bing

Your SEO optimized title page contents

Pages

Hamara Tube Channel

Tuesday, 22 January 2013

تذکرہ اک پری کی مُحبت کا قسط (۲۳)۔


تذکرہ اک پری کی مُحبت کا قسط (۲۳)۔

گُذشتہ سے پیوستہ۔ 
 اِمام صاحب کا کہنا تھا کہ اُنہوں نے جمالِ ہانسوی (رحمتہ اللہ علیہ) کا نام ضرور سُنا اُور پڑھا ہے۔ لیکن چُونکہ اُنکی دلچسپی اَحادیث مُبارکہ میں ذیادہ ہے۔ اِسلئے اُنہیں اِن کے متعلق ذیادہ معلومات نہیں البتہ اتنا ضرور یاد ہے کہ جمال ہانسوی رحمتہ اللہ علیہ کا تعلق صوفیائے کرام  کی جماعت سے ہے۔ اُور یہ کہ وُہ کِسی آزمایش سے گُزرے تھے۔ بس اِس سے ذیادہ اُنہیں کُچھ یاد نہیں ہے۔ رات بستر پر لیٹنے کے بعد عِمران حضرت جمالِ ہانسوی رحمتہ اللہ علیہ کے مُتعلق ہی سُوچتا رہا یہاں تک کے نیند نے اُسے اپنی آغوش میں سمیٹ لیا۔۔۔  صبح فجر کی نماز سے فارغ ہُوکر عِمران جُونہی مسجد سے نِکلنے لگا اِمام صاحب نے اُسے پکار کر اپنی جانب آنے کا اِشارہ کیا۔۔۔ قریب پہنچنے پر اِمام صاحب نے اُسے بتایا کہ بابا صابر صاحب کا کوئی قاصد آیا تھا۔ اُور اُنہوں نے تُمہیں طلب کیا ہے۔۔۔ بابا صاحب کے بلاوے کی خبر سُن کر خُوشی عِمران کے چہرے پر رَقص کرنے لگی تھی۔۔۔وُہ مسجد سے نِکل کر سیدھا گھر کی طرف چل پڑا۔تاکہ امی جان کو اِطاع دینے کے بعد  بابا صاحب  سے مُلاقات کو جاسکے ۔  گھر کے مین گیٹ سے داخل ہُوتے ہی اُسکی نِگاہ امی جان کے چہرے پر پڑی جو کسی انجانی خُوشی کی وجہ سے دمک رِہا تھا۔

اب مزید پڑھ لیجئے۔

اَمی جان کیا بات ہے۔ ماشاءَ اللہ آج آپکا چہرہ خُوشی سے مِثلِ قمر چمک رَہا ہے۔۔۔ کیا خُوشی کی کُوئی بُہت  بڑی خبر ہے۔۔۔؟ عمران نے نہایت بے تابی کے عالم میں اَمی سے دریافت کیا۔۔۔۔ ہاں بیٹا اللہ کریم نے واقعی ہم پر احسان فرماتے ہُوئے بڑا کرم فرمایا ہے۔ اُور یقیناً جب تُم وُہ خبر سُنو گے۔ تو تمہارا بھی خوشی سے وہی حال ہُوگا۔۔۔ جیسا کا تُم میرے چہرے پر دیکھ رہے ہُو۔۔۔ امی نے جائے نماز پر مصلی لپیٹ کر رکھتے ہُوئے کہا۔

پھر اَمی جان جلدی سے وُہ خبر مجھے بھی سُنا دیجئے نا۔۔۔یُوں بھی کافی عرصہ سے کسی اچھی خبر کیلئے میرے کان ترس رہے ہیں۔ عمران نے امی کے نذدیک  رکھی کرسی سنبھالتے ہُوئے اِشتیاق بھرے لہجے میں کہا۔۔۔ بیٹا مُبارک ہُو! تمہارے ابو مصلے پر فجر کی نماز ادا کررہے ہیں۔۔۔ ابو فجر کی نماز ادا کررہے ہیں۔ بھلا اِسمیں کونسی خُوشی کی خبر ہے۔۔۔ ابو کو تُو میں بچپن سے ہی نماز پڑھتے دیکھ رہا ہُوں۔۔۔ روانی سے کہتے ہُوئے عمران اچانک ٹھٹک کر رِہ گیا۔۔۔ اُوہ!  میں تو بالکل بُھول ہی گیا تھا۔ کہ اَبو تو کافی عرصہ سے بستر سنبھالے ہُوئے ہیں۔ اُور اپنی بیماری کی وجہ  سے وُہ  کافی عرصہ سے نماز ادا کرنے سے قاصر ہیں۔  اللہ تیرا شُکر ہے۔ عمران نے زُبان سے کلمہ شکر بجالاتے ہُوئے کہا۔۔ مگر اَمی جان  یہ کرشمہ کیسے ہُوا۔ اُور اب ابو جان کہاں ہیں۔۔۔؟ عمران نے  خوشی سے کرسی سے اُٹھتے ہُوئے امی سے اِستفسار کیا۔

بیٹا مجھے تو لگتا ہے کہ،، یہ سب کچھ اُنہی بُزرگ کی کرامت ہے۔ جِنہوں نے کل تمہیں بے موسم کا آم عنایت کیا تھا۔ جِسے تُمہارے ابو نے کھالیا  تھا۔  یہ مجھے اُسی  پھل کی برکات کا ثمر لگتا ہے۔ جسکی وجہ سے اللہ کریم کا لاکھ لاکھ احسان ہے کہ،، تمہارے ابو ایک ہی رات میں بستر سے اُٹھنے کے قابل ہُوگئے ہیں۔۔۔ بیٹا میں لفظوںمیں اپنی خوشی شائد بیان نہ کرپاوٗں۔ لیکن میں نے اللہ کریم کی بارگاہ میں اِس خوشی کے شُکرانے کیلئے ۵۰ نوافل کا اِرادہ کیا ہے جو انشاءَاللہ آج ہی پڑھنے کی کوشش کرونگا۔ جب کہ میری خواہش ہے کہ تُم جاکر اُن بذرگ کا شکریہ ادا کر آوٗ جنکی نظر عنایت نے ہمیں یہ خُوشی کا دِن دِکھایا ہے۔۔۔ تمہارے ابو ڈرائینگ رُوم میں شُکرانے کی تسبح ادا کررہے ہیں۔ پہلے ابو سے مُلاقات کرلو۔ پھر اگر ممکن ہُو۔ تو ناشتہ کے فوراً بعد ہی اُن بزرگ سے مُلاقات کیلئے چلے جاوٗ۔۔۔ امی کا اصرا دیکھ کر عمران نے امی کو بتایا کہ وُہ اُن بزرگ سے مُلاقات کیلئے ہی جارہا تھا۔ اُور نماز پڑھ کر اُن سے اجازت کیلئے ہی حاضر ہُوا تھا۔

تھوڑی ہی دیر میں گھر کے تمام افراد ابو جان کے کمرے میں جمع ہُوچکے تھے۔۔۔ ابو سے باتیں کرتے ہُوئے ہر ایک چہرہ سرشار تھا۔ اُور آج کافی دِن بعد ابو تمام گھر والوں سے گفتگو کررہے تھے۔ ابو کے چہرے بشرے پر اگرچہ اب بھی کمزروی کے  آثار نمایاں تھے۔ لیکن سب کو یہی خوشی کافی تھی۔ کہ ابو ناصرف آج بستر سے اُٹھ بیٹھے تھے۔ بلکہ وُہ ہر ایک کو جواب بھی دے رہے تھے۔ اُور آج کافی دِن کے بعد تمام گھر کے افراد نے ابو کیساتھ ہی  ایک ہی دستر خوان پر ناشتہ بھی کیا تھا۔

ناشتے سے فارغ ہُوتے ہی عمران نے سُوچا کہ واک کے چکر میں کافی دیر نہ ہُوجائے۔ جبکہ وُہ جلد از جلد بابا  صابر کی خِدمت میں حاضر ہُونا چاہ رَہا تھا۔ اِسلئے عمران نے خاموشی سے اپنی بائیک نِکالی اُور بابا صابر کی طرف روانہ ہُوگیا۔ تمام راستے وُہ بابا صاحب کی اِسی کرامت کے متعلق سُوچتا رہا۔ جسکے سبب اُسکا گھر آج  پھرخوشیوں سے بھر گیا تھا۔

شہر کے بیرونی دروازے پر پہنچتے ہی اُسے بابا صابر نظر آگئے۔ اُنہیں دیکھ کر عمران کو ایسا محسوس ہُوا جیسے وُہ  وہاں اُسی کا انتظار کررہے ہُوں۔۔۔ آگئے بیٹا! ماشا اللہ بُہت خُوش ہُو۔۔۔ اُور کیوں خُوش نہ ہُو۔۔۔ کہ والدین کا سایہ ہے ہی بڑا قیمتی۔ جسے میسر ہُوتا ہے۔ اُسے اِسکی قیمت کا اِدراک نہیں ہُوتا۔ اُور جنکے سر سے یہ سائبان غائب ہُوجاتا ہے ۔ اُنہیں اسکا نعم البدل نہیں مِلتا۔ بابا صابر نے خود ہی سوال قائم کیا۔۔۔ پھر خود ہی اُسکا جواب بھی عطا فرمادِیا۔ اِمام  صاحب نے اگرچہ بابا صاحب کی کشفی قُوت کا پہلے ہی تذکرہ فرمادِیا تھا۔ لیکن بھلا جو لُطف مشاہدے میں ہُوتا ہے۔ وُہ سرور صرف سماعت میں کیسے پایا جاسکتا ہے۔ یہی سُوچتے ہُوئے عمران نے بابا صاحب کے دست مبارک پر بوسہ دیتے ہُوئے  اُنکا شُکریہ ادا کرنے کیلئے لب کھولنے ہی چاہے تھے۔ کہ بابا صابر نے انگلی کے اِشارے سے اُسے خاموش رہنے کیلئے کہا۔ اُور آگے بڑھ گئے۔

آج بھی بابا صاحب نے مُلاقات کیلئے باغ ہی کا انتخاب کیا تھا۔ لیکن مقام مختلف تھا۔ بابا صاحب نے ایک پیڑ کے نیچے بیٹھ کر  گفتگو کی ابتدا کرتے  ہُوئے کہا۔ بیٹا۔ جانتے ہُو۔۔۔ فقیروں کے پاس جاتے ہُوئے کس شئے کی حفاظت کرنی چاہیئے۔۔۔؟ ۔ بابا صاحب آپ ہی بتایئے۔ میں تو خالی پیالے کی مانند ہُوں۔ جسکے پاس حسرت و آرزو کے سِوا کچھ بھی نہیں ہُوتا۔ عمران کے جواب پر بابا صاحب نے ایک بُلند قہقہ لگاتے ہُوئے کہا۔ بُہت ہُوشیار ہُو۔ اُور باتیں بنانا بھی خوب جانتے ہُو۔ اُور شائد اِسی وجہ سے مجھے اجازت مِل گئی ہے۔ کہ میں تمہیں کچھ سِکھاوٗں۔ بابا صابر نے غور سے عِمران کا چہرہ دیکھتے ہُوئے مُسکرا کر کہا۔

دیکھو بیٹا۔ جب علم والوں کے پاس جایا کرو۔ تب اپنی زُبان کی بُہت حفاظت کرنا۔ کہ علم والوں کے سامنے گونگا بنے رہنے میں ہی عافیت ہے۔ ورنہ یہاں زُبان سے ایک غلط جُملہ نِکلا۔ اُور وَہاں تنبہی کا تلوار نِکلی۔ لیکن یہ ہتھیار بھی نافع ہی ہُوتا ہے۔ کوئی چاہے تو اپنے گمانی اشکال کو یقین سے بدل سکتا ہے۔ لیکن جب دِل والوں کے پاس جایا کرو۔ تو اپنے دِل کو تھام کر رکھنا چاہیئے۔ کیونکہ اُنکا فتوی قُول پر نہیں بلکہ نیت پر لگایا جاتا ہے۔ اُور جب زُبان بگڑتی ہے تو اصلاح کے نوے فی صدی چانس ہُوتے ہیں۔ لیکن اگر دِل بگڑ جائے تو۔۔۔۔۔ اتنا کہنے کے بعد اچانک بابا صاحب نے یہاں وَہاں دیکھنا شروع کردیا۔

جاری ہے۔۔۔

اُسکی الفت کا مزاہ سب سے الگ سب سے جُدا
جیسے سُورج کی تپش روکتی ہے کُوئی رِدا
جیسے ساقی نے پَلائی  کِسی تشنہ کو شراب
جیسے ٹل جائے کسی عاصی کے سر پہ سے عذاب

Monday, 21 January 2013

ڈھونگ،ڈھنگ،رَنگ


پنجاب کے بے وفا لُوگوں کے نام


بچپن سے لیکر اپنی جوانی تک میں نے ایک جُملہ اتنی مرتبہ سُنا تھا کہ وہ جُملہ میرے ذِہن کے کِسی ایک گُوشے کے بجائے ہر ہر گوشے میں محفوظ ہُوگیا تھا بالکل اُسی طرح کہ جِس طرح کبھی کبھار کوئی ایک ہی فائل کمپیوٹر کے بے شُمار فولڈر میں جمع ہُوجاتی ہے۔

اور وہ جُملہ تھا کہ ،، پنجابیوں میں وفا نام کی کوئی شئے نہیں ہُوتی،، اور وجہ معلوم کرنے پر بھی ہمیشہ ایک ہی جواب مِلا کہ،، چُونکہ یہ پانچ دریاؤں کا پانی پیتے ہیں،، اسلئے یہ کبھی بھی کِسی ایک کے نہیں ہُوسکتے۔ اِنکی طبیعت میں دریا کی سی رَوانی اور سیلانی موجود رِہتی ہے۔

شاید خُدا کی بھی یہی رضا رَہی ہُو کہ وہ چاہتا ہُو کہ میں اس قُوم کی اِن بے وفائیوں پر گواہ بن جاؤں۔ شائد اِسی واسطے مجھے اتنی بار پنجاب بھیجا گیا ہُو۔ تاکہ ایک دِن گواہی کیلئے پُکارا جاؤں۔ اور اپنا بیان قلمبند کراسکوں۔ لِہذا ان مسلسل اَسفار کے باعث اَب میں بھی پنجاب کے لوگوں کی بے وفائی کا نہ صرِف قائل ہُو چُکا ہُوں بلکہ اپنے بیان پر حَلفاً قسم بھی کھا سکتا ہُوں۔ اور یہ بھی نہایت عجیب معاملہ ہے کہ بیشتر مرتبہ میں پنجاب کے کِسی نہ کِسی شہر میں مشکل کا ضرور شِکار رَہا ہُوں۔ اور اُس مشکل میں پڑنے کے بعد میں اُنکی بے وفائی کا مزید قائل ہُوتا چلا گیا ہُوں ۔

میں نے اپنی زندگی کا پہلا طویل ترین اکیلے سفر حیدرآباد سے لاہور کی طرف کیا تھا۔ اُس وقت میری عُمر صرف 15 برس تھی ۔ وہ جُمعہ کا دِن تھا ۔ لاہور اسٹیشن پُہنچنے پر مجھے معلوم ہُوا کہ میری جیب میں صرف واپسی کا کرایہ موجود ہے جو اُس وقت مبلغ 100 روپیہ ہُوا کرتا تھا۔ میں نے عافیت اِسی میں جانی کہ اسٹیشن سے واپس میرپورخاص چلا جاؤں ۔لیکن جب میں نے اُس نُوٹ کو جیب سے باہر نِکالا تو مجھے معلوم ہُوا کہ مسلسل پسینہ جذب کرنے کی وجہ سے وہ نُوٹ بھی چیتھڑوں کی شِکل اِختیار کر چُکا ہے۔ وہ نُوٹ اس قابل نہیں تھا کہ اُس سے ٹکٹ خریدا جاسکے۔ لِہذا میں اسٹیشن سے باہر نکل آیا۔اِسٹیشن کے باہر اُس وقت ایک لَسی کی دُکان ہُوا کرتی تھی جہاں پچاس برس کا ایک ادھیڑ عُمر شخص لسی بِلو رہا تھا۔ میں نے جیب سے نُوٹ نکال کر اُس بُوڑھے شخص کی طرف بڑھاتے ہُوئے اُسے بدلنے کی خُواہش کا اظہار کیا۔ اُس نے پہلے نُوٹ کی خستہ حالت دیکھی پھر مجھے دیکھ کر کہنے لگا۔ کاکا میں انّا نہیں آں جے تینوں ایس سڑے نوٹ دے بدلے نواں نوٹ دیدیاں۔

لیکن دوسرے ہی لمحے اُس نے میری آنکھوں میں آنسو دیکھ کر مجھ سے رونے کی وجہ پُوچھی۔ اور جب میں نے اُسے اپنی تمام کہانی سُنائی تو اُس نیک دِل انسان نے نوٹ تبدیل کرتے ہوئے مجھ سے کہا کہ بیٹا یہ نوٹ تو شائد مجھے کوئی بدل کر نہ دے۔ لیکن تم اپنے گھر خیریت سے پُہنچ جاؤ میرے لئے اِس سے زیادہ خُوشی کو کوئی بات نہیں ہُوسکتی۔ قارئین کرام یہ اُن دِنوں کی بات ہے جب پٹرول سات روپے لیٹر اور بکرے کا گوشت غالباً 15 روپے کلو ہُوا کرتا تھا۔ اُس وقت 100 روپے کی قربانی دینا کوئی معمولی بات نہیں تھی۔

بہرحال اس طرح صاحبو ۔!ہمیں ایک پنجابی کی بے وفائی کے باعث اپنے گھر واپس آنا نصیب ہُوا۔ اور میں خُوب جان گیا کہ واقعی پنجاب کے لوگ بڑے بے وفا ہُوتے ہیں۔

پھر میرا پنجاب کی سرزمین پر دوسرا پھیرا تقریباً 2 سال بعد ہُوا ۔ تب میری عُمر قریباً 17 برس تھی اور میرا ٹھکانہ چھتری چوک فیصل آبادکے عین سامنے والی مسجد کے ساتھ ملحق مدرسہ تھا۔ میں اُن دِنوں مذہبی رُجحان کے باعث گھر والوں کا نشانہ تھا۔ پھر ایک دِن میں دلبرداشتہ ہوکر سندھ کی زمین سے اپنا ناطہ تُوڑ کر انہی بے وفا لوگوں کے درمیان پُہنچ چُکا تھا۔ فیصل آباد میں جس وقت میں نے قدم رکھا اُس وقت میرے جسم پر صرف ایک لباس تھا اور جیب میں فقط پانچ سو روپے کا ایک نُوٹ تھا۔

یہاں بھی اِن پنجاب کے باسیوں نے میرے ساتھ بے وفائی کی انتہا کردی۔ اور 15 دِن میں اللہ کے اِن بندوں نے مجھے اپنی جیب سے ایک دھیلا بھی خرچنے کا موقع نہیں دِیا۔ البتہ لباس کے مُعاملے میں مجھے کامیابی حاصِل رہی وَہاں ایک صاحب آیا کرتے تھے ۔ نام تُو مجھے اُنکا یاد نہیں رَہا مگر اُن کی بازار میں کپڑے کی دُکان تھی۔ اور وہ ہر جُملے کے بعد سبحان اللہ ضرور کہا کرتے تھے۔ اُنہوں نے بھی میرے ساتھ بے وفائی کرنے کی بُہت کوشش کی وہ مُصِر تھے کہ میں اُنکی دُکان سے دو تین جُوڑے لباس کے مفت حاصِل کرلوں۔ مگر اب میں ہُوشیار ہُوچُکا تھا۔ میں نے اُنہیں خُود سے بے وفائی کا ذرا موقع نہیں دِیا۔ بلکہ غُسل خانے میں اپنا اکلوتا لباس صابن سے دُھوکر پہن لیا کرتا۔ اور وہ ہاتھ ملتے رِہ جاتے۔ البتہ وہ مجھے اکثر کھانا کھلادِیا کرتے اور اسطرح وہ بھی بے وفائی کے مرتکب ہُوتے رہے۔

پھر میں نے وہاں سے لاہور کُوچ کا پروگرام بنایا ۔ لاہور جانے سے پہلے میں نے گھنٹہ گھر والی مسجد میں بیان کیا میرا بیان سُن کر وہاں موجود ایک بدمعاش مسجد میں داخل ہُوگیا۔ اور پھر اُس نے بےوفائی کا مُظاہرہ کرتے ہُوئے مجھ پر بُوسوں کی بارش کردی۔ اُسکی دیکھا دیکھ اور لوگوں کے مزاج میں بھی بے وفائی دَر آئی اور اُنہوں نے بھی مجھے اپنے سینے سے خوب لگایا۔ اور بعد ازاں بیان ۔ مجھے پھر آنے کی دعوت دِی۔ اور جب میں نے اُنہیں بتایا کہ میرا فیصل آباد میں آج آخری دِن ہے تُو وہ بے وفا لوگ مجھ سے لپٹ کر روتے رہے۔

اُسی رات ہم نے ایک کرسچن لڑکے کو کلمہ پڑھایا اور سُو گئے ۔ مگر صبح جب آنکھ کُھلی تو معلوم ہُوا کہ کہ رات ہمارے کمرے میں چُور تشریف لائے تھے۔ جو میری جیب میں موجود اکلوتا 500 روپے کا نُوٹ بھی ساتھ لے گئے اور میرے مہربان و محسن سید ریحان عطاری لانڈھی(کراچی) والے کا قیمتی سامان بھی چُرا کر لے گئے ہیں۔ اُن کے ہاتھ کی گھڑی اور نظر کا چشمہ بھی غائب تھا۔ روانگی کا وقت قریب تھا مگر میرے پاس سوائے جسم پر پہنے لباس کے کوئی دھیلا تھا نہ پُھوٹی کُوڑی۔ یہاں بھی اِن فیصل آبادیوں نے خُوب جم کر بے وفائی کا مُظاہرہ کرتے ہُوئے ڈھیر سارے رُوپے میری جیب میں زبردستی ٹھونس دیئے۔

یہاں سے میں اسکیم موڑ لاھور پُہنچا۔ اور مسجدوں میں جا جاکر اِصلاحی بیانات کا سلسلہ قائم کرنے لگا۔ اسکیم موڑ پر ایک ڈیکوریشن کی دُکان ہُوا کرتی تھی۔ جگہ اگرچہ بُہت چھوٹی سی تھی مگر میں رات کو اُس ڈیکوریشن کی دُکان میں سُوجایاکرتا تھا۔ یہاں میرے ساتھ بین الاقوامی شہرت کے حامل باعمل نعت خُواں زاہد عطاری ساتھ ہُوا کرتےتھے۔ لاہوری فیصل آبادیوں سے بھی بڑے بے وفا ثابت ہُوئے ۔ یہاں ماڈل ٹاؤن سے ایک نوجوان محمد اقبال عطاری روزانہ کسی کام کے سلسلے میں آیا کرتے تھے۔ ایک مسجد میں میرا بیان تھا۔ جِسے سُننے کے بعد وہ میرے ساتھ ہی ہُولئے جب اُنہیں معلوم ہُوا کہ میں ایک چھوٹی سی دُکان میں رات گُزارتا ہُوں تُو اُنکی رَگِ بے وفائی بھی پھڑک اُٹھی۔ اور وہ مجھے ماڈل ٹاؤن اپنے بنگلے میں لے آئے۔ اور رات دِن میری اتنی زیادہ مہمانداری کرتے کہ بعض اوقات میں بالکل ہی بھول جاتا کہ میں لاھوری نہیں بلکہ سندھ کا میرپوری ہوں۔

ماڈل ٹاؤن کے لوگ بھی بے وفائی میں کِسی سے پیچھے نہ تھے۔ مجھے آج بھی اُن بُوسوں کا لَمس اپنی کمر اور کاندھوں پر محسوس ہُوتا ہے جو میرے بیان کے بعد ماڈل ٹاؤن کے لوگ جوق در جُوق ثبت کیا کرتے تھے۔ لاھوریوں کی بے وفائی کے یوں تُو ہزاروں قصے بیان کرسکتا ہُوں۔ مگر مجھے آج بھی وہ دِن نہیں بھولے جب لاھور کے کُچھ لوگ میرے مُرشد کے پاس کراچی پُہنچے تھے ۔وہ مجھے ہمیشہ کیلئے لاھور لیجانا چاہتے تھے۔ میں نے اُنکی آنکھوں سے بہتے آنسو دیکھ کر ہی اندازہ لگالیا تھا کہ وہ اِنتہائی درجے کے بے وفا لوگ ہیں ۔ جو اِک ذرا سی مُلاقات پر اپنا دل بچھا بیٹھے ہیں۔

پنجاب والوں کی بے وفائی کے ۔ کیا کیا قصے میں آپ کو سُناؤں اگر لکھتا رہوں تُو شائد کئی رات دِن بیت جائیں ۔مگر واقعات ختم نہ ہُوں ۔مگر چلتے چلتے شہر ملتان والوں کی بے وفائی کا بھی تذکرہ کرتا چلوں۔ کیوں کہ زندگی رہی تُو باقی شہر والوں کی بے وفائیوں کا تذکرہ بھی اپنے کالموں میں کرتا ہی رہوں گا۔

ملتان میں ایک صبح میں چوک شاہ عباس پر چائے کی تلاش میں سرگرداں تھا ۔مگر مجھے کوئی چائے کی ہُوٹل نظر نہیں آئی۔ یہاں تک کہ ایک کھانے کے ہُوٹل میں بھی دو تین مرتبہ گُھوم آیا۔ مجھے یہاں سے وہاں چکر لگاتا دیکھ کر اُس کھانے کی ہُوٹل کے منیجر نے اشارے سے مجھے اپنے پاس بُلا کر پُوچھا۔ باؤ جی کِسے تلاش کررہے ہو۔۔۔؟ میں نے اپنا مُدعا عرض کرتے ہُوئے کہا،، جناب چائے کی بے انتہا طلب ہُورہی ہے مگر کوئی چائے کا ہُوٹل کُھلا نظر نہیں آرہا۔ وہ منیجر یا ہُوٹل کا مالک مجھے کہنے لگا۔ لُو جی۔ آپ نے ہم سے تُو پُوچھا ہی نہیں۔۔ میں نے بڑی بیتابی سے پُوچھا۔۔ کیا آپ کے پاس چائے کا انتظام ہے۔۔؟ منیجر نے کہا کیوں نہیں باؤ جی آپ شائد کراچی سے آئے ہیں۔۔؟

میرپور خاص کو لوگ پُورے پاکستان میں بھلے نہ پہچانیں ۔ مگر سندھ والے پنجاب میں کراچی کے حوالے سے ہی پہچانے جاتے ہیں۔ لہذا میں نے بھی صرف اتنا ہی کہنے میں بھلائی جانی کہ کراچی میں تُو نہیں رِہتا۔ البتہ کراچی کے نزدیک ہی میرا شہر ہے۔ بہرحال کچھ منٹ بعد ہی چائے میری ٹیبل پر آگئی میں نے رس کیک کی فرمائش کی تو ویٹر چند لمحوں میں رس کیک بھی لے آیا ۔

چائے اور کیک رَس سے انصاف کرنے کے بعد جب میں بِل اَدا کرنے کیلئے کاؤنٹر پر پُہنچا تو اُس منیجر یا مالک نے پیسے لینے سے صاف انکار کردیا۔ میں نے حیرت سے وجہ پُوچھی تو مجھے بتایا گیا کہ وہ لوگ سِرے سے اُس ہوٹل میں چائے بیچتے ہی نہ تھے۔ میں نے شرمندگی سے کہا کہ ،، جب آپ چائے فروخت ہی نہیں کرتے تُو مجھے صاف منع کردیتے۔۔! وہ صاحب کہنے لگے واہ۔۔ جی۔۔ واہ۔۔ آپ اتنی دُور سندھ سے ملتان آئے ہیں ۔ اب اگر آپ کو چائے نہ مِلتی۔ تو آپ نے سندھ جاکر ہمارا گِلا ہی کرنا تھا لوگوں سے۔ اور ویسے بھی آپ ہمارے مہمان ہیں۔ آپ چائے کیلئے پریشان تھے ۔ اور نجانے کتنی دِیر مزید پریشان پھرتے رہتے۔ اسلئے آپکو چائے پلوا دی۔

میں وہاں سے چلتے ہُوئے سوچنے لگا کہ یار واقعی پنجاب کا تُو چپہ چپہ بے وفا لوگوں سے بھرا ہُوا ہے۔

اور آج یہ کالم لکھتے ہُوئے میرے دِل سے یہی دُعا نِکل رہی ہے کہ لوگوں نے شائد وفا کا نام بدل کر بے وفائی رکھ دِیا ہے۔ اسلئے اے میرے خُدا جیسے بےوفا پنجابی لوگ تُو نے مجھے زندگی بھر دِکھائے ہیں۔ جن میں سے شائد میں دس فیصد کا بھی ذکر نہیں کرپایا ہُوں جیسے کہ میرے انتہائی مہربان احسان الحق وارثی بھائی جنکا تعلق جھنگ سے ہے۔ اُور محمد ارسلان گجر دُونوں ہی میرے ایسے رفیق و مہربان ہیں کہ میں اُن پر جتنا بھی ناز کروں کم ہے۔

اے کاش میرے وطن کا بچہ بچہ ایسا ہی بے وفا ہُوجائے تو خُدا کی قسم یہ معاشرہ جہاں چہار سُو نفرت کے سِوا کُچھ دِکھائی نہیں دیتا ۔ یہی مُلک جنت کا نقشہ دِکھائی دے۔ اگرچہ یہ کالم اپنوں کی اِصلاح کیلئے لکھا ہے ۔ پھر بھی میرے کِسی جُملے یا عنوان سے اگر کِسی کی بھی دِل شکنی ہُوئی ہُو تو ہاتھ جوڑ کر مُعافی کا خُواستگار ہُوں اللہ کریم تمام پاکستانیوں سے عصبیت کے عفریت کو دُور فرمائے (آمین)


Saturday, 19 January 2013

مسخرہ یا محسن۔۔۔؟ آپ ہی بتایئے



قارئین محترم سلام

میں انٹرنیٹ پر اپنے ایک  فاضل دوست کا کالم پڑھ رہا تھا۔ کالم بُہت دلچسپ تھا ہمارے محترم دوست نے انٹر نیٹ پر ایک خبر پڑھی۔ جس میں بتایا گیا تھا  کہ فرانس کے ساحل سمندر یعنی ( بیچ ) پر ایک مسلم خاتون کو نہانے کی اجازت اِس لئے نہیں ملی کہ اُس پینتیس سالہ خاتون نے برقعہ اور مکمل لباس پہنا ہوا تھا

جِس پر میرے قابِل محترم دوست کو کافی دُکھ ہوا اور اُنہوں نے یورپ،امریکہ،برطانیہ اور مغرب والوں کے خوب لَتے لئے اور اُنہیں دوغلا اور مسخرہ کہا- ویسے ہم بھی کچھ ایسا ہی سوچتے ہیں ہم اُن کے احساسات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں- لیکن اپنےمحترم دوست سے معذرت کیساتھ ۔۔۔ میں اُنہیں ایک واقعہ سُنانا چاہتا ہُوں۔

ایک پہلوان صاحب کی بچی اُن کے شاگرد کیساتھ  گھر سے بھاگ رہی تھی۔ پہلوان جی کے ایک حریف پہلوان نے اُنہیں رنگے ہاتھوں ریلوے اسٹیشن پر پکڑ لیا۔ اُور بچی کا ہاتھ پکڑ کے اُس کے باپ کے پاس لے آئے۔ اب جو پہلوان صاحب نے دیکھا کہ دشمن نے بچی کا ہاتھ تھام رکھا ہے ۔تو آؤ دیکھا نہ تاؤ اور لگے اپنے حریف کی ٹھکائی کرنے۔ اور جب ٹُھکائی کر کر کے تھک گئے تو حریف  پہلوان تِلملا کر بُولا۔۔۔ اُو خانہ خراب آج اگر میں تیری بچی کا ہاتھ نہ پکڑتا۔ تُو ساری زندگی تو اپنی بچی کی صورت کو ترس جاتا۔

بس ایسا ہی کچھ واقعہ میرے حساب سے اُس فرانسیسی ( بیچ ) ایڈمنسٹریٹر کے ساتھ بھی پیش آگیا میرے خیال میں تو اُس شخص  کا شکریہ ادا کرنا چاہیے۔ کہ،، اُس نے لاکھ مُسلم دشمنی میں یہ قدم اُٹھایا ہو۔ لیکن اُس کی وجہ سے ایک مسلم خاتون ہزاروں کے بیچ میں بیچ (ساحل) پر برہنہ ہونے سے بچ گئی۔

کیونکہ نہانے کیلئے کچھ نہ کچھ کپڑے اُتارنے ضرور پڑتے ہیں اور ہم نے اپنی چالیس سالہ زندگی میں آج تک کسی کے منہ سے نہیں سُنا کہ کوئی عورت بُرقع پہن کر ساحل سمندر پر نہا رہی ہو۔ ویسے تو ہمیں یہ خبر ہی دشمنوں کی اُڑائی ہوئی لگتی ہے۔ اللہ خیر کرے۔ ایسی خبریں سُن کر ہمارا دل تو ویسے ہی بیٹھا جارہا ہے۔

کہ ،، اِس مرتبہ پانی کی بندی سردیوں کے بجائے گرمیوں میں ہی شروع ہوگئی تھی۔ جسکی وجہ سے سبھی پانی کی ایک ایک بُوند کیلئے ترس رہے ہیں ۔ اُور اگر ایسی دوچار خبریں ہماری دیسی قوم کی عورتوں کے کان میں پڑ گئیں۔ تو وہ کہیں احتجاجاً یا انتقاماً سمندر کا رُخ نہ کرلیں، پھر نہ تو سمندر کی ہی خیر ہوگی نہ ہی قوم کی۔۔۔ کیا سمجھے۔۔۔؟

عامل کامِل اَبُو شامِل قسط ۔۲۲ (عامل گھنشام داس)۔



گُذشتہ سے پیوستہ۔

کامل علی  جب نرگس کو اُسکے نام سے پُکارتا ہے۔ تو نرگس اصرار کرتی ہے کہ وہ اُسے جاناں کہہ کر پُکارے۔ لیکن جب کامل علی  اَزراہِ ہمدردی اُسکے بیٹے طارق کا تذکرہ کرتا ہے۔ تو نرگس اُس پر برس پڑتی ہے۔کہ جب اُسکی شادی کو صرف ایک ہی رات گُزری ہے۔ تو وُہ کسی بچے کی ماں کسطرح بن سکتی ہے۔ اُور کیا وُہ اِسکے کردار پر شک کررہا ہے۔۔۔؟ نرگس کی عجیب و غریب باتوں سے پریشان ہُو کر کامل علی دُونوں ہاتھ سے اپنا سر تھام کر مسہری پر بیٹھ جاتا ہے۔۔۔ تبھی ابوشامل اچانک  آ پُہنچتا ہے۔ اُور  کامل کو سیالکوٹ پُہنچا کر کہتا ہے۔ کہ وُہ اسکی خاطر عامل گھنشام داس کو قتل کردے۔ لیکن کامل علی انکار کردیتا ہے۔  جسکے بعد ابوشامل کہتا ہے۔۔۔

ٹھیک ہے میں کُچھ سُوچتا ہُوں کہ،، کِس طرح اُس عامل کو قتل کئے بغیر کیسے میری جان بچ سکتی ہے۔۔۔ ابوشامل نے کچھ سُوچتے ہُوئے اپنی گردن جُھکا لی۔۔۔ ابو شامل کافی دیر تک اپنی گردن جُھکائے اِسی مسئلہ میں غُوروفکر کرتا رَہا۔ ایسا محسوس ہُورہا تھا۔ جیسے اُسے مسئلے کا کوئی حل دِکھائی نہیں دے رَہا تھا۔ پھر کِسی خیال کے تحت ابو شامل نے خُوشی سے چُونکتے ہُوئے کہا۔۔۔ اَرے مجھے پہلے اِس بات کا خیال کیوں نہیں آیا۔۔۔؟

اب مزید پڑہیئے۔

کیا ہُوا۔۔۔؟ اُور کونسا خیال پہلے نہیں آیا تھا۔۔۔؟  اُور یہ  ہم کچرے کے ڈھیر کے پاس کیوں کھڑے ہیں ۔ کیا کسی مناسب جگہ پر  بیٹھ کر گفتگو نہیں کی جاسکتی ۔۔۔؟کامل علی نے ابوشامل کو مُخاطب کرتے ہُوئے سوال کیا جسکا چہرہ ایک انجانی خُوشی سے دمک رَہا تھا۔۔۔۔۔۔  یار کامل میرے ذہن میں ایک زبردست آئیڈیا آگیا ہے۔ جسکی وجہ سے اُس عامل گھنشام داس کو قتل کرنے کی نوبت بھی نہیں آئے گی ۔ اُور میری جان بھی فی الحال اُس عامل سے بچ جائے گی۔۔۔ مطب وُہ جو کہتے ہیں نا ! کہ سانپ بھی مرجائے۔ اُور لاٹھی بھی نہ ٹوٹنے پائے۔ بس ایسی ہی ایک زبردست ترکیب میرے ذہن میں آئی ہے۔۔۔ اُور جہاں تک بات ہے کچرے کے ڈھیر کے پاس کھڑے ہُونے کی۔۔۔ تو میرے بھائی اِسے برداشت کرلو۔ کیونکہ میں نے جان بوجھ کر اِس جگہ کا انتخاب کیا ہے۔ کیوں کہ اُس کمبخت گھنشام داس کی سونگھنے کی حس کسی  بلی سے بھی ذیادہ  ہے۔ لیکن اِس بدبو کی وجہ سے وُہ میری مہک سُونگھ نہیں پائے گا۔۔۔ابو شامل  جو ابھی کچھ لمحے قبل انتہائی متفکر نظر آرہا تھا۔ اب بُلبل کی طرح چہکنے لگا تھا۔۔۔

یار کیوں پہلیاں بُجھوا رہے ہُو!  صاف صاف کیوں نہیں کہتے کہ کونسی ترکیب تمہارے ذہن میں آئی ہے۔ ابو شامل کو مخاطب کرتے ہُوئے کامل نے اضطرابی لہجے میں دریافت کیا۔۔۔؟  ٹھیک ہے بتاتا ہُوں۔۔۔ ابو شامل نے سنجیدہ ہُوتے ہُوئے گفتگو کی ابتدا کرتے ہُوئے کہا۔۔۔ سُنو میں صرف اتنا چاہتا تھا۔ کہ کسی طرح گھنشام داس اپنی چلہ گاہ سے باہر نِکل آئے۔ یا وُہ اپنے عمل کو ادھورا چھوڑ دے۔۔۔ اُور یہ دُونوں ہی باتیں بظاہر ناممکن ہیں۔ جسکی وجہ سے میں نے تُم سے کہا تھا۔ کہ تُم اُسے قتل کرڈالو۔ لیکن ابھی ابھی میرے دِل میں یہ خیال آیا ہے کہ میرا یہ مقصد تو اُسے زخمی کرکے بھی حاصل کیا جاسکتا ہے۔ بشرطیہ کہ اُسے اتنا زخمی کردیا جائے کہ وُہ اپنے عمل کو مزید جاری نہ رکھ سکے۔

کیا مطلب ! کتنا زَخمی کرنا ہے۔۔۔ اُور کیا اُس گھنشام داس نے اپنی حِفاظت کا اہتمام نہیں کیا ہُوگا۔۔۔؟ اُور کیا وُہ اِس بات سے بالکل بے خبر ہے کہ تُم اُس پر حملہ کی پلاننگ کررہے ہُو۔۔۔؟۔۔۔۔۔ ہاں یہ بُہت اہم سوال کیا ہے تُم نے۔ ابو شامل نے کامل کو داد دیتے ہُوئے اپنی گفتگو جاری رکھی۔۔۔ پہلے سوال کا جواب تو یہ ہے کہ۔ وہ یہ چلہ کاٹنے کے دوران  تقریباً ایک گھنٹہ اپنے داہنے پاوٗں پر کھڑا رِہ کر  جاپ کرتا ہے۔ اسلئے اگر کسی طرح اُسکے داہنے پاوٗں کو اِس حد تک زخمی کردیا جائے کہ،، وُہ چند دِن اپنے داہنے پاوٗں پر کھڑا نہ رِہ سکے۔ تو اُسکا چلہ ادھورا رِہ جائے گا۔ بعد از  میں خود جوابی عمل کے ذریعہ سے کوشش کرونگا ۔کہ،، آئندہ وُہ مجھے  قابو کرنے کے قابل ہی نہ رہے۔۔۔ ابو شامل نے سفاکیت سے مُسکر کراپنی داہنی آنکھ مارتے ہُوئے کامل کے چہرے پر نمودار ہُوتے اطمینان بھرے تاثرات دیکھ کر سکون کا سانس لیا۔

دوسرے سوال کا جواب یہ ہے کہ،، وُہ بالکل بھی مجھ سے بے خبر نہیں۔ اُور ابتدا میں چونکہ میں خُود کافی مضبوط تھا۔  اُور اُس پر جوابی حملہ کی تیاری کررہا تھا۔اسلئے وُہ میرے ایک ایک لمحے پر نظر رکھے ہُوئے تھا۔ اُور اُس نے اپنی حِفاظت کیلئے خاطر خُواہ اپنے چیلوں کو اپنے ارد گرد جمع کررکھا  تھا۔۔۔ لیکن جیسے جیسے میری قوت اُسکے عمل کے آگے بے بس ہُوتی چلی گئی۔ اُس نے بھی میری کمزور حالت کے پیش ِ نظر اپنی سیکیورٹی کافی حد تک کم کردی ہے۔۔۔ اُور جب میں کافی کمزور ہُوگیا تو اُس نے میری نگرانی کا عمل بھی رفتہ رفتہ ختم کردیا  تھا۔ جسکا فائدہ اُٹھاتے ہُوئے میں  ایک ترکیب سُوچ لی ۔۔۔ کہ اب اگرچہ میں اُسے کوئی نقصان نہیں پُہنچا سکتا ۔لیکن کسی دوسرے انسان کے ذریعہ اُسے اُسکے منطقی انجام تک ضرور پُہنچا سکتا ہُوں۔ پھر میری نظر انتخاب ایک ایسے انسان کی تلاش میں تھی۔ جسے جنات سے دوستی کا خبط بھی ہُو۔اُور وہ طاقت کا خواہشمند بھی ہُو۔۔۔ چنانچہ میرے ایک دوست نے مجھے تُمہارے متعلق بتایا۔۔۔ اُور اِس طرح میں نے تُم سے رابطہ کرلیا۔۔۔ اِس وقت جو تُم میری طاقت دیکھ رہے ہُو۔ وُہ میری اصل قوت کا پانچ فیصد بھی نہیں ہے۔ ۔۔ اگر تُم نے واقعی میری مدد کی۔ اُور مجھے اُس عامل کی گرفت سے آزاد کروادیا۔ تو میں تمہیں یقین دِلاتا ہُوں کہ،، تمہیں اسقدر مظبوط کردوں گا۔۔۔ کہ،، کسی مُلک کا صدر بھی اتنا طاقت ور نہیں ہُوگا۔۔۔ ابو شامل کی گفتگو کامل علی کی آنکھوں کو عجیب سے نشے سے مخمور کئے دے رہی تھیں۔۔۔

ٹھیک ہے مجھے یہ طریقہ مُناسب لگ رہا ہے۔۔۔ کیونکہ اِس طریقے سے کسی کی جان  بھی تلف نہیں ہُوگی۔ اُور تمہارا کام بھی بن جائے گا۔ بس اب تُم مجھے مزید  اتنا اُور  بتادو کہ مجھے یہ گھنشام داس کس جگہ مِلے گا۔۔۔؟  اُور مجھے کس طریقہ  اُور کس ہتھیار سے اُسے زخمی کرنا ہے۔ اُور  اگربالفرض میں وہاں کسی ناگہانی مصیبت کا شِکار ہُوجاوٗں۔ تو کسطرح اُس مصیبت سے نکل سکتا ہُوں۔۔۔؟ کامل علی نے رضامندی ظاہر کرتے ہُوئے  استفسار کیا۔

 دیکھو کامل علی ویسے تو میرا دِماغی رابطہ تُم سے ایک لمحے کیلئے بھی نہیں ٹوٹے گا۔۔۔ اُور میں جس رکشہ ڈرائیور کو تُمہارے ساتھ بھیجوں گا۔ اُس کے دماغ میں بھی گھنشام داس کا تمام ایڈریس فید کردُونگا۔ لیکن پھر بھی تمہیں احتیاطً سمجھائے دیتا ہُوں۔کہ،، ہم اِس وقت  سٹی اسٹیشن اُور  قلعہ کے  وسط میں موجود ہیں۔ یہاں سے آگے بانو بازار سے گُزر تے ہُوئے تمہیں  شریف پارک اُور مسلم کالونی کے سنگم کے عقبی جانب جانا ہے۔۔۔ اگر خدانخواستہ کوئی مشکل پیش آجائے تو اِسی طرح واپس بھی لُوٹ آنا۔۔۔ وہاں پُہنچ کر کوشش کرنا کہ کسی طرح گھنشام داس اپنے گھر سے باہر نِکل آئے ۔ اُور  جیسے ہی اُس سے سامنا ہُوجائے۔ کسی طرح اُسکی پنڈلی کو زخمی کردینا ۔ لیکن تین باتوں کا خاص خیال رکھنا نمبر ایک زخم اتنا کاری ضرور ہُونا چاہیئے کہ ،، وُہ ہفتہ پندرہ دِن بستر سے نہ اُٹھ پائے۔ جسکے لئے میں نے ایک خنجر تُمہاری واسکٹ میں ڈال دیا ہے۔۔۔ کامل علی نے بے اختیار اپنی واسکٹ کو ٹٹولا۔ تو اُسے احساس ہُوا۔ کہ اُس میں واقعی کوئی بھاری سی دھات موجود تھی۔۔۔۔ دوسری بات یہ ہے کہ اُس کے سامنے زبان نہیں کھولنا ورنہ وُہ تمہاری آواز کے ذریعے سے تُمہارے ذہن تک رسائی حاصل کرلے گا۔ اُور تمہارے ارادے سے باخبر ہُوجائے گا۔ تیسری اُور آخری بات یہ ہے ۔کہ اُس سے نظر بالکل نہیں مِلانا۔ ورنہ وُہ اپنی شکتی کے زُور پر لمحوں میں تم کو اپنا غلام بناسکتا ہے۔

ابو شامل نے گھنشام داس کی غیر مرئی قوت کا جِس طرح سے کامل کے سامنے نقشہ کھینچا تھا۔۔۔ اگر کسی اُور نے بیان کیا ہُوتا تو کامل علی ہرگز گھنشام داس کا سامنا کرنے کیلئے تیار نہ ہُوتا۔ لیکن اب کیا ہُوسکتا تھا۔ کامل علی خُود گھنشام داس کو زخمی کرنے کیلئے اپنی آمادگی ظاہر کرچُکا تھا۔ اُور اب یہ بات تو کامل علی بھی خُوب سمجھ چُکا تھا۔ کہ وُہ ابو شامل کے بغیربالکل اَدھورا ہے۔۔۔

تھوڑی ہی دیر میں ایک رکشہ ڈرائیور  کامل علی کو اپنے رکشہ میں سوار کئے مسلم کالونی کی جانب بڑھا چلا جارہا تھا۔ قلعہ کی دیواروں کو دیکھتے ہُوئے ایک لمحے کیلئے کامل علی کو ایسا محسوس ہُوا جیسے وُہ اِن دَر و دِیوار سے ایک مُدت سے آشنا ہو۔ حالانکہ اپنی زندگی میں وُہ پہلی مرتبہ سیالکوٹ آیا تھا۔   کچھ منٹ بعد رکشہ ڈرائیور نے سحرزدہ سی آواز میں کامل کو مخاطب کرتے ہوئے بتایا۔ کہ وُہ مسلم کالونی پُہنچ چکے ہیں۔ اُور اب  اِس کے عقب میں واقع گھنشام داس کے مکان کی جانب جارہے ہیں۔ رات کی ملجگی رُوشنی میں رکشہ ڈرائیور نے ایک درخت کے سائے میں رکشہ روک کر  دُور ایک دُو منزلہ مکان کی طرف اِشارہ کرتے ہُوئے  بتایاکہ،، وہی گھنشام داس کا مکان ہے۔

کامل علی نے جھجکتے ہُوئے گھنشام داس کے مکان کی جانب بڑھنا شروع کردیا۔۔۔  اچانک اُسے اپنے ذہن میں ابو شامل کی آواز سُنائی دی۔ کامل گھبرانا مت میں تُمہارے ساتھ موجود ہُوں ۔ لیکن احتیاط کا دامن اپنے ہاتھ سے مت چھوڑنا۔۔۔ اُور میری ہدایات پر عمل کرتے ہُوئے میری تینوں باتوں کا خیال رکھنا۔۔۔ یہ رکشہ والا بھی  میرے سحر میں مبتلا ہے۔ اسلئے جب تک تُمہار کام ختم نہیں ہُوجاتا۔ یہ بھی یہیں تُمہارا انتظار کرے گا۔۔۔ابھی  کامل علی  گھنشام داس کے مکان سے پچاس گز کے فاصلے پر موجود ہُوگا کہ اُسے اچانک قریبی درختوں سے کسی کے قدموں کی سرسراہٹ سُنائی دِی۔ خُوف کی ایک انجانی لہر سے سردی کے باوجود کامل کی پیشانی سے پسینے نمودار ہُونے لگے۔ اُسے ایک لمحے کیلئے ایسا محسوس ہُوا۔ جیسے سینکڑوں آنکھیں اُسکی نگرانی کررہی ہُوں۔۔۔ اُسکا دِل چاہا کہ وُہ پلٹ کر واپس بھاگ جائے۔ لیکن اُسکا تمام جسم جیسے سُن ہُوکر رِہ گیا تھا۔ اب اُسکے قدم نہ آگے بڑھ پارہے تھے۔ اُور نہ ہی پیچھے کی جانب۔۔۔ البتہ چاروں جانب سے کُچھ لوگ ہاتھوں میں ننگی تلواریں اُورکچھ ڈنڈے لئے بڑھ رہے تھے۔ کامل علی سمجھ گیا۔۔۔ کہ،، وُہ یقیناً ٹریپ ہُوچکا ہے۔۔۔ زمین نے اُسکے قدموں کو جکڑ لیا تھا۔۔۔ اُور واپسی کی تمام راہیں مسدود ہُوچُکی تھیں۔ کامل کے ذہن سے ابو شامل کی تمام احتیاطیں محو ہُوچکی تھیں۔

اُس نے اپنے ذہن میں ابوشامل سے رابطہ کرنا چاہا لیکن اُسے کوئی جواب مُوصول نہیں ہُوا۔۔۔ وُہ تمام لوگ کامل علی کے نہایت نذدیک آ پُہنچے تھے۔ وُہ کم از کم بیس افراد تھے۔جنہوں نے نارنجی کلر کی دھوتیاں اپنے جسم پر باندھ رکھی تھیں۔۔۔ جب کہ اتنی سردی کے باوجود بھی ایک بھی شخص نے قمیص پہنی ہُوئی نہیں تھی۔ پیشانی پر لگے عیجب سے تلک کے نشان سے ظاہر ہُورہا تھا۔ کہ وُہ سب ہندو مذہب سے تعلق رکھتے ہیں۔ کامل نے ایک مرتبہ پھر ابو شامل سے رابطہ کرنے کی کوشش کی۔ لیکن کامل علی کی یہ کوشش بھی بے سُود ہی ثابت ہُوئی ۔ اچانک کسی نےاُسکا تمسخر اُراتے ہُوئے نہایت گرجدار آواز میں اُسے  مُخاطب کیا۔۔۔ مورکھ کِسے سہایتا کے لئے  پُھوتکار (پُکار) رہا ہے۔ مورکھ منش ہو کر منش کو گھائل کرنے چَلا تھا۔۔۔ اب اُس جن زادے کا نام جپنا چھوڑ دے۔ کیول وُہ حرامزدہ اب یہاں نہیں پدھارے گا۔۔۔ پرنتو۔  نرکھ سُدھانے سے پہلےایشور کو اَوشے یاد کرلے۔۔۔ کامل نے  دیکھا کہ وُہ ایک سادھو تھا۔ جو اُس سے مخاطب تھا۔ اُس کے سر پر ایک مُوٹی سی چُٹیا بندھی تھی۔ سر اُور داڑھی کے تمام بال سفید ہُونے کیوجہ سے  کامل علی کا ندازہ تھا کہ وُہ بوڑھا سادھو کم ازکم عمر کی  آٹھ دہایئاں دیکھ چُکا ہُوگا۔ لیکن اسکی پیشانی پر ایک بھی سلوٹ موجود نہیں تھی۔ تمام چہرے پر بھبوت کی سفیدی میں سُرخ رنگ کے تین تلک صاف نطر آرہے تھے۔۔۔ اُور اب وُہ اپنے ہاتھ میں خنجر لئے کامل علی کی جانب ہی بڑھ رہا تھا۔  کامل علی نے اندازہ لگالیا کہ وُہی گھنشام داس ہے۔ جسکے شکار کیلئے وُہ یہاں آیا تھا۔ اُور خود شکار ہُوگیا تھا۔۔۔کامل علی نے مدد کیلئے یہاں وہاں دیکھنے کی کوشش کی لیکن تبھی  سادھو کے چند چیلوں نے مضبوطی سے اُسے پکڑ کر زمین پراسطرح  اُوندھا ڈال دیا۔ جیسے جانور کو ذبح سے قبل پچھاڑا جاتا ہے۔

(جاری ہے)۔




اُسکا کہنا ہے۔ کِسی اُور کو دیکھوں نہ کبھی
کیوں کہ اُسکو یہ میرا رُوپ بُرا لگتا ہے
مجھکو ہر چہرے میں آتی ہے نظر اِک وُہ ہی
جُو نہ بھر پائے یہ بہروُپ بُرا لگتا ہے