bing

Your SEO optimized title page contents

Pages

Hamara Tube Channel

Thursday, 6 June 2013

فیس بُک پر جعلی عاملوں کی آمد


مورخہ ۲ جُون کی رات مجھے کراچی سے ایک اِسلامی بِہن کی کال مُوصول ہُوئی۔۔۔ جِسے سُننے کے بعد میرا دِل دہل کر رِہ گیا۔ آنکھوں سے جھڑی لگ گئی۔ اُور اِسی بے قراری میں تمام رات سسکتے سسکتے بیت گی۔ ۔۔یہاں تک کہ،، موذن کی صدا بُلند ہُونے لگی۔ اُور میں وقتی طُور پر کچھ دیر کیلئے اِس خوفناک گُفتگو کے سحر سے نکلنے میں کامیاب ہُوپایا۔۔۔ میں گُذشتہ شب ہی اِس موضوع پر  ایک تحریر لکھنا چاہتا تھا۔ لیکن رات تین بجے تک بھی پہلے سے تیار ایک پُوسٹ پر،، فُٹ نُوٹ سے ذیادہ کچھ نہیں لکھ پایا۔

مجھے اِس کال میں اُس اِسلامی بہن نے رُوتے ہُوئے بتایا۔کہ،، اُنہوں نے فیس بُک پر ایک شخص سے رُوحانی علاج کیلئے رابطہ کیا۔ رُوحانی عِلاج کیلئے یہ رابطہ تقریباً ایک ماہ سے قائم تھا۔ جِس میں اِس اِسلامی بہن نے کئی مرتبہ اُس معالج سے فون پر گفتگو کی۔۔۔ پھر اُس معالج کے اِصرار پر انہوں نے  مزید علاج کی خاطر وڈیو کالز پر بھی کئی مرتبہ گفتگو کی۔ جب کہ ای میلز پر بھی اِس رُوحانی علاج کا سلسلہ جاری تھا۔ اِن تمام کالز اُور برقی خطوط میں اُنہوں نے جذبات کی رُو میں بِہہ کر اپنے ایسے راز بھی اُس معالج سے شئیر کرلئے۔ جو کہ عمومی طور پر خَواتین اپنے گھر والوں کو بھی نہیں بتاتی ہیں۔

جب علاج کو ایک ماہ کا عرصہ گُزر گیا۔ اُور اِن اِسلامی بہن کو علاج سے کوئی خاطر خُواہ فائدہ نظر نہیں آیا۔تو انہوں نے شکایتاً اُس معالج سے کہا۔کہ،، مجھے آپ سے مسلسل رابطہ کرتے ہُوئے  ایک ماہ کا عرصہ ہُوگیا ہے۔ لیکن نہ ہی مجھے میرے مقصد میں کوئی ہلکی سی کامیابی کی رمق نظر آئی ہے۔ اُور نہ ہی مجھے  اِس علاج سے قلبی سکون مِل رہا ہے۔ اسلئے اگر آپ سے یہ معاملہ ہینڈل نہیں ہُوپارہا ہے۔ تو برائے مہربانی مجھے جواب دے دیں۔ تاکہ میں کہیں اُور سے اپنا مسئلہ حل کراسکوں۔ اِسلامی بہن کے  اِس جملے کو سُن کر اصولاً ہُونا تو یہ چاہیئے تھا۔کہ،، وُہ معالج انکی دلجوئی کرتے۔یا اِنہیں اجازت دیدیتے ۔کہ،، آپ جہاں سے چاہیں علاج کروالیں۔ کیونکہ ہُوسکتا ہے۔ آپکے  نصیب کی نعمت کہیں اُور موجود ہُو۔۔۔۔ لیکن وُہ عامل اِس اِسلامی بہن کی باتیں سُن کر بھڑک اُٹھا۔ اُور کہنے لگا۔کہ،، میں کل آپکو جواب بذریعہ میل دیدوں گا۔

اگلے دِن جب اُس اِسلامی بہن نے اپنی میلز چیک کی تو اُنہیں اُس معالج کی جانب سے ایک برقی خط مُوصول ہُوا۔ جِس میں اُس پست ذِہن عامل نے اِس اِسلامی بہن کو خبردار کرتے ہُوئے بتایا۔کہ اُنکی تمام گفتگو  آڈیو، وڈیو، اُور تحریر کی صورت میں اِنکے پاس محفوظ ہے۔۔۔ جسے،، جب چاہے وُہ اسکے گھر والوں کو بھیج سکتا ہے۔۔۔ اُور شوشل میڈیا پر فرضی اکاونٹ سے اَپ لُوڈ کرسکتا ہے۔۔۔ اُور اسکے بعد اُس جعلی عامل نے اُنہیں بلیک میل کرنا شروع کردیا ہے۔ جسکی وجہ سے وُہ مسلسل ذہنی دباوٗ کا شکار ہے۔۔۔ اتنا واقعہ بیان کرنے کے بعد اُس اِسلامی بہن نے ایک مرتبہ پھر ہچکیوں سے رُونا شروع کردیا۔ وُہ اِسلامی بہن رُوتے ہُوئے ایک ہی بات بار بار دہرائے جارہی تھی۔کہ،، بھائی میں نے تو اُس کمبخت کو ایک دین دار انسان سمجھ کر، اپنا مسیحا جان کر اِحوال دِل سُنایا تھا۔ مجھے کیا خبر تھی کہ ،، یہاں رہنما کے بھیس میں رَہزن بھی پھرتے ہیں۔ جو رازوں کے امین بننے کے بجائے ایک سوداگر کی طرح پیشکش کرتے ہیں۔

غُصہ تو مجھے اِس اِسلامی بہن پر بھی بُہت آیا تھا۔۔۔ میرا دِل چاہ رہا تھا۔کہ،، اُسے بے نُقط کی سُناوٗں۔کہ،، بے وقوف عورت آخر تجھے ایسی کیا مُوت پڑی تھی۔ کہ،، تُونے ایک انجانے شخص کے سامنے وُہ باتیں بھی بیان کرڈالیں جو کہ،، ایک عورت اپنے سائے سے بھی کہنے میں ڈرتی ہے۔۔۔ تجھے ایسی کون سی آفت پڑی تھی۔کہ،، تُونے ایک غیر مرد سے بِلا ضرورت شرعی وِڈیو کالز کا سلسلہ قائم رکھا۔۔۔لیکن میں کیا کرتا۔کہ،، وُہ تو پہلے ہی اَدھ مری ہُوئی تھی۔۔۔ اُورنجانے کِس بہن یا بھائی نے اُسے کتنی اُمید و آس دِلا کر مجھے کال کرنے کیلئے اُکسایا ہُوگا۔۔۔ اِسلئے میں اُسے کچھ نہیں کہہ پایا۔ البتہ میں نے اُسے تسلی دیتے ہُوئے اِتنا ضرور کہا۔۔۔ کہ،، میری بہن  چہرے پر معصومیت سجائے بظاہر خُوش اِخلاق و ملنسار نظر آنے والا ہر انسان مخلص دُوست و رِہبر نہیں ہُوتا۔ یہاں بے شُمار قذاق  اپنے چہروں کی کراہیت کو نِقاب میں۔ اُور اپنے سفلی جذبات کو دِل میں سجائے پھرتے ہیں۔۔۔ اسلئے احتیاط لازم ہے۔ البتہ بطور ایک بھائی کے میرا تُم سے یہ وعدہ ہے۔ کہ،، وُہ سفلی خواہشات کا غلام عامل میری بہن کو کوئی نقصان نہیں پُہنچا پائے گا۔ اُور اگر میں اپنے  وعدے کو نبھا نہیں پایا ۔ تو بے شک حشر کے میدان میں اِس بھائی کے دامن کو تار تار کرڈالنا۔

میں اُس اِسلامی بہن کا چہرہ تو نہیں دیکھ پارہا تھا لیکن اُسکے لہجے میں اچانک پیدا ہُوتے ہُوئے اعتماد کی وجہ سے مجھے کامل یقین ہے۔کہ،، اُسکی آنکھوں میں ایک بھائی کو پالینے کے بعد خوفزدہ ہرنی کا تاثر باقی نہ رَہا ہُوگا۔۔۔ میرا جواب سُن لینے کے بعد اُسکی ہچکیاں بھی یکسر بند ہُوچکی تھیں۔ اُور اب اسکے لہجے میں پہلے جیسا خوف کا احساس بھی نہیں تھا۔ وُہ کافی دیر تک مجھے  اُور میری فیملی کوفون پر دعائیں دیتی رہی۔

اِس گفتگو کے اِختتام پر جہاں مجھے اپنی اِسلامی بہنوں کی عصمت کی فکر ستا رہی تھی۔۔۔ وہیں دوسری طرف میں اِس قِسم کے عامِلوں کے مُتعلق سُوچنے لگا۔ جو کبھی چند ٹکوں کی خاطر۔۔۔ تو کبھی جھوٹی شہرت کی طلب میں۔۔۔اُور۔۔۔ کبھی اپنے سفلی جذبات کو تسکین پُہنچانے کیلئے قریہ قریہ نقب لگائے پھرتے ہیں۔۔۔ جِس وقت میں نے  انٹرنیٹ پر اُور بالخصوص فیس بُک پر مُفت  رُوحانی علاج کا سلسلہ شروع کیا تھا۔ اُس وقت سرچ کرنے پر مجھے  غیر سیاسی عالمگیر تحریک ،، دعوت اسلامی،، کے عِلاوہ کوئی رُوحانی علاج کی سائٹ نظر نہیں آتی تھی۔۔۔ اُور دعوت اسلامی والے ماشاءَاللہ اتنے محتاط لوگ ہیں۔کہ،، فتنے کے ڈر سے خواتین سے بات ہی نہیں کرتے۔۔۔ جبکہ آج یہ حال ہے۔کہ آپ صرف روحانی لفظ لکھ کر سرچ کرلیجئے۔ تو آپکو سینکروں  ٹائٹل نظر آجائیں گے۔ جہاں پر حقیقی علاج کرنے والے لُوگ بھی یقیناً ہُونگے۔۔۔

لیکن ایسے لوگوں کی بھی کمی نہیں ہے۔ جو صرف لوگوں کے جذبات سے کھیلنے،اُور انہیں بلیک مِیل کرنے کیلئے میدان میں اُتر آئے ہیں۔۔۔ جنکے دعوے تو بڑے بڑے ہُونگے۔ لیکن اِن میں سے بعض تو وُہ بھی ہُونگے۔ جِن سے اگر آپ موٗکل کی اقسام اُور انکے طریقہ ،یا موکلین کے سردار کی بابت دریافت کرلیں۔ تو وُہ لوگ آپکو بغلیں جھانکتے نظر آئیں گے۔ جب کہ اُن سے بات کی جائے تو ایسے ایسے دعوے کہ الامان الحفیظ،، جیسے اُن سے بڑا
رُوحانی اِسکالر تمام رُوئے زمین پر  کوئی نہ ہُو۔۔۔ حالانکہ اُن میں ایسے بھی لُوگ موجود ہیں۔ جنہیں خُود نفسیاتی اُور رُوحانی علاج کی اشد ضرورت ہے۔ ۔۔

اے کاش  اِس کالم کو پڑھنے کے بعد  اللہ کریم کی توفیق سے کوئی جعلی عامل اپنی حرکتوں سے باز آجائے۔ تو میرے لکھنے کا مجھے ثمر مِل جائے۔  عاشقِ ماہِ رِسالت سیدی اعلحضرت اِمام احمد رضا  علیہ الرحمۃ الرحمن اپنے ایک فتوے میں اِرشاد فرماتے ہیں۔کہ،، نااِہل آدمی کا علاج کرنا حرام ہے،، اگرچہ وُہ ثواب کی توقع پر کام کررہا ہُو۔ لیکن ثواب کے بجائے وُہ اپنے لئے حرام عمل کی وجہ سے آخرت میں نار  جہنم کا سامان جمع کررہا ہُوتا ہے۔ اسلئے ایسے آدمی پر لازم ہے۔ کہ،، وُہ  علاج کا سلسلہ موقوف کردے۔ اُور اپنے گُناہ پر شرمندہ ہُوکر اللہ کریم کی بارگاہ میں خوب گڑگڑا کر  اپنے اِس عمل کی معافی طلب کرے۔۔۔لیکن یہ توفیق بھی ہر ایک کو نہیں مِلتی۔۔۔۔۔جِسے توفیق دے خدا۔ وُہ آخرت کو داوٗ پر لگائے کیوں۔۔۔؟

میں اپنے تمام اِسلامی بھائیوں اُور بہنوں سے التجا کرتا ہُوں۔کہ،، خُدارا ایسے جعلی عامِلوں کی بھرپور مذمت کریں۔۔۔ جب بھی کوئی رُوحانی مسئلہ در پیش آئے۔ تو کسی جید عالمِ دین سے رابطہ فرمائیں۔۔۔۔ اپنے راز کسی انجان آدمی کو نہ بتائیں۔ چاہے وُہ اپنے متعلق آپکو کتنا ہی یقین دِلانے کی کوشش کرے۔ بلکہ ہُوسکے تو اپنے رُوحانی مسائل کے لئے حتی الامکان،،  دعوت اسلامی ،، والوں سے رابطہ فرمالیں۔۔۔ جنکے مراکز دُنیا بھر کے بڑے بڑے شہروں اُور پاک و ہند کے ہر چھوٹے بڑے شہر میں موجود ہیں۔


مجھے چند اِسلامی بھائیوں اُور بہنوں نے بتایا ہے کہ،، چند لُوگ خُود کو میرا رُوحانی شاگرد بتا کر فیس بُک اُور دوسری سائٹس پر علاج کررہے ہیں۔ اسلئے میں آپ سب کو بتانا چاہتا ہُوں کہ،، فیس بُک ،، پر فی الحال میں نے صرف    محترم اِحسان الحق عطاری(  وارثی) بھائی کو رُوحانی علاج کی اِجازت دی ہے۔۔۔
دارالافتاء احکام شریعت کے ایڈمن حضرت قبلہ مفتی ،، ابو السعد محمد بلال رضا  (عطاری)قادری دامت برکاتہم عالیہ ہیں۔۔۔۔ معاونین میں کویت سے محترم کاشف اکرم (وارثی) بھائی ہیں۔ جبکہ   پوسٹوں کی شیرنگ اُور ایڈیٹنگ کے شعبے میں ،،محمد اِرشاد محمود عطاری (وارثی) بھائی کو اِجازت حاصل ہے۔ اِس وقت ٹوٹل تین پیج موجود ہیں۔  جبکہ چُوتھا پیج،، قانونی مشورے سے متعلق ہے۔ جسکی تکمیل کا کام جاری ہے۔ اُور اسکے ایڈمن محترم محمد آصف زئی (عطاری) ایڈوکیٹ ہائی کورٹ حیدرآباد ہونگے ۔ ۔۔اسکے علاوہ ایک  بلاگ اسپاٹ کا پیج ہے۔ جہاں میری تحریروں کیساتھ قبلہ مفتی محمد بلال قادری بھی ایڈمن کی صورت میں موجود ہیں۔۔۔ نیچے تمام پیج اور بلاگ کے لِنک موجود ہیں۔ اسکے علاوہ  فیس بُک ،، پر ہمارا کوئی پیج نہیں ہے۔ اگر آپ کسی ایسے شخص کو دیکھیں جو خود کو میرا،، رُوحانی شاگرد ،،ظاہر کرکے لوگوں کو رُوحانی علاج کی دعوت دے رَہا ہُو۔۔۔ تو برائے کرم مجھے فیس بُک پر ضرور اطلاع دیں۔۔۔
ہمارے تمام  لنک یہ ہیں۔۔۔





میں نے بُہت عرصہ قبل ہی اپنے تمام کالمز  سے استفادہ حاصل کرنے کی تمام صحیح العقیدہ مسلمانوں کو اجازت عام دے دی تھی۔۔۔ جسکی وجہ سے کافی اسلامی بھائیوں نے تو یہاں تک جراٗت کی ۔کہ،، انہوں نے میری تحریروں کو اپنے نام سے شئیر کرنا شروع کردیا۔۔۔ لیکن میں نے کبھی ایسے لوگوں سے باز پُرس نہیں کی۔۔۔ لیکن  دُوسروں کی تحریر کو  اپنے نام سے  آگے بڑھانا اگرچہ عِلمی خیانت میں شُمار ہُوتا ہے۔۔۔ لیکن اتنا خطرناک معاملہ نہیں ہے۔ ۔۔۔لیکن  نااِہل آدمی کا  علاج کرنا  ضرورایک خطرناک عمل  ہے۔۔۔ جسکا اَثر ناصرف روحانی مریضوں کو  حقیقی علاج سے دُور رکھتا ہے۔ بلکہ علاج کرنے والا بھی ایک نہ ایک دِن مصیبتوں میں گِھر کر رِہ جاتا ہے۔۔۔ جسکی وجہ سے نا صرف عامل رِجعت کا شکار ہُوجاتا ہے۔ بلکہ اُسکی فیملی کو بھی اِسکا خمیازہ بھگتنا پڑتا ہے۔۔۔۔ اُور جھوٹے دعووٗں کی وجہ سے آخرت الگ داوٗ پر لگ جاتی ہے۔


ایسا ہی ایک واقعہ پڑھنے کیلئے ،، جب گاما بن گیا شاہ جی،، کا کالم یہاں کلک کر کے  ضرور پڑھیں ۔

جب گاما بن گیا ،،شاہ جی،،


چند دِن قبل صبح  فیکٹری کے آفس میں  داخل ہُوتے ہی اِحسان وارثی بھائی کو دیکھا۔ تو حیرت کیساتھ بے حد خُوشی بھی ہُوئی۔ میں نے سلام دُعا کے بعد خُوش مزاجی سے صبح اتنی جلدی آنے کا سبب دریافت کیا۔ تو فرمانے لگے۔ روحانی پیج کے سوالات کو نمٹانے کیلئے یکسوئی کی تلاش تھی۔ اُور کچھ سوالات کے جوابات دینے کیلئے آپکی مدد بھی درکار تھی۔ ۔۔سُو مجھے اِس سے بہتر جگہ اُور کہاں مُیسر آسکتی تھی۔۔۔؟  کچھ دیر تک احسان بھائی مشاورت کے بعد جوابات مرتب کرنے بیٹھ گئے۔۔۔ پھر اچانک کچھ یاد آنے کے سبب مجھ سے گُویا ہُوئے۔ عشرت بھائی ایک اُور معاملے میں بھی آپکی مدد  اُور رہنمائی کی ضرورت ہے۔۔۔ میں نے مُسکرا کر کہا۔ کیسی مدد چاہیئے۔۔۔؟

عشرت بھائی کافی لُوگ آپکی تحریروں کی مدد سے لوگوں کے علاج کی سعی کرتے ہیں۔۔۔ اُور اِس میں کامیاب بھی رِہتے ہیں۔۔۔ لیکن مجھے آج ایک اسلامی بہن اُور اِسلامی بھائی کے لئے خاص اِجازت درکار ہے۔۔۔ ویسے تو بیشمار لوگوں نے روحانی علاج کرنے کیلئے آپکی اِجازت طلب کی ہے۔ لیکن میں جِن ۲ لوگوں کا تذکرہ کررہا ہُوں۔ یہ دُونوں کافی دِن سے میرے رابطے میں ہیں۔ اور اپنے علاقے میں کافی لوگوں کے رُوحانی علاج میں کامیابی حاصل کرچُکے ہیں۔ اِن میں سے  ایک خاتون تو کراچی میں رِہائش پذیر ہیں۔ جبکہ اسلامی بھائی کا تعلق  خیبر پختونخواہ  کے ایک شہرسے ہے۔۔۔۔

اگر آپکو لگتا ہے ۔کہ،، وُہ مناسب لُوگ ہیں۔ تو آپ خود ہی اِجازت مرحمت فرمادیتے۔آپکی اجازت بھی تُو میری ہی اِجازت ہے۔ ۔۔میں نے ایکبار پھر احسان بھائی کو مُسکرا کر دیکھتے ہُوئے کہا۔۔۔بھائی یہ تو آپکی محبت ہے۔کہ،،آپ مجھے اِس قابل سمجھتے ہیں۔ لیکن میں آپکی رائے معلوم کرنا چاہتا ہُوں۔ اُس کے بعد ہی اُن لوگوں کو جواب دُونگا۔۔۔۔ میں نے  کچھ سُوچتے ہُوئے اِحسان بھائی کو مشورہ دِیا ۔کہ،، اِس معاملے میں استخارہ کرلیتے ہیں۔ اگر اجازت مِل گئی تو۔ اُنہیں بھی اِجازت دیدیں گے۔ اُور اگر وُہ اِس مقدس مِشن کے لائق نہ ہُوئے تو  اُنہیں محبت سے ٹال دیجئےگا۔۔۔ احسان بھائی کچھ لمحے خاموش رہے۔ پھر کہنے لگے ۔بھائی آپ تو ہمیشہ لوگوں کو بُہت آسانی سے اِجازت دیدیتے ہیں۔ لیکن آج آپ نے استخارے کی شرط لگادی ہے۔ میں نے اِحسان بھائی کی پریشانی بھانپتے ہُوئے اُنہیں  اپنی زندگی کا ایک سبق آموز  واقعہ سُنانے کا قصد کیا۔ تاکہ،، اُنکی پریشانی دُور ہُوسکے۔

یہ ۲۰۰۸ کا واقعہ ہے۔ مجھ سےمیرے ایک   راجپوت دُوست نے ایک شخص کا ماجرا بیان کیا۔ اُنکے بقول ۔ پنجاب سے ایک فیملی نے دُو سال قبل نقل مکانی کرتے ہُوئے۔ ہمیشہ کیلئے میرپورخاص میں سکونت کا فیصلہ کیا تھا۔۔۔ اُن لوگوں کی پنجاب میں کچھ آبائی زمین تھی۔ جِس پر خاندانی تنازعے کی وجہ سے کئی افراد قتل ہُوچکے تھے۔ بلاآخر یہ صاحب اپنا حصہ اُونے پُونے داموں بیچ کر میرپورخاص شفٹ ہُوچکے تھے۔۔۔

  اُور اچھا خاصہ بزنس بھی سیٹ کرچکے تھے۔لیکن گُذشتہ چند ماہ سے اُن پر جنات قابض ہیں۔۔۔ ایک ہندوٗ سے رُوحانی علاج بھی چل رہا ہے۔ لیکن اِس چکر میں لاکھوں روپیہ وُہ ہِندو عامل اینٹھ چُکا ہے۔۔۔ جبکہ مسلسل بیماری کی وجہ سے کاروبار بھی ختم ہُوچکا ہے۔۔ سِوائے ذاتی مکان کے کچھ بھی باقی نہیں بچا۔۔۔گھر کا خرچ پُورا کرنے کیلئے اُنکے بچے جگہ جگہ نوکری کررہے ہیں۔۔۔۔ بیچارے زمیندار لُوگ تھے۔۔۔ اُنہیں کیا معلوم تھا۔کہ،، ہجرت کے بعد بھی سکون نہیں مِلے گا۔۔۔  دُوسری طرف بھابی جی کا بُہت بُرا حال ہے۔۔۔ ایک طرف شوھر کی بیماری۔۔ دوسری طرف گھر کے بے پناہ خرچے آج بھابی نے میری بیوی سے کہا کہ،، گھر کے اخراجات پُورے کرنے کیلئے اگر کسی بڑے گھر میں ماسی کی نوکری مِل جائے ۔تو میں خوشی خُوشی وُہ بھی  کرنے کیلئے تیار ہُوں۔۔۔جب میری بیوی نے مجھے یہ بات بتائی تو نجانے کیوں۔ میرے دِل میں یہی خیال آیا۔ کہ ،، میں عشرت بھائی کو سارا ماجرا سُناوٗں گا۔ شائد کوئی سبیل نِکل آئے۔ ۔۔ عشرت بھائی اگر آپ ایک نظر اُنکے گھر چل کر تمام معاملہ دیکھ لیں تو بڑی مہربانی ہُوگی۔


کچھ تو یہ قصہ بڑا دردناک تھا۔ پھر آنے والا بھی  میرابڑا خودار  مُخلص دُوست تھا۔ ۔۔۔اسلئے انکار کی کوئی گُنجائش ہی نہیں تھی۔۔۔ ورنہ  عموماًمیں کسی کے گھر جا کر علاج نہیں کرتا۔ بہرحال قصہ مختصر میں حسب وعدہ اُس شام اپنے دُوست کے گھر جا پُہنچا۔ جو کہ،، شہر کے مضافات میں واقع تھا۔ میرے وُہ دُوست مجھے مریض کے گھر لےگئے۔۔۔ گھر کی  اندرونی حالت سے مجھے اندازہ لگانے میں بالکل مشکل پیش نہیں آئی۔کہ،، اُنکا واقعی بُہت غریبی حال چل رہا تھا۔ مریض کا نام رفیق تھا۔  مگر  میرا دُوست  رفیق کو گامے کے نام سے مخاطب کررہا تھا۔۔۔۔ حالانکہ اکثر لوگ رفیق کو فیقے سے بدل دیتے ہیں۔ جو کہ صریح غلط طریقہ ہے۔کہ انسان پر اچھے نام کے اچھے اثرات جبکہ بُرے نام کے بُرے اثرات مُرتب ہُوتے ہیں۔۔۔

گامے کی حالت دیکھ کر بظاہر ایسا لگ رہا تھا۔ جیسے وُہ اپنی زندگی کی آخری سانسیں گِن رہا ہُو۔ گھر کی لائٹ شائد بِل نہ بھرنے کے سبب کٹ چکی تھی۔۔۔ اُور گامے کے جسم پر مکھیاں بھنبنا رہی تھی۔ ۔۔ جبکہ قریب ہی ایک دوسری چارپائی پر بیٹھا  ایک بوڑھا شخص حقے کی نِے سے شغل میں مصروف تھا۔ ۔۔  میں نے ایک خالی گوشے میں بیٹھ کر استخارہ کیا۔ تب مجھے معلوم ہُوا۔کہ گامے پر کوئی جن قابض نہیں تھا۔۔۔ بلکہ اُس پر شدید قسم کا کالا عِلم کیا گیا تھا۔۔۔ جو کہ،، عموماً جانی وار کرنے کیلئے کیا جاتا ہے۔ دوسری بات میرے عِلم میں جو آئی۔ وُہ میرے لئے بھی حیران کُن تھی۔ کہ،، جس ہندو عامل سے گامے کا علاج کروایا جارہا تھا۔۔۔ وُہ بھی دَرپردہ گامے کے دُشمنوں سے مِلا ہُوا تھا۔۔۔ اُور بجائے کالے علم کا توڑ کرنے کے وُہ خُود اُس جادو کو تقویت بخش رَہا تھا۔جوکہ،، گامے کو ہلاک کرنے کیلئے کیا گیا تھا۔

میں نے تمام صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد۔ پہلے تو گامے اُور اپنے دُوست کو سمجھایا۔ کہ آپ لوگ کیسے مسلمان ہیں۔۔؟ جو ایک مسلمان کا روحانی علاج کرنے کیلئے ایک ہندو سے رابطہ کررہے ہیں۔ اگر آپ یہ سوچ کر علاج کروارہے ہیں۔ کہ وُہ ہِندو عامل آپکی کچھ مدد کرپائے گا۔ تو  آپ لُوگ غلط  سُوچ رہے ہیں۔۔۔اُور یہ بالکل غلط طریقہ ہے۔۔۔ کیونکہ ہم مسلمان ہیں۔ اور اللہ کریم کے کلام اور اسکے اسمائے مبارکہ میں ایسی قوت ہے۔کہ دُنیا کا کوئی عِلم اسکا مقابلہ نہیں کرسکتا۔۔۔ دوسری بات یہ ہے۔کہ،، گامے پر جنات کے اثرات نہیں ہیں۔ بلکہ ایک غلیظ قسم کا جادو کیا گیا ہے۔۔۔ جسکا علاج انشاءاللہ عزوجل میں  قران مجید کی آیات سے کردونگا۔۔۔ اسلئے گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے۔ لیکن آپ لوگوں کو اسکے عوض مجھ سے ایک وعدہ کرنا ہُوگا۔ کہ،، چاہے کچھ بھی ہُوجائے آپ لوگ آئندہ اُس ہندو عامل سے رابطہ نہیں کروگے۔۔۔۔۔ میں نے جان بُوجھ کر ہِندوٗ عامل کی شرارت کا تذکرہ نہیں کیا تھا۔ ورنہ گامے کی فیملی کیساتھ  ساتھ گاما  خود بھی ذیادہ ڈر سکتا تھا۔۔۔

پہلے ہی ہفتے کے علاج کی برکت سے گامے نے بفضل خُدا چارپائی چھوڑ دی۔۔۔ میں صرف اپنے دُوست کے اِصرار پر ایک سے زائد مرتبہ خود اسکے علاج  کیلئے گامے کے گھر پر جاتا رہا۔ نتیجتاً صرف ایک ہی ماہ میں گاما بالکل ہشاش بشاش نظر آنے لگا۔۔۔ اُور کچھ کام دھندے کی ترکیب بھی بن گئی۔ علاج مکمل ہُونے کے باوجود گامے نے میری فیکٹری پر آنا جانا نہیں چھوڑا۔۔ ایک دِن کافی لوگوں کی بھیڑ دیکھ کر گاما مجھے کہنے لگا۔ اقبال بھائی آپ لُوگوں سے کچھ نذرانہ کیوں نہیں لیتے۔۔۔۔؟ میں نے مسکرا کر اسکی طرف دیکھ کر کہا۔۔۔ اللہ کریم نے مجھے محتاج اُور لاچار پیدا نہیں کیا ہے۔ پھر اِس فیکٹری سے مجھے ضرورت سے ذیادہ آمدنی ہُوجاتی ہے۔۔۔ پھر بھلا میں کیوں لُوگوں سے روحانی علاج کیلئے  رقم مانگوں۔۔۔۔میرا جواب سُن کر اُس سے کوئی دلیل نہ بن پڑی تو وُہ خاموش ہُوگیا۔۔۔ اِس واقعہ کے چند دِن بعد گامے نے مجھ سے فرمائش کی۔۔۔ کہ،، میں گامے کو اپنی شاگردی میں لے لُوں۔ میں نے گامے کا دِل رکھنے کیلئے اُسے اپنی شاگردی میں قبول کرلیا۔۔۔۔  میں پُوری ایمانداری سے گامے کی تربیت کرنے میں مشغول تھا۔لیکن گامے کو بُہت جلدی تھی۔۔۔ وُہ دیگر  ابتدائی وظائف کے بجائے ڈائریکٹ آخری سیڑھی تک پُہنچنا چاہتا تھا۔ پھر اُس نے ضد کی کہ،، پہلے مجھے استخارہ کرنا سِکھا دیں۔ اور جادو کے علاج کا طریقہ سِکھادیں۔۔۔ باقی وظائف میں بعد میں کرلوں گا۔

میرے کافی سمجھانے کے بعد بھی جب گامے کی سمجھ میں میری بات نہیں آئی۔ تو میں نے گامے کو استخارہ کرنے کا طریقہ ، اور جادو کی کاٹ کا طریقہ سِکھا دیا۔۔۔ میں نے اُسے جانچنے کیلئے کئی مرتبہ اپنے سامنے استخارہ کروایا۔ ایک  دو لوگوں کی کاٹ بھی کروائی۔ جِسکے بعد گامے نے نہایت احسن انداز میں میرے سامنے  ہی اُن لوگوں کی کاٹ کا عمل کیا۔۔۔ گامے کا باادب انداز دیکھ کر میرے دِل میں کبھی یہ خیال نہیں گُزرا کہ،، گاما اپنے دِل میں کیسے کیسے پلان مرتب کررہا ہے۔۔۔۔ وُہ میرے لاکھ منع کرنے کے باوجود بھی مجھے عجیب عجیب القاب سے پُکارتا۔۔۔ جِسے سُن کر دوسرے لوگ بھی اُسکے عشق و ادب کے گرویدہ ہُوجاتے تھے۔ کبھی  وُہ مجھے وڈی سرکار، کبھی مُرشد کہہ کر پُکارتا۔۔ کبھی میری چپل اپنے سینے سے لگا لیتا۔۔۔ تو کبھی اپنے سر پہ رَکھ لیا کرتا۔۔۔ اُسکے عشقیہ انداز دیکھ دیکھ کر کبھی کبھی تو میں بھی شرمندہ ہُوجاتا۔ کہ کہاں مجھ جیسا مجرم و گنہگار ۔اُور کہاں اُسکے القاب و انداز۔۔۔!

کچھ عرصہ مزید گذرنے کے بعد ایک دن گامے نے مجھ سے روحانی علاج کی اجازت طلب کی۔ اُس کا کہنا تھا۔کہ،، ہندو عامل کی وجہ سے کالونی کے اکثر لُوگ پریشان ہیں۔۔۔ اگر آپ مجھے اجازت عطا کردیں گے تو میں کالونی کے لُوگوں کی مدد کرنا چاہتا ہُوں۔۔۔ میں نے گامے کو اِجازت دینے کے بعد پیار سے سمجھایا کہ،، لوگوں کا علاج ضرور کرنا۔ مگر اُن سے کسی قسم کا فائدہ مت اُٹھانا۔۔ اور نہ ہی کوئی نذرانہ وصول کرنا۔۔۔ ورنہ لالچ کا پودا دِل میں جگہ بنا لے گا۔۔۔۔ گامے نے استفسار کیا۔ حضرت صاحب کیا روحانی علاج کا نذرانہ لینا گناہ ہُوتا ہے۔۔۔ ہمارے پنجاب میں تو بڑے نذرانے کا رواج ہے۔۔۔ میں نے اُسے محبت سے سمجھاتے ہُوئے کہا،، رواج تو ہمارے سندھ میں بھی ہے۔ اُور نذرانہ لینے میں کوئی گناہ بھی نہیں ہے۔ مگر اِس سے بندے کے دِل میں حرص  پیدا ہُوجانے کا خدشہ ہے۔۔۔ جس طرح میں نے تُمہارا علاج فی سبیل اللہ کیا تھا۔ تم بھی ہمیشہ لوگوں کا فی سبیل اللہ علاج کرنا۔

اِس واقعہ کے بعد گامے نے رفتہ رفتہ میرے پاس آنا کم کردیا۔۔۔ یہاں تک کہ،، مجھے اُسے دیکھے ہُوئے چھ ماہ سے زائد کا عرصہ گُزرگیا۔۔۔ کام کی مصروفیت کی وجہ سے میرے ذہن سے بھی گامے کا خیال دھندلا گیا۔ البتہ کبھی کبھار لوگوں کی زُبانی معلوم ہُوجاتا تھا۔ کہ،، گامے نے گھر میں آستانہ قائم کرلیا ہے۔ اُور کافی لُوگ روحانی علاج کے سلسلے میں گامے کے پاس آتے ہیں۔

ایک دِن میں شہر سے باہر تھا۔ کہ،، مجھے اپنے شہر سے ایک کال موصول ہُوئی۔۔۔  فون کرنے والا مجھ سے فوری طور پر ایک مریض کے سلسلے میں مِلنا چاہتا تھا۔ جبکہ مجھے واپس جانے میں کئی دِن لگ سکتے ہیں۔۔۔ میں نے اُس بندے کا عِلاقہ معلوم کیا۔ تو مجھے معلوم ہُوا۔کہ،، وُہ شخص گامے کی کالونی سے متصل علاقے کا رہنے والا ہے۔۔ سُو میں نے اُسے گامے کا پتہ بتاتے ہُوئے کہا۔۔۔ کہ گاما میرا شاگرد ہے۔ اُسے میرا سلام دینا۔ اُور فی الحال  آپ اُس سے رابطہ کرلو۔۔۔ اُس شخص نے کہا۔ ہم گامے شاہ جی کے پاس پاس جاچُکے ہیں۔۔۔ لیکن وُہ بُہت تگڑی رقم مانگ رہے ہیں۔ جو کہ ہم  غریب لُوگ نہیں دے سکتے۔ ہمیں کسی نے آپکا بتایا تھا۔کہ،، آپ فری علاج کرتے ہیں۔۔۔ سُو  آپ سےرابطہ کرلیا لیکن آپ بھی شہر سے باہر ہیں۔۔۔۔۔۔ میں نے  اُسے پیار سے سمجھاتے ہُوئے کہا۔۔۔ بھائی آپکو ضرور کچھ غلط فہمی ہُوئی ہے۔ میں جس گامے کے متعلق آپکو بتا رہا ہُوں۔۔۔ وُہ شاہ جی نہیں ہے۔بلکہ ذات کا جٹ ہے۔ جب آپ میرا سلام دے کر اُسکے پاس جاوٗ گے۔ تو میرا والا گاما آپ سے انشاءَ اللہ ایک پیسہ بھی نہیں مانگے گا۔

میں چند دِن بعد جب اپنے شہر پُہنچا تو وہی شخص جس نے مجھ سے فون پر رابطہ کیا تھا ۔ اگلے ہی دِن آدھمکا ۔۔۔ میں نے جب گامے سے مُلاقات کا احوال معلوم کیا۔ تو وُہ شخص نہایت افسردہ انداز میں کہنے لگا۔۔۔ جناب ہم آپ کے کہنے پر گامے شاہ جی کے گھر دُوبار گئے تھے۔۔۔ لیکن جب ہم نے آپکا نام بتا کر اپنا مسئلہ بیان کیا تو گامے شاہ جی  نےآپکو پہچانا ہی نہیں۔۔۔۔ وُہ کہتے ہیں،، میں کسی عشرت اقبال وارثی کو نہیں جانتا،، اُور نہ ہی  کوئی وارثی میرا اُستاد ہے۔میرے  رُوحانی اُستاد تو میرے ماموں ہیں۔ یا  میرے مُرشد ہیں۔ جو پنجاب میں ہُوتے تھے۔ اُور چند سال پہلے ہی وصال فرماچکے ہیں۔۔۔  اگر تُم لُوگ دس ہزار روپیہ دے سکتے ہُو۔ تو میں علاج کیلئے تیار ہُوں۔۔۔ ورنہ اپنی راہ لُو۔۔۔۔پتا نہیں مجھے کیوں ایسا لگا۔ کہ،، یہ شخص مجھ کو میرے  رُوحانی بیٹے گامے سے متنفر کرنے کی کوشش کررہا ہے۔ کیونکہ گامے کے ادب و عشق کا سارا منظر آج بھی میری آنکھوں میں تازہ تھا۔۔۔

میں نے اُن  لُوگوں سے مریض کی بابت معلوم کیا۔تو اُنہوں نے بتایا کہ،، مریض کی حالت ایسی ہرگز نہیں ہیں۔کہ،، اُسے گھر سے یہاں تک لایا جاسکے۔ اگر آپ کرم فرمادیں تو ہم رکشہ لے آتے ہیں۔ آپ گھر چل کر دیکھ لیں۔۔۔۔ شائد کوئی اُور وقت ہُوتا تو میں اُن لوگوں سے گھر چلنے سے معذرت کرلیتا۔ لیکن آج میرا بھی بُہت دِل چاہ رہا تھا۔کہ،، اپنے گامے کو اپنی آنکھوں سے دیکھ کر تمام شکوک و شبہات کو دِل سے کھینچ کر ہمیشہ ہمیشہ کیلئے باہر نِکال دُوں۔۔۔ میں نے اُن سے کہا رکشہ کی ضرورت نہیں ہے۔ میں اپنی سواری پر عصر کی نماز  کے بعد گامے کے گھر پُہنچ جاوٗنگا۔۔۔ اُور مغرب کے بعد آپ لوگوں کے ساتھ چلدوں گا۔ اسلئے آپ لُوگ بھی مغرب سے قبل گامے کے گھر آجانا۔۔۔

میں جب عصر کی نماز کے بعد گامے کے گھر پر پُہنچا تو حیرتیں میری منتظر تھیں۔۔۔ گامے کا گھر ایک عالیشان کوٹھی کا منظر پیش کرہا تھا۔ جبکہ اِس کوٹھی کے ڈرائینگ رُوم کے اندر  تا باہر مَرد و خواتین کی الگ الگ قطار لگی ہُوئی تھی۔ جو کہ اپنی باری پر اندر موجود گامے سے ملاقات کیلئے بے چین نظر آرہے تھے۔ جبکہ ڈرائنگ رُوم کے باہر ایک تختی پر نظم و ضبط سے متعلق ہدایات موجود تھیں۔۔۔ لیکن جس بات نے مجھے سب سے ذیادہ حیرت میں مُبتلا کیا۔ وُہ گامے کے نام کیساتھ ،،شاہ جی،، کا جلی حروف میں اضافہ تھا۔۔۔ میں ورطہ حیرت میں مُبتلا تھا۔ کہ  ،،گاما رَاتوں رات سَیّد کیسے بن گیا،، اچانک میری نظر گامے کے چودہ سالے بیٹے پر پڑی۔ جو مجھے پہچان کر میرے نذدیک آگیا تھا۔۔۔ مجھے چونکہ مغرب کے بعد علاج کیلئے بھی جانا تھا۔ سُو میں نے گامے کے بیٹے کو پیار کرتے ہُوئے کہا۔ کہ،، بابا سے کہو ۔۔۔ مجھے کہیں جانا ہے۔ اِس لئے جلد مُلاقات کرلیں۔۔۔ میرا خیال تھا۔کہ،، جیسے ہی گاما میرے متعلق سُنے گا۔ وُہ اُستاد جی کہتا ہُوا۔ ننگے پاوٗں دوڑتا ہُوا چلا آئے گا۔

 کافی دیر گُزر گئی لیکن گاما نہیں آیا۔۔۔ کچھ دیر بعد وہی بچہ اندر کوٹھی سے برآمد ہُوا۔ اُور میرے پاس آکر کہنے لگا۔۔۔  شاہ جی فرمارہے ہیں۔کہ،، ابھی میں بُہت مصروف ہُوں۔۔۔آپ یا تو اپنی باری کا انتظار کرلیں۔ یا کسی اُور دِن وقت لے کر آجائیں۔۔۔۔۔۔ مجھے اگر لُوگوں کی موجودگی کا اِحساس نہ ہُوتا۔ تو میں شائد وہیں صدمے سے ڈھیر ہُوجاتا۔۔۔ کچھ ہی دیر میں وُہ لُوگ بھی وہیں پُہنچ گئے۔ جنکے گھر مجھے علاج کیلئے جانا تھا۔۔۔ میں مزید شرمندگی سے بچنے کیلئے خاموشی سے اُن لُوگوں کیساتھ یہ سُوچ کر چل دیا۔۔۔ کہ،، آج چاہے جو بھی ہُوجائے۔ میں گامے سے ملاقات کئے بغیر واپس  اپنے گھرنہیں جاوٗنگا۔

مریض پر دَم کرنے کے بعد میں واپس تنہا گامے کی کوٹھی پر چلا آیا۔ مجھے مریض کے اہل خانہ کی زُبانی معلوم ہُوا کہ،، گامے شاہ  ظہر کے بعد سے لیکر عشا کی نماز تک لوگوں پر  لگاتار دَم کرتا ہے۔ لیکن ایک بھی نماز پڑھنے کیلئے اپنی نشست سے اُٹھ کر نہیں جاتا۔ اُور گامے شاہ کے چمچوں نے لوگوں میں یہ بات مشہور کردی ہے کہ،، گامے شاہ رُوحانی طور پر تمام نمازیں حرمِ پاک میں ادا کرتا ہے ۔۔۔ ۔۔۔اُس وقت کہیں کہیں سے اَذان عشاء بُلند ہُونے لگی تھی۔۔۔۔ گامے کے گھر سے لُوگوں کا رَش چھٹ چُکا تھا۔۔۔ ڈرائینگ رُوم میں  داخل ہُونے کے بعد میری نِگاہ    چند خواتین اُور گامے پر پڑی  جو بڑے انہماک سے ایک خاتون کے علاج میں مصروف تھا۔۔۔ میں خاموشی سے ایک کُونے میں بیٹھ گیا۔ گاما عجیب انداز سے اُس خاتون کی کمر اُور پسلیوں میں چٹکیاں بھر کر،، باہر نِکل، باہر نِکل ،، کی صدائیں بُلند کررہا تھا۔ دُوران علاج ایک مرتبہ گامے کی نِگاہ مجھ پر پڑی لیکن اُس نے مجھے کوئی خاص اہمیت نہیں دِی۔

تھوڑی دیر بعد جب وُہ خواتین  گامے کے سامنے اچھے خاصہ نزرانہ رکھ کر چلی گئیں۔۔۔ تب گامے نے خالی کمرے میں ایک طائرانہ نِگاہ دُوڑانے کے بعد مجھے مُخاطب کرتے ہُوئے کہا،، وارثی صاحب  آج ساڈی ضرورت کیوں پئے گی  تُہاں نُوں۔۔۔ میرا خیال تھا کہ،، مجھے پہچاننے کے بعد وُہ میرے قریب آجائے گا۔ لیکن وُہ اپنی مسند سے ٹس سے مَس نہ ہُوا۔۔۔ مجبوراً مجھے ہی آگے بڑھ کر اُسکی مسند کے  قریب جانا پڑا۔۔۔  گامے یہ سب کیا کررہے ہُو۔۔۔؟  کیا میں نے اِجازت دیتے ہُوئے تُم کو نذرانوں  اُور خواتین سے بالمشافہ ملاقات سے منع نہیں کیا تھا۔۔۔۔؟ میں نے گامے سے استفسار کیا۔۔۔۔۔ کیہڑی اِجازت وارثی صاحب۔۔۔ میں کوئی لاوارث نئیں آں۔۔۔ میرے  تےاپنے ماموں  بُہت وڈے عامل ہیں۔ میں اپنے ماموں دی اجازت لیکر لوکاں دا علاج کرریا واں۔۔۔۔ میں گامے کے بدلے تیور دیکھ کر حیران تو تھا ہی۔ لیکن میں جانتا تھا۔ کہ میں جتنے سوالات کرتا جاوٗں گا بات اُتنی ہی آگے بڑھتی چلی جائے گی۔۔۔ ورنہ  گاما میرے اِس ایک سوال کا بھی جواب دینے کے قابل نہیں تھا۔۔۔ کہ جب تُمہارے ماموں اتنے بڑے اُور پُہنچے ہُوئے عامل کامل تھے۔۔۔ تو اُس وقت تُمہاری مدد کو کیوں نہیں آئے۔۔۔۔؟ جب تُم بستر مَرگ پر پڑے ایڑیاں رگڑ رہے تھے۔۔۔ اور ماموں خود تجھے ہندو جوگی کے در پر لیجاتے تھے۔

لیکن میں جانتا تھا۔کہ میرے سوالات اُسے مزید جھوٹ کی دلدل میں غرق کرتے چلے جائیں گے۔۔۔ کیونکہ گامے کے مُنہ کو خُون لگ چکا تھا۔۔۔ دولت کی چمک نے اُس کی آنکھوں کو خیرہ کردیا تھا۔۔۔۔ لوگوں کی بھیڑ نے اُسکے قلب کی چمک چھین لی تھی۔۔۔ اسلئے اُسے آج اپنے محسن سے بھی خطرہ محسوس ہُونے لگا تھا۔۔۔۔

گامے ،،تُم مجھے یہ بتانا چاہ رہے ہُو۔۔۔ کہ یہ تمام  کرامتیں  اُور کمالات تُم میں تُمہارے ماموں نے ڈالی ہیں۔۔۔ اُور تُمہیں رُوحانی عِلاج کیلئے میری اجازت کی بالکل ضرورت نہیں ہے۔ ۔۔؟میں نے بڑے دِل گرفتہ انداز میں گامے سے آخری مرتبہ استفسار کیا۔۔۔۔ جی وارثی صاحب  تُساں سہی سمجھے ہُو۔۔۔ نہ مجھے پہلے تمہاری اجازت کی ضرورت تھی۔۔۔ اُور نہ آج ہی ضرورت ہے۔۔۔ گامے نے دُو ٹوک انداز میں جواب دیتے ہُوئے کہا۔۔۔۔۔ میں نے  الوداعی مُصافحہ کیلئے ہاتھ بڑھایا۔ تو گامے نے بھی بحث سے جان چھڑانے کیلئے دیوار سے ٹیک لگائے ہُوئے ہاتھ بڑھا دیا۔


میں نے  ایک لمحے کیلئے گامے کے ہاتھ کو مضبوطی سے دباتے ہُوئے کہا،، چُونکہ   آپکو میری اجازت کی ضرورت نہیں ہے۔ اُور نہ ہی آپکو میرا طریقہ پسند ہے۔ سُو آج میں اپنی اِجازت واپس لیتا ہُوں۔ اتنا کہنے کے بعد میں نے ایک جھٹکے سے اپنا ہاتھ گامے کے ہاتھ سے کھینچ لیا۔۔۔  اِس واقعہ نے مجھے اجازت کے معاملے میں بُہت محتاط بنا دیا تھا۔۔۔۔ کئی دِن تک میں بُہت افسردہ رَہا تھا۔۔۔ پھر دھیرے دھیرے  تمام معملات معمول پر آتے چلے گئے۔

میں نے کہانی ختم کرنے کے بعد احسان بھائی کے چہرے کی طرف دیکھا۔۔۔ تو اُنکی آنکھوں سے موتی ٹپک ٹپک کر زمین پر بِکھر رہے تھے۔۔۔۔ عشرت بھائی پھر گامے کا کیا ہُوا۔۔۔؟ احسان بھائی نے رُومال سے اپنی آنکھوں کو پُونچھتے ہُوئے کہا۔۔۔ 

گاما تین مہینے بعد اُسی مقام پر پُہنچ گیا۔۔۔ جس جگہ سے میں نے اُسے تھاما تھا۔۔۔۔ وُہ  ایکبار پھر میرے پاس آیا تھا۔۔۔ مجھ سے بُہت معافی مانگی اُور پھر سے   اپنے علاج  اُور اپنی شاگردی میں لینے کی درخواست کی۔۔۔ مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حدیث یاد تھی۔ کہ،، مومن ایک ہی سُوراخ سے ۲ بار نہیں ڈسا جاتا۔۔۔ سُو میں نے علاج کا وعدہ کرتے ہُوئے۔ سختی کیساتھ دُوباہ آنے کیلئے منع کردیا۔۔۔ میں نے ایکبار پھر اُسکی کاٹ ضرور کی۔ لیکن اُسے پھر کبھی شاگردی میں قبول نہیں کیا۔۔۔ کیونکہ مجھے پھر  کبھی استخارے میں اسکی اجازت نہیں مِلی۔۔۔ اے کاش میں نے اُسے  پہلی مرتبہ اجازت دیتے ہُوئے استخارہ کرلیا ہُوتا۔ تو مجھے  یہ صدمہ کبھی سہنا نہیں پڑتا۔۔۔ 

Friday, 31 May 2013

جل پریاں حقیقت یا فسانہ۔۔۔؟


محترم قارئین السلامُ علیکم کائنات میں اللہ عزوجل نے بے شُمار مَخلوقات پیدا فرمائی ہیں ۔اِن میں بعض وہ ہیں جِنہیں دیکھنے سے ہماری آنکھ قاصر ہیں جیسے فرشتے ۔ جنّات وغیرہ اور بعض وہ مخلوقات ہیں جنہیں ہم دیکھ تو سکتے ہیں۔ لیکن وہ ہماری پُہنچ سے بُہت  دور ہیں۔۔۔ آپ نے بچپن میں اکثر پریوں اور جل پریوں کی کہانی ضرور سُنی ہوگی۔ بعض لوگ اِسے صرف کہانی کی حد تک ہی مانتے ہیں۔ جبکہ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ یہ مخلوقات اجسامِ دُنیا میں ایسے ہی موجود ہیں جیسے ہم اور آپ۔۔۔ آئیے دیکھتے ہیں اِس میں کتنی حقیقت ہے اور کِتنی کہانی ہے۔

قُرآنِ مجید میں جا بَجا اللہُ سُبحانہُ تعالیٰ نے انسان کے ساتھ جِنّات کا تذکرہ فرمایا ہے جِس میں سے ایک مشہور آیت آپ نے ضُرور سُنی ہوگی (وما خَلَقتُ الجِنَّ والانِسَ اِلا لِیَعبُدُون) ہے جس کا مفہوم کچھ یوں ہے کہ : ہم نے انسانوں اور جِنّات کو اِس لئے پیدا فرمایا کہ وہ ہماری عِبادت کریں۔

اِن آیات کے تِحت ہم پر لازم ہو گیا کہ ہم جِنّات پر یقین رکھیں کہ قُران کی آیت کا انکار کُفر ہے اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے۔کہ،، کیا پریوں کا بھی وُجود ہے۔ تو مُحترم قارئین جب جِنّ کا وُجود ثابت ہوگیا تو کیا جِّنِی کا وُجود نہ ہوگا۔۔۔؟ ہم جب بیتُ الخلا میں داخِل ہوتے ہیں تو کیا دُعا پڑھتے ہیں۔۔۔؟ یہی نہ کہ اے اللہ عزوجل میں تیری پناہ چاھتا ہوں خَبِیث جِنُّوں اور جِنّیوں سے۔۔۔ اب معلوم یہ ہُوا کہ جِنِّی کا وَجود بھی ہے تو محترم قارئین پری بھی جِنّی ہے یہ کوئی الگ مَخلوق نہیں ہے۔ بلکہ عام جِنّی اور پَری میں وَہی فَرق ہے جیسے ایک عام دراز گوش اور عربی نسل گُھوڑے میں فرق ہوتا ہے۔ ایک عام جِنّیِ کے پر نہیں ہوتے جبکہ پری کے پر بھی ہوتے ہیں اور یہ دیکھنے میں بھی جاذِب نظر ہوتی ہے۔ اِن میں قبائل بھی ہوتے ہیں اور جِس طرح ہمارے یہاں نسل اور قبائل پہ فَخر کیا جاتا ہے بالکل ویسے ہی اُن میں بھی اعلٰی قبائل دوسروں پر فخر کرتے ہیں۔۔۔ مثال کے طور پر قبیلہ ایمن یہ قبیلہ نہائت مُعزز قبیلہ مانا جاتا ہے۔

اِسی طرح بیشُمار قبائل پریوں میں بھی موجود ہیں یہ تو بات ہوگئی پریوں کی اور مُجھے اُمید ہے آپ کو یہ مضمون پڑھنے میں لُطف بھی آرہا ہوگا آئیے اب کچھ بات جل پریوں کے بھی مُتعلق کرلیتے ہیں۔

جل سنسکرت زُبان کا لفظ ہے جسکے معنٰی ہیں پانی اور پری فارسی زُبان کا لفظ ہے جسکے لغوی معنٰی ہیں انتہائی ،، حسین ،، اسطرح یہ اُردو میں اسطرح مستعمل ہوتا ہے۔ کہ،،  اِس کے لغوی معنٰی بنتے ہیں پانی کی پری،، یا پانی میں رہنے والی انتہائی حسین مِخلوق۔  بچپن میں  میرے ذہن میں اکثر یہ سوال پیدا ہوتا تھا ۔ کہ،، جب ہَوا میں جِنّ اور پرّی ہوسکتے ہیں۔ زمین پر ہوسکتے ہیں۔۔۔ تو آخر پانی میں کیوں نہیں ہوسکتے۔۔۔؟ میں اُن لوگوں پر جو اِسے افسانوی مَخلوق مانتے ہیں۔ زبردستی اپنی رائے نہیں تھوپنا چاہتا۔صرف وہ دلائل جو میرے ذہن سے اِبہام کو رفع کرتے ہیں شیئر کرنا چاہتا ہوں ۔تاکہ آپ بھی غور کریں شائد میں آپکو قائل کر سکوں۔ ورنہ لازمی نہیں کہ آپ میرے خیالات سے 100 فی صد اِتِفاق کریں۔ لیکن میں آپ کو حضرت کمال الدین الدمیری کی کتاب حیاتُ الحیون سے یہ تحریر ضرور پڑھانا چاہوں گا ۔آپ رحمتہ اللہ علیہ کا زمانہ 742 ھجری سے 808 سن ھجری تک کا ہے۔

آپ اپنی مشہورِ زمانہ تصنیف ِٔ لطیف میں مضمون دریائی انسان کے تحت ارشاد فرماتے ہیں

(انسانُ الماءَ دریائی انسان)

یہ بھی ہمارے جیسے انسان کے مشابہ ہوتا ہے، فرق صرف یہ ہے کہ پانی کے انسان کے دُم ہوتی ہے۔ شیخ قزوینی رحمتہ اللہ علیہ نےعجائبُ المخلوقات میں کہا ہے کہ ایک مرتبہ پانی کا آدمی ہمارے بادشاہ مقدر کے زمانہ میں نکل آیا تھا بعض حکما نے کہا ہے کہ دریائے شام میں یہ پانی کا انسان بعض اوقات اسی (ہمارے جیسے) انسان کی شکل و صورت میں دکھائی دیتا ہے۔ اس کی سفید داڑھی بھی ہوتی ہے، لوگ اسے (شیخ البحر) کہتے تھے ۔۔۔چنانچہ جب لوگ اسے خواب میں دیکھتے تو اس کی تعبیر شادابی وغیرہ ہوتی ۔

بعض لوگوں کا یہ خیال ہے کہ ایک پانی کا انسان بعض بادشاہوں کے دربار میں لایا گیا ۔تو وہ بادشاہ اس آدمی سے اس کے حالات معلوم کرنا چاہتا تھا ۔ چنانچہ بادشاہ نے پانی کے انسان کی شادی ایک عورت سے کردی۔ اس عورت سے ایک لڑکا پیدا ہوا جو ماں باپ کی گفتگو کو سمجھ لیتا تھا۔ ایک مرتبہ بادشاہ نے لڑکے سے سوال کیا کہ تمہارے والدین کیا باتیں کر رہے ہیں۔۔۔؟ تو اس لڑکے نے جواب دیا کہ میرے والد یہ کہہ رہے ہیں کہ تمام جانوروں کی دُم ان کے پچھلے حصہ میں ہوتی ہے۔ لیکن میں ان لوگوں کو دیکھتا ہوں کہ (ان کی دُم) ان کے چہرے میں ہے۔

حضرت لیث بن سعد رضی اللہ تعالی عنہ سے دریائی انسان کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا کہ دریائی انسان (کا گوشت) کسی بھی حالت میں نہیں کھایا جاسکتا ۔واللہ تعالی اعلم۔

بِنات المأءَ

(بنات المأِءَ یٰعنی پانی کی عورت) ابن ابی الاشعت نے کہا ہے کہ یہ بحر روم کی مچھلیاں ہیں جو عورتوں سے مشابہ ہوتی ہیں ۔ جن کے بال سیدھے اور رنگ گندمی ہوتا ہے۔ نیز ان کی شرمگاہ اور پستان بڑی بڑی ہوتی ہیں۔ یہ مچھلیاں گفتگو بھی کرتی ہیں لیکن ان کی گفتگو سمجھ سے بالاتر ہے۔ نیز یہ مچھلیاں ہنستی اور قہقہہ مارتی ہیں ۔ ملاح کبھی کبھی ان مچحلیوں کو پکڑ لیتے ہیں اور ان سے وطی کر کے پھر دریا میں چھوڑ دیتے ہیں۔ رویانی کہتے ہیں کہ جب ان کے پاس کوئی شکاری عورتوں سے مشابہ مچھلی پکڑ کر لاتا تھا تو یہ ان سے وطی نہ کرنے کی قسم لیتے تھے۔ اما قزوینی رحمتہ اللہ علیہ نے عجائبُ الخلوقات میں اس بات کا تذکرہ کیا ہے۔ کہ،، ایک آدمی ایک بادشاہ کے پاس اس قسم کی مچھلی شکار کر کے لے گیا۔۔۔ تو جب وہ مچھلی گفتگو کرتی تو اس کی گفتگو سمجھ میں نہیں آتی تھی۔ پس اس آدمی نے اس مچھلی سے شادی کرلی۔ پس ان سے ایک بچہ پیدا ہوا۔ پس وہ بچہ بھی فطرت کے عین مُطابق اپنے باپ اور ماں دونوں کی گفتگو کو سمجحتا تھا۔


اِس کالم میں آپکو سمجھانے کیلئے میں نے جل پری کا لغوی معنی پیش کیا ہے۔۔۔ میں نے جل پریوں پر تحقیق کی خاطر بے شُمار کتب کا مُطالعہ کیا۔ لیکن وُہ تمام کتب اِس موضوع پر خاموش ہی رہیں۔ کہ آخر جل پریوں کا شُمار کس مخلوق میں کیا جائے گا۔ انسانوں میں۔۔۔؟ مچھلیوں میں۔۔۔یا جنات میں۔ مجھے لگتا ہے۔کہ اِن کا شُمار جنات کی قسم میں کرنا  اسلئے بھی آسان دِکھائی دیتا ہے۔کہ،، جناتوں کی ایک بڑی تعداد سانپوں کی شکل میں زمین پر  پائی جاتی ہے۔ تو عین ممکن ہے کہ،، یہ پانی کے جنات ہُوں۔۔۔ مگر یہ صرف رائے ہے۔ جو کہ غلط بھی ہُوسکتی ہے۔ اُور صحیح بھی۔۔۔ بہرحال۔ اُنکا شمار چاہے جس قسم کی بھی مخلوق میں کیا جائے۔ رہے گی تو  یہ مخلوق ہی۔۔۔ لیکن آثار اِسلاف سے یہ تو ثابت ہُوگیا ۔کہ،، جل پریوں کا وجود ہے۔ یہ کوئی افسانہ نہیں ہے۔ میں نے انیس سُو پچاسی کے دوران ایک اخبار ی تصویر میں کیلفورنیا کے ساحل سمندر کے کنارے ایک جل پری کو مُردہ حالت میں دیکھا تھا۔۔۔پھر انیس سُو اَٹھاسی کے قرب میں  پنجاب کے مشہور شہر لیاقت پُور میں میری مُلاقات ایک ایسے شخص سے ہُوئی۔ جِس نے مجھ سے حلفیہ بیان کیا تھا۔کہ ،، ایوب خان کے دُور میں ایک مُردہ مچھلی جو کہ عورت کی مشابہ تھی۔ سکھر بیراج کے قریب اُس نے اپنی آنکھوں سے دیکھی تھی۔۔۔ واللہُ اعلمُ و رسولہ اعلمُ

Monday, 20 May 2013

بابا فرید گنج شکر کیوں کہلائے۔ عاصِمہ شوکت


بابا فرید رحمتہ اللہ  علیہ برصغیرکے اُولیائے کرام  کی فہرست میں ایک نمایاں حیثیت رکھتے ہیں۔آپکی ولادت مبارک ۵۸۹ھ میں ہُوئی اور وصال ۶۶۶ھ میں ہوا ۔آپکا خاندانی نام فرید الدین مسعود ہے اور والدہ کا نام قرسم خاتون ؒ اور والدمحترم قاضی جلال الدین ہیں ۔بابا فرید پانچ سال کی عمر میں یتیم ہو گئے تھے ۔


بابا فرید کو گنج شکر کے لقب سے یاد کیا جاتا ہے انکا یہ لقب گنج شکر کیوں پڑا؟ اسکے بارے میں مختلف کتابوں میں مختلف روایات پائی جات ہیں ۔۔۔۔ روایت ہے کہ بابا فرید ؒ کو گنج شکر پہلی مرتبہ انکی والدہ صاحبہ نے کہا۔ قرسم خاتون بہت ہی عبادت گزار ،پرہیزگار ،نیک خاتون تھیں وہ اپنی بیوگی میں بھی اپنے بچوں کی بہت اچھی تربیت کرتی رہیں ۔  آپکی ایک کرامت کا تذکرہ اکثر معتبر تواریخ میں موجود ہے ۔ کہ ایک مرتبہ  آپکے شہر میں قحط پڑگیا۔ جب کئی برس تک بارش کے آثار نظر نہ آئے ۔ تو آپکے شہر کے لوگوں نے اپنی ازواج کو آپکے پاس دُعا کیلئے بھیجا۔ آپ کی والدہ نے خواتین کے اِصرار پر  اپنے صِحن کی جھاڑو نِکالی۔ اُور ۲ رکعت نفل  ادا فرمانے کے بعد یُوں دُعا فرمائی۔ ،،اے میرے پروردیگار جھاڑو لگا کر صفائی کرنا میرے اِختیار میں تھا ۔سُو میں نے تمام کچرے کو سمیٹ  دِیا۔ اب پانی کے چھڑکاوٗ کیلئے بارش کی ضرورت ہے۔جو کہ میرے اختیار میں نہیں ہے۔،، کہتے ہیں کہ حضرت قُرسم خاتون کے ہاتھ ابھی بُلند تھے ۔کہ ایسی زُور دار بارش ہُوئی کہ تمام شہر جل تھل ہُوگیا۔

قُرسم خاتون  نے پہلی بار بابا فریدؒ کو نماز پڑھنے کی تلقین کی تو  اپنے جگر پارے کو کچھ اِسطرح سے سمجھایا۔ کہ،، جب چھوٹے بچے اللہ تعالیٰ کی نماز ادا کرتے ہیں تو اللہ تعالیٰ انہیں شکر کا انعام دیتے ہیں اور جب بڑھے ہو جاتے ہیں تو دوسرے بڑے اور مزید انعامات دیئے جاتے ہیں ۔ بابا فرید ؒ جب نمازپڑھتے۔ تو قرسم خاتون چپکے سے انکے مصلے کے نیچے شکر کی پڑیاں رکھ دیتیں اور بابا فرید ؒ وہ شکر کی پڑیاں انعام میں پا کر بہت خوش ہوتے، یہ سلسلہ کافی عرصہ تک چلتا رہا۔ یہاں تک کہ ،، ایک مرتبہ ایسا ہوا کہ قرسم خاتون شکرکی پڑیاں رکھنا بھول گئیں۔ تو اگلے دن اضطراب سے پوچھا کہ اے فرید الدین مسعود کیا آ پکو کل شکر کی پڑیاں کی پڑیاں مل گئی تھیں ؟ تو بابا فرید نے ہاں میں جواب دیا ! تو قرسم خاتون نے اللہ عزوجل کا شکر ادا کیا کہ انکی لاج رہ گئی۔ اور اس بات پر خوشی بھی ہوئی کہ اللہ عزوجل کی طرف سے انعام دیا گیا تب انہوں نے بابا فریدؒ سے کہا کہ اے فرید الدین مسعود آپ تو واقع ہی گنج شکر ہیں۔

روایت میں بیان کیا گیا ہے کہ بابا فرید ؒ کے مرشد کامل حضرت قطب الدین بختیار کاکی نے تین دن کے لیئے ’’ طے‘‘ کا روزہ رکھنے کا حکم دیا ، اس روزہ کی یہ خصوصیت ہے کہ یہ تیسرے دن مغرب کے وقت افطار کیا جاتا ہے، اس روزہ کو چلہ بھی کہا جاتا ہے۔اس کے لیئے گوشہ نشینی اور تنہائی اختیار کی جاتی ہے ۔ اس مقصد کے لیئے غزنوی دروازے کے پاس برج مینار میں بابا فرید نے تنہائی اختیار کی اور اللہ عزوجل کی عبادت میں مصروف رہے اور جب روزہ مکمل ہوا اور افطاری کا وقت ہوا تو انتظار کرنے لگے کہ غائب سے کیا ظاہر ہوتا ہے؟ کیونکہ مرشد کامل کا کہنا تھا کہ کھانا بھی غیب سے دیا جائے گا ۔ اسی دوران وہاں پر ایک شخص کو پتہ چلا کہ ایک نوجوان درویش یہاں برج میں چلہ کش ہے۔ تو اس شخص نے سوچا کہ اس درویش کی خدمت کر کے دعائیں سمیٹ لوں تو وہ پر لطف کھانا لے کر بابا فریدؒ کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپؒ نے اللہ عزوجل کی طرف سے انعام سمجھ کر یہ کھانا تناول فرما لیا ۔تو وہ شخص خوشی خوشی واپس چلا گیا۔اس کے تھوڑی ہی دیر بعد بابا فرید ؒ کے شکم میں درد اٹھا اور قے آ گئی اور کھانے کا ایک زرہ بھی پیٹ میں نہ بچا۔تو آپ ؒ نے پانی پی کر گزارہ کیا اور تو آپ ؒ نے پانی پی کر ساری رات عبادت میں مصروف ہو گئے صبح مرشد کامل کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ اور رات کا سارا واقع گوش گزار کر دیا تو انہوں نے بتایا کہ وہ آدمی جو کھانا لایا تھا وہ آدمی شراب اور بدکاری کا عادی ہے۔ تو اس کا لایا ہوا کھانا بھی بابا فریدؒ کے لئے کھانا مناسب نہ تھا اس لیئے وہ ہضم نہ ہوا تھا ۔ اب اس کھانے کی وجہ سے روحانی طاقت کم ہو گئی تھی ۔اب مرشد کامل نے کہا کہ مولانا ! ’’تمہیں طے کا ایک اور روزہ رکھنا ہو گا‘‘ اور ا س بار انسان کے لائے ہوئے کھانے کا انتظار نا کرنا اور غائب سے جو میسر ہو اسی سے افطار کر لینا۔
  
بابا فرید ؒ اپنے مرشد کامل کا حکم بجا لائے اور دوبارہ سے طے کا روزہ رکھ لیا ۔اور جب روزہ مکمل ہوا اور افطار کا وقت ہوا تو انتظار کرنے لگے کے کب غائب سے کچھ ظہور ہوتا ہے؟ اسی انتظار میں عشاء کا وقت ہو گیا تو آپ ؒ نے جسم کی تمام تر نقاہت کو نظر انداز کر کے پوری عاجزی اور توجہ سے نماز ادا کی ۔ آپکو اللہ عزوجل پر بھی پورا بھرسہ تھا اور ساتھ ساتھ مرشد کامل کی بات پر بھی یقین تھا کہ غائب سے زرور کچھ ظہور ہو گا ۔ اسی طرح وقت گزرتا گیا اور جب بھی شکم کی آگ زور پکڑتی تو آپ آنکھ کھول کر دیکھ لیتے کہ کچھ حاضر ہوا یا نہیں تو وہاں پر سوائے اندھیرے اور ویرانی کے کچھ نہ ملتا ۔

آدھی رات کے وقت جب برداشت جواب دے گئی کہ چھ دن سے ،مسلسل بھوک کی وجہ سے بہت نقاہت تھی تو بے اختیار اپنے دونوں ہاتھ زمین پر مارے تو ہاتھوں پر کچھ چپک گیا .دیکھا تو سنگریزے تھے آپؒ نے وہ سنگریزے اٹھا کر منہ میں ڈالے تو کچھ مٹھاس کا احساس ہوا تو آپؒ نے وہ تھوک دیئے کہ کہں یہ بھی شرابی کے کھانے کی طرح فریب نہ ہُو۔ دُوبارہ پھر زمین پر ہاتھ مارے تو سنگریزے چھپکے اور جب انہیں منہ میں ڈالا تو شکر کا احساس ہوا تو آپؒ نے وہ اس طرح تھوک دئیے جیسے لقمہ حرام منہ میں چلا گیا ہو۔

تیسری بار بھی سنگریزے کھانے پر یہی واقع پیش آیا کہ سنگریزے شکر محسوس ہونے لگے تو بابا فرید ؒ نے اسے تحفہء غائب سمجھا اور اسکے ساتھ ہی آپ ؒ کو مرشد کامل بختیار کاکیؒ کے یہ الفاظ یاد آ گئے کہ ’’ اے مولانا فرید جو کچھ بھی غائب سے ظاہر ہو.اسی سے افطار کر لینا۔ دُوسرے دن بابا فرید ؒ مرشد کامل کی خدمت میں حاضر ہوئے آپ ؒ کو دیکھتے ہی پیرومرشد نے فرمایا ’’ مولانا فرید! روزہ مکمل ہو گیا۔۔۔؟

جواب میں بابا فرید نے عجیب و غریب واقع سنایا اور سن کر انتظار کرنے لگے کہ حضرت بختیار کاکیؒ اس واقع کی کیا توجیح پیش کرتے ہیں پیرو مرشد نے محبت آمیز نظروں سے بابا فرید ؒ کی طرف دیکھا اور بولے کہ’’ فرزند! اللہ عزوجل اپنے نیک اور فرمابردار بَندوں کو ایسی نشانیاں دیکھاتا ہے۔ وہ سنگریزے حقیقت میں سنگریزے ہی تھے مگر تمہارے لبوں کو چھو کر اپنی فطرت بدل دیتے تھے ۔اور یہ سب اللہ عزوجل کے حکم سے ظہور پزیر ہوا تھا ۔جب روح کثافت کا لباس اتار کر لطافت کی قباء پہن لیتی ہے تو اور مسلسل ریاضت سے نفس کی سرکشی ختم ہو جاتی ہے تو انسان دائمی حلاوت (ابدی مٹھاس) حاصل کر لیتا ہے سنگریزوں کا شکر بن جانا اسی شرینی کی وجہ سے ہے ۔جسے اللہ عزوجل نے اپنی رحمت سے تنہاری روح میں شامل کر دیا ہے ۔فرید تمہیں قدرت کا یہ خاص انعام مبارک ہو کہ آج سے تم ’’ گنج شکر‘‘ بن گئے۔

ایک بار پیرومرشد کی زبان سے یہ الفاظ کیا ادا ہوئے ۔۔۔ بابا فرید قیامت تک کے لیے گنج شکر بن گئے۔بابا فرید گنج شکر بن گئے اور اسکے بعد انکی زندگی میں بہت سے ایسے وا قعات ملتے ہیں۔ جن سے انکے گنج شکر ہونے کے فیض و برکات ظاہر ہوتے ھیں۔ انکی تفصیل پھر کبھی پیش کروں گی ۔انشاء اللہ عزوجل۔

نوٹ: یہ تحریر لکھنے کے لئے مدد خان آصف کی کتاب ’’ اللہ کے سفیر ‘‘  اُور دیگر کتب سے لی گئی ہے۔


یارب دَر فرید کے منگتوں کی خیر ہُو
اِنکے دیار پاک کے رَستوں کی خیر ہُو

خواجہ معین الدین نے دیکھا تو یہ کہا
اے بختیار تیرے مُریدوں کی خیر ہُو

خواجہ نظام الدین اور صابر علاوٗالدیں
گنج شکر کے شیر ہیں شیروں کی خیر ہُو

یہ عشق یہ جنون کِسی کو بھی نہ مِلا
آبِ وَضو کو آنکھ دی چشموں کی خیر ہُو

دیوانگی نے اُنکی ہمیں  اچھا بنادیا
مستی میں جو رہیں تیرے مستوں کی خیر ہُو

مجھ سے ہزاروں سگ ہیں تیرے نام پہ فِدا
تیرے فریدی تیرے فقیروں کی خیر ہُو

مُنکر نکیر نے مجھے دیکھا تُو یہ کہا
منگتا ہے تُو فرید کا تجھ سُوں کی خیر ہُو

ہے اُولیا کی دِل میں محبت اگر تیرے
زِندوں کی خیر ہُو تیرے مُردوں کی خیر ہُو

تُو لکھ رَہا ہے وارثی عشرت جو منقبت
جاگا تیرا نصیب نصیبوں کی خیر ہُو۔

عشرت اقبال وارثی

Thursday, 16 May 2013

اِستعانت اِمداد، وسیلہ قسط ۳


گزشتہ مضمون سےہم نے  جب اس بات کو قرآن و  احادیث مبارکہ  سے جان لیا۔ کہ،، حضرات انبیاء کرام  و  اولیائے کاملین   کے وسیلہ کا انکار قرآن و حدیث میں نہیں ملتا۔۔۔  بلکہ قرآن حدیث سے وسیلے  کے جائز  ہو نے کا اثبات ہے ۔توا ب  اگر  دِل میں یہ وہم  پیدا ہو۔ کہ۔۔ ان آیا ت واحادیث سے ظاہری زندگی میں وسیلہ بنانے کا بیان  ہے۔۔۔۔ اگرچہ بعد از وفات وسیلہ کا انکار نہیں ہے ۔مگر کیا دنیا میں تشریف آوری سے قبل اور دنیا سے ظاہری پردہ فرمانے کے بعد بھی وسیلہ بنانے پر کوئی واضح دلیل ہے۔۔۔ ؟  
تو آئیے اس وہم کا ازالہ فرمایئے 

بعثت سے قبل اور بعد از وفات ظاہری   وسیلہ بنانے کی دلیل 
بعثت سے قبل 
نبی پاک علیہ السلا م کی دنیا میں  تشریف آوری سے قبل پچھلی امتیں آپ ﷺ کے وسیلہ جلیلہ سے دعا کرتے تو رب  تعالی اپنے حبیب  صلی اللہ علیہ وسلم کے وسیلہ سے انکی خالی جھولیوں کو مراد سے بھر دیتا۔
دلیل نمبر9

وَلَمَّا جَآءَہُمْ کِتٰبٌ مِّنْ عِنۡدِ اللہِ مُصَدِّقٌ لِّمَا مَعَہُمْ ۙ وَکَانُوۡا مِنۡ قَبْلُ یَسْتَفْتِحُوۡنَ عَلَی الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا ۚ فَلَمَّا جَآءَہُمۡ مَّا عَرَفُوۡا کَفَرُوۡا بِہٖ ۫ فَلَعْنَۃُ اللہِ عَلَی الْکٰفِرِیۡنَ﴿۸۹﴾

اور جب ان کے پاس اللّٰہ کی وہ کتاب (قرآن) آئی جو ان کے ساتھ والی کتاب (توریت) کی تصدیق فرماتی ہے  اور اس سے پہلے اسی نبی کے وسیلہ سے کافروں پر فتح مانگتے تھے  تو جب تشریف لایا ان کے پاس وہ جانا پہچانا اس سے منکر ہو بیٹھے  تو اللّٰہ کی لعنت منکروں پر۔
(سورہ البقرۃ آیت 89)


دلیل نمبر10
 سیدنا آدم علیہ السلام نے جو حضور اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے وسیلہ سے دعاء فرمائی تھی اس کا ذکر اشارۃً اور صراحۃً قرآن کریم اور احادیث شریفہ میں موجود ہے چنانچہ سورۃ البقرہ کی آیت نمبر:37 میں ہے: 

فَتَلَقَّى آدَمُ مِنْ رَبِّهِ كَلِمَاتٍ فَتَابَ عَلَيْهِ إِنَّهُ هُوَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ- 

ترجمہ:پھر آدم نے اپنے رب سے چند کلمے سیکھ لئے تو اللہ نے ان کی توبہ قبول کی ،بیشک اللہ وہی بہت توبہ قبول کرنے والا نہایت رحم فرمانے والا ہے-(سورۃ البقرہ،37)

مذکورہ آیت کریمہ میں جن کلمات کے سیکھنےکا ذکر ہے جس کے ذریعہ اللہ تعالی نے حضرت آدم علیہ السلام کی توبہ قبول فرمائی ان کلمات کے متعلق " مستدرک علی الصحیحین  ، معجم اوسط طبرانی،، دلائل النبوة للبيهقي، مجمع الزوائد،  كنز العمال، تفسير در منثور, تفسیر روح البیان، میں  روایت مذکور ہے : 

عن عمر بن الخطاب رضي الله عنه ، قال : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم :  لما اقترف آدم الخطيئة قال : يا رب أسألك بحق محمد لما غفرت لي ، فقال الله : يا آدم ، وكيف عرفت محمدا ولم أخلقه ؟ قال : يا رب ، لأنك لما خلقتني بيدك ونفخت في من روحك رفعت رأسي فرأيت على قوائم العرش مكتوبا لا إله إلا الله محمد رسول الله فعلمت أنك لم تضف إلى اسمك إلا أحب الخلق إليك ، فقال الله : صدقت يا آدم ، إنه لأحب الخلق إلي ادعني بحقه فقد غفرت لك ولولا محمد ما خلقتك  هذا حديث صحيح الإسناد- 

ترجمہ: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،آپ نے فرمایا کہ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:  جب حضرت آدم علیہ السلام سے لغزش ہوئی  تو انہوں نے اللہ کے حضور معروضہ کیا:ائے میرے پروردگار ! میں حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے وسیلہ سے دعا کرتا ہوں تو مجھے بخش دے،اللہ تعالی نے فرمایا:ائے آدم !تم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو کیسے جانتے ہو ابھی تو وہ دنیا میں تشریف نہیں لائے ہیں؟ حضرت آدم علیہ السلام نے عرض کیا:ائے میرے رب!تو نے جب مجھے اپنے دست قدرت سے پیدا کیا اور اپنی روح خاص مجھ میں پھونکی تو میں نے اپنا سر اٹھایا تو دیکھا کہ قوائم عرش پر " لا إله إلا الله محمد رسول الله " لکھا ہوا پایا،تو میں جان گيا کہ تو نے اپنے نام مبارک کے ساتھ انہیں کا نام پاک  ملایا ہے جو ساری مخلوق میں سب سے زیادہ تجھے پسندیدہ ومحبوب ہیں۔اللہ تعالی نے فرمایا:اےآدم ! تم نے سچ کہا ،بیشک وہ ساری مخلوق میں میرے پاس سب سے زیادہ محبوب ترین ہیں،تم ان کے وسیلہ سے دعا کرو میں ضرور تم کو مغفرت عطا کرؤنگا،اور اگر محمد صلی اللہ علیہ وسلم نہ ہوتے تو میں تمہیں پیدا نہ کرتا- اس  حدیث کی سندصحیح  ہے۔


 مستدرک علی الصحیحین، كتاب تواريخ المتقدمين من الأنبياء والمرسلين، حدیث نمبر: 4194- معجم اوسط طبراني حديث نمبر:6690-
 دلائل النبوة للبيهقي، حدیث نمبر: 2243 –
 مجمع الزوائد، ج،8ص،198 ،حديث نمبر:13917 دار الفکر بیروت 
 كنز العمال، كتاب الفضائل حديث نمبر: 32138 -
تفسير در منثور, سورة البقرة:37مکتبۃ الرشد


 تشریح
 جب نبی کریم ﷺ کی بعثت(دنیا میں تشریف آوری) سے قبل آپ کے وسیلے سے دعا کرنا جائز تھا تو آپ علیہ السلام کی وفات ظاہری کے بعد ممانعت کیونکر بغیر کسی دلیل کے مانی جائے۔

سبحان اللہ ذرا غور فرمائیے کہ  انسان کوجب زمین پر بھیجا گیا تو رب تعالی نے انسان کی سب سے پہلی دعا جو قبول فرمائی وہ حضرت آدم علیہ السلام کی توبہ تھی  اور وہ دعا بھی ہمارے نبی علیہ السلام کےوسیلہ سے قبول فرمائی گئی  ۔
اور کل بروز قیامت میدان حشر میں بھی  سب سے پہلی دعا جو قبول کی جائے گی وہ بھی نبی علیہ السلام کے وسیلے سے کی جائے گی تمام لوگ انبیاء کرام علیھم السلام کی  خدمت میں حاضر ہونگے مگر لوگوں کی مراد  پوری  ہمارے نبی علیہ السلام فر مائیں گے آپ ﷺ رب تعالی سے جلد حساب شروع فرمانے کی دعا فرمائیں گے اور رب تعالی  دعا قبول فرمائے گا  اور یہ نعمت بھی اپنے محبوب علیہ السلام کے وسیلہ سے عطا فرمائے گا ۔

درحقیقت بات یہ ہے کہ رب تعالی اپنے حبیب ﷺ  کو اس قدر پسند فرماتا ہے کہ  آپ علیہ السلام کو وجہ تخلیق کائنات بتلایا  اور جب انسان کو زمین پر اتارا تو نبی علیہ السلام کی شان دیکھائی جب انسان کوقبر میں  اتارا جاتا ہے تو وہاں بھی اپنے نبی کی شان دیکھاتا ہے اور جب حشر کا میدان ہوگا وہاں بھی اپنے نبی علیہ السلام کی دعا سےحسا ب شروع  فرماکر ان کی شان دیکھائے گا کوثر عطا  و مقام محمود عطافرماکر اپنے حبیب علیہ السلام کی شان دیکھائے گایہ نبی علیہ السلام کو رب نے ایسے اوصاف عطا فرمائے ہیں کہ ایسی شان کسی اور نبی علیہ السلام کو رب کائنات جل جلالہ نے  عطا نہ فرمائی ۔

بعد از وفات ظاہری   
دلیل نمبر11

امام طبرانی ایک طویل حدیث نقل فرماتے ہیں کہ،،
حضرت عثمان بن حنیف بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص اپنے کسی کام سے حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے پاس جاتا تھا اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ اس کی طرف متوجہ نہیں ہوتے تھے اور نہ اس کے کام کی طرف دھیان دیتے تھے ایک دن اس شخص کی حضرت عثمان بن حنیف سے ملاقات ہوئی اس نے ان سے اس بات کی شکایت کی حضرت عثمان بن حنیف نے اس سے کہا کہ تم وضو خانہ جاکر وضو کرو اور پھر مسجد میں جاو اوردو رکعت نماز اد اکرو پھر یہ کہو کہ اے اللہ میں تجھ سے سوال کرتا ہوں اور ہمارے نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم کے وسیلہ سے تیری طرف متوجہ ہوتا ہوں اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم میں آپ کے واسطے سے آپ کے رب عزوجل کی طرف متوجہ ہوا ہوں تاکہ وہ میری حاجت روائی کرے اور اپنی حاجت کا ذکر کرنا پھر میرے پاس آنا حتی کہ میں تمہارے ساتھ جاوں وہ شخص گیا اور اس نے اس پر عمل کیا پھر وہ حضرت عثمان بن عفان کے پاس گیا دربان نے ان کےلئے دروازہ کھولا اور انہیں حضرت عثمان بن عفان کے پاس لے گیا حضرت عثمان نے انہیں اپنے ساتھ مسند پر بٹھالیا اور پوچھا کہ تمہارا کیا کام ہے اس نے اپناکام ذکر کردیا حضرت عثمان نے اس کا کام کردیا اور فرمایا کہ تم نے اس سے پہلے اپنے کام کا ذکر نہیں کیا تھا اور فرمایا کہ جب بھی تمہیں کوئی کام ہو تو تم ہمارے پاس آجانا پھر وہ حضرت عثمان کے پاس سے چلاگیا اور جب اس کی حضرت عثمان بن حنیف سے ملاقات ہوئی تو کہا کہ اللہ تعالی آپ کو جزائے خير عطا فرمائے حضرت عمارن میری طرف متوجہ نہیں ہوتے تھے اور میرے معاملہ میں غور نہیں کرتے تھے حتی کہ آپ نے ان سے میری سفارش کی حضرت عثمان بن حنیف نے کہا بخدا میں نے ان سے کوئی سفارش نہیں کی لیکن ایک مرتبہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک نابینا شخص آیا اور اس نےاپنی نابینائی کی شکایت کی تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کیا تم اس پر صبر کرو گے اس نےکہا یا رسول اللہ مجھے راستہ دیکھا نے والا کوئی نہیں ہے اور مجھے بڑی مشکل ہوتی ہے تو رسول اللہ نے فرمایا کہ تم وضو خانے جاؤ اوروضو کرو پھر دورکعت نماز پڑھو پھر ان کلمات سے دعا کرو حضرت عثمان بن حنیف فرماتے ہیں کہ ہم الگ نہیں ہوئے تھے اور نہ ابھی زیادہ باتیں ہوئی تھیں کہ وہ نابینا شخص اس حال میں آیا کہ اس میں بالکل نابینائی نہیں تھی ۔

حوالہ۔۔
المعجم الکبیر للطبرانی حدیث نمبر 8311
شفاء السقام فی زیارۃ خیر الانام     الباب الثامن فی التوسل صفحہ 371، دار الکتب العلمیۃ
احمد بن حسين البيهقي نے دلائل النبوۃ للبہیقی  میں اور
امام جلال الدین سیوطی نے  الخصائص الکبری میں اس حدیث کو نقل فرمایا ہے 
حافظ زکی الدین عبد العظیم نے الترغیب والترہیب میں او رحافظ الہیثیمی نے مجمع الزوائد میں
اس حدیث کو بیان کرکے فرمایا کہ یہ حدیث صحیح ہے 

بلکہ ابن تیمیہ نےکہ جو غیر مقلدین کے امام ہیں اس حدیث کی سند کوفتاوی ابن تیمیہ جلد ۱ صفحہ ۲۷۳ مطبوعہ با مر فہد بن عبد العزیز آل السعود میں صحيح فرمایا ہے

تشریح
اس سے معلو م ہوا کہ  صحابی رسول   حضرت عثمان بن حنیف نے  نبی کریم ﷺ  سے توسل  کو فقط  آپ ﷺ کی حیات طیبہ کے ساتھ خاص نہ کیا بلکہ صحابی  رسول  ﷺ نے اس توسل کے طریقہ کو نبی علیہ السلام کی وفات ظاہری کے بعد حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے زمانے میں بھی جاری رکھا تو  جب صحابی رسول  ﷺ کا خود کا عمل یہ واضح کررہا ہے کہ نبی علیہ الصلوۃ والسلام  کا  وسیلہ بعد آپ ﷺ کی و فات ظاہری کے بعد بھی اسی طرح جائز ہے جس طرح آپ ﷺ کی حیاتی میں جائز امر تھااگر بعد وفات ناجائز ہوتا تو نبی پاک علیہ السلام کے صحابی ہرگز اس طرح کےعمل کی تعلیم  کسی دوسرے  کو نہ دیتے  اور و ہ صاحب قرون ثلاثہ  بھی اس عمل کو نہ اپناتے بلکہ ناجائز ہی بتلاتے لہذا صحابہ کا بعد وفات ظاہری بھی اس عمل کو جاری رکھنا اس کے جائز ہونے پرواضح  دلیل ہے۔

نیز اگر  بعد از وفات  یہ ناجائز ہوتا تونبی پاک علیہ السلام  بھی جب اپنے   صحابہ کو اپنے  وسیلہ  سے دعا کی تعلیم ارشاد فرمارہے تھے ضرور اس بات پر بھی متنبہ فرماتے  کہ اے میر ے صحابی میرے وسیلہ  سے دعا تم میری  حیاتی تک کرنا  اس کے بعد نہ کرنا کیو نکہ یہ ایک لازمی امر ہے جب نبی پاک ﷺ نے اپنے وسیلہ  سے دعا کی   مطلق تعلیم دی تو اس سے یہی سمجھا جائے گا کہ   آپ ﷺ کے وسیلہ  سے دعا کرنا  آپ ﷺ کی حیاتی  میں ا ورظاہری وفات کے بعد بھی جائز  ہے اسی لئے حضرت عثمان بن حنیف نے نبی پاک علیہ السلام کے پردہ فرماجانے کے بعد بھی اس عمل کو جاری رکھاکیونکہ کوئی ایسا  قرینہ تھا ہی نہیں  جس سے یہ واضح ہو کہ یہ حکم فقط نبی پاک علیہ السلام کی  حیات مبارکہ تک  ہے۔

دلیل نمبر12

امام بخاری علیہ رحمۃ الباری  کے استاد  امام ابن ابی شیبہ رحمۃ اللہ علیہ  اپنی کتا ب مصنف ابن ابی شیبہ میں صحیح اسناد کے ساتھ یہ روایت  بیان فرماتے ہیں
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ مَالِكِ الدَّارِ , قَالَ : وَكَانَ خَازِنَ عُمَرَ عَلَى الطَّعَامِ , قَالَ : أَصَابَ النَّاسَ قَحْطٌ فِي زَمَنِ عُمَرَ , فَجَاءَ رَجُلٌ إِلَى قَبْرِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم , فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللهِ , اسْتَسْقِ لأُمَّتِكَ فَإِنَّهُمْ قَدْ هَلَكُوا , فَأَتَى الرَّجُلَ فِي الْمَنَامِ فَقِيلَ لَهُ : ائْتِ عُمَرَ فَأَقْرِئْهُ السَّلامَ , وَأَخْبِرْهُ أَنَّكُمْ مُسْتَقِيمُونَ وَقُلْ لَهُ : عَلَيْك الْكَيْسُ , عَلَيْك الْكَيْسُ , فَأَتَى عُمَرَ فَأَخْبَرَهُ فَبَكَى عُمَرُ , ثُمَّ قَالَ : يَا رَبِّ لاَ آلُو إلاَّ مَا عَجَزْت عَنْهُ. 

مالک بن دینار جو کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے وزیر خوراک تھے وہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں ایک بار لوگوں پر قحط آگیا ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر مبارک پر حاضر ہوا اور عرض کی یا رسول اللہ اپنی امت کے لئے بارش کی دعا کیجیے کیونکہ وہ ہلاک ہورہے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس شخص کے خواب میں تشریف لائے اور فرمایا کہ عمر کے پاس جاؤ ان کو سلام کہو اور یہ خبر دو کہ تم پر یقینا بارش ہوگی اور ان سے کہو کہ تم پر سوجھ بوجھ لازم ہے پھر وہ حضرت عمر کے پاس گئے اور ان کو خبر دی حضر ت عمر رضی اللہ عنہ رونے لگے اور کہا کہ اے اللہ میں صرف اسی چیز کو ترک کرتا ہوں کہ جس سے میں عاجز ہوں۔

 مصنف بن ابی شیبہ حدیث نمبر 32665
اس روایت کو حافظ ابن کثیر نے بھی روایت کیا ہے اور فرمایا ہے کہ یہ روایت صحيح ہے
 البدایہ والنہایہ ج۷صفحہ۹۱ دار الفکر بیروت
اسی طرح اما م المحدثین حافظ ابن حجر عسقلانی نے بھی اس روایت کو صحیح فرمایا ہے اور فرمایا کہ وہ خواب دیکھنے والے صحابی  حضرت بلال بن حارث مزنی رضی اللہ عنہ تھے۔ 
فتح الباری جلد ۲ صفحہ۴۹۵نشر الکتب اسلامیہ 
سنن بیہقی، وفاء الوفاء ، انجاح الحاجہ ، ابن عبدالبر

تشریح
اللہ اکبر صحابی حضرت بلال بن حارث مزنی کا عقیدہ دیکھے  معلوم تھا کہ جس  بارگاہ  میں حاضر ہوا ہوں وہ حیات میں وہ میری فریاد کو سنیں  گے بھی اور اپنی امت کی مدد بھی فرمائیں گے  اور رب کے حضور رحمت کی بارش کی دعا کریں گے پھر رب تعالی اپنے  بندوں پر اپنی نبی علیہ السلام کے صدقے میں رحمت  بھری بارش نازل فرمائے گا۔

 چنانچہ ایسا ہی ہواحضور علیہ السلام نے اپنے غلام  صادق پر  کرم فرمایا اور خواب میں تشریف لا کر  یہ بتلادیا کہ  اے میرے غلاموں مایوس نہ ہو میں اپنے غلاموں کی رب تعالی کے عطا سے فریاد سنتا ہوں اور پھر رب ہی کے اذن و عطا سے ان کی مدد بھی کرتا ہوں۔

اگر اسطرح نبی علیہ السلام سے  بارش وغیرہ کے لئے مدد مانگنا شرک یا حرام ہوتا تو صحابہ یہ عمل ہرگز نہ اپناتے اور پھر جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو یہ سارا واقعہ بیان کیا اگر یہ ناجائز ہوتا  تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ اس آنے والے صحابی کو اس عمل کے ناجائز   ہو نے کا جواب ارشاد فرماتے بلکہ آپ  کا  اس کی تصدیق فرمانا اس  کے جائز ہونے پر دلیل ہے ۔

نیز  یہ بھی غور طلب امر ہے کہ  بڑے بڑے محدثین نے اس حدیث کے صحیح ہونے پر جزم فرمایا اگر یہ ناجائز یا شرک ہوتا معاذا للہ تو اس قدر بلند پایہ کے علماء و فقہاء و محدثین اس حدیث کے صحیح ہونے  کا حکم لگانا توکجا وہ اس کے موضوع ہونے کا حکم بیان فرماتے اور وسیلے کے ناجائز وشرک ہونے کو ضرور بیان فرماتے ۔
(جاری ہے)

Tuesday, 7 May 2013

کیا آپ کے پاس جواب ہے۔ اِس سُوال کا ۔۔۔؟


ایگزامنیشن  ھال میں حماد ، رضوان، اُور بابر نے   تقریباً ڈیڑھ گھنٹے سے ایک عجیب ھنگامہ کھڑا کئے ہُوا تھا۔ جسکی وجہ سے کمرہ امتحان میں ایگزامنر کیساتھ ساتھ تمام طلبہ میں بے چینی سے پھیلی ہُوئی تھی۔ کیونکہ اِن تینوں کی مسلسل چیخ و پُکار کی وجہ سے بقیہ تمام طالب علم بھی ڈسٹرب ہُورہے تھے۔ کیونکہ جب بھی طلبہ انہماک سے پرچہ حل کرنے کی کوشش کرتے۔ کبھی حماد اپنے مطالبات کا پرچار کرنے لگ جاتا۔ تو کبھی بابر  یہی راگ اَلاپنے لگتا۔۔۔اُور جب  یہ دُونوں خاموشی اِختیار کرلیتے۔ تو رِضوان  اُنہی ڈیمانڈ کا رُونا شروع کردیتا۔۔۔۔

  حماد ایک بہت بڑے زمیندار کا بیٹا تھا۔ اُور۔رِضوان ایک صنعتکار کا بیٹا تھا۔۔۔۔ جبکہ  بابر نہ کسی صنتکار کا بیٹا تھا۔۔۔ اُور نہ ہی کسی زمیندار گھرانے کا چشم چراغ تھا۔۔۔ لیکن رضوان اُور حماد کی وجہ سے پروٹوکول اُسے بھی  کالج میں  پُورا پُورا حاصل تھا۔۔۔۔ جب اِن تینوں کی ھنگامہ آرائی ناقابل برداشت ہُوگئی۔ تو  ایگزامنر نے اِنہیں سمجھانے کی کوشش کرتے ہُوئے کہا،، دیکھو بچوں آپ تینوں کی وجہ سے دوسرے بچوں کی بھی سال بھر کی محنت دَاوٗ پر لگی ہُوئی ہے۔۔۔ یہاں اِس کمرے میں آپ لوگوں کو صرف چار گھنٹے کی مہلت حاصل  ہے۔ جِس میں سے نصف وقت آپ لُوگ شُور شرابے  اُور اِحتجاج میں صرف کرچکے ہیں۔۔۔۔ اگر آپ لوگوں نے یہ وقت پرچہ حل کرنے میں گُزارا ہُوتا۔۔۔ تو آپ لوگ بھی نصف کامیابی حاصل کرچکے ہُوتے۔

لیکن آپ لوگ ابھی تک اِسی مسئلے میں اُلجھے ہُوئے ہیں۔۔۔ کہ کرسیاں آپ لوگوں کے اِسٹیٹس کے مُطابق نہیں ہیں۔۔۔ کمرہ امتحان کا رنگ بوسیدہ ہُوچُکا ہے۔  اُور یہاں آپ لوگوں کو فین کے بجائے ائر کنڈیشنر کی سہولت چاہیئے۔۔۔ یہ تمام سہولتیں تو آپکو گھر میں حاصل ہُوسکتی ہیں۔ اُور امتحان میں کامیابی کے بعدآپ مسقبل میں حاصل کرسکتے ہیں۔۔ لیکن آپ لوگ صرف چار گھنٹے کی معمولی سی تکلیف برداشت کرنے کیلئے بھی رضامند نہیں ہیں۔۔۔۔ ایگزامنر کے خاموش ہُوتے ہی حماد نے دہاڑ کر ایگزمنر کو مخاطب کرتے ہُوئے کہا۔۔۔ ماسٹر صاحب اپنی نصیحتیں اپنے پاس رکھیں۔۔۔۔ ہمارے ایک اِشارے پر ہمارے گھر والے ہماری ہر ایک خواہش کو پُورا کرنے میں جُٹ جاتے ہیں۔۔۔۔ اسلئے ہمیں کمرہ امتحان میں بھی تمام آسائشیں درکار ہیں۔۔۔ جب تک ہماری تمام  ڈیمانڈز پوری نہیں کی جاتیں۔۔۔ ہم قلم و کاغذ کو ہاتھ بھی نہیں لگانے والے۔۔۔۔

ذرا ٹہریئے۔۔۔
۔
۔
۔
آپ یہی سُوچ رہے ہیں نا کہ،، یہ حماد، رضوان، اُور بابر کتنے بڑے بے وقوف ہیں۔۔۔ جنہیں کمرہ امتحان کی قدر ہے۔نہ۔۔۔اپنے پُورے سال کی محنت کی۔۔۔ اُور اِنکی فرمائش بھی  بے جا ہے۔ اُور  اِنکا جُرم بھی ناقابل تلافی ہے۔۔۔ خود اپنا بھی نقصان کرنے پر تُلے ہیں۔۔۔ اُور دوسروں پر بھی اثر انداز ہُونے کی جراٗت کررہے ہیں۔۔۔۔ اگر آپ بھی واقعی ایسا  ہی سُوچ رہے ہیں۔ تو کچھ غلط بھی نہیں سُوچ رہے۔
۔
۔
۔
لیکن
۔
۔
۔
کیا ہم لوگ بھی مجموعی طُور پر۔ حماد، رضوان،اُور بابر جیسی سُوچ کے حامل نہیں ہیں۔۔۔؟؟؟
۔
۔
۔ کیونکہ سُوچ تو ہم لوگوں کی بھی  اکثریت میں ،،حماد، بابر، اُور رِضوان سے مِلتی جلتی ہی ہے۔ وُہ لوگ بھی کمرہ اِمتحان میں تمام آسائش کے متمنی ہیں۔ اُور آسائش و پروٹوکول تو ہمیں بھی  کمرہ اِمتحان میں درکار ہے۔۔۔۔ حالانکہ ہم سبھی جانتے ہیں۔ کہ،، یہ دُنیا کمرہ امتحان ہے۔ جہاں ہمیں آزمائش و اِمتحان کیلئے بھیجا گیا ہے۔۔۔ جو یہاں اچھے نمبر حاصل کرے گا۔۔۔۔ اُسے انعامات و پروٹوکول۔۔۔۔ قبر و حشر تا جنت عطا کیا جائے گا۔ جس نے  جسقدر صعوبت اُور تکلیف ذیادہ برداشت کی ہُوگی، صبر کیا ہوگا،، کم نعمت پر شُکر کیا ہُوگا۔۔۔ وہی ذیادہ انعام کا حقدار ٹہرے گا۔ وہی کامیاب ہُوگا۔ ۔۔ جس کے عمل میں اخلاص ہُوگا۔ وہی فاتح ٹہرے گا۔۔۔۔ لیکن ۔۔۔ ہم صبر نہیں کرسکتے۔۔۔ ہمیں آزمائش نہیں دینی۔۔۔ ہمیں دُکھ کا مُنہ نہیں دیکھنا۔ جو ہمیں اچھا لگے وُہ سب کچھ ہمیں چاہیئے۔۔۔۔ چاہے ہمارے عمل کی بیاض خالی سہی۔ لیکن ہمیں پروٹوکول چاہیئے۔۔۔۔


اگرچہ دُنیا دارالعمل ہے۔ دارالجزا نہیں۔۔۔۔ مگر ہمیں جزا یہاں چاہیئے۔ نہ ہم صبر کریں گے۔ نہ اپنے محبوب سے دُوری برداشت کریں گے۔۔۔۔ بس ہماری زُبان سے بات نِکلے اُور پوری ہُوجائے۔۔۔۔ ہمیں کوئی اِمتحان نہیں دینا۔۔۔ بغیر محنت اُور مشقت تمام سہولتیں درکار ہیں۔۔۔۔ اگر یہ دُنیا ایک کمرہ امتحان ہے۔ تو ٹھیک ہے۔ ہم امتحان دینے کیلئے تیار ہیں۔۔۔۔مگر۔۔۔۔۔ اِس امتحان گاہ کے وقت کا تعین ہم کرنا چاہتے ہیں۔۔۔۔ امتحان کب دینا ہے۔ اُور کیسے دینا ہے۔ اِسکا اختیار بھی ہمیں مِلنا چاہیئے۔۔۔ ہمیں اِس کمرہ امتحان میں ہر ایک وُہ سہولت چاہیئے۔ جسکی خاہش دِل میں پیدا ہُو۔ یا جسکی طلب ہمارا نفس کرے۔۔۔۔۔
۔
۔
۔
دِل پر ہاتھ رکھ کر سچ کہیئے!!! کیا یہ ہمارے نفس کی آواز نہیں ہے۔۔۔؟ کیا ہمارا  بھی دِل اِس دُنیا کا طلبگار نہیں ہے۔
کیا ہم بھی امتحان کے چور نہیں ہیں۔۔۔؟؟؟
کیا ہم بھی وقت تباہ کرنے پر تُلے  ہُوئےنہیں ہیں۔۔۔؟
کیا ہم نے بھی شُور مچا مچا کر زمانے میں اُدھم برپا نہیں کیا ہُوا۔۔۔؟
کیا ہم کو بھی ہر ناصح پر غُصہ نہیں آتا۔۔۔؟ جو ہمیں صبر و شکر کی تلقین کرتا ہے۔
۔
۔
۔
اگر ایسا ہے۔۔۔۔ جو کہ یقیناً ہے۔۔۔ تو۔۔۔۔ کیا فرق ہے۔ اُن تینوں۔۔۔ اُور ہم میں۔۔۔۔
۔
جب کہ اللہ کریم کی مشیت تو یہی ہے۔ کہ،، ہر کام میں ترتیب ہُو۔ جو ذیادہ محنت کرے۔ وُہ ذیادہ انعام پائے۔ اُس کریم نے ہمیں  آزمانے کیلئے اِس کمرہ امتحان میں بھیجا ہے۔ تاکہ  خُوب محنت  کے ذریعےکامیابی ہم حاصل کریں۔۔۔۔  اُور وُہ  کریم عزوجل ،،حضرت انسان کی کامیابی کا تذکرہ  معصوم فرشتوں کے درمیان فرمائے۔۔۔ اُور کامیابی کا تاج حضرت انسان کے سر پہ سجا کر اُسے ہمیشہ ہمیشہ کیلئے انعامات  سے سرفراز کردے۔کہ،، امتحان لینا اگر مقصود نہ ہُوتا تو وُہ ہمیں اِس دُنیا میں بھیجتا ہی کیوں۔۔۔؟؟؟ پیدا فرماتے ہی جنت میں داخِل نہ فرمادیتا۔؟