bing

Your SEO optimized title page contents

Pages

Hamara Tube Channel

Saturday, 6 June 2015

جال۔ در ۔ جال۔ قسط ١٣۔ (اِقرار جُرم پہ اِنعام)۔



جال۔ در ۔ جال۔ قسط ١٣۔ (اِقرار جُرم پہ اِنعام)۔



گُذشتہ سے پیوستہ۔

توبہ اُور قربانی میں شرط نہیں رکھی جاتی کرامت صاحب بے یقینی کی دلدل سے یقین کی رسی ہی تُم کو باہر نِکال سکتی ہے۔ تُم ایک قدم بڑھاکر تُو دیکھو پھر دیکھنا وہ کریم کس طرح تُمہاری مدد کے راستے کھولتا ہے۔ بیٹی بھی مِل جائے گی۔ اُور رَب کی رضا بھی۔ مگر فیصلہ تُمہی کو کرنا ہے البتہ میں تُمہیں یقین دِلاتا ہُوں کہ اِس قربانی کے بعد آپ بے روزگار نہیں رہیں گے۔ فرقان میاں کی نئی فیکٹری میں آپ جیسے تجربے کار لوگوں کی اشد ضرورت ہے۔ اُور جہاں تک بچی کی صحت کا مُعاملہ ہے۔ تو بزرگوں کی نعلین کے صدقے میں ہم ایک ایسی دوا جانتے ہیں جو اِس مرض میں اکسیر کا مقام رکھتی ہے۔ آپ بچی چند دِنوں کیلئے ہمارے گھر چھوڑ جائیے گا۔ اللہ کریم نے چاہا تو صحت مِل جائے گی۔ کیونکہ شِفا اُسکے حُکم میں ہے دوا تُو صِرف بہانہ ہے۔ حسان صاحب نے کرامت صاحب کی تشویش کا جواب دیتے ہُوئے کہا۔

پھر آپ ہی توبہ کرادیجئے۔ تاکہ میری نئی زندگی کا آغاز آپ ہی کے آستاں سے ہُوجائے۔ کرامت صاحب کا جُملہ مکمل ہُوتے ہی حسان میاں نے وجد میں باآواز نعرہ تکبیر بُلند کردیا۔

اَب مزید پڑھیئے۔

کرامت صاحب کی توبہ عجب رنگ دِکھا رَہی تھی۔ اُنکی چودہ برس کی صاحبزادی نُوشابہ حیرت انگیز طُور پر بُہت تیزی کیساتھ رُو بَصحت ہُورہی تھی۔ بَچی کی صحت دیکھ کر فرقان کو یُوں محسوس ہُورہا تھا جیسے گُویا قُدرت کرامت صاحب کی تُوبہ کی منتظر ہُو۔ یہاں کرامت صاحب نے توبہ کی چادر سے سر کو ڈھانپا اُور وہاں حَسَّان صاحب کی سادہ سی دوائی نے اپنا رَنگ دِکھانا شروع کردیا۔

اِس مرتبہ جب شہریار مجددی کی آمد ہُوئی تُو اُنہوں نے فرقان کو خُوشخبری سُنائی کہ وہ اپنا تمام بِزنس سمیٹ کر ہمیشہ کیلئے پاکستان آچکے ہیں۔ اُور اب وہ فرقان کی مُعاونت کیلئے ہر گھڑی دستیاب ہُونگے۔ جب فرقان نے کرامت صاحب کی توبہ اُور اُنکی صاحبزادی کا واقعہ سُنایا تُو شہریار مجددی کی آنکھیں بھی نم ہُوئے بِنا نہیں رِہ پائیں۔ فرقان نے بات کرتے ہُوئے شہریار مجددی کو یہ بھی بتایا کہ میں نے حَسان صاحب کی ایما پر آپکی اِجازت کے بغیر کرامت صاحب کو فیکٹری میں منیجر کی پُوسٹ آفر کردی ہے۔ اَب اگر آپ اُنکے مُشاہرے کی رقم تجویز کردیں تو اُنہیں باقاعدہ فیکٹری کی جانب سے منیجر کی مُلازمت کی آفر کردی جائے۔۔۔۔!

فرقان کے خاموش ہُوتے ہی شہریار مجددی نے سپاٹ لہجے میں دریافت کیا،، فرقان صاحب آپکے خیال میں اُنکی کتنی تنخواہ ہُونی چاہیئے۔۔۔۔؟ شہریار مجددی کے لہجے سے ایک لمحے کیلئے فرقان کو ایسا محسوس ہُوا جیسے شہریار مجددی کو اُسکی بات پسند نہ آئی ہُو۔۔۔۔۔۔ فرقان نے جھجکتے ہُوئے کہا ،، ویسے تُو کرامت صاحب کا اِس فیلڈ میں کوئی تجربہ نہیں ہے لیکن میرے خیال میں اُنکی تنخواہ کم از کم پچاس ھزار کے قریب تُو ہونی ہی چاہیئے۔ اُور چونکہ اِس فیصلے میں مجھے آپ سے مشاورت کا موقع نہیں مِلا۔ اِس لئے اگر آپ کو اعتراض نہ ہُو تو میں چاہوں گا کہ جب تک کرامت صاحب اِس فیلڈ میں مہارت حاصِل نہیں کرلیتے ۔ اُنہیں یہ تنخواہ میرے اکاؤنٹ سے ادا کی جائے۔

میرا بھی یہی خیال ہے کہ جب تک وُہ تجربہ حاصِل نہیں کرلیتے۔ اُنہیں فیکٹری سے تنخواہ نہ دِی جائے۔ شہریار مجددی کے جُملے سے فرقان کے اندیشے کو تقویت حاصِل ہُوگئی ۔۔۔۔ حالانکہ فرقان کو اُمید تھی کہ شہریار مجددی اُسکی اِس بات پر برہمی کا اِظہار کرے گا کہ وہ کیوں تنہا کرامت صاحب کی تنخواہ کا بوجھ برداشت کرے گا ۔ ۔۔۔۔۔۔۔جبکہ کرامت صاحب اگرچہ غیر تجربہ کار ہیں۔ مگر مُلازمت تُو وہ فیکٹری میں ہی کریں گے۔ لہذا تنخواہ بھی فیکٹری کے مشترکہ اکاونٹ سے ادا کی جانی چاہیئے۔ لیکن شہریار مجددی نے اُسکے فیصلے کو ایک لمحے میں قبولیت بخش کر اُسے ورطہِ حیرت میں ڈال دِیا تھا۔۔۔۔۔!

کیا سُوچ رہے ہیں فرقان میاں۔۔۔۔؟ کہیں میرے متعلق کِسی بدگُمانی میں تُو مُبتلا نہیں ہُوگئے آپ۔۔۔۔۔؟ شہریار مجددی نے فرقان کو سُوچ میں ڈوبا دیکھ کر سوال کیا۔۔۔۔ نہیں ایسی تو کوئی بات نہیں فرقان نے اپنے چہرے پر مسکراہٹ سجانے کی کوشش کرتے ہُوئے کہا۔۔۔۔۔!شہریار مجددی نے ہنوز سنجیدگی سے فرقان کی جانب دیکھتے ہُوئے سلسلہ کلام دوبارہ شروع کرتے ہُوئے کہا۔۔۔اَرے جناب میں تُو یہ کہنا چاہتا تھا۔ کہ آپکا فیصلہ بالکل دُرست ہے کہ جب تک فیکٹری اِسٹارٹ نہیں ہُو جاتی۔ اُنکی تنخواہ کی مد میں پچاس ھزار روپیہ آپ دے دیا کریں۔ اُور چُونکہ وہ بُہت بڑی قربانی دے کر آئے ہیں۔ اُور آپ نے اُنہیں ہمارے مُرشِد و مربی کی خُواہش کے احترام میں اِس فیکٹری میں جگہ دِی ہے ۔ تو لِہذا اِس سعادت مندی سے محروم مجھے بھی نہ کیجئے گا۔ اُور پچاس ھزار رُوپیہ میری جانب سے بھی اُنہیں پیش کردِیا کیجئے گا۔ تاکہ اُنہیں کم از کم اپنے کریم آقا کی نسبت سے ہم دُونوں مِلکر سالانہ ۱۲ لاکھ روپیہ پیش کرسکیں۔کیونکہ ایسی قربانی دینا ہر کس و ناکس کے بس کی بات نہیں لیکن جِسے اللہ کریم توفیق عطا فرمادے۔۔۔ اِسلئے ایسے عظیم انسان کو کم از کم اتنا تُو دینا ہی چاہیئے کہ اُنہیں اپنے کسی فیصلے پر پچھتاوا نہ ہُو۔ شہریار مجددی کی خُوبصورت سُوچ کی وجہ سے فرقان کا مُرجھایا ہُوا چہرہ ایک مرتبہ پھر سے کِھل اُٹھا۔

کرامت صاحب کی صاحبزادی نوشابہ ۴۰ دِن تک حَسَّان صاحب کی صحبت میں رِہ کر ایسی فیضیاب ہُوئی کہ ڈاکٹرز بھی نوشابہ کی رپورٹ دیکھ کر حیران ہُوگئے۔ یہاں تک کے مُلک کے تین مشہور و معروف ڈاکٹرز نے بھی حَسَّان صاحب کی کرامت کے سبب اُنکے سامنے زانوئے تلمذ طے کردئیے۔

کرامت صاحب نے فرقان اُور شہریار مجددی کی کافی منت سماجت کی کہ اُسے اسقدر زیادہ تنخواہ نہ دِی جائے۔ کیونکہ وُہ خُود کو اس مراعات کا اِہل نہیں سمجھتا ہے ۔ لیکن فرقان و شہریار مجددی کے آگے اُسکی ایک نہ چل سکی۔ کرامت صاحب یہ بات خُوب اچھی طرح سے جان چُکے تھے کہ فرقان و شہریار مجددی صاحب کی اُن پر انعامات کی بارِش بِلاوجہ نہیں تھی۔ چُونکہ فرقان و شہریار مجددی دُونوں کی زندگی میں ہی حَسَّان میاں کے حُکم و پسندکو وہی اہمیت حاصِل تھی۔ جو ایک نہایت فرمانبردار اُولاد کے نزدیک اپنے والدین کے اِحکامات و خُواہش کی ہُوتی ہے۔۔۔۔! اُور اب یہی آتشِ عشق کا سُوز کرامت صاحب اپنے سینے میں بھی چند دِنوں سے مِحسوس کرنے لگے تھے۔

کرامت صاحب چند دِنوں سے ایک بات اُور بھی مِحسوس کررہے تھے۔ اُور وُہ یہ کہ جب سے اُنہوں نے حَسَّان صاحب کے ہاتھ پر تُوبہ کی تھی۔ اُن کے دِل میں ہمہ وقت سکینہ رہنے لگا تھا۔ جہاں پہلے اُن کی بیقراری اُنہیں رات میں کئی بار جاگنے پر مجبور کردیتی تھی۔ اب رات کو ایک پُرسکون نیند اُنکی منتظر رہنے لگی تھی۔ اگرچہ وہ اب باقاعدگی سے آذان فجر سے ایک گھنٹہ قبل تہجد کیلئے اُٹھ جایا کرتے تھے۔ مگر چند گھنٹوں کی یہ نیند بھی اُنہیں ذِہنی اُور جسمانی تھکن کے دیس سے بُہت دُور لے آئی تھی۔ اُنہیں فرقان و شہریار کی مُحبت کا قرض چُکانے کی ایک تدبیر سُجھائی دِی۔ اُور اُنہوں نے چند ایسے لُوگوں کو شہر میں ڈھونڈ نِکالا۔ جو بِزنس ایڈمنسٹریشن میں اِنفرادی اُور نُمایاں حیثیت رکھتے تھے۔ وُہ شام کو فیکٹری سے فارغ ہُونے کے بعد ایسے اِحباب کی بزم میں ایک تا دو گھنٹے کیلئے پُہنچ جاتے۔ اُور وہاں پُہنچ کر اپنی خُودی بُھلاکر ایک سعادت مند طالب کا رُوپ دَھار لیتے۔جیسے خالی جام مے کی آرزو میں جُھکا چلا جاتا ہو۔

پھر خُدا کے خاص فضل سے وُہ دِن بھی آن پُہنچا کہ ،، جسکے انتظار میں فرقان نے آٹھ ماہ تک رات و دِن کا اِمتیاز بُھلا کر مُسلسل مِحنت کی تھی۔ پیپر مِل کا اِفتتاح فرقان اُور شہریار مجددی کی شدید خُواہش پر حَسَّان صاحب نے اپنے دست مُبارک سے کیا۔ تمام شہر سے کاروباری، مذہبی ، اُور روحانی سلسلے سے منسلک افراد کو مدعو کیا گیا تھا۔ فرقان اُور شہریار ہر ایک آنے والے سے مبارکباد و دُعا وَصول کررہے تھے۔ بے شُمار لوگ حَسان میاں کے ارد گِرد دُعا و برکت کے حُصول کیلئے موجود تھے ۔ شہریار مجددی کے مُعزز گھرانے کے کافی افراد بھی اِس خُوشی کےمُوقع پر مُوجود تھے۔ مگر فرقان کی نِگاہیں بار بار فیکٹری کے صدر دروازے کی جانب اُٹھ رہی تھیں۔ اُسکی نِگاہوں کی تشنگی حَسَّان میاں سے پُوشیدہ نہ رہ سکی۔ جب بار بار فرقان کی نِگاہیں بے چینی سے مین گیٹ کا طواف کرنے لگیں تُو حَسَّان صاحب سے نہ رَہا گیا۔ وُہ فرقان کے نزدیک تشریف لا کر گُویا ہُوئے،، فرقان میاں جسکے انتظار میں آپکی نظریں دروازے پر جمی ہیں وہ تُو کب کے مِحفل میں تشریف لاچُکے ہیں۔۔۔۔۔۔!

(جاری ہے)

مُحترم قارئین کرام ،، آپ سب سے دُعاؤں کیلئے ملتمس ہُوں۔ مجھے یقین ہے کہ رمضان المبارک کی اِن بابرکت ساعتوں میں آپکے ہاتھوں کی بُلندی کے دوران میں آپکی دعاؤں کا حِصہ ضرور رہا ہُونگا۔

پلکوں سے دَرِ یار پہ دستک دینا
اُونچی آواز ہُوئی عُمر کا سرمایہ گیا

عامل کامل ابو شامل (فرنانڈس بمقابلہ ابوشامل) قسط 46.akas



گُذشتہ سے پیوستہ۔

رفیع دُدانی کے گھر میں داخل ہُوتے وقت کامل نے دانہ ثمانی کے موکل کی موجودگی کو محسوس کرکے اپنے اندر کافی حوصلہ  موجود پایا۔لیکن جونہی رفیع دُرانی کی نگرانی میں وُہ اَریبہ کے کمرے میں داخل ہُوئے شراب کی تیز بھبک  نےاِنکا استقبال کیا۔۔۔۔ بستر پر ایک ڈھانچہ نما بچی کا جسم پڑا تھا ۔جسکے نقوش اگرچہ واقعی قابل ستائش تھے۔ لیکن اُسکے کمزور جُھری ذدہ بدن کو دیکھ کر کوئی نہیں کہہ سکتا تھا۔کہ،، اُسکی عمر پندرہ برس رہی ہُوگی۔۔۔ ابو شامل نے ایک مخصوص فاصلے کے بعد کامل کومزید آگےبڑھنے سے رُوک دیا تھا۔کامل علی نے آنکھیں بند کرنے کی کوشش کی تاکہ اپنا کردار بخوبی نبھا سکے تبھی اُس کو ایسا محسوس ہُوا۔جیسے کسی نے اُسکے کلیجے کو اپنی مٹھی میں جکڑ لیا ہُو۔

کامل کے چہرے پر ایک لمحے کیلئے کرب کے آثار نمایاں ہُوئے لیکن اگلے ہی لمحے کامل نے دانہ ٗ ثمانی کے موکل اُور ابوشامل کو اپنے سامنے ڈھال بنے دیکھ کر یکلخت درد میں کمی اُور کافی سکون محسوس کیا۔۔۔ ابو شامل للکارتے ہُوئے اریبہ کی جانب کسی نادیدہ مخلوق سے مخاطب تھا۔۔۔ کمزوروں پر حملہ کردینا ،مَردوں کا شیوہ نہیں۔  اُورکم از کم ایک  شہزادے کو تو  اِس طرح کی حرکات بالکل بھی زیب نہیں دیتی۔۔۔۔ ابو شامل کی تنبیہ سے کامل کو اتنا اندازہ تو بہرحال ہُوگیا تھا۔کہ فرنانڈس کمرے میں ہی موجود ہے۔البتہ وُہ فرنانڈس کو دیکھ نہیں پارہا تھا۔دانہ ثمانی کے موکل نے کامل علی کی بے چینی کو دیکھ کر  اُسے مخاطب کیا۔رفیع صاحب کو کہو کہ،، وُہ باہر جاکر دعا کریں۔ یہاں اِنکا کام نہیں ہے۔۔۔۔ کامل نے جونہی رفیع صاحب کو باہر جانے کا اِشارہ کیا۔ وُہ پردہ کھینچ کر  خاموشی سے باہر  نکل گئے۔تبھی دانہ ثمانی کے موکل نے کامل کی آنکھوں کے سامنے  ایک چمک  سی لہرائی جس کے بعد کامل کو کمرے میں موجود فرنانڈس دکھائی دینے لگا۔

فرنانڈس واقعی ایک شہزدے کے رُوپ میں موجود تھا۔اگرچہ اُسکے چہرے کی  بناوٹ کامل کو بُہت عجیب سی محسوس ہُوئی کامل دِل میں سُوچنے لگا،، اگر فرنانڈس کے جسم سے شاہی لباس اُتار کر اِسے کرتہ دھوتی پہنا دیا جائے تو کمبخت بالکل بالی وُڈ کا ولن دکھائی دیگا۔۔۔۔۔۔ سچ کہتے ہُو۔ میں شہزادے سے ذیادہ وِلن کے رُول ہی پسند کرتا ہُوں۔ اُور عنقریب تمہارے دوست شہزادہ ابو شامل کے ساتھ بھی ایک ظالم وِلن کی طرح پیش آنے والا ہُوں، فرنانڈس نے  کامل کو دیکھ کر دانت کچکچاتے ہُوئے انگوروں کو گچھے کو بھنبھوڑ کر  کسی فلمی ولن کی نقل اُتارنے کی کوشش کی۔

فرنانڈس میں اُن لوگوں میں سے نہیں ہُوں۔جو طاقت کے نشے میں اپنے حریف کی قوت کا اندازہ لگانے میں اکثر غلطی پر ہُوتے ہیں۔ اُور میں یہ بھی جانتا ہُوں۔کہ،، تم طبیعتاً نہایت ضدی واقع ہُوئے ہو۔لیکن میں پھر بھی تم سے اتمام حجت کیلئے ایکبار اپیل کرتا ہُوں۔کہ،، صرف شباہت کی وجہ سے اریبہ کو اپنے انتقام کی بھینٹ مت چڑھاوٗ۔ اُور اِس بیچاری کا پیچھا چھوڑ دُو۔تاکہ ہم دونوں اِس فضول خُون خرابے سے بچ جائیں۔ابو شامل نے نہایت تحمل سے فرنانڈس  کو مشورہ دیتے ہُوئے کہا۔ جسکے جواب میں فرنانڈس نے ایک بُلند قہقہ لگاتے ہُوئے  ابو شامل کو تمسخر بھرے لہجے میں جواب دیا۔ کیا بات ہے شہزادے ابو شامل جنگ سے پہلے ہی اتنا ذیادہ خُوفزدہ ہُو۔؟ کہ،، ابھی تو مقابلہ شروع نہیں ہُوا۔ اُور تم نے خوف سے امن کا پرچم بُلند کردیا۔۔۔مجھے خُدا کے سِوائے کسی سے ڈر نہیں لگتا فرنانڈس۔۔۔ لیکن مجھے معلوم تھا۔کہ،، تُم میری اَمن پسندی کو بُزدلی سے ذیادہ کچھ  تعبیر نہیں دُوگے۔۔۔ چلو پھر دیر کس بات کی ہے فرنانڈس؟۔آگے بڑھو اُور مجھے ختم کرکے اریبہ پر قبضہ جمالو۔۔۔ یا پھر میں تمہیں جہنم رسید کرکے کم از کم ایک مُوذی سے تو اِس سرزمین سے پاک کردوں۔

لفظ موذی سُن کر تو جیسے فرنانڈس کے تن بدن میں آگ ہی لگ گئی تھی۔ اُور شائد ابو شامل بھی یہی چاہتا تھا۔کہ،، فرنانڈس  غصے میں بھڑک کر اُس پر حملہ کرے۔تاکہ فرنانڈس کی عقل پر غصہ غالب آجائے ۔اُور وُہ تمام احتیاط کو بالائے طاق رکھ کر اَریبہ سے کچھ لمحوں کیلئے ہی سہی لیکن دُور ہُوجائے۔ اِس لئے جونہی فرنانڈس نے ایک وحشی شیر کے رُوپ میں ابوشامل پر حملہ کیا۔ابوشامل نے بھی ایک پھرتیلے چیتے کی شکل اختیار کرتے ہُوئے وُہ جگہہ چھوڑ دی۔جسکی وجہ سے فرنانڈس کا بھاری بھرکم جسم سیدھا فرش پر آرہا ۔ اِس موقع کا فائدہ اُٹھاتے ہُوئے ابوشامل نے ایک جست لگا کر اُس شیر کی پُشت  اُور گردن کے درمیان اپنے  نوکیلے پنجے گاڑ دیئے۔۔۔ لیکن وحشی شیر نے اپنی پُوری قوت سے  چیتے کو فضا میں بُلند کرنے کے بعد زمین پر دے مارا۔ اُور اسکے بعد وُہ وحشی شیر  ابوشامل کے چیتے نما  جسم پر سوار ہُوکر اُسکے سینے کو اپنے پنجوں کی مدد سے لہولہان کرنے لگا۔کامل حیرت سے یہ خُونخوار جنگ دیکھ رہا تھا۔کہ،، ابو شامل نے پھنسی پھنسی آواز میں کامل  کو پُکار کر کہا،، کامل ہار پہنانے کا وقت آگیا ہے۔

چند سیکنڈ تک کامل کو سمجھ ہی نہیں آیا کہ ،، ابوشامل کہنا کیا چاہتا ہے۔پھر یکایک اُسے سلطان تبریزی کی بات یاد آگئی۔کہ،، جونہی اِشارہ مِلے یہ ہار اُس بچی کے گلے میں ڈال دینا۔ فرنانڈس بھی ابوشامل کے کورڈ ورڈز کی وجہ سے کچھ پریشان نظر آنے لگا تھا۔ جسکا فائدہ اُٹھاتے ہُوئے ابو شامل نے ایک پنچہ فرنانڈس کی آنکھ میں گھوپنا چاہا۔لیکن فرنانڈس کی بروقت ہُوشیاری کی وجہ سے وُہ  آنکھ تو بچانے میں کامیاب ہُوگیا۔البتہ آنکھ کے کنارے پر ایک طویل زخم ضرور نمودار ہُوگیا۔جسکی وجہ سے فرنانڈس پر ایکبار پھر وحشت سوار ہُوگئی تھی۔ اُور اَب وُہ ابو شامل کی چھاتی پر تابڑ توڑ حملے کررہا تھا۔ جیسے ہی فرنانڈس کی تمام توجہ ابوشامل پر مرکوز ہُوئی۔ کامل نے پھرتی سے رُومال کی گرہ کھول کر اُس میں سے لیمووں کا ہار نکال کر اریبہ کی گردن میں ڈال دیا۔

جونہی وُہ ہار اَریبہ کی گردن میں پُہنچا۔ دُونوں لیموں یوں جگمگانے لگے جیسے آتش فشاں سے روشنی نکل کر رات کے اندھیروں کو نگل لیتی ہے۔رُوشنی کی لہروں نے چند ہی سیکنڈ میں ایک بگولے کی  شکل اختیار کرکے اپنا حجم بڑھانا شروع کردیا تھا۔ اُور جیسے ہی   اِس بگولے کا حجم ابوشامل اُور فرنانڈس کے جسموں سے ٹکرایا۔کمرہ کربناک چیخوں سے گُونج اُٹھا۔ اِس بگولے نے انتہائی طاقت سے ابوشامل اُور فرنانڈس کے جسموں کو ہَوا میں ایسے اُچھال دیا تھا۔ جیسے اُن دونوں کے اجسام کوئی تنکے ہُوں جو آندھی میں اُڑے جارہے ہُوں۔

مزید چند لمحوں کے بعد آندھی تھم گئی۔لیکن ابوشامل اُور فرنانڈس کا کمرے میں نام و نشاں تک نہیں تھا۔۔۔۔ یہ دونوں کہاں چلے گئے؟ کامل علی نے دانہ ثمانی کے موکل سے استفسار کیا۔۔۔۔  یہ سب اِس ہار کی کرامت ہے جو تم  تم نے ابھی اریبہ کو پہنایا ہے۔ اِس ہار کی موجودگی میں کوئی جن یہاں نہیں ٹہرسکتا۔ورنہ وُہ چند پل میں جل کر خاکستر ہُوجائے گا۔ دانہ ثمانی کے موکل نے کامل  علی کے علم میں اضافہ کرتے ہُوئے بتایا۔۔۔ لیکن پھر تُم یہاں کیسے موجود ہُو۔کامل نے حیرت کا اظہار کیا۔۔۔۔۔ میں اِس لئے یہاں موجود ہُوں۔کہ،، میں کوئی جن نہیں ہُوں صرف دانہ ثمانی کا موکل ہُوں۔۔۔ تم ایسا کرو رفیع صاحب کو بُلاکر ہدایات دےدُو۔کہ،، کسی بھی صورت میں وُہ اِس ہار کو اریبہ کے جسم سے جُدا نہ کریں۔ ورنہ وُہ فرنانڈس جب تک زندہ ہے۔ہر حال میں اریبہ کے جسم پر قبضہ جمانے کی کوشش ضرور کرے گا۔

(جاری ہے)

اُسکا کہنا ہے۔ کِسی اُور کو دیکھوں نہ کبھی
کیوں کہ اُسکو یہ میرا رُوپ بُرا لگتا ہے۔

مجھکو ہر چہرے میں آتاہے نظر اِک وُہ ہی
جُو نہ بھر پائے یہ بہروُپ !!!  ۔بُرا لگتا ہے۔


Friday, 5 June 2015

جال در جال قسط ۱۲۔ (بھیگی آنکھیں خالی ہاتھ)۔



جال در جال قسط ۱۲۔ (بھیگی آنکھیں خالی ہاتھ)۔



گُزشتہ سے پیوستہ۔

آغا بابر عادی مجرم نہیں تھا۔ اُور نہ اِس سے پہلے اُسکا پولیس سا واسطہ پڑا تھا۔ بلکہ بعض پُولیس افسران تو خُود شہریار مجددی کی نسبت کیوجہ سے آغا بابر کو اِضافی پروٹوکول دِیا کرتے تھے۔ لیکن آغا بابر نے پُولیس کی چند گھنٹوں کی ابتدائی تواضع کے بعد ہی اپنے جُرم کا اقبال کرلیا۔ اُور مزید کُچھ مہمان نوازی کے بعد وُہ ساڑھے تین کروڑ روپیہ کی رقم بھی لُوٹانے پر رضامند ہُوگیا جو اُس نے مختلف حیلے بہانوں سے خُرد بُرد کی تھی۔

صرف ایک ہفتہ کے قلیل عرصے میں ڈی ایس پی اعتصام مجددی کی خاص توجہ کے باعث نہ صرف آغا بابر سے رقم بازیاب کرالی گئی بلکہ وہ تمام میٹریل بھی تاجروں نے تبدیل کردیا۔ جو دھوکہ دہی سے فرقان کی سائٹ پر جمع ہُوچُکا تھا۔ جبکہ حماد اینڈ سنز کا کوٹیشن منسوخ کرنے کے بعد فرقان کی فرمائش پر وہ ٹھیکہ ٹھیکیدار عبدالرحمن کو نئے سِرے سے دیدیا گیا۔

اَب مزید پڑھیئے۔

فرقان کا ٹھیکدار عبدالرشید کو کام دیئے جانے کا مشورہ نہایت مُفید ثابت ہُورہَا تھا۔ عبدالرشید نے سب سے پہلے فرقان کے مشورے سے نقشہ میں کچھ تبدیلیاں کروائیں۔ جسکی وجہ سے کُچھ غیر ضروری بلڈنگ کی تعمیرات کو فی الحال چھوڑ دیا گیا۔ جسکی فیکٹری کو کم از کم پانچ برس تک کوئی ضرورت ہی نہیں تھی۔ جبکہ کُچھ دیواروں کی اُونچائی اور حجم کو بھی کم کیا گیا۔ اس کے علاوہ فیکٹری کے فرنٹ ایلیویشن کو نہایت سادہ رکھا گیا۔ اِن تمام تبدیلیوں اُور آغا بابر کے کمیشن خُور ایجنٹوں سے نجات کے باعِث فیکٹری کی تعمیرات کے بجٹ میں کم از کم چالیس لاکھ روپیہ کی بچت متوقع تھی۔ عبدالرشید کے تجربے اُور اِخلاص کے باعث فرقان کو آج بھی کوئی ذہنی الجھن نہیں تھی۔ البتہ عبدالرشید کے مشورے پر فیکٹری کے تمام میٹریل کی خریداری اَب فرقان ہی کررہا تھا۔ جسکی وجہ سے تمام خام مال نہایت ارزاں قیمت پر بہترین کوالٹی کیساتھ فیکٹری کی تعمیرات میں شامل ہُورہا تھا۔ اور عبدالرشید کی خاص دلچسپی کے باعث فیکٹری کا پروجیکٹ ایک برس کے بجائے صرف آٹھ ماہ میں مکمل ہُونے کی اُمید تھی۔

تمام کام خُوش اسلوبی سے جاری تھا۔ ہر نیا دِن فیکٹری کے مکمل ہُونے کی نوید سُنا رہا تھا۔ مشینری کی خریداری شہریار مجددی کے سپرد تھی۔ کافی مشینری نصب بھی ہُوچُکی تھی ۔ لیکن چھ ماہ گُزر جانے کے باوجود بھی شہریار مجددی پاکستان شفٹ نہیں ہُو پائے تھے۔ البتہ وہ کُچھ وقت نِکال کر مہینے میں چار پانچ دِن کیلئے پاکستان ضرور آجاتے تھے۔ اُور فیکٹری کی تعمیر سے مطمئین تھے۔ فرقان کو بس ایک کمی محسوس ہُورہی تھی۔ کہ اُسکی معاونت کرنے کیلئے کوئی آغا بابر کی طرح کا ہوشیار آدمی نہیں تھا۔ جو باہر کے معاملات میں اِسکا ہاتھ بٹا سکتا۔ لیکن آغا بابر کے تجربے کے بعد فرقان بُہت ذیادہ محتاط ہُوگیا تھا۔ پھر ایک دِن اُسکے دِل میں خیال آیا کہ ،، وہ کیوں نہ حسَّان صاحب سے اِس مُعاملہ میں مدد حاصِل کرئے۔

یہی سُوچ کر اُس شام وہ حَسّان صاحب کی طرف چلدیا۔ نصف راستہ طے کرنے کے بعد جب وہ شہر کے ایک مشہور ہاسپٹل کے قریب سے گُزر رَہا تھا۔ اُسکی نِگاہ اُسی بنک منیجر کرامت صاحب پر پڑی۔ جُو کہ فرقان کے خیال کے مطابق نعمان اور فرقان کے درمیان جُدائی کا سبب بنا تھا۔ فرقان کے دِل میں جب بھی کرامت صاحب کا خیال آتا۔ تب ایک بات شِدت سے اُسکے ذہن کو اپنی گرفت میں لے لیا کرتی تھی۔ کہ کاش وہ کرامت صاحب کا مُنہ نوچ لے۔ جسکے پرپوزل کی وجہ سے اُن دُونوں دوستوں کے درمیان غیریت کی دیوار حائل ہوگئی تھی۔ کرامت صاحب کے نزدیک سے گُزرنے پر فرقان نے دیکھا کہ کرامت صاحب ایک ڈاکٹر کی منت سماجت کررَہے ہیں ۔

کرامت صاحب سے لاکھ اِختلاف کے باوجود بھی فرقان کو جُونہی یہ بات سمجھ میں آئی کہ کرامت صاحب اِس وقت کسی مشکل میں گرفتار ہیں۔ وہ اپنی طبعیت کے برخلاف وہاں سے بے رخی برت کر نہیں گُزر سکا۔ فرقان نے کار کو پارکنگ ایریا میں لگایا اور کرامت صاحب کی پریشانی جاننے کیلئے اُن کی جانب بڑھتا چلا گیا۔

کرامت صاحب سے مُلاقات کے بعد فرقان کو معلوم ہُوا کہ کرامت صاحب کی چودہ برس کی بیٹی چند ماہ سے کینسر کے مرض میں مُبتلا ہے اُور تقریباً ۳ ماہ سے اِسی ہسپتال میں زیر علاج ہے۔ کرامت صاحب کی بیٹی ہی انکی اکلوتی اُولاد تھی۔ جنہیں اب ڈاکٹرز لاعلاج قرار دے چُکے تھے۔ ڈاکٹرز کا کہنا تھا کہ کرامت صاحب کی بچی کا علاج پاکستان میں ممکن نہیں تھا۔ جبکہ کرامت صاحب کے وسائل اسقدر نہیں تھے۔ کہ وہ اپنی بچی کو علاج کیلئے بیرون مُلک لیجاسکتے۔ فرقان نے جب کرامت صاحب کی رُوداد اُنکی زُبانی سُنی تو وہ تمام اختلاف بُھلا کر کرامت صاحب کی دلجوئی کرتے ہُوئے کہنے لگا۔

کرامت صاحب آپ دلبرداشتہ نہ ہُوں انشاءَ اللہ آپکی بچی ایک دِن ضرور صحتیاب ہُوگی ۔ آپ خود بھی دُعا کرتے رہیں۔ اُور اللہ والوں سے بھی دُعا کی درخواست کرتے رہیں۔ کیونکہ جنہیں اللہ کریم سے نِسبت ہُوجاتی ہے اللہ کریم اُنکی دُعاؤں کو کبھی رد نہیں فرماتا۔ جو اپنی زندگی کا ایک ایک لمحہ اللہ کریم کی رضا کیلئے وقف کرچُکے ہُوں اللہ کریم بھی اُنکی بھیگی آنکھوں اُور اُٹھے ہُوئے ہاتھوں کی لاج ضرور رکھتا ہے۔ ویسے میں بھی اِس وقت ایک اللہ کے ولی کے آستانے پر حاضر ہُونے کی سعادت حاصِل کرنے جارہا تھا۔ اب انشاءَاللہ اُن سے کہوں گا کہ وہ آپکی بچی کیلئے ضرور دُعا کریں۔ مجھے قوی یقین ہے کہ اگر میں اُنکے ہاتھ اُٹھوانے میں کامیاب ہُوگیا ۔ تُو آپکی بچی کو اِک نئی زندگی ضرور حاصِل ہُوجائیگی۔

فرقان کی اخلاص بھری باتوں سے کرامت صاحب کا حُوصلہ بُلند ہُونے لگا تھا۔ کرامت صاحب نے تشکر کے جذبے سے فرقان کے ہاتھ دباتے ہُوئے کہا فرقان بھائی اگر آپ کی اِجازت ہُو تُو میں بھی اُنکی زیارت کا شرف حاصِل کرنا چاہوں گا۔۔۔۔۔۔؟ فرقان نے خُوشدلی سے جواباً کرامت صاحب کے ہاتھوں کو تھامتے ہُوئے کہا۔۔۔۔ کیوں نہیں کرامت صاحب آپ ضرور میرے ساتھ چلیں۔

حسَّان صاحب نے کرامت صاحب کا تعارف حاصِل کرنے اُور تمام کہانی کرامت صاحب کی زُبانی سُن لینے کے بعد دُعا کرنے سے قبل کرامت صاحب سے ایک سوال کیا۔۔۔۔ کرامت صاحب ایک بات تُو بتایئے کہ آپ جِس بنک میں مُلازم ہیں کیا اُسکے مالکوں سے لڑائی اور ضد قائم رکھنے کے بعد بھی آپ آسانی سے اُسی بنک میں اپنی مُلازمت پر قائم رِہ پائیں گے۔۔۔۔۔۔۔؟

کرامت صاحب نے حیرت سے حسَّان صاحب کی طرف دیکھتے ہُوئے کہا،، حضرت یہ کِس طرح ممکن ہے۔ یقیناً اِس تمام معاملہ میں ہار میرا مُقدر ہُوگی۔ کیونکہ جب میرے مالک ہی میرے کام سے خُوش نہیں ہُونگے تُو وہ کبھی بھی میرا وجود اپنی فرم میں برداشت نہیں کرپائیں گے۔

پھر آپ اللہ کریم کے واضح حُکم کے خِلاف جاکر اُور سُودی سسٹم کا حِصہ بننے کے باوجود یہ توقع کیوں رکھتے ہیں۔ کہ وہ کریم پروردگار جس نے آپکو عزت عطا فرمائی۔ علم عطا کیا، رزق مُہیا کیا ، اُور اُولاد کی نعمت سے نوازا،، مگر آپ نے پھر بھی اُسکا شُکر ادا کرنے کے بجائے وہ راہ اِختیار کی۔ جس راستے کو اُس پاک کریم رب نے اپنی مُخالفت کا رستہ بتایا۔ کیا آپ ظالموں اور غریبوں کے لہو سے اپنی حیات کا رِشتہ قائم رکھنے والوں کے لشکر میں شامل ہُونے کے باوجود بھی ۔ اُور اپنی تمام تر نافرمانیوں کے صلہ میں یہ اُمید رکھتے ہیں۔ کہ آپ کی زندگانی تنگ نہ ہُوگی۔ آپ کے چمن میں ہمیشہ بہار رہے گی۔ اُور خِزاں اور خار کبھی آپکا مُقدر نہیں بنیں گے۔۔۔۔۔۔؟ اُور اگر آپ ایسا ہی سُوچتے رہے ہیں۔ تو کرامت صاحب مُعاف کیجئے گا۔ پھر تُو آپ نے رازِق حقیقی کو اپنے دُنیاوی آقاؤں کی خُوشنودی سے بھی کم جاننے کا گُناہِ عظیم کیا ہے۔ ذرا دِل پر ہاتھ رکھ کر جواب دیجئے گا۔ کہ کیا آپ خُود اپنی بچی کی حالت کے زِمہ دار نہیں ہیں۔ حَسَّان صاحب نے نہایت دلسوز انداز میں کرامت صاحب کو دیکھتے ہُوئے کہا۔

کرامت صاحب کی زُباں حَسَّان صاحب کے بیاں کے آگے گنگ ہُوچُکی تھی۔ البتہ اُنکی چشم کے آبگینے مسلسل چھلک رہے تھے۔ جو یہ بتانے کیلئے کافی تھے کہ دِل کی زمین ابھی بالکل بنجر نہیں ہُوئی ہے۔ بلکہ وہ زَرا سی نمو کی منتظر ہے۔ کرامت صاحب نے چند لمحے خاموش رہنے کے بعد سسکتے ہُوئے کہا حضرت اگرچہ میری ریٹائرمنٹ میں صرف چار سال کا فاصلہ حائل ہے۔ اُور مجھے اپنے اسٹیٹس یا ریٹائرمِنٹ کی بھی پرواہ نہیں ہے۔ لیکن میں اپنی بچی کی خاطر اگر یہ قربانی دے بھی دُوں۔ تب بھی میں عُمر کے اُس حصے سے گُزر رَہا ہُوں۔ جہاں نہ میرا ناتواں جسم مزدوری کے قابل ہے اُور نہ ہی مجھے کوئی ہُنر آتا ہے کہ جس سے اپنے گھر والوں کی کفالت کرسکوں۔۔۔۔۔؟ تمام زندگی میں کُچھ معمولی سی رقم ہی پس انداز کرپایا تھا۔ یا بیگم کے زیورات تھے۔ مگر وہ بھی بچی کی بیماری کے نذر ہوچُکے ہیں۔ ڈرتا ہُوں کہ کہیں میری تُوبہ اُور میری قُربانی میرے اپنوں کے گلے کا پھندہ نہ بن جائے اُور میں پچھتاوے کے بِحر بیکراں میں گرفتار ہُو کر نہ رِہ جاؤں۔

توبہ اُور قربانی میں شرط نہیں رکھی جاتی امتیاز میاں۔ بے یقینی کی دلدل سے یقین کی رسی ہی تُم کو باہر نِکال سکتی ہے۔ تُم ایک قدم بڑھاکر تُو دیکھو پھر دیکھنا وہ کریم کس طرح تُمہاری مدد کے راستے کھولتا ہے۔ بیٹی بھی مِل جائے گی۔ اُور رَب کی رضا بھی۔ مگر فیصلہ تُمہی کو کرنا ہے البتہ میں تُمہیں یقین دِلاتا ہُوں کہ اِس قربانی کے بعد آپ بے روزگار نہیں رہیں گے۔ فرقان میاں کی نئی فیکٹری میں آپ جیسے تجربے کار لوگوں کی اشد ضرورت ہے۔ اُور جہاں تک بچی کی صحت کا مُعاملہ ہے۔ تو بزرگوں کی نعلین کے صدقے میں ہم ایک ایسی دوا جانتے ہیں جو اِس مرض میں اکسیر کا مقام رکھتی ہے۔ آپ بچی چند دِنوں کیلئے ہمارے گھر چھوڑ جائیے گا۔ اللہ کریم نے چاہا تو صحت مِل جائے گی۔ کیونکہ شِفا اُسکے حُکم میں ہے دوا تُو صِرف بہانہ ہے۔ حسان صاحب نے کرامت صاحب کی تشویش کا جواب دیتے ہُوئے کہا۔

پھر آپ ہی توبہ کرادیجئے۔ تاکہ میری نئی زندگی کا آغاز آپ ہی کے آستاں سے ہُوجائے۔ کرامت صاحب کا جُملہ مکمل ہُوتے ہی حسان میاں نے وجد میں باآواز نعرہ تکبیر بُلند کردیا۔

(جاری ہے)

مُحترم قارئین کرام ،، آپ سب سے دُعاؤں کیلئے ملتمس ہُوں۔ مجھے یقین ہے کہ رمضان المبارک کی اِن بابرکت ساعتوں میں آپکے ہاتھوں کی بُلندی کے دوران میں آپکی دعاؤں کا حِصہ ضرور رہا ہُونگا۔

پلکوں سے دَرِ یار پہ دستک دینا
اُونچی آواز ہُوئی عُمر کا سرمایہ گیا

عامل کامل ابوشامل (فرنانڈس کی تلاش) قسط 45.akas



گُذشتہ سے پیوستہ۔

لیکن شہزادے فرنانڈس کو  اِس ضیافت سے بھی کئی گُنا جس چیز نے متاثر کیا۔ وُہ آپکی بیٹی کے نقوش تھے۔ جو اتفاقی طور پر ایک ایسی شہزادی سے مِلتے ہیں۔ جو شہزادہ فرنانڈس کو اُسکی بیباکی کی وجہ سے کئی برس پہلے ریجیکٹ کرچکی تھی۔ بس یہیں سے اریبہ کی بدنصیبی کی داستان شروع ہُوگئی۔۔۔ اریبہ کا جتنے بھی لوگوں نے علاج کیا ہے ۔اُن میں صرف ۲ ہی ایسے لوگ تھے۔جو اِس حقیقت سے واقف تھے۔کہ،، اریبہ کس  موذی کی ہَوس کا شکار بن رہی ہے۔لیکن شہزادہ فرنانڈس کوئی عام جن نہیں ہے۔جسے آسانی سے زیر کرلیا جائے۔اِس لئے انہوں نے بھی ٹال مٹول کے ذریعے راہِ فرار حاصل کرلی۔اگرچہ یہ لڑائی اتنی آسان نہیں ہے۔کہ،، میں  ہفتہ دس دِن میں  یہ جنگ جیت جاوٗں۔لیکن میں آپکو یقین دِلاتا ہُوں۔کہ،، چاہے مجھے اپنی جان پر کھیل جانا پڑے ۔لیکن میں آپکی اریبہ کو فرنانڈس کے آہنی پنجوں سے ضرور چھین کر واپس لاونگا۔۔ کامل کے چہرے پر تمام گفتگو کے دوران عزم کے دیپ  جگنو کی مانند جگمگاتے رہے۔

کامل نے  رفیع دُرانی کو مزید سمجھاتے ہُوئے بتایا۔کہ،، چونکہ فرنانڈس کی حفاظت کیلئے اُس کے والد نے کئی لشکر ترتیب دے رکھے ہیں۔ اِس لئے اُس پر اُوچھا ہاتھ نہیں ڈالا جاسکتا۔اسلئے مجھے پندرہ دن کی مہلت درکار ہے۔تاکہ حکمت عملی  سے  مزید قوت  حاصل کرنے کے بعد ہی دُشمن کو للکارا جائے۔ کامل علی کی گفتگو سے ایکبار پھر رفیع دُرانی کے اندر آس و خُود اعتمادی مجتمع ہُونے لگی تھی۔ورنہ ہر گُزرتے دِن کیساتھ اُسے یُوں لگنے لگا تھا۔کہ،، جیسے اریبہ  ریت کی مانند اُسکی مٹھی سے پھسلتی جارہی ہُو۔

یار ابو شامل تُم نے پندرہ دِن کا وقت آخر کیوں طلب کیا ہے؟؟؟ کیا واقعی تمہیں مزید قوت درکار ہے یا یہ بھی امپریشن جمانے کا وہی طریقہ ہے۔ جو ہم نے وجاہت دہلوی پر آزمایا تھا۔کامل نے رفیع کے جاتے ہی ابوشامل سے استفسار کیا۔۔۔۔۔۔۔ نہیں کامل اِس مرتبہ واقعی ہمارا دُشمن بُہت طاقتور ہے۔ فرنانڈس جس حفاظتی حصار میں موجود رہتا ہے۔ اُسکا شائد تُم اندازہ بھی نہیں لگاپاوٗگے۔۔۔۔ کیا فرنانڈس اُس ہندو جوگی گھنشام داس سے بھی ذیادہ شکتی مان ہے۔کامل نے حیرت سے ابوشامل کو دیکھتے ہُوئے  سوال کیا۔۔۔۔۔  اگر تُم مختصر جواب سے مطمئین ہُوسکتے ہُو۔تو میرا جواب ہُوگا ،، ہاں وُہ گھنشام سے کہیں ذیادہ خطرناک  ثابت ہوسکتا ہے۔۔۔۔۔۔

پھر تُم  پندرہ دِن میں اتنی طاقت کیسے حاصل کروگے؟ کامل نے اچھنبے سے اگلا سوال کیا۔۔۔۔ میرے دُوست میں نے یہ وقت اپنے لئے نہیں بلکہ تمہیں محفوظ کرنے کیلئے طلب کیا ہے۔کیونکہ بظاہر  اَریبہ کا علاج تُم نے کرنا ہے۔ اُور میں نہیں چاہتا کہ،، مجھے بیک وقت فرنانڈس سے مقابلہ کے وقت تمہاری بھی حفاظت کا فریضہ انجام دینا پڑے۔ کیونکہ مجھے معلوم ہے۔ وُہ تمہیں میرے ساتھ دیکھ کر ضرور بھڑکے گا۔ اِس کے ساتھ مجھے کوئی ایسی بھی تدبیر سُوچنی ہے۔کہ،، پہلی ہی مُلاقات میں اَریبہ فرنانڈس کی دسترس سے باہر نکل جائے۔ اگر تمہاری حفاظت کیساتھ اریبہ بھی محفوظ ہوجاتی ہے تو سمجھو  فرنانڈس کا قصہ تاریخ کا حصہ بننے میں ذیادہ وقت نہیں لگے گا۔

چودہ دِن تک ابوشامل کی مسلسل کوشش سے کامل علی دانہ ثمانی کے موکل سے رابطہ کرنے میں کامیاب ہُوگیا تھا۔ جس کے بعد دانہ ثمانی کے موکل سے ایک معاہدہ کیا گیا۔کہ،، کامل علی اپنی زندگی میں کبھی دانہ ثمانی کے موکل کو قابو کرنے کی کوئی کوشش نہیں کرے گا۔ جبکہ بدلے میں دانہ ثمانی کے موکل کو فرنانڈس کے تمام اُوچھے ہتھکنڈوں سے  تین ماہ تک حفاظت فراہم کرنی ہُوگی۔ لیکن ابھی تک ابوشامل کو کوئی ایسا ہتھیار  یا حل نہیں مِل پایا تھا۔کہ،، جسکی وجہ سے اَریبہ بھی فرنانڈس کے چنگل سے محفوظ ہُوجائے۔پندرہویں دِن  جب  سُورج ڈھلنے میں چند ہی ساعتیں باقی تھیں۔ کامل اور ابوشامل  اَریبہ کے گھر جانے کیلئے اپنے بنگلے سے نکلے۔تو گاڑی میں بیٹھنے کے بعد ابوشامل نے کامل سے اجازت طلب کرتے ہُوئے کہا۔کہ،، میں بھابی سے کوئی بہانہ کرآوٗں تاکہ،، ہمیں دیر ہُونے کی صورت میں وُہ پریشان نہ ہُو۔ کامل کی اجازت ملتے ہی ابوشامل واپس بنگلے میں داخل ہُوگیا۔۔۔ گاڑی اسٹارٹ کرنے کے بعد کامل کی نگاہ بنگلے کے گیٹ پر ہی مرکوز تھی۔کہ،، کسی نے شیشے پر دستک دیتے ہُوئے کامل کو اپنی جانب متوجہ کرنے کی کوشش کی۔کامل نے پلٹ کر دیکھا تو سلطان تبریزی ہاتھ میں ایک رومال لئے کھڑا تھا۔

آج پھر اپنی سابقہ نصیحت دہرانے چلے آئے ہیں۔یا کوئی نیا تماشہ کرنے کا اِردہ ہے آج۔؟  گاڑی سے باہر نکلتے ہی کامل علی نے سلطان تبریزی پر طنزیہ نشتر چلادیا۔۔۔۔چونکہ آج پہلی مرتبہ تمہاری نیت میں کھوٹ کے بجائے اخلاص دکھائی دے رہا ہے۔ اِس لئے میں کوئی نصیحت نہیں کرونگا۔ البتہ تمہاری مدد کی خاطر ایک تحفہ ضرور لایا ہُوں۔ اِس  رُومال میں ۲ لیموں موجود ہیں۔ جو کہ ایک سیاہ ڈوری سے مربوط ہیں۔ جب  تمہیں اِشارہ موصول ہُوجائے تب پھرتی سے یہ ہار اُس  بچی کی گردن میں پہنادینا۔اتنا کہنے کے بعدسلطان تبریزی نے وُہ رومال کامل کی طرف اچھال دیا۔ کامل چونکہ سلطان تبریزی کی جانب سے ایسے کسی عمل کیلئے تیار نہیں تھا۔اِس لئے رومال کامل کے ہاتھوں سے پھسلتا ہُوا نیچے گرنے لگا۔ لیکن کامل نے کمال پھرتی سے زمین پر گرنے سے قبل  رُومال دبوچ کر جونہی کمر سیدھی کی۔سلطان تبریزی ایکبار پھر کامل کو چکمہ دینے میں کامیاب ہُوگیا۔

ابو شامل جونہی گیٹ سے نکل کر کامل کے قریب پہنچا۔تو کامل کے ہاتھ میں سبز رُومال دیکھ کر اُسکی آنکھوں میں چمک پیدا ہُوگئی۔یہ رُومال کہاں سے آیا تمہارے پاس؟ ابوشامل نے عقیدت سے رُومال کو بوسہ دیتے ہُوئے کہا۔وہی گھونسلے جیسے بالوں والا فقیر دے گیا ہے۔کامل نے بیزاری سے جواب دیتے ہُوئے بتایا۔۔۔ یار کامل علی میں نے پہلے بھی کہا تھا۔اُور آخری بار سمجھارہا ہُوں تمہیں۔کہ،،  اِن درویشوں کا نام ادب سے لیا کرو۔۔۔۔ورنہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کامل نے ابوشامل کے تیور دیکھ کر اثبات میں اپنی گردن سے حامی بھر کر معاملے کو رفع دفع کرنے میں ہی عافیت جانی۔ اُور گاڑی  رفیع دُرانی کے گھر کیلئے دُوڑادی۔

رفیع دُدانی کے گھر میں داخل ہُوتے وقت کامل نے دانہ ثمانی کے موکل کی موجودگی کو محسوس کرکے اپنے اندر کافی حوصلہ  موجود پایا۔لیکن جونہی رفیع دُرانی کی نگرانی میں وُہ اَریبہ کے کمرے میں داخل ہُوئے شراب کی تیز بھبک  نےاِنکا استقبال کیا۔۔۔۔ بستر پر ایک ڈھانچہ نما بچی کا جسم پڑا تھا ۔جسکے نقوش اگرچہ واقعی قابل ستائش تھے۔ لیکن اُسکے کمزور جُھری ذدہ بدن کو دیکھ کر کوئی نہیں کہہ سکتا تھا۔کہ،، اُسکی عمر پندرہ برس رہی ہُوگی۔۔۔ ابو شامل نے ایک مخصوص فاصلے کے بعد کامل کومزید آگےبڑھنے سے رُوک دیا تھا۔کامل علی نے آنکھیں بند کرنے کی کوشش کی تاکہ اپنا کردار بخوبی نبھا سکے تبھی اُس کو ایسا محسوس ہُوا۔جیسے کسی نے اُسکے کلیجے کو اپنی مٹھی میں جکڑ لیا ہُو۔

(جاری ہے)

اُسکا کہنا ہے۔ کِسی اُور کو دیکھوں نہ کبھی
کیوں کہ اُسکو یہ میرا رُوپ بُرا لگتا ہے۔

مجھکو ہر چہرے میں آتاہے نظر اِک وُہ ہی
جُو نہ بھر پائے یہ بہروُپ !!!  ۔بُرا لگتا ہے۔


Thursday, 4 June 2015

عامل کامل ابو شامل (فرنانڈس کی آمد)قسط 44.akas



گُذشتہ سے پیوستہ۔


 اگرچہ  ابوشامل کے ایماٗ پر کامل علی اپنے آستانے نما کوٹھی چلا آیا تھا۔لیکن اُس کا دِل ابتک کسی انجانے خُوف سے دھڑک دھڑک کر مُنہ کو آرہا تھا۔پھر وُہ گھڑی بھی آئی جب وجاہت دہلوی کیساتھ ایک چالیس پنتالیس کی درمیانی عُمر کا  اسمارٹ جوان نمودار ہُوا۔ وجاہت دہلوی نے آتے ہی کامل کی دست بُوسی کی۔جب کہ  ،، اُس جوان شخص رفیع دُرانی  نے صرف ہاتھ ملا کر سلام پر ہی اکتفا کرتے ہُوئے ایک طائرانہ نگاہ تمام کوٹھی پر ڈالی۔ اُور پھر یُوں کامل علی کے چہرے کو بغور دیکھنے لگا۔ جیسے وُہ کامل کو پہچاننے کی کوشش کررہا ہُو۔ یا اُس کے چہرے کے ذریعے اُس کی شخصیت کا اندازہ لگانے کی کوشش میں مصروف ہُو۔کامل نے اُسکی نظروں کی چبھن سے تنگ آکر خُود گفتگو کا آغاز کرتے ہُوئے سوال کیا۔ جی رفیع دُرانی صاحب فرمایئے میں آپکی کیا خدمت کرسکتا ہوں؟۔۔۔۔۔ کامل صاحب کیا کل کورنگی تھانے میں آپ ہی کو لاک اپ کیا گیا تھا۔؟؟؟ رفیع دُرانی کے اِس جملے کو سُن کر ایکبار پھر کامل کو اپنا دِل ڈوبتا ہُوا محسوس ہُونے لگا تھا۔


کامل علی ہُوش کے ناخن لُو۔ اُور اِس ایس پی سے خوفزدہ ہُونے کے بجائے دبنگ لہجے میں اس سے بات کرو پھر دیکھنا یہ کس طرح تمہارے قدموں میں خود کو ڈھیر کرتا ہے۔ابوشامل نے کامل کو جونہی ٹُوکا۔ کامل نے فوراً اپنی کیفیت پر قابو پاتے ہُوئے اپنا لہجہ بدل کر رفیع دُرانی کو متوجہ کرتے ہُوئے جواب دینا شروع کیا۔۔۔۔ رفیع صاحب کیا آپ  صرف یہ فضول سوال پوچھنے کیلئے یہاں تشریف لائے ہیں۔ جب آپکو یہ علم ہے ۔کہ،، کل ایک غلطی کو سُدہارنے کیلئے ہم تھانے پُہنچے تھے۔ تب آپ کو یہ علم بھی ضرور ہُوگا۔کہ،، آپ کے افسران آپ ہی کی ناک کے نیچے کیسے کیسے گُل کھلارہے ہیں۔ آخری جملہ ادا کرتے کرتے ناچاہتے ہُوئے بھی کامل کے لہجے میں دُرشتگی دَر آئی تھی۔


کامل کی خفگی دیکھ کر رفیع دُرانی کا لہجہ ایکدم نرم پڑگیا۔ نہیں جناب میرا اِرادہ خُدانخواستہ آپ پر شک کرنے کا نہیں تھا۔ رضوان کی مجھے پہلے بھی کافی شکایات موصول ہُوچکی ہیں۔ اسلئے مجھے یقین ہے۔کہ،، تمام غلطی بھی رضوان خان کی ہی رہی ہُوگی۔ لیکن جو واقعات مجھے آپ کے متعلق سُننے کو ملے ہیں۔کہ،، کسطرح آپ نے  رضوان کو انوکھی سزا سے نوازا ہے۔ بس وُہ تمام واقعات اتنے عجیب اُور ناقابل عقول ہیں۔کہ،، کوئی بھی مجھ جیسا پریکٹیکل بندہ اتنی آسانی سے اِنکے وقوع پذیر ہونے پر مشکل ہی سے یقین کرے گا۔ لیکن آج وجاہت سے ملنے کے بعد مجھے بھی کسی حد تک یقین آچکا ہے۔ ۔۔ دراصل میں خُود آجکل ایک عجیب سی صورتحال میں مبتلا ہُوں۔ جسکا حل شائد آپ کے پاس موجود ہُو۔ بس میں اِسی لئے حاضر ہُوا تھا۔ باقی اگر آپ کو میرے سوال سے تکلیف پُہنچی ہُو تو میں ایکبار پھر آپ سے معذرت چاہتا ہُوں۔۔۔ جب تک رفیع دُرانی نے اپنی شرمندگی  کا اظہار کیا۔تب تک ابو شامل بھی کھسر پھسر کرتے ہُوئے کافی معلومات کامل تک پُہنچا چُکا تھا۔۔۔۔


جی رفیع صاحب مجھے معلوم ہے۔ کہ،، آپ اپنی پندرہ سالہ بیٹی اریبہ  جو میٹرک کی طالبہ ہے کیلئے بُہت پریشان ہیں۔ مجھے یہ بھی معلوم ہے کہ،، گُذشتہ ڈیڑھ برس میں آپ نے روحانی علاج کیلئے بیشمار لوگوں  سے  رابطہ بھی کیا ہے۔ لیکن کوئی بھی آپکی بچی کو  واپس نارمل حالت کی طرف نہیں لاسکا۔ جبکہ اریبہ کی حالت دِن بدن بگڑتے ہُوئے اِس حال کو پُہنچ چکی ہے۔ کہ،، وُہ خوف کی وجہ سے راتوں کو سُو بھی نہیں پاتی۔ جبکہ آپکے خیال کے مطابق میٹرک کے امتحانات بھی وُہ شائد نہیں دے پائےگی۔۔۔۔لیکن ایسا آپ سوچتے ہیں۔جبکہ میں اریبہ کو  بہت جلد دوبارہ نارمل زندگی گُزارتا ہُوا دیکھ رہا ہُوں۔ کامل علی بدستور خلاوٗں   میں  اسطرح گھور  گھور کر دیکھ رہا تھا۔ جیسے وُہ  رفیع دُرانی کا مستقبل پڑھ کر سُنارہا ہُو۔ رفیع دُرانی کی آنکھوں سے اریبہ کا ذکر سُننے کے بعد اَشک یُوں  رُخساروں پربہنے لگے تھے۔جیسے  برسوں بعد تھل کی زمینوں پر بارش مہربان ہُوگئی ہُو۔۔۔ جناب کیا واقعی میری  اکلوتی بیٹی ٹھیک ہُوجائے گی۔؟۔ ہاں ہاں کیوں ٹھیک نہیں ہُوگی ضرور ٹھیک ہُوگی۔ جو بنا بتائے دِل کا حال جان لیتا ہُو۔ وُہ یقینا مستقبل شناش بھی ضرور ہُوگا۔ رفیع دُرانی خُود ہی سوال قائم کررہا تھا اُور خود ہی بُڑبڑاتے ہُوئے جواب دیئے چلا جارہا تھا۔


رفیع دُرانی صاحب میں آپ کو  علاج سے قبل کسی بھی بات سے بے خبر نہیں رکھنا چاہتا۔ اِس لئے آپکو کچھ باتیں پیشگی بتانا بُہت ضروری سمجھتا ہُوں۔ کیا آپ کو معلوم ہے۔کہ،، اریبہ بیٹی کیساتھ اصل مسئلہ کیا ہے؟ کامل علی نے متانت سے استفسار کیا۔۔۔۔ قبلہ جتنے مُنہ اتنی ہیں باتیں ہیں۔ کوئی کہتا ہے جادو کے معملات ہیں،توکوئی نظر بد بتاتا ہے۔  کوئی ذہنی مسئلہ تجویز کرتا ہے۔تو کوئی پری کا سایہ ۔۔۔ مجھے تو خاک سمجھ نہیں آتا کُون سچ کہہ رہا ہے۔اُور کون ہمیں بےوقوف بنارہا ہے۔ رفیع دُرانی نے بے بسی سے ہاتھ ملتے ہُوئے جواب دیا۔

چلیں کوئی بات نہیں آج میں آپکو وُہ سب کچھ صحیح صحیح بتائے دیتا ہُوں۔ جو کچھ مجھے اپنے  روحانی کشف سے عِلم ہُوچکا ہے۔ کامل نے  گلا کھنکار کر اپنی گفتگو جاری رکھی۔ دراصل یہ آج سے سترہ ماہ قبل کی بات ہے۔ اُن دنوں آپ اپنی فیملی کو لیکر بٹگرام کی جانب سیر کیلئے گئے تھے۔ کامل نے ایک لمحے کو توقف کیا تو دُرانی نے حیرت سے کامل کو دیکھتے ہُوئے اثبات میں اپنی گردن ہلانی شروع کردی۔۔۔ بٹگرام کی پہاڑیوں میں اُن دنوں  جنات کے ایک مسیحی  قبائل کا شہزادہ فرنانڈس بھی اپنے کچھ خادموں کیساتھ  تفریح کی خاطر موجود تھا۔۔۔۔آپ لوگوں نے ایک  رات  سالم بکرے کی سَجی تیار کروائی تھی۔ جس پر لُوبیا کو پیس کرکوٹنگ کیلئے استعمال کیا گیا تھا۔ آپ لوگوں کو تو شائد معلوم بھی نہیں ہُوگا۔ لیکن یہ ڈش دراصل شہزادہ فرنانڈس کو بھی بُہت مرغوب ہے۔ جب یہ خُوشبو شہزادے کے نتھنوں تک پُہنچی تو اُس سے رَہا نہیں گیا۔ اُور وُہ اپنے خیمے سے باہر نکل کر آپ لوگوں کی جانب چلا آیا تھا۔ اُس دن وُہ کھانا آپ لوگوں کیلئے ناکافی ہُوگیا تھا۔ جسکی وجہ صرف اتنی تھی۔کہ،، چونکہ آپ لوگوں نے کھانا کھانے سے پہلے بسم اللہ شریف  نہیں پڑھی تھی۔ اسلئے آپ لوگوں کا نصف سے ذیادہ کھانا شہزادہ فرنانڈس کے شکم میں پُہنچ گیا۔ لیکن بات  اگریہیں ختم ہُوجاتی تب بھی یہ اتنا مہنگا سُودا نہیں تھا۔


لیکن شہزادے فرنانڈس کو  اِس ضیافت سے بھی کئی گُنا جس چیز نے متاثر کیا۔ وُہ آپکی بیٹی کے نقوش تھے۔ جو اتفاقی طور پر ایک ایسی شہزادی سے مِلتے ہیں۔ جو شہزادہ فرنانڈس کو اُسکی بیباکی کی وجہ سے کئی برس پہلے ریجیکٹ کرچکی تھی۔ بس یہیں سے اریبہ کی بدنصیبی کی داستان شروع ہُوگئی۔۔۔ اریبہ کا جتنے بھی لوگوں نے علاج کیا ہے ۔اُن میں صرف ۲ ہی ایسے لوگ تھے۔جو اِس حقیقت سے واقف تھے۔کہ،، اریبہ کس  موذی کی ہَوس کا شکار بن رہی ہے۔لیکن شہزادہ فرنانڈس کوئی عام جن نہیں ہے۔جسے آسانی سے زیر کرلیا جائے۔اِس لئے انہوں نے بھی ٹال مٹول کے ذریعے راہِ فرار حاصل کرلی۔اگرچہ یہ لڑائی اتنی آسان نہیں ہے۔کہ،، میں  ہفتہ دس دِن میں  یہ جنگ جیت جاوٗں۔لیکن میں آپکو یقین دِلاتا ہُوں۔کہ،، چاہے مجھے اپنی جان پر کھیل جانا پڑے ۔لیکن میں آپکی اریبہ کو فرنانڈس کے آہنی پنجوں سے ضرور چھین کر واپس لاونگا۔۔ کامل کے چہرے پر تمام گفتگو کے دوران عزم کے دیپ  جگنو کی مانند جگمگاتے رہے۔

(جاری ہے)


اُسکا کہنا ہے۔ کِسی اُور کو دیکھوں نہ کبھی
کیوں کہ اُسکو یہ میرا رُوپ بُرا لگتا ہے۔

مجھکو ہر چہرے میں آتاہے نظر اِک وُہ ہی
جُو نہ بھر پائے یہ بہروُپ !!!  ۔بُرا لگتا ہے۔


Wednesday, 3 June 2015

عامل کامل ابوشامل (ایس پی آستانے پر)قسط 43.akas






گُذشتہ سے پیوستہ۔

رضوان خان جو اِس ہنٹر کو دوسروں کے جسم پر برساتے ہُوئے اکثر بےلگام  ہُوجایا کرتا تھا۔ خُود  ۱۰ کوڑے بھی اپنی نازک تشریف پر برداشت نہیں کرپایا ۔اُور بے ہُوش ہُوگیا۔۔۔۔ ابو شامل نے نجانے کونسی  تدبیر اپنائی تھی۔کہ رضوان خان اگلے لمحے ہی ہوش میں آگیا تھا۔ البتہ انجانی ہیبت سے اُسکا جسم تھر تھر کانپ رہا تھا۔ ۔۔ ابو شامل نے شرارت سے دیواروں کی جانب  اِشارہ کیا۔تو لاک اپ کی تمام  دیواروں پر ایسے مناظر اُبھرنے لگے۔ جیسے ہزاروں عفریت کڑکتی بجلیوں کی روشنی میں ایک دوسرے کا گلہ دبوچنے کی کوشش میں مصروف ہُوں۔۔۔ پھر ابو شامل کی ہیبتناک  آواز نے ماحول کو مزید پراسرار بناڈالا۔ ابو شامل نے رضوان خان کو مخاطب کرتے ہُوئے وارننگ دی۔ رضوان خان یہ تمہاری پہلی غلطی تھی۔ اِس لئے حضرت قبلہ کامل شاہ  سرکارکے حکم پر تمہیں زندہ چھوڑ دیا گیا ہے۔لیکن یاد رکھنا اگر تم نے آئندہ ،، سرکار،، کے راستے میں آنے کی جراٗت کی تو اِسکا خمیازہ تمہاری نسلوں کو بھی بھگتنا پڑے گا۔۔۔۔ رضوان خان کی ساری دلیری گدھے کے سینگ کی مانند غائب ہُوچکی تھی۔۔۔ وُہ گھگیائی ہُوئی آواز میں نادیدہ  ہستی سے رحم کی بھیک  طلب کرتے ہُوئے ایکبار پھر بے ہوش ہُوچکا تھا۔۔۔۔ ابو شامل نے مُسکرا کر کامل کی جانب ہاتھ بڑھایا تو کامل علی نے ابو شامل کا اِرادہ بھانپ لیا۔ اِس لئے ابوشامل کے جھٹکہ دینے سے قبل ہی کامل علی ابو شامل سے لپٹ گیا۔اگلے ہی لمحے وُہ دونوں  اپنے بنگلے کے دروازے پر موجود تھے۔

 کامل پر  رات دیر تک جاگنے کی وجہ سے کافی تھکن طاری تھی۔ جسکی وجہ سے  جاناں کے کئی بار اُٹھانے پر بھی کامل جاگنے کیلئے تیار نہیں تھا۔ لیکن موبائیل کی  لگاتار بیل نے بلاآخر کامل کو اُٹھنے پر مجبور کر ہی دیا۔ کامل نے وال کلاک پر نگاہ ڈالی تو دوپہر کا ڈیڑھ بج چُکا تھا۔ کال ریسیو کرتے ہی  کامل کو وجاہت دہلوی کی مودبانہ آواز سُنائی دی۔ حضور والا! میں بُہت دیر سے آپکو  کال ملانے کی کوشش کررہا تھا۔۔۔۔۔۔۔ ہاں کہیئے وجاہت صاحب آج کیسے یاد فرمالیا آپ نے مجھے؟ کامل نے لہجے کو خُوشگوار بناتے ہُوئے کہا۔۔۔۔۔۔ حضور ! آپکی آواز سےلگتا ہے میں نے آپکو نیند سے اُٹھادیا ہے۔۔۔۔ جسکے لئے میں بُہت معافی چاہتا ہُوں۔ دراصل بات ہی کچھ ایسی تھی۔کہ،، مجھ سے رہا نہیں گیا آپ سے بات کئے بنا۔۔۔۔ جناب میرے ایک دُوست ہیں۔ ایس پی  رفیع دُرانی صاحب۔ آج اتفاق سے میں اُن سے ملاقات کیلئے اُنکے آفس گیا تھا۔ وُہ اپنے کسی ماتحت سے آپ ہی کے متعلق دریافت فرمارہے۔ میں نے آپکا تذکرہ سُنا تو مجھ سے رَہا نہیں گیا۔اسلئے میں نے تفصیل سے آپ کے متعلق اُنہیں بتادیا۔ جسکے بعد اُنہوں نے  اپنی خُواہش کا اظہار کرتے ہُوئے استدعا کی ہے۔کہ،، میں آپ سے وقت لیکر آج ہی مُلاقات کا اہتمام کرنے کے بعد اُنہیں مطلع کروں۔

حضور والا وُہ آپ سے ملنے کیلیئے اتنے بے چین ہیں۔ تین گھنٹے میں اُنکی چار کال آچکی ہیں۔ اُور وُہ بار بار یہی عرض کررہے ہیں کہ،، ملاقات آج ہی کرنی ہے۔ اِس لئے جلد از جلد میں آپ سے اپائنٹمنٹ حاصل کروں۔۔۔۔۔ کامل جُوں جوں وجاہت دہلوی کی گفتگو سُنتا جارہا تھا۔ اُس کا حلق خُشک ہُوتا چلا جارہا تھا۔۔۔۔ کامل نے پانی کی بوتل مُنہ سے لگانے کے بعد غٹا غٹ آدھی بوتل خالی کرڈالنے کے بعد وجاہت کو جواب دیا۔ دیکھئے وجاہت صاحب آج تو میرے لئے مُلاقات بُہت مشکل ہے۔ لیکن میں پھر بھی آپ کی خاطر کوشش ضرور کروں گا۔کہ،، ہماری ملاقات ممکن ہُوجائے۔ آپ ایسا کیجئے مجھے ایک گھنٹہ بعد کال کریں۔جب تک میں اپنے اسسٹنٹ سے شیڈول بھی معلوم کرلونگا۔ اُور غُسل و نماز سے فارغ بھی ہُوجاونگا۔

کال منقطع ہُوتے ہی کامل علی تمام گھر میں ابو شامل کو پُکارتا پھر رَہا تھا۔ تبھی جاناں نے کچن سے چلا کر کامل کو جواب دیتے ہُوئے مطلع کیا۔کہ،، ابو شامل چکن کا گوشت لینے مارکیٹ گیا ہے۔ اُور بس آنے ہی والا ہُوگا۔۔۔۔۔ کامل علی   نہاتے ہُوئے  بھی وجاہت دہلوی کی کال کے متعلق ہی  سُوچ رہا تھا۔ اُسے شک ہی نہیں بلکہ پُورا یقین تھا کہ،، ایس پی رفیع دُرانی ضرور اُسکے گرد جال کسنے کیلئے اُس سے مِلنا چاہتا ہے۔

ابو شامل جونہی گھر میں داخل ہُوا۔  کامل نے اُسکے ہاتھ سے تقریباً شاپر چھینتے ہُوئے اُسے درائینگ رُوم میں بیٹھنے کی تاکید کی اُور خود شاپرز جاناں کے ہاتھ میں تھما کر فوراً واپس لُوٹ آیا۔۔۔۔ یار تمہیں کچھ خبر بھی ہے کہ،، معاملہ کتنا بگڑ چکا ہے۔کامل نے ہیجانی کیفیت میں ابوشامل کو جھنجوڑتے ہُوئے سوال کیا۔۔۔۔۔ تم رفیع دُرانی کی وجہ سے پریشان ہُو شائد؟؟؟ ابو شامل نے کامل کی بےچینی سے محظوظ ہُوتے ہُوئے اُلٹا سوال داغ دیا۔

ہاں میں اِسی وجہ سے پریشان ہُوں۔ لیکن لگتا ہےکہ،،تُم اتنے اہم معاملے کو سجنیدگی سے نہیں لے رہے ہُو۔ ورنہ یُوں اتنے آرام سے صوفے پر پھیل کر نہ پڑے ہُوتے۔کامل نے منہ بَسورتے ہُوئے کہا۔۔۔۔۔۔  کامل جی  میرے خیال میں آپ نے جتنی سنجیدگی سے اِس معاملے کو خُود پر طاری کرلیا ہے اُسکی بھی ضرورت نہیں تھی۔  آنے دُو اُس  ایس پی کو میں سب کچھ پہلے کی طرح سنبھال لُونگا۔آخر تم یہ بات بار بار کیوں بھول جاتے ہُوں۔کہ،، میں  بھی تمہارے ساتھ ہُوں نا! ۔ اُور میرے لئے کوئی مسئلہ کتنا ہی بڑا کیوں نہ ہُو۔ اِس قابل نہیں ہوتا۔کہ،، میں خُومخواہ خود بھی پریشان ہُوتا رہوں۔اُور ساتھ والوں کو بھی پریشان  کرتا رَہوں۔ ابوشامل نے بےپرواہی سے ٹی وی چینلز بدلتے ہُوئے جواب دیا۔۔۔۔۔۔ ہاں تبھی جناب  اُس دن  سلطان تبریزی کی آمد پر دُم دبا کر بھاگ لئے تھے۔ کامل علی نے ابوشامل کے طنز کو محسوس کرتے ہُوئے تُرکی بہ تُرکی کرارہ جواب  دیکر اپنے کمرے کا رُخ کرلیا۔

 اگرچہ  ابوشامل کے ایماٗ پر کامل علی اپنے آستانے نما کوٹھی چلا آیا تھا۔لیکن اُس کا دِل ابتک کسی انجانے خُوف سے دھڑک دھڑک کر مُنہ کو آرہا تھا۔پھر وُہ گھڑی بھی آئی جب وجاہت دہلوی کیساتھ ایک چالیس پنتالیس کی درمیانی عُمر کا  اسمارٹ جوان نمودار ہُوا۔ وجاہت دہلوی نے آتے ہی کامل کی دست بُوسی کی۔جب کہ  ،، اُس جوان شخص رفیع دُرانی  نے صرف ہاتھ ملا کر سلام پر ہی اکتفا کرتے ہُوئے ایک طائرانہ نگاہ تمام کوٹھی پر ڈالی۔ اُور پھر یُوں کامل علی کے چہرے کو بغور دیکھنے لگا۔ جیسے وُہ کامل کو پہچاننے کی کوشش کررہا ہُو۔ یا اُس کے چہرے کے ذریعے اُس کی شخصیت کا اندازہ لگانے کی کوشش میں مصروف ہُو۔کامل نے اُسکی نظروں کی چبھن سے تنگ آکر خُود گفتگو کا آغاز کرتے ہُوئے سوال کیا۔ جی رفیع دُرانی صاحب فرمایئے میں آپکی کیا خدمت کرسکتا ہوں؟۔۔۔۔۔ کامل صاحب کیا کل کورنگی تھانے میں آپ ہی کو لاک اپ کیا گیا تھا۔؟؟؟ رفیع دُرانی کے اِس جملے کو سُن کر ایکبار پھر کامل کو اپنا دِل ڈوبتا ہُوا محسوس ہُونے لگا تھا۔

(جاری ہے)

اُسکا کہنا ہے۔ کِسی اُور کو دیکھوں نہ کبھی
کیوں کہ اُسکو یہ میرا رُوپ بُرا لگتا ہے۔

مجھکو ہر چہرے میں آتاہے نظر اِک وُہ ہی
جُو نہ بھر پائے یہ بہروُپ !!!  ۔بُرا لگتا ہے۔


میرے بچپن کی ایک تصویر

Tuesday, 2 June 2015

جال۔ در ۔ جال۔ قسط ١١۔



جال۔ در ۔ جال۔ قسط ١١۔



گُزشتہ سے پیوستہ۔ 

فرقان نے ایک خیال کے تحت ٹھیکیدار عبدالرحمن سے مُخاطب ہُوتے ہُوئے کہا۔۔ عبدالرحمن بھائی کیا آپ کل فجر کی نماز کے فوراً بعد سائٹ پر آسکتے ہیں۔۔۔۔۔؟ ٹھیکیدار عبدالرحمن کے حامی بھرنے کے بعد فرقان ٹھیکیدار عبدالرحمن کو رخصت کرنے کے بعد ایک مرتبہ پھر اپنے کمرے میں آکر لیٹ گیا۔ لیکن اب اُسکی آنکھوں میں اِضطراب کے سائے لہرا رہے تھے۔ وہ سُوچ بھی نہیں سکتا تھا۔ کہ آغا بابر جیسا بُردبار شخص ایسی کِسی گھٹیا حرکت کا مرتکب بھی ہُوسکتا تھا۔ لیکن ٹھیکیدار عبدالرحمن کی گُفتگو نے فرقان کے ذِہن میں بُہت سے سوالات پیدا کردیئے تھے۔ جنہوں نے فرقان کے ذہن کو بہرحال پراگندہ کردیا تھا۔

اَب مزید پڑھیئے۔ 

فرقان کوشش کے باوجود بھی تمام رات آرام سے سُو نہیں پایا۔ بے شُمار خَدشات و پریشان خیالات اُسکے ذِہن کو تمام رات بھٹکاتے رہے۔ وُہ دِل ہی دِل میں خُدا سے دُعا کررہا تھا۔ کہ کاش اُسکے تمام خَدشات بے بنیاد ہُوجائیں۔ اُور ٹھیکیدار عبدالرحمن کی بیان کردہ تمام باتیں اے کاش غلط فہمی کا شاخسانہ ثابت ہُوں۔ اِسی اُدھیڑ بن میں فرقان جاگتا رَہا یہاں تک کہ رات گُزر گئی اُور موذن نے رات کی سیاھی کے ڈھلنے کا اعلان آذان کی صورت میں بُلند کردیا۔

فرقان فجر کی نماز و اذکار سے فارغ ہُونے کے بعد جب سائٹ پر پُہنچا تُو ٹھیکیدار عبدالرحمن پہلے ہی سے اُسکی آمد کا منتظر تھا۔ سب سے پہلے وُہ دُونوں اینٹوں کے ڈھیر پر پُہنچے۔ جہاں تھوڑی سی بھاگ دُوڑ کے بعد فرقان کو ٹھیکیدار عبدالرحمن کی بات میں صداقت نظر آگئی۔ اینٹوں کے ہر ڈھیر میں نصف سے زائد غیر معیاری اینٹیں ٹھیکیدار عبدالرحمن کی تشویش کی تصدیق کررہی تھیں۔ اِسکے بعد جب فرقان نے اِسٹاک شیڈ میں سیمنٹ کی چند بوریوں کا دامن چاک کیا۔ تب ایک بُوری سیمنٹ بھی ایسی نہ تھی۔ کہ جِس میں سیمنٹ نے گُٹھلیوں کی شکل اختیار نہ کرلی ہُو۔

بے شک آغا بابر کی پرسنالٹی سے مُتاثر ہُوکر فرقان دُھوکہ کھا چُکا تھا۔ ۔۔۔۔ فرقان اپنی پیشانی پر آئے پسینے کے قطرات کو صاف کرتے ہُوئے سُوچنے لگا۔۔۔۔۔۔ نجانے کب سے آغا بابر آستین کے سانپ کی طرح شہریار مجددی کو نقصان پُہنچا رہا ہُوگا۔۔۔۔۔۔۔۔ فرقان کے اندازے کیمطابق وہ صِرف اِن چند دِنوں میں کم از کم بیس لاکھ روپیہ کی ہیر پھیر کر چُکا تھا۔ اُور فرقان کو حیرت تھی کہ شہریار مجددی کے بقول آغا بابر گُزشتہ آٹھ برس سے شہریار مجددی کی زمینوں اور پاکستان میں پھیلے بزنس کو سنبھال رَہا تھا۔ اِس حساب سے فرقان کو یقین تھا کہ آغا بابر اِس دُورانیے میں کروڑوں کی خُرد بُرد کرچکا ہُوگا۔

جب آفس میں فرقان نے ٹھیکیدار عبدالرحمن کا کوٹیشن فارم تلاش کرنے کی کُوشش کی تو یہ سعی بھی لاحاصل رہی تمام فائل میں ٹھیکیدار عبدالرحمن کا کوٹیشن فارم سِرے سے موجود ہی نہیں تھا۔ جبکہ ٹھیکیدار عبدالرحمن کا اِصرار تھا کہ اُس نے خُود اپنا فارم بند لفافے میں آغا بابر کو پیش کیا تھا۔ جِسے اُسکے سامنے ہی دیگر لفافوں کے ساتھ رَکھ دِیا گیا تھا۔ مگر اب ایسا لگ رَہا تھا جیسے اُس لفافے کو زمین نِگل گئی ہُو۔

تھوڑی سی مزید تفشیش کے بعد فرقان پر یہ راز بھی آشکار ہُوگیا کہ حماد اینڈ سنز کے ساتھ جتنے بھی کوٹیشن فارم فرقان کو دِکھائے گئے تھے۔ وہ تمام کوٹیشنز بھی جعلی تھی۔ جو زیادہ ریٹ کیساتھ شائد اسلئے رکھے گئے تھے۔ تاکہ حماد اینڈ سنز کے کوٹیشن کو پاس کیا جاسکے۔۔۔۔ فرقان نے رسٹ واچ پر نِگاہ ڈالی تُو صبح کے آٹھ بجنے کو تھے۔ فرقان نے تمام فائل کو احتیاط سے ٹیبل کی دراز میں منتقل کیا اُور آفس سے باہر آنے کے بعد چوکیدار کو ہدایات دیں۔ کہ میرے اس طرح علی الصبح آنے کا تذکرہ کسی سے بھی نہ کیا جائے یہاں تک کہ آغا بابر صاحب کو بھی اِسکی قطعی خبر نہیں ہُونی چاہیئے۔یہ کہہ کر فرقان نے ایک پانچ سو روپیہ کا نُوٹ چوکیدار کی جیب میں زبردستی منتقل کردیا۔ اُور اسکے بعد فرقان ٹھیکیدار عبدالرحمن کے ساتھ واپس روانہ ہُوگیا۔

چند گھنٹوں بعد فرقان جب معمول کے مطابق سائٹ پر دوبارہ پُہنچا تو آغا بابر نے ہمیشہ کی طرح بڑے پُرتپاک انداز میں فرقان کا استقبال کیا۔ چند رسمی جُملوں کے بعد فرقان نے بڑی لاپرواہی سے ٹھیکیدار عبدالرحمن کے کُوٹیشن فارم کے متعلق آغا بابر سے استفسار کیا۔۔۔۔ فرقان کے سوال کی وجہ سے آغا بابر کے چہرے پر ایک رنگ آکر گُزر گیا۔ لیکن جلد ہی اُس نے خُود کو سنبھالتے ہُوئے فرقان سے نارمل انداز میں کہا،، اِس نام کا بندہ میرے پاس آیا تُو تھا۔۔۔۔ لیکن شائد وہ لفافہ مجھ سے کہیں کھو گیا ہے۔۔۔ جسکے لئے میں آپ سے معذرت خُواہ ہُوں۔

فرقان نے ہمیشہ کی طرح مسکراتے ہُوئے کہا،، آغا صاحب کوئی بات نہیں بس وہ ہمارا پُرانا جاننے والا تھا۔ اُور اسنے پیغام بھیجا تھا کہ اُسکے کوٹیشن کا بھی خیال رکھا جائے۔ مگر آپ بالکل بھی پریشان نہ ہُوں۔۔۔۔۔ میں سب سنبھال لُونگا۔ آپ بس سائٹ کے کاموں پر دھیان رکھیں تاکہ کوئی غیر معیاری میٹریل ہمارے کام میں شامل نہ ہُونے پائے۔ فرقان کے اِس جملے پر آغا بابر کے چہرے کا رنگ ایک مرتبہ پھر متغیر ہُوگیا۔ لیکن دوسرے ہی لمحے اُس نے خود پر قابو پاتے ہُوئے بڑی ڈھٹائی سے فرقان کی توجہ حاصل کرتے ہُوئے کہا،، فرقان صاحب میٹریل کی کوالٹی کی آپ بالکل پرواہ نہ کریں۔ جب تک میں یہاں ہُوں ایک مُٹھی بھر غیر معیاری سامان بھی فیکٹری کی حدود میں نہیں آسکتا۔ کیونکہ تمام آنے والے سامان کی میں خُود جانچ پڑتال کرتا ہُوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ فرقان دِل ہی دِل میں کہہ رہا تھا۔ کمبخت کِس ڈھٹائی سے جھوٹ بُول رہا ہے۔ ۔۔ ٹھیکیدار عبدالرحمن نے اگر بروقت مُطلع نہ کیا ہُوتا تُو نجانے کتنا کباڑ خانہ اصل سے بھی زائد قیمت پر فیکٹری میں جمع ہُوتا رِہتا۔

فرقان نے اُسی شام تمام معاملہ حسَّان صاحب کے سامنے پیش کردِیا۔ جسکے بعد حسان صاحب نے فرقان کو حُکم دیا کہ شہریار مجددی کو میرا پیغام پُہنچاؤ کہ وُہ فورا چند دِن کیلئے پاکستان آجائے۔ تیسرے دِن شہریار مجددی ، حسَّان صاحب کے ایما پر خاموشی سے پاکستان چلا آیا۔ تمام معاملات کا علم ہُونے کے بعد شہریار مجددی نہ صِرف حیران تھا بلکہ اُس نے حسان صاحب سے برملا کہا کہ اگر کوئی اُور مجھے یہ بات بتاتا تُو شائد میں اتنی جلد اعتبار بھی نہیں کرپاتا۔ اچھا ہُوا کہ آپ نے مجھے بروقت مُطلع کردیا۔

شہریار مجددی نے اُسی وقت اپنے بڑے بھائی ڈی ایس پی اعتصام مجددی کو کال مِلا کر تمام تفصیلات سے آگاہ کردیا۔ جسکے بعد ڈی ایس پی اعتصام نے فوری طور پر اپنے ماتحت افسران کو حُکم دیا کہ وہ فوری طور پر آغا بابر کو گرفتار کریں اُور تمام معاملات کی تفشیش مکمل کرنے کے بعد چھتیس گھنٹے میں رپورٹ پیش کریں۔

آغا بابر عادی مجرم نہیں تھا۔ اُور نہ اِس سے پہلے اُسکا پولیس سا واسطہ پڑا تھا۔ بلکہ بعض پُولیس افسران تو خُود شہریار مجددی کی نسبت کیوجہ سے آغا بابر کواِضافی پروٹوکول دِیا کرتے تھے۔ لیکن آغا بابر نے پُولیس کی چند گھنٹوں کی ابتدائی تواضع کے بعد ہی اپنے جُرم کا اقبال کرلیا۔ اُور مزید کُچھ مہمان نوازی کے بعد وُہ ساڑھے تین کروڑ روپیہ کی رقم بھی لُوٹانے پر رضامند ہُوگیا جو اُس نے مختلف حیلے بہانوں سے خُرد بُرد کی تھی۔

صرف ایک ہفتہ کے قلیل عرصے میں ڈی ایس پی اعتصام مجددی کی خاص توجہ کے باعث نہ صرف آغا بابر سے رقم بازیاب کرالی گئی بلکہ وہ تمام میٹریل بھی تاجروں نے تبدیل کردیا۔ جو دھوکہ دہی سے فرقان کی سائٹ پر جمع ہُوچُکا تھا۔ جبکہ حماد اینڈ سنز کا کوٹیشن منسوخ کرنے کے بعد فرقان کی فرمائش پر وہ ٹھیکہ ٹھیکیدار عبدالرحمن کو نئے سِرے سے دیدیا گیا۔

(جاری ہے)

مُحترم قارئین کرام ،، آپ سب سے دُعاؤں کیلئے ملتمس ہُوں۔

پلکوں سے دَرِ یار پہ دستک دینا
اُونچی آواز ہُوئی عُمر کا سرمایہ گیا

Monday, 1 June 2015

جال۔ در ۔ جال قسط ١٠۔



جال۔ در ۔ جال قسط ١٠۔



گُذشتہ سے پیوستہ۔

تمام واقعات جان کر شہریار مجددی نے رشک بھری نِگاہوں سے فرقان کو دیکھتے ہُوئے کہا،، فرقان میرے بھائی تُم نہایت عظیم ہُو۔ جس نے حسان صاحب کی صحبت میں رِہ کر خُدا کی رضا و نافرمانی کی معرفت حاصِل کرلی۔ آج سے تُم اس لڑائی میں تنہا نہیں ہُو۔ میں ایک حقیقی بھائی کی طرح تمہارے شانہ بشانہ چلنے کو اپنے لئے اعزاز سمجھوں گا۔ میں آج اِسی وقت اپنے قابل احترام بُزرگ کے رُوبرو تُمہارے ساتھ اپنی پارٹنر شپ کا اعلان کرتا ہُوں۔ اِس تمام پروجیکٹ میں آپ میرے نصف حِصہ کے شراکت دار ہیں۔ میں کل ہی اپنے منیجر کی مُلاقات تُم سے کروا دُونگا۔ جسکے فوری بعد آپ اپنی جگہہ پر کنسٹریکشن شروع کروا دیجئے گا۔

حَسان صاحب نے شہریار مجددی کی فراخدلانہ پیشکش کے بعد اپنے دونوں ہاتھ بُلند فرمادیئے اور بُہت دیر تک دونوں کی خیر و بھلائی کیلئے انتہائی رِقت سے دُعا مانگتے رہے۔

اَب مزید پڑھیئے۔

اگلے دِن حسبِ وعدہ شہریار مجددی نے فرقان کی مُلاقات اپنے بزنس منیجر آغا بابر سے کروانے کے بعد فرقان کو بتایا کہ وہ اپنا کاروبار سمیٹنے کی خاطر آج شام ہی کو چند دِنوں کے لئے دُبئی جارہا ہے۔ آغا بابر چہرے مُہرے سے ہی ایک تجربہ کار اور سمجھدار اِنسان نظر آتا تھا۔ لیکن جِس رفتار سے آغا بابر نے فرقان کے پلاٹ کیلئے نقشہ ڈرافٹ کروایا۔ اُور دوسری جانب پلاٹ کے ایک مُناسب اِحاطے پر کنسٹرکشن کا خام مال حِفاظت سے رکھنے کیلئے عارضی شیڈ تیار کروا رَہا تھا۔ فرقان بھی دِل سے آغا بابر کو داد دیئے بغیر نہ رِہ سکا۔ فرقان سُوچنے لگا۔ آغا بابر کا شُمار بِلا شُبہ اُن لوگوں میں ہُوتا ہے۔ جو وقت کے ایک ایک لمحے کی قدر کرنا جانتے ہیں۔ شائد اِسی وجہ سے فرقان دِن بدِن آغا بابر کا گرویدہ ہُوتا چلا جارہا تھا۔

صرف چند دِن کے اندر اندر آغا بابر نے شہر کی مشہور ومعروف تعمیراتی کمپنیوں سے کوٹیشن حاصِل کرنے کے بعد فرقان کے مشورے سے تعمیراتی کام کا ٹھیکہ ایک کمپنی کو دیدیا۔ جسکے نرخ دوسری تمام کمپنیوں سے کافی کم تھے۔ فیکٹری کےتعمیراتی کام کا ٹھیکہ دینے کے دوسرے دِن ہی آغا بابر نے فرقان سے مُلاقات کی اُور اُسے بتایا کہ ہمیں تعمیراتی میٹریل ابھی سے اِسٹاک کرلینا چاہیئے۔ کیونکہ دُوماہ بعد بجٹ آرہا ہے۔ جسکے بعد مُلک بھر میں گورنمنٹ کے رُکے ہُوئے کام دوبارہ سے شروع ہُوجایئنگے۔ جسکے بعد یقینی طُور پر ایک طرف خام مال کے ریٹ بڑھ جانے کا اندیشہ ہے۔ تُو دوسری طرف کام کی زیادتی کیوجہ سےمیٹریل کے شارٹ ہوجانے کا بھی خطرہ موجود ہے۔ فرقان پہلے ہی آغا بابر کی پرسنالٹی سے کافی مُتاثر ہُوچکا تھا۔ لیکن آج وہ آغا بابر کی دُور اندیشی کا بھی قائل ہُوچکا تھا۔

فرقان کی منظوری کے بعد ابتدائی طُور پر تین لاکھ اینٹوں کیساتھ ریتی ، سیمنٹ ، اور سریا بھی فیکٹری کے اِحاطے میں اُترنے لگا۔ جبکہ آغا بابر کا خیال تھا کہ سریا بھی بجائے ڈیلر کے کارخانوں سے خریدنا زیادہ فائدہ مند رہے گا۔ یہاں بھی فرقان کے پاس آغا بابر کی تائید کے سِوا کوئی چارہ نہیں تھا۔

تمام معاملات بڑے بہترین انداز سے انجام پزیر ہُورہے تھے۔ آغا بابر کی موجودگی میں فرقان خُود کو بُہت ہلکا پھلکا محسوس کررہا تھا۔ اُس رات وہ اپنے کمرے میں لیٹا یہی سُوچ رَہا تھا۔ کہ اگر آغا بابر کا ساتھ نہ ہُوتا تُو وہ کبھی بھی اتنی سُرعت کیساتھ فیکٹری کی تعمیرات شروع نہ کرواسکتا تھا۔ تبھی اُسکے مُلازم نے اسکے دروازے پر دستک دے کر اُسے اطلاع دِی کہ کوئی صاحب آپ سے مُلاقات کیلئے آئے ہیں۔ میں نے اُنہیں کہا بھی کہ یہ وقت فرقان صاحب کے آرام کا ہے۔ مگر وہ صاحب بضد ہیں کہ آپ سے اِسی وقت مُلاقات کریں گے۔

فرقان نے گھڑی کی جانب دیکھا ۔ رات کے پُونے گیارہ بجنے کو تھے۔ مگر حسان صاحب کی تربیت کی وجہ سے فرقان نے بستر چھوڑ دِیا کہ نجانے کون پریشان حال انسان ہُو۔ جِسے اس وقت اُسکی مدد دَرکار ہُو۔ ویسے بھی حسان صاحب فرمایا کرتے تھے۔ کہ ایسے وقت جب بستر کو چھوڑنے کو دِل نہ چاہے اللہ کریم اپنے نیک بندوں کو بعض اُوقات اپنے فرشتوں کی صورت آزماتا ہے۔ تاکہ سب پر واضح ہُوجائے کہ اللہ والے اپنے آرام پر مخلوقِ خُدا کی خِدمت کو فوقیت دیتے ہیں۔

دروازہ کھولنے پر فرقان کی نِگاہ جس شخص پر پڑی وُہ کوئی انجان شخص نہیں بلکہ ٹھیکیدار عبدالرحمن تھا۔ جِس نے نعمان و فرقان کی پہلی فیکٹری کی تعمیر اول تا آخر کی تھی۔ فرقان نے سلام کے بعد ٹھیکیدار عبدالرحمن کو اندر آنے کی دعوت دی۔ جِسے ٹھیکیدار عبدالرحمن نے فرقان کا شُکریہ ادا کرتے ہُوئے قبول کرلی۔

ڈرائینگ رُوم میں بیٹھ کر بعد چند رسمی جُملوں کے بعد ہی ٹھیکیدار عبدالرحمن نے شِکایت بھرے لہجے میں فرقان کو مُخاطب کرتے ہُوئے کہا ،، کیا آپ میرے کام سے مطمئین نہیں تھے جو اس مرتبہ فیکٹری کی تعمیرات کا کام انتہائی مناسب نرخ ہُونے کے باوجود بھی آپ نے مجھے نہیں دیا۔۔۔؟

نہیں عبدالرحمن بھائی ایسی کوئی بات نہیں ہے۔۔۔۔۔۔۔ بلکہ مجھے تو معلوم بھی نہیں تھا کہ آپ نے بھی کُوٹیشن فارم بھرا ہے۔۔۔۔۔ اسلئے جس کمپنی کے نرخ مجھے سب سے کم نظر آئے ہم نے اُسی کمپنی کو ٹھیکہ دیدیا۔۔۔۔۔۔ فرقان نے ٹھیکیدار عبدالرحمن کی دلجوئی کرتے ہُوئے کہا۔۔۔

سب سے کم نرخ۔۔۔۔۔؟ لیکن جہاں تک میری معلومات ہیں حماد اینڈ سننز کے ریٹ تُو ہماری کمپنی سے ۴۰ فیصد زائد تھے۔ پھر بھی قرعہ فال اُسی کے نام نِکلا۔۔۔۔۔۔ٹھیکیدار عبدالرحمن نے تعجب کا اظہار کرتے ہُوئے کہا۔

لیکن عبدالرحمن بھائی میں نے خُود تمام کوٹیشنز کو پڑھا تھا۔ اُور حماد اینڈ سنز کے ریٹ ہی سب سے کم تھے ۔۔۔ ویسے آپ نے فارم کس نام سے بھرا تھا۔۔۔۔؟ فرقان نے ٹھیکیدار عبدالرحمن سے حیرت کے عالم میں استفسار کیا۔۔۔

فرقان صاحب نام تو وہی پُرانا والا ہے ۔۔۔ (اے، آر ، سی ،سی) میں نے تُو سوچا تھا کہ آپ نام پڑھتے ہی پہچان جائیں گے۔۔۔ ٹھیکیدار عبدالرحمن نے جواب دیتے ہُوئے شکوہ کیا۔۔۔۔۔۔۔۔

لیکن عبدالرحمن بھائی مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ اس نام کا تُو کوئی کُوٹیشن فارم سرے سے موجود ہی نہیں تھا اُن تمام فارمز میں۔ فرقان نے اپنے ذِہن پر زُور ڈالتے ہُوئے کہا۔۔۔۔ لیکن کل آپ سائٹ پر ہمارے عارضی آفس میں تشریف لے آئیے گا۔ میں دوبارہ تمام کوٹیشن چیک کرلونگا۔ اور اسطرح آپ بھی مطمئین ہُوجایئنگے۔

بُہت اچھی بات ہے ۔فرقان صاحب میں کل ضرور حاضِر ہُوجاؤنگا۔ یہ کہہ کر ٹھیکیدار عبدالرحمن مصافحہ کیلئے اُٹھ کھڑا ہُوا۔ فرقان دروازے تک ٹھیکیدار عبدالرحمن کو چھوڑنے کیلئے آیا۔ تبھی ٹھیکیدار عبدالرحمن نے چُونکتے ہُوئے دوبارہ فرقان کو مُخاطب کرتے ہُوئے کہا۔۔ اچھا ہُوا ۔ مجھے ابھی یاد آگیا۔۔ فرقان صاحب آپ چُونکہ میرے دیرینہ مہربان ہیں۔ اسلئے آپ کو ایک مشورہ دینا چاہتا ہُوں،، کہ آپ جو دونمبر کوالٹی کی اینٹیں اور ایکسپائر سیمنٹ عمارت میں استعمال کرنے جارہے ہیں۔ یہ عمارت کو بُہت جلد بوسیدہ کردے گی۔ میرے خیال میں آپکو اپنی فیکٹری میں چند لاکھ کے فائدے کیلئے ایسا گھٹیا میٹریل استعمال نہیں کرنا چاہیئے۔۔۔۔۔۔۔

گھٹیا اور دونمبر میٹریل۔۔۔۔۔۔؟ بھلا میں کیوں اپنی فیکٹری میں ایسا میڑیل استعمال کرنے لگا۔ آپکو ضرور کوئی غلط فہمی ہُوئی ہُوگی عبدالرحمن بھائی۔۔۔ فرقان نے ہنستے ہُوئے کہا۔

لیکن میں نے خُود آپکی فیکٹری میں ۲ نمبر میٹریل اُترتے دیکھا ہے۔ جِسے دیکھ کر مجھے حیرت بھی بُہت ہُوئی تھی۔ کیونکہ آپ نے تُو اُس وقت بھی گھٹیا میٹریل استعمال نہیں کیا تھا۔ جب آپ نعمان صاحب کیساتھ اپنی پہلی فیکٹری بنا رہے تھے ۔ حالانکہ کہ مجھے خُوب یاد ہے اُس وقت تو اکثر رقم کی کمی کے باعث آئے دِن کام بھی بند ہُوجایا کرتا تھا۔ تُو اَب کیوں تمام شہر کا ایکسپائر سیمنٹ آپکی فیکٹری میں جمع ہُورہا ہے۔۔۔۔؟ کیا فیکٹری کا میٹریل آپ خُود نہیں خرید رہے ہیں۔۔۔۔؟ ٹھیکیدار عبدالرحمن نے اپنی حیرت کا اِظہار کرتے ہُوئے کہا۔

فرقان نے ایک خیال کے تحت ٹھیکیدار عبدالرحمن سے مُخاطب ہُوتے ہُوئے کہا۔۔ عبدالرحمن بھائی کیا آپ کل فجر کی نماز کے فوراً بعد سائٹ پر آسکتے ہیں۔۔۔۔۔؟ ٹھیکیدار عبدالرحمن کے حامی بھرنے کے بعد فرقان ٹھیکیدار عبدالرحمن کو رخصت کرنے کے بعد ایک مرتبہ پھر اپنے کمرے میں آکر لیٹ گیا۔ لیکن اب اُسکی آنکھوں میں اِضطراب کے سائے لہرا رہے تھے۔ وہ سُوچ بھی نہیں سکتا تھا۔ کہ آغا بابر جیسا بُردبار شخص ایسی کِسی گھٹیا حرکت کا مرتکب بھی ہُوسکتا تھا۔ لیکن ٹھیکیدار عبدالرحمن کی گُفتگو نے فرقان کے ذِہن میں بُہت سے سوالات پیدا کردیئے تھے۔ جنہوں نے فرقان کے ذہن کو بہرحال پراگندہ کردیا تھا۔

(جاری ہے)

مُحترم قارئین کرام ،، آپ سب سے دُعاؤں کیلئے ملتمس ہُوں۔

پلکوں سے دَرِ یار پہ دستک دینا
اُونچی آواز ہُوئی عُمر کا سرمایہ گیا

عامل کامل ابو شامل (تھانے کی سیر) قسط 42.AKAS



گُذشتہ سے پیوستہ۔

رجب کا خوف اُور اُسکی وحشتیں جاناں کی محبتوں کی چھاوٗں میں فی الوقت کہیں گُم ہُوچُکی تھیں۔ ابو شامل نے ٹیلی پیتھی کے ذریعے سے اِس بات کا خاص خیال رکھا تھا۔کہ،، رجب  کسی بھی طرح جاناں سے اپنے علاقے کا ذکر نہ کرے۔ دوسری شام ابو شامل نے رجب کو کار میں بٹھا کر اُس پر نیند طاری کی اُور ایبٹ آباد کیلئے نکل گیا۔۔۔۔۔۔۔ جاناں کو شک نہ ہو۔ اس لئے ابو شامل نے کامل کو بتادیا تھا۔ کہ،، اُسکی واپسی چار گھنٹے بعد ہی ہُوگی۔ اِس دوران میں رجب کی فیملی سے ملنے کے بعد کچھ خبر اپنوں کی بھی لیتا آوٗنگا۔۔۔۔۔  ابوشامل کو گئے بمشکل آدھا گھنٹہ بھی نہیں گُزرا ہُوگا۔ کہ،، ڈور بیل کی آواز سُن کر کامل دروازے پر  پہنچ گیا۔ دروازے  کھولتے ہی کامل کی نظر دروازے پر کھڑے چند مستعد پولیس سپاہیوں اُور ایک انسپکٹر پر پڑی۔۔۔۔ ایک سپاہی نے کامل کی شناخت کرتے ہُوئے اعلان کیا۔ صاحب یہی تھا وُہ شخص جس نے کل رات نمائش میں پانچ بندوں کو زخمی کیا تھا۔ کامل کے چہرے پر سپاہی کی بات سُن کر ہوائیاں اُڑنے لگی تھیں۔

اب مزید پڑھیئے۔

 ایس ایچ  اُونے  بنگلہ کا سرسری جائزہ لینے کے بعد ایک نگاہ کامل کے بدحواس چہرے پر ڈال کر استہزائیہ انداز میں کہا،، کیا اِرادے ہیں جناب کے خُود چلنا پسند فرمائیں گے آپ یا ۔۔۔۔۔۔؟؟؟؟ کامل علاقے میں اپنا تماشہ نہیں بنانا چاہتا تھا۔اسلئے گیٹ لاک کرکے خاموشی سے موبائیل وین میں بیٹھ کر تھانے پُہنچ گیا۔۔۔۔ ایک سپاہی نے تلاشی  کے بعد کامل کا تمام سامان اپنی تحویل میں لے لیا۔۔۔۔ اِسی سپاہی کو ایس ایچ اُو نے ہدایت دیتے ہُوئے حکم دیا۔ نذیر  اِنہیں فی الحال لاک اَپ میں رکھو۔ میں رات ۲ بجے تک واپس آکر اِنکی تواضع اُور باقی کاروائی مکمل کرتا ہُوں۔۔۔۔۔

 سُنیئے ایس ایچ اُو صاحب! میں آپ سے ہر قسم کا تعاون کرونگا۔ بس میری ایک گُزارش ہے اگر جناب مناسب سمجھیں تو مجھے ایک کال کا موقع عنایت فرمادیں۔۔۔۔اُور میں آپکو یقین دلاتا ہُوں۔ کہ،، مجھے صرف اپنی بیوی کو مطلع کرنا ہے۔کہ،، میں رات گھر نہیں آپاوٗنگا۔ ورنہ وُہ بیچاری تمام رات میرا انتظار کرتی رہے گی۔۔۔ کامل کا لہجہ اتنا مہذب اُور باوقار تھا۔کہ،، ایس ایچ اُو نے کچھ سُوچ کر اپنا موبائیل اُسکی طرف بڑھاتے ہُوئے تاکید کی۔۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ،، اب تمہاری بیوی کو  ایک طویل عرصہ تک تمہارے بغیر رہنے کی عادت ڈالنی پڑے گی۔۔۔۔۔ اُور  دیکھو بچہ جی کوئی ہوشیاری نہیں دِکھانا۔ ورنہ قسم کھا کر کہتا ہُوں کہ،،  ہم پر پریشر ڈالنے کیلئے کسی سیاسی بندے کو گھسیٹنے کی کوشش تمہیں بُہت مہنگی پڑسکتی ہے۔۔۔ کامل نے خاموشی سے نمبر پنچ کرنے کے بعد جاناں کو فقط اتنی اطلاع دی۔کہ،، میں بھی ابو شامل کے پاس ہی جارہا ہُوں۔دروازہ اندر سے بند کرلینا،، ہوسکتا ہے ہمیں آنے میں صبح ہوجائے۔۔۔۔ گفتگو کے بعد کامل نے شکریہ ادا کرتے ہُوئے موبائیل ایس ایچ اُو کی جانب بڑھادیا۔۔۔۔۔


رات ڈھائی بجے کا وقت رَہا ہُوگا۔ جب ایس ایچ اُو صاحب نیم مدہوشی کی حالت میں ڈگمگاتے قدموں سے تھانے میں جلوہ افروز ہُوئے۔کرسی پر بیٹھتے ہی اُنہوں نے لاک اپ میں بند کامل پر ایک نگاہ غلط ڈالتے ہُوئے، گرجدار آواز میں نذیر کو حکم جاری کیا۔اُوئے نذیرے ذرا اِس مرغے کو تو تالا کھول کر باہر نکال۔۔۔۔  مجھے باہر نکالنے کی زحمت نہ کرو رضوان خان۔ کیونکہ میں تمہارے سامنے کرسی پر موجود ہُوں۔۔۔۔ کامل کو اگلے ہی لمحے  کرسی پر براجمان دیکھ کر ایس ایچ اُو کا تمام نشہ ہرن ہُوچُکا تھا۔۔۔۔۔ تُم۔تُم۔ ۔۔۔تُم باہر کس طرح آئے جبکہ لاک اپ پر ابھی تک تالا موجود ہے۔۔۔۔ ایس ایچ اُو نے ہکلاتے ہُوئے کامل سے استفسار کیا؟؟؟۔۔۔۔۔۔اِن باتوں میں کچھ نہیں رکھا  رضوان خان۔۔۔ تُم کیا ! تمہاری ساری پُولیس فورس بھی مِل کر مجھ اکیلے کو  میری مرضی کیخلاف قید نہیں کرسکتی۔ وُہ تو  میں اِس علاقے میں تمہارا تماشہ نہیں بنانا چاہتا تھا۔ اِس لئے خاموشی سے تمہارےساتھ بھی چلا آیا تھا۔ اُور تم جیسے بیہودہ آدمی کا انتظار بھی کرلیا۔ ورنہ مجھے خُوب معلوم ہے ۔کہ،، تُم ابھی اپنے اُسی عیاش کزن دلاور خان کی مزاج پُرسی کرکے آرہے ہو۔۔۔۔ کامل نے کن انکھیوں سے دوسری کرسی پر موجود ابوشامل کو دیکھتے ہُوئے۔دلاور حسین پر طنز کیا۔

ایس ایچ اُو ،رضوان خان نے  کامل کی باخبری دیکھ کربوکھلاہٹ میں ٹیبل پر موجود ،، بزر  ،، سے اُس وقت تک ہاتھ نہیں اُٹھایا۔جب تک کہ،، پانچ چھ سپاہی اپنی توند سنبھالے ٹیبل کے سامنے نہیں پُہنچ گئے۔۔۔۔ پکڑو اِس خبیث کو اُور سُنو صرف لاک اپ میں قید نہیں کرنا ۔بلکہ اِسکے ہاتھ پاوٗں بھی خُوب کس کر اِسے اُلٹا لِٹادو۔کافی دِنوں سے کسی کی چھترول نہیں کی۔آج  اِسکی وُہ حالت بناوٗنگا۔کہ،، زندگی بھر کسی پولیس افسر سے بدتمیزی کرنے سے قبل ہزار مرتبہ سُوچے گا۔ ۔۔۔ ابو شامل نے بےپرواہی سے کامل کو اِشارہ کیا۔جیسے کہہ رہا ہو۔کہ،، اِس بیچارے کو اپنی من مانی کرلینے دُو۔

سپاہیوں کو اچھی طرح باندھنے کا مقصد اگرچہ سمجھ نہیں آیا۔لیکن صاحب کا حُکم تھا۔ اِس لئے اُنہوں نے تشریف کا علاقہ چھوڑ کر باقی تمام جسم ہی رسیوں سے لپیٹ ڈالا تھا۔۔۔۔ رضوان خان نے تمام سپاہیوں کو باہر بھیج کر خُونخوار نگاہوں سے کامل کو گھور کر ایک گندی سی گالی بکی اُور  پھر دیوار پر موجود ہنٹر اُتار کر جونہی مُڑا ۔ تو اُسکی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رِہ گئیں۔کیونکہ لاک اَپ  کے فرش پر صرف رسیوں کے گُچھے موجود تھے۔ جبکہ کامل علی اُسی نشست پر براجمان تھا۔ رضوان خان نے پھر ایک گندی سی گالی نکال کر کامل پر جھپٹنے کی کوشش کی۔ لیکن اِس سے پہلے کہ،،  رضوان خان لاک اپ سے باہر نکل پاتا۔ رسیوں کے گچھے خُود بخود رضوان  خان کے جسم سے لپٹنے لگے تھے۔ اور ایک منٹ سے پہلے رضوان خان کا  نیم برہنہ جسم اُسی حالت میں رسیوں سے لپٹا ہُوا تھا۔ جس طرح سپاہیوں نے کامل کو لِٹایا ہُوا تھا۔ جبکہ ہنٹر اِس مرتبہ کامل کے ہاتھوں میں رقص کناں تھا۔


رضوان خان جو اِس ہنٹر کو دوسروں کے جسم پر برساتے ہُوئے اکثر بےلگام  ہُوجایا کرتا تھا۔ خُود  ۱۰ کوڑے بھی اپنی نازک تشریف پر برداشت نہیں کرپایا ۔اُور بے ہُوش ہُوگیا۔۔۔۔ ابو شامل نے نجانے کونسی  تدبیر اپنائی تھی۔کہ رضوان خان اگلے لمحے ہی ہوش میں آگیا تھا۔ البتہ انجانی ہیبت سے اُسکا جسم تھر تھر کانپ رہا تھا۔ ۔۔ ابو شامل نے شرارت سے دیواروں کی جانب  اِشارہ کیا۔تو لاک اپ کی تمام  دیواروں پر ایسے مناظر اُبھرنے لگے۔ جیسے ہزاروں عفریت کڑکتی بجلیوں کی روشنی میں ایک دوسرے کا گلہ دبوچنے کی کوشش میں مصروف ہُوں۔۔۔ پھر ابو شامل کی ہیبتناک  آواز نے ماحول کو مزید پراسرار بناڈالا۔ ابو شامل نے رضوان خان کو مخاطب کرتے ہُوئے وارننگ دی۔ رضوان خان یہ تمہاری پہلی غلطی تھی۔ اِس لئے حضرت قبلہ کامل شاہ  سرکارکے حکم پر تمہیں زندہ چھوڑ دیا گیا ہے۔لیکن یاد رکھنا اگر تم نے آئندہ ،، سرکار،، کے راستے میں آنے کی جراٗت کی تو اِسکا خمیازہ تمہاری نسلوں کو بھی بھگتنا پڑے گا۔۔۔۔ رضوان خان کی ساری دلیری گدھے کے سینگ کی مانند غائب ہُوچکی تھی۔۔۔ وُہ گھگیائی ہُوئی آواز میں نادیدہ  ہستی سے رحم کی بھیک  طلب کرتے ہُوئے ایکبار پھر بے ہوش ہُوچکا تھا۔۔۔۔ ابو شامل نے مُسکرا کر کامل کی جانب ہاتھ بڑھایا تو کامل علی نے ابو شامل کا اِرادہ بھانپ لیا۔ اِس لئے ابوشامل کے جھٹکہ دینے سے قبل ہی کامل علی ابو شامل سے لپٹ گیا۔اگلے ہی لمحے وُہ دونوں  اپنے بنگلے کے دروازے پر موجود تھے۔


دِل کی بات
نہیں کہنی آج۔۔۔

(جاری ہے)

اُسکا کہنا ہے۔ کِسی اُور کو دیکھوں نہ کبھی
کیوں کہ اُسکو یہ میرا رُوپ بُرا لگتا ہے۔

مجھکو ہر چہرے میں آتاہے نظر اِک وُہ ہی
جُو نہ بھر پائے یہ بہروُپ !!!  ۔بُرا لگتا ہے۔