bing

Your SEO optimized title page contents

Pages

Hamara Tube Channel

Monday, 1 February 2016

Futuh al Ghaib with Sharah (Audio)


 راہِ تصوف میں بلاشبہ ہزاروں مُشاق شناور ءِ بحر عشق گزرے ہیں بیشمار شہسوار گزرے ہیں. جنہوں کی تصنیفات نے اہل علم کو حیران کردیا. لیکن جس طرح اُولیائے کرام کی جماعت پر حضور سیدنا غوث الاعظم عبدالقادر جیلانی رضی اللہ عنہ کا ہی سکہ چلتا ہے. بلا مبالغہ فتوح الغیب شریف کو کتب تصوف کا امام کہہ سکتے ہیں. کہ,, یہ تنہا کتاب مبتدی و اہل کمال اور  عشاق خداوند کیلئے کافی و شافی ہے.. 

کیونکہ یہ کتاب ولایت کی صرف سیر ہی نہیں کرواتی بلکہ دید و وصال کی معراج تک پہنچانے والی ہے. اِس کتاب کو پڑھ کر سمجھنا یا سُن کر عمل پیرا ہونے والوں پر خُدا کی رحمت ایسے برستی ہے. کہ پھر کوئی تشنگی باقی نہیں رِہ جاتی.


Maqala 1-2 - مومن کی تین نشانیاں
Download

Maqala 3 - ابتلاء
Download

Maqala 4 - معنوی موت
Download

Maqala 5-6 - دُنیا کا حال اور اس سے عدم التفات کی ترغیب، مخلوق فنا
Download

Maqala 7 - دلی غم سے نجات
Download

Maqala 8 - تقربِ الہٰی
Download

Maqalat 9-10 - کشف و مشاہدہ، نفس اور اس کے احوال
Download

Maqala 11-12-13 - خواہشات کیا ہیں؟، حُبِ مال سے ممانعت، احکام خداوندی کی تعمیل
Download

Maqala 14-15-16 - واصلین کے احوال کی اتباع، خوف ورجاء، توکل کی حقیقت اور اس کے مقامات
Download

Maqala 17-18 - مُرشد کے زریعے خدا تعالیٰ تک رسائی، شکوہ کرنے کی ممانعت
Download

Maqala 19-20 - ایفائے عہد کی تاکید، شکوک و شہات میں نہ پڑو
Download

Maqala 21-22 - ابلیس سے مکالمہ، ابتلاء مومن بقدر ایمان
Download

Maqala 23 - اپنی قسمت پر رضا
Download

Maqala 24-25 - خدا کی چوکھٹ پر ملازمت، شجرِ ایمان
Download

Maqala 26 - احوال کو پوشیدہ رکھو
Download

Maqala 27 - خیرو شر ایک ہی درخت کے دو ثمر ہیں
Download

Maqala 28-29 - احوالِ مرید کی تفصیل، فقر کُفر کے قریب کر دیتا ہے۔
Download

Maqala 30 - عمل اور ترکِ حیلہ
Download

Maqala 31-32 - محبت و بُغض صرف خدا کے لئے ہو، خدا کی محبت میں کسی کو شریک نہ کرو
Download

Maqala 33 - لوگوں کی قسمیں
Download

Maqala 34 - فعلِ خداونی پر ناراض نہ ہو
Download

Maqala 35-36 - زہد و ورع، دین راس المال ہے اور دُنیا اس کا نفع
Download

Maqala 37-38-39-40 - حسد کی مزمت، صدق و نصیحت، وفاق شقاق نفاق، روحانی لوگوں میں داخلے کا طریقہ
Download

Maqala 41-42-43 - غناء اور اس کی کیفیت، جفس کی دو حالتیں، غیر اللہ سے سوال کی مزمت
Download

Maqala 44-45 - اہل معرفت کی دُعائیں کیوں قبول نہیں ہوتیں، نعمت و ابتلاء
Download

Maqala 46-47 - حدیث قدسی سے ذکروشغل کی فضیلت، تقرب الی اللہ
Download

Maqala 48-49 - مومن کے لائق اعمال، نیند کی برائیلہ
Download

Maqala 50-51 - بُعد دُور کرنے کا طریقہ، زہد ی حقیقت
Download

Maqala 52 - ابتلاء مومن
Download

Maqala 53 - رضائے الیٰ کی طلب
Download

Maqala 54-55-56 - خدا تک رسائی کیسے حاصل ہو، نفسی لزات سے کنارہ کشی، مخلوق سے فنائیت
Download

Maqala 57 - تقدیر سے عدم منازعت
Download

Maqala 58 - ہر جہت سے نظریں پھیر لو
Download

Maqala 59 - نعمتوں پر شُکر اور بلاوٗں پر صبر اختیار کرو
Download

Maqala 60 - ابتداء و انتہا
Download

Maqala 61 - ہر شئے پر توقف
Download

Maqala 62-63-64 - محبت و محبوب، معرفت کی ایک قسم، وہ موت جس میں زندگی نہیں
Download

Maqala 65 - دُعا کی تاخیر قبولیت خدا کی ناراضگی کو مستلزم نہیں
Download

Maqala 66 - دُعا کرنے کا حُکم اور دُعا چھوڑنے سے ممانعت
Download

Maqala 67 - نفس سے جہاد اور اس کی تفصیل
Download

Maqala 68 - خدا تعالیٰ ہر آن نئی شان
Download

Maqala 69 - خدا سے مغفرت طلب کرو
Download

Maqala 70 - شُکر اور اعتراف قصور
Download

Maqala 71 - مُرید و مُراد
Download

Maqala 72 - بازار میں جانے والوں کے احوال
Download

Maqala 73 - اولیاء کرام قسمیں
Download

Maqala 74-75 - عقل سے وحدانیت کو ثبوت، تصوف کا بنع ومخزن
Download

Maqala 76 - وصیت غوث اعظم رضی اللہ تعالی عنہ
Download

Maqala 77 - وقوف مع اللہ
Download

Maqala 78 - سالکینِ راہ خدا کی دس خصلتیں
Download

Maqala 79-80 - مرضِ وصال اور وصایا ، دوسروں کو مجھ پر قیاس نہ کرو، خاتمہ
Download

Saturday, 16 January 2016

میرے سرکار کی آنکھیں



Meray Sarkar ki Aankhein
Download


مازاغ البصر, میرے سرور تیری آنکھیں
اُمت پہ نگہبان ہیں رَہبر تیری آنکھیں

مَستور, یہی راز ہے آیت اَلم تَرا
بااِذن مشاہد ہیں زماں پر تیری آنکھیں


اللہ وہ خلیل و ذبیح ,تیغ وُہ منظر
تھے رُوبرُو وہ پسر و پدر بَر تیری آنکھیں

تیری عطا سے قلب میں رُویت ہوئی مُمکن
دیکھیں خُدا کو اللہُ اکبر تیری آنکھیں

سُو جَمل تھے نثار وُہ تیرے ہی نام پر
مجھ سے کروڑ لاکھ نحر بر تیری آنکھیں

اِک آنکھ ہماری ہے جو غافل رہی مگر
ہیں واسطے اُمت کی گوہر تر تیری آنکھیں

جُھک جائیں تو غروب جو اُٹھ جائیں تو طُلوع
شمس و قمر ہیں محوئے منور تیری آنکھیں

بے خبر نہیں تجھ سے بھی گستاخ  بے خبر
اِن پہ فقط نہ اُن پہ ہے سب پر تیری آنکھیں

دیکھا جو ساقیہ تجھے معراج کی گھڑی
تکتی ہیں سلسبیل وُہ کوثر تیری آنکھیں

اُنکی نگاہ میں وارثی عشرت بنی رہے.
ٹھنڈا کلیجہ دل رہے, بہتر تیری آنکھیں

Friday, 15 January 2016

میرے سرکار کا دہن




یہ ارض و سما کیا جِناں ہے دہن سے
جِناں کیا یہ ہر دُو جہاں ہے دہن سے.

فصاحت کا چشمہ رَواں ہے دہن سے.
بلاغت کا دریا عیاں ہے دہن سے

مِلی ہے جو پرواز انکا کرم ہے.
کہ ہر سانس مدحِ زُباں ہے دہن سے

لجاتے ہیں گُل بھی جسے دیکھتے ہی
کہ حُسنِ چمن کا نشاں ہے دہن سے

پلٹتا ہے سورج , قمر چِر کے دو ہو
سُنے جب ذرا سی اذاں ہے دہن سے

جو تشنہ تھا خُود تِشنگی کیا مِٹاتا
ہُوا قَند شُوراں کُنواں  ہے دہن سے

سحر ٹوٹ جائے, وہ زُنّار چُھوٹیں،
وہ شیریں سُخن کا بیاں ہے دہن سے

جو لِکھوایا مجھ سے وہ مقبول کرنا
یا , مُولانا حضرت , سماں ہے دَہن سے

نہیں پِسرِ عباس کی مِثل کوئی .
یہ تفسیر و حکمت لِساں ہے دہن سے

کہاں تیری مِدحت کہاں مجھ سا منگتا
کہ ممکن ثنا حق کہاں ہے دہن سے

بچا ہے جو پانی وُہ مُشکِ خُتن ہے
کہ ہر ایک خُوشبو کی جاں ہے دہن سے

یہ لفظوں کی بارش عطا ہے اُنہی کی
خیال و فکر بھی کماں ہے دہن سے

کیا حسان و رُومی کیا جامی و سعدی
ہر اِک انکا رطب اللسَّاں ہے دہن سے

پئے چار یاروں کے وارثی عشرت
عطا وہ چبایا جو ناں ہے دہن سے

14 January 2015

منا فقت




صورت چنگی،من وچ تنگی,     کی کرنا صورت موہنی دا .....
مٹھی بولی،لفظ نبولی ، کی کرنا گلاں سوھنی دا.... 

وارثی عشرت لوکی جہیڑےآندے نظر مسکین بڑے، 
دل وچ رکھ دے ، بہت پلیدی،رولا پاندے پاکی دا..   

وارثی عشرت لوکی جیہڑے آندے نظراُنج ھوندے نئی,
گلاں کردے صبر شکر دیاں تے رونا روندے ھونی دا


Thursday, 14 January 2016

Fatuhl Ghaib Makala # 1 to 16




Fatuhl Ghaib Part 1 , Makalma # 1-2


Fatuhl Ghaib Part 2 , Makalma # 3



Fatuhl Ghaib Part 3 , Makalma # 4



Fatuhl Ghaib Part 4 , Makalma # 5-6


Fatuhl Ghaib Part 5 , Makalma # 7



Fatuhl Ghaib Part 6 , Makalma # 8





Fatuhl Ghaib Part 7 , Makalma # 9-10




Fatuhl Ghaib Part 8 , Makalma # 11-12-13





Fatuhl Ghaib Part 9 , Makalma # 14-15-16





Tuesday, 12 January 2016

کھٹا میٹھا عشق





سب کُج اِتہوں مل جاندا اے۔ کیوں وَل ہُور میں آواں؟
کھایا جس دا عُمر میں ساری گیت اُسی دے گاواں۔

سوھنے سراج دا نقشہ ہر دَم دل دا پہرہ دیوے۔
کیوں نہ ایسے مُرشد توں میں واری صدقے جاواں۔

جے تُوں رُوٹھے , تینوں ماہی میں کیویں مناواں۔
باجھوں تیرے حال میں دل دَا کِس نُوں جا سُناواں۔

عشق دی امبڑی کھٹی میٹھی جلوے نال شہد دے۔
ہر دَم تیرے ذِکر تُوں مُرشد سانواں نُوں مہکاواں۔

وارثی عشرت جمدے ناہیں دُودھ بِنا مُرشد دے۔
شُکر خدا دا کرئیے ہَر دَم دِتیاں ٹھنڈیاں چھاواں۔

عشرت اقبال وارثی




میرے سرکار کا پسینہ




Meray Sarkar ka Paseena
Download

وجود عطر میں خوشبو تیرے پسینے سے.
جو مہکی گُل میں ہے وُہ بُو تیرے پسینے سے.

جلے وہ آگ میں دَستر کہاں سے وُہ بِستر
جو یاوری سے گیا چُھو تیرے پسینے سے

مِلی ہے چھینٹ جِسے وُہ ہُوا زمانے میں.
رضا و رُومی کا پَرتو تیرےپسینے سے.

تیرے ہی ذکر سے ہر بزم بزم مہکائیں.
یہ اہلبیت سُو بہ سُو تیرے پسینے سے

یہ سیدہ ہیں طاہرہ ہیں  طیبہ زہرا
ملی ہے انکو سبھی ضُو تیرے پسینے سے

تھا کون اُنکی مثل پوچھیئے صحابہ سے.
جنہیں ہے عشق تیرے مُؤ تیرے پسینے سے
وَہی کریم تھے اخلاق کربلا میں عیاں 

وَہی مہک تھی چار سُو تیرے پسینے سے.
وُہ بُوتُراب کا مٹی سے چمٹ کر رہنا
وُہ لمسِ پا وُہ جستجو تیرے پسینے سے

جُدا کرے جو ابوبکر و عُمر عثماں کو
نہ پائے کچھ بھی وُہ عُدو تیرے پسینے سے

سراج و وَارث و غوث الورای کا صدقہ دو.
ملے پئے میرے باھو تیرے پسینے سے

تمہاری چشم کے فیضان سے ہے رنگِ چمن
چہار سُو میں کو بہ کُو تیرے پسینے سے

لحد میں وارثی عشرت بھی جھوم جائے گا
ملے کفن کیلئے جو تیرے پسنے سے


Monday, 11 January 2016

میرے سرکار کی زلفیں





اللہ اللہ کیا معطر ہیں تمہاری زلفیں
نکہتء شب کا سمندر ہیں تمہاری زلفیں

غلاف کعبہ نے لہرا کہ جنہیں چوم لیا
سیاہ وہ دلکش و دلبر ہیں تمہاری زلفیں

جہاں پہ طائر قدسی کے قدم جل جائیں
محوے پرواز وہاں پر ہیں تمہاری زُلفیں

کیا استعارے ہیں اچھے , یہ نجم اور قمر
کہ لیل و نجم کا محور ہیں تمہاری زُلفیں

نکلنا چاند کا شرماتے ہوئے بادل سے
مچلنا مثل جبیں پر ہیں تمہاری زلفیں

کتنا محمود کیا نام تک پکارا نہیں
یادِ والیل میں عنبر ہیں تمہاری زُلفیں


فقط سبب تھا یہی خالد کی فتوحاتوں کا

کہ تاج مَلک کے اندر ہیں تمہاری زلفیں

عشرت وارثی فیضان ہے یہ مُولائے رُوم
مثلٍ قرطاس پہ گوہر ہیں تمہاری زُلفیں

میرے سرکار کی بینی



الف کا راز عیاں بےظِہار بینی سے
نگاہِ شوق نے پایا قرار بینی سے

قمر گدائے ضیاء بار بار بینی سے
صبحِ کا نور تیری آشکار بینی سے

کّمِثلِ شمس و قمر کیسے استعارے بیاں؟
کوئی مثال نہیں طرحدار بینی سے

سقیم حال ہوں سرکار کرم فرمائیں
ملے طفیلِ عطا وضعدار بینی سے

میرے نصیب بھی ستواں ہو سرور عالم
نیاز و ناز ملے آبشارِ بینی سے

کرم کریماں ہو احباب پر میرے ذیادہ
اُنہیں بھی بھیک ملے رازدار بینی سے

میری نسل سے نہیں کوئی بے ادب گزرے
پئے حُسین و حَسن تاجدار بینی سے

کیا حور و غلماں, عرش اور فرش کا حصہ
ہے فیضیاب خلق حصہ دار بینی سے

کیا اب بھی کوئ گلہ وارثی عشرت باقی
رواں ہے قلم و سخن شاہکار بینی سے

Tuesday, 11 August 2015

عامل کامل ابو شامل (حوالگی) قسط 55.akas




بیٹا!!! اب پہریدار تلاش کرنے کا وقت آن پُہنچا ہے۔ کیوں کہ خزانے کا چرچا بُہت ذیادہ ہُوگیا۔ بچانے والوں نے اگرچہ خوب ساتھ نبھایا۔۔۔لیکن اب وقت آگیا ہے۔کہ،، اپنا ہاتھ کسی کے ہاتھ میں دے کر باقی کی سیڑھیاں بےفکری سے طے کرتے جاوٗ۔ کیونکر دھیان اگر سیڑھی پر ہُو۔تو اکثر کندھے پر موجود بار سلامت نہیں رہتا۔ اُور توجہ اگر بار پر رہے تو سیڑھی سے پاوٗں رپٹ جانے کا خطرہ موجود رہتا ہے۔ اِسلئے مسافت طے کرنے کیلئےکسی مشاق کوہ پیماکی ضرورت ضرور رہتی ہے۔ جو دشمن کو خوب پہچانتا ہُو۔ قذاق جس کی بہادری سے خوف کھاتے ہوں۔ جو پھسلن میں بھی قدم جماکر  ناصرف خود چل سکے بلکہ ہمسفر کو بھی نہ پھسلنے دے۔۔۔ جسے سمندر کی لہروں کے ارادوں کی خبر ہُو۔ جسے طغیانی اور طوفانوں سے لڑنے میں مزہ آتا ہو۔ جو تعداد کے بجائے جمعیت اور قوت یقین کا علم جانتا ہُوں۔


جو نہ صرف ٹھگوں کو پہچاننے والا ہُو۔ بلکہ قدم قدم پر اُنہیں مات دینے والا ہُو۔ ایسا ہی کوئی جانباز تمہیں آگے کی جانب کا رستہ دِکھا سکتا۔ تماش بین اور تماشہ گر ایسے رستے پر ہرگز نہیں چلتے جہاں جان کو خطرہ ہُو۔ بلکہ وُہ تو صرف نگاہوں کے جھپکنے پر یقین رکھتے ہیں۔ یہاں نگاہ جھپکی۔ وہاں شعبدہ تیار۔۔۔۔ میں ایک ایسے جانباز کو جانتا ہُوں۔ جسے باز پالنے کا بیحد شوق ہے۔

 اُور جو عقاب اُسکی تربیت کی بھٹی سے ایکبار گُزر جاتا ہے۔ اُسے کوئی سنار ناقص نہیں کہتا۔ اب فیصلہ تمہارے ہاتھ ہے۔ چاہو تو لڑجاوٗ۔ اور ہمیشہ کیلئے امر ہُوجاوٗ۔ وگرنہ کرگ کی جھپٹ کا انتظار کرو۔وہ گوشت کی تھیلی کو ذیادہ دیر تمہارے ہاتھ میں رہنے نہیں دےگی۔ بوڑھے شخص نے گفتگو رُوک کر کامل کے چہرے پر نظریں جمادیں۔۔۔۔۔۔۔مجھے منظور ہے! کامل نے پہلی مرتبہ لب کشائی کرتے ہُوئے اپنی رضامندی ظاہر کی۔میں خود بھی سیاحت کرتے کرتے اِس سیلانی زندگی سے اُکتا کربےحد تھک چُکا ہُوں ۔اُور اب یہی چاہتا ہُوں۔کہ،، باقی کا سفر بھول بھلیوں کے بجائے مقصد کی راہ پر سکون سے گُزار سکوں۔۔۔۔  سکون؟؟؟؟ بوڑھے شخص نے لفظ سکون سُن کر اتنا زوردار قہقہ لگایا۔جیسے کامل نے کوئی لطیفہ سُنادیا ہُو۔


اب  مزید پڑھ لیجئے۔

کیاہُوا بابا۔آپ ہنس کیوں رہے ہیں۔۔۔؟؟؟ بوڑھے شخص نے سنجیدگی سے کامل کے چہرے کو بغور دیکھا۔ جیسے اندازہ لگانے کی کوشش کررہا ہُو۔کہ،، کیا واقعی کامل اُسکی بات نہیں سمجھا ہے۔ یا یُونہی انجان بننے کی کوشش کررہا ہے۔۔۔ کچھ نہیں بیٹا! بس مجھے لفظ سکون پر ہنسی آگئی تھی۔ کیوں کہ عشق کی راہ میں سکون نام کی کوئی شئے نہیں ہُوتی۔ سکون تو  جمود کا دوسرا نام ہے۔ اور عرف میں جمود موت کو کہتے ہیں نا؟ اور جو مرجاتے ہیں۔وُہ بھلا عشق کی پرواز کا مزاہ کیا جانیں۔۔۔  البتہ جو موت سے پہلے مرجاتے ہیں۔ وہ ہمیشہ کیلئے اَمر ہُوجاتے ہیں ۔کامل علی ہونقوں کی طرح بوڑھے شخص کو دیکھ کر اثبات میں یُوں سر ہلانے لگا۔جیسے وُہ تمام باتوں کا مطلب اچھی طرح سے سمجھ گیا ہُو۔ حالانکہ اُسے ککھ سمجھ نہیں آئی تھی۔ اُس کے لئے تو یہ بات ہی بہت خُوش آئند تھی۔کہ،، وُہ کسی کامل رہنما سے مُلاقات کا شرف حاصل کرنے والا تھا۔ جو اسے زندگی کے اسرار سے واقف کردے۔۔۔

بوڑھا شخص اب خاموشی سے گاڑی میں بیٹھا کامل کی رہنمائی کررہا تھا۔۔۔ تھوڑی ہی دیر میں کار ملیر قبرستان کی جانب بڑھ رہی تھی۔ راستے میں ریلوے پھاٹک کے قریب سے گُزرتے ہُوئے بوڑھے شخص نے کامل کو  گھنی جھاڑیوں کے نذدیک گاڑی روکنے کا اشارہ کیا۔۔ گاڑی رُکتے ہی بوڑھا شخص چند خورد نما جھاڑیوں سے چند پھول توڑ کر پھر کار میں سوار ہُوگیا۔ اور گاڑی آگے کی جانب بڑھانے کا اِشارہ کرتے ہُوئے ایکبار پھر نیم دراز ہُوگیا۔


تھوڑی دیر بعد جب کار سنسان علاقے کے ایک تنہامکان کے سامنے سے گُزرنے لگی تو بوڑھے شخص نے منزل آجانے کا اعلان کرتے ہُوئے کامل کو حُکم دیا کہ گاڑی دیورا کے سائے میں پارک کردو۔ کامل گاڑی کو دیوار کے سائے میں کھڑی کرنے میں مصروف تھا۔جبکہ بوڑھا شخص مکان کی شمالی دیوار کیساتھ موجود چند کچی قبروں پر وُہ پھول جو راستے میں جھاڑیوں سے حاصل کئے تھے۔ بڑی عقیدت سے نچھاور کررہا تھا۔ کامل علی بھی خاموشی سے بوڑھے شخص کے قریب پُہنچ کر فاتحہ پڑھنے میں مشغول ہُوگیا۔ فاتحہ سے فارغ ہُوکر بوڑھے شخص نے کامل کو ایک قبر کی جانب اشارہ کرتے ہُوئے بتایا کہ، یہ میری والدہ منہاج بی بی کی تربت ہے۔اور دوسری قبر میرے مُرشد کریم اور والد صاحب، سید میاں میر شاہ، (رحمتہ اللہ علیہ)کی ہے۔ ۔۔۔ فاتحہ سے فارغ ہُونے کے بعد بوڑھا شخص اُس مکان کے اکلوتے دروازے کی جانب بڑھنے لگا۔ کامل بھی آہستہ روی سے دروازے کے سامنے پُہنچ گیا۔ مکان کا دروازہ کھلا ہُوا تھا۔

 جسکی وجہ سے تمام مکان کا اندرونی منظر صاف نظر آرہا تھا۔ یہ کوئی غالباً دو سو گز کا پلاٹ ہُوگا۔ جسکے ایک جانب ۲ کمرے دکھائی دے رہے تھے۔ جبکہ ایک حصہ بڑے درائینگ رُوم کی مانند تھا۔ لیکن اِسے ڈرائینگ رُوم سے ذیادہ آستانہ کہنا مناسب ہُوگا۔ کیونکہ یہاں دریاں صفوں کی صورت فرش پر موجود تھیں۔ جس پر کوئی دراز گیسو بُزرگ انتہائی سفید لباس و عمامہ زیب تن کئے بڑی عاجزی کیساتھ  تشریف فرما تسبیح میں مصروف تھے۔




بوڑھے شخص نے آہستگی سے لکڑی کے دروازے پر تین مرتبہ دستک دی۔اور پھر آستانے جیسی جگہ کی جانب بڑھنے لگا۔ دستک کی آواز سُن کر اُن بزرگ نے تسبیح پڑھتے ہوئے گردن گھما کر دروازے کی جانب دیکھا۔ اُور جونہی اُن بزرگ کی نگاہیں بوڑھے شخص کے چہرے سے ٹکرائیں۔اُن کے چہرے پر مسرت کے جذبات اُمنڈ آئے۔ اُور انہوں نے فوراً اپنی جگہ سے کھڑے ہُوتے ہُوئے والہانہ انداز میں صدا لگائی۔آہا! آج برادر ،، سید محمد میر،، آستانے تشریف لائے ہیں۔۔۔ کامل نے جب اُن بزرگ کے چہرے کی جانب دیکھا۔ تو اسے بھی ایک خوشگوار حیرت کا سامنا کرنا پڑا۔ کیونکہ سید محمد میر،، اور وُہ بزرگ نہ صرف ایک دوسرے کے ہمشکل تھے۔ بلکہ اُن کے قدوقامت میں بھی ذرہ برابر فرق نہیں تھا۔ ۔۔


بس اگر کوئی فرق تھا تو صرف اتنا کہ،، میاں محمد میر کا حلیہ ایک ایسے مسافر سے مشابہ تھا۔ جو مدت سے  زندگی کےاسفارمیں رات و دن بسرکررہا ہو۔ اور مسلسل اسفار کی مشقتوں نے اُس کے رنگ و رُوپ کو گہنا کر رکھ دیا ہُو۔ لباس کو پیوند زدہ ،اور بالوں کو گرد آلود کرڈالا ہُو۔ دونوں بزرگ کافی دیر تک ایک دوسرے سے بغلگیر رہے۔اچانک اُن بزرگ کی نگاہ کامل علی پر پڑی تو انہوں نے دریافت کیا۔۔ بردار ،، سید محمد میر،، یہ نوجوان آپ کے ساتھ ہیں۔؟ جی برادر گرامی ۔ یہ کامل علی ہے۔ ۔۔ایک عقاب کا بچہ جو اپنے نشیمن سے بچھڑ کر ،کرگسوں کے ہاتھ لگ گیا تھا۔ میں اِسے آپ کی خدمت میں لیکر حاضر ہُوا ہُوں۔تاکہ آپ اسکی نگہبانی کریں۔اور اسے بلند پرواز سے آگاہی دیں۔۔۔۔ اور کامل میاں یہ میرے بڑے بھائی ہیں ،، سید احمد میر،، دامت برکاتہم عالیہ۔جو میرے بھائی ہونے کیساتھ میرے مرشد کے خلیفہ بھی ہیں۔آگے بڑھو۔ اُور انکی دست بوسی کی سعادت حاصل کرو۔

کامل علی نے آگے بڑھ کر میاں سید احمد میر کے ہاتھوں کو بوسہ دیا۔تو کامل کو ایسے محسوس ہُوا۔جیسے وُہ ہاتھوں کے بجائے لطیف بادلوں کو چھونےکی کوشش کررہا ہُو۔ سید احمدمیر،، نے شفقت سے کامل علی کے سر پہ ہاتھ پھیر کر اُسے اپنے قریب بیٹھنے کا اشارہ کرتے ہوئے۔ سید محمد میر کو مخاطب کیا!برادر عقاب تو واقعی بہت عمدہ  نسل سےہے۔بس اپنی پرواز سے ناآشنا ہے۔آپ خود کیوں اسکی تربیت نہیں فرماتے؟؟؟۔

میاں صاحب آپ تو جانتے ہیں۔ کہ،، میں ٹہرا ایک سیلانی انسان آج یہاں ہوں تو کل کی کچھ خبر نہیں کہ،، کہاں جانا پڑے۔ اُور تربیت کیلئے اضطرار کیساتھ انہماک کی بھی اشد ضرورت پڑتی ہے۔اسلئے برائے مہربانی اِسے قبول فرمائیں۔ اور اپنی خاص نگاہ سے اسے  اپنے فیض کی بھٹی سے گُزار کر کندن فرمادیں۔ سید احمد میر کے استفسار پر سید محمد میر نے اپنی مجبوری بتاتے ہوئے عرض کیا۔

برادر گرامی آپ خوب جانتے ہیں۔کہ،، میں آپ کی کوئی خاہش کبھی رَد کر ہی نہیں سکتا۔ کیونکہ مجھے بابا جان کی یہ نصیحت آج بھی یاد ہے۔ کہ،، بابا  جان نے فرمایا تھا۔ کہ،،احمد میر کی بقا محمد میر کی قربانیوں کی وجہ سے ہے۔ اِس لئے کوشش کرنا کبھی سیدمحمد میر آپکی کسی بات سے دلبرداشتہ نہ ہُو۔۔۔ برادر گرامی ! یہ تو بابا جان کی شفقت اور آپکی مہربانی ہے۔ جو آپ اِس طرح سُوچتے ہیں۔ ورنہ حقیقت یہی ہے۔ کہ آپکو جو بھی مقام عطا کیا گیا ہے۔ وُہ  اللہ کریم کا خاص فضل، آپکی استقامت اور بابا جان کی فیضان نگاہ کے سبب سے ہے۔چونکہ میری طبیعت میں سیلانی عنصر کی فروانی ہے۔ اسلئے میں نے بابا جان سے عرض کیا تھا۔کہ،، مسند و خلافت بڑے بھائی کو عطا فرمادیں۔کیونکہ میں  خود کو اِس ذمہ داری کا اہل نہیں پاتا۔اسمیں بھلا قربانی کی کیا  بات ہے۔۔۔ اچھا بہرحال آپ کامل علی کو قبول فرماکر مجھے اجازت مرحمت فرمادیں۔ تاکہ میں جو کام ادھورے چھوڑ کر  آیا ہُوں اُنکی تکمیل کی سعی انہماک سے کرسکوں۔

تو کیا آپ ابھی چلے جائیں گے؟ کیا ہی بہتر ہوتا کہ،، رات کا کھانا  اپنی بھتیجی اور بھابی کیساتھ تناول فرماتے۔ اور آج کی شب ہمارے ساتھ کچھ گزری یادوں کی تجدید میں بسر کرلیتے۔ سید احمد میر،،  نے مغموم لہجے میں استفسار کیا!!!۔ برادر گرامی میری اپنی بھی یہی خاہش ہے۔کہ،، کچھ ایسی راتیں بھی میسر آئیں جب میں آپکی قربت و نصائح سے لطف اندوز ہُوسکوں۔ لیکن آپ تمام معملات  مجھ سے بہتر جانتے ہیں۔ کہ،، ہمیں جو ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ اُسمیں سب سے بڑی رکاوٹ ہماری خواہشات و چاہت کی تمنا ہی ہے۔ لیکن میرا دِل کہتا ہے۔کہ،، وُہ کریم عزوجل ہمیں ساتھ وقت گزارنے کی توفیق بھی عطا فرمائے گا۔

مغرب کی نماز کے بعدسید محمدمیر،، زنان خانے  کے حصےمیں چلے گئے۔ اور تھوڑی دیر بعد ہی واپسی کے سفر پر روانہ ہوگئے۔ کامل علی نے عرض بھی کیاکہ،، میں آپکو چھوڑ آتا ہُوں۔لیکن حضرت سید احمدمیر،، نے مسکرا کر جواب دیتے ہُوئے فرمایا۔کہ سید محمد میر کو کہیں جانے کیلئے سواری کی حاجت نہیں ہے۔ یہ جہاں چاہیں پلک جھپکنے سے پہلے پُہنچ سکتے ہیں۔

جاری ہے۔

میرے لئے فی الحال تواتر سے لکھنا مشکل ہے۔ اسلئے میں کوشش کروں گا۔کہ فیس بُک کے پیج پر گاہے بگاہے پیراگراف کی صورت میں یہ کہانی لکھتا رہوں۔

اُسکا کہنا ہے۔ کِسی اُور کو دیکھوں نہ کبھی
کیوں کہ اُسکو یہ میرا رُوپ بُرا لگتا ہے۔