bing

Your SEO optimized title page contents

Pages

Hamara Tube Channel

Friday, 26 September 2014

میں دُنیا کو بدل سکتا ھُوں۔

اسکول تقریر 


معزز  حاضرین، اساتذہ کرام،  اُور جناب صدر اَلسلامُ علیکم

خُودی کو کر بُلند اِتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے
خُدا بندے سے خُود پُوچھے بتا تیری رضا  کیاہے

جنابِ صدر میری آج کی تقریر کا موضوع ہے ،، میں دُنیا کو بدل سکتا ھُوں،،
جناب صدر  اگرچہ میری عمر کے لحاظ سے  میری تقریر کا یہ عنوان کہ،، میں دُنیا کو بدل سکتا ھُوں،، بُہت عجیب سا مِحسوس ہُورَہا ہُوگا۔ لیکن میں اپنی تقریر میں دلائل کیساتھ یہ  بات ثابت کرنے کی کوشش کرونگا۔ کہ جب کوئی انسان اپنی ذات میں  اللہ کریم کی مدد سےاچھے خصائل پیدا کرنے میں کامیاب ہُوجاتا ہے اُور دلجمعی کیساتھ اپنے اِرادوں کی تکمیل کیلئے ہر لمحہ کوشاں رِہتا ہے ۔ تو  وُہ دراصل دُنیا کیلئے ایک آئیڈیل کی صورت اختیار کرتا چلا جاتا ہے جسکی   پاکستان میں دُو مثالیں ماضی قریب میں ارفع کریم اُور حال ہی میں ملالہ یوسف زئی کی صورت میں موجود ہیں۔

جنابِ صدر ۔۔۔۔۔۔ اِس وقت دُنیا  کے ہر گوشے میں  ایک عجیب بے چینی کا راج مسلط ہے ۔ جسکی وجہ سے دُنیا  ظُلمت ، معاشرتی تفریق، اُور  بدحالی کا شکار ہُوتی چلی جارہی ہے۔  کچھ اقواموں نے  اگرچہ معاشرتی طور پر تو خُود کو مستحکم کرلیا ہے۔ لیکن  خُوشحالی کے ثمرات کو صرف خُود تک محدود رَکھے ہُوئے ہیں ۔ شائد یہی وجہ ہے ۔کہ معاشرتی ترقی کے باوجود بھی اُن میں سے اکثریت ایسی اقوام کی ہیں۔ جُنکے قُلوب رُوحانی خوشی سے خالی ہیں۔

جناب صدر ۔۔۔۔۔دُنیا میں تبدیلی کیلئے ہمیشہ انقلابات آتے رہے ہیں۔ اُور اِن انقلاب کے بعد یقیناّ  فلاحی ریاستوں کا تصور  بھی اُبھر کر سامنے آتا رَہا ہے۔ لیکن یہ بھی حقیققت ہے۔کہ اِن انقلابات کے بعد یہ تبدئلیاں انسانوں کی خُود غرضیوں  کی نذر ہُوتی رہی ہیں۔  اللہ کریم کی مشیت بھی یہی ہے کہ انسان  اللہ کریم کی معرفت حاصل کرکے  اپنی نیابت کے احساس کو ذِمہ داری سے پہچان کر ۔زمانے کے چیلنجز کا مقابلہ پامردی سے کرتا رہے۔ اُور لوگ ایک دوسرے کیلئے آسانیاں پیدا کرتے رہیں ۔

جناب صدر۔۔۔۔۔۔ دُنیا کو بدلنے کیلئے تین اشیاٗ کی اہمیت سے کوئی ذی شعور انکار نہیں کرسکتا۔ 
نمبر ۱ سچائی۔
نمبر ۲ انصاف
نمبر ۳ علم

جناب صدر دُنیا کی وُہ قومیں جنہوں نے اِن تین اُصولوں کی پاسداری کی ہے ۔ اُنکا مقام دُنیا کی دیگر اقوام میں ایسا ہی ہے۔ جیسا کہ  ایک بادشاہ کا مقام اپنی رعایا میں ہُوتا ہے۔۔۔۔ جناب والا۔۔۔۔  جیسا کہ ہر ذی شعور انسان جانتا ہے۔کہ دُنیا میں تبدئلیاں  لانے والوں لوگوں میں سب سے اُونچا مقام انبیاٗ کرام علیم السلام کا رَہا ہے ۔ اُور تمام انبئیا کرام علیم السلام ہمیشہ سچائی، انصاف، اُور علم کے سب سے بڑے علمبردار رہے ہیں۔ یہاں تک کہ  صرف  اُنکے اپنے ہی نہیں بلکہ اُنکے بدترین دُشمنوں کی زُبانوں پر برملا یہ جملہ آجاتا۔ کہ،، ہمیں آپکی صداقت ، دیانت، اُور علم پر کوئی شُبہ نہیں۔۔۔

جناب والا  سچائی انسان کو  صرف باہر سے ہی نہیں تراشتی بلکہ سچائی انسان کو اندر سے بھی بہادر بنادیتی ہے۔ اور یہ سچائی  کا ہی معجزہ ہے۔ کہ ایک نہ ایک دن یہی سچائی انسان کو ہر دُوسرے انسان کیلئے قابل تقلید کی راہ دِکھاتی ہے۔۔۔۔ اور جب معاشرے میں انصاف کا چلن عام ہُوجاتا ہے۔ تو ایک غریب گڈریا بھی اِس قدر طاقتور ہُوجاتا ہے۔ کہ وُہ اُس شخص کے بھی  کُرتے کا اِحتساب کرلیتا ہے جنکے نام سے رُومن امپائر تھرا جاتی ہے قیصر و کسری بھی جنکی ہیبت سے تھرتھراتے ہیں۔

اُور جناب والا یہ علم کی معراج ہے کہ نبیوں کے سالار، دُو جہاں کے تاجدار کی جانب پہلی وحی اِسی علم کے متعلق بھیجی جاتی ہے۔ اللہ کریم نے جہاں جہاں علم و حکمت میں غور و فکر کی دعوت دی ہے۔ تب تب اہل علم و دانش کو خاص طور پر مخاطب فرمایا ہے۔ اُور رسولِ کریم نے علم کی دعوت دیتے ہُوئے  اُسکی اہمیت اس طرح جتائی کہ،، علم حاصل کرو ماں کی گُود سے زندگی کی آخری شام تک۔۔۔۔ جبکہ دوسری جگہ اِرشاد فرمایا۔کہ علم حاصل کرو چاہے تمہیں چین ہی کیوں نہ جانا پڑے۔۔۔

جناب والا   اسلئے صرف میں ہی نہیں یہاں موجود  ہر ایک بچہ دُنیا کو علم کی رُوشنائی سے ظلمت کدوں سے نکال سکتا ہے۔  بس ہمیں   اسکے لئے علم کی شمع سے شمع جلاتے جانا ہے۔ سچائی اُور انصاف کے دامن کو اپنے ہاتھ سے جانے نہیں دینا ہے۔ اور اِس علم کے سفر میں صرف مردوں کی اجارہ داری قائم نہیں کرنی خواتین کو بھی شامل کرنا ہے ۔کیونکہ علم حاصل کرنا  صرف مَرد وں پر ہی فرض نہیں۔ ہر عورت پر بھی فرض  ہے ۔کیونکہ ہر مرد کی تربیت  بھی سب سے پہلے ایک عورت ہی کرتی ہے۔۔۔  شائد اِسی لئے نپولین بُونا پارٹ نے اپنی قُوم سے مُخاطب ہُوتے ہُوئے کہا تھا۔۔۔۔ کہ،، تُم مجھے پڑھی لکھی مائیں دُو۔ میں اسکے بدلے میں تمہیں ایک بہترین معاشرہ دُونگا۔۔۔۔

میرے ہاتھ میں قلم ہے میرے ذِہن میں اُجالا
مجھے کیا دَبا سکے گا ۔۔۔۔۔۔۔۔کوئی ظُلمتوں کا پالا   

Wednesday, 21 May 2014

تذکرہ جنات۔ محبت ،ہَوس اُور علاج ۔


اللہ کریم نے اپنی عبادت  کے واسطے انسان و جنات کو پیدا فرمایا: القران ۔اُور اپنے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم کا چرچا بُلند فرمانے کیلئے بَزم کائنات کو سجایا۔ (مفہوم : حدیث لولاک)جس طرح سیدنا آدم علیہ السلام کو ابو البشر کہا جاتا ہے۔کہ ،، آپ تمام انسانوں کے باپ ہیں۔ اِسی طرح شیطانِ لعین کو ابو الجن کہا جاتا ہے۔ جن کے لغوی معنی ہیں،، نظر نہ آنے والا،، جنات اُور فرشتوں کی ظاہری تخلیق اِنسانوں سے پہلے کی گئی۔ جسکا جواز یہ ہے کہ،، فرشتوں اُور شیطان کو سیدنا آدم علیہ السلام کو سجدہ کرنے کا حُکم مِلا ۔ تو معلوم ہُوا ۔کہ ،، فرشتے اُور جنات پہلے سے موجود تھے۔ اُور آدم علیہ السلام کی یعنی انسانوں کی تخلیق کا مرحلہ بعد میں پیش آیا۔بعض علما کرام کی روایت کیمطابق جنات کی پیدائش کا عمل سیدنا آدم صفی اللہ سے دُو ہزار برس قبل  پہلے وجود میں آیا۔۔۔ جبکہ سیدی اعلحضرت اِمام احمد رضا علیہ الرحمہ کی تحقیق کے مطابق اہرام مصر کو جنات نے سیدنا آدم علیہ السلام کی تخلیق سے قبل تعمیر کرلیا تھا۔ لیکن یہ بات بھی یاد رکھنے کے قابل ہے ۔کہ،، یہ سبقت صرف ظاہری جسم پر ہے۔ وگرنہ مسلمانوں کا اجماع اِس بات پر ہے۔ کہ ،، اللہ کریم نے سب سے پہلے اپنے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم کو تخلیق فرمایا۔  اُور سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی خاطر ہی  یہ بزمِ کائنات سجائی گئی ہے۔


قران مجید میں انسان کو مٹی سے اُور جنات کو آگ سے تخلیق کئے جانے کا تذکرہ مِلتا ہے۔ اُور صحیح مسلم شریف کی ایک حدیث کے مضمون کے مطابق حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ حضور پاک، صاحب لولاک ﷺ نے فرمایاکہ،، اللہ کریم نے فرشتوں کو نور سے، جنات کو آگ کے شعلہ سے اور سیدنا آدم علیہ السلام کو مٹی سے پیدا کیا گیا ہے۔ (صحیح مسلم )۔


چونکہ جنات کو اُنکی خواہش کیمطابق اللہ کریم نے انسانی آنکھوں سے مخفی رکھا ہے۔ اسلئے ہمیں جنات ظاہری آنکھوں سے نظر نہیں آتے۔ اِسکے علاوہ عُلماٗ کرام فرماتے ہیں۔کہ،، انسانی آنکھ کے اُوپر ایک ایسا پردہ ہمہ وقت تنا رِہتا ہے۔ جو انسانوں کی نِگاہوں سے دوسری مخلوقات کو پُوشیدہ رکھتا ہے۔ لیکن اگر یہ پردہ ہٹ جائے ۔ تو انسان جنات اُور دوسری مخلوقات کو اِنہی آنکھوں سے دیکھ سکتا ہے۔۔۔۔ چونکہ جنات ہم انسانوں کو نظر نہیں آتے۔ اسلئے بعض لُوگ جنات کے وجود کا انکار کردیتے ہیں۔ لیکن یاد رکھیئے۔کہ،، بطور مسلمان ہمارا جنات اُور اُن تمام مخلوقات پر ایمان لانا۔ جنکا تذکرہ قرانِ مجید میں یا اَحادیث طیبہ میں آیا ہے۔۔۔ ہمارے دین کا لازمی جزو ہے۔ اسلئے جب کوئی شخص جنات ،فرشتوں، حُوروں، جنت، یا دوزخ   میں کسی ایک بھی شئے کا اِنکار کرتا ہے۔ تو درحقیقت وُہ قران مجید کی آیات کا اِنکار کررہا ہُوتا ہے۔ جسکی وجہ سے  اُسکاایمان ضائع ہُوجاتا ہے۔ لِہذا بطور مسلم ہم پر لازم ہے کہ،، چاہے ہماری آنکھیں  اِن مخلوقات کا اِدراک نہ کرپائیں۔ یا  ہماری محدود عقل میں وُہ بات نہ سَما پائے۔ ہمیں ہر اُس بات پر ایمان لانا ہے۔ جسکا تذکرہ رَب فرمائے یا اُسکا مدنی محبوب صلی اللہ علیہ وسلم بتائے۔


اَحادیث طیبہ کی روشنی میں ہمیں معلوم ہُوتا ہے۔ کہ جب ایک انسان دُنیا میں پیدا ہُوتا ہے۔ تو اُسکے ساتھ (۹) جنات بھی دُنیا میں پیدا ہُوتے ہیں۔  جِس سے ایک بات صاف ظاہر ہے۔کہ،، جناتوں کو انسانوں کے مقابلے میں نو گُنا برتری حاصل ہے۔ لیکن اگر غور کیا جائے تو یہ تعداد (۹) گُنا سے کہیں ذیادہ ہُوگی۔۔۔ کیونکہ انسانوں کی اُوسط عُمر فی زمانہ ساٹھ برس ہے۔ جبکہ بعض جنات کی عُمر ہزار برس سے بھی تجاوز کرجاتی ہے۔ اسلئے جب انسان اپنی طبعی عُمر مکمل کرنے کے بعد انتقال کرجاتا ہے۔ تب بھی جنات کی نشو نما کا عمل جاری رِہتا ہے۔ جسکی وجہ سے اِنکی کثرت میں اضافہ ہُوتا رِہتا ہے۔

 نبی کریم روٗف  الرحیم صلی اللہ علیہ وسلم  کے ارشادات کی روشنی میں جنات کی خوراک میں ہڈی اور لید کے علاوہ جس کھانے پر بسم اللہ نہ پڑھی جائے۔ اُور  لوبیا (نامی سبزی)  بھی جنات کی غذائیں ہیں۔ اسلئے کریم آقا صلی اللہ علیہ وسلم نے ہڈی اُور لید سے استنجا کرنے کی  یہ کہہ کرممانعت فرمائی ہے۔ کہ،، یہ تُمہارے (جن) بھائیوں کی غذا کے ذرائع ہیں۔۔۔ مفہومِ حدیث

جنات کہاں بسیرا کرتے ہیں۔؟

امام جلال الدین السیوطی لکھتے ہیں کہ جنات اکثر و بیشتر نجاست کی جگہوں پر ہوتے ہیں مثلاً کھجوروں کا جھنڈ ، بیت الخلاء، کچرے کے ڈھیر اور غسل خانوں میں رہتے ہیں (شیطان جن) (لقط المرجان فی احکام الجان ، مساکن الجن، ص 68)۔ اس کے علاوہ جنات ٹیلوں ، وادیوں ، بلوں(سوراخوں ) ویرانوں میں ، اور انسانوں کے ساتھ اُنکے مکانوں میں بھی رہتے ہیں ۔ چکنائی والے کپڑے اور جھاڑیوں میں بھی  جنات رہتے ۔


انسانوں کی طرح جنات میں بھی مذاہب ہُوتے ہیں۔ فرقے ہُوتے ہیں۔اِن میں بھی محبت ، اُور نفرت کے جذبات پائے جاتے ہیں۔ حسد، رقابت، شہرت کی خاہش، جھوٹ اُور چغلی جیسے امراض  اِن میں بھی پائے جاتے ہیں۔۔۔ یہ آپس کی محبت و نفرت کے علاوہ اِنسانوں سے بھی بغض، محبت یا نفرت کرتے ہیں۔ عموماً مسلمانوں کی چھتوں پر مسلمان جن رہتے ہیں۔ جبکہ کُفار و بدمذہبوں کے گھر میں کافر و بد مذہب جنات رِہتے ہیں۔۔۔

لیکن اگر مسلمانون کے گھر میں فحاشی ہُو۔ یا اللہ کریم کا قطعی ذکر نہ کیا جائے ۔ تو یہ مسلمان جنات اُس گھر سے کُوچ کرجاتے ہیں۔ اُور اِنکے نہ ہُونے سے کافر جن اُن گھروں پر قبضہ جمالیتے ہیں۔ اُور اہل خانہ کیلئے پریشانی کا سبب بن جاتے ہیں۔ اِس بات سے یہ بھی معلوم ہُوتا ہے۔کہ مسلمان گھروں میں مسلمان جِنوں کی موجودگی فائدہ مند ہُوتی ہے۔کہ،، اِس طرح کم از کم شیاطین جنات اُن گھروں پر دھاوا نہیں بُولتے۔۔۔جسطرح انسانوں کو پریوں  کے تذکرےسے اُنسیت محسوس ہُوتی ہے۔ اِسی طرح جنات کو بھی بعض انسانوں سے خُوامخواہ کی محبت ہُوجاتی ہے۔ ۔۔ لیکن جسطرح انسانوں کو جنات کے تذکرے سےہی  ڈر محسوس ہُونے لگتا ہے۔ بالکل اِسی طرح جنات کو بھی انسانوں سے ڈر محسوس ہُوتا ہے۔ اِن کی حتی الامکان کوشش یہی ہُوتی ہے۔ کہ،، انسان اِنکی موجودگی کو محسوس نہ کرسکے۔۔۔۔ لیکن حد سے ذیادہ قربت کی وجہ سے انسانوں کی چھٹی حس اُنہیں اِنکی موجودگی سے با خبر کردیتی ہے۔۔۔

بعض مرتبہ یہ انسانوں کو اغوا بھی کرلیتے ہیں۔ کتب تواریخ ایسے ہزاروں واقعات سے بھری پڑی ہے۔۔۔ بعض اُوقات یہ انسانوں سے  جنسی تسکین حاصِل کرنے کیلئے فزیکل ریلیشن شپ قائم کرلیتے ہیں۔۔۔۔ لیکن میری ناقص معلومات کے مطابق اللہ کریم نے انسانون کو جنوں پر ایک فوقیت یہ بھی دِی ہے۔کہ،، جنات،،  انسانی عورت کو حاملہ نہیں کرسکتے۔ ورنہ آج دُنیا کا ایک الگ نقشہ سامنے ہُوتا۔ اُور ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں بچیاں کنوار پن کے باوجود ماں بن جاتیں۔۔۔ جبکہ انسانی مرد کا تعلق اگر کسی جنی سے قائم ہُوجائے تو وُہ جنی انسان سے ملنے کی وجہ سے حاملہ ہُوسکتی ہے۔۔۔ بعض اُوقات یہ جنات  انسانوں کو اُنکے بستروں سے اُٹھا کر اپنی دُنیا میں لیجاتے ہیں۔ اُور صبح نمودار ہُونے سے پیشتر اُنہیں اُنکے بستر پر چھوڑ جاتے ہیں۔۔۔ اغوا ہُونے والے مرد وں یا عورتوں میں سے بُہت کم تعداد کو رات کے مناظر ذہن میں یاد ہُوتے ہیں۔۔۔لیکن چُونکہ صبح اُنکی آنکھ اپنے بستر پر ہی کھلتی ہے۔۔۔ اِس لئے اُنہیں یقین ہی نہیں آتا کہ،، رات وُہ کسی اُور دُنیا میں موجود تھے۔ اسلئے وُہ اِس تمام واقعہ کو ایک خُوشنما خواب سے ذیادہ اہمیت نہیں دیتے۔۔۔ لیکن بار  بار  اِسطرح کے  خوابوں سے اُنکا بھانڈا پُھوٹنے کا خدشہ رِہتا ہے۔ اِس لئے اکثر لوگوں کے ذہن سے اِن تمام واقعات کو محو کردیا جاتا ہے۔

میں ایسے بُہت سے لوگوں کو جانتا ہُوں۔ کہ،، جنکے ساتھ جنات نے فزیکل ریلیشن قائم کر رکھا تھا۔۔۔ وُہ سبھی لُوگ میرے پاس روحانی علاج کیلئے تشریف لائے تھے۔ اُور تمام معاملے سے باخبر تھے۔۔۔ اِن میں مرد بھی تھے اُور خواتین بھی۔ سب کے ساتھ ایک مسئلہ،، کامن ،،تھا۔۔۔ کہ،، جنسی تعلق کی ذیادتی کی وجہ سے اب اُنکی پنڈلیوں اُور کمر میں شدید دَرد رہنے لگا تھا۔۔۔۔ اُور آپکو سُن کر شائد حیرت ہُو،، کہ اُن میں کچھ مَرد و خواتین ایسے بھی تھے۔ جو اِس تکلیف سے تو نجات حاصل کرنا چاہتے تھے۔ لیکن وُہ یہ نہیں چاہتے تھے۔ کہ،، وُہ جِن یا جنی اُنہیں چھوڑ کر چلی جائے۔۔۔ اُنکی خاہش تھی۔کہ،، آپ صرف اِس دَرد کا مداوا کردیں۔۔۔ لیکن ایسا کوئی رُوحانی علاج نہ کریں۔کہ،، جسکی وجہ سے وُہ جنات ہم سے خفا ہُوجائیں۔ جب میں نے اُن احباب سے اِسکی وجہ جاننے کی کوشش کی تو کچھ عجیب و غریب صورتحال سامنے آئی۔ کچھ لُوگوں کو اِس تمام معاملے میں لُطف محسوس ہُونے لگا تھا۔ کہ ،، جنات رُوپ بدل بدل کر اِنکی سفلی خواہشات کی تکمیل کا سبب  بن رہے تھے۔۔۔ جبکہ کچھ لُوگوں کو خزانوں، اُور دفینوں کا لالچ دِیا گیا تھا۔۔۔ جبکہ ایک خاتون نے مجھے یہ کہا۔کہ،، وُہ مجھے ایسی باتوں کا علم دیتا ہے۔۔۔ جسکی وجہ سے علاقے میں مجھے نمایاں اہمیت حاصل ہے۔۔۔

میں نے اُن لوگوں کو لاکھ سمجھایا کہ،، یہ مِلاپ آپکی زندگی کو تباہ کردے گا۔۔۔  آپکی ہڈیوں کا رس نِکال دے گا۔۔۔ اُور تمام جسم کو کھوکھلا  کردے گا۔کیونکہ جنات کا عنصر آگ ہے۔ جبکہ انسان ہَوا، پانی اُور مٹی کا مرکب ہے۔ اسلئے یہ مِلاپ کسی بھی طرح انسانوں کے حق میں بہتر نہیں ہے۔ اور شریعت مطہرہ میں بھی انسان اُور جنات کا نہ اِسطرح  مِلن جائز ہے۔۔۔ اُور نہ ہی نِکاح جائز ہے۔ لیکن اُن میں سے اکثریت نے میری بات نہیں مانی۔ اور جب اُن میں سے چند لوگوں نے ایک عرصہ بعد مجھ سے رابطہ کیا۔۔۔ تب تک بُہت دیر ہُوچکی تھی۔ اُور علاج کا وقت گُزر چکا تھا۔

یہ بھی ضروری نہیں ہے۔کہ تمام جنات انسانوں سے فزیکل ریلیشن شپ قائم کرنے کیلئے ہی محبت کرتے ہیں۔۔۔ اِن میں بعض نیک النفس بھی ہُوتے ہیں۔ جو کسی قسم کا جنسی تعلق تو قائم نہیں رکھتے۔۔۔ لیکن جس طرح ایک تنہا عورت اُور مرد کا تنہائی میں مِلنا بُرائی کا موجب ضرور ٹہرتا ہے۔۔۔ اِسی طرح یہ پاک محبت بھی ایک نہ ایک دِن ہُوس کا شکار ہُوکر رہتی ہے۔ نتیجتاً اُسکے بعد اِن خواتین و مرد حضرات کو بھی ایک نہ ایک دِن اُسی تکلیف کا سامنا کرنا پڑجاتا ہے۔

جنات کی اقسام
علامہ بدرالدین محمد دین احمد عینی بخاری شریف کی شہرہ آفاق شرح عمدة القاری میں جنات کی چند اقسام تحریر کرتے ہیں۔ (۱) غول: یہ سب سے خطرناک اور خبیث جن ہے جو کسی سے مانوس نہیں ہوتا ۔ جنگلات میں رہتا ہے مختلف شکلیں بدلتا رہتا ہے اور رات کے وقت دکھائی دیتا ہے اور تنہا سفر کرنے والے مسافر کو عموماً دکھائی دیتا ہے جو اسے اپنے جیسا انسان سمجھ بیٹھتا ہے، یہ اس مسافر کو راستے سے بھٹکاتا ہے ۔(۲)سعلاة: یہ بھی جنگلوں میں رہتا ہے جب کسی انسان کو دیکھتا ہے تو اس کے سامنے ناچنا شروع کردیتا ہے اور اس چوہے بلی کا کھیل کھیلتا ہے ۔ (۳) غدار: یہ مصر کے اطراف اور یمن میں بھی پایا جاتا ہے اسے دیکھتے ہی انسان بے ہوش ہو کر گر جاتاہے ۔ (۴) ولھان: یہ ویران سمندری جزیروں میں رہتا ہے اس کی شکل ایسی ہے جیسے انسان شتر مرغ پر سوار ہوتا ہے جو انسان جزیروں میں جا پڑتے ہیں انہیں کھا لیتا ہے۔ (۵) مشق: یہ انسان کے آدھے قد کے برابر ہوتا ہے ، دیکھنے والے اسے بن مانس سمجھتے ہیں ۔ سفر میں ظاہر ہوتا ہے ۔ (۶) بعض جنات انسانوں سے مانوس ہوتے ہیں اور انہیں تکلیف نہیں پہنچاتے ہیں ۔(۷) بعض جنات کنواری لڑکیوں کو اٹھالے جاتے ہیں۔ (۸) بعض کتے کی شکل کے ہوتے ہیں ۔ (۹) بعض چھپکلی کی شکل میں ہوتے ہیں۔ (عمدة القاری ، ج 10، ص 644/جنات کی حکایات ص 10)

جنات کی شکل
جنات کو اللہ عزوجل نے یہ ادراک دیا ہے کہ وہ انسانوں کو دیکھ سکے لیکن انسانوں کو یہ کمال نہیں ملا کہ وہ جنات کو دیکھ پائے ہاں جنات اگر کسی اور شکل میں ظاہر ہو تو پھر اسے دیکھا جاسکتا ہے ۔ امام شافعی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ جو عادل شخص یہ گمان کرے کہ اس نے جن کی دیکھا ہے (اصل شکل میں ) تو میں اس کی گواہی کو باطل قرار دیتا ہوں۔
علامہ بدرالدین شبلی حنفی رحمہ اللہ لکھتے ہیں کہ بلاشبہ جنات انسانوں اور جانوروں کی شکل اختیار کرلیتے ہیں چنانچہ وہ سانپوں ، بچھووں ، اونٹوں ، بیلوں ، گھوڑوں ، بکریوں ، خچروں ، گدھوں اور پرندوں کی شکلوں میں بدلتے رہتے ہیں۔ ( اکام المرجان فی احکام الجان،ص 21)
علامہ فخرالدین رازی رحمہ اللہ لکھتے ہیں کہ بلاشبہ جنات بھی انسانوں کی طرح شریعت کے مکلف ہیں۔ ۔تفسیر الکبیر، ج10، ص 625
اسی طرح علمائے کرم تحریر کرتے ہیں کہ جنات ہر چیز میں نبیﷺ کی شریعت کے مکلف ہیں۔ اخبار وآثار میں وارد ہے کہ مومنین جنات نماز پڑھتے ہیں ، روزے رکھتے ہیں، حج کرتے ہیں، تلاوت قرآن کرتے ہیں ، علوم دینیہ اور روایات حدیث انسانوں سے حاصل کرتے ہیں اگرچہ انسانوں کو اس کا پتہ نہ چلے۔
لیکن یہ تمام باتیں مسلم جنات میں پائی جاتی ہیں جس طرح انسانوں میں کفار موجود ہی اسی طرح جنات میں بھی کفار ہیں۔
اسی طرح اچھے اور برے جنات بھی ہوتے ہیں ۔ جن میں تلاوت کرنے والے جنات ، خوفِ خدا عزوجل کی وجہ سے جاں سے گزرنے والے جنات، تہجد گزارجنات، عمرہ ادائیگی ، کعبہ مشرفہ کا طواف وغیرہ کرنے والے نیک جنات  بھی ہوتے ہیں۔

بہت سے دوست احباب کے نزدیک جنات انسان پر قابض نہیں ہو سکتے ہیں ۔ علامہ محمود آلوسی لکھتے ہیں کہ بعض اجسام میں ایک بدبو داخل ہوتی ہے ۔ اور اس کے مناسب ایک خبیث روح اس پر قابو پالیتی ہے اور انسان پر مکمل جنون طاری ہو جاتا ہے۔ بسااوقات یہ بخارات انسان کے حواس پر غالب ہوکر حواس معطل کردیتے ہیں اور وہ خبیث روح انسان روح کے جسم پر تصرف کرتی ہے او اس کے اعضاءسے کلام کرتی ہے ۔ چیزوں کو پکڑتی ہے اور ڈوڑتی ہے حالانکہ اس شخص کو بالکل پتہ نہیں چلتا اور یہ بات عام مشاہدات سے ہے جس کا انکار کوئی ضدی شخص ہی کر سکتا ہے ۔ (روح المعانی ، ج ۳، ص 28)

امام اہل سنت کا فتویٰ

اعلیٰ حضرت ، امام اہل سنت مولانا احمد رضا خاں رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حاضرات( شریر جنات مختلف روپ میں آکر مسلمانوں کو ستاتے ہیں ۔ بلکہ بسااوقات تو انسانی جسم میں ظاہر ہو کر کسی بزرگ کے نام سے منسوب کرتے ہیں اور پھر لوگوں کے سوالات کے الٹے سیدھے جوابات دیتے ہیں ، بیماریوں کا علاج بتاتے ہیں وغیرہ ۔ اسی کو فی زمانہ حاضری کا نام دیا جاتا ہے ) کر کے موکلاں جن سے پوچھتے ہیں فلاں مقدمہ میں کیا ہوگا؟ فلاں کام کا انجام کیا ہوگا؟ یہ حرام ہے ۔ (تو اب جن غیب سے نرے جاہل ہیں ان سے آئندہ کی بات پوچھنی عقلاً حماقت اور شرعاً حرام اور ان (جنات) کی غیب دانی کا اعتقاد ہوتو کفر ۔ (فتاویٰ افریقہ ، ص 177)
کیا جنات انسان کو تکلیف دے سکتے ہیں؟

جنات انسان کو دو طرح سے تکلیف دے سکتے ہیں (۱) اس کے جسم سے باہر رہتے ہوئے (۲) اس کے جسم میں داخل ہو کر ۔
پہلی قسم کی مثال میں دو احادیث مبارکہ پیش خدمت ہے۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ شہنشاہِ مدینہ ﷺ ے روایت کرتے ہیں ”ابن آدم کو جو بچہ پیدا ہوتا ہے اس کی پیدائش کے وقت شیطان اس کو مس کرتا ہے (یعنی چھوتا ہے ) اور شیطان کے مس کرنے سے وہ بچہ چیخ مار کر روتا ہے ماسواءحضرت مریم رضی اللہ عنہا اور ا ن کے بیٹے کے (صحیح بخاری ، حدیث 3431، ج ۲، ص 453)۔حضرت ابو موسی رضی اللہ عنہ نبی ﷺ کا ارشاد نقل کرتے ہیں کہ میری امت طعن اور طاعون سے ہلاک ہوگی۔ عرض کی گئی کہ یا رسول اللہ ﷺ طعن کے بارے میں تو ہم نے جان لیا مگر یہ طاعون کیا ہے؟ ارشادر فرمایا: یہ تمہارے دشمن جنات کے نیزوں کی چھبن ہے اس کا مارا ہوا شہید ہے۔ (المسند امام احمد، حدیث 19545، ج ۷،ص 131)

دوسری قسم میں جنات کا انسان کے بدن میں داخل ہو نا بھی قرآن و احادیث سے ثابت ہے چنانچہ قرآن مجید میں ارشادہے ترجمہ: قیامت کے دن نہ کھڑے ہوں گے مگر جیسے کھڑا ہوتا ہے وہ جسے آسیب نے چھو کر مخبوط بنادیا ) پ ۳، البقرہ 275(۔ علامہ محمد بن انصاری قرطبی اس آیت مبارکہ کے تحت لکھتے ہیں یہ آیت اس شخص کے انکار کے فساد پر دلیل ہے جو یہ کہتا ہے کہ انسان کو پڑنے والا دورہ جن کی طرف سے نہیں اور گمان کرتا ہے کہ یہ طبیعتوں کا فعل ہے اور شیطان انسان کے نہ تو اندر چلتا ہے اور نہ چھوتا ہے ۔
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک عورت آقا ﷺ کے پاس اپنے بیٹے کو لائی اور عرض گزار ہوئی کہ یارسول اللہ ﷺ میرے بیٹے کو جنون ِ عارض ہوتا ہے اور یہ ہم کو تنگ کرتا ہے ۔ آپﷺ نے اس کے سینے پر ہاتھ پھیرا اور دعا کی ۔ اس کے قے کی اور اس کے پیٹ سے سیاہ کتے کے پلے کی طرح کو ئی چیز نکلی ۔ (مسند الدارمی ، حدیث 19، ج ۱، ص 24)

جنات کا انسانوں سے ڈر
حیران کن بات یہ ہے کہ جہاں انسان جنات سے ڈرتا ہے وہاں جنات بھی انسانوں سے ڈرتے ہیں ۔ حضرت مجاہد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جتنا تم (انسانوں) میں سے کوئی شیطان سے گھبراتا ہے اس سے بھی زیادہ وہ تم سے گھبراتا ہے لہذا جب وہ تمہارے سامنے آئے تو اس سے نہ گھبرایا کرو ورنہ تم پر سوار ہوجائے گا البتہ تم اس کے مقابلے کے لیے تیار ہوجایا کرو تو وہ بھاگ جائے گا۔ (لقط المرجان فی احکام الجان ، ص 138)

جنات کے شر سے بچنے کے طریقے
 (۱)اللہ تعالیٰ کی پناہ طلب کرنا (۲) تلاوت قرآن کریم (۳) ذکر اللہ عزوجل کی کثرت (۴) اذان دینا
(
۵) لاالہ الااللہ وحدہ لاشریک لہ لہ الملک ولہ الحمد وھو علی کل شیئٍ قدیر (سومرتبہ روزانہ)  (6) جنات اور جادو وغیرہ کے وظائف (۷ ) چکنائی والی چیزیں جلد دھو ڈالنا (۸) گھر میں لیمو رکھنا (۹) سفید مرغ رکھنا (۱۰) تعویزات کا استعمال (۱۱) سورہ البقرہ کی آیت نمبر ۱۶۳ تا ۱۶۴ کی تلاوت سے بھی شیطان جن بھاگ جاتے ہیں۔(۱۲) اَعُوذُ بِکَلِمَاتِ اﷲِ التَّامَّتِہ مِن غَضَبَہ وَ عِقَابِہ وَمِن شَرِّ عِبَادِہ وَ مِن ہَمَزَاتِ الشَّیَاطِینِ وَ اَن  یَّحضُرُونَ۔ (ابوداود و ترمذی)۔

اِنسانوں میں جِنات کے اثرات کی چند علامات۔۔۔

جسطرح جادو کے اثرات کی وجہ سے ناف کے قریب درد محسوس ہُوتا ہے۔ اِسی طرح جناتوں کے انسانی جسم پر اثرات کی وجہ سے انسانوں کو کئی پراپلم کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ جیسے مُسلسل سر درد ،  بغیر کام کئے بھی جسم میں تھکن کا اِحساس رِہنا۔۔۔ گندے خواب و خیال کی وجہ سے ذِہن کا پراگندہ رِہنا۔۔۔خواتین  کی پنڈلیوں ، کمر، اُور شانوں میں دَرد کی موجودگی۔ بالخصوص صبح جاگنے کے وقت اِس درد کا احساس خاص طور پر محسوس ہُوتا ہے۔ اسکے علاوہ کنواری بچیوں کے  جسم پر ایسے نشانات کا اُبھر آنا۔ جیسےکہ زچگی کے بعد شادی شُدہ خواتین کے جسم پر بن جاتے ہیں۔


الحمدُ للہ عزوجل جنات سے حفاظت  اُور  اِن کے اَثرات سے چھٹکارے کیلئے  عرصہ دراز پہلے  لیموں پر دَم کرنے کا ایک مجرب طریقہ دِل میں القاء ہُوا تھا۔ جسکی بدولت دُنیا بھر میں ایسے ہزاروں لُوگوں نے بھی خبینث شیطانی جنات  سےنجات حاصل کی ہے۔جنہیں بے شمار عامِلوں نے لاکھوں روپیہ ٹھگنے کے بعد  بھی جواب دیدیا تھا۔ اللہ کریم کے فضل و اِحسان سے آج وُہ تمام لوگ ایک نارمل زندگی گُزار رہے ہیں۔ تمام عاشقان مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم اُور محبین صحابہ کرام و اُولیائے کرام رحم اللہ اجمعین کو میری جانب سے اِس عمل کی اجازت ہے۔ جب آپ آزمائیں گے۔ تو آپ بھی اس عمل کی تاثیر و کمال دیکھ کر حیران رِہ جائیں گے۔۔۔ صرف بے ادب و گستاخ قسم کے لوگ اِس عمل سے کوئی فائدہ نہیں اُٹھاسکتے۔ اسلئے اِس قسم کے لوگوں کو زِحمت اُٹھانے کی چنداں ضرورت بھی نہیں ہے۔۔۔


لیموں پر دَم کرنے کا طریقہ۔ درج ذیل تصویر میں موجود ہے۔ مزید  مفت رہنمائی حاصل کرنے کیلئے آپ احسان وارثی بھائی سے  بھی رابطہ کرسکتے ہیں۔
03332969939موبائیل:


انشاءَاللہُ الکریم ۲ ماہ تک اِسی طریقہ سے دَم کرتے رہنے سے جنات کے اثرات سے نجات مِل جائے گی۔


Monday, 10 March 2014

تذکرہ اِک پری کا۔۔26 جھلک یار پھر آئی نظر۔



تذکرہ اِک پری کا۔۔۲۶ جھلک یار پھر آئی نظر۔ 



عِمران احمد وقاص گُذشتہ پندرہ  بیس دِنوں سے بابا صابر صاحب کو دیوانوں کی طرح ڈُھونڈ رَہا تھا۔۔۔ وُہ جاننا چاہتا تھا کہ،، بابا صابر صاحب نے مُرشد کریم سے کوثر کے متعلق  مُلاقات کی اجازت حاصل کرلی ہے۔یا نہیں۔ لیکن بابا صابر صاحب علی پُور کے مجذوب کا قصہ سُنا کر ایسے غائب ہُوئے تھے ۔جیسے گُویا اُنکو زمین نِگل گئی ہُو۔ یا وُہ آسمان کی سیر کو چلے گئے ہُوں۔۔۔ جُوں جُوں دِن گُزرتے جارہے تھے۔ عمران احمد وقاص کی وحشتوں میں اِضافہ ہُوتا چلا جارہا تھا۔۔۔عمران کو کبھی کبھی  یہ بھی خیال ستاتا۔کہ،، بابا وقاص نے بھی ایک دِن کُوثر  سے مُلاقات کرانے کا پروگرام مرتب کیا تھا۔لیکن وُہ شہر سے اتنی عجلت میں  ایسے  نِکلے ۔کہ،، دُنیا ہی چھوڑ کر چلے گئے۔ اُور اب بابا صابر صاحب اُسکے لئے اِجازت حاصل کرنا چاہتے تھے۔ تو کہیں۔۔۔؟؟؟؟؟ بُہت سے اندیشے عمران کو سہماتے۔لیکن عمران کو یقین تھا۔کہ،، اس مرتبہ اُسکے ساتھ پہلے جیسا کوئی واقعہ نہیں ہُوگا۔اُور ایک  نہ ایک دِن  اُسے کُوثر مِل کر ہی رَہے گی۔۔۔

آج  عمران  حسب سابق  فجر پڑھ کر شہر کے بیرونی دروازے پرچلا آیا تھا۔ لیکن بابا صابر کا آج بھی کوئی سراغ نہیں مِل سکا تھا۔ واپسی میں عمران اُس ہُوٹل پر گیا۔ جہاں اکثر بابا صابر ناشتے کی غرض سے جایا کرتے تھے۔ لیکن ہُوٹل والوں کا کہنا تھا۔کہ،، اُنہوں نے بھی گُذشتہ کئی دِن سے بابا صاحب کو نہیں دیکھا ہے۔ جبکہ ایک ویٹر کا خیال تھا۔ کہ،،  شائد بابا صاحب کی  رُوحانی ڈیوٹی کسی دُوسرے شہر میں لگ گئی ہے۔۔۔ کیوں کہ پہلے بھی ایسا کئی مرتبہ ہُوچکا ہے ۔کہ کوئی ڈیوٹی والے بُزرگ اچانک غائب ہُوگئے۔ اُور دُوسرے ہی دِن ایک نئے بُزرگ رُوحانی ڈیوٹی نبھانے کیلئے نمودار ہُوگئے۔۔۔ ویٹر کی گفتگو سے عِمران کا دِل ڈوبنے لگا تھا۔۔۔۔ اچانک ایک خیال کے تحت عمران نے چُونکتے ہُوئے ویٹر سے استفسار کیا۔۔۔ سُنو!!! کیا تُم نے بابا صاحب کی غیر مُوجودگی میں کسی دُوسرے بُزرگ کو یہاں آتے ہُوئے دیکھا ہے۔۔۔؟؟؟۔۔۔

نہیں جناب ایسا پہلی مرتبہ ہُوا ہے۔ کہ،، ایک بُزرگ کے رُوپوش ہُونے کے باوجود کوئی دُوسرا درویش نمودار نہیں ہُوا۔۔۔ ویٹر نے حیرت سے اپنی لاعلمی کا اظہار کرتے ہُوئے جواب دیا۔۔۔۔۔ اِسکا مطلب ہے۔کہ ،،ابھی بابا صابر شہر میں ہی موجود ہیں۔ اُور اُنکی ڈیوٹی کسی دوسرے شہر میں نہیں لگی ۔ورنہ۔  ڈیوٹی کی تبدیلی پر کوئی نہ کوئی نیا درویش ضرور نمودار ہُوجاتا۔ عمران نے بڑبڑاتے  ہُوئے خُود کو تسلی دی۔۔۔۔۔ عمران ہُوٹل سے نکلنے لگا تو اُسکی نِگاہ قیصر دیوانے پر پڑی۔ عمران نے  اکثر قیصر دیوانے کو بابا صابر کے اِردگرد  گھومتےدیکھا تھا۔ البتہ وُہ کبھی عمران کی موجودگی میں بابا صابر کے اتنے نذدیک نہیں آتا تھا۔ کہ،، دُور سے دیکھنے پر بابا صاحب کے قریب  کھڑا دِکھائی دے جائے۔

عمران قیصر دیوانے کے نذدیک سے گُزرنے لگا۔ تو قیصر دیوانے نے صدا لگائی ،، سُونا کی نہاری کھالے بڑا مزہ آئے گا۔۔۔ عمران نے  پھیکی سی مسکراہٹ سجاتے ہُوئے قیصر دیوانے کی طرف دیکھا۔ اُور شہر کی جانب چلدیا۔۔۔  کئی دِن سے بابا صابر کی گمشدگی کی وجہ سے عمران کی بھوک پیاس اُڑ چکی تھی ۔لیکن آج شہر لُوٹتے ہُوئے حیرت انگیز طُور پر عمران کو بھوک کا احساس ستانے لگا تھا۔وُہ جلد از جلد گھر پُہنچنا چاہتا تھا۔ لیکن اُسکے ذہن میں قیصر دیوانے کا جملہ گونجنے لگا تھا۔ سُونا کی نہاری کھالے بڑا مزہ آئے گا۔۔۔ پھر اِنہی جملوں کی تکرار نے عمران کو  نہاری نان کے ناشتے کیلئے راضی کرلیا۔

عِمران نگاہیں جمائے واک کرتا ہُوا شہر کے واحد اسٹیڈیم کے قریب سے گُزرنے لگا۔ تو  خُوشبو کے ایک لطیف جُھونکے نے اُسکی سانسوں کو معطر کردیا۔ بھلا عمران اِس خُوشبو کو کیسے بُھول سکتا تھا۔ جو اُسکے محبوب کے پسینے میں رَچی بسی تھی۔ عمران کے بڑھتے قدم ٹھٹک کر رُک گئے۔ اُور وُہ بیخودی کے عالم میں  چہار جانب گُھوم گُھوم کر دیکھنے لگا۔۔۔ کبھی یہ خُوشبو سپیدے کے درختوں  کی طرف سے آتی محسوس ہُوتی اُور کبھی عمران کو یُوں محسوس ہُونے لگتا۔ جیسے کوئی سراپا اُسکے جسم سے لپٹ لپٹ کر  اَٹھکلیاں دِکھا رہا ہُو۔ عمران سرشاری کے عالم میں  دھمے لہجے میں  کوثر کوثر پُکارتا ہُوا۔ کبھی سپیدے کے پیڑوں کے پیچھے محبوب کی جَھلک دیکھنے کیلئے  پُہنچ جاتا۔ اُور جب وَہاں موجود نہ پاتا تو  درختوں کی شاخوں پر اُسے ڈھونڈنے لگتا۔ یہ آنکھ مچولی کا کھیل جاری  ہی تھا۔۔۔ کہ،، ڈاکٹر رضوان کی آواز نے عمران کی محویت میں دراڑ پیدا کردی۔۔۔

 ڈاکٹر رضوان صاحب کا کلینک عمران کے گھر سے کچھ ہی فاصلے  پر موجود تھا۔۔۔۔ وُہ شائد واک کرنے کیلئے نِکلے تھے۔ اُنہوں نے عمران کو دُور سے درختوں سے لپٹے دیکھا ۔تو ماجرہ معلوم کرنے کیلئے اُسکے قریب چلے آئے تھے۔۔۔ ڈاکٹر صاحب کے استفسار پر عمران نے بتایا کہ،، اُس نے  زندگی میں  پہلی مرتبہ درختوں پر ایک رنگین گِلہری کو دیکھا ہے۔ جُو اَب نظروں سے اُوجھل ہُوچکی ہے۔۔۔۔ ڈاکٹر صاحب نے عمران کو سمجھاتے ہُوئے کہا۔۔  عمران بیٹا یُوں تنہائی میں درختوں سے لپٹنا چِمٹنا مناسب بات نہیں ہے۔ دُنیا میں بیشمار مخلوقات ہیں۔ جو انسانوں کو اپنی جانب متوجہ کرنا چاہتی ہیں۔۔۔ لیکن بعض اُوقات اِن کو دیکھنا مہنگا پڑجاتا ہے۔ اُور بعض مرتبہ انہیں دیکھنے کے بعد انسان اپنے ہُوش حواس بھی قائم نہیں رکھ پاتا۔ اُور دیوانوں کی دُنیا میں پُنچ  کر ہمیشہ کیلئے اپنوں سے دُور بھی ہُوجاتا ہے۔ عمران نے سعادت مندی سے اپنی گردن جُھکاتے  ہُوئے ڈاکٹر رضوان کو یقین دِلانے کی کوشش کی۔کہ،، وۃ آئندہ اِس معاملے میں اِحتیاط برتے گا۔۔۔ اُور ڈاکٹر رضوان کے ہمراہ شہر کی جانب بڑھ گیا۔


سُونا رِیسٹورنٹ پُہنچ کر عمران کو احساس ہُوا۔کہ،، آج معمول سے کئی گُنا ذیادہ خریدار نہاری خریدنے  اُور کھانے کیلئے رِیسٹورنٹ میں موجود ہیں۔۔ یُوں تو سُونا رِیسٹورنٹ کی نہاری ویسے بھی شہر بھر میں بُہت مشہور تھی۔ لیکن آج کچھ ذیادہ ہی خوشبو کی لپٹیں عمران کے مسام دِماغ کو معطر کررہی تھیں۔۔ جبکہ اتنی عمدہ خُوشبو کی وجہ سے  بُھوک  کا اِحساس بھی کئی گُنا بڑھ چکا تھا۔۔۔ تقریباً آدھے گھنٹہ بعد عمران ایک ٹیبل کی کرسی پر قبضہ جمانے میں کامیاب ہُوچُکا تھا۔۔۔۔ نہاری کھاتے ہُوئے  ہر نوالے کیساتھ عمران کو حیرت کے شدید جھٹکے لگ رہے تھے۔۔۔ کیونکہ نہاری کی لذت اُور خُوشبو عام دِنوں کے مقابلے میں سُو گُنا ذیادہ تھی۔۔۔ عمران نے سُوچا۔کہ کھانے سے فارغ ہُونے کے بعد وُہ اَمی اَبو کیلئے بھی ضرور پارسل لیکر جائے گا۔۔۔ تبھی اُسکے کانوں میں ایک ویٹر کی آواز گُونجی۔جو گاہکوں کو مُخاطب کرتے ہُوئے اعلان کررہا تھا۔کہ،، نہاری ختم ہُوچکی ہے۔۔۔۔

عمران کو افسوس تو بُہت ہُوا لیکن اب کرا بھی کیا جاسکتا تھا۔۔۔ عمران  کھانے سے فارغ ہُوکر جب کاونٹر پر بِل اَدا کرنے کیلئے پُہنچا۔ تو اُس وقت رإیسٹورنٹ کا مالک باورچی پر  دھیمے لہجے میں برس رَہا تھا۔ کہ تُم نے اتنے ذیادہ مصالحہ جات نہاری میں کیوں ڈالے ہیں۔۔۔؟ اگر اِس قیمت پر نہاری میں اتنے مصالحے ڈالے جائیں گے۔ تو ایک دِن رِیسٹورنٹ کا دِیوالیہ نَکل جائے گا۔۔۔۔  جبکہ باورچی کا اِصرار تھا۔کہ،، اُس نے اُتنے ہی مصالحے نہاری کی دیگ میں ڈالے ہیں۔جتنے کے رُوزانہ ڈالے جاتے ہیں۔۔۔ مالک اُور باوررچی کی توتکار جاری تھی۔ اُور عمران سُوچ رَہا تھا۔کہ،، ریسٹورنٹ کا مالک کتنا خُود غرض ہے کہ ،، بجائے باورچی کی تعریف کرنے کے۔۔۔ذرا سے مصالحے کی مقدار بڑھ جانے پر باورچی سے جھگڑ رَہا ہے۔۔۔ حالانکہ جو نہاری پہلے ظہر کی نماز تک نہیں بکتی تھی۔ انہی مصالحوں کی بدولت آج صبح سویرے ہی ختم ہُوچکی ہے۔۔۔ کیا ہی اچھا ہُو کہ،، نہاری کی ذرا سی قیمت بڑھا کر معیار میں اضافہ کرلیا جائے۔۔۔ عمران کی سُوچوں کا تانا بانا جاری  ہی تھا۔۔۔ کہ علاقے کے چوکیدار نے  جو شائد کافی دیر سے مالک اُور باور چی کی تکرار ملاحظہ کررہا تھا مُداخلت کرتے ہُوئے  رِیسٹورنٹ کے مالک کو ایک نئی کہانی سُنانے لگا۔

چوکیدار کا دَعوی تھا۔کہ،، آج نہاری میں ذایقے کی وجہ مصالحہ جات نہیں ہیں۔۔۔ بلکہ یہ نہاری کی خُوشبو اُور لذت کسی اُور وجہ سے ہے۔۔۔۔  رِیسٹورنت کے مالک نے حیرت سے چوکیدار کی بات سُن کر کہا۔۔۔ خان صاحب اگر نہاری میں ذائقے کی وجہ مصالحے نہیں ہیں۔ تو پھر کس وجہ سے نہاری کی دیگ سے اتنی عمدہ خُوشبو برآمد ہُورہی تھی۔۔۔۔؟؟؟  خان صاحب فرمانے لگے۔۔ ہم کو کسی کا جھوٹا طرفداری نہیں کرنا ہے۔ کیونکہ کل ہم کو بھی خُدا کی بارگاہ میں حاضر ہُوکر جواب دینا ہے۔۔۔ اسلئے ہم جو بھی بات کریگا بالکل سچ کرے گا۔ بلکہ اگر تم ہم سے ہماری بات کا گواہ مانگے تو ہم وُہ گواہ بھی دینے کیلئے تیار ہے۔۔۔ دراصل کا رات جب تُم لُوگ دُکان بند کرکے چلا گیا تھا۔ ہم چکر لگانے کے واسطے دُوسری گلیوں میں چلا گیا تھا۔لیکن جب ہم واپس آیا تو ہم نے دیکھا۔ کہ،، بابا صابر نے دیگ کا ڈھکن کھول رکھا تھا۔ اُور ایک بُہت بڑا گُوشت کا ٹکڑا اُس کے ہاتھ میں تھا۔  جب ہم اُسکے قریب پُہنچا تو اُس نے اُس  نے گوشت کے ٹکڑے سے تھوڑا سا گوشت نُوچ کر کھایا اُور باقی گوشت واپس دیگ میں یہ کہتے ہُوئے ڈال دیا۔کہ،، کل ہمارا ایک بچہ یہاں کھانا کھانے آئے گا۔ بس اُسی کے واسطے انتظام کررہا ہُوں۔۔۔۔ 

اِس لئے خُدا کا قسم ہم کو پورا یقین ہے۔کہ،، نہاری میں لذت اُور خُوشبو اُس اللہ والے کے  گُوشت کو جھوٹا کرنے سے آئی ہے۔مصالحہ ڈالنے کی وجہ سے نہیں آئی۔۔۔ اُور ہم صرف یہی بات بتانے کیلئے آج صبح صبح آیا ہے۔ ورنہ یہ وقت ہمارے سُونے کا وقت ہے۔۔۔۔ خان صاحب کی نیک نامی اُور ایمانداری کی وجہ سے رِیسٹورنٹ کے مالک نے  نا صِرف خان صاحب کی بات کو صدقِ دِل سے قبول کرلیا۔بلکہ اُس نے باورچی سے بھی فوراً  اپنے رویئے پر معذرت کرلی۔۔۔ جبکہ عمران کیلئے یہ خبر ہی خُوشی بڑھانے کیلئے کم نہ تھی۔کہ،، بابا صابر شہر ہی میں موجود ہیں۔۔۔۔ بلکہ اُسکا دِل گواہی دے رِہا تھا۔کہ،، بابا صاحب نے اپنے کشف سے میری یہاں آمد کو جان لیا تھا۔ اُور وُہ صرف میرے ہی لئے دیگ کے کھانے کی رُونق بڑھانے آئے تھے۔

عمران اِسی کیف و مستی کی حالت میں  بابا صابر کی تلاش میں ایک مرتبہ پھر شہر کے بیرونی دروازے کی طرف بڑھنے لگا۔۔۔ اِسٹیڈیم کے باہر اُنہی درختوں کے قریب سے گُزرتے ہُوئے عمران کو پھر اُنہی معطر معطر جُھونکوں نے مسحور کردیا۔پھر اُسکے قدم  اُسی جگہ ٹہر گئے۔ کہ اچانک  عقب سے کوثر کی کھنکتی ہُوئی آواز عمران کے کانوں میں  نقرئی گھنٹیوں کی طرح  جلترنگ بکھیرنے لگی۔۔۔۔ بالم کیسی لگی نہاری  کی دعوت آپکو۔۔۔؟؟؟ عِمران نے پلٹ کر دیکھا ۔تو  کوثر کو دیکھتا ہی چلا گیا۔۔۔۔ کوثر اپنی تمام تر حشر سامانیوں کیساتھ  اپنے حُسن کے جَلوے بکھیرنے کیلئے ایکبار پھر  عمران کے سامنے  کھڑی مسکرا رہی تھی۔

جاری ہے۔۔۔

اُسکی الفت کا مزاہ سب سے الگ سب سے جُدا
جیسے سُورج کی تپش روکتی ہے کُوئی رِدا
جیسے ساقی نے پَلائی ہُو کسی تشنہ کو شراب
جیسے ٹل جائے کسی عاصی کے سر پہ سے عذاب .


کسی کا کہنا ہے۔کہ افسانہ نگاری اُور لوگوں سے میل جُول بڑھانا ہی میری روحانی ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رُکاوٹ ہیں۔۔۔ لیکن مجھے صرف اتنا معلوم ہے۔ جو مخلوق خُدا سے محبت نہیں کرسکتا۔ وُہ  خالق سے محبت کے دعوے میں  بھی جُھوٹا ہے۔۔۔ اُور مجھے  انشا اللہ خالق ،،مخلوق کی خدمت سے ہی ملے گا۔ اِس بات پر میرا  کامِل یقین بھی ہے اُور بھروسہ بھی۔

Monday, 24 February 2014

عامل کامل ابو شامِل قسط 28. صیاد قید میں



گُذشتہ سے پیوستہ۔
کیوں میرے دُوست تم نے انسانوں کو مارکیٹنگ کرتے ہُوئے  تو ہزار مرتبہ دیکھا ہُوگا۔ لیکن کیا کسی انسان کو مجھ جِن زادے کی طرح مارکیٹنگ کرتے بھی دیکھا ہے۔۔۔ ابو شامل نے تفاخر سے سینہ پُھلاتے ہُوئے داد طلب نِگاہوں سے کامل علی کی جانب دیکھا۔۔۔۔۔۔ یار تمہاری پرفارمنس تو واقعی زبردست تھی۔۔۔ لیکن یہ بتاوٗ کہ نفاست صدیقی کو اعتبار کیسے دِلاوٗ گے۔۔۔۔ اُور یہ آئل جسکا ابھی  تُم نفاست صدیقی سے تذکرہ کررہے تھے۔ وُہ کہاں سے پیدا کرو گے۔ ۔۔۔ کامل علی نے  تعجب سے ابو شامل سے دریافت کیا۔

دَوا ئی کیلئے میں ابھی کوہ قاف کے شاہی حکیم بطلیموس سے رابطہ کرونگا۔ مجھے معلوم ہے۔ وُہ ہر قسم کے امراض کا شافی علاج کرتے ہیں۔ اُور مجھ سے خصوصی محبت رکھتے ہیں۔۔۔ اِس لئے مجھے کبھی  کسی کام کیلئے منع نہیں کریں گے۔۔۔ اُور جہاں تک نفاست صدیقی کو مطمئین کرنے کی بات ہے تو میرے خیال میں ہمارے کانٹے میں ایسی مچھلی آگئی ہے۔ جس کے پیچھے پیچھے دوسری مچھلیاں خود بخود چلی آئیں گی۔ اُور ہمیں  پبلسٹی کیلئے ذیادہ محنت نہیں کرنی پڑے گی۔ اِس لئے نِفاست صدیقی کو ہم ایڈوانٹیج دیں گے۔ اُور تعلقات کو  مستحکم کرنے کیلئے پہلے کسٹمر کو فری دوائی دیں گے۔ جسکی وجہ سے نفیس صدیقی جیسی بڑی پارٹی ہمیشہ ہمارے اِحسان تلے دبی رہے گی۔۔۔۔ ابوشامل نے مکارانہ انداز میں قہقہ بلند کرتے ہُوئے کہا۔۔۔۔جبکہ کامل علی ہونقوں کی طرح ابو شامل کے آئیڈیئے پر  دِل ہی دِل میں اُسے داد  دے رَہا تھا۔
جاری ہے۔۔۔
اَب مزید پڑھیئے۔
دُوسرے دن  ابو شامل نے عصر کی نماز کے بعد جب کامِل علی کو لیجا کر  کُوٹھی کا نیا سیٹ اَپ دِکھایا تو کامل علی بھی حیرت زدہ رِہ گیا۔ ۔۔کو ٹھی پُر وقار ہُونے  کیساتھ ساتھ اب ایک جدید  اُور ماڈرن آستانے کا منظر بھی پیش کررہی تھی۔ کچھ قیمتی نوادرات کا اِضافہ بھی کیا گیا تھا۔ ایک خوبصورت حقہ نما اینٹیک میں  مسحور کُن بخورات سُلگ کر تمام ماحول کو  معطر کررہے تھے۔ جبکہ لائٹنگ کے  بہترین استعمال نے  ماحول کو پُراسرار بنا دیا تھا۔ ایک جانب چند خوش لباس لُوگوں کو دیکھ کر کامِل علی نے سرگوشی میں ابو شامل سے استفسار کیا۔۔۔۔ یہ کُون لُوگ ہیں۔۔۔؟؟؟

یہ سب میری برادری کے لُوگ ہیں۔۔ جو صرف کلاینٹ پر اچھا اثر ڈالنے کیلئے یہاں وقتاً فوقتاً پیش ہُونگے۔۔۔ اُور ہاں یاد آیا۔کہ،، جب بھی کوئی مریض تُمہارے پاس خلوت میں بھیجا جائے گا۔ میں بھی تُمہارے پاس حاضر رَہوں گا۔ جنہیں کیا جوابات دینے ہیں۔ اُور کیسے بات کرنی ہے۔ یہ میں تمہیں اُسی وقت بتاتا رَہوں گا۔۔۔۔۔ ابو شامل نے کامل علی کو سمجھاتے ہُوے کہا۔۔۔

یار اگر تمہارے سمجھانے پر اُنہیں  ہدایات دُونگا۔ تو کیا وُہ  آنے والےلوگ مجھ سے بدظن نہیں ہُونگے۔کہ ،، کیسا بابا ہے جو اپنے اسسٹنٹ سے  ہدایات لے رَہا ہے۔ کامل علی نے مُنہ بناتے ہُوئے کہا۔۔۔۔۔۔۔۔ کامل کے سوال پر ابو شامل نے قہقہ لگاتے ہوئے کہا۔۔۔ اُو میرے بُھولے بادشاہ میں  تم لوگوں کیساتھ حاضر ضرور رَہوں گا۔۔۔لیکن نظر صرف تجھے آوٗنگا۔۔۔۔  وُہ لُوگ نہ مجھے دیکھ پائیں گے۔اُور نہ ہی میری آواز سُن پائیں گے۔ اُور ہاں  کل تمہیں نفاست صدیقی سے متعلق جو باتیں سمجھائی تھیں۔۔۔ وُہ تو یاد ہیں نا تُم کو۔؟؟؟۔۔۔۔۔ ہاں بھئی سب کچھ یاد ہے۔۔۔ میں نہ کوئی چھوٹا سا بچہ ہُوں۔اُور نہ ہی میری یاداشت اتنی کمزور ہے ۔کہ،، کل  ہی کی بات بھول جاوٗں۔ کامل علی نے جھنجلائے ہُوئے لہجے میں جواب دِیا۔۔۔۔  چلو  اب خفگی  چھوڑو۔ اُور اپنا مُوڈ ٹھیک کرلو۔۔۔ کیونکہ مجھے نفاست صدیقی کی آمد سے قبل تُمہارا  ہلکا پھلکا میک اَپ  بھی کرنا ہے۔ابو شامل نے گفتگو کا موضوع بدلتے ہُوئے کہا۔۔۔

تھوڑی دیر میں ابو شامل  نے میک اپ کے ذریعہ سے کامل علی کا حلیہ ہی بدل کر رکھ دیا۔۔۔  کامل علی میک اَپ کے بعد خُود کو آئینے میں دیکھ کر حیرت زدہ رِہ گیا۔۔۔ شانے کو چُھوتے ہوئے گھنگریالے گیسو، اُور چہرے پر سجی ہلکی ہلکی داڑھی کیساتھ خُوبصورت  گولڈن کام کے کُرتے اُور واسکٹ میں وُہ بالکل ایک شہزادے کی طرح  دِکھائی دے رَہا تھا۔۔۔۔ یار ابو شامل تُم مجھے عامل دِکھانا چاہتے ہُو۔یا کسی ریاست کا شہزادہ۔۔۔؟ کامل علی نے ابو شامل کو گھورتے ہُوئے استفسار کیا۔۔۔۔۔ یار تُمہارا کیا خیال ہے۔کہ،، میں اتنا بدذوق  بندہ ہُوں۔  جو تُمہیں کوئی گندے  سے بہروپ میں ایک صنعتکار کے سامنے پیش کروں گا۔
 
مغرب کی آذان کیساتھ ہی تمام سیٹ  اپ مکمل ہُوچکا تھا۔۔۔ کامِل علی کے کمرے کے باہر بیسیوں لُوگوں کو  ایسے مُہذب  انداز میں  سیٹوں پر بٹھا دِیا گیا تھا۔ جیسے وُہ تمام لُوگ  مُلاقاتی ہُوں۔ اُور اپنی باری کے منتظر ہُوں۔ سبھی لُوگ لباس اُور رکھ رکھاوٗ سے اُونچے عہدوں کے حامل یا کاروباری افراد دِکھائی دیتے تھے۔۔ اِن میں سے کچھ لُوگ انگریزی نیوز پیپر ز  یا میگزین کے مطالعہ میں مصروف تھے۔۔۔ ویٹننگ رُوم میں دُو افراد ایسے بھی تھے جو سگار سے شغل کررہے تھے۔۔ جبکہ کار پُورچ اُور  کُوٹھی کے لان  سے ملحق  راہداری میں کھڑی بیش قیمت  گاڑیاں بھی آنے والوں کی  پُوزیشن کی چغلی کھارہی تھیں۔

مغرب کی نماز کے فورا بعد کوٹھی کے گیٹ  پرنفاست صدیقی امپورٹیڈ لیموزین سے برآمد ہُوئے۔۔۔ کوٹھی کے اندر و باہر گاڑیوں کی قطاریں دیکھ کر دوسرے ہی لمحے اُنکی گردن میں پڑی راڈ نرم پڑچکی تھی۔۔۔  نفاست صدیقی کا خیال تھا۔کہ،، اُنکی  مالی حیثیت کی وجہ سے اُنکا  گیٹ پر استقبال  کیا جائے گا۔لیکن کھلے ہُوئے  خالی گیٹ نے اُنکے پھولے ہُوئے سینے کو ذرا سا پچکا دیا تھا۔۔۔ نفاست صدیقی کوٹھی کے گیٹ سے اندر کسی  ملازم کو تلاش کرتے ہُوئے ویٹنگ رُوم میں پُہنچ گئے۔۔۔ کوٹھی کی آرائش ونفاست   اُور ویٹننگ رُوم میں موجود لُوگوں کو دیکھنے کے بعد نفاست صدیقی اِس نتیجے پر پُہنچے تھے۔ کہ یہ کوئی رِوایتی آستانہ نہیں ہے۔ اُور جہاں پہلے سے ہی اسقدر بااثر افراد کو جھگمٹا موجود ہے۔وہاں اِنکی اِمارت سے  مرعوب ہُونے والا کُون ہُوگا۔۔۔۔ وُہ اپنے بیٹھنے کیلئے   کسی مناسب جگہ کی تلاش کے ساتھ ساتھ یہ بھی سُوچ کر پریشان ہُورہے تھے۔کہ اتنے  لوگوں کے بعد باری آتے آتے توشائد کئی گھنٹے گُزر جائیں گے۔۔۔؟؟؟ ابو شامِل ،نفاست صدیقی کی آمد سے بے خبر نہیں تھا۔بس وُہ تو نفاست صدیقی کے غبارے سے ہُوا نِکل جانے کے انتظار میں تھا ۔۔۔۔۔جُونہی ابو شامل کو اپنا مطلوبہ مقصد پُورا ہُوتا دِکھائی دِیا۔ ابو شامل نے  آگے بڑھ کر نفاست صدیقی کی جانب  ہاتھ بڑھاتے ہُوئے  اپنا تعارف پیش کیا۔۔بندے کو ابو شامِل کہتے ہیں۔ اُور آپ غالباً نفاست صدیقی ہیں۔۔۔؟۔۔۔۔۔ جی آپ نے بالکل ٹھیک پہچانا ہے۔ اُورکل شائد  میری آپ ہی سے بات ہُوئی تھی۔؟۔۔۔ نفاست صدیقی نے گرمجوشی سے ہاتھ مِلاتے ہُوئے استفسار کیا۔

ابو شامل ، نفاست صدیقی کا ہاتھ تھامے اُسے ایک کمرے میں لے آیا۔ یہ کمرہ بھی انتہائی پرتعیش اشیاٗ کی وجہ سے نفاست صدیقی کو اپنی جانب متوجہ کررہا تھا۔۔۔ اُور سُنایئے نفاست صاحب یہاں تک پُہنچنے میں کوئی دُشواری تو پیش نہیں آئی آپکو۔۔۔۔؟ ابو شامل نے نفاست صدیقی کی محویت سے لطف اندوز ہُوتے ہُوئے کہا۔۔۔۔ جی نہیں  کوئی دِقت پیش نہیں آئی۔لیکن یہاں اتنا رَش دیکھ کر پریشانی ضرور ہُورہی ہے۔۔۔نفاست صدیقی نے اپنی پریشانی  کا برملا اظہار کرتے ہُوئے کہا۔۔۔۔ نفاست صاحب آپ پریشان بالکل نہ ہُوں۔۔۔ جب  کل میں نے آپکووقت دیا تھا۔تو اب یہ میری ذمہ داری ہے کہ،، کسی بھی طرح آپکو انتظار کی زحمت نہ ہُونے دُوں۔۔۔ قبلہ کامل شاہ صاحب اگرچہ کسی کی حق تلفی کو پسند نہیں فرماتے۔۔۔ لیکن میں اگر کسی کی سفارش کردُوں تو قبلہ شاہ صاحب میری بات کی لاج رکھ ہی لیتے ہیں۔ اِسی لئے میں آپکو ویٹنگ رُوم کے بجائے اِس خاص کمرے میں لے آیا ہُوں۔تاکہ جلد از جلد آپکی مُلاقات کا بندوبست کراسَکوں۔ انشاٗ اللہ  آپکو پندرہ منٹ سے ذیادہ انتظار نہیں کرنا پرے گا۔۔۔  بس شاہ صاحب نوافل و اذکار سے فارغ ہُوجائیں تو پہلا نمبر اِس خادم کی وجہ آپکو ہی ملے گا۔۔۔ ابو شامِل نے خوشدلی سے جواب دیتے ہُوئے کہا۔۔۔

پندرہ منٹ بعد حسب وعدہ ابوشامل نے نفاست صدیقی کو  کامل علی کے آستانے نُما کمرے تک پُہنچا کر  آہستگی سے دروازہ باہر سے بند کردیا۔۔۔ سامنے فرشی نشست پر کامل علی آنکھیں بند کئے تسبیح پر انگلیاں گھما رہا تھا۔  نفاست صدیقی احترام سے قالین پر چلتے ہوئے کامل علی کے ہاتھوں کا بوسہ لینے کیلئے اِس بات سے بے خبرآگےبڑھ رَہا تھا۔کہ،،  اُسکے اُور کامل علی کے علاوہ ابو شامل بھی  غائبانہ طُور پر کامل علی کے ساتھ براجمان ہُو کر کامل علی کے کان میں سرگوشیاں کررہا ہے۔۔۔۔ نفاست صدیقی تم نے تو ہمیشہ دیسی علاج اُور خانقاہی سسٹم کی مخالفت کی ہے۔ اُور تم ہمیشہ یہی کہتے رہے ہُو نا کہ،، کالا سفید ، نوری  یا شیطانی  علم کچھ نہیں ہُوتا۔ یہ سب کم علم لوگوں کی فراغت کا  سرچشمہ ہے۔۔۔ مگر دیکھ لُو۔۔ آج تُم اُسی سسٹم کا حصہ بننے کیلئے یہاں موجود ہُو۔۔۔۔  نفاست صدیقی  کامل علی کی بارُعب آ  واز سُننے کے بعد ایک لمحے کیلئے ٹھٹک کر ٹہر گیا۔اُسے اپنی سماعت پر یقین نہیں آرہا تھا۔ بھلا کوئی کیسے اُسکے ماضی کو کھنگال کر اُس کے سامنے رکھ سکتا تھا۔۔۔ اُسے یقین آگیا۔کہ،، واقعی  دُنیا میں بُہت سے علوم ایسے بھی ہیں۔ جو انسان کے اندر بھی جھانکنے کی صلاحیت پیدا کرسکتے ہیں۔۔۔۔۔  نفاست صدیقی نے کامل کے ہاتھوں پر بُوسہ دیکر لرزتی ہُوئی آواز میں کہا۔۔۔۔ شاہ صاحب میں اپنی  سابقہ فکر  اُور مادی فلسفے پر نادم ہُوں۔ آپ مجھے معاف فرماکر اپنی غلامی میں قبول فرمالیں۔۔۔
(جاری ہے)۔

اُسکا کہنا ہے۔ کِسی اُور کو دیکھوں نہ کبھی
کیوں کہ اُسکو یہ میرا رُوپ بُرا لگتا ہے۔

مجھکو ہر چہرے میں آتی ہے نظر اِک وُہ ہی
جُو نہ بھر پائے یہ بہروُپ بُرا لگتا ہے۔

Saturday, 22 February 2014

میں بھی طالبان ہُوں مگر۔۔۔۔؟




کل میری بیٹی جُونہی اسکول سے واپس گھر آئی۔ بَستہ رکھتے ہی میرے پاس آبیٹھی۔ حالانکہ وہ شدید گرمی کی وجہ سے پسینے میں شرابُور تھی۔ لیکن اُسکی بے چینی دیکھ کر ہی میں سمجھ گیا کہ وہ اپنے ذہن میں کوئی اُلجھا ہُوا سوال لئے ہُوئے بُہت مضطرب ہے ۔ وَگرنہ اسکول سے وَاپسی پر وہ ہمیشہ اپنا ڈریس تبدیل کرنے کے بعد سب سے پہلے کھانے کی صدا ہی بُلند کرتی ہے۔


میں نے اُسکی بے چینی دیکھتے ہُوئے استفسار کیا۔۔۔ بیٹا خیریت تُو ہے آج آپ کھانا اسکول کینٹین سے تُو نہیں کھا آئیں۔۔۔۔۔؟


وہ کہنے لگی ۔۔۔نہیں بابا ایسی تُو کوئی بات نہیں ہے۔۔۔ بس باباجانی کُجھ جاننا چاہتی ہُوں۔۔۔ آپ مجھے جہاد سے متعلق کُچھ بتائیں ۔۔۔؟ اور یہ بھی کہ شہید کُون ہُوتے ہیں۔۔۔۔؟


میں نے اُسے کہا کہ بیٹا پہلے لباس تبدیل کرلو۔ پھر کھانا کھالو ۔اُسکے بعد میں تفصیل سے تُمہارے سوال کا جواب دے دیتا ہُوں۔۔۔!


لیکن وہ شائد اپنے سوالوں کے جواب کیلئے اتنی زیادہ متجسس تھی۔ کہ کہنے لگی نہیں بابا جانی پہلے آپ میرے سوالوں کا جواب دے دیں۔ اُسکے بعد میں کھانا کھالونگی۔ کیونکہ جب تک مجھے میرے سوالوں کا جواب نہیں مِلے گا میں بے چین ہی رَہوں گی۔۔۔ مجھے معلوم ہے کہ وہ ہمیشہ سے ہی ہر نئی بات پر متجسس ہوجاتی ہے۔ اور جب تک اُسے اپنے سوال کا جواب نہ مِل جائے وہ چین سے نہیں بیٹھتی ہے۔ لہذا میں نے ہمیشہ کی طرح ہَار مانتے ہُوئے اُسکے سوالوں کا جواب پہلے دینے کیلئے حامی بھر لی۔ اور اُسکے سوالوں کا جواب دیتے ہُوئے اُسے بتانے لگا۔


بیٹا جہاد کا حُکم قران مجید فرقانِ حمید میں کئی جگہوں پر آیا ہے۔ جہاد کے معنیٰ جدوجہد اور کوشش کے ہیں۔ جہاد فی سبیل اللہ کو آسان لفظوں میں اسطرح کہہ سکتے ہیں۔ کہ اللہ کریم کی راہ میں کوشش کرنا۔


میں نے ابھی گُفتگو شروع ہی کی تھی۔ کہ میری بچّی درمیان میں بُول پڑی۔۔ بابا کوشش کرنا۔۔ یا۔۔ اللہ کریم کی راہ میں گردن کَٹوانا،، کیونکہ ہماری ٹیچر نے ہمیں بتایا تھا کہ اللہ کریم کی راہ میں جان دینے کو جہاد کہتے ہیں۔۔۔؟


ہاں بیٹا اللہ کریم کی راہ میں لڑتے ہُوئے اپنی جان قربان کرنا جہاد ہے۔ لیکن تُم اگر میری بات کو تَسلی سے سُنو گی تو میں تُمہیں جِہاد سےمتعلق تفصیل سے بتا سکوں گا۔


جی بابا جان آپ بتایئے اب میں بِلا ضرورت نہیں بُولونگی۔ اُس نے اپنی کہنیوں کے پیالے میں اپنے چہرے کو سجاتے ہُوئے کہا۔۔۔


دیکھو بیٹا جہاد کی کئی اِقسام عُلماءِ کرام نے بیان کی ہیں اور اِن اقسام پر سبھی عُلماء کا اجماع بھی ہے۔ کیونکہ یہ سبھی اقسام قران وسنت کی روشنی کے عین مطابق ہیں۔ اور جِہاد کا مُنکر بلاتفاق،، کافر،، ہے۔ البتہ جہاد کے طریقہ کار پر ایک گروہ کا دوسرے گِروہ سے اُصولی اختلاف ممکن ہے۔


جہاد کی یہ پانچ اقسام بُہت مشہور ہیں نمبر1۔جہاد بالعِلم ۔ نمبر2۔جہاد بالمال۔نمبر3۔جہاد بالعمل۔ نمبر4۔جہادبالنفس۔ نمبر5۔جہاد بالقتال۔


بیٹا ، جہاد علم،،کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کریم اور اُسکے مدنی محبوب ﷺ کے احکامات کو سیکھ کر دُنیائے انسانیت تک اُسکی روشنی کو پہنچانا۔ تاکہ ظُلمت کو دین کی روشنی سے منور کیا جاسکے۔ تاکہ تِیرگی چھٹ جائے اور لوگوں کو صحیح اور غلط میں تمیز کرنے میں آسانی ہُوجائے۔ کوشش کرنا انسان کا کام ہے جبکہ ہدایت دینا اللہ کریم کا کام ہے۔ اور قران مجید میں بھی اِسکا واضح حُکم موجود ہے مفہوم،، تم میں ایک ایسی جماعت ہونی چاہیئے جو نیکی کا حُکم کرے اور بُرائی سے رُوکے۔


جبکہ مال سے جہاد کے معنیٰ ہیں کہ اپنی حلال ذرائع سے حَاصِل کی گئی دولت کو اللہ کریم کی راہ میں خرچ کیا جائے۔ اب چاہے وہ رقم مجاھدینِ اسلام کو دِی جائے یا کِسی نادار و بیوہ کو دی جائے ۔ چاہے مدارِس میں پُہنچادی جائے۔ یا کِسی فلاحی کام میں خرچ کردی جائے۔ کیونکہ مال محنت سے کمایا اور جمع کیا جاتا ہے اسلئے اسکا استعمال بھی انسان کے نفس پر گِراں گُزرتا ہے لِہذا جب اتنی کوشش کے بعد کمایا ہُوا مال انسان راہِ خدا میں خرچ کرتا ہے تب شیطان طرح طرح کے وسوسے انسان کے دِل میں پیدا کرتا ہے۔ اور شیطان و نفس سے لڑتے ہُوئے جب انسان خُوشدلی سے راہِ خُدا میں مال خرچ کردیتا ہے۔ تُو یہ بھی جہاد کے زِمرے میں آتا ہے۔ جیسا کہ اللہ کریم اپنے کلامِ پاک میں ارشاد فرماتا ہے۔ایمان رکھو اللہ اور اس کے رسول پر اور اللہ کی راہ میں اپنے مال و جان سے جہاد کرو، یہ تمہارے لیے بہتر ہے اگر تم جانو۔۔۔ سورہ اَلصّٰف آیت نمبر ۱۱۔


اور بِٹیا جہادِ عمل کے متعلق بھی سُنو: جب بحیثیت مسلمان ہم نے اپنی دینی اور دُنیاوی ضروریات کے مُطابق اسلام کی تعلیمات کو سیکھ اور سمجھ لیا تب ہم پر لازم ہے کہ صِرف گُفتار کے غازی نہ بنیں۔ بلکہ جو علم حاصِل کیا ہے اُس پر عمل بھی کریں۔ چاہے شیطن لاکھ حیلے سمجھائے ۔چاہے اُن پر عمل سے دُنیاوی فائدہ ہمارے ہاتھ آئے یا دُنیاوی نقصان ہمارا مُقدر بنے ۔ یا ہمیں اس پر عمل کی کوئی بھی قیمت ادا کرنی پڑے۔ لیکن رضائے رَبُّ الانام کی خاطر ہمیں اس پر عمل پیرا ہونا ہی چاہیئے اور یہی عملی جہاد ہے۔


جبکہ جہاد بالنفس اپنی خُواہشات کو اللہ کی مرضی پر قربان کردینے کا نام ہے۔ جیسے سردیوں کی صبح میں فجر کی نماز نفس پر بھاری ہُوتی ہے۔ مگر یہی عمل اللہ کو محبوب ہے۔ تب یہ نہ دیکھو کہ اِس عمل میں مشقت ہے بلکہ یہ دِیکھو کہ اللہ کریم کی چاہت کیا ہے۔ جسطرح جُھلسا دینے والی گرمی میں روزہ رکھنا نفس پر گِراں گُزرتا ہے مگر اللہ کریم اس عمل پر اپنی خوشی کا اِظہار فرشتوں کے سامنےفرماتا ہے۔ اور کبھی جب کوئی سائل اپنی ضرورت بیان کرتا ہے تو نفس سمجھاتا ہے کہ تجھے اسکی ذیادہ ضرورت ہے۔ لیکن اگر سائل کی ضرورت پوری کردی جائے تو خُدا خُوش ہوتاہے۔ اسی طرح ہر وہ عمل جو نفس پر شاق گُزرے لیکن وہی عمل خُدا کی خوشنودی کا باعث ہُو ۔ تب خُدا و رَسولﷺ کی رضا کو مقدم رکھنا جہادِ نفس ہے۔


اور بیٹا ایک جہادِ قتال ہُوتا ہے یعنی کافر سے اللہ کریم کی رضا کیلئے قتال یعنی لڑائی کرنا۔ اسکا بھی قران مجید میں کئی جگہوں پر حُکم موجود ہے اور اسکی بھی بڑی نرالی شان ہے چُنانچہ قران مجید میں ارشاد ہُوتا ہے کہ،، اور لڑو اللہ کی راہ میں اور جان لو کہ اللہ سنتا جانتا ہے، سورہ البقرۃ آیت ۲۴۴۔۔۔ جبکہ دوسری جگہ اِرشاد ہُوتا ہے کہ،،اور جو خدا کی راہ میں مارے جائیں انہیں مردہ نہ کہو بلکہ وہ زندہ ہیں ہاں تمہیں خبرنہیں ۔سورہ البقرۃ ۱۵۴


یعنی جو جہاد میں، اللہ کی راہ میں مارا جائے وہ شہید کہلاتا ہے اور قران کریم کا فیصلہ ہے کہ ،،شہید مرتا نہیں بلکہ زندہ رِہتا ہے۔ لیکن یہ بات اور ہے کہ۔ ہم اُنکی زندگی کے اطوار کو نہیں جان پاتے۔ اور وہ کیسے کھاتے پیتے ہیں یہ نہیں سمجھ پاتے ۔مگر وہ زندہ ہیں۔ کیونکہ یہ اللہ کریم کا فرمان ہے۔ اور جہاد کے فضائل میں بے شُمار اَحادیثِ مبارکہ بھی کُتب اَحادیث میں موجود ہیں۔ جیسا کہ بُخاری شریف کی یہ حدیث ہے۔


ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اس نے کہا۔لوگوں میں سے افضل کون ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایسا آدمی جو اللہ کی راہ میں اپنی جان و مال سے جہاد کرتا ہے۔“ اس نے کہا:”پھر کون؟آپ صل اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ آدمی جو لوگوں سے الگ ہو کر کسی گھاٹی میں اللہ کی عبادت کرے اور لوگ اس کے شر سے محفوظ رہیں۔“بخاری، کتاب الجہاد۔6782


لیکن میری بَچّی ۔۔اِس جہاد مقاتل کیلئے کُچھ قانون ہیں۔ کبھی یہ فرضِ کفایہ ہُوتا ہے ۔ تو کبھی یہ فرضِ عین ہُوتا ہے۔اور کبھی مُباح کی صورت اختیار کرجاتا ہے۔ اور اسکے بے شُمار آداب و احکامات اور اُصول خود اللہ عزوجل اور اُسکے مدنی محبوب (صلی اللہ علیہ وسلم) نے بیان فرمائے ہیں جبکہ کُچھ آثارِ صحابہ (رِضوان اللہ علیہم اجمعین)سے ثابت ہیں ۔ جِنکا پاس رکھنا ہر مُجاھِدِ اسلام اور امیرِ مجاھِدین و لشکر پر لازم و فرض ہے۔اگر اِن قواعد اور احکامات کو پسِ پشت ڈال کر جہاد کیا جائے۔ تو ایسی لڑائی نہ صِرف جہاد کی رُوح کی عین منافی تصور کی جائے گی۔ بلکہ جہاد کے بجائے دھشت گردی کے زمرے میں شامل ہُوجائے گی۔


بابا ایک بات اور بتائیں کہ یہ طالِبان کون ہُوتے ہیں۔۔۔؟ میری ٹیچر مجھے بتارہی تھیں کہ طالِبان اللہ تعالی کے نیک ترین بندے ہُوتے ہیں۔ بلکہ یہ سب وِلایت کے درجے پر ہیں۔ پھر بابا جان آپ طالبان کیساتھ جِہاد میں شامِل کیوں نہیں ہُوتے۔۔۔۔؟



میری بَچّی طالبان ۔ طالِب کی جمع ہے۔ جِس کے معنی ہیں۔۔خواہشمند۔ آرزومند۔ مانگنے والا۔ طلب کرنے والا۔مشتاق ۔ ان تمام معنوں سے تم مجھے دیکھو گی۔ تُو ضرور مجھے طالبان کی صف میں دست بَدستہ پاوٗ گی۔ میں شہادت کیلئے مشتاق ہُوں ۔ اور ہر نماز میں اپنے رب عزوجل سے شہادت کی موت کی تمنا کا سوال کرتا ہُوں۔ میں روشنی کا خُواہشمند ہُوں۔ میں عِلم کے لئے حَریص ہُوں۔ میں مسلمانوں کی ترقی کا آرزومند ہُوں۔ میں عافیت کا طلبگار ہُوں۔ اور کُفار کے مقابل میں مسلمانوں کو تفرقہ پرستی سے بیزار شانہ بشانہ کھڑا دیکھنا چاہتا ہُوں۔


مگر بابا میں تو آپ سے اُن طالبان کی بابت گُفتگو کررہی ہُوں۔ جو موت سے نہیں گھبراتے، جو سینے پر بم باندھ کر شہادت کی موت کے متمنی رِہتے ہیں۔ میری بیٹی نے میری گُفتگو رُوکتے ہُوئے مجھے اپنی طرف ایک مرتبہ پھر متوجہ کرتے ہُوئے سوال کیا۔


میری بچی مجھے اُنکے ساتھ جہاد میں پیش پیش رہنے میں کوئی حرج نہیں ہُوتا۔ اگر میں نے احادیث مبارکہ اور آثارِ صحابہ (رِضوان اللہ تعالی اجمعین) کا بغور مطالعہ نہیں کیا ہُوتا ۔


مگر میں جتنا مُطالعہ کرتا چلا جاتا ہُوں مجھے طالبان کا طریق جہاد نہ صرِف صحابہ کرام (رِضوان اللہ تعالی اجمعین) کے طریقہ ءِجہاد سے مُختلف نظر آتا ہے بلکہ اُس جہاد سے متصادم نظر آتا ہے۔


جیسا کہ بُخاری شریف اور مسلم شریف کی کئی احادیث میں کافر بچوں، بُوڑھوں اور خواتین کو قصداً قتل کرنے کی ممانعت موجود ہے مگر یہ کافر بچوں اور خواتین تو کُجا۔ اسکولوں میں دَرس وتَدریس میں مشغول مسلمان بچوں، بچیوں اور خواتین کو قتل سے دریغ نہیں کرتے ۔جبکہ حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ ارشاد فرماتے ہیں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ۔ جو شخص لا الہ الا اللہ کا اقرار کرے اس سے ہاتھ اور زبان کو روکنا۔ کہ ہم نہ تو کسی گناہ کی وجہ سے اسے کافر قرار دیں اور نہ کسی عمل کی وجہ سے اسے اسلام سے خارج سمجھیں۔۔ (ابوداؤد)۔


صحیح مسلم شریف میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجاہدین کو فرمان دیا کرتے تھے کہ اللہ کی راہ میں جہاد کرو خیانت نہ کرو، بدعہدی سے بچو، ناک کان وغیرہ اعضاء نہ کاٹو، بچوں کو اور زاہد لوگوں کو جو عبادت خانوں میں پڑے رہتے ہیں قتل نہ کرو۔


مسند احمد کی ایک روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرمایا کرتے تھے اللہ کا نام لے کر نکلو اللہ کی راہ میں جہاد کرو کفار سے لڑو ظلم وزیادتی نہ کرو دُھوکہ بازی نہ کرو۔ دشمن کے اعضاء بدن نہ کاٹو درویشوں کو قتل نہ کرو،


بخاری ومسلم میں ہے کہ ایک مرتبہ ایک غزوہ میں ایک عورت قتل کی ہوئی پائی گئی حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے بہت بُرا مانا اور عورتوں اور بچوں کے قتل کو منع فرما دیا،


اگرچہ ابتداءِ اسلام میں اسکی اِجازت باقی تھی لیکن جُوں جُوں وقت گُزرتا گیا یہ احکام بھی تبدیل ہُوتے رہے چُنانچہ حضرت علامہ کمال الدین ابن ہمام فتح القدیر کی جلد پنجم میں ارشاد فرماتے ہیں کہ ابتداءِ اسلام میں مشرک عورتوں اور بچوں کو بھی قتل کردیا جاتا تھا۔ اِس لئے عورتوں سے بھی جزیہ وصول کیا جاتا تھا۔ اور جب عورتوں کے قتل کا حُکم منسوخ ہوگیا تو جزیہ لینے کا حُکم بھی ساقط ہُوگیا۔


جبکہ موجودہ دُور کے طالبان نہ صرف کافروں کے بچوں اور عورتوں کے قتل کو جائز سمجھتے ہیں بلکہ وہ اپنے مقصد کے حصول کیلئےمسلمانوں کی مساجد اور مزارات پر حملوں کے ذریعہ بے گُناہ مسلمانوں کو بھی خُون سے نہلانے میں کوئی عار محسوس نہیں کرتے۔ حالانکہ مومن کی تُو پہچان ہی یہی ہے کہ اُس سے دیگر مسلمان محفوظ و مامون رہیں۔


کہاں تو آقائے نامدار (صلی اللہ علیہ وسلم) کافروں کا مثلہ یعنی کان ناک کاٹنے سے روکیں اور کہاں یہ نام نہاد مجاھدین جنہوں نے کافروں کو چھوڑ کر مسلمانوں کی لاشوں کو قبروں سے نِکال کر نہ صِرف مُثلہ کیا بلکہ اُنکی لاشوں کی بےحُرمتی کے بعد اُن لاشوں کو چوراہے پر لٹکادِیا۔ تاکہ مسلمانوں میں انکا خُوف اور دبدبہ قائم ہُوجائے۔ میرے ایک میجر دوست جنکی ڈیوٹی وزیرستان میں تھی۔ مجھے اکثر بتایا کرتے تھے۔ کہ افواجِ پاکستان کے سپاھی جب طالبان کے ہاتھ لگ جاتے تب کبھی کوئی ایسی لاش واپس نہیں ملتی۔ کہ جسکے اعضاء سلامت ہُوں۔


جبکہ ایسے اعمال میں ملوث افراد اور انکی امداد کرنے والے صاحبان کو بُخاری ، مسلم ، اور ابو داوٗد شریف میں موجود اس مشترکہ حدیث پاک کو دیکھنا چاہیئے جو لفظوں کے معمولی فرق کیساتھ تین مستند محدثین (رحم اللہِ اجمعین) نے بیان فرمائی ہے


حضرت علی رضی اﷲ عنہ نے حضور سید عالمﷺ کی خدمت میں کچھ خام سونا مٹی میں لگا ہوا بھیجا تو آپﷺ نے وہ چار آدمیوں میں تقسیم فرمادیا (یعنی اقرع بن حابس حنظلی مجاشعی، عینیہ بن بدرالغزاری، زید الخیل طائی اور علقمہ بن علاثہ عامری کے درمیان) قریش اور انصار اس پر ناراض ہوئے اور کہاکہ نجد کے رئیسوں کو مال عطا فرمادیا اور ہمیں نظر انداز کردیا گیا۔ آپﷺ نے ارشاد فرمایا کہ میں ان کے دلوں میں اسلام کی محبت ڈالتا ہوں۔ پس ایک آدمی آگے بڑھا جس کی آنکھیں دھنسی ہوئی تھیں، گال پھولے ہوئے تھے، پیشانی ابھری ہوئی تھی اور داڑھی گھنی تھی اور سر مُنڈا ہُوا تھا۔ اس نے کہا اے محمدﷺ! اﷲ تعالیٰ سے ڈر و۔(معاذ اﷲ) آپﷺ نے فرمایا! اﷲ تعالیٰ کی اطاعت کون کرے گا؟ اگر میں اس کی نافرمانی کرتا ہوں۔ اﷲ تعالیٰ نے تو مجھے زمین والوں پر امانت دار شمار فرمایا ہے، لیکن کیا تم مجھے امانتدار نہیں سمجھتے؟ پس ایک آدمی نے اسے قتل کرنے کا سوال کیا۔ میرے خیال میں وہ حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ تھے، آپﷺ نے منع فرمایا جب وہ لوٹ گیا تو آپﷺ نے فرمایا اس کی نسل یا پیٹھ سے ایسے لوگ پیدا ہوں گے جو قرآن مجید پڑھیں گے لیکن (قرآن) ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا۔ وہ اسلام سے نکلتے ہوئے ہونگے جیسے کمان سے تیر نکل جاتا ہے۔ وہ اہل اسلام کو قتل کریں گے اور بت پرستوں کو چھوڑ دیا کریں گے۔ اگر میں انہیں پائوں تو قوم عاد کی طرح مٹا کر رکھ دوں ۔


پھر جہاد کے اُصول و قواعد کو کوئی بھی حضرت ابوبکر صدیق و عُمرِ فاروق ، حضرت ابو عبیدہ بن جراح اور حضرت خالد بن ولید (رِضوان اللہ تعالی علیہم اجمعین)سے ذیادہ جاننے کا دعویدار نہیں ہُوسکتا اور بالفرض کوئی دعویٰ کرے تو اُس سے بڑا دُنیا میں کوئی جھوٹا نہ ہُوگا۔ اِن تمام جَیّد و کبائر صحابہ کرام نے فتوحُ الشام کے موقع پر اپنے متبعین کو یہی ہدایت جاری فرمائی کہ۔ کافروں کے بچوں، عورتوں، بُوڑھوں، درویشوں ، مذہبی رہنماوٗں کو قتل نہ کیا جائے اُنکی املاک کو جان بوجھ کر نشانہ نہ بنایا جائے، فصلوں میں آگ نہ لگائی جائے ،ہرے درختوں کو نہ کاٹا جائے۔ مگر ایک یہ طالبان ہیں جو مسلمان عورتوں کو سر بازار کوڑے مارتے نظر آتے ہیں۔ مسلمانوں کی جان اور املاک کی ہلاکت پر خُوش ہُوتے ہیں۔ اسلحہ کی خریداری کیلئے مسلمان تاجروں کو اغوا کرتے نظر آتے ہیں۔ اور بعض اوقات اپنی ناقص پلاننگ سے تمام اُمت مسلمہ کو ہلاکت میں ڈالنے سے بھی نہیں چُوکتے۔ یہاں تک کہ مسلمانوں کے قتل میں ملوث یہ نام نہاد مجاھدین ہندوستان گورنمنٹ سے امداد لینے کو بھی جائز سمجھتے ہیں۔


بابا یہ کیسے ممکن ہے کہ طالبان جو اتنے منظم ہیں وہ پلاننگ نہ کرتے ہُوں۔ میری ٹیچر بتارہی تھیں کہ اُنکی پلاننگ اتنی زبردست تھی کہ امریکہ کی تمام خُفیہ ایجنسیاں طالبان کا مُنہ دیکھتی رِہ گئیں اور طالبان نے ورلڈ ٹریڈ سینٹر کو مٹی کا ڈھیر بنا دِیا۔


بیٹا ہُوسکتا ہے کہ بعض لوگوں کو یہ بڑی ہمت اور بہادری کا کام لگتا ہُو۔ کہ تین سو مرد و عورت کو دو میناروں کیساتھ زمین بُوس کردِیا گیا ۔ اور امریکی دیکھتے رِہ گئے۔ لیکن اِس عمل کی مسلمان اُمہ نے جو قیمت ادا کی ہے وہ اُن ۲ ٹاوروں سے لاکھ گُنا زائد ہے۔ اسکے علاوہ امریکی اور یورپی مسلمان اس حادثے کی جو قیمت آج تک چُکارہے ہیں اسکے نقصان کا اندازہ لگانا بھی ممکن نہیں ہے۔


بیٹا فتاوٰی عالمگیری جو کہ مسلمانوں کی متفقہ فقہی کتاب ہے ۔اِسکی دوسری جلد میں علامہ نظام الدین جہاد کے مُباح ہونے کی دُو شرائط بیان فرماتے ہُوئے لکھتے ہیں۔


نمبر ۱ ۔دین کے دُشمن اسلام قبول کرنے سے انکار کردیں۔ اور دُشمنانِ اسلام اور مسلمانوں میں جنگ بندی کا کوئی معاہدہ بھی موجود نہ ہُو تب جہاد مباح ہوگا۔یا

نمبر۲ ۔مسلمانوں کو یہ توقع اور مکمل یقین ہُو کہ جنگ میں مسلمانوں کو کُفار پر غلبہ حاصِل ہوجائے گا۔ اگر مسلمانوں کو نہ ہی ایسی کوئی توقع ہُو ۔ اور نہ ہی فتح کامل کا یقین ہُو۔ تب اُنکے لئے کُفار سے جہاد جائز نہیں ہے ۔ کیونکہ جب تک مسلمانوں کو جنگی سامان اور قُوت میں برتری حاصِل نہ ہُوجائے تب تلک کُفار سے لڑنا جہاد نہیں بلکہ خُودکشی ہے۔

اب بِیٹا آپ خُود فیصلہ کرو کہ طالبان کا امریکہ پر حملہ جہاد تھا ۔ یا بے وقوفی اور خُود کشی تھی۔ میں نے بیٹی کی جانب مُڑ کر دیکھا۔ تو وہ اُداس چہرے سے میری جانب تَک رہی تھی۔ مجھے اپنی جانب متوجہ دیکھ کر پھر گُویا ہُوئی۔ تو بابا۔ اسکا مطب یہ ہُوا کہ اب جہاد نہیں ہُوگا۔ اور آپ بھی اسمیں حِصہ نہیں لیں گے۔۔۔؟

کِیوں نہیں میری بَچی۔۔۔ جہاد کبھی موقوف نہیں ہُوتا۔ جہاد کسی ایک واقعہ کا نام تُو نہیں ہے۔ یہ تُو ایک مسلسل عمل کا نام ہے۔ جب جب ہماری سرحدوں پر کفر حملہ کرے گا۔ ہم اُن سے جہاد بالقتل کریں گے۔ اور جب ہم اِس قابل ہُوجائیں گے کہ کفر کے مُقابل میں عسکری قوت جمع کرپائیں تب یکجا ہُوکر اُنکی سرحدوں پر جاکر بھی اُنہیں للکاریں گے۔


لیکن اِس وقت تمام مسلم اُمہ کے عُلماءَ اور حُکمرانوں کی دینی اور مِلی ذِمہ داری ہے کہ وہ سب آپس کے تمام اِختلافات کو دُور کرکے باہمی رضامندی سے جہاد سے متعلق تعلیمات مُصطفےٰ ﷺ پر از سرنو غور و فِکر کے بعد اُن تمام خرافات کو مجاھدین اسلام سے دُور کرنے کی کوشش کریں جُو جہاد کے نام پر رفتہ رفتہ مجاھدین کے اَذہان میں پیوستہ کردِی گئی ہیں۔ جسکی وجہ سے وہ مسلمانوں کے نمائندہ بننے کے بجائے صرف ایک گروہ کی نمائندہ تنظیم بنتی چلی جارہی ہے۔
جِسے بعض اوقات مسلکی فوائد وبرتری کیلئے مساجد پر خُودکش حملوں کیلئےبھی استعمال کیا جانے لگاہے۔یہ اسلئے بھی بُہت ضروری ہے تاکہ کوئی جہاد کے نام پر اسلام کو بدنام نہ کرسکے۔ اُور یہ اسلئے بھی ضروری ہے ۔تاکہ جہاد اور دہشگردی میں فرق واضح ہُوسکے۔ اور مجاھدین میں نظم قائم کیا جاسکے ۔تاکہ ایک محاذ پر بالفرض مجاھدین کمزور پڑیں تُو اُنکی امداد کیلئے دوسرے مجاھِدین کو بھیجا جاسکے۔ اور سب سے اہم بات یہ کہ جہاد کیلئے حاکم شہر یا حاکمِ صوبہ یا حاکمِ مُلک بُلائے۔ یہ نہ ہُو کہ جسکا دِل چاہے اپنا ایک گروپ بنا کر جِہاد کے نام پر اپنی جیب گرم کرتا رہے۔اُور وہ تُو کمانڈر بن کر خود ائر کنڈیشن کمروں میں بیٹھ کر اپنے بچوں کو آکسفورڈ یونیورسٹی بھیج دے۔ اور غریبوں کے بچوں کو جہاد کی ترغیب دیتا رہے۔

جبکه پاکستان میں موجود طالبان کا طریقه خوارج کے جد امجد  چھٹی صدی کے عظیم فتنہ گر حسن بن صباح اور احمد بن غطاش کی تعلیمات کا عکس نظر آتا ھے. جنہوں نے سینکڑوں علمائے کرام کو قتل کیا ۔۔ اُور مسلمانوں پر کفر کے فتوے لگائے۔ اور اقتدار کی خواہش میں اسلامی فوج سے برسرپیکار رہے.. وه لوگ بھی کفار کو چھوڑ کر مسلمانوں کو قتل کرتے ھوۓ نظر آتے تھے اور یه لوگ بھی کفار سے جہاد کرنے کے بجاۓ مسلمانوں کو قتل کرتے ھیں... جبکه اسلام میں ایک انسان کے ناجائز قتل کو بھی تمام انسانیت کے قتل عام سے تشبیه دی گئ ھے... اس قسم کی حرکات دراصل  بیرونی قوتوں کے ایما پر۔۔اسلامی جہاد  کو اقوام عالم میں بدنام کرنے کی کوشش ھیں. تاکه جہاد کو اسقدر بدنام کردیا جاۓ که " کبھی کوئی جہادکا نام بھی اپنی زباں پر نه لاسکے  


باتوں کا سلسلہ جاری تھا کہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مسجد سے موذن کی صدا بُلند ہُونے لگی جو عصر کی نماز کا اعلان کررہا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔!لِہذا میں قُولی جہاد سے عملی جہاد کیلئے روانہ ہُونے لگا۔۔۔۔ اِس اُمید پر کہ اللہ کریم نے مزید توفیق عطا فرمائی تو مزید بھی اِس موضوع پر ناصِرف مطالعہ جاری رکھوں گا بلکہ جہاد بالعِلم بھی کرتا رَہونگا۔ انشاءَاللہ عزوجل

جہالت و ظُلم کے خلاف جنگ جاری رہے گی۔۔۔۔۔۔۔۔ انشاءَاللہ عزوجل


پلکوں سے دَرِّ یار پہ دستک دینا

اُونچی آواز ہُوئی عُمر کا سرمایہ گیا