bing

Your SEO optimized title page contents

Pages

Hamara Tube Channel

Saturday, 20 June 2015

عامل کامل ابو شامل (خاب در خاب) قسط 51.AKAS


گُذشتہ سے پیوستہ۔

غصے اُور بے بسی کے احساس نے اگرچہ کامل سے سُوچنے سمجھنے کی صلاحیت چھین لی تھی۔لیکن تھکن کا احساس کامل کو نیند کی وادیوں میں لیجانے  کیلئے اصرار کررہا تھا۔۔۔۔۔صبح سورج کی کرنیں نمودار ہُونے سے قبل کامل کی آنکھ کھل گئی تھی۔ جاناں نجانے کب کی چھت سے نیچے جاچُکی تھی۔ وضو کرتے ہُوئے کامل کو احساس ہُواکہ،، ٹنکی میں پانی  بھی بُہت کم باقی بچا ہے۔ اگر آج بھی بجلی بحال نہ ہُوسکی تو گھر میں پینے کیلئے بھی پانی میسر نہیں ہُوگا۔ وقت کی کمی کی وجہ سے فجر کامل نے گھر پر ہی ادا کی۔ دُعا کے دوران وُہ بڑی عاجزی سے اللہ کریم سے آسانی کا سوال طلب کرنے میں مشغول تھا۔کہ،، اچانک اُسے رات کا خواب یادآیا۔جس میں مولوی رمضان سے مُلاقات کے دوران مولوی صاحب اُسے دہلی جانے کی ہدایت کرتے ہیں۔ کافی دیر تک کامل اِس گتھی کو سلجھانے کی کوشش کرتا رہا۔لیکن کوئی سِرا کامل کے ہاتھ نہیں آرہا تھا۔۔۔۔ پھر اچانک اُسے لگا کہ،، شائد مولوی رمضان  صاحب نے جو دہلی جانے کا اِشارہ دیا تھا۔کہیں وُہ وجاہت دہلوی سے رابطہ کا تو اِشارہ نہیں تھا۔۔۔ہاں شائد مولوی صاحب یہی کہنا چاہتے تھے۔ کامل نے بُڑبڑاتے ہُوئے خُود کو تسلی دی۔۔۔۔ لیکن اتنی صبح وجاہت کو اُٹھانا مناسب نہیں ہُوگا۔ وُہ کہاں گیارہ بجے سے پہلے اُٹھتا ہُوگا؟۔۔ کامل سُوچوں کے دھارے میں گُم تھا۔کہ،، کمرے سے موبائیل کی آنے والی بیل نے اُسکے خیالات کو منتشر کردیا۔

اب مزید پڑھ لیجئے۔

کامل نے موبائیل کی اسکرین پر وجاہت دہلوی کا نام پڑھا۔ تو حیرت اُور خوشی کی ملی جُلی کیفیت سے کال ریسیو کرتے ہُوئے کہا، السلام علیکم وجاہت صاحب کیسے ہیں؟ کتنا عجب حسین اتفاق ہے۔کہ،، میں آپکو کال کرنا چاہ رَہا تھا۔ اُور آپکی کال موصول ہُوگئی۔۔۔۔ وعلیکم السلام حضور والا!  یہ تو میری خُوش نصیبی ہے۔ کہ،، آپکو میری یاد آئی!! دراصل میں نے آج ایک عجیب و غریب خاب دیکھا ہے۔ جسکی وجہ سے کچھ پریشان سا ہُوگیا تھا۔ اُور پھرمیں نے بے اختیار ہُوکر آپکو کال مِلادی ۔۔۔ کیسا خواب دیکھا ہے وجاہت صاحب آپ نے۔ جس نے آپکو اتنی صبح اُٹھنے پر مجبور کردیا،؟۔۔۔۔۔ حضور والا میں نے دیکھا کہ،، میں ایک بہت بڑی کشتی پر سوار ہُوں۔ کشتی میں  تاجر بھی ہیں، کچھ صوفی ٹائپ کے لُوگ ہیں۔ جبکہ کچھ عالم بھی موجود ہیں۔پھر میری نگاہ آپ جناب پر پڑتی ہے۔تو میں دیکھتا ہُوں کہ،، آپ کشتی کی مُنڈیر پر جابیٹھتے ہیں۔۔۔ پھر ہماری کشتی سمندر کے ایک ایسے حصے سے گُزرتی ہے۔ جہاں مگرمچھوں کی بہتات ہُوتی ہے۔ اور یہ تمام مگرمچھ یکایک ہماری کشتی پر حملہ کردیتے ہیں۔ اِس حملے سے کشتی ڈولنے لگتی ہے۔


لیکن کشتی کی اُونچی دیواروں کی وجہ تمام لُوگ محفوظ رہتے ہیں۔ لیکن کشتی کے ہچکولے کھانے کی وجہ سے ایک خدشہ پیدا ہوتا ہے۔کہ،، کہیں آپ اُس منڈیر سے سمندر میں  گر کر مگرمچھوں کا نوالہ نہ بن جائیں۔ اسلئے  علماٗ کے گروہ سے کچھ علماٗ  آپکو سمجھانے آتے ہیں۔ لیکن آپ اُنہیں دلیل دیتے ہیں۔ کہ،، اگر آج میری موت واقع ہونا لکھی ہے۔ تو میں کشتی کے وسط میں بھی ہلاک ہُوجاوٗنگا۔ وگرنہ مجھے  کشتی کی منڈیر   پر بھی مگرمچھوں سے  کوئی خطرہ نہیں۔ وُہ عالم آپکی دلیل سُن کر آپکو چھوڑ کر واپس چلے جاتے ہیں۔۔۔۔۔ پھر جماعت صوفیا میں سے تاجروں کے درمیان سے مجھے طلب کیاجاتا ہے۔ اُور مجھے کہا جاتا ہے۔کہ،، میں نہایت نرمی سے آپکو عرشے سے اُتارلاوٗں۔پہلے میں سُوچتا ہُوں۔ کہ،، جب آپ نے صاحبان علم کی بات نہیں مانی۔ تو حضور میری بات کیونکر سُنیں گے۔ ۔۔ اُور آخر یہ صوفی خود جاکر آپکو کیوں نہیں سمجھاتے۔لیکن میں صوفیا کے کہنے پر آپکی خدمت میں حاضر ہوتا ہُوں ۔تو آپ مہربانی فرماتے ہُوئے میری بات مان لیتے ہیں۔ اُور کشتی کی منڈیر سے صوفیا کے درمیان چلے آتے ہیں۔حضور والا یہ تھا میرا خواب جس نے مجھے بےچین کرڈالا۔ اب میں اسکی تعبیر جاننے کیلئے بےچین ہُوں۔ اگر آپ مہربانی فرمائیں۔

وجاہت بھائی اِس خاب میں  کچھ اشارے ہیں۔ جنہیں بیان کئے دیتا ہُوں۔ باقی علم اللہ کریم کو ہے وہی بہتر جاننے والا ہے۔۔۔۔ جیسے سمندر بمثل کائنات ہے۔ اور کشتی  کی مثال ہماری دنیا ہُوسکتی ہے۔ مگرمچھ اس دنیا کی مشکلات اور مصائب ہیں۔ علما کی باتیں دلیل ہیں ۔ جبکہ  صوفیا کا طریقہ  حکمت ہے۔ اور میرا منڈیر پر بیٹھنا دُنیا کی مشکلات میں گرفتار ہونا ہے۔ جو تمہاری وجہ سے آسان ہُوسکتی ہیں۔۔۔جناب والا اب آپ حکم کریں۔کہ،، کیوں مجھے یاد فرمایا تھا۔ اے کاش حضور والا میں آپ کے کسی کام آسکوں تو  یہ میرے لئے خوش نصیبی ہُوگی۔۔۔۔ کامل علی نے مختصرا ً بتایا کہ،، گذشتہ  ۲ دن  سے گھر کی بجلی منقطع ہے۔ اُور اُسے کام کی تلاش ہے اگر وجاہت  کیلئے ممکن ہُو تویہ مسئلہ حل کردے۔ جواب میں وجاہت دہلوی نے گھر کا ایڈریس معلوم کیا۔ صرف ۲۰ منٹ بعد کامل کے گھر کا کنکشن بحال کیا جاچکا تھا۔ اُور ۲ گھنٹے بعد جب وجاہت دہلوی تحائف اُور پھلوں سے لدا پھندا کامل کے  گھر میں داخل ہُورہا تھا۔ تو ایس پی رفیع دُرانی بھی شرمندہ شرمندہ سا دکھائی دے رہا تھا۔

گھر میں چونکہ کچھ بھی سامان موجود نہیں تھا۔اسلئے جاناں نے مہمانوں کی تواضع اُنہی کے  لائے سامان سے کردی۔  وجاہت دہلوی نے گفتگو کا آغاز کرتے ہُوئے عرض کیا۔ حضور والا میں آپکی روحانی قوت سے غافل نہیں ہُوں۔ اگر آپ اشارہ فرمادیں۔ تو دنیا کی دُولت کے ڈھیڑ آپکے قدموں  میں موجود ہُوجائے۔ لیکن آپ ہی بہتر جانتے ہُوں گے۔ کہ،، بادشاہ ہُوتے ہوئے آپ نے غلامی والی زندگی کیوں پسند فرمائی ہے۔ حضور والا آپ نے فون پر ارشاد فرمایا تھا۔کہ،، آپ ملازمت کرنا چاہتے ہیں۔ ۔۔۔ حضور والا میری کنسٹریکشن فرم بھی آپ ہی کی فرم ہے۔ میری جانب سے اُسکی ملکیت قبول فرمائیں۔۔۔۔۔۔ نہیں وجاہت دہلوی ہمیں کوئی فرم نہیں چاہیئے۔ بس  میں چاہتا ہُوں کہ،، کوئی ایسا معقول کام حاصل ہوجائے۔ جس سے گھر کے اخراجات باآسانی پورے ہوجائیں۔

کامل نے بات کو واضح کرتے ہُوئے وجاہت کو سمجھایا۔۔۔۔ کافی بحث و تکرار کے بعد وجاہت دہلوی پر ایک با ت بالکل صاف ہُوچکی تھی۔ کہ کامل  علی کوئی احسان لینے کے بجائے کوئی باعزت رُوزگار حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ آخر کار وجاہت دہلوی کامل کو پراپرٹی ڈیلر میں شراکت کیلئے راضی کرنے میں کامیاب ہُوگیا تھا۔۔۔۔ رفیع دُدرانی نے بتایا کہ،، گڑیا بالکل ٹھیک ہُوچکی ہے۔ اُور آجکل ایگزام کی بھرپور تیاری میں مصروف ہے۔۔۔۔  رفیع درانی  جاتے ہُوئےکراچی کی مشہور مٹھائی کا پیکٹ کامل کے حوالے  کرگئے تھے۔  رفیع کے جانے کے بعد جب کامل نے مٹھائی کا ڈبہ کھولا تو اُسکی ہنسی نکل گئی۔ رفیع دُرانی نے ثابت کردیا تھا۔کہ،، وُہ بھی آخر پولیس والا ہے۔ مٹھائی کے ڈبے میں ایک لفافہ موجود تھا۔ جس میں دولاکھ کی رقم کیساتھ ایک معذرت نامہ  بھی موجود تھا۔ جس  پر لکھا تھا کہ،، بخُدا   یہ رقم حلال ذرایع  سے حاصل کی گئی ہے۔ کامل علی یہ جملہ پڑھ کر کافی دیر تک مُسکراتا رہا۔


وجاہت دہلوی کی مدد سے کامل علی  نے پراپرٹی آفس جانا شروع کردیا تھا۔ وجاہت نے آفس میں بُہت ذمہ دار اسٹاف متعین کیا تھا۔ جس نے تھوڑے ہی دنوں میں  اپنا کام کافی حد تک پھیلا کر ادارے کے منافع میں اچھا خاصہ اضافہ کردیا تھا۔ تمام اسٹاف کے لوگ ہی اپنے کام سے  محبت کرنے والے تھے۔ اگر کبھی کبھار انویسٹمنٹ کی ضرورت پیش آجاتی۔ تو۔ وجاہت دہلوی خوش دِلی کے ساتھ مطلوبہ رقم مُہیا کردیا کرتا۔ وقت گُزرتا رہا۔ اُور رفتہ رفتہ کامل علی ماضی کی زندگی بھولتا جارہا تھا۔ اب اُسے نہ ابوشامل کی یاد ستاتی اُور نہ نرگس کی۔۔۔ جاناں کی محبت نے کامل کو نرگس  کے سراب سے اپنا قیدی بنالیا تھا۔ وقت بُہت آہستگی سے  سرکتا چلاجاہا تھا کہ،،چند ماہ بعد ایک صبح   عجیب واقعہ پیش آگیا۔ کامل آفس جانے کیلئے گھر سے نکلا۔ تو دروازے پر اِک دیہاتی نے کامل کو گھیر لیا۔ سائیں آپ کامل شاہ قادری ہیں نا؟۔۔۔ نام تو میرا ہی کامل ہے۔ لیکن آپکو مجھ سے کیا کام ہے۔ کیا کوئی مکان کرایہ پر چاہیئے؟ کامل نے دیہاتی کے حلیہ پر نگاہ ڈالنے کے بعد اندازہ لگایا۔۔۔ نہیں شاہ صاحب مجھے  مکان نہیں چاہیئے ۔! سائیں مکان  مُوں وٹ آھیی ۔ میرے گھر والی کو بچہ ہوا ہے سائیں بدین میں۔ لیکن سات دن سے بچہ نے ماں کا دودھ نہیں پیا۔ ابھی ڈاکٹر بولتے ہیں کہ،، ہسپتال میں جگہ نہیں اے۔ اُور بھوکا پیاسہ بچہ سائیں کتنے دن جیئے گا۔کسی نے آپکا پتہ بتایا اے سائیں۔۔۔ تو ہم بدین سے آپکی زیارت کیلئے آیا ہُوں۔۔۔۔۔ لیکن بھائی میں دم پھونک کا کام نہیں جانتا آپکو کسی نے غلط پتہ بتایا ہے۔

کامل آدھے گھنٹے بعد واپس گھر سے باہر نکلا۔۔۔ تب بھی وُہ دیہاتی گھر کے دروازے سے لگا کھڑا تھا۔

(جاری ہے)

اُسکا کہنا ہے۔ کِسی اُور کو دیکھوں نہ کبھی
کیوں کہ اُسکو یہ میرا رُوپ بُرا لگتا ہے۔

مجھکو ہر چہرے میں آتاہے نظر اِک وُہ ہی
جُو نہ بھر پائے یہ بہروُپ !!!  ۔بُرا لگتا ہے۔

  

Thursday, 18 June 2015

عامل کامل ابوشامل (بے بسی) قسط 50.akas




گُذشتہ سے پیوستہ۔

فرنانڈس کا بھائی ڈیوڈ آجکل شکار کھیلنے کیلئے کراچی آیا ہُوا ہے۔ ۔۔اُسی نے تیری جورو کے بدن کو توڑ مروڑ کر رکھ دیا ہے۔۔۔ اُور ڈیوڈ کے زہر کا تریاق اِن بیچارے ڈاکٹروں کے پاس کہاں سے آئے گا۔۔۔ اتنا کہہ کر سلطان تبریزی  زُور زُور سےقہقہے لگانے لگا۔۔۔ حضور اِن ڈاکٹروں کے پاس تریاق ہُو نہ ہُو۔آپ کے پاس تو ہر موذی کے کاٹے کا منتر ضرور ہُوگا۔ پھر آپ ہی کچھ مہربانی فرمادیں۔۔۔کامل نے التجائیہ لہجے میں درخواست کی۔۔۔ شفا دَوا میں نہیں ہُوتی بچے عطا میں ہُوتی ہے۔ مہربانی بھی وہی فرماتا ہے۔ہم تو مزدور لوگ ہیں۔ دوا کو ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچاتے ہیں صرف!!!  ایسا کر  فوراً اپنی جورو کو  سمندر کنارے غازی کے دربار پر لیجا۔اُور صبح ہونے تک  ہرگز احاطے سے باہر نکلنے کی کوشش نہیں کرنا۔ جب تک اِس ڈیوڈ سے ہم نپٹ لیں گے۔  سلطان تبریزی نے اتنی آہستگی سے کامل کے کان میں سرگوشی کی۔ جیسے  ذرا بھی تیز آوازہُوئی تو کوئی دوسرا  سُن لےگا۔

اب مزید پڑھ لیجئے۔
کامل علی نے ڈاکٹر کی تجویز کردہ ،ادویات کا پرچہ جیب میں رکھا۔ اُور ایک لمحے کی تاخیر کے بغیر ساحل سمندر پر موجود حضرت عبداللہ شاہ غازی (رحمتہ اللہ علیہ) کے مزار کی جانب روانہ ہُوگیا۔تمام راستے میں کامل کو یُوں محسوس ہُوتا رہا۔جیسے کوئی نادیدہ قوت اُسے روکنے کی بھرپور کوشش میں مصروف ہے۔ یہاں تک کہ،، کامل کو اپنے کاندھے بھی بےجان محسوس ہُونے لگے تھے۔جسکی وجہ سے ڈرائیونگ کرتے ہُوئے کامل کو یہی خدشہ رہا۔کہ،، کسی بھی وقت کار کو حادثہ پیش آسکتا ہے۔ لیکن نجانے وُہ کونسی طاقت تھی۔ جو خُوف کی اِس گھڑی میں بھی  دِل کو باربار یہی دلاسہ دے رہی تھی۔کہ،، گھبراوٗ مت  گاڑی چلانا تمہاری ذمہ داری ہے۔اُور اِسے منزل مقصود تک پُہنچانا ہماری!!!۔۔ اللہ اللہ کرتے  ہُوئے بلاآخر کامل کار کو  احاطہ حضرت عبداللہ شاہ غازی (رحمتہ اللہ علیہ) میں پُہنچانے میں کامیاب ہُو ہی گیا تھا۔ احاطے میں داخل ہونے کے تھوڑی ہی دیر بعد جاناں کی طبیعت میں بحالی آنے لگی تھی۔

 وہی جاناں جو ایک  گھنٹے قبل موت کی دہلیز پر کھڑی نظر آرہی تھی۔ بُہت پرسکون انداز میں پھول خرید رہی تھی۔ کامل کو اپنا بدن بھی بُہت ہلکا پھلکا  محسوس ہُورہا تھا۔۔۔جاناں نے حاضری کے وقت تمام جسم اُور چہرے کو اپنی  بڑی سی چادر میں نہایت ادب سے ڈھانپ لیا تھا۔ حاضری کے بعد جب جاناں خواتین کے حصے میں بیٹھ کر قران خوانی کرنے لگی۔ تو کامل بھی تسبیح سنبھالے واپس احاطہ مزار میں داخل ہُوگیا۔  تسبیح پڑھتے ہُوئے کامل کو اُونگھ آگئی ۔ پھر اُسے یوں محسوس ہُوا۔جیسے اُسکی جھولی میں کوئی چیز آن گری ہُو۔ کامل نے آنکھیں کھولیں تو ۲ تازہ گلاب کے پھول اُسکے دامن کو مہکارہے تھے۔ کامل نے ادب سے اُن پھولوں کو آنکھوں سے بوسہ دینے کے بعد جیب میں رکھ لیا۔۔۔فجر کی نماز کی ادائیگی کے بعد کامل   ماحول کا جائزہ لینے کیلئے سیڑھیاں اُتر کر نیچے کی  جانب آرہا تھا۔ جبکہ جاناں  پہلے ہی نیچے پُہنچ چکی تھی۔

ابھی کامل نے نصف سیڑھیاں ہی طے کی ہُونگی۔کہ،، ایک ملنگ نے کامل کر راستہ رُوک کر سرگوشی کرتے ہُوئے کہا،،  آسمان کُھل چکا ہے۔ سیاہ بادل چاندکی رُوشنی سے شکست کھا کر  اِدہر اُدہر چَھٹ چُکے ہیں۔ اسلئے اب بے فکر ہُوکر واپس گھر جاسکتے ہُو۔۔۔۔کامل کے دِل میں خیال گُزرا،  کیا یہ ملنگ سلطان تبریزی کا بندہ ہے؟ ۔یا  ۔کامل کو مزار کے احاطے سے باہر نکالنے کیلئے یہ ڈیوڈ کی کوئی چال ہے۔؟؟؟ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہر کسی پر شک کرنا اچھی بات نہیں ہوتی!!!۔ ہم فقیروں کے غلام ہیں۔ اُس خبیث  سے ہمارا کوئی تعلق نہیں ہے۔۔۔ ویسے بھی ۲ پھولوں کی صورت میں جو ہتھیار تمہارے پاس  ہیں۔ اُنکی موجودگی میں کوئی بدبخت تمہارے قریب پھٹک بھی نہیں سکتا۔یہ کہتے ہُوئے وُہ ملنگ اُوپر کی جانب چڑھنے لگا۔۔۔۔۔اُور کامل مطمئین ہوکر نیچے اترنے کے بعد جاناں کیساتھ گاڑی میں بیٹھ کر گھر کی جانب روانہ ہُوگیا۔

اِس واقعہ کے بعدچند ماہ تو بُہت پرسکون گُزر گئے۔لیکن اب ایک نیا مسئلہ کامل کو درپیش تھا۔کہ،، ابوشامل کی دی ہُوئی تمام رقم دھیرے دھیرے خرچ ہُوچکی تھی۔ اُور اب کامل کی جیب میں اتنی رقم بھی موجود نہیں تھی۔کہ،، وُہ یوٹیلٹی  بلز بھی ادا کرسکے۔اِسی کشمکش میں پندرہ دِن مزید گُزر گئے۔ اور ایکدن اچانک  بل نہ بھرنے کی وجہ سے کامل کے گھر کی بجلی منقطع کردی گئی۔۔۔بجلی کٹ جانے کے بعد چوبیس گھنٹے بھی نہیں گُزرے تھے۔ مگر جاناں اور کامل کو یُوں محسوس ہُورہا تھا۔جیسے  وُہ دونوں صدیوں سے کسی قید خانے میں بند ہُوں۔۔۔۔ جاناں نے پریشان ہُو کر کامل سے شکوہ کیا۔ آخر آپ  بل بھر کر بجلی کا کنکشن کیوں بحال نہیں کروالیتے؟۔۔۔دراصل وُہ ابو شامل یہاں موجود نہیں ہے نا!  اور رقم کا حساب کتاب اُسی کے پاس ہُوتا ہے۔ کامل نے بات بناتے ہُوئے کہا۔۔۔۔۔ مطلب آپ  اپنی تمام زندگی ابو شامل بھائی کے اشاروں پر گُزاریں گے۔اُور اگر وُہ ایک سال تک واپس نہیں آئیں گے۔تو ہم ایک سال اندھیرے میں گُزاریں گے۔ اور اگر کل کو گھر کا راشن ختم ہُوگیا۔ تو کیا پڑوسیوں سے بھیک مانگ کر کھائیں گے۔ جاناں کے لہجے میں ناچاہتے ہُوئے بھی درشتگی دَر آئی تھی۔ ۔۔۔۔۔۔ ایسا کچھ نہیں ہے۔ تُم  خُومخواہ بات کا بتنگڑ مت بناوٗ ۔ میں جلد کوئی انتظام کرلوں گا۔ کامل نے جان چھڑانے والے انداز میں جواب دیا۔

دوسرا دِن بھی  یونہی بیت گیا۔لیکن کامل کو کوئی تدبیر سجھائی نہیں دی۔کہ،، جس کے ذریعے کوئی معقول آمدنی حاصل ہُوسکے۔۔۔  رات کی سیاہی میں چھت کے ننگے فرش پر کامل لیٹا ہُوا سُوچ رہا تھا۔کہ،،جاناں کا کہنا بھی بجا تھا۔وُ ہ بیچاری   میرے نکمے پن کی وجہ سے آج پریشانیوں میں گرفتار ہے۔کاش میں نے ابو شامل پر تکیہ کرنے کے بجائے کوئی کام دھندا کرلیا ہُوتا۔تو آج اچانک یہ دن نہیں دیکھنا پڑتا۔۔۔ نجانے میرے  ہی مقدر میں یہ سب کچھ کیوں ہے؟  بچپن میں باپ مرگیا۔تو جوانی کی دہلیز پر قدم رکھنے سے پہلے ماں چل بسی۔ نرگس کو دِل میں بسایا تو اُسکے گھر والے دیوار بن گئے۔۔۔۔ اُور اب ایک ہی دوست  بچاتھا ابوشامل، وُہ بھی زمانے کی بھیڑ میں نجانے کہاں کھوگیا  ہے۔  کامل نے بُڑبڑاتے ہُوئے زمین پر کئی بار غصے میں  اپنی ہتھیلی ماری۔ جسکی وجہ سے ہاتھ سے  خون کی ایک باریک لکیر جاری ہُوگئی۔ لیکن کامل کا  غصہ تھمنے کے بجائے مسلسل بڑھتا ہی چلا جارہا تھا۔

غصے اُور بے بسی کے احساس نے اگرچہ کامل سے سُوچنے سمجھنے کی صلاحیت چھین لی تھی۔لیکن تھکن کا احساس کامل کو نیند کی وادیوں میں لیجانے  کیلئے اصرار کررہا تھا۔۔۔۔۔صبح سورج کی کرنیں نمودار ہُونے سے قبل کامل کی آنکھ کھل گئی تھی۔ جاناں نجانے کب کی چھت سے نیچے جاچُکی تھی۔ وضو کرتے ہُوئے کامل کو احساس ہُواکہ،، ٹنکی میں پانی  بھی بُہت کم باقی بچا ہے۔ اگر آج بھی بجلی بحال نہ ہُوسکی تو گھر میں پینے کیلئے بھی پانی میسر نہیں ہُوگا۔ وقت کی کمی کی وجہ سے فجر کامل نے گھر پر ہی ادا کی۔ دُعا کے دوران وُہ بڑی عاجزی سے اللہ کریم سے آسانی کا سوال طلب کرنے میں مشغول تھا۔کہ،، اچانک اُسے رات کا خواب یادآیا۔جس میں مولوی رمضان سے مُلاقات کے دوران مولوی صاحب اُسے دہلی جانے کی ہدایت کرتے ہیں۔ کافی دیر تک کامل اِس گتھی کو سلجھانے کی کوشش کرتا رہا۔لیکن کوئی سِرا کامل کے ہاتھ نہیں آرہا تھا۔۔۔۔ پھر اچانک اُسے لگا کہ،، شائد مولوی رمضان  صاحب نے جو دہلی جانے کا اِشارہ دیا تھا۔کہیں وُہ وجاہت دہلوی سے رابطہ کا تو اِشارہ نہیں تھا۔۔۔ہاں شائد مولوی صاحب یہی کہنا چاہتے تھے۔ کامل نے بُڑبڑاتے ہُوئے خُود کو تسلی دی۔۔۔۔ لیکن اتنی صبح وجاہت کو اُٹھانا مناسب نہیں ہُوگا۔ وُہ کہاں گیارہ بجے سے پہلے اُٹھتا ہُوگا؟۔۔ کامل سُوچوں کے دھارے میں گُم تھا۔کہ،، کمرے سے موبائیل کی آنے والی بیل نے اُسکے خیالات کو منتشر کردیا۔

(جاری ہے)

اُسکا کہنا ہے۔ کِسی اُور کو دیکھوں نہ کبھی
کیوں کہ اُسکو یہ میرا رُوپ بُرا لگتا ہے۔

مجھکو ہر چہرے میں آتاہے نظر اِک وُہ ہی
جُو نہ بھر پائے یہ بہروُپ !!!  ۔بُرا لگتا ہے۔



Tuesday, 16 June 2015

عامل کامل ابو شامل (ڈیوڈ کی آمد) قسط 49.akas



گُذشتہ سے پیوستہ۔

آپ ابوشامل کو لیجارہے ہیں تو میں یہاں رِہ کر کیا کروں گا۔آپ مجھے بھی اپنے ساتھ لےچلیں تاکہ،، میں بھی اِس تکلیف کی حالت میں اُسکی کچھ خدمت کرسکوں۔کامل نے روہانسے لہجے میں استدعا کرتے ہُوئے کہا۔کامل میں آپکو وہاں ساتھ نہیں لیجاسکتا۔ کیونکہ ہماری  دُنیا کا کم از کم درجہ حرارت ۸۰۰ سینٹی گریڈ ہے۔جو کہ آپکی دُنیا کے مقابلے میں بیس گُنا ذیادہ ہے۔آپ وہاں چند لمحے بھی زندہ نہیں رِہ پائیں گے۔۔۔۔ لیکن وہاں نرگس کو بھی تو رکھاگیا تھا نا۔کامل نے اچانک سوال کرڈالا۔۔۔۔نہیں کامل آپ سے کس نے کہا۔کہ،، نرگس کو ہماری دُنیا میں منتقل کیا گیا تھا۔حالانکہ نرگس کا علاج میں نے اِسی دُنیا کے ایک گمنام جزیرے پر کیا تھا۔ جسے تم ذیادہ سے ذیادہ دُنیا میں ہمارا دوسرا گھر کہہ سکتے ہُو۔ اُور ہاں نرگس کے ذکر سے یاد آیا کہ،، میں نے یہاں آنے سے قبل نرگس کو اُسکے حقیقی گھر میں  شفٹ کردیا ہے۔ جبکہ میرے پاس تمہارے لئے  اِس غم کی گھڑی میں ایک خوشخبری بھی موجود ہے۔کہ،، شہزادہ فرنانڈس کل اپنے منطقی انجام کو پُہنچ کر واصل جہنم ہوچکا ہے۔اسلئے اب اُسکی جانب سے بھی تمہیں کوئی خطرہ لاحق نہیں ہے۔

اب مزید پڑھیئے۔

ابو شامل کے چلے جانے سے کامل علی کی زندگی بُہت پھیکی پھیکی سی ہُوگئی تھی۔ ایک عجیب سی جھلاہٹ اُور چڑچڑے پن نے کامل علی کو بالکل بدل کر رکھ دیا تھا۔ کامل کی اِس تبدئلی کی وجہ سے جاناں الگ پریشان تھی۔ وُہ جب بھی کامل کو سمجھانے کی کوشش کرتی۔ کامل اُس کی بھی بےعزتی کردیتا۔جسکے بعد جاناں نے بھی  کامل کو  اُس کے حال پر چھوڑ دیا تھا۔۔۔  کچھ دِن بعد کامل کو نرگس کی یاد ستانے لگی ۔ تو ایک دِن کامل  گاڑی لیکر نرگس کے  فلیٹ پُہنچ گیا۔ لیکن وُہ فلیٹ  باہر سے لاک تھا۔ کامل نے پڑوس کے فلیٹ کی بیل بجائی۔ تو اندر سے کسی خاتون نے کامل کو بتایا۔کہ،، نرگس باجی تو یہ فلیٹ چھ ماہ قبل چھوڑ کر یہاں سےجاچکی ہیں۔ اُور اب وُہ کہاں رہتیں ہیں۔یہ بھی مجھے نہیں معلوم!خاتون نے اپنی لاعلمی کا مزید اظہار کیا۔۔۔۔ کامل کو حکیم بطلیموس پر غصہ آرہا تھا۔جسے کم از کم یہ تو بتادینا چاہیئے تھا۔کہ،، نرگس کی نئی رہائش کہاں واقع ہے۔۔۔ لیکن پھر کامل خُود ہی بڑبڑانے لگا۔ اُس بیچارے حکیم کو  کہاں معلوم ہُوگا۔کہ،، مجھے نرگس کے گھر کا پتہ معلوم نہیں ہے۔۔۔۔ کامل کو ایکبار پھر ابوشامل کی یاد ستانے لگی۔اگر  ابو شامل  آج میرے ساتھ ہُوتا۔تو ایک ہی جھٹکے میں مجھے نرگس کے گھر پُہنچادیتا۔

نرگس کی گمشدگی کا دُکھ ہی کیا کم تھا۔ کہ،، جاناں نے بھی گذشتہ رات سے پیٹ اُور کمر کے درد سے سارا گھر سر پر اُٹھا لیا تھا۔ کامل شہر کے سب سے مہنگے ہسپتال  میں نرگس کو علاج کیلئے لیکر گیا۔۔۔ لیکن تمام رپورٹس کلیر تھیں۔ جبکہ جاناں کی حالت ایسی تھی۔جیسے کسی اناڑی قصاب نے بکرے کی ادھوری رَگ کاٹ ڈالی ہو۔۔۔ پہلے پہل تو کامل کو یہی لگا۔کہ،، جاناں میری توجہ حاصل کرنے کیلئے یہ سارا ڈرامہ رچا رہی ہے۔ لیکن شام ہُوتے ہُوتے جاناں تکلیف کی شدت سے یُوں کراہنے لگی۔ جیسے اب دَم نکلا کے تب دَم نکلا۔۔۔ آج موبائل پر وجاہت دہلوی کی الگ بار بار کالیں موصول ہُورہی تھیں۔ لیکن کامل نے اِس خدشے کے پیش نظر کال ریسو نہیں کی۔کہ،، وجاہت دہلوی نے اگر پھر کسی روحانی معاملے میں مدد کی استدعا کردی تو  ابوشامل کی غیر موجودگی کی وجہ سے اُسکا تمام پُول کھل کر رِہ جائے گا۔

ابوشامل کے چلے جانے کے بعد سے کامل علی نے باقاعدہ جماعت کیساتھ نماز شروع کردی تھی۔ رات ۹ بجے ایک بڑے ڈاکٹر سے جاناں کیلئے اپائنٹمنٹ حاصل کی گئی تھی۔ اِس لئے کامل نے عشا کی نماز گھر میں ادا کی اُور جاناں کو سہارا دیکر گاڑی میں بٹھا کر ہسپتال روانہ ہُوگیا۔ جس وقت داکٹر جاناں کا چیک اپ کررہا تھا۔ عین اُسی وقت کامل علی کی کار کا  سیکیورٹی سیفٹی الارم بجنے لگا۔ ۔۔ کامل علی نے فرسٹ فلور کی بالکنی سے   جب دیکھا۔کہ کوئی اُسکی کار پر جھکا ہُوا ہے۔ تو وُہ تیز رفتاری سے نیچے  اُترتے ہُوئے گاڑ ی کی جانب بڑھا۔۔۔ گاڑی کے قریب آج پھر سلطان تبریزی کو دیکھ کر کامل کو جھٹکا لگا۔ کیوں کہ اُسے،، ابوشامل نے  ایکباربتایا تھا۔۔۔ سلطان تبریزی کوئی معمولی درویش نہیں ہے۔یہ ریحان شاہ تبریزی کا شاگردِ خاص ہے۔ جسکی ڈیوٹی کراچی میں لگائی گئی ہے۔ یہ چاہیں تو صدر  یا وزیر اعظم کے بُلاوے کو ٹھکرادیں۔اُور چاہیں تو کسی غریب کی کُٹیا پر رُوٹی کا سوال کرتے نظر آجائیں۔۔۔ لیکن انکا کہیں آنا، جانا، کھانا پینا۔ملنا جُلنا،، یہاں تک کہ،، سر سے مکھی اُڑانا  بھی ٖفضول  نہیں ہُوتا۔انکے ہر عمل کے پیچھے کوئی خاص وجہ یا حکمت ضرور پوشیدہ ہُوتی ہے۔

کیوں ٹُوٹ گئی نا تمہاری بیساکھی۔؟ کہاں گیا وُہ جنات کا شہزادہ جسکے اشاروں پر ناچتے ناچتے تُم نے اپنے تمام بال و پر نُوچ ڈالے۔۔۔  اب دیکھ کس کی لڑائی کی سزا  بیچاری ایک عورت ذات بھگت رہی ہے۔۔۔ سلطان تبریزی کی زُبان سے بےربط جملے نکل رہے تھے۔ ۔۔۔سلطان تبریزی بظاہر بادام کے درخت پر بیٹھے ایک کوے سے مخاطب تھا۔لیکن کامل علی جانتا تھا۔ کہ،، اُسکا اصلی مخاطب میرے سِوا کوئی نہیں ہے۔۔۔ اگرچہ سلطان تبریزی کے طنزیہ جملے کامل کی برداشت سے باہر  ہوتے جارہےتھے۔لیکن سلطان تبریزی کا یہ انکشاف کہ،، کسی دوسرے کی  سزا بیچاری عورت بھگت رہی ہے۔ سے صاف ظاہر تھا۔کہ،، وُہ جاناں کی اصل بیماری  اور بیماری کی وجہ جانتا ہے۔

کامل علی اپنی اناوٗں کے بت توڑتے ہُوئے مجذوب سلطان تبریزی کے مقابل ہاتھ جُوڑ کر التجا کرنے لگا۔حضور مجھ غریب میں اتنی سمجھ نہیں ہے۔کہ،، آپکی راز و نیاز والی گفتگو سمجھ سکوں۔ البتہ آپکی پہلی بات کہ،، میں بیساکھی پر چلتے چلتے اپنی چال بھول گیا تھا بالکل ٹھیک ہے۔۔۔ لیکن اِس وقت میری بیوی  زندگی اُور موت کی کشمکش میں گرفتار ہے۔ اُور اسکے سِوا میرا  بھری دُنیا میں کوئی نہیں ہے۔ اگر آپ اُس پر نظر کرم فرمادیں ۔ تو میں آپکا ہمیشہ ممنون رہونگا۔۔۔۔۔۔  کب تک خُود سے جھوٹ بولتا رہے گا۔ناہنجار کہ،، تیرا دُنیا میں کوئی نہیں ہے۔ کوئی تو ہے۔جو تجھ جیسے پاپی کے پاس مجھ جیسے رند کو بار بار بھیج کر اپنی محبت جتانا چاہ رہا ہے۔اُور تُو اتنا احسان فراموش ہے۔کہ،، اُسی پالنہار کو بھولا بیٹھا ہے۔۔۔سلطان تبریزی کے جلال کو  دیکھتے ہُوئے کامل نے خاموشی سے اپنی گردن جھکالی۔

فرنانڈس کا بھائی ڈیوڈ آجکل شکار کھیلنے کیلئے کراچی آیا ہُوا ہے۔ ۔۔اُسی نے تیری جورو کے بدن کو توڑ مروڑ کر رکھ دیا ہے۔۔۔ اُور ڈیوڈ کے زہر کا تریاق اِن بیچارے ڈاکٹروں کے پاس کہاں سے آئے گا۔۔۔ اتنا کہہ کر سلطان تبریزی  زُور زُور سےقہقہے لگانے لگا۔۔۔ حضور اِن ڈاکٹروں کے پاس تریاق ہُو نہ ہُو۔آپ کے پاس تو ہر موذی کے کاٹے کا منتر ضرور ہُوگا۔ پھر آپ ہی کچھ مہربانی فرمادیں۔۔۔کامل نے التجائیہ لہجے میں درخواست کی۔۔۔ شفا دَوا میں نہیں ہُوتی بچے عطا میں ہُوتی ہے۔ مہربانی بھی وہی فرماتا ہے۔ہم تو مزدور لوگ ہیں۔ دوا کو ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچاتے ہیں صرف!!!  ایسا کر  فوراً اپنی جورو کو  سمندر کنارے غازی کے دربار پر لیجا۔اُور صبح ہونے تک  ہرگز احاطے سے باہر نکلنے کی کوشش نہیں کرنا۔ جب تک اِس ڈیوڈ سے ہم نپٹ لیں گے۔  سلطان تبریزی نے اتنی آہستگی سے کامل کے کان میں سرگوشی کی۔ جیسے  ذرا بھی تیز آوازہُوئی تو کوئی دوسرا  سُن لےگا۔

(جاری ہے)

اُسکا کہنا ہے۔ کِسی اُور کو دیکھوں نہ کبھی
کیوں کہ اُسکو یہ میرا رُوپ بُرا لگتا ہے۔

مجھکو ہر چہرے میں آتاہے نظر اِک وُہ ہی
جُو نہ بھر پائے یہ بہروُپ !!!  ۔بُرا لگتا ہے۔


Monday, 15 June 2015

تذکرہ اِک پری کا (سُراغِ زندگی) آخری قسط 33.tipk



گُذشتہ سے پیوستہ

حضرت مکھن شاہ رحمتہ اللہ علیہ کے مزار مبارک پر عمران رُوزانہ باقاعدگی سے جارہا تھا۔لیکن اُسے اُس کے سوالوں کے جوابات نہیں مِل رہے تھے۔ حالانکہ وہاں ملنے والے تمام لُوگ عمران کو یہی بتارہے تھے۔کہ،، صاحب مزار یہاں آنے والوں کو تشنہ نہیں رہنے دیتے۔ ۔۔۔ ایک  شام مغرب کی نماز ادا کرنے کے بعد عمران نے مزار مبارک پر حاضری دی۔ تو تنہائی دیکھ کر عمران سے رہا نہ گیا۔ اُور صاحب مزار  سے فریاد کرنے لگا۔ لُوگ کہتے ہیں۔کہ،، آپ کسی سائل کو نامُراد نہیں کرتے۔ پھر مجھے میرے سوالوں کا جواب کیوں نہیں مِلتا۔ جب کہ،، مجھےآج بھی یہی لگتا ہے۔کہ،، وُہ پیغام آپکی ہی جانب سے تھا۔ نجانے کتنی ہی دیر عمران صاحبِ مزار سے شکوہ کرتا رہا۔لیکن کوئی جواب موصول نہیں ہُوا۔ یہاں تک کے چپلوں کی آہٹ سُن کر عمران اپنے دامن سے آنکھیں پُوچھتے ہُوئے مزار مبارک سے باہر نکل آیا۔

پھر جمعرات کی نصف شب بلاآخر  قسمت عمران پر مہربان ہُوہی گئی۔ اُور عمران کو اُس کے وکیل دوست نے کال کرکے بتایا۔کہ،، حضرت مکھن شاہ رحمتہ اللہ علیہ کے در پر آپ نے کچھ پیغام چھوڑا تھا۔ جس کے جواب میں  ایک پیغام ایک صاحب کشف کو موصول ہُوا ہے۔اُور اُسے ہدایت کی گئی ہے۔کہ،، وُہ یہ پیغام مجھ تک پُہنچائے۔تاکہ میں یہ پیغام تُم تک آسانی سے پُہنچادُوں۔  

اب مزید پڑھ لیجئے۔

حضرت مکھن شاہ رحمتہ اللہ علیہ نے جو پیغام بھیجا تھا۔وُہ کچھ اسطرح تھا۔۔۔ عمران ہمارے مزار پر کئی بار آچکا ہے۔اُور اپنی آخری ملاقات میں وُہ کافی دلبرداشتہ نظر آیا۔ ہمیں عمران پسند ہے۔ اُور اسکی چاہت بھی نہایت عُمدہ ہے۔ لیکن وُہ جس نعمت عظمیٰ کا طالب ہے۔ اُس کو مانگنے کے بعد  انسان کیلئے مانگنے  کو کچھ نہیں بچتا۔ عمران کو کہنا کہ، دِل گرفتہ نہ ہُو۔کہ،، عنقریب اُسے یہ نعمت ( جو کہ تمام نعمتوں میں عظیم تر ہے)عطا کردی جائے گی۔۔۔ ہمیں یہ بھی معلوم ہے۔کہ،، وُہ یہ نعمت  مانگنے  کیلئے  کبھی دربار باھو۔ اُور دربار باھو سے سخی شہباز قلندر تک گیا ہے۔  یہاں تک کہ،، دربار غُوث الاعظم (رضی اللہ عنہُ ) سے مدینہ طیبہ  تک رسائی حاصل کرنے میں کامیاب رہا۔۔۔۔لیکن اپنے حجاب کی وجہ سے اُسے معلوم ہی نہیں ہُوپارہا۔کہ،، کسطرح سرور کائنات (صلی اللہ علیہ وسلم)۔ حضور غوث اعظم رضی اللہ عنہُ۔ سلطان باھو رحمتہ اللہ علیہ اُور سخی لعل شہباز قلندر  نے اُسکو جھولیاں بھر بھر کر نوازا ہے۔ وُہ خالی ہاتھ تو کہیں سے بھی نہیں لُوٹا!!! اُس کی طلب  مولیٰ بھی سب کو پسند ہے۔ ہر مقرب بارگاہ سے اُسے عشق حقیقی کی دُعاوٗں سے نوازا گیا ہے۔  سُنو!!! عمران کو کہنا۔کہ،، خزانے تو بیشمار جمع کرلئے ہیں۔ اب صرف اِن خزانوں کی چابی حاصل کرنی ہے۔یہی چابی دراصل تمام حجاب دُور کرے گی۔۔

مگر عمران اپنی نادانانی کی وجہ سے اِن چابیوں تک نہیں پُہنچ پارہا۔۔۔ اُور اِن تمام خزانوں کی چابی  کہیں اُور نہیں عمران کے مُرشد کریم کے پاس عمران کی امانت ہیں۔ لیکن وُہ نادان اُن چابیوں کو حاصل کرنے کیلئے میاں سراج صاحب کی بارگاہ میں اپنے خُود ساختہ خُوف کی وجہ سے پُہنچ ہی نہیں پارہا۔عمران سے کہنا ! چاہے تمام زندگی خُدا کی بارگاہ میں سجدہ ریز ہُوکر گُزار لے۔ وُہ جب تک مُرشد کو راضی نہیں کرے گا۔یہ حجاب یونہی قائم رہیں گے۔ وُہ بیچارہ  خُود وسط دریامیں کھڑا ہے۔۔۔ لیکن وضو کی تلاش  میں صحرواں کی جانب دیکھ رَہا ہے۔ تو کبھی سمندر کی وسعت کو حیرت سے تک رہا ہے۔۔۔ عمران سے کہو۔ جو ملے گا۔ وُہ تمہاری سُوچ سے بُہت ذیادہ ہے۔۔۔لیکن مِلے گا میاں صاحب کے دَر سے ہی۔۔۔ اُور عمران اِس وقت اُسی آستانے سے دُور ہے ،جہاں اُس کے مقدر کی چابی اُسکا انتظار کررہی ہے۔

اِس پیغام نے جہاں عمران کو خُوشی سے مخمور کردیا تھا۔ وہیں اِس میں ایک جملہ کہ،، جب تک مُرشد کو راضی نہیں کرے گا۔۔۔عمران کو  یہ جملہ کسی زہریلے سانپ کی طرح ڈس رہا تھا۔۔۔ کیا میاں صاحب مجھ سے ناراض ہیں؟؟؟ عمران نے اپنے وکیل دوست سے استفسار کیا۔۔۔ مجھے تو اِس پیغام سے یہی لگتا ہے۔کہ،، میاں صاحب آپ سے خفا ہیں۔ ورنہ حضرت مکھن شاہ رحمتہ اللہ علیہ یہ بات کیوں کہتے! ۔۔۔عمران کو اُس کے وکیل دوست نے اپنی  رائے دی۔۔۔ وُہ شب عمران پر قیامت کی طرح بھاری تھی۔ کہ،، میاں صاحب مجھ سے خفا ہیں۔۔ اگر میاں صاحب مجھ سے خفا ہیں۔ تو حضور سیدنا غوث الاعظم بھی  یقیناً خفا ہی ہُونگے۔ سید دُو عالم صلی اللہ علیہ وسلم بھی کیونکر راضی ہُوں گے۔ اُور وُہ پروردیگار کہ،، جس کا میں طالب و عاشق بننا چاہتا ہُوں۔ اپنے دوست کی خفگی دیکھ کر مجھے کیوں اپنائے گا۔۔۔ کہ،، دوست کو پسند آنے والا ہی محبوب رکھا جاتا ہے۔ایذا دینے والا نہیں۔۔۔ یہی جملےرات بھر عمران بُڑبڑاتے ہُوئے رات بھر رُوتا رہا۔تمام رات استغاثوں میں گُزر گئی۔۔۔

اگلے دِن جمعہ کی نماز اَدا کرنے کے بعد  عمران شرمندہ شرمندہ میاں صاحب کے آستانے کی جانب روانہ ہُوگیا۔لیکن ندامت اُور  ایک انجانے خوف نے عمران کے قدم من من بھر کے کردیئے تھے۔عمران کو یاد آیا کہ چند دِن پہلے  نصف  شب کے وقت اُسے ماریشش سے  ایک انجانی کال موصول ہُوئی تھی۔جس میں ایک سید زادی نے عمران کو اپنا بھائی بناکر دریافت کیاتھا۔کہ،، غلام بھائی آپ نے انٹرنیٹ پر لکھنا کیوں چھوڑ  دیاہے۔؟؟؟ جواب میں عمران نے عرض کیا تھا۔ آقا زادی مجھے حجاب نے نابینا کردیا ہے ۔جسکی وجہ سے اب کچھ لکھنے کو دِل نہیں چاہتا۔ جس کے جواب میں اُن آقازادی نے کہا تھا۔ کہ،، اگر مجھے اپنی بہن سمجھتے ہُو تو میاں صاحب کی حاضری کا سلسلہ پھر سے شروع کردو۔ اُور میاں صاحب کی بارگاہ میں عرض کیجئے گا۔کہ،، آپکی ایک بیٹی نے اِس غلام کی شفارش کی ہے۔۔۔ تو کیا وُہ  اُس شہزادی کی ذاتی خاہش تھی۔یا پھر میاں صاحب کی قربت حاصل کرنے کیلئے عالم تکوین میں کوئی راستہ بنایا جارہا تھا۔؟؟؟اُور اب تو  حضرت مکھن شاہ رحمتہ اللہ علیہ نے واضح لفظوں میں تمام بات سمجھادی تھی۔

عمران ،، میاں صاحب کے آستانے سے لپٹ کر نجانے کتنی ہی دیر رُوتا رہا۔ اُور اپنی تمام نادانیوں ، غلطیوں، کوتاہیوں ، بے ادبیوں۔ کی معافی طلب کرتے ہُوئے بار بار عرض کرنے لگا۔ حضور میں تو آپکا ہی ہُوں۔ میری پیشانی آپکی پہچان سے داغی جا چُکی ہے۔ جس سے نسبت کی خُوشبو آج بھی مجھے باادب بنائے رکھتی ہے۔لیکن میں خطاکار ہُوں انجانے میں اگر کوئی غلطی کربیٹھا ہُوں۔تو خدا کیلئے مجھے معاف فرمادیں۔کہ،، سَیَّدوں کے در سے کوئی خالی نہیں جاتا۔ تھوڑی ہی دیر میں عمران کے قلب میں سکینہ نازل ہُونے لگا۔ عمران  مزار کے احاطے میں سورہ یسین کی تلاوت کرنے لگا یہاں تک کہ عصر کی آذان بُلند ہُونے لگی۔ کچھ مزید لُوگ بھی اجتماعی دُعا میں مصروف تھے۔ سُو عمران بھی اُس دُعا میں شریک ہُوگیا۔ لیکن آنسووٗں کو روکنا عمران کے بس میں نہیں تھا۔ سُو چشموں سے جھرنے بہہ کر خُشک سینے کو سیراب کرنے لگے۔

دعا کا اختتام ہُوچُکا تھا۔لیکن عمران کے اُٹھے ہاتھ نیچے نہیں آئے۔ تبھی کسی نے عمران کے شانوں کو آہستگی سے تھپ تھپانا شروع کردیا۔ عمران نے آنکھ کھولی تو سامنے ایک انجان نوجوان نظر آیا جسکی عمر ذیادہ سے ذیادہ پچیس برس رہی ہُوگی۔ میرا نام لئیق ہے۔کیا آپکا نام عمران احمد وقاص ہے۔۔۔؟ عمران نے حیرت سے نوجوان کو دیکھ کر اثبات میں گردن ہلادی۔۔۔۔ مجھے آپ سے کچھ ضروری باتیں کرنی ہیں۔ لیکن یہاں نہیں تنہائی میں میری بات سُن لیں۔وُہ نوجوان نہایت خلوص سے استدعا کرنے لگا۔۔۔ عمران تجسس کی وجہ میاں صاحب کو سلام پیش کرتے ہُوئے مزار کے احاطے سے باہر نکل آیا۔۔۔

آپ جس وقت دعا میں مشغول تھے۔ میاں صاحب نے مجھے  شرف مُلاقات بخشا تھا۔اُورآپکی طرف اشارہ کرتے ہُوئے فرما     یا  تھا۔یہ  ہمارا بیٹا ہےعمران احمد وقاص۔ دیکھو   رُو رُو کر اِس نے اپنا کیاحال بنالیا ہے۔اِسے ہمارا سلام کہو اُور اِسے کہناکہ،، ہم اپنے بیتے سے بالکل بھی ناراض نہیں ہیں۔اسکے دوست کو  حضرت مکھن شاہ رحمتہ اللہ علیہ کی بات  شائدسمجھ نہیں آئی  تو اُس نے راضی کرنے کو خفگی سے مشروط کردیا۔ جب کہ ہمیں عمران سے کوئی شکایت نہیں ہے۔ اِسکی امانت ہمارے پاس موجود ہے جو ہم اپنے بیٹے کوضرور دیں گے۔ بس اسے کہنا کہ،، وُہ استقامت سے منزل کی جانب پیشقدمی جاری رکھے۔   یہ راستہ  چونکہ راہِ عشق ہے۔ اسلئے اِسمیں کچھ رُکاوٹیں بھی ضرور پیش آئیں گی۔ لیکن میرا عمران پانی کی طرح ہے۔ اُور پانی اپنا راستہ خُود تلاش کرلیتا ہے۔ بس عمران سے کہنا کہ،، اب ہمارے یہاں ہفتہ میں کم از کم ایک مرتبہ ضرور آیا کرے اُور یسین شریف کی تلاوت ضرور کیاکرے۔

میاں صاحب کے پیغام نے عمران کی زندگی کے تمام غموں کو خوشیوں میں بدل ڈالا تھا۔ ہفتہ وار محفلوں کا انعقاد شروع ہُوا۔ تو عشق کے دریا سے صرف عمران ہی فیضیاب نہیں ہُوا۔۔۔ بلکہ عمران کے دوستوں پر بھی  عمران کی سفارش پر راہِ عشق کے در کھول دیئے گئے۔ ۔۔ ہر ایک نے  دریائے عشق  میں اپنے اپنے ظرف کے مطابق ڈبکیاں لگائیں۔ اُور گوہر مراد سے اپنی جھولیاں بھرلیں۔ کسی کو مشاہدات کی نعمت عطا کی گئی۔تو کسی کو جلووٗں کی۔۔۔ اور عمران کیلئے نفوسِ قدسیہ ( جس میں مشہور انبیائے کرام  علیہم السلام)اُور اولیائے کرام رحمُ اللہ اجمعین  شامل تھے۔ کی جانب سے بیشمار پیغامات موصول ہُونے لگے۔ جن میں عمران کو مبارکباد بھی دی گئیں۔ اُور میاں صاحب کی دلہن کے نام سے بھی  موسوم کیا گیا۔۔۔ اُور یُوں ایک اُور عشق مجازی سے جنم لینے والی کہانی عشق حقیقی کے بحر بیکنار میں ضم ہُوگئی۔

(ختم شُد)۔

نُوٹ۔

کہانی کو طوالت سے بچانے کیلئے کچھ واقعات کو بہت اختصار کیساتھ  پیش کرنا پڑا۔ جس میں ایک واقعہ کوثر سے ناران میں مُلاقات تھی۔ جسے حذف کردیا گیا۔ اِس مؒلاقات کا واقعہ کچھ یُوں ہے۔کہ،، عمران ایک مدنی قافلے کیساتھ  ایک ماہ کیلئےاسلام آبادگیا تھا۔ وہاں حُسن اتفاق سے بیشمار قافلے آئے ہُوئے تھے۔ جسکی وجہ سےعمران کا قافلہ مانسہرہ  کی طرف روانہ کردیا گیا۔ جہاں سے وُہ لُوگ بالاکوٹ اُور پارس پُہنچ گئے۔ پارس  پُہنچنے کے بعد جب کسی نے  عمران کو بتایا کہ،، ناران اُور جھیل سیف الملوک یہاں سے بُہت نذدیک ہیں۔ تو عمران سے نہیں رہا گیا۔ اُور قافلہ نگران سے عرض کی کہ،، ایک دن ناران بھی  چلنا چاہیئے۔   یُوں عمران کی خاہش کی وجہ سے مدنی قافلہ ناران پُہنچ گیا۔ جسکے بعد عمران باآسانی جھیل سیف الملوک پُہنچنے میں کامیاب  ہُوگیا تھا۔ جبکہ کوثر نے عشق  حقیقی کے مقابلے میں قربانی دیتے ہُوئے عشق مجازی سے نکلنے میں  عمران کی جو مدد کی یہ تذکرہ بھی شامل نہیں ہوسکا۔ بہرحال ہر نیکی کی جزا  کریم پروردیگار کی بارگاہ میں موجود ہے۔ اللہ کریم عمران  کی عشق  حقیقی کی تلاش میں مدد کرنے والے تمام ساتھیوں کی سعی کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے ۔ اُور انہیں بہترین جزا سے سرفراز کرے۔

پلکوں سے دَر یار پر دستک دینا
اُونچی آواز ہُوئی عُمر کا سرمایہ گیا

تذکرہ اِک پری کا (سُراغ) قسط 32.tipk



تذکرہ اِک پری کا (سُراغِ زندگی) قسط۳۲
گُذشتہ سے پیوستہ

عمران رُوتا بلکتا واپس پاکستان آگیا۔ اب اگلے برس سے پہلے ممکن ہی نہیں تھا۔کہ،، مدینے کی حاضری کیلئے ویزا مِل جائے۔ لوگ عمران کو مبارکباد دے رہے تھے۔لیکن عمران آج بھی اپنے اندر کے سُونے پن کی وجہ سے دل گرفتہ تھا۔ کہاں تو عشق حقیقی کے نام سے ہی خُوف آتا تھا۔کہ،، عمران  نہ تو خود کو اتنا عالی ہمت سمجھتا تھا۔اُور نہ خُود کو اِس راہ کے قابل۔لیکن جب کُتب باھو (رحمتہ اللہ علیہ) نے عشق کی آتش کو خُوب دہکادیا۔تو دُور دُور تک اِس نعمت کے ملنے کے آثار مفقود نظر آرہے تھے۔۔۔پھر ایک دن جب  عمران کو مدینے سےآئے صرف ایک ہفتہ ہی ہُوا تھا۔ خبر ملی ۔کہ،، عمران کو اپنے بیٹے کی خاطر صرف ایکدن کیلئےمدینے کا سفر کرنا ہے۔ اُور مدینہ ائرپورٹ سے اگر عمران چاہے تو اگلی فلائٹ سے واپس آسکتا ہے۔۔۔۔ عمران نے حیرت سے بوکھلا کر استفسار کیا۔صرف ایکدن کیلئے ہی کیوں۔۔۔۔اگر آپکی صحت اجازت دے تو ذیادہ دِن بھی رُک سکتے ہیں۔۔۔۔ اِسکا مطلب ہے اِس مرتبہ میری تشنگی مٹانے کا مکمل انتظام کردیا گیا ہے۔ عمران بُڑبڑاتے ہُوئے سجدہ شکر کیلئے تیار ہُوگیا۔

اب مزید پڑھ لیجئے۔

حیرت انگیز طور پر  بارگاہ مدینہ کی دوسری حاضری   اُور واپسی کی تاریخ بھی عین دربار باھو  کی حاضری کی طرح اُنہی تاریخ میں عمران کو موصول ہُوئیں تھیں۔ لیکن خُوشی کے عالم میں عمران اِس راز پر ذیادہ توجہ نہیں دےپایا۔  ۔۔مدینہ ائرپورٹ پرامیگریشن آفیسر بھی پاسپورٹ دیکھ کر حیران و پریشان تھا۔کہ،، یہ شخص ابھی پندرہ دِن قبل ہی تو یہاں سے گیا ہے۔پھر اِسے دوبارہ  سیم ڈیٹ کا ویزہ کیسے مِل گیا۔لیکن چونکہ تمام کاغذات اصلی تھے۔ اِس لئے آدھے گھنٹے کی بحث و تکرار  ،اُور،امیگریشن آفیسر نے  خوب تسلی کرلینے کے بعد عمران کو جانے کی اجازت دے دی۔ عمران اپنی قسمت پر سرکار صلی اللہ علیہ وسلم کی مہربانیاں دیکھ کر جھوم اُٹھا۔ اُور مدینے کی دیواروں درختوں، پہاڑوں،  کے بوسے لیتے ہُوئے مدینہ طیبہ میں داخل ہُوگیا۔

اِس مرتبہ  دربار رسالت ماب (صلی اللہ علیہ وسلم )سےعمران کو وُہ تمام نعمتیں عطا خُوب عطا کی گئیں۔ جنکے لئے عمران پچھلی حاضری میں  بچوں کی طرح بلک بلک کر دعائیں مانگتا رہا تھا۔ لیکن ایک باریک سا حجاب اب بھی قائم تھا۔اُور عمران حیران تھا۔کہ،،  نعمت عظمیٰ عطا کردیئے جانے کے بعد بھی یہ حجاب کیسا ہے۔اُور کیوں ہے۔؟عمران کی زندگی میں یہ پہلی عید تھی جو  اُس نےگھر والوں سے اگرچہ دُور لیکن ساری کائنات کے آقا  و مولی علیہ السلام کی خاص عطاوٗں کے طفیل  مدینہ طیبہ میں یادگار گُزری۔تمام  عظیم نعمتوں کے حصول کے بعد بلاآخر ایکبار پھر جُدائی کا موقع آن پُہنچا۔ اُور عمران  مدینے کی یادوں کو دِل میں بسائےایکبار پھر اپنے وطن پُہنچ گیا۔

کچھ دِ ن گُزرنے کے بعد یہ حجاب پھر عمران کو ستانے لگا۔ اپنی اِسی تشنگی کا جواب پانے کیلئے عمران ایک مرتبہ پھر دربار باھو کی حاضری کیلئے جھنگ کیلئے روانہ ہُوگیا۔پچھلے سفر میں عمران نے اپنے چند دوستوں کو بھی شامل کیا تھا۔جو اِس مرتبہ بھی عمران کیساتھ تھے۔ یہ سفر بھی اگرچہ عمران کیلئے بُہت یادگار ثابت ہُوا۔لیکن حجاب ابھی تک باقی تھا۔ جو کسی صورت سلجھنے کا نام نہیں لے رہا تھا۔اُور اب یہی غم عمران کو کھائے جارہا تھا۔۔۔ دربار باھو۔ (رحمتہ اللہ علیہ) پر اِس مرتبہ بھی خُوب تواضع سے پیش آیا گیا لیکن حجاب کا سوال پھر حجاب میں رِہ گیا۔ سُو عمران  اِس عزم کیساتھ واپس لُوٹ آیا۔کہ،، ایک نہ ایک دِن وُہ اپنے سوال کا جواب ضرور پائے گا۔ شائد قسمت میں کچھ انتظار کے لمحات  ابھی باقی ہیں۔

ایک ماہ بعد عمران  کو نیٹ سرفنگ کے دوران ایک وڈیو موصول ہُوئی جس نے عمران کے دِل میں سیہون جانے کی بیقراری کو جنم دینا شروع کردیا۔عمران نے سُوچا ہُوسکتا ہے۔میرے حصے کی نعمت حضرت لعل شہباز قلندر کی چوکھٹ سے وابستہ ہُو۔اُور شائد اِس حجاب کا سراغ  سیہون پُہنچ کر مِل جائے۔۔۔لیکن سیہون کا سفر اتنا آسان بھی نہیں ہے۔کہ،، بندہ  گھنٹے دو گھنٹے میں وہاں پُہنچ جائے ۔عمران اِسی شس و پنج میں تھا۔کہ عمران کے  ایک دوست  کامران کی  کراچی سے  کال آگئی۔ اِس کال کے دوران ہی عمران کے ایک دیرینہ دُوست کی بھی کال موصول ہُوئی ۔جنہوں نے عمران کو بتایا کہ،،  کل صبح ایک بس میاں صاحب کے خلیفہ کی نگرانی میں سیہون روانہ ہُورہی ہے۔اُور مجھے ابھی کہا گیا ہے۔کہ،، عمران کو بھی اطلاع کردی جائے۔

عمران کو اِن تمام عجیب اتفاقات سے یقین ہُونے لگا۔کہ،،  ضرور اُسکی الجھن کا جواب سیہون میں موجود ہے۔ ورنہ یُوں اچا نک ایک  خیال کے ساتھ ہی سیہون شریف کا بُلاوہ نہیں آجاتا۔ بہرحال  حضرت سخی لعل شہباز قلندر رحمتہ اللہ علیہ کے روضہ پر بھی عمران رُو رُو کر صرف ایک سوال کیئے جارہا تھا۔کہ،، اے شہنشاہِ سندھ  مجھ سے اِس آخری حجاب کو  بھی دُور فرمادیں۔ ورنہ یہ حجاب میرے وجود کوجلا کر خاکستر کردےگا۔ سیہون کی حاضری نے عمران کے وجود میں ایک عجیب سکون پیدا کردیا تھا۔لیکن حجاب کی  موجودگی نے  عمران کو ایک بار پھر مایوسی کی عمیق گھاٹی میں دھکیلنے کی کوشش کی۔ عین جس وقت عمران قافلے کیساتھ واپسی کیلئے پر تول رہا تھا۔عمران کو موبائیل پر ایک میسج موصول ہُوا۔اگرچہ یہ ایک عام سا میسج تھا جو عمران کو اُس کے ایک وکیل دُوست نے بھیجا تھا۔ لیکن اِس میسج میں ایسی کوئی بات ضرور تھی جسکی وجہ سے عمران بار بار اُس میسج کو پڑھنے پر مجبور ہُورہا تھا۔

بلاآخر عمران پر آگہی کا در کھل گیا۔اُور اُسے میسج میں پوشیدہ پیغام  نظر آہی گیا۔ دراصل اِس میسج کے ذریعے عمران کے شہر کے ایک قلندری سلسلے کے بُزرگ (حضرت مکھن شاہ قلندری رحمتہ اللہ علیہ) نے پیغام بھیجا تھا۔کہ،، تمہارے سوال کا جواب ہمارے پاس موجود ہے۔ ہم سے ملاقات کرو اُور اپنے ہر سوال کا جواب ہم سے لے لینا۔۔۔۔ عمران کا میسج کو سمجھ لینے کے بعد بس نہیں چل رہا تھا۔کہ،، وُہ اُڑتا ہُوا اپنے شہر پُہنچ جائے۔ اُور اپنے سوال کا جلد از جلد جواب حاصل کرلے۔۔۔لیکن آج عمران کو اپنے گھر پُہنچنے کی جتنی جلدی تھی۔ بس ڈرائیور اُتنی ہی تاخیر سے مزے لیتا ہُوا ڈرائیونگ کے فرائض انجام دے رَہا تھا۔

حضرت مکھن شاہ رحمتہ اللہ علیہ کے مزار مبارک پر عمران روزانہ باقاعدگی سے جارہا تھا۔لیکن اُسے اُس کے سوالوں کے جوابات نہیں مِل رہے تھے۔ حالانکہ وہاں ملنے والے تمام لُوگ عمران کو یہی بتارہے تھے۔کہ،، صاحب مزار یہاں آنے والوں کو تشنہ نہیں رہنے دیتے۔ ۔۔۔ ایک  شام مغرب کی نماز ادا کرنے کے بعد عمران نے مزار مبارک پر حاضری دی۔ تو تنہائی دیکھ کر عمران سے رہا نہ گیا۔ اُور صاحب مزار  سے فریاد کرنے لگا۔ لُوگ کہتے ہیں۔کہ،، آپ کسی سائل کو نامُراد نہیں کرتے۔ پھر مجھے میرے سوالوں کا جواب کیوں نہیں مِلتا۔ جب کہ،، مجھےآج بھی یہی لگتا ہے۔کہ،، وُہ پیغام آپکی ہی جانب سے تھا۔ نجانے کتنی ہی دیر عمران صاحبِ مزار سے شکوہ کرتا رہا۔لیکن کوئی جواب موصول نہیں ہُوا۔ یہاں تک کے چپلوں کی آہٹ سُن کر عمران مزار مبارک سے باہر نکل آیا۔

پھر جمعرات کی نصف شب بلاآخر  قسمت عمران پر مہربان ہُوہی گئی۔ اُور عمران کو اُس کے وکیل دوست نے کال کرکے بتایا۔کہ،، حضرت مکھن شاہ رحمتہ اللہ علیہ کے در پر آپ نے کچھ پیغام چھوڑا تھا۔ جس کے جواب میں  ایک پیغام ایک صاحب کشف کو موصول ہُوا ہے۔اُور اُسے ہدایت کی گئی ہے۔کہ،، وُہ یہ پیغام مجھ تک پُہنچائے۔تاکہ میں یہ پیغام تُم تک آسانی سے پُہنچادُوں۔  

جاری ہے۔۔۔

پلکوں سے دَر یار پر دستک دینا
اُونچی آواز ہُوئی عُمر کا سرمایہ گیا

Saturday, 13 June 2015

تذکرہ اک پری کا (بُلاوے پر بُلاوہ)قسط 31.tipk



گُذشتہ سے پیوستہ

اگلے چند دِن  عمران کے اتنی مصروفیت و پریشانی میں پڑوسی شہر میں اسطرح گُزرے کہ،، نہ اُسے صابر پاک کی یاد  ہی آئی۔ اُور نہ ہی کوثر کا کوئی خیال   اُسکے دِل میں گُزرا۔۔۔پھر ایک صبح نماز فجر پڑھ کرعمران جب صابر پاک سے ملنے باغ پُہنچا تو اُسے یہ رُوح فرسا خبر سُننے کو ملی کہ صابر پاک کا وصال تین دن پہلے ہُوچکا ہے۔اور آپکی تدفین آپکے حکم کے مطابق شہر کے وسطی قبرستان میں کی جاچُکی ہے۔صابر پاک کے پردہ فرمانے کی خبر نے عمران پر ایسی بجلی گرائی۔کہ،، اُسے اپنی سانس تھمتی دکھائی دینے لگی اُور عمران اپنا سر پکڑے  زمین پر بیٹھ کر اسطرح رُونے لگا۔جیسے کسی چھوٹے بچے کے سر سے اچانک اُس کے باپ کا سایہ اُٹھ گیا ہُو۔

 اَب مزید پڑھ لیجئے۔

صابر پاک کے وصال نے عمران کی زندگی پر گہرے اثرات مرتب کیئے تھے۔بابا احمد وقاص کے پردہ فرمانے کے بعد عمران کی زندگی میں  یہ دوسرا جھٹکا تھا۔جس نے عمران کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔میاں صاحب کی بارگاہ میں یُوں بھی عمران کوثر کے معاملے   کی وجہ سے شرمندہ اُور خُوفزدہ تھا۔اُور آپکے جلال کے پیشِ نظر ایک مُدت سےحاضری کی سعادت سے محروم تھا۔اگرچہ عمران جانتا تھا۔کہ،، میاں صاحب آج بھی اُسے بُہت عزیز رکھتے ہیں۔ لیکن پھر بھی  اپنے اعمال پرشرمندگی اُور خوف کی وجہ سے عمران کے بڑھتے قدم ہر بار نہ جانے کیوں اُسے رستے سے ہی واپس لُوٹ آنے پر مجبور کردیا کرتے تھے۔عمران اکثر سُوچا کرتا تھا۔کہ،، کسی دِن صابر پاک اچانک اُسکا ہاتھ پکڑ کر میاں صاحب کے رُوبرو پیش کردیں گے۔ اُور میاں صاحب عمران کی تمام غلطیوں کو صابر پاک کی وجہ سے یکسر نظرانداز فرماتے ہُوئے اُسے اپنے سینے سے میرا عمران کہتے ہُوئےلپٹا لیں گے۔ لیکن اب یہ خاب بھی بابا صابر کے وصال  کی وجہ سے اُسے ریزہ ریزہ ہُوتا دکھائی دے رہا تھا۔

عمران اب اپنے دِل کی بات کسی سے نہیں کہہ پارہا تھا۔ اُس کے اندر جو طوفان کوثر کی محبت کی وجہ سے برپا تھا۔ وُہ بھی  صابر پاک کے چلے جانے کے بعد تھم سا گیا تھا۔۔۔۔ اُسے اکثر خُود پر بُہت حیرت ہُوتی جب اُسے بیتے دِن یاد آتے۔کہ،، کسطرح اُسکی سادہ سی زندگی میں  پے در پے آنے والےحادثات کی کثرت نے اُس کی زندگی کو ایک فلمی کردار سے بھی ذیادہ دلچسپ بنادیا تھا۔  اُور اُسکی زندگی میں کتنے ہی خُوبصورت کرداروں نے قوس و قزح کے رنگ بھردیئے۔اُور کتنے ہی عجیب وغریب واقعات اُسکی زندگی میں رُونما ہُوتے چلے گئے۔جنہیں سُن کر کوئی آسانی سے یقین نہ کرپائے۔ اگرچہ عاشقان خُدا کی قربت نے اُس کے دِل کو اپنی باتوں سے حکمت و دانشمندی کا گہوارہ  بھی بناڈالا تھا۔اُور دوسری طرف کُوثر کی محبت نے اُسکی برسوں کی پیاس بھی  مِٹا  دِی تھی۔ لیکن اِن تمام باتوں کے باوجود وُہ میاں صاحب سے دُور ہُوتا چلاگیا تھا۔اُور اب یہی خلش عمران کو ایکبار پھر اندر سے کھوکھلا کیئے جارہی تھی۔

عمران اکثر نمازوں کے بعد خُدا سے التجا کرتا۔ اے میرے پروردیگار تو قادر مطلق ہے۔کیا ایسا نہیں ہُوسکتا۔کہ،، اچانک میری آنکھ کھلے اُور مجھے معلوم ہُو۔کہ،، کوثر سے ملن ،اُور بابا احمد وقاص کی مُلاقات صرف ایک خاب تھی۔؟ نہیں چاہیئے مجھے ادراک و فہم نہیں بننا چاہتا میں لوگوں سے منفرد۔۔۔اُور نہ ہی مجھے کسی پری کی محبت کا سہارا درکار ہے۔۔۔بس مجھے میری  وُہ سادگی لُوٹادے۔جِسے دیکھ کر میاں صاحب کی آنکھوں میں  ہمیشہ اپنائت اُورچاہت کی چمک نظر آجاتی کرتی تھی۔۔۔ وُہ اکثر یہ دُعا مانگا کرتا۔لیکن عمران کو یوں محسوس ہُوتا جیسے اُسکی دُعا کے پر ہمیشہ کچھ اُونچائی پر پُہنچنے کے بعدبےجان ہُوکر واپس دُعا کو نیچے لے آتے ہیں۔

عمران میں اگرچہ میاں صاحب کا سامنا کرنے کی ہمت نہیں تھی۔لیکن عمران کو جب جب موقع مِلتا۔ وُہ میاں صاحب کے ڈیرے پر ضرور جاتا۔البتہ یہ الگ بات ہےکہ،، میاں صاحب کے سامنے جانے کی ہمت تب بھی عمران کے وجود میں نہ ہُوتی۔جسکی وجہ سے عمران دُور ہی دُور سے میاں صاحب کی دید سے اپنی تشنگی مٹانے کی کوشش کرتا رہتا۔ اِن دید کے مواقع میں اُس دِن عمران کی عجیب کیفیت ہُوگئی۔جب ایک دن اچانک میاں صاحب کی نگاہ عمران پر پڑ گئی۔ عمران نے جب میاں صاحب کو اپنی طرف ہی آتے دیکھا۔ تو وُہ بھی احترام سے گردن جھکا کر کھڑا ہُوگیا۔عمران کا خیال تھا کہ،، میاں صاحب اُسے نظرانداز کرتے ہُوئے وہاں سے گُزر جائیں گے۔ لیکن میاں صاحب نے اُسے بازو سے پکڑ کر یہ کہتے ہُوئے اپنے سینے سے لگالیا۔آہا  !!! آج میرا عمران آیا ہے۔۔۔

عمران کے کانوںمیں صابر پاک کے الفاظ گونجنے لگے۔کہ،، بابا فرید (رحمتہ اللہ علیہ) حضرت جمال ہانسوی سے اکثر اپنی والہانہ محبت کا اظہار فرماتے ہُوئےکہتے تھے۔کہ،، جمال میرا ہے۔ اِس واقعہ نے عمران کے اندر اتنی ہمت پیدا کردی تھی۔کہ،، وُہ اب میاں صاحب سےچُھپنے کے بجائے میاں صاحب کے سامنے محفل میں بیٹھ سکتا تھا۔ لیکن قسمت کو شائد عمران کی معافی ابھی قبول نہیں تھی۔اس لئے عمران کو بزنس کی وجہ سے آئے دِن کبھی پنجاب اُور کبھی بدین کی ساحلی پٹی پر  متواتر جانا پڑرہا تھا۔یُوں  ایک طویل عرصہ بیت گیا۔۔۔۔ اِس  تمام دورانیہ میں نہ کبھی کوثر نے ملاقات کی کوئی کوشش کی۔اُور نہ ہی عمران کو  ہی کُوثر کی یاد آئی۔ کچھ عرصہ بعد جب عمران میاں صاحب کی خدمت میں حاضر ہُوا تو میاں صاحب کی صحت کافی ناساز ہُوچکی تھی۔ آپ جذب کی سی کیفیت میں تھے۔ عمران کافی دیر تک میاں صاحب کی چارپائی سے لگا آپ کے قدم دباتا رہا۔ میاں صاحب نے دُو ایک مرتبہ آنکھ کھول کر عمران کی جانب دیکھا۔لیکن نا آپ نے عمران کو مخاطب فرمایا ۔اُور نہ ہی آپکی آنکھوں میں کسی قسم کی شناسائی کی چمک دکھائی دی۔

میاں صاحب کی بیماری طول کھینچتی جارہی تھی۔ عمران دُوران علالت کئی بار میاں صاحب کے سامنے آیا لیکن میاں صاحب نے کبھی اپنی باتوں سے ایساظاہر نہیں فرمایا۔جس سے عمران کو یہ تسلی ہُوجاتی کہ،، میاں صاحب اُسے پہچان رہے ہیں۔ یا وُہ اب عمران سے خفا نہیں ہیں۔عمران کا خیال تھا۔کہ،، میاں صاحب  اگرچہ ۱۴۰ برس کی طویل عمر پا چُکے ہیں ۔لیکن آپ جلد صحتیاب ہُوجائیں گے۔تو تمام معملات پھر سے معمول پر آجائیں گے۔لیکن میاں صاحب کی علالت اِس مرتبہ کوئی وقفہ حاصل نہیں کرپارہی تھی۔۔۔اُور بلاآخر ایک دن  عمران کو ایک کال موصول ہُوئی۔جس میں عمران کو جلد ہسپتال آنے کی تاکید کی گئی۔اُور اُسے بتانے والے نے رُوتے ہُوئے بتایا۔کہ،، میاں صاحب کی طبیعت بُہت ذیادہ نازک ہُوتی جارہی ہے۔

عمران بدحواسی کے عالم میں ہسپتال پُہنچا ۔تو زندگی کی سب سے تکلیف دہ خبر اُسکی منتظر تھی۔کہ،، میاں صاحب تمام مُریدین کو رُوتا بلکتا چھوڑ کر ہمیشہ کیلئے اپنے حقیقی محبوب عزوجل کی بارگاہ میں حاضری کی سعادت سے سرفراز ہُورہے ہیں۔۔۔۔ تمام مُریدین  نم آنکھوں سےمیاں  صاحب کو دُولہا کی طرح سجانے سنوارنے میں مصروف تھے۔ کوئی پالکی سجارہا تھا۔ تو کوئی  مرقد مبارک کو حجلہ عروسی کی طرح تیار کرنے میں مگن تھا۔عمران سب لوگوں کو حیرت سے دیکھ رہا تھا۔کہ،، کسطرح اُسکے پیر بھائی اپنے جذبات  پر قابو رکھتے ہُوئے  میاں صاحب کی آخری وصیت کو پُورا کرنے میں مصروف ہیں۔۔۔

عمران کئی دن تک اِسی سحر میں مبتلا تھا۔کہ،، اب آنکھ کھلی کہ،، تب آنکھ کھلی۔۔۔ سپنا ٹوٹے گا۔تو پھر سے میاں صاحب اُسکے سامنے جلوہ گر ہُوں گے۔اُور فرمائیں گے۔بھلا میں اپنے عمران کو تنہا دُنیا کے حوالے کرکے کیوں جانے لگا تھا؟؟؟ لیکن جاگتے تو وُہ ہیں نا! جو سوجاتے ہُوں۔  میاں صاحب جاتے جاتے بھی اپنی یادوں کے حسین تر واقعات اپنے پیچھے چھوڑ گئے تھے۔ آپ کی نماز جنازہ کرکٹ اسٹیڈیم میں ادا کی گئی تھی۔ جس میں شریک ہزاروں لوگوں  نے گواہی دی تھی۔ کہ،، میاں صاحب کے جنازے میں جتنے بھی لُوگ شریک ہُوئے اُن سبھی کے گھر تین دِن تک خُوشبووٗں سے مہکتے رہے ہیں۔

عمران میاں صاحب کے مزار پر حاضری اُس وقت دیا کرتا ۔جب وہاں لُوگ موجود نہ ہُوتے ہُوں۔۔۔ پھر وُہ بلک بلک کر میاں صاحب سے سوال کرتا۔ میاں صاحب کیا میں آپکا  وہی عمران نہیں ہُوں۔جسے آپ میرا عمران کہہ کر بُلایا کرتے تھے؟ کیا میں آپکا بیٹا نہیں ہُوں۔؟؟؟ کیا آپ میرے روحانی باپ نہیں ہیں؟؟؟ کیا آپ میرا کُل اثاثہ نہیں ہیں؟۔۔۔ پھر میاں صاحب آپ مجھے جواب کیوں نہیں دیتے۔کہ،، عمران بیٹا تسلی رکھو۔ ہم اب بھی تُم سے دُور نہیں ہیں۔۔۔۔آپ ایک مرتبہ فرمادیں کہ،، عمران ہم تجھ سے راضی ہیں ۔خفا نہیں ہیں۔۔۔ دِن، ماہ، سال گُزر گئے۔ عمران عرضی پر عرضی پیش کررہا تھا۔ لیکن میاں صاحب نے ایک مرتبہ بھی جواب عطا نہیں فرمایا۔ حالانکہ جب سے میاں صاحب نے پردہ فرمایا تھا۔ سینکڑوں لوگوں نے میاں صاحب کو اپنے مزار مبارک اُور آستانے کے احاطے میں دیکھا تھا۔ کئی لُوگوں کو آپ نے تسلی بھی دی۔ تو کئی لوگوں کو بہت سی نعمتیں بھی عطا فرمائی۔بس ایک عمران تھا۔جسے نہ دید کا جام پلایا گیا۔اُور نہ کسی سوال کا جواب دیا گیا۔


لوگوں  پر میاں صاحب کی مسلسل کرم فرمائیوں کے تذکرے سُن سُن کر عمران کے ذہن میں رفتہ رفتہ یہ بات بیٹھتی چلی گئی۔کہ،، یقیناً اُس سے کوئی ایسی خطا سرذد ہُوگئی ہے۔جسکی وجہ سے وُہ ابتک میاں صاحب کی دید اور محفل میں حاضری سے محروم ہے۔ پھر اُس کے ذہن میں ایک تدبیر سمائی کیوں نا میں اُس ہستی کی بارگاہ میں حاضر ہُوکر اپنی سفارش کیلئے عرض کروں۔جنہیں خُدا نے سلطان الفقر کے تاج سے نوازا ہے۔ سُو عمران  بیس برس سے جنکے عشق میں غیبی طور پر  گرفتار تھا۔ اُن کی بارگاہ میں اپنا مسئلہ لیکر حق باہو (رحمتہ اللہ علیہ) کے ڈیرے پر  اس یقین کیساتھ پُہنچا۔ کہ،، پہلی ملاقات میں ہی کشف کے تمام بند راستے کھول دیئے جائیں گے۔

لرزہ بدن اُور بیقرار روح کیساتھ عمران جب دربار باہو سلطان پُہنچا۔تو کئی گھنٹے ہچکی باندھے سلطان الفقر کی بارگاہ میں  اپنی معافی کیلئےعرض کرتا رہا۔ لیکن  عمران کو ماسوائے اِس تبدئلی کے۔کہ،، عمران کے جسم پر ایک لرزہ سا طاری ہُوگیا تھا۔ بظاہر اُور کوئی تبدئلی نظر نہیں آئی۔ البتہ آپ کے ڈیرے پر ایک عجیب بات عمران نے محسوس کی کہ،، عمران کی تواضع جان پہچان نہ ہُونے کے باوجود بھی ایک زائر سے ذیادہ مہمان کی طرح کی گئی۔عمران نے جو تصویر اپنے ذہن میں اِس مُلاقات کیلئے  سجائی ہُوئی تھی۔ جب اُس خاکے کیمطابق اُسے چیزیں ہوتی دکھائی نہ دیں۔ تو وُہ دلبرداشتہ ہُوکر واپس سندھ لُوٹ آیا۔ لیکن حیرت انگیز طور پر اگلے مہینے کی اُنہی تاریخوں میں ایکبار پھر عمران دربارِ باھو پر حاضری کیلئے موجود تھا۔

عمران کی آج بھی وہی گُزارشیں تھیں۔ البتہ اِس مرتبہ وُہ اپنی معافی کیساتھ عشق حقیقی کی بھیک بھی طلب کرتا رہا۔جسکی طلب پچھلی مرتبہ آپ (رحمتہ اللہ علیہ)کی تصانیف کو پڑھنے کی وجہ سے ایکبار پھر عمران کو رات دن ستانے لگی تھی۔ لیکن اِس مرتبہ بھی بظاہر کوئی رنگ، کوئی تبدئلی عمران کو خود میں نظر نہیں آئی۔ لیکن جونہی عمران اپنے شہر پُہنچا تو  اچانک مدینے کا بُلاوہ اُسکا منتظر تھا۔۔۔ عمران کو یقین آگیا۔کہ،، یہ بُلاوہ ضرور اپنے اندر کوئی خاص پیغام رکھتا ہے۔ شائد سرکار باہو انعامات کی بارش مدینے میں فرمائیں گے۔ لیکن مدینے کی اِس حاضری  میں  بیحد  کیف و سرور کے  باوجود بھی  اُس گوہر عظیم کی جھلک   عمران کواپنے قلب میں دکھائی نہیں دی۔جسکی تڑپ اُسے یہاں سے وہاں اُڑائے  پھر رہی تھی۔

مدینہ کریم کی حاضری کی سعادت سے بہرہ مند ہو کر پلٹتےہوتے عمران ایک بچے کی طرح بلکتے ہُوئے سید دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں فریاد کررہا تھا۔ حضور! آپکو تو اللہ کریم نے تمام خزینوں کی کنجی عطا فرمادی ہے۔اگر میں یہاں سے بھی خالی چلا گیا۔ تو پھر آپ کے سِوا کون ہے؟ جو میری جھولی کو بھرسکے۔ یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) میں آپ سے دُنیا کی کسی نعت کا سوال نہیں کرتا۔بس مجھے شراب دید کا جام پلا کر ہمیشہ کیلئے اَمر فرمادیں۔۔۔۔شہدائے بدر کی آخری زیارت کے وقت بھی عمران سیدنا امیر حمزہ رضی اللہ عنہ سے مخاطب ہُوکر عرض کررہا تھا۔کہ،، یا سیدی آپ جانتے ہیں۔کہ اصحاب رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) میں آپکی طرف میرا دِل کسقدر مائل ہے۔حضور میں تشنہ ہُوں۔ اُور واپسی کی گھڑی آگئی ہے۔ خُدارا مجھے مدینے سے نہ جانےدیں۔

عمران رُوتا بلکتا واپس پاکستان آگیا۔ اب اگلے برس سے پہلے ممکن ہی نہیں تھا۔کہ،، مدینے کی حاضری کیلئے ویزا مِل جائے۔ لوگ عمران کو مبارکباد دے رہے تھے۔لیکن عمران آج بھی اپنے اندر کے سُونے پن کی وجہ سے دل گرفتہ تھا۔ کہاں تو عشق حقیقی کے نام سے ہی خُوف آتا تھا۔کہ،، عمران  نہ تو خود کو اتنا عالی ہمت سمجھتا تھا۔اُور نہ خُود کو اِس راہ کے قابل۔لیکن جب کُتب باھو (رحمتہ اللہ علیہ) نے عشق کی آتش کو خُوب دہکادیا۔تو دُور دُور تک اِس نعمت کے ملنے کے آثار مفقود نظر آرہے تھے۔۔۔پھر ایک دن جب  عمران کو مدینے سےآئے صرف ایک ہفتہ ہی ہُوا تھا۔ خبر ملی ۔کہ،، عمران کو اپنے بیٹے کی خاطر صرف ایکدن کیلئےمدینے کا سفر کرنا ہے۔ اُور مدینہ ائرپورٹ سے اگر عمران چاہے تو اگلی فلائٹ سے واپس آسکتا ہے۔۔۔۔ عمران نے حیرت سے بوکھلا کر استفسار کیا۔صرف ایکدن کیلئے ہی کیوں۔۔۔۔اگر آپکی صحت اجازت دے تو ذیادہ دِن بھی رُک سکتے ہیں۔۔۔۔ اِسکا مطلب ہے اِس مرتبہ میری تشنگی مٹانے کا مکمل انتظام کردیا گیا ہے۔ عمران بُڑبڑاتے ہُوئے سجدہ شکر کیلئے تیار ہُوگیا۔


جاری ہے۔۔۔

۲۸ اقساط کو صرف (۲)اقساط میں سمیٹ  کر  اختتام پذیر کرنے سے  اس کہانی  کے کئی پہلو تشنہ رِہ جانے کا خطرہ پیدا ہُوگیا تھا۔ اِس لئے قسط ۳۰ آخری قسط کے طور پر پیش نہیں کرسکا۔ لیکن انشا اللہ حسب وعدہ رمضان سے قبل  یہ کہانی اختتام پذیر ہُوجائے گی۔انشااللہ۔

پلکوں سے دَر یار پر دستک دینا
اُونچی آواز ہُوئی عُمر کا سرمایہ گیا

Thursday, 11 June 2015

تذکرہ اِک پری کا (کشمکش) قسط 30.tipk



گُذشتہ سے پیوستہ

لیکن بابا صاحب اللہ سے عشق کرنے کیلئے اُور اُسے پانے کیلئے تو بُہت طویل مجاہدوں کی ضرورت ہُوتی ہُوگی نا۔ ؟؟؟۔عمران نے اشتیاق و تجسس سے  استفسار کیا۔۔۔  بابا صابر نے اِس مرتبہ انتہائی محبت بھری نظروں سے عمران کے  پُر شوق  چہرے پر نگاہ ڈالتے ہُوئے  پھر سے سلسلہ کلام جُوڑا۔۔۔یہ بھی ایک بُہت بڑی غلط فہمی ہے جو ہم مسلمانوں میں پھیلادی گئی ہے۔کہ،، تصوف کی راہ بُہت مشکل یا شائد ناممکن ہے۔ حالانکہ جب کسی انسان کی سمجھ میں دُنیا کی حقیقت آجاتی ہے۔ تو اُسکے قلب میں ایک عجب سے چنگاری پیدا ہُوجاتی ہے۔جو مٹی  کے ہر رُوپ  کی خاہش کو جلا کر خاکستر کردیتی ہے۔ اُورجب ہَوس و ہَوا (خاہش و لالچ) سے قلب پاک ہُوجاتا ہے ہے تو بابا فرید فرماتے ہیں۔کہ،، خُدا انسان سے صرف ۲ قدم کی دُوری پر ہُوتا ہے۔پہلا قدم انسان خُواہشات نفس کی گردن پر رکھتا ہے۔ تو دوسرا قدم اُٹھانے سے قبل خُدا کو پالیتا ہے۔۔۔۔ اب عمران بیٹا یہ تمہاری مرضی پر منحصر ہے۔کہ،، یہ ۲ قدم اُٹھانے کی ہمت اپنے اندر پیدا کرسکتے ہُو۔یا ساری زندگی مٹی کی محبت میں خواہشات نفس کی غلامی کی زنجیروں کیساتھ خُود کو مٹی کے ڈھیر میں گُم کرنا چاہتے ہُو۔۔۔؟اِنہی جملوں کیساتھ کہیں دُور سے عصر کی آذان سُنائی دینے لگی۔اُور بابا صابر نماز کی تیاری کرنے لگے۔ 

اب مزید پڑھ لیجئے۔

بُوجھل قدموں کیساتھ باغ سے شہر کی جانب چلتے ہُوئے عمران کے ذہن میں صابر پاک  کا جملہ کہ،، اب عمران بیٹا یہ تمہاری مرضی پر منحصر ہے۔کہ،، تُم  یہ ۲ قدم اُٹھانے کی ہمت اپنے اندر پیدا کرسکتے ہُو۔یا ساری زندگی مٹی کی محبت میں خواہشات نفس کی غلامی کی زنجیروں کیساتھ خُود کو مٹی کے ڈھیر میں گُم کرنا چاہتے ہُو۔۔۔؟ دِل کے ایک گوشے سے صدا بلند ہُورہی تھی۔کہ،، بابا صابر بالکل ٹھیک ہی تو کہتے ہیں،، دُنیا میں موجود ہر شئے کا وجود مٹی سے ہی تو اُبھرتا ہے۔ تو کیوں صرف مٹی کے ڈھیر کیلئے اپنے باطن کے موتی کو  کیچڑ سے گدلا جائے۔ جبکہ ذہن عمران کو مشورہ دے رہا تھا۔کہ،، عمران میاں ہر ایک کو اتنی آسانی سے پری کی چاہت مُیسر نہیں آتی۔تُم خوش نصیب ہُو۔جِسے گھر بیٹھے یہ نعمت حاصل ہُوگئی۔ورنہ لُوگ تو ایسی نعمت کے حصول کیلئے اپنی ساری زندگی جنگل بیابانوں کی نذر کرنے سے بھی نہیں چُوکتی۔پھر دِل کی گہرائی سے نصیحت کی جاتی! عمران میاں دِماغ کی مت سُنو! ایسی لاکھ پریاں اُور کائنات کی تمام نعمتیں مِل کر بھی جلوہ طُور کی جھلک کے کروڑویں حصے کا مقابلہ نہیں کرسکتیں۔

عمران دِل و دِماغ کی اِس کشمش کے درمیان فیصلہ کرنے سے قاصر تھا۔ بات دِل کی بھی پُراَثر تھی۔جبکہ دلیل ذہن کی بھی مناسب تھی۔۔۔۔عمران نے دونوں ہاتھوں سے سر پکڑ کر  چلتے چلتے دیونواں کی طرح بُڑبڑانا شروع کردیا۔۔۔۔یا خُدا میں کس کی سُنوں! اُور کس کی بات مانوں؟۔ دِل کی بات مانتا ہُوں۔تو اسکا مطلب صاف ہے کہ،، کوثر سے ہمیشہ کیلئےکنارہ کش ہُوجاوٗں۔اُور اگر ذہن کی مانتا ہُوں۔تو واقعی مٹی کے ڈھیر میں کہیں ہمیشہ کیلئے نہ کھوجاوٗں؟آبادی شروع ہُونے لگی تھی۔ اُور ایک بنجا رہ چائے کے ڈھابے پر درد بھری آواز میں عارفانہ کلام  اپنی میدانی آواز میں گُنگنارہا تھا۔اُس بنجارے کی آواز میں بلا کا سوز و گداز تھا۔جسکے سحر نے عمران کے بڑھتے قدم تھام لئے تھے۔جبکہ بنجارہ گرد و پیش سے بے نیاز گائے چلا جارہا تھا۔

اے تن رَب سچے دا حجرہ، دِل کھڑیاں باغِ بہاراں ھو۔۔۔۔۔۔
وِچِ کوزے وِچِ مصلے، وِچ سجدے دیاں تھاراں ھو۔۔۔۔۔۔۔
وِچِ قبلہ وِچِ کعبہ، وِچ اِلااللہ پُکاراں ھو۔۔۔۔۔۔۔
کامل مُرشد ملیا جنہاں نوں اُوہ آپے لیساںساراں ھو۔۔۔۔۔

اندر ہُو' تے باہر ہُو دَم ہُو دے نال جلیندا  ھُو۔۔۔۔
ہُو دا داغ محبت والا ہر دَم پیا سڑیندا  ھُو۔۔۔۔۔۔
جِتھے ہُو کرے رُشنائی چھوڑ اندھیرا ویندا  ھُو۔۔۔۔
دوہیں جہاں غُلام اُس دے جیہڑا ہُونوں صحیح کریندا ۔ھُو۔۔۔۔

ایمان سلامت ہر کوئی مَنگے،عشق سلامت کوئی ھُو۔۔۔۔۔
ایمان منگن شرماون عِشقوں دل نوں غیرت ہوئی  ھُو۔۔۔۔۔
عِشق پُجاوے جِس منزل ایمانے خبر نہ کوئی  ھُو۔۔۔۔۔
عِشق سلامت رکھیں بَاہُو ایمانوں دیاں دھروہی  ھُو۔۔۔۔۔

ایہہ تَن رب سچے دا حجرہ پا فقیرا جَھاتی ھُو۔۔۔۔۔
نہ کر مِنت خواج خضر دی اندر آب حَیاتی ھُو۔۔۔۔۔
شوق دا دِیوا بال اَنھیرے لبھی وَست کھڑاتی ھُو۔۔۔۔۔
مرن تھیں اَگے مر رہے باہُو جنہاں رَمز پچھاتی ھُو۔۔۔۔۔

الف اللہ چنبے دی بُوٹی میرے من وچ مُرشد لائی ھو۔۔۔
نفی اثبات دا پانی ملیا۔ ہوئی ہر رگیں ہرجائی ھو۔۔۔۔
اندر بُوٹی مشک مچایا جان پُھلاں تے آئی ھو۔۔۔۔
جیوے مُرشد کامل باھو جیں اے بُوٹی لائی ھو۔۔۔

کلام باھو سُنتے ہُوئےعمران کے آبگینوں سے ساون کی پہلی بارش کی طرح موتی  بہہ بہہ کر رُخساروں کو بِھگورہے تھے۔  جبکہ تاثیر کلام نے من میں سُوئی ہُوئی عشق کی چنگاریوں کو رُوشن کردیا تھا۔عمران جو ہمیشہ پنجابی زُبان  کو ،،بُہت مشکل زُبان،، کے خطاب سے نوازتا چلا آیا تھا۔آج عشق کی إسی روشنی میں کلام باہو کے ہر مصرعے سے یُوں روشناس ہُورہا تھا۔ جیسے اُسکی ساری زندگی   پنجابی عارفانہ کلام کا  فہم و اِدراک حاصل کرنے میں گُزری ہُو۔اُور یہ کلامِ باھو کا  ہی فیض تھا۔جس نے اُس کی ذہنی الجھن کے تمام تار سلجھا دیئے تھے۔

 عمران بھیگی آنکھوں  سے   اِس فیضانِ کے تشکر کے اظہار کیلئے دربارِ باھو میں حاضری کی بیقراری  کو اپنے من میں  صاف محسوس کررہا تھا۔جو لمحہ بہ لمحہ بڑھتی ہی چلی جارہی تھی۔۔۔۔۔۔گھر پُہنچنے کے بعد بھی عمران کی بیقراری کو چین نہیں آیا تھا۔ بنجارے کی آواز ابھی تک عمران کے کانوں میں گونج رہی تھی۔۔۔۔ یا الہی یہ کیا ماجرا ہے؟ میرے ساتھ ایسا پہلے تو کبھی نہیں ہُوا۔کہ،، کوئی نغمہ یُوں میرے حواس پر غالب آجائے۔جیسے وُہ میری نس نس میں خُون کی طرح رچ بس گیا ہُو۔ انہی خیالوں میں نجانے کب عمران کی آنکھ جھپکی تو  سحر کی  ہی خبر لائی۔

اگلے چند دِن  عمران کے اتنی مصروفیت و پریشانی میں پڑوسی شہر میں اسطرح گُزرے کہ،، نہ اُسے صابر پاک کی یاد  ہی آئی۔ اُور نہ ہی کوثر کا کوئی خیال   اُسکے دِل میں گُزرا۔۔۔پھر ایک صبح نماز فجر پڑھ کرعمران جب صابر پاک سے ملنے باغ پُہنچا تو اُسے یہ رُوح فرسا خبر سُننے کو ملی کہ صابر پاک کا وصال تین دن پہلے ہُوچکا ہے۔اور آپکی تدفین آپکے حکم کے مطابق شہر کے وسطی قبرستان میں کی جاچُکی ہے۔صابر پاک کے پردہ فرمانے کی خبر نے عمران پر ایسی بجلی گرائی۔کہ،، اُسے اپنی سانس تھمتی دکھائی دینے لگی اُور عمران اپنا سر پکڑے  زمین پر بیٹھ کر اسطرح رُونے لگا۔جیسے کسی چھوٹے بچے کے سر سے اچانک اُس کے باپ کا سایہ اُٹھ گیا ہُو۔


جاری ہے۔۔۔

۲۸ اقساط کو صرف (۲)اقساط میں سمیٹ  کر  اختتام پذیر کرنے سے  اس کہانی  کے کئی پہلو تشنہ رِہ جانے کا خطرہ پیدا ہُوگیا تھا۔ اِس لئے قسط ۳۰ آخری قسط کے طور پر پیش نہیں کرسکا۔ لیکن انشا اللہ حسب وعدہ رمضان سے قبل  یہ کہانی اختتام پذیر ہُوجائے گی۔انشااللہ۔

پلکوں سے دَر یار پر دستک دینا
اُونچی آواز ہُوئی عُمر کا سرمایہ گیا