bing

Your SEO optimized title page contents

Pages

Hamara Tube Channel

Wednesday, 18 September 2013

حیا کی خوشبو




اور وہ کہ جب کوئی بے حیائی یا اپنی جانوں پر ظلم کریں اﷲ کو یاد کر کے اپنے گناہوں کی معافی چاہیں اور گناہ کون بخشے سوا اﷲ کے اور اپنے کئے پر جان بوجھ کر اَڑ نہ جائیں
(سورت آل عمران آیت ١٣٥)

تم فرماؤ میرے رب نے تو بے حیائیاں حرام فرمائی ہیں جو ان میں کھلی ہیں اور جو چھپی اور گناہ اور ناحق زیادتی اور یہ کہ اﷲ کا شریک کرو جس کی اس نے سند نہ اتاری اور یہ کہ اﷲ پر وہ بات کہو جس کا علم نہیں رکھتے
(سور ت الاعراف آیت ٣٣ )

یہ خِطاب مشرکین سے ہے جو بَرہنہ ہو کر خانۂ کعبہ کا طواف کرتے تھے اور اﷲ تعالیٰ کی حلال کی ہوئی پاک چیزوں کو حرام کر لیتے تھے، ان سے فرمایا جاتا ہے کہ اﷲ نے یہ چیزیں حرام نہیں کیں اور ان سے اپنے بندوں کو نہیں روکا، جن چیزوں کو اس نے حرام فرمایا وہ یہ ہیں جو اﷲ تعالٰی بیان فرماتا ہے ان میں سے بےحیائیاں ہیں جو کھلی ہوئی ہوں یا چھپی ہوئی، قولی ہوں یا فعلی ۔

تفسیر خزائن العرفان

عراق کے مشہور شہر بصرہ میں ایک بزرگ گزرے ہیں جنہیں لوگ حضرت مِسکی (رحمتہ اللہ علیہ) کے نام سے پکارا کرتے تھے مسکی عربی لفظ ہے جسکے لغوی معنی ہیں مُشک والا مشکبار یعنی مُشک کی خوشبو میں بسا ہوا اور آپکا نام مِسکی مشہور ہونے کی وجہ صرف یہی بیان کی جاتی ہے کہ آپ سے ہر وقت مشک کی خوشبو آیا کرتی تھی حتیٰ کہ آپ جس راستے سے گزر جاتے وہ راستہ بھی مہک جاتا آپ علیہ الرحمہ جب مسجد تشریف لے جاتے تو لوگوں کو خوشبو کی مہک سے ہی معلوم ہوجاتا کہ حضرت مِسکی علیہ الرحمہ تشریف لا چکے ہیں

ایک مرتبہ کسی نے دریافت کیا حضور آپکو خوشبو پر کثیر رقم خرچ کرنی پڑتی ہوگی آپ نے مُسکرا کر جواب دیا نہ ہی میں نے کبھی خوشبو خریدی اور نہ ہی کبھی لگائی ہے مجھ سے جو ہر وقت مُشک کی خوشبو آتی ہے یہ ایک عجیب و غریب واقعہ ہے مزید استفسار پر آپ نے یہ واقعہ سُنایا کہ میں بغداد شریف کے ایک خوشحال گھر میں پیدا ہوا اور میری بھی تعلیم و تربیت اُمرا کے بچوں کے ساتھ ہوئی میں نہایت خوبصورت اور باحیا تھا میری شرم وحیا کو دیکھ کر کسی نے میرے والد کو مشورہ دیا کہ اِسے بازار میں بِٹھاؤ تاکہ اسکی حیا کچھ کم ہو اور اس طرح یہ لوگوں کیساتھ گُھل مِل کے رہنا بھی سیکھ جائے گا چناچہ میرے والد نے مجھے ایک (بَزَار) کپڑے کے تاجر کی دُکان پر بِٹھا دیا ایک دِن ایک بُڑھیا نے کچھ قیمتی کپڑے نِکلوائے پھر بَزَار سے کہنے لگی

میرے ساتھ کسی کو بھیج دو تاکہ جو پسند ہوں اُنہیں لینے کے بعد قیمت اور بقیہ کپڑے واپس لے آئے چناچہ دکاندار نے مجھے بھیج دیا بڑھیا مجھے ایک عظیم الشان محل میں لے گئی اور مجھے ایک آراستہ کمرے میں بھیج دیا جہاں پر زیورات سے آراستہ خوش لباس جوان لڑکی تخت پر بیٹھی ہوئی تھی یہ کمرہ اتنا حسین اور سجا ہوا تھا کہ اس سے قبل میری آنکھوں نے نہ دیکھا تھا مجھے دیکھتے ہی اُس لڑکی پر شیطان غالب آگیا وہ میرے قریب آکر مجھ سے چھیڑ خانی کرنے لگی اور مجھے گناہ کی دعوت دینے لگی میں نے گھبرا کر کہا اللہ عزوجل سے ڈر۔ مگر شیطان اُس لڑکی پر پوری طرح مُسلط تھا وہ نہ مانی۔

جب میں نے اُسکی ضد دیکھی تو میرے دِل میں گناہ سے بچنے کی ایک تدبیر آئی اور میں نے اُس لڑکی سے کہا کہ مجھے استنجا کی حاجت محسوس ہورہی ہے اُس کی آواز پر بیشمار کنیزیں حاضرہو گئیں اُس نے کہا اپنے آقا کو بیت الخلا لے جاؤ۔ میں جب بیت الخلا پہنچا تو فرار کی کوئی راہ نہ ملی اور مجھے اُس عورت کے ساتھ بدکاری کرتے ہوئے اپنے رب عزوجل سے حیا آرہی تھی چُناچہ مجھے ایک ہی رستہ سمجھ آیا اور میں نے استنجا خانے کی غلاظت سے اپنے ہاتھ منہ اور جسم بھر لئے اور کنیزوں کو خود سے ڈرانے لگا اور دیوانوں کی طرح چیخنے چلانے لگا کنیزیں خوفزدہ ہو کر پاگل پاگل چِلانے لگیں تمام کنیزوں نے مِل کر مجھے ایک ٹاٹ میں لپیٹا اور مجھے ایک باغ میں پھینک دیا گیا جب مجھے یقین ہوگیا کہ سب جاچُکے ہیں تب میں اُٹھا اور اپنے جسم اور کپڑوں کو دھو کر پاک کیااور اپنے گھر خاموشی سے چلا گیا اور اِس بات کا کسی سے تذکرہ نہیں کیا اُسی رات میں نے خواب میں ایک بُزرگ کو خواب میں دیکھا اُنہوں نے مجھ سے پوچھا کیا تُم مجھے جانتے ہو؟ میں نے عرض کیا نہیں اُنہوں نے کہا ـ 
میں جبرایئل ( علیہ السلام ) ہوں اُسکے بعد اُنہوں نے میرے منہ اور جسم پر ہاتھ پھیرا اور اُس وقت سے میرے جسم سے مُشک کی بہترین خوشبو آنے لگی ۔ یہ سیدنا جبرایئل علیہ السلام کے دست مُبارک کی خوشبو ہے
حوالہ ۔روض الریاحین

یا رب عزوجل ہمیں بھی اپنے پیارے محبوب ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کی حیا دار چشمان کرم کے صدقے حیا کی دولت عطا فرما اور بے حیائی سے بچا - آمین بجاہِ نبی الامین وصلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم

Tuesday, 3 September 2013

جاسوسی ضروری کیوں



محترم قارئین کرام السلام و علیکم

ایک خوبصورت واقعہ جس میں ہمارے لئے رہنمائی کے گوہر آبدار موجود ہیں آپکی جانب نہایت اخلاص سے پیش کر رہا ہوں اگر کسی کے دل میں گھر کر گیا تو میری محنت وصول ہو جائیگی ویسے میرا اس بات پہ پختہ یقین ہس کہ اللہ عزوجل کسی کی محنت ضائع نہیں کرتا

ایک مرتبہ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے دور خلافت میں مدینہ طیبہ کا رات میں دورہ فرما رہے تھے کہ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے گوش مبارک نے ایک مکان سے کچھ نا پسندیدہ آوازیں سنیں اور آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بے اختیار اس مکان کے قریب پہنچ کر اس مکان کے ایک سوراخ سے اندر دیکھنے لگے تو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ملاحظہ فرمایا کہ کچھ لوگ اندر شراب پی کر غل غپاڑہ مچا رہے ہیں آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ دروازے سے ہٹ کر سوچنے لگے کہ انہیں کیا سزا دی جائے لیکن اس وقت آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کسی کشمکش کا شکار ہوگئے اور واپس آکر سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے گھر کا دروازہ کھٹکھٹایا حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے رات کے اس پہر امیرالمومنین کو دیکھا تو حیرت سے دریافت فرمایا یا امیرالمومنین خیریت تو ہے؛ حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا یا سیدی ایک معاملے میں آپکی رائے فوراً درکار ہے لہٰذا فوری طور پر میرے ساتھ چلیے چنانچہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ آپ کے ساتھ چل دئے وقوعہ کی جگہ پہنچ کر حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس سوراخ کی طرف اشارہ فرمایا کہ یہاں سے دیکھیے اب بےساختہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بھی ان شرابیوں کو اس حال میں ملاحظہ فرما لیا اس کے بعد یکدم پلٹے اور حضرت عمر فاروق سے استفسار فرمایا کہ یا امیرالمومنین آپ مجھے یہ ماجرا کیوں دکھانا چاہتے تھے حضرت عمر فاروق نے رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرمایا کہ میں آپ سے معلوم کرنا چاہتا ہوں کہ ان شرابیوں کی سزا کیا ہے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا آپ بہتر جانتے ہیں لیکن حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بے حد اسرار پہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعا لیٰ عنہ نے ارشاد فرمایا ( ان شرابیوں پر کوئی حد جاری نہیں ہوگی اور نہ ہی انہیں سزا دی جاسکے گی) اور دلیل کے طور پر قرآن مجید کی آیت (لا تجسسو۔۔۔۔۔۔) مفہوم۔ اور لوگوں کی ٹوہ میں مت رہو۔ پیش کی اور ارشاد فرمایا چوں کہ ان لوگوں کا عیب ہم نےازخود تلاش کیا ہے نہ کہ لوگوں کی شکایت پر اور قرآن مجید میں تو جاسوسی یعنی ٹوہ لگانے کی ممانعت آئی ہے جسے سن کرحضرت عمر فاروق رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے فرمایا بس یہی الجھن میرے ذہن میں بھی تھی اللہ عزوجل آپکو جزائے خیر عطا فرمائے اور پھر آپ دونوں حضرات واپس پلٹ آئے اللہ اللہ یہ تھے ہمارے اسلاف اور ان کا کردار کہ ایک غلطی جو سہواً سرزد ہو گئی اس پہ شرمندہ بھی ہوئے اور نہ صرف اپنی اصلاح فرمالی بلکہ قیامت تک کے مسلمانوں کی اصلاح کا سامان بھی پیدا کر دیا-

اور ایک ہم ہیں کہ ایک دوسرے کی ٹوہ میں نہ جانے اپنا کتنا قیمتی وقت ضائع کردیتے ہیں کہ کسی طرح سامنے والے کی کوئی کمزوری کوئی عیب ہاتھ لگ جائے تاکہ اسے رسوا اور بدنام کر سکیں اب یہاں ہم کئی طرح کے گناہوں میں مبتلا ہو جاتے ہیں

مثلاً نمبر (۱)جاسوسی یا ٹوہ لگانا جسکی ممانعت قران مجید میں موجود ہے

  لو گوں کو عیب بتانے سے غیبت سرزد ھوگی یہ بھی سخت گناہ (۲)

اور نمبر (۳) کسی کی دل آزاری جبکہ ہمارے پیارے آقا علیہ السلام نے ہمیں احترام مسلم کی سخت تاکید فرمائی ہے پھر کیا خیال ہے کیوں نہ آپ اور میں مل کر عہد کریں کہ نہ کسی کی جاسوسی کریں گے نہ کسی کے لئے برا سنیں گے اور نہ کسی کی خود غیبت کریں گے انشاﺀ اللہ عزوجل

اللہ عزوجل مجھ گنہگار سمیت ساری دنیا کے مسلمانوں کی اصلاح اور مغفرت فرمائے اور اس کالم میں مجھ سے نادانستہ کوئی غلطی سرزد ہوگئی ہو تو اسے اپنے محبوب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے طفیل معاف فرمائے آمین بجاہ النبی الامین

Monday, 26 August 2013

بارگاہ رسالت کی مرغوب غذا ۔۔۔۔ کدو شریف ۔ ۔




تحریر: محمد کامران خان عظیمی

کدو کو عربی میں یقطین کہا جاتا ہے۔ قرآن میں اسی نام سے پکارا گیا ہے۔ عام عرب اسے ‘دباء’ یا ‘قرع’ کہتے ہیں۔ احادیث میں اسے ان دونوں ناموں سے یاد کیا گیا ہے۔

حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں

نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کدو سے محبت کرتے تھے۔
(
ابن ماجہ)

حکیم بن جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے والد حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس ایک کدو تھا ، میں نے پوچھا یہ کیا چیز ہے ۔ انہوں نے کہا کہ یہ کدو ہے اور ہم اسے بہت کھاتے ہیں
(
ابن ماجہ)

حضرت واثلہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کدو کو لازم پکڑو اس لئے کہ یہ دماغ کو بڑھاتا ہے۔ مزید تمھارے لئے مسور کی دال ہے جسے کم از کم ستر انبیاء علیھم السلام کی زبان پر لگنے کا شرف حاصل رہا ہے۔
(
طبرانی)

ایک واقعہ
حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے ایک غلام کو آزاد کردیا۔ اس نے درزی کا کام شروع کیا۔ اللہ نے برکت ڈالی اور ممنونیت کے اظہار میں اس نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خادم خاص سمیت کھانے کی دعوت کی۔ اس دعوت کی روئیداد حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالی عنہ یوں بیان کرتے ہیں ایک درزی نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کھانے کی دعوت کی۔ میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ گیا۔ اس نے جو کی روٹی اور سوکھے گوشت کے سالن میں کدو پیش کیا۔ میں نے دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تھالی کے اطراف سے کدو کے ٹکڑے تلاش کر کے کھاتے تھے۔ اس دن کے بعد سے مجھے کدو سے محبت ہوگئی۔
(
بخاری، ترمذی، ابوداود)

نوٹ کیجئے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو کدو سے اس لئے محبت ہوگئی کہ وہ تاجدارِ کونین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مرغوب غذا تھی۔ اور بے شک یہی محبِ صادق کی پہچان ہے کہ وہ اپنی پسند ناپسند کو محبوب کی پسند نا پسند میں فنا کردیتا ہے۔ محب صادق وہی چاہتا ہے جو اس کا محبوب چاہے اور اسے ہرگز نہیں چاہتا جسے اس کا محبوب نہ چاہے۔

نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کدو سے ایسی محبت کیوں تھی۔۔؟؟؟

اس کی وجہ اسماعیل حقی حنفی رحمتہ اللہ تعالیٰ علیہ یہ بتاتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا گیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کدو سے کیوں محبت فرماتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا

یہ میرے بھائی یونس علیہ السلام کا درخت ہے۔
(
روح البیان ، پ 23 ، سورتہ الصافات)

آخری بات ۔۔۔۔۔۔۔۔

حضرت امام قاضی ابو یوسف رحمتہ اللہ علیہ کے حوالے سے ہے کہ اگر کسی نے کہا کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کدو بہت پسند تھا تو اگر کسی دوسرے نے کہدیا کہ مجھے پسند نہیں تو وہ کافر ہوگیا۔
(
تفسیر روح البیان جلد 2 صفحہ 489 )

لہٰذا ہمیں لازماً ایک بات یاد رکھنی چاہئے کہ
با ادب با نصیب

Thursday, 22 August 2013

مقبوضہ کشمیر میں مسلمانوں کے حالات ۔۔۔۔۔ تحریر عاصمہ شوکت خان



مقبوضہ کشمیر میں مسلمانوں کے حالات کشمیر کی ریاست پاکستان اور انڈیا کے درمیان ایک بہت بڑا مسلہ ہے جو کہ تقسیم برصغیر سے لے کر اب تک بغیر کسی فیصلہ کے ویسے کا ویسا ہےبرصغیر میں نگریزوں کے دور حکومت میں ٦٣۵ ریاستیں جہںاں نواب یا راجے داخلی طور پر حکمران تھے ان میں سے ایک ریاست جموں کشمیر بھی ہے .١٩۴٧ کی مردم شماری کے مطابق کشمیر کی کل آبادی چالیس لاکھ کے قریب تھی ، آبادی کا بہت بڑا حصہ مسلمان آبادی پر مشتمل تھا . برطانوی حکومت نے اس ریاست کو ایک ڈوگرە راجہ گلاب سنگھ کے ہاتھ صرف ٧۵ لاکھ میں فروخت کر دیا تھا . ڈوگرە گلاب سنگھ اسکے جانشینوں نے مسلم رعایا پر ظلم جبر کے پہاڑ توڑے . معمولی جراٴم کی پاداش میں مسلمانوں کو کڑی سزاٴیں دی گئیں، تنگ آ کر ١٩٣٠ میں کشمیری مسلمانوں نے ڈوگرە راجہ کے خلاف آزادی کی تحریک شروع کر دی اور راجہ نے بھارت کے ساتھ الحاق کر لیا تب کشمیری عوام نے راجہ کے خلاف ہتھیار اٹھاۓ اور کشمیر کا کچھ حصہ حاصل کر لیا جو کہ آزاد جموں کشمیر کی شکل میں دنیا کے نقشے پر ظاہر ہوا اور باقی حصہ پر بھارت نے اپنی افواج بھیج کر قبضہ کر لیا . اب کشمیر ایک ایسا خطہ ہے جہاں پر سات لاکھ سے زائد بھارتی افواج موجود ہیں . بھارتی فوجوں کے مسلمان کشمیریوں پر ظلم و ستم نسل کشی کی حد تک پہنچ گۓ ہیں کشمیر کی یہ حالت سٹیٹ سپونسرڈ ٹیروریزم کی بہت بڑی شکل ہے. کشمیر کے لوگ ایکطرف تو بھارتی افواج کا ظلم و تشدد برداشت کر رہے ہیں اور دوسری طرف یونائیٹڈ نیشنز کی سیکیورٹی کونسل کشمیری عوام کو بغیر کسی خوف و حراس اور ظلم و ستم کے بہتر مستقبل کا وعدە کر رہی ہے جبکہ حقیقت میں کشمیری عوام کی امن حاصل کرنے کی کوششوں اور ان کے بنیادی انسانی حقوق کو بہت بری طرح سے پامال کیا جا رہا ہے یہ لوگ مسلسل بھارتی افواج کی بربریت کا شکار ہیں . بنیادی انسانی حقوق کے تمام چارٹر جن میں " ڈیکلریشن آف ہیومن رائٹس " ( ) اور "ہیومن رائٹس کوونینٹ" ( ) شامل ہیں سب بہت بری طرح سے پامال ہو رہے ہیں انڈیا کی افواج کشمیر کے اردگرد ایک لوہے کی دیوار کی طرح کھڑی ہیں جو کہ تمام بین الاقوامی بنیادی انسانی حقوق کی تنظیموں کو کشمیر کے اندر جانے کی راە میں رکاوٹ ہیں جبکہ ان تمام رکاوٹوں کے باوجود کچھ تنظیمیں ایسی ہیں جو کہ کشمیر کے اندر جا کر وہاں کی عوام کے پرتشدد پر رپورٹ ہر دوسرے دن پیش کر رہی ہیں مگر بھارتی افواج کے خلاف انٹرنیشنل لیول پر کوئ ایکشن نہیں لیا جا رہا، یہاں تک کہ انٹرنیشنل کمیونٹی میں نہ تو کسی نے اس رویہ کو برا کہا ہے اور نہ ہی اسے روکنے کی کوئ خاطر خواە کوشش کی ہے. کشمیر میں بنیادی انسانی حقوق کی پامالی ١٩٨٩ سے شدید حد تک بڑھ گئ ہے جس کی وجہ یہ ہے کہ کشمیری عوام پاکستان سے الحاق چاہتی ہے. اکتوبر ١٩٦٦ میں جموں کشمیر کے ہائ کورٹ کے جج نے کہا کہ ریاست میں قانون کا اصول اور استعمال ختم ہو چکا ہے اور دوسری طرف بھارتی حکومت کا دعوی ہے کہ بھارت کی جموں و کشمیر کے حوالے سے پالیسی بہت شفاف اور کھلے ذہن کی ہے جبکہ بھارت ہر طرح سے یونائٹڈ نیشنز کے پیش کردە طریقہ امن سے کوئ بھی تعاون کرنے سے انکار کر رہا ہے اسکا یہ انکار ہمیشہ سے برقرار ہے. بھارت کسی بھی بین الاقواممی تنظیم کو کشمیر میں بنیادی انسانی حقوق کا سروے کرنے کی اجازت نہیں دے رہا. مقبوضہ کشمیر میں تحریک آزادی کو کچلنے اور کشمیریوں کو دبانے کے لۓ متعددبدنام کالے قانون نافذالعمل ہیں ٹاڈا نیشنل پاور ایکٹ ، پونا نیشنل سیکیورٹی ایکٹ شامل ہیں ان ایکٹس کے تحت کشمیری عوام کے حقوق کی پامالی سرعام کی جا رہی ہےجبکہ ان سب حالات پر حقوق انسانی تنظیموں نے آنکھیں موند رکھیں ہیں . ٹاڈا جیسے کالے قانون کا نفاذ١٩٨۵ میں عمل میں لایا گیااور اسکے تحت بھارتی افواج کو سپیشل اختیارات دئیے گۓ کہ وە کسی بھی نہتےمظلوم کشمیری کو بغیر کسی وجہ کے ایک سال کے لیۓ جیل بھیج سکتے ہیں مقبوضہ علاقے میں سے ٹاڈا کے تحت ٧٧٢ افراد کو حراست میں لے کر بھارت کی مختلف جیلوں میں بھیج دیا گیا،اسکے ساتھ سپیشل پاور ایکٹ جو کہ ١٩٩٦ میں نافذ کیا گیا اس ایکٹ کے تحت بھارتی افواج کو کشمیریوں کی املاک تباە کرنے ، خواتین کی عصمت دری بے گناە افراد کی گرفتاری کے اختیارات دئیے گیۓ . اس کے بعد بدنام زمانہ قانون پونا ٢٠٠٠ کے تحت بھارتی افواج کو اضافی اختیارات دئیے گۓہیں اسکے تحت بھارتی افواج کسی بھی بے گناە کشمیری پر مسلک ہتھیار رکھنے کا الزام عائد کر کے اسے انسداد دہشت گردی کی شے میں بغیر مقدمہ چلاۓ تین ماە کے لیۓ جیل بھیجا جا سکتا ہے. ١٩٨۵ سے لے کر اب تک ٦٩٦۵ افراد ناجائز حراست میں ہیں . سفاک فوج دس ہزار نوجوانوں کو اغواٴ کر کے گمنام قبروں میں ابدی نیند سلا چکی ہے. ٩٢ ہزارخواتین بیوە اور ایک لاکھ سے زائد بچے عالمی طاقتوں کے غیر منصفانہ رویےکی وجہ سے باپ کی شفقت سے محروم یتیمی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں . ایک سروے کے مطابق مقبوضہ علاقے ہانڈی پورە ، بارە مولا اور کپواڑە کے ۵۵ دیہاتوں میں ٢٧٠٠کے قریب گمنام قبریں دریافت ہو چکی ہیں ،. اکتوبر ١٩٨٩ سے اب تک ٣٨٠٠٠ سے زائد کشمیری بھارتی افواج کے ہاتھوں مارے جا چکے ہیں ( ) نیشنل ہیومن رائٹس کمیشن ١٩٩٦۔١٩٩٧ کے مطابق ١٣٧۵ کشمیری مارے گۓ اور ٢٢٣١ کشمیری ١٩٨٨سے ٣٠ اپریل ١٩٩٧ کے درمیان زخمی ہوۓ . قابل اعتماد پریس رپورٹس کے مطابق ١٩٩٧ میں ١١١۴ ملیٹیٹ افراد مارے گۓ. ١۵ اکتوبر ١٩٩٦ کی ایمنیسٹی انٹرنیشنل پریس کی رپورٹ کے مطابق بھارتی حکومت ، جموں کشمیر میں انسانی حقوق کی بہت بری طرح سے پامالی کر رہی ہے اور اس رپورٹ کے مطابق ٢٠٠ شہریوں کو ناجائز حراست میں لے کر مار دیا گیا اور ۵٠٠، ٦٠٠افرد کو غائب کر دیا گیا، جو کہ ابھی تک لاپتہ ہیں بہت ساری رپورٹس کے مطابق کشمیری افراد جن میں زیادە تر مسلمان ہیں بھارتی افواج کے شدید تشدد کا نشانہ ہیں گزشتہ دو عشروں میں حراست اور جعلی مقابلوں کے درمیان ہزاروں افراد کو شہید کیا جا چکا ہے لیکن ان کے کے بارے میں تاحال کوئ تحقیقات نہیں کی گئ ہیں اکتوبر ١٩٨٩ سے لے کر اب تک ۵٠٠٠ خواتین کو زیادتی کا نشانہ بنایا جا چکا ہے . ایک رپورٹ کےمطابق ٢٣ فروری ١٩٩١ میں ایک بہت خاص واقعہ پیش آیا جس کے مطابق جموں کشمیر کے ایک گاوٴں کو نان فاسفوواە میں ٨٠٠٠ بھارتی فوجیوں نے گاوٴں پر قبضہ کر کے مردوں کو حراست میں لے لیا اور گھروں میں گھس گۓ اور اس رات میں ٢٣ سے ٦٠ عورتوں کو زیادتی کا نشانہ بنایا گیا . وہاں پر یہ واقعات بھی دیکھنےمیں آۓ ھیں کہ جوان لڑکیوں کو کچھ دن کے لیۓبھارتی افواج کے اڈے پر لیجایا جاتا ہے وہاں پر انہیں زیادتی کا نشانہ بنایا جاتا ہے اور پھر انہیں مار دیا جاتاہےیاپھر گھر واپس چھوڑ دیا جاتا ہے جن میں سے کچھ حاملہ ہونے کی صورت میں خودکشی کر لیتی ہیں زیادە تر بھارتی افواج ہی کشمیری خواتین کو زیادتی کا نشانہ بناتے ہیں نہ کہ دوسرے میلٹیٹ . زیادە تر یہ واقعات پیش آتے ہیں تب فوجی مایوسی کاشکار ہوں یا پھر شراب کے نشہ میں . بھارتی افواج کے تشدد کا نشانہ وە لوگ بنتے ہیں جو آزادی کی تحریکوں میں حصہ لیتے ہیں اور جو پاکستان کی حمایت کرتے ہیں . بھارتی افواج تشدد کے بہت سارے طریقے استعمال کرتے ہیں جن میں بے رحم مار پیٹ ، بجلی کے جھٹکے ، جسم کے اعضاٴ کو کاٹنا خاص طور پر ہاتھ اور پاوٴں کے انگھوٹوں سے جسم کو دو حصوں میں تقسیم کر دینا . جلا دینا ، جنسی خوف و حراس پھیلانا اور زیادتی کا نشانہ بنانا،وغیرە ٢٧مارچ ١٩٩٦ کو انسانی حقوق کے وکیل جلیل اندرابی کی لاش دریاۓ جہلم میں پائ گئ مگر اسکے قاتلوں کو کوئ سزانہیں دی گئ. جنوری ١٩٩٨ میں ١١ افراد جن میں عورتیں اور بچے بھی شامل تھے کو جموں کشمیر کے گاوٴں کادرانہ میں آگ لگا کر جلا دیا گیالیکن اب تک ان کے قاتل بھارتی افواج کو کوئ سزا نہیں دی گئ اس طرح کے تشدد کے واقعات آۓ روز پیش آتے ہیں مگر اس پر کوئ تنظیم کام نہیں کر رہی، مظلوم کشمیریوں کے قاتل سر عام پھر رہے ہیں تشدد کے واقعات میں یہ طریقہ بہت دیکھنےمیں آیا ہے کہ لوگوں کی ٹانگوں کو لکڑی سے دبا دیا جاتا ہےجس سے انکے مسلز ڈیمج ہو جاتے ہیں جو کہ گردوں کے فیل ہونے کا سبب بنتے ہیں ڈاکٹرز کے مطابق ١٩٩٠ تک ٣٧ افرد گردوں کے مرض میں مبتلا تھے جو کہ اب تک لا تعداد ہو چکے ہیں انڈین فورسز کے تشدد کی وجہ سے ٧۵ لاکھ افراد ذہنی مریض بن چکے ہیں ٦ لاکھ سے زائد افراد معزور ہو چکے ہیں ٢ لاکھ ٨ ہزار افراد بینائ سے محروم ہو چکے ہیں رپورٹ کے مطابق ١٩٩٠ سے ٢٠٠١ تک مقبوضہ علاقے میں ظلم و تشدد کی وجہ سے ذہنی اور جسمانی امراض کے شکار افراد میں مسلسل اضافہ ہو رہاہے مقامی ماہر نفسیات کے مطابق ہر چھٹا کشمیری کسی نہ کسی نفسیاتی بیماری کا شکار ہے انڈین افواج کا تشدد صرف افراد، گھروں ،سڑکوں یا جیلوں تک محدود نہیں بلکہ یہ لوگ نہ صرف ہسپتالوں میں توڑ پھوڑ کرتےہیں بلکہ وہاں پر ملیٹینٹ زخمی افراد کو مار دیتے ہیں یا پھر اپنی حراست میں لے لیتے ہیں اس کے علاوە وہاں پر موجود ڈاکٹرز اور ہسپتال کے دوسرے عملہ کو ڈراتے دھمکاتے ، تشدد کرتے اور کبھی مار بھ دیتےہیں سچ تو یہی ہے کہ بھارتی افواج کو کوئ سزا نہیں دی جاتی . آزادی کی تحریکوں یا انکوائری اور رپورٹس لکھ کرکشمیری عوام کو ان کے بنیادی حقوق اور آزادی نہیں دلائ جا سکتی.

Saturday, 3 August 2013

دَر سے اُٹھو تو اِسطرح(الودع ماہِ رمضان)۔


اُٹھو تو اسطرح (اعتکاف اسپیشل)۔
(ishrat iqbal warsi, mirpurkhas)

محترم قارئین کرام السلامُ علیکم

ہر سال دُنیا بھر میں لاکھوں مسلمان رمضانِ کریم کے آخری عشرے میں مساجد میں اعتکاف کے لئے بیٹھتے ہیں جِن میں ایک کثیر تعداد نوجوانوں کی بھی ہُوتی ہے۔

اعتکاف میں بیٹھنے کی سب سے بڑی فضیلیت تو میری نِگاہ میں یہی ہے کہ یہ میرے آقا کریم علیہ السلام کی سُنت مبارکہ ہے اس عظیم نسبت کے بعد تمام فضائل ضمنی نظر آتے ہیں کہ جس عمل کو پیارے آقا علیہ السلام سے نسبت حاصل ہُوجائے اُس کے بعد کسی فضیلت کسی دلیل کی حاجت باقی نہیں رِہ جاتی۔

البتہ ایک سوال ایسا ضرور ہے جو اکثر نوجوان کے ذہن میں اس عظیم سعادت کو حاصل کرلینے کے باوجود بھی دِماغ میں باقی رہ جاتا ہے کہ آخر ہم لوگ کیوں تقریباً 10 دِن تلک اپنے گھر والوں سے دور رہے اور آخر وہ کیا مقصد تھا کہ جس کی وجہ سے ہم نے یہ خلوت نشینی اختیار کی تھی؟

جواب اگر چہ انتہائی آسان ہے مگر عموماً ہماری نگاہ اور ہماری فراست اس جواب کا ادراک حاصل نہیں کرپاتی

فضیلت کے اعتبار سے کئی احادیث کریمہ موجود ہیں جنکی رُو سے اعتکاف کا ثواب کبھی نفلی حج کے برابر تو کبھی عمرہ کے برابر کہیں مغفرت کی بشارت تو کہیں انوار الہی کے جلوؤں کی نوید سُنائی دیتی ہے۔

لیکن میں پھر کہوں گا کہ تمام فضائل اپنی جگہہ لیکن کریم مُصطٰفی علیہ السلام کی عظیم سُنت کی نسبت اِن تمام فضائل سے بڑھ کر ہے کہ اللہ کریم نے قران مجید میں جابجا اپنے مدنی محبوب صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت اور اتباع کا حُکم عطا فرمایا ہے۔

میں یہاں سُنت کی مُحبت کے پیش نظر ایک روایت پیش کرنا چاہتا ہُوں جو انشاءَاللہ آپکے شوق کو مزید فِزوں کرنے کا سبب بنے گی روایت ہیکہ جب سیدنا مُوسیٰ علیہ السلام دریائے نیل سے گُزر چُکے اور فرعون کا تمام لشکر دریا بُرد ہُورہا تھا سیدنا مُوسی علیہ الصلواۃ والسلام نے دِیکھا کہ فرعون کے لشکر میں سے ایک آدمی دریا کی لہروں سے بچنے کی مسلسل سعی کررہا ہے اور بلاآخر وہ فرعون کا لشکری ڈوبنے سے محفوظ رِہ گیا۔ حضرت سیدنا موسٰی علیہ السلام کو گُمان ہُوا کہ شائد بچنے والا کوئی نیک مومن ہوگا لیکن سیدنا موسٰی علیہ السلام نے جب اُس محفوظ رہنے والے لشکری کو غُور سے دِیکھا تو آپکو دُکھ اور نہایت حیرت ہُوئی کہ وہ شخص جو اس عذاب سے محفوظ رہا تھا کوئی نیک مومن نہیں بلکہ ایک مسخرہ تھا جو کہ بازاروں میں حضرت سیدنا موسٰی علیہ السلام جیسا حُلیہ بنا کر سیدنا موسٰی علیہ کی نقلیں اُتارا کرتا تھا کبھی آپکی طرح لہجہ بناتا کبھی آپکی طرح عصا زمین پر مارتا ہر وقت لوگوں کو محظوظ کرنے کیلئے آپ جیسا لباس پہنتا اور آپ ہی کی طرح عمامہ سر پر باندھ کر آپکی جیسی چال میں خود کو ڈھال لیا کرتا تھا لوگ اُسکی اداکاری سے محظوظ ہوتے اور کُچھ نہ کُچھ سِکے اُسکی جانب اُچھال دِیا کرتے تھے جس سے اُسکا ذریعہ مُعاش قائم تھا۔

حضرت سیدنا موسٰی علیہ السلام نے بارگاہِ خُداوندی میں عرض کی اے میرے پروردیگار یہ شخص تو مجھے ایذا دِیا کرتا تھا لوگوں میں میری نقل اُتار کر میرا مذاق اُڑایا کرتا تھا تُونے اِسے کیوں عذاب سے محفوظ رکھا؟

اللہ کریم نے ارشاد فرمایا اے موسٰی آپ ٹھیک کہتے ہیں یہ شخص فرعون کا ساتھی ہے لیکن اے موسٰی اِس شخص نے تُمہاری مشابہت میں اپنا حلیہ اتنا بدل ڈالا ہے کہ جب یہ شخص دریا کی لہروں میں غرق ہُورہا تھا تب بھی مجھے اِس میں اپنے کلیم کی جھلک نظر آرہی تھی میری غیرت نے گوارا نہ کیا کہ جو میرے کلیم جیسا نظر آرہا ہُو میں اُسے فرعون کے ساتھ غرق کردوں۔ اِس وجہ سے میں نے اسے غرق ہونے سے محفوظ رکھا!!!!!!

محترم قارئین اگر یہ واقعہ ابھی تک آپکی سمجھ میں نہ آیا ہُو تو اِسے پھر پڑھیئے ، پھر پڑھیئے ، یہاں تک کہ یہ بات آپ کے ذہن کے ہر گوشے میں بیٹھ جائے کہ اگر موسٰی علیہ السلام کا اُمتی مذاق میں بھی سُنت اپنالے تو اللہ کریم کو سزا دینے میں حیا آجائے تو کیا مُصطٰفی کریم علیہ السلام کی مُحبت میں سُنت کو اپنانے والا رحمت خُداوندی سے محروم رہے گا؟ کیا وہ عذاب دِیا جائے گا

پس ثابت ہُوا کہ سُنت کی نسبت ہی سب سے عظیم تر دلیل ہے جسکے بعد کوئی ظاہری فضیلیت نہ بھی ہو تب بھی کوئی فرق نہیں پڑتا۔

لیکن ایک بات ضرور ہے اگر کوئی یہ عشرہ اعتکاف میں گُزار کر بھی دنیاوی شہوات کے قفس سے خُود کو آزاد نہ کراپائے، اپنی مغفرت کا پروانہ اپنے کریم مالک سے حاصل نہ کرپائے، ذکرِ الہی کی حلاوت کو نہ پاسکے، اپنی دینی اور دُنیاوی حاجات میں سُرخرو نہ ہوسکے تو اُسے اپنے عمل پر دِن اور رات کے ایک ایک لمحے پر ضرور غُور کرنا چاہیئے کوئی نہ کوئی کھوٹ یا کمی ضرور عمل میں باقی ہے ورنہ وہ تو بادشاہوں کا بادشاہ ہے، مشکل کشاؤں کا مشکل کُشا ہے ، دنیا کے تمام خزانوں کا اصل مالک وہی ہے وہ جسے چاہتا ہے بادشاہ بنادیتا ہے جِسے چاہے حاجت روائی کے لئے چُن لیتا ہے جِسے چاہے زمینوں کے خزانوں کا مالک کردے جِسے چاہے علم عطا کردے ایسے بادشاہ کے در پر ایک عشرہ پڑے رہنے کے بعد بھی اگر کوئی خالی ہاتھ ہے تہی دامن ہے تو یہ اُسکی اپنی بدنصیبی ہے کیونکہ دینے والا تو  جَواد ۔و۔ کریم ہے دینے والے کی اگر 
شان دیکھنی ہے تو اُسکے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم کی سخاوت دیکھ لو۔

اُسکے  کریم رب کے تو  دُوست کسی کو خالی ہاتھ نہیں بھیجتے۔ تو وہ جو بادشاہوں کا بادشاہ ہے کیسے گوارہ کرے گا کہ کوئی اُسکے در پہ آئے اور خالی ہاتھ چلا جائے۔ یقیناً کھوٹ ہے تو مانگنے والے میں یا شائد ہمیں مانگنا ہی نہیں آتا یا شائد جھولی پھیلانے سے قبل ہمیں یقین ہی نہیں ہوتا کہ ہماری خالی جھولی واقعی بھردی جائے گی

بقول علامہ شہیدی

اُسکے تو عام ہیں الطاف شہیدی سب پر
تُجھ سے کیا ضد تھی اگر تُو کسی قابل ہُوتا

Thursday, 4 July 2013

اِستقبالِ رمضان کیا آپ بھی تیار ہیں ؟


محترم اِسلامی بھائیوں! السلامُ علیکمُ

رمضانُ المُبارک کی آمد آمد ہے اہلِ ایمان ہمیشہ ہی سے رمضانُ المُبارک کی آمد کیلئے خُود کو ماہِ شعبان المعظم ہی سے تیار کرتے آئے ہیں ایمان والوں کو رمضانُ المُبارک کے آنے سے خُوشی اور اِسکے جانے پر غم مِحسوس ہُوتا ہے اور ایسا کیوں نہ ہُو کہ رمضانُ المُبارک ایسا مِہمان ہے جو خالی ہاتھ نہیں آتا بلکہ اَپنے ساتھ انعامات کے بادل بھی ساتھ لاتا ہے۔

جِس کی بارش میں نیکوکار ہی نہیں بلکہ گُنہگار بھی نہاتے ہیں اِس ماہ مُبارک میں نیکیوں کی بارش ایسے تواتر کیساتھ برستی ہے کی ماہِ رمضانُ المُبارک میں ایک لمحہ بھی ایسا نہیں ہُوتا کہ جِس میں یہ بارشِ انوار نہ بَرستی ہو ہر دِن کے اِختتام پر دس لاکھ ایسے مجرموں کو جِن پر عذاب لازم ہُوچُکا تھا وقتِ افطار آزادی کا پروانہ عطا کر دِیا جاتا ہے۔

حضور نبی کریم (صلی اللہُ علیہ وسلم) کا فرمانِ ذیشان ہے “مفہوم“ کہ جب ماہ رمضان کی پہلی شب آتی ہے تو جنت کے تمام دروازے کھول دیئے جاتے ہیں اور پورے مہینہ ایک بھی جنت کا دروازہ بند نہیں کیا جاتا اور اللہ کریم اِک نِدا دینے والے کو حُکم دیتا ہے کہ یُوں نِدا دو۔ اے بھلائی کے طلبگارو آگے بَڑھو، اے بُرائی کے پرستارو پیچھے ہٹو۔

پھر فرماتا ہے، ہے کوئی بخشش کا طلبگار کہ اُسے بَخش دِیا جائے؟ ہے کوئی مانگنے والا کہ جُو مانگے عطا کیا جائے؟ ہے کوئی تُوبہ کرنے والا تاکہ اُس کی تُوبہ قبول کی جائے صبح طلوع ہُونے تک اِسی طرح صدائیں دِی جاتی ہیں۔

حضرت سلمانِ فارسی (رضی اللہُ تعالی عنہُ) اِرشاد فرماتے ہیں کہ نبیِ رحمت شفیعِ اُمت نے شعبان المعظم کے آخری دِن اِرشاد فرمایا مفہوم اے لوگوں! تُم پر ایک عظیم مہینہ سایہ کر رہا ہے، اِس میں لیلتہُ القدر ہے جو ہزار مہینوں سے بِہتر ہے اللہ کریم نے اِس کے روزے فرض کئے اور رات کا قیام نفلی (عبادت) ہے جِس نے اِس ماہ میں ایک نیکی کی گویا اُس نے دوسرے مہینے میں فرض ادا کیا اور جِس نے اِس ماہ میں ایک فرض اَدا کیا گویا اُس نے دوسرے مہینے میں 70 فرض ادا کئے یہ صبر کا مہینہ ہے اور صبر کا ثواب جنت ہے اور یہ مواسات کا مہینہ ہے، اِس میں ایماندار کی روزی فراخ کردِی جاتی ہے جِس نے اِس ماہِ مُبارک میں کِسی کا روزہ اِفطار کروایا، اُس کے لئے ایک غلام آزاد کرنے کا اَجر ہے اور اُس کے گُناہوں کیلئے مُعافی ہے

مُحترم اِسلامی بھائیوں! یہ وہ مُبارک مہینہ ہے کہ جس میں گُنہگاروں کے دِل اللہ کریم کی جانب مائل ہوجاتے ہیں اور ہزار ہا گُنہگار اس موسم بہار کی وجہ سے ہمیشہ ہمیشہ کیلئے گُناہوں سے تائب ہوجاتے ہیں یہ وہ ماہِ مُبارک ہے کہ جِس کے سبب مسجدیں آباد ہُوجاتی ہیں مومنین کو شیاطین سے نجات مِل جاتی ہے گھروں سے قُرآن مجید کی صدائیں بُلند ہوتی ہیں۔

لیکن آہ افسوس صد افسوس بُہت سے ایسے بدنصیب مسلمان بھی ہوتے ہیں کہ اِس مہمان کا ادب نہیں کرپاتے جو فسق و فجور کی زندگی کو نہیں چھوڑ پاتے اور اپنی زندگی میں فیضان رمضان سے اِستفادہ حاصل نہیں کرپاتے جِن کے شب و روز میں کوئی انقلاب برپا نہیں ہُوتا کچھ ایسے ہُوتے ہیں جو ابتدائے رمضان میں تو خُوب جوش و خروش کا مُظاہرہ کرتے ہیں لیکن جُوں جُوں ماہ رمضان گُزرتا ہے واپس نفسانی خُواہشات کا شکار ہوجاتے ہیں جسکی وجہ سے مسجدوں کی رونقیں معدوم ہونے لگتی ہیں تراویح کی قطاروں میں کمی آنے لگتی ہے پھر وہی لہوولعب کا بازار گرم ہوجاتا ہے۔

مُحترم قارئین آئیے عہد کریں کہ اِس سال ہم اِس شان سے ماہِ صیام کا اِستقبال کریں گے کہ انشاءَاللہ ماہِ شعبان سے ہی اپنے گُناہوں سے آلودہ جِسموں کو رمضان کے استقبال کیلئے نیکیوں کی جانب مائل کریں گے ابھی سے عبادت پر کمر باندھیں گے اللہ کریم سے مدد لیتے ہُوئے اگر نماز نہیں پڑھتے تو نماز کی پابندی کریں گے جھوٹ سے خود کو بچائیں گے اپنی زُبان اپنی نگاہوں کی اپنی شرمگاہوں کی حِفاطت کریں گے تاکہ ہم رمضان الکریم کا اِستقبال اُس کے شایانِ شان طریقے سے کرسکیں۔

اور رمضان المبارک میں انٹرنیٹ کا استعمال صرف تلاوت قرآن کیلئے دینی مسائل کو سمجھنے کیلئے یا علم دین حاصل کرنے کیلئے کریں گے انشاءَاللہ عزوجل۔

اور فلموں ڈراموں یا گیم کھیلنے کیلئے کم از کم رمضانُ المُبارک کے احترام میں استعمال نہیں کریں گے اللہ کریم تمام مسلمانوں کو اِستقامت عطا فرمائے۔
(آمین بِجاہِ سیدُ المُرسلین و صلی اللہُ تعالٰی علٰی وَآلِہِ واصحابہِ وبارک وسلم)