bing

Your SEO optimized title page contents

Pages

Hamara Tube Channel

Saturday, 6 June 2015

عامل کامل ابو شامل (فرنانڈس بمقابلہ ابوشامل) قسط 46.akas



گُذشتہ سے پیوستہ۔

رفیع دُدانی کے گھر میں داخل ہُوتے وقت کامل نے دانہ ثمانی کے موکل کی موجودگی کو محسوس کرکے اپنے اندر کافی حوصلہ  موجود پایا۔لیکن جونہی رفیع دُرانی کی نگرانی میں وُہ اَریبہ کے کمرے میں داخل ہُوئے شراب کی تیز بھبک  نےاِنکا استقبال کیا۔۔۔۔ بستر پر ایک ڈھانچہ نما بچی کا جسم پڑا تھا ۔جسکے نقوش اگرچہ واقعی قابل ستائش تھے۔ لیکن اُسکے کمزور جُھری ذدہ بدن کو دیکھ کر کوئی نہیں کہہ سکتا تھا۔کہ،، اُسکی عمر پندرہ برس رہی ہُوگی۔۔۔ ابو شامل نے ایک مخصوص فاصلے کے بعد کامل کومزید آگےبڑھنے سے رُوک دیا تھا۔کامل علی نے آنکھیں بند کرنے کی کوشش کی تاکہ اپنا کردار بخوبی نبھا سکے تبھی اُس کو ایسا محسوس ہُوا۔جیسے کسی نے اُسکے کلیجے کو اپنی مٹھی میں جکڑ لیا ہُو۔

کامل کے چہرے پر ایک لمحے کیلئے کرب کے آثار نمایاں ہُوئے لیکن اگلے ہی لمحے کامل نے دانہ ٗ ثمانی کے موکل اُور ابوشامل کو اپنے سامنے ڈھال بنے دیکھ کر یکلخت درد میں کمی اُور کافی سکون محسوس کیا۔۔۔ ابو شامل للکارتے ہُوئے اریبہ کی جانب کسی نادیدہ مخلوق سے مخاطب تھا۔۔۔ کمزوروں پر حملہ کردینا ،مَردوں کا شیوہ نہیں۔  اُورکم از کم ایک  شہزادے کو تو  اِس طرح کی حرکات بالکل بھی زیب نہیں دیتی۔۔۔۔ ابو شامل کی تنبیہ سے کامل کو اتنا اندازہ تو بہرحال ہُوگیا تھا۔کہ فرنانڈس کمرے میں ہی موجود ہے۔البتہ وُہ فرنانڈس کو دیکھ نہیں پارہا تھا۔دانہ ثمانی کے موکل نے کامل علی کی بے چینی کو دیکھ کر  اُسے مخاطب کیا۔رفیع صاحب کو کہو کہ،، وُہ باہر جاکر دعا کریں۔ یہاں اِنکا کام نہیں ہے۔۔۔۔ کامل نے جونہی رفیع صاحب کو باہر جانے کا اِشارہ کیا۔ وُہ پردہ کھینچ کر  خاموشی سے باہر  نکل گئے۔تبھی دانہ ثمانی کے موکل نے کامل کی آنکھوں کے سامنے  ایک چمک  سی لہرائی جس کے بعد کامل کو کمرے میں موجود فرنانڈس دکھائی دینے لگا۔

فرنانڈس واقعی ایک شہزدے کے رُوپ میں موجود تھا۔اگرچہ اُسکے چہرے کی  بناوٹ کامل کو بُہت عجیب سی محسوس ہُوئی کامل دِل میں سُوچنے لگا،، اگر فرنانڈس کے جسم سے شاہی لباس اُتار کر اِسے کرتہ دھوتی پہنا دیا جائے تو کمبخت بالکل بالی وُڈ کا ولن دکھائی دیگا۔۔۔۔۔۔ سچ کہتے ہُو۔ میں شہزادے سے ذیادہ وِلن کے رُول ہی پسند کرتا ہُوں۔ اُور عنقریب تمہارے دوست شہزادہ ابو شامل کے ساتھ بھی ایک ظالم وِلن کی طرح پیش آنے والا ہُوں، فرنانڈس نے  کامل کو دیکھ کر دانت کچکچاتے ہُوئے انگوروں کو گچھے کو بھنبھوڑ کر  کسی فلمی ولن کی نقل اُتارنے کی کوشش کی۔

فرنانڈس میں اُن لوگوں میں سے نہیں ہُوں۔جو طاقت کے نشے میں اپنے حریف کی قوت کا اندازہ لگانے میں اکثر غلطی پر ہُوتے ہیں۔ اُور میں یہ بھی جانتا ہُوں۔کہ،، تم طبیعتاً نہایت ضدی واقع ہُوئے ہو۔لیکن میں پھر بھی تم سے اتمام حجت کیلئے ایکبار اپیل کرتا ہُوں۔کہ،، صرف شباہت کی وجہ سے اریبہ کو اپنے انتقام کی بھینٹ مت چڑھاوٗ۔ اُور اِس بیچاری کا پیچھا چھوڑ دُو۔تاکہ ہم دونوں اِس فضول خُون خرابے سے بچ جائیں۔ابو شامل نے نہایت تحمل سے فرنانڈس  کو مشورہ دیتے ہُوئے کہا۔ جسکے جواب میں فرنانڈس نے ایک بُلند قہقہ لگاتے ہُوئے  ابو شامل کو تمسخر بھرے لہجے میں جواب دیا۔ کیا بات ہے شہزادے ابو شامل جنگ سے پہلے ہی اتنا ذیادہ خُوفزدہ ہُو۔؟ کہ،، ابھی تو مقابلہ شروع نہیں ہُوا۔ اُور تم نے خوف سے امن کا پرچم بُلند کردیا۔۔۔مجھے خُدا کے سِوائے کسی سے ڈر نہیں لگتا فرنانڈس۔۔۔ لیکن مجھے معلوم تھا۔کہ،، تُم میری اَمن پسندی کو بُزدلی سے ذیادہ کچھ  تعبیر نہیں دُوگے۔۔۔ چلو پھر دیر کس بات کی ہے فرنانڈس؟۔آگے بڑھو اُور مجھے ختم کرکے اریبہ پر قبضہ جمالو۔۔۔ یا پھر میں تمہیں جہنم رسید کرکے کم از کم ایک مُوذی سے تو اِس سرزمین سے پاک کردوں۔

لفظ موذی سُن کر تو جیسے فرنانڈس کے تن بدن میں آگ ہی لگ گئی تھی۔ اُور شائد ابو شامل بھی یہی چاہتا تھا۔کہ،، فرنانڈس  غصے میں بھڑک کر اُس پر حملہ کرے۔تاکہ فرنانڈس کی عقل پر غصہ غالب آجائے ۔اُور وُہ تمام احتیاط کو بالائے طاق رکھ کر اَریبہ سے کچھ لمحوں کیلئے ہی سہی لیکن دُور ہُوجائے۔ اِس لئے جونہی فرنانڈس نے ایک وحشی شیر کے رُوپ میں ابوشامل پر حملہ کیا۔ابوشامل نے بھی ایک پھرتیلے چیتے کی شکل اختیار کرتے ہُوئے وُہ جگہہ چھوڑ دی۔جسکی وجہ سے فرنانڈس کا بھاری بھرکم جسم سیدھا فرش پر آرہا ۔ اِس موقع کا فائدہ اُٹھاتے ہُوئے ابوشامل نے ایک جست لگا کر اُس شیر کی پُشت  اُور گردن کے درمیان اپنے  نوکیلے پنجے گاڑ دیئے۔۔۔ لیکن وحشی شیر نے اپنی پُوری قوت سے  چیتے کو فضا میں بُلند کرنے کے بعد زمین پر دے مارا۔ اُور اسکے بعد وُہ وحشی شیر  ابوشامل کے چیتے نما  جسم پر سوار ہُوکر اُسکے سینے کو اپنے پنجوں کی مدد سے لہولہان کرنے لگا۔کامل حیرت سے یہ خُونخوار جنگ دیکھ رہا تھا۔کہ،، ابو شامل نے پھنسی پھنسی آواز میں کامل  کو پُکار کر کہا،، کامل ہار پہنانے کا وقت آگیا ہے۔

چند سیکنڈ تک کامل کو سمجھ ہی نہیں آیا کہ ،، ابوشامل کہنا کیا چاہتا ہے۔پھر یکایک اُسے سلطان تبریزی کی بات یاد آگئی۔کہ،، جونہی اِشارہ مِلے یہ ہار اُس بچی کے گلے میں ڈال دینا۔ فرنانڈس بھی ابوشامل کے کورڈ ورڈز کی وجہ سے کچھ پریشان نظر آنے لگا تھا۔ جسکا فائدہ اُٹھاتے ہُوئے ابو شامل نے ایک پنچہ فرنانڈس کی آنکھ میں گھوپنا چاہا۔لیکن فرنانڈس کی بروقت ہُوشیاری کی وجہ سے وُہ  آنکھ تو بچانے میں کامیاب ہُوگیا۔البتہ آنکھ کے کنارے پر ایک طویل زخم ضرور نمودار ہُوگیا۔جسکی وجہ سے فرنانڈس پر ایکبار پھر وحشت سوار ہُوگئی تھی۔ اُور اَب وُہ ابو شامل کی چھاتی پر تابڑ توڑ حملے کررہا تھا۔ جیسے ہی فرنانڈس کی تمام توجہ ابوشامل پر مرکوز ہُوئی۔ کامل نے پھرتی سے رُومال کی گرہ کھول کر اُس میں سے لیمووں کا ہار نکال کر اریبہ کی گردن میں ڈال دیا۔

جونہی وُہ ہار اَریبہ کی گردن میں پُہنچا۔ دُونوں لیموں یوں جگمگانے لگے جیسے آتش فشاں سے روشنی نکل کر رات کے اندھیروں کو نگل لیتی ہے۔رُوشنی کی لہروں نے چند ہی سیکنڈ میں ایک بگولے کی  شکل اختیار کرکے اپنا حجم بڑھانا شروع کردیا تھا۔ اُور جیسے ہی   اِس بگولے کا حجم ابوشامل اُور فرنانڈس کے جسموں سے ٹکرایا۔کمرہ کربناک چیخوں سے گُونج اُٹھا۔ اِس بگولے نے انتہائی طاقت سے ابوشامل اُور فرنانڈس کے جسموں کو ہَوا میں ایسے اُچھال دیا تھا۔ جیسے اُن دونوں کے اجسام کوئی تنکے ہُوں جو آندھی میں اُڑے جارہے ہُوں۔

مزید چند لمحوں کے بعد آندھی تھم گئی۔لیکن ابوشامل اُور فرنانڈس کا کمرے میں نام و نشاں تک نہیں تھا۔۔۔۔ یہ دونوں کہاں چلے گئے؟ کامل علی نے دانہ ثمانی کے موکل سے استفسار کیا۔۔۔۔  یہ سب اِس ہار کی کرامت ہے جو تم  تم نے ابھی اریبہ کو پہنایا ہے۔ اِس ہار کی موجودگی میں کوئی جن یہاں نہیں ٹہرسکتا۔ورنہ وُہ چند پل میں جل کر خاکستر ہُوجائے گا۔ دانہ ثمانی کے موکل نے کامل  علی کے علم میں اضافہ کرتے ہُوئے بتایا۔۔۔ لیکن پھر تُم یہاں کیسے موجود ہُو۔کامل نے حیرت کا اظہار کیا۔۔۔۔۔ میں اِس لئے یہاں موجود ہُوں۔کہ،، میں کوئی جن نہیں ہُوں صرف دانہ ثمانی کا موکل ہُوں۔۔۔ تم ایسا کرو رفیع صاحب کو بُلاکر ہدایات دےدُو۔کہ،، کسی بھی صورت میں وُہ اِس ہار کو اریبہ کے جسم سے جُدا نہ کریں۔ ورنہ وُہ فرنانڈس جب تک زندہ ہے۔ہر حال میں اریبہ کے جسم پر قبضہ جمانے کی کوشش ضرور کرے گا۔

(جاری ہے)

اُسکا کہنا ہے۔ کِسی اُور کو دیکھوں نہ کبھی
کیوں کہ اُسکو یہ میرا رُوپ بُرا لگتا ہے۔

مجھکو ہر چہرے میں آتاہے نظر اِک وُہ ہی
جُو نہ بھر پائے یہ بہروُپ !!!  ۔بُرا لگتا ہے۔


1 comment:

  1. MASHA ALLAH BHAI ab to jaldi jaldi likh rahey hain lagta hai lambey break k kasar nikal rahey hain. JZAK ALLA

    ReplyDelete