں اُلو کی سانس تھمنے لگی۔ تو سارے جنگل میں چیخوں کا سیلاب اُمنڈنے لگا۔ تبھی مجھے شرف قادری نے چیخ کر مخاطب کرتے ہُوئے خبردار کیا۔ ابو شامل میرے ساتھ مغرب کی جانب دوڑو۔۔۔۔ اگر آج یہ موقع گنوادیا تو ہم ہمیشہ کیلئے گھنشام داس کے عتاب کا نشانہ بن  کر رِہ جائیں گے۔

اب  مزید پڑھیئے۔

ہم دُونوں زندگی کی بازی جیتنے کیلئے سرپٹ دُوڑ رہے تھے۔ جنگلات کا ایک نا ختم ہُونے والا سلسلہ تھا۔ لیکن اُس وقت ہمیں اپنی جان بچانے کیلئے دنیا کا چکر لگانے کو بھی کہا جاتا۔ تب بھی ہم انکار نہیں کرپاتے۔ یہ بھی غنیمت تھا۔کہ،، گھنشام داس ابھی تک ہماری جانب متوجہ نہیں ہُوا تھا۔ جنگلات کا سلسلہ ختم ہُوا۔ تو ہمیں معلوم ہُواکہ،، ہم سندھ کے شہر ڈھڑکی کے مضافات میں موجود ہیں۔ جونہی ہمیں شہر کے آثار نظر آئے شرف قلندری رُک کر سجدہ شکر بجالایا۔ اُس کی دیکھا دیکھ مجھے بھی شکرانے کا خیال آگیا۔ سجدہ سے سر اُٹھاتے ہی شرف قلندری گویا ہُوا۔ الحمدللہ ! ہم گھنشام داس کی طلسمی حدود سے باہر نکلنے میں کامیاب ہُوچُکے ہیں۔ جسکا مطلب ہے کہ،، ہماری تمام قوتیں بھی واپس آچکی ہُونگی!!! اِس لئے اب ہم محتاط طریقے سے اپنی اگلی منزل کا باآسانی انتخاب کرسکتے ہیں۔ شرف کے توجہ دِلانے پر میں نے اپنی روحانی قوتوں کو ٹٹولا۔ تو خوشی کے احساس سے میں جھوم اُٹھا۔ کیونکہ واقعی میری تمام پاور مجھ میں لُوٹ آئی تھیں۔ ہم نے خوب اچھی طرح ایک دوسرے سے معانقہ کیا۔ اُور اسکے بعد ہماری راہیں جُدا ہُوگئیں۔

میں نے سب سے پہلے اپنی فیملی سے مُلاقات کا پروگرام بنایا ۔ اُور کچھ دنوں کیلئے اپنے محفوظ محل  میں پُہنچ گیا۔لیکن میں ذیادہ دِنوں تک وہاں نہیں رِہ سکتا تھا۔کیونکہ میرا محبوب سیالکوٹ میں کس  حال میں ہے۔ میں باوجود کوشش کے بھی نہیں جان پارہا تھا۔ میری تقریباً تمام روحانی قوت لُوٹ آئیں تھی۔ لیکن نجانے اُن گھنٹیوں کی آواز نے میری سماعت  اُور میری ٹیلی پیتھی کی طاقت پر کیسا اثر ڈالا تھا۔کہ،، میں ہنوز ابھی تک اِس نعمت سے محروم ہی تھا۔ بہرحال مجھے واپس آنا تھا۔ اُور گھنشام داس میرے لئے گھات لگائے بیٹھا تھا۔ ۔۔۔ میں نے اِس معاملے میں رازداری سے بابا جان کے ایک زیرک وزیر ابو النصر سے رابطہ کیا۔ اُنہوں نے میری مدد کیلئے حامی بھرتے ہُوئے مجھے ایک ایسے  سہ روزہ عمل کی بابت بتایا۔جو مجھے گھنشام داس سے محفوظ رکھ سکتا تھا۔

لیکن اُن کا کہنا تھا۔کہ،، گھنشام داس نے اپنی حفاظت کا کچھ  ایسا انتظام کررکھا ہے۔ جسکی وجہ سے ہم جنات اُسے قابو نہیں کرسکتے۔اُور جب تک گھنشام داس اُس علاقے میں موجود ہے ۔وُہ تمہارا پیچھا نہیں چھوڑے گا۔   اسلئے گھنشام داس کا بندوبست کرنے کیلئے ہمیں کسی مسلمان  انسان عامل کی مدد حاصل کرنی ہُوگی۔ اُور میں ایک شخص کو جانتا ہُوں۔جو بظاہر تو ایک ناکام عامل ہے۔ لیکن اُس پر اللہ والوں کی خاص نظر ہے۔ جسکی وجہ سے وُہ مستقبل میں عَالم تکوین کی کوئی  اہم ذمہ داری  بھی سنبھال سکتا ہے۔۔۔۔ اُور جانتے ہُو کامل علی مجھے وزیر ابوالنصر نے  اُس  عامل کا کیانام بتایا تھا۔؟؟؟ ۔۔۔کیا نام بتایا تھا؟؟؟کامل علی نے اشتیاق سے  ابوشامل کو بغور دیکھتے ہُوئےاستفسار کیا۔۔۔۔۔ مجھے وزیر ابوالنصر نے  کسی اُور کا نہیں بلکہ تُمہارا ہی  نام بتایا تھا۔ اُور خُدا کی قدرت دیکھو کہ،، اتنامہان جادوگر تمام سیفٹی کے باوجود جب اپنے انجام کو پُہنچا۔ تو وُہ تُم ہی تھے ۔ جس نے ریحان شاہ تبریزی کی مدد سے اُسے جہنم رسید کردیا تھا۔

وُہ سب تو ٹھیک ہے۔ لیکن فرح کا کیا ہُوا؟؟؟ کامل علی نے عاجزی سے گفتگو کو بدلتے ہُوئے کہا،، ۔۔۔۔۔ ہُونا کیا تھا؟۔۔ میں نے تین دِن تک وزیر ابوالنصر کا بتایا ہُوا وظیفہ کرلیا۔ جسکی وجہ سے اب گھنشام داس آسانی سے میری لوکیشن معلوم نہیں کرسکتا تھا۔۔۔ لیکن جب میں فرح سے ملنے کیلئے سیالکوٹ پُہنچا۔ تب تک گھنشام داس اپنی خباثت کا  ثبوت دیتے ہُوئے ایک ایسا چکر چلانے میں کامیاب ہُوگیا۔کہ،، فرح  اُور، دلشاد  کی فیملی نے اُن دونوں کا نکاح کردیا۔ میں چاہے جتنا بھی عاشق مزاج سہی۔لیکن اتنا بے غیرت نہیں ہُوں۔ کہ،، شادی کے بعد بھی فرح کے  حجلہ میں مداخلت کرتا۔

۔۔ لیکن چند دِن بعد قدرتی طور پر دلشاد کا ایکبارپھر سے ایکسیڈنٹ ہُوگیا۔دلشاد کی ہڈیاں تو پہلے ہی ٹوٹ پھوٹ کا شکار تھیں۔ اسلئے دوسری مرتبہ کا دھچکا وُہ ہڈیاں نہیں سہار سکیں۔ اُور دلشاد ہمیشہ کیلئے معذور ہُوگیا۔ اِس حادثے کے بعد دلشاد کی فیملی کی تمام جمع پُونجی اُور مکان  کی فروخت سے حاصل رقم۔ سب کچھ دلشاد کے علاج میں صرف ہُوگئی۔ ۔۔۔ اسطرح  ایک طرف گھنشام داس تمہارے ہاتھوں ہلاک ہُوگیا۔ جبکہ اُسکی خباثت کی وجہ سے میری محبت کا آشیانہ تنکوں کی مانند بکھر گیا۔۔۔دلشاد نے ہمیشہ کیلئے بستر پکڑ لیا ہے۔ اُورفرح کی مالی حالت بُہت کمزور ہُوچکی ہے۔ اسلئے میں بہانے بہانے سے اُسکی امداد کرنے۔ یا یُوں کہہ سکتے ہُو۔کہ،، اُسکے صبر کا پیمانہ لبریز ہُونے کا نتظار کررہا ہُوں۔۔۔۔

اچھا تو اِس لیئے جناب پورے بیس دِن لاپتہ رہے تھے۔ اُور یہ بات بالکل  ہی بھول گئے۔کہ،، یہاں نفاست صدیقی اپنے دوست کو لانے والے تھے۔ کامل نے شکایت بھرے لہجے میں کہا۔۔۔۔۔۔نہیں یار سیالکوٹ سے تو میں اُسی شام لُوٹ آیا تھا۔ جس رات تمہاری دہلوی سے ملاقات فکس تھی۔۔۔۔ لیکن واپس آتے ہُوئے مجھے درمیان میں یہ خبر مِلی ۔کہ،، تمہاری نرگس کراچی کے سول ہوسپٹل میں اپنی زندگی کی آخری سانسیں لے رہی ہے۔سُو میں سیدھا ہوسپٹل پُہنچ گیا تھا۔۔۔۔ نرگس کا ذکر سُنتے ہی کامل علی پر دیوانگی سی طاری ہُوگئی۔ کیا ہُوامیری نرگس کو۔۔۔؟اب کیسی ہے وُہ۔؟؟؟ کہاں ہے نرگس۔؟؟؟ اُور تم مجھے اتنی دیر سے اپنے عشق کی کہانی سُنارہے تھے۔ جبکہ میری نرگس زندگی اُور موت کی کشمش میں گرفتار تھی۔۔۔ کامل کے منہ سے تھوک کے چھینٹے اُڑنے لگے تھے۔جبکہ لہجے میں چنگاریاں بھری ہُوئی  تھیں۔!!!

دل کی بات۔

مجھے معلوم ہے کہ،، میرے بلاگ پر میری تحریریں پڑھنے کیلئے بُہت سے صاحب علم دوست بھی تشریف لاتے ہیں اُور میری تحریروں کو پسندیدگی کی نگاہ سے بھی دیکھتے ہیں۔۔۔ لیکن وُہ اتنی خاموش سے  بِلا تبصرہ ،،واپس لُوٹ جاتے ہیں۔ جیسے باد نسیم کے جھونکے بنا کچھ کہے جسم کو چُھو جاتے ہیں۔۔۔ میں اُنکی خدمت میں صرف اتنا عرض کرنا چاہتا ہُوں۔کہ،، میں تمام نامساعد حالات کے باوجود لکھنے کی ذمہ داری کسی نہ کسی حد تک پُوری کرنے کی کوشش کررہا ہُوں۔۔۔۔ لیکن آپکی خاموشی۔۔۔۔ بے اعتنائی، بے توجہی، یا بے حسی کے زمرے میں تو شُمار نہیں ہُوتی۔۔۔ اس سوال کا بہترین  جواب، صرف آپکا دِل ہی دے سکتا ہے۔۔۔۔

آپ سب کی دُعاوں کا طلبگار
عشرت اقبال وارثی۔
(جاری ہے)

اُسکا کہنا ہے۔ کِسی اُور کو دیکھوں نہ کبھی
کیوں کہ اُسکو یہ میرا رُوپ بُرا لگتا ہے۔

مجھکو ہر چہرے میں آتاہے نظر اِک وُہ ہی
جُو نہ بھر پائے یہ بہروُپ !!!  ۔بُرا لگتا ہے۔

Wednesday, 27 May 2015

عامل کامل ابو شامل (اُلو کا طلسم) قسط 37



گُذشتہ سے پیوستہ۔

اِس سے پہلے کے میں اِن سوالات کو اپنی زبان پر لاتا۔ جوگی گھنشام داس نے مجھے مخاطب کرتے ہُوئے کہا۔۔۔ میں اَوشے تمہاری شنکا  کو  دُور کیئے دیتا ہُوں۔ تم نے ابھی وچار کرتے ہُوئےاپنی قیمت شُنے (۰) لگائی ہے۔ جس سے میں بہت پربھاوت ہُوا ہُوں۔  سُنو!!!   یہ بات بالکل ست ہے کہ،،میری قوت دَس کے برابر ہے۔ ۔۔۔  پرنتو ایک بات تمہاری بُدھی میں نہیں سماسکی۔ کہ،، کیول شُنے  بے قیمت ہُوتا ہے۔ پرنتو جب  یہ کسی دوسرے ہندسے کے  ساتھ مِل جاتا ہے۔ تو نہ صرف خُود انمول ہُوجاتا ہے۔بلکہ جس سے جڑ جاتا ہے۔ اُسے بھی انمول بنادیتا ہے۔ اِس پرکار میری اِچھا ہے کہ،، تُم مجھ سے مِل جاوٗ ۔ تاکہ میری  سیما  ۱۰ سے بڑھ کر ۱۰۰ پریشت ہُوجائے۔ اُور ہاں میں تمہیں بھیمی دیوی کے بارے میں کیول اتنا بتا سکتا ہُوں۔کہ،، وُہ  ہزاروں ورشُوں سے شکتی کی اَمر دیوی ہے۔ اُور جو بھی  منش اُس دیوی کو پرسن کرنے میں سپھل ہُوجاتا ہے۔ وُہ دیوی اُس منش کیساتھ ایک رات ضرور گُزارتی ہے۔ جسکے بعد وُہ منش بھی ہمیشہ ہمیشہ کیلئے اَمر ہُوجاتا ہے۔

اب مزید پڑھیئے۔

لیکن اِس تمام چکر میں مجھے کیا کرنا ہُوگا؟ میں نے گھنشام داس سے اگلا سوال کیا۔۔۔۔۔ تُمہیں!!! ۔۔۔ تُمہیں کیول میری سہایتا کرنی ہُوگی۔ جس سمے  میں  دیوی کو پرسن کرنے کیلئے اشلوک کا جاپ کروں گا۔ میرے جاپ کو اسنبھو کرنے کیلئے بھیمی دیوی کے بھگت اُور اُسکے تمام وُہ پُتر جو اُن منشوں کی نشانی ہیں۔ جنہیں ایک رات دیوی کی سیوا کا شبھ  سمے پرابت ہُوچکا ہے۔ اوشے آئیں گے۔ تب تمہیں اُن تمام  دَاسوں کو مجھ سے دُور رکھنا ہُوگا۔ یہاں تک کہ،، میری منو کامنا پوری ہُوجائے۔ گھنشام داس نے مجھے سمجھاتے ہُوئے ایسا سُکھ بھرا سانس لیا۔ جیسے وُہ سپنوں میں اپنی کامیابی کا جشن منارہا ہُو۔۔۔ لیکن میں تو اتنا کمزور ہُوں کہ،، تمہارا ہی مقابلہ نہیں کرپایا۔ پھر اتنے طاقتور لوگوں سے اکیلا کیسے لڑپاوٗں گا۔ میں نے اپنے خدشے کا اظہار کیا تو وہ بڑی نخوت سے کہنے لگا۔۔۔۔ اپنی منو کامنا کو ست  کے آکار میں ڈھالنے کیلئے میں نے تجھے بھی شکتی مان بنانے کا اَوش اُوپائے سُوچ رکھا ہے۔ جس کے بعد میں ہمیشہ ہمیشہ کیلئے اَمر ہُوجاوٗنگا۔

میری مثال اُس بھیڑ کے مصداق تھی۔ جسکے پیچھے شیر لگے ہُوں۔ اُور آگے گہری کھائی اُسکی منتظر ہُو۔میں نے  دِل میں خُدا سے معافی مانگتے ہُوئے اُسکی  مدد طلب کی۔ اُور گھنشام داس کی دونوں شرائط قبول کرلیں۔ اُس نے وعدے کیمطابق مجھے نہ صرف آزاد کردیا تھا۔ بلکہ اُس نے میری تمام پاور بھی مجھے  یہ کہتے ہُوئے لُوٹادی تھی۔کہ،،مجھے دھوکہ دیکر میرا اپمان کرنے کی اِچھا بھی اپنے ہردے میں نہیں لانا۔ ورنہ اپنے وردان سے ایسا شراپ دُونگا۔کہ تمام زندگی شما کی بھوگ مانگے گا۔ لیکن تیرا کلیان نہ ہُوپائے گا۔۔۔۔۔۔ آزادی  ملنے کے بعد میں نے اُس علاقے کا جائزہ لینا شروع کیا۔ تو مجھے معلوم ہُوا کہ،، وُہ جگہ بالکل بُھول بھلیوں کی مانند تھی۔  اگرچہ وُہ وادی نہایت دلفریب مناظر سے بھرپور تھی۔۔۔۔ لیکن مجھے ایسا محسوس ہُونے لگا تھا۔ جیسے یہ تمام وادی ایک غبارے کی مانند ہے۔ جہاں سے دُنیا کی گردش کو دیکھا تو جاسکتا تھا۔ لیکن اِس غبارے سے باہر نکلنے کا کوئی راستہ   سجھائی نہیں دیتا تھا۔

گھنشام داس نے  اپنی حفاظت کا ذمہ دینے سے قبل مجھے بُہت سی شکتیاں دیں۔ جنکے ذریعے سے میں لاکھوں بلاوٗں سے بیک وقت خُود کو محفوظ رکھ سکتا  تھا۔اُنہی دنوں مجھ پر ایک انکشاف ہُوا۔کہ،، اِس غبارے نما وادی میں اکیلا میں ہی قید نہیں تھا۔ بلکہ کچھ انسانوں کو بھی گھنشام داس نے قیدی بنا رکھا تھا۔۔۔ اُن میں ایک عامل  شرف قلندری نام  کا بھی قیدی تھا۔۔۔ چونکہ شرف بھی مسلمان تھا اُور میں بھی اسلئے فطری طور پر میں شرف کے نذدیک ہُوتا چلا گیا۔ پھر ایکدن شرف نے ہی مجھے بتایا کہ،، ہماری آزادی تب تک ہی قائم ہے۔ جب تک کہ،، گھنشام داس اپنا مقصد حاصل نہیں کرلیتا۔ اُور جونہی اُسے بھیمی دیوی کا قرب حاصل ہوجائے گا۔ وُہ اِس وادی کو اپنے تمام رازوں سمیت ہمیشہ کیلئے نابود کردے گا۔ تاکہ دُنیا میں کوئی اُسکی کمزوری نہ جان سکے۔۔۔۔کیا اِسکی کوئی کمزوری بھی ہے۔؟؟؟ میں نے اشتیاق سے شرف  قلندری سے معلوم کیا۔۔۔شرف نے مجھے   خاموش رہنے   کا اِشارہ دیکر  زمین پر  انگلی سے کچھ لکھنا شروع کردیا۔ جسے سمجھنے کیلئے میں مزید جھک کر پڑھنے لگا۔

 اُس نے لکھ کر بتایا۔کہ،،  یہ وادی ایک طلسم کی  دُنیا ہے۔ اُور اِس تمام طلسم کی چابی ایک سفید اُلو ہے۔ جو  اِس غبارہ نما جنگل میں ہی موجود ہے۔ اگر کسی طرح اُس اُلو کو ہلاک کردیا جائے۔ تو یہ غبارے نما طلسم ٹوٹ جائے گا۔ اُور ہم گھنشام داس کی گرفت سے آزاد ہُوسکتے ہیں۔۔۔  اسلئے میں بھی اُس اُلو کو تلاش کررہا ہُوں۔ اگر وُہ سفید اُلو تمہیں پہلے نطر آجائے۔ تو فوراً اُسے ہلاک کرڈالنا۔ اُور یہاں سے بھاگتے ہُوئے ایک بات کا خیال رکھنا کہ ،، صرف مغرب کی جانب دوڑنا۔ ورنہ ہم پھر سے گھنشام داس کا شکار بن سکتے ہیں۔ اتنا لکھنے کے بعد اُس نے زمین پر لکھی تمام تحریر ہاتھ پھیر کا مِٹا دالی۔

مجھے  گھنشام  داس کی نیت پر پہلے سے ہی شُبہ تھا۔ لیکن شرف قلندری کی دلیل نے رہے سہے ابہام بھی ختم کردیئے تھے۔ اب میں کسی قیمت پر بھی گھنشام داس  کے وعدے پر  بھروسہ نہیں کرسکتا تھا۔۔۔ لیکن نجانے یہ سفید اُلو والی کہانی سچ بھی تھی۔ یا شرف قلندری کی  کوئی ذہنی اختراع تھی۔ اب اسکا فیصلہ تو سفید اُلو کے دریافت ہُونے کے بعد ہی ہُوسکتا تھا۔۔۔۔۔۔ میں بظاہر گھنشام داس کے حُکم پر خود کو عملیات کے ذریعہ سے مضبوط بنارہا تھا۔ لیکن درحقیقت مجھے اُس سفید اُلو کی تلاش تھی۔ جو بقول شرف قلندری اِس طلسم کی چابی تھا۔ ایک شام  میں  وادی میں چہل قدمی کیساتھ ساتھ  اپنا  وظیفہ بھی پڑھ رَہا تھا۔اُور صدقِ دل سے اللہ کریم سے دُعا بھی کررہا تھا۔کہ،، مجھے آسانی اُور اِمداد عطا فرمادے۔ اتنے میں میرے کانوں میں ایک سیٹی نما آواز گونجی۔۔ میں بے اختیار آواز کی سمت کا تعین کرنے لگا۔ تبھی میری دبی دَبی چیخ نکل گئی۔ میں نے چیڑ کے ایک انتہائی بُلند پیڑ پر اُس سفید اُلو کو دیکھ لیا تھا۔ اُور مجھے انتہائی مُسرت حاصل ہونے لگی۔ جب میں نے اُسے ایک گھونسلے میں داخل  ہُوتے دیکھا۔۔۔ میں دِل ہی دل میں اللہ کریم کا شُکراَدا کرنے لگا۔جس نے آسانی کا  راستہ مجھ گنہگار پر کھول دیا تھا۔

دوسرے دِن جب میں نے سفید اُلو کی بابت شرف قلندری کو  اشارے کنایہ میں بتایا ۔ تو ایک اطمینان بخش مسکراہٹ شرف کے چہرے پر بھی پھیل گئی۔ اگلے دِن تک شرف نے انتہائی رازداری سے ایک دو شاخہ لکڑی اور لچکیلی چھال کی مدد سے ایک غلیل تیار کرکے اُنہی درختوں کے نذدیک چھپادی تھی۔  اُور حُسن اتفاق کہیئے  ۔ بلکہ اللہ کریم کی مدد  سمجھیئے۔ کہ ،، اگلے ہی دن جب شرف غلیل کا معائنہ کررہا تھا۔تبھی وُہ سفید اُلو بلندی سے پرواز کرتے ہُوئے  اچانک کسی چوہے کو دیکھ کر ہمارے قریب جھپٹا۔۔۔  شائد شرف قلندری اُسکا اِرادہ بھانپ چکا تھا۔ اسلئے جیسے ہی وُہ شرف کے نشانے کی ذد میں آیا۔ شرف نے ایک نوکیلا پتھر غلیل کے ذریعے اُلو کی جانب داغ دیا۔ پتھر کی نوک نے اُلو کو  اگرچہ زخمی کردیا تھا۔ لیکن وُہ اپنے شکار کو چھوڑنے پر آمادہ نہیں تھا۔ اُلو نے مُڑ کر ایک غضبناک نگاہ  ہم دُونوں پر ڈالی۔ اُور اُسی وقت وُہ  ایک درخت سے ٹکرا کر زمین پر گر پڑا۔ شائد قدرت ہمیں  آزادی حاصل کرنے کیلئے ایک بھرپور موقع دینا چاہتی۔ میں نے دوڑتے ہُوئے ایک بڑا سا پتھر اُٹھالیا۔ اُلو نے بھی موقع کی نزاکت بھانپ کر شکار چھوڑ دینا مناسب سمجھا۔ لیکن تب تک میں اُس کے قریب پُہنچ کر اُسکے بڑے سے سر کو نشانہ بنا چکا تھا۔ وُہ ایک مرتبہ پھڑپھڑاکر جونہی لہرایا۔ تو میں نے وحشت سے اُسکے سر کو کچلنا شروع کردیا۔۔ تھوڑی ہی دیر میں اُلو کی سانس تھمنے لگی۔ تو سارے جنگل میں چیخوں کا سیلاب اُمنڈنے لگا۔ تبھی مجھے شرف قادری نے چیخ کر مخاطب کرتے ہُوئے خبردار کیا۔ ابو شامل میرے ساتھ مغرب کی جانب دوڑو۔۔۔۔ اگر آج یہ موقع گنوادیا تو ہم ہمیشہ کیلئے گھنشام داس کے عتاب کا نشانہ بن  کر رِہ جائیں گے۔

دل کی بات۔
مجھے معلوم ہے کہ،، میرے بلاگ پر میری تحریریں پڑھنے کیلئے بُہت سے صاحب علم دوست بھی تشریف لاتے ہیں اُور میری تحریروں کو پسندیدگی کی نگاہ سے بھی دیکھتے ہیں۔۔۔ لیکن وُہ اتنی خاموش سے  بِلا تبصرہ ،،واپس لُوٹ جاتے ہیں۔ جیسے باد نسیم کے جھونکے بنا کچھ کہے جسم کو چُھو جاتے ہیں۔۔۔ میں اُنکی خدمت میں صرف اتنا عرض کرنا چاہتا ہُوں۔کہ،، میں تمام نامساعد حالات کے باوجود لکھنے کی ذمہ داری کسی نہ کسی حد تک پُوری کرنے کی کوشش کررہا ہُوں۔۔۔۔ لیکن آپکی خاموشی۔۔۔۔ بے اعتنائی، بے توجہی، یا بے حسی کے زمرے میں تو شُمار نہیں ہُوتی۔۔۔ اس سوال کا بہترین  جواب، صرف آپکا دِل ہی دے سکتا ہے۔۔۔۔
آپ سب کی دُعاوں کا طلبگار

عشرت اقبال وارثی۔

(جاری ہے)

اُسکا کہنا ہے۔ کِسی اُور کو دیکھوں نہ کبھی
کیوں کہ اُسکو یہ میرا رُوپ بُرا لگتا ہے۔

مجھکو ہر چہرے میں آتاہے نظر اِک وُہ ہی
جُو نہ بھر پائے یہ بہروُپ !!!  ۔بُرا لگتا ہے۔

جال ۔ در ۔ جال قسط 5


جال ۔ در ۔ جال قسط 5

گُذشتہ سے پیوستہ

اور اسطرح میرے دُوست( سُود ۔در۔ سُود) کے اس نظام نے نہ صرف میرے والد اور اُنکے تین دُوستوں کی زندگی سے ہمیشہ کیلئے خُوشیاں چھین لیں۔ بلکہ کئی اور لوگوں کو بھی اپنے ظُلم کا نِشانہ بناڈالا۔ جنکا قصور شائد صرف اتنا تھا کہ وہ اپنی زندگی میں کُچھ آسانیاں تلاش کرنے کیلئے کوئی آسان راستہ ڈھونڈ رہے تھے ۔ جبکہ درحیقت اُن لوگوں کا بنک سے کوئی معاملہ ہی نہیں تھا۔ اور بنک کو بھی یہ بات معلوم تھی ۔اور اُنہوں نے انویسٹرز والے آئیڈئیے کی منظوری دیتے ہُوئے میرے والد اور اُنکے دوستوں کو یقین دِہانی کرائی تھی ۔کہ اگر کبھی بنک کاروائی ہُوئی بھی تُو اِن انویسٹرز کا بہرحال خیال رکھا جائے گا۔فرقان کی آواز آخری جُملے ادا کرتے ہُوئے بَھرَّا سی گئی تھی۔

لیکن فرقان اس تمام مُعاملے میں مجھے بنک سے زیادہ تُمہارے والد اور اُنکے ساتھیوں کی غلط پلاننگ نظر آرہی ہے۔ کیا ضروری ہے کہ جُو غلطی تُمہارے والد نے کی تھی۔ ہم بھی اُسی غلطی کو دُھرائیں۔۔۔؟ نعمان نے تمام گُفتگو سننے کے بعد اپنی رائے دیتے ہُوئے کہا۔

نُعمان کی بات سُن کر فرقان کا مُنہ حیرت سے کُھلا کا کُھلا رِہ گیا۔۔۔۔ اُسے ہرگز توقع نہیں تھی۔ کہ نُعمان اُسکی داستان سننے کے بعد بھی بنک لُون کی حمایت میں کُچھ کہہ سکتا ہے۔

اب مزید پڑھیئے۔

فُرقان ابھی پہلے سوال کی حِیرت سے نہیں نِکل پایا تھا ۔کہ نعمان نے دوسرا سوال داغتے ہُوئے کہا،، اور فرقان تُم نے جو ابھی مجھے اپنی زندگی کی تکلیف دَہ داستان سُنائی ہے۔ اس میں زندگی کی اُونچ نیچ کا تذکرہ تُو ضرور موجود ہے۔ لیکن مجھے اِس تمام واقعہ میں ایسی کوئی بات نظر نہیں آئی کہ جِسے زمانے سے چھپایا جائے اور جِسے یاد کرنے سے شرمندگی کا احساس ہو۔

نُعمان تُم نے وہ مِثال تُو ضرور سُنی ہُوگی کہ،، عقلمند کے لئے اِشارہ کافی،، بس میں بھی یہی سُوچ کر واقعہ کی جُزئیات میں نہیں گیا تھا کہ واقعہ سُن کر تم بھی اسکے دوسرے پہلو سے خُود آگاہ ہُوجاؤ گے۔ فرقان نے اپنا گَلا کھنکارتے ہُوئے چند لمحوں کیلئے توقف کیا اسکے بعد جواب دیتے ہُوئے اپنی بات کو جاری رکھتے ہُوئے مزید کہا ۔ میرے بھائی جِس وقت ہم فیصل آباد میں مقیم تھے اور فیکٹری بنک نے ضبط کرلی تھی۔ اُس وقت قرض خُواہ جِس طرح ہمارے گھر پر جمع ہُوجایا کرتے اور ہم تمام مُحلہ میں تماشہ بن جایا کرتے تھے۔ تُم شائد اسکا تصور بھی نہیں کرسکتے۔ کئی مرتبہ ایسا بھی ہُوا کہ قرض خُواہ بِلا اِجازت گھر میں داخل ہُوجاتے ۔اور جب میری والدہ اُنکے اِس عمل پر احتجاج کرتیں۔ تب وُہ وُہ شرمناک جُملے ہم بہن بھائی سنتے کہ ہم سہم کر کبھی غُسل خانے میں تُو کبھی کچن میں چھپ جایا کرتے۔

اُن قرض خُواہوں میں سے اکثر لوگ مڈل کلاس طبقہ سے تعلق رکھنے والے تھے۔ جنکی بیچاروں کی تمام عُمر کی پُونجی داؤ پر لگی تھی۔ کسی نے وہ پیسہ اپنی بچی کی شادی کیلئے سنبھال رکھا تھا۔ تُو کوئی بڑھاپے میں حج کا خُواہشمند تھا۔ اور کسی نے شائد اپنے آخری دِن آرام سے گُزارنے کیلئے وہ رقم بچا رکھی ہُو۔ جِسے وہ زیادہ مُنافع کیلئے گَنوا چُکے تھے۔ اگرچہ ابا جان نے وہ رقم کِسی بُرے اِرادے کے پیش نظر حاصِل نہیں کی۔ اور نہ ہی اُنکا کوئی ایسا اِرادہ تھا۔ کہ وہ رقم اَدا نہیں کرنا چاہتے ہُوں۔ لیکن حالات اور واقعات ایسے ہُوچُکے تھے۔ کہ بظاہر کوئی ایسا راستہ بھی نظر نہیں آرھا تھا۔ جسکے سبب جلد رقم لُوٹائی جاسکے۔ فقط ایک اُمید تھی کہ بنک منیجر نے اُمید دِلائی تھی کہ اُسکی نظر میں ایک پارٹی ہے۔ جو شائد بنک کی تمام رقم کے عوض فیکٹری خریدلے۔ لیکن یہ بات بھی مفروضے پر قائم تھی ۔ اور اسکے لئے وقت بھی چاہیئے تھا۔ جبکہ وہ لوگ جنکی رقم لگی تھی ۔ اُنہیں لگتا تھا کہ شائد اباجان اور اُنکے دوستوں نے رقم خُوردبرد کردِی ہے۔ ابا جان اُن لوگوں سے بے حد ہمدردی رکھتے تھے۔ اِس لئے اُنکی کِسی بات کا بُرا بھی نہیں مناتے تھے۔وہ کہتے تھے کہ اِن بیچاروں کا کوئی قصور نہیں ہے بلکہ یہ سب تُو ہمارے مُحسن ہیں۔ جنہوں نے بُرے وقت میں ہمارا ساتھ دِیا ہے۔ اور ابا جان شائد کبھی بھی فیصل آباد سے ہجرت نہ کرتے اگر وہ واقعہ پیش نہ آجاتا۔ اتنا کہنے کے بعد فرقان خاموش ہُوکر اپنی پیشانی سے پسینہ پُونچھنےلگا۔

ایسا کونسا واقعہ پیش آگیا تھا فرقان جِس نے تُمہارے ابا جان کی سُوچ کو یکسر بدل کر رکھ دِیا تھا ۔ نعمان نے بے چینی سے پہلو بدلتے ہُوئے وال کلاک پر نظر ڈالی جو رات کے بیت جانے کی طرف اِشارہ کررہی تھی۔

یہ واقعہ ہمارے ہجرت کرنے سے آٹھ دَس روز قبل کا تھا۔ جب ایک شخص اپنے کِسی رشتہ دار کو اُس دِن ہمارے گھر لے آیا تھا۔ وہ شخص دندناتا ہَوا ہمارے گھر میں داخِل ہُوگیا تھا۔ اُس وقت اَمَّاں رات کے لئے کچن میں کھانا تیار کررہی تھیں ۔ جبکہ اباجان مُصَّلے پر نوافل ادا کررہے تھے۔ جبتک ابا جان نے سلام نہیں پھیرا وہ اَماں سے بدتمیزی کرتا رہا۔ اور جونہی ابا جان سلام پھیر کر کھڑے ہُوئے اُس شخص نے ابا جان کا گریبان پکڑ کر اباجان کو دھمکیاں دیتے ہُوئے بتایا کہ وہ منشیات کا دھندہ چلاتا ہے۔ اور پُولیس بھی اُسکے نام سے خُوف کھاتی ہے ۔ وغیرہ۔ وغیرہ۔ اُس وقت ہم دونوں بہن بھائی صحن میں بیٹھے اپنے اسکول کا ہُوم ورک نمٹانے میں مصروف تھے۔ لیکن جب سے وہ شخص گھر میں داخل ہُوا تھا۔ ہم دہشت کے عالم میں اِس تمام معاملے کو دیکھتے ہُوئے جلد از جلد اُس شخص کے چلے جانے کی دِل ہی دِل میں دُعا مانگ رہے تھے۔

ایک تُو اُس شخص کا چہرہ ہی کافی ڈراؤنا تھا ۔اوپر سے اُسکی آواز بھی ایسی تھی جیسے گویا وہ بات نہ کررہا ہُو بلکہ مست ہاتھی کی طرح چنگھاڑ رَہا ہُو۔ آخر میں جب وہ تمام دھمکیاں دے چُکا تب اُس نے ابا جان کا گریبان چھوڑتے ہُوئے ہماری جانب دیکھ کر اباجان سے آخری جُملہ کہا،، دیکھو سات دِن کے اندر اندر رقم کا انتظام کرلینا۔ ورنہ۔۔۔۔۔۔۔۔ اتنا کہنے کے بعد اُس نے ایک مرتبہ پھر ہم دونوں کی جانب معنی خیز نظروں سے دیکھا اور واپس لُوٹ گیا۔ہم دونوں بہن بھائی خُوف کے عالم میں اباجان سے لپٹ گئے اَمَّاں بھی اُس دِن بے حد خُوفزدہ ہُوگئیں تھی۔ ابا جان ہم سب کو دِلاسہ دے رہے تھے مگر آج اُنکی ڈھارس میں کھوکھلا پن صاف عیاں تھا۔ مُحلہ والوں کیلئے یہ روزانہ کا تماشہ تھا اسلئے اُس دِن بھی کِسی نے آکر معاملے کی چھان بین نہیں کی۔

اِس واقعہ کے آٹھویں دِن ایک عجیب واقعہ پیش آگیا۔ عموماً ہم دونوں بہن بھائی اسکول سے دوبجے تک گھر پُہنچ جایا کرتے تھے لیکن اُس دِن ڈھائی بج گئے اور میری بہن اسکول سے گھر نہیں آئی اَماں کا تشویش سے بُرا حال تھا۔ اور اباجان بار بار اماں کو دِلاسہ دے رہے تھے۔ کہ ابھی آجائے گی لیکن جُوں جُوں وقت گُزرتا جارہا تھا ابا کی پیشانی پر بھی تفکرات کے سائے دراز ہُونے لگے تھے۔ بلآخر پونے تین بجے ابا جان اسکول جا پُہنچے وہاں صفائی کرنے والے نے بتایا کہ اسکول میں کوئی موجود نہیں ہے تمام بچیاں پونے دو بجے ہی اسکول سے جاچُکی ہیں۔

میری بِہن کی ایک ٹیچر کا گھر اسکول سے نزدیک ہی واقع تھا۔ اباجان نے اُنکے گھر کا دروازہ جا کھٹکایا۔ وہاں جاکر معلوم ہُوا کہ میری بہن اسکول سے چُھٹی کے وقت سب بچیوں کیساتھ ہی روانہ ہُوئی ہے۔ اباجان کو کُچھ ڈھارس ہُوئی لیکن جب گھر آئے تو معلوم ہُوا کہ وہ ابھی تک گھر نہیں پُہنچی ہے۔ پھر کیا تھا ہم نے اُسکی سبھی سہیلیوں ،ہسپتال اور تھانے میں بھی معلومات کر ڈالی لیکن وہ نہیں مِلی۔ یہاں تک کہ سورج ڈوب گیا اَمّاں نے رُو رُو کر اپنی آنکھیں سُجَّالیں۔ پھرا مَّاں کو نجانے کسطرح اُس بدمعاش کا خیال آگیا وہ چِلَّا چِلَّا کر اُس بدمعاش کو کوسنے لگیں۔ اُنکا خیال تھا کہ ہُو۔نہ۔ ہُو۔ یہ اُسی بدمعاش کی کارستانی ہے۔ جبکہ اباجان کا خیال تھا کہ وہ صرف بھڑک لگانے والا شیر تھا۔ لیکن اَمَّاں کے بار بار اِصرار پر بِلآخر ابا تھانے جانے کیلئے اُٹھ کھڑے ہُوئے۔ ابا جان کے جاتے ہی اَمَّاں وظائف کی کتاب سے نجانے کون کُون سی دُعائیں پڑھنے میں مشغول ہُوگئیں تھیں۔

ابھی اباجان کو گھر سے گئے دَس منٹ کا بھی عرصہ نہ گُزرا ہُوگا ۔کہ دروازے پر پڑنے والی زور دار دستک پر امَّاں نے جب دروازہ کھولا تو میری بہن اباجان کے ساتھ دروازے پر موجود تھی ۔اماں نے آگے بڑھ کر میری بہن کو گلے لگالیا ۔ اور وہیں رُوتے ہُوئے اُسکا احوال معلوم کرنے لگیں اباجان کِسی طرح دونوں کو اندر لے آئے۔

کُچھ دیر بعد میں میری بہن کے حواس بحال ہُوئے تُو اُس نے بتایا کہ اسکول سے واپس آتے ہُوئے اُسی بدمعاش نے میری بہن کو ایک سنسان جگہ پر اغوا کرنے کی کوشش کی تھی۔ اسکے ساتھ اُسکا ایک ساتھی اور بھی تھا۔ جو گاڑی کی ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھا تھا۔ جبکہ وہ بدمعاش اُسے گھسیٹ کر گاڑی میں ڈالنا چاہتا تھا۔ کِسی طرح میری بِہن نے اُسکی کلائی اپنے دانتوں سے کاٹ ڈالی۔ درد کی شِدت سے جُونہی اُس بدمعاش نے میری بہن کو چند لمحوں کیلئے گالیاں بکتے ہُوئے چُھوڑا۔ میری بِہن اس موقع کا فائدہ اُتھاتے ہُوئے وہاں سے فرار ہُوگئی اور راستہ میں ایک ادھوری نو تعمیر عمارت میں چھپ گئی۔ تمام دِن اُس بدمعاش کے خُوف سے اُس بلڈنگ سے نہیں نِکلی اور جیسے ہی سورج ڈوبا وُہ اندھیرے کا فائدہ اُٹھا کر وہاں سے نِکل آئی۔ میری بِہن کا خُوف سے بُرا حال تھا۔ وہ جِسے کہ ایک دن بھی اسکول سے چُھٹی گَوارا نہیں تھی ہذیانی کیفیت میں بار بار چِلَّا کر کہہ رہی تھی کہ اب وہ کبھی اسکول نہیں جائےگی۔ بس اُسی رات ابا نے اپنے دوستوں کو تمام حالات بتا کر اجازت حاصل کی۔ قرض خُواہوں سے شفقت کی تاکید کی۔ اور ہم ہجرت کرکے سندھ چلے آئے۔

یہ تھے میرے بھائی وہ مختصر حالات جنہیں آج بھی جب میں غلطی سے بھی یاد کرلیتا ہُوں تُو میرے رونگھٹے کھڑے ہُوجاتے ہیں ۔ اسلئے مجھے اپنے ماضی کو کُریدے جانے سے ڈرلگا کرتا تھا۔ کیونکہ اِن واقعات کے یاد آجانے سے مجھ پر عجیب سی وحشت سوار ہُوجایا کرتی تھی۔ اور تُمہارے پہلے سوال کا جواب دینے سے قبل میں بھی تُم سے صِرف ایک سوال کرنا چاہتا ہُوں۔۔۔۔ اور وہ یہ کہ،، کیا اگر تُمہارا ملازم اگر تُم سے کسی معاملے میں ضد باندھ لے، تُمہارے احکامات کو ماننے سے صاف انکار کردے اور تُمہاری دُشمنی پر اُتر آئے۔ تب کیا وہ تُم سے تُمہاری ہی فیکٹری میں جیت پائے گا اور کیا تُم اسے ملازمت پر قائم رکھنا چاہو گے۔۔۔۔؟ فرقان اتنا کہہ کر نعمان کی جانب غور سے دیکھنے لگا۔

یہ کیا بات ہُوئی فرقان کہ تُم نے میرے سوال پر ہی ایک سوال قائم کردِیا۔ لیکن میرا جواب تُم خُود بھی جانتے ہُو کہ میں ایسے انسان کو اپنی مُلازمت میں ایک گھنٹہ تُو کُجا ایک لمحے کیلئے بھی برداشت نہیں کرونگا چاہے مجھے اسکے لئے دُنیا بھر کی فلاحی تنظیموں سے لڑنا پڑے یا مجھے عدالت میں ہی کیوں نہ جانا پڑجائے۔ لیکن میں شکست تسلیم نہیں کرونگا۔ اور نہ ہی اُس مُلازم کو چین سے رہنے دُونگا۔ جو میری ہی فیکٹری سے رزق بھی حاصِل کرے اور مجھ سے ہی دُشمنی باندھے۔ نعمان نے جوشیلے انداز میں جواب دیتے ہُوئے کہا۔

(
جاری ہے)

پلکوں سے دَرِّ یار پہ دستک دینا
اُونچی آواز ہُوئی عُمر کا سرمایہ گیا

Tuesday, 26 May 2015

عامل کامل ابو شامل (بھیمی دیوی) قسط 36




گُذشتہ سے پیوستہ۔

سات دِن بھی نہیں گُزرے ہُوں گے۔کہ،، ایکدن فرح کی امی فرح کو بتارہی تھیں۔ کہ،، آج دلشاد کی امی کسی خاص کام سے ہمارے گھر آرہی ہیں۔ البتہ اُنہوں نے یہ نہیں بتایا۔کہ،، وُہ خاص کام آخر ہے کیا؟؟؟؟ فرح  اپنی امی کو تشویش بھری نگاہوں سے دیکھتے ہُوئے استفسار کرنے لگی۔ امی آپکو کیا لگتا ہے۔؟؟؟ کہیں وُہ دِلشاد سے میرا رشتہ تو ختم کرنے کا نہیں سُوچ  رہیں؟؟؟؟ نہیں بٹیا ایسا نہیں سُوچتے!!!! حالات چاہے کتنے ہی انسان کے خلاف ہُوجائیں ۔ لیکن اِنسان کو ہمیشہ خیر کی ہی طلب کرنی چاہیئے ۔ اُور ہمیشہ اچھا اُور مثبت پہلو ہی تلاش کرنا چاہیئے۔ فرح کی امی نے فرح کو دِلاسہ دیتے ہُوئے کہا۔۔۔۔۔ لیکن میں فرح کی سُوچ سے سُو فی صد متفق تھا۔ اُور میرے دِل میں خُوشی کے لڈو بلکہ شہنائیاں بھی گونجنے لگی تھیں۔۔۔ شام کو دِلشاد کی والدہ گھر میں داخل ہُوئیں۔ تو اُنکے ساتھ ایک جُوگی نما شخص بھی برآمد ہُوا۔۔۔ اُور یہ جُوگی نما شخص کوئی اُور نہیں بلکہ گھنشام داس تھا۔ جو بعد میں  تمہارے ہاتھوں جہنم رسید ہُوا تھا۔۔۔۔۔گھنشام داس کا تذکرہ سُن کر کامل علی کے بدن میں سرسری دوڑ گئی۔

اَب مزید پڑھیئے۔

گھنشام داس سے یہ میری پہلی مُلاقات تھی۔ اسلئے میں نے اُس جُوگی کو بھی  ڈھونگی قاری کی طرح اہمیت نہیں دِی۔ لیکن جسطرح اِس جوگی نے میرے وجود پر مستقل اپنی نظریں گاڑی ہُوئی تھیں۔ اُس سے صاف پتہ چل رہا تھا۔کہ،، جوگی گھنشام ناصرف میری موجودگی سے باخبر ہے۔بلکہ  یہاں پر موجود لوگوں میں وُہ واحد شخص ہے۔ جو مجھے دیکھ بھی رہا ہے۔۔ میں نے جواب میں اُسے دیکھ کر  گھورنا شروع کردیا۔ اُس کے چہرے پر مکارانہ مسکراہٹ در آئی تھی۔ میں بے فکری سے فرح کے بیڈ پر بیٹھا  اُس جوگی کی کسی حرکت کا منتظر تھا۔ جبکہ وُہ جوگی مسلسل زیر لب کوئی جاپ کررہا تھا۔  اچانک میرے کانوں میں مندر کی ہزاروں گھنٹیاں بجنے لگیں۔ یہ شُور رفتہ رفتہ بڑھتا ہی چلا جارہا تھا۔ جب یہ شُور میری قُوتِ برداشت سے باہر ہُونے لگا ۔ تو میں نے بے ساختہ اپنی انگلیاں اپنے کانوں میں ٹھونسنے کی کوشش کی۔ لیکن شائد میری بے توجہی کی وجہ سے بُہت دیر ہُوچکی تھی۔  جُوگی کا ہیولا دھیرے دھیرے میری نگاہوں کے سامنے دھندلانے لگا تھا۔ اُور میری حالت اُس سانپ سے بالکل بھی مختلف نہیں تھی۔ جو کسی سپیرے کی بین کو دیکھ کر جھومنا شروع کردیتا ہے۔

مجھے نہیں معلوم میری مدہوشی کے بعد جوگی گھنشام داس نے فرح کی فیملی کو کیا کچھ بتایا۔ اُور وُہ میرے ساتھ کسطرح پیش آیا۔ اُور نہ ہی مجھے یہ معلوم تھا۔کہ،، میں کتنے دِن مدہوشی کے عالم میں انٹا غفیل رَہا۔ جب میں نے آنکھ کھولی تو میں نے اپنے تمام بدن کو مکڑی کے جالوں  جیسی کسی شئے میں مقید پایا۔ میں نے لاکھ کوشش کی کہ،، کسی طرح اِن جالوں سے اپنے جسم کو آزاد کروانے میں کامیاب ہُوجاوٗں۔۔۔ لیکن جسقدر میں کوشش کرتا مجھے اپنی سانس  مزید سینے  میں گھٹتی محسوس ہُوتی۔ جسکی وجہ سے جلد ہی میں میں نے خُود کو آزاد کروانے کی کوشش ترک کردی۔۔۔ میں نے  ٹیلی پیتھی کے ذریعے سے فرح کا حال جاننے کا اِرادہ کیا۔ تب مجھے معلوم ہُوا۔کہ،، میری تمام روحانی اُور ذہنی صلاحیتیں بھی  میری آزادی کی طرح صلب ہوچکی ہیں۔جوگی گھنشام داس نے نہایت مکاری سے مجھے کسی کمزور چوہے کی مانند پنجرے میں مقید کردیا تھا۔۔۔ اب مجھے صرف جوگی گھنشام داس کی آمد کا انتظار تھا۔ کہ،، وُہ آئے اُور مجھ سے میری آزادی کی  منہ مانگی قیمت وصول کرنے کے بعد مجھے پھر سے آزاد کردے۔۔۔

لیکن  وُہ انتظار کی  تکلیف دہ گھڑیاں میں کبھی نہیں بُھلا سکوں گا۔ جو مجھے گھنشام داس نے بلا جواز تحفے میں دی تھیں۔ میرا اُس سے کوئی ذاتی جھگڑا نہیں تھا۔ لیکن اُس نے پھر بھی میرے معاملے میں  اپنی حدود سے تجاوز کیا تھا۔۔۔ جبکہ مجھے اِس بات پر بھی بُہت حیرت تھی۔ کہ،، گھنشام داس نے آخر مجھے ایسی کونسی جگہ پر قید کردیا ہے۔ کہ،، جسکی اطلاع ابھی تک میرے والدین کو حاصل نہیں ہُوپائی۔ وگرنہ ایسی صورتحال ہم جنات کیلئے نئی نہیں تھی۔ اکثر ہماری قوم کے جناتوں کو انسان  اپنے مقاصد کے حصول کیلئے قید کرلیا کرتے ہیں۔ جنکی اطلاع  بابا جان کو ہُوجاتی تھی۔ اور پھر معملات طے کرلئے جاتے تھے۔ پھر میرے اغوا کی خبر ابتک کیوں میرے گھر والوں کو نہیں ہُوسکی؟؟؟ اُور اسکا ایک ہی جواب میرے دماغ میں آرہا تھا۔کہ،، جس علاقے میں مجھے گھنشام داس نے قید کیا ہے۔ وُہ علاقہ  ضرور گھنشام داس نے اپنے کسی خاص حصار میں باندھ رکھا ہے۔ ورنہ میرے بدن کی خُوشبو آسانی سے میرے گھر والوں کو میرا پتہ بتاسکتی تھی۔

میرا خیال ہے کہ تقریباً  چھ ماہ کے بعد  اچانک ایکدن گھنشام داس  مجھ سے ملنے میرے پاس آیا۔ اگرچہ اُسکا انداز بڑا ہی لاپرواہی کا تھا۔ لیکن میں صاف محسوس کرسکتا تھا۔کہ،، وہ مجھ سے اپنی پریشانی چھپانے کی کوشش کررہا ہے۔۔۔ میں نے اُس پر واضح کیا کہ،، مجھے  مزیدقید کرنے کا انجام  تمہارے لئے نہایت  خوفناک ثابت ہُوسکتا ہے۔۔۔۔ اُس نے پھیکی سی طنز بھری مسکراہٹ چہرے پر سجاتے ہُوئے جواب دیا،، اب تُم مجھے یہ مت بتانے بیٹھ جانا کہ،، تمہارے والد اپنی ریاست کے راجہ ہیں۔ جبکہ کئی ریاستوں کے راجہ تمہارے والد کے زیر نگر ہیں۔ کیونکہ یہ تمام باتیں مجھے اُس وقت بھی معلوم تھیں ۔ جب میں تمہارے غرور کو چکنا چُور کرتے ہُوئے اپنے ڈیرے تک تمہیں گھسیٹ لایا تھا۔۔۔۔۔

 جب تُم سب کچھ جانتے ہُو۔ تو آخر مجھے قید کرنے کی وجہ کیا ہے۔ جبکہ میرا تُم سے کوئی ذاتی جھگڑا بھی نہیں ہے۔۔۔؟ میں حیرت سے گھنشام داس کے چہرے کو تکتے ہُوئے استفسار کرنے لگا۔۔۔۔ میں بغیر وجہ کے کوئی کام نہیں کرتا سمجھے!!! دلشاد کی والدہ میری عقیدت مند ہے۔ اُور اُسی کی خاطر میں اتنے چھوٹے کام کیلئے رضامند ہُوا تھا۔۔۔ اب چونکہ تُمہیں کافی سزا مِل چُکی ہے۔ اِس لئے میں تمہیں چھوڑ سکتا ہُوں۔۔ لیکن اس سے پہلے تمہیں مجھ سے کچھ وعدے کرنے ہُونگے۔۔۔۔ کیسے وعدے؟؟؟ میں نے بیتابی سے گھنشام داس سے سوال کیا۔
پہلا وعدہ تو یہ کہ،، تمہیں قسم اُٹھانی ہُوگی۔کہ،، تم براہ راست کبھی میرے سامنے نہیں آوٗ گے۔ نہ ہی کبھی مجھ پر جوابی حملہ کرو گے۔ جبکہ دوسرا وعدہ یہ بھی کرنا ہُوگا۔کہ،، آجکل میں بھیمی دیوی  کو  اپنے  وَش میں کرنے کیلئے جو جاپ کررہا ہُوں۔ تو تُم مجھے بھیمی  دیوی کو پرسند  کرنے میں سہایتا کروگے۔ اگر تُم  اپنے دھرم کیمطابق شپت لیکر مجھ سے وعدہ کرو۔ تو میں بھی تمہیں آزاد کرنے کا نرنے لے سکتا ہُوں۔ گھنشام داس نے اپنی داڑھی کھجاتے ہُوئے  میری جانب دیکھا۔۔۔۔۔ میرے پاس اسکے سوائے کوئی راستہ نہیں تھا۔کہ،، میں بلاچُون چراں گھنشام داس کی دونوں شرائط مان لیتا۔ لیکن ایک بات مجھے  بہت ذیادہ کھٹک رہی تھی۔ چونکہ میں گھنشام داس کی طاقت کے مظاہرے دیکھ چکا۔ اُور مجھے یہ بھی معلوم ہُوچکا تھا۔کہ،، جوگی گھنشام داس کے سامنے میری طاقت صفر سے ذیادہ نہیں تھی پھر اُسے میری مدد کی ضرورت کیوں پیش آرہی ہے۔ اُور جو کام خُود جوگی گھنشام داس کیلئے اتنا مشکل ثابت ہُورہا ہے ۔ بھلا اُس کام میں  وُہ مجھے کیوں شامل کرنا چاہتا ہے۔؟؟؟ اُور آخر یہ بھیمی دیوی ہے کس بلا کا نام؟

اِس سے پہلے کے میں اِن سوالات کو اپنی زبان پر لاتا۔ جوگی گھنشام داس نے مجھے مخاطب کرتے ہُوئے کہا۔۔۔ میں اَوشے تمہاری شنکا  کو  دُور کیئے دیتا ہُوں۔ تم نے ابھی وچار کرتے ہُوئےاپنی قیمت شُنے (۰) لگائی ہے۔ جس سے میں بہت پربھاوت ہُوا ہُوں۔  سُنو!!!   یہ بات بالکل ست ہے کہ،،میری قوت دَس کے برابر ہے۔ ۔۔۔  پرنتو ایک بات تمہاری بُدھی میں نہیں سماسکی۔ کہ،، کیول شُنے  بے قیمت ہُوتا ہے۔ پرنتو جب  یہ کسی دوسرے ہندسے کے  ساتھ مِل جاتا ہے۔ تو نہ صرف خُود انمول ہُوجاتا ہے۔بلکہ جس سے جڑ جاتا ہے۔ اُسے بھی انمول بنادیتا ہے۔ اِس پرکار میری اِچھا ہے کہ،، تُم مجھ سے مِل جاوٗ ۔ تاکہ میری  سیما  ۱۰ سے بڑھ کر ۱۰۰ پریشت ہُوجائے۔ اُور ہاں میں تمہیں بھیمی دیوی کے بارے میں کیول اتنا بتا سکتا ہُوں۔کہ،، وُہ  ہزاروں ورشُوں سے شکتی کی اَمر دیوی ہے۔ اُور جو بھی  منش اُس دیوی کو پرسند کرنے میں سپھل ہُوجاتا ہے۔ وُہ دیوی اُس منش کیساتھ ایک رات ضرور گُزارتی ہے۔ جسکے بعد وُہ منش بھی ہمیشہ ہمیشہ کیلئے اَمر ہُوجاتا ہے۔

دل کی بات۔
مجھے معلوم ہے کہ،، میرے بلاگ پر میری تحریریں پڑھنے کیلئے بُہت سے صاحب علم دوست بھی تشریف لاتے ہیں اُور میری تحریروں کو پسندیدگی کی نگاہ سے بھی دیکھتے ہیں۔۔۔ لیکن وُہ اتنی خاموش سے  بِلا تبصرہ ،،واپس لُوٹ جاتے ہیں۔ جیسے باد نسیم کے جھونکے بنا کچھ کہے جسم کو چُھو جاتے ہیں۔۔۔ میں اُنکی خدمت میں صرف اتنا عرض کرنا چاہتا ہُوں۔کہ،، میں تمام نامساعد حالات کے باوجود لکھنے کی ذمہ داری کسی نہ کسی حد تک پُوری کرنے کی کوشش کررہا ہُوں۔۔۔۔ لیکن آپکی خاموشی۔۔۔۔ بے اعتنائی، بے توجہی ،۔یا ۔بے حِسی،، کے زمرے میں تو شُمار نہیں ہُوتی۔۔۔ اس سوال کا بہترین  جواب، صرف آپکا دِل ہی دے سکتا ہے۔۔۔۔
آپ سب کی دُعاوں کا طلبگار
عشرت اقبال وارثی۔

(جاری ہے)


اُسکا کہنا ہے۔ کِسی اُور کو دیکھوں نہ کبھی
کیوں کہ اُسکو یہ میرا رُوپ بُرا لگتا ہے۔

مجھکو ہر چہرے میں آتاہے نظر اِک وُہ ہی
جُو نہ بھر پائے یہ بہروُپ !!!  ۔بُرا لگتا ہے۔

جال در جال - قسط 4



جال در جال - قسط 4


گُذشتہ سے پیوستہ

دُعا سے فارغ ہُوکر فرقان نے حَسّان صاحب کے ہاتھوں کو بُوسہ دیتے ہُوئے اجازت طلب کی اور پھر اپنی گاڑی میں سوار ہُوکر گھر کی جانب چل دِیا گھر کے مین گیٹ پر پُہنچ کر فرقان نے جونہی کار کا ہارن بجایا۔ چند ہی لمحوں میں چُوکیدار نے مین گیٹ کھول دِیا۔ مگر جیسے ہی فرقان کار پُورچ میں دَاخِل ہُوا تُو اُسے نعمان کی کار پہلے سے وہاں کھڑی نظر آئی۔

فرقان جونہی کار سے نِکلا تُو چُوکیدار نے اُسے اطلاع دِی کہ نُعمان صاحب پِچھلے ڈیڑھ گھنٹے سے ڈرائینگ رُوم میں بڑی بے چینی سے اُسکا انتظار کر رہے اور کافی مرتبہ آپکو کال بھی مِلا چُکے ہیں مگر آپکا فون تب سے بند مِل رہا ہے۔ تب فرقان کو یاد آیا کہ اُس نے نماز کے بعد سے اپنا موبائیل فُون ابھی تک آن نہیں کیا ہے۔

وہ ڈرائینگ رُوم کی جانب بڑھتے ہُوئے یہی سُوچ رہا تھا ۔ اللہ خیر کرے۔ کہیں وہ بالکل ہی تمام ناطے تُو ختم کرنے نہیں چلا آیا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اَب مزید پَڑھیئے۔

فُرقان نے ڈرائینگ رُوم میں نُعمان کو دِیکھا۔ جُو آنکھیں بند کئے صوفے پر نیم دَراز تھا۔ فرقان نے قریب جاکر آہستہ سے سلام کیا۔ نُعمان نے فُرقان کی آواز سنتے ہی اپنی آنکھیں کُھول دِیں ۔ اور فرقان پر نِگاہ پڑتے ہی سلام کا جواب دیتے ہُوئے مُصافحے کیلئے اُٹھ کھڑا ہُوا۔

فرقان نے مُسکراتے ہُوئے نُعمان کی خیریت دریافت کی۔ جِسکے جواب میں نُعمان صرف اتنا ہی کہہ پایا ،، میری خیریت کیا دریافت کرتے ہُو ۔۔۔؟ میرے بھائی کیا میرا چہرہ اور میری آنکھیں تُم سے یہ نہیں کہہ رہیں کہ میں تُم سے بُہت شرمندہ اور نہایت پَشیمان ہُوں۔ اپنی اُن باتُوں کیلئے جو میں نے نجانے کِس حال میں تُجھ سے کہہ ڈالیں۔ فرقان میرا یقین کرو۔ میرا ہرگز ایسا کوئی اِرادہ نہیں تھا کہ میں تُم کو اِیذا پُہنچاؤں ۔ میں تُم سے جُدا ہُونے کا تصور بھی نہیں کرسکتا۔ مگر نجانے اُس وقت کِس طرح میری زُبان سے وہ جُملہ نِکل گیا۔۔۔ جو کہ دَرحقیقت نہیں نِکلنا چاہیئے تھا۔۔۔ دراصل وہ کِسی اور کا اندیشہ تھا۔ وہ کِسی اور کے خیالات کی بازگشت تھی۔ جُو نجانے کِسطرح میری زُبان پر جاری ہُوگئی۔ پشیمانی و شرمندگی کا اِحساس نُعمان کے ہر ایک جُملے سے عَیاں تھا۔

بس کر میرے یار۔ مجھے معلوم تھا کہ میرا بھائیوں جیسا دُوست کوئی ایسا کام نہیں کرے گا ۔جِسکے سبب ہمارے درمیان کوئی نادیدہ فاصِلہ حائل ہُوجائے۔ فرقان نے نُعمان کو کھینچ کر اپنے سینے سے لگاتے ہُوئے کہا۔ اور ہاں۔ ایسے لوگوں سے ہمیشہ دُور ہی رِہنے میں عافیت ہے۔ جنکی باتوں سے اپنوں میں جدائی پیدا ہُوجائے۔ کیونکہ حَسَّان صاحب کہتے ہیں کہ دُنیا کے بدترین انسانوں میں سے ہے وہ اِنسان ،،جو دُوستوں اور میاں بیوی ،،میں جُدائی پیدا کرنے کی کُوشش کرتا ہے۔

چھوڑ۔نا۔ یار ۔۔ ایک تُو آجکل تُم ہر ایک بات میں اُس پروفیسر کو ضرور گھسیٹ کر لے آتے ہُو۔۔۔ کیا ہم اُس پَروفیسرکے ذکر کے بغیر اپنی گُفتگو مکمل نہیں کرسکتے۔۔۔! یہ جُملہ اگرچہ نعمان نے ہنسی میں اُڑاتے ہُوئے کہا تھا۔ لیکن فرقان نے لہجے میں چھپے نُعمان کے طنز کو بخوبی مِحسوس کرلیا تھا۔نُعمان چند لمحوں کیلئے خاموش ہُو کر سگریٹ سُلگانے لگا ۔ جبکہ فُرقان خاموشی سے سُوچنے لگا کہ کیوں بھلا نُعمان ۔۔حَسَّان صاحب کے ذکر سے اسقدر چڑنے لگاہے۔۔۔؟

حالانکہ یہ حَسَّان صاحب ہی تھے کہ جِنہوں نے فرقان کو تیرگی کے بحرِ بیکراں سے روشنیوں کی جانب کھینچ لیا تھا ۔ وہ نہ صرف شریعت کے پابند تھے بلکہ اُنکی زندگی کا مِحور ہی اتباعِ سُنت تھا۔وہ ہر ایک کام میں رضائے حق کے مُتلاشی تھے۔اُنکا کوئی عَمل مُحبت رسول ﷺ سے مستشنیٰ نہیں تھا۔ وہ تُو اُس مینار کی مانند تھے ۔ جُو تاریک اور سنسان راہوُں پر رنگ و نُور پھیلا کر ماحُول پر طاری وحشت کو ختم کرنے کی سعی میں مصروفِ با عمل رِہتا ہے ۔ وہ تُو اُمید ِ سحر ہیں۔ وہ تُو سراپا مُحبت ہیں۔ اور مُحبت اور علم لازِم و ملزُوم ہیں۔ اِسی لئے شائد مُحبت کا دوسرا نام روشنی بھی ہے۔ اور روشنی سے نفرت صِرف وہی کرسکتا ہے جِسے اندھیرے پسند ہُوں۔ اور اندھیرا جِہل ہی کا تُو دُوسرا نام ہے۔ اور جِہل شیطان سے ہے۔ یعنی تاریکی اور جہل کو پسند کرنے والا شیطان کا ساتھی ہوا ۔۔۔۔۔! تُو کیا نعمان بھی اُس شیطانِ لعین کے سحر میں اس حد تک گرفتار ہُو چُکا ہے کہ اُسے روشنی سے نفرت ہُونے لگی ہے۔۔۔؟ 

فُرقان اپنی سُوچوں میں گُم تھا۔کہ اچانک نعمان نے فرقان کے ایک ہاتھ کو اپنے ہاتھوں میں لیتے ہُوئے کہا،، یار فرقان اگر تُم ناراض نہ ہُو تُو تُم سے ایک بات پُوچھنا چاہتا ہُوں ۔کہ آخر تُم بنک لُون کے ذکرپر اتنے جذباتی اور متشدد کیوں ہُوجاتے ہُو۔۔۔؟ 

فُرقان نے چُونک کر نُعمان کی طرف دِیکھتے ہُوئے کہا۔ضرور نُعمان ! میں تُمہیں ضرور بتاؤں بتانا چاہُوں گا ۔کہ مجھے اِس مُروجہ بنک سسٹم سے آخر اتنی نفرت کیوں ہے ۔ نُعمان میرے بھائی مجھے بنک کے قرضوں سے اُس وقت بھی نفرت تھی جب مجھے یہ بھی معلوم نہ تھا کہ اِس سسٹم اور اسکے طریقہ کار کی اللہ کریم نے واضح الفاظ میں قُرانِ مجید میں ُمُذمت بیان فرمائی ہے۔ میرے بھائی اِس سے پہلے کہ میں تُمہارے سَوال کا مزید جواب دُوں۔ میں تُم سے ایک اُور بات بھی کہنا چاہتا ہُوں۔ اور وہ بات شائد تُم بھی نہیں جانتے ۔کہ اِس بھری دُنیا میں تُم ہی میرے واحد دوست کیوں ہُو۔۔۔!تُو میرے دُوست میں تُمہیں آج بتانا چاہتا ہُوں ۔کہ تُم نے کبھی میرے ماضی کو نہیں ٹٹولا ۔اور نہ ہی کبھی تُم نے میری ذاتی زندگی میں خُود سے جھانکنے کی کوئی کوشش کی ہے۔ اُور تُمہاری یہی عادت مجھے تُمہارے قریب لانے کا باعث بنی ہے۔

نُعمان میرے بھائی تقریباً ہر انسان کی زندگی میں اُسکے ماضی کےکُچھ ایسے واقعات ضرور ہُوتے ہیں جو اُسکی رُوح پر زَخموں کے نِشانات چھوڑ دیتے ہیں۔ اور جب جب اُن واقعات کی یاد تازہ کی جاتی ہے وہ زُخم جو کہ مُندمِل ہُونے کے قریب ہُوتے ہیں پھر سے ہرے ہُوجاتے ہیں۔ ایسے ہی کُچھ تکلیف دَہ زَخموں کے نِشان میری قرطاس رُوح پر بھی ثبت ہیں ۔ جنہیں میں لاکھ بُھلانے کی کُوشش کرتا ہُوں۔ لیکن یہ زَخم ہیں کہ بھرنے کا نام ہی نہیں لیتےَ۔

میرے بھائی جِس وقت میرے والد نے میری والدہ اور ہم دُو بہن بھائیوں کیساتھ فیصل آباد سے سندھ کی طرف ہجرت کی تھی تب میں عُمر کے پندرہویں برس میں قدم رکھ رَہا تھا ۔اُور میری اکلوتی بِہن کی عُمر صرف دَس برس رہی ہُوگی۔ اور مجھے آج تک وہ دِن اچھی طرح سے یاد ہیں۔ کیونکہ اُن دِنِوں میرے والد کا بال بال قرض میں جکڑا ہُوا تھا۔ اور قرض خواہُوں کے دِن رات کے تقاضوں کے سبب ہی ہم پنجاب سے ہجرت کرنے پر مجبور ہُوئے تھے۔ اُن دِنوں کئی مہینوں تک ہمیں کبھی پیٹ بھر کر کھانا بھی نصیب نہیں ہُوپاتا تھا۔ کئی ماہ کی کوششوں کے بعد ابا جان کو ایک گارمینٹس فیکٹری میں سپروائزر کی جاب مِل سکی تھی۔ جِس سے بمشکل ہم سانسوں کا رِشتہ جِسم سے قائم رکھ پاتے ۔یا بُہت کھینچ تان کرگھر کا کرایہ ادا کرپاتے تھے۔ اسکے سِوا اور کوئی خُوشی کا موقع ہمیں نصیب نہ ہُوپاتا۔

میری تُم سے مُلاقات بھی اُنہی دِنوں میں ہُوئی تھی میں اپنے ہم عُمر بچَّوں سے گُریزاں رَہا کرتا تھا۔ لیکن تُمہاری خُوش اِخلاقی اور دوست پروری سے میں نہایت مسرور تھا۔لیکن مجھے ہمیشہ ایک دھڑکا سا لگا رہتا تھا۔ کہ تُم بھی دوسروں کی طرح کب میری زندگی کے اُن صفحات میں دلچسپی ظاہر کرتے ہُو ۔ جَن پر نِگاہ پڑتے ہی میں ہمیشہ وِحشت زدہ ہُوجاتا ہُوں۔ لیکن تُم نے کبھی میرے ماضی کو ٹٹولنے کی کوشش نہیں کی۔ یہاں تک کہ میں اُس آزار کے جنگل سے نِکل آیا۔

میرے دُوست تُم سُوچ رہے ہُونگے کہ میں تُمہارے سوال کے جواب میں یہ کونسی کہانی سُنانے بیٹھ گیا ہُوں۔ لیکن درحقیت اِس تمہید کے بغیر شائد تُم میری تکلیف کو سمجھ ہی نا پاتے اسلئے میں نے تُمہیں اپنی سابقہ زندگی کا ایک ورق پڑھ کر سُناناضروری سمجھا۔

نہیں فرقان ایسی کوئی بات نہیں میں دِلچسپی سے تُمہاری تمام باتیں سُن رہا ہُوں۔ اور میں جاننا چاہتا کہ وہ کونسی دلیل ہے جو تُمہیں زندگی میں آگے بڑھنے سے رُوک رہی ہے۔ نُعمان نے سگریٹ کا دُھواں فِضا میں بکھیرتے ہُوئے کہا۔

میرے خیال میں جِسے تُم زندگی میں آگے بڑھنا سمجھتے ہُو ۔ وہی بات میرے نزدیک پستی اور تنزلی کا باعث ہے ۔اور میری مُکمل گُفتگو سُننے کے بعد انشاءَاللہ تُم بھی میری بات سے متفق ہُوجاؤ گے فرقان نے دُوبارہ گُفتگوکے سلسلے کو آگے بڑھاتے ہُوئے کہا۔

ہاں تُو میں تُمہیں بتا رہا تھا کہ کس کسمپرسی کی زندگی ہم پنجاب سے ہجرت کرنے کے بعد سندھ میں گُزار رہے تھے۔لیکن میرے دُوست ہمارے ہمیشہ سے ایسے حالات نہیں تھے ۔ اَمَّاں بتاتی تھیں کہ جس وقت میری عُمر پانچ یا چھ سال کی تھی۔ اُس وقت میرے والد صاحب کا شُمار پنجاب کے بڑے زمینداروں میں ہُوتا تھا۔ جھنگ کے نزدیک ہماری ایک سو ایکڑ سے زائد زمینیں تھی۔ گھر میں نوکر چاکروں کی اِک فوج ہماری خِدمت کیلئے ہمیشہ ہمہ تن گُوش رَہا کرتی تھی۔ لیکن میرے والد صاحب کو زمینداری پسند نہیں تھی۔ کیونکہ اِسمیں اکثر جھگڑے فساد کا احتمال رہتا تھا۔ ایک ایسے ہی جھگڑے میں میرے والد کے دُو سگے بھائی کام آچُکے تھے۔ اَمَّاں کو بھی ہمیشہ دھڑکا لگا رہتا تھا۔ پھر میرے ایک چچا نے اپنے دُو بھائیوں کا بدلہ لینے کیلئے دُشمنوں کے تین سگے بھائیوں کو سرعام رُوڈ پر گُولیاں مار کر ہلاک کرڈالا۔

جسکے بعد برادری میں فیصلہ ہُوا کہ ہمیں اپنی کُچھ زمین مقتولین کے ورثا کو دینی ہُونگی۔ حالانکہ جب اُنہوں نے میرے دُو چچا قتل کئے تھے تب برادری نے ہمیں کوئی تاوان نہیں دِلوایا تھا۔ اور اِس فیصلے کی شائد ایک وجہ یہ بھی تھی کہ مقتولین بہرحال ہمارے خاندان والوں سے زیادہ طاقتور تھے۔ پھر نجانے کیا ہُوا کہ ایکدن میرے آخری چچا کا انتقال ایک رُوڈ ایکسیڈنٹ میں ہُوگیا۔ کہنے والے کہتے تھے کہ وہ ایکسیڈنٹ کوئی اتفاقی حادثہ نہیں تھا۔ بلکہ میرے چچا کو نِشانہ بنا کر ٹرک سے کُچل کر بڑی بیدردی سےقتل کیاگیا تھا۔ اِس واقعہ کے بعد میرے والد کی رہی سہی ہمت بھی ٹوٹ گئی اور میرے ابا جھنگ کا علاقہ چُھوڑ کر فیصل آباد چلے آئے۔

فیصل آباد میں شفٹ ہونے کے بعد ابا نے تمام زمینیں اُونے پُونے داموں میں فروخت کرڈالیں۔ اور زمینوں سے حاصِل ہُونے والی تمام رقم سے اپنے تین دوستوں کی شراکت سے ایک کپڑے کی مِل لگا ڈالی ۔ابتدائی دُو سال تُو بخیر و عافیت گُزر گئے لیکن تیسرے سال اُس فیکٹری میں آتشزدگی کے ایک واقعہ نے ہم سب کو دِہلا کر رکھ دِیا۔ فیکٹری کا انشورنس نہ ہُونے کی وجہ سے تمام خسارہ چاروں پارٹنرز کے حصے میں آیا۔ اور فیکٹری شدید مشکلات کا شِکار ہُوگئی۔ یہانتک کہ فیکٹری کو چلانے کیلئے جو خام مال درکار تھا اُسکی خریداری کے لئے بھی سرمایہ نہ بچا۔ دھیرے دھیرے فیکٹری مقروض ہُوتی چلی گئی۔

فیکٹری چلانے کیلئے بنک سے قرض حاصل کیا گیا ۔ تاکہ فیکٹری کو چلایا جاسکے۔لیکن بقول کِسے،، مرض بڑھتا گیا جُوں جُوں دوا کی ،، کے مِصداق قرض بڑھتا ہی چلا جارہا تھا ۔ خسارے کو پُورا کرنے کیلئے چاروں دوستوں نے مزید رقم فیکٹری میں شامل کرنے کا پروگرام بنایا جسکی وجہ سے میرے والد اور اُنکے ایک دوست نے اپنا مکان تک بیچ ڈالا جبکہ دُو دُوستوں نے اتنی ہی رقم دوسرے ذرائع سے کاروبار میں شامل کردی ۔لیکن کوئی فائدہ حاصل نہ ہُوسکا صرف چار برس میں بنک کا قرض دُو گُنا ہُوگیا۔ جُو کہ فیکٹری کی کُل مالیت سے بھی زائد تھا ۔جِسکو ادا کرنے کی کوئی سبیل بھی اب نظر نہیں آرہی تھی۔جبکہ بنک کا تقاضہ رُوز بروز بڑھتا ہی چلا جارہا تھا۔

تبھی والد صاحب اور اُنکے دوستوں نے مشورہ کیا کہ کیوں نہ پرایئویٹ سیکٹر سے قرض حاصِل کیا جائے لہذا کئی لوگوں کو بطور انویسٹر فیکٹری میں پارٹنر شپ دی گئی ۔لیکن یہ سرمایہ بھی فیکٹری کی ساکھ کو نہیں بچا پایا ۔اور بِلاآخر بنک اکاونٹ میں موجود تمام سرمائے کو اچانک ایکدِن بنک نے سُود کی مَد میں جمع کرلیا۔ اور بنک نے عدالت سے فیکٹری کی قُرقی کے احکامات بھی حاصِل کرلئے ۔ اس تمام معاملے کی بھنک جب انویسٹرز تک پُہنچی تُو اُنہوں نے میرے والد سمیت چاروں دوستوں کا جینا دُوبھر کردِیا۔ اُنہی لُوگوں میں ایک شخص نے اپنی زندگی کی تمام پُونجی بطور انویسٹر اس فیکٹری میں سہانے مستقبل کی خاطر لگائی تھی۔ جب اُسے فیکٹری کی قُرقی سے متعلق خبر مِلی تو اُسے ہارٹ اٹیک نے آلیا ۔جس کے بعد وہ جانبر نہ ہُوسکا۔

اور اسطرح میرے دُوست( سُود ۔در۔ سُود) کے اس نظام نے نہ صرف میرے والد اور اُنکے تین دُوستوں کی زندگی سے ہمیشہ کیلئے خُوشیاں چھین لیں۔ بلہن کئی اور لوگوں کو بھی اپنے ظُلم کا نِشانہ بناڈالا۔ جنکا قصور شائد صرف اتنا تھا کہ وہ اپنی زندگی میں کُچھ آسانیاں تلاش کرنے کیلئے کوئی آسان راستہ ڈھونڈ رہے تھے ۔ جبکہ درحیقت اُن لوگوں کا بنک سے کوئی معاملہ ہی نہیں تھا۔ اور بنک کو بھی یہ بات معلوم تھی ۔اور اُنہوں نے انویسٹرز والے آئڈئیے کی منظوری دیتے ہُوئے میرے والد اور اُنکے دوستوں کو یقین دِہانی کرائی تھی ۔کہ اگر کبھی بنک کاروائی ہُوئی بھی تُو اِن انویسٹرز کا بہرحال خیال رکھا جائے گا۔فرقان کی آواز آخری جُملے ادا کرتے ہُوئے بَھرَّا سی گئی تھی۔

لیکن فرقان اس تمام مُعاملے میں مجھے بنک سے زیادہ تُمہارے والد اور اُنکے ساتھیوں کی غلط پلاننگ نظر آرہی ہے۔ کیا ضروری ہے کہ جُو غلطی تُمہارے والد نے کی تھی۔ ہم بھی اُسی غلطی کو دُھرائیں۔۔۔؟ نعمان نے تمام گُفتگو سننے کے بعد اپنی رائے دیتے ہُوئے کہا۔

نُعمان کی بات سُن کر فرقان کا مُنہ حیرت سے کُھلا کا کُھلا رِہ گیا۔۔۔۔ اُسے ہرگز توقع نہیں تھی۔ کہ نُعمان اُسکی داستان سننے کے بعد بھی بنک لُون کی حمایت میں کُچھ کہہ سکتا ہے۔

(
جاری ہے)

Monday, 25 May 2015

عامل کامل ابو شامل (جوگی گھنشام داس) قسط ۳۵



گُذشتہ سے پیوستہ۔

جب تمام میڈیکل رپورٹس سے  بھی بیماری کی تشخیص ممکن نہ ہُوسکی۔ تو عزیز رشتہ داروں  کو حسب سابق یہ  تمام معاملہ سفلی ،، جادو کا شاخسانہ دکھائی دینے لگا۔۔۔ فرح کی والدہ بھی  اِس رائے سے متفق تھیں۔ لہذا شام کو  فرح کے والدعلاقے کی مسجد کے قاری صاحب کو پکڑ لائے۔ اِن کے متعلق علاقے میں مشہور تھا۔کہ،، جنات اِنکا نام سُن کر تھرتھرانے لگتے ہیں۔ اُور جادو کی کاٹ کے تو وُہ ایسے ماہر ہیں ۔کہ،، جادو کرنے والوں پر جادو  اسطرح پلٹاتے ہیں۔کہ،، وُہ آئندہ جادو کرنے کے قابل ہی نہیں رہتے۔۔۔ جب قاری صاحب کمرے میں داخل ہُوئے تو اپنی طوطے جیسی ناک کمرے میں یُوں  بُلند کرنے لگے۔ جیسے جادو ، یا جنات کی بُو کا سراغ لگارہے ہُوں۔۔۔۔ سچی بات یہ ہے کہ جب میں نے کسی عامل کی آمد کا تذکرہ سُنا تھا۔ تو کچھ نہ کچھ تشویش  بہرحال مجھے بھی لاحق ہُوئی تھی۔۔۔۔ لیکن جونہی میں نے قاری عبدالمنان کو دیکھا تو میری ہنسی نکل گئی۔۔۔ وُہ ایک بے پیرا عامل تھا۔ جو سرے سے تکوینی معملات سے بے خبر تھا۔ اُور اپنی ذات  کی خُودی میں ایسا گُم تھا۔ کہ،، عملیات کی دنیا میں آنے سے قبل یہ جان ہی نہیں پایا کہ،، عملیات میں تاثیر اُنکے ہوتی ہے۔ جن پر کسی کامل اللہ والے کی نظر ہُو۔ وگرنہ ساری ریاضت لپیٹ کر بلعم بن باعورا کی طرح مُنہ پر مار دی جاتی ہے۔  قاری عبدالمنان  کو دیکھ کر میرے اندر کا شرارتی بچہ انگڑائی لیکر جاگ رہا تھا۔ میری حالت بھی بالکل اُس بچے کی مانند تھی۔۔۔۔ جوکسی دوسرے بچے  کے کھلونے کو دیکھ کر مسلنے اُور توڑنے کے پلان بنانے لگتا ہے۔

اب مزید پڑھیئے۔

تھوڑی دیر  تک قاری عبدالمنان کمرے  میں  ایسے مٹر گشت کرتا رہا  جیسے کسی غیر مرئی مخلوق کی موجودگی کو محسوس کررہا ہُو۔ اگلے مرحلے میں اُس نے فرح کے بیڈ کے سامنے کرسی  پڑی کرسی پر براجمان ہُو کر زیر لب  بدبدانا شروع کردیا۔ وُہ مسلسل آنکھیں بند ایسے جھوم رہا تھا۔ جیسے یہودی یروشلم میں مقدس دیوار کے سامنے لہراتے اُور بل کھاتے ہیں۔۔۔ مجھ سے اپنی ہنسی نہیں سنبھالی جارہی تھی۔ کہ اچانک قاری صاحب نے  دھماکہ دار اعلان فرمادیا۔۔۔۔ اِس بچی  کے جسم پر جنات کے ایک لوفر گروہ نے قبضہ جمالیا ہے۔ جنکی تعداد سینکڑوں میں ہے۔ سبھی کے سبھی اُوباش ہیں۔ جو اِس بچی کو باری باری  اپنی ہوس کا نشانہ بنارہے ہیں۔۔۔ لیکن یہ نہیں جانتے ۔کہ،،  یہ انجانے میں قاری عبدالمنان کے علاقے میں دراندازی کے مرتکب ہوگئے ہیں۔ اُور اب یہ  تمام کمینے اپنے انجام کو پُہنچنے والے ہیں۔۔۔۔ میری تمام ہنسی قاری کے اِس اعلان کے بعد غصے میں بدل چُکی تھی۔ وُہ اپنی ریٹنگ بڑھانے کیلئے اُول فول بک رہا تھا۔ میں چاہتا تو اُسے اِسی وقت تماشہ بناسکتا تھا۔ لیکن میں نے فیصلہ کیا۔کہ،، لوگوں کو اِسکی اصلیت بتانا ہی اسکی بہترین سَزا ہُوگی۔

وُہ عامل جس وقت فرح پر جھک کر اُسے پھونکیں مار رہا تھا۔ میں نے اُسکی رانوں کے درمیان شدید قسم کی کھجلی پیدا کردی۔۔۔ جسکی وجہ سے کمرے میں ڈرامے کی  سی صورتحال پیدا ہُوگئی۔۔ کبھی وُہ  فرح کے بیڈ پر ہاتھ رکھ لیتا۔ اُور کبھی اتنی شدت سے اپنی  رانوں کو کھجانے لگتا۔ جیسے کوئی خارش زدہ انسان تنہائی میں بیباکی سے کھجا سکتا ہے۔۔۔ شرمندگی کے مارے قاری کا بُرا حال تھا۔ مگر وُہ ڈھٹائی سے تب تک فرح پر پھونکیں مارتا رہا۔ جب تک کہ اُسکی برداشت جواب نہ دے گئی۔ بلاآخر اُس نے فرار کی راہ ڈھونڈتے ہُوئے اعلان کیا۔کہ،، وُہ اپنا خاص چراغ گھر بھول آیا ہے۔ اِس لئے باقی علاج مغرب کی نماز کے بعد کرے گا۔ وُہ عامل جیسے ہی کمرے سے نکلنے لگا۔ میں نے شرارت سے اُسکی شلوار کا ایک پائینچہ تھام لیا۔ جسکے نتیجے میں قاری صاحب  دھڑام سے زمین بُوس ہُوگئے۔ قاری صاحب کی بدحواسی اُور مسلسل کھجلی کی وجہ سے تمام لوگوں کا عجیب حال تھا۔ وُہ نہ تو کھل کر ہنس سکتے تھے۔ اُور نہ ہی اُنکی بدحواسی کا سبب معلوم کرپارہے تھے۔

مغرب کے بعد جب قاری صاحب کی حالت  قدرے سنبھل گئی ۔ تو موصوف اِس مرتبہ سچ مچ ایک پیتل کا چراغ فرح کی فیملی پر دھاک جمانے کی خاطر اُٹھالائے۔۔۔ قاری صاحب نے اس مرتبہ دعویٰ کیا کہ،، جونہی چراغ میں بخورات  سُلگنے لگے گا۔۔  فرح پر قابض تمام جنات میری قید میں چلے آئیں گے۔۔۔۔ میں  قاری صاحب کے بالکل برابر میں دھونی جما کر بیٹھ گیا۔۔۔ اُور جونہی قاری صاحب نے بخورات سلگائے میں نے ایک ہی کش کی مانند اُسکا تمام دُھواں سمیٹ کر قاری صاحب کی ناک میں منتقل کردیا۔۔۔ پھر کیا تھا۔ قاری صاحب پُورے کمرے میں  بپھرے سانڈ کی مانند چھینکیں مارتے ہُوئے اُچھل کُود کرنے لگے۔۔۔ جب انکی طبیعت کچھ سنبھلنے لگی تو وُہ ایک مرتبہ پھر چراغ کے سامنے آکر بیٹھ گئے۔ البتہ بخوارت کو اُنہوں نے یہ کہہ کر بُجھادیا ۔کہ،، پنساری بھی آج کل ملاوٹ کرنے لگے ہیں۔  اِس مرتبہ جونہی قاری صاحب نے  آنکھیں مُوند کرڈھونگ جماتے ہُوئے بِدبدانا شروع کیا میں نے ایک چھپکلی قاری صاحب کے سر پر ٹپکادی۔۔۔ قاری صاحب بڑے انہماک سے عمل میں مصروف تھے۔ جبکہ چھپکلی  گھبرا کر سَرسراتے  ہُوئے ٹوپی سے پھسل کر قمیص میں داخل ہُوگئی۔

قاری صاحب نے چھپکلی کی  حرکت سے بےچین ہُوکر آنکھیں کھول دی۔ لیکن جونہی اُن کو قمیص کے اندر چھپکلی کی موجودگی کا احساس ہُوا۔ تو وُہ ایسے بدحواس ہُوئے کہ،، کمرے میں  اچھلتے کودتے ہُوئے اپنی قمیص اُتار کر صحن میں اُچھال دی۔ فرح  نےبیماری کے باوجود بھی مسکراتے ہُوئے شرم سے اپنا چہرہ دوسری جانب پھیرلیا۔۔۔۔ ۳ دن تک یہ کھیل تماشہ چلتا رہا۔ وُہ ڈھونگی عامل فرح کے علاج کیلئے جونہی کمرے میں داخل ہُوتا۔ میں اُسے ہی سب کے سامنے تماشہ بنادیتا۔ آخر تیسرے دِن فرح کے والد سمجھ گئے ۔کہ،، قاری عبدالمنان کوئی عامل نہیں بلکہ ایک ڈھونگی ہیں۔ جو خود کو نہیں سنبھال پارہے تو اِنکی بیٹی کا علاج کیا خاک کریں گے۔ اِس لئے اُنہوں نے قاری صاحب  سے معذرت کرتے ہُوئے صاف صاف کہہ دیا۔کہ،،  وُہ آئندہ آنے کی زحمت نہ کریں۔ ہماری بچی کے نصیب میں اگر یہ تکلیف لکھی ہے۔ تو اللہ کریم ہی اسمیں آسانی کا راستہ نکال دے گا۔

میں نے قاری صاحب کو اُنکے ڈھونگ اُور جھوٹے دعوے کا اچھا خاصہ مزاہ چکھادیا تھا۔ محلے والوں کو بھی فرح کے گھر میں پیش آنے والے کھیل تماشوں کی خبر ہُوچُکی تھی۔۔۔ ایک دو مرتبہ میں نے قاری صاحب کے گھر میں بھی  خُوب دہشت پھیلائی ۔تو ایکدن قاری صاحب خود چِلا چلا کر اپنے کمرے میں کہنے لگے۔ خُدا کے واسطے تُم جو کوئی بھی ہُو۔ میرے گھر والوں کا پیچھا چھوڑ دُو۔ میرے باپ کی بھی توبہ جو آئندہ کسی کو روحانی علاج کا جھانسہ دینے کی کوشش کروں۔ قاری صاحب کی واضح شکست کے اعلان کے بعد میں نے بھی  اُس بے پیرے  ڈھونگی قاری کا پیچھا چھوڑ دیا۔

 میں فرح کو مسلسل وُہ سفوف دیئے جارہا تھا۔ کیونکہ مجھے معلوم تھا۔ اِس سے سوائے بدنی کمزوری کے فرح کو کوئی نقصان نہیں ہُونا تھا۔ وُہ کافی حد تک کمزور و لاغر دکھائی دینے لگی تھی۔ اُسکا تمام حُسن   بدن سے  پت جھڑ کی مانند پانی کی طرح بہہ کر  ریت میں جذب ہُوچُکا تھا۔۔۔ پھر ایکدن میری مُراد بَر آئی ۔ کسی طرح ڈاکٹر دلشاد کی والدہ کو فرح کی بیماری کی خبر ہُوگئی ۔ اطلاع ملتے ہی وُہ دوڑی چلی آئی۔ لیکن جونہی اُس نے فرح کی حالت دیکھی۔ اُسکے چہرے کا رنگ پھک سے اُڑ گیا۔۔۔۔ فرح کی والدہ،، دلشاد کی امی کو تمام تفصیلات سے آگاہ کررہی تھیں۔ کہ،، کسطرح پہلے تمام ڈاکٹروں کے کلینک کے چکر کاٹے گئے۔ ۔۔۔ مزید استفسار پر اُنہوں نے   قاری عبدالمنان سے روحانی علاج کی رُوداد بھی  سُنا ڈالی۔۔۔۔۔ فرح کے گھر سے واپس جاتے ہُوئے دلشاد کی امی نے کہا تو کچھ بھی نہیں۔۔۔ لیکن اُن کے چہرے کو دیکھ کر  میرا اندازہ یہی تھا۔ کہ،، وُہ چند دِن میں ضرور کوئی اہم اعلان کردیں گی۔ جو سراسر میرے حق میں ہُوگا۔

سات دِن بھی نہیں گُزرے ہُوں گے۔کہ،، ایکدن فرح کی امی فرح کو بتارہی تھیں۔ کہ،، آج دلشاد کی امی کسی خاص کام سے ہمارے گھر آرہی ہیں۔ البتہ اُنہوں نے یہ نہیں بتایا۔کہ،، وُہ خاص کام آخر ہے کیا؟؟؟؟ فرح  اپنی امی کو تشویش بھری نگاہوں سے دیکھتے ہُوئے استفسار کرنے لگی۔ امی آپکو کیا لگتا ہے۔؟؟؟ کہیں وُہ دِلشاد سے میرا رشتہ تو ختم کرنے کا نہیں سُوچ  رہیں؟؟؟؟ نہیں بٹیا ایسا نہیں سُوچتے!!!! حالات چاہے کتنے ہی انسان کے خلاف ہُوجائیں ۔ لیکن اِنسان کو ہمیشہ خیر کی ہی طلب کرنی چاہیئے ۔ اُور ہمیشہ اچھا اُور مثبت پہلو ہی تلاش کرنا چاہیئے۔ فرح کی امی نے فرح کو دِلاسہ دیتے ہُوئے کہا۔۔۔۔۔ لیکن میں فرح کی سُوچ سے سُو فی صد متفق تھا۔ اُور میرے دِل میں خُوشی کے لڈو بلکہ شہنائیاں بھی گونجنے لگی تھیں۔۔۔ شام کو دِلشاد کی والدہ گھر میں داخل ہُوئیں۔ تو اُنکے ساتھ ایک جُوگی نما شخص بھی برآمد ہُوا۔۔۔ اُور یہ جُوگی نما شخص کوئی اُور نہیں بلکہ گھنشام داس تھا۔ جو بعد میں  تمہارے ہاتھوں جہنم رسید ہُوا تھا۔۔۔۔۔گھنشام داس کا تذکرہ سُن کر کامل علی کے بدن میں سرسری دوڑ گئی۔

(جاری ہے)

اُسکا کہنا ہے۔ کِسی اُور کو دیکھوں نہ کبھی
کیوں کہ اُسکو یہ میرا رُوپ بُرا لگتا ہے۔

مجھکو ہر چہرے میں آتاہے نظر اِک وُہ ہی
جُو نہ بھر پائے یہ بہروُپ !!!  ۔بُرا لگتا ہے۔

جال ۔ در۔ جال قسط ٣



جال ۔ در۔ جال قسط ٣


گُذشتہ سے پیوستہ

یار تُمہاری عقل کیا گھاس چَرنے گئی ہے۔۔۔؟ البتہ تو کوئی انویسٹر اتنی بڑی رقم ایک نئی فیکٹری میں لگائے گا ہی نہیں ۔اور اگر فرض کرلیں کوئی ایسا اِنویسٹر مِل بھی جاتا ہے تُو وہ کم از کم پچاس ساٹھ پرسنٹ منافع سے کم میں راضی نہیں ہُوگا۔ پھر ہم کیوں بیس یا پچیس پرسنٹ منافع کیلئے اِتنا جھمیلہ پالیں جب بنک خُود ہمیں تمام مطلوبہ رقم دینے کو تیار ہے۔ اور میرے خیال میں بنک کا انٹریسٹ زیادہ سے زیادہ مُنافع کا دس سے پندرہ پرسنٹ ہُوگا۔ نعمان نے غُصیلے لہجے میں جھنجلاتے ہوئے فرقان کو تُرکی بہ تُرکی جواب دِیا۔

پھر تُم اُس وقت کا انتظار کیوں نہیں کرتے جب تک کہ مطلوبہ رقم مُنافع کے ذریعہ سے ہماری دسترس میں نہیں آجاتی۔ فُرقان کے لہجے میں بھی نہ چاہتے ہُوئے تلخی کی کڑواہٹ دَر آئی تھی۔

اِسکا مطلب ہے واقعی ہمارے راستے جُدا ہُونے کا وقت بُہت نذدیک ہے۔ نجانے کسطرح یہ جُملہ نعمان کی زُبان سے بے اِختیار پِھسل گیا۔ نعمان خُود بھی اپنے اِس جُملہ پر حیران تھا۔ لیکن اب دِیر ہُوچُکی تھی تِیر میان سے نِکل چُکا تھا ۔ اور نشانہ بھی قائم کرچُکا تھا ۔لیکن یہ نِشانہ نعمان کے نا چاہتے ہُوئے بھی فرقان کا سینہ ہی تھا۔

اب مزید پڑھیئے

فرقان نے حیرت سے چند لمحے نعمان کے چہرے کو دِیکھا۔ اُسے گُمان بھی نہیں تھا کہ کبھی نعمان اِس طرح کی کوئی بات ایسے تلخ لہجے میں اُس سے کہے گا۔اور اب وہ مُنتظر تھا کہ نعمان خُود اپنے جُملے کی تشریح کردے۔ اے کاش وہ کہہ دِے کہ،، یار مُجھے مُعاف کرنا،، میں کہنا تُو کُچھ اور چاہتا تھا لیکن میری زُبان سے ،، نِکل نجانے کیا گیا۔۔ لیکن نُعمان کی زُباں سے نِکلے جُملے نے نُعمان کو اِس قابِل ہی کہاں چھوڑا تھا کہ وہ مزید کوئی اور بات کرپاتا۔

نُعمان سُوچ ہی رہا تھا کہ بِگڑی بات کو کِس طرح سنبھالے لیکن اُسُے کُچھ سمجھ ہی نہیں آرہا تھا کہ وہ ایساکُونسا عُذر پیش کرے کہ جسکی وجہ سے کمرے کے ماحول کی حِدت بھی رفع ہُوجائے۔ اور اُسکے یار کا دِل بھی اُسکی طرف سے خراب نہ ہُو۔ کرامت کے جُملوں کی بازگشت نے اُسکے ذہن کو ایسا پراگندہ کردِیا تھا کہ جِن اندیشوں سے نِکلنے کیلئے اُس نے فرقان کو بُلایا تھا۔ وہی جُملے اُسکی زُباں سے نادانستگی میں نِکل گئے تھے۔

فُرقان کو اِنتظار ِ یار میں خَاموشی کی چند گھڑیاں بھی یُوں مِحسوس ہو رہی تھیں جیسے گُویا صَدیاں بیت گئی ہُوں۔ اور نُعمان کی مُسلسل خاموشی اُسے یہ سمجھانے کیلئے کافی تھی کہ جو کُچھ نعمان نے فرقان سے کہا ہے۔ وہ کوئی حادثاتی گُفتگو نہیں تھی۔ بلکہ وہ اِس مُعاملے میں کافی غُور و فِکر کر چُکا ہے۔ اور سب کُچھ سُوچ سمجھ کر ہی اِس نتیجے پر پُہنچا ہے کہ اب ہمیں اپنے راستے جُدا کرلینے چاہئیں۔ فرقان کیلئے یہ خیال ہی بڑا رُوح فرسا تھا کہ اب وہ دونوں مزید ساتھ نہیں چل سکتے۔ اور اب فرقان میں اتنی سکت بھی باقی نہ تھی کہ مزید وہاں بیٹھ سکتا۔ اُسے لگا کہ اگر وہ چند لمحے بھی وہاں مزید بیٹھا تُو وہ رُو دِیگا۔ کیونکہ اُسے مِحسوس ہُو رہا تھا کہ اُسکے آبگینے نَم ہُوچُکے ہیں اور کِسی بھی وقت چھلک جانے کو ہیں۔ وہ خُود کو اپنی ہی فیکٹری میں لوگوں کے سامنے تماشہ نہیں بنانا چاہتا تھا۔ اسلئے خاموشی سے اُٹھا اور سِٹنگ روم سے نِکل کر اپنی گاڑی میں روانہ ہُوگیا۔ آج زِندگی میں پہلی مرتبہ ایسا ہُوا تھا کہ اُس نے فیکٹری سے نِکلتے ہُوئے گیٹ کیپر سے کوئی جُملہ بازی کی اور نہ ہی گاڑی سے باہر اپنا ہاتھ نِکالا۔

رات کو عِشاء کی نماز کے بعد وہ حسب سابق پروفیسر حسان صاحب کی مِحفل میں بیٹھا تُو اُسے بار بار نعمان کا جُملہ یاد آتا رہا۔ اُسکی بے چینی کو حسان صاحب بھی دیکھ رہے تھے۔ لِہذا جب مِحفل برخاست ہوئی تب حسان صاحب نے فرقان کے ہاتھوں کو نرمی سے اپنے ہاتھوں میں دَباتے ہُوئے سوال کیا،، فرقان میاں خیریت تُو ہے آج آپکی طبیعت کُچھ ناساز نظر آرہی ہے۔۔۔؟

تب حسان سے نہ رہا گیا اور اُسکی آنکھیں مزید نَم ہُوگئیں۔ حسان صاحب نے اُسکی حالت مُلاحِظہ کرتے ہُوئے فرقان کے کاندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے اُسے دوبارہ نِشست گاہ میں بیٹھنے کی دعوت دِی اور تمام لوگوں سے فارغ ہُوکر فرقان کے نزدیک آبیٹھے۔

تنہائی دِیکھ کر فرقان نے اپنے دِل کے تمام غُبار کا ماجرا ،، اول تا آخر،، حسان صاحب کو سُنا ڈالا۔ اور ساتھ ہی نعمان کی اپنی زندگی میں اہمیت بھی بیان کردی۔ جب فُرقان اپنی تمام کہانی سُنا چکا تب حسّان صاحب یُوں گُویا ہوئے۔ دِیکھو فرقان میاں پہلے تُو زندگی میں چند چیزوں کی اہمیت کو مجھ سے اچھی طرح سے سمجھ لُو۔ اور ساتھ ہی اُن چیزوں کی قیمت بھی ہمیشہ کیلئے اپنے ذِہن کے کِسی گُوشے میں محفوظ کرلینا۔

چند چیزیں انسان کی زندگی میں نہایت اِہم ہُوتی ہیں۔ اور اُنکی قیمت بھی انمول ہوتی ہے جِس کے پاس یہ چیزیں یا یُوں کہہ لُو کہ یہ نعمتیں ہُوں اور وہ اُنکی قدر و قیمت نہ جانے وہ دُنیا کا اِحمق ترین انسان ہُوتا ہے کیونکہ جب تک کِسی شئے کی قیمت ہی انسان کو معلوم نہ ہُو۔ وہ اُسکی اہمیت بھی کبھی نہیں جان پائے گا اور جب اہمیت اور قیمت نہیں جان پائے گا تُو قوی خدشات ہیں کہ انسان اُن نعمتوں کی قدر نہ کرنے کے باعث اُن سے کبھی بھی محروم ہُوسکتا ہے۔

دِیکھو مِثال کے طُور پر ہَرانسان کو اللہ کریم نے کَم و زیادہ وقت کی مُہلت عطا فرماکر اِس دُنیا میں بھیجا ہے۔ تاکہ وہ اپنے مقررہ وقت میں زیادہ سے زیادہ دائمی زندگی میں کامیابی حاصِل کرنے کیلئے کوشش کرے۔ لیکن تُم نے مُشاہدہ کیا ہُوگا کہ بے شُمار لُوگ ایسے بھی ہیں جُو اپنی زندگی کے قیمتی لمحات بلکہ وقت کےانمول گوُھَروں کو یونہی بے دریغ ۔ لغویات و فضولیات میں ضائع کررہے ہوتے ہیں۔ اُنکی مِثال ایسے ہی ہے جیسے کوئی اِنسان کِسی اِہم کام کیلئے اپنے گھر سے بازار کیلئے نِکلے۔ اور جب وہ بازار میں پُہنچے تب وہ اُس اہم کام کو بُھول جائے کہ جس کیلئے وہ اپنے گھر سے نِکلا تھا۔ اور تمام دِن بازار کی زینت میں گُم رہے۔ یہاں تک کہ رات کا اندھیرا دِن کی روشنی کو نِگل جائے اور بازار سِمٹ جائے۔ تب اُسے افسوس کے سِوا کُچھ ہاتھ نہیں آتا اور وہ خالی ہاتھ ہی بازار سے گھرکی جانب ناکام و نامُراد لُوٹ آتا ہے۔

بالکل اِسی طرح سے اچھا دُوست۔ نیک بیوی اور کُشادہ گھر بھی اللہ کی نعمتوں میں سے ہیں اور انکا کوئی مُتبادِل نہیں ہے۔ اور جُو اِن نعمتوں میں سے کسی نعمت کو پانے کے بعد ضائع کردے میری نِگاہ میں وہ بھی بُہت بڑابےوقوف ہے۔ حَسّان صاحب نے اپنی گُفتگو چند لمحوں کیلئے رُوک کر پانی کے چند گُھونٹ اپنے حلق سے اُتارنے کے بعد اپنی گُفتگو کو دوبارہ وہیں سے جُوڑتے ہُوئے کہا۔ دِیکھو بیٹا فرقان تُم نے جو اپنی اور نعمان کی دوستی کی رُوداد ابھی کُچھ لمحے پہلے مُجھے سُنائی تھی۔ میں نے اُس سے یہی نتیجہ اخذ کیا ہے۔ کہ فطرتاً نعمان ایک شریف النفس انسان ہے ۔ جو تُمہاری عدم موجودگی کے باوجود بھی تُمہیں تُمہارے حق سے محروم نہیں رکھتا۔ اور اپنا کام دیانت داری اور خُوش اسلوبی سے انجام دے رہا ہے۔ بس عِلم سے دُوری کے سبب وہ صحیح اور غلط میں تمیز نہیں کرپارہا۔ مجھے نہیں لگتا کہ وہ تُم سے چُھٹکارہ حاصِل کرنا چاہتا ہُوگا۔ بلکہ میرا ذاتی تجربہ اور مُشاہدہ کہتا ہے کہ ضرور تُم دونوں میں کُچھ غلط فہمی پیدا ہُوگئی ہے۔

دِیکھو بیٹا جیسا کہ میں نے پہلے بھی کہا تھا کہ اچھا دوست اللہ کی نعمت ہُوتا ہے اور اللہ کی نعمت سے مُنہ موڑنا کُفران نعمت ہُوتا ہے۔ دوست اگر ٹھوکر کھاکر غِلاظت میں جاگِرے تب اُسکی غِلاظت سے مُنہ پھیر کر نِکل جانا دانائی نہیں بلکہ کمال تُو تب ہے کہ ایسے وقت میں دوست کو سہارا دیکر گندگی سے نِکال لیا جائے چاہے اُسکے لئے چند لمحوں کیلئے غِلاظت میں اُترنا ہی کیوں نہ پڑجائے۔ اسلئے میں تُمہیں تاکید کرتا ہُوں کہ اُسے اِحسن طریقے سے سمجھانے کی کوشش جاری رکھنا۔ اُسکے ساتھ سختی کے بجائے نرمی اور حکمت سے کام لینا۔ اُسکی بے رُخی کا جواب ہرگز بے رُخی سے دینے کی غلطی نہ کرنا۔ اور ہر ممکن وہ راہ اِختیار نہ کرنا کہ جسکی وجہ سے خلش میں اضافہ ہُو اگر تُمہیں سمجھانے میں دُشواری پیش آئے تو اُسے میرے پاس لے آنا میں اُسے سمجھانے کی کوشش کرونگا۔

حضرت صاحب ! اگر وہ آپ کے پاس آنے سے اِنکار کردے اور میں بھی اُسے سمجھانے میں ناکام ہُوجاؤں تب کیا کروں۔۔۔؟ فرقان نے حسان صاحب کی جانب دیکھتے ہُوئے عرض کیا۔ وہ حَسّان صاحب کے متعلق نعمان کی کیا رائے ہے بتانے میں ہچکچا رہا تھا۔

تب بھی کوئی بات نہیں۔ کبھی ایسا بھی ہُوتا ہے کہ انسان اپنی خُواہشات کے آگے اتنا بے بس ہُوجاتا ہے کہ اپنے خالق و مالک کو بھی بھول جاتا ہے لیکن ایسا تب ہُوتا ہے جب اُسے اپنے فیصلوں اور اپنی سمجھ سے زیادہ کِسی کی بات قابلِ توجہ نہیں لگتی۔ اور یہ بھی انسان کے علم سے دوری کی وجہ سے ہی ممکن ہوتا ہے کیونکہ حقیقی عِلم عاجزی پیدا کرتا ہے ۔ اور سینے میں ایسی روشنی پیدا کردیتا ہے کہ وہاں خالق و مالک کے فضل سے کبھی اندھیروں کا گُزر ممکن نہیں ہوتا۔ اور جہالت کا مُقابلہ عِلم ہی سے ممکن ہے جہالت سے نہیں۔ اور عِلم کا کمال یہ ہے کہ علم رکھنے والا خود کو کبھی عالِم نہیں سمجھتا بلکہ طالبِ علم سمجھتا ہے ۔

اس طرح اُسکی رُوح کبھی عِلم سے سیراب نہیں ہُوتی۔اور جام تُو وہیں بھرے جاتے ہیں جہاں تشنگی کا اظہار ہُو۔عاجزی کا انداز ہُو۔ نِگاہ ہی خَم نہ ہُو بلکہ گردن بھی جذبہ ءِ اطاعت کے بُوجھ سے جُھکی جاتی ہُو۔ اور جبتک یہ کمالات مخلوق میں پیدا نہ ہُوں تو سمجھ لو۔ کہ اندھیرے پال کر کوئی روشنی نہیں پھیلا سکتا۔ اور پہلے سے بھرے جام میں اگر کوئی ڈالنا بھی چاہے تو جام چھلک جاتا ہے۔ جسطرح شیطان کے ساتھ معاملہ ہُوا کہ ۔ رَب کے عطا کئے ہُوئے عِلم کو اپنی میراث اور اپنا ذاتی کمال سمجھ بیٹھا اور اپنے اعمال و اَصنام کو جِسمِ آدم سے بِہتر اور اپنے مِحدود عِلم کو کُل سمجھتے ہُوتے حُکم خُداوندی اور اطاعت کو نہ سمجھ پایا۔ اور پھر خودی کے نشے سے ایسا سرشار ہُوا کہ اپنا وجود اُسے ،، سب سے بِہتر،، نظر آنے لگا۔ یہانتک کہ اُسکے جہل نے اُسے
بارگاہَ خُداوندی میں مردود قرار دِلوایا۔

اِس لئے میرے بچّے علم کی تشنگی کو اپنے سینے میں مزید فِزوں کرو۔ اور دانائی اور حِکمت کے موتیوں سے اپنی جھولی بھرلو۔ اور اگر پھر بھی تُم اُسے نا سمجھا پاؤ تو اُسے رضائے رَب سمجھ کر جُدا ہُوجانا کہ ہمارا کام صرف سمجھانا ہے دِلوں میں تاثیر پیدا کرنا اُسی کا خاصہ ہے جِس نے تمام عالم بنائے اور سجائے ہیں۔ مگر میری اتنی بات ضرور یاد رکھنا کہ اُسکی واپسی کیلئے کوئی ایک دروازہ ضرور کُھلا چھوڑ دینا۔ تاکہ اگر وہ کبھی نادِم ہُوکر لُوٹنا چاہے تُو واپس آجائے۔ کیونکہ واپسی کا راستہ تُو خُدا بھی کِسی پر بند نہیں کرتا۔ تُو ہم غُلاموں کو یہ کہاں زیب دیتا ہے کہ تمام راستے اور تمام دروازے، کھڑکیاں ہمیشہ کیلئے بند کرلیں۔ چُونکہ وہ ابھی نہیں جانتا کہ وہ کِس کیساتھ لڑنے جارہا ہے اسلئے وہ بے خبر ہے اِس لڑائی کے انجام سے جِسکی ابتداء وہ کرنے جارہا ہے۔ لیکن مجھے یقین ہے کہ وہ اگر چلا بھی گیا تُو ایک دِن ہار کر واپس لوٹ آئے گا۔

حَسّان صاحب نے بات ختم کرنے کے بعد گھڑی پر نِگاہ جمائی تو وال کلاک میں رات کے ساڑھے گیارہ بجنے کو تھے پروفیسر صاحب نے اِسکے بعد دُعا کیلئے ہاتھ اُٹھاتے ہُوئے فرقان کو گھرجانے کا عِندیہ دے دِیا۔

دُعا سے فارغ ہُوکر فرقان نے حَسّان صاحب کے ہاتھوں کو بُوسہ دیتے ہُوئے اجازت طلب کی اور پھر اپنی گاڑی میں سوار ہُوکر گھر کی جانب چل دِیا گھر کے گیٹ پر پُہنچ کر فرقان نے جونہی کار کا ہارن بجایا۔ چند ہی لمحوں میں چُوکیدار نے مین گیٹ کھول دِیا۔ مگر جیسے ہی فرقان کار پُورچ میں دَاخِل ہُوا تُو اُسے نعمان کی کار پہلے سے وہاں کھڑی نظر آئی۔

فرقان جونہی کار سے نِکلا تُو چُوکیدار نے اُسے اطلاع دِی کہ نُعمان صاحب پِچھلے ڈیڑھ گھنٹے سے ڈرائنگ رُوم میں بڑی بے چینی سے اُسکا انتظار کر رہے اور کافی مرتبہ آپکو کال بھی مِلا چُکے ہیں مگر آپکا فون تب سے بند مِل رہا ہے۔ تب فرقان کو یاد آیا کہ اُس نے نماز کے بعد سے اپنا موبائیل فُون ابھی تک آن نہیں کیا ہے۔

وہ ڈرائینگ رُوم کی جانب بڑھتے ہُوئے یہی سُوچ رہا تھا ۔ اللہ خیر کرے۔ کہیں وہ بالکل ہی تمام ناطے تُو ختم کرنے نہیں چلا آیا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(جاری ہے)