bing

Your SEO optimized title page contents

Pages

Hamara Tube Channel

Sunday, 3 March 2013

اِمتحان کے رنگ شیخ صنعان کے سنگ قسط ۱





اِمتحان کے رنگ شیخ صنعان کے سنگ

اِمام کعبہ نے جب سے یہ خَبر سُنی تھی۔کہ ،،مُلک شام کی جانب جانے والے قافلے میں کُوچ کی تیاری مکمل ہُونے کو ہے۔ تب سے اِمام کعبہ کی بس یہی خُواہش تھی۔ کہ ،، کوئی ایسا سبب ہُوجائے جسکی وجہ سے شام کی جانب کُوچ کرنے والا یہ قافلہ مزید کچھ دِنوں کیلئے حَدودِ حرم میں ٹہر جائے۔  نماز عِشاٗ کی اِمامت سے فارغ ہُونے کے بعد سے تقریباً ایک گھنٹہ بیت چُکا تھا۔ لیکن اِمام کعبہ  غِلاف کعبہ تھامے یہی دُعا کررہے تھے۔کہ ،،  اے میرےاِلہی رَحم فرمانا  تیرے ایک صالح بندے کو سفر درپیش ہے۔ لیکن نجانے میرے دِل میں کیوں ہُول سے اُٹھ رہے ہیں۔۔۔ جیسے کوئی حادثہ مسافروں کی آمد کیلئے بےچینی سے منتظر ہُو۔۔۔تیرے یہ تمام بندے تیرے ایک آستاں سے دوسرے آستانے کی جانب کوچ کررہے ہیں۔ انکی مدد فرمانا۔۔۔۔ انکی حفاظت فرمانا۔

اِمام کعبہ  بھیگی آنکھوں  کیساتھ دُعاوٗں میں مشغول تھے۔ کہ کسی کے کپڑوں کی سرسراہٹ نے اِمام کعبہ کی توجہ کو اپنی جانب مبذول کرلیا۔ اِمامِ کعبہ نے اپنی چادر سے آنکھوں کے گُوشوں کو صاف کرنے کے بعد آنے والے کو دیکھ کر مغموم لہجے میں دریافت کیا۔۔۔ کہو عبدالباسط کیا خبر ہے۔؟؟؟ آنے والے نوجوان نے نہایت سعادتمندی سے اِمام کے ہاتھوں کو بوسہ دیتے ہُوئے عرض کیا۔ اُستادِ محترم   امیر قافلہ  نے روانگی کا حکم دے دیا ہے۔ شائد آدھے گھنٹے میں قافلہ اپنا سفر شروع کردے گا۔

اِمام صاحب تیزی سے عبدالباسط کیساتھ قافلے والوں کی جانب بڑھے چلےجارہے تھے۔۔۔ قافلہ والوں کی تیاری عروج پر تھی۔ مُسافر اُونٹوں اُورگھوڑوں پر سوار ہُوچکے تھے۔ تمام خیموں کو سمیٹ لیا گیا تھا۔ صرف ایک خیمہ ایستادہ تھا۔ جسکے قریب چند خُدام منتظر تھے کہ،، جیسے ہی شیخ حکم فرمائیں گے۔اِس مقدس خیمے کو بھی لپیٹ لیا جائے۔۔۔ اِنہی خُدام میں ایک نوجوان کو مخاطب کرتے ہُوئے اِمام صاحب نے فرمایا۔ فرید! کیا شیخ صنعان  اندر تشریف رکھتے ہیں۔۔۔۔ فرید  نے بڑے ادب سے جواب دِیا۔۔۔یا اِمام ،، شیخ روانگی سے قبل قافلے والوں کی سلامتی کیلئے نفل نماز  ادا کررہے ہیں۔۔۔۔ اِمام صاحب خیمے میں دَاخل ہُوئے تو شیخ صاحب نماز کے بعد بڑے خشوع اُور خضوع سے  دھیمے دھیمے لہجے میں قافلہ والوں کی سلامتی کیلئے پرسوز انداز میں دُعا فرمارہے تھے۔

شیخ صاحب  کی دُعا سے فراغت کے بعد اِمام کعبہ پر نظر پڑی۔ تو نہایت احترام و گرمجوشی سے اِمام صاحب کی جانب بڑھے اُور چہرے پر بوسہ دینے کے بعد معانقہ فرمانے لگے۔۔۔ کتنے ہی لمحے خاموشی سے وُہ ایک دوسرے کے سینوں سے چمٹے رہے۔۔۔۔ بلاآخر اِمام کعبہ نے ہی   شیخ صنعان سے الگ ہُو کر اِس سکوت کو توڑتے ہُوئے کہا۔۔۔  یا  شیخ  آخر کار آپ اتنے برسوں کی رِفاقت  چھوڑ کر جارہے ہُیں۔۔۔  آپ پر میری التجاوٗں کاکچھ اثر نہیں ہُوا۔۔۔؟ْ

یا اِمامِ حَرم ۔۔ اگر میرے اِختیار میں ہُوتا تو میں باقی تمام زندگی  بھی حرمِ پاک میں ہی بسر کردیتا۔۔۔لیکن جیسا کہ میں پہلے بھی کئی بار بتا چُکا ہُوں۔کہ،، کوئی انجانی طاقت جیسے  مجھے ہرلمحہ  اپنی جانب کھینچتی رِہتی ہے۔۔۔ اُور میں کوئی تمام زندگی کے لئے تو بیت المقدس نہیں جارہا۔بس  دِل میں یہی خُواہش ہے کہ،، جس طرح کچھ برس کعبہ کی خدمت اللہ کریم نے مجھ سے لی ہے۔ بس اِسی ذوق و شوق سے چند برس بیت المقدس میں بھی عبادت کا شرف حاصل ہُوجائے۔۔۔ اُور اب تو کئی راتوں سے بیت المقدس  کی گلیاں  میرے خُوابوںمیں آکر مجھے بے چین کئے رکھتی ہیں۔۔۔۔ آپ میری وجہ سے مغموم نہ ہُوں۔ زندگی نے یاوری کی تو انشاٗ اللہ چند برس بعد میں واپس لُوٹ کر آوٗنگا۔۔۔۔ اُور پھر ہمیشہ کیلئے  حرم پاک میں معتکف ہُوجاوٗں گا۔ ویسے بھی زندگی کے نوے برس گُزر ہی چکے ہیں۔ اب زندگی کا کیا بھروسہ نجانے کب تک وفا کرے۔۔۔تھوڑی دیر بعد اِمام  صاحب ایک مرتبہ پھر شیخ صنعان سے گلے مِلنے کے بعد قافلہ والوں کو وِداع کررہے تھے۔جب تک قافلہ  نظروں سے اُوجھل نہ ہُوگیا۔ اِمام کعبہ قافلہ والوں کی سلامتی کیلئے زیر لب کھڑے کھڑے دُعا فرماتے رہے۔

کئی ہزار نفوس پر مشتمل یہ قافلہ مکہ سے بیت المقدس کی جانب رَواں دَواں تھا۔۔۔ یہ ہزاروں لُوگ جو کہ شیخ صنعان کے مُریدین تھے۔ ایک شانِ بے نیازی سے اپنے مُرشد کی ہمراہی میں    راستے کی تمام تکلیفوں اُور مشکلات کو رُوندتے ہُوئے چلے جارہے تھے۔۔۔کئی دِن کی  تھکادینے والی مُسافت کے بعد یہ لُوگ اپنی منزل سے نزدیک سے نزدیک تر ہُوتے چلے جارہے تھے۔۔۔ رُومی سلطنت  گرچہ مسلمانوں کو خراج پیش کررہی تھی۔ لیکن ابھی  تک کئی علاقے خالص مسیحی بستیوں پرمشتمل تھے۔  کلیسا  و گرجے محفوظ تھے۔ لیکن اب جا بجا  مساجدیں اِسلام کی شوکت و عظمت کے گیت  بھی سُنارہی تھیں۔

تبوک  کے مضافات میں پُہنچ کر شیخ نے تمام قافلے وَالوں کو ہدایات  جاری کئیں۔ کہ ،، تبوک میں قافلہ ۲ دِن قیام کرے گا۔ اِسکے بعد پھر سے قافلہ  اِرضِ مقدس کیلئے رَواں دَواں ہُوجائے گا۔ اِن ۲ دِنوں میں جانوروں کو آرام  کرنے دیا جائے۔  شہر سے باہر ہی خیمے نصب کردیئے جائیں۔ اُور تبوک سے ضرورت کی اَشیئا خرید کرلی جائیں۔ تاکہ بقیہ سفر میں کوئی پریشانی درپیش نہ ہُو۔

اُسی رات بغداد کی جانب سے مکہ جانے والا ایک قافلہ نے بھی  مضافاتِ تبوک میں ایک نئی خیمہ بستی آباد کرلی۔۔۔ رات کے وقت  شیخ کے مُرید خاص فرید نے شیخ کو اطلاع پُہنچائی۔کہ بغداد کی جانب سے آنے والے قافلے سے ایک بُزرگ شیخ سے مُلاقات کے متمنی ہیں۔ شیخ صنعان سے اجازت ملنے کے بعد معاز اُن بُزرگ کو لیکر شیخ صاحب کے وسیع خیمہ میں حاضر ہُوگیا۔ ۔۔ شیخ صاحب    چند خاص مریدین کو تصوف میں ادب کی اہمیت پر درس دے رہے تھے۔ آنے والے بُزرگ کے چہرے پر سیاہ اُور سفید داڑھی نہایت خوبصورت لگ رہی تھی۔ اُور پیشانی کے نور سے صاف پتہ چلتا تھا۔کہ آنے والے مہمان کے رات و دِن راز الہی   سمیٹنے میں بسر ہُوتے ہیں۔ لیکن مہمان کے چہرے سے ہزار گُنا ذیادہ تابانی شیخ صاحب کے پُرنور چہرے سے مترشح تھی۔ جس سے نظریں ہٹانا کوئی آسان کام نہیں تھا۔ اِس لئے مہمان کی آمد  پر چند مُریدین نے صرف ایک اُچٹتی سی نِگاہ ڈالی۔ اُور دُوسرے ہی لمحے وُہ پھر سے شیخ صاحب کی مسحور کُن آواز  کے سحر میں کھوگئے۔

درس کے اِختتام کے بعد آنے والے مہمان نے آگے بڑھ کر شیخ صاحب کے ہاتھوں کو بوسہ دیکر اپنی عقیدت مندی کا اِظہار کیا۔۔۔ اُور شیخ صاحب کو مخاطب کرتے ہُوئے عرض گُزار ہُوا۔۔۔ حضور والا۔ ہمارا ایک مختصر سا قافلہ  زیارات ِ شام اُورحج کی سعادت حاصل کرنے کیلئے بغداد سے آرہا ہے۔ ہماری خُوش نصیبی تھی۔ کہ سرِ ارہ آپ سے مُلاقات کا بھی شرف حاصل ہُوگیا۔

میرے بھائی اِس میں سعادت کی کیا بات ہے۔ آپ لُوگ خوش نصیب ہیں۔ جو زیاراتِ مقدسہ اُور حج کی سعادت حاصل کرنے کیلئے اپنے گھر سے نِکلے ہیں۔۔۔ جبکہ میں کئی برس حَرمِ پاک کی خدمت کے بعد واپس لُوٹ رہا ہُوں۔ اُور اب بیت المقدس کی حاضری کے اِرادے سے مکہ کی مقدس سرزمین کو بُہت پیچھے چھوڑ آیا ہُوں۔ اللہ کریم آپکی زیارات کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے۔اُور آپ لوگوں کو حج میں آسانی عطا فرمائے۔۔۔ اگر مکہ میں کسی بھی قسم کی پریشانی کا سامنا ہُو۔ تو آپ بلا جھجک اِمام کعبہ سے میرے حوالے سے مُلاقات کرلیجئے گا۔۔۔ انشاٗ اللہ ۔وُہ آپکی ہر ممکن مدد کریں گے۔۔۔ اچھا اَب آپ یہ تُو بتاوٗ کہ،، بغداد کے کیا احوال ہیں۔۔۔۔؟؟؟شیخ صاحب نے خندہ 
پیشانی سے استفسار کرتے ہُوئے کہا۔


بقیہ ۵:۳:۱۴ کو ملاحظہ فرمائیں انشاٗ اللہ

Saturday, 2 March 2013

کاش میں اِک گجر ہُوتا۔


  کاش میں بھی اِک گجر ہُوتا۔

چند دِن قبل ایک ویب سائٹ پر ایک کالم دیکھا۔ جسے پڑھنے کے بعد مجھے سخت حیرت کیساتھ دِلی رنج بھی ہُوا ۔ کہ لُوگ کیوں سستی شہرت حاصل کرنے  کیلئے ایسے کام کرجاتے ہیں۔۔۔ کہ،، جسکے سبب احسان فراموشی کے طوق کیساتھ لوگوں کی دِل آزاری کا سامان بھی  پیدا ہُوتا ہے۔ اُس کالم کا نام تھا۔ ،، گجروں کی رنگین مزاجیاں،، لیکن کالم میں اخلاقیات کی ایسی دھجیاں اُڑائی گئ۔ کہ،،  الامان الحفیظ،، کسی سطر میں گجروں کو جھگڑالو کہا گیا۔ تو کسی سطر میں واہیات رقصوں کا شیدائی۔ کہیں ان پڑھ کہا گیا تو کبھی بے وقوف اُور ضدی۔۔۔ لیکن موصوف کے دِل کو پھر بھی قرار نہ آیا تو آخر میں سانپ سے ذیادہ نقصان دہ گردان لیا۔ پتہ نہیں اتنا کچھ کہنے کے بعد بھی اُنکی تشفی ہُوپائی یا نہیں۔۔۔ لیکن میرا نہیں خیال کہ،، یہ کالم لکھنے کے بعد اُنکے ضمیر نے اُنہیں چین سے رہنے دِیا ہُوگا۔۔۔

کہیں آپ یہ تو نہیں سُوچ رہے کہ،، میں بھی ایک گجر ہُوں۔ اُور اب اُس کالم کا بدلہ لینے کیلئے جوابی کالم تحریر کررہا ہُوں۔۔۔ تو ایسا بالکل نہیں ہے۔  حالانکہ میرا تعلق اُردو بولنے والے گھرانے سے ہے۔ جنہیں اُردو کے علاوہ کوئی علاقائی  زُبان ڈھنگ سے بولنی نہیں آتی۔ اُور ہمیں آج بھی کئی لُوگ پاکستانی کہنے کے بجائے ہجرت کی بنا پر ہندوستانی  ہی پُکارتے ہیں۔لیکن لوگ چاہے ہمیں کسی بھی نام سے پُکاریں ہمیں فخر ہے کہ اِس مُلک کی بنیادوں میں ہمارے لاکھوں آبا وٗ اجداد کا خون شامل ہے۔ اُور ہمیں پاکستانی ہُونے پر فخر ہے۔ لیکن میرے دِل کی خواہش ہے کہ ،، کاش میں بھی اِیک گجر ہُوتا۔ اِس لئے اپنے کالم کا عنوان بھی یہی رکھنا پسند کیا ہے۔

ایک سال قبل تک مجھے بھی گجروں کے متعلق ذیادہ معلومات نہیں تھی۔ اسلئے سرراہ چلتے ہُوئے جب کسی پوسٹر پر،، وحشی گجر،، یا ضدی گجر ٹائپ نام  لکھا دیکھ لیا کرتا۔ تو مجھے بھی ایسی ہی بدگُمانی ہُوتی۔۔۔ کہ شائد گجر بُہت مار دھاڑ کرنے والی قُوم ہُوگی۔۔۔۔لیکن۔۔۔  ہوسکتا ہے واقعی گجروں میں تعلیمی شرح اسقدر ذیادہ نہ ہو۔ لیکن پچھلے سال میرے ایک دُوست لاہور سے تشریف لائے ۔(حالانکہ میرے وُہ دوست گجر نہیں ہیں)۔تب مجھے پہلی مرتبہ اُنکی زُبانی گجروں کی ایک ایسی خُوبی کا علم ہُوا۔ جس پر لاکھوں تعلیم یافتہ قربان کئے جاسکتے ہیں۔۔۔ اُور اِس خوبی پر میں گجروں کی جوتی اپنے سر پر رکھنے میں اپنی خوش بختی سمجھوں گا۔۔۔۔ جی ہاں مجھ سے ذیادہ بھلا اُور کون اُنکی اِس خوبی کی قیمت جان سکتا ہے۔

کیوں کہ گجروں کو جو خوبی ورثے میں مِلی ہے۔ میں نے اُس خوبی کی ایک ادنی جھلک کیلئے اپنی زندگی داوٗ پر لگادی ۔ تب جاکر اُس خُوبی کا ایک معمولی حصہ اپنی جھولی میں سمیٹ پایا ہُوں۔۔۔۔ جن دِنوں میرے یہ دُوست لاہور سے میرپورخاص تشریف لائے اُن دِنوں داتا کی نگری میں داتا صاحب رحمتہ اللہ علیہ کا عرس مبارک منایا جارہا تھا۔ میں اپنے شوق کی وجہ سے کرید کرید کر اپنے اُس دوست سے داتا صاحب رحمتہ اللہ علیہ کے عرس کی تقریب کے متعلق استفسار میں مگن تھا۔ تب ہی میرے دُوست نے مجھے بتایا کہ ،، گجر جنکا آبائی پیشہ دودھ فروخت کرنا ہے۔ وُہ داتا صاحب رحمتہ اللہ علیہ کے عرس کے موقع پر دُودھ فروخت نہیں کرتے۔۔۔۔ بلکہ اپنا تمام دُودھ زائرین میں مفت تقسیم کردیتے ہیں۔ ۔۔میرے لئے یہ بات انہونی تھی۔۔۔۔ بھلا کوئی کسی سے اتنی محبت بھی کرسکتا ہے۔ کہ جس سے محبت کرتا ہُو۔۔۔ اُسکی خوشی پانے کیلئے اپنے بچوں کی روزی رُوٹی ہی پیش کردے۔۔۔۔ میرے تجسس کو بھانپ کر میرے دُوست نے مجھے مزید بتایا کہ گجر قُوم ہی ایسی ہے۔۔۔ جو اُولیائے کرام کی محبت کو زندگی کا حاصل جانتی ہے۔۔۔یہ  اپنے بچوں کو تو بھوکا دیکھ سکتے ہیں۔ لیکن اللہ کریم کے محبوب بندوں سے مُنہ نہیں مُوڑ سکتے۔۔۔

یہ پہلا واقعہ تھا۔ جسے سُننے کے بعد میری ایک ایک نس میں گجروں کی محبت رچ بس گئی۔ اُور میں دِل سے اُنکا شیدائی ہُوگیا۔ ۔ اگرچہ اچھے بُرے لُوگ کہاں اُور کِس قُوم میں نہیں ہُوتے۔۔؟  لیکن مجموعی طُور پر مجھے گُجر برادری سے بُہت محبت ہے۔

رمضان البارک کی غالباً دوسری رات تھی۔ جب ایک چمکتے چہرے والے  خُوبرو نوجوان سے میری  پہلی مُلاقات ہُوئی۔ نام تھا محمد ارسلان گجر انتہائی تعلیم یافتہ ہُونے کیساتھ مجھے اُنکی جس عادت نے انکا گرویدہ بنادیا۔ وُہ تھا اُن کے  خُون میں شامل ادب اُور عشق کی روانی۔۔۔ اُور مجھے اُس نوجوان کی ایک اُور عادت بھی نہایت پسند آئی کہ چاہے سامنے کتنے ہی بڑے اسٹیٹس کا حامل افسر کھڑا ہُو۔ یہ حق بات کہنے میں ذرا نہیں جھجکتا۔ چاہے اس کے بعد اُسے اپنی بات کی جو بھی قیمت ادا کرنی پڑے۔ پھر انہی کے توسط سے مجھے معلوم ہُوا۔ کہ مجھے حق کی تلاش میں جس انسان نے سب سے ذیادہ مدد فراہم کی۔ میرے وُہ محسن شریف بھائی اِن کے ہُونے والے سُسر ہیں۔ یعنی جس شخص نے مجھے نابیناوٗں کی بستی سے آنکھ والوں کی جانب ہجرت میں مدد فراہم کی وُہ بھی ایک گجر تھے۔


پھر گجر قُوم کو کم عقل جھگڑالو اُور کم تعلیم یافتہ کہنے والوں کو اپنی بات کی دلیل میں مفتی منیب الرحمن دامت برکاتہم عالیہ کے پائے کا کوئی عِلمی انسان بھی سامنے لانا چاہیئے۔ کہ اُن جیسا اعلی تعلیم یافتہ معاملہ فہم  اُور نفیس گفتگو کرنے والا عالم میں نے زمانے میں کہیں نہیں دیکھا۔ اُور مفتی پاکستان منیب الرحمٰن بھی گجر ہیں۔ پھر پاکستان کا نام زُبان پر لینے سے قبل یہ سُوچ لینا چاہیئے کہ،، لفظِ پاکستان کے خالق چوہدری رحمت علی بھی گجر تھے۔ اُور صاحبِ سیف الملوک میاں محمد بخش  (کھڑی شریف والے) رحمتہ اللہ علیہ بھی گجر تھے۔

کشمیر کی آزادی کیلئے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والوں میں اکثریت گجروں کی ہے۔ اُور رُوس سے لیکر امریکہ تک کو خاک چٹانے والے افغانیوں میں اکثر  گجر ہیں۔ اُور ملک  پاکستان کی سرحدوں کی حفاظت کرنے والے ہاتھ بھی اکثر گجروں کے ہیں۔۔۔ یعنی اِن گجروں کے ہم پر اتنے احسانات ہیں کہ قرض چکانے کو ایک عمر درکار ہے۔

گجر چاہے دنیاوی تعلیم کے میدان میں پیچھے ہُوں۔۔۔ لیکن عشق و ادب میں دُور دُور تک کوئی اِنکا ثانی نظر نہیں آتا۔ اُور یہ وُہ دُولت ہے کہ،،جسکے سامنے تخت سکندری کی بھی کوئی  وقعت نہیں ہے۔۔۔۔ اسی لئے تو میں کہتا ہُوں ۔کہ،، کاش میں بھی اِک گجر ہُوتا۔



Friday, 1 March 2013

آپ فیس بُک پر کیوں آتے ہیں۔۔۔؟


آپ فیس بُک پر کیوں آتے ہیں۔۔۔؟

پاکستان سے لاکھوں نوجوانوں سمیت ہر ایک عُمر کے لوگ روزانہ فیس بُک پر لاگ اِن ہُوتے ہیں۔ اُور مزے کی بات یہ ہے کہ اِن سب کے آنے کی وجوہات مختلف ہُوتی ہیں۔ آج میں اسی موضوع پر اپنے قلم کو تحریک دے رَہا ہُوں۔ اگر میری اِس تحریر سے کسی ایک انسان کو بھی فائدہ پُہنچ گیا تو لکھنے کی محنت رائیگاں نہیں جائے گی۔ اب میں اُن اسباب کو قلمبند کروں گا۔ جو ممکنہ طور پر لوگوں کی فیس بُک پر آمد کا سبب بنتے ہیں

۱۔ نوجوان لڑکے لڑکیاں اپنے فرینڈز سرکل سے چیٹ کیلئے
۲۔بیرون مُلک گھر کے افراد سے بات کرنے کیلئے
۳۔ وقت گُزاری کیلئے۔
۴۔تصاویر دیکھنے اُور دِکھانے کیلئے۔
۵۔ اپنا جیون ساتھی چُننے کیلئے۔
۶۔ منگیتر یا محبوب کو دیکھنے  یا مُلاقات  و گفتگو کیلئے۔
۷۔شعر و شاعری لطائف  اُور معلومات حاصل کرنے کیلئے۔
۸۔ جنسی تسکین کیلئے۔
۹۔ اپنی رائے دوسروں تک پُہنچانے کیلئے۔
۱۰۔ لکھنے لکھانے کیلئے۔
۱۱۔دینی کام  اُور آگہی پھیلانے کیلئے۔
۱۲۔ دُوسروں کی خدمت کیلئے یعنی انسانی فلاحی کام  کیلئے ۔

اِن ۱۲ ۔اِقسام کے علاوہ بھی بے شُمار وجوہات ممکن ہیں۔ جنکی وجہ سے آپ فیس  پر لاگ اِن ہُوتے ہُوں۔ لیکن میں صرف اتنا پیغام دینا چاہتا ہُوں۔ کہ اگر آپ فیس بُک پر لاگ اِن ہُونے سے قبل آخر الذکر ۲ وجوہات کی نیت کرتے ہُوئے لاگ اِن ہُونگے تو آپ کا فیس بُک پر آنا  بھی بیکار نہیں جائے گا۔ بلکہ ثواب کا باعث بن جائے گا۔ اُور ممکن ہے کہ کل محشر میں آپکی یہی نیت آپکے کام آجائے۔۔۔ کیوں کہ 
موٗمن کی نیت اُسکے عمل سے بہتر ہُوتی ہے۔

اِس تحریر پر اپنی رائے ضرور دیں ۔ تاکہ علم و آگہی کا یہ سفر جاری رہے۔۔۔ شُکریہ

ڈھونڈوں کہاں تجھے۔۔۔؟


ڈھونڈوں کہاں تجھے۔۔۔؟

اے دِل یہ تجھے کیسی ضد ہے۔؟ کیوں الجھے ہے چندا سے تُو
اَب اِسکی چاندنی راتوں میں۔ بیکار جگانا چھوڑ بھی دے


بُوجھل ہی سہی خُودار تو ہے۔آنکھوں میں بسا ہر اَشک تیرا
ساحل پہ کھڑوں کو دیکھ نہ اَب۔آنکھوں کو تھکانا چھوڑ بھی دے


یہ مُوتی مُوتی پلکوں سے۔ خیرات جو اکثر کرتے ہُو
اِن اشکوں کو برباد  نہ کر۔ اَب اِنکو بہانا چھوڑ بھی دے


اِس رَستے میں قذاق جو ہیں۔ مُوجود خِضر بھی رستے میں
صِحرا،و، چمن سب دِل میں ہیں۔اِن کو بہکانا چھوڑ بھی دے


قطرہ قطرہ پتھر میں اگر رَستے کا نِشاں  دِکھلاتا ہے
تب وارثی عشرت رَستوں میں پتھر کو سجانا چھوڑ بھی دے

                                                    آمدِ خیال  ۲۰۱۳۔۰۳۔۰۸

کل شام کچھ چڑیوں کو دیکھا




کل شام گھر کی جانب جاتے ہُوئے میری نِگاہ اِک شَجر پر پڑی شجر پہ چِند چڑیوں کو چہچاتے دیکھ کر اِک خوشگوار حیرت سے میرے قدم خودبَخود وَہاں رُک گئے چِڑیوں نے جُو مُجھے اپنے قریب آتے دِیکھا ۔۔۔تُو پرواز کیلئے پَر تُولنے لگیں ۔میں نے اُنہیں پُکار کر رُکنے کی التجا کی۔ اور اُنہیں بتایا کہ میں صیاد نہیں بلکہ خُود اُنکے حُسنِ دام میں مقید ایک پنچھی ہُوں۔ جو اُنکی دید کیلئے ایک مُدت سے تڑپ رَہا ہے۔

اُنہوں نے آپس میں کُچھ صُلح مشورہ کیا ۔۔۔اُور اُسکے بعد اُن میں سے ایک پُختہ عُمر سمجھدار چِڑیا آگے آئی۔ اور یُوں گُویا ہُوئی اگرچہ اب ہمیں اِنسانوں کا ذرہ بھر بھی بھروسہ نہیں۔۔۔ لیکن تُمہارے لہجے کی یاسیت اور تُمہاری التجا کو دیکھتے ہُوئے ہَم چند لمحوں کیلئے یہاں رُکنے کو تیار ہیں۔۔۔ مگر ہماری دُو شرطیں ہیں اگر منظور ہُوں تُو ٹھیک ورنہ تُم اپنی راہ لُو اور ہمیں ہماری راہ جانے دو۔

میں نے گِڑگِڑاتے ہُوئے کہا مُجھے تُمہاری تمام شرائظ منظور ہیں۔۔۔ مگر خُدا کیلئے یہاں سے مت جاؤ۔۔۔ مجھے میری آنکھوں کی پیاس بُجھا لینے دُو میرے چند سوالات ہیں جو ایک مُدت سے میرے دِل میں ہیں۔۔۔ اور بَجز تُمہارے جواب کے کوئی مُجھے مُطمئین نہیں کر پائے گا۔

وہ کِہنے لگی تُو ہماری پہلی شَرط یہ ہے کہ تُم ہمارے قریب بالکل نہیں آؤ گے ۔۔۔جبکہ ہَماری دوسری شَرط یہ ہے۔ کہ،، تُم ہماری جانب نہیں دِیکھو گِے بلکہ جُو بھی سَوال کرو گے اپنی نِگاہُوں کو جُھکا کر کرو گے۔

میں نے اپنی گردن کو اَثبات میں ہِلاتے ہُوئے کہا مُجھے تُمہاری دُونوں شَرائط منظور ہیں کیا اَب میں اپنے سوالات پیش کرسکتا ہُوں۔۔۔؟

اور اُنہوں نے جُونہی مُجھے سُوالات کرنے کی اِجازت دِی میں ایک فاصِلہ بناتے ہُوئے اُن سے دور چَلا گیا اور دوسری شَرط کے اِحترام میں اَپنی نِگاہُوں کو جُھکا کر بیٹھ گیا اور اپنے سوالات یُوں پیش کرنے لگا ۔

میرا پِہلا سوال یہ ہے کہ ایک عرصہ ہُوا میں نے اپنے گھر کے آنگن میں تُمہیں اُترتے نہیں دیکھا اِس کی کیا وجہ ہے۔۔۔؟

میرا دوسرا سوال یہ ہے کہ پہلے میری آنکھ تُمہاری چِہچہاہٹ کے سبب کُھلتی تھی مگر اب صبح کسی شجر پر تُمہاری چہچہاہٹ سُنائی نہیں دیتی۔۔۔ ؟

اور میرا تیسرا اور آخری سُوال یہ ہے کہ اَب جبکہ تُم نے شِہر میں آنا چُھوڑ دِیا ہے تُو تُمہارا گُزر بَسر کیسے ہُوتا ہے۔۔۔ ؟

وہی چُڑیا کہ جِس نے مُجھے سوالات کی اِجازت دِی تھی ۔۔۔مُسکراتے ہُوئے کِہنے لگی کیا واقعی بَس اِتنی سی بات ہے ۔یا پِھر اِن باتوں کے بہانے ہَمارے شِکار کا منصوبہ بنارہے ہُو۔۔۔؟

مُجھے اُنکی بے اِعتمادی سے اَب کوفت مِحسوس ہونے لگی تھی۔۔۔ لیکن میرے لئے چُونکہ اِن سوالات کے جوابات نہایت اِہم تھے۔۔ لِہذا  بدستور نِگاہیں جُھکائے اُنہیں یہ یقین دِلانے میں مصروف رَہا۔۔۔ کہ۔۔ میں صِرف اُنکے جوابات کا طلبگار ہُوں ۔اُور مُجھے چِڑیُوں کے شِکار سے نفرت ہے کہ چِڑیا سے قُدرتی فِطرت کا حُسن ہے۔۔ نہ کے غِذا و رِزق کا ذریعہ۔۔۔ میرے جَواب سے شائد اُس چِڑیا کی کُچھ تشفی ہوگئی تھی۔ تبھی اُس چڑیا کی پُر اعتماد آواز میری سَماعت سے ٹکرائی۔

سُنو ہَم نہیں جانتے کہ تُم یہاں کِس اِرادے سے آئے ہُو لیکن ہَمارے پاس ایسا کوئی پیمانہ بھی تُو نہیں ۔کہ،، جِس کے ذریعہ تُمہارے دِل کی بات کو جان سَکیں ۔ویسے بھی قُدرت کے لِکھے کو بھلا کُون ٹال سکتا ہے۔۔۔ اگر آج ہَمارے مُقدر میں اسیری لکھی جاچُکی ہے تُو بھلا ہَم آزاد کیسے رِہ سکتے ہیں۔

میں سب سے پِہلے تُمہارے دوسرے سُوال کا جواب دینا چاہونگی۔۔ تُم نے کہا کہ،، اب تُمہاری آنکھ ہَماری چہچہاہٹ سے نہیں کُھلتی تُو میں سمجھتی ہُوں کہ اس میں سراسر تُمہارا ہی قُصور ہے ۔۔۔ہم تُو آج بھی طُلوعِ فجر کیساتھ ہی اپنے مالک و رَبّ کی حمدَ وُ ثَنّا کے ترانے گانے کیلئے اور اُسکا شُکر بَجالانے کیلئے شَجروں سے اَپنا رِشتہ جُوڑے ہُوئے ہیں ۔۔لیکن ایک تُم اِنسان ہی ہُو۔ کہ،، اُس وقت شُکر و عِبادت کے بجائے خُوابِ غفلت میں پڑے رِہتے ہو۔ ہَم اپنا کام کر کے چَلے جاتے ہیں۔۔۔ لیکن تُمہیں نہ ہی حَی عَلی الفلاحَ کی آواز بیدار کرپاتی ہے۔ نہ ہی ہمارے چِہچہانے کی آواز تُم سُن پاتے ہُو لِہٰذا اِس میں قُصور ہَمارا نہیں صرف تُمہارا ہے۔۔

اور تُمہارے تیسرے سُوال کا جواب یہ ہے کہ شائد تُم تھوڑا سا اناج اور پانی رَکھ کر یہ سمجھنے لگے تھے کہ ہمارے دانہ وُ پانی کا وسیلہ صرف حضرتِ انسان ہیں اگر ایسا ہُوتا ۔۔۔تو کیا تمام جنگل میں رہنے والے پرندے نابُود نہ ہُوجاتے۔۔۔ جب کہ،، کسان زمین سے حاصل ہُونے والے ایک ایک دانے کو سمیٹ کر گودام میں منتقل کردیتا ہے۔۔۔ ہمیں بھی رِزق وہی مُہیا کرتا ہے جو تُم سمیت تمام عالموں کو عطا فرماتا ہے۔ تُم سمجھتے ہُو کہ تُمہیں رزق صرف تُمہاری کوششوں کے سبب مِلتا ہے ۔۔تُو مجھے یہ تُو بتاؤ کہ،، پتھر میں موجود کیڑے کو رِزق کیسے مِلتا ہے۔ اور جُو مجبور اور مَعذوُر ہُوں وہ اپنا حِصہ کیسے وُصول کر پاتے ہیں۔۔۔؟  اِس لئے تُمہارا تیسرا سُوال تُمہاری حِماقت کا شاخسانہ ہے۔ ورنہ کوئی ایسا نہیں جو اپنے رازق کو پہچانتا نہ ہُو۔

اور اب میں تُمہارے پہلے سُوال کا جواب دینا چاہُونگی اگرچہ مُجھے مَعلوم ہے کہ تُم اپنے ہم جِنسوں کی مُحبت اور تعصب کی وجہ سے میری بات کو ہَنسی میں اُڑا دُو گے ۔۔۔لیکن تُم نے مُجھ سے ایک سُوال کیا ہے۔  مُجھ پر ایک الزام لگایا ہے۔ کہ میں اپنی کُوتاہی سے نِظامِ فِطرت کو بَدل رہی ہُوں ۔ حالانکہ اسکے ذمہ دار بھی تُم خود ہی ہُو۔

اچھا مُجھے ایک بات بتاؤ ۔۔۔کیا تُم جب اپنی مسجدوں میں نماز اَدا کرتے ہُو تو کیا تُمہارا دِل تُمہاری زُبان سے نکلنے والے کلموں کی تصدیق کرتا ہے یا تُمہیں یہ اندیشہ گھیرے رِہتا ہے کہ کوئی خُودکش حملہ آور تُمہاری صَفوں میں داخِل نہ ہُوگیا ہُو ۔۔۔۔؟ یا بازاروں میں خریداری کرتی ہوئی خواتین اور بَچّوں کو کوئی یہ ضمانت دے سکتا ہے ۔کہ،، وُہ زندہ سلامت اپنے گھر پُہنچ پائیں گے۔ کیا مذہبی جلسہ گاہوں میں ثواب کی نیت سے بیٹھے حاضرین کو کوئی یہ گارنٹی دَے سکتا ہے ۔کہ،، وہ خُون میں نہیں نہلائے جائیں گے۔ ۔۔؟ کیا اسکول میں جانے والے بَچّوں کی ماؤں کو کوئی یہ یقین دِلا سکتا ہے کہ اُنکے بَچے چیتھڑوں کی شِکل اِختیار نہیں کریں گے ۔۔۔؟ اُور چلو یہی بتادو کہ جو اللہ کریم کے دوست ہیں جنکا قرب دِلوں کو سکون بخشتا ہے۔۔۔ کیا اُنکے دربار کی حاضری ہی مِحفوظ ہے۔۔۔؟

میں نے پہلی مَرتبہ اپنی نگاہُوں کُو اُٹھایا تُو مجھے اُس چڑیا کے چہرے پر طنزیہ ہنسی اور نفرت کے سِوا کُچھ دِکھائی نہیں دِیا۔۔۔ میں نے جونہی اپنی جُھکی نِگاہوں کو بُلند کیا وہ سب میری بے بسی کا تمسخر اُڑاتے ہُوئے پرواز کیلئے پر تُولنے لگیں۔۔۔ میں صرف اِتنا ہی معلوم کرسکا۔ لیکن اِن سب باتوں سے میرے آنگن میں تُمہارے نہ آنے کا کیا تعلق ہے۔۔۔؟

وہ کہنے لگی جس انسان کے ہاتھوں سے انسان تک محفوظ نہ ہُوں ۔۔۔وہ پرندوں کا اِحترام کیا خاک کرے گا جب ایک اِنسان کا قاتل تمام اِنسانیت کا قاتل ہُوتا ہے ۔۔۔یہ معلوم ہوتے ہُوئے بھی ایک انسان دوسرے بیگُناہ اِنسان کا خون جائز سمجھنے لگے۔۔۔ اور اُس سے اپنے ہاتھ رنگنے کو جنت کا ذریعہ سمجھنے لگے تُو ایسے اِنسانوں سے بھلا ہَم کیوں نہ گھبرائیں ۔۔۔؟ اسلئے جب سے اِنسانوں نے اِنسانوں کا خون بہانہ جائز سمجھ لیا ہے۔۔۔۔ ہم نے بھی انسانوں سے کنارہ کرنا سیکھ لیا ہے۔۔۔ اب ہمیں تُمہارے آنگن ہی سے نہیں ہر ایک انسان کے آنگن میں اُترنے سے ڈر لگتا ہے۔۔۔ یہ کہتے ہُوئے چڑیوں کی وہ ڈار پُھر سے اُڑ گئی۔

اور میں سوچنے لگا اچھا ہوا۔ کہ،، اُنہوں نے مُجھ سے جواب طلب نہیں کیا۔۔۔۔ ورنہ میرے پاس تُو اُنکے کِسی ایک سُوال کا بھی جواب نہیں تھا۔
 
ربیع النور ۲۰۱۱ 

خفیہ شادیوں کا انجام



محترم قارئین السلامُ علیکم

پہلے باخبر رہنے کیلئے میں باقاعدگی سے اخبارات کا مُطالعہ کیا کرتا تھا ۔ مگر جب سے مُلک کے حالات خانہ جنگی اور مُعاشی بھوک کی جانب محو سفر ہوئے ہیں اخبارات پڑھنے کی تاب ہی ختم ہو کر رہ گئی ہے۔ جب اخبار اُٹھاؤ یہی خبریں پڑھنے کو ملتی ہیں کسی شخص نے بھوک بیروزگاری سے تنگ ہوکر اپنے بچوں کی گردن پہ چُھری پھیر دی۔ اور خود کو بھی ہلاک کرلیا۔ یا کہیں چند ٹکوں کی خاطر چوروں نے تمام گھر کے مکینوں کو قتل کر ڈالا، تو کہیں کوئی بچی اپنے ماں باپ کے چہرے پہ سیاہی مل کر گھر سے بھاگ گئی۔ وغیرہ وغیرہ۔۔۔ اب جوں جوں عمر اپنے اختتام کی جانب یا یوں کہیئے کہ انجام کی جانب بڑھ رہی ہے مجھ جیسے حساس دل انسان کی ہمت ایسی خبروں کی متحمل نہیں رہی-

چند دن قبل  ایک خبر دیکھی تھی جس میں ایک سلیبرٹی کی خفیہ شادی کا تذکرہ چل رہا تھا خبر سے تو میں نظر چُرا گیا لیکن دِل اور دماغ سے نظر کیسے چُراتا کہ میرے اختیار کی بات نہیں تھی کہ طبعیت میں عجیب سی بے چینی پیدا ہوگئی ۔لوگ شائد ایسے واقعات سُن یا پڑھ کر انجوائے کرتے ہوں مجھے ہمیشہ ایسی تکلیف محسوس ہوتی ہے جیسے یہ واقعہ میری فیملی میں کسی کو پیش آگیا ہو بہرحال میں بات کررہا تھا سلیبرٹی کی مبینہ خفیہ شادی کی، اگرچہ یہ معاملہ عائشہ کی طلاق کیساتھ اب بظاہر ختم ہوگیا ہے۔ اور یہ پہلی مرتبہ نہیں ہوا کہ کسی سلیبرٹی کی خفیہ شادی کا انکشاف ہُوا ہو بلکہ آئے دن سلیبرٹیز کی خفیہ شادیاں منظر عام پر آتی رہتیں ہیں۔

اور اب ان سلیبرٹیز کی دیکھا دیکھی عوام الناس میں بھی یہ مرض پیدا ہوتا جارہا ہے جس کی وجہ سے معاشرے میں بیشمار خرابیاں پیدا ہوتی چلی جارہی ہیں نکاح سنت رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہے( اگرچہ خفیہ شادی سے بھی نکاح قائم ہوجاتا ہے) لیکن آپ یہ بھی غور کیجئے کہ نکاح اور زنّا میں ایک واضح فرق یہ بھی ہے کہ نکاح اعلانیہ کیا جاتا ہے جبکہ زنّا کو چُھپایا جاتا ہے-

اور نکاح کے اعلان کا حکم ہمیں نبی پاک (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) نے دیا ہے اب اگر شادی کو چھپایا جائے تو اِسے آپ ہی کہیے کیا یہ اس بات کا اعتراف نہیں کہ دِل میں بد نیتی ہے چُور ہے یا پھر یہ نکاح سُنت کو پورا کرنے کیلئے نہیں بلکہ اپنی جنسی بھوک کو مٹانے کیلئے کیا گیا ہے۔

پھر اِس نکاح کی ایک قباحت یہ بھی ہے ایسی شادی کے بعد عورت کو اس کی مرضی کیخلاف مانع حمل ادویات استعمال کرائی جاتی ہیں اور اگر بالفرض پھر بھی حمل رہ جائے تو ایسے بچوں کو دُنیا میں نہیں آنے دیا جاتا بلکہ حمل ساقط کروا دیا جاتا ہے جو کہ ایک بُہت بڑا گُناہ ہے

ذرا سوچیئے یہ لوگ ایک سچ کو چُھپانے کیلئے کیا کیا گُناہ نہیں کرتے اللہ کریم نے عورت کی فطرت میں ممتا رکھی ہےوہ زیادہ عرصہ تک مرد کی اس فرمائش کو پورا نہیں کرسکتی کہ بچّہ نہ جنّے ۔۔۔ اُسے جو تخلیق کا حق اللہ کریم نے دیا ہے۔ وہ اُس سے محروم رہے ۔بالآخر یہی بات اکثر ناچاقی کا سبب بھی بن جاتی ہے ۔اور مجبوراً عورت طلاق لینے پر مجبور ہوجاتی ہے یا مرد اپنی جان چُھڑانے کیلئے اُسے ناحق طلاق دے دیتا ہے۔ لیکن میں سمجھتا ہوں اس گُناہ میں مرد کا حصہ زیادہ ہوتا ہے کہ اگر وہ اس شادی کا اظہار کردے تو بُہت سے گُناہوں سے بچا جا سکتا ہے۔

اور پھر ہم یہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ دُنیا مکافات عمل کی جگہ ہے کل اگر کوئی ہمارا اپنا اس مصیبت میں گرفتار ہوگیا تو ہم کسے قصوروار ٹہرائیں گے-

اکثر یہ بھی دیکھنے میں آیا ہے کہ جو نوجوان شادی سے پہلے دودھ کی نہریں نکالنے کا عزم رکھتے ہیں ۔جب حقیقی ذمہ داری نِبھانے کا موقع آتا ہے تو اُنکے دعوے بودے ثابت ہوتے ہیں۔ اور پھر جب ناکامیاں پے در پے مصیبت کے پہاڑ کھڑے کر دیتی ہیں۔ تو یہی نوجوان اپنی ذمہ داریوں سے مُنہ چُرا کر یہ کہتے نظر آتے ہیں۔ کہ،، ہم سے والدین کی نافرمانی سرزد ہوگئی ہے۔ اُور پھر یہ اس کا ازالہ اپنی شریک حیات کو طلاق کا طوق پہنا کر کرتے ہیں ۔اگر یہ نوجوان اپنے دعوے میں واقعی سچے ہوتے تو اِنہیں والدین کی اطاعت اور فرنبرداری کا جذبہ شادی سے پہلے آتا۔۔۔ ناکہ کسی لڑکی کی زندگی کو تباہ اور برباد کرنے کے بعد۔۔۔؟  ہمارے معاشرے میں کنواری بچیوں کے لئے اچھے رشتہ وافر مقدار میں موجود نہیں تو اب طلاق یافتہ خاتون سے کون نکاح کی جرات رندانہ کرے گا۔ اور چلیں مان لیتے ہیں کہ اُس خاتون کی شادی اپنی عمر سے بیس تیس برس سے زائد کسی مرد سے ہو بھی گئی تو اب تا حیات خفیہ شادی کے طعنے اُسکا مقدر ہونگے ۔کم عمر بچیاں تو کانچ کے شیشے کی مانند ہوتی ہیں۔۔۔ اِسی واسطے سمجھدار والدین اپنی بچیوں کی بہتر پرورش کیساتھ ساتھ بہترین نگہداشت بھی کرتے ہیں ۔میری زاتی رائے یہ ہے کہ اس قسم کی صورتحال اگر پیدا ہو جائے تو والدین کو کمپرومائس کرنا چاہیے شادی میں بَچوں کی پسند کو ملحوظ رکھا جانا چاہیے۔ اور اگر رشتہ دینے میں کوئی قباحت موجود نہ ہو۔ تو اُنکی پسند کو اولیت دی جائے اس سے ہمارے معاشرے میں بہتری پیدا ہوگی بچوں میں خود اعتمادی بھی  بڑھے گی۔ اور شائد ایسے واقعات کی روک تھام بھی۔ 

وہ ایک سجدہ جسے تو گراں سمجھتا ہے
ہزار سجدوں سے دیتا ہے آدمی کو نجات

Wednesday, 27 February 2013

گیلی مٹی عائشہ چوہدری کے قلم سے


تمہیں یاد ہے۔۔۔۔؟  پچھلے برس کے وعدے ۔جب پرندے  اپنے گھونسلوں کو لوٹ رہے تھے۔ جب  سارے دن کی مسافت کے تھکے ہارے یہ پرندے اپنے گھونسلوں میں جا چکے تھے۔  تبھی تم نے مجھ سے کہا تھا کہ،، ان پرندوں کا بھی تو اپنا خود کا  گھونسلہ ہوتا ہے۔ پر میرا  گھر کہاں ہے۔۔۔؟   تم نے میری طرف  خوفزدہ  اور بے اعتبار  نظروں سے دیکھا۔ تمھارے لہجے کی اُداسی اُور  اُس کی مٹھاس  گزشتہ برس کے  عہدو پیماں  اب سوچتا ہوں۔  تو سب ایک  خواب  لگتا ہے  ۔کتنا اندھا یقین  تھا تمہارے وعدوں پر!  تمیں  خود ہی اپنی پر خلوص محبت پر تم خود کتنی نازاں تھی۔  مگر پھر کیا ہوا۔۔۔؟  تمہاری سب آرزوں ،تمہارے سارے خواب ہوا ہو گئے۔ ریت کے ذروں کی مانند بکھر گئے۔ غرور عشق کا وہ بانکپن ضبط احتیاط  کےگہرے  پانیوں کی نظر ہو گیا۔  اور تم شک  اور تحفظات کی دلدل میں دھنستی چلی گئی۔  جو کچھ بھی لوح دل پر رقم تھا۔  سب حرف غلط کی  طرح مٹ گیا۔

  تم میری بات مت کرو۔ میں تو  پہلے ہی  اندیکھی راہوں کا باسی تھا۔ جس پر  عذاب و آگہی کا ناگ  کنڈلی مارے بیٹھا تھا۔  میں جو ابن آدم تھا۔  بنت حوا کی ازلی  تقدیر سے باخبر تھا۔  اور جانتا تھا۔  یہ  دونوں تقدیر کی دلدل میں پھنس کر  ہمشہگ کائنات کی  بنائی ہوئی انسانی چکی  کے درمیاں آکر  پستے چلے آرہے ہیں۔ میں خود خوفزدہ ہو جاتا تھا ۔ جب تیری آنکھوں میں  تیرے لہجے میں تیری روح میں  محبت کی بڑہتی پھولتی نازک کونپلیں  دن بدن  پھلتے پُھولتے دیکھتا تھا۔ جب یہ نازک کونپلیں  تقدیر کی چکی میں پسی جائیں گیں تو کیا ہو گا۔۔۔۔؟ 

میں اسی خوف سے  کچھ نہ  کہہ پایا تھا تب۔   کہ،، کہیں تم بدگمانی  کا شکار نہ ہو جاؤ۔  میں تمہیں بتانا چاہتا تھا  زندگی کی تلخ  حقیقت۔   بنجر خواب   بےضمیر انسانی  معا شرے کی رسموں رواج میں لپٹی ہوئی جکڑی ہوئی  بنت حوا ۔ تمہاری سوچوں سے تمہاری محبت کی نازک کونپلوں سے بہت مختلف  بنت حوا  میں نے کوشش کی  کہ،، تمہیں دِکھا سکوں۔ وُہ بنت حوا جسے خواب دیکھنے کا حق تو حاصل تھا ۔ پر اُن پر حکمرانی کا 
حق حاصل نہیں تھا۔ 

مگر میں کچھ بھی نہیں کہہ پایا کچھ بھی تو  نہیں کر سکا۔۔۔۔!   شجر محبت کی  چھاؤں میں بیٹھ کر  تمہارے لئے  درد و فراق کے   صحرا  کا تصور شاید ممکن ہی نہ تھا۔  اُور آج جب میں  تم سے ملنے آیا ہوں۔ تو مجھے تمہاری اُداس آنکھوں کا وہ خوف وہ بے یقینی یاد آرہی ہے۔ جب تم نے  گھروں کو جاتے پرندوں کو دیکھ کر اپنا گھر نہ ہونے کا گلہ کیا تھا !!! اُور اب تمہیں اس شہر خاموشاں میں منوں مٹی کے اندر   ڈالتے ہوے  سوچ رہا  ہُوں۔۔۔ اے کاش بنت حوا کی بیٹی تو محبت کو نازک کونپلوں پر  اپنے خواب بنُنا چُھوڑ دے ۔تا کہ پھر کوئی ابن آدم تیرے خوابوں کی تذلیل نہ کر سکے۔ تیری کونپلوں کو مسل کر نہ رکھ سکے۔  

..............................................
عائشہ چودھری
- See more at: http://www.magpaki.com/2013/02/blog-post.html#sthash.wyeu3Ysr.dpuf


Thursday, 21 February 2013

پبلسٹی کا آسان نُسخہ ۔

پبلسٹی کا  آسان نسخہ۔
اُس دِن بابا احمد وقاص بُہت اچھے مُوڈ میں تھے۔ وُہ کئی گھنٹوں سے مجھے اپنی جوانی  کے عجیب و غریب واقعات سُنا کر حیران کئے جارہے تھے۔۔۔۔ اگرچہ بابا صاحب نے کئی مرتبہ میرا دھیان اسطرف  دِلانے کی کوشش کی ۔کہ،، مجھے فیکٹری جانا ہے اُور سورج کافی بُلند ہُوچکا ہے۔۔۔۔۔ مگر مجھے بابا صاحب کی باتوں میں  آج صبح سے ہی ایسا لُطف آرہا تھا۔ کہ دِل وہاں سے اُٹھنے کو قطعی رضامند نہ تھا۔  حالانکہ مُلاقات کیلئے آتے وقت میرا یہی خیال تھا۔ کہ،، میں سلام عرض کرتا ہُوا گُزر جاوٗں گا۔۔۔ پھر اچانک بابا صاحب کو نجانے کیا سُوجھی۔۔۔ کہ مجھ سے مخاطب ہُوکر کہنے لگے۔ عین،،  ایک بات تو بتاوٗ ۔ آخر تم سترہ برس کی عمر سے ہی اِن وظائف و عملیات کے چکر میں کیسے پھنس گئے۔۔۔۔۔؟  حالانکہ ایسی عُمر میں تو بچوں کو کھیل کُود ذیادہ پسند ہُوتے ہیں۔

میں اِس سوال کیلئے ذہنی طور پر قطعی تیار نہیں تھا۔۔۔۔ کچھ لمحے سُوچنے کے بعد میں نے لفظوں کو معنیٰ پہناتے ہُوئے عرض کی۔۔  حضرت میں ایک زبردست عامل بننا چاہتا ہُوں۔۔۔۔ وُہ کس لئے ۔۔۔؟ انہوں نے تعجب سے استفسار کیا۔۔۔۔حضرت جہاں دیکھو جعلی عامل کامل ڈیرا ڈالے بیٹھے ہیں۔ میں لوگوں کی خدمت کرنا چاہتا ہُوں۔ اِسلئے میری خواہش ہے کہ ایک دِن میں اِس مُلک کا بُہت بڑا عامل بن جاوٗں۔ جو پلک جھپکنے میں ہر مسئلہ حل کردے۔ جسکا مقابلہ دُنیا کا کوئی جادوگر نہ کرسکے۔ اُور جسکا نام سُن کر  شریر جنات بھی تھر تھر کانپنے لگیں۔ میرا  معصوم سا جواب سُن کر اُنہوں نے ایک قہقہہ بُلند کرتے ہُوئے کہا۔ مطلب تمہیں اپنی زندگی میں سکون نہیں چاہیئے۔

میں اُنکا یہ جواب سُن کر اُنکا مُنہ  حیرت سے تکتے ہُوئے سُوچنے لگا۔۔۔ بھلا میں کیوں اپنی زندگی میں سکون نہیں چاہوں گا۔۔۔؟ بلکہ میرا تو خیال یہی تھا کہ اسطرح میری زندگی میں سکون ہی سکون قائم ہُوجائے گا۔۔۔۔۔ انہوں نے حیرت سے کھلی میری آنکھوں میں جھانکتے ہُوئے کہا۔ عین،، جانتے بھی ہُو۔۔۔۔؟ کہ،، تم کس شئے کی تمناٗ کررہے ہُو۔۔۔؟ مگر تُم بھلا  کیسے جانو گے۔ کیونکہ یہ عُمر ہی ایسی ہُوتی ہے۔ اُور مجھے خُود اِتنی عُمر میں کوئی بات سمجھ نہیں آتی تھی۔ انہوں نے اپنے چہرے پر مسکراہٹ سجاتے ہُوئے فقرہ مکمل کیا۔

تُمہاری عُمر   میں میں مجھے بھی ایسی ہی خواہش ہُوا کرتی تھی۔ لیکن عین میرا مشورہ ہے۔ کہ اِن چکروں میں نہ پڑو۔ حالانکہ میں جانتا ہُوں کہ ابھی تُم پر میری باتوں کا کوئی اثر نہیں ہُونے والا۔ لیکن میرا فرض ہے۔ کہ تُم کو ابھی سے باخبر کردوں۔ آگے تمہاری مرضی ہے۔ کل کو کم از کم  کسی سے شکایت تو نہیں کروگے۔ کہ،، استادوں نے کچھ سمجھایا نہیں تھا۔۔۔۔انہوں نے دھیمے سےمسکرا کر میری جانب دیکھتے ہُوئے گفتگو جاری رکھی۔۔۔ میاں ان چکروں میں پڑنے کے بعد نہ یہ صحت رہے گی۔ اُور نہ ہی زندگی کو آج کی طرح انجوائے کرسکو گے۔ اُور  بیٹھے بِٹھائے دِل کو رُوگ الگ لگ جائے گا۔ بابا وقاص نے اتنا کہنے کے بعد ایک پان کی گلوری مُنہ میں ڈال لی۔ جسکا مطلب صاف تھا کہ وُہ اب پانچ منٹ تک گفتگو نہیں کرنا چاہتے۔ یا شائد وُہ مجھے ایکبار مزید سوچنے کی مہلت دے رہے تھے۔

میں نے موقع غیمت جان کر اتنی دیر میں اپنے ذہن میں کلبلاتے سوالات کو مجتمع کرکے ایکساتھ بابا صاحب کے سامنے  پیش کردیا۔ بابا صاحب کیا آپ نہیں چاہتے۔ کہ لُوگ ڈھونگی اُور فراڈیئے لُوگوں سے بچ جائیں۔۔۔۔؟  اُور انکی مجبوریوں سے کوئی  بد مذہب فائدہ نہ اُٹھا سکے۔۔۔؟ پھر جب میں لوگوں کیلئے آسانیاں پیدا کرونگا۔ تو میری زندگی مشکل کیوں ہُوجائے گی۔ اُور عملیات سے بھلا میری  صحت پر کیا اثر پڑے گا۔ اُور کیوں میرے  دِل کو بھلا رُوگ لگ جائے گا۔۔۔۔۔؟

اُنہوں نے اچھی طرح پان کا لُطف اُٹھانے کے بعد ایک بڑی سی پچکاری قریب رکھے پیکدان   کو رسید کرتے ہُوئے اپنی گفتگو شروع کرتے ہُوئے کہا۔ دیکھو ! عین،، میرے اُور تمہارے چاہنے سے کارخانہ ٗ قدرت نہیں بدلنے والا۔ اس کائنات میں اگر ایسے لاکھ عامل کامل بھی پیدا ہُوجائیں جسکا ابھی تُم نے نقشہ کھینچا ہے۔ تب بھی یہ سسٹم جوُں کا تُوں ہی رہے گا۔۔۔۔ حالانکہ چاہتا تو میں بھی ہمیشہ سے یہی تھا۔ کہ لُوگ جعلی عاملوں اُور بد مذہبوں کے چکروں میں نہ آئیں۔ لیکن اب ایک بات  مجھ پر واضح ہُوچکی ہے۔ کہ یہ آزمائش کی جاہ ہے۔ اُور ہر ایک کو اختیار کیساتھ منزل چننے کی آزادی ہے۔ ورنہ وُہ قادر مطلق اِس بات پر قُدرت رکھتا ہے۔ کہ شیطان لعین کو پنپنے کا موقع ہی نہ دیتا۔

دوسری بات  کا جواب یہ ہے میاں کہ،، تُم بظاہر لوگوں کیلئے آسانیاں پیدا کرنے کا سُوچ رہے ہُو۔ لیکن اسکی جزا کی جاہ یہ نہیں ہے ۔۔۔ ورنہ انبیا کرام علیہ السلام  کی زندگیاں  ظاہری آسانیوں سے بھری نظر آتی۔ لیکن ہر ایک پیغمبر علیہ السلام کی ظاہری زندگی کے مبارک ایام کا مشاہدہ کرلو۔ تب ایک بات اچھی طرح سمجھ آجائے گی۔ کہ جسکا مقام و مرتبہ دُنیا میں جتنا بڑا ہے۔ اُسکی ذمہ داری اُور آزمائش  بھی اُسی قدر ذیادہ ہے۔ ہاں یہ الگ بات ہے ۔ انعام الہی کے سبب  اُن کے قلوب پر سکینہ نازل ہُوتا ہے۔ اُور صبر کی قوت بھی ذیادہ ہُوتی ہے۔

پھر جب کوئی دنیا کے جسمانی  ڈاکٹروں کے پاس جاتا ہے۔ تب وُہ زمین سے حاصِل کی گئی ادویات اُس کے ہاتھ میں تھما دیتے ہیں۔ لیکن یہاں جب لوگ آتے ہیں۔ تب آتے ہُوئے اُنکی کمر روحانی امراض کے سبب جھکی جارہی ہُوتی ہے۔۔۔۔ لیکن واپس جاتے ہُوئے یہ لُوگ اُن امراض کو ہماری پیٹھ پر لاد جاتے ہیں۔ جسکی وجہ  سے روحانی ڈاکٹر کی کمر دُہری ہُوتی چلی جاتی ہے۔ لیکن وُہ  ہنس ہنس کر ہر ایک تکلیف کو خوشی خوشی خود پر سوار کرلیتا ہے۔ جسکے سبب صحت گرتی چلی جاتی ہے۔ اُور کمر ہر نئے دِن کیساتھ مزید جھکتی چلی جاتی ہے۔

اُور ایک روحانی معالج کا دِل میں اتنی وسعت بھی  ہُونی چاہیئے ۔ کہ جب کوئی دُکھی  انسان اپنی زندگی کے رازوں سے ہراساں ہُوکر کسی مخلص کو تلاش کرتا ہُوا۔ اُس کے پاس آجائے۔ تب وُہ ہر آنے والے کی  درد بھری کہانی کو اپنے سینے کے قبرستان میں بخوبی دفن کرتا چلا جائے۔۔۔ لیکن اسکے لئے بڑا جگر چاہیئے ہُوتا ہے۔۔۔۔ کیونکہ یہ کہانیاں ایک  نہ  ایکدِن دِل کو  غمزدگی کے نمک سے بُوڑھا کردیتی ہیں۔

پھر بڑا عامل بننے کیلئے پبلسٹی بھی تو چاہیئے ۔ تاکہ مخلوق کو خبر ہُوجائے۔ اُسکا کیا کرو گے۔۔۔۔؟ بابا وقاص صاحب نے میری جانب  بغور دیکھتے ہُوئے آنکھوں ہی آنکھوں میں استفسار کیا۔۔۔ لیکن میری زُبان کی مسلسل خاموشی کو دیکھ کر اُنہوں نے کہا۔ چلو پبلسٹی کا آسان طریقہ ہم تمہیں  بتائے دیتے ہیں۔  جسکی وجہ سے  پبلسٹی میں رقم بھی خرچ نہیں کرنی پڑے گی۔۔۔۔ یعنی کے مفت ہی سمجھ لُو۔۔۔۔ اُور ہم تو ویسے بھی تُم سے کوئی فیس نہیں لیتے۔۔۔۔ انہوں نے ایکبار پھر اپنے چہرے پر مسکراہٹ بکھیرتے ہُوئے کہا۔

دیکھو بیٹا ! عین،، جب کوئی اخلاص سے اللہ کریم کے بندوں کی خدمت میں تن من دھن سے لگ جاتا ہے۔۔۔۔۔ تب اللہ کریم  رُوح الامین حضرت جبرائیل علیہ السلام کو طلب فرما کر اِرشاد فرماتا ہے کہ،، جبرائیل میں فلاں بن فلاں سے راضی ہُوگیا ہُوں۔ اُور اب یہ بندہ میرا دوست ہے۔ اُور میں اس بندے سے محبت رکھتا ہُوں۔ لہذا تم پر بھی  لازم ہے کہ اب تُم بھی اس سے محبت کرو۔ پھر جبرائیل علیہ السلام آسمانی فرشتوں کو جمع فرما کر بتاتے ہیں کہ،، فلاں بن فُلاں کو اللہ کریم کی محبت کا اعزاز حاصِل ہُوگیا ہے۔ اُور میں بھی اِس سے محبت کرتا ہُوں۔ اسلئے تم پر لازم ہے کہ تم بھی اس بندے سے محبت کرو۔ یہاں تک کہ زمین پر موجود فرشتوں تک بھی یہ پیغام پُہنچ جاتا ہے۔ پھر دُنیا ئے زمین کے فرشتے ہر مومن و صالح کے دِل میں یہی پیغام پہنچاتے چلے جاتے ہیں۔ جسکی وجہ سے مخلوق کے دِل میں بھی اس بندے کی محبت پیدا ہُوتی چلی جاتی ہے۔

بیٹا اس سے آسان  ، دیرپا ، وسیع ، اُور مفت کی پبلسٹی  اُور بھلا کہاں میسر آسکتی ہے۔۔۔۔۔۔ اُس وقت بابا صاحب کی کچھ باتیں سمجھ میں آئیں تھی۔ اُور کچھ نہیں۔ لیکن آج جب باتیں سمجھ آنے لگی ہیں۔ تب بابا صاحب ہم میں موجود نہیں ہیں۔ لیکن  اب مجھے انکی یاد بُہت ستاتی ہے۔ کیونکہ اب مزید بوجھ کمر پر نہیں  اُٹھایا جاتا۔ شائد کہ میں نے امراض کیساتھ ساتھ گناہوں کا اضافی بار بھی اپنی ناتواں کمر پر ڈال لیا ہے۔ اُور تحریر کی رفتار دیکھ کر  مجھے بچپن میں جلتی ہُوئی وُہ شمع بُہت یاد آتی ہے۔ جو محدود ہی صحیح لیکن روشنی پھیلانے کا سبب ہُوتی ہے۔

Tuesday, 19 February 2013

قصہ اِک ہنسنی کا۔۔۔



مُحترم قارئین السلامُ علیکم 
اگر پردیس میں کوئی اپنا مِل جائے تُو کیا خُوشی حاصل ہُوتی ہے یہ کسی پردیس میں بیٹھے دیسی سے پُوچھیے۔۔۔ وہ نہ صرف آپ کا تعارف  جان کر آپکی راہ میں دِل و جان سے فَرشِ راہ ہُوجائے گا ۔بلکہ ہوسکتا ہے کہ اگر اُس مُلک کے مُعاشی حالات پاکستان سے مُختلف ہُوں۔ تُو ایک آدھ وقت کی میزبانی کیلئے بھی آپکو  آفر کردے۔

 ایک مرتبہ میرا واسطہ  پردیس میں ایک ایسے ہی دیسی پردیسی سے اتفاقاً  ہُوگیا۔ تُو مجھ پر  ایک انکشاف یہ بھی ہُوا۔ کہ ایسے دیسی پردیسیوں سے  مُلاقات بعض اوقات آپ کی صحت کیلئے نہایت خطرناک بھی ثابت  ہُوسکتی ہے۔  کیونکہ پاکستانی حکمرانوں سے بیزار یہ لُوگ پردیس میں  انتہائی مشقت سے کمائی ہُوئی دُولت عرصہ دراز سے وطن کی محبت میں  انہی حکمرانوں کو چندے کی صورت میں دیتے چلے آئے ہیں ۔ لیکن مُلک کی ہر رُوز پہلے سے ذیادہ بگڑتی صورتحال نے اِن لوگوں کو اب جوالا مُکھی بنا ڈالا ہے۔ جسکی وجہ سے کبھی کبھار پاکستان سے آئے بے حس لوگوں کے سامنے  یہ دیسی پردیسی  بڑی کَھری کَھری اور سچی وکڑوی  باتیں بھی اُگلنے لگتے ہیں۔ جنہیں سُن کر ایسا مِحسوس ہُوتا ہے ۔ کہ،، جیسے کسی پہاڑ میں آتش فشاں پھٹنے کیلئے بیقرار  تھا۔ اور جیسے ہی اُسے مُناسب موقع مُیسر آیا۔ تو  اُس نے  اپنا تمام لاوا  آنے والے مہمان پر اُگل دیا ۔۔۔

میں نے جب ایک ایسے ہی سفید ریش  پردیسی بابا جی سے گُفتگو کی۔ تو بابا جی نے حکمرانوں  کی دیدہ دلیری و بے حمیتی سے لیکر  پاکستانی قُوم کی بے حِسی پر لیکچر دینے کے بعد ۔ زمانے کی رفتار اور نوجوانوں کی بے راہ روی کا رونا رُوتے ہُوئے۔ خُوب مجھے آڑے ہاتھوں لیا۔۔۔ اُنہیں نوجوانوں سے یہ بھی شکایت تھی کہ آج کے نوجوان اپنے بڑوں کا ادب نہیں کرتے ۔میں چونکہ مُسافر تھا لِہٰذا اُنکی تمام باتیں تحمل سے سُنتا رہا۔ لیکن جب میں نے یہ مِحسوس کرلیا۔ کہ،، بابا جی کا کوٹہ چند منٹوں میں ختم ہونے والا نہیں ہے۔  بلکہ اِس کیلئے ایک  طویل عُمر کیساتھ بھینسے کا سا جگر و گُردَہ بھی درکار ہے۔ تُو مجھے مِحسوس ہُوا کہ میرا بیمار جِگر اور پتھری زدہ گُردہ ہرگز اِس کا مُتحمل نہیں ہُوسکتا۔ تب میں نے فقط اِتنا ہی کہا کہ بابا جی یہ فصل تُو آپ ہی لوگوں کی لگائی ہُوئی ہے بھلا بَبُّول کا بیج بھی کبھی خُوشہِ گندم پیدا کیا کرتا ہے۔

بس جناب یہ وہ عظیم غلطی تھی جِسے کرنے کے بعد ہم بُہت پچھتائے۔  کیونکہ ہمارا یہ جھوٹ نُما سچ سُن کر وہ صاحب ایسے بدکے کہ ظہرانہ کی وہ دعوت جو اُنہوں نے ابھی کچھ ہی دیر پہلے ہمیں بڑے اِخلاق یا اِخلاص جیسی چیز کیساتھ دِی تھی۔ نہ صرف واپس لے لی بلکہ ہمیں وہ صلواتیں بھی سُنائیں کہ جِس کی نہ ہمیں کبھی اُمید تھی اور نہ ہی آرزو  رَہی تھی ۔

مگر صاحبو! وہ جو کہتے ہیں نا کہ تقدیر سے زیادہ اور وقت سے پہلے نہ کِسی کو مِلا ہے نہ مِلے گا ۔تُو اِس بات کا مُشاہدہ ہمیں اُس دِن ہُوا۔ اور ہم نے خُود سے عہد کیا کہ آئندہ ایسا جھوٹ نُما سچ ایسے وقت میں ہرگز نہ بُولیں گے کہ جب ہمیں زوروں کی بھوک لگی ہُو۔ اِسکے ساتھ ساتھ بابا جی سے یہ بات بھی سیکھنے کو مِلی کہ موقع دیکھ کر بات کرنی چاہیے۔ اُور اگر آپ پردیس میں ہُوں۔ اور آپکو بے اختیار بُولنے کی بیماری بھی ہُو۔ تو پہلے پیٹ بھر کر کھانا ضرور کھالیں۔ تاکہ بعد میں ڈانٹ اور پھٹکار کھانے کی گُنجائش ہی باقی نہ رہے۔

ویسے آج پتہ نہیں کیوں۔۔۔؟  کچھ بھی قابو میں نہیں ہے۔  اَب یہی دیکھ لیجئے کہ جُو بات کہنے کے لئے ہم نے قلم سنبھالا تھا۔ مِجال ہے جو قلم اُس راہ پر چلنے کو تیار ہُو۔ ہماری خواہش تھی کہ ہم  آج آپکو مُربَّہ بنانے کی ترکیب سکھائیں گے۔ لیکن قیاس یہ کہتا ہے کے شائد مُربَّہ تو نہیں البتہ اچار بنانا آپ ضرور سیکھ جائیں گے ۔ویسے ایک بات  توہے دوستو!  مُربّہ ہو یا اچار دُونوں ہی خواتین کو بے حد پسند ہیں۔ سُو یہ تو طے ہے ۔کہ آپ  آج یہاں سے  بیگمات کو بنانا ضرور سیکھ کر جائیں گے۔

بیگمات کے ذکر سے یاد آیا کہ کِسی دانا کا قول ہے۔ کہ بیگمات کے سامنے ہمیشہ جوابات بُہت سوچ سمجھ کر دینے چاہئیں۔ ورنہ لینے کے دینے بھی پڑ سکتے ہیں۔ اُور کبھی بھی دوستوں کے درمیان یہ سُوچ کر کہ وقت آنے پر بیگم لاج رکھ لیں گی۔  گھریلو بہادری کے قصے اور ڈینگیں مارنے سے پرہیز کرنا شادی شُدہ افراد کی صحت کے لئے بے حد مُفید ہے۔ ورنہ تمام عُمر دوستوں کے سامنے جھوٹ تو کُجا سچ بُولنے کے بھی قابل نہیں رہیں گے۔

 ہاں تو صاحبو ! بات ہُورہی تھی بڑوں کی ۔اور پہنچ گئی مُربہ جات اور اچار تک۔ آئیے آپکی بُوریت دور کرنے کیلئے آپکو ایک چُٹکلہ نُما کہاوت سُناتا ہُوں۔ جو کہ ،، ایک  پاکستانی بابا جی ہی کی زُبانی سُنی تھی۔ اِن دُونوں باباؤں میں فرق صرف اِتنا تھا کہ ایک کو نوجوانوں سے گلہ تھا تو دوسرے کو باباؤں سے  ہی شکایت تھی۔

ایک ہَنس کو اپنی پُرسکون زندگی ایک لمحہ نہیں بھاتی تھی ۔ جب اُس نے اپنے ایک بندر دوست سے یہ ماجرا بیان کیا۔ تو دانشمند بندر نے اُسے فی سبیل اللہ ایک صلاح دِی ۔کہ یار ہَنس تو شادی کیوں نہیں کرلیتا۔ بھائی شادی کرنے سے سکون خود بھاگ جائے گا۔ اُور تُمہاری زندگی میں ایڈوانچر ہی ایڈوانچر آجائے گا ۔ہَنس نے بندر کی یہ صلاح سُن کر اُسے گلے لگا لیا۔ اور دُعا دینے لگا کہ کاش انسانوں کو بھی تُمہارے جیسے دوست مُیسّر آجائیں۔ تب بندر نے اُسکے علم میں اضافہ کرتے ہوئے خوشخبری سُنائی۔ کہ،، تُمہاری یہ دُعا ایڈوانس میں ہی قبول ہُوچکی ہے۔ اُور انسانوں کے پاس یک نہ شُد دو شُد بلکہ نجانے کِتنے شُدھ ایسے بندر نُما دوست موجود ہیں ۔جو اُنہیں اپنے قیمتی مشوروں سے میری طرح بالکل مُفت مُستفید کرتے رہتے ہیں۔

سُو  صاحبو ! بندر کے مشورے پر ہنس صاحب اپنا گھر پھنسانے کیلئے ایک ہنسنی کی تلاش میں روانہ ہُوگئے۔ اِتفاق سے چند جنگل دُور ہی اُنہیں اپنی مطلوبہ کوالٹی کی ہنسنی صاحبہ دریافت ہُوگئیں۔ نکاح سے فارغ ہُونے کے بعد  ہنسنی جی  کے رِی ٹیک سین  وڈیو   میں محفوظ کرتے کرتے  رات زیادہ ہُوگئی۔ اور ہَنسنی صاحبہ وِداع ہُوکر  اپنے میکے سے دُوسرے جنگل تک ہی پُہنچی ہُونگی۔ کہ دِن بھر کی رسومات کی وجہ سے تھک کر نِڈھال ہُو گئیں۔ جب  ہنسنی جی میں مزید پرواز کی ہمت نہ رہی۔ تو  حسب روایت دولہا ہَنس کو حُکم دے دِیا ۔کہ مزید سفر کو ملتوی کرتے ہُوئے یہیں رات بَسر کی جائے۔ ہَنس بھی خُوش تھا کہ چَلو کوئی تُو آیا جُو مجھ پر بھی آرڈر چلا رہا ہے۔ لِہذا ہنس صاحب نے دُنیا کے پچانوے فیصد ۔ اُوہ !معاف کیجئے گا ننانوے فی صد تابعدار شوہروں کی طرح سَر تسلیم خَم کردیا۔

جِس درخت پہ ہنس اور ہنسی مِحوئے استراحت تھے۔ اُسکی ایک شاخ پر ایک عدد مُحترم اُلو صاحب بھی براجمان تھے ۔اُلو نے حَسب عادت رات کی تاریک سے فائدہ اُتھاتے ہُوئے اپنی سُریلی آواز میں دُولہا دلہن کو اپنی موجودگی کا احساس دِلایا۔ ہَنسنی صاحبہ کیلئے یہ آواز بالکل انوکھی تھی۔ کہ،، اُس کا واسطہ کبھی اِس قبیل کی صدائے رندانہ سے نہ پڑا تھا ۔ اُس نے حیرت سے اپنے دولہا سے پُوچھا۔ ہَنس رے ہَنس یہ کُون بُولا۔۔۔؟  ہَنس صاحب بیگم صاحبہ کی معیت میں ایسے مدہوش تھے کہ وہی غلطی کر گئے جو ہَم سے پردیس میں سرزد ہُوئی تھی۔

چُنانچہ  بے سوچے سمجھے بے ساختگی میں کہہ گئے۔ بیگم صاحبہ کِس کا پوچھ رہی ہیں یہ حضرت جہاں بولتے ہیں وہ جگہ ہی اُجڑ جاتی ہے۔۔۔ محترم اُلو صاحب جو کہ جعلی ڈگری یافتہ ہی صحیح مگر بڑے رسوخ کے حامل تھے۔ ہَنس میاں کے اِس جھوٹ نُما سچ کی تاب نہ لاتے ہُوئے وہاں سے کوچ کر گئے اور سَر پنچوں کا دروازہ جا کَھٹکایا ۔تمام پنچ مُحترم اُلو صاحب کے ایماء پر شُوریٰ گاہ میں پُہنچ گئے۔ اب اُلو مہاراج نے پہلے تو اُن پر اپنی تعلیمی قابلیت کا سکہ جمایا۔ اور اُس کے بعد کہنے لگا۔ کہ،، جیسا کہ آپ تمام حضرات میرا رسُوخ بھی جانتے ہُو اور میری دیدہ وَری کے قصے بھی چہار دانگ میں مشہور ہیں۔

 میں بس آپ حضرات سے اِتنا فیور چاہتا ہُوں ۔کہ آپکو بس اِتنا ثابت کرنا ہے۔ کہ،،  کل میں جِس ہنسنی کے ساتھ آپکی شوریٰ میں فیصلہ کیلئے آؤنگا۔تب  آپ سب پنچوں نے ہنسنی کو میری بیوی ثابت کرنا ہے۔ جِسکے عوض میں آپکے بچوں کو بھی اعلیٰ اسناد اور یونیورسٹیوں میں فری داخلے دِلوادونگا۔ اور ڈالروں سے آپ کے مُنہ بھر دونگا۔

تمام شُورٰی کے ارکان کی رضامندی کے بعد اُلو صاحب اپنے چارٹرڈ طیارے کے ذریعے دوبارہ جنگل  جا پُہنچے۔ اُور اُسی شاخ پر وِشرام کرنے لگے  جو کہ اُنہیں اپنے سُسر سے وِراثت میں مِلی تھی۔۔۔صبح جب مخمور ہَنس اور ہَنسنی صاحبہ سفر کے قصد سے اپنے پَر تُولنے لگے۔ تبھی اُلو صاحب درمیان میں کِسی فَلمی ولن کی طرح آدھمکے۔ اُور ہَنسنی صاحبہ کی ملکیت کا دعویٰ پیش کر ڈالا ۔پہلے تو ہَنس کو لگا کہ اُلو صاحب مذاق فرما رہے ہیں۔ لیکن جب اُلو کا اصرار دھمکی آمیز ہُونے لگا۔ تو ہَنس صاحب کا تمام نشہ ہَرن ہُوگیا۔ بڑی عاجزی سے عرض کرنے لگا ۔جناب کہیں ایسا بھی ہُوا ہے کہ کِسی اونچی ذات کے اُلو نے کِسی ہنسنی جیسی بےنام چیز کو اپنے عُقد میں لیا ہُو۔ لیکن اُلو کی ایک ہی رَٹ تھی۔ کہ،، یہ نوخیز ہنسنی میری منکوحہ ہے ۔اگر چاہو تو فیصلہ پنچوں کے پاس لے چَلو۔ سُو ناچار ہَنس کو اُلو کی یہ انہونی بات ماننی پڑی۔ اور یہ تینوں پنچوں کے پاس اپنا مُقدمہ لیکر جا  پُہنچے۔

پَنچوں نے جب اُلو کو آتے دیکھا تُو احتراماً کھڑے ہُوگئے۔ جب مُقدمہ پیش کیا گیا تو سَر پنچ بُولا،، اے ہَنس کیسی عجیب بات کرتا ہے ۔کہ اُلو کی ہَنسنی بیگم کو اپنا کہتا ہے۔ حالانکہ جب اِن دونوں کا نکاح ہُوا تھا۔  تو میں بھی اُس محفل میں موجود تھا۔ تبھی سَرپنچ کا نائب آگے بَڑھا اور کہنے لگا کہ اِس شادی میں مجھے گواہ رکھا گیا تھا۔ اُور میں نے نکاح نامے پر اپنے دستخط بھی کئے تھے۔ پھر کیا تھا ہر ایک پنچ بڑھنے  جامے سے باہر نکلنے لگا ۔اور اُلو اور ہنسنی کی شادی کی شہادتیں دینے لگا ۔ کسی نے اِس شادی کا ولیمہ کھایا تھا ۔تُو کِسی نے اِس شادی میں باجا بجایا تھا۔ جب سارے پنچ اپنی اپنی گواہی اُلو کے حق میں پیش کرچُکے۔ تو ہَنس کے پاس اِس کے سِوا کوئی چارہ نہیں تھا۔ کہ،، اپنا دعویٰ واپس لے کر چلتا بنے۔ سُو ہَنس بیچارے نے کہا کہ اِتنے معزز ارکان جھوٹ نہیں بُول سکتے ۔ شائد مجھ ہی کو کوئی دھوکہ پیش آیا ہے۔ جِسکی وجہ سے ہنسنی کو اپنی بیگم سمجھ بیٹھا ۔۔۔لگتا ہے کہ میری زندگی میں کوئی ہنگامہ نام کی شے ہی نہیں لکھی۔۔۔۔ سُو مجھے مُعاف فرما دیں ۔یہ کہہ کر ہَنس اپنی منزل کو اکیلا ہی چل پڑا ۔

اَبھی ہَنس چند گام ہی اُڑا ہُوگا ۔کہ،، اُلو نے اُسے راستے میں پھر سے جا لیا ۔اور ہَنس سے کہنے لگا۔ اے ہَنس ذرا رُک جا۔۔اُور مجھے میرے ایک سوال کا جواب دے کر اپنی ہنسنی کو ساتھ لیتا جا۔ کہ،، یہ ہَنسنی جو واقعی تیری ہے ۔ میرے کِسی کام کی نہیں ہے۔ اور  میرا سوال  بھی بڑا آسان ہے۔  مجھے صِرف یہ بتا جا کہ میرے بولنے سےلُوگوں کے گھر اُجڑتے ہیں۔۔۔۔۔ یا پنچوں کے بولنے سےا ُجڑتے ہیں۔۔۔۔۔؟ 

مُحترم قارئین ایک شعر پڑھا تھا جو شعر سے زیادہ کسی کی شرارت محسوس ہُوتا ہے۔

ہر شاخ پہ اُلو بیٹھا ہے انجامِ گُلستاں کیا ہوگا۔

مجھے لگتا ہے یہ شعر کسی نے شرارتاً ہمارے پارلیمنٹ کے معزز ارکان کو دیکھ کر لکھا ہے ۔جب کہ دیکھا جائے تُو یہی پارلیمنٹ ممبران اور وزراء ہیں جو دِن رات الیکشن میں ہماری خاطر دربدر ہوتے ہیں۔ اب یہ بھی کوئی تُک ہے کہ پارلیمنٹ میں جانے کیلئے گریجویٹ ہونے کی شرط رکھ دِی گئی۔ جس کی وجہ سے ہمارے محترم اور مکرم ممبران کو لاکھوں روپے اپنی جیب سے اضافی خرچ کرکے جعلی ڈگری حاصل کرنی پڑتی ہے۔ اور یہ سارا خرچہ صرف اور صرف ہماری وجہ سے اور ہماری مُحبت میں کیا جاتا ہے۔ اب یہی دیکھ لیجئے کہ آفات  کا بہانہ بناکر ہمارے صدر محترم کو سیر وتفریح سے روکا جارہا ہے۔ کہ،، یہاں  آئے دِن ہزاروں مر رہے ہیں۔ اور آپکو سیر سپاٹے کی اور اپنی اور اپنے صاحبزادے کی تقریر کی فِکر کھائے جارہی ہے۔ اَب ایسی افواہیں پھیلانے والوں کو کوئی سمجھائے۔ کہ،، بھائی ایسے موقع روز روز تھوڑا نہ آتے ہیں۔

ہمارے صدر مملکت ہمارے غم میں رات دِن گُھلے جارہے ہیں۔ جسکا واضح ثبوت اُنکی پست  ہُوتی ہُوئی مونچھوں کی شکل میں مثلِ آفتاب ہمارے سامنے ہے۔۔۔ اگر  وُہ تھوڑی بُہت سیر و تفریح کرلیں ۔یا کچھ بیرونی بنکوں میں مزید اپنے اکاونٹس میں اضافہ کرلیں گے۔ تو کونسی قیامت آجائے گی۔ ہوسکتا ہے اِس بہانے  گنیز بُک میں دُنیا کا سب سے امیر انسان صدر محترم کی شکل میں ایک پاکستانی لکھا جائے۔ اور اِسی سیر سپاٹے کے بہانے بُہت ساری امداد بھی مصیبت زدگان کے نام پر اُنکے  ہاتھ آجائے گی۔  جس سے ہمارا بھلا ہُو نہ ہُو۔کم از کم اُس سے اِس سیر و تفریح کا خرچہ ہی نکل آئے گا۔ عوام کا کیا ہے عوام تو ہُوتی ہی قُربانی دینے کیلئے ہے ۔ سُو( دو چار ہزار کی قُربانی اور صحیح ) شائد صدر صاحب کے پیش نظر یہ بات ہو کہ اِس طرح کم از کم قُوم کو طوفانوں میں تیرنا ہی آجائے گا۔

اور آخر میں تمام پڑھنے والوں سے گُزارش ہے کہ مہربانی فرماکر اُلو کی بات پر دھیان نہ دیں اور نہ ہی اُس کی شُوریٰ کو ہماری معزز پارلیمنٹ سے مِلانے کی کوشش کریں کہ ہمارے لوگ اُن  پنچوں سے کہیں بڑھ کر ہیں۔۔۔ اِن کا اُلو سے کوئی جُوڑ ہی نہیں بنتا۔

Monday, 18 February 2013

نابینا بِھکاری۔


میرا یہ کالم جواب ہے۔ اُس تحریر کا جو ایک عاشقِ رسول صلی اللہ علیہ کے قلم سے لکھی گئی۔ جی ہاں میری مُراد  قابل احترام وباعمل اُور علم دُوست انسان جناب محترم افتخار الحسن رضوی دامت برکاتہم عالیہ سے ہے۔ جنہوں نے مجھ جیسے حقیر و نابینا انسان کیلئے اپنے قلم کو جنبش دِی تو مروت  و محبت میں مجھ جیسے انسان کیلئے اپنی تحریر میں نجانے کیسے کیسے القابات  کا استعمال کرڈالا۔  اُنکا یہ کالم ہماری ویب ڈاٹ کام پر جب پبلش ہُوا تب میں بستر علالت پر پڑا تھا۔ مجھے کامران  عظیمی بھائی کے توسط سے اِس کالم کے متعلق مکمل آگاہی حاصل ہُوئی ۔ کالم نشر ہُونے کے دوسرے دِن کے اختتام تک  بھی ہمت نہیں تھی۔ کہ جواباً شکریہ کے دو الفاظ ہی لکھ سکوں۔ لیکن اب جونہی طبیعت میں کچھ اِفاقہ محسوس ہُوا۔ میں اُنکے شکریہ کیساتھ کچھ حقائق  اپنے قارئین کرام کی  خِدمت میں پیش کرنا چاہتا ہُوں۔

افتخار الحسن رضوی بھائی پہلے تو میں آپکو بُہت بُہت مبارکباد پیش کرنا چاہتا ہُوں۔ کہ آپ نے جس گہوارے میں اپنی آنکھ کھولی۔ وہاں علم کی روشنی پہلے سے ہی موجود تھی۔ لیکن شائد آپکو اِسکی قدر و قیمت کا اندازہ اِسلئے نہ ہُوسکا ہُو۔ کہ آپ نے ہمیشہ اپنے اِرد گرد بینا لوگوں کو دیکھ کر یہی سُوچا ہُو۔ کہ،، شائد دُنیا میں ہر بچہ آنکھ کی نعمت سے مالا مال ہی پیدا ہُوتا ہُوگا۔۔ اسلئے آپ کے چاروں طرف آنکھ والے بینا مرد و خواتین موجود ہیں۔

لیکن جناب والا میں آپکو بتانا چاہتا ہُوں کہ،، ساری دُنیا کے بچے آپکی طرح خوش نصیب نہیں ہُوتے۔ دُنیا میں لاکھوں بچے میری طرح نابینا بھی پیدا ہُوتے ہیں۔ اُور اُنکے گرد اگرد بھی نابینا لوگوں کی بھیڑ ہی جمع ہُوتی ہے۔ جِس کے سبب اُنکو یہ محسوس ہُوتا ہے ۔ کہ شائد ساری دُنیا کے لُوگ  ہی نابینا ہیں۔ اُور اس لئے جب اُنہیں کوئی بتاتا ہے ۔ کہ میں الحمدُ للہ بینا ہُوں۔ اُور مجھے سب کچھ دِکھائی دیتا ہے۔ تو نابینا لوگ اُس بینا انسان کا مذاق اُڑاتے نظر آتے ہیں۔ کیونکہ اُنکا خیال ہُوتا ہے۔ کہ دُنیا میں کوئی بھی انسان بینا نہیں ہُوسکتا۔ اگر ایسا ہُوتا تو اُنہیں دکھائی کیوں نہیں دیتا۔۔؟

جناب والا۔ یہی حال میرا اُور میرے خاندان کا بھی تھا۔ کیونکہ میں جس خاندان میں پیدا ہُوا۔ وہاں کوئی بھی بینا انسان موجود نہیں تھا۔ اُور اِس وجہ سے  سِوائے میرے دادا کے میرے  اکثرخاندان والوں کو ہر اُس انسان سے شدید نفرت تھی۔ جو خود کو  آنکھ والا کہے۔ کیونکہ اُنکا خیال تھا۔ کہ جب کوئی یہ کہتا ہے۔ کہ مجھے نظر  آتا ہے۔  تو اِسکا صرف ایک ہی مطلب ہُوتا ہے۔ کہ وُہ ہمیں نابینا سمجھ کر   گالی دینے کا مرتکب ہُورہا ہے۔ اُور کسی میں ہمت نہ تھی۔ کہ وُہ  اُس آنکھ والے سے کلام کرے۔ یا بینائی کی حقیقت سےمتعلق استفسار کرے۔

لیکن افتخار صاحب مجھے ایک بات کا قوی یقین ہے۔ اُور وُہ یہ کہ میرے پروردیگار کو مجھ سے محبت ہے۔۔۔۔۔ جی ہاں میں یہ بات بالکل ہُوش و حواس میں رِہ کر کہہ رہا ہُوں۔۔۔۔ اُور میں اِس بات کو ثابت بھی کرسکتا ہُوں۔۔۔۔۔ آپ یہ بات تو مانتے ہیں نہ کہ،، کوئی بھی جب کسی کو   کوئی خاص تحفہ یا اسپیشل انعام  دیتا ہے۔ تو اِس انعام و  تحفہ کے پیچھے محبت کا لطیف جذبہ ضرور کارفرما ہُوتا ہے۔ اُور جِس سے محبت اُور  لگاوٗ نہ ہُو۔ اُسے کسی خاص تحفے یا انعام سے نہیں نوازا جاتا۔۔۔۔ اگر آپ کو میری مثال سمجھ آگئی ہے۔ تو آپ بھی لازماً میری بات کی تائید کردیں گے۔۔۔

دیکھئے نا ! میں بھی نابینا تھا۔ اُور نابینا لوگوں کے درمیان نا صرف  پلا بڑھا تھا۔ بلکہ پیدا بھی ایسے نابینا خاندان میں ہُوا تھا۔ جہاں  بچے کو پیدا ہُوتے ہی  کان میں اِذان کی  صدا بعد میں سُنائی دیتی ہے۔ اُور آنکھ والوں سے دشمنی کی گھٹی پہلے پلائی جاتی ہے۔۔۔۔ ایسے گھٹن زدہ ماحول میں آنکھ کھولنے کے باوجود۔۔۔۔  خُدا کے سِوا ۔اُور کون ہستی ہُوسکتی ہے۔ جِس نے میرے قلب کو آنکھ والوں کی عدوات سے پاک رکھا۔۔۔۔۔ اُور یہ اللہ کریم کی محبت کے سِوا کیا  معاملہ ہُوسکتا ہے۔ کہ مجھے صرف آنکھ والوں کی نفرت سے ہی نہیں بچایا۔  بلکہ آنکھ والوں کی محبت سے میرے  بے نُور دِل کو  آگہی بخشتے ہُوئے  جگمگا ڈالا ۔

یقین کیجئے! مجھے نہ کبھی اِس بات پر فخر رہا ہے۔ کہ میں ایک صنعتکار باپ کا بیٹا ہُوں۔ اُور نہ ہی مجھے اپنے حسب نسب کی برتری کا خمار رہا ہے۔ اُور نہ ہی مجھے اِس بات پر  کبھی غرور ہُوا ۔ کہ اللہ کریم کی عطا سے ہزاروں لوگوں کو میرے ہاتھ سے بذریعہ روحانی علاج شفا حاصل ہُوئی ہے۔ کیونکہ بقول جاوید بھائی عطاری اللہ کریم جب کام لینا چاہتا ہے۔ تو کسی فاسق و فاجر سے بھی کام لے لیتا ہے۔ عامل کامل ہُونا میرے نذدیک کبھی بھی  اہمیت کا حامِل نہیں رہا۔ کیونکہ عامل ہُونا ہی خُدا کی رضا کا حامل ہُونا نہیں ہُوتا۔۔۔۔

میری آنکھوں  میں جب بھی تشکر کے آنسووٗں نے جگہ پائی ہے۔ تو یہی سُوچ کر سجدہ شکر بجالایا ہُوں۔۔۔ کہ اے پروردیگار تیری محبت کے قربان جاوٗں۔۔۔ کہ،،  تُونے مجھے اندھوں کی گلی سے نِکال کر آنکھ والوں کے آستانے کا فقیر بناڈالا۔ تیرے واضح فرمان کے باوجود بھی جو لوگ  تیرے آنکھ والے (اُولیائے کرام) کی  عظمت کے منکر ہیں۔ تونے مجھے اُنہی میں پیدا فرمانے کے باوجود ۔اپنی خاص محبت سے میرے دِل کو مُنافقوں کے منفی اثر سے محٖفوظ رکھا۔۔۔۔ اُور جب تونے چاہا کہ میرا مقدر سنور جائے ۔ تب تونے اپنے خاص فضل و کرم سے اپنے آنکھ والے (اُولیائے کرام) کے قُلوب کو میری جانب مائل فرمادیا۔۔ ۔ اُور مجھ عاصی و بدکار و بد اطوار کے دِل میں  اُن نفوسِ قُدسیہ کی محبت ڈال دی۔۔۔۔

اے میرے پروردیگار۔ تیری عطا سے میں ایک بات بخوبی جان چُکا ہُوں۔ کہ یہ دنیا کا کارخانہ اُور اسمیں کئی جانے والی مزدوری ہی سب کچھ نہیں ہے۔ کوئی اپنے طویل سجدوں کے باوجود بھی شیطان کے نقش پا کا اسیر بن جاتا ہے۔ اُور کوئی بِن مانگے بھی اپنا حصہ خُوب اس دُنیا سے حاصل کرلیتا ہے۔ جسکی وجہ سے مجھ پر یہ بات رُوزِ رُوشن کی طرح عیاں ہُوگئی ہے کہ،،  تُو انعام صرف مزدوری پر عطا نہیں فرماتا۔ بلکہ تیرا جس پر فضل ہُوجائے وہی کامیاب رِہتا ہے۔

اے میرے پرور دیگار میری جھولی خالی ہے۔ نہ   میں نے طرز بندگی سیکھا۔۔۔۔اُور  نہ ہی اپنا کام ایمانداری سے کرپایا۔ اگرچہ میں جانتا ہُوں ۔ کہ یہ دُنیا امتحان گاہ ہے۔ پھر بھی دُنیا کی محبت سے پیچھا نہیں چھوٹتا۔ تُونے تو احسان فرماتے ہُوئے ہمیں اِس کمرہ امتحان میں مختصر وقت کیلئے رکھا۔ تاکہ گناہوں کے انبار ہماری کمر نہ تُوڑ کر رکھ دیں۔ مگر مجھ کو اِس کمرہ امتحان کی رنگینی ایسے بھا گئی۔ کہ  اِس کے گورکھ دھندے سے دِل ہی نہیں بھرتا۔ اگرچہ میں  جانتا ہُوں کہ ،، بُلاوے کا وقت نذدیک ہے۔ لیکن پھر بھی مفت کھانے کی ایسی عادت پڑی ہے۔ کہ مزدوری کو جی نہیں چاہتا۔ نتیجتاً  ابھی تک خالی ہاتھ ہُوں۔ اگر پاس کچھ ہے۔۔۔ تو یہ یقین کہ،،  جسطرح تونے میرے عیبوں پر دُنیا میں پردہ قائم رکھا۔ اجر دیئے جانے کے دِن بھی پردہ فرمائے گا۔ اُور رُسوا نہیں ہُونے دیگا۔  اے میرے کریم رَبّ  مجھے اُجرت نہیں چاہیئے۔ کیوں کہ اجرت تو مزدوری کی ہُوتی ہے۔ اُور مزدوری میں نے کی نہیں۔ اسلئے مجھے تو صرف بھیک چاہیئے ۔

اُور سخی کبھی یہ پسند نہیں کرتا کہ کوئی بھکاری اُس کے در سے خالی  ہاتھ چلا جائے۔ اسلئے قوی یقین ہے کہ ،، تو مجھے بھی بھیک میں اپنے خاص لُطف و کرم سے مغفرت کی بھیک  اُور اپنے محبوب اعظم صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت نصیب فرمائے گا۔ جسطرح بھیک میں تونے مجھے آنکھ والے (اُولیائے کرام) رحم اللہ اجمعین کی محبت  و قربت عطا فرمادی۔ اُور دُنیا کے مختلف کونوں میں بسے اہل محبت کی محبتوں کا  اسیر بنا ڈالا ہے۔

آمین آمین آمین ! بجاہِ النبی الکریم وَ صلی اللہ تعالی علیہ وَآلہ وَ اصحابہ و ازواجہِ و اولیائے ملتہ اجمعین  یا ربنا یا ربنا یا ربنا  واغفرلنا یا الرحم الرحمین۔