bing

Your SEO optimized title page contents

Pages

Hamara Tube Channel

Monday, 17 February 2014

وُہ کھانا کہاں سے آیا تھا۔؟؟؟





محترم قارئین السلامُ علیکم

یہ جون 2004 کی بات ہے چند دوستوں نے جو کہ شعبہ تعلیم سے منسلک ہیں میرے پاس تشریف لائے کہ عشرت بھائی ہماری موسم گرما کی تعطیلات شروع ہوچُکی ہیں جس میں کُچھ دوستوں کا پروگرام تھا کہ اِن چھٹیوں کا فائدہ اُٹھاتے ہُوئے کیوں نہ سیر و تفریح کا پروگرام تشکیل دِیا جائے لیکن اَب تمام دوست اِس بات پر مُتفق ہوچُکے ہیں کہ کیوں نہ اِن چھٹیوں کا فائدہ اُٹھاتے ہُوئے مدنی قافِلہ میں سفر کیا جائے اِس طرح ایک تو حُکم قُرآن کی تعمیل بھی ہوجائے گی کہ بھلائی کا پیغام اپنے دوسرے مسلمان بھائیوں تُک پہنچانے کی سعادت حاصل ہوجائے گی نیز سیر ضمناً ہوجائے گی۔

میں نے اُنکی خِدمت میں عرض کیا دوستو تجویز تو بُہت اچھی ہے لیکن اگر آپ لوگ سیر کرنے کو غیر اِسلامی عمل سمجھ رہے ہیں تو آپکی اِطلاع کیلئے عرض کئے دیتا ہُوں کہ سیر کا حُکم تو قُرآِن پاک میں موجود ہے (وسِیرُ فِی الاْرضِ، ترجمہ اور زمین کی سیر کرو) اب رہی یہ بات کے اِس سیر کے آداب کے کیا تقاضے ہیں تُو اِس بِحث کو پھر کبھی کیلئے اُٹھا رکھتے ہیں۔

فی الحال تُو مجھے یہ جاننے میں دِلچسپی ہے کہ آخر آپ لوگ مجھے کیوں اپنے پروگرام سے آگاہ کرنے کیلئے تشریف لائے ہیں تب وہ کہنے لگے لو بتاؤ یہ بھی کوئی پوچھنے والی بات ہے بھئی ہم سبھی یہ چاہتے ہیں کہ آپ بھی اِس روحانی سفر میں ہمارے ساتھ رہیں۔

جوں ہی وہ دوست اپنی بات کہہ کر خاموش ہُوا تو ایک دوسرے دوست نے مذاقاً کہا اور اگر آپ نے کوئی بہانے بازی کی تُو ہم سب بھی نہیں جائیں گے اور یہ گُناہ بھی آپ کے سر رہے گا۔ میں اُن دِنوں گوشہ نشینی کی زندگی گُزار رہا تھا نہ کوئی خاص مصروفیت تھی نہ ہی کوئی اسقدر کاروبار وسیع تھا کہ کوئی معقول بہانہ کرسکتا سُو حامی بھرلی۔

اور یوں جون کے وسط تک ہم مدنی قافلے میں روانگی کیلئے حیدرآباد شہر میں حسن علی آفندی کے مدنی مرکز فیضانِ مدینہ جا پُہنچے وہاں جا کر ہمیں معلوم ہُوا کہ ہمارا قافِلہ راولپِنڈی بھیجا جارہا ہے اور ہمارے قافِلے کی تشکیل وہیں جا کر ہوگی راولپنڈی کا نام سُنتے ہی ہمیں لگا کہ ہمیں پھر دَس برس پہلے کی طرح اسلام آباد کے جنگل نُما شہر میں بھیج دِیا جائے گا سو میں نے اِرادہ کرلیا کہ جیسے ہی امیر قافِلہ کا اعلان ہوگا میں اُن سے صاف صاف کہہ دونگا چاہے کسی قریبی گاؤں دیہات میں بھیج دو لیکن میں اسلام آباد نہیں جاؤں گا اب کوئی اسلام آباد کا رہایشی بھائی یہ نہ سمجھ لے کہ ہمیں خُدانخواستہ اسلام آباد والوں سے کوئی دُشمنی ہے بلکہ ہماری بے رغبتی کی وجہ کُچھ ایسی تلخ یادیں ہیں کہ مجھے اِسلام آباد کے نام سے ہی اُس وقت اِلرجی محسوس ہوتی تھی، تھی سے مُراد یہ ہے کہ اب میں خود اِسلام آباد جانا چاہتا ہوں کہ وہاں سید محمد کی اَمی رہتی ہیں اور میں ایک مرتبہ اُنکی قدم بوسی کی خُواہش اپنے دِل میں پاتا ہوں۔

ویسے اِسلام آباد کا ذکر آہی گیا ہے تو میں اسلام آباد کی یاد سے جُڑا ایک واقعہ آپکو سُناتا چلوں کہ 1994 میں ہمارے قافلہ امیر کے پاس ایک نوجوان آیا یہ نوجوان درس وتدریس کی ہر محفل میں شمولیت بڑی پابندی کیساتھ کیا کرتا تھا اور قافلہ والوں سے بڑی مُحبت کیساتھ پیش آیا کرتا تھا، اُس دِن وہ بڑی لجاجت کیساتھ امیر قافَلہ سے درخواست کر رہا تھا کہ جناب کل جمعرات کی رات کا کھانا آپ تمام لوگ ہمارے گھر پہ کھائیں امیر قافلہ پہلے تو راضی نہیں ہُوئے لیکن کافی پَس و پیش کے بعد حامی بھر لی تمام شُرکائے قافلہ کے کھانے پکانے کی ذمہ داری مجھ فقیر کے حصے میں آئی تھی۔۔۔

 اگلے دِن صبح کے ناشتے کیساتھ ہی دوپہر کی سبزی بھی پکانے کے بعد میں نے برتن وغیرہ صاف کر کے رکھ دیئے دوپہر کے کھانے سے فارغ ہوکر ہم سب ہی درس و تدریس میں مشغول ہوگئے مغرب کی نماز پڑھ کر ہمیں اجتماع میں جانا تھا لیکن مغرب سے پہلے تک وہ نوجوان نہیں آیا بعد مغرب ہمیں اُس نوجوان نے یہ خبر آکر سُنائی کہ میری بڑی باجی نہیں مان رہیں ۔وہ کہتی ہیں کہ اگر کسی مولوی کو گھر لائے تو تُمہارے ساتھ اُن مولویوں کی بھی ٹانگیں توڑ دونگی میں آپ لوگوں سے بے حد شرمندہ ہوں ۔کہ ،،آپ لوگوں کو اپنے گھر نہیں لیجاسکتا، امیر قافِلہ نے اُس نوجوان کو تسلی دی کہ کوئی بات نہیں آپ نے تو خلوص کیساتھ دعوت دی تھی اور آپکو اس نیت کا ثواب  بھی ضرور ملے گا،۔یہ سُن کر وہ نوجوان تو چلا گیا اور امیر قافِلہ نے مجھے بُلا کر کہا کہ کھانا بنانے کا وقت تو ہمارے پاس ہے نہیں ۔۔۔لہٰذا آپ جائیں اور دیکھیں کوئی ہوٹل اگر کُھلا ہو تو اِہل قافِلہ کو کھانا کِھلا دیں اُس وقت ہمارا قافِلہ ٹمبر مارکیٹ کی ایک زیر تعمیر مسجد میں ٹِہرا ہُوا تھا اور مجھے معلوم تھا کہ مغرب کے بعد ہوٹل بند ہوجانے کی وجہ سے کھانا نہیں مِل سکے گا مگر اِہل قافِلہ کی دِل جوئی کی خاطر مسجد سے باہر نکل آیا دور دور تک کہیں کھانا نہیں مِلا تو مسجد واپس آگیا۔

مسجد میں دَاخل ہوتے ہُوئے میری نظر ایک لفافے پر پڑی جس پر لِکھا تھا، قافِلہ والوں کیلئے، میں نے وہ پیکٹ اُٹھایا اور امیرِ قافِلہ کو بتایا کہ جناب کھانا تو نہیں مِلا البتہ یہ پیکٹ دروازے کیساتھ رَکھا مِلا ہے ۔۔۔ امیر قافِلہ کے حُکم پر جب میں نے وہ پیکٹ کھولا تو اُس میں راجہ بازار کے ایک مشہور ہوٹل کے گَتے کے ڈبہ بند تین پیکٹ نِکلے جن میں بریانی، کباب، اور بروسٹ، تھے لیکن یہ کھانا اِتنا کم تھا کہ تین افراد کا بَمُشکل پیٹ بھر سکتا تھا ہمیں لگا کہ وہی نوجوان شرمندگی کی وجہ سے یہ کھانا رکھ گیا ہے اور چُونکہ کھانا تھوڑا ہے اس لئے شرمندگی کے باعث چِٹ لگا کر چلا گیا اور سامنے نہیں آیا ۔۔۔ بہرحال ہم گیارہ افراد اُس کھانے کے گرد حلقہ بنا کر بیٹھ گئے لیکن یہ کیسا کھانا تھا کہ تین افراد کا کھانا جو کہ بُہت لذیز بھی تھا خَتم ہونے کا نام نہیں لے رہا تھا یہاں تک کہ سب نے سیر ہوکر بلکہ یوں کہیے کہ ڈٹ کر کھایا اور کھانے سے فارغ ہونے کے بعد اللہ کا شُکر ادا کرتے ہوئے اجتماع گاہ کیلئے اسلام آباد کے مدنی مرکز کیلئے روانہ ہوگئے۔

دوسرے دِن ہمارے قافلہ کا کُوچ آبپارہ مارکیٹ سے نزد ایک مسجد کے لئے تھا کہ وہی نوجوان قافِلہ کی روانگی سے قبل آدھمکا اور ہم سے دوبارہ معذرت کرنے لگا امیر قافِلہ نے کہا کہ ماشاءَاللہ اسقدر زبردست کھانا آپ نے ہمیں کھلایا اگرچہ کھانا کم تھا لیکن قافِلہ کی برکت سے سب نے پیٹ بھر کر کھا لیا تھا اب معذرت کیوں کر رہے ہیں۔۔۔؟؟؟  وہ نوجوان حیرت سے کہنے لگا لیکن میں نے تو آپ لوگوں کو کوئی کھانا نہیں کِھلایا بلکہ میں نے خُود بھی احتجاجاً کل رات کھانا گھر پر نہیں کھایا میرے پاس تو اتنے پیسے بھی نہیں تھے کہ آپکو کِسی معمولی ہوٹل میں ہی کھانا کھلا سکتا۔

امیرِ قافِلہ نے اُس نوجوان سے دریافت کیا تو کل آپ کھانے کے پیکٹ مسجد میں رکھ کر نہیں گئے تھے؟ اس نوجوان نے کہا کہ آپ مجھ سے قسم لے لیں میں کچھ بھی رکھ کر نہیں گیا، اُس نوجوان کے جانے کے بعد ہم سب آپس میں چہ میگوئیاں کرنے لگے اگر کھانا اِس نوجوان نے نہیں کِھلایا تو آخر ہمیں کھِلایا کس نے اور ہمارا وہ میزبان ہمارے سامنے بھی کیوں نہیں آیا۔

تبھی امیرِ قافِلہ نے نہایت ٹِہرے ہوئے لہجے میں ہمیں مُخاطب کرتے ہوئے کہا دوستوں! ہمیں کھانا یقیناً اُسی رَبَّ العالمین نے کِھلایا ہے جسکے گھر ہم مہمان ٹِہرے تھے ۔جسکے دین کی خدمت کا جذبہ لیکر ہم اپنے گھروں سے نِکلے تھے۔۔۔ دوستوں! حضرتِ صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہُ کا فرمان ہے، مفہوم، جو اللہ کے کاموں میں لگ جاتا ہے اللہ کریم اُسکے کاموں میں لگ جاتا ہے ۔۔۔اور محترم قارئین ایسا ہمارے ساتھ ایک مرتبہ نہیں بلکہ دو مرتبہ ہُوا دوسری مرتبہ  دعوت کی مخالفت  اوربڑی بہن کا کردار ایک امی جان نے نِبھایا اور اُس دِن اِتِفاق سے ہمارے پاس دِن کا بچا ہُوا سالن موجود تھا صرف روٹی تنور سے لانی پڑی تھی ۔۔۔لیکن مُحترم قارئین کرام یہ وہ وجہ ہر گز نہیں تھی جسکے سبب ہمیں اسلام آباد پسند نہیں تھا بلکہ اِسلام آباد کی وہ خاموشی تھی جو مغرب کی نماز کے بعد سے ہی اسلام آباد کی سڑکوں پر اپنا راج کرلیتی تھی۔ جبکہ میرا تعلق اُس شہر سے ہے جہاں رات کے دو بجے تک بھی توے کی کھٹ کھٹ سُنائی دیتی ہے ہمارے شہر کی پلوشن فضا میں ایک پتنگے کو زندہ نہیں رہنے دیتی جبکہ اسلام آباد کی ہریالی نہ صرف اُنہیں جنم دیتی ہے بلکہ وزیرستان کی طرح اُن حشراتُ الارض کو پناہ بھی فراہم کرتی ہے۔

محترم قارئین یہ تو ضمنی بات تھی جو درمیان میں آگئی میری دِلچسپی حیدرآباد مرکز میں مُتوقع امیر قافلہ میں تھی اور جب امیر قافِلہ کا اعلان کیا گیا تو میری خُوشی کی اِنتہا نہ رہی امیر قافِلہ جناب محمد ندیم عطاری بھائی کو بنایا گیا تھا جو کہ میرے بُہت پُرانے دوست بھی تھے اور اب کافی عرصہ سے کوٹری شہر میں خِدمات اِنجام دے رہے تھے میری اُن سے قریباً پندرہ برس بعد مُلاقات ہورہی تھی۔ بہرحال قصہ مُختصر یہ کہ اسلام آباد والوں کی خُوش نصیبی تھی کہ پِنڈی پُہنچ کر قُرعہ مانسہرہ سے ناران تک کے نام نِکلا ہم سبھی مانسہرہ کیلئے روانہ ہوگئے اور یوں اسلام آباد والے میرے نِکمے وَجود سے محفوظ ہوگئے۔

مانسہرہ سے ناران تک کا سفر بھی نہایت یادگار سفر ہے جِسے بُھلانا بھی ناممکن ہے ہو سکتا ہے آج پھر کسی کو میرا کالم پڑھ کر نیند آرہی ہو لہٰذا اگلا سفر آئندہ پیش کرونگا۔۔ اللہ حافظ

عامل کامِل ابو شامِل قسط 27 پہلا شکار


گُذشتہ سے پیوستہ۔
یار یہ سب کیا ہے۔۔۔؟ کامل علی نے دبے دبے لہجے میں احتجاج کرتے ہُوئے ابو شامل کی جانب   اخباری اشتہار بڑھاتے ہُوئے کہا۔۔۔۔
کچھ بھی نہیں یار۔۔۔ بس شکار کیلئے چارہ ہی تو بِچھایا ہے۔۔۔۔ ابو شامل نے اپنے مخصوص انداز میں آنکھ مارتےہُوئے ایک خوبصورت سیلولر فُون کامل علی کی جانب بڑھا دیا۔۔۔ یہ موبائیل  کس لئےہے۔۔۔۔ اور جب کوئی گھر آئے گا تو جاناں کو کیا جواب دیں گے۔۔۔۔ کامل علی نے ابو شامل کے جواب دینے سے قبل ہی دوسرا سوال بھی داغ دِیا۔۔۔

اب مزید پڑھیئے۔

جاناں کو  سنبھالنا تُمہارا کام ہے۔  دھیرے دھیرے وُہ بھی اِس معاملہ کو قبول کرلے گی۔ اُور جہاں تک سوال ہے لُوگوں کے  گھر آنے کا۔ تو آپکی اطلاع کیلئے عرض ھیکہ،، ہم  لُوگوں سے ،، اِس گھر میں مُلاقات نہیں کریں گے۔ بلکہ میں نے  اِس مقصد کیلئے کچھ فاصلے پر ایک کوٹھی کرائے پر حاصل کرلی ہے۔ اشتہار میں رابطہ کیلئے اِسی موبائیل کا نمبر دِیا گیا ہے۔جو  اِس وقت تُمہارے ہاتھوں میں ہے۔  ابتدا میں کلائینٹ کیساتھ میں گفتگو کروں گا۔ اُس کے بعد ضروری ہُوا۔ تو مزید گفتگو تُم کرلینا۔۔۔ تُم جس قدر خاموش رَہو گے۔لُوگ اُسی قدر ذیادہ متاثر ہُونگے۔۔۔ ابو شامل نے تمام تفصیلات سے  کامل علی کو آگاہ کیا۔۔

اَبو شامِل شام  کے آخری پہر کامل علی کوٹھی دِکھانے کیلئے  اپنے ساتھ لےگیا۔۔۔۔ کُوٹھی دیکھ کر کامل علی کی آنکھیں کھلی کی کھلی رِہ گئی۔ تمام کوٹھی کو اتنی نفاست سے ڈیکوریٹ کیا گیا تھا۔کہ،،پہلی ہی نظر میں یہ کوٹھی کسی شاہی خاندان سے وابستہ فرد کے ذُوق کی مرہونِ منت  دِکھائی دیتی تھی۔۔۔۔ یار اتنی مہنگی کوٹھی کرائے پر لینے کی کیا ضرورت تھی۔ ۔۔۔ْ؟؟؟ کامل علی نے حیرت سے کوٹھی کے منقش دَر و دِیوار پر نِگاہ دُوڑاتے ہُوئے کہا۔۔۔

یار جب شِکار بڑا پھانسنا ہُو۔تب انتظام بھی  اچھی طرح ہی کرنا چاہیئے نا!!! ہمارے تمام شِکار کروڑ پتی یا اَرب پتی لُوگ ہُونگے۔ ہم نے غریب لُوگوںسے کیا لے لینا ہے۔ جو اُن بیچاروں پر  فضول محنت کریں۔۔ غریب آدمی اپنا پیٹ بھرلے وہی کافی ہے۔ وُہ ہماری ڈیمانڈ کیا خاک پُوری کریں گے۔ ابو شامل کی گفتگو جاری تھی۔کہ کامل علی کے موبائیل فون کی  گھنٹی بجنے لگی۔۔۔ کامل علی موبائیل  کو جیب سے باہر نِکال کر تذبذب سے دیکھنے لگا۔

 ابو شامِل نے فوراً   کامل علی  سے جھپٹ کرموبائیل اپنے ہاتھ میں لیےلیااُور اسپیکر آن کردیا۔ دُوسری جانب  سے کسی شخص نے بھاری لیکن شائستہ آوازمیں سلام کیا۔۔۔ ابوشامِل نے سلام کا جواب دینے کے بعد مدعا جاننے کی کوشش  کرتے ہُوئے کہا۔جی فرمایئے میں آپکی کیا خِدمت کرسکتا ہُوں۔۔۔ کیا میں کامل شاہ صاحب سے بات کرسکتا ہُوں۔ ؟؟؟ دوسری جانب  سے اِس مرتبہ نہایت عاجزی سے استفسار کیا گیا۔  ۔۔۔کامل علی نے اپنا تذکرہ سُن  کر فُون لینے کی کوشش کی لیکن ابو شامل نے اُسے ہاتھ کے اِشارے سے منع کرتے ہُوئے  کالر کو جوابدِیا۔۔۔ کیا آپ نے  حضرت صاحب سے مُلاقات کیلئے اپایٹمنٹ لی ہُوئی ہے۔۔۔ دُوسری جانب سے  آواز آئی جناب ملاقات کا وقت تو نہیں لیا ہے۔ لیکن کیا فون پر گفتگو بھی ممکن نہیں ہے۔؟

نہیں جناب ۔حضرت قبلہ شاہ صاحب بُہت مصروف شخصیت ہیں۔ اُنکے لئے ممکن نہیں ہے کہ،، وُہ ہر وقت لوگوں سے گفتگو یا مُلاقات کرسکیں۔ ۔ ویسے اگر کوئی ایمرجنسی ہے تو آپ مجھے بتاسکتے ہیں۔ اگر مجھے لگا کہ آپکا مسئلہ بُہت اہم ہے تو میں کوشش ضرور کرسکتا ہُوں۔کہ،، آپ کیلئے شیڈول سے قبل وقت حاصِل کرسکوں۔۔۔ ابوشامل نے کامل کی جانب دیکھتے ہُوئے اداکاری کی۔۔۔۔ دوسری جانب سے شکریہ ادا کرنے کے بعد کہا گیا۔ میرا نام نِفاست صدیقی ہے۔ میری عمر ساٹھ برس سے کچھ زائد ہے۔اُور مجھے قریباً دس برس سے جوڑوں میں شدید درد کی شکایت ہے۔میں نے اخبار میں آپکی جانب سے دِیا گیا اشتہار پڑھا تھا۔ کیا آپ مجھے جُوڑوں کے دَردسے  نجات دِلواسکتے ہیں۔۔۔

جناب  کامل شاہ صاحب چاہیں تو کس درد یا تکلیف  سے نجات نہیں  دِلواسکتے۔۔۔۔ لیکن۔۔۔۔۔   ابو شامل کی  لیکن کے بعد خاموشی نے دوسری جانب بے چینی پیدا کردی تھی۔۔۔ لیکن کیا جناب۔؟؟؟نِفاست علی نے نہایت بےچینی سے دریافت کیا۔۔۔ لیکن یہ کہ،، جناب جوڑوں کی یہ دوائی بُہت نایاب قسم کی جڑی بوٹیوں اُور خاص قسم کے عرقیات سے  تیار کی جاتی ہے۔ یہ کوئی عام قسم کی داوئی نہیں ہے۔۔۔ حالانکہ قبلہ شاہ صاحب اِن ادویات سے ایک رُوپیہ بھی منافع کی مَد میں نہیں لیتے۔ لیکن   اِن عرقیات سے حاصل شُدہ آئل کی ایک بوتل کی قیمت کوئی عام آدمی نہیں خرید سکتا۔۔۔ اسلئے میں معذرت خواہ ہُوں۔آپ شائد یہ بوتل خریدنا افورڈ نہیں کرپائیں گے۔ابوشامل نے انتہائی مہارت سے نفاست علی  کی عزت نفس پر چُوٹ کی۔

افورڈ نہیں کرپاوٗں گا۔  یہ آپ نے کیسے سُوچ لیا۔۔۔؟؟؟ جناب میں ایک بزنس مین ہُوں۔ اُور  لیدر ایکسپورٹ کے شعبے سے وابستہ ہُوں۔ آپ قیمت بتایئے۔ پھر میں آپکو بتاوٗنگا کہ،، میں کیا کچھ افورڈ کرسکتا ہُوں۔ نفاست علی نے تمکنت بھرے لہجے میں کہا۔۔۔۔ ابوشامل کا  چھوڑا ہُوا تیر عین نشانے پر لگا تھا۔۔۔۔۔۔ ٹھیک ہے جناب آپ ناراض نہ ہُوں ۔میں آپکو  قیمت بتاے دیتا ہوں۔جوڑوں کے درد کے آئل کی لاگت تقریباً نوے ھزار روپیہ ہے۔کیا آپ یہ قیمت افورڈ کرسکتے ہیں۔۔۔؟ابو شامل نے نِفاست علی کو جواب دِیتے ہُوئے سوال کیا۔۔۔
اُوہ! نَوے ھزار۔۔۔ سُنیں میں آپکو نَوے ھزار نہیں بلکہ پُورا ایک لاکھ روپیہ دُونگا۔۔۔  لیکن  مجھے آرام آناچاہیئے۔۔۔ کیا آپ مجھے یقین دِلا سکتے ہیں۔کہ،، مجھے اِس دوائی سے ضرور اِفاقہ ہُوگا۔ نِفاست علی صدیقی نے اپنے شک کا اِطہار کرتے ہُوئے کہا۔۔۔ ٹھیک ہے نِفاست صاحب میں کل آپکی قبلہ کامِل شاہ صاحب سے  مغرب کی نماز کے بعد مُلاقات کا بندوبست کئے دیتا ہُوں۔ مجھے یقین ہےکہ،، قبلہ شاہ صاحب سے مُلاقات کے بعد آپکو کسی قسم کا اِبہام نہ رہے گا۔ اسکے بعد اَبو شامِل نے نفاست صدیقی کو اِس نئی کوٹھی کا ایڈریس لکھوانے کے بعد کال کا سلسلہ منقطع کردِیا۔

کیوں میرے دُوست تم نے انسانوں کو مارکیٹنگ کرتے ہُوئے  تو ہزار مرتبہ دیکھا ہُوگا۔ لیکن کیا کسی انسان کو مجھ جِن زادے کی طرح مارکیٹنگ کرتے بھی دیکھا ہے۔۔۔ ابو شامل نے تفاخر سے سینہ پُھلاتے ہُوئے داد طلب نِگاہوں سے کامل علی کی جانب دیکھا۔۔۔۔۔۔ یار تمہاری پرفارمنس تو واقعی زبردست تھی۔۔۔ لیکن یہ بتاوٗ کہ نفاست صدیقی کو اعتبار کیسے دِلاوٗ گے۔۔۔۔ اُور یہ آئل جسکا ابھی  تُم نفیس صدیقی سے تذکرہ کررہے تھے۔ وُہ کہاں سے پیدا کرو گے۔ ۔۔۔ کامل علی نے  تعجب سے ابو شامل سے دریافت کیا۔

دَوا ئی کیلئے میں ابھی کوہ قاف کے شاہی حکیم بطلیموس سے رابطہ کرونگا۔ مجھے معلوم ہے۔ وُہ ہر قسم کے امراض کا شافی علاج کرتے ہیں۔ اُور مجھ سے خصوصی محبت رکھتے ہیں۔۔۔ اِس لئے مجھے کبھی  کسی کام کیلئے منع نہیں کریں گے۔۔۔ اُور جہاں تک نفاست صدیقی کو مطمئین کرنے کی بات ہے تو میرے خیال میں ہمارے کانٹے میں ایسی مچھلی آگئی ہے۔ جس کے پیچھے پیچھے دوسری مچھلیاں خود بخود چلی آئیں گی۔ اُور ہمیں  پبلسٹی کیلئے ذیادہ محنت نہیں کرنی پڑے گی۔ اِس لئے نِفاست صدیقی کو ہم ایڈوانٹیج دیں گے۔ اُور تعلقات کو  مستحکم کرنے کیلئے پہلے کسٹمر کو فری دوائی دیں گے۔ جسکی وجہ سے نفیس صدیقی جیسی بڑی پارٹی ہمیشہ ہمارے اِحسان تلے دبی رہے گی۔۔۔۔ ابوشامل نے مکارانہ انداز میں قہقہ بلند کرتے ہُوئے کہا۔۔۔۔جبکہ کامل علی ہونقوں کی طرح ابو شامل کے آئیڈیئے پر  دِل ہی دِل میں اُسے داد  دے رَہا تھا۔
جاری ہے۔۔۔

اُسکا کہنا ہے۔ کِسی اُور کو دیکھوں نہ کبھی
کیوں کہ اُسکو یہ میرا رُوپ بُرا لگتا ہے۔

مجھکو ہر چہرے میں آتی ہے نظر اِک وُہ ہی
جُو نہ بھر پائے یہ بہروُپ بُرا لگتا ہے۔


Friday, 7 February 2014

عامل کامِل ابو شامل قسط 26۔ بابا کامل شاہ گیند والے



گُزشتہ سے پیوستہ۔
 کامل علی نے بتایا کہ اُس نے جاناں کو اپنی فیملی کے متعلق سچ سچ بتادیا کہ،، اُسکا اِس بھری دُنیا میں کوئی نہیں ہے۔۔۔ جبکہ  افلاطون اُسکی دُور کی پھوپی کا بیٹا ہے ۔ جو پھوپی کے انتقال کے بعد اِس کے ہی ساتھ رِہتا ہے۔۔۔۔ کامِل  علی کے خاموش ہُوتے ہی  افلاطون نے ہاتھ نچا کر کامل کو مُخاطب کرتے ہُوئے کہا۔اُو !کمینے انسان  تمہارا بھلے دُنیا میں کوئی نہیں ہو۔ لیکن میرے ماں باپ دُونوں ہی زِندہ ہیں۔ تُم نے جیتے جی میری ماں کو کیوں مار ڈالا۔  اگر میرے والد کو معلوم ہُوگیا کہ تُم نے جیتے جی اُنکی اکلوتی بیگم کو  تخیل میں مار ڈالا ہے۔ تو مجھے قوی اُمید ہے کہ،، وُہ تمہارے ساتھ میرا بھی خُون پی جائیں گے۔۔۔ بہرحال مجھے خُوشی ہے کہ،، تم نے  جاناں کو مطمئین کردیا ہے۔ اُور اب میں تمہیں بزنس کا وُہ آئیڈیا بتانے جارہا ہُوں۔۔۔ جِسے سُن کر تم بھی مجھے داد دیئے بنانہیں رِہ سکو گے۔۔۔۔ کامل علی نے تجسس سے  اپنے تمام جسم کو کان کی صورت بنالیا۔ لیکن افلاطون کا بزنس آئیڈیاسُن کر کامل علی کا دِماغ چکرا گیا۔۔۔۔۔کیونکہ افلاطون کا کہنا تھا کہ،، ہم خواہشیں بیچنے اُور خُوف خریدنے کا بزنس  شروع کریں گے۔

اب مزیدپَڑھیئے۔
یہ کُونسا بزنس ہے۔؟؟؟ کامل علی نے حیرت سے  ابو شامِل کے چہرے کو تکتے ہُوئے  سُوال کیا۔۔۔
بُہت زبردست بزنس ہے میرے یار۔ اُور مجھے یقین ہے کہ،،  ایک مرتبہ بس بزنس چل نکلے ۔تب کوئی تمہیں کروڑ روپیہ کی بھی آفر کرے کہ،، یہ بزنس ختم کردو۔تب بھی تُم اِس بزنس کو ختم کرنے کا تصور بھی نہ کرپاوٗگے۔ ابو شامل نے مسکراتے ہُوئے  مُبہم  ساجواب دیا۔
یار  تُم کیا بکواس کررہے ہُو۔ مجھے تو کچھ بھی سمجھ نہیں آرہا۔ کامل علی نے بیچارگی سے مُنہ بَسورتے ہُوئے کہا۔

یار بُہت سیدھا سا بزنس ہے۔ اُور میں کوئی فارسی میں تم سے کلام نہیں کررَہا۔جُو تمہیں میری  بات سمجھ نہیں آرہی۔ دیکھو نا! ۔ دُنیا میں تقریباً ہر ایک انسان جاگتے اُور سُوتے میں مستقبل کے خُواب دیکھتا ہے۔  البتہ  سب  ایک جیسے خُواب نہیں دیکھتے۔ یہاں کوئی راتوں رات دُولتمند بننے کے خواب دیکھتا ہے۔ کوئی حَسین ساتھی پانے کا خواب دیکھتا ہے۔ کوئی راجہ اِندر بننے کے خُواب دیکھتا ہے۔ تو کوئی پریوں کے انتظار میں جاگتا ہے۔ کوئی طلسمی چراغ کا متلاشی ہے۔ تو کوئی اُولادِ نرینہ کے خُواب دیکھتا ہے۔ کوئی سکندر اعظم بننا چاہتا ہے۔ کوئی صرف طاقتور بننے کے خواب دیکھتا ہے۔ الغرض کوئی ایسا نہیں جو خواب نہ دیکھتا ہُو۔ البتہ تھوڑے سے لُوگ ہیں۔ جو اِن خوابوں کی تعبر کیلئے جلد بازی  اُور بے صبری کا مُظاہرہ نہیں کرتے۔ ورنہ اکثریت اُن لوگوں کی ہے جو ہر قیمت پرجلد از جلد  اپنے خوابوں کو حقیقت  کا رُوپ  دینےکیلئے ہر جائز اُور ناجائز طریقے کو بروےکار لانے سے بھی نہیں چوکتے ۔ بس ہم اُن لوگوں کو خواب بیچیں گے۔

جبکہ جو لوگ مشکلوں اُور تکالیف سے جلد گھبرا جاتے ہیں۔ اُور حالات کا  ڈٹ کرمقابلہ نہیں کرسکتے۔ ماوارائی مخلوقات کے چنگل میں پھنس جاتے ہیں۔یا خُوف کے جنگل  میں بھٹک کر واپسی کا راستہ بھول جاتے ہیں۔  ہم اُن تمام لُوگوں سے خُوف خرید لیں گے۔ البتہ  یہ اُور بات ہے کہ،، ہم سُودا  خریدیں یا بیچیں دُونوں صورتوں میں قیمت ہماری جیب میں ہی آئے گی۔ دوسری طرف تمہاری شہرت میں الگ چار چاند لگ جائیں گے۔ کیا بیوروکریٹ کیا ٹیکنو کریٹ۔کیا مُشیر اُور کیا وزیر ۔ہر ایک تمہارے دَر پر تمہاری  ایک نگاہ ناز کیلئے بیقرار کھڑا نظر آئےگا۔۔۔ویسے میں چاہوں تو  بغیر مشقت کے ہی  تُمہیں اتنی دُولت دے سکتا  ہُوں۔ جو تمہاری زندگی بھر کیلئے کافی ہُوسکتی ہے۔۔۔ لیکن اسطرح تمہاری شخصیت  لوگوں میں مشکوک بن کر رِہ جائے گی۔ جو میں کسی قیمت پر گوارہ نہیں کروں گا۔۔۔۔ جبکہ یہ بزنس تمہاری شخصیت کو مزید نکھارنے کا سبب بن جائے گا۔ البتہ تُم چاہو۔تو نقد نذرانے لینے کے بجائے کوئی ٹرسٹ بھی قائم کرسکتے ہُو۔ افلاطون نے طویل گفتگو کے بعد لمبا سانس لیکر اِستفہامیہ  نظروں سے کامل علی  کی جانب دیکھا۔

مطلب یہ کہ،، تم مجھے عامل یا بنگالی جادوگر بنانا چاہتے ہُو۔ حالانکہ تُم اچھی طرح جانتے ہُو۔کہ،،مجھے عملیات  کی الف ب  کی بھی خبر نہیں ہے۔کامِل علی نے افلاطُون کو گھورتے ہُوئے کہا۔
یار تُم الف ب نہیں جانتے  ۔لیکن لُوگوں کو یہ کبھی معلوم نہیں ہُو سکےگا۔۔۔ کیونکہ میں تمہارے ساتھ رہوں گا۔ اُور معاف کرنا مجھے الف، ب ہی کیا اِس سے آگے کے اسباق کا بھی عِلم ہے۔۔۔مطلب  یہ کہ،، فی الحال تمام کام میں کروں گا۔۔۔ اُور  نام کیساتھ ساتھ تجوری تُم بھرتے جانا۔۔۔۔ اُور ساتھ ساتھ اِن عُلوم کو تم میں منتقل کرتا رہوں گا۔جب تک کہ،، تمہیں میری حاجت نہ رہے۔۔۔ اِس طرح ہمارے درمیان دوستی کے علاوہ اُستاد شاگرد کا رشتہ بھی قائم ہُوجائے گا۔ افلاطون نے شرارت سے آنکھ مارتے ہُوئے کہا۔۔۔

یار مجھے تو یہ سب سُوچ کر ہی جھرجھری سی آرہی ہے۔ تمہارے ذہن میں نجانے کہاں سے یہ شیطانی آئیڈیا آگیا ہے۔۔۔ کیا ہم کوئی سیدھا سادا سا کام نہیں کر سکتے۔جہاں سے معقول آمدنی کا ذریعہ بن جائے ۔۔۔ اُور اُسکے بعد میں آرام سے۔۔۔۔۔؟؟؟  کامل علی نے ٹھنڈی آہ بھر کر جملہ ادھورا چھوڑ دیا۔

پہلی بات تو یہ ہے کہ،، ہم یہی بزنس کریں گے۔۔۔ البتہ  ایک ماہ بعد بھی تُمہاری یہی رائے رَہی ۔۔۔ تب میرا  تُم سے وعدہ ہے۔ کہ جیسا بزنس تُم کرنا چاہوگے۔میں ویسا ہی بزنس اِسٹارٹ کروَادونگا۔۔۔۔۔۔۔ لیکن  تمہارے ادھورے جملے آرام سے کیا۔۔۔کا کیا مطلب ہے۔؟؟؟یقیناً عکشہ یا نرگس سے عشق لڑانے کے  سِوا کوئی دوسری بات تم نہیں سُوچ سکتے۔۔۔ افلاطون نے کامل کا تمسخر اُڑاتے ہُوئے کہا۔

ہاں یار تُم سچ کہتے ہُو۔۔۔ میں فی الحال عکشہ کے ہی متعلق سُوچ رَہا تھا۔ کامل علی نے جھینپ کر اِقرار کرتے ہُوئے گفتگو جاری رکھی۔۔۔۔ یار کتنی عجیب بات ہے کہ،، مجھے نرگس سے اسقدر اُنسیت ہے کہ،، میں نے آج سے پہلے نرگس کے علاوہ کسی دوسری عورت کا تصور تک بھی نہیں کیا تھا۔۔۔۔لیکن۔ مجھے نجانے کیوں ایسا محسوس ہُوتا تھا۔۔۔۔ جیسے نرگس میں کچھ کمی ہے۔ جیسے اُسمیں کچھ نِسائیت کی کمی  ہُو۔ جیسے اُس میں کچھ ادھورا پن ھو۔۔۔ لیکن عکشہ کو دیکھ کر ایسے لگا تھا۔ جیسے وُہ کمی، وُہ اَدھورا پن ختم ہُوگیا ہو۔ اُور نرگس مکمل نسائیت کیساتھ میرے سامنے آکھڑی ہُوئی ھو۔۔۔۔ کامل علی جملہ مکمل کرنے کے بعد ایک مرتبہ پھر عکشہ کے تصور کو اپنے خیال میں لے آیا۔

ہاں دُوست یہ بات تم نے بالکل سچ کہی ہے۔ واقعی عکشہ نرگس کے مقابلے میں ایک بھرپُور عورت ہے۔ دراصل میرے خیال میں نرگس میں نِسائیت کی کمی اُسکی کم عمُر ی کی وجہ سے ہے۔ لیکن عکشہ عُمر کے اُس حِصے میں ہے۔جہاں عورت کی تکمیل ہُوجاتی ہے۔ اُور وُہ مزید جاذِبِ نظر دِکھائی دیتی ہے۔۔۔ویسے مجھے لگتا ہے۔کہ،، نرگس بھی شائد دَس برس کے بعد عکشہ ہی کی طرح بھرپُور عورت نظر آنےلگے گی۔۔۔ لیکن یہ بھی ہُوسکتا ہے کہ نرگس اپنی فٹنس کا دھیان نہ رکھے ۔اُور  بجائے عکشہ کے  جاپانی پہلوان نظر آنے لگے۔ افلاطون نے شرارت سے مُنہ پُھلا کر  پہلوانوں کی نقل اُتارتے ہُوئے جواب دِیا۔

ابو شامِل کی یقین دِہانی کے بعد کامل علی نے ہاں تو کردی۔۔۔ لیکن  کامل علی سے بابا عامل کامل علی کے تصور سے ہی کامل علی کے دِل میں خُوف کے بادل سمندر میں ٹھاٹیں مارتی ہُوئی لہروں کی طرح اُسکے دِل کو دِہلا رہے تھے۔۔۔ تیسرے دِن صبح ہی صبح ابو شامل اخبار لہراتا ہُوا۔کامل علی کو پُکارتے ہُوئے ڈائینگ ھال میں داخل ہُوا۔۔۔۔۔ خیریت تو ہے۔۔۔؟اتنا خوش کیوں نظر آرہے ہو۔؟؟؟کیا پرائز بانڈ  میں فرسٹ انعام نِکل آیا ہے۔۔۔؟ کامل علی نے چائے کی پیالی ہونٹوں سے جُدا کرتے ہُوئے ٹیبل پر رکھ دی۔۔۔۔۔

یار ہمیں انعام کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ میں انعام کی رقم سے سُو گُنا زائد رقم تمہارے قدموں میں ڈھیر کرسکتا ہُوں۔۔۔  اُور میں بزنس صرف زندگی میں  ایڈونچر پیدا کرنے کیلئے کرنا چاہتا ہُوں۔ البتہ تمہاری بات نے مجھے ایک نئی راہ دِکھا دی ہے۔۔۔۔ اب ھم خوابوں کے ساتھ انعامی بانڈ کے ایڈوانس نمبر بھی بیچیں گے۔۔۔۔ابو شامل مزید بھی کچھ کہنا چاہتا تھا۔ لیکن جاناں کو آتا دیکھ کر وُہ خاموشی سے اخبار کی تہہ بنانے میں مصروف ہُوگیا۔

تھوڑی دیر بعد تنہائی میسر آتے ہی کامل علی اخبار میں موجود نصف صفحہ پر مشتمل اِشتہار  حیرت سےپڑھ رہا تھا۔۔۔۔ عملیات کی دُنیا میں تہلکہ دُنیا بھر کے تمام جادوگروں کو  عامل کامل۔۔۔ بابا کامل شاہ  (گیند والے)کا کُھلا چیلنج۔۔۔ جادو اُور سفلی کے رُوحانی تُوڑ کے عالمی شہرت یافتہ عامل۔۔۔ جنکی زِندگی کا مقصد صرف دُکھی انسانیت کی خِدمت ہے۔۔۔۔ رُوٹھے ہُوئے محبوب کو اپنوں قدموں میں بُلانا ہُو ۔۔۔ یا دشمنوں کو شکست سے دوچار کرنا۔۔۔ ظالم شوھر کو راہِ راست پر لانا ہُو۔۔ یا گمراہ اُور بدچلن بیوی  کو اِشارے پر چلانا۔۔۔ لاٹری کا نمبر ہُو۔۔۔ یا  پرانی سے پُرانی بندش کھلوانا۔۔۔۔ بانجھ پن کے ستائے مرد  ہُوں۔۔ یا بیماری اور کورٹ کچھری میں الجھے ہُوئے افراد۔۔۔ یا آپکے بوڑھے والدین کو جُوڑوں میں درد کی دائمی شکایت ہُو۔ الغرض دُنیا  کاکوئی بھی پیچیدہ سے پیچیدہ  مسئلہ ہُو۔۔۔۔۔ تمام رکاوٹیں اُور تمام پریشانیاں با با کامل علی کی صرف ایک نظر سے دُور ہُوتی ہیں۔۔۔۔ آمد سے ایک ہفتہ قبل   فون پر اپنا ٹوکن نمبر ضرور حاصل کریں۔۔۔۔۔
نُوٹ۔۔۔۔ اگر کسی صاحب کے پاس چیتے کی چربی،، لُومڑی کی دُم۔ یا زندہ اُلو موجود ہُوں۔ تو ضرور رابطہ فرمائیں۔۔۔ آپ کو مُنہ مانگی قیمت اَدا کی جائے گی۔  اُسی نُوٹ کے  نیچے ایک موبائیل فون نمبر بھی درج تھا۔

یار یہ سب کیا ہے۔۔۔؟ کامل علی نے دبے دبے لہجے میں احتجاج کرتے ہُوئے ابو شامل کی جانب دیکھا۔۔۔۔ کچھ بھی نہیں یار۔۔۔ بس شکار کیلئے چارہ ہی تو بِچھایا ہے۔۔۔۔ ابو شامل نے اپنے مخصوص انداز میں آنکھ مارتےہُوئے ایک خوبصورت سیلولر فُون کامل علی کی جانب بڑھا دیا۔۔۔ یہ موبائیل  کس لئےہے۔۔۔۔ اور جب کوئی گھر آئے گا تو جاناں کو کیا جواب دیں گے۔۔۔۔ کامل علی نے ابو شامل کے جواب 
دینے سے قبل ہی دوسرا سوال بھی داغ دِیا۔۔۔

جاری ہے۔۔۔

اُسکا کہنا ہے۔ کِسی اُور کو دیکھوں نہ کبھی
کیوں کہ اُسکو یہ میرا رُوپ بُرا لگتا ہے۔

مجھکو ہر چہرے میں آتی ہے نظر اِک وُہ ہی
جُو نہ بھر پائے یہ بہروُپ بُرا لگتا ہے۔

Tuesday, 4 February 2014

میلی چادر بوسیده ڈھول


میلی چادر اُور پَھٹا ڈُھول۔۔۔ ناکام مجرم سے رُوح کا مناظرہ

آج زِندگی کی چوالیس بہاروں اُور اُن سے پہلے آنے والی تمام خِزاوٗں سے سلامت گُزر جانے کے بعد دِل میں پھر  سے یہ خاہش اَنگڑائی لیکر بیدار ہُونے کی سعی کرنے  کی جراٗت کررہی ہے۔ کہ،، میں اِن گُزرے ہُوئے چوالیس برس کا محاسبہ کرنے کی جسارت کروں۔۔۔ اُور یہ پہلی مرتبہ نہیں ہے۔ بلکہ  رُوح کے  انتھک کوششوں کے باوجود ،،رُوح اُور نفس میں ہمیشہ ہی ایک جنگ کا سماں پیدا ہُوجاتا ہے۔

رُوح چیخ چیخ کر  میری  بدعنوانیوں کی داستاں بیان کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ لیکن جیت ہمیشہ نفس کی ہی ہُوتی ہے۔۔۔جنگ کی ابتدا میں رُوح کچھ پُراُمید و پُر عزم دِکھائی دیتی ہے۔ لیکن میری بے حسی اُور بے توجہی کے باعث ہمیشہ  تھک ہار کر  نفس کے سامنے سِپر ڈال دیتی ہے۔ اُور مسلسل کئی برسوں سے بلاآخر جیت نفس کے حِصے میں ہی آتی ہے۔۔۔اِس جنگ کے زُور پکڑنے سے قبل ہی میرا  نفس ہمیشہ مجھے یہ باآور کرانے میں کامیاب ہُوجاتا ہے۔کہ رُوح مغالطہ میں ہے۔۔۔ حالانکہ منزل سامنے نہیں ہے۔ لیکن جو راستہ میں اِختیار کئے ہُوئے ہُوں۔ دراصل صرف یہی رستہ سہل ہے اُور اِسی راستے سے منزل تک پُہنچنا ممکن ہے۔ نفس کا انداز بیاں اتنا پُرکشش ،  پُرجوش،  دِلنشین، اُور سِحر اَنگیز ہُوتا ہے۔ کہ طبیعت رُوح کی آواز سننے  کی طرف مائل ہی نہیں ہُوپاتی۔ اُور رُوح کی پُکار  ہمیشہ صدائے صحرا کی طرح بالکل بے اثر ہُوجاتی ہے۔

آج شائد نفس کچھ مدہوش و بے فکر ہِے۔۔۔ سُو اِس لئے رُوح نے چالاکی سے کام لیتے ہُوئے میرے کانوں میں دھیمے دھیمے پُھسپسھسانا شروع کردیا۔ پہلے تو جی میں آیا کہ اپنے دِل کے کانوں میں خوب رُوئی ٹھونس کر لحاف میں سُوجاوٗں۔۔۔لیکن۔۔۔ دھیرے دھیرے رُوح کے سُوز نے میرے تمام جسم کو شل کردیا۔ جسکی وجہ سے نہ ہی میں اپنے نفس کو ہشیار کرپایا۔۔۔ اُور نہ ہی ہمیشہ کی طرح سے بے اعتنائی کا مظاہرہ کرپایا۔

تشبیہ۔

رُوح نے میری بےبسی دیکھ کرسب سے  پہلے میری توجہ اِس جانب مبذول کروائی کہ،، مجھے دُنیا میں کسی  مادی شئے سے اپنی تشبیہ اُور شناخت حاصل کرنی چاہیئے۔۔۔ میں نے کہا۔۔۔ کہ،، میں مسجودِ ملائک ہُوں۔ بھلا میری تشبہ کسی مادی شئے سے کب ممکن ہے۔۔۔ لیکن رُوح کا اِصرار بڑھتا گیا۔ کہ،، نہیں مادی شئے سے تشبیہ ضروری ہے۔تُم نے چوالیس برس میں میری کوئی بات نہیں مانی ہے۔ صرف آج کی رات موقع مِلا ہے۔ خدارا  ضد نہ کرو۔ اُور آج صرف میری سُن لُو۔جب ہم کسی نتیجے پر پُہنچ جائیں۔ تب تُم کو اِختیار ہُوگا۔ چاہو تو میرے تجزیئے کے مطابق منزل کو تلاش کرنے کی کوشش کرنا۔ چاہو تو اپنی سابقہ ڈگر پر لُوٹ جانا۔۔۔ مجھے آج اپنی بےبسی سے ذیادہ نفس کی بے فکری پر غصہ آرہا ہے۔۔۔ نہ وُہ یُوں اطمینان سے تان کر سُوتا۔۔۔ اُور نہ مجھے یُوں رُوح کے ہاتھوں یرغمال بننا پڑتا۔ لیکن اب کرا بھی کیا جا سکتا ہے۔

میں نے  عقل کے گھوڑے  دُوڑائے۔۔۔ کبھی خود کو پہاڑ سے، کبھی فلک سے، کبھی شجر سایہ دار سے تشبیہ دینے کی کوشش کی۔۔۔ لیکن میرے ہر خیال و انتخاب کی رُوح نے دھجیاں بکھیر کر رکھ دیں۔۔۔ اُس کے مسلسل انکار سے میں نے عاجز آکر کہہ دیا۔۔۔۔ جب تُمہارے خیال میں اِن میں کوئی بھی نہیں ہے ۔تو تُم خود ہی کیوں نہیں بتادیتے کہ،، مجھے کس شئے سے خُود کو تشبیہ دینی چاہیئے۔۔۔ رُوح  نے  پہلے تو فاتحانہ انداز سے میری جانب دیکھا۔ لیکن پھر مغموم لہجے میں کہا۔۔۔ پہلے مجھ سے وعدہ کرو۔کہ،، میرے رائے سن کر  بدک تو نہیں جاوٗ گے۔۔۔یا۔۔۔ یُوں تو نہیں کہو گےکہ،، جاوٗ ہمیں یہ آزمائشی اور اِحتسابی کھیل نہیں کھیلنا۔۔۔۔

میں نے نا چاہتے ہُوئے بھی حامی بھرلی۔کیونکہ،، میرے پاس اقرار کے سِوائے کوئی چارہ نہیں تھا۔  کیونکہ،، ایک طرف آج مجھےنفس کی مدد حاصل نہیں تھی۔ تو دوسری طرف میرے اندر بھی تجسس پیدا ہُوچلا تھا۔کہ آخر رُوح میرے متعلق کیسی تشبیہ کو اپنے من میں سجائے ہُوئے ہے۔۔۔؟

مجھ سے ایجاب و قبول کی سند حاصل کرنے کے بعد ،، رُوح نے مجھ سے کہا،،  میرے خیال میں تُمہاری تشبیہ،،  میلی چادر میں چھپے  پَھٹے  ڈُھول،، جیسی ہُونی چاہیئے۔۔۔۔۔ بےعزتی کے احساس سے میرے نتھنے پھولنے لگے۔ اُور مجھے یُوں محسوس ہُونے لگا۔ جیسے مجھے کسی نے زندہ  پکڑ کردِہکتی ہُوئی بھٹی میں جھونک دیا ہُو۔۔۔ اسقدر بےعزتی کا تصور شائد ہی نےمیں زندگی میں کبھی محسوس کیا ہُو۔

میں نے غُصیلے لہجے میں پجنکارتے ہُوئے  احتجاج کیا۔۔۔ تمہاری اتنی جراٗت بھی کیسے ہُوئی کہ،، میرے متعلق اتنی گھٹیا رائے اپنے ذہن میں رکھو۔۔۔ کیا تمہیں عِلم نہیں ہے۔کہ،، لُوگ میرے بارے میں کتنی اچھی رائےرکھتے ہیں۔ اُور میری کتنی عزت کرتے ہیں۔۔۔۔ رُوح نے مجھے بپھرتا دیکھ کر  فوراً مجھے میرا وعدہ یاد دِلایا۔کہ ،، ہم دونوں میں ابھی یہ معاہدہ طے پایا  ہے۔ کہ ہم غصے کے بجائے دلیل سے بات کریں گے۔ اُور جسکی دلیل مضبوط ہُوگی جیت بھی اُسی کی ہُوگی۔

میں نے گلا کھنکارتے ہُوئے کہا۔۔۔ لیکن ہمارے درمیان یہ معاہدہ نہیں ہُوا تھا۔ کہ تم میری عزت نفس کے ساتھ کسی بھی قسم کا کِھلواڑ کرو۔۔۔ اُور میں خاموش تماشائی کی طرح چپ چاپ سہتا رَہونگا۔۔۔۔ اُور جہاں تک  دلیل کی بات ہے۔۔۔ وُہ میں تُم سے ضرور  مانگوں گا۔کیونکہ مجھے قوی یقین ہے۔کہ تم اپنی بےہودہ الزام تراشی کے جواز میں کوئی دلیل پیش نہیں کرپاوٗگے۔۔۔


 میرے لہجے کی تُرشی سے ایک لمحے کیلئے رُوح پر مایوسی کی کیفیت طاری ہُوئی۔ جیسے بازی اُس کے ہاتھ سے نکل گئی ہُو۔ لیکن میرے دلیل طلب کرتے ہی وُہ پرسکون نظر آنے لگی۔ جیسے میں انجانے میں اسکے مطلب کی بات کردی ہُو۔ رُوح نے  میرے چہرے پر نظریں جماتے ہُوئے مجھ سے استفسار کیا۔تمہیں یہ تو معلوم ہی ہُوگا۔کہ پہلے زمانے میں لُوگ سُونا ، چاندی، ہیرے جواہرات۔ اپنے بوسیدہ کپڑوں میں چھپا کر رکھتے تھے۔۔۔؟

ہاں میں  نے بھی سُنا ہے ۔کہ پہلے زمانے کے لوگ اپنی قیمتی اشیاٗ کو ایسے ہی محفوظ کرتے تھے۔۔۔۔ لیکن دھیرے دھیرے چور ڈاکووٗں کو بھی اِس بات کی بھنک پڑگئی تھی۔اُور پھر سب سے پہلے چُور گھر میں داخل ہُونے کے بعد ایسی گٹھڑیوں کا گھنگالتے تھے۔۔۔ میں نے اپنی معلومات جھاڑتے  ہُوئے  یہ ثابت کرنے کی کُوشش کی کے میں بھی کوئی لاعلم اِنسان نہیں ہُوں۔

خُدا تُمہارا بھلا کرے۔ تم نے خود ہی میرے لئے معاملہ کو سمجھانا آسان کردیا۔ اُور مجھے اقرار۔و۔ انکار کی اذیت سے بچالیا۔۔۔رُوح نے خُوش ہُوتے ہی گفتگو جاری رکھی۔۔۔ جیسا کہ تم نے ابھی خود یہ ثابت کردیا ھے۔کہ تُم پچھلے زمانے کی یہ چالاکیاں خوب اچھی طرح جانتے ہُو۔ سُو میرا کہنا یہ ہے کہ،، تُم نے  لُوگوں کی نفسیات سے کھیلتے ہُوئے۔ خُود کو ایک  بناوٹی عاجزی کی میلی چادر میں چھپانے کی کوشش کی۔جس میں تمہیں خاطر خواہ کامیابی بھی حاصل ہُوئی۔ایک طرف تم نے خود پر عاجزی کی ملمع شدہ چادر اُوڑھ لی ۔ دُوسری طرف تُم لوگوں کو اپنی بڑائی کے جا بجا قصے سُنا کر یہ ثابت کرنے کی کوشش کرتے رہے۔کہ،، جیسے اِس میلی چادر میں کوئی پُوشیدہ خزانہ چھپا ہُو۔  تم چونکہ ایک چالاک اُور مکار اِنسان ہُو۔۔۔ تُم کو معلوم تھا کہ،، انسان ہمیشہ سے ہی پوشیدہ خزانوں کا مُتلاشی ریا ہے۔۔۔ اِس لئے لُوگ خزانے کی تلاش میں ضرور آئیں گے۔   یعنی میں یوں کہوں کہ بظاہر تم نے دانہ بچھا رکھا تھا۔۔۔ جیسے بھوکوں کے بُہت بڑے ہَمدرد ہُو۔ لیکن حقیقت یہی ہے۔کہ اِس دانے کے نیچے تُم نے کمال ہشیاری سے جال بھی بچھا رکھا تھا۔

لیکن میں دانہ اُور جال کیوں بچھانے لگا۔۔۔ مجھے اِس تمام معاملے سے کیا حاصل ہُوگا۔۔۔سب جانتے ہیں۔کہ میں کوئی پیشہ ور عامل یا لکھاری نہیں ہُوں۔ میں نے رُوہانسی آوازمیں احتجاج کیا ۔

فائدہ!!  ۔۔۔ کوئی ایک فائدہ ہُو تو گنِواوٗں۔۔۔۔ رُوح نے تمسخر اُڑانے والے لہجے میں کہا۔۔۔ مانا کہ تُم پروفیشنل نہیں ہُو۔۔۔ لیکن لُوگوں کی بھیڑ کسکو اچھی نہیں لگی۔۔۔ حب جاہ  اُور شُہرت کی بیماری جب کسی کو لگ جائے تو یہ ایک ایسا نشہ ہے جسکے لئے انسان اپنی تمام دُولت بھی داوٗ پر لگانے کیلئے تیار ہُوجاتا ہے۔جبکہ تُم  کو  تو دُولت بھی خرچ نہیں کرنی پڑ رہی تھی۔  تمہارے پاس دُولت سے بھی بڑا ہتھیار تھا۔ قلم کا ہتھیار۔ جِسے استعمال کرنا بھی تمہیں خُوب آتا ہے۔ لیکن افسوس قلم کی امانت کا بار بھی تم سے سنبھالا نہ گیا۔

مجھے رُوح کے طعنے تشنوں سے وحشت محسوس ہُونے لگی ہے۔ من چاہتا ہے۔ کوئی نفس کو خبر کردے ۔ اُور وُہ  میری مدد کو چلا آئے جیسے وُہ ہمیشہ چلا آتا ہے۔ اُور میری حمایت میں رُوح کے سامنے میرے ایسے ایسے قصیدے پڑھے کہ،، رُوح شرمندہ ہُوجائے۔ لیکن نجانے آج نفس کو کیسی مُوت پڑی ہے۔ کہ چوالیس برس کا ساتھ بھی  اُسے میرا معاون نہیں بناپایا۔ اُور اُسکی  ذرا سی غفلت سے آج سارا بنا بنایا کھیل بگڑنے کو ہے۔۔۔۔ میں نے بے بسی سے ہانپتے ہُوئے آخری پتہ بھی یہ کہتے ہُوئے اُسکی جانب پھینک دِیاکہ،، چلو مانا کہ میری چادر بوسیدہ ہے۔ اُور میں یہ بھی مان لیتا ہُوں کہ،، ہُوسکتا ہے۔ مجھ میں حُبِ جاہ کا چور موجود ہے۔۔۔۔ لیکن تُم نے مجھے پَھٹا ہُوا ڈھول کیوں کہا۔۔۔؟؟؟

رُوح نے اپنی کاری ضرب کا اثر محسوس کرتے ہُوئے۔ فاتحانہ انداز میں کہا۔ جب انسان اپنی ذات میں پُوشیدہ اسرار سے نظریں چُرا کر ایک ایسی راہ کو اپنا لیتا ہے۔ جہاں اُسکو صرف اپنی خُوشی عزیز ہُوجاتی ہے۔ تب وُہ نہ اچھا بھائی بن پاتا ہے۔ نہ اچھا بیٹا بن سکتا ہے۔ نہ بیٹیوں کے حقوق اسکی نگاہ میں ہُوتے ہیں۔ نہ  بیٹے کی اچھی تربیت پیش نظر ہُوتی۔ نہ وُہ اچھا دُوست ہُوتا ہے۔ نہ ہی معاشرے میں ایک کارآمد فرد کی طرح رِہتا ہے۔۔۔۔ اِس لئے۔۔۔ وُہ اپنی۔ دُنیا میں آمد کے سبق سے بھی ناآشنا رہتا ہے۔۔۔۔ حتیٰ کہ جِس معرفت کی خاطر اُس نے اتنا طویل اور تھکا دینے والاسفر کیا تھا۔۔۔ وُہ مقصد بھی آہستہ آہستہ پس منظر میں دھندلا جاتا ہے۔۔۔۔۔ اِس طرح وُہ ایک ناکام مجرم بن جاتا ہے۔۔۔ صرف ناکام مجرم۔۔۔ اور ناکام مجرم کی مثال پھٹے ڈُھول کی طرح ہی تو ہُوتی ہے۔۔۔ دُور سے دیکھو  تو ۔۔۔ خُوب حجم گھیرے ہُوئے ایک گٹھری۔۔۔ جِسے ہر ایک للچائی نظر سے پانے کی کوشش کرتا ہے۔ لیکن جب کھول کر دیکھو۔۔۔ تب چند بوسیدہ چمڑے کے پارچوں میں ملفوف لکڑیوں کا ڈھانچہ برآمد ہُوتا ہے۔

اِسلئے میری نگاہ میں تمہاری مثال اُسی   شکستہ ڈُھول جیسی ہے۔۔۔۔۔  رُوح کی صدا بازگشت کی طرح میری سماعتوں سے ٹکرانے لگی۔۔۔ یکایک مجھے ایسا محسوس ہُونے لگا جیسے فضاٗ میں لاکھوں آنکھوں کا سمندر اُمنڈ آیا ہُو۔۔۔ اُور  وُہ تمام آنکھیں نگاہوں ہی  نگاہوں میں ایک دوسرے سے میری چغلی کرتے ہُوئے کہہ رہی ہُوں کہ،، یہی ہے وُہ ۔۔۔ ناکام مُجرم۔۔۔ ناکام مُجرم۔۔۔۔ناکام مُجرم۔۔۔


Sunday, 2 February 2014

عامل کامل ابو شامل اِن کراچی قسط 25.


گذشتہ سے پیوستہ
ابو شامل نے بتایا کہ وُہ،، جس دِن جہلم سے واپس لُوٹ رہا تھا۔ تب اُسکی نگاہ سڑک کے کنارے بس کا انتظار کرتی ایک لڑکی پر پڑی۔۔۔ جس کو لُوٹنے کیلئے چند منچلے نوجوان قریب ہی کھڑی ایک کار میں موجود تھے۔  اُس لڑکی کا چہرہ دیکھنے کے بعدمیرے دِل نے گوارا نہیں کیا۔ کہ،، میں اُسے سنسان سڑک پر لُٹنے کیلئے تنہاہ چھوڑ دُوں۔۔۔ اِس لئے میں بھی اُس لڑکی کے قریب بظاہر بس کے انتظار میں کھڑا ہُوگیا۔۔۔ جسکی وجہ سے وُہ لڑکے تو وہاں سےفرار ہُوگئے۔ لیکن میں نے اپنی ٹیلی پیتھی کے ذریعے سے معلوم کرلیا۔کہ وُہ لڑکی لاہور کی رہنی والی ہے۔ اُور اپنے گھر سے بھاگ کر جہلم اپنی سہیلی کے سسرال چلی آئی ہے۔۔اُسکی سہیلی نے اُسکی خاطر مدارت تو بُہت کی لیکن اپنے سسرالی رشتہ داروں کے ڈر سے اپنے گھر میں ٹہرنے کی اجازت نہیں دِی۔ جسکی وجہ سے اب وُہ کراچی کیلئے نِکل رہی تھی۔ اور کراچی جانے والی کوچ کا انتظار کررہی  تھی۔۔۔ میں نے اُسکے ذہن سے اُسکے گھر کا پتہ لگایا۔ اُور اُن تک رسائی حاصل کی۔ تب مجھے معلوم ہُوا۔کہ،، اُسے یتیم خانے سے لیکر پرورش کرنے والے اَب اِسکا سودا کسی عیاش انسان سے کرچُکے ہیں۔۔۔ اُور سارے لاہور میں اُسکی تلاش جاری ہے۔


اب مزید پڑھیئے۔

یہ  لڑکی چونکہ نرگس   سے بُہت مشابہ تھی۔ اسلئے میں نے فوری طور پر فیصلہ کیا کہ،، میں اِس لڑکی کی مدد ضرور کرونگا۔ اِس طرح ایک طرف اِس بے سہارا لڑکی کی مدد بھی ممکن تھی۔تو دوسری طرف اِس طرح میں تمہارے دِل سے نرگس کا غم بھی غلط کرنا چاہتا تھا۔ اگرچہ تمہیں پورا حق حاصل ہے کہ،، تم مجھے ایک دُھوکہ باز دُوست سمجھ سکتے ہُو۔ لیکن خُدا گواہ ہے۔ کہ،، اِس تمام معاملے میں میری نیت صاف تھی۔  بس مجھ سے ایک غلطی ضرورسرزد ہُوئی ہے۔ کہ لڑکی کو میں  نے اِس تمام  معاملے کیلئے رضامندکرنے کیلئےٹیلی پیتھی کا سہارا لیا۔جس کے بعد وُہ میری معمول بن کر اِس تمام معاملے کیلئے رضا مند ہُوتی چلی گئی۔جبکہ دوسرا کام یہ کیا کہ،، اُسے نرگس کی شکل میں تمہارے سامنے پیش کردیا۔ اور جہاں تک میری معلومات ہیں تُم بھی جاناں کو نرگس سمجھ کر قبول کرچکے ہُو۔

لیکن میں نرگس سے محبت کرتا ہُوں۔ اُور صرف نرگس ہی میری  جسمانی اُور رُوحانی تسکین کا سبب بن سکتی ہے۔اُسکی کلون مجھے قبول نہیں ہے۔  یہ بھی اچھا ہُوا کہ،، تم نے مجھ پر جاناں کی اصلیت ظاہر کردی۔ورنہ نجانے میں کب تک نرگس کے دھوکے میں اُس لڑکی میں نرگس تلاش کرتا رہتا۔ کامل علی نے خفگی کا اِظہار کرتے ہُوئے کہا۔

دیکھو کامل علی  یہ بات تم بھی جانتے ہُو۔ کہ،، نرگس تکلیف دَہ ہی سہی لیکن ایک شادی شدہ زندگی بسر کررہی ہے۔ اور اُس نے حالات سے سمجھوتا بھی کرلیا ہے۔ اُور تم نے اُس سے ملاقات کرکے دیکھ لیا ہے۔کہ ،، وُہ اب تمہاری خاطر اپنی ازدواجی زندگی کو  دَاوٗ پر لگانا نہیں چاہتی۔ اُور  میرا خیال ہےکہ،، کہ وُہ کم از کم بیوگی سے قبل تمہاری جانب دیکھنے کی بھی رَوادار نہیں ہُوگی۔ اِس لئے میرا کہنا مانو،، اُور جاناں سے نکاح کرلو۔ اُور جہاں تک نرگس کا تعلق ہے۔تو میں تم سے وعدہ کرتا ہُوں۔کہ،، جس دِن بھی کوئی ایسی رَاہ نکلی کہ،، نرگس کی واپسی کا اِمکان نظر آیا۔میں خود آگے بڑھ کر نرگس کو تُم تک پُہنچادُوں گا۔ اِس لئے عقلمندی کا تقاضہ یہی ہے کہ،، فی الحال میری راےٗ قبول کرلو۔ کیونکہ،، بُہت جلد حالات تبدئل ہُونے والے ہیں۔ گھنشام داس کے چیلے اتنی آسانی سے پیچھا نہیں چھوڑیں گے۔ وُہ حتی الامکان کوشش کریں گے۔کہ،، اپنے گُرو کے قتل کا بدلہ لیں۔ اُور اتنے چھوٹے علاقے میں ہم اپنی شناخت کو ذیادہ دِن چھپا کر رکھنے میں کامیاب نہیں ہُو سکیں گے۔ افلاطون نے کامل علی کے چہرے پر نظریں جماتے ہُوےٗ اپنی گفتگو ختم کی۔

گھنشام داس کے ذکر  سے کامل چہرے پر ناراضگی کے اثرات  خُوف کے سائے میں ڈھل گئے۔ تھوڑی دیر تکرار کے بعد وُہ افلاطون کی رائے سے مطمئین نظر آنے لگا۔ اُور بلاآخر کامل علی نے   ،، گھنشام داس کے چیلوں سے حفاظت ،، روزگار کا کوئی مستقل  زریعہ  آمدنی ،،  محفوظ رہائش  گاہ ،، کے بعد ایمانداری سے  نرگس کی حصول یابی ،، کی کوشش کے ساتھ چند مزید شرائط  پر افلاطون کی جانب سے حامی  کےبعد اپنی رضامندی ظاہر کردی۔


کامل علی کا نکاح دوسرے ہی دِن جاناں کے ساتھ محلے کے امام صاحب نے ایک سادہ سی تقریب میں پڑھا دیا۔ اور تیسرے دِن افلاطون کی پلاننگ کے پیش نظر یہ تینوں افراد  نقل مکانی کرکے کورنگی کراچی کے ایک خوبصورت بنگلو میں شفٹ ہُوچکے تھے۔ چند دِ ن گُزرنے کےبعد ایک رات کھانے سے فارغ ہُو کر  گلی میں واک کرتے ہُوئے کامِل علی نے افلاطُون کو مُخاطب کرتے ہُوئے کہا۔یا رافلاطون تُم نے کاروبار کے متعلق کیا سُوچا ہے۔؟ْ؟؟ابھی تو خیر ہم یہاں نئے نئے وَارد ہُوئے ہیں۔ اِس لئے اَڑوس پڑوس والوں نے ذیادہ دلچسپی کا مظاہرہ نہیں کیا۔لیکن جلد ہی لُوگوں کو ہمارے متعلق تجسس پیدا ہُونے کے امکان کو رَد نہیں کیا جاسکتا۔ اگر کسی نے ہمارے ذریعہ معاش کے متعلق دریافت کرلیا تُو ہم کیا جواب دیں گے۔؟؟؟ ویسے کل یہی سوال جاناں نے مجھ سے کیا تھا۔ وُہ مجھ سے تمہارے متعلق اور میری فیملی کے متعلق بھی معلوم کررہی تھی۔

ابوشامل نے جاناں کے سوال پر چونکتے ہُوئے کہا،، یار بزنس کا آئیڈیا تو مجھے بُہت زبردست سُوجھا ہے۔ اُور مجھے اُمید ہے کہ میرا یہ آئیڈیا تمہیں بھی بُہت پسند آئے گا۔ لیکن فی الحال تُم مجھے یہ بتاوٗ کہ جاناں کو تم نے کیا جواب دِیا۔۔۔ اُور کیا جاناں تمہارے جواب سے مطمئین بھی ہُوگئی تھی یا نہیں۔؟ اُور اگر تمہیں لگتا ہے کہ،، وُہ تمہارے جواب سے مطمئین بھی ہُوگئی تھی۔یامجھے مزید ٹیلی پیتھی کا سہارالینا پڑےگا؟؟؟

کامل علی نے افلاطون کے اتنے ڈھیرسارے سوالات اُور اُسکی پریشانی سے محظوظ ہُوتے ہوئے جواب دِیا۔ یار اِس زمانے نے مجھے بھی بُہت سے مکاری کے گر سِکھا دیئے ہیں۔اِس لئے میرے دُوست خود کو اِس فیلڈ میں تنہا نہ سمجھو۔ بطاہر افلاطون کامل علی کے تبصرےپر جھینپ سا گیا۔ لیکن فوراً سنجیدگی سے کامل علی سے جواب کیلئے استفسار کرنے لگا۔۔۔ جواب میں کامل علی نے بتایا کہ اُس نے جاناں کو اپنی فیملی کے متعلق سچ سچ بتادیا کہ،، اُسکا اِس بھری دُنیا میں کوئی نہیں ہے۔۔۔ جبکہ  افلاطون اُسکی دُور کی پھوپی کا بیٹا ہے ۔ جو پھوپی کے انتقال کے بعد اِس کے ہی ساتھ رِہتا ہے۔

کمینے انسان  تمہارا بھلے دُنیا میں کوئی نہیں ہو۔ لیکن میرے ماں باپ دُونوں ہی زِندہ ہیں۔ تُم نے جیتے جی میری ماں کو کیوں مار ڈالا۔  اگر میرے والد کو معلوم ہُوگیا کہ تُم نے جیتے جی اُنکی اکلوتی بیگم کو  تخیل میں مار ڈالا ہے۔ تو مجھے قوی اُمید ہے کہ،، وُہ تمہارے ساتھ میرا بھی خُون پی جائیں گے۔۔۔ بہرحال مجھے خُوشی ہے کہ،، تم نے  جاناں کو مطمئین کردیا ہے۔ اُور اب میں تمہیں بزنس کا وُہ آئیڈیا بتانے جارہا ہُوں۔۔۔ جِسے سُن کر تم بھی مجھے داد دیئے بنانہیں رِہ سکو گے۔۔۔۔ کامل علی نے تجسس سے  اپنے تمام جسم کو کان کی صورت بنالیا۔ لیکن افلاطون کا بزنس آئیڈیاسُن کر کامل علی کا دِماغ چکرا گیا۔۔۔۔۔کیونکہ افلاطون کا کہنا تھا کہ،، ہم خواہشیں بیچنے اُور خُوف خریدنے کا بزنس  شروع کریں گے۔

جاری ہے۔۔۔

اُسکا کہنا ہے۔ کِسی اُور کو دیکھوں نہ کبھی
کیوں کہ اُسکو یہ میرا رُوپ بُرا لگتا ہے۔

مجھکو ہر چہرے میں آتی ہے نظر اِک وُہ ہی
جُو نہ بھر پائے یہ بہروُپ بُرا لگتا ہے۔

Friday, 31 January 2014

سب سے بہترین وظیفه


یوں تو هر وظیفے کی اھمیت اپنی جگه ایک تسلیم شده حقیقت ھے . جسے هزاروں نہیں بلکه لاکھوں لوگوں نے اپنی اپنی ضرورت کے تحت گاهے بگاھے موقع کی مناسبت سے آزمایا اور انہیں مجرب پایا.

لیکن روز روشن کی طرح یه بھی ایک حقیقت ھے که،، کلمه طیبه کے بعد اگر خالق کائنات نے اپنی پسندیده مخلوق کی توجه کسی وظیفے کی جانب مبذول کروائی ھے... بلکه کسی وظیفے کی تاکید فرمائی ھے تو وه اپنے محبوب صلی الله علیه وسلم پر درود و سلام کی صورت میں قران مجید میں ارشاد فرمائی ھے.




لہذا میرے مشاهدے میں یہی بات آئی ھے که جن لوگوں نے بے غرض ھو کر رضاۓ مصطفی صلی الله  کی خاطر درود پاک کے وظیفے کو اپنی زندگی کا شعار بنالیا...

ان لوگوں کو اسکے بعد نه کسی دوسرے وظیفے کی حاجت باقی رھی نه کسی چلے اور مراقبه کی حاجت پیش آئی..

شائد اسی واسطے اللّه کریم نے اپنے مدنی محبوب صلی الله علیه وسلم کی امت کی محبت کی خاطر اور انکی کامیاب زندگی کے پیش نظر درود پاک پڑھنا مؤمنوں کیلی
ۓ لازم قرار دیا... که ایک طرف یه امت مرحومه کی مغفرت کا سامان پیدا کرتا رھے. تو دوسری جانب انہیں مشکلات میں آسان راسته بھی دکھاتا رهے۔

حضرت امام جعفر صادق رحمتہ اللہ علیہ ارشاد فرماتے ہیں کہ جو شخص یہ چاہے کہ مجھے مصیبت اور مشکلات سے آسانی نصیب ہو جائے تو اُسے چاہیے کہ کثرت کے ساتھ حضور علیہ الصلوۃ والسلام   آپ کے اہل بیت اور آپکی آل پر درود سلام بھیجے، انشا   ء اللہ عزوجل چند دنوں میں ہی غم خوشی سے اور مشکلات  آسانیوں سے تبدیل ہوجائینگی۔.



Monday, 30 December 2013

ISTIKHARA

استخارہ کیا ہے۔۔۔؟۔ معلومات اُور اِحتیاط۔ http://ishratiqbalwarsi.blogspot.com/2013/03/ISTIKHARA.KIA.HEY.html

Wednesday, 18 September 2013

حیا کی خوشبو




اور وہ کہ جب کوئی بے حیائی یا اپنی جانوں پر ظلم کریں اﷲ کو یاد کر کے اپنے گناہوں کی معافی چاہیں اور گناہ کون بخشے سوا اﷲ کے اور اپنے کئے پر جان بوجھ کر اَڑ نہ جائیں
(سورت آل عمران آیت ١٣٥)

تم فرماؤ میرے رب نے تو بے حیائیاں حرام فرمائی ہیں جو ان میں کھلی ہیں اور جو چھپی اور گناہ اور ناحق زیادتی اور یہ کہ اﷲ کا شریک کرو جس کی اس نے سند نہ اتاری اور یہ کہ اﷲ پر وہ بات کہو جس کا علم نہیں رکھتے
(سور ت الاعراف آیت ٣٣ )

یہ خِطاب مشرکین سے ہے جو بَرہنہ ہو کر خانۂ کعبہ کا طواف کرتے تھے اور اﷲ تعالیٰ کی حلال کی ہوئی پاک چیزوں کو حرام کر لیتے تھے، ان سے فرمایا جاتا ہے کہ اﷲ نے یہ چیزیں حرام نہیں کیں اور ان سے اپنے بندوں کو نہیں روکا، جن چیزوں کو اس نے حرام فرمایا وہ یہ ہیں جو اﷲ تعالٰی بیان فرماتا ہے ان میں سے بےحیائیاں ہیں جو کھلی ہوئی ہوں یا چھپی ہوئی، قولی ہوں یا فعلی ۔

تفسیر خزائن العرفان

عراق کے مشہور شہر بصرہ میں ایک بزرگ گزرے ہیں جنہیں لوگ حضرت مِسکی (رحمتہ اللہ علیہ) کے نام سے پکارا کرتے تھے مسکی عربی لفظ ہے جسکے لغوی معنی ہیں مُشک والا مشکبار یعنی مُشک کی خوشبو میں بسا ہوا اور آپکا نام مِسکی مشہور ہونے کی وجہ صرف یہی بیان کی جاتی ہے کہ آپ سے ہر وقت مشک کی خوشبو آیا کرتی تھی حتیٰ کہ آپ جس راستے سے گزر جاتے وہ راستہ بھی مہک جاتا آپ علیہ الرحمہ جب مسجد تشریف لے جاتے تو لوگوں کو خوشبو کی مہک سے ہی معلوم ہوجاتا کہ حضرت مِسکی علیہ الرحمہ تشریف لا چکے ہیں

ایک مرتبہ کسی نے دریافت کیا حضور آپکو خوشبو پر کثیر رقم خرچ کرنی پڑتی ہوگی آپ نے مُسکرا کر جواب دیا نہ ہی میں نے کبھی خوشبو خریدی اور نہ ہی کبھی لگائی ہے مجھ سے جو ہر وقت مُشک کی خوشبو آتی ہے یہ ایک عجیب و غریب واقعہ ہے مزید استفسار پر آپ نے یہ واقعہ سُنایا کہ میں بغداد شریف کے ایک خوشحال گھر میں پیدا ہوا اور میری بھی تعلیم و تربیت اُمرا کے بچوں کے ساتھ ہوئی میں نہایت خوبصورت اور باحیا تھا میری شرم وحیا کو دیکھ کر کسی نے میرے والد کو مشورہ دیا کہ اِسے بازار میں بِٹھاؤ تاکہ اسکی حیا کچھ کم ہو اور اس طرح یہ لوگوں کیساتھ گُھل مِل کے رہنا بھی سیکھ جائے گا چناچہ میرے والد نے مجھے ایک (بَزَار) کپڑے کے تاجر کی دُکان پر بِٹھا دیا ایک دِن ایک بُڑھیا نے کچھ قیمتی کپڑے نِکلوائے پھر بَزَار سے کہنے لگی

میرے ساتھ کسی کو بھیج دو تاکہ جو پسند ہوں اُنہیں لینے کے بعد قیمت اور بقیہ کپڑے واپس لے آئے چناچہ دکاندار نے مجھے بھیج دیا بڑھیا مجھے ایک عظیم الشان محل میں لے گئی اور مجھے ایک آراستہ کمرے میں بھیج دیا جہاں پر زیورات سے آراستہ خوش لباس جوان لڑکی تخت پر بیٹھی ہوئی تھی یہ کمرہ اتنا حسین اور سجا ہوا تھا کہ اس سے قبل میری آنکھوں نے نہ دیکھا تھا مجھے دیکھتے ہی اُس لڑکی پر شیطان غالب آگیا وہ میرے قریب آکر مجھ سے چھیڑ خانی کرنے لگی اور مجھے گناہ کی دعوت دینے لگی میں نے گھبرا کر کہا اللہ عزوجل سے ڈر۔ مگر شیطان اُس لڑکی پر پوری طرح مُسلط تھا وہ نہ مانی۔

جب میں نے اُسکی ضد دیکھی تو میرے دِل میں گناہ سے بچنے کی ایک تدبیر آئی اور میں نے اُس لڑکی سے کہا کہ مجھے استنجا کی حاجت محسوس ہورہی ہے اُس کی آواز پر بیشمار کنیزیں حاضرہو گئیں اُس نے کہا اپنے آقا کو بیت الخلا لے جاؤ۔ میں جب بیت الخلا پہنچا تو فرار کی کوئی راہ نہ ملی اور مجھے اُس عورت کے ساتھ بدکاری کرتے ہوئے اپنے رب عزوجل سے حیا آرہی تھی چُناچہ مجھے ایک ہی رستہ سمجھ آیا اور میں نے استنجا خانے کی غلاظت سے اپنے ہاتھ منہ اور جسم بھر لئے اور کنیزوں کو خود سے ڈرانے لگا اور دیوانوں کی طرح چیخنے چلانے لگا کنیزیں خوفزدہ ہو کر پاگل پاگل چِلانے لگیں تمام کنیزوں نے مِل کر مجھے ایک ٹاٹ میں لپیٹا اور مجھے ایک باغ میں پھینک دیا گیا جب مجھے یقین ہوگیا کہ سب جاچُکے ہیں تب میں اُٹھا اور اپنے جسم اور کپڑوں کو دھو کر پاک کیااور اپنے گھر خاموشی سے چلا گیا اور اِس بات کا کسی سے تذکرہ نہیں کیا اُسی رات میں نے خواب میں ایک بُزرگ کو خواب میں دیکھا اُنہوں نے مجھ سے پوچھا کیا تُم مجھے جانتے ہو؟ میں نے عرض کیا نہیں اُنہوں نے کہا ـ 
میں جبرایئل ( علیہ السلام ) ہوں اُسکے بعد اُنہوں نے میرے منہ اور جسم پر ہاتھ پھیرا اور اُس وقت سے میرے جسم سے مُشک کی بہترین خوشبو آنے لگی ۔ یہ سیدنا جبرایئل علیہ السلام کے دست مُبارک کی خوشبو ہے
حوالہ ۔روض الریاحین

یا رب عزوجل ہمیں بھی اپنے پیارے محبوب ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کی حیا دار چشمان کرم کے صدقے حیا کی دولت عطا فرما اور بے حیائی سے بچا - آمین بجاہِ نبی الامین وصلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم

Tuesday, 3 September 2013

جاسوسی ضروری کیوں



محترم قارئین کرام السلام و علیکم

ایک خوبصورت واقعہ جس میں ہمارے لئے رہنمائی کے گوہر آبدار موجود ہیں آپکی جانب نہایت اخلاص سے پیش کر رہا ہوں اگر کسی کے دل میں گھر کر گیا تو میری محنت وصول ہو جائیگی ویسے میرا اس بات پہ پختہ یقین ہس کہ اللہ عزوجل کسی کی محنت ضائع نہیں کرتا

ایک مرتبہ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے دور خلافت میں مدینہ طیبہ کا رات میں دورہ فرما رہے تھے کہ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے گوش مبارک نے ایک مکان سے کچھ نا پسندیدہ آوازیں سنیں اور آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بے اختیار اس مکان کے قریب پہنچ کر اس مکان کے ایک سوراخ سے اندر دیکھنے لگے تو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ملاحظہ فرمایا کہ کچھ لوگ اندر شراب پی کر غل غپاڑہ مچا رہے ہیں آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ دروازے سے ہٹ کر سوچنے لگے کہ انہیں کیا سزا دی جائے لیکن اس وقت آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کسی کشمکش کا شکار ہوگئے اور واپس آکر سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے گھر کا دروازہ کھٹکھٹایا حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے رات کے اس پہر امیرالمومنین کو دیکھا تو حیرت سے دریافت فرمایا یا امیرالمومنین خیریت تو ہے؛ حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا یا سیدی ایک معاملے میں آپکی رائے فوراً درکار ہے لہٰذا فوری طور پر میرے ساتھ چلیے چنانچہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ آپ کے ساتھ چل دئے وقوعہ کی جگہ پہنچ کر حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس سوراخ کی طرف اشارہ فرمایا کہ یہاں سے دیکھیے اب بےساختہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بھی ان شرابیوں کو اس حال میں ملاحظہ فرما لیا اس کے بعد یکدم پلٹے اور حضرت عمر فاروق سے استفسار فرمایا کہ یا امیرالمومنین آپ مجھے یہ ماجرا کیوں دکھانا چاہتے تھے حضرت عمر فاروق نے رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرمایا کہ میں آپ سے معلوم کرنا چاہتا ہوں کہ ان شرابیوں کی سزا کیا ہے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا آپ بہتر جانتے ہیں لیکن حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بے حد اسرار پہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعا لیٰ عنہ نے ارشاد فرمایا ( ان شرابیوں پر کوئی حد جاری نہیں ہوگی اور نہ ہی انہیں سزا دی جاسکے گی) اور دلیل کے طور پر قرآن مجید کی آیت (لا تجسسو۔۔۔۔۔۔) مفہوم۔ اور لوگوں کی ٹوہ میں مت رہو۔ پیش کی اور ارشاد فرمایا چوں کہ ان لوگوں کا عیب ہم نےازخود تلاش کیا ہے نہ کہ لوگوں کی شکایت پر اور قرآن مجید میں تو جاسوسی یعنی ٹوہ لگانے کی ممانعت آئی ہے جسے سن کرحضرت عمر فاروق رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے فرمایا بس یہی الجھن میرے ذہن میں بھی تھی اللہ عزوجل آپکو جزائے خیر عطا فرمائے اور پھر آپ دونوں حضرات واپس پلٹ آئے اللہ اللہ یہ تھے ہمارے اسلاف اور ان کا کردار کہ ایک غلطی جو سہواً سرزد ہو گئی اس پہ شرمندہ بھی ہوئے اور نہ صرف اپنی اصلاح فرمالی بلکہ قیامت تک کے مسلمانوں کی اصلاح کا سامان بھی پیدا کر دیا-

اور ایک ہم ہیں کہ ایک دوسرے کی ٹوہ میں نہ جانے اپنا کتنا قیمتی وقت ضائع کردیتے ہیں کہ کسی طرح سامنے والے کی کوئی کمزوری کوئی عیب ہاتھ لگ جائے تاکہ اسے رسوا اور بدنام کر سکیں اب یہاں ہم کئی طرح کے گناہوں میں مبتلا ہو جاتے ہیں

مثلاً نمبر (۱)جاسوسی یا ٹوہ لگانا جسکی ممانعت قران مجید میں موجود ہے

  لو گوں کو عیب بتانے سے غیبت سرزد ھوگی یہ بھی سخت گناہ (۲)

اور نمبر (۳) کسی کی دل آزاری جبکہ ہمارے پیارے آقا علیہ السلام نے ہمیں احترام مسلم کی سخت تاکید فرمائی ہے پھر کیا خیال ہے کیوں نہ آپ اور میں مل کر عہد کریں کہ نہ کسی کی جاسوسی کریں گے نہ کسی کے لئے برا سنیں گے اور نہ کسی کی خود غیبت کریں گے انشاﺀ اللہ عزوجل

اللہ عزوجل مجھ گنہگار سمیت ساری دنیا کے مسلمانوں کی اصلاح اور مغفرت فرمائے اور اس کالم میں مجھ سے نادانستہ کوئی غلطی سرزد ہوگئی ہو تو اسے اپنے محبوب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے طفیل معاف فرمائے آمین بجاہ النبی الامین

Monday, 26 August 2013

بارگاہ رسالت کی مرغوب غذا ۔۔۔۔ کدو شریف ۔ ۔




تحریر: محمد کامران خان عظیمی

کدو کو عربی میں یقطین کہا جاتا ہے۔ قرآن میں اسی نام سے پکارا گیا ہے۔ عام عرب اسے ‘دباء’ یا ‘قرع’ کہتے ہیں۔ احادیث میں اسے ان دونوں ناموں سے یاد کیا گیا ہے۔

حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں

نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کدو سے محبت کرتے تھے۔
(
ابن ماجہ)

حکیم بن جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے والد حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس ایک کدو تھا ، میں نے پوچھا یہ کیا چیز ہے ۔ انہوں نے کہا کہ یہ کدو ہے اور ہم اسے بہت کھاتے ہیں
(
ابن ماجہ)

حضرت واثلہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کدو کو لازم پکڑو اس لئے کہ یہ دماغ کو بڑھاتا ہے۔ مزید تمھارے لئے مسور کی دال ہے جسے کم از کم ستر انبیاء علیھم السلام کی زبان پر لگنے کا شرف حاصل رہا ہے۔
(
طبرانی)

ایک واقعہ
حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے ایک غلام کو آزاد کردیا۔ اس نے درزی کا کام شروع کیا۔ اللہ نے برکت ڈالی اور ممنونیت کے اظہار میں اس نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خادم خاص سمیت کھانے کی دعوت کی۔ اس دعوت کی روئیداد حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالی عنہ یوں بیان کرتے ہیں ایک درزی نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کھانے کی دعوت کی۔ میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ گیا۔ اس نے جو کی روٹی اور سوکھے گوشت کے سالن میں کدو پیش کیا۔ میں نے دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تھالی کے اطراف سے کدو کے ٹکڑے تلاش کر کے کھاتے تھے۔ اس دن کے بعد سے مجھے کدو سے محبت ہوگئی۔
(
بخاری، ترمذی، ابوداود)

نوٹ کیجئے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو کدو سے اس لئے محبت ہوگئی کہ وہ تاجدارِ کونین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مرغوب غذا تھی۔ اور بے شک یہی محبِ صادق کی پہچان ہے کہ وہ اپنی پسند ناپسند کو محبوب کی پسند نا پسند میں فنا کردیتا ہے۔ محب صادق وہی چاہتا ہے جو اس کا محبوب چاہے اور اسے ہرگز نہیں چاہتا جسے اس کا محبوب نہ چاہے۔

نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کدو سے ایسی محبت کیوں تھی۔۔؟؟؟

اس کی وجہ اسماعیل حقی حنفی رحمتہ اللہ تعالیٰ علیہ یہ بتاتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا گیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کدو سے کیوں محبت فرماتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا

یہ میرے بھائی یونس علیہ السلام کا درخت ہے۔
(
روح البیان ، پ 23 ، سورتہ الصافات)

آخری بات ۔۔۔۔۔۔۔۔

حضرت امام قاضی ابو یوسف رحمتہ اللہ علیہ کے حوالے سے ہے کہ اگر کسی نے کہا کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کدو بہت پسند تھا تو اگر کسی دوسرے نے کہدیا کہ مجھے پسند نہیں تو وہ کافر ہوگیا۔
(
تفسیر روح البیان جلد 2 صفحہ 489 )

لہٰذا ہمیں لازماً ایک بات یاد رکھنی چاہئے کہ
با ادب با نصیب