bing

Your SEO optimized title page contents

Pages

Hamara Tube Channel

Saturday, 20 April 2013

فیضانِ اِسم اعظم 16جادو کی کاٹ کا طریقہ۔


محترم قارئین کرام السلامُ علیکم
الحمدُ للہِ عزوجل اللہ کریم کا کروڑہا کروڑ شکر و اِحسان ہے۔کہ،، آج  توفیق  خُداوندی سے اِسمِ اعظم  کی قسط نمبر  ۱۶ تحریر کررہا ہُوں۔۔۔ جسکا عنوان ہے جادو کی کاٹ،، جسمیں آج میں اپنے قارئین کرام کو جادو کا توڑ کرنے کا طریقہ سمجھانے کی کوشش کرونگا۔ اُور میری جانب سے اُن تمام مسلمانوں کو اِس عمل کی اجازت ہوگی۔ جنکے قلوب میں انبیا کرام علیہمُ اسلام کی عظمت،  تمام صحابہ کرام بشمول خلفائے راشدین ( رضوان اللہ تعالی علیہم اجمعین) کی محبت، اور اولیائے کرام (رحم اللہ اجمعین) کا ادب موجود ہے۔ میرے اِس طریقہ سے کوئی بے ادب و گستاخ علاج نہ کرے۔کہ،، اُسے اِس علاج سے کوئی فائدہ حاصل نہیں ہونے والا۔ خوامخواہ مشقت میں پڑےگا۔ اِس طریقے سے  آپ اپنی اُور صرف اپنی فیملی یعنی والدہ، والد، بھائی بہن، میاں،بیوی، اور بچوں کی کاٹ کرسکتے ہیں۔

ایک وقت میں صرف ایک شخص کی کاٹ کریں۔ اپنا علاج کرنے کیلئے ضروری ہے۔ کہ،، آپ صحتیاب ہُوں۔ مطب یہ کہ،، خُود کی حالت ایسی نہ ہُو۔ کہ کاٹ مکمل ہی نہ کرسکیں۔۔۔ اگر کاٹ کرنے کی ہمت نہ ہُو تو مجھے درج ذیل لِنک پر میسج کردیجئے گا۔ میں جمعرات کو اجتماعی کاٹ میں آپکا نام شامل کرلوں گا۔۔۔ یہ طریقہ اُور اِسکی اجازت بھی اِس لئے بتا رہا ہُوں۔ کہ،، بعض لوگوں پر اتنے تواتر سے جادو کے معملات کئے جاتے ہیں۔ کہ،، سائل بھی کاٹ کرواتے کرواتے تھک جاتا ہے۔ اول تو ہماری طرح مفت کاٹ کرنے والے ذیادہ لُوگ میسر نہیں ہیں۔۔۔ جو صرف اللہ کریم کی رضا کیلئے اپنے مسلمان بھائیوں کے جادو کی کاٹ کردیں۔ دوئم،، پیسے لیکر کاٹ کرنے والے لُوگ بھی ایمانداری سے اپنا کام نہیں کرتے۔ سوئم اناڑی اُور فراڈی لُوگوں کی بھی اِس دُنیا میں کمی نہیں ہے۔۔۔ جو صرف مال بٹورنے کیلئے لوگوں کو بے وقوف بناتے ہیں۔۔۔ اور اُن سے جادو کی کاٹ کے نام پر  مسلسل اپنی جیب گرم کرتے رہتے ہیں۔ چہارم،، اِس کاروبار میں ایسے لوگ بھی شامل ہوگئے ہیں۔ جنہوں نے خود پر مذہب کا لبادہ اُوڑھ رکھا ہُوتا ہے۔ اور لُوگ  اُنہیں دیندار  سمجھ کر اُنکے دَامِ فریب میں آجاتے ہیں۔۔۔ اللہ کریم سب کو ہدایت عطا فرمائے۔


جادو کی کاٹ کا طریقہ

سب سے پہلے مغرب کی نماز ادا کریں۔  پھر دو رکعت نفل پڑھ کر اِسکا ثواب جمیع انبیا کرام  علیہم السلام ، صحابہ کرام و  اولیائے عظام  رضوان اللہ اجمعین ، اُور  اپنے استاد کو ایصال کردیں۔ اور بغیر کسی سے کلام کئے مصلے پر چار زانوں بیٹھ جائیں۔ اگر مریض موجود ہُو تو اُسکو اپنے داہنے ہاتھ کی جانب بِٹھا لیں اور ایک بوتل پانی بھی پاس رکھ لیں۔۔۔ ورنہ غائبانہ کاٹ بھی کی جاسکتی ہے۔ چاہے مریض سات سمندر پار ہی کیوں نہ بیٹھا ہُو۔

سب سے پہلے ۱۱ مرتبہ درود پاک پڑھیں۔
اسکے بعد ۱۹ مرتبہ بسم اللہ الرحمن الرحیم۔
۳ ۔مرتبہ سورہ فلق پڑھیں۔
۳۔ مرتبہ سو رہ الناس پڑھیں۔


تین مرتبہ سورہ عَبس پڑھیں۔(عم پارہ میں  ہے)۔

اِسکے بعد یُوں کہیں۔ اے اللہ کریم میں تیرا عاجز بندہ ہُوں۔ تیرے فضل کرم پر نِگاہ رکھتے ہُوئے اپنی جادو کی کاٹ کررہا ہُوں۔  مجھ پر جِس نے بھی  جادو کا معاملہ کیا ہے۔ میں اِس جادو کو اُسی کی جانب لُوٹاتا ہُوں۔ میرے اِس عمل کو قبول فرما۔ اور مجھ لاچار کی مدد فرمادے۔ اتنا کہنے کے بعد اپنا اُلٹا ہاتھ تین مرتبہ اپنی اُلٹی ران پر ماریں اور سات مرتبہ،، فارجِعُو پڑھ کر اپنے اُلٹے ہاتھ کی جانب تین مرتبہ تھتکار دیں۔

اب دوسری مرتبہ صرف تین بار سورہ عبس پڑھیں۔

اِسکے بعد یُوں کہیں۔ اے اللہ کریم میں تیرا عاجز بندہ ہُوں۔ تیرے فضل کرم پر نِگاہ رکھتے ہُوئے اپنی جادو کی کاٹ کررہا ہُوں۔  مجھ پر جِس نے بھی  جادو کا معاملہ کیا ہے۔ میں اِس جادو کو اُسی کی جانب لُوٹاتا ہُوں۔ میرے اِس عمل کو قبول فرما۔ اور مجھ لاچار کی مدد فرمادے۔ اتنا کہنے کے بعد اپنا اُلٹا ہاتھ تین مرتبہ اپنی اُلٹی ران پر ماریں اور سات مرتبہ،، فارجِعُو پڑھ کر اپنے اُلٹے ہاتھ کی جانب تین مرتبہ تھتکار دیں۔

تیسری، چوتھی ،پانچویں، چھٹی، اور ساتویں مرتبہ بھی صرف تین بار سورہ عبس پڑھ کر  ہر بار یہی کہنا ہے۔کہ،،   اے اللہ کریم میں تیرا عاجز بندہ ہُوں۔ تیرے فضل کرم پر نِگاہ رکھتے ہُوئے (اپنی )جادو کی کاٹ کررہا ہُوں۔ ( مجھ )پر جِس نے بھی  جادو کا معاملہ کیا ہے۔ میں اِس جادو کو اُسی کی جانب لُوٹاتا ہُوں۔ میرے اِس عمل کو قبول فرما۔ اور مجھ لاچار کی مدد فرمادے۔ اتنا کہنے کے بعد اپنا اُلٹا ہاتھ تین مرتبہ اپنی اُلٹی ران پر ماریں اور سات مرتبہ،، فارجِعُو پڑھ کر اپنے اُلٹے ہاتھ کی جانب تین مرتبہ تھتکار دیں۔

اِس طرح سورہ عبس کے پڑھنے کی تعداد اکیس مرتبہ ہُوجائے گی۔ اُور کاٹ کا عمل مکمل ہُوجائے گا۔ اُور انشا اللہ فوراً  ہی مریض کو افاقہ محسوس ہُونے لگے گا۔ ۔۔۔ البتہ جسمانی مرض کا علاج  طبیب سے کرواتے رہیں ۔آخر میں اللہ کریم کی بارگاہ میں تمام انبیا کرام، صحابہ کرام، اصحابِ بدر، حضور سیدنا غوث اعظم، اور اپنے مرشد کریم کے وسیلے سے خوب  دِل سے  مریض یا اپنے لئے دعا کریں۔ اگر مریض قریب ہے تو اُس پر بھی دم کریں۔ اور پانی پر دَم کرکے اُسے پینے کیلئے دے دیں۔

اگر کسی دوسرے انسان کی کاٹ مقصود ہُو تو۔ دُواران عمل یوں کہیں گے۔ مثال کے طور پر عکسہ بنت راشدہ کی کاٹ کرنی ہے تو اِس طرح سے  کہنا ہے۔ اے اللہ کریم میں تیرا عاجز بندہ ہُوں۔ تیرے فضل کرم پر نِگاہ رکھتے ہُوئے عکسہ بنت راشدہ کے جادو کی کاٹ کررہا ہُوں۔ ۔ عکسہ بنت راشدہ  پر جِس نے بھی  جادو کا معاملہ کیا ہے۔ میں اِس جادو کو اُسی کی جانب لُوٹاتا ہُوں۔ میرے اِس عمل کو قبول فرما۔ اور مجھ لاچار کی مدد فرمادے۔ اتنا کہنے کے بعد اپنا اُلٹا ہاتھ تین مرتبہ اپنی اُلٹی ران پر ماریں اور سات مرتبہ،، فارجِعُو پڑھ کر اپنے اُلٹے ہاتھ کی جانب تین مرتبہ تھتکار دیں گے۔

جادو کی علامات۔۔۔ جس پر جادو کیا جاتا ہے۔ اُسکے اکثر ناف کی جگہہ درد رہنے لگتا ہے۔ جسکی وجہ سے درد کیساتھ ساتھ ایسا محسوس ہُوتا ہے۔جیسے کسی نے کلیجے کو مٹھی میں بھینچ رکھا ہُو۔۔۔ عبادت کو جی نہیں چاہتا۔ اُور رفتہ رفتہ بندہ زندگی سے ہی بیزار ہُوجاتا ہے۔ بعض   لُوگ جنکا مرض پرانا ہُوجاتا ہے وُہ اُول فول بھی بکنے لگتے ہیں۔بعض لوگ تو کفریہ کلمات بھی دھڑلے سے بکنے لگتے ہیں۔ کچھ لُوگ چُپ سادھ لیتے ہیں۔ جبکہ کچھ لُوگ چارپائی پکڑ لیتے ہیں۔


جادو کی کاٹ ایک مرتبہ کے عمل سے ہی ہُوجاتی ہے۔۔۔ لیکن جس طرح  مفت میں جادو کی کاٹ کرنے والے لُوگ بے شُمار  نہ سہی لیکن تلاش کرنے سے مِل ہی جاتے ہیں۔۔۔۔مگر آپ کو ایک بھی جادوگر ایسا نہیں مِلے گا۔ جو مفت میں لوگوں پر جادو کرتا ہُو۔ اب سُوچنے والی بات یہ ہے۔کہ،، جس نے بھی آپ پر جادو کروایا ہُوگا۔۔۔ اُس کی آپ سے نفرت کس درجہ کی ہُوگی۔کہ،، اُس نے آپکو نقصان پُہنچانے کیلئے اپنے وقت کیساتھ اپنا مال بھی خرچ کیا ہُوگا۔۔۔۔ اسلئے جادو کروانے والے کو جونہی آپکی کاٹ کی اِطلاع مِلے گی۔ وُہ جادو کرنے والے سے اِصرار کرے گا۔کہ،، جادو اثر نہیں کررہا۔ لِہذا پھر سے جادو کرو۔ ہوسکتا ہے جادو گر اِس مرتبہ کم رقم لیکر آپ پر بھر سے جادو کا عمل کرنے بیٹھ جائے۔

اِسلئے میرا مشورہ یہی ہے۔ کہ،، کسی قریب سے قریب تر کو بھی جادو کی کاٹ کا نہیں بتانا چاہیئے۔ ورنہ بات کھل جاتی ہے۔ دوسرا مشورہ یہ ہے کہ کاٹ کا عمل وقتاً فوقتاً کرتے رہیں۔۔۔ یہاں تک کہ،، جادو کرنے والا اُور کروانے والا عاجز آجائے۔۔۔ سوئم یہ کہ،، بار بار کی کاٹ کا ایک فائدہ یہ بھی ہُوتا ہے۔کہ،، جادو کرنے والے پر جادو پلٹ جاتا ہے۔۔۔ اُور وُہ بعض اُوقات جادوئی عملیات سے باز آجاتا ہے۔ یا خُود اپنے ہی کئے جادو کا شِکار ہُوجاتا ہے۔ کاٹ کا عمل کامیاب ہونے کی صورت میں فخر نہ کریں۔۔۔ بلکہ اللہ کریم کا شکر کریں۔کہ،، اُسکی مدد کے بغیر کاٹ کا عمل موثر ہُوہی نہیں سکتا۔ اسلئے اُسکے فضل و احسان کو مانتے ہُوئے  شکرانے  کے نوافل ادا کریں۔

جس پر جادو کے معملات ہُوں اُسے چاہیئے۔کہ،،  کاٹ کے بعد بھی روزانہ سات مرتبہ یا مُمِیتُ پڑھ کر اپنے سینے پر دَم کرے۔ اُور اپنی رُوحانی کمزوری پر قابو پانے کیلئے روزانہ اکتالیس مرتبہ تیسرا کلمہ، اور اکتالیس مرتبہ لَا اِلٰہَ إلاَّ اﷲُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیْکَ لَہٗ، لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ، وَھُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرٌ۔ روزانہ خُود پر پڑھ کر دَم کرے۔۔۔ رات کو سونے سے قبل تین مرتبہ سورہ فلق تین مرتبہ سورہ الناس ایک مرتبہ آیت الکرسی  اول آخر درود پاک پڑھ کر  پانی پر بھی دم کرے۔ اُور خود پر بھی دَم کرے اُور اُسی پانی کو پی جائے۔


جادو کی کاٹ کیلئے میں اِسی طریقے کو اپناتا ہُوں۔۔۔ اُور جادو کی کاٹ کیلئے یہ عمل  اکثیر بھی ہے۔ اُور میرا آزمودہ بھی ہے۔۔۔  لیکن میں اِسکے ساتھ ساتھ اِسی کالم کو مزید وسعت دیتے ہُوئے انشاٗ اللہ چند مزید طریقے بھی  اِسی  کالم میں کسی دِن لکھ دُونگا۔۔۔

پیغام۔

ایک دُعا وُہ ہُوتی ہے۔ جو آپ کے کہنے پر کسی کی زُبان سے آپکے لئے نِکلتی ہے۔۔۔ لیکن اِس سے لاکھ گُنا طاقتور وُہ دُعا ہُوتی۔ جو آپکے کسی عمل کی وجہ سے کسی کے دِل سے خُود بخود آپکے لئے نِکل جاتی ہے۔ میں ہمیشہ اُسی دُعا کے تعاقب میں رِہتا ہُوں۔
آپکا عشرت اقبال وارثی۔۔۔ 

Friday, 19 April 2013

فضائل صدقات۔۔۔ تحریر عنادِل عاصمہ خان


جو لوگ اللہ تعالی کی راہ میں اپنا مال خرچ کرتے ہیں انکے لئے اللہ تعالی قرآن پاک میں ارشاد فرمایا ہے۔

ترجمہ ۔ جو اپنے مال اللہ تعالی کی راہ میں خرچ کرتے ہیں پھر دئیے پیچھے احسان نہ رکھیں نہ تکلیف دیں ان کا ثواب (نیگ) ان کے رب کے پاس ہے اور انہیں نہ کچھ اندیشہ  ہو اور نہ کچھ غم ۔

حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث مبارکہ سے صدقہ کی اہمیت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے ۔

حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ۔ ۔ ۔ جب اللہ تعالی نے زمیں کو پیدا فرمایا تو زمین ہلنے لگی تو اللہ تعالی نے پہاڑ کو اس میں گاڑھ دیا جس سے زمین ٹہر گئی۔۔۔ فرشتے پہاڑوں کی مضبوطی سے متعجب ہوئے اور عرض کیا الہی! کیا تونے پہاڑوں سے بھی زیادہ سخت وشدید کوئی مخلوق پیدا فرمائی ہے۔۔۔؟

اللہ تعالی نے فرمایا! ہاں وہ لوہا ہے۔ انہوں نے عرض کی ! الہی کیا تونے لوہے سے بھی زیادہ کوئی مضبوط مخلوق بنائی ہے۔۔۔؟  اِرشاد فرمایا ہاں!  وہ آگ ہے۔ فرشتوں نے عرض کیا مولی! کیا آگ سے بھی زیادہ قوی کوئی مخلوق پیدا فرمائی ہے؟
ارشاد ہوا وہ پانی ہے فرشے عرض گزار ہوئے! اے رب ! کیا کوئی مخلوق پانی سے بھی زیادہ طاقتور پیدا فرمائی ہے؟
ارشاد ہوا وہ ہوا ہے۔ پھر عرض کرنے لگے ! اے پروردگار! کیا ہوا سے بھی زیادہ سخت کسی مخلوق کو پیدا فرمایا ہے؟ اللہ تعالی نے فرمایا! ہاں وہ انسان جب داہنے ہاتھ سے صدقہ کرے تو اسے بائیں ہاتھ سے چھپائے (سبحان اللہ)

حضرت سیدنا علی کرم اللہ وجہُ الکریم کا فرمان ہے:جس دن تم اپنے دن کا آغاز صدقے سے کرتے ہو، اس دن تمہاری کوئی دُعا  رَد نہیں کی جائے گی اور اچھی بات بتانا بھی صدقہ ہے (حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ)۔

(صدقہ وہ عطیہ ہے جو اللہ تعالی کی بارگاہ سے ثواب کی امید پر دیا جائے)

صدقہ سے مراد ہر خیرات ہے چاہے وہ خیرات فرض ہو۔ یا نفلی اور یہ بات قرآن و حدیث اور تاریخی واقعات سے واضع ہے کہ صدقات دینے سے مال میں کمی واقع نہیں ہوتی بلکہ ہمیشہ اضافہ ہوتا ہے اور دونوں جہانوں دنیا اور آخرت میں اجر عظیم ملتا ہے۔


اس حدیث مبارکہ سے ہم صدقہ کی اہمیت کا اندازہ بخوبی لگا سکتے ہیں کہ صدقہ دنیا میں ہر چیز سے زیادہ طاقتور ہے،۔صدقہ صرف یہ نہیں ہےکہ ہم اپنا مال و دولت اللہ تعالی کی راہ پر خرچ کریں ۔۔۔بلکہ نیکی کی بات بتانا بھی صدقہ ہے۔ اور صدقہ کی اقسام کا اندازہ ہم اس حدیث مبارکہ سے لگا سکتے ہیں۔
ترجمہ۔ تمہارا اپنا بھائی کے لئے مسکرانا بھی صدقہ ہے۔نیکی کی دعوت دینا بھی صدقہ ہے۔ برائی سے روکنا بھی صدقہ ہے۔ بھٹکے ہوئے کی راہ نمائی کرنا بھی صدقہ ہے۔ کمزور نگاہ والے کی مدد کرنا بھی صدقہ ۔ راستے سے پتھر ہٹانا، کانٹا اور ہڈی  کا ہٹا دینا بھی صدقہ ہے۔ اپنے ڈول سے اپنے بھائی کے ڈول میں پانی ڈال دینا بھی صدقہ ہے۔

پھر فرمایا! ہر قرض صدقہ ہے۔

اگر کوئی انسان یہ چاہتا ہے کہ وہ اللہ تعالی کے حضور افضل ترین صدقہ پیش کرے تو اُسے چاہئے کہ وہ ناراض لوگوں کے درمیان صلح کروادیا کرے، ناراض لوگوں کی صلح کروانے کے بارے میں حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ

ترجمہ۔ آپس میں صلح کروانا افضل ترین صدقہ ہے۔

انسان جب اللہ تعالی کی راہ پر خرچ کرتا ہے تو اسے دنیا اور آخرت دونوں جہانوں میں فوائد حاصل ہوتے ہیں ۔۔۔دنیا میں تو مال خرچ کرنے پر دس گناہ ثواب اور نعم البدل ملتا ہے ۔۔۔اور جو اللہ تعالی کی راہ پر خرچ کرنے سے جو اجر عظیم آخرت میں دیا جائے گا اُسکا حساب تو اللہ تعالی ہی بہتر جانتا ہے۔
اگر انسان کو دنیاوی مال میں کمی لگ رہی ہو تو انسان کو چاہئے ۔کہ،،  وہ اللہ تعالی کی راہ پر صدقہ دے زیادہ سے زیادہ۔ مگر ہمارے ہاں رواج ہے کہ جب مال میں کمی ہوتو ہم صدقہ سے بھی ہاتھ روک لیتے ہیں حالانکہ صدقہ ہمیشہ مال بڑھاتا ہے۔

حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کا فرمان ہے کہ جب تمہیں اپنے مال میں کمی محسوس ہو تو اللہ تعالی سے تجارت کر لیا کرو۔
اسکا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالی کی راہ پر خرچ کرو تو کئی گناہ اجر دیا جائے گا۔



قران پاک میں اللہ تعالی کا ارشاد ہے کہ۔

ترجمہ۔ اللہ کی راہ میں جو خرچ کروگے تمہیں پورا دیا جائے گا اور کسی طرح گھاٹے میں نہ رہوگے۔
صدقہ کرنے کا جو اجر عظیم ملتا ہے سکی حقیقت تو اللہ تعالی کے علاوہ شائد اسکے انبیاء اکرام اور اولیائے کرام ہی جان سکتے ہیں اور اللہ تعالی کو کب کسکا دیا جانے والا صدقہ پسند آجائے اور کب صدقہ اسکے غضب کو ٹال دے یہ تو وہی بہتر سمجھ سکتا ہے۔

حدیث مبارکہ میں ہے کہ ۔ ۔ ۔

ترجمہ ۔ صدقہ،،  خدا کے غضب و  جلال کا ٹھنڈا کرتا ہے۔۔۔ اُور بری موت کو دور کرتا ہے۔
اس حدیث مبارکہ کو اور صدقہ کی اہمیت کو ہم اس چھوٹے سے ایک واقعہ سے بہت اچھی طرح سمجھ سکتے ہیں۔

حضرت عیسی علیہ السلام کے زمانے میں ایک دھوبی تھا، جو لوگوں کے کپڑے آپس میں تبدیل کردیتا، لوگوں نے حضرت عیسی علیہ السلام کو اسکے متعلق بتایا تو   آپ نے اللہ تعالی کی بارگاہ میں دعا کی (اے اللہ عزوجل! اسے ہلاک فرمادے ؛ ایک دن دھوبی اپنے معمول کے مطابق نکلا اسکے پاس میں  روٹیاں تھیں، ایک سائل آیا  تو ایک روٹی اُس نے اُسے دے دی۔ اس پر سائل نے اُسے دعا دی
(اللہ تعالی تجھ سے جملہ آفات سمایہ کا شر دور فرمائے)
دھوبی نے اس دعا سے متاثر ہوکر اسے ایک اور روٹی دے دی، اس پر اس سائل نے دعا دی۔
(اللہ تعالی تجھے جملہ آفتوں سے محفوظ رکھے)
تو دھوبی نے تیسری روٹی بھی اسے دے دی؛ اس پر سائل نے دُعا دی
(اللہ تعالی تجھے توبہ کی توفیق عطا فرمائے)
اُسی دوران ایک بہت بڑا سانپ اسکی کپڑوں کی گھٹری میں داخل ہوچکا تھا، جب دھوبی نے کپڑے لینے کا ارادہ کیا تو اس سانپ نے اسے ڈسنا چاہا۔ ایک فرشتے نے اس لمحے اس سانپ کو لوہے کی ایک لگام ڈال دی اور دھوبی سلامتی کے ساتھ واپس آگیا۔




لوگوں نے حضرت عیسی علیہ السلام سے عرض کیا ! یا روح اللہ ! وہ دھوبی تو صحیح سلامت واپس آگیا ہے! آپ نے اس دھوبی کو بلایا اور فرمایا، تونے کونسی بھلائی کی ہے؟ تو اس نے عرض کی میں نے ۔تین روٹیاں صدقہ کی تھیں
پھر آپ نے اس سانپ سے پوچھا تونے اسے قتل کیوں نہ کیا؟
سانپ نے عرض کی! اے اللہ کے نبی! اللہ تعالی نے آپکی دعا قبول فرمائی اور مجھے اسے ہلاک کرنے کے لئے بھیجا مگر جب اس دھوبی نے سائل کو صدقہ دیا تو ایک فرشتے نے آکر مجھے لوہے کی لگام ڈال دی۔ لوگ اس بات سے بہت متعجب ہوئے اور دھوبی نے توبہ کرلی۔
جب اللہ تعالی کے بندے اپنی جانوں پر ظلم کر بیٹھتے ہیں اور گناہ صغیرہ کبیرہ  کر لیتے ہیں تو ان کے لئے اللہ تعالی نے صدقہ کے ساتھ توبہ کے در کھول دئے ہیں ۔ حضور پاک ﷺ کی احادیث مبارکہ سے پتہ چلتا ہے۔ کہ،، صدقہ انسان کو جہنم کی آگ سے بچاتا ہے۔ اُور اسکی برائیوں اور گناہوں کو مٹا دیتا ہے۔ اس بارے میں کچھ احادیث مبارکہ ہیں جو کہ کچھ اس طرح ہیں ۔ ۔ ۔

ترجمہ۔ صدقہ دیا کرو، بے شک صدقہ تمہارے لئے جہنم سے بچاو کا ذریعہ ہے۔
ایک اور جگہ ارشاد ہوا۔ ۔ ۔

ترجمہ ۔ صدقہ  گناہوں  کو ایسے مٹا دیتا ہے جیسے پانی آگ کو بجھا دیتا ہے۔

حضرت ابو ذر رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک واقعہ بیان فرمایا کہ،، بنی اسرائیل میں ایک بہت عبادت گزار راہب تھا اس نے اپنے عبادت خانے میں ساٹھ برس تک اللہ تعالی کی عبادت کی پھر ایک روز زمین پر بارش ہوئی جس سے زمین سر سبز ہوگئی۔ راہب نے اپنی عبادت گاہ سے جھانکا تو اس نے سوچا کہ اگر میں نیچے اترا تو اللہ تعالی کے ذکر میں مشغول ہوجاوں ۔تو اسطرح اپنی نیکیوں میں اضافہ کرلوں گا۔ چناچہ وہ نیچے اترا تو  اسکے پاس  ایک یا دو روٹیا ں تھیں۔۔۔ اسی دوران اسے ایک عورت ملی دونوں میں باتیں شروع ہوئیں حتی کہ اس نے اس عورت سے زنا کرلیا۔ پھر اس پر غشی طاری ہوگئی۔ افاقہ ہونے پر غسل کرنے کے لئے ایک تالاب میں اترا تو ایک سائل آیا؛ اس نے اشارہ کیا کہ وہ دونوں روٹیاں لے جائے، پھر وہ راہب مر گیا۔ تو اسکی  ساٹھ سالہ عبادت کا اس زنا سے موازنہ کیا گیا تو وہ زنا اسکی نیکیوں پر غالب ہوگیا۔۔۔ پھر اسکی نیکیوں کے پلڑے میں وہ ایک یا دو روٹیاں  (جو اس نے سائل کو صدقہ کی تھیں) رکھی گئیں تو اسکی نیکیاں غالب آگئیں اور بفضلِ اللہ اسکی مغفرت فرمادی گئی۔



صدقہ دینے کےاور بہت سارے فوائد کے علاوہ ایک یہ بھی اجر ملتا ہے کہ اللہ تعالی صدقہ کرنے والے کی عمر بڑھا دیتا ہے اور اس بری موت سے بچاتا ہے۔ جیسا کہ احادیث میں بتایا گیا ہے کہ۔ ۔ ۔

ترجمہ۔  بے شک مسلمان کا صدقہ عمر کو بڑھاتا ہے اور بُری موت کو دور کرتا ہے۔
ایک اور جگہ پر فرمایا گیا۔ ۔ ۔

ترجمہ۔ بےشک صدقہ اور صلہ رحمی، ان دونوں سے اللہ تعالی عمر بڑھاتا ہے اور بری موت کو دفع کرتا ہے اور فِکراور اندیشہ کو دور کرتا ہے۔

ایک نوجوان حضرت داوٗد علیہ السلام  کی محبت میں تھا کہ ملک الموت علیہ السلام نے حضرت داوٗد علیہ السلام کو خبر دی کہ یہ شحص تین روز بعد مرجائے گا تو اس بات نے حضرت داوٗد علیہ السلام کو غمگین کیا، پھر آپ علیہ السلام نے اس شخص کو تین روز بعد صحیح سلامت پایا، پھر اسکے بعد ایک ماہ تک ٹھیک ٹھاک رہا، حضرت داوٗد علیہ السلام کو بہت تعجب ہوا، پھر آپ علیہ السلام کے پاس ملک الموت علیہ السلام حاضر ہوئے اور عرض کی کہ میں اس شخص کے پاس روح قبض کرنے گیا تو اللہ تعالی نے مجھ پر تجلی فرمائی اور فرمایا! یہ شخص اپنی عمر پوری کرنے سے  قبل باہر نکلا اور ایک مسکین کا پایا، اس نے اس مسکین کو بیس درہم دئیے تو اس مسکین نے دعا دی کہ اللہ تعالی تیری عمر میں برکت فرمائے، پس اسکی دعا قبول کی گئی۔۔۔ اور میں نے اسے ہر درہم کے بدلے ایک  ایک سال عطا فرمادیا ( سبحان اللہ)

حدیث مبارکہ ہے کہ ۔ ۔ ۔
ترجمہ۔  صدقہ ستر قسم کی بلاوٗں کو درو کرتا ہے جن میں آسمانی بلائیں ، بدن بگڑنا اور سفید داغ ہیں۔
اسکے علاوہ صدقہ کے بارے میں حدیث مبارکہ میں ارشاد ہوا کہ ۔۔۔
ترجمہ۔ صدقہ برائی کے ستر دروازے بند کرتا ہے۔
صدقہ دینے کے لئے یہ بھی دیکھنا چاہئے کہ صدقہ وصول کرنے والا مسلمان اور وہ واقعی صدقہ لینے کا حقدار ہو۔ جیسا کہ ہاشمی خاندان کو صدقہ دینا جائز نہیں ہے اور نہ ہی دیا جاسکتا ہے ۔ اسی طرح صدقہ اگر دینا ہو تو پہلے اپنے غریب رشتہ داروں کا خیال رکھا جائے اور پھر دوسرے لوگوں کا ، کیونکہ ہمارے صدقات کے زیادہ حقدار ہمارے رشتہ دار ہیں اور انہیں صدقہ کرنے کا ثواب بھی زیادہ ہے

ترجمہ ۔ حضرت سلیمان بن عامر رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشا فرمایا! مسکین کو صدقہ دینے پر ایک اجر اور رشتہ داروں کو صدقہ دینے پر دو اجر ملتے ہیں۔   ایک تو صدقہ کرنے کا اور دوسرا صلہ رحمی کرنیکا۔

حدیث مبارکہ کے مطابق صدقہ دینے کا بہترین وقت صبح کا وقت ہے جیسا کہ ارشاد ہوا۔۔۔
ترجمہ۔ صبح سویرے صدقہ دو کہ بلا صدقہ سے آگے قدم نہیں  بڑھاتی۔
صدقہ کا اجر جو ہمیں دنیا میں ملتا ہے وہ تو ملتا ہی ہے اسکے علاوہ بروز قیامت صدقہ حشر کےمیدان میں تپتی دھوپ میں اپنے صدقہ دینے والے انسان پر سایہ بن جائے گا اور اسکی نیکیاں پڑھانے میں مدد کرے گا۔

حدیث مبارکہ ہے کہ ۔۔۔

ترجمہ۔ حضرت حسن رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ حضور پاک صلی اللہ علیہ نے فرمایا!
رب تعالی فرماتاہے ! اے ابن آدم! اپنا خزانہ (صدقہ کر کے) میرے سپرد کردے،  نہ جلے گا، نہ ڈوبے گا اور نہ چوری ہوگا، تیری شیدید حاجت کے وقت (بروز قیامت) تجھے لوٹادوں گا۔  (سبحان اللہ)

حدیث مبارکہ ہے کہ۔۔۔

ترجمہ۔  بے شک صدقہ کرنے والوں کو صدقہ قبر کی گرمی سے بچاتا ہے اور بلاشبہ مسلمان قیامت کے دن اپنے صدقہ کے سائے میں ہوگا۔

صدقہ دینے والوں کے لئے قرآن پاک میں اللہ تعالی نے ان الفاظ میں خوشخبری دی ہے کہ۔۔۔
ترجمہ۔ ،صدقہ وخیرات کرنے والے مرد اور صدقہ وخیرات کرنے والی عورتیں ،روزہ رکھنے والے مرد اور روزہ رکھنے والی عورتیں ،اپنی شرمگاہ کی حفاظت کرنے والے مرد اور اپنی شرمگاہ کی حفاظت کرنے والی عورتیں ،اللہ کا کثرت سے ذکر کرنے والے مرد اوراللہ کا کثرت سے ذکر کرنے والی عورتیں ان کےلئے اللہ نے بخشش اور اجر عظیم تیا ر کررکھا ہے(احزاب۔۵۳) ۔(القرآن)

 

اب ہم ان احادیث، واقعات اور قرآنی آیات سے صدقہ کی اہمیت کا بخوبی اندازہ لگا سکتے ہیں کہ ہمیں صدقہ کرنے کا دنیا اور آخر دونوں جہانوں میں اجر عظیم دیا جائے گا۔ اور اس سے نہ تو ہمارے مال میں کمی ہوگی اور نہ ہی کنجوسی بڑھے گی بلکہ اس سے تو ہمیشہ اضافہ ہی ہوتا ہے اور جو ہماری بلائیں ٹلیں گیں وہ الگ اور پھر روز قیامت حشر کے میدان میں جو ہمارے اورپر سایہ ہوگا۔۔۔ وہ بھی ہمارا صدقہ ہی تو ہوگا۔

صدقہ کے بدلہ میں مال کے اضافے کے بارے میں بتاتے ہوئے قرآن حکیم میں اللہ تعالی کا ارشاد ہوا ہے
کہ۔۔۔

ترجمہ۔ ان کی کہاوت جو اپنے مال اللہ کی راہ میں خرچ کرنے ہیں اس  دانہ کی طرح جس نے اوگائیں
سات بالیں اور ہر بال میں سو دانے اور اللہ اس سے بھی زیادہ بڑھائے جسکےلئے چاہے اور اللہ وسعت والا اور علم والا ہے۔ (القرآن)

حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ ۔ ۔ ۔

ترجمہ۔ جب آدمی مرجاتا ہے تو سکے عمل کا سلسلہ منقطع ہوجاتا ہے لیکن تین عمل منقطع نہیں ہوتے۔ صدقہ جاریہ، علم نافع اور نیک اولاد جو اسکے لئے دعا کرتی ہے۔

میں نے تو اپنی حد تک بہت کوشش کی ہے کہ اسلامی بہن ، بھائیوں کو صدقہ کی اہمیت کے بارے میں کچھ بتا سکوں، اور شائد کسی بہن بھائی کا میری اس تحریر سے فائدہ ہوجائے۔ تو شائد اللہ تعالی مجھے بھی معافی کے قابل سمجھ لیں۔۔۔ اور آکر میری اس تحریر سے کسی ایک بھی انسان نے خلوص نیت سے صدقہ دینا شرع کردیا۔۔ تو میں اللہ تعالی کا شکر ادا کروں گی ۔کہ،، کسی ا نسان کو میری وجہ سے فائدہ پہنچا اور اللہ تعالی نے مجھے اس قابل جانا اور سمجھا کہ میں  اسکے دین کا کچھ علم یا اس علم کا کچھ حصہ ہی لوگوں تک پہنچا سکوں۔ کہ،، ہم انسان واقعی بُہت خسارے میں  ہیں۔ کہ،، جِس مال کو اتنی مشقت کے بعد حاصل کرتے ہیں۔ اُس میں سے تقدیر  بھی اپنا حصہ وصول کرلیتی ہے۔ مرنے کے بعد وارثین بھی حصے بخرے کرلیتے ہیں۔ لیکن جس نے اتنی مشقتوں سے یہ مال حاصل کیا تھا۔ وہ بُخل کا شکار ہُوجاتا ہے۔اُور اپنا حصہ جو وُہ صدقے کی صورت میں آگے بھیج سکتا تھا۔ اکثر نہیں بھیج پاتا۔ اُور جب تک اُسے اِس حصے کی قدر معلوم ہُوتی ہے۔ عمل کا سلسلہ موقوف ہوچُکا ہُوتا ہے۔

اللہ تعالی اپنی رحمت سے اور اپنے محبوب اعظم حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے صدقے ہمیں نیک
اعمال کی توفیق دے ۔ آمین 











وسیلہ استغاثہ استمداد۔ شریعت میں۔ مفتی محمد بلال رضا قادری دامت برکاتہم عالیہ

اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور اس کی طرف وسیلہ ڈھونڈو اور اس کی راہ میں جہاد کرو اس امید پر کہ فلاح پاؤ ۔۔۔سورہ المائدہ ۳۵

وسیلہ کی حقیقت
سُوال : استعانت، استمداد ،استغاثہ اور وسیلہ کسے کہتے ہیں؟ان کے مابین کوئی فرق ہے یا نہیں ؟ اور استمداد وغیرہ کرنا جائز ہے یا شرک ہے ؟ اگر جائز ہے تو اس کا ثبوت قرآن  احادیث صحیحہ سے ہے یا نہیں ۔۔۔؟اورجب اللہ تعالی حقیقی مدد فرمانے والا ہے اور یہ اولیا ء انبیاء صرف ہمارے لئے دعا فرمانے والے ہیں۔۔ یا اللہ تعالی کی اجازت سے مدد فرماتے ہیں تو پھر ان کے وسیلے سے کیوں دعا مانگیں ۔یا ان کو مدد کے لئے کیوں پکاریں۔۔۔؟

انشاء اللہ عزوجل ان تمام سوالات کے جوابات اس مضمون میں شامل ہیں 

تمہیدی کلمات

وسیلہ  خواہ  تقرب کیلئے ہو یا  حاجت روائی کیلئے ہوخواہ  کسی نیک اعمال کا ہو یا کسی نیک بندے کا ہو ۔خواہ  وہ نیک ہستی حیات ہو۔ یا ظاہری وفات پاچُکی ہو۔۔۔خواہ وَسیلہ کلام حقیقی ذاتی کی صورت میں ہو ۔یا کلام مجازی کی صورت میں ہو۔ یہ قرآن واحادیث کی روشنی میں ایک ثابت شدہ امر ہے۔  اور جائز ہے۔۔۔اِسے  شرک  کہنا  عام مسلمانوں بلکہ بڑے بڑے محدثین تابعین اور صحابہ کرام  علیھم الرضوان  پر الزام کے مترادف  ہے۔ بلکہ اِن نفوسِ قُدسیہ کو  شرکیہ افعال میں مبتلا ہونے والا۔ کہنے کے مترادف ہے ۔۔۔

حالانکہ قرآن کی کسی  آیت اور کسی حدیث میں وسیلہ کا انکار نہیں ہے ۔اُور جو حضرات ہٹ دھرمی دِکھاتے ہوئے قرآن کی  وہ آیات پڑھ پڑھ کر سناتے ہیں۔۔ کہ،، جس میں بتوں کو پوجنے اور ان سے مدد مانگنے سے منع کیا گیا ہے۔ جُو کہ ،،صریح گُستاخی تُو ہے ہی۔۔۔ لیکن علمی خیانت بھی ہے۔۔۔ کہ جانتے بُوجھتے آیات کا محل بدل دِیا جائے۔ یہ قُرانی آیات کی تفسیر  بالرائے کے مترادف ہے۔ جسکی اِسلام میں قطعی گنجائش نہیں ہے۔ بلکہ  اپنی جانب سے قران کی تفسیر کرنا بلااجماع علما و محدثین حرام عمل ہے۔
مثلاً
قُلْ اَنَدْعُوۡا مِنۡ دُوۡنِ اللہِ مَا لَا یَنۡفَعُنَا وَلَا یَضُرُّنَا وَ نُرَدُّ عَلٰۤی اَعْقَابِنَا بَعْدَ اِذْ ہَدٰینَا اللہُ ﴿ۙ۷۱﴾
تم فرماؤ  کیا ہم اللّٰہ کے سوا اس کو پوجیں جو ہمارا نہ بھلاکرے۔ نہ بُرا۔  اُور الٹے پاؤں پلٹا دیئے جائیں بعد اس کے کہ اللّٰہ نے ہمیں راہ دکھائی ۔

اور ان آیات میں لفظ’’ دعا‘‘ پکار  کے معنی میں نہیں بلکہ عبادت کے معنی میں ہے  مگر ہٹ دھرمی دیکھئے کہ قرآن  میں اپنی رائے سے تفسیر کر تے ہوئے کہتے  ہیں  کہ دعا سے مُراد’’ پکارنا‘‘ ہے لہذا کسی نبی ولی کو پکارنا جائز نہیں ہے یہ شرک ہے العیاذ باللہ تعالی حالانکہ تمام مفسرین نے  ان مقامات پر لفظ دعا کا معنی  عبادت کرنا بیان کیا ہے مگر جس کا کام ہی مسلمانوں پر شرک کا فتوی صادر کرنا ہو تو  اُسے اپنے ایمان کی بھی  کیا فِکر ہُوگی۔۔۔؟

رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’ مَنْ قَالَ فِی الْقُرْآنِ بِغَیْرِ عِلْمٍ فَلْیَتَبَوَّأْ مَقْعَدَہُ مِنْ النَّارِ‘‘ یعنی : جس نے قرآن میں بغیر علم کے کچھ کہا پس اس کا ٹھکانہ جہنم میں ہے ۔
(سنن الترمذی باب تفسیر القران حدیث نمبر۲۱۰۱)

بالفرض محال آپ اس کا معنی ’’پکارنا‘‘ ہی لو تو جناب یہ بتایئے کہ  دنیا میں کون مسلمان  پھر شِرک سے باہررہا۔۔۔ ہر شخص کسی نہ کسی شخص کو دنیا میں اپنی مدد وغیرہ کے لئے ضرور پکارتا ہے۔۔۔ تو جن حضرات نے مطلق پکارنے کو ہی شرک کہا تو اس صورت میں دنیا میں سب کے سب ہی معاذ اللہ کافر و مشرک ہوگئے۔ کیونکہ قرآن پاک میں اﷲ تعالی نے اس آیت میں جس کو آپ نے دلیل کے طور پر پیش کیا ہے۔ مطلقاً  بَندوں کو پکارنے سے منع کیا ہے۔ تو اب آپ کسی کو بھی نہیں پکار سکتے۔۔۔ اُور اگر آپ یہ کہیں کے زِندوں کو پکار سکتے ہیں۔ مگر مُردہ کو نہیں پکار سکتے۔

تو حضرت موسی علیہ السلام نے اُمتِ محمدیہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اپنے وصال مبارک کے کئی سو سال بعد مدد فرمائی۔ پچاس نمازوں کو پانچ نمازوں میں تبدیل کرواکر۔۔۔۔ تو اعتراض کرنے والوں کو چاہیئے کہ،، وُہ  پُوری پچاس نماز ہی پڑھا کریں۔ کہ،، آپ تو مرنے کے بعد مدد کے قائل نہیں ہیں۔۔۔ نیز آپ نے یہ مُردہ اور زندہ کی تفسیرکہاں سے کی ہے ۔۔۔؟ ذرااس کا حوالہ دیجیے وگرنہ  آپکا یہ عمل تفسیر بالرائے کرنا ہے۔۔۔ جو کہ حرام ہے۔ اور اگر زندہ کو پکار سکتے ہیں تو کیا فرعون کے ساتھی جو اسے خدا سمجھ کر پکارتے تھے ۔۔تو کیا وہ جائز تھا۔۔۔؟ یا آج اگر کوئی کسی کو خدا سمجھ کر پکارے تو کیا یہ جائز ہوگا۔۔۔؟ تو معلوم یہ  ہُوا۔ کہ،،  زندہ یا مرد ہ کا فرق نہیں بلکہ خدا سمجھ کر پکارنا ممنوع ہے۔ اُور یہی شرک ہے ۔


الحمد للہ کوئی بھی ذی شعور مسلمان کسی نبی علیہ السلام یا  وَلیُ اللہ  کو خدا سمجھ کر ہر گز نہیں پکارتا۔ اور جو پکارے وہ یقیناًمشرک ٹھہرے گا۔ اب بھی اگر  کوئی ان آیات  کوجو کہ  کفار کے حق میں نازل ہوئیں انہیں مسلمانوں پر چسپاں کرتا دَکھائی دے ۔ تو درحقیقت وہ اسلام کے لِبادے میں اہل خوارج بے دین لوگوں میں سے ہیں ۔کیونکہ بخاری شریف میں یہ خوارجیوں کی نشانی بیان کی گئی ہے

 حضرت ابن عمر رضی اﷲ تعالی عنہ خارجیوں کے بارے میں فرماتے ہیں ’’وقال إنہم انطلقوا إلی آیات نزلت فی الکفار فجعلوہا علی المؤمنین‘‘ یعنی : فرمایا کہ( خارجیوں کی نشانی یہ ہے کہ) وہ آیات جو کفار کے حق میں نازل  ہوئی ہیں مسلمانوں پر تھوپتے ہیں۔(صحیح بخاری باب قتل الخوارج قبل حدیث نمبر۶۵۳۱ )۔


ہم مسلمان الحمدللہ رب العلمین ہرطرح کے شرک سے محفوظ ہیں۔  کیونکہ اس بات کی ضمانت خود اللہ کے سچے رسول ﷺ نے دی ہے صحیح بخاری میں ہے’
’وانی واللہ ما اخاف علیکم ان تشرکو بعدی ‘‘۔یعنی’’اور بے شک میں اللہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں مجھے اپنے بعد تمہارے شرک میں مبتلا ہونے کا کوئی خوف نہیں ‘‘۔
[صحیح بخاری ،باب الصلوٰۃ علی الشہید،کتاب الجنائز،ج:ا،جزء:
۲،ص۹۴،مکتبہ دارالفکر بیروت]

ان شاء اللہ  اس بیان سے یہ بات واضح ہوگئی کہ قرآن  وحدیث میں وسیلہ کی ممانعت نہیں ہے


استعانت، استمداد ،استغاثہ اور وسیلہ کسے کہتے ہیں؟

استعانت یہ عون سے بنا ہے جس کا معنی ہے مدد طلب کرنا۔
استمداد یہ مدد سے بنا ہے اس کا معنی ہے مدد طلب کرنا۔
استغاثہ یہ غوث سے نکلا ہے اس کا معنی ہے کسی کو مشکل میں مدد کے لئے پکارنا۔
توسل یا وسیلہ اس کا معنی ہے ذریعہ یعنی جس کے ذریعے بندہ اللہ تعالی کا تقرب حاصل کرے اسے وسیلہ کہتے ہیں۔

کیا اِن کے مابین کوئی فرق ہے یا نہیں ؟ 
یہ چاروں حقیقت میں ایک ہی شئی ہیں ان میں کوئی خاص فرق نہیں ہے۔ یو ں سمجھ لیجئے۔ کہ،، ایک ہی شئے کے چارنام ہیں مگر ان میں ایک باریک سا فرق ہے۔
وہ یہ کہ استمدا د،استعانت اورا ستغاثہ میں بندہ فاعل حقیقی یعنی اللہ تعالی کے بجائے سبب (وسیلہ) کی طرف اپنے کلام کی نسبت کرتا ہے مگر اس کی مراد فاعل حقیقی سے ہی ہوتی ہے ۔(یعنی اصل مدد اللہ تعالی ہی فرمائے گااس کے اذن کے بغیر مدد ممکن نہیں)اور یوں(مجاز عقلی والا )کلام لاتا ہے۔
استعانت ۔استمداد اور استغاثہ جیسے اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم مدد فرمایئے۔ 
اب اس جملے میں اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مدد طلب کی گئی ہے ۔جو کہ وسیلہ ہیں۔ تو اس جملے میں بندے نے وسیلے کی طرف نسبت کی۔ مگر مدد مانگنے والے کی مراد یہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کی بارگاہ میں اِس کے لئے دعا فرمائیں گے ۔اور اللہ تعالی کے اذن سے اس کی مدد فرمائیں گے۔۔۔یہ گمان ہرگز نہیں ہوتا کہ اللہ کی مرضی اوراجازت کے بغیر نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس کی مدد کر سکتے  ہیں ۔ یا معاذ اللہ عزوجل یہ نیک ہستی مالک کائنات جل جلالہ کو دعا قبول کرنے پر مجبور کر دے گی اگر یہ عقیدہ رکھا جائے تو یہ کفروشرک ہے الامان والحفیظ۔

جبکہ وسیلہ میں بندہ حقیقی معنی   کی ہی طرف اپنے کلام کی نسبت کرتا ہے اور یوں دعا کرتا ہے اے اللہ عزوجل تو نبی علیہ السلام کے وسیلے(صدقے یا طفیل ) سے میری مدد فرما ۔
یا اس طرح اے اللہ کے نبی علیہ السلام آپ میرے حق میں دعا فرمائیں کہ اللہ تعالی میری مدد فرمائے۔ 



اب اگرذہن میں یہ سوال ابھرے ۔کہ،، جب وسیلے کو کلام میں ذکر کر کے  نسبت مسبب الاسباب  فاعل حقیقی  جل جلالہ  کی طرف کی جائے ۔تو یہ کلام حقیقت ہوگا ۔اور جب استعانت یا استغاثہ کی صورت میں کلام لائے۔ اُور سبب(وسیلہ) کی طرف کلام کی نسبت کردی جائے ۔تو  یہ کلام مجاز عقلی ہوگا ۔ یہ قاعدہ اور اصول کس نے بنایا اور کہاں سے یہ اصول سمجھا گیا۔۔۔؟

تو اس سوال کا جواب یہ ہے کہ قرآن مجید  میں رب تعالی نے اس اصول کو بیان فرمایا ہے۔ مگر اس کو سمجھاعقل والوں نے  ہے۔
قرآن مجید میں اس قسم کی کئی مثالیں موجود ہیں۔ مگر میں  طوالت کے بجائے  تفہیم کی غرض سے فقط ۲ ہی مثالوں پر اکتفا ء کرتا ہوں۔

اللہ رب العالمین قرآن مجید میں ایک مقام پر موت دینے کی نسبت اپنی طرف فرماتا ہے۔ جبکہ دوسری آیت  میں موت دینے کی نسبت موت کے فرشتے(حضرت عزرائیل علیہ السلام) کی طرف فرما رہا ہے ۔
ملاحظہ فرمائیں
 اَللہُ یَتَوَفَّی الْاَنۡفُسَ  ترجمہ کنز الایمان: اللّٰہ جانوں کو وفات دیتا ہے  ( سورۃ الزمر آیت ۴۲)۔
 
قُلْ یَتَوَفّٰىکُمۡ مَّلَکُ الْمَوْتِ الَّذِیۡ وُکِّلَ بِکُمْ
ترجمہ  کنزالایمان :تم فرماؤ تمہیں وفات دیتا ہے موت کا فرشتہ جو تم پر مقرر ہے۔(سورہ السجدہ آیت ۱۱)۔



اللہ رب العالمین قرآن مجید میں ایک مقام پر اولاد دینے کی نسبت اپنی طرف فرماتا ہے ۔جبکہ دوسری آیت  میں اولاددینے کی نسبت (حضرت جبرائیل علیہ السلام) اپنی  طرف فرما رہے ہیں ۔
ملاحظہ فرمائیں

 لِلہِ مُلْکُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ ؕ یَخْلُقُ مَا یَشَآءُ ؕیَہَبُ لِمَنْ یَّشَآءُ اِنٰثًا وَّ یَہَبُ لِمَنۡ یَّشَآءُ الذُّکُوۡرَ ﴿ۙ
۴۹﴾
ترجمہ  کنزالایمان :اللّٰہ ہی کے لئے ہے آسمانوں اور زمین کی سلطنت پیدا کرتا ہے جو چاہے جسے چاہے بیٹیاں عطا فرمائے اور جسے چاہے بیٹے دے(سورہ الشوری آیت ۴۹)

لِاَہَبَ لَکِ غُلٰمًا زَکِیًّا ﴿۱۹﴾            ترجمہ  کنزالایمان :میں تجھے ایک ستھرا بیٹا دوں۔(سورہ المریم آیت ۱۹)

اب ان دونوں  مثالوں کو یہاں پر پیش کرنے کا مقصد یہ ہے کہ اللہ رب العالمین نے قرآن مجید میں شرک  وحرام ہونے یا نہ ہونے  کا قاعدہ و اصول بیان فرمادیا  کہ حقیقی فاعل اللہ تعالی  ہی ہے ۔باقی حضرت عزرائیل علیہ السلام اللہ کے حکم اور اللہ کی دی ہوئی طاقت سے  موت دیتے ہیں۔ اور اس کے حکم اور اذن کے بغیر کسی کو موت نہیں دے سکتے۔ اسی طرح حضرت جبرائیل علیہ السلام کا معاملہ تھا کہ حقیقی خالق اور اولاد دینے والا اللہ ہی ہے۔ باقی حضرت جبرائیل علیہ السلام  نےاللہ کے اذن سے اولاد  دی۔

تو معلوم ہوا قرآن پاک میں جس مقام پر یہ فرمایا کہ اللہ ہی موت دیتا  ۔اولاد دیتا ہے وغیرہ (یعنی اللہ کی طرف نسبت ہو) تو یہ کلام حقیقت ہوگا  کیونکہ حقیقی فاعل اللہ ہی ہے ۔

اور جس مقام پر موحد(توحید کا اقرار کرنے والا) نے اس طرح کا کلام کیا کہ میں موت دیتا ہوں۔ یا اُولاد دیتا ہوں۔ یا مدد کرتا ہوں۔ وغیرہ وغیرہ ۔۔۔تو  یہ کلام   مجاز  ی  ہوگا۔ کیونکہ اس میں بندے نے سبب کی طرف صرف  اپنےکلام  کی نسبت کی ہے۔  مگر اس کا اعتقاد یہی ہے۔ کہ،، حقیقی فاعل اللہ  ہی ہے۔اللہ ہی مد د فرمائے گا۔ اللہ ہی موت دیگا ۔اللہ ہی اولاد دیگا۔   اس کی مرضی اور اذن کے بغیر پتہ ہل بھی نہیں سکتا ہے۔ تو یہ جائز ہے اور شرک و حرام نہیں ہے۔  وگرنہ حضرت جبرائیل و عزرائیل علیہ السلام  کے بارے میں قرآن میں یوں ذکر نہ آتا۔

اسی قاعدے  واصول کوعلامہ سعد الدین تفتازانی علیہ رحمۃ الباری (سن وصال 791ہجری ) کتاب ’’المطول ‘‘ جو کہ درس نظامی عالم کورس میں پڑھائی جاتی ہے۔ میں  وضاحت فرماتے ہیں ’’ جب موحد (مسلمان) یہ کہے ’’ انبت الربیع البقل ‘‘ یعنی موسم بہار نے سبزہ اگایا ‘‘ تو یہ اسنادمجاز ی ہے۔ کیونکہ موحد کا یہ عقیدہ نہیں ہے ۔کہ،، اُگانا بہار کی صفت ہے۔(یعنی مسلمان کا عقیدہ یہ ہے کہ اُگانا اللہ تعالی کا کام ہے اور موسم بہار یہ سبزہ اگنے کا سبب ہے ) جبکہ یہی جملہ اللہ تعالی کے وجود کا منکر کہے گا ۔تو اسے حقیقت کہا جائے گا (کیونکہ وہ اللہ تعالی کے وجود کا ہی منکر ہے تو پھر تاثیر کا کیونکر قائل ہوگا)۔
(المطول صفحہ ۱۰۶)


علامہ عبد الحکیم شرف قادری  مزید اسی اصول کی وضاحت فرماتے ہیں۔
اگر دہریہ نے کہا کہ طبیب نے مریض کو شفاء دی تو یہ حقیقت ہے۔ کیونکہ وہ اللہ تعالی کی تاثیر کا قائل ہی نہیں ہے ۔ مگریہی بات اگرمومن نے کہی تو اسے مجاز عقلی کہاجائے گا۔ اور اس کا ایماندار ہو نا اس بات کی علامت ہوگا کہ وہ شفاء کی نسبت طبیب کی طرف اس لئے کر رہا ہے۔ کہ،، وہ شفاء کا سبب ہے ۔اس لئے نسبت نہیں کررہا ہے۔ کہ،، فی الواقع طبیب نے شفاء دی ہے شفاء دینا اللہ تعالی کا کام ہے ۔

مزید فرماتے ہیں اس گفتگو پر غور کرنے سے مسئلہ استعانت( مدد طلب کرنا ) کی حیثیت بالکل واضح ہوجاتی ہے کیونکہ انبیاء علیھم السلام و اولیاء علیہم الرحمۃ سے مدد چاہنے والا اگر مومن ہے۔ تو اس کا ایماندار ہونا اس بات کی علامت ہے کہ اس کے نزدیک کاساز حقیقی مقاصد کو پورا کرنے والا اللہ تعا لی ہی ہے ۔ان امور کی نسبت اولیاء و انبیاء کی طرف مجاز عقلی کے طور پر کی گئی ہے ۔کہ،،  وہ مقاصدکوپورا کرنے کے لئے سبب اور وسیلہ ہیں۔
(عقائد ونظریات صفحہ ۱۸۴ مکتبہ قادریہ (

شاہ عبد العزیز علیہ رحمۃ اللہ القوی اسی اصول کواپنے انداز میں کچھ یوں بیان فرماتے ہیں ۔کہ،،یہاں یہ سمجھ لینا چاہئے کہ غیر اللہ سے اس طرح مدد مانگنا ۔کہ،، اسی پراعتماد ہو۔ اور اس کو اللہ کی مدد کامظہر نہ جانا جائے حرام ہے۔ اور اگر توجہ حضرت حق ہی کی طرف ہے۔ اور اس کو اللہ کی مدد کا مظہر جانتا ہے۔ اور اللہ کی حکمت اور کارخانہ اسباب پر نظر کرتے ہوئے ظاہری طور پر غیر سے مدد چاہتاہے ۔تو یہ عرفان سے دورنہیں۔ اورشریعت میں بھی جائز اور روا ہے۔ اور انبیاء اور اولیاء نے ایسی استعانت کی ہے۔ اور درحقیقت یہ استعانت غیر سے نہیں ہے ۔بلکہ یہ حضرت حق سے ہی استعانت ہے۔
 (فتح العزیز ،تفسیر عزیزی،تفسیر سورہ فاتحہ      افغانی دارالکتب دہلی    ص۸ )۔
فقیہ محدث علامہ محقق عارف باللہ امام ابن حجر مکی قدس سرہ الملکی حدیثوں سے استعانت کا ثبوت دے کر فرماتے ہیں: ’’ولا فرق  بین ذکر التوسل و الاستغاثہ‘‘یعنی :توسل اور استغاثہ ذکر کرنےمیں کوئی فرق نہیں
مزید فرماتے ہیں
فالتوجہ والاستغاثہ بہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم بغیرہ لیس لہما معنی فی قلوب المسلمین غیر ذٰلک ولایقصد بہما احد منہم سواہ فمن لم یشرح صدرہ لذٰلک فلیبک علی نفسہ نسأل اﷲ العافیۃ والمستغاث بہ فی الحقیقۃ ہو اﷲ و النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ واسطۃ بینہ وبین المستغیث۔

یعنی رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم یا حضور اقدس کے سوا اور انبیاء واولیاء علیہم افضل الصلٰوۃ والثناء کی طرف توجہ اور ان سے استغاثہ (فریاد) کے یہی معنی مسلمانوں کے دل میں ہیں اس کے سوا کوئی مسلمان اور معنی نہیں سمجھتا ہے نہ قصد کرتا ہے تو جس کا دل اسے قبول نہ کرے وہ آپ اپنے حال پر روئے، ہم اللہ تبارک وتعالٰی سے عافیت مانگتے ہیں حقیقتا استغاثہ (فریاد) اللہ عزوجل کے حضور ہے اور نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم اس کے اور اس فریادی کے بیچ میں وسیلہ و واسطہ ہیں۔
 ( الجوہر المنظم     الفصل السابع     فیما ینبغی للزائر الخ  مکتبہ مدبولی قاہرہ صفحہ ۱۱۰)۔

اما م علامہ خاتمۃ المجتہدین تقی الملۃ والدین فقیہ محدث ابوالحسن علی بن عبدالکافی سبکی رضی اللہ تعالٰی عنہ کتاب شفاء السقام میں استمداد واستعانت کو بہت احادیث صریحہ سے ثابت کرکے ارشاد فرماتے ہیں۔

والمستغاث بہ  فی الحقیقۃ ھو اللہ تعالی والنبی  ﷺ واسطۃ بینہ و بین المستغیث
یعنی :مستغاث بہ(جس سے مدد طلب کی جارہی ہے) حقیقت میں اللہ تعالی ہے اور نبی ﷺ   مستغیث (مدد طلب کرنے والا) اور مستغاث بہ (اللہ تعالی ) کے درمیان واسطہ (وسیلہ ) ہیں۔
( شفاء السقام فی زیارۃ خیر الانام     الباب الثامن فی التوسل الخ   دار الکتب العلمیۃ    ص۳۷۹)

ان تمام دلائل سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ استعانت ،استمداد ،استغاثہ اور وسیلہ ایک ہی شئی ہیں  بس فرق یہ ہے کہ استعانت ،استمداد ،استغاثہ میں وسیلہ کے طرف نسبت کر کے کلام مجازی کو استعمال کیا جاتا ہے جبکہ وسیلہ میں  کلام حقیقی ذاتی  کو  لایا جاتا ہے اور اس کلام   میں فاعل حقیقی کی طرف نسبت کردی جاتی ہے
اور  اس طرح اللہ تعالی سے دعا کرنا ایک جائز امر ہے اسے ناجائز و شرک کہنا شریعت پر بہتان باندھناہے ۔ اُور سخت گناہ کا کام ہے۔

اب اگر یہ سوال ذہن میں آئے کہ  مذکورہ دلائل میں کبار علمائے کرام کے اقوال  ہیں اور قرآن پاک سے وسیلہ اور استغاثہ پر جو دلیل دی ہے وہ صراحت کے ساتھ اس مفہوم پر دلالت نہیں کرتی ہے تواس شبہ کا ازالہ قرآن واحادیث صحیحہ کی  روشنی میں اگلی سلسلہ میں بیان کیا جائے گا ان شاء اللہ
(جاری ہے)