bing

Your SEO optimized title page contents

Pages

Hamara Tube Channel

Friday, 5 June 2015

عامل کامل ابوشامل (فرنانڈس کی تلاش) قسط 45.akas



گُذشتہ سے پیوستہ۔

لیکن شہزادے فرنانڈس کو  اِس ضیافت سے بھی کئی گُنا جس چیز نے متاثر کیا۔ وُہ آپکی بیٹی کے نقوش تھے۔ جو اتفاقی طور پر ایک ایسی شہزادی سے مِلتے ہیں۔ جو شہزادہ فرنانڈس کو اُسکی بیباکی کی وجہ سے کئی برس پہلے ریجیکٹ کرچکی تھی۔ بس یہیں سے اریبہ کی بدنصیبی کی داستان شروع ہُوگئی۔۔۔ اریبہ کا جتنے بھی لوگوں نے علاج کیا ہے ۔اُن میں صرف ۲ ہی ایسے لوگ تھے۔جو اِس حقیقت سے واقف تھے۔کہ،، اریبہ کس  موذی کی ہَوس کا شکار بن رہی ہے۔لیکن شہزادہ فرنانڈس کوئی عام جن نہیں ہے۔جسے آسانی سے زیر کرلیا جائے۔اِس لئے انہوں نے بھی ٹال مٹول کے ذریعے راہِ فرار حاصل کرلی۔اگرچہ یہ لڑائی اتنی آسان نہیں ہے۔کہ،، میں  ہفتہ دس دِن میں  یہ جنگ جیت جاوٗں۔لیکن میں آپکو یقین دِلاتا ہُوں۔کہ،، چاہے مجھے اپنی جان پر کھیل جانا پڑے ۔لیکن میں آپکی اریبہ کو فرنانڈس کے آہنی پنجوں سے ضرور چھین کر واپس لاونگا۔۔ کامل کے چہرے پر تمام گفتگو کے دوران عزم کے دیپ  جگنو کی مانند جگمگاتے رہے۔

کامل نے  رفیع دُرانی کو مزید سمجھاتے ہُوئے بتایا۔کہ،، چونکہ فرنانڈس کی حفاظت کیلئے اُس کے والد نے کئی لشکر ترتیب دے رکھے ہیں۔ اِس لئے اُس پر اُوچھا ہاتھ نہیں ڈالا جاسکتا۔اسلئے مجھے پندرہ دن کی مہلت درکار ہے۔تاکہ حکمت عملی  سے  مزید قوت  حاصل کرنے کے بعد ہی دُشمن کو للکارا جائے۔ کامل علی کی گفتگو سے ایکبار پھر رفیع دُرانی کے اندر آس و خُود اعتمادی مجتمع ہُونے لگی تھی۔ورنہ ہر گُزرتے دِن کیساتھ اُسے یُوں لگنے لگا تھا۔کہ،، جیسے اریبہ  ریت کی مانند اُسکی مٹھی سے پھسلتی جارہی ہُو۔

یار ابو شامل تُم نے پندرہ دِن کا وقت آخر کیوں طلب کیا ہے؟؟؟ کیا واقعی تمہیں مزید قوت درکار ہے یا یہ بھی امپریشن جمانے کا وہی طریقہ ہے۔ جو ہم نے وجاہت دہلوی پر آزمایا تھا۔کامل نے رفیع کے جاتے ہی ابوشامل سے استفسار کیا۔۔۔۔۔۔۔ نہیں کامل اِس مرتبہ واقعی ہمارا دُشمن بُہت طاقتور ہے۔ فرنانڈس جس حفاظتی حصار میں موجود رہتا ہے۔ اُسکا شائد تُم اندازہ بھی نہیں لگاپاوٗگے۔۔۔۔ کیا فرنانڈس اُس ہندو جوگی گھنشام داس سے بھی ذیادہ شکتی مان ہے۔کامل نے حیرت سے ابوشامل کو دیکھتے ہُوئے  سوال کیا۔۔۔۔۔  اگر تُم مختصر جواب سے مطمئین ہُوسکتے ہُو۔تو میرا جواب ہُوگا ،، ہاں وُہ گھنشام سے کہیں ذیادہ خطرناک  ثابت ہوسکتا ہے۔۔۔۔۔۔

پھر تُم  پندرہ دِن میں اتنی طاقت کیسے حاصل کروگے؟ کامل نے اچھنبے سے اگلا سوال کیا۔۔۔۔ میرے دُوست میں نے یہ وقت اپنے لئے نہیں بلکہ تمہیں محفوظ کرنے کیلئے طلب کیا ہے۔کیونکہ بظاہر  اَریبہ کا علاج تُم نے کرنا ہے۔ اُور میں نہیں چاہتا کہ،، مجھے بیک وقت فرنانڈس سے مقابلہ کے وقت تمہاری بھی حفاظت کا فریضہ انجام دینا پڑے۔ کیونکہ مجھے معلوم ہے۔ وُہ تمہیں میرے ساتھ دیکھ کر ضرور بھڑکے گا۔ اِس کے ساتھ مجھے کوئی ایسی بھی تدبیر سُوچنی ہے۔کہ،، پہلی ہی مُلاقات میں اَریبہ فرنانڈس کی دسترس سے باہر نکل جائے۔ اگر تمہاری حفاظت کیساتھ اریبہ بھی محفوظ ہوجاتی ہے تو سمجھو  فرنانڈس کا قصہ تاریخ کا حصہ بننے میں ذیادہ وقت نہیں لگے گا۔

چودہ دِن تک ابوشامل کی مسلسل کوشش سے کامل علی دانہ ثمانی کے موکل سے رابطہ کرنے میں کامیاب ہُوگیا تھا۔ جس کے بعد دانہ ثمانی کے موکل سے ایک معاہدہ کیا گیا۔کہ،، کامل علی اپنی زندگی میں کبھی دانہ ثمانی کے موکل کو قابو کرنے کی کوئی کوشش نہیں کرے گا۔ جبکہ بدلے میں دانہ ثمانی کے موکل کو فرنانڈس کے تمام اُوچھے ہتھکنڈوں سے  تین ماہ تک حفاظت فراہم کرنی ہُوگی۔ لیکن ابھی تک ابوشامل کو کوئی ایسا ہتھیار  یا حل نہیں مِل پایا تھا۔کہ،، جسکی وجہ سے اَریبہ بھی فرنانڈس کے چنگل سے محفوظ ہُوجائے۔پندرہویں دِن  جب  سُورج ڈھلنے میں چند ہی ساعتیں باقی تھیں۔ کامل اور ابوشامل  اَریبہ کے گھر جانے کیلئے اپنے بنگلے سے نکلے۔تو گاڑی میں بیٹھنے کے بعد ابوشامل نے کامل سے اجازت طلب کرتے ہُوئے کہا۔کہ،، میں بھابی سے کوئی بہانہ کرآوٗں تاکہ،، ہمیں دیر ہُونے کی صورت میں وُہ پریشان نہ ہُو۔ کامل کی اجازت ملتے ہی ابوشامل واپس بنگلے میں داخل ہُوگیا۔۔۔ گاڑی اسٹارٹ کرنے کے بعد کامل کی نگاہ بنگلے کے گیٹ پر ہی مرکوز تھی۔کہ،، کسی نے شیشے پر دستک دیتے ہُوئے کامل کو اپنی جانب متوجہ کرنے کی کوشش کی۔کامل نے پلٹ کر دیکھا تو سلطان تبریزی ہاتھ میں ایک رومال لئے کھڑا تھا۔

آج پھر اپنی سابقہ نصیحت دہرانے چلے آئے ہیں۔یا کوئی نیا تماشہ کرنے کا اِردہ ہے آج۔؟  گاڑی سے باہر نکلتے ہی کامل علی نے سلطان تبریزی پر طنزیہ نشتر چلادیا۔۔۔۔چونکہ آج پہلی مرتبہ تمہاری نیت میں کھوٹ کے بجائے اخلاص دکھائی دے رہا ہے۔ اِس لئے میں کوئی نصیحت نہیں کرونگا۔ البتہ تمہاری مدد کی خاطر ایک تحفہ ضرور لایا ہُوں۔ اِس  رُومال میں ۲ لیموں موجود ہیں۔ جو کہ ایک سیاہ ڈوری سے مربوط ہیں۔ جب  تمہیں اِشارہ موصول ہُوجائے تب پھرتی سے یہ ہار اُس  بچی کی گردن میں پہنادینا۔اتنا کہنے کے بعدسلطان تبریزی نے وُہ رومال کامل کی طرف اچھال دیا۔ کامل چونکہ سلطان تبریزی کی جانب سے ایسے کسی عمل کیلئے تیار نہیں تھا۔اِس لئے رومال کامل کے ہاتھوں سے پھسلتا ہُوا نیچے گرنے لگا۔ لیکن کامل نے کمال پھرتی سے زمین پر گرنے سے قبل  رُومال دبوچ کر جونہی کمر سیدھی کی۔سلطان تبریزی ایکبار پھر کامل کو چکمہ دینے میں کامیاب ہُوگیا۔

ابو شامل جونہی گیٹ سے نکل کر کامل کے قریب پہنچا۔تو کامل کے ہاتھ میں سبز رُومال دیکھ کر اُسکی آنکھوں میں چمک پیدا ہُوگئی۔یہ رُومال کہاں سے آیا تمہارے پاس؟ ابوشامل نے عقیدت سے رُومال کو بوسہ دیتے ہُوئے کہا۔وہی گھونسلے جیسے بالوں والا فقیر دے گیا ہے۔کامل نے بیزاری سے جواب دیتے ہُوئے بتایا۔۔۔ یار کامل علی میں نے پہلے بھی کہا تھا۔اُور آخری بار سمجھارہا ہُوں تمہیں۔کہ،،  اِن درویشوں کا نام ادب سے لیا کرو۔۔۔۔ورنہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کامل نے ابوشامل کے تیور دیکھ کر اثبات میں اپنی گردن سے حامی بھر کر معاملے کو رفع دفع کرنے میں ہی عافیت جانی۔ اُور گاڑی  رفیع دُرانی کے گھر کیلئے دُوڑادی۔

رفیع دُدانی کے گھر میں داخل ہُوتے وقت کامل نے دانہ ثمانی کے موکل کی موجودگی کو محسوس کرکے اپنے اندر کافی حوصلہ  موجود پایا۔لیکن جونہی رفیع دُرانی کی نگرانی میں وُہ اَریبہ کے کمرے میں داخل ہُوئے شراب کی تیز بھبک  نےاِنکا استقبال کیا۔۔۔۔ بستر پر ایک ڈھانچہ نما بچی کا جسم پڑا تھا ۔جسکے نقوش اگرچہ واقعی قابل ستائش تھے۔ لیکن اُسکے کمزور جُھری ذدہ بدن کو دیکھ کر کوئی نہیں کہہ سکتا تھا۔کہ،، اُسکی عمر پندرہ برس رہی ہُوگی۔۔۔ ابو شامل نے ایک مخصوص فاصلے کے بعد کامل کومزید آگےبڑھنے سے رُوک دیا تھا۔کامل علی نے آنکھیں بند کرنے کی کوشش کی تاکہ اپنا کردار بخوبی نبھا سکے تبھی اُس کو ایسا محسوس ہُوا۔جیسے کسی نے اُسکے کلیجے کو اپنی مٹھی میں جکڑ لیا ہُو۔

(جاری ہے)

اُسکا کہنا ہے۔ کِسی اُور کو دیکھوں نہ کبھی
کیوں کہ اُسکو یہ میرا رُوپ بُرا لگتا ہے۔

مجھکو ہر چہرے میں آتاہے نظر اِک وُہ ہی
جُو نہ بھر پائے یہ بہروُپ !!!  ۔بُرا لگتا ہے۔


Thursday, 4 June 2015

عامل کامل ابو شامل (فرنانڈس کی آمد)قسط 44.akas



گُذشتہ سے پیوستہ۔


 اگرچہ  ابوشامل کے ایماٗ پر کامل علی اپنے آستانے نما کوٹھی چلا آیا تھا۔لیکن اُس کا دِل ابتک کسی انجانے خُوف سے دھڑک دھڑک کر مُنہ کو آرہا تھا۔پھر وُہ گھڑی بھی آئی جب وجاہت دہلوی کیساتھ ایک چالیس پنتالیس کی درمیانی عُمر کا  اسمارٹ جوان نمودار ہُوا۔ وجاہت دہلوی نے آتے ہی کامل کی دست بُوسی کی۔جب کہ  ،، اُس جوان شخص رفیع دُرانی  نے صرف ہاتھ ملا کر سلام پر ہی اکتفا کرتے ہُوئے ایک طائرانہ نگاہ تمام کوٹھی پر ڈالی۔ اُور پھر یُوں کامل علی کے چہرے کو بغور دیکھنے لگا۔ جیسے وُہ کامل کو پہچاننے کی کوشش کررہا ہُو۔ یا اُس کے چہرے کے ذریعے اُس کی شخصیت کا اندازہ لگانے کی کوشش میں مصروف ہُو۔کامل نے اُسکی نظروں کی چبھن سے تنگ آکر خُود گفتگو کا آغاز کرتے ہُوئے سوال کیا۔ جی رفیع دُرانی صاحب فرمایئے میں آپکی کیا خدمت کرسکتا ہوں؟۔۔۔۔۔ کامل صاحب کیا کل کورنگی تھانے میں آپ ہی کو لاک اپ کیا گیا تھا۔؟؟؟ رفیع دُرانی کے اِس جملے کو سُن کر ایکبار پھر کامل کو اپنا دِل ڈوبتا ہُوا محسوس ہُونے لگا تھا۔


کامل علی ہُوش کے ناخن لُو۔ اُور اِس ایس پی سے خوفزدہ ہُونے کے بجائے دبنگ لہجے میں اس سے بات کرو پھر دیکھنا یہ کس طرح تمہارے قدموں میں خود کو ڈھیر کرتا ہے۔ابوشامل نے کامل کو جونہی ٹُوکا۔ کامل نے فوراً اپنی کیفیت پر قابو پاتے ہُوئے اپنا لہجہ بدل کر رفیع دُرانی کو متوجہ کرتے ہُوئے جواب دینا شروع کیا۔۔۔۔ رفیع صاحب کیا آپ  صرف یہ فضول سوال پوچھنے کیلئے یہاں تشریف لائے ہیں۔ جب آپکو یہ علم ہے ۔کہ،، کل ایک غلطی کو سُدہارنے کیلئے ہم تھانے پُہنچے تھے۔ تب آپ کو یہ علم بھی ضرور ہُوگا۔کہ،، آپ کے افسران آپ ہی کی ناک کے نیچے کیسے کیسے گُل کھلارہے ہیں۔ آخری جملہ ادا کرتے کرتے ناچاہتے ہُوئے بھی کامل کے لہجے میں دُرشتگی دَر آئی تھی۔


کامل کی خفگی دیکھ کر رفیع دُرانی کا لہجہ ایکدم نرم پڑگیا۔ نہیں جناب میرا اِرادہ خُدانخواستہ آپ پر شک کرنے کا نہیں تھا۔ رضوان کی مجھے پہلے بھی کافی شکایات موصول ہُوچکی ہیں۔ اسلئے مجھے یقین ہے۔کہ،، تمام غلطی بھی رضوان خان کی ہی رہی ہُوگی۔ لیکن جو واقعات مجھے آپ کے متعلق سُننے کو ملے ہیں۔کہ،، کسطرح آپ نے  رضوان کو انوکھی سزا سے نوازا ہے۔ بس وُہ تمام واقعات اتنے عجیب اُور ناقابل عقول ہیں۔کہ،، کوئی بھی مجھ جیسا پریکٹیکل بندہ اتنی آسانی سے اِنکے وقوع پذیر ہونے پر مشکل ہی سے یقین کرے گا۔ لیکن آج وجاہت سے ملنے کے بعد مجھے بھی کسی حد تک یقین آچکا ہے۔ ۔۔ دراصل میں خُود آجکل ایک عجیب سی صورتحال میں مبتلا ہُوں۔ جسکا حل شائد آپ کے پاس موجود ہُو۔ بس میں اِسی لئے حاضر ہُوا تھا۔ باقی اگر آپ کو میرے سوال سے تکلیف پُہنچی ہُو تو میں ایکبار پھر آپ سے معذرت چاہتا ہُوں۔۔۔ جب تک رفیع دُرانی نے اپنی شرمندگی  کا اظہار کیا۔تب تک ابو شامل بھی کھسر پھسر کرتے ہُوئے کافی معلومات کامل تک پُہنچا چُکا تھا۔۔۔۔


جی رفیع صاحب مجھے معلوم ہے۔ کہ،، آپ اپنی پندرہ سالہ بیٹی اریبہ  جو میٹرک کی طالبہ ہے کیلئے بُہت پریشان ہیں۔ مجھے یہ بھی معلوم ہے کہ،، گُذشتہ ڈیڑھ برس میں آپ نے روحانی علاج کیلئے بیشمار لوگوں  سے  رابطہ بھی کیا ہے۔ لیکن کوئی بھی آپکی بچی کو  واپس نارمل حالت کی طرف نہیں لاسکا۔ جبکہ اریبہ کی حالت دِن بدن بگڑتے ہُوئے اِس حال کو پُہنچ چکی ہے۔ کہ،، وُہ خوف کی وجہ سے راتوں کو سُو بھی نہیں پاتی۔ جبکہ آپکے خیال کے مطابق میٹرک کے امتحانات بھی وُہ شائد نہیں دے پائےگی۔۔۔۔لیکن ایسا آپ سوچتے ہیں۔جبکہ میں اریبہ کو  بہت جلد دوبارہ نارمل زندگی گُزارتا ہُوا دیکھ رہا ہُوں۔ کامل علی بدستور خلاوٗں   میں  اسطرح گھور  گھور کر دیکھ رہا تھا۔ جیسے وُہ  رفیع دُرانی کا مستقبل پڑھ کر سُنارہا ہُو۔ رفیع دُرانی کی آنکھوں سے اریبہ کا ذکر سُننے کے بعد اَشک یُوں  رُخساروں پربہنے لگے تھے۔جیسے  برسوں بعد تھل کی زمینوں پر بارش مہربان ہُوگئی ہُو۔۔۔ جناب کیا واقعی میری  اکلوتی بیٹی ٹھیک ہُوجائے گی۔؟۔ ہاں ہاں کیوں ٹھیک نہیں ہُوگی ضرور ٹھیک ہُوگی۔ جو بنا بتائے دِل کا حال جان لیتا ہُو۔ وُہ یقینا مستقبل شناش بھی ضرور ہُوگا۔ رفیع دُرانی خُود ہی سوال قائم کررہا تھا اُور خود ہی بُڑبڑاتے ہُوئے جواب دیئے چلا جارہا تھا۔


رفیع دُرانی صاحب میں آپ کو  علاج سے قبل کسی بھی بات سے بے خبر نہیں رکھنا چاہتا۔ اِس لئے آپکو کچھ باتیں پیشگی بتانا بُہت ضروری سمجھتا ہُوں۔ کیا آپ کو معلوم ہے۔کہ،، اریبہ بیٹی کیساتھ اصل مسئلہ کیا ہے؟ کامل علی نے متانت سے استفسار کیا۔۔۔۔ قبلہ جتنے مُنہ اتنی ہیں باتیں ہیں۔ کوئی کہتا ہے جادو کے معملات ہیں،توکوئی نظر بد بتاتا ہے۔  کوئی ذہنی مسئلہ تجویز کرتا ہے۔تو کوئی پری کا سایہ ۔۔۔ مجھے تو خاک سمجھ نہیں آتا کُون سچ کہہ رہا ہے۔اُور کون ہمیں بےوقوف بنارہا ہے۔ رفیع دُرانی نے بے بسی سے ہاتھ ملتے ہُوئے جواب دیا۔

چلیں کوئی بات نہیں آج میں آپکو وُہ سب کچھ صحیح صحیح بتائے دیتا ہُوں۔ جو کچھ مجھے اپنے  روحانی کشف سے عِلم ہُوچکا ہے۔ کامل نے  گلا کھنکار کر اپنی گفتگو جاری رکھی۔ دراصل یہ آج سے سترہ ماہ قبل کی بات ہے۔ اُن دنوں آپ اپنی فیملی کو لیکر بٹگرام کی جانب سیر کیلئے گئے تھے۔ کامل نے ایک لمحے کو توقف کیا تو دُرانی نے حیرت سے کامل کو دیکھتے ہُوئے اثبات میں اپنی گردن ہلانی شروع کردی۔۔۔ بٹگرام کی پہاڑیوں میں اُن دنوں  جنات کے ایک مسیحی  قبائل کا شہزادہ فرنانڈس بھی اپنے کچھ خادموں کیساتھ  تفریح کی خاطر موجود تھا۔۔۔۔آپ لوگوں نے ایک  رات  سالم بکرے کی سَجی تیار کروائی تھی۔ جس پر لُوبیا کو پیس کرکوٹنگ کیلئے استعمال کیا گیا تھا۔ آپ لوگوں کو تو شائد معلوم بھی نہیں ہُوگا۔ لیکن یہ ڈش دراصل شہزادہ فرنانڈس کو بھی بُہت مرغوب ہے۔ جب یہ خُوشبو شہزادے کے نتھنوں تک پُہنچی تو اُس سے رَہا نہیں گیا۔ اُور وُہ اپنے خیمے سے باہر نکل کر آپ لوگوں کی جانب چلا آیا تھا۔ اُس دن وُہ کھانا آپ لوگوں کیلئے ناکافی ہُوگیا تھا۔ جسکی وجہ صرف اتنی تھی۔کہ،، چونکہ آپ لوگوں نے کھانا کھانے سے پہلے بسم اللہ شریف  نہیں پڑھی تھی۔ اسلئے آپ لوگوں کا نصف سے ذیادہ کھانا شہزادہ فرنانڈس کے شکم میں پُہنچ گیا۔ لیکن بات  اگریہیں ختم ہُوجاتی تب بھی یہ اتنا مہنگا سُودا نہیں تھا۔


لیکن شہزادے فرنانڈس کو  اِس ضیافت سے بھی کئی گُنا جس چیز نے متاثر کیا۔ وُہ آپکی بیٹی کے نقوش تھے۔ جو اتفاقی طور پر ایک ایسی شہزادی سے مِلتے ہیں۔ جو شہزادہ فرنانڈس کو اُسکی بیباکی کی وجہ سے کئی برس پہلے ریجیکٹ کرچکی تھی۔ بس یہیں سے اریبہ کی بدنصیبی کی داستان شروع ہُوگئی۔۔۔ اریبہ کا جتنے بھی لوگوں نے علاج کیا ہے ۔اُن میں صرف ۲ ہی ایسے لوگ تھے۔جو اِس حقیقت سے واقف تھے۔کہ،، اریبہ کس  موذی کی ہَوس کا شکار بن رہی ہے۔لیکن شہزادہ فرنانڈس کوئی عام جن نہیں ہے۔جسے آسانی سے زیر کرلیا جائے۔اِس لئے انہوں نے بھی ٹال مٹول کے ذریعے راہِ فرار حاصل کرلی۔اگرچہ یہ لڑائی اتنی آسان نہیں ہے۔کہ،، میں  ہفتہ دس دِن میں  یہ جنگ جیت جاوٗں۔لیکن میں آپکو یقین دِلاتا ہُوں۔کہ،، چاہے مجھے اپنی جان پر کھیل جانا پڑے ۔لیکن میں آپکی اریبہ کو فرنانڈس کے آہنی پنجوں سے ضرور چھین کر واپس لاونگا۔۔ کامل کے چہرے پر تمام گفتگو کے دوران عزم کے دیپ  جگنو کی مانند جگمگاتے رہے۔

(جاری ہے)


اُسکا کہنا ہے۔ کِسی اُور کو دیکھوں نہ کبھی
کیوں کہ اُسکو یہ میرا رُوپ بُرا لگتا ہے۔

مجھکو ہر چہرے میں آتاہے نظر اِک وُہ ہی
جُو نہ بھر پائے یہ بہروُپ !!!  ۔بُرا لگتا ہے۔


Wednesday, 3 June 2015

عامل کامل ابوشامل (ایس پی آستانے پر)قسط 43.akas






گُذشتہ سے پیوستہ۔

رضوان خان جو اِس ہنٹر کو دوسروں کے جسم پر برساتے ہُوئے اکثر بےلگام  ہُوجایا کرتا تھا۔ خُود  ۱۰ کوڑے بھی اپنی نازک تشریف پر برداشت نہیں کرپایا ۔اُور بے ہُوش ہُوگیا۔۔۔۔ ابو شامل نے نجانے کونسی  تدبیر اپنائی تھی۔کہ رضوان خان اگلے لمحے ہی ہوش میں آگیا تھا۔ البتہ انجانی ہیبت سے اُسکا جسم تھر تھر کانپ رہا تھا۔ ۔۔ ابو شامل نے شرارت سے دیواروں کی جانب  اِشارہ کیا۔تو لاک اپ کی تمام  دیواروں پر ایسے مناظر اُبھرنے لگے۔ جیسے ہزاروں عفریت کڑکتی بجلیوں کی روشنی میں ایک دوسرے کا گلہ دبوچنے کی کوشش میں مصروف ہُوں۔۔۔ پھر ابو شامل کی ہیبتناک  آواز نے ماحول کو مزید پراسرار بناڈالا۔ ابو شامل نے رضوان خان کو مخاطب کرتے ہُوئے وارننگ دی۔ رضوان خان یہ تمہاری پہلی غلطی تھی۔ اِس لئے حضرت قبلہ کامل شاہ  سرکارکے حکم پر تمہیں زندہ چھوڑ دیا گیا ہے۔لیکن یاد رکھنا اگر تم نے آئندہ ،، سرکار،، کے راستے میں آنے کی جراٗت کی تو اِسکا خمیازہ تمہاری نسلوں کو بھی بھگتنا پڑے گا۔۔۔۔ رضوان خان کی ساری دلیری گدھے کے سینگ کی مانند غائب ہُوچکی تھی۔۔۔ وُہ گھگیائی ہُوئی آواز میں نادیدہ  ہستی سے رحم کی بھیک  طلب کرتے ہُوئے ایکبار پھر بے ہوش ہُوچکا تھا۔۔۔۔ ابو شامل نے مُسکرا کر کامل کی جانب ہاتھ بڑھایا تو کامل علی نے ابو شامل کا اِرادہ بھانپ لیا۔ اِس لئے ابوشامل کے جھٹکہ دینے سے قبل ہی کامل علی ابو شامل سے لپٹ گیا۔اگلے ہی لمحے وُہ دونوں  اپنے بنگلے کے دروازے پر موجود تھے۔

 کامل پر  رات دیر تک جاگنے کی وجہ سے کافی تھکن طاری تھی۔ جسکی وجہ سے  جاناں کے کئی بار اُٹھانے پر بھی کامل جاگنے کیلئے تیار نہیں تھا۔ لیکن موبائیل کی  لگاتار بیل نے بلاآخر کامل کو اُٹھنے پر مجبور کر ہی دیا۔ کامل نے وال کلاک پر نگاہ ڈالی تو دوپہر کا ڈیڑھ بج چُکا تھا۔ کال ریسیو کرتے ہی  کامل کو وجاہت دہلوی کی مودبانہ آواز سُنائی دی۔ حضور والا! میں بُہت دیر سے آپکو  کال ملانے کی کوشش کررہا تھا۔۔۔۔۔۔۔ ہاں کہیئے وجاہت صاحب آج کیسے یاد فرمالیا آپ نے مجھے؟ کامل نے لہجے کو خُوشگوار بناتے ہُوئے کہا۔۔۔۔۔۔ حضور ! آپکی آواز سےلگتا ہے میں نے آپکو نیند سے اُٹھادیا ہے۔۔۔۔ جسکے لئے میں بُہت معافی چاہتا ہُوں۔ دراصل بات ہی کچھ ایسی تھی۔کہ،، مجھ سے رہا نہیں گیا آپ سے بات کئے بنا۔۔۔۔ جناب میرے ایک دُوست ہیں۔ ایس پی  رفیع دُرانی صاحب۔ آج اتفاق سے میں اُن سے ملاقات کیلئے اُنکے آفس گیا تھا۔ وُہ اپنے کسی ماتحت سے آپ ہی کے متعلق دریافت فرمارہے۔ میں نے آپکا تذکرہ سُنا تو مجھ سے رَہا نہیں گیا۔اسلئے میں نے تفصیل سے آپ کے متعلق اُنہیں بتادیا۔ جسکے بعد اُنہوں نے  اپنی خُواہش کا اظہار کرتے ہُوئے استدعا کی ہے۔کہ،، میں آپ سے وقت لیکر آج ہی مُلاقات کا اہتمام کرنے کے بعد اُنہیں مطلع کروں۔

حضور والا وُہ آپ سے ملنے کیلیئے اتنے بے چین ہیں۔ تین گھنٹے میں اُنکی چار کال آچکی ہیں۔ اُور وُہ بار بار یہی عرض کررہے ہیں کہ،، ملاقات آج ہی کرنی ہے۔ اِس لئے جلد از جلد میں آپ سے اپائنٹمنٹ حاصل کروں۔۔۔۔۔ کامل جُوں جوں وجاہت دہلوی کی گفتگو سُنتا جارہا تھا۔ اُس کا حلق خُشک ہُوتا چلا جارہا تھا۔۔۔۔ کامل نے پانی کی بوتل مُنہ سے لگانے کے بعد غٹا غٹ آدھی بوتل خالی کرڈالنے کے بعد وجاہت کو جواب دیا۔ دیکھئے وجاہت صاحب آج تو میرے لئے مُلاقات بُہت مشکل ہے۔ لیکن میں پھر بھی آپ کی خاطر کوشش ضرور کروں گا۔کہ،، ہماری ملاقات ممکن ہُوجائے۔ آپ ایسا کیجئے مجھے ایک گھنٹہ بعد کال کریں۔جب تک میں اپنے اسسٹنٹ سے شیڈول بھی معلوم کرلونگا۔ اُور غُسل و نماز سے فارغ بھی ہُوجاونگا۔

کال منقطع ہُوتے ہی کامل علی تمام گھر میں ابو شامل کو پُکارتا پھر رَہا تھا۔ تبھی جاناں نے کچن سے چلا کر کامل کو جواب دیتے ہُوئے مطلع کیا۔کہ،، ابو شامل چکن کا گوشت لینے مارکیٹ گیا ہے۔ اُور بس آنے ہی والا ہُوگا۔۔۔۔۔ کامل علی   نہاتے ہُوئے  بھی وجاہت دہلوی کی کال کے متعلق ہی  سُوچ رہا تھا۔ اُسے شک ہی نہیں بلکہ پُورا یقین تھا کہ،، ایس پی رفیع دُرانی ضرور اُسکے گرد جال کسنے کیلئے اُس سے مِلنا چاہتا ہے۔

ابو شامل جونہی گھر میں داخل ہُوا۔  کامل نے اُسکے ہاتھ سے تقریباً شاپر چھینتے ہُوئے اُسے درائینگ رُوم میں بیٹھنے کی تاکید کی اُور خود شاپرز جاناں کے ہاتھ میں تھما کر فوراً واپس لُوٹ آیا۔۔۔۔ یار تمہیں کچھ خبر بھی ہے کہ،، معاملہ کتنا بگڑ چکا ہے۔کامل نے ہیجانی کیفیت میں ابوشامل کو جھنجوڑتے ہُوئے سوال کیا۔۔۔۔۔ تم رفیع دُرانی کی وجہ سے پریشان ہُو شائد؟؟؟ ابو شامل نے کامل کی بےچینی سے محظوظ ہُوتے ہُوئے اُلٹا سوال داغ دیا۔

ہاں میں اِسی وجہ سے پریشان ہُوں۔ لیکن لگتا ہےکہ،،تُم اتنے اہم معاملے کو سجنیدگی سے نہیں لے رہے ہُو۔ ورنہ یُوں اتنے آرام سے صوفے پر پھیل کر نہ پڑے ہُوتے۔کامل نے منہ بَسورتے ہُوئے کہا۔۔۔۔۔۔  کامل جی  میرے خیال میں آپ نے جتنی سنجیدگی سے اِس معاملے کو خُود پر طاری کرلیا ہے اُسکی بھی ضرورت نہیں تھی۔  آنے دُو اُس  ایس پی کو میں سب کچھ پہلے کی طرح سنبھال لُونگا۔آخر تم یہ بات بار بار کیوں بھول جاتے ہُوں۔کہ،، میں  بھی تمہارے ساتھ ہُوں نا! ۔ اُور میرے لئے کوئی مسئلہ کتنا ہی بڑا کیوں نہ ہُو۔ اِس قابل نہیں ہوتا۔کہ،، میں خُومخواہ خود بھی پریشان ہُوتا رہوں۔اُور ساتھ والوں کو بھی پریشان  کرتا رَہوں۔ ابوشامل نے بےپرواہی سے ٹی وی چینلز بدلتے ہُوئے جواب دیا۔۔۔۔۔۔ ہاں تبھی جناب  اُس دن  سلطان تبریزی کی آمد پر دُم دبا کر بھاگ لئے تھے۔ کامل علی نے ابوشامل کے طنز کو محسوس کرتے ہُوئے تُرکی بہ تُرکی کرارہ جواب  دیکر اپنے کمرے کا رُخ کرلیا۔

 اگرچہ  ابوشامل کے ایماٗ پر کامل علی اپنے آستانے نما کوٹھی چلا آیا تھا۔لیکن اُس کا دِل ابتک کسی انجانے خُوف سے دھڑک دھڑک کر مُنہ کو آرہا تھا۔پھر وُہ گھڑی بھی آئی جب وجاہت دہلوی کیساتھ ایک چالیس پنتالیس کی درمیانی عُمر کا  اسمارٹ جوان نمودار ہُوا۔ وجاہت دہلوی نے آتے ہی کامل کی دست بُوسی کی۔جب کہ  ،، اُس جوان شخص رفیع دُرانی  نے صرف ہاتھ ملا کر سلام پر ہی اکتفا کرتے ہُوئے ایک طائرانہ نگاہ تمام کوٹھی پر ڈالی۔ اُور پھر یُوں کامل علی کے چہرے کو بغور دیکھنے لگا۔ جیسے وُہ کامل کو پہچاننے کی کوشش کررہا ہُو۔ یا اُس کے چہرے کے ذریعے اُس کی شخصیت کا اندازہ لگانے کی کوشش میں مصروف ہُو۔کامل نے اُسکی نظروں کی چبھن سے تنگ آکر خُود گفتگو کا آغاز کرتے ہُوئے سوال کیا۔ جی رفیع دُرانی صاحب فرمایئے میں آپکی کیا خدمت کرسکتا ہوں؟۔۔۔۔۔ کامل صاحب کیا کل کورنگی تھانے میں آپ ہی کو لاک اپ کیا گیا تھا۔؟؟؟ رفیع دُرانی کے اِس جملے کو سُن کر ایکبار پھر کامل کو اپنا دِل ڈوبتا ہُوا محسوس ہُونے لگا تھا۔

(جاری ہے)

اُسکا کہنا ہے۔ کِسی اُور کو دیکھوں نہ کبھی
کیوں کہ اُسکو یہ میرا رُوپ بُرا لگتا ہے۔

مجھکو ہر چہرے میں آتاہے نظر اِک وُہ ہی
جُو نہ بھر پائے یہ بہروُپ !!!  ۔بُرا لگتا ہے۔


میرے بچپن کی ایک تصویر

Tuesday, 2 June 2015

جال۔ در ۔ جال۔ قسط ١١۔



جال۔ در ۔ جال۔ قسط ١١۔



گُزشتہ سے پیوستہ۔ 

فرقان نے ایک خیال کے تحت ٹھیکیدار عبدالرحمن سے مُخاطب ہُوتے ہُوئے کہا۔۔ عبدالرحمن بھائی کیا آپ کل فجر کی نماز کے فوراً بعد سائٹ پر آسکتے ہیں۔۔۔۔۔؟ ٹھیکیدار عبدالرحمن کے حامی بھرنے کے بعد فرقان ٹھیکیدار عبدالرحمن کو رخصت کرنے کے بعد ایک مرتبہ پھر اپنے کمرے میں آکر لیٹ گیا۔ لیکن اب اُسکی آنکھوں میں اِضطراب کے سائے لہرا رہے تھے۔ وہ سُوچ بھی نہیں سکتا تھا۔ کہ آغا بابر جیسا بُردبار شخص ایسی کِسی گھٹیا حرکت کا مرتکب بھی ہُوسکتا تھا۔ لیکن ٹھیکیدار عبدالرحمن کی گُفتگو نے فرقان کے ذِہن میں بُہت سے سوالات پیدا کردیئے تھے۔ جنہوں نے فرقان کے ذہن کو بہرحال پراگندہ کردیا تھا۔

اَب مزید پڑھیئے۔ 

فرقان کوشش کے باوجود بھی تمام رات آرام سے سُو نہیں پایا۔ بے شُمار خَدشات و پریشان خیالات اُسکے ذِہن کو تمام رات بھٹکاتے رہے۔ وُہ دِل ہی دِل میں خُدا سے دُعا کررہا تھا۔ کہ کاش اُسکے تمام خَدشات بے بنیاد ہُوجائیں۔ اُور ٹھیکیدار عبدالرحمن کی بیان کردہ تمام باتیں اے کاش غلط فہمی کا شاخسانہ ثابت ہُوں۔ اِسی اُدھیڑ بن میں فرقان جاگتا رَہا یہاں تک کہ رات گُزر گئی اُور موذن نے رات کی سیاھی کے ڈھلنے کا اعلان آذان کی صورت میں بُلند کردیا۔

فرقان فجر کی نماز و اذکار سے فارغ ہُونے کے بعد جب سائٹ پر پُہنچا تُو ٹھیکیدار عبدالرحمن پہلے ہی سے اُسکی آمد کا منتظر تھا۔ سب سے پہلے وُہ دُونوں اینٹوں کے ڈھیر پر پُہنچے۔ جہاں تھوڑی سی بھاگ دُوڑ کے بعد فرقان کو ٹھیکیدار عبدالرحمن کی بات میں صداقت نظر آگئی۔ اینٹوں کے ہر ڈھیر میں نصف سے زائد غیر معیاری اینٹیں ٹھیکیدار عبدالرحمن کی تشویش کی تصدیق کررہی تھیں۔ اِسکے بعد جب فرقان نے اِسٹاک شیڈ میں سیمنٹ کی چند بوریوں کا دامن چاک کیا۔ تب ایک بُوری سیمنٹ بھی ایسی نہ تھی۔ کہ جِس میں سیمنٹ نے گُٹھلیوں کی شکل اختیار نہ کرلی ہُو۔

بے شک آغا بابر کی پرسنالٹی سے مُتاثر ہُوکر فرقان دُھوکہ کھا چُکا تھا۔ ۔۔۔۔ فرقان اپنی پیشانی پر آئے پسینے کے قطرات کو صاف کرتے ہُوئے سُوچنے لگا۔۔۔۔۔۔ نجانے کب سے آغا بابر آستین کے سانپ کی طرح شہریار مجددی کو نقصان پُہنچا رہا ہُوگا۔۔۔۔۔۔۔۔ فرقان کے اندازے کیمطابق وہ صِرف اِن چند دِنوں میں کم از کم بیس لاکھ روپیہ کی ہیر پھیر کر چُکا تھا۔ اُور فرقان کو حیرت تھی کہ شہریار مجددی کے بقول آغا بابر گُزشتہ آٹھ برس سے شہریار مجددی کی زمینوں اور پاکستان میں پھیلے بزنس کو سنبھال رَہا تھا۔ اِس حساب سے فرقان کو یقین تھا کہ آغا بابر اِس دُورانیے میں کروڑوں کی خُرد بُرد کرچکا ہُوگا۔

جب آفس میں فرقان نے ٹھیکیدار عبدالرحمن کا کوٹیشن فارم تلاش کرنے کی کُوشش کی تو یہ سعی بھی لاحاصل رہی تمام فائل میں ٹھیکیدار عبدالرحمن کا کوٹیشن فارم سِرے سے موجود ہی نہیں تھا۔ جبکہ ٹھیکیدار عبدالرحمن کا اِصرار تھا کہ اُس نے خُود اپنا فارم بند لفافے میں آغا بابر کو پیش کیا تھا۔ جِسے اُسکے سامنے ہی دیگر لفافوں کے ساتھ رَکھ دِیا گیا تھا۔ مگر اب ایسا لگ رَہا تھا جیسے اُس لفافے کو زمین نِگل گئی ہُو۔

تھوڑی سی مزید تفشیش کے بعد فرقان پر یہ راز بھی آشکار ہُوگیا کہ حماد اینڈ سنز کے ساتھ جتنے بھی کوٹیشن فارم فرقان کو دِکھائے گئے تھے۔ وہ تمام کوٹیشنز بھی جعلی تھی۔ جو زیادہ ریٹ کیساتھ شائد اسلئے رکھے گئے تھے۔ تاکہ حماد اینڈ سنز کے کوٹیشن کو پاس کیا جاسکے۔۔۔۔ فرقان نے رسٹ واچ پر نِگاہ ڈالی تُو صبح کے آٹھ بجنے کو تھے۔ فرقان نے تمام فائل کو احتیاط سے ٹیبل کی دراز میں منتقل کیا اُور آفس سے باہر آنے کے بعد چوکیدار کو ہدایات دیں۔ کہ میرے اس طرح علی الصبح آنے کا تذکرہ کسی سے بھی نہ کیا جائے یہاں تک کہ آغا بابر صاحب کو بھی اِسکی قطعی خبر نہیں ہُونی چاہیئے۔یہ کہہ کر فرقان نے ایک پانچ سو روپیہ کا نُوٹ چوکیدار کی جیب میں زبردستی منتقل کردیا۔ اُور اسکے بعد فرقان ٹھیکیدار عبدالرحمن کے ساتھ واپس روانہ ہُوگیا۔

چند گھنٹوں بعد فرقان جب معمول کے مطابق سائٹ پر دوبارہ پُہنچا تو آغا بابر نے ہمیشہ کی طرح بڑے پُرتپاک انداز میں فرقان کا استقبال کیا۔ چند رسمی جُملوں کے بعد فرقان نے بڑی لاپرواہی سے ٹھیکیدار عبدالرحمن کے کُوٹیشن فارم کے متعلق آغا بابر سے استفسار کیا۔۔۔۔ فرقان کے سوال کی وجہ سے آغا بابر کے چہرے پر ایک رنگ آکر گُزر گیا۔ لیکن جلد ہی اُس نے خُود کو سنبھالتے ہُوئے فرقان سے نارمل انداز میں کہا،، اِس نام کا بندہ میرے پاس آیا تُو تھا۔۔۔۔ لیکن شائد وہ لفافہ مجھ سے کہیں کھو گیا ہے۔۔۔ جسکے لئے میں آپ سے معذرت خُواہ ہُوں۔

فرقان نے ہمیشہ کی طرح مسکراتے ہُوئے کہا،، آغا صاحب کوئی بات نہیں بس وہ ہمارا پُرانا جاننے والا تھا۔ اُور اسنے پیغام بھیجا تھا کہ اُسکے کوٹیشن کا بھی خیال رکھا جائے۔ مگر آپ بالکل بھی پریشان نہ ہُوں۔۔۔۔۔ میں سب سنبھال لُونگا۔ آپ بس سائٹ کے کاموں پر دھیان رکھیں تاکہ کوئی غیر معیاری میٹریل ہمارے کام میں شامل نہ ہُونے پائے۔ فرقان کے اِس جملے پر آغا بابر کے چہرے کا رنگ ایک مرتبہ پھر متغیر ہُوگیا۔ لیکن دوسرے ہی لمحے اُس نے خود پر قابو پاتے ہُوئے بڑی ڈھٹائی سے فرقان کی توجہ حاصل کرتے ہُوئے کہا،، فرقان صاحب میٹریل کی کوالٹی کی آپ بالکل پرواہ نہ کریں۔ جب تک میں یہاں ہُوں ایک مُٹھی بھر غیر معیاری سامان بھی فیکٹری کی حدود میں نہیں آسکتا۔ کیونکہ تمام آنے والے سامان کی میں خُود جانچ پڑتال کرتا ہُوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ فرقان دِل ہی دِل میں کہہ رہا تھا۔ کمبخت کِس ڈھٹائی سے جھوٹ بُول رہا ہے۔ ۔۔ ٹھیکیدار عبدالرحمن نے اگر بروقت مُطلع نہ کیا ہُوتا تُو نجانے کتنا کباڑ خانہ اصل سے بھی زائد قیمت پر فیکٹری میں جمع ہُوتا رِہتا۔

فرقان نے اُسی شام تمام معاملہ حسَّان صاحب کے سامنے پیش کردِیا۔ جسکے بعد حسان صاحب نے فرقان کو حُکم دیا کہ شہریار مجددی کو میرا پیغام پُہنچاؤ کہ وُہ فورا چند دِن کیلئے پاکستان آجائے۔ تیسرے دِن شہریار مجددی ، حسَّان صاحب کے ایما پر خاموشی سے پاکستان چلا آیا۔ تمام معاملات کا علم ہُونے کے بعد شہریار مجددی نہ صِرف حیران تھا بلکہ اُس نے حسان صاحب سے برملا کہا کہ اگر کوئی اُور مجھے یہ بات بتاتا تُو شائد میں اتنی جلد اعتبار بھی نہیں کرپاتا۔ اچھا ہُوا کہ آپ نے مجھے بروقت مُطلع کردیا۔

شہریار مجددی نے اُسی وقت اپنے بڑے بھائی ڈی ایس پی اعتصام مجددی کو کال مِلا کر تمام تفصیلات سے آگاہ کردیا۔ جسکے بعد ڈی ایس پی اعتصام نے فوری طور پر اپنے ماتحت افسران کو حُکم دیا کہ وہ فوری طور پر آغا بابر کو گرفتار کریں اُور تمام معاملات کی تفشیش مکمل کرنے کے بعد چھتیس گھنٹے میں رپورٹ پیش کریں۔

آغا بابر عادی مجرم نہیں تھا۔ اُور نہ اِس سے پہلے اُسکا پولیس سا واسطہ پڑا تھا۔ بلکہ بعض پُولیس افسران تو خُود شہریار مجددی کی نسبت کیوجہ سے آغا بابر کواِضافی پروٹوکول دِیا کرتے تھے۔ لیکن آغا بابر نے پُولیس کی چند گھنٹوں کی ابتدائی تواضع کے بعد ہی اپنے جُرم کا اقبال کرلیا۔ اُور مزید کُچھ مہمان نوازی کے بعد وُہ ساڑھے تین کروڑ روپیہ کی رقم بھی لُوٹانے پر رضامند ہُوگیا جو اُس نے مختلف حیلے بہانوں سے خُرد بُرد کی تھی۔

صرف ایک ہفتہ کے قلیل عرصے میں ڈی ایس پی اعتصام مجددی کی خاص توجہ کے باعث نہ صرف آغا بابر سے رقم بازیاب کرالی گئی بلکہ وہ تمام میٹریل بھی تاجروں نے تبدیل کردیا۔ جو دھوکہ دہی سے فرقان کی سائٹ پر جمع ہُوچُکا تھا۔ جبکہ حماد اینڈ سنز کا کوٹیشن منسوخ کرنے کے بعد فرقان کی فرمائش پر وہ ٹھیکہ ٹھیکیدار عبدالرحمن کو نئے سِرے سے دیدیا گیا۔

(جاری ہے)

مُحترم قارئین کرام ،، آپ سب سے دُعاؤں کیلئے ملتمس ہُوں۔

پلکوں سے دَرِ یار پہ دستک دینا
اُونچی آواز ہُوئی عُمر کا سرمایہ گیا

Monday, 1 June 2015

جال۔ در ۔ جال قسط ١٠۔



جال۔ در ۔ جال قسط ١٠۔



گُذشتہ سے پیوستہ۔

تمام واقعات جان کر شہریار مجددی نے رشک بھری نِگاہوں سے فرقان کو دیکھتے ہُوئے کہا،، فرقان میرے بھائی تُم نہایت عظیم ہُو۔ جس نے حسان صاحب کی صحبت میں رِہ کر خُدا کی رضا و نافرمانی کی معرفت حاصِل کرلی۔ آج سے تُم اس لڑائی میں تنہا نہیں ہُو۔ میں ایک حقیقی بھائی کی طرح تمہارے شانہ بشانہ چلنے کو اپنے لئے اعزاز سمجھوں گا۔ میں آج اِسی وقت اپنے قابل احترام بُزرگ کے رُوبرو تُمہارے ساتھ اپنی پارٹنر شپ کا اعلان کرتا ہُوں۔ اِس تمام پروجیکٹ میں آپ میرے نصف حِصہ کے شراکت دار ہیں۔ میں کل ہی اپنے منیجر کی مُلاقات تُم سے کروا دُونگا۔ جسکے فوری بعد آپ اپنی جگہہ پر کنسٹریکشن شروع کروا دیجئے گا۔

حَسان صاحب نے شہریار مجددی کی فراخدلانہ پیشکش کے بعد اپنے دونوں ہاتھ بُلند فرمادیئے اور بُہت دیر تک دونوں کی خیر و بھلائی کیلئے انتہائی رِقت سے دُعا مانگتے رہے۔

اَب مزید پڑھیئے۔

اگلے دِن حسبِ وعدہ شہریار مجددی نے فرقان کی مُلاقات اپنے بزنس منیجر آغا بابر سے کروانے کے بعد فرقان کو بتایا کہ وہ اپنا کاروبار سمیٹنے کی خاطر آج شام ہی کو چند دِنوں کے لئے دُبئی جارہا ہے۔ آغا بابر چہرے مُہرے سے ہی ایک تجربہ کار اور سمجھدار اِنسان نظر آتا تھا۔ لیکن جِس رفتار سے آغا بابر نے فرقان کے پلاٹ کیلئے نقشہ ڈرافٹ کروایا۔ اُور دوسری جانب پلاٹ کے ایک مُناسب اِحاطے پر کنسٹرکشن کا خام مال حِفاظت سے رکھنے کیلئے عارضی شیڈ تیار کروا رَہا تھا۔ فرقان بھی دِل سے آغا بابر کو داد دیئے بغیر نہ رِہ سکا۔ فرقان سُوچنے لگا۔ آغا بابر کا شُمار بِلا شُبہ اُن لوگوں میں ہُوتا ہے۔ جو وقت کے ایک ایک لمحے کی قدر کرنا جانتے ہیں۔ شائد اِسی وجہ سے فرقان دِن بدِن آغا بابر کا گرویدہ ہُوتا چلا جارہا تھا۔

صرف چند دِن کے اندر اندر آغا بابر نے شہر کی مشہور ومعروف تعمیراتی کمپنیوں سے کوٹیشن حاصِل کرنے کے بعد فرقان کے مشورے سے تعمیراتی کام کا ٹھیکہ ایک کمپنی کو دیدیا۔ جسکے نرخ دوسری تمام کمپنیوں سے کافی کم تھے۔ فیکٹری کےتعمیراتی کام کا ٹھیکہ دینے کے دوسرے دِن ہی آغا بابر نے فرقان سے مُلاقات کی اُور اُسے بتایا کہ ہمیں تعمیراتی میٹریل ابھی سے اِسٹاک کرلینا چاہیئے۔ کیونکہ دُوماہ بعد بجٹ آرہا ہے۔ جسکے بعد مُلک بھر میں گورنمنٹ کے رُکے ہُوئے کام دوبارہ سے شروع ہُوجایئنگے۔ جسکے بعد یقینی طُور پر ایک طرف خام مال کے ریٹ بڑھ جانے کا اندیشہ ہے۔ تُو دوسری طرف کام کی زیادتی کیوجہ سےمیٹریل کے شارٹ ہوجانے کا بھی خطرہ موجود ہے۔ فرقان پہلے ہی آغا بابر کی پرسنالٹی سے کافی مُتاثر ہُوچکا تھا۔ لیکن آج وہ آغا بابر کی دُور اندیشی کا بھی قائل ہُوچکا تھا۔

فرقان کی منظوری کے بعد ابتدائی طُور پر تین لاکھ اینٹوں کیساتھ ریتی ، سیمنٹ ، اور سریا بھی فیکٹری کے اِحاطے میں اُترنے لگا۔ جبکہ آغا بابر کا خیال تھا کہ سریا بھی بجائے ڈیلر کے کارخانوں سے خریدنا زیادہ فائدہ مند رہے گا۔ یہاں بھی فرقان کے پاس آغا بابر کی تائید کے سِوا کوئی چارہ نہیں تھا۔

تمام معاملات بڑے بہترین انداز سے انجام پزیر ہُورہے تھے۔ آغا بابر کی موجودگی میں فرقان خُود کو بُہت ہلکا پھلکا محسوس کررہا تھا۔ اُس رات وہ اپنے کمرے میں لیٹا یہی سُوچ رَہا تھا۔ کہ اگر آغا بابر کا ساتھ نہ ہُوتا تُو وہ کبھی بھی اتنی سُرعت کیساتھ فیکٹری کی تعمیرات شروع نہ کرواسکتا تھا۔ تبھی اُسکے مُلازم نے اسکے دروازے پر دستک دے کر اُسے اطلاع دِی کہ کوئی صاحب آپ سے مُلاقات کیلئے آئے ہیں۔ میں نے اُنہیں کہا بھی کہ یہ وقت فرقان صاحب کے آرام کا ہے۔ مگر وہ صاحب بضد ہیں کہ آپ سے اِسی وقت مُلاقات کریں گے۔

فرقان نے گھڑی کی جانب دیکھا ۔ رات کے پُونے گیارہ بجنے کو تھے۔ مگر حسان صاحب کی تربیت کی وجہ سے فرقان نے بستر چھوڑ دِیا کہ نجانے کون پریشان حال انسان ہُو۔ جِسے اس وقت اُسکی مدد دَرکار ہُو۔ ویسے بھی حسان صاحب فرمایا کرتے تھے۔ کہ ایسے وقت جب بستر کو چھوڑنے کو دِل نہ چاہے اللہ کریم اپنے نیک بندوں کو بعض اُوقات اپنے فرشتوں کی صورت آزماتا ہے۔ تاکہ سب پر واضح ہُوجائے کہ اللہ والے اپنے آرام پر مخلوقِ خُدا کی خِدمت کو فوقیت دیتے ہیں۔

دروازہ کھولنے پر فرقان کی نِگاہ جس شخص پر پڑی وُہ کوئی انجان شخص نہیں بلکہ ٹھیکیدار عبدالرحمن تھا۔ جِس نے نعمان و فرقان کی پہلی فیکٹری کی تعمیر اول تا آخر کی تھی۔ فرقان نے سلام کے بعد ٹھیکیدار عبدالرحمن کو اندر آنے کی دعوت دی۔ جِسے ٹھیکیدار عبدالرحمن نے فرقان کا شُکریہ ادا کرتے ہُوئے قبول کرلی۔

ڈرائینگ رُوم میں بیٹھ کر بعد چند رسمی جُملوں کے بعد ہی ٹھیکیدار عبدالرحمن نے شِکایت بھرے لہجے میں فرقان کو مُخاطب کرتے ہُوئے کہا ،، کیا آپ میرے کام سے مطمئین نہیں تھے جو اس مرتبہ فیکٹری کی تعمیرات کا کام انتہائی مناسب نرخ ہُونے کے باوجود بھی آپ نے مجھے نہیں دیا۔۔۔؟

نہیں عبدالرحمن بھائی ایسی کوئی بات نہیں ہے۔۔۔۔۔۔۔ بلکہ مجھے تو معلوم بھی نہیں تھا کہ آپ نے بھی کُوٹیشن فارم بھرا ہے۔۔۔۔۔ اسلئے جس کمپنی کے نرخ مجھے سب سے کم نظر آئے ہم نے اُسی کمپنی کو ٹھیکہ دیدیا۔۔۔۔۔۔ فرقان نے ٹھیکیدار عبدالرحمن کی دلجوئی کرتے ہُوئے کہا۔۔۔

سب سے کم نرخ۔۔۔۔۔؟ لیکن جہاں تک میری معلومات ہیں حماد اینڈ سننز کے ریٹ تُو ہماری کمپنی سے ۴۰ فیصد زائد تھے۔ پھر بھی قرعہ فال اُسی کے نام نِکلا۔۔۔۔۔۔ٹھیکیدار عبدالرحمن نے تعجب کا اظہار کرتے ہُوئے کہا۔

لیکن عبدالرحمن بھائی میں نے خُود تمام کوٹیشنز کو پڑھا تھا۔ اُور حماد اینڈ سنز کے ریٹ ہی سب سے کم تھے ۔۔۔ ویسے آپ نے فارم کس نام سے بھرا تھا۔۔۔۔؟ فرقان نے ٹھیکیدار عبدالرحمن سے حیرت کے عالم میں استفسار کیا۔۔۔

فرقان صاحب نام تو وہی پُرانا والا ہے ۔۔۔ (اے، آر ، سی ،سی) میں نے تُو سوچا تھا کہ آپ نام پڑھتے ہی پہچان جائیں گے۔۔۔ ٹھیکیدار عبدالرحمن نے جواب دیتے ہُوئے شکوہ کیا۔۔۔۔۔۔۔۔

لیکن عبدالرحمن بھائی مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ اس نام کا تُو کوئی کُوٹیشن فارم سرے سے موجود ہی نہیں تھا اُن تمام فارمز میں۔ فرقان نے اپنے ذِہن پر زُور ڈالتے ہُوئے کہا۔۔۔۔ لیکن کل آپ سائٹ پر ہمارے عارضی آفس میں تشریف لے آئیے گا۔ میں دوبارہ تمام کوٹیشن چیک کرلونگا۔ اور اسطرح آپ بھی مطمئین ہُوجایئنگے۔

بُہت اچھی بات ہے ۔فرقان صاحب میں کل ضرور حاضِر ہُوجاؤنگا۔ یہ کہہ کر ٹھیکیدار عبدالرحمن مصافحہ کیلئے اُٹھ کھڑا ہُوا۔ فرقان دروازے تک ٹھیکیدار عبدالرحمن کو چھوڑنے کیلئے آیا۔ تبھی ٹھیکیدار عبدالرحمن نے چُونکتے ہُوئے دوبارہ فرقان کو مُخاطب کرتے ہُوئے کہا۔۔ اچھا ہُوا ۔ مجھے ابھی یاد آگیا۔۔ فرقان صاحب آپ چُونکہ میرے دیرینہ مہربان ہیں۔ اسلئے آپ کو ایک مشورہ دینا چاہتا ہُوں،، کہ آپ جو دونمبر کوالٹی کی اینٹیں اور ایکسپائر سیمنٹ عمارت میں استعمال کرنے جارہے ہیں۔ یہ عمارت کو بُہت جلد بوسیدہ کردے گی۔ میرے خیال میں آپکو اپنی فیکٹری میں چند لاکھ کے فائدے کیلئے ایسا گھٹیا میٹریل استعمال نہیں کرنا چاہیئے۔۔۔۔۔۔۔

گھٹیا اور دونمبر میٹریل۔۔۔۔۔۔؟ بھلا میں کیوں اپنی فیکٹری میں ایسا میڑیل استعمال کرنے لگا۔ آپکو ضرور کوئی غلط فہمی ہُوئی ہُوگی عبدالرحمن بھائی۔۔۔ فرقان نے ہنستے ہُوئے کہا۔

لیکن میں نے خُود آپکی فیکٹری میں ۲ نمبر میٹریل اُترتے دیکھا ہے۔ جِسے دیکھ کر مجھے حیرت بھی بُہت ہُوئی تھی۔ کیونکہ آپ نے تُو اُس وقت بھی گھٹیا میٹریل استعمال نہیں کیا تھا۔ جب آپ نعمان صاحب کیساتھ اپنی پہلی فیکٹری بنا رہے تھے ۔ حالانکہ کہ مجھے خُوب یاد ہے اُس وقت تو اکثر رقم کی کمی کے باعث آئے دِن کام بھی بند ہُوجایا کرتا تھا۔ تُو اَب کیوں تمام شہر کا ایکسپائر سیمنٹ آپکی فیکٹری میں جمع ہُورہا ہے۔۔۔۔؟ کیا فیکٹری کا میٹریل آپ خُود نہیں خرید رہے ہیں۔۔۔۔؟ ٹھیکیدار عبدالرحمن نے اپنی حیرت کا اِظہار کرتے ہُوئے کہا۔

فرقان نے ایک خیال کے تحت ٹھیکیدار عبدالرحمن سے مُخاطب ہُوتے ہُوئے کہا۔۔ عبدالرحمن بھائی کیا آپ کل فجر کی نماز کے فوراً بعد سائٹ پر آسکتے ہیں۔۔۔۔۔؟ ٹھیکیدار عبدالرحمن کے حامی بھرنے کے بعد فرقان ٹھیکیدار عبدالرحمن کو رخصت کرنے کے بعد ایک مرتبہ پھر اپنے کمرے میں آکر لیٹ گیا۔ لیکن اب اُسکی آنکھوں میں اِضطراب کے سائے لہرا رہے تھے۔ وہ سُوچ بھی نہیں سکتا تھا۔ کہ آغا بابر جیسا بُردبار شخص ایسی کِسی گھٹیا حرکت کا مرتکب بھی ہُوسکتا تھا۔ لیکن ٹھیکیدار عبدالرحمن کی گُفتگو نے فرقان کے ذِہن میں بُہت سے سوالات پیدا کردیئے تھے۔ جنہوں نے فرقان کے ذہن کو بہرحال پراگندہ کردیا تھا۔

(جاری ہے)

مُحترم قارئین کرام ،، آپ سب سے دُعاؤں کیلئے ملتمس ہُوں۔

پلکوں سے دَرِ یار پہ دستک دینا
اُونچی آواز ہُوئی عُمر کا سرمایہ گیا

عامل کامل ابو شامل (تھانے کی سیر) قسط 42.AKAS



گُذشتہ سے پیوستہ۔

رجب کا خوف اُور اُسکی وحشتیں جاناں کی محبتوں کی چھاوٗں میں فی الوقت کہیں گُم ہُوچُکی تھیں۔ ابو شامل نے ٹیلی پیتھی کے ذریعے سے اِس بات کا خاص خیال رکھا تھا۔کہ،، رجب  کسی بھی طرح جاناں سے اپنے علاقے کا ذکر نہ کرے۔ دوسری شام ابو شامل نے رجب کو کار میں بٹھا کر اُس پر نیند طاری کی اُور ایبٹ آباد کیلئے نکل گیا۔۔۔۔۔۔۔ جاناں کو شک نہ ہو۔ اس لئے ابو شامل نے کامل کو بتادیا تھا۔ کہ،، اُسکی واپسی چار گھنٹے بعد ہی ہُوگی۔ اِس دوران میں رجب کی فیملی سے ملنے کے بعد کچھ خبر اپنوں کی بھی لیتا آوٗنگا۔۔۔۔۔  ابوشامل کو گئے بمشکل آدھا گھنٹہ بھی نہیں گُزرا ہُوگا۔ کہ،، ڈور بیل کی آواز سُن کر کامل دروازے پر  پہنچ گیا۔ دروازے  کھولتے ہی کامل کی نظر دروازے پر کھڑے چند مستعد پولیس سپاہیوں اُور ایک انسپکٹر پر پڑی۔۔۔۔ ایک سپاہی نے کامل کی شناخت کرتے ہُوئے اعلان کیا۔ صاحب یہی تھا وُہ شخص جس نے کل رات نمائش میں پانچ بندوں کو زخمی کیا تھا۔ کامل کے چہرے پر سپاہی کی بات سُن کر ہوائیاں اُڑنے لگی تھیں۔

اب مزید پڑھیئے۔

 ایس ایچ  اُونے  بنگلہ کا سرسری جائزہ لینے کے بعد ایک نگاہ کامل کے بدحواس چہرے پر ڈال کر استہزائیہ انداز میں کہا،، کیا اِرادے ہیں جناب کے خُود چلنا پسند فرمائیں گے آپ یا ۔۔۔۔۔۔؟؟؟؟ کامل علاقے میں اپنا تماشہ نہیں بنانا چاہتا تھا۔اسلئے گیٹ لاک کرکے خاموشی سے موبائیل وین میں بیٹھ کر تھانے پُہنچ گیا۔۔۔۔ ایک سپاہی نے تلاشی  کے بعد کامل کا تمام سامان اپنی تحویل میں لے لیا۔۔۔۔ اِسی سپاہی کو ایس ایچ اُو نے ہدایت دیتے ہُوئے حکم دیا۔ نذیر  اِنہیں فی الحال لاک اَپ میں رکھو۔ میں رات ۲ بجے تک واپس آکر اِنکی تواضع اُور باقی کاروائی مکمل کرتا ہُوں۔۔۔۔۔

 سُنیئے ایس ایچ اُو صاحب! میں آپ سے ہر قسم کا تعاون کرونگا۔ بس میری ایک گُزارش ہے اگر جناب مناسب سمجھیں تو مجھے ایک کال کا موقع عنایت فرمادیں۔۔۔۔اُور میں آپکو یقین دلاتا ہُوں۔ کہ،، مجھے صرف اپنی بیوی کو مطلع کرنا ہے۔کہ،، میں رات گھر نہیں آپاوٗنگا۔ ورنہ وُہ بیچاری تمام رات میرا انتظار کرتی رہے گی۔۔۔ کامل کا لہجہ اتنا مہذب اُور باوقار تھا۔کہ،، ایس ایچ اُو نے کچھ سُوچ کر اپنا موبائیل اُسکی طرف بڑھاتے ہُوئے تاکید کی۔۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ،، اب تمہاری بیوی کو  ایک طویل عرصہ تک تمہارے بغیر رہنے کی عادت ڈالنی پڑے گی۔۔۔۔۔ اُور  دیکھو بچہ جی کوئی ہوشیاری نہیں دِکھانا۔ ورنہ قسم کھا کر کہتا ہُوں کہ،،  ہم پر پریشر ڈالنے کیلئے کسی سیاسی بندے کو گھسیٹنے کی کوشش تمہیں بُہت مہنگی پڑسکتی ہے۔۔۔ کامل نے خاموشی سے نمبر پنچ کرنے کے بعد جاناں کو فقط اتنی اطلاع دی۔کہ،، میں بھی ابو شامل کے پاس ہی جارہا ہُوں۔دروازہ اندر سے بند کرلینا،، ہوسکتا ہے ہمیں آنے میں صبح ہوجائے۔۔۔۔ گفتگو کے بعد کامل نے شکریہ ادا کرتے ہُوئے موبائیل ایس ایچ اُو کی جانب بڑھادیا۔۔۔۔۔


رات ڈھائی بجے کا وقت رَہا ہُوگا۔ جب ایس ایچ اُو صاحب نیم مدہوشی کی حالت میں ڈگمگاتے قدموں سے تھانے میں جلوہ افروز ہُوئے۔کرسی پر بیٹھتے ہی اُنہوں نے لاک اپ میں بند کامل پر ایک نگاہ غلط ڈالتے ہُوئے، گرجدار آواز میں نذیر کو حکم جاری کیا۔اُوئے نذیرے ذرا اِس مرغے کو تو تالا کھول کر باہر نکال۔۔۔۔  مجھے باہر نکالنے کی زحمت نہ کرو رضوان خان۔ کیونکہ میں تمہارے سامنے کرسی پر موجود ہُوں۔۔۔۔ کامل کو اگلے ہی لمحے  کرسی پر براجمان دیکھ کر ایس ایچ اُو کا تمام نشہ ہرن ہُوچُکا تھا۔۔۔۔۔ تُم۔تُم۔ ۔۔۔تُم باہر کس طرح آئے جبکہ لاک اپ پر ابھی تک تالا موجود ہے۔۔۔۔ ایس ایچ اُو نے ہکلاتے ہُوئے کامل سے استفسار کیا؟؟؟۔۔۔۔۔۔اِن باتوں میں کچھ نہیں رکھا  رضوان خان۔۔۔ تُم کیا ! تمہاری ساری پُولیس فورس بھی مِل کر مجھ اکیلے کو  میری مرضی کیخلاف قید نہیں کرسکتی۔ وُہ تو  میں اِس علاقے میں تمہارا تماشہ نہیں بنانا چاہتا تھا۔ اِس لئے خاموشی سے تمہارےساتھ بھی چلا آیا تھا۔ اُور تم جیسے بیہودہ آدمی کا انتظار بھی کرلیا۔ ورنہ مجھے خُوب معلوم ہے ۔کہ،، تُم ابھی اپنے اُسی عیاش کزن دلاور خان کی مزاج پُرسی کرکے آرہے ہو۔۔۔۔ کامل نے کن انکھیوں سے دوسری کرسی پر موجود ابوشامل کو دیکھتے ہُوئے۔دلاور حسین پر طنز کیا۔

ایس ایچ اُو ،رضوان خان نے  کامل کی باخبری دیکھ کربوکھلاہٹ میں ٹیبل پر موجود ،، بزر  ،، سے اُس وقت تک ہاتھ نہیں اُٹھایا۔جب تک کہ،، پانچ چھ سپاہی اپنی توند سنبھالے ٹیبل کے سامنے نہیں پُہنچ گئے۔۔۔۔ پکڑو اِس خبیث کو اُور سُنو صرف لاک اپ میں قید نہیں کرنا ۔بلکہ اِسکے ہاتھ پاوٗں بھی خُوب کس کر اِسے اُلٹا لِٹادو۔کافی دِنوں سے کسی کی چھترول نہیں کی۔آج  اِسکی وُہ حالت بناوٗنگا۔کہ،، زندگی بھر کسی پولیس افسر سے بدتمیزی کرنے سے قبل ہزار مرتبہ سُوچے گا۔ ۔۔۔ ابو شامل نے بےپرواہی سے کامل کو اِشارہ کیا۔جیسے کہہ رہا ہو۔کہ،، اِس بیچارے کو اپنی من مانی کرلینے دُو۔

سپاہیوں کو اچھی طرح باندھنے کا مقصد اگرچہ سمجھ نہیں آیا۔لیکن صاحب کا حُکم تھا۔ اِس لئے اُنہوں نے تشریف کا علاقہ چھوڑ کر باقی تمام جسم ہی رسیوں سے لپیٹ ڈالا تھا۔۔۔۔ رضوان خان نے تمام سپاہیوں کو باہر بھیج کر خُونخوار نگاہوں سے کامل کو گھور کر ایک گندی سی گالی بکی اُور  پھر دیوار پر موجود ہنٹر اُتار کر جونہی مُڑا ۔ تو اُسکی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رِہ گئیں۔کیونکہ لاک اَپ  کے فرش پر صرف رسیوں کے گُچھے موجود تھے۔ جبکہ کامل علی اُسی نشست پر براجمان تھا۔ رضوان خان نے پھر ایک گندی سی گالی نکال کر کامل پر جھپٹنے کی کوشش کی۔ لیکن اِس سے پہلے کہ،،  رضوان خان لاک اپ سے باہر نکل پاتا۔ رسیوں کے گچھے خُود بخود رضوان  خان کے جسم سے لپٹنے لگے تھے۔ اور ایک منٹ سے پہلے رضوان خان کا  نیم برہنہ جسم اُسی حالت میں رسیوں سے لپٹا ہُوا تھا۔ جس طرح سپاہیوں نے کامل کو لِٹایا ہُوا تھا۔ جبکہ ہنٹر اِس مرتبہ کامل کے ہاتھوں میں رقص کناں تھا۔


رضوان خان جو اِس ہنٹر کو دوسروں کے جسم پر برساتے ہُوئے اکثر بےلگام  ہُوجایا کرتا تھا۔ خُود  ۱۰ کوڑے بھی اپنی نازک تشریف پر برداشت نہیں کرپایا ۔اُور بے ہُوش ہُوگیا۔۔۔۔ ابو شامل نے نجانے کونسی  تدبیر اپنائی تھی۔کہ رضوان خان اگلے لمحے ہی ہوش میں آگیا تھا۔ البتہ انجانی ہیبت سے اُسکا جسم تھر تھر کانپ رہا تھا۔ ۔۔ ابو شامل نے شرارت سے دیواروں کی جانب  اِشارہ کیا۔تو لاک اپ کی تمام  دیواروں پر ایسے مناظر اُبھرنے لگے۔ جیسے ہزاروں عفریت کڑکتی بجلیوں کی روشنی میں ایک دوسرے کا گلہ دبوچنے کی کوشش میں مصروف ہُوں۔۔۔ پھر ابو شامل کی ہیبتناک  آواز نے ماحول کو مزید پراسرار بناڈالا۔ ابو شامل نے رضوان خان کو مخاطب کرتے ہُوئے وارننگ دی۔ رضوان خان یہ تمہاری پہلی غلطی تھی۔ اِس لئے حضرت قبلہ کامل شاہ  سرکارکے حکم پر تمہیں زندہ چھوڑ دیا گیا ہے۔لیکن یاد رکھنا اگر تم نے آئندہ ،، سرکار،، کے راستے میں آنے کی جراٗت کی تو اِسکا خمیازہ تمہاری نسلوں کو بھی بھگتنا پڑے گا۔۔۔۔ رضوان خان کی ساری دلیری گدھے کے سینگ کی مانند غائب ہُوچکی تھی۔۔۔ وُہ گھگیائی ہُوئی آواز میں نادیدہ  ہستی سے رحم کی بھیک  طلب کرتے ہُوئے ایکبار پھر بے ہوش ہُوچکا تھا۔۔۔۔ ابو شامل نے مُسکرا کر کامل کی جانب ہاتھ بڑھایا تو کامل علی نے ابو شامل کا اِرادہ بھانپ لیا۔ اِس لئے ابوشامل کے جھٹکہ دینے سے قبل ہی کامل علی ابو شامل سے لپٹ گیا۔اگلے ہی لمحے وُہ دونوں  اپنے بنگلے کے دروازے پر موجود تھے۔


دِل کی بات
نہیں کہنی آج۔۔۔

(جاری ہے)

اُسکا کہنا ہے۔ کِسی اُور کو دیکھوں نہ کبھی
کیوں کہ اُسکو یہ میرا رُوپ بُرا لگتا ہے۔

مجھکو ہر چہرے میں آتاہے نظر اِک وُہ ہی
جُو نہ بھر پائے یہ بہروُپ !!!  ۔بُرا لگتا ہے۔


Sunday, 31 May 2015

عامل کامل ابو شامل (بچہ کہانی) قسط 41.AKAS



گُذشتہ سے پیوستہ۔
نمائش میں سوائے رقص و سُرودکی محفل کے کچھ نہیں تھا۔ البتہ کچھ لوگ کھیل کے نام  پرمختلف شامیانوں میں جُوئے میں مصروف تھے۔ کامل علی کی طبعیت تھوڑی ہی دیر میں اِس کھیل تماشے سے اُکتانے لگی تھی۔۔۔ یار ابو شامل یہاں تو اپنے مطلب کی کوئی بات نہیں ہے۔۔۔۔  اِس سے تو بہتر تھا گھر پر ٹی وی ہی دیکھ لیتے۔۔۔ کام کی چیز بھی ہے ۔میرے یار اُور ہمارے لئے کام بھی،، بس دیکھنے والی نظر چاہیئے ابوشامل نے گُم سُم لہجے میں جواب دیتے ہُوئے کامل کو ایک شامیانے کی جانب متوجہ کیا۔ جس کے پردے نما دروازے پرایک ڈرائیور ٹائپ شخص ایک تیرہ چودہ برس کے خُوبصورت بچے کی پٹائی میں مصروف تھا۔

اَب مزید پڑھیئے۔

ایسا نہیں تھاکہ،، نمائش میں موجود  سبھی لُوگ اِس تماشے سے بے خبر تھے۔ لُوگ اُن کے قریب جارہے تھے۔لیکن نجانے وُہ شخص اُنہیں ایسا کیا بتا رہا تھا۔ کہ،، کوئی بھی اُس بچے کو بچانے کے بجائے وہاں سےکھسک کر دوبارہ نمائش کی رُونق کا حصہ بن جاتا۔۔۔۔ ابو شامل کو بڑھتا دیکھ کر کامل علی کے قدم بھی بچے کی جانب بڑھنے لگے۔۔۔۔ کامل علی نے جب اُس شخص سے دریافت کیا کہ،، کیوں وُہ اِس بچے کو اتنی بیدردی سے پیٹ رہا ہے۔ تو اُس شخص نے دہاڑتے ہُوئے کامل کو  وہاں سے خاموشی سے دفع ہُوجانے کا مشورہ دیا۔ کامل علی کا خُون  اُس شخص کے  ہتک آمیز روئیے سے کھولنے لگا تھا۔۔۔ جبکہ بچہ اپنے پھٹے ہُوئے ہُونٹوں سے بہتے خُون کو  رُوکنے کی ناکام کوشش کرتے ہُوئے رحم طلب نگاہوں سے اب  کامل کی جانب دیکھنے لگاتھا۔ اچانک اُس شخص نے   بچے کو ایک  مزید ٹھوکر رسید کردی۔ جسکے جواب میں اُس بچے نے ہاتھ جُوڑتے ہُوئے فریاد کی۔ اُستاد معاف کردیں آپکو آپکے بچوں کا واسطہ۔


کامل کو اندازہ لگانے میں دیر نہیں لگی۔کہ،، یہ شخص اِس بچے کا باپ نہیں ہے۔بلکہ کوئی اُستاد ٹائپ چیز ہے۔ تبھی اتنی بے رحمی سے  پرائےبچے کو رُوئی کی طرح دھنک رَہا ہے۔۔۔ اُس شخص پر نجانے کیسا جنون طاری تھا۔کہ،، بچے کےمعافی طلب کرنے پر ایکبار پھر بھڑک کر   بچے کو لاتوں اُور گھونسوں پر رکھ لیا۔ اب بات کامل کی برداشت سے باہر ہُوچُکی تھی۔ کامل نے بھی اپنے  والدین کو کھویا تھا۔لیکن اتنی سفاکی تو اُس نے بھی کبھی برداشت نہیں کی تھی۔ بچے کی چیخوں نے کامل میں جیسے جنون پیدا کردیا تھا۔ لہذا کامل نے  تمام باتوں سے بے پرواہ ہُوکر ایک زُور دار ہاتھ اُس شخص کی گُدی پر جَڑ دیا۔ وُہ شخص اِس معاملے کیلئے ذہنی طور پر بالکل تیار نہیں تھا۔ اِس لئے پہلے لڑکھڑایا پھر کامل پر حملے کیلئے جونہی آگے بڑھا۔ کامل نے اُس شخص پر جنونی انداز میں جوابی حملہ کردیا۔۔۔۔ چند لمحوں میں نجانے کہاں سے اُس شخص کے مزید چار حمایتی بھی کامل پر حملہ آور ہُوچکے تھے۔ لیکن اکیلا کامل اُن پانچوں کو  ایسے اُٹھا اُٹھا کر پٹخ رہا تھا۔ جیسے لباس میں بدمعاشوں کے جسم کے بجائے ٹیڈی بئیر موجود ہُوں۔۔۔۔ لُوگوں کو صرف کامل علی ہی نظر آرہا تھا۔ اِسلئے بُہت سے لوگ یہ تماشہ دیکھتے ہُوئے   کامل کو سپرمین گردان رہے تھے۔ جبکہ پس پردہ اِس ساری اُٹھا پٹخی میں مصروف ابوشامل کسی کو دکھائی نہیں دیا۔


تھوڑی ہی دیر میں کامل کے گرد ہجوم جمع ہُونے لگا تھا۔ جبکہ  وُہ پانچوں بدمعاش ٹائپ افراد زمین چاٹ رہے تھے۔۔۔۔ تبھی ابوشامل نے کامل کے کان میں سرگوشی کی،،  اِس سے پہلے کہ،، پولیس آجائے بچے کو لیکر یہاں سے نکلو۔ ۔۔۔۔ کامل بچے کا ہاتھ پکڑےبھیڑ  کوچیرتے ہُوئے نمائش سے باہر نکل آیا تھا۔ تبھی بُہت دُور سے پولیس کی گاڑیوں کی روشنی نظر آنے پر  ابو شامل نے کامل کے ہاتھ کو پکڑ کر جھٹکا مارا۔ کامل نے گرنے سے قبل بچے کا ہاتھ مضبوطی سے پکڑ کر اُس بچے کو اپنے سینے پر گرا لیا تھا۔ کامل نے جھٹکے سے سنبھل کر  ابو شامل کو گھورا ۔ تو ابو شامل نے  مسکرا کر سامنے دیکھنے کا اِشارہ کیا۔ تو کامل کو معلوم ہُوا۔کہ ابوشامل نے آج پھر وہی سابقہ حرکت کی تھی۔ جسکی وجہ سے وُہ اپنے بنگلے سے ذیادہ سے ذیادہ ہزار میٹر  کے فاصلے پر موجود تھے۔ کامل سمجھ گیا۔کہ،، اتنا فاصلہ بھی ابوشامل نے بچے کی وجہ سے چھوڑا ہُوگا۔تاکہ بچے کو عجیب نہ لگے۔

گھر میں داخل ہوتے ہی کامل نے  جاناں کو اپنا منتظر پایا۔ ابو شامل بھی دروازے میں داخل ہوتے ہُوئے ظاہر ہُوچکا تھا۔ جاناں کی نظر جونہی  زخمی بچے پر پڑی وُہ ہائے ربَّا !!!کی ہُویا۔ اِس نکے نُوں۔ ؟ کیا  خُدانخواستہ آپکی گاڑی سے ایکسیڈنٹ ہوگیا  اِس بچے کا۔؟ اُور آپ ہسپتال کے بجائے گھر کیوں لے آئے اِس بیچارے کو۔۔ جاناں نے ممتا بھرے لہجے میں بچے کے سر پر شفقت سے ہاتھ پھیر کر اُسکے  زخموں پر نگاہ ڈالی۔

خُدا کی بندی ایک ہی سانس میں کتنے سوال کرڈالے تُم نے۔۔۔ ہمیں نہیں پتا یہ بچہ کُون ہے۔اُور کہاں سے آیا ہے۔۔۔ ہمیں تو یہ زخمی حالت میں  راستے پر پڑا دِکھائی دیا۔ تو انسانی ہمدردی میں گھر اُٹھالائے۔ مرہم پٹی کے بعد اِسے گھر چھوڑ آئیں گے۔ تُم ایسا کرو اِس کیلئے ہلدی والا دُودھ لے کر آوٗ ساتھ ہی مرہم پٹی والا بکس بھی لے آنا۔ جاناں کے کمرے سے نکلتے ہی کامل نے کرید کُرید کر بچے سے  سوالات پُوچھنے شروع کردیئے۔ بچے کی دلخراش داستان نے کامل ہی کو نہیں ابوشامل کی آنکھوں کو بھی نم کر ڈالا۔

بچے  نے اپنا نام رجب حُسین بتایا۔ وُہ ایبٹ آباد کے مضافات کا رہنے والا تھا۔ گھر میں   چھ بہنوں کے بعد اکلوتا بھائی ہُونے کے باوجود والدہ نے صرف اسلئے قریبی گاوٗں کے  ٹرک مالک   دِلاورخان  کے ساتھ روانہ کردیا تھا۔ کہ ،، رجب کی آمدنی سے شائد وُہ  لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلانے سے بچ جائیں۔ رجب کا  والد راج گیر مستری تھا۔ جو چند سال قبل    ایک مکان کا بیرونی پلستر کرتے ہُوئے کوازے سے پھسل کر اپنی کمر تُڑوا بیٹھا تھا۔۔۔۔ اُستاد  دِلاور خان یُوں تو پنج وقتہ نمازی تھا۔ لیکن اُسکا باطن ظلمات   کا اسیر تھا۔ جبکہ طبیعتا! وُہ بھی   بیشتر ڈرائیوروں کی طرح ہم جنس پرست تھا۔  ہردن نہ چاہتے ہُوئے بھی رجب کو دِلاور خان کا وُہ مکروہ چہرہ دیکھنا پڑتا ۔ کہ،، جس چہرے میں دِلاور خان انسان کے بجائے ایک  بھیڑیئے نما شیطان کی  شکل دھار  کر وحشی بن جاتا۔ رجب کا خیال تھا۔کہ،، اس مرتبہ اُستاد جونہی ایبٹ آباد  پُہنچے گا۔ تو وُہ رُو ۔رُو کر امی سے فریاد کرے گا۔کہ،، امی مجھے اِس شیطان سے بچالیں۔ اُور اُسکا دل کہتا تھا۔کہ،، اُسکی بہنیں اُور امی اُسے شیطان خان کے پنجے سے بچالیں گی۔

گُذشتہ کچھ دنوں سے  ٹرک میں خرابی کی وجہ سے وُہ  ایک ٹرک اڈے پر ٹہرے ہُوئے تھے۔ اُور ۲ دنوں سے دلاور خان رجب کے ساتھ نمائش دیکھنے کیلئے آرہا تھا۔جہاں  رقاصاوٗں کے  ہیجان انگیز بیہودہ  رقص دیکھنے کے بعد دِلاور خان پر شیطانی دورہ پڑنے لگتا۔ جسکے بعد دلاور خان  درندگی اُور سفاکیت   کا ایسا مظہر بن جاتا ۔کہ،،فلک اُور فضائیں بھی   رجب حُسین کی سسکیوں اُور آہوں سے بیقرار ہُوکر  شرم سے اپنی آنکھوں پر  ہاتھ رکھنے کیلئے مجبور ہوجاتیں۔ کامل  کی شفقت اُور مہربانی دیکھ کر رجب نے اپنی داستان سُنا تو دی تھی۔ لیکن اُس  نے انسانوں کے چہرے پر پڑی غلیظ نقاب کوبھی دیکھا تھا۔ اِس لئے اب وُہ بلک بلک کر کامل علی اُور ابوشامل کے سامنے ہاتھ جُوڑ کر فریاد کررہا تھا۔کہ،، خُدا کیلئے مجھے واپس اُس شیطان کے حوالے نہ کیجیئے گا۔  بلکہ میرے گھر والوں کو اطلاع کردیں۔ تاکہ وُہ میرے لئے ٹکٹ کے پیسے بھیج کر مجھے واپس بُلا لیں۔ رجب کی گفتگو میں چھپی خُودداری نے کامل کے دل میں رجب کیلئے مزید ہمدردی پیدا کردی۔

رجب کی مرہم پٹی اُور کھانا  کھلا کر ۔رجب کوجاناں کے حوالے کرنے کے بعد ابوشامل ، کامل کیساتھ چھت پر چلا آیا تھا۔۔۔۔رجب کی داستان سُننے کے بعد ابوشامل نے کامل پر اپنا خیال ظاہر کرتے ہُوئے بتایا کہ،، وُہ کل رات رجب کو اُسکے گھر چھوڑ آئے گا۔ اور اپنی  فرضی (این جی اُو) کی طرف سے اتنی بڑی رقم کا انتظام بھی کردے گا۔کہ،، پھر کبھی رجب کو ملازمت کے نام پر اپنی روح کو اذیت سے دوچار نہ کرنا پڑے۔۔۔۔ کل کیوں۔آج کیوں نہیں چھوڑ آتے اِس بیچارے کو اپنی فیملی کے پاس۔۔۔۔ کامل نے مشورہ دیتے ہُوئے کہا۔۔۔۔ آج اِس لئے نہیں لیجاسکتا۔ کہ مجھے  یہاں سے وہاں پُہنچنے میں پانچ منٹ بھی نہیں لگیں گے۔ اور اگر خُدانخواستہ اُس شیطان نے رجب کی گمشدگی کی اطلاع اُس کے گھر کرتے ہُوئے یہ بتادیا کہ،، یہ آج رات کا ہی واقعہ ہے۔ تو گڑ بڑ ہُوجائے گی۔ کیونکہ رجب نے سفر  کیلئے ہوائی جہاز تو استعمال نہیں کرنا۔نا!!!

رجب کا خوف اُور اُسکی وحشتیں جاناں کی محبتوں کی چھاوٗں میں فی الوقت کہیں گُم ہُوچُکی تھیں۔ ابو شامل نے ٹیلی پیتھی کے ذریعے سے اِس بات کا خاص خیال رکھا تھا۔کہ،، رجب  کسی بھی طرح جاناں سے اپنے علاقے کا ذکر نہ کرے۔ دوسری شام ابو شامل نے رجب کو کار میں بٹھا کر اُس پر نیند طاری کی اُور ایبٹ آباد کیلئے نکل گیا۔۔۔۔۔۔۔ جاناں کو شک نہ ہو۔ اس لئے ابو شامل نے کامل کو بتادیا تھا۔ کہ،، اُسکی واپسی چار گھنٹے بعد ہی ہُوگی۔ اِس دوران میں رجب کی فیملی سے ملنے کے بعد کچھ خبر اپنوں کی بھی لیتا آوٗنگا۔۔۔۔۔  ابوشامل کو گئے بمشکل آدھا گھنٹہ بھی نہیں گُزرا ہُوگا۔ کہ،، ڈور بیل کی آواز سُن کر کامل دروازے پر  پہنچ گیا۔ دروازے  کھولتے ہی کامل کی نظر دروازے پر کھڑے چند مستعد پولیس سپاہیوں اُور ایک انسپکٹر پر پڑی۔۔۔۔ ایک سپاہی نے کامل کی شناخت کرتے ہُوئے اعلان کیا۔ صاحب یہی تھا وُہ شخص جس نے کل رات نمائش میں پانچ بندوں کو زخمی کیا تھا۔ کامل کے چہرے پر سپاہی کی بات سُن کر ہوائیاں اُڑنے لگی تھیں۔
دل کی بات۔

دِل کی بات کہنے کا کیا فائدہ ؟؟؟ جب کوئی  سب کچھ سمجھ کر بھی ناسمجھ بنارہے۔

آپ سب کی دُعاوں کا طلبگار
عشرت اقبال وارثی۔
(جاری ہے)

اُسکا کہنا ہے۔ کِسی اُور کو دیکھوں نہ کبھی
کیوں کہ اُسکو یہ میرا رُوپ بُرا لگتا ہے۔

مجھکو ہر چہرے میں آتاہے نظر اِک وُہ ہی
جُو نہ بھر پائے یہ بہروُپ !!!  ۔بُرا لگتا ہے۔


جال در جال قسط ٩



جال در جال قسط ٩ 


گُزشتہ سے پوستہ۔

حسان صاحب نے کاغذ پر ایک سرسری نِگاہ ڈالنے کے بعد وہ کاغذ تِہہ کرنے کے بعد اپنی ڈائری میں رکھتے ہُوئے فرقان سے فرمایا،، اگر میرا اندازہ ٹھیک ہے تُو سمجھ لُو کہ تُمہارے اِمتحان کے دِِِن انشاءاللہ عزوجل بُہت جلد ختم ہُونے کو ہیں۔ بس اللہ کریم کرم فرمائے۔ اور یہ وہی شہریار مجددی ہُو جو میں سمجھ رَہا ہُوں۔۔۔۔ نام تُو وہی ہے۔ لیکن یہ دُبئی کے بجائے پاکستان میں کیا کررہا ہے۔ بس یہ مُعمہ حل ہُونا باقی ہے۔ اور اگر یہ وہی شہریار مجددی ہے تو ابتک میری نظروں سے کیوں اُوجھل ہے۔۔۔۔۔؟

اَب مزید پڑھیئے۔

حسان صاحب نے فرقان کو تاکید کی۔ وہ جلد از جلد شہریار مجددی سے رابطہ کرے اور اُس کے ساتھ ہماری نِشست کا اہتمام کرے۔مزید کچھ گفتگو کے بعد یہ مجلس برخاست ہُوگئی۔

حسان صاحب کے گھر سے واپس آنے کے بعد دُو دِن تک فرقان اپنے مسائل میں ایسا گِھرا کہ اُسے حَسان صاحب کی ہِدایات یاد ہی نہ رہیں۔ جُوں جُوں وقت گُزرتا جارہا تھا۔ مسائل بڑھتے ہی جارہے تھے۔ بچوں کے اسکول ، ٹیوشن کی فیسیں ، یوٹیلٹی بِلز ، مکان کا کرایہ، اور تمام گھریلو اِخراجات کیلئے رقم کی ضرورت تھی۔ لیکن فرقان کی جیب ہنوز خالی تھی۔ ایسے وقت میں کہ جب چہار جانب سے فرقان پر مایوسی کے بادل اُمنڈتے چلے آرہے تھے۔ اور کوئی تدبیر سُجھائی نہیں دے رہی تھی۔ فرقان کی بیگم نے اُسکی ہمت بندھاتے ہُوئے اُسکی گُود میں اپنا تمام زیور لاکر ڈال دیا۔

اِس تمام زیور میں وہ چار خُوبصورت کنگن بھی موجود تھے۔ جو شادی کی رات فرقان نے بیگم کو بڑے چاؤ سے پہنائے تھے۔ اور امی کی طرف سے دیا جانے والا وہ خاندانی ہار بھی دِکھائی دے رَہا تھا جو امَّاں کو دادی کی طرف سے مِلا تھا۔ فرقان نے وہ تمام زیور واپس کرتے ہُوئے کہا۔ کہ،، میں کہیں سے قرض حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہُوں۔ لیکن بیگم نے سمجھایا کہ،، ماں باپ اور تمام محبت کرنے والے اپنے بچیوں کو زیورات سے صرف اِس لئے آراستہ نہیں کرتے کہ ،، وہ صرف اُنہیں پہن کر حسین نظر آئیں ۔ بلکہ اِس لئے بھی دیتے ہیں کہ،، اگر خُدانخواستہ کبھی بُرا وقت آجائے تو اِنہیں بیچ کر سخت حالات کا مُقابلہ کیا جاسکے۔ کافی بحث کے بعد فرقان نے ہتھیار ڈالتے ہُوئے امی کے ہار کے علاوہ تمام زیور لے لیا۔ تمام زیورات بیچ کر ۱۲ لاکھ روپیہ سے کُچھ زائد رقم حاصِل ہُوگئی۔ جسکی وجہ سے فرقان کو اطمینان ہُوگیا کہ کم از کم ایک برس کا عرصہ اطمینان سے گُزر جائے گا۔ جب تک روزگار کا کوئی خاطر خُواہ انتظام بھی ہُو ہی جائے گا۔

فرقان اِن تمام معاملات میں اُلجھا ہُوا تھا۔ کہ حسان صاحب کی کال آگئی۔ اور جب اُنہوں نے شہریار مجددی سے ہُونے والی ٹیلیفونک گفتگو سے متعلق استفسار کیا تُو فرقان نے شرمندگی سے صاف صاف تمام حقیقت بتادی جسکی وجہ سے وہ شہریار مجددی سے گفتگو نہیں کرپایا تھا۔ حسان صاحب کو زیورات بیچے جانے کا جب معلوم ہُوا ۔ تو اُنہوں نے دُکھ اور ناراضگی کا اِظہار کرتے ہُوئے کہا۔ فرقان وہ بُہت نیک سیرت بچی ہے۔ اور وہ صرف تُمہاری بیگم نہیں ہے۔ بلکہ ہماری بھی بیٹی جیسی ہے۔ آپ نے ہم سے بڑی بیگانگی برتی۔ اگر آپ اپنی پریشانی کا اِطہار زیور بیچنے سے قبل ہم سے کردیتے تو اُس بیچاری کے زیورات بیچنے کی نوبت ہی نہیں آتی۔ اتنی رقم تو ہم بھی آپکو قرض حسنہ کے طور پر دے سکتے تھے۔۔۔۔!

فرقان نے جب شہریار مجددی کو کال مِلانے کی کوشش شروع کی تب بُہت مشکل کے بعد اُسکی کال مِلی۔ کیونکہ کافی مرتبہ موبائیل بِزی ٹون کیساتھ فرقان کا استقبال کرتا رہا۔ جسکی وجہ سے فرقان نے اندازہ لگایا کہ موصوف انتہائی مصروف شخصیت ہیں۔ سلام کے بعد جب فرقان نے اپنا تعارف کراتے ہُوئے بتایا کہ اُس کے پاس زمین کا وہ مطلوبہ ٹکرا موجود ہے۔ جسکی اُنہیں تلاش ہے۔ تو شہریار مجددی نے معذرت کرتے ہُوئے بتایا کہ وہ آجکل بُہت مصروف ہے۔ اور پراپرٹی کی لین دین وہ ڈائریکٹ نہیں کرتا بلکہ اُسکا منیجر کرتا ہے۔ اسلئے آپکو جِس بروکر نے آفر کی ہے۔ آپ اُسی کی معرفت میرے مینیجر سے مُلاقات کرلیں۔ اِس سے پہلے کہ شہریار لائن ڈسکنیکٹ کردیتا۔ فرقان نے استفسار کرتے ہُوئے کہا،، کیا آپ پروفیسر حسان صاحب کو جانتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟

شام کو فرقان، حسان صاحب کے مکان پر بیٹھا اُنہیں بتارہا تھا۔ کہ کسطرح شہریار مجددی اُس کے ساتھ سرد مہری کے ساتھ پیش آرہا تھا۔ اور قریب تھا کہ وہ لائن ڈسکنیکٹ کردیتا۔ لیکن جیسے ہی اُس نے آپکا نام سُنا۔ اُسکا نہ صرف رویہ بدل گیا۔ بلکہ وہ اپنی گفتگو سے کافی شرمسار نظر آرہا تھا۔

شہریار مجددی نے آٹھ بجے کا ٹائم دیا تھا۔ لیکن وہ پندرہ منٹ پہلے ہی پُہنچ گیا تھا۔ حسان صاحب پر نظر پڑتے ہی وہ،، اُستاذِ محترم کہتے ہی نمناک آنکھوں سے حسان صاحب کی طرف دست بوسی کیلئے لپکا۔ لیکن حسان صاحب نے کھڑے ہُوکر اُسے اپنے سینے سے بھینچ کر لگالیا۔

حَسان صاحب کے شکوے پر شہریار مجددی نے بھیگی پلکوں کیساتھ اپنے جُرم کا عتراف کرتے ہُوئے کہا۔ اُستاذِ من واقعی میں آپکا مجرم ہُوں کہ ایک ہفتے سے آپکے شہر میں موجود ہُونے کے باوجود آپکی زیارت کا شرف حاصِل نہیں کرپایا۔ جسکا مجھے بھی بُہت افسوس ہے۔ حسان صاحب نے شہریار مجددی کی آمد پر کھانے کا انتطام کیا تھا۔ دوران ضیافت حسان صاحب نے فرقان کا تعارف یہ کہہ کر شہریار سے کروایا کہ،، یُوں سمجھ لو کہ آج سے فرقان تُمہارا اُستاد بھائی نہیں۔ بلکہ تُمہارے اُستاد کا بُہت چہیتا بیٹا بھی ہے۔

شہریار نے حسان صاحب کے مزید استفسار پر بتایا کہ وہ عنقریب دُبئی سے پاکستان سیٹل ہُو رہا ہے۔ جسکی تیاری کیلئے وہ چند روز کیلئے پاکستان آیا تھا۔ تاکہ وہ یہاں ایک پیپر مِل لگا کر باقی ماندہ زندگی اپنے وطن عزیز میں آرام سے گُزار سکے۔

شہریار میاں یہ پیپر مِل کتنی رقم کا پروجیکٹ ہے۔۔۔؟ حسان صاحب نے لُقمہ بناتے ہُوئے سوال کیا۔

بروکر نے بتایا ہے کہ شہر میں زمین کا مطلوبہ ٹکڑا چھ سے آٹھ کروڑ کے درمیان مِل جائے گا۔ جبکہ منیجر بتارہا تھا۔ زمین پر عمارت بنانے کیلئے دو کروڑ کی رقم کا تخمینہ لگایا گیا ہے جبکہ ابتدائی طور پر پانچ کروڑ روپیہ سے کاروبار شروع ہُوجائے گا۔ پھر جیسے جیسے منافع ہوتا چلا جائے گا۔ کاروبار بھی پھیلتا چلا جائے گا۔ میں تمام معاملات کی جانچ پڑتال کرچُکا ہُوں۔ اسلئے میں بھی منیجر کی رائے سے متفق ہُوں۔ شہریار مجددی نے کھانے کے بعد ہاتھ صاف کرتے ہُوئے بتایا۔

شہریار میاں کیا ایسا ممکن نہیں کہ آپ جو چھ سے آٹھ کروڑ روپیہ زمین کی خریداری میں لگا رہے ہیں۔ وہ رقم کہیں اور انویسٹ کردیں۔ اور کوئی دوسرا شخص اپنی زمین دیکر آپکا شراکت دار بن جائے۔۔۔؟ حسان میاں نے تجویز دیتے ہُوئے سوال کیا۔

شہریار مجددی نے کُچھ لمحے سوچتے ہُوئے کہا۔حضرت ممکن تو ہے۔ اور مجھے یہ بھی یقین ہے۔ کہ جب آپ کہہ رہے ہیں تو یقیناً میرے لئے اسمیں دُنیا اور آخرت کی بھلائی بھی ضرور ہُوگی۔ لیکن اگر آپ کُچھ مزید تفصیلات بتادیں۔ تو اسکے ممکنہ پیش آنے والے معاملات پر بھی غُور کیا جاسکتا ہے

بیٹا شہریار تُمہیں تو معلوم ہی ہے کہ اللہ کریم نے سودی معاملات کو ناپسند کرتے ہُوئے سورہ بقرہ میں آیت نمبر ۲۷۵ تا ۲۷۹ تک ارشاد فرمایا ہے کہ: وہ جو سود کھاتے ہیں قیامت کے دن نہ کھڑے ہوں گے مگر، جیسے کھڑا ہوتا ہے وہ جسے آسیب نے چھو کر مخبوط بنا دیا ہو اس لئے کہ انہوں نے کہا بیع بھی تو سود ہی کے مانند ہے ، اور اللہ نے حلال کیا بیع کو اور حرام کیا سود،۔ تو جسے اس کے رب کے پاس سے نصیحت آئی اور وہ باز رہا تو اسے حلال ہے جو پہلے لے چکا، اور اس کا کام خدا کے سپرد ہے اور جو اَب ایسی حرکت کرے گا تو وہ دوزخی ہے وہ اس میں مدتو ں رہیں گے۔ اللہ ہلاک کرتا ہے سود کو اور بڑھاتا ہے خیرات کو اور اللہ کو پسند نہیں آتا کوئی ناشکرا بڑا گنہگار۔

بیشک وہ جو ایمان لائے اور اچھے کام کئے اور نماز قائم کی اور زکوٰۃ دی ان کا نیگ (انعام) ان کے رب کے پاس ہے ، اور نہ انہیں کچھ اندیشہ ہو، نہ کچھ غم۔ اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور چھوڑ دو جو باقی رہ گیا ہے سود اگر مسلمان ہو۔

پھر اگر ایسا نہ کرو تو یقین کر لو اللہ اور اللہ کے رسول سے لڑائی کا اور اگر تم توبہ کرو تو اپنا اصل مال لے لو نہ تم کسی کو نقصان پہنچاؤ نہ تمہیں نقصان ہو۔

یہ تمام احکامات اور اللہ کریم کی رضا اور ناراضگی کا فرمان تُمہارے اِس دینی بھائی فرقان نے جان لیا ہے۔ جسکی وجہ سے اسکے دِل میں سُود سے بیزاری پیدا ہوگئی۔جسکا انعام یہ ضرور پاکر رہے گا۔ لیکن اسکا ایک دوست نعمان جو اِسکا کاروباری پارٹنر بھی تھا ۔نہیں جان پایا اور وہ ضدی طبیعت کی وجہ سے جاننا بھی نہیں چاہتا۔ لَہذا فرقان نے اُس سے جُدائی اِختیار کرلی۔ جسکی وجہ سے تُمہارا یہ دینی بھائی عارضی طور پر دُنیاوی آزمائش میں مُبتلا ہُوگیا ہے۔ اسکے بعد حسان صاحب نے مُختصراً فرقان اور نعمان کی تمام رُوداد شہریار مجددی کو سُنا ڈالی۔

تمام واقعات جان کر شہریار مجددی نے رشک بھری نِگاہوں سے فرقان کو دیکھتے ہُوئے کہا،، فرقان میرے بھائی تُم نہایت عظیم ہُو۔ جس نے حسان صاحب کی صحبت میں رِہ کر خُدا کی رضا و نافرمانی کی معرفت حاصِل کرلی۔ آج سے تُم اس لڑائی میں تنہا نہیں ہُو۔ میں ایک حقیقی بھائی کی طرح تمہارے شانہ بشانہ چلنے کو اپنے لئے اعزاز سمجھوں گا۔ میں آج اِسی وقت اپنے قابل احترام بُزرگ کے رُوبرو تُمہارے ساتھ اپنی پارٹنر شپ کا اعلان کرتا ہُوں۔ اِس تمام پروجیکٹ میں آپ میرے نصف حِصہ کے شراکت دار ہیں۔ میں کل ہی اپنے منیجر کی مُلاقات تُم سے کروادُونگا۔ جسکے فوری بعد آپ اپنی جگہ پر کنسٹریکشن شروع کروادیجئے گا۔

حَسان صاحب نے شہریار مجددی کی فراخدلانہ پیشکش کے بعد اپنے دونوں ہاتھ بُلند فرمادیئے اور بُہت دیر تک دونوں کی خیر و بھلائی کیلئے انتہائی رِقت سے دُعا مانگتے رہے۔

(جاری ہے)

مُحترم قارئین کرام بار بار اپنی طبیعت کی ناسازی کے ذکر سے طبیعت میں نا شُکری کا احساس پیدا ہُوتا ہے اسلئے مزید کُچھ نہیں کہوں گا سوائے اِسکے کہ،، آپ سب سے دُعاؤں کیلئے ملتمس ہُوں۔

پلکوں سے دَرِ یار پہ دستک دینا
اُونچی آواز ہُوئی عُمر کا سرمایہ گیا

Saturday, 30 May 2015

جال۔ در۔ جال قسط 8



جال۔ در۔ جال قسط 8


گُذشتہ سے پیوستہ

نعمان شائد تمام تیاری کیساتھ فرقان کی رضامندی کا منتظر تھا۔ اس لئے صرف ایک ہفتہ کے اندر ہی کاغذات کی منتقلی کا تمام کام پایہء تکمیل کو پُہنچ گیا۔ فیکٹری نعمان کے نام پر رجسٹرڈ ہُوچُکی تھی۔ جبکہ چھ ایکڑ زمیں کا ٹکڑا فرقان کے نام منتقل ہُوچُکا تھا۔ چُونکہ فرقان کے پاس ذرائع آمدن کو کوئی اور ذریعہ نہیں تھا۔ اسلئے صرف تین ماہ کے اندر ہی فرقان کی تمام جمع پونجی گھر کے کرایہ اور گھریلو اخراجات کی نذر ہُوگئی۔ چند دِنوں سے فرقان یہ سوچ سُوچ کر ڈپریشن کا شِکار ہُورہا تھا۔ کہ اب گھر کے اخراجات کس طرح پُورے ہُونگے۔۔۔۔؟

اب مزید پڑھیئے۔

کافی سُوچ بِچار کے بعد فرقان اِس نتیجے پر پُہنچا کہ اُسے چونکہ چھ ایکڑ زمین پر جب نا ہی کاشتکاری کرنی ہے۔ اور نہ ہی کوئی فیکٹری لگانی ہے۔ تُو کِیوں نہ اس قطعہ ء زمین کو فروخت کردیا جائے۔ اور رقم آنے کے بعد کِسی مُناسب جگہ پر انویسٹ کردی جائے۔ تھوڑی سی کوشش کے بعد ایک پراپرٹی بروکر نے فرقان کو بتایا کہ اُس کے پاس ایک حاضر پارٹی بھی موجود ہے۔ جِسے شہر کے نزدیک آٹھ تا دس ایکڑ زمین فیکٹری کے لئے درکار ہے۔ چُونکہ اُنکی شرط ہے کہ زمین شہر میں موجود ہُونی چاہیئے۔ جہاں پانی، گیس ، اور کمرشل بجلی کی سہولت بھی موجود ہُو۔ جبکہ شہر میں کوئی دُو ایکڑ زمین کا ٹکڑا بھی میسر نہیں۔ تُو بھلا دس ایکڑ زمین کہاں سے دستیاب ہُوگی۔ آپ کی جگہ مُناسب ہے۔ اسلئے آپکو چھ ایکڑ زمین کے تین کروڑ روپیہ دِلواسکتا ہُوں۔ بشرطیکہ سامنے والی پارٹی چھ ایکڑ کے پلاٹ پر رضامندی ظاہر کردے۔

فرقان کو اگرچہ یہ آفر مُناسب لگی تھی۔ لیکن وہ ایک مرتبہ زمین کو فروخت کرنے سے قبل حسان صاحب سے مشورہ کرنا ضروری سمجھتا تھا۔ اسلئے فرقان نے بروکر کو جواب دینے کیلئے ایک دِن کی مُہلت طلب کرلی۔ اور شام کو حسان صاحب سے مُلاقات کیلئے اُنکے کاشانے پر حاضر ہُوگیا۔ رسمی گُفتگو کے بعد فرقان نے اپنی حاضری کا مُدعا بیان کیا۔ تُو حسان صاحب نے اُسے جلد بازی کے بجائے استخارہ کی ترغیب دِلائی۔ جسکے جواب میں فرقان نے حسان صاحب سے گُزارش کی کہ میری جانب سے آپ استخارہ فرمالیں۔ جِس کے بعد حسَّان صاحب نے رضامندی ظاہر کرتے ہُوئے فرقان کو فجر کی نماز میں اپنے ساتھ جماعت میں شامل ہُونے کی تاکید کی۔ جس کے بعد یہ نشست برخاست ہُوگئی اور فرقان اپنے گھر لُوٹ گیا۔

صبح فجر کی نماز اور وظائف سے فارغ ہُونے کے بعد حسان صاحب نے فرقان کو اپنے قریب آنے کا اشارہ کیا۔ فرقان نہایت ادب و نیازمندی سے حسان صاحب کے قریب جاکر بیٹھ گیا۔ حسان صاحب نے فرقان سے مُخاطب کرتے ہُوئے فرمایا کہ،، وہ ابھی زمین فروخت نہ کرے۔ بلکہ اُس پارٹی کا پتہ چلانے کی کوشش کرے جو اِس زمین کی خریداری میں دلچسپی رکھتی ہے۔۔۔

حسان صاحب کی ہِدایت پر فرقان نے بروکر سے مُعذرت کرلی اور اُسے بتایا کہ وہ فی الحال اپنی زمین فروخت نہیں کرنا چاہتا۔ ساتھ ہی فرقان نے اُس پارٹی کے متعلق باتوں ہی باتوں میں کافی معلومات حاصِل کرلیں۔ بروکر نے خریدار پارٹی میں فرقان کی دلچسپی دیکھ کر اپنے خَدشے کا اِظہار کرتے ہُوئے کہا۔۔ کہیں آپ ڈائریکٹ تُو پارٹی سے معملات طے نہیں کرنا چاہتے۔۔۔؟ اور اگر ایسا ہے۔ تو فرقان صاحب یہ میرے ساتھ بڑی زیادتی کی بات ہوگی۔

نہیں میرے بھائی ایسی کوئی بات نہیں ہے۔ البتہ میرا یہ آپ سے وعدہ ہے کہ اگر میں نے آپکی پارٹی سے ڈائریکٹ بھی سودا کیا۔ تب بھی آپ کی مِٹھائی بالکل پکی ہے۔ فرقان نے مُسکراتے ہُوئے بروکر کے خدشے کے جواب میں کہا اور رخصت طلب کرلی۔۔۔۔۔۔ کُچھ مزید معلومات حاصِل کرنے کیلئے فرقان نے گھر جاتے ہُوئے یہ ذِمہ داری اپنے قابِل بھروسہ دینی بھائی کے سپرد کردی۔ جب تمام معلومات جمع ہوگئیں تب ایکبار پھر فرقان حسَّان صاحب کی بارگاہ میں حاضر ہُوگیا۔

حسان صاحب کو خریدار پارٹی کا نام بتاتے ہُوئے فرقان نے ایک بات محسوس کی کہ،، شہریار مجددی کا نام سُن کر حَسان صاحب کے ہونٹوں پر مسکراہٹ اور آنکھوں میں ایک خاص چمک سی پیدا ہُوگئی تھی۔ فرقان نے تمام معلومات ایک کاغذ پر منتقل کرنے کے بعد آخری سطر میں شہریار مجددی کا موبائیل نمبر لکھا۔ اور کاغذ حسان صاحب کی جانب بڑھادِیا۔

حسان صاحب نے کاغذ پر ایک سرسری نِگاہ ڈالنے کے بعد وہ کاغذ تِہہ کرنے کے بعد اپنی ڈائری میں رکھتے ہُوئے فرقان سے فرمایا،، اگر میرا اندازہ ٹھیک ہے تُو سمجھ لُو کہ تُمہارے اِمتحان کے دِِِن انشاءاللہ عزوجل بُہت جلد ختم ہُونے کو ہیں۔ بس اللہ کریم کرم فرمائے۔ اور یہ وہی شہریار مجددی ہُو جو میں سمجھ رَہا ہُوں۔۔۔۔ نام تُو وہی ہے۔ لیکن یہ دُبئی کے بجائے پاکستان میں کیا کررہا ہے۔ بس یہ مُعمہ حل ہُونا باقی ہے۔ اور اگر یہ وہی شہریار مجددی ہے تو ابتک میری نظروں سے کیوں اُوجھل ہے۔۔۔۔۔؟

(جاری ہے)
مُحترم قارئین کرام طبیعت کی ناسازی کی وجہ سے ذیادہ نہیں لکھ پارہا ہُوں ۔جسکے لئے بُہت بُہت معذرت خواہ ہُوں اور آپ سب سے دُعاؤں کیلئے ملتمس ہُوں۔

پلکوں سے دَرِ یار پہ دستک دینا
اُونچی آواز ہُوئی عُمر کا سرمایہ گیا