bing

Your SEO optimized title page contents

Pages

Hamara Tube Channel

Saturday, 30 May 2015

عامل کامل ابو شامل (سلطان تبریزی) قسط 40.akas



گُذشتہ سے پیوستہ۔

کامل جونہی گیٹ کو لاک لگا کر گاڑی میں سوار ہُونے کیلئے کار کی طرف بڑھا تو وہی بوڑھا فقیر اُسے کار سے ٹیک لگائے نظر آیا۔ کامل کو  حیرت ہُوئی کہ،، آج فقیر رُوپوش ہُونے کے بجائے ڈھٹائی سے اُسکا منتظر تھا۔ فقیر کے قریب پُہنچ کر کامل علی کو ایک جھٹکا اُور لگا۔ کہ ،، جس فقیر کو  کامل علی دُور سے ابتک ایک بُوڑھا سمجھ رَہا تھا۔ وُہ کوئی ذیادہ سے ذیادہ پچیس چھبیس برس کا نوجوان تھا۔  اُ س فقیر کےچہرے  کی جلد انتہائی چکنی تھی۔ جس پر داڑھی کا ایک بال بھی شائد نہیں اُگ پایا تھا۔ جبکہ سر پر موجود اُلجھے مٹیالے گرد آلود  بال  کسی گھونسلے کامنظر پیش کررہے تھے۔ کامل علی بیخودی میں فقیر کے اتنے قریب پُہنچ چُکا تھا۔کہ،، اُس فقیر کے  پسینے کی خوشگوار خُوشبو کو محسوس کرسکتا تھا۔  

اب مزید پڑھیئے۔
کیا خیال ہے خُدائی خدمتگار!!! یہیں بات کروگے یا گاڑی میں بیٹھ کر سفر کے درمیان گفتگو کریں؟ نوجوان درویش نے استہزائیہ انداز میں کامل کو اپنی سُرخ آنکھوں سے گھورتے ہُوئے سوال کیا۔۔۔۔ کامل علی کسی معمول کی طرح ڈرائیونگ  کرتے ہُوئے کن اَنکھیوں سے نوجوان درویش کو دیکھ رَہا تھا۔کہ،، فقیر نے گفتگو کا آغاز کرتے کامل کو مخاطب کیا۔۔۔ کب تک اُس ڈھونگی جن زادے کے اِشاروں پر ناچتے ہُوئے زندگی کے اصل مقصد سے دُور بھاگتے رہو گے۔؟؟؟۔۔۔  مجھے اپنی زندگی کو اپنے ڈھنگ سے آزاد گُزارنے کیلئے  کسی کے مشوروں کی ضرورت نہیں ہے۔ کامل نے ہمت  جُٹا کر  قدرےتلخی سےجواب دیتے ہُوئے اپنی نگاہیں شاہراہ پر مرکوز کرلیں۔۔۔ چند لمحے خاموش رہنے کے بعد کامل نے پھر درویش سے مخاطب ہوتے ہُوئے ایک سوال کرڈالا۔ آپ کیوں میرے پیچھے پڑے ہیں؟؟؟برائے مہربانی مجھے میرے حال پر چھوڑ دیں۔ کیونکہ  نہ میں آپ کو جانتا ہُوں۔ اُور نہ ہی مجھے آپکی مدد کی ضرورت ہے۔۔۔۔

اگر تمیں ہماری ضرورت نہیں ہے۔ تو ہمیں بھی تمہاری کوئی پرواہ نہیں ہے۔ اگر تمہیں گڑھے میں گرنے کا اتنا ہی شوق ہے۔ تو ہماری بلا سے بھاڑ میں جاوٗ۔ یا گھاٹی میں چھلانگ لگادو۔ ہمیں کیا فرق پڑتا ہے۔ اُور سُنو!!! بس گاڑی یہیں رُوک دُو۔ ۔۔کامل کے سوال پر درویش نے بھی دُرشت لہجہ اپناتے ہُوئے ۔بریک لگتے ہی  گاڑی کا دروازہ ایک جھٹکے سےکھولا اُور اُلٹی سمت میں  یہ کہتے ہُوئےروانہ ہُوگیا۔،، جب چاروں طرف سے خُوب پھنس جاوٗ تب مجھے یاد کرلینا،، لوگ ہمیں سلطان تبریزی ،،کے نام سے پُکارتے ہیں۔

گھر پُہنچتے  پہنچتے کامل کا موڈ کافی خراب ہوچُکا تھا۔ بنگلے کے لان میں ابوشامل اور جاناں  گفتگو کرتے ہُوئے چائے سے لطف انداوز ہُورہے تھے۔ کامل کو دیکھ کر جاناں یہ کہتے ہُوئے کچن کی جانب روانہ ہوگئی۔آپ بیٹھیں میں آپکے لئے  بھی گرماگرم چائے لاتی ہُوں ۔ جاناں کے جاتے ہی کامل، ابو شامل پر برس پڑا،، میں کئی دِن سے یہ بات محسوس کررہا ہُوں کہ،، جب مجھے تمہاری اشدضرورت ہُوتی ہے۔ تُم عین اُسی لمحے رفوچکر ہُوجاتے ہُو۔۔۔۔۔نہیں یار کامل میں تمہیں کسی مشکل میں کبھی تنہا چھوڑنے کا سُوچ بھی نہیں سکتا۔لیکن یار میری مجبوری سمجھنے کی کوشش کرو۔کہ میں،، سلطان تبریزی جیسے درویشوں کا سامنا بھی نہیں کرسکتا۔۔۔ ویسے کیا کہا سُلطان تبریزی نے تُم سے؟؟؟ ابو شامل کے لہجے سے تجسس صاف عیاں تھا۔۔۔ کہنا کیا تھا۔ بس تمہارے متعلق بکواس کررہا تھا۔ کامل نے جھنجلاتے ہُوئے جواب دیا۔۔۔۔ یار کامل علی!!! مجھے تعجب ہےکہ،، تُم جیسا بندہ بھی درویشوں کی گفتگو کو بکواس کہہ رہا ہے۔ ابو شامل سے تاسف سے ہاتھ ملتے ہُوئے کہا۔۔۔۔۔یار ابو شامل تُم بھی عجیب احمق  ہُو۔ وُہ بندہ تمہیں ڈھونگی،فراڈی، گمراہ ، اُور نجانے کیا کیا کہہ رہا تھا۔مگر تُم پھر بھی اُسکی طرفداری میں مرے جارہے ہُو۔ دوسری بات یہ ہےکہ،، اللہ والوں سے میں بھی بُہت محبت رکھتا ہُوں۔ مگر اُس شخص کو تُم اللہ والا کیسے کہہ سکتے ہُو۔جو گندے سندے بالوں کا گھونسلہ سر پر لئے گھوم رَہا ہے؟؟؟؟

یار کامل میں ایک جن زادہ ہُوں۔ اگرچہ مجھے بُہت قوت بھی حاصل ہے۔اِس کے باوجودبھی میں خُود کو سلطان تبریزی جیسے درویش کی جوتی کے برابر نہیں سمجھتا۔ کیونکہ یہی  وُہ لُوگ  ہیں جو صاحب لولاک کہلائے جانےکے قابل ہیں۔  اُور یہی وُہ لُوگ ہیں جنکے سروں پر نیابت کا تاج جگمگارہا ہے۔اِنہی لوگوں نے اپنے وجود کو عشق الہی میں جلا کر راکھ بناڈالا ہے۔اُور تمہاری یہ بات سچ ہے کہ،، ہمارا دین ہم سے صفائی کا مطالبہ کرتا ہے۔ لیکن کیا ظاہری صفائی کو ہی نصف ایمان کا تمغہ مِلا ہے۔ چاہے باطن آلودگیوں اُور غلاظت سے لتھڑا رہے؟؟؟؟۔۔۔ ویسے میں نے ایک دِن میاں صاحب  کا  ایک واعظ سُنا تھا۔ میاں صاحب ایک حدیث سُنارہے تھے۔ جس میں گرد آلود بالوں کے باوجود عشق الہی کے چراغ سے معمور لوگوں کا تذکرہ ہُورہا تھا۔کہ،، وُہ لوگ اگر کسی معاملے میں اللہ کی قسم اُٹھالیں۔ تو اللہ اُنکے دِل میلے نہیں کرتا۔ ۔۔۔ پھر ہم کیسے کسی عاشق کو فقط ظاہری آلودگی پر طعنہ دے سکتے ہیں۔۔۔  گفتگو کرتے ہُوئےابو  شامل کا لہجہ نمناک ہُوچکا تھا۔

اچھا بابا  مجھے معاف کردو۔میں اپنا جملہ واپس لیتا ہُوں۔ اب  تم اپنا موڈ خراب مت کرو۔ ویسے ہی میرا موڈ کافی خراب ہُوچکا ہے۔۔۔ یار ابوشامل کیا خیال ہے آج کچھ تفریح اُور موج میلا نہ ہُوجائے۔۔۔۔ اچھا تو جناب کا موڈ  آج رنگیلا ہورہا ہے۔ ۔ پھرکیوں نہ آج لانڈھی چھاونی چلیں۔ وہاں زبردست نمائش لگی ہے۔ابوشامل نے بھی کامل کو چہکتا دیکھ کر چہکنا شروع کردیا۔۔۔ نہ بابا نہ۔۔۔ نمائش اُور وُہ بھی چھاوٗنی کی بغل میں۔یار ابو شامل کیا مروانے کا اِرادہ ہے؟؟؟؟؟ ۔۔۔اُو میرے  بُدھو رام دُوست  یہ بھی تو سُوچ کہ جب چھاوٗنی کیساتھ نمائش لگی ہے۔ تب اِسکی  پرمیشن بھی تو خاص لوگوں نے ہی دی ہُوگی نا۔کیا سمجھے۔؟  ابو شامل نے اپنے مخصوص انداز میں آنکھ مارتے ہُوئے کہا۔۔۔۔ ہاں یار یہ بات تو ہے۔کامل نے ابوشامل کی ہاں میں ہاں ملاتے ہُوئے اقرار کیا۔
نمائش میں سوائے رقص و سُرودکی محفل کے کچھ نہیں تھا۔ البتہ کچھ لوگ کھیل کے نام  پرمختلف شامیانوں میں جُوئے میں مصروف تھے۔ کامل علی کی طبعیت تھوڑی ہی دیر میں اِس کھیل تماشے سے اُکتانے لگی تھی۔۔۔ یار ابو شامل یہاں تو اپنے مطلب کی کوئی بات نہیں ہے۔۔۔۔  اِس سے تو بہتر تھا گھر پر ٹی وی ہی دیکھ لیتے۔۔۔ کام کی چیز بھی ہے ۔میرے یار اُور ہمارے لئے کام بھی،، بس دیکھنے والی نظر چاہیئے ابوشامل نے گُم سُم لہجے میں جواب دیتے ہُوئے کامل کو ایک شامیانے کی جانب متوجہ کیا۔ جس کے پردے نما دروازے پرایک ڈرائیور ٹائپ شخص ایک تیرہ چودہ برس کے خُوبصورت بچے کی پٹائی میں مصروف تھا۔

دل کی بات۔

مجھے معلوم ہے کہ،، میرے بلاگ پر میری تحریریں پڑھنے کیلئے بُہت سے صاحب علم دوست بھی تشریف لاتے ہیں اُور میری تحریروں کو پسندیدگی کی نگاہ سے بھی دیکھتے ہیں۔۔۔ لیکن وُہ اتنی خاموش سے  بِلا تبصرہ ،،واپس لُوٹ جاتے ہیں۔ جیسے باد نسیم کے جھونکے بنا کچھ کہے جسم کو چُھو جاتے ہیں۔۔۔ میں اُنکی خدمت میں صرف اتنا عرض کرنا چاہتا ہُوں۔کہ،، میں تمام نامساعد حالات کے باوجود لکھنے کی ذمہ داری کسی نہ کسی حد تک پُوری کرنے کی کوشش کررہا ہُوں۔۔۔۔ لیکن آپکی خاموشی۔۔۔۔ بے اعتنائی، بے توجہی، یا بے حسی کے زمرے میں تو شُمار نہیں ہُوتی۔۔۔ اس سوال کا بہترین  جواب، صرف آپکا دِل ہی دے سکتا ہے۔۔۔۔

آپ سب کی دُعاوں کا طلبگار
عشرت اقبال وارثی۔

(جاری ہے)

اُسکا کہنا ہے۔ کِسی اُور کو دیکھوں نہ کبھی
کیوں کہ اُسکو یہ میرا رُوپ بُرا لگتا ہے۔

مجھکو ہر چہرے میں آتاہے نظر اِک وُہ ہی
جُو نہ بھر پائے یہ بہروُپ !!!  ۔بُرا لگتا ہے۔


Friday, 29 May 2015

جال۔ در۔ جال قسط 7۔



جال۔ در۔ جال قسط 7۔

گُذشتہ سے پیوستہ

فرقان کے خاموش ہُوتے ہی نُعمان گُویا ہُوا۔ دیکھو فرقان تُم دُنیا میں میرے بہترین دُوست ہُو۔ اور ہم نے کئی برس تک کامیابی سے مشترکہ کاروبار بھی کیا ہے۔ اگرچہ تمام کاروباری معاملات میں خود ہی سنبھالتا رہا ہُوں۔ اور میری ہمیشہ یہی کوشش رہی ہے کہ تُمہیں کاروباری معاملات کے بکھیڑوں میں نہ گھسیٹوں۔ اور اتنا مجھے بھی یقین ہے کہ تم میری تمام کاروباری سرگرمیوں سے مطمئین بھی ہُو۔ لیکن وقت کے ساتھ ساتھ ہماری سوچ و افکار میں زمین و آسمان کے فاصلوں کے مماثل بُعد پیدا ہُوگیا ہے۔ اور اس فاصلے کو ختم کرنا نہ ہی میرے اختیار میں ہے۔ اور تُمہاری بار بار کی نصیحتوں سے مجھے اندازہ ہُورہا ہے۔ کہ شائد تُم بھی ان فاصلوں کو مِٹانا نہیں چاہتے۔ لِہذا بہتر یہی ہُوگا۔ کہ ہم اپنی راہیں جُدا کرلیں۔۔۔۔۔۔۔ چُونکہ ہمارا کاروبار مشترکہ کاروبار ہے لِہذا ہم دونوں کا اس پر یکساں حق ہے۔۔۔ اسلئے میں چاہتا ہُوں کہ بجائے مزید بحث میں اُلجھنے کہ ہمیں آپس میں اپنے کاروبار کا بٹوارہ کرلینا چاہیئے ہمارے پاس ایک فیکٹری ہے۔ جس پر کِچھ قرض کاروباری لوگوں کا ہے۔ اور کچھ لوگ ہمارے مقروض ہیں اِن تمام معاملات کو سمیٹنا اتنا آسان نہیں ہے۔ اسکے لئے کافی وقت درکار ہے جبکہ دوسری جانب ہمارے پاس چھ ایکڑ کا ایک کمرشل پلاٹ ہے جو فیکٹری سے متصل ہے۔ اگر تُم چاہو تو فیکٹری کے جھمیلوں کو سنبھال لو، اور چاہو تو وہ کمرشل پلاٹ لے لو، میں ایک دوست کی حیثیت سے تُمہیں پلاٹ لینے کا مشورہ دُونگا۔ کیونکہ فیکٹری کے معاملات کو سنبھالنا تُمہارے بس کا رُوگ نہیں ہے۔۔۔۔۔ نعمان جتنی آسانی سے علحیدگی کے فارمولے سُنا رہا تھا۔ اُتنی ہی تکلیف کے آثار فرقان کے بُشرے سے عیاں ہُوتے جارہے تھے۔

اَب مزید پڑھیئے۔

نعمان نے اپنی گُفتگو ختم کرنے کے بعد گِلاس میں پانی اُنڈیلا اور ایک سانس میں گِلاس کا پانی پی کر خالی گِلاس ٹیبل پر رکھ کر فرقان کی جانب دیکھا۔ جیسے گُویا وہ اپنی تجویز پر فرقان کی رائے معلوم کرنا چاہتا ہُو۔ جبکہ فرقان کے کانوں میں حسان صاحب کی تاکید بازگشت کررہی تھی کہ،، بیٹا جب انسان غُصہ کی حالت میں ہُوتا ہے۔ تب وہ شرف انسانیت کی معراج سے سفلی جذبات کی اَتاہ گہرایئوں کا اسیر بن جاتا ہے۔ اور ایسے وقت میں انسان شیطان کے ہاتھوں میں کٹھ پُتلی کی مانند ہُوتا ہے۔ لِہذا جب کوئی سامع غُصہ کی حالت میں سماع کررہا ہُو۔ تب اُسے صرف حکمت کی نازک چھڑی سے سمجھانے کی کوشش کرنا چاہیئے۔ اور وہ بھی اِتنی اِحتیاط کیساتھ کہ اُسے یہ چھڑی ایک پھول کی مانند محسوس ہُو۔ نا کہ چابک کی طرح دِکھائی دینے لگے۔ اور ایسے وقت میں کہ جب انسان اپنی اَنَّا اور ضد کے سبب خواہشات کا غُلام بن جائے ۔ تب ہرگز اسے قال اللہ اور قال رسول ﷺ کی اَذاں مت سُنانا۔ کہ خُدانخواستہ وہ اپنی ہٹ میں حُکم خُدا اور تعلیم مُصطفٰیﷺ سے ہی انکار نہ کر بیٹھے۔

فرقان عجیب مخمصے کا شِکار ہُوگیا تھا۔ ایک طرف نادان دُوست بظاہر حقیر سی خُواہش کا اظہار کرتے ہُوئے ناسمجھی میں خُدا سے جنگ کرنے نِکلا تھا۔ بلکہ چاہتا تھا کہ میری اِس جنگ میں تُم بھی شریک حال ہُوجاؤ ۔فرقان نے ایک مزید کوشش کی۔ اُور اُسے سمجھانے لگاکہ،، میرے یار ہمارے پاس جو کُچھ بھی خُدا کی مہربانی سے موجود ہے۔ وہ ناصِرف ہمارے لئے بلکہ ہماری اُولادوں کیلئے بھی کافی ہے۔ پھر ہم کیوں ایسی دلدل میں اُتریں۔ جہاں سے واپسی کی کوئی راہ سُجھائی نہیں دیتی۔ جہاں سے بغیر توبہ کوئی سلامتی نہیں پاسکا۔ جہاں صِرف تباہی اور بربادی آنے والوں کا خیر مقدم کرتی ہے۔ یہ بظاہر نفع کا سودا دِکھائی دیتا ہے لیکن باطن میں خسارہ کے سِوا کُچھ بھی نہیں۔ میرے بھائی یہ شیطان کا دامِ فریب ہے۔ یہ مکڑی کا جالا ہے۔ جِس طرح مکڑی کے جال میں غِذا دیکھ کر لالچی مکھی جانے کا راستہ تُو ضرور تلاش کرلیتی ہے مگر باہر نکلنے کا کوئی رستہ نہیں پاتی۔ اِسی طرح سود کے جال میں جانے کے تُو کئی دلفریب کُشادہ راستے ہیں۔ لیکن واپسی کیلئے کوئی گُزرگاہ نہیں ہے۔

اور بظاہر خُوش رنگ و خُوش بُو رکھنے والا یہ جام دراصل زِہر قاتل ہے۔ جِسے،، دَبستانِ شر ،،ہمیشہ شریں و لذیز ثابت کرتے ہُوئے پینے کی ترغیب دِلاتا رَہا ہے۔ جبکہ اللہ کریم کے فرستادہ ،، ہمیشہ سے اِسے ظلم کانِظام ثابت کرتے چلے ہیں۔ اور اِسکی ہلاکت خیزی کی داستانیں اسقدر ہیں۔ کہ کوئی بھی ذِی ہُوش اِس جام کی طرف ہاتھ بڑھَانے سے پہلے ہزار بار سوچے گا۔ اور ہر بار لرز کے رِہ جائے گا۔ میرے بھائی اگر اِس نظام میں ذرہ برابر بھی خیر کے آثار ہُوتے تُو یہ ہمارے لئے حلال کردِیا جاتا۔۔۔۔۔۔۔۔۔!

فرقان سانس لینے کیلئے ایک لمحے کو رُکا۔ تب نُعمان نے فرقان کی بات اُچکتے ہُوئے کہا۔۔۔ یار میں نے تُم سے تُمہارا جواب مانگا تھا۔ لیکن لگتا ہے اُس پروفیسر کیساتھ رہتے رِہتے تُمہیں بھی ہر بات پر نصیحت کرنے کا عارضہ لاحق ہُوگیا ہے۔ حالانکہ میں نے تُم سے پہلے ہی کہہ دِیا تھا۔ کہ مجھے اُلجھانے کی کوشش نہ کرنا۔ اور نہ ہی کوئی نصیحت کرنا کیونکہ میں اپنا اچھا اور بُرا، نفع و نقصان خوب سمجھتا ہُوں مجھے کاروبار کیسے کرنا ہے۔ یہ بات مجھے کِسی ایسے اِنسان سے سیکھنے کی بالکل ضرورت نہیں جو خُود مارکیٹنگ کی الف ب سے بالکل ناآشنا ہُو۔ نعمان نے فرقان پر طنز کرتے ہُوئے کہا۔

کیا جُدائی سے بچنے کا کوئی رستہ باقی نہیں بچَّا۔۔۔۔ فرقان نے ملتجیانہ لہجے میں استفسار کیا۔

راستہ ہے۔۔۔! بس کاروبار مجھے کرنے دُو اور میں جسطرح کاروبار کرنا چاہوں تُم اُس میں رُکاوٹ پیدا نہ کرو۔۔۔ نعمان نے سپاٹ لہجے میں جواب دیا۔۔۔

میرا مطلب تھا۔ کہ سود سے بچنے کا کوئی دوسرا حل۔۔ فرقان نے وضاحت کرتے ہُوئے کہا

نہیں۔ کوئی دوسرا حل نہیں ہے۔ نعمان نے بات کو مختصر کرتے ہُوئے کہا۔

فرقان محسوس کررہا تھا۔ جیسے وہ کِسی بند گلی میں آکھڑا ہُوا ہے۔۔۔ تب اُسے حسان صاحب کا جُملہ یاد آیا کہ،، کہ کبھی کبھار انسان کو ایسا محسوس ہونے لگتا ہے کہ وہ ایک بند گُلی میں پُہنچ چُکا ہے۔ مگر دراصل اُس بند گُلی کی دیوار میں ہی رضائے رب کی شاہراہ کا باب موجود ہُوتا ہے۔ جِسے شیطان وقتی طُور پر نظروں سے اُوجھل کردیتا ہے۔ مگر جب کوئی یقین کامل کے ساتھ اُس دیوار کی جانب چلنا شروع کردیتا ہے۔ تب شیطان سر میں خاک ڈالتا ہُوا وہاں سے دفعان ہُوجاتا ہے۔ اور وہ دَر کھل جاتا ہے۔ جِس سے ایک نہیں بلکہ کامیابیوں کے ہزار راستے دِکھائی دینے لگتے ہیں۔ اور ہر راستہ منزل پر ہی پُہنچاتا ہے۔

اگر تُہمارے پاس کوئی دوسرا آپشن موجود نہیں ہے تب ٹھیک ہے۔ مجھے تُمہاری تقسیم منظور ہے۔ جو تُم رکھنا چاہُو۔ وہ اپنے پاس رکھ لو اور جو میرا حِصہ بنے وہ مجھے دیدو۔ میں نے اپنی کم عِلمی کے باوجود جس قدر جانتا تھا۔ اتمامِ حُجت کے طُور پر سمجھا دیا۔ میں بُہت کم ہمت انسان ہُوں ۔ لوگوں سے لڑنے کا حُوصلہ خُود میں نہیں پاتا۔ تب کیسے ممکن ہے کہ اللہ کریم اور اُسکے مدنی محبوب ﷺ کی نافرمانی کا طُوق اپنی گردن میں ڈالوں۔ لہذا بہتر ہے کہ ہم اپنی راہیں جُدا کرلیں۔ لیکن میرے دُوست مجھے کامِل یقین ہے۔ تُم ایک نا ایک دن ضرور میری بات کو سمجھ پاؤ گے۔اس وقت مجھ سے غیریت نہ برتنا۔ تمہیں جب بھی اپنی غلطی کا احساس ہُوجائے لُوٹ آنا۔ میرے گھر کے دروازے تُمہارے لئے ہمیشہ کُھلے رہیں گے۔۔۔۔۔۔!

نعمان شائد تمام تیاری کیساتھ فرقان کی رضامندی کا منتظر تھا۔ اس لئے صرف ایک ہفتہ کے اندر ہی کاغذات کی منتقلی کا تمام کام پایہ تکمیل کو پُہنچ گیا۔ فیکٹری نعمان کے نام پر رجسٹرڈ ہُوچُکی تھی۔ جبکہ چھ ایکڑ زمیں کا ٹکڑا فرقان کے نام منتقل ہُوچُکا تھا۔ چُونکہ فرقان کے پاس ذرائع آمدن کو کوئی اور ذریعہ نہیں تھا۔ اسلئے صرف تین ماہ کے اندر ہی فرقان کی تمام جمع پونجی گھر کے کرایہ اور گھریلو اخراجات کی نذر ہُوگئی۔ چند دِنوں سے فرقان یہ سوچ سُوچ کر ڈپریشن کا شِکار ہُورہا تھا۔ کہ اب گھر کے اخراجات کس طرح پُورے ہُونگے۔۔۔۔؟

(جاری ہے)

پلکوں سے دَرِ یار پہ دستک دینا
اُونچی آواز ہُوئی عُمر کا سرمایہ گیا

عامل کامل ابو شامل (بوڑھا فقیر جوان) قسط 39



گُذشتہ سے پیوستہ۔


اچھا تو اِس لیئے جناب پورے بیس دِن لاپتہ رہے تھے۔ اُور یہ بات بالکل  ہی بھول گئے۔کہ،، یہاں نفاست صدیقی اپنے دوست کو لانے والے تھے۔ کامل نے شکایت بھرے لہجے میں کہا۔۔۔۔۔۔نہیں یار سیالکوٹ سے تو میں اُسی شام لُوٹ آیا تھا۔ جس رات تمہاری دہلوی سے ملاقات فکس تھی۔۔۔۔ لیکن واپس آتے ہُوئے مجھے درمیان میں یہ خبر مِلی ۔کہ،، تمہاری نرگس کراچی کے سول ہوسپٹل میں اپنی زندگی کی آخری سانسیں لے رہی ہے۔سُو میں سیدھا ہوسپٹل پُہنچ گیا تھا۔۔۔۔ نرگس کا ذکر سُنتے ہی کامل علی پر دیوانگی سی طاری ہُوگئی۔ کیا ہُوامیری نرگس کو۔۔۔؟اب کیسی ہے وُہ۔؟؟؟ کہاں ہے نرگس۔؟؟؟ اُور تم مجھے اتنی دیر سے اپنے عشق کی کہانی سُنارہے تھے۔ جبکہ میری نرگس زندگی اُور موت کی کشمش میں گرفتار تھی۔۔۔ کامل کے منہ سے تھوک کے چھینٹے اُڑنے لگے تھے۔جبکہ لہجے میں چنگاریاں بھری ہُوئی  تھیں۔!!!

اَب مزید پڑھیئے۔

یار کامل مجھے بات تو مکمل کرلینے دیتے۔ پھر یہ غصہ مناسب بھی لگتا۔تُم تو اِس طرح ری ایکٹ کررہے ہُو۔ جیسے خُدانخواستہ میں نے ہی نرگس کو اسپتال میں پُہچایا  ہُو۔۔۔۔  شائد تمہیں معلوم ہُو۔کہ،،نرگس کے دِل میں بچپن سے سُوراخ تھا ۔جو اَب کافی بڑھ چکا تھا۔ جسکی وجہ سے اُس کے بدن میں طرح طرح کی بیماریوں نے جگہہ بنالی تھی۔یہاں ڈاکٹروں نے اُسے جواب دے دیدیا تھا۔۔۔ جس کے بعد میں اُسے   پرستان  حکیم بطلیموس  کے پاس لے گیا تھا۔ اب نرگس کی حالت خطرے سے باہر ہے۔ اُور حکیم بطلیموس کا کہنا ہے۔کہ،، اگلے ماہ تک نرگس بالکل صحتیاب ہُوجائے گی۔ جس کے بعد میں اُسے واپس کراچی لے آوٗنگا۔۔۔

کیا تُم نے نرگس اُور اسکے شوہر کو  علاج کیلئے پرستان  لیجانے کی بابت بتادیا تھا۔ اُور نرگس کے شوھر نے  تمہیں اجازت کس طرح دے دی تھی۔۔۔۔  پھر اُسکا بیٹا طارق بھی نجانے کسطرح ماں کے بغیر رِہ رہا ہُوگا۔؟؟؟ کامل نے صورتحال کو سمجھنے کیلئے مزید سوالات ابو شامل کے سامنے رکھ دیئے۔۔۔۔ دُو ماہ قبل  نرگس کاشوہر  نشے کی حالت میں  کینٹ اسٹیشن پر مُردہ پایا گیا تھا۔ نرگس عدت کی حالت میں تھی۔کہ ،، پندرہ دِن بعد چچا ارشد کا بھی انتقال ہُوگیا۔ پے درپے حادثات نے نرگس کو بالکل توڑ کر رکھ دیا تھا۔۔۔۔ ایسے وقت میں نرگس کی ایک نند نے اُسکا کافی ساتھ دیا۔ ہسپتال بھی اُسی نند نے پُہنچایا تھا۔


 جب ڈاکڑوں نے جواب دیدیا تو میں نے خُود کو ایک این جی اُو کا نمائندہ ظاہر کیا۔ اُور کافی سمجھانے پر وُہ اِس بات پر رضامند ہُوگئی۔ کہ،،  نرگس کو علاج کیلئے اسلام آباد منتقل کردیا جائے۔ میں نے  (این جی اُو) کی جانب سے طارق کی دیکھ بھال کیلئے ایک لاکھ روپیہ  نقد بھی اُس کے ہاتھوں میں تھمادیا۔ وُہ بیچاری خُود بُہت غریب عورت ہے۔ اِس لئے ہماری (این جی اُو) کو حاتم طائی کا اِدارہ سمجھ کر کافی دیر تک ڈھیروں دُعائیں دیتی رہی۔۔۔۔ یہ تھی میرے بھائی وُہ تمام صورتحال جسکی وجہ سے میں وجاہت دہلوی سے مُلاقات کیلئے حاضر نہیں ہُوسکا تھا۔۔۔۔۔ اُور ہاں وجاہت دہلوی کے ذکر سے یاد آیا۔ کہ،، میں نے وجاہت دہلوی کا مسئلہ بھی حل کردیا ہے۔ مجھے لگتا ہے ایک دُو دِن میں وُہ بھی مٹھائی لیکر آتا ہی ہُوگا۔

یار ابو شامل مجھے معاف کرنا میں نرگس کی بیماری کا سُن کر کچھ ذیادہ ہی جذباتی ہُوگیا تھا۔۔۔۔۔  بس مجھے میرے ۲ سوالوں کا جواب اُور دے دُو۔ پہلا سوال تو یہ ہے کہ،، کیا میں تمہارے ساتھ نرگس کی عیادت کیلئے چل سکتا ہُوں۔ اُور دوسرا سوال یہ کے وجاہت دہلوی کا مسئلہ تم نے کسطرح حل کردیا۔۔۔۔ کوئی بات نہیں یار۔ عشق میں ایسا ہی ہوتا ہے۔ ہمدردوں کیساتھ عاشقوں  کا رویہ۔ ابو شامل نے بھولی شکل بناتے ہُوئے   سلسلہ کلام جاری رکھا۔ اب تمہارے پہلے سوال کا جواب تو یہ ہے۔کہ،، کچھ مشکلات کی وجہ سے میں فی الحال پرستان نہیں جاسکتا۔ البتہ تم سے میرا وعدہ رہا کہ،، اُسے واپس لانے کیلئے ہم دونوں ساتھ چلیں گے۔ ویسے وُہ بیچاری بھی ابھی تک  یہی سمجھ رہی ہے۔ کہ،، اسکا علاج اسلام  آباد میں ہُورہا ہے۔۔۔۔

جبکہ وجاہت دہلوی کا مسئلہ اتنا اہم نہیں تھا۔ عائقہ  نے اگرچہ خلع اپنی مرضی سے حاصل کی تھی ۔لیکن طلاق کے کچھ عرصہ بعد ہی   نفسانی خُواہشات نے اُسے  اپنا غلام بنالیا تھا۔ ۔۔۔ وجاہت دہلوی  ایک تو واقعی  اسم بامسمیٰ تھا۔ جبکہ اِس سے آسان شکار عائقہ کو مِل بھی نہیں سکتا تھا۔جسکی وجہ سے وُہ یہ بات بھی فراموش کرگئی۔کہ،،  وُہ اپنی جنسی تسکین کیلئے اپنی ہی بہن  عدیمہ کے گھر میں ڈاکہ ڈال رہی ہے۔۔۔ وجاہت دہلوی تو خُود اِس دلدل سے نکلنے کیلئے راضی ہُوچُکا تھا۔۔۔ اسلئے میں نے   اپنے ایک بندے کی ڈیوٹی عائقہ کی توجہ بدلنے پر لگادی ہے۔ اُور اچھی خبر یہ ہے۔کہ،، آجکل عائقہ ذیادہ تر  اپنے ایک رَنڈوے کزن کیساتھ دیکھی جارہی ہے۔ ہُوسکتا ہے اگلے چند دِن میں اُن دونوں کی شادی کی خبر بھی سُنائی دے جائے۔ ابو شامل نے اپنے مخصوص انداز میں کامل کو آنکھ مارتے  ہُوئے جملہ مکمل کیا۔

ابو شامِل کا اندازہ بالکل ٹھیک نکلا تھا۔وجاہت دہلوی چار دِن بعد اجازت ملتے ہی آستانے چلا آیا تھا۔پھولوں کے گلدستے کے ساتھ ایک لفافے میں پورے پانچ لاکھ روپیہ کا نذرانہ اُس نے منت سماجت کرتے ہُوئے کامل علی کے قدموں میں رکھتے ہُوئے بتایا۔۔۔۔حضور آپ سے مِل کر یقین ہُوگیا۔کہ،، دُنیا  آج بھی اللہ والوں کے مبارک قدموں سے خالی نہیں ہے۔ آپکی ایک توجہ سے میرے تمام مسئلے مقررہ وقت میں حل  ہُوگئے ہیں۔ آپکی دُعاوں کی بدولت ایک طرف جہاں عائقہ نے میرا پیچھا چھوڑ کر دوبارہ سے اِک نئی ازداجی زندگی شروع کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ تو دوسری طرف عدیمہ نے بھی مجھے دِل سے معاف کردیا ہے۔ اُور ہم دُونوں اب پہلے کی طرح خُوشگوار زندگی گُزار رَہے ہیں۔ جبکہ ماشاٗ اللہ  کنسٹریکشن کے بزنس میں بھی اِس ماہ خُوب منافع ہُوا ہے۔

کامل علی  رقم کا لفافہ  اُٹھانے میں ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کررہا تھا۔ تبھی ابوشامل نے کامل سے کہا،، رقم اُٹھالے یار آخر بھابی کو دوبارہ شاپنگ بھی کرانی ہے۔ ۔۔ کامل نے یہ کہہ کر رقم کا لفافہ ہاتھ میں سنبھال لیا۔کہ،، میں اِسے اسکے حقدار تک پُہنچادونگا۔ جونہی وجاہت دہلوی  اجازت لیکر جانے کیلئے اُلٹے قدموں کمرے سے نکلا۔۔۔ ابو شامل نے کامل کو مخاطب کرتے ہُوئے کہا،، یارمجھے فوراً یہاں سے نکلنا پڑیگا۔ میں تُم سے گھر پر مِلتا ہُوں۔ کامل علی عجیب سی نظروں کو ابو شامل کو گھورنے لگا۔ لیکن ابو شامل افراتفری کی حالت میں کوٹھی سے تقریباً بھاگتا ہُوا نکل چُکا تھا۔

کامل جونہی گیٹ کو لاک لگا کر گاڑی میں سوار ہُونے کیلئے کار کی طرف بڑھا تو وہی بوڑھا فقیر اُسے کار سے ٹیک لگائے نظر آیا۔ کامل کو  حیرت ہُوئی کہ،، آج فقیر رُوپوش ہُونے کے بجائے ڈھٹائی سے اُسکا منتظر تھا۔ فقیر کے قریب پُہنچ کر کامل علی کو ایک جھٹکا اُور لگا۔ کہ ،، جس فقیر کو  کامل علی دُور سے ابتک ایک بُوڑھا سمجھ رَہا تھا۔ وُہ کوئی ذیادہ سے ذیادہ پچیس چھبیس برس کا نوجوان تھا۔  اُ س فقیر کےچہرے  کی جلد انتہائی چکنی تھی۔ جس پر داڑھی کا ایک بال بھی شائد نہیں اُگ پایا تھا۔ جبکہ سر پر موجود اُلجھے مٹیالے گرد آلود  بال  کسی گھونسلے کامنظر پیش کررہے تھے۔ کامل علی بیخودی میں فقیر کے اتنے قریب پُہنچ چُکا تھا۔کہ،، اُس فقیر کے  پسینے کی خوشگوار خُوشبو کو محسوس کرسکتا تھا۔   
دل کی بات۔

مجھے معلوم ہے کہ،، میرے بلاگ پر میری تحریریں پڑھنے کیلئے بُہت سے صاحب علم دوست بھی تشریف لاتے ہیں اُور میری تحریروں کو پسندیدگی کی نگاہ سے بھی دیکھتے ہیں۔۔۔ لیکن وُہ اتنی خاموش سے  بِلا تبصرہ ،،واپس لُوٹ جاتے ہیں۔ جیسے باد نسیم کے جھونکے بنا کچھ کہے جسم کو چُھو جاتے ہیں۔۔۔ میں اُنکی خدمت میں صرف اتنا عرض کرنا چاہتا ہُوں۔کہ،، میں تمام نامساعد حالات کے باوجود لکھنے کی ذمہ داری کسی نہ کسی حد تک پُوری کرنے کی کوشش کررہا ہُوں۔۔۔۔ لیکن آپکی خاموشی۔۔۔۔ بے اعتنائی، بے توجہی، یا بے حسی کے زمرے میں تو شُمار نہیں ہُوتی۔۔۔ اس سوال کا بہترین  جواب، صرف آپکا دِل ہی دے سکتا ہے۔۔۔۔
آپ سب کی دُعاوں کا طلبگار
عشرت اقبال وارثی۔
(جاری ہے)

اُسکا کہنا ہے۔ کِسی اُور کو دیکھوں نہ کبھی
کیوں کہ اُسکو یہ میرا رُوپ بُرا لگتا ہے۔

مجھکو ہر چہرے میں آتاہے نظر اِک وُہ ہی
جُو نہ بھر پائے یہ بہروُپ !!!  ۔بُرا لگتا ہے۔

Thursday, 28 May 2015

جال۔در۔جال۔قسط 6



جال۔در۔جال۔قسط 6

گُزشتہ سے پیوستہ

میں بھی تُم سے صِرف ایک سوال کرنا چاہتا ہُوں۔۔۔۔ اور وہ یہ کہ،، کیا اگر تُمہارا ملازم اگر تُم سے کسی معاملے میں ضد باندھ لے، تُمہارے احکامات کو ماننے سے صاف انکار کردے اور تُمہاری دُشمنی پر اُتر آئے۔ تب کیا وہ تُم سے تُمہاری ہی فیکٹری میں جیت پائے گا اور کیا تُم اسے ملازمت پر قائم رکھنا چاہو گے۔۔۔۔؟ فرقان اتنا کہہ کر نعمان کی جانب غور سے دیکھنے لگا۔

یہ کیا بات ہُوئی فرقان کہ تُم نے میرے سوال پر ہی ایک سوال قائم کردِیا۔ لیکن میرا جواب تُم خُود بھی جانتے ہُو کہ میں ایسے انسان کو اپنی مُلازمت میں ایک گھنٹہ تُو کُجا ایک لمحے کیلئے بھی برداشت نہیں کرونگا چاہے مجھے اسکے لئے دُنیا بھر کی فلاحی تنظیموں سے لڑنا پڑے یا مجھے عدالت میں ہی کیوں نہ جانا پڑجائے۔ لیکن میں شکست تسلیم نہیں کرونگا۔ اور نہ ہی اُس مُلازم کو چین سے رہنے دُونگا۔ جو میری ہی فیکٹری سے رزق بھی حاصِل کرے اور مجھ سے ہی دُشمنی باندھے۔ نعمان نے جوشیلے انداز میں جواب دیتے ہُوئے کہا۔

اب مزید پڑھیئے

نعمان میرے بھائی جب ہم اپنے جُز وقتی مُلازم کا اپنے مقابِل کھڑا ہُونا پسند نہیں کرتے۔ حالانکہ وہ چاہے تُو کہیں اور بھی جاکرمُلازمت تلاش کرسکتا ہے۔!!۔ جبکہ ہم نہ تو اپنے رب عزوجل کی سلطنت سے باہر نِکل سکتے ہیں اور نہ ہی کوئی دُوسرا رزَّاق ہی تلاش کرسکتے ہیں۔ پھر ہم کسطرح اپنے پروردگار سے مقابلے کیلئے اُسکی نافرمانی کرسکتے ہیں۔۔۔؟ فرقان نے نُعمان کے خاموش ہُوتے ہی اُسے سمجھانے کی کوشش کرتے ہُوئے کہا۔

یار فُرقان خُدا کیلئے مجھے اِن جھمیلوں میں مت گھسیٹو۔ تُمہارا دِماغ تُو اس مولوی نُما پروفیسر نے خراب کر کے رکھ دیا ہے۔ اب تُم کیا چاہتے ہُوکہ میں بھی درویش بن جاؤں اور سارا بزنس چھوڑ چھاڑ کر جنگلوں میں نِکل جاؤں۔۔۔؟ میرے دُوست تخیلات کی زندگی سے نِکلو اور حقیقت کی دُنیا میں لُوٹ آؤ۔ ورنہ کہیں ایسا نہ ہُو کہ ہم پھر اُسی مقام پر جا پہنچیں۔ جہاں ہمیں کوئی ایک کپ چائے پِلانے کا بھی روادار نہیں تھا۔ میں تُو یہ سُوچ کر تُمہارے پاس آیا تھا۔ کہ شائد گُزرے پہر میں تُمہیں تسلی سے قائل کرنے کے بجائے جذباتی ہُوگیا تھا۔ اور رات کی تنہائی میں شائد بہتر انداز سے سمجھا پاؤنگا۔ لیکن تُمہاری باتیں سُننے کے بعد میں اِس نتیجے پر پُہنچا ہُوں کہ بچپن کے حادثے نے تُمہارے ذہن کو مفلوج کردِیا ہے۔ جسکی وجہ سے میں تُو کیا کوئی حکیمِ اعظم بھی تُمہیں دُوبارہ حقیقت کی دُنیا میں واپس نہ لا پائے۔ اس لئے مجھے لگتا ہے کہ اب واقعی ہمارے راستے جُدا ہُونے کا وقت آگیا ہے۔ میں تُمہیں تین دِن تک سوچنے کا وقت دے سکتا ہُوں۔ مجھے تین دِن بعد اپنے فیصلے سے آگاہ کردینا۔ تاکہ مجھے معلوم ہُوجائے کہ باقی سفر مجھے کسطرح طے کرنا ہے۔ اتنا کہنے کے بعد نُعمان مُصافحہ کیئے بغیر کمرے سے نِکل گیا۔

فرقان سُوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ نعمان جو ابھی کُچھ دیر قبل ندامت وشرمندگی سے بِچھا جارہا تھا۔ وہ یُوں روکھے پھیکے جُملوں کیساتھ پھر سے جُدائی کی راہ پر چل پڑے گا۔ وہ جو خُود رضا وجزا کے معنی میں فرق نہیں کر پارہا تھا۔ اُسے میری نفسیات کا عِلم کیسے ہُوسکتا ہے۔ کیا نعمان کِسی امتحان میں مُبتلا ہُونے کو ہے۔ ایسے ہی بیشُمار سوالات فرقان اپنے ذہن میں لئے ڈرائینگ رُوم کے برقی سوئچ آف کرنے کے بعد اپنے کمرے کی جانب بُوجھل قدموں سے چل پڑا۔

اگلے دُو دِن فرقان بُخار میں تپتا رھا۔ وہ جل از جلد پروفیسر صاحب سے مِل کر اِس مسئلہ کا حل تلاش کرنا چاہتا تھا۔ لیکن بُخار تھا کہ جُدا ہُونے کو تیار ہی نہیں تھا۔ تیسرے دِن جا کر بُخار میں کُچھ کمی کا اِحساس ہُوتے ہی فرقان نے عصر کی نماز کے بعد گاڑی نِکالی اور حسَّان صاحب کے گھر کی طرف روانہ ہُوگیا۔ پروفیسر صاحب کے مکان کے باہر حسَّان صاحب کے بڑے صاحبزادے ڈاکٹر احمد سے مُلاقات ہُوگئی۔ وہ گاڑی کو باہر لاک کرنے کے بعد دروازے کی جانب بڑھ رہے تھے۔ جونہی اُنکی نِگاہ فرقان پر پڑی اُنکے بڑھتے قدم رُک گئے۔ فرقان نے بھی گاڑی کو ایک سائڈ میں کرنے کے بعد لپک کر ڈاکٹر احمد سے مصافحہ کرتے ہُوئے اُنکی خیریت دریافت کی۔ رسمی جُملوں کے تبادلے کے بعد جب فرقان نے حسَّان صاحب سے مُلاقات کی خُواہش ظاہر کی تو جواباً ڈاکٹر صاحب نے فرقان کو بتایا کہ پروفیسر صاحب تو کِسی سیمینار میں شرکت کیلئے اسلام آباد تشریف لے گئے ہیں اور اُنکی واپسی کم از کم چھ دِن بعد ہی متوقع ہے۔۔۔

ڈاکٹر صاحب کے جواب سے فرقان کے چہرے پر ہوائیاں اُڑنے لگیں۔ اُسے قوی اُمید تھی کہ حسَّان صاحب اِس معاملے کا کوئی بہترین حل ضرور بتاسکتے تھے۔ جسکی وجہ سے یہ مُعاملہ اگر فوری حل نہ بھی ہُوپاتا تب بھی اِن سنگین حالات میں کُچھ مہلت ضرور حاصِل ہوجاتی۔ اور تفہیم کا کوئی نہ کوئی راستہ ضرور نِکل آتا۔ لیکن یہاں ایک طرف حسَّان صاحب کی غیر موجودگی نے فرقان کو متفکر کردِیا تھا تُو دوسری جانب نعمان کے دئیے وقت میں صرف ایک رات ہی حائل تھی جِسے یقیناً کُچھ گھنٹوں کے بعد گُزر جانا تھا۔ ڈاکٹر صاحب نے فرقان کے چہرے پر نمایاں پریشانی کو بھانپتے ہُوئے استفسار کیا۔۔۔ فرقان صاحب سب خیریت تُو ہے نا۔۔۔؟ آپ بُہت پریشان نظر آرہے ہیں۔

فرقان نے چُونک کر ڈاکٹر صاحب کو دیکھتے ہُوئے کہا۔ احمد بھائی مجھے ایک مشکل پیش آگئی ہے۔ جسکا حل حَسَّان صاحب کے علاوہ مجھے اور کہیں نظر نہیں آرہا۔ اور مجھے یہ بھی معلوم ہے کہ حسَّان صاحب اپنا موبائیل فون سفر میں آف رکھتے ہیں۔ اسلئے مجھے سمجھ نہیں آرہا کہ حسان صاحب سے کس طرح رابطہ کروں۔۔۔؟

آپ فِکر نہ کریں فرقان بھائی،، بابا جان روزانہ عشاء کی نماز کے بعد گھر والوں کی خیریت دریافت کرنے کیلئے فون ضرور کرتے ہیں انشاءاللہ وہ آج بھی فون ضرور کریں گے۔ تب میں پہلی فرصت میں اُنہیں آپ کے متعلق بتادونگا۔ ڈاکٹر احمد نے فرقان کو تسلی دیتے ہُوئے کہا۔۔۔! فرقان ڈاکٹر احمد کا شُکریہ ادا کرنے کے بعد پھر سے گھر کیلئے روانہ ہُوگیا۔

عِشاء کی نماز سے فارغ ہُونے کے بعد جب فرقان نے موبائیل سائلینٹ موڈ سے ہٹانے کیلئے جیب سے نِکالا تب اُسکی نِگاہ ایک انجان نمبر سے موصول مِس کال پر پڑی۔ فُرقان نمبر دیکھ کر اندازہ لگانے کی کوشش میں مصروف ہی تھا کہ ایک مرتبہ پھر اُسی انجان نمبر سے کال موصول ہُونے لگی۔ فرقان نے کال ریسیو کرتے ہُوئے جونہی موبائیل کو کان سے لگایا تو دوسری جانب سے حسَّان صاحب کی آواز سُنائی دی۔ سلام ودُعا سے فارغ ہُونے کے بعد اُنہوں نے بتایا کہ اُنکے سیلولر فون کی بیٹری کی چارجنگ ختم ہوچکی ہے اسلئے اپنے ایک شاگرد کے نمبر سے کال کررہے ہیں۔ چند رسمی جُملوں کے بعد فرقان نے اپنی پریشانی حسَّان صاحب کو بتادی۔ جسکے جواب میں حَسَّان صاحب فرمانے لگے۔ بیٹا انسان کی آنکھوں پر جب حِرص وطمع کی پٹی چڑھ جاتی ہے تب وہ اچھائی اور بُرائی میں تمیز کُھو بیٹھتا ہے۔ اور کبھی چند لمحوں کی خوشیوں کیلئے اپنے مستقبل کو بھی داؤ پر لگانے سے نہیں چُوکتا۔ آپ نے بُہت اچھا کیا کہ اُس وقت نعمان کو قران و حدیث سے دلائل نہیں دیئے ورنہ یہ بھی ممکن تھا۔ کہ خُدانخواستہ وہ کسی آیت و حدیث کا ہی غُصے میں انکار کربیٹھتا اور اپنی آخرت کیلئے مزید مشکلات خرید لیتا۔

لیکن حضرت مجھے بالکل سمجھ نہیں آرہا کہ کل نعمان سے کیا بات کروں۔۔۔؟ کیونکہ میں نہ ہی نُعمان کو کھونا چاہتا ہُوں اور نہ ہی مُشترکہ کاروبار ہی ختم کرنا چاہتا ہُوں۔ ایک طرف میں سودی نِظام سے خُود کو اور نُعمان کو بچانا چاہتا ہُوں۔ تو دوسری جانب یہ بھی حقیقت ہے کہ مجھے بزنس کا کوئی خاص تجربہ بھی نہیں ہے۔ فرقان نے اپنی اُلجھن کا اظہار کرتے ہُوئے کہا۔

دیکھو میرے بچے کبھی کبھی اللہ کریم انسان کو آزمائش میں مُبتلا فرماکر اُسکا اِمتحان لیتا ہے۔ تب ایک طرف راستہ بند ہُونے کے باوجود اُس کی رضا اُسی بند گلی کے خُفیہ دروازے کی طرف اِشارہ کرتی ہے۔ اگر بندہ ہمت سے کام لیتے ہُوئے اُسکی رضا کی جانب قدم بڑھاتا رِہتا ہے تُو اُسے بند گلی سے نِکلنے کا راستہ دِکھائی دے جاتا ہے اور یہی راستہ درحقیقت کامیابی اور فلاح کا راستہ ہُوتا ہے۔ جبکہ دوسری جانب کُشادہ راہ، آسان اور پرآسائش زندگی دِکھائی دیتی ہے لیکن حقیقت میں یہ راستہ ایک سراب سے زیادہ کُچھ بھی نہیں ہُوتا۔ نافرمانی کے اِس راستے پر اگرچہ بُہت سے پُرفریب مناظر اِنسان کو اپنی جانب کھینچتے ہیں مگر در حقیقت اس راستے کی کوئی منزل ہی نہیں ہوتی۔ بلآخر انسان ایسی بھول بھلیوں میں گُم ہُو کر رہ جاتا ہے تب چہار سو اُسے گہری کھایئوں کے سِوا کُچھ دِکھائی نہیں دِیتا۔ لِہذا میرے بچے مجھے لگتا ہے کہ اب وہ وقت آگیا ہے کہ جب تُمہیں آزمایا جائے گا۔ پس آزمائش کی اِس گھڑی میں ثابت قدم رِہنا اور فیصلے کے وقت آسان راہ ڈھونڈنے کے بجائے اللہ کریم کی رضا کو تلاش کرنے کی کوشش کرنا۔ انشاءاللہ یہی فیصلہ آگے چل کر تُمہارے لئے دائمی فوائد ،سکون و کامیابی کی شاہراہ کو کھول دے گا۔ اور جب تُم فیصلہ لینے لگو تب اپنے پروردگار سے مدد اور آسانی ضرور طلب کرنا۔ میری بھی یہی دُعا ہے کہ اللہ کریم آزمایش کی اِس گھڑی میں تُمہیں سُرخرو فرمائے۔ چند مزید نصیحتوں کے بعد رابطہ منقطع ہُوگیا۔ لیکن فرقان کو حسان صاحب سے گُفتگو کرنے کے بعد یُوں محسوس ہُورہا تھا جیسے اُسکے کاندھوں سے کوئی مَنوں وزنی بُوجھ اُتر گیا ہُو۔۔۔

دوسرے دِن فرقان آفس میں بیٹھا نعمان کو ایک مرتبہ پھر سود۔ در۔سُود کے حَسین جال کی تباہ کاریوں کے نقصانات سے آگاہ کرنے کی بھرپور کوشش کررہا تھا جبکہ نُعمان سپاٹ چہرے کیساتھ فرقان کی گُفتگو کو اِدھر اُدھر دیکھتے سُن رہا تھا۔ فرقان کے خاموش ہُوتے ہی نُعمان گُویا ہُوا۔ دیکھو فرقان تُم دُنیا میں میرے بہترین دُوست ہُو۔ اور ہم نے کئی برس تک کامیابی سے مشترکہ کاروبار بھی کیا ہے۔ اگرچہ تمام کاروباری معملات میں خود ہی سنبھالتا رہا ہُوں۔ اور میری ہمیشہ یہی کوشش رہی ہے کہ تُمہیں کاروباری معاملات کے بکھیڑوں میں نہ گھسیٹوں۔ اور اتنا مجھے بھی یقین ہے کہ تم میری تمام کاروباری سرگرمیوں سے مطمئین بھی ہُو۔

لیکن وقت کے ساتھ ساتھ ہماری سوچ و افکار میں زمین و آسمان کے فاصلوں کے مماثل بُعد پیدا ہُوگیا ہے۔ اور اس فاصلے کو ختم کرنا نہ ہی میرے اختیار میں ہے۔ اور تُمہاری بار بار کی نصیحتوں سے مجھے اندازہ ہُورہا ہے۔ کہ شائد تُم بھی ان فاصلوں کو مِٹانا نہیں چاہتے۔ لِہذا بہتر یہی ہُوگا۔ کہ ہم اپنی راہیں جُدا کرلیں۔۔۔۔۔۔۔ چُونکہ ہمارا کاروبار مشترکہ کاروبار ہے لِہذا ہم دونوں کا اس پر یکساں حق ہے۔۔۔ اسلئے میں چاہتا ہُوں کہ بجائے مزید بحث میں اُلجھنے کہ ہمیں آپس میں اپنے کاروبار کا بٹوارہ کرلینا چاہیئے ہمارے پاس ایک فیکٹری ہے۔ جس پر کِچھ قرض کاروباری لوگوں کا ہے۔ اور کچھ لوگ ہمارے مقروض ہیں اِن تمام معاملات کو سمیٹنا اتنا آسان نہیں ہے۔ اسکے لئے کافی وقت درکار ہے جبکہ دوسری جانب ہمارے پاس چھ ایکڑ کا ایک کمرشل پلاٹ ہے جو فیکٹری سے متصل ہے۔ دونوں کی مارکیٹ ویلیو تقریباً مساوی ہے۔ اگر تُم چاہو تو فیکٹری کے جھمیلوں کو سنبھال لو، اور چاہو تو وہ کمرشل پلاٹ لے لو، میں ایک دوست کی حیثیت سے تُمہیں پلاٹ لینے کا مشورہ دُونگا۔ کیونکہ فیکٹری کے معاملات کو سنبھالنا تُمہارے بس کا رُوگ نہیں ہے۔۔۔۔۔ نعمان جتنی آسانی سے علیحدگی کے فارمولے سُنا رہا تھا۔ اُتنی ہی تکلیف کے آثار فرقان کے بُشرے سے عیاں ہُوتے چلے جارہے تھے۔

(جاری ہے)

پلکوں سے دَرِ یار پہ دستک دینا
اُونچی آواز ہُوئی عُمر کا سرمایہ گیا

عامل کامل ابو شامل (طلسم سے آزادی)قسط 38.akas



گُذشتہ سے پیوستہ۔

دوسرے دِن جب میں نے سفید اُلو کی بابت شرف قلندری کو  اشارے کنایہ میں بتایا ۔ تو ایک اطمینان بخش مسکراہٹ شرف کے چہرے پر بھی پھیل گئی۔ اگلے دِن تک شرف نے انتہائی رازداری سے ایک دو شاخہ لکڑی اور لچکیلی چھال کی مدد سے ایک غلیل تیار کرکے اُنہی درختوں کے نذدیک چھپادی تھی۔  اُور حُسن اتفاق کہیئے  ۔ بلکہ اللہ کریم کی مدد  سمجھیئے۔ کہ ،، اگلے ہی دن جب شرف غلیل کا معائنہ کررہا تھا۔تبھی وُہ سفید اُلو بلندی سے پرواز کرتے ہُوئے  اچانک کسی چوہے کو دیکھ کر ہمارے قریب جھپٹا۔۔۔  شائد شرف قلندری اُسکا اِرادہ بھانپ چکا تھا۔ اسلئے جیسے ہی وُہ شرف کے نشانے کی ذد میں آیا۔ شرف نے ایک نوکیلا پتھر غلیل کے ذریعے اُلو کی جانب داغ دیا۔ پتھر کی نوک نے اُلو کو  اگرچہ زخمی کردیا تھا۔ لیکن وُہ اپنے شکار کو چھوڑنے پر آمادہ نہیں تھا۔ اُلو نے مُڑ کر ایک غضبناک نگاہ  ہم دُونوں پر ڈالی۔ اُور اُسی وقت وُہ  ایک درخت سے ٹکرا کر زمین پر گر پڑا۔ شائد قدرت ہمیں  آزادی حاصل کرنے کیلئے ایک بھرپور موقع دینا چاہتی۔ میں نے دوڑتے ہُوئے ایک بڑا سا پتھر اُٹھالیا۔ اُلو نے بھی موقع کی نزاکت بھانپ کر شکار چھوڑ دینا مناسب سمجھا۔ لیکن تب تک میں اُس کے قریب پُہنچ کر اُسکے بڑے سے سر کو نشانہ بنا چکا تھا۔ وُہ ایک مرتبہ پھڑپھڑاکر جونہی لہرایا۔ تو میں نے وحشت سے اُسکے سر کو کچلنا شروع کردیا۔۔ تھوڑی ہی دیر میں اُلو کی سانس تھمنے لگی۔ تو سارے جنگل میں چیخوں کا سیلاب اُمنڈنے لگا۔ تبھی مجھے شرف قادری نے چیخ کر مخاطب کرتے ہُوئے خبردار کیا۔ ابو شامل میرے ساتھ مغرب کی جانب دوڑو۔۔۔۔ اگر آج یہ موقع گنوادیا تو ہم ہمیشہ کیلئے گھنشام داس کے عتاب کا نشانہ بن  کر رِہ جائیں گے۔

اب  مزید پڑھیئے۔

ہم دُونوں زندگی کی بازی جیتنے کیلئے سرپٹ دُوڑ رہے تھے۔ جنگلات کا ایک نا ختم ہُونے والا سلسلہ تھا۔ لیکن اُس وقت ہمیں اپنی جان بچانے کیلئے دنیا کا چکر لگانے کو بھی کہا جاتا۔ تب بھی ہم انکار نہیں کرپاتے۔ یہ بھی غنیمت تھا۔کہ،، گھنشام داس ابھی تک ہماری جانب متوجہ نہیں ہُوا تھا۔ جنگلات کا سلسلہ ختم ہُوا۔ تو ہمیں معلوم ہُواکہ،، ہم سندھ کے شہر ڈھڑکی کے مضافات میں موجود ہیں۔ جونہی ہمیں شہر کے آثار نظر آئے شرف قلندری رُک کر سجدہ شکر بجالایا۔ اُس کی دیکھا دیکھ مجھے بھی شکرانے کا خیال آگیا۔ سجدہ سے سر اُٹھاتے ہی شرف قلندری گویا ہُوا۔ الحمدللہ ! ہم گھنشام داس کی طلسمی حدود سے باہر نکلنے میں کامیاب ہُوچُکے ہیں۔ جسکا مطلب ہے کہ،، ہماری تمام قوتیں بھی واپس آچکی ہُونگی!!! اِس لئے اب ہم محتاط طریقے سے اپنی اگلی منزل کا باآسانی انتخاب کرسکتے ہیں۔ شرف کے توجہ دِلانے پر میں نے اپنی روحانی قوتوں کو ٹٹولا۔ تو خوشی کے احساس سے میں جھوم اُٹھا۔ کیونکہ واقعی میری تمام پاور مجھ میں لُوٹ آئی تھیں۔ ہم نے خوب اچھی طرح ایک دوسرے سے معانقہ کیا۔ اُور اسکے بعد ہماری راہیں جُدا ہُوگئیں۔

میں نے سب سے پہلے اپنی فیملی سے مُلاقات کا پروگرام بنایا ۔ اُور کچھ دنوں کیلئے اپنے محفوظ محل  میں پُہنچ گیا۔لیکن میں ذیادہ دِنوں تک وہاں نہیں رِہ سکتا تھا۔کیونکہ میرا محبوب سیالکوٹ میں کس  حال میں ہے۔ میں باوجود کوشش کے بھی نہیں جان پارہا تھا۔ میری تقریباً تمام روحانی قوت لُوٹ آئیں تھی۔ لیکن نجانے اُن گھنٹیوں کی آواز نے میری سماعت  اُور میری ٹیلی پیتھی کی طاقت پر کیسا اثر ڈالا تھا۔کہ،، میں ہنوز ابھی تک اِس نعمت سے محروم ہی تھا۔ بہرحال مجھے واپس آنا تھا۔ اُور گھنشام داس میرے لئے گھات لگائے بیٹھا تھا۔ ۔۔۔ میں نے اِس معاملے میں رازداری سے بابا جان کے ایک زیرک وزیر ابو النصر سے رابطہ کیا۔ اُنہوں نے میری مدد کیلئے حامی بھرتے ہُوئے مجھے ایک ایسے  سہ روزہ عمل کی بابت بتایا۔جو مجھے گھنشام داس سے محفوظ رکھ سکتا تھا۔

لیکن اُن کا کہنا تھا۔کہ،، گھنشام داس نے اپنی حفاظت کا کچھ  ایسا انتظام کررکھا ہے۔ جسکی وجہ سے ہم جنات اُسے قابو نہیں کرسکتے۔اُور جب تک گھنشام داس اُس علاقے میں موجود ہے ۔وُہ تمہارا پیچھا نہیں چھوڑے گا۔   اسلئے گھنشام داس کا بندوبست کرنے کیلئے ہمیں کسی مسلمان  انسان عامل کی مدد حاصل کرنی ہُوگی۔ اُور میں ایک شخص کو جانتا ہُوں۔جو بظاہر تو ایک ناکام عامل ہے۔ لیکن اُس پر اللہ والوں کی خاص نظر ہے۔ جسکی وجہ سے وُہ مستقبل میں عَالم تکوین کی کوئی  اہم ذمہ داری  بھی سنبھال سکتا ہے۔۔۔۔ اُور جانتے ہُو کامل علی مجھے وزیر ابوالنصر نے  اُس  عامل کا کیانام بتایا تھا۔؟؟؟ ۔۔۔کیا نام بتایا تھا؟؟؟کامل علی نے اشتیاق سے  ابوشامل کو بغور دیکھتے ہُوئےاستفسار کیا۔۔۔۔۔ مجھے وزیر ابوالنصر نے  کسی اُور کا نہیں بلکہ تُمہارا ہی  نام بتایا تھا۔ اُور خُدا کی قدرت دیکھو کہ،، اتنامہان جادوگر تمام سیفٹی کے باوجود جب اپنے انجام کو پُہنچا۔ تو وُہ تُم ہی تھے ۔ جس نے ریحان شاہ تبریزی کی مدد سے اُسے جہنم رسید کردیا تھا۔

وُہ سب تو ٹھیک ہے۔ لیکن فرح کا کیا ہُوا؟؟؟ کامل علی نے عاجزی سے گفتگو کو بدلتے ہُوئے کہا،، ۔۔۔۔۔ ہُونا کیا تھا؟۔۔ میں نے تین دِن تک وزیر ابوالنصر کا بتایا ہُوا وظیفہ کرلیا۔ جسکی وجہ سے اب گھنشام داس آسانی سے میری لوکیشن معلوم نہیں کرسکتا تھا۔۔۔ لیکن جب میں فرح سے ملنے کیلئے سیالکوٹ پُہنچا۔ تب تک گھنشام داس اپنی خباثت کا  ثبوت دیتے ہُوئے ایک ایسا چکر چلانے میں کامیاب ہُوگیا۔کہ،، فرح  اُور، دلشاد  کی فیملی نے اُن دونوں کا نکاح کردیا۔ میں چاہے جتنا بھی عاشق مزاج سہی۔لیکن اتنا بے غیرت نہیں ہُوں۔ کہ،، شادی کے بعد بھی فرح کے  حجلہ میں مداخلت کرتا۔

۔۔ لیکن چند دِن بعد قدرتی طور پر دلشاد کا ایکبارپھر سے ایکسیڈنٹ ہُوگیا۔دلشاد کی ہڈیاں تو پہلے ہی ٹوٹ پھوٹ کا شکار تھیں۔ اسلئے دوسری مرتبہ کا دھچکا وُہ ہڈیاں نہیں سہار سکیں۔ اُور دلشاد ہمیشہ کیلئے معذور ہُوگیا۔ اِس حادثے کے بعد دلشاد کی فیملی کی تمام جمع پُونجی اُور مکان  کی فروخت سے حاصل رقم۔ سب کچھ دلشاد کے علاج میں صرف ہُوگئی۔ ۔۔۔ اسطرح  ایک طرف گھنشام داس تمہارے ہاتھوں ہلاک ہُوگیا۔ جبکہ اُسکی خباثت کی وجہ سے میری محبت کا آشیانہ تنکوں کی مانند بکھر گیا۔۔۔دلشاد نے ہمیشہ کیلئے بستر پکڑ لیا ہے۔ اُورفرح کی مالی حالت بُہت کمزور ہُوچکی ہے۔ اسلئے میں بہانے بہانے سے اُسکی امداد کرنے۔ یا یُوں کہہ سکتے ہُو۔کہ،، اُسکے صبر کا پیمانہ لبریز ہُونے کا نتظار کررہا ہُوں۔۔۔۔

اچھا تو اِس لیئے جناب پورے بیس دِن لاپتہ رہے تھے۔ اُور یہ بات بالکل  ہی بھول گئے۔کہ،، یہاں نفاست صدیقی اپنے دوست کو لانے والے تھے۔ کامل نے شکایت بھرے لہجے میں کہا۔۔۔۔۔۔نہیں یار سیالکوٹ سے تو میں اُسی شام لُوٹ آیا تھا۔ جس رات تمہاری دہلوی سے ملاقات فکس تھی۔۔۔۔ لیکن واپس آتے ہُوئے مجھے درمیان میں یہ خبر مِلی ۔کہ،، تمہاری نرگس کراچی کے سول ہوسپٹل میں اپنی زندگی کی آخری سانسیں لے رہی ہے۔سُو میں سیدھا ہوسپٹل پُہنچ گیا تھا۔۔۔۔ نرگس کا ذکر سُنتے ہی کامل علی پر دیوانگی سی طاری ہُوگئی۔ کیا ہُوامیری نرگس کو۔۔۔؟اب کیسی ہے وُہ۔؟؟؟ کہاں ہے نرگس۔؟؟؟ اُور تم مجھے اتنی دیر سے اپنے عشق کی کہانی سُنارہے تھے۔ جبکہ میری نرگس زندگی اُور موت کی کشمش میں گرفتار تھی۔۔۔ کامل کے منہ سے تھوک کے چھینٹے اُڑنے لگے تھے۔جبکہ لہجے میں چنگاریاں بھری ہُوئی  تھیں۔!!!

دل کی بات۔

مجھے معلوم ہے کہ،، میرے بلاگ پر میری تحریریں پڑھنے کیلئے بُہت سے صاحب علم دوست بھی تشریف لاتے ہیں اُور میری تحریروں کو پسندیدگی کی نگاہ سے بھی دیکھتے ہیں۔۔۔ لیکن وُہ اتنی خاموش سے  بِلا تبصرہ ،،واپس لُوٹ جاتے ہیں۔ جیسے باد نسیم کے جھونکے بنا کچھ کہے جسم کو چُھو جاتے ہیں۔۔۔ میں اُنکی خدمت میں صرف اتنا عرض کرنا چاہتا ہُوں۔کہ،، میں تمام نامساعد حالات کے باوجود لکھنے کی ذمہ داری کسی نہ کسی حد تک پُوری کرنے کی کوشش کررہا ہُوں۔۔۔۔ لیکن آپکی خاموشی۔۔۔۔ بے اعتنائی، بے توجہی، یا بے حسی کے زمرے میں تو شُمار نہیں ہُوتی۔۔۔ اس سوال کا بہترین  جواب، صرف آپکا دِل ہی دے سکتا ہے۔۔۔۔

آپ سب کی دُعاوں کا طلبگار
عشرت اقبال وارثی۔
(جاری ہے)

اُسکا کہنا ہے۔ کِسی اُور کو دیکھوں نہ کبھی
کیوں کہ اُسکو یہ میرا رُوپ بُرا لگتا ہے۔

مجھکو ہر چہرے میں آتاہے نظر اِک وُہ ہی
جُو نہ بھر پائے یہ بہروُپ !!!  ۔بُرا لگتا ہے۔

Wednesday, 27 May 2015

عامل کامل ابو شامل (اُلو کا طلسم) قسط 37



گُذشتہ سے پیوستہ۔

اِس سے پہلے کے میں اِن سوالات کو اپنی زبان پر لاتا۔ جوگی گھنشام داس نے مجھے مخاطب کرتے ہُوئے کہا۔۔۔ میں اَوشے تمہاری شنکا  کو  دُور کیئے دیتا ہُوں۔ تم نے ابھی وچار کرتے ہُوئےاپنی قیمت شُنے (۰) لگائی ہے۔ جس سے میں بہت پربھاوت ہُوا ہُوں۔  سُنو!!!   یہ بات بالکل ست ہے کہ،،میری قوت دَس کے برابر ہے۔ ۔۔۔  پرنتو ایک بات تمہاری بُدھی میں نہیں سماسکی۔ کہ،، کیول شُنے  بے قیمت ہُوتا ہے۔ پرنتو جب  یہ کسی دوسرے ہندسے کے  ساتھ مِل جاتا ہے۔ تو نہ صرف خُود انمول ہُوجاتا ہے۔بلکہ جس سے جڑ جاتا ہے۔ اُسے بھی انمول بنادیتا ہے۔ اِس پرکار میری اِچھا ہے کہ،، تُم مجھ سے مِل جاوٗ ۔ تاکہ میری  سیما  ۱۰ سے بڑھ کر ۱۰۰ پریشت ہُوجائے۔ اُور ہاں میں تمہیں بھیمی دیوی کے بارے میں کیول اتنا بتا سکتا ہُوں۔کہ،، وُہ  ہزاروں ورشُوں سے شکتی کی اَمر دیوی ہے۔ اُور جو بھی  منش اُس دیوی کو پرسن کرنے میں سپھل ہُوجاتا ہے۔ وُہ دیوی اُس منش کیساتھ ایک رات ضرور گُزارتی ہے۔ جسکے بعد وُہ منش بھی ہمیشہ ہمیشہ کیلئے اَمر ہُوجاتا ہے۔

اب مزید پڑھیئے۔

لیکن اِس تمام چکر میں مجھے کیا کرنا ہُوگا؟ میں نے گھنشام داس سے اگلا سوال کیا۔۔۔۔۔ تُمہیں!!! ۔۔۔ تُمہیں کیول میری سہایتا کرنی ہُوگی۔ جس سمے  میں  دیوی کو پرسن کرنے کیلئے اشلوک کا جاپ کروں گا۔ میرے جاپ کو اسنبھو کرنے کیلئے بھیمی دیوی کے بھگت اُور اُسکے تمام وُہ پُتر جو اُن منشوں کی نشانی ہیں۔ جنہیں ایک رات دیوی کی سیوا کا شبھ  سمے پرابت ہُوچکا ہے۔ اوشے آئیں گے۔ تب تمہیں اُن تمام  دَاسوں کو مجھ سے دُور رکھنا ہُوگا۔ یہاں تک کہ،، میری منو کامنا پوری ہُوجائے۔ گھنشام داس نے مجھے سمجھاتے ہُوئے ایسا سُکھ بھرا سانس لیا۔ جیسے وُہ سپنوں میں اپنی کامیابی کا جشن منارہا ہُو۔۔۔ لیکن میں تو اتنا کمزور ہُوں کہ،، تمہارا ہی مقابلہ نہیں کرپایا۔ پھر اتنے طاقتور لوگوں سے اکیلا کیسے لڑپاوٗں گا۔ میں نے اپنے خدشے کا اظہار کیا تو وہ بڑی نخوت سے کہنے لگا۔۔۔۔ اپنی منو کامنا کو ست  کے آکار میں ڈھالنے کیلئے میں نے تجھے بھی شکتی مان بنانے کا اَوش اُوپائے سُوچ رکھا ہے۔ جس کے بعد میں ہمیشہ ہمیشہ کیلئے اَمر ہُوجاوٗنگا۔

میری مثال اُس بھیڑ کے مصداق تھی۔ جسکے پیچھے شیر لگے ہُوں۔ اُور آگے گہری کھائی اُسکی منتظر ہُو۔میں نے  دِل میں خُدا سے معافی مانگتے ہُوئے اُسکی  مدد طلب کی۔ اُور گھنشام داس کی دونوں شرائط قبول کرلیں۔ اُس نے وعدے کیمطابق مجھے نہ صرف آزاد کردیا تھا۔ بلکہ اُس نے میری تمام پاور بھی مجھے  یہ کہتے ہُوئے لُوٹادی تھی۔کہ،،مجھے دھوکہ دیکر میرا اپمان کرنے کی اِچھا بھی اپنے ہردے میں نہیں لانا۔ ورنہ اپنے وردان سے ایسا شراپ دُونگا۔کہ تمام زندگی شما کی بھوگ مانگے گا۔ لیکن تیرا کلیان نہ ہُوپائے گا۔۔۔۔۔۔ آزادی  ملنے کے بعد میں نے اُس علاقے کا جائزہ لینا شروع کیا۔ تو مجھے معلوم ہُوا کہ،، وُہ جگہ بالکل بُھول بھلیوں کی مانند تھی۔  اگرچہ وُہ وادی نہایت دلفریب مناظر سے بھرپور تھی۔۔۔۔ لیکن مجھے ایسا محسوس ہُونے لگا تھا۔ جیسے یہ تمام وادی ایک غبارے کی مانند ہے۔ جہاں سے دُنیا کی گردش کو دیکھا تو جاسکتا تھا۔ لیکن اِس غبارے سے باہر نکلنے کا کوئی راستہ   سجھائی نہیں دیتا تھا۔

گھنشام داس نے  اپنی حفاظت کا ذمہ دینے سے قبل مجھے بُہت سی شکتیاں دیں۔ جنکے ذریعے سے میں لاکھوں بلاوٗں سے بیک وقت خُود کو محفوظ رکھ سکتا  تھا۔اُنہی دنوں مجھ پر ایک انکشاف ہُوا۔کہ،، اِس غبارے نما وادی میں اکیلا میں ہی قید نہیں تھا۔ بلکہ کچھ انسانوں کو بھی گھنشام داس نے قیدی بنا رکھا تھا۔۔۔ اُن میں ایک عامل  شرف قلندری نام  کا بھی قیدی تھا۔۔۔ چونکہ شرف بھی مسلمان تھا اُور میں بھی اسلئے فطری طور پر میں شرف کے نذدیک ہُوتا چلا گیا۔ پھر ایکدن شرف نے ہی مجھے بتایا کہ،، ہماری آزادی تب تک ہی قائم ہے۔ جب تک کہ،، گھنشام داس اپنا مقصد حاصل نہیں کرلیتا۔ اُور جونہی اُسے بھیمی دیوی کا قرب حاصل ہوجائے گا۔ وُہ اِس وادی کو اپنے تمام رازوں سمیت ہمیشہ کیلئے نابود کردے گا۔ تاکہ دُنیا میں کوئی اُسکی کمزوری نہ جان سکے۔۔۔۔کیا اِسکی کوئی کمزوری بھی ہے۔؟؟؟ میں نے اشتیاق سے شرف  قلندری سے معلوم کیا۔۔۔شرف نے مجھے   خاموش رہنے   کا اِشارہ دیکر  زمین پر  انگلی سے کچھ لکھنا شروع کردیا۔ جسے سمجھنے کیلئے میں مزید جھک کر پڑھنے لگا۔

 اُس نے لکھ کر بتایا۔کہ،،  یہ وادی ایک طلسم کی  دُنیا ہے۔ اُور اِس تمام طلسم کی چابی ایک سفید اُلو ہے۔ جو  اِس غبارہ نما جنگل میں ہی موجود ہے۔ اگر کسی طرح اُس اُلو کو ہلاک کردیا جائے۔ تو یہ غبارے نما طلسم ٹوٹ جائے گا۔ اُور ہم گھنشام داس کی گرفت سے آزاد ہُوسکتے ہیں۔۔۔  اسلئے میں بھی اُس اُلو کو تلاش کررہا ہُوں۔ اگر وُہ سفید اُلو تمہیں پہلے نطر آجائے۔ تو فوراً اُسے ہلاک کرڈالنا۔ اُور یہاں سے بھاگتے ہُوئے ایک بات کا خیال رکھنا کہ ،، صرف مغرب کی جانب دوڑنا۔ ورنہ ہم پھر سے گھنشام داس کا شکار بن سکتے ہیں۔ اتنا لکھنے کے بعد اُس نے زمین پر لکھی تمام تحریر ہاتھ پھیر کا مِٹا دالی۔

مجھے  گھنشام  داس کی نیت پر پہلے سے ہی شُبہ تھا۔ لیکن شرف قلندری کی دلیل نے رہے سہے ابہام بھی ختم کردیئے تھے۔ اب میں کسی قیمت پر بھی گھنشام داس  کے وعدے پر  بھروسہ نہیں کرسکتا تھا۔۔۔ لیکن نجانے یہ سفید اُلو والی کہانی سچ بھی تھی۔ یا شرف قلندری کی  کوئی ذہنی اختراع تھی۔ اب اسکا فیصلہ تو سفید اُلو کے دریافت ہُونے کے بعد ہی ہُوسکتا تھا۔۔۔۔۔۔ میں بظاہر گھنشام داس کے حُکم پر خود کو عملیات کے ذریعہ سے مضبوط بنارہا تھا۔ لیکن درحقیقت مجھے اُس سفید اُلو کی تلاش تھی۔ جو بقول شرف قلندری اِس طلسم کی چابی تھا۔ ایک شام  میں  وادی میں چہل قدمی کیساتھ ساتھ  اپنا  وظیفہ بھی پڑھ رَہا تھا۔اُور صدقِ دل سے اللہ کریم سے دُعا بھی کررہا تھا۔کہ،، مجھے آسانی اُور اِمداد عطا فرمادے۔ اتنے میں میرے کانوں میں ایک سیٹی نما آواز گونجی۔۔ میں بے اختیار آواز کی سمت کا تعین کرنے لگا۔ تبھی میری دبی دَبی چیخ نکل گئی۔ میں نے چیڑ کے ایک انتہائی بُلند پیڑ پر اُس سفید اُلو کو دیکھ لیا تھا۔ اُور مجھے انتہائی مُسرت حاصل ہونے لگی۔ جب میں نے اُسے ایک گھونسلے میں داخل  ہُوتے دیکھا۔۔۔ میں دِل ہی دل میں اللہ کریم کا شُکراَدا کرنے لگا۔جس نے آسانی کا  راستہ مجھ گنہگار پر کھول دیا تھا۔

دوسرے دِن جب میں نے سفید اُلو کی بابت شرف قلندری کو  اشارے کنایہ میں بتایا ۔ تو ایک اطمینان بخش مسکراہٹ شرف کے چہرے پر بھی پھیل گئی۔ اگلے دِن تک شرف نے انتہائی رازداری سے ایک دو شاخہ لکڑی اور لچکیلی چھال کی مدد سے ایک غلیل تیار کرکے اُنہی درختوں کے نذدیک چھپادی تھی۔  اُور حُسن اتفاق کہیئے  ۔ بلکہ اللہ کریم کی مدد  سمجھیئے۔ کہ ،، اگلے ہی دن جب شرف غلیل کا معائنہ کررہا تھا۔تبھی وُہ سفید اُلو بلندی سے پرواز کرتے ہُوئے  اچانک کسی چوہے کو دیکھ کر ہمارے قریب جھپٹا۔۔۔  شائد شرف قلندری اُسکا اِرادہ بھانپ چکا تھا۔ اسلئے جیسے ہی وُہ شرف کے نشانے کی ذد میں آیا۔ شرف نے ایک نوکیلا پتھر غلیل کے ذریعے اُلو کی جانب داغ دیا۔ پتھر کی نوک نے اُلو کو  اگرچہ زخمی کردیا تھا۔ لیکن وُہ اپنے شکار کو چھوڑنے پر آمادہ نہیں تھا۔ اُلو نے مُڑ کر ایک غضبناک نگاہ  ہم دُونوں پر ڈالی۔ اُور اُسی وقت وُہ  ایک درخت سے ٹکرا کر زمین پر گر پڑا۔ شائد قدرت ہمیں  آزادی حاصل کرنے کیلئے ایک بھرپور موقع دینا چاہتی۔ میں نے دوڑتے ہُوئے ایک بڑا سا پتھر اُٹھالیا۔ اُلو نے بھی موقع کی نزاکت بھانپ کر شکار چھوڑ دینا مناسب سمجھا۔ لیکن تب تک میں اُس کے قریب پُہنچ کر اُسکے بڑے سے سر کو نشانہ بنا چکا تھا۔ وُہ ایک مرتبہ پھڑپھڑاکر جونہی لہرایا۔ تو میں نے وحشت سے اُسکے سر کو کچلنا شروع کردیا۔۔ تھوڑی ہی دیر میں اُلو کی سانس تھمنے لگی۔ تو سارے جنگل میں چیخوں کا سیلاب اُمنڈنے لگا۔ تبھی مجھے شرف قادری نے چیخ کر مخاطب کرتے ہُوئے خبردار کیا۔ ابو شامل میرے ساتھ مغرب کی جانب دوڑو۔۔۔۔ اگر آج یہ موقع گنوادیا تو ہم ہمیشہ کیلئے گھنشام داس کے عتاب کا نشانہ بن  کر رِہ جائیں گے۔

دل کی بات۔
مجھے معلوم ہے کہ،، میرے بلاگ پر میری تحریریں پڑھنے کیلئے بُہت سے صاحب علم دوست بھی تشریف لاتے ہیں اُور میری تحریروں کو پسندیدگی کی نگاہ سے بھی دیکھتے ہیں۔۔۔ لیکن وُہ اتنی خاموش سے  بِلا تبصرہ ،،واپس لُوٹ جاتے ہیں۔ جیسے باد نسیم کے جھونکے بنا کچھ کہے جسم کو چُھو جاتے ہیں۔۔۔ میں اُنکی خدمت میں صرف اتنا عرض کرنا چاہتا ہُوں۔کہ،، میں تمام نامساعد حالات کے باوجود لکھنے کی ذمہ داری کسی نہ کسی حد تک پُوری کرنے کی کوشش کررہا ہُوں۔۔۔۔ لیکن آپکی خاموشی۔۔۔۔ بے اعتنائی، بے توجہی، یا بے حسی کے زمرے میں تو شُمار نہیں ہُوتی۔۔۔ اس سوال کا بہترین  جواب، صرف آپکا دِل ہی دے سکتا ہے۔۔۔۔
آپ سب کی دُعاوں کا طلبگار

عشرت اقبال وارثی۔

(جاری ہے)

اُسکا کہنا ہے۔ کِسی اُور کو دیکھوں نہ کبھی
کیوں کہ اُسکو یہ میرا رُوپ بُرا لگتا ہے۔

مجھکو ہر چہرے میں آتاہے نظر اِک وُہ ہی
جُو نہ بھر پائے یہ بہروُپ !!!  ۔بُرا لگتا ہے۔

جال ۔ در ۔ جال قسط 5


جال ۔ در ۔ جال قسط 5

گُذشتہ سے پیوستہ

اور اسطرح میرے دُوست( سُود ۔در۔ سُود) کے اس نظام نے نہ صرف میرے والد اور اُنکے تین دُوستوں کی زندگی سے ہمیشہ کیلئے خُوشیاں چھین لیں۔ بلکہ کئی اور لوگوں کو بھی اپنے ظُلم کا نِشانہ بناڈالا۔ جنکا قصور شائد صرف اتنا تھا کہ وہ اپنی زندگی میں کُچھ آسانیاں تلاش کرنے کیلئے کوئی آسان راستہ ڈھونڈ رہے تھے ۔ جبکہ درحیقت اُن لوگوں کا بنک سے کوئی معاملہ ہی نہیں تھا۔ اور بنک کو بھی یہ بات معلوم تھی ۔اور اُنہوں نے انویسٹرز والے آئیڈئیے کی منظوری دیتے ہُوئے میرے والد اور اُنکے دوستوں کو یقین دِہانی کرائی تھی ۔کہ اگر کبھی بنک کاروائی ہُوئی بھی تُو اِن انویسٹرز کا بہرحال خیال رکھا جائے گا۔فرقان کی آواز آخری جُملے ادا کرتے ہُوئے بَھرَّا سی گئی تھی۔

لیکن فرقان اس تمام مُعاملے میں مجھے بنک سے زیادہ تُمہارے والد اور اُنکے ساتھیوں کی غلط پلاننگ نظر آرہی ہے۔ کیا ضروری ہے کہ جُو غلطی تُمہارے والد نے کی تھی۔ ہم بھی اُسی غلطی کو دُھرائیں۔۔۔؟ نعمان نے تمام گُفتگو سننے کے بعد اپنی رائے دیتے ہُوئے کہا۔

نُعمان کی بات سُن کر فرقان کا مُنہ حیرت سے کُھلا کا کُھلا رِہ گیا۔۔۔۔ اُسے ہرگز توقع نہیں تھی۔ کہ نُعمان اُسکی داستان سننے کے بعد بھی بنک لُون کی حمایت میں کُچھ کہہ سکتا ہے۔

اب مزید پڑھیئے۔

فُرقان ابھی پہلے سوال کی حِیرت سے نہیں نِکل پایا تھا ۔کہ نعمان نے دوسرا سوال داغتے ہُوئے کہا،، اور فرقان تُم نے جو ابھی مجھے اپنی زندگی کی تکلیف دَہ داستان سُنائی ہے۔ اس میں زندگی کی اُونچ نیچ کا تذکرہ تُو ضرور موجود ہے۔ لیکن مجھے اِس تمام واقعہ میں ایسی کوئی بات نظر نہیں آئی کہ جِسے زمانے سے چھپایا جائے اور جِسے یاد کرنے سے شرمندگی کا احساس ہو۔

نُعمان تُم نے وہ مِثال تُو ضرور سُنی ہُوگی کہ،، عقلمند کے لئے اِشارہ کافی،، بس میں بھی یہی سُوچ کر واقعہ کی جُزئیات میں نہیں گیا تھا کہ واقعہ سُن کر تم بھی اسکے دوسرے پہلو سے خُود آگاہ ہُوجاؤ گے۔ فرقان نے اپنا گَلا کھنکارتے ہُوئے چند لمحوں کیلئے توقف کیا اسکے بعد جواب دیتے ہُوئے اپنی بات کو جاری رکھتے ہُوئے مزید کہا ۔ میرے بھائی جِس وقت ہم فیصل آباد میں مقیم تھے اور فیکٹری بنک نے ضبط کرلی تھی۔ اُس وقت قرض خُواہ جِس طرح ہمارے گھر پر جمع ہُوجایا کرتے اور ہم تمام مُحلہ میں تماشہ بن جایا کرتے تھے۔ تُم شائد اسکا تصور بھی نہیں کرسکتے۔ کئی مرتبہ ایسا بھی ہُوا کہ قرض خُواہ بِلا اِجازت گھر میں داخل ہُوجاتے ۔اور جب میری والدہ اُنکے اِس عمل پر احتجاج کرتیں۔ تب وُہ وُہ شرمناک جُملے ہم بہن بھائی سنتے کہ ہم سہم کر کبھی غُسل خانے میں تُو کبھی کچن میں چھپ جایا کرتے۔

اُن قرض خُواہوں میں سے اکثر لوگ مڈل کلاس طبقہ سے تعلق رکھنے والے تھے۔ جنکی بیچاروں کی تمام عُمر کی پُونجی داؤ پر لگی تھی۔ کسی نے وہ پیسہ اپنی بچی کی شادی کیلئے سنبھال رکھا تھا۔ تُو کوئی بڑھاپے میں حج کا خُواہشمند تھا۔ اور کسی نے شائد اپنے آخری دِن آرام سے گُزارنے کیلئے وہ رقم بچا رکھی ہُو۔ جِسے وہ زیادہ مُنافع کیلئے گَنوا چُکے تھے۔ اگرچہ ابا جان نے وہ رقم کِسی بُرے اِرادے کے پیش نظر حاصِل نہیں کی۔ اور نہ ہی اُنکا کوئی ایسا اِرادہ تھا۔ کہ وہ رقم اَدا نہیں کرنا چاہتے ہُوں۔ لیکن حالات اور واقعات ایسے ہُوچُکے تھے۔ کہ بظاہر کوئی ایسا راستہ بھی نظر نہیں آرھا تھا۔ جسکے سبب جلد رقم لُوٹائی جاسکے۔ فقط ایک اُمید تھی کہ بنک منیجر نے اُمید دِلائی تھی کہ اُسکی نظر میں ایک پارٹی ہے۔ جو شائد بنک کی تمام رقم کے عوض فیکٹری خریدلے۔ لیکن یہ بات بھی مفروضے پر قائم تھی ۔ اور اسکے لئے وقت بھی چاہیئے تھا۔ جبکہ وہ لوگ جنکی رقم لگی تھی ۔ اُنہیں لگتا تھا کہ شائد اباجان اور اُنکے دوستوں نے رقم خُوردبرد کردِی ہے۔ ابا جان اُن لوگوں سے بے حد ہمدردی رکھتے تھے۔ اِس لئے اُنکی کِسی بات کا بُرا بھی نہیں مناتے تھے۔وہ کہتے تھے کہ اِن بیچاروں کا کوئی قصور نہیں ہے بلکہ یہ سب تُو ہمارے مُحسن ہیں۔ جنہوں نے بُرے وقت میں ہمارا ساتھ دِیا ہے۔ اور ابا جان شائد کبھی بھی فیصل آباد سے ہجرت نہ کرتے اگر وہ واقعہ پیش نہ آجاتا۔ اتنا کہنے کے بعد فرقان خاموش ہُوکر اپنی پیشانی سے پسینہ پُونچھنےلگا۔

ایسا کونسا واقعہ پیش آگیا تھا فرقان جِس نے تُمہارے ابا جان کی سُوچ کو یکسر بدل کر رکھ دِیا تھا ۔ نعمان نے بے چینی سے پہلو بدلتے ہُوئے وال کلاک پر نظر ڈالی جو رات کے بیت جانے کی طرف اِشارہ کررہی تھی۔

یہ واقعہ ہمارے ہجرت کرنے سے آٹھ دَس روز قبل کا تھا۔ جب ایک شخص اپنے کِسی رشتہ دار کو اُس دِن ہمارے گھر لے آیا تھا۔ وہ شخص دندناتا ہَوا ہمارے گھر میں داخِل ہُوگیا تھا۔ اُس وقت اَمَّاں رات کے لئے کچن میں کھانا تیار کررہی تھیں ۔ جبکہ اباجان مُصَّلے پر نوافل ادا کررہے تھے۔ جبتک ابا جان نے سلام نہیں پھیرا وہ اَماں سے بدتمیزی کرتا رہا۔ اور جونہی ابا جان سلام پھیر کر کھڑے ہُوئے اُس شخص نے ابا جان کا گریبان پکڑ کر اباجان کو دھمکیاں دیتے ہُوئے بتایا کہ وہ منشیات کا دھندہ چلاتا ہے۔ اور پُولیس بھی اُسکے نام سے خُوف کھاتی ہے ۔ وغیرہ۔ وغیرہ۔ اُس وقت ہم دونوں بہن بھائی صحن میں بیٹھے اپنے اسکول کا ہُوم ورک نمٹانے میں مصروف تھے۔ لیکن جب سے وہ شخص گھر میں داخل ہُوا تھا۔ ہم دہشت کے عالم میں اِس تمام معاملے کو دیکھتے ہُوئے جلد از جلد اُس شخص کے چلے جانے کی دِل ہی دِل میں دُعا مانگ رہے تھے۔

ایک تُو اُس شخص کا چہرہ ہی کافی ڈراؤنا تھا ۔اوپر سے اُسکی آواز بھی ایسی تھی جیسے گویا وہ بات نہ کررہا ہُو بلکہ مست ہاتھی کی طرح چنگھاڑ رَہا ہُو۔ آخر میں جب وہ تمام دھمکیاں دے چُکا تب اُس نے ابا جان کا گریبان چھوڑتے ہُوئے ہماری جانب دیکھ کر اباجان سے آخری جُملہ کہا،، دیکھو سات دِن کے اندر اندر رقم کا انتظام کرلینا۔ ورنہ۔۔۔۔۔۔۔۔ اتنا کہنے کے بعد اُس نے ایک مرتبہ پھر ہم دونوں کی جانب معنی خیز نظروں سے دیکھا اور واپس لُوٹ گیا۔ہم دونوں بہن بھائی خُوف کے عالم میں اباجان سے لپٹ گئے اَمَّاں بھی اُس دِن بے حد خُوفزدہ ہُوگئیں تھی۔ ابا جان ہم سب کو دِلاسہ دے رہے تھے مگر آج اُنکی ڈھارس میں کھوکھلا پن صاف عیاں تھا۔ مُحلہ والوں کیلئے یہ روزانہ کا تماشہ تھا اسلئے اُس دِن بھی کِسی نے آکر معاملے کی چھان بین نہیں کی۔

اِس واقعہ کے آٹھویں دِن ایک عجیب واقعہ پیش آگیا۔ عموماً ہم دونوں بہن بھائی اسکول سے دوبجے تک گھر پُہنچ جایا کرتے تھے لیکن اُس دِن ڈھائی بج گئے اور میری بہن اسکول سے گھر نہیں آئی اَماں کا تشویش سے بُرا حال تھا۔ اور اباجان بار بار اماں کو دِلاسہ دے رہے تھے۔ کہ ابھی آجائے گی لیکن جُوں جُوں وقت گُزرتا جارہا تھا ابا کی پیشانی پر بھی تفکرات کے سائے دراز ہُونے لگے تھے۔ بلآخر پونے تین بجے ابا جان اسکول جا پُہنچے وہاں صفائی کرنے والے نے بتایا کہ اسکول میں کوئی موجود نہیں ہے تمام بچیاں پونے دو بجے ہی اسکول سے جاچُکی ہیں۔

میری بِہن کی ایک ٹیچر کا گھر اسکول سے نزدیک ہی واقع تھا۔ اباجان نے اُنکے گھر کا دروازہ جا کھٹکایا۔ وہاں جاکر معلوم ہُوا کہ میری بہن اسکول سے چُھٹی کے وقت سب بچیوں کیساتھ ہی روانہ ہُوئی ہے۔ اباجان کو کُچھ ڈھارس ہُوئی لیکن جب گھر آئے تو معلوم ہُوا کہ وہ ابھی تک گھر نہیں پُہنچی ہے۔ پھر کیا تھا ہم نے اُسکی سبھی سہیلیوں ،ہسپتال اور تھانے میں بھی معلومات کر ڈالی لیکن وہ نہیں مِلی۔ یہاں تک کہ سورج ڈوب گیا اَمّاں نے رُو رُو کر اپنی آنکھیں سُجَّالیں۔ پھرا مَّاں کو نجانے کسطرح اُس بدمعاش کا خیال آگیا وہ چِلَّا چِلَّا کر اُس بدمعاش کو کوسنے لگیں۔ اُنکا خیال تھا کہ ہُو۔نہ۔ ہُو۔ یہ اُسی بدمعاش کی کارستانی ہے۔ جبکہ اباجان کا خیال تھا کہ وہ صرف بھڑک لگانے والا شیر تھا۔ لیکن اَمَّاں کے بار بار اِصرار پر بِلآخر ابا تھانے جانے کیلئے اُٹھ کھڑے ہُوئے۔ ابا جان کے جاتے ہی اَمَّاں وظائف کی کتاب سے نجانے کون کُون سی دُعائیں پڑھنے میں مشغول ہُوگئیں تھیں۔

ابھی اباجان کو گھر سے گئے دَس منٹ کا بھی عرصہ نہ گُزرا ہُوگا ۔کہ دروازے پر پڑنے والی زور دار دستک پر امَّاں نے جب دروازہ کھولا تو میری بہن اباجان کے ساتھ دروازے پر موجود تھی ۔اماں نے آگے بڑھ کر میری بہن کو گلے لگالیا ۔ اور وہیں رُوتے ہُوئے اُسکا احوال معلوم کرنے لگیں اباجان کِسی طرح دونوں کو اندر لے آئے۔

کُچھ دیر بعد میں میری بہن کے حواس بحال ہُوئے تُو اُس نے بتایا کہ اسکول سے واپس آتے ہُوئے اُسی بدمعاش نے میری بہن کو ایک سنسان جگہ پر اغوا کرنے کی کوشش کی تھی۔ اسکے ساتھ اُسکا ایک ساتھی اور بھی تھا۔ جو گاڑی کی ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھا تھا۔ جبکہ وہ بدمعاش اُسے گھسیٹ کر گاڑی میں ڈالنا چاہتا تھا۔ کِسی طرح میری بِہن نے اُسکی کلائی اپنے دانتوں سے کاٹ ڈالی۔ درد کی شِدت سے جُونہی اُس بدمعاش نے میری بہن کو چند لمحوں کیلئے گالیاں بکتے ہُوئے چُھوڑا۔ میری بِہن اس موقع کا فائدہ اُتھاتے ہُوئے وہاں سے فرار ہُوگئی اور راستہ میں ایک ادھوری نو تعمیر عمارت میں چھپ گئی۔ تمام دِن اُس بدمعاش کے خُوف سے اُس بلڈنگ سے نہیں نِکلی اور جیسے ہی سورج ڈوبا وُہ اندھیرے کا فائدہ اُٹھا کر وہاں سے نِکل آئی۔ میری بِہن کا خُوف سے بُرا حال تھا۔ وہ جِسے کہ ایک دن بھی اسکول سے چُھٹی گَوارا نہیں تھی ہذیانی کیفیت میں بار بار چِلَّا کر کہہ رہی تھی کہ اب وہ کبھی اسکول نہیں جائےگی۔ بس اُسی رات ابا نے اپنے دوستوں کو تمام حالات بتا کر اجازت حاصل کی۔ قرض خُواہوں سے شفقت کی تاکید کی۔ اور ہم ہجرت کرکے سندھ چلے آئے۔

یہ تھے میرے بھائی وہ مختصر حالات جنہیں آج بھی جب میں غلطی سے بھی یاد کرلیتا ہُوں تُو میرے رونگھٹے کھڑے ہُوجاتے ہیں ۔ اسلئے مجھے اپنے ماضی کو کُریدے جانے سے ڈرلگا کرتا تھا۔ کیونکہ اِن واقعات کے یاد آجانے سے مجھ پر عجیب سی وحشت سوار ہُوجایا کرتی تھی۔ اور تُمہارے پہلے سوال کا جواب دینے سے قبل میں بھی تُم سے صِرف ایک سوال کرنا چاہتا ہُوں۔۔۔۔ اور وہ یہ کہ،، کیا اگر تُمہارا ملازم اگر تُم سے کسی معاملے میں ضد باندھ لے، تُمہارے احکامات کو ماننے سے صاف انکار کردے اور تُمہاری دُشمنی پر اُتر آئے۔ تب کیا وہ تُم سے تُمہاری ہی فیکٹری میں جیت پائے گا اور کیا تُم اسے ملازمت پر قائم رکھنا چاہو گے۔۔۔۔؟ فرقان اتنا کہہ کر نعمان کی جانب غور سے دیکھنے لگا۔

یہ کیا بات ہُوئی فرقان کہ تُم نے میرے سوال پر ہی ایک سوال قائم کردِیا۔ لیکن میرا جواب تُم خُود بھی جانتے ہُو کہ میں ایسے انسان کو اپنی مُلازمت میں ایک گھنٹہ تُو کُجا ایک لمحے کیلئے بھی برداشت نہیں کرونگا چاہے مجھے اسکے لئے دُنیا بھر کی فلاحی تنظیموں سے لڑنا پڑے یا مجھے عدالت میں ہی کیوں نہ جانا پڑجائے۔ لیکن میں شکست تسلیم نہیں کرونگا۔ اور نہ ہی اُس مُلازم کو چین سے رہنے دُونگا۔ جو میری ہی فیکٹری سے رزق بھی حاصِل کرے اور مجھ سے ہی دُشمنی باندھے۔ نعمان نے جوشیلے انداز میں جواب دیتے ہُوئے کہا۔

(
جاری ہے)

پلکوں سے دَرِّ یار پہ دستک دینا
اُونچی آواز ہُوئی عُمر کا سرمایہ گیا

Tuesday, 26 May 2015

عامل کامل ابو شامل (بھیمی دیوی) قسط 36




گُذشتہ سے پیوستہ۔

سات دِن بھی نہیں گُزرے ہُوں گے۔کہ،، ایکدن فرح کی امی فرح کو بتارہی تھیں۔ کہ،، آج دلشاد کی امی کسی خاص کام سے ہمارے گھر آرہی ہیں۔ البتہ اُنہوں نے یہ نہیں بتایا۔کہ،، وُہ خاص کام آخر ہے کیا؟؟؟؟ فرح  اپنی امی کو تشویش بھری نگاہوں سے دیکھتے ہُوئے استفسار کرنے لگی۔ امی آپکو کیا لگتا ہے۔؟؟؟ کہیں وُہ دِلشاد سے میرا رشتہ تو ختم کرنے کا نہیں سُوچ  رہیں؟؟؟؟ نہیں بٹیا ایسا نہیں سُوچتے!!!! حالات چاہے کتنے ہی انسان کے خلاف ہُوجائیں ۔ لیکن اِنسان کو ہمیشہ خیر کی ہی طلب کرنی چاہیئے ۔ اُور ہمیشہ اچھا اُور مثبت پہلو ہی تلاش کرنا چاہیئے۔ فرح کی امی نے فرح کو دِلاسہ دیتے ہُوئے کہا۔۔۔۔۔ لیکن میں فرح کی سُوچ سے سُو فی صد متفق تھا۔ اُور میرے دِل میں خُوشی کے لڈو بلکہ شہنائیاں بھی گونجنے لگی تھیں۔۔۔ شام کو دِلشاد کی والدہ گھر میں داخل ہُوئیں۔ تو اُنکے ساتھ ایک جُوگی نما شخص بھی برآمد ہُوا۔۔۔ اُور یہ جُوگی نما شخص کوئی اُور نہیں بلکہ گھنشام داس تھا۔ جو بعد میں  تمہارے ہاتھوں جہنم رسید ہُوا تھا۔۔۔۔۔گھنشام داس کا تذکرہ سُن کر کامل علی کے بدن میں سرسری دوڑ گئی۔

اَب مزید پڑھیئے۔

گھنشام داس سے یہ میری پہلی مُلاقات تھی۔ اسلئے میں نے اُس جُوگی کو بھی  ڈھونگی قاری کی طرح اہمیت نہیں دِی۔ لیکن جسطرح اِس جوگی نے میرے وجود پر مستقل اپنی نظریں گاڑی ہُوئی تھیں۔ اُس سے صاف پتہ چل رہا تھا۔کہ،، جوگی گھنشام ناصرف میری موجودگی سے باخبر ہے۔بلکہ  یہاں پر موجود لوگوں میں وُہ واحد شخص ہے۔ جو مجھے دیکھ بھی رہا ہے۔۔ میں نے جواب میں اُسے دیکھ کر  گھورنا شروع کردیا۔ اُس کے چہرے پر مکارانہ مسکراہٹ در آئی تھی۔ میں بے فکری سے فرح کے بیڈ پر بیٹھا  اُس جوگی کی کسی حرکت کا منتظر تھا۔ جبکہ وُہ جوگی مسلسل زیر لب کوئی جاپ کررہا تھا۔  اچانک میرے کانوں میں مندر کی ہزاروں گھنٹیاں بجنے لگیں۔ یہ شُور رفتہ رفتہ بڑھتا ہی چلا جارہا تھا۔ جب یہ شُور میری قُوتِ برداشت سے باہر ہُونے لگا ۔ تو میں نے بے ساختہ اپنی انگلیاں اپنے کانوں میں ٹھونسنے کی کوشش کی۔ لیکن شائد میری بے توجہی کی وجہ سے بُہت دیر ہُوچکی تھی۔  جُوگی کا ہیولا دھیرے دھیرے میری نگاہوں کے سامنے دھندلانے لگا تھا۔ اُور میری حالت اُس سانپ سے بالکل بھی مختلف نہیں تھی۔ جو کسی سپیرے کی بین کو دیکھ کر جھومنا شروع کردیتا ہے۔

مجھے نہیں معلوم میری مدہوشی کے بعد جوگی گھنشام داس نے فرح کی فیملی کو کیا کچھ بتایا۔ اُور وُہ میرے ساتھ کسطرح پیش آیا۔ اُور نہ ہی مجھے یہ معلوم تھا۔کہ،، میں کتنے دِن مدہوشی کے عالم میں انٹا غفیل رَہا۔ جب میں نے آنکھ کھولی تو میں نے اپنے تمام بدن کو مکڑی کے جالوں  جیسی کسی شئے میں مقید پایا۔ میں نے لاکھ کوشش کی کہ،، کسی طرح اِن جالوں سے اپنے جسم کو آزاد کروانے میں کامیاب ہُوجاوٗں۔۔۔ لیکن جسقدر میں کوشش کرتا مجھے اپنی سانس  مزید سینے  میں گھٹتی محسوس ہُوتی۔ جسکی وجہ سے جلد ہی میں میں نے خُود کو آزاد کروانے کی کوشش ترک کردی۔۔۔ میں نے  ٹیلی پیتھی کے ذریعے سے فرح کا حال جاننے کا اِرادہ کیا۔ تب مجھے معلوم ہُوا۔کہ،، میری تمام روحانی اُور ذہنی صلاحیتیں بھی  میری آزادی کی طرح صلب ہوچکی ہیں۔جوگی گھنشام داس نے نہایت مکاری سے مجھے کسی کمزور چوہے کی مانند پنجرے میں مقید کردیا تھا۔۔۔ اب مجھے صرف جوگی گھنشام داس کی آمد کا انتظار تھا۔ کہ،، وُہ آئے اُور مجھ سے میری آزادی کی  منہ مانگی قیمت وصول کرنے کے بعد مجھے پھر سے آزاد کردے۔۔۔

لیکن  وُہ انتظار کی  تکلیف دہ گھڑیاں میں کبھی نہیں بُھلا سکوں گا۔ جو مجھے گھنشام داس نے بلا جواز تحفے میں دی تھیں۔ میرا اُس سے کوئی ذاتی جھگڑا نہیں تھا۔ لیکن اُس نے پھر بھی میرے معاملے میں  اپنی حدود سے تجاوز کیا تھا۔۔۔ جبکہ مجھے اِس بات پر بھی بُہت حیرت تھی۔ کہ،، گھنشام داس نے آخر مجھے ایسی کونسی جگہ پر قید کردیا ہے۔ کہ،، جسکی اطلاع ابھی تک میرے والدین کو حاصل نہیں ہُوپائی۔ وگرنہ ایسی صورتحال ہم جنات کیلئے نئی نہیں تھی۔ اکثر ہماری قوم کے جناتوں کو انسان  اپنے مقاصد کے حصول کیلئے قید کرلیا کرتے ہیں۔ جنکی اطلاع  بابا جان کو ہُوجاتی تھی۔ اور پھر معملات طے کرلئے جاتے تھے۔ پھر میرے اغوا کی خبر ابتک کیوں میرے گھر والوں کو نہیں ہُوسکی؟؟؟ اُور اسکا ایک ہی جواب میرے دماغ میں آرہا تھا۔کہ،، جس علاقے میں مجھے گھنشام داس نے قید کیا ہے۔ وُہ علاقہ  ضرور گھنشام داس نے اپنے کسی خاص حصار میں باندھ رکھا ہے۔ ورنہ میرے بدن کی خُوشبو آسانی سے میرے گھر والوں کو میرا پتہ بتاسکتی تھی۔

میرا خیال ہے کہ تقریباً  چھ ماہ کے بعد  اچانک ایکدن گھنشام داس  مجھ سے ملنے میرے پاس آیا۔ اگرچہ اُسکا انداز بڑا ہی لاپرواہی کا تھا۔ لیکن میں صاف محسوس کرسکتا تھا۔کہ،، وہ مجھ سے اپنی پریشانی چھپانے کی کوشش کررہا ہے۔۔۔ میں نے اُس پر واضح کیا کہ،، مجھے  مزیدقید کرنے کا انجام  تمہارے لئے نہایت  خوفناک ثابت ہُوسکتا ہے۔۔۔۔ اُس نے پھیکی سی طنز بھری مسکراہٹ چہرے پر سجاتے ہُوئے جواب دیا،، اب تُم مجھے یہ مت بتانے بیٹھ جانا کہ،، تمہارے والد اپنی ریاست کے راجہ ہیں۔ جبکہ کئی ریاستوں کے راجہ تمہارے والد کے زیر نگر ہیں۔ کیونکہ یہ تمام باتیں مجھے اُس وقت بھی معلوم تھیں ۔ جب میں تمہارے غرور کو چکنا چُور کرتے ہُوئے اپنے ڈیرے تک تمہیں گھسیٹ لایا تھا۔۔۔۔۔

 جب تُم سب کچھ جانتے ہُو۔ تو آخر مجھے قید کرنے کی وجہ کیا ہے۔ جبکہ میرا تُم سے کوئی ذاتی جھگڑا بھی نہیں ہے۔۔۔؟ میں حیرت سے گھنشام داس کے چہرے کو تکتے ہُوئے استفسار کرنے لگا۔۔۔۔ میں بغیر وجہ کے کوئی کام نہیں کرتا سمجھے!!! دلشاد کی والدہ میری عقیدت مند ہے۔ اُور اُسی کی خاطر میں اتنے چھوٹے کام کیلئے رضامند ہُوا تھا۔۔۔ اب چونکہ تُمہیں کافی سزا مِل چُکی ہے۔ اِس لئے میں تمہیں چھوڑ سکتا ہُوں۔۔ لیکن اس سے پہلے تمہیں مجھ سے کچھ وعدے کرنے ہُونگے۔۔۔۔ کیسے وعدے؟؟؟ میں نے بیتابی سے گھنشام داس سے سوال کیا۔
پہلا وعدہ تو یہ کہ،، تمہیں قسم اُٹھانی ہُوگی۔کہ،، تم براہ راست کبھی میرے سامنے نہیں آوٗ گے۔ نہ ہی کبھی مجھ پر جوابی حملہ کرو گے۔ جبکہ دوسرا وعدہ یہ بھی کرنا ہُوگا۔کہ،، آجکل میں بھیمی دیوی  کو  اپنے  وَش میں کرنے کیلئے جو جاپ کررہا ہُوں۔ تو تُم مجھے بھیمی  دیوی کو پرسند  کرنے میں سہایتا کروگے۔ اگر تُم  اپنے دھرم کیمطابق شپت لیکر مجھ سے وعدہ کرو۔ تو میں بھی تمہیں آزاد کرنے کا نرنے لے سکتا ہُوں۔ گھنشام داس نے اپنی داڑھی کھجاتے ہُوئے  میری جانب دیکھا۔۔۔۔۔ میرے پاس اسکے سوائے کوئی راستہ نہیں تھا۔کہ،، میں بلاچُون چراں گھنشام داس کی دونوں شرائط مان لیتا۔ لیکن ایک بات مجھے  بہت ذیادہ کھٹک رہی تھی۔ چونکہ میں گھنشام داس کی طاقت کے مظاہرے دیکھ چکا۔ اُور مجھے یہ بھی معلوم ہُوچکا تھا۔کہ،، جوگی گھنشام داس کے سامنے میری طاقت صفر سے ذیادہ نہیں تھی پھر اُسے میری مدد کی ضرورت کیوں پیش آرہی ہے۔ اُور جو کام خُود جوگی گھنشام داس کیلئے اتنا مشکل ثابت ہُورہا ہے ۔ بھلا اُس کام میں  وُہ مجھے کیوں شامل کرنا چاہتا ہے۔؟؟؟ اُور آخر یہ بھیمی دیوی ہے کس بلا کا نام؟

اِس سے پہلے کے میں اِن سوالات کو اپنی زبان پر لاتا۔ جوگی گھنشام داس نے مجھے مخاطب کرتے ہُوئے کہا۔۔۔ میں اَوشے تمہاری شنکا  کو  دُور کیئے دیتا ہُوں۔ تم نے ابھی وچار کرتے ہُوئےاپنی قیمت شُنے (۰) لگائی ہے۔ جس سے میں بہت پربھاوت ہُوا ہُوں۔  سُنو!!!   یہ بات بالکل ست ہے کہ،،میری قوت دَس کے برابر ہے۔ ۔۔۔  پرنتو ایک بات تمہاری بُدھی میں نہیں سماسکی۔ کہ،، کیول شُنے  بے قیمت ہُوتا ہے۔ پرنتو جب  یہ کسی دوسرے ہندسے کے  ساتھ مِل جاتا ہے۔ تو نہ صرف خُود انمول ہُوجاتا ہے۔بلکہ جس سے جڑ جاتا ہے۔ اُسے بھی انمول بنادیتا ہے۔ اِس پرکار میری اِچھا ہے کہ،، تُم مجھ سے مِل جاوٗ ۔ تاکہ میری  سیما  ۱۰ سے بڑھ کر ۱۰۰ پریشت ہُوجائے۔ اُور ہاں میں تمہیں بھیمی دیوی کے بارے میں کیول اتنا بتا سکتا ہُوں۔کہ،، وُہ  ہزاروں ورشُوں سے شکتی کی اَمر دیوی ہے۔ اُور جو بھی  منش اُس دیوی کو پرسند کرنے میں سپھل ہُوجاتا ہے۔ وُہ دیوی اُس منش کیساتھ ایک رات ضرور گُزارتی ہے۔ جسکے بعد وُہ منش بھی ہمیشہ ہمیشہ کیلئے اَمر ہُوجاتا ہے۔

دل کی بات۔
مجھے معلوم ہے کہ،، میرے بلاگ پر میری تحریریں پڑھنے کیلئے بُہت سے صاحب علم دوست بھی تشریف لاتے ہیں اُور میری تحریروں کو پسندیدگی کی نگاہ سے بھی دیکھتے ہیں۔۔۔ لیکن وُہ اتنی خاموش سے  بِلا تبصرہ ،،واپس لُوٹ جاتے ہیں۔ جیسے باد نسیم کے جھونکے بنا کچھ کہے جسم کو چُھو جاتے ہیں۔۔۔ میں اُنکی خدمت میں صرف اتنا عرض کرنا چاہتا ہُوں۔کہ،، میں تمام نامساعد حالات کے باوجود لکھنے کی ذمہ داری کسی نہ کسی حد تک پُوری کرنے کی کوشش کررہا ہُوں۔۔۔۔ لیکن آپکی خاموشی۔۔۔۔ بے اعتنائی، بے توجہی ،۔یا ۔بے حِسی،، کے زمرے میں تو شُمار نہیں ہُوتی۔۔۔ اس سوال کا بہترین  جواب، صرف آپکا دِل ہی دے سکتا ہے۔۔۔۔
آپ سب کی دُعاوں کا طلبگار
عشرت اقبال وارثی۔

(جاری ہے)


اُسکا کہنا ہے۔ کِسی اُور کو دیکھوں نہ کبھی
کیوں کہ اُسکو یہ میرا رُوپ بُرا لگتا ہے۔

مجھکو ہر چہرے میں آتاہے نظر اِک وُہ ہی
جُو نہ بھر پائے یہ بہروُپ !!!  ۔بُرا لگتا ہے۔