bing

Your SEO optimized title page contents

Pages

Hamara Tube Channel

Monday, 8 June 2015

عامل کامل ابوشامل (ابوشامل کی روانگی)قسط 48.akas



گُذشتہ سے پیوستہ۔

اچانک جاناں نے کامل کو جھنجھوڑ کر اُٹھاتے ہُوئے استفسار کیا۔۔۔ کامل کیا ہُوا ہے تمہیں۔ کیا کوئی بُرا خواب دیکھ رہے تھے۔  ؟؟؟کیونکہ تم ابھی خواب میں بُہت ذیادہ چیخ رہے تھے۔۔۔ ہاں۔ آں۔ میں شائد خواب  ہی دیکھ رہا تھا۔ خُدایا  کتنا عجیب خُواب تھا؟ ہر طرف سے سانپ مجھ پر حملہ آور ہُورہے تھے۔۔۔۔ جان  میں نے اپنے نانا سے سُنا ہے۔کہ،،خُواب میں سانپ کا دیکھنا اچھا نہیں ہُوتا۔ وُہ کہتے تھے۔کہ،، سانپ کی مثال اُس دشمن کی ہُوتی ہے جو اپنے حریف کی کمزوری پر نگاہ رکھتا ہے۔اور جیسے ہی کوئی کمزوری اُس کے ہاتھ آجاتی ہے۔ وُہ تاک کر حملہ کردیتا ہے۔۔۔جاناں کی بات سُن کر  ٹھنڈی ہواوٗں کے باوجود کامل کی پیشانی پر پسینے کے قطرے جگمگانے لگے تھے۔

نیند سے جاگنے  اُور جاناں کی تعبیر کے بعدکامل کا ذہن مکمل طور پر خُوف کے عفریت کی گرفت میں محصور ہُوچکا تھا۔جسکی وجہ سے کامل جاگتے ہُوئے باقی رات گزارنے لگا۔ جب خوف کی پرچھائیں اُسے مزید  اپنی آغوش میں جکڑنے لگی۔ تو کامل ، جاناں کو  ساتھ لیکر چھت سے اپنے کمرے میں منتقل ہُوگیا۔ جاناں تھوڑی ہی دیر میں دوبارہ نیند کی آغوش میں پُہنچ گئ تھی۔جبکہ کامل کیلئے بقیہ رات گُزارنا بُہت دشوار ہوتا جارہا تھا۔ اچانک اُسے جلباب  کی یاد آنے لگی۔جلباب کی یاد کیساتھ ہی کامل کو  مولوی رمضان کا ایک جملہ اپنی سماعت سے باربار ٹکراتا محسوس ہُوا۔  جیسے مولوی رمضان بھی اِس کمرے میں موجود ہُوں۔ اُور کامل کے کانوں میں سرگوشی کررہے ہُوں۔کہ،، بیٹا   انسان میں خُوف کی وجہ چوری ہے۔ جس طرح چُور چُوری کرتے ہُوئے ہر لمحہ اِس خُوف کا شکار رہتا ہے۔کہ،، کہیں مالک نہ جاگ جائے۔بالکل اِسی طرح جب کوئی انسان خُدا کے احکامات سے مُنہ مُوڑ کر چوروں کی طرح نافرمانی کے راستے پر سرپٹ بھاگنے کی کوشش کرتا ہے۔ تو خُدا کی نافرمانی کی وجہ سے اُس پر مخلوق کے خوٖف کا غلبہ ہُوجاتا ہے۔جس کے بعد وُہ اپنے سائے سے بھی درنے لگتا ہے۔

مولوی رمضان صاحب کی یاد کیساتھ ہی اُسے یہ بھی یاد آگیا کہ،، مولوی صاحب نے نزاع کے وقت میں بھی اُسکی خیرخواہی کی کوشش کی تھی۔ اُور اسے جلباب  پر شفقت کیساتھ اپنی کتابوں سے جُڑے رہنے کی تاکید کی تھی۔ پھر اُسے اپنے کالج کا زمانہ یاد آنے لگا۔ جب وُہ اکثر مولوی رمضان صاحب کی لائبریری میں کتابوں سے باتیں کیا کرتا تھا۔۔۔۔ پھر حالات بدلے تو اُس نے کتابوں سے تمام رشتے توڑ لئے۔ کتابوں کی یاد آتے ہی۔وُہ خاموشی سے جاناں کے پہلو سے اُٹھ کر اسٹور رُوم چلا آیا۔ جہاں  مولوی رمضان صاحب کی تمام کتابیں مدت سے  کارٹن میں بند پڑی تھیں۔ اُس نے احتیاط سے ایک کارٹن کا منہ کھولا۔تو اُسے یوں محسوس ہُونے لگا۔ جیسے وُہ کتابیں اپنی پھیکی سی مسکراہٹ کیساتھ کامل سے شکوہ کررہی ہُوں۔کہ،، بھلا اپنے دوستوں کو کون یُوں قید کرکے بھول جاتا ہے۔؟   کامل نے  کتابوں کے درمیان سے فتوح الغیب کو آہستگی سے نکال کر رُومال  کی مدد سے گرد سے پاک کیا۔ اُور اپنی آنکھوں سے بوسہ دینے کے بعد اِس کتاب کو اپنے کمرے میں لے آیا۔

حضور سیدنا شیخ عبدالقادر جیلانی رحمتہ اللہ علیہ کی منفرد تحریروں سے سجی یہ کتاب  آج پھرکامل کی نگاہوں کے سامنے تھی۔ مولوی رمضان صاحب کو بھی یہ کتاب بیحد پسند تھی۔ وُہ اکثر کامل سے کہتے تھے۔کہ،، اگر کسی بندے کو خدا کی تلاش ہُو۔ اُور اُسے کوئی مرشد رہنمائی کیلئے میسر نہ ہُو۔تب واللہ یہ کتاب ادب و عقیدت سے پڑھنے والے کو خُدا سے ملانے کیلئے کافی ہے۔ چند اُواق پڑھنے کے بعد ہی کامل اپنی زندگی کا محاسبہ کرنے پر مجبور ہُوگیا۔  آنکھوں سے آنسووٗں کی جھڑی لگی۔ تو نجانے کب دوبارہ کامل کی آنکھ لگ گئی۔پھر اُسکے کانوں میں موذن کے نغمے گونجنے لگے جو فلاح اُور سلامتی کے نعرے عجیب کیف و مستی کے عالم میں بُلند کررہا تھا۔۔۔۔ آج کافی عرصے کے بعد کامل کی آنکھ آذان کی صدا پر کھلی تھی۔ وگرنہ وُہ کہاں دِن چڑھے سے پہلے اُٹھنے والا تھا۔کامل نے وضو بنایا اُور فجر کی ادائیگی کیلئے مسجد کی جانب چل دیا۔

نماز کے اختتام پر دُعا میں کامل پر ایسی رقت طاری ہُوئی۔کہ،، اُسے معلوم ہی نہیں ہُوسکاکہ،، کب مولوی صاحب دعا کا اختتام کرنے کے بعد مسجد سے رخصت بھی ہُوگئے۔لیکن وُہ کافی دیر تک اپنی نافرمانیوں کی معافی اپنے کریم رب سےطلب کرتا رَہا۔ بس اُسکی ہر دُعا پر اُسکے کانوں میں ایک دھیمی سی آمین کی صدا اُسے یہ احساس دلاتی رہی۔کہ،، وُہ مسجد  میں تنہا نہیں ہے۔دُعا کے دوران  اچانک اُسے ابوشامل کی یاد آئی تو وُہ ابوشامل کیلئے بھی گڑگڑا کر دُعائیں مانگنے لگا۔اِس بار بھی کوئی اسکی دُعاوٗں پر ہر بار آمین۔آمین آمین کی دستک سے کامل کو اپنی موجودگی سے باخبر کرتا رہا۔دُعا کے اختتام تک اُس کے قلب میں ایک عجیب سکینہ نازل ہُونے لگا۔جیسے اُس کی زندگی میں کبھی کوئی غم  آیا ہی نہ ہُو۔ دُعا سے فارغ ہُونے کے بعد جب  کامل نے اپنی بائیں جانب دیکھا۔تو حکیم بطلیموس کے نورانی چہرے پر پھیلی مسکراہٹ نے اُسکا استقبال کیا۔

خُدا کا لاکھ لاکھ شکر ہے۔جس نے ابوشامل کو ایسا دُوست عطا فرمایا ہے۔جو اپنی تنہائی کی دعاوٗں میں بھی اُسے یاد رکھتا ہے۔ حکیم بطلیموس نے کامل کی توجہ پاتے ہی گفتگو کی ابتدا کرتے ہُوئے کہا۔۔۔۔السلام علیکم حکیم صاحب !حضور آپ یہاں کیسے۔؟ اُور ابوشامل کی طبیعت اب کیسی ہے۔؟ کامل نے سلام کرتے ہوئے استفسار کیا۔۔۔۔ وعلیکم السلام بیٹا۔۔۔ دراصل میں ابوشامل کے ہی متعلق بتانے کیلئے ہی تم سے ملنے یہاں آیا ہُوں۔کامل بیٹا تمہارا دُوست ابوشامل ٹھیک نہیں ہے۔ کل تمہارے جانے کے بعد اُس پر غشی کے دورے پڑنے لگے تھے۔ جس کے بعد وُہ شائد دائمی بےہُوشی کی کیفیت میں چلاگیا ہے۔۔۔۔ حکیم بطلیموس کی گفتگو جاری تھی کہ،، کامل نے گفتگو کاٹتے ہُوئے سوال کیا۔ دائمی بیہوشی سے آپکی کیا مُراد ہے؟۔۔۔۔ مجھے لگتا ہے ۔کہ،، شہزادہ ابو شامل کا جسم بجلی کی رفتار  کی مانند کسی ٹھوس  شئے یا مادی قوت سے ٹکرایا ہے۔جسکی وجہ سے اُس کی یاداشت پر اثر ہُوا ہے۔اُور اُسکے ذہن نے  اِس درجہ قوتِ ارتعاش کی وجہ سے فی الحال کام کرنا چھوڑ دیا ہے۔ اِس تکلیف کو ہم دائمی بے ہوشی سے تعبیر کرسکتے ہیں۔کیونکہ صحیح طور پر میں بھی نہیں جانتا کہ،، ابوشامل کے ذہن کو کتنے دِن، ماہ یا سال لگ سکتے ہیں۔ اِسلئے مجھے ہرحال میں ابوشامل کو تمہاری دُنیا سے اپنی دُنیا میں لیجانا ہُوگا۔تاکہ،، مطلوبہ درجہ حرارت کیساتھ میں اسکا علاج جاری رکھ سکوں۔

آپ ابوشامل کو لیجارہے ہیں تو میں یہاں رِہ کر کیا کروں گا۔آپ مجھے بھی اپنے ساتھ لےچلیں تاکہ،، میں بھی اِس تکلیف کی حالت میں اُسکی کچھ خدمت کرسکوں۔کامل نے روہانسے لہجے میں استدعا کرتے ہُوئے کہا۔کامل میں آپکو وہاں ساتھ نہیں لیجاسکتا۔ کیونکہ ہماری  دُنیا کا کم از کم درجہ حرارت ۸۰۰ سینٹی گریڈ ہے۔جو کہ آپکی دُنیا کے مقابلے میں بیس گُنا ذیادہ ہے۔آپ وہاں چند لمحے بھی زندہ نہیں رِہ پائیں گے۔۔۔۔ لیکن وہاں نرگس کو بھی تو رکھاگیا تھا نا۔کامل نے اچانک سوال کرڈالا۔۔۔۔نہیں کامل آپ سے کس نے کہا۔کہ،، نرگس کو ہماری دُنیا میں منتقل کیا گیا تھا۔حالانکہ نرگس کا علاج میں نے اِسی دُنیا کے ایک گمنام جزیرے پر کیا تھا۔ جسے تم ذیادہ سے ذیادہ دُنیا میں ہمارا دوسرا گھر کہہ سکتے ہُو۔ اُور ہاں نرگس کے ذکر سے یاد آیا کہ،، میں نے یہاں آنے سے قبل نرگس کو اُسکے حقیقی گھر میں  شفٹ کردیا ہے۔ جبکہ میرے پاس تمہارے لئے  اِس غم کی گھڑی میں ایک خوشخبری بھی موجود ہے۔کہ،، شہزادہ فرنانڈس کل اپنے منطقی انجام کو پُہنچ کر واصل جہنم ہوچکا ہے۔اسلئے اب اُسکی جانب سے بھی تمہیں کوئی خطرہ لاحق نہیں ہے۔

(جاری ہے)

اُسکا کہنا ہے۔ کِسی اُور کو دیکھوں نہ کبھی
کیوں کہ اُسکو یہ میرا رُوپ بُرا لگتا ہے۔

مجھکو ہر چہرے میں آتاہے نظر اِک وُہ ہی
جُو نہ بھر پائے یہ بہروُپ !!!  ۔بُرا لگتا ہے۔


جال ۔ در ۔ جال ۔(ہار جیت)۔ قسط ١٥



جال ۔ در ۔ جال ۔(ہار جیت)۔ قسط ١٥


گُذشتہ سے پیوستہ

کتنی بدنصیبی کی بات ہے۔ کہ کل تک کُفار جو طعنہ اللہ کریم کی ایک ولیہ کو دِیا کرتے تھے۔ جو کہ نا صِرف مسلم سفیر و مسلم وزیر دادی کی محسنہ تھیں بلکہ ہندوستان کے تمام مسلمانوں کی مُحسنہ تھیں کہ مسلمانوں کے سفیر کی مدد فرمارہی تھیں۔ ہم بجائے اُنکے احسان مند ہُوتے۔ آج تک ہِنود کی روش اپناتے ہُوئے وہی طعنہ ناسمجھی میں اپنے مسلمان بہن بھائیوں کو بھی دیتے ہیں۔

لیکن فرقان میاں میں آپ سے پھر یہی کہوں گا۔ کہ آپ نعمان میاں کی جانب سے اپنا دِل میلا نہ کریں۔ مجھے یقین ہے کہ ایک نا ایک دِن وہ ضرور پلٹ کر آئے گا۔ تب تک اُسکی واپسی کا انتظار کرنا۔ اُور واپسی کی راہ کو مسدود نہ کرنا۔ آپ کل سے اپنی فیکٹری پر توجہ دینا شروع کردیں اللہ کریم آپکی مدد ضرور فرمائے گا۔ اُور ایک دِن آپ کو آپکی قربانی کا پھل ضرور مِل کررہے گا۔

اَب مزید پڑھیئے۔

چار برس بعد۔۔۔
ظہر کی نماز کی ادائیگی کے دُوران موبائیل فون کی متواتر وائیبریشن فرقان کی محویت میں دخل انداز ہُوتی رہی ۔ مسجد سے آفس کی طرف جاتے ہُوئے فرقان نے اپنے دِل میں عہد کیا کہ وُہ آئندہ اپنا سیل فُون وائیبریشن پر لگانے کے بجائے اپنے آفس میں ہی چھوڑ کر آئے گا یا پھر اُسے آف کر دِیا کرے گا۔

مِسڈ کالز چیک کرتے ہُوئے فرقان کو خُوشگوار حیرت کا سامنا ہُوا۔ کیونکہ آج قریباٍ چار برس کے بعد نعمان کی سترہ مِس کالز فرقان کی موبائیل اسکرین پر جگمگا رہی تھیں۔ فرقان نے ایک لمحہ ضائع کئے بغیر نعمان کو کال مِلا دی۔ دوسری ہی بیل پر نعمان نے کال ریسیو کرلی فرقان کو ایسا مِحسوس ہُوا جیسے وُہ اُس ہی کی بیل کا منتظر تھا۔

فرقان نے گرمجوشی سے سلام میں پہل کی لیکن نعمان نے تھکے تھکے سے انداز میں فرقان کے سلام کا جواب دیتے ہُوئے بتایا کہ وہ فرقان سے فوراً مُلاقات کرنا چاہتا ہے۔ فرقان نے نعمان کو جواب دیتے ہُوئے بتایا کہ وُہ اِس وقت فیکٹری میں موجود ہے۔ اگر وہ پسند کرے تو میں شام کو خُود حاضر ہُوجاؤں گا۔ لیکن نُعمان کا اِصرار تھا کہ وہُ اسی وقت فرقان سے مُلاقات کا خُواہشمند ہے اسلئے اگر فرقان اپنی مصروفیت میں سے اگر چند مِنٹ نِکال سکے تو وُہ خُود فیکٹری آرہا ہے۔ فرقان نے جواباً عاجزی سے کہا ۔۔۔۔۔نعمان میرے بھائی مجھ سے التجا کر کے مجھے شرمندہ نہ کرو۔۔۔۔۔۔

نعمان نے کہا تھا کہ وہ آدھے گھنٹے میں فرقان کی فیکٹری پُہنچ جائے گا۔۔۔۔۔۔۔ فرقان کو آج نعمان کے لہجے میں وُہ پہلی سی گھن گرج کہیں بھی نظر نہیں آئی بلکہ اُسکا لہجہ ایک ہارے ہُوئے جواری کی مانند تھا۔ فرقان کو ایک کاروباری پارٹی نے اگرچہ چند دِن قبل کہا ضرور تھا کہ نعمان مسلسل تین برس سے خسارے کا سامنا کررہا ہے ۔۔۔۔ لیکن۔۔۔۔۔ فرقان جِس نعمان کو جانتا تھا۔ وہ ہر گز جھکنے والا نہیں تھا۔ لیکن آج نعمان کا بِکھرا ہُوا لہجہ اُسکی سُوچ کی نفی کررَہا تھا۔

فرقان نعمان کا انتظار کرتے ہُوئے آرام دَہ کَاوچ پر نیم دراز ہُوگیا۔۔۔۔۔ دھیرے دھیرے اُسکے سامنے ماضی کے اوراق پلٹنے لگے اُور وہ خیالات کی وادیوں میں چار برس قبل کی جانے والی فیکٹری کی افتتاحی تقریب میں پُہنچ گیا۔ جہاں نعمان اُسکا اُور اُسکی ٹیم کا تمسخر اُڑا رَہا تھا۔ پھر دھیرے دھیرے اُسےاپنے پہلے سال کی کارکردگی کے مناظر دِکھائی دیکھنے لگے۔ اُنکی فیکٹری کا پہلا برس واقعی آزمائشوں اُور امتحانوں کا سال ثابت ہُوا تھا۔ کبھی پیپر کی کوالٹی بِگڑ جاتی تُو کبھی بازار میں گرانی کی کیفیت پیدا ہُوجاتی۔ کبھی خام مال کی کمی کا سامنا کرنا پڑجاتا۔ تُو کبھی سامنے والی پارٹی وقت پر سپلائی نہ دے سکنے کی وجہ سے سودا کینسل کر ڈالتی۔ الغرض اِس اُونٹ کی کوئی کَل سیدھی نہ تھی۔ یا یُوں کہہ لیجیئے کہ ہاتھی پالنے کا شوق بُہت ہی مہنگا ثابت ہُورَہا تھا۔ جبکہ شہریار مجددی تو بالکل ہی کاروبار کے طریق سے نابلد تھے۔ جبکہ کرامت صاحب اگرچہ بُہت محنت اور جانفشانی سے تمام معملات کو حل کرنے کی سعی میں مصروف تھے۔ لیکن اُنکی بھی تمام تدابیر بروقت ہُونے کے باوجود بے سُود ثابت ہُورہی تھیں۔ ایک حَسّان میاں تھے جو ہر نئے دِن کیساتھ اِن سب کے حُوصلے بڑھا رہے تھے۔ اُور اُنکی زُبان پر ایک ہی جُملہ تھا۔ کہ یہ پہلا برس صِرف سیکھنے کیلئے ہے۔ اپنی غلطیوں کو دیکھو۔ اُور کوشش کرو کہ دُوبارہ وُہ غلطی سرزد نہ ہُو۔ اِسطرح غلطیوں کو سُدھارنے کا موقع ملے گا، اُور تُمہارے تجربہ میں اِضافہ کے ساتھ معملات میں بہتری آتی چلی جائے گی۔ کاروبار میں نفع نقصان سے زیادہ اپنی زُبان کی قیمت کا اِدراک رکھو۔ اور جو بھی پیمان قلمی یا قُولی طور پر کرو اُسے ہر قیمت پر پُورا کرنے کی کوشش میں مصروف رَہو ۔ اسطرح مارکیٹ میں تُمہاری ساکھ بنتی چلی جائے گی۔

وقت گُزرنے کیساتھ ساتھ حَسَّان میاں کی کہی ہُوئی ایک ایک بات سچ ثابت ہُوتی چلی گئی۔ واقعی پہلا برس بُہت ناموافق حالات و مُشاھِدات کی نظر ہُوگیا۔ لیکن دوسرے برس کی کامیابی نے پہلے برس کی تمام کوفت اُور ناکامی کی تھکن کو رفع کردِیا۔ اُسکے بعد آنے والے مزید دُو برس میں فیکٹری کی کیپیٹل ڈھائی گُنا ہُوچُکی تھی۔ حَسَّان مِیاں کے حُکم پر عمل درآمد کرتے ہُوئے فرقان نے اپنی فیکٹری کے تمام ملازمین کو سالانہ ڈبل بُونس کے انعام سے نوازا۔ جسکی وجہ سے فیکٹری کے تمام مُلازمین کے دِلوں میں فرقان و شہریار مجددی کی محبت گھر کر گئی تھی۔ اسکے علاوہ حَسَّان صاحب کے ایما پر ہی ،، آغوش ،، کے نام سے ایک اسکیم متعارف کرائی گئی۔ جسکے ذریعے ہر سال فیکٹری کے پانچ مُلازمین کو اپنا گھر بنانے کیلئے قرعہ اندازی کے ذریعے بِلا سُود قرض دینے کا اعلان کیا گیا۔

شہریار مجددی کے بے حد اِصرار پر فرقان نے اِس برس اپنا گھر خرید لیا تھا۔ اُور دُو مہینے قبل وہ اپنے نئے مکان میں شِفٹ ہُوچُکا تھا۔ جبکہ فیکٹری کے اعلٰی کوالٹی پیپر کی بڑھتی ہُوئی ڈیمانڈ کے پیش نظر فیکٹری میں نئی مشینری کا اِضافہ بھی کردیا گیا تھا۔ جسکی وجہ سے اُمید کی جارہی تھی کہ اِس سال کی پروڈکشن گُذشتہ کی نسبت ۸۰ پرسنٹ بڑھ جائے گی۔ جبکہ لُوڈ شیڈنگ کا مقابلہ کرنے کیلئے فیکٹری میں نئے انجن لگائے گئے تھے۔ جسکی وجہ سے ڈیمانڈ اُور سپلائی کے بحران پر قابو پا لیا گیا تھا۔ اِن انجنز کو نصب کرتے ہُوئے شہریار مجددی نے ایک نئی تکنیک متعارف کروائی تھی ۔جسکی وجہ سے حیرت انگیز طُور پر ڈیزل کا خرچ ساٹھ فیصد تک کم ہُوگیا تھا۔ اِس تکنیک کی وجہ سے فیکٹری کو بجلی اُس نرخ سے بھی کم ریٹ میں دستیاب ہُورہی تھی۔ جِس نرخ پر حکومتی اداروں سے حاصِل کی جارہی تھی۔

اگرچہ نعمان اُور فرقان کی فیکٹریاں ایک دوسرے کیساتھ مُتصِل تھیں۔ لیکن اسکے باوجود بھی اِن چار برسوں میں ایک مرتبہ بھی فرقان کا نعمان سے سامنا نہیں ہُوا تھا۔ نہ ہی کبھی نعمان فرقان کی فیکٹری میں آیا۔ اُور نہ ہزار دِل کی خُواہش کے باوجود فرقان کبھی اتنی ہِمت جُٹا پایا کہ وہ نُعمان کے پاس جاسکے۔ پھر وقت گُزرنے کیساتھ مصروفیت بھی اِسقدر بڑھتی چلی گئی۔ کہ فرقان کو ہمیشہ یہ اندیشہ گھیرے رکھتا کہ کاروبار کی بڑھتی ہُوئی مصروفیت کہیں اُسکی ازدواجی زندگی میں کوئی رُکاوٹ نہ کھڑی کردے۔۔۔۔ لیکن اِس معاملے میں فرقان انتہائی خُوش قِسمت انسان ثابت ہُوا تھا۔ کیونکہ اُسکی بیگم نے اُسے کبھی بھی اِس بات کا اِحساس نہیں ہُونے دِیا کہ۔۔۔ نئی فیکٹری کی شروعات سے وُہ گھر پر کسقدر کم وقت دینے لگا ہے۔بلکہ وہ ہمیشہ ہی اسکی حُوصلہ افزائی کیساتھ اُسکی ہمت بڑھارہی تھی۔

فرقان سُوچوں کے اِن بھنورُوں میں نہ جانے اُور کتنی دیر کُھویا رِہتا کہ ایک مُلازِم نے آکر اُسے نُعمان کی آمد کی اطلاع دی۔ فرقان نُعمان کے استقبال کیلئے اپنے آفس سے باہر نِکل آیا۔ لیکن یہ دیکھ کر اُسکا دِل کَٹ کر رہ گیا۔ کہ وہی نُعمان جو سولہ سُو سی سی سے کم گاڑی میں بیٹھنا اپنی بے عزتی سمجھتا تھا ایک سیکنڈ ہینڈ چائنا موٹر بائیک پر سوار ہُو کر آیا تھا۔ چہرے پہ بڑھی ہُوئی شِیو ، اُور لباس پر پڑی ہُوئی جا بجا سلوٹیں فرقان کو یہ سمجھانے کیلئے کافی تھیں۔ کہ اُسکا دُوست کسی بُہت بڑے امتحان سے گُزر رہا ہے۔ جسکا کرب صاف اُسکے چہرے پہ نمایاں نظر آرہا تھا۔

نعمان نے فرقان کو اپنا منتظر دیکھا تو تھکے تھکے سے قدموں سے فرقان کی جانب بڑھنے لگا۔فرقان نے آگے بڑھ کر کر نُعمان کو اپنے سینے سے لگا لیا۔ چند لمحے اِسی کیفیت میں گُزر گئے۔ پھر فرقان نُعمان کو بڑی عزت سے اپنے آفس میں لے آیا۔ آفس میں آرام دہ کرسیوں پر بیٹھنے کے بعد فرقان اُسکا حال دریافت کرنے لگا۔ لیکن نُعمان کی زُبان پر تُو جیسے خَاموشی کا قُفل پڑا تھا۔ اُسکا چہرہ ناکامی اور شرمندگی کی تصویر پیش کررہا تھا۔ جب دوسری مرتبہ فرقان نے پُوچھا کہ میرے یار تُو آخر بُولتا کیوں نہیں۔۔۔۔ ؟ اُور یہ تُونے اپنا کیا حال بنا رکھا ہے۔۔۔۔؟ تب نعمان کی آنکھیں جو نجانے کب سے چھلکنے کو بیقرار تھیں۔ اپنے آبگینوں کے بند کو مزید سنبھال نہ پائیں۔۔۔۔ اُور نُعمان فقط اتنا ہی کہہ پایا کہ فرقان میرے بھائی میں ہار گیا ہُوں۔۔۔ اُور رُسوائی میرے تعاقب میں ہے۔ اِسکے بعد وپہ کُچھ نہ کہہ پایا۔۔۔ اُور ہچکیاں باندھ کر رُونے لگا۔۔۔۔۔

(مجھے معلوم ہے کہ اس افسانے کی اس قسط کو پڑھنے کیلئے آپ سب کو بُہت انتظار کرنا پڑا ہے جسکے لئے آپ سب سے مُعافی چاہتا ہُوں۔ لیکن سچ تو یہ ہے کہ رمضان المبارک میں میری طبیعت اسقدر بگڑ گئی تھی۔ کہ مجھے یقین ہُوچلا تھا۔ کہ میں شائد عیدالفطر کا چاند بھی نہ دیکھ پاؤں گا۔مگر۔۔۔۔)
۔
بقولِ شاعر
۔
میں ڈوبتا ہُوں سُمندر اُچھال دیتا ہے
نہ جانے کُون دُعاؤں میں یاد رکھتا ہے

انشاءَ اللہ کوشش کرونگا کہ ایک ہفتے میں اسکی آخری قسط (خُلاصہ) لکھ کر آپکی نذر کردُوں ۔

Sunday, 7 June 2015

تذکرہ اِک پری کا (زلیخا مائی صاحبہ) قسط 28.TIPK



تذکرہ اِک پری کا (قصہ زُلیخا مائی صاحبہ) قسط۲۸

گُذشتہ سے پیوستہ

عمران کہانی کے سحر میں کھویا ہُوا تھا۔کہ،، اچانک کوثر نے ہڑبڑا کر کہا۔ ہائے اللہ  مجھ سےیہ کیا غضب ہُوگیا۔۔۔۔ عمران بھی جھٹکے سے اُٹھ بیٹھا اُور یہاں وہاں دیکھ کر کوثر سے استفسار کرنے لگا۔کیا ہُوا کُوثر کیسا غضب ہُوگیا؟؟؟؟۔ بالما صابر پاک نے مجھے کہا تھا۔کہ،، جیسے ہی عمران سے ملاقات ہُوجائے عشق کے ساگر میں بہکنے کے بجائے اُسے جلد ہماری جانب روانہ کردینا۔ لیکن میں جنم جلی تمہاری قربت میں ایسی بہکی کہ،، باباصاحب کا پیغام تم تک پُہنچانے میں تاخیر پر تاخیر کرتی چلی گئی۔۔۔۔ خُدا خیر کرے کہیں اب صابر پاک ناراض نہ ہُوجائیں۔۔۔۔۔واقعی ہم سے بُہت بڑی غلطی ہُوگئی۔اللہ پاک مہربانی فرمائے۔ اُور صابر پاک بھی ہماری کوتاہی کو درگُزر فرمائیں۔ اب مجھے کیا کرنا چاہیئے؟ عمران نے  بھی پریشانی کے عالم میں کوثر سے سوال کیا۔۔۔۔۔۔ کرنا کیا ہے اب ایک لمحہ کی بھی تاخیر کیئے تمہیں بابا صابر کی خدمت میں حاضر ہُوجانا چاہیئے۔چونکہ یہ درویش اللہ کریم کے دوست ہیں۔اس لئے میرا دِل گواہی دے رہا ہے۔ کہ،، ذرا سی خفگی دکھانے کے بعد معافی ضرور عطا فرمادیں گے۔ کوثر  کی گفتگو نے عمران کی وحشتوں کو یقین سے بدل دیا تھا۔

عمران  جب دھڑکتے دِل کیساتھ باغ میں داخل ہُوا تب  بابا صابر باغ کے ایک گوشہ ٗخلوت میں نماز ظہر ادا کرنے میں مصروف تھے۔لہذا عمران بھی  تھوڑے فاصلے پر خاموشی سے بیٹھ گیا۔ بابا صاحب نے نماز سے فارغ ہُوکر ایک نگاہ عمران پر ڈالی۔لیکن اِس نگاہ میں کوئی شناسائی کا عنصر موجود نہیں تھا۔ باباصاحب کی ناراضی بجا تھا۔لیکن اب عمران کے پاس بچا ہی کیا تھا۔جو وُہ بابا صابر صاحب سے بھی بیگانہ ہُوجاتا۔  بابا صاحب نماز سے فارغ ہُونے کے بعد  آنکھیں بند کئےایک درخت سے ٹیک لگاکر بیٹھ چُکے تھے۔

 عمران کو نہ جانے کیا سُوجھی۔کہ،، وُہ اپنی جگہ سے اُٹھ کر بابا صاحب کے نذدیک پہنچ کر بابا صاحب کے قدموں سے اپنی آنکھوں کو ملنے لگا۔ بابا صاحب نے بند آنکھوں سے اپنے پاوٗں سکوڑنے چاہے۔ تب بھی عمران اپنے رُخسار قدموں سے ملتا رہا۔ کچھ لمحے خاموشی کی نذر ہُوتے رہے پھر بابا صاحب کو عمران کی حالت پر رحم آہی گیا۔ تو محبت سے اُسکے چہرے کو اپنے قدموں سے جُدا کرنے کے بعد اُسے اپنے سامنے بٹھا کر نصیحت فرمانے لگے۔

بیٹا میں نے کہا تھا نا تُم سے ایکدن۔کہ،، اختیار امانت  کی طرح ہوتا ہے۔؟اختیار خواہشات کو جنم دیتا ہے۔ اُور سپردگی سے دُور لیجاتا ہے۔ یہی بات اُس جنم جلی نے بھی تُم سے بیساختگی میں کہی تھی۔ جو کہ،، درحقیقت ہم نے ہی اُسکی زُبان سے ادا کروائی تھی۔ لیکن نا تُم نے اُن جملوں پر دھیان دیا۔ اُور نہ ہی کوثر نے زُبان سے ادا کرنے کے باوجود اُنکا اِدراک حاصل کیا۔۔۔ دیکھو میاں صاحب کی جگہ اگر ہم بھی ہُوتے تو تمہارے ساتھ وہی رویہ اختیار کرتے جو کہ،، میاں صاحب نے تمہارے ساتھ اختیار کیا تھا۔ کیونکہ،، وُہ بھی تم سے بیحد پیار کرتے ہیں ۔ اُور ہم بھی تُم سے بےپناہ محبت کرتے ہیں۔۔۔ لیکن تُم عشق کی مدہانی میں پُہنچنے کے باوجود خُود سے مکھن جُدا کرنے کیلئے تیار نہیں ہُو۔

یاد رکھو یہ مکھن ہی دراصل دُنیا کی محبت ہے۔ جب تک یہ جامن کا ساتھ نہیں چھوڑتی چھاچ تیار نہیں ہُوپاتی۔ مکھن خُود لپٹ جانے والا ہے جبکہ چھاچ چکنائی کو جُدا کرنے والی ہے۔۔۔تم اپنا وعدہ بھول چُکے ہُو۔اس لئے مکھن کو خُود سے جُدا نہیں کرنا چاہتے۔ جبکہ اِس وعدہ ازل میں تم نے حلف لیا تھا۔کہ،، تم  ہر ایک مجاز کو حقیقت پر قربان کردو گے،، لیکن تُم بھول گئے،، بخدا بھول گئے وُہ تمام عہد و پاس جسکے ہم سب گواہ ہیں۔۔۔ بابا صابر گفتگو کرتے ہُوئے بُہت جذباتی ہُوگئے ۔تو اپنی آنکھوں کے گوشے اپنی چادر کے کونوں سے صاف کرنے لگے۔

بابا صاحب! میں نرا جاہل ہُوں۔ مجھے اتنی باریک گفتگو سمجھ نہیں آتی۔آپ مہربانی فرماکر اِنہیں میرے لئے آسان لفظوں میں بیان فرمادیں۔یا مجھ پر آگہی و ادراک کے دروازے کھول دیں۔عمران نے نہایت لجاجت سے گُزارش کی۔۔۔۔۔ بیٹا وُہ وقت دُور نہیں ہے ۔جب عنقریب تُم پر آگہی و ادراک کے  نا صرف تمام در  ظاہر ہُوجائیں گے۔بلکہ مشاہدات کے ذریعے تمہارے ابہام کو یقین کی عظیم دولت بھی میسر آجائے گی۔۔۔اگرچہ یہ نعمت ملنے تک تُم ایک عظیم دولت کو غیب میں جاتا بھی دیکھ چکے ہُوگے۔بہرحال میں تمہیں آسان لفظوں میں اپنا مافی الضمیر سمجھانے کی کوشش کرتا ہُوں۔۔۔عمران تم نے زلیخا مائی صاحبہ کا تذکرہ تو ضرور پڑھا ہُوگا قران مجید میں۔۔۔؟ جی بابا صاحب پڑھا ہے لیکن اتنے سرسری انداز میں کہ،، کبھی اصل واقعہ سمجھ ہی نہیں آسکا۔ عمران نے متانت سے جواب دیا۔۔۔۔ کوئی بات نہیں عمران میاں! آج ہم اِس واقعہ کے صرف ۲ پہلو ہی نہیں بلکہ اِسکے ایک ایسے رُخ سے بھی رُوشناس کروائیں گے۔ جسکا مشاہدہ بُہت کم لوگوں نے کیا ہُوگا۔

دیکھو  بیٹا ہماری آج کی مُلاقات بُہت اہم ہے۔ کوشش کرنا کہ،، تمام زندگی ہماری یہ گفتگو ذہن سے محو نہ ہُونے پائے۔انشا ٗ اللہ  یہ گفتگو تمام زندگی تمہارے لئے اندھیری راہ میں مشعل کا کام دیگی۔ گفتگو کی ابتدا میں ہم اسکی جزئیات پر بات کریں گے۔ جبکہ اِسکا آخری حصہ تمام گفتگو کا حاصل ہُوگا۔ اللہ کریم سے دُعا ہے۔کہ،، تمہارے ذریعہ اِس سے ہمیشہ عشاق فیضیاب ہُوتے رہیں۔اب میں  مختصرواقع پیش کرتا ہُوں۔

حضرت یوسف علیہ السلام کے حُسن کا چاند   جب سیدنا یعقوب علیہ السلام کے کاشانے میں نمودار ہُوا۔ تب  اردگرد موجودتمام چراغ شرماکر خُود بخود ٹمٹماتے ہُوئے گُل ہُونے لگے۔ہزارچراغوں کی روشنی بھی ایک چاند کا مقابلہ کرنے کیلئے ناکافی ہُوتی ہیں۔ اسلئے سیدہ راحیلہ کے اِس چاند نبوت کو چالاکی سےاندھیرے کنویں میں اُتار  کر اُفق سے غائب کرنے کی  لاحاصل سعی کی گئی۔پھر ہمیشہ کی طرح عشق کے امتحانات نے سیدنا یوسف علیہ السلام کو مصر کے بازاروں تک پُہنچا دیا۔آپ  کے حُسن کا چرچا مصر کے بازاروں سے محلات تک پُہنچنے میں ذیادہ دیر نہیں لگی۔ جسکی وجہ سے آپ کو عزیز مصر نے اپنے قریب کرلیا۔ جبکہ سیدنا یعقوب بن اسحاق بن ابراہیم علیہ السلام کی آنکھیں آپکی جُدائی میں بہتے بہتے خشک ہُوگئیں۔

جب کہ حضرت یوسف علیہ السلام کا حُسن ایکبار پھر مصر میں آپ کیلئے ایک مزید امتحان کی صورت جلوہ گر ہُوا۔ اُور آپ  کی  موہنی صورت نجانے کب اُور کیسے عزیز مصر کی بیوی زُلیخا  کے دِل و جگر کو زخمی کرگئی۔ زلیخا نے بھرپور کوششیں شروع کردیں۔کہ،، کسی طرح سیدنا یوسف علیہ السلام بھی آپکی جانب مائل ہُوجائیں۔لیکن جِن آنکھوں میں عشق الہی کا سُرمہ موجود ہُو بھلا اُن نگاہوں میں کوئی خلق کیسے سما سکتا ہے۔۔۔۔ کہتے ہیں عشق و مُشک چھپائے نہیں چھپتے۔ سُو زلیخا کی دِلگی کا قصہ بھی کسی نہ کسی طرح اُمرا ٗ  کی بیگمات تک جا پُہنچا۔زلیخا نے  اُن خواتین کےطعنوں  سے بچنے کیلئے ایک محفل کا اہتمام کیا۔ جس میں شرفا کی بیگمات کے  ایک ہاتھ میں پھل اُور دوسرے ہاتھ میں چھری پکڑادی گئی۔اُور جب سیدنا یوسف علیہ السلام کو اُن کے سامنے سے گُزارا گیا۔تو وُہ خواتین بھی  نور نبوت کی تاب نہ لاسکیں۔ اُور نتیجتاً اُنہوں نے  چھری سےاپنے ہی ہاتھوں    کی انگلیوں کو کاٹ ڈالا۔

جب زلیخا نے اپنی ہر تدبیر کو تقدیر کے مقابلے میں ناکامی کی نذر ہُوتے دیکھا۔ تو  اُس نےجبر کی راہ  اختیار کرنے کیلئے سیدنا یوسف علیہ السلام کو چالاکی سے تنہائی میں اپنی آرام گاہ میں طلب کرلیا۔لیکن  اللہ کے نبی علیہ السلام نے اُسے نصیحت فرمائی کہ،، زلیخا اپنی خواہشات کی غلامی سے نکل کر اُس واحد و لاشریک کی غلامی کا طوق اپنی گردن میں سجالے،جس نے مہربانی فرماتے ہُوئے اپنی نیابت کا تاج انسان کے سر پر سجایا ہے۔اَب اِسے اتفاق کہیئے یا اللہ کریم کی مشیت کہ،،عین اُسی وقت عزیز مصر بھی وہاں پُہنچ گیا۔

زلیخا جانتی تھی کہ،، عزیز مصر حُسن زلیخا پر پروانے کی مانندنثار ہے۔ اسلئے اُس نے   اپنی تمام ناکامیوں کا انتقام لینے کیلئے سارا الزام سیدنا یوسف علیہ السلام کے سر ڈال دیا۔ اللہ کریم کے حُکم سے سیدنا یُوسف علیہ السلام کی پاکیزگی کی گواہی ایک شیر خوار بچے نے دی جسکی وجہ سے عزیز مصر پر یہ بات تو واضح ہو ہی گئی۔کہ،، خواہشات کی اسیر اُسکی اپنی زوجہ ہے ناکہ،، سیدنا یوسف علیہ السلام۔لیکن۔۔۔ یوسف علیہ السلام کی قربت پھر زلیخا کو بہکانے کا باعث بن سکتی تھی۔ اسلئے عزیز مصر نے سیدنا یُوسف علیہ السلام کو قید کرنے کے احکامات جاری کردیئے۔

کچھ عرصہ بعد یوسف علیہ السلام سے ۲ قیدیوں نے اپنے خواب بیان کیئے جنکی تعبیر  اللہ کے نبی علیہ السلام نے بیان فرمادی۔ دونوں کو جو تعبیر بتائی گئی تھی۔ بالکل اسی طرح معاملہ پیش آیا۔ ایک قیدی کو پھانسی دیکر چوراہے پر عبرت کیلئے لٹکا دیاگیا۔ جبکہ دوسرے کو عزیز مصر کے ساقی کا فرئضہ سُونپ دیا گیا۔ پھر عزیز مصر نے ایک خواب دیکھا تو اُس ساقی نے حضرت یوسف علیہ السلام کی تعبیر کی بیحد تعریف کی۔ عزیز مصر نے جب اپنا خواب سیدنا یوسف علیہ السلام کی خدمت میں عرض کیا۔ تو آپ نے جواباً فرمایا۔کہ،، سات برس تک خُوب خُوشحالی رہنے کے بعد سات برس تک ملک میں قحط پڑے گا۔

عزیز مصر  کے قلب میں بات بیٹھ جاتی ہے۔کہ،، یوسف علیہ السلام عام انسان نہیں ہیں۔ بلکہ یہی  مصر کو پیش آنے والی مصیبت سے بچاسکتے ہیں۔ اُور اسطرح حضرت یوسف علیہ السلام کو قیدخانے سے نکال کر  حکومت مصر کی تمام انتظامی ذمہ داریاں سُونپ دی جاتی ہیں۔حضرت یوسف علیہ السلام دُنیا کے پہلے ذخیرہ گھر تعمیر کراتے ہیں۔ اُور غالباً پہلی مردم شُماری بھی۔پھر آپکی تعبیر کے عین مطابق سات برس تک اجناس کی خُوب  پیداوار ہُوتی ہے جنہیں ذخیرہ کیا جاتا ہے۔ جو اگلے  قحط کےسات برسوں میں کام آتا ہے۔اِسی دوران آپکے بھائی بھی غلے کے حصول کیلئے آپ کے پاس تشریف لاتے ہیں۔ آپ اُن کیساتھ بھی اچھا سلوک کرتے ہیں۔ اُور اپنی قمیص مبارک والد گرامی کی خدمت میں بھیجتے ہیں۔جسے آنکھوں سے لگانے پر سیدنا یعقوب علیہ السلام کی ظاہری بینائی واپس لُوٹ آتی ہے۔

عمران بیٹا یہ تو وُہ قصہ تھا جو عموماً بیان کیا جاتا ہے۔ اب میں تمہاری خاص توجہ چاہونگا۔تاکہ میں وُہ بات بیان کرسکوں جو میرے پاس تمام عاشقوں کیلئے امانت ہے۔۔۔کہ،، جب سیدنا یوسف علیہ السلام جب اِن تمام ہنگاموں اُور امتحانات سے سُرخرو ہوجاتے ہیں۔تو ایکدن آپ کے دِل میں زلیخا کا خیال آتا ہے۔ زلیخا کے خیال کیساتھ اُسکا آپکو پانے کے لئے جنون بھی یاد آتا ہے۔پھر آپ اَس فیصلے پر پُہنچتے ہیں۔کہ،، زلیخا جو عزیز مصر کے گُزرجانے کے بعدایک بیوہ کی زندگی گُزار رہی ہے۔ اُسے  اُسکی محبتوں کا ثمر ملنا چاہیئے۔ اُور زلیخا کو اپنی شریک حیات بنالینا چاہیئے۔ چناچہ اللہ کے نبی سیدنا یوسف علیہ السلام زلیخا  مائی صاحبہ سے ارشاد فرماتے ہیں۔


اے زلیخا میرے پاس تمہارے لئے ایک خُوشخبری ہے۔تو تمام زندگی مجھے پانے کیلئے ترستی رہی ہے۔ اُور تجھ پر میری محبت ہمیشہ ایسی غالب رہی۔کہ،، تونے کبھی اپنے مرتبے کا بھی خیال نہ کیا۔اُور ایک دیوانے کی طرح میری چاہت میں گرفتار رہی۔ لے آج خُوش ہوجا۔کہ،، آج میں خُود تجھے اپنانے کا اعلان کرتا ہُوں۔ اُور تجھ سے نکاح کا خواہشمند ہُوں۔۔۔۔ عمران بیٹا ذرا تصور تو کرو جب سیدنا یوسف علیہ السلام نے زُلیخامائی صاحبہ کو نکاح کا پیغام دیا ہُوگا۔ اُس وقت مائی صاحبہ کی کیفیت کیا ہُوگی۔؟۔۔۔ جی باباصاحب واقعی وُہ دِن تو مائی صاحبہ کیلئے عید کا دِن ہُوگا۔ کہ،، مائی صاحبہ جسے ساری زندگی خُدا سے مانگتی رہیں ہُونگی۔ وُہ مُراد  اُس دن خُود مائی صاحبہ کی جھولی میں اچانک آگری تھی۔عِمران نے تصور میں مائی صاحبہ کے چہرے پر  خُوشی اور تشکر کے ہزاروں رنگ تلاش کرنے کی کوشش کی۔

ہاں بیٹا۔ جب جب کوئی مائی صاحبہ کی طلب  عشق کی داستان سُنے گا اُس کا وہی جواب ہُوگا۔ جو تم نے ابھی دیا ہے۔ لیکن بیٹا حقیقت یہی ہے۔کہ،، حضرت یوسف علیہ السلام کی پیشکش کا جواب مائی صاحبہ نے  تمہارے تصور کے بالکل برخلاف دیا تھا۔۔۔ مائی صاحبہ نے صاف  صاف منع کردیا تھا۔۔۔۔ حضرت یوسف علیہ السلام نے  حیرت کے عالم میں مائی صاحبہ سے دریافت کیا۔ زُلیخا وُہ تمہاری محبت کیا ہُوئی۔؟ کہ،، جس نے تمہیں وحشتوں میں مبتلا کردیا تھا۔

مائی صاحبہ نے جواب دیتے ہُوئے عرض کی۔ اے اللہ کے نبی (علیہ السلام) میں آپ کے عشق میں ایسی گرفتار تھی۔کہ،، اگر کوئی مجھ سے آپ کی محبت کی خاطر میری جان بھی طلب کرلیتا۔ تو میں اپنی جان پیش کرنے کیلئے ذرا نہیں چُوکتی۔لیکن میری تمام تر کوششوں کے باوجود آپ نے مجھے کبھی پلٹ کر نہیں دیکھا۔۔۔تب میں  ایک بات سوچنے پر مجبور ہُوگئی۔کہ،، ہر انسان  دوسرے انسان سے تین اہم وجوہات کی وجہ سے مُتاثر ہو کر اُسکی جانب  مائل ہُوتا ہے۔ پہلی وجہ (حُسن) ہے۔ ۔۔دوسری وجہ (طاقت )ہے۔ جبکہ تیسری وجہ (دُولت )ہے۔ اِن میں سے کوئی ایک شئے بھی کسی انسان کے پاس موجود ہو۔تو دوسرے انسان خُودبخود اُسکی طرف کھنچے چلے آتے ہیں۔ مگر اے اللہ کے نبی علیہ السلام۔میرے پاس تو بیک وقت حُسن کی لازوال دُولت بھی تھی۔ مصر کی طاقت کا سرچشمہ بھی میں تھی۔ اُور ظاہری اسباب سے میرے خزانے  بھی پُر تھے۔لیکن آپ نے مجھے پھر بھی ایک نظر اُٹھا کر نہیں دیکھا۔

تب میں یہ سُوچنے پر مجبور ہُوگئی۔کہ یقیناً کوئی چوتھی وجہ بھی  ضرورموجود ہونی چاہیئے۔جو آپکو میری جانب ملتفت نہیں ہُونے دیتی۔۔ تب میں  کافی غُور و خوص کے بعد اِس نتیجے پر پُہنچی۔کہ،، وُہ چوتھی وجہ کسی کے عشق میں مبتلا رہنا ہے۔۔۔  میں نے کافی کھوج لگانے کی کوشش کی۔کہ،، آپ کے معشوق کا کچھ پتہ چل جائے۔لیکن آپکا  عشق تو مخلوق سے تھا ہی نہیں۔ تب  میں اُسے کیسے کھوج سکتی تھی۔ پھر مجھ پر میرے عشق  کی مسلسل تپش نے بلاآخر یہ راز افشاں کر ہی دیا۔کہ آپ مخلوق کے نہیں بلکہ خالق کے عشق میں گرفتار ہیں۔ اُور بلاآخر میرے جنون عشق نے مجھے  بھی عشق مجازی  کی ندیا سے بہا کر عشق حقیقت کے ساگر میں اُتار دیا ۔ سُو اِس لئے جب سے میں نے اُس  کریم کے عشق کوپالیا ہے۔ اب میرے دِل میں کسی غیر کی محبت کا خیال بھی نہیں آتا۔

جاری ہے۔۔۔

پلکوں سے دَر یار پر دستک دینا
اُونچی آواز ہُوئی عُمر کا سرمایہ گیا


عامل کامل ابوشامل (زخمی ابوشامل) قسط 47.akas



گُذشتہ سے پیوستہ۔

مزید چند لمحوں کے بعد آندھی تھم گئی۔لیکن ابوشامل اُور فرنانڈس کا کمرے میں نام و نشاں تک نہیں تھا۔۔۔۔ یہ دونوں کہاں چلے گئے؟ کامل علی نے دانہ ثمانی کے موکل سے استفسار کیا۔۔۔۔  یہ سب اِس ہار کی کرامت ہے جو تم  تم نے ابھی اریبہ کو پہنایا ہے۔ اِس ہار کی موجودگی میں کوئی جن یہاں نہیں ٹہرسکتا۔ورنہ وُہ چند پل میں جل کر خاکستر ہُوجائے گا۔ دانہ ثمانی کے موکل نے کامل  علی کے علم میں اضافہ کرتے ہُوئے بتایا۔۔۔ لیکن پھر تُم یہاں کیسے موجود ہُو۔کامل نے حیرت کا اظہار کیا۔۔۔۔۔ میں اِس لئے یہاں موجود ہُوں۔کہ،، میں کوئی جن نہیں ہُوں صرف دانہ ثمانی کا موکل ہُوں۔۔۔ تم ایسا کرو رفیع صاحب کو بُلاکر ہدایات دےدُو۔کہ،، کسی بھی صورت میں وُہ اِس ہار کو اریبہ کے جسم سے جُدا نہ کریں۔ ورنہ وُہ فرنانڈس جب تک زندہ ہے۔ہر حال میں اریبہ کے جسم پر قبضہ جمانے کی کوشش ضرور کرے گا۔

دانہ ثمانی کے موکل کے مشورے پر کامل علی نے رفیع دُرانی کو تمام ہدایات پر سختی سے عمل کرنے کی تاکیدکرتے ہُوئے یقین دِلایا۔کہ،، الحمدُللہ ایک خُونخوار جنگ لڑنے کے بعد اریبہ کو اُس شیطان جن زادے  کی دسترس سے نکال لیا گیا ہے۔ اُور اب انشا ٗ اللہ وُہ دِن دُور نہیں کہ،، جب اریبہ بٹیا پہلے کی طرح ایک نارمل زندگی گُزارسکے گی۔ بس آپ لوگوں نے اِس ہار کی حفاظت ایسے ہی کرنی ہے۔ جس طرح آپ لوگوں نے اپنی بچی کو بچانے کی ہر ممکن کوشش کی تھی۔ رفیع دُرانی نے کامل کا شُکریہ ادا کرتے ہُوئے  ۔رقم سے بھراایک لفافہ کامل کی طرف بڑھایا۔جسے کامل نے یہ کہہ کر واپس رفیع دُرانی کی جیب میں ڈال دیا۔کہ،، اریبہ کا علاج کرتے ہُوئے مجھے بالکل ایسا ہی محسوس ہُورہا تھا۔ جیسے میں آپکی نہیں بلکہ اپنی بچی کیلئے لڑرہا ہُوں۔

رفیع کے گھر سے اپنے گھر کی جانب جاتے ہُوئے  راستے میں کامل کی گاڑی ایک مقام پر یکایک بند ہُوگئی۔ کافی کوشش کے بعد بھی جب سلب سے کوئی شور برآمد نہیں ہُوا۔تو کامل نے گاڑی سے اُتر کر انجن دیکھنے کا ارداہ کیا۔ کامل جس وقت بونٹ کھولنے کی کوشش کررہا تھا۔تب ہی کامل کے کان میں کسی کےدرد سے کراہنے کی کی آواز گونجی۔ کامل نے  گردن گھماکر یہاں وہاں دیکھا تو اُسے سڑک کے کنا رے ایک شخص کمبل لپیٹے دکھائی دیا۔ جو کراہتے ہُوئے کامل کو ہی پُکار رہا تھا۔

کامل نے ہمت کرکے جب کمبل اُس شخص کے چہرے سے ہٹانے کی کوشش کی تو۔کامل کے مُنہ سے  چیخ بُلند ہُوتے ہُوتے رِہ گئی۔ کمبل میں ابوشامل کا جھلسا ہُوا جسم موجود تھا۔ اگرچہ ابوشامل کے چہرے پر اسقدر زخم موجود تھے۔کہ،، اصلی چہرے کے خدوخال واضح نظر نہیں آرہے تھے۔لیکن وُہ  بہرحال ابو شامل ہی تھا۔ جس نے قدم قدم پر کامل پر اتنے احسانات کیئے تھے۔کہ،، کامل کو اُنہیں چکانے کیلئے ایک زندگی کم دکھائی دیتی تھی۔۔۔ کامل نے فوراً خیال کیا کہ،، ابوشامل کو اِس وقت علاج کی سخت ضرورت ہے۔ اس لئے کامل نے ابوشامل کو ہسپتال لیجانے کیلئےگود میں بھرا اُور فرنٹ سیٹ پر ڈال کر جونہی بےخیالی میں گاڑی اسٹارٹ کرنے کی کوشش کی تو پہلی ہی کوشش میں کار کا انجن ایسے انگڑائی لیکر جاگ اُٹھا۔ جیسے وُہ کبھی خراب ہی نہ ہُوا  تھا۔۔۔۔ کامل میرے دوست مجھے اِس وقت داکٹروں کی ضرورت نہیں ہے۔ اُور نہ ہی تمہارے داکٹروں کے پاس میرا علاج موجود ہے۔ اگر تم مجھے بچانا چاہتے ہُو تو مجھے فوراً ہمارے آستانے پر لے چلو۔ وہاں پُہنچ کر ہم کوشش کریں گے۔کہ حکیم بطلیموس کو میرے متعلق  معلومات پُہنچ جائے۔ اگر ہم کامیاب ہُوگئے۔ تو مجھے یقین ہے کہ،، حکیم بطلیموس ایک لمحے کی تاخیر کے بغیر دُوڑا چلا آئے گا۔ اُور وہی ایک ایسا معالج ہے ۔جسے معلوم ہے۔کہ،، میرا علاج کس طرح ممکن ہے۔۔۔ کمزوری اُور زخموں کی وجہ سے مجھ میں بالکل ہمت باقی نہیں بچی ہے ۔ورنہ میں خود اُنکی خدمت میں جانا چاہتا تھا۔ ابوشامل اتنا کہنے کے بعد زُور زُور سے سانس لینے لگا۔جیسے اُسے سانس لینے میں  بُہت دقت پیش آرہی ہُو۔

آستانے پُہنچنے کے بعد جیسے تیسے کامل علی نے ابوشامل کو اپنے کمرہ خاص تک پُہنچا کر ابوشامل سے دریافت کیا۔ ابو شامل اب جلدی سے مجھے بتاوٗ کہ،،حکیم بطلیموس سے کس طرح رابطہ کرنا ہے؟۔ ابوشامل نے کامل کو نذدیک آنے کا اشارہ کیا۔ اُور اُسکے کان میں چند جملے دہرانے کے بعد اُسے ہدایت کی۔کہ،، شمالی دیوار کے کونے میں جاکر انہی جملوں کو  لگاتار گیارہ مرتبہ دُہرانے سے حکیم بطلیموس تک  میرا پیغام پُہنچ جائے گا۔۔۔ کامل علی نے اُن جملوں کو کئی بار ابوشامل کے سامنے دُہرا کر تصیح کی۔ اُور پھر کمرے کے شمالی کونے میں وہی جملے گیارہ مرتبہ دُہرا دیئے۔ آخری مرتبہ جملہ دہرانے کے بعد جب کامل نے ابوشامل کی جانب پلٹ کر دیکھا۔تو اُس نے ایک معمر ترین شخص کو ابوشامل کی پیشانی کا بوسہ لیتے ہُوئے دیکھا۔

 اُس معمر شخص کا قد بمشکل چار فُٹ کے قریب رہا ہُوگا۔ جبکہ داڑھی اُور مونچھ کے  علاوہ نوکیلی ٹوپی سے جھانکتے ہُوئےسفید بال اُسکے وقار میں اضافہ کررہے تھے۔۔۔۔ وُہ معمر تریں شخص ایک انجانی زُبان میں ابوشامل سے کچھ سوالات کررہا تھا۔جنکے جوابات بھی ابوشامل اُسی زبان میں دے رہا تھا۔ پھر ابو شامل نے کامل کو مخاطب کرتے ہُوئے کہا۔۔۔۔ کامل میرے بھائی حکیم بطلیموس تشریف لے آئے ہیں۔ اس لئے اب تُم بھی بے فکر ہُوکر جاناں کے پاس چلے جاوٗ۔میں  بھی انشاٗ اللہ چند دن میں صحتیاب ہو کر گھر آجاوٗں گا۔ تمہاری حفاظت کیلئے بدستور دانہ ثمانی کا موکل موجود رہے گا۔ ویسے بھی فرنانڈس کی حالت مجھ سے بھی بُہت ذیادہ خراب تھی۔اِس لئے فی الحال اُس کی طرف سے بھی کسی خطرے کا اندیشہ نہیں ہے۔۔۔۔ کامل علی نہیں چاہتا تھا۔کہ،، ابوشامل کو اِس حال میں تنہا چھوڑ کر گھر جائے۔لیکن ابوشامل کے اصرار کے سامنے بلاآخر کامل کو ہی ہتھیار ڈالنے پڑے۔
گھر پہنچ کر بھی کامل کو ابوشامل کا خیال ستاتا رہا۔ جاناں نے آج کامل کی پسند کو مدنظر رکھتے ہُوئے خُشک چاول کیساتھ فرائی مچھلی کا اہتمام کیا تھا۔ لیکن اپنا پسندیدہ کھانا بھی سامنے ہُونے کے باوجود کھانا کامل کے حلق سے نیچے نہیں اُتر رہا تھا۔
کامل کی بےرغبتی دیکھ کر جاناں سے بھی کھانا نہیں کھایا  جارہا تھا۔ پھر کامل نے جاناں کو مخاطب کرتے ہُوئے اِس خواہش کا اظہار کیا۔کہ،، کمرے میں مجھے اچھی نیند نہیں آسکے گی۔اسلئے آج رات ہم کیوں نہ  چھت پرکھلے آسمان تلے سُوجائیں۔ جاناں کے بستر لگاتے ہی کامل کچھ ہی دیر میں ستاروں کو تکتے تکتے نیند کی آغوش میں پُہنچ گیا۔۔۔۔ خاب میں بھی تمام رات اُسے سلطان تبریزی کے جلوے نظر آتے رہے۔ وُہ کبھی باز کی طرح فضا میں پرواز کرتے ہُوئے اُسکی نگرانی کرنے لگتا۔پھر اچانک  چاروں جانب سے سانپ اُس کو ڈسنے کی کوشش کرتے۔تو سلطان تبریزی سرعت سے جھپٹ جھپٹ کر اُن سانپوں پر حملہ آور ہُوجاتا اُور اپنے پنجوں  کی مدد سے اُن سانپوں کو اُدھیڑ اُدھیڑ کو دُور اچھال دیتا۔ پھر اچانک اُسے وہی درویش  ریحان شاہ تبریزی دکھائی دیا جنہوں سے ایکبار گھنشام داس سے اِسکی جان بچائی تھی۔۔۔ اُور اب ریحان شاہ تبریزی سلطان تبریزی کی پیٹھ ٹھونک ٹھونک کر اُسے ایسے شاباسی دے رہے تھے۔ جیسے سلطان تبریزی کے کام سے بُہت خوش ہُوں۔کامل ریحان شاہ تبریزی کی دست بوسی کرکے اُن سے سلطان تبریزی کی بابت دریافت کرنا چاہتا تھا۔کہ،،۔۔۔۔

اچانک جاناں نے کامل کو جھنجھوڑ کر اُٹھاتے ہُوئے استفسار کیا۔۔۔ کامل کیا ہُوا ہے تمہیں۔ کیا کوئی بُرا خواب دیکھ رہے تھے۔  ؟؟؟کیونکہ تم ابھی خواب میں بُہت ذیادہ چیخ رہے تھے۔۔۔ ہاں۔ آں۔ میں شائد خواب  ہی دیکھ رہا تھا۔ خُدایا  کتنا عجیب خُواب تھا؟ ہر طرف سے سانپ مجھ پر حملہ آور ہُورہے تھے۔۔۔۔ جان  میں نے اپنے نانا سے سُنا ہے۔کہ،،خُواب میں سانپ کا دیکھنا اچھا نہیں ہُوتا۔ وُہ کہتے تھے۔کہ،، سانپ کی مثال اُس دشمن کی ہُوتی ہے جو اپنے حریف کی کمزوری پر نگاہ رکھتا ہے۔اور جیسے ہی کوئی کمزوری اُس کے ہاتھ آجاتی ہے۔ وُہ تاک کر حملہ کردیتا ہے۔۔۔جاناں کی بات سُن کر  ٹھنڈی ہواوٗں کے باوجود کامل کی پیشانی پر پسینے کے قطرے جگمگانے لگے تھے۔

(جاری ہے)


اُسکا کہنا ہے۔ کِسی اُور کو دیکھوں نہ کبھی
کیوں کہ اُسکو یہ میرا رُوپ بُرا لگتا ہے۔

مجھکو ہر چہرے میں آتاہے نظر اِک وُہ ہی
جُو نہ بھر پائے یہ بہروُپ !!!  ۔بُرا لگتا ہے۔


جال۔ در ۔ جال۔ قسط ١4۔ (بھان متی کا کُنبہ)۔



جال۔ در ۔ جال۔ قسط ١4۔ (بھان متی کا کُنبہ)۔


گُزشتہ سے پیوستہ۔

پھر خُدا کے خاص فضل سے وُہ دِن بھی آن پُہنچا کہ ،، جسکے انتظار میں فرقان نے آٹھ ماہ تک رات و دِن کا اِمتیاز بُھلا کر مُسلسل مِحنت کی تھی۔ پیپر مِل کا اِفتتاح فرقان اُور شہریار مجددی کی شدید خُواہش پر حَسَّان صاحب نے اپنے دست مُبارک سے کیا۔ تمام شہر سے کاروباری، مذہبی ، اُور روحانی سلسلے سے منسلک افراد کو مدعو کیا گیا تھا۔ فرقان اُور شہریار ہر ایک آنے والے سے مبارکباد و دُعا وَصول کررہے تھے۔ بے شُمار لوگ حَسان میاں کے ارد گِرد دُعا و برکت کے حُصول کیلئے موجود تھے ۔ شہریار مجددی کے مُعزز گھرانے کے کافی افراد بھی اِس خُوشی کےمُوقع پر مُوجود تھے۔ مگر فرقان کی نِگاہیں بار بار فیکٹری کے صدر دروازے کی جانب اُٹھ رہی تھیں۔ اُسکی نِگاہوں کی تشنگی حَسَّان میاں سے پُوشیدہ نہ رہ سکی۔ جب بار بار فرقان کی نِگاہیں بے چینی سے مین گیٹ کا طواف کرنے لگیں تُو حَسَّان صاحب سے نہ رَہا گیا۔ وُہ فرقان کے نزدیک تشریف لا کر گُویا ہُوئے،، فرقان میاں جسکے انتظار میں آپکی نظریں دروازے پر جمی ہیں وہ تُو کب کے مِحفل میں تشریف لاچُکے ہیں۔۔۔۔۔۔!

اَب مزید پڑھیئے۔
فرقان نے حَسَّان صاحب کی توجہ دِلانے پر اَب جو مِحفل کے ایک گُوشے میں دیکھا۔ تُو نعمان ٹھیکدار عبدالرشید سے گفتگو کرتا نظر آگیا۔ حَسان صاحب نے مُسکراتے ہُوئے اِشارہ کیا۔ گُویا فرمارہے ہُوں کہ،، میاں اب کس بات کا انتظار ہے۔ جسکی دید کے منتظر تھے۔ وُہ آچُکا ہے۔ تُو جاکر مِل کیوں نہیں لیتے۔

فرقان بڑی چاہت بھرے جذبے کیساتھ نُعمان کی جانب بڑھا۔ لیکن جب وُہ نعمان کی پُشت کے قریب پُہنچا۔ تب نعمان کے ایک ہی جُملے نے اُسکے تمام جذبات پر برفیلی اُوس ڈال دی۔ نُعمان استہزائیہ انداز میں ٹھیکیدار عبدالرشید سے فرقان کی موجودگی سے بے خبرکہہ رہا تھا۔۔۔۔ عبدالرشید بھائی حَسان میاں نے تمام اناڑیوں کی ٹیم جمع کرکے اُس محاورے ،، بھان متی نے کُنبہ جُوڑا۔ کہیں کی اینٹ کہیں کا رُوڑا ،، کی یاد تازہ کروادی۔ فرقان اُور شہریار مجددی کی جوڑی ہی کیا کم تعجب خیز تھی۔ جو ایک بنک منیجر کو پیپر مِل کا منیجر بنا ڈالا۔ اب ایک ہمارے فرقان صاحب ہیں جنہیں کاروبار کی الف، ب کا علم نہیں ہے۔ تُو دوسرے پارٹنر بھی پیرزادے ہیں۔ ارے بھائی مجھے تُو یہ سمجھ نہیں آرہا ہے۔ کہ وہ فیکٹری چلائیں گے یا گدی نشینی سنبھالیں گے۔ پھر رہی سہی کسر کرامت صاحب کو تمام فیکٹری کا چارج دے کر حَسان صاحب نے پُوری کردی۔

فرقان نے سُوچا تھا کہ نعمان تمام باتوں کو بُھول چُکا ہُوگا۔ لیکن نعمان کی زہریلی اُور کَٹی جلی گفتگو سے فرقان کو خُوب اندازہ ہُوچُکا تھا۔ کہ نعمان نے آج تک فرقان کو دِل سے مُعاف نہیں کیا ہے۔ فرقان شائد اپنی ہتک کو برداشت کرجاتا۔ لیکن اُسے حَسَّان صاحب اُور شہریار مجددی کا یُوں محفل میں مذاق بنایا جانا بالکل پسند نہیں آیا۔ اسلئے وہ نعمان سے مُلاقات کئے بغیر ہی نعمان کی پُشت کا فائدہ اُٹھا کر دوسرے گوشے کی جانب بڑھ گیا۔

محفل کے اختتام پر حَسان صاحب نے پرسوز دُعا کروائی جسکے بعد یہ محفل برخاست ہُوگئی۔ نعمان کو حسان میاں کی طرف بڑھتا دیکھ کر فرقان نے ٹُوائلٹ کا رُخ کرلیا۔ وُہ نہیں چاہتا تھا کہ حَسان میاں کے سامنے کوئی بدمزگی کا معاملہ پیش آجائے۔

تمام احباب کے چلے جانے کے بعد حَسان میاں نے فرقان سے استفسار کیا۔۔۔ بھئ فرقان میاں آپکی نعمان صاحب سے مُلاقات کیسی رہی۔۔۔؟ حضرت میری نُعمان سے مُلاقات نہیں ہُوسکی۔ جواب میں فرقان نے تمام ماجرا سچ سچ سُنا تے ہُوئے کہا۔ کہ ابھی تک نعمان کا دِل میری جانب سے صاف نہیں ہُوا ہے۔ اُس نے جسطرح بھان متی کا تذکرہ کرتے ہُوئے ہماری مِثال دِی تھی۔ اُسکے بعد مجھ میں اتنی ہمت ہی باقی نہیں بچی تھی۔ کہ اُس کے ساتھ کوئی گُفتگو کرپاتا۔۔۔۔۔۔ ویسے حضرت یہ بھان متی تھی کُون۔۔۔؟ اُور اُس نے اینٹ رُوڑے کونسی عمارت بنانے کیلئے جمع کئے تھے۔۔۔۔ فرقان نے غمگین لہجے میں سوال کرتے ہُوئے کہا۔۔۔!

فرقان میاں آپ اپنا دِل نعمان کی گُفتگو سے چھوٹا نہ کریں۔ اُسکے بجائے کوئی اُور بھی ہُوتا تب بھی اِسی قسم کے تبصرے کے سِوا کوئی مختلف بات سامنے آنے کی کم از کم مجھے توقع نہیں تھی۔ دراصل اکثر لُوگ یہی سمجھتے ہیں کہ کاروبار میں ترقی کا راز صرف محنت ، لگن ، اُور سمجھ بُوجھ سے ہی ممکن ہے۔ جبکہ وُہ یہ بات اکثر فراموش کرجاتے ہیں۔ کہ اللہ کریم کے فضل کے بِنا کوئی تینوں خصوصیت رکھنے کے باوجود بھی کامیاب نہیں ہُوسکتا۔ یہ تینوں کوالٹی صرف عمل میں نِکھار کا باعث ہیں۔ منزل کو آسان بنانے میں معاون ہیں۔ مگر خُود منزل نہیں ہیں۔۔۔۔۔ جبکہ اللہ کریم چاہے تُو کسی ناسمجھ و نااہل پر بھی اپنے فضل کی ایسی برسات کر دیتا ہے۔ کہ بڑے بڑے دانا بھی مُنہ تکتے رِہ جاتے ہیں۔ حَسان میاں نے فرقان کی دلجوئی کرتے ہُوئے سلسلہ کلام جاری رکھتے ہُوئے کہا۔۔۔

اُور جہاں تک بات ہے بھان متی کے کُنبہ،، کی تُو یہاں بھی اکثر لُوگ غلطی کھا جاتے ہیں۔ بھان متی ہندوستان کی ریاست چتوڑ میں کافروں کے درمیاں روشنی کا منارہ تھیں۔ ظلمت و کفر کے پروردہ اُنہیں اپنے جیسا سمجھ کر اُن کا مذاق اُڑا رہے تھے۔وہ بظاہر ایک مجذوبہ کی شکل میں نظر آنے والی خاتون تھیں۔ لیکن درحقیقت تمام ریاست چتوڑ میں وہ واحد خاتون تھیں۔ جو کُفر سے بیزار توحید پرستی کی شمع کو اپنے سینے میں چھپائے بیٹھی تھیں۔ اُور جس وقت کافر وزیر کی صاحبزادی کےخُفیہ ایمان لانے کے بعد اُسے اپنے گھر میں پناہ دیکر علاوٗالدین خلجی کے معتوب سفیر کو اپنے گھر لے آئیں تھیں۔ تب کفر کے پرستار اُنکا مذاق اُڑانے کیلئے یہ جُملہ،، بھان متی نے کُنبہ جُوڑا۔ کہیں کی اینٹ کہیں کا رُوڑا۔ پھبتی کسنے کیلئے استعمال کیا کرتے تھے۔ کیوں کہ بھان متی نے نہ ہی شادی رچائی تھی۔ اُور نہ ہی تمام چتوڑ میں کوئی اُنکا رشتہ دار تھا۔ بس اسلام کے رشتے سے اُنہوں نے مسلم سفیر کو اپنا بیٹا اُور وزیر زادی کو اپنی بیٹی بنا لیا تھا۔ اُور کفار انہی دونوں پاکباز کرداروں کو اینٹ ، رُوڑے سے تشبیہ دِیا کرتے تھے۔

اب کتنی بدنصیبی کی بات ہے۔ کہ کل تک کُفار جو طعنہ اللہ کریم کی ایک ولیہ کو دِیا کرتے تھے۔ جو کہ نا صِرف مسلم سفیر و مسلم وزیر دادی کی محسنہ تھیں بلکہ ہندوستان کے تمام مسلمانوں کی مُحسنہ تھیں کہ مسلمانوں کے سفیر کی مدد فرمارہی تھیں۔ ہم بجائے اُنکے احسان مند ہُوتے۔ آج تک ہِنود کی روش اپناتے ہُوئے وہی طعنہ ناسمجھی میں اپنے مسلمان بہن بھائیوں کو بھی دیتے ہیں۔

لیکن فرقان میاں میں آپ سے پھر یہی کہوں گا۔ کہ آپ نعمان میاں کی جانب سے اپنا دِل میلا نہ کریں۔ مجھے یقین ہے کہ ایک نا ایک دِن وہ ضرور پلٹ کر آئے گا۔ تب تک اُسکی واپسی کا انتظار کرنا۔ اُور واپسی کی راہ کو مسدود نہ کرنا۔ آپ کل سے اپنی فیکٹری پر توجہ دینا شروع کردیں اللہ کریم آپکی مدد ضرور فرمائے گا۔ اُور ایک دِن آپ کو آپکی قربانی کا پھل ضرور مِل کررہے گا۔
(جاری ہے)

مُحترم قارئین کرام ،، آپ سب سے دُعاوٗں کیلئے ملتمس ہُوں۔ مجھے یقین ہے کہ رمضان المبارک کی اِن بابرکت ساعتوں میں آپکے ہاتھوں کی بُلندی کے دوران میں آپکی دعاؤں کا حِصہ ضرور رہا ہُونگا۔

پلکوں سے دَرِ یار پہ دستک دینا
اُونچی آواز ہُوئی عُمر کا سرمایہ گیا

Saturday, 6 June 2015

تذکرہ اِک پری کا (قصہ سیف الملوک) قسط 27.TIPK




گُذشتہ سے پیوستہ
 
خُدا کا قسم ہم کو پورا یقین ہے۔کہ،، نہاری میں لذت اُور خُوشبو اُس اللہ والے کے  گُوشت کو جھوٹا کرنے سے آئی ہے۔مصالحہ ڈالنے کی وجہ سے نہیں آئی۔۔۔ اُور ہم صرف یہی بات بتانے کیلئے آج صبح صبح آیا ہے۔ ورنہ یہ وقت ہمارے سُونے کا وقت ہے۔۔۔۔ خان صاحب کی نیک نامی اُور ایمانداری کی وجہ سے رِیسٹورنٹ کے مالک نے  نا صِرف  چوکیدارخان صاحب کی بات کو صدقِ دِل سے قبول کرلیا۔بلکہ اُس نے باورچی سے بھی فوراً  اپنے رویئے پر معذرت کرلی۔۔۔ جبکہ عمران کیلئے یہ خبر ہی خُوشی بڑھانے کیلئے کم نہ تھی۔کہ،، بابا صابر شہر ہی میں موجود ہیں۔۔۔۔ بلکہ اُسکا دِل گواہی دے رِہا تھا۔کہ،، بابا صاحب نے اپنے کشف سے میری یہاں آمد کو جان لیا تھا۔ اُور وُہ صرف میرے ہی لئے دیگ کے کھانے کی رُونق بڑھانے آئے تھے۔

عمران اِسی کیف و مستی کی حالت میں  بابا صابر کی تلاش میں ایک مرتبہ پھر شہر کے بیرونی دروازے کی طرف بڑھنے لگا۔۔۔ اِسٹیڈیم کے باہر اُنہی درختوں کے قریب سے گُزرتے ہُوئے عمران کو پھر اُنہی معطر معطر جُھونکوں نے مسحور کردیا۔پھر اُسکے قدم  اُسی جگہ ٹہر گئے۔ کہ اچانک  درختوں کے عقب سے کوثر کی کھنکتی ہُوئی ہنسی عمران کے کانوں میں  نقرئی گھنٹیوں کی طرح  جلترنگ بکھیرنے لگی۔۔۔۔ بالم کیسی لگی نہاری  کی دعوت آپکو۔۔۔؟؟؟ عِمران نے  ذرا ترچھا ہُوکر دیکھا ۔تو  کوثر کو دیکھتا ہی چلا گیا۔۔۔۔ کوثر اپنی تمام تر حشر سامانیوں کیساتھ  اپنے حُسن کے جَلوے بکھیرنے کیلئے ایکبار پھر  عمران کے سامنے  کھڑی مسکرا رہی تھی۔

عِمران کے دِل میں کوثر کو  اپنی بانہوں میں بھرنے کی خُواہش شدت اختیار کرنے لگی تھی۔ لیکن سررَاہ۔ وُہ ایسی حرکت کے متعلق سُوچ بھی نہیں سکتا تھا۔۔۔ شائد کوثر نے بھی اُسکے دِل کی بات پڑھ لی تھی۔ اسلئے عمران کو اپنے پیچھے آنے کا اِشارہ کرتے ہُوئے وُہ ادائے بے نیازی سے دیوار کے ایک حصے کی جانب بڑھنے لگی۔ جہاں  دیوار کا کچھ حصہ بارشوں کی وجہ سے منہدم ہُوچُکا تھا۔ چار دیواری کے اندر داخل ہُونے کے بعدکوثر نے عمران کو بوسیدہ کھنڈر نما گیسٹ ہاوس میں چلنے کا اشارہ کیا۔گیٹ ہاوس کی ظاہری حالت دیکھ کر  ایسا لگتا تھا۔کہ،، اندر ضرور جانوروں نے اپنے مسکن بنارکھے ہُونگے۔لیکن اندر داخل ہُوتے ہی عمران کو یُوں لگا۔ جیسے وُہ کسی محل نما کمرے میں داخل ہُوگیاہُو۔ یہ ماحول عمران کو بُہت جانا پہچانا سا محسوس ہُوا۔ پھر اُسے یاد آیا کہ،، یہ تو وہی جگہ ہے جہاں عمران کی کوثر سے پہلی مُلاقات ہُوئی تھی۔

کمرے میں داخل ہُوتے ہی کوثر وارفتگی کے عالم میں عمران سے لپٹ گئی۔کتنی ہی دیر تک کوثر کبھی عمران کی آنکھوں کے بوسے لیتی تو کبھی اُس کے سر کو تھام کر اُسے  یُوں دیکھنے لگتی۔ جیسے عمران کو چھو کر یقین کررہی ہُو۔کہ،، وُہ حقیقت  میں اُسکے سامنے ہی موجودہے ۔یا  وُہ کوئی خوشگوار سپنا دیکھ رہی ہے!!!۔۔۔۔ بالم خُدا کا لاکھ لاکھ شُکر ہے۔ جس نے میری تشنہ نگاہوں کو تمہارا دیدار بخشا۔۔۔ عمران بھی اُسے بتانا چاہتا تھا۔کہ،، وُہ بھی اِس کے بغیر کتنا ادھورا تھا۔ لیکن کوثر نے اُسکے ہُونٹوں پر انگلی رکھتے ہُوئے کہا۔ بالم تُم کچھ بھی نہ کہو  تب بھی میں جان سکتی ہُوں کہ،، تُم بھی اُسی کرب کے سمندر سے گُزرے ہُو۔ جسکی طلاطم خیز موجوں نے مجھے جکڑ کر باندی بنارکھا تھا۔۔ کیا بات ہے کوثر آج تم مجھے میرے نام کے بجائے بالم بالم کہے جارہی ہُو۔؟ عمران کے سوال پر کوثر نے اِٹھلاتے ہُوئے  مُسکرا کر جواب دیا۔ بالم کو بالم نہ کہوں تو کیا ظالم کہہ کر پُکاروں بالما۔۔۔؟

جس نام سے تمہارا دل چاہے پُکار لُو۔۔۔ بس ایک مہربانی کرنا کہ،، اب مجھ سے دُور نہ جانا۔ عمران نے کوثر کی ہتھیلی پر بوسہ دیتے ہُوئے مخمور لہجے میں التجاکی۔۔۔ پھر جیسے عمران کو کچھ یاد آگیا۔۔۔۔ کوثر میں یہ تو پوچھنا ہی بھول گیاکہ،، تم نے مجھے نہاری کی دعوت کی مبارکباد دی تھی۔ تو کیا تمہاری بابا صابر سے مُلاقات ہُوچکی ہے۔ اُور کیا میاں صاحب ہماری مُلاقات کیلئے راضی ہُوگئے ہیں۔ اُور کیا ہمیں اب پھر تو جُدا نہیں ہُونا پڑے گا۔ عمران نے ایک ہی سانس میں کئی سوالات کرڈالے۔

کوثر  نے عمران کا ہاتھ تھام کر اُسے اپنے قریب  جہازی سائز مسہری پر بٹھاکر جواب دینا شروع کیا۔۔۔ بیشک اللہ کریم کی مہربانی کیساتھ صابر پاک نے بھی بُہت کرم نوازی فرمائی ہے ہمارے معاملے میں۔ آپ ہی کی کوششوں سے میاں صاحب نے دس برس کی جُدائی والی شرط بھی ختم کردی ہے۔۔۔۔۔۔۔ تو کیا تمہیں پانے کیلئےاب مجھے ناران آنے کی بھی ضرورت نہیں ہے۔عمران نے خُوشی کے عالم میں کوثر کے ہاتھ ایکبار پھر اپنے ہاتھوں میں جکڑ لئے۔۔۔۔ ناران تو بالم آنا ہی پڑے گا تمہیں۔۔دراصل میں تمہیں وُہ مقام دِکھانا چاہتی ہُوں۔جہاں عشقِ مجازی سے شروع ہُونے والی کہانی عشق حقیقی تک جا پُہنچی تھی۔۔۔۔۔۔کیا مطلب کیسی کہانی؟؟؟ عمران نے  اشتیاق کے عالم میں اپنے تجسس کا اظہار کیا۔۔۔۔۔۔۔عجیب عاشق ہُو تم بھی بالما۔ جو محبت کی سیڑھیاں چڑھنے کو اتنے بیتاب ہُو۔لیکن اتنی عظیم عشق کی داستان سے بے خبر ہُو۔ورنہ ناران کا تو تذکرہ ہی سُن کر عاشقوں کا رُواں رُواں رقص کرنے لگتا ہے۔۔۔ جانِ عمران اب اتنی پہلیاں تو نہ بجھواوٗ نا!!! عمران نے اپنی بیقراری کا اظہار کرتے ہُوئے کہا

بالما یہ کہانی تو اتنی طویل ہے کہ سُنتے سُناتے برسوں بیت جائیں۔لیکن میں مختصر واقعہ بیان کئے دیتی ہُوں۔یہ بُہت پرانی بات ہے۔ جب  شاہ مصر   عاصم کے بیٹے سیف الملوک نے اپنے باباجان کے خزانے میں  محفوظ ایک صندوق میں موجود    ریشم سے لچکیلے پارچے پرشہزادی پری  بدیع الجمال کی شبیہ دیکھ لی تھی۔ اِس شبیہ کو دیکھنے کے بعد شہزادہ سیف الملوک کو عشق کا ایسا رُوگ لگا۔کہ،، وُہ کھانا پینا، ہنسنا،بولنا،سب کچھ بھول گیا۔ بلاآخر حکما نے اُسکا یہی علاج تجویز کیا۔کہ،، شہزادہ جب تک اُس پری بدیع الجمال کو پا نہیں لیگا۔یہ رُوگ  اِسے دن بدن گُھلاتا رہے گا۔قصہ مختصر شاہ عاصم نے کسی نہ کسی طرح  شہزادہ سیف الملوک اُور بدیع الجمال کے مِلن کیلئے رضامندی ظاہر کردی۔

جب شہزادے کو شاہ عاصم کی جانب سے مثبت جواب موصول ہُوگیا۔تو شہزادہ سیف الملوک  نے ایک بہری بیڑہ تیار کروایا ۔ اُور اپنے   ایک وزیر زادے دوست  اُور مختصر سی فوج کے ہمراہ جس پر دُنیا بھر کی نعمتیں لاد  ی گئیں تھیں۔وُہ شہزادی بدیع الجمال کی تلاش میں نکل پڑا۔ ایک سال کی مسلسل کوشش کے بعد اُسے صرف شہزادی بدیع الجمال کامبہم سا اتاپتہ معلوم ہُوگیا۔ اُس کے بعد کئی برس شہزادہ حالات سے لڑتے ہُوئے بدیع الجمال کے قریب ہُونے کی کوشش کرتا رہا۔

اِس کوشش کے دوران اُسے بحری قذاقوں کا بھی سامنا کرنا پڑا۔ تو کبھی راستے میں پڑنے والی ریاستوں کے والیوں نے اُسے دھر لیا۔لیکن شہزادہ بڑی پامردی سے انسانوں، شیطانوں ، حیوانوں، درندوں،  اُور عجیب عجیب مخلوقات سے لڑتا بھڑتا اپنی منزل کے قریب ہُوتا چلا گیا۔اُس نے شہزادی بدیع الجمال کی خاطر کئی سال تک مسافت جاری رکھی۔ اُور اِس دُوران کئی مرتبہ بھوک پیاس بھی برداشت کی۔ شہزادہ سیف الملوک کی مستقل مزاجی کی وجہ سے اُسے  بلاآخر ایکدن شہزادی بدیع الجمال ناران کی بالائی جھیل پر  مِل ہی گئی ۔جو کے وہاں نہانے کی غرض سے آئی ہُوئی تھی۔ اسکے بعد بھی مصیبتوں کا ایک ناختم ہُونے والا سلسلہ تھا۔جسکا شہزادے سیف الملوک نے ڈٹ کر مقابلہ کیا۔۔۔اُور یُوں شہزادے سیف الملوک اور پری بدیع الجمال کی انوکھی شادی نے دُنیا کو مسرتوں سے مالا مال کردیا۔ لیکن شہزادے سیف الملوک پر پڑنے والی مسلسل مصیبتوں اُور تکلیفوں نے اُسے انعام کی صورت میں عشق حقیقی کی جانب متوجہ کرکے عشق مجازی سے عشق حقیقی کا اسیر بنادیا۔ جسکی وجہ سے آج بھی ادب والے جس طرح بنا وضو کئے قیس و لیلیٰ کا نام نہیں لیتے ۔بالکل اِسی طرح باوضو عقیدت سے سیف الملوک اُور بدیع الجمال کا تذکرہ کرتے ہیں۔

عمران کہانی کے سحر میں کھویا ہُوا تھا۔کہ،، اچانک کوثر نے ہڑبڑا کر کہا۔ ہائے اللہ  مجھ سےیہ کیا غضب ہُوگیا۔۔۔۔ عمران بھی جھٹکے سے اُٹھ بیٹھا اُور یہاں وہاں دیکھ کر کوثر سے استفسار کرنے لگا۔کیا ہُوا کُوثر کیسا غضب ہُوگیا؟؟؟؟۔ بالما صابر پاک نے مجھے کہا تھا۔کہ،، جیسے ہی عمران سے ملاقات ہُوجائے عشق کے ساگر میں بہکنے کے بجائے اُسے جلد ہماری جانب روانہ کردینا۔ لیکن میں جنم جلی تمہاری قربت میں ایسی بہکی کہ،، باباصاحب کا پیغام تم تک پُہنچانے میں تاخیر پر تاخیر کرتی چلی گئی۔۔۔۔ خُدا خیر کرے کہیں اب صابر پاک ناراض نہ ہُوجائیں۔۔۔۔۔واقعی ہم سے بُہت بڑی غلطی ہُوگئی۔اللہ پاک مہربانی فرمائے۔ اُور صابر پاک بھی ہماری کوتاہی کو درگُزر فرمائیں۔ اب مجھے کیا کرنا چاہیئے؟ عمران نے  بھی پریشانی کے عالم میں کوثر سے سوال کیا۔۔۔۔۔۔ کرنا کیا ہے اب ایک لمحہ کی بھی تاخیر کیئے تمہیں بابا صابر کی خدمت میں حاضر ہُوجانا چاہیئے۔چونکہ یہ درویش اللہ کریم کے دوست ہیں۔اس لئے میرا دِل گواہی دے رہا ہے۔ کہ،، ذرا سی خفگی دکھانے کے بعد معافی ضرور عطا فرمادیں گے۔ کوثر  کی گفتگو نے عمران کی وحشتوں کو یقین سے بدل دیا تھا۔

جاری ہے۔۔۔

پلکوں سے دَر یار پر دستک دینا
اُونچی آواز ہُوئی عُمر کا سرمایہ گیا

جال۔ در ۔ جال۔ قسط ١٣۔ (اِقرار جُرم پہ اِنعام)۔



جال۔ در ۔ جال۔ قسط ١٣۔ (اِقرار جُرم پہ اِنعام)۔



گُذشتہ سے پیوستہ۔

توبہ اُور قربانی میں شرط نہیں رکھی جاتی کرامت صاحب بے یقینی کی دلدل سے یقین کی رسی ہی تُم کو باہر نِکال سکتی ہے۔ تُم ایک قدم بڑھاکر تُو دیکھو پھر دیکھنا وہ کریم کس طرح تُمہاری مدد کے راستے کھولتا ہے۔ بیٹی بھی مِل جائے گی۔ اُور رَب کی رضا بھی۔ مگر فیصلہ تُمہی کو کرنا ہے البتہ میں تُمہیں یقین دِلاتا ہُوں کہ اِس قربانی کے بعد آپ بے روزگار نہیں رہیں گے۔ فرقان میاں کی نئی فیکٹری میں آپ جیسے تجربے کار لوگوں کی اشد ضرورت ہے۔ اُور جہاں تک بچی کی صحت کا مُعاملہ ہے۔ تو بزرگوں کی نعلین کے صدقے میں ہم ایک ایسی دوا جانتے ہیں جو اِس مرض میں اکسیر کا مقام رکھتی ہے۔ آپ بچی چند دِنوں کیلئے ہمارے گھر چھوڑ جائیے گا۔ اللہ کریم نے چاہا تو صحت مِل جائے گی۔ کیونکہ شِفا اُسکے حُکم میں ہے دوا تُو صِرف بہانہ ہے۔ حسان صاحب نے کرامت صاحب کی تشویش کا جواب دیتے ہُوئے کہا۔

پھر آپ ہی توبہ کرادیجئے۔ تاکہ میری نئی زندگی کا آغاز آپ ہی کے آستاں سے ہُوجائے۔ کرامت صاحب کا جُملہ مکمل ہُوتے ہی حسان میاں نے وجد میں باآواز نعرہ تکبیر بُلند کردیا۔

اَب مزید پڑھیئے۔

کرامت صاحب کی توبہ عجب رنگ دِکھا رَہی تھی۔ اُنکی چودہ برس کی صاحبزادی نُوشابہ حیرت انگیز طُور پر بُہت تیزی کیساتھ رُو بَصحت ہُورہی تھی۔ بَچی کی صحت دیکھ کر فرقان کو یُوں محسوس ہُورہا تھا جیسے گُویا قُدرت کرامت صاحب کی تُوبہ کی منتظر ہُو۔ یہاں کرامت صاحب نے توبہ کی چادر سے سر کو ڈھانپا اُور وہاں حَسَّان صاحب کی سادہ سی دوائی نے اپنا رَنگ دِکھانا شروع کردیا۔

اِس مرتبہ جب شہریار مجددی کی آمد ہُوئی تُو اُنہوں نے فرقان کو خُوشخبری سُنائی کہ وہ اپنا تمام بِزنس سمیٹ کر ہمیشہ کیلئے پاکستان آچکے ہیں۔ اُور اب وہ فرقان کی مُعاونت کیلئے ہر گھڑی دستیاب ہُونگے۔ جب فرقان نے کرامت صاحب کی توبہ اُور اُنکی صاحبزادی کا واقعہ سُنایا تُو شہریار مجددی کی آنکھیں بھی نم ہُوئے بِنا نہیں رِہ پائیں۔ فرقان نے بات کرتے ہُوئے شہریار مجددی کو یہ بھی بتایا کہ میں نے حَسان صاحب کی ایما پر آپکی اِجازت کے بغیر کرامت صاحب کو فیکٹری میں منیجر کی پُوسٹ آفر کردی ہے۔ اَب اگر آپ اُنکے مُشاہرے کی رقم تجویز کردیں تو اُنہیں باقاعدہ فیکٹری کی جانب سے منیجر کی مُلازمت کی آفر کردی جائے۔۔۔۔!

فرقان کے خاموش ہُوتے ہی شہریار مجددی نے سپاٹ لہجے میں دریافت کیا،، فرقان صاحب آپکے خیال میں اُنکی کتنی تنخواہ ہُونی چاہیئے۔۔۔۔؟ شہریار مجددی کے لہجے سے ایک لمحے کیلئے فرقان کو ایسا محسوس ہُوا جیسے شہریار مجددی کو اُسکی بات پسند نہ آئی ہُو۔۔۔۔۔۔ فرقان نے جھجکتے ہُوئے کہا ،، ویسے تُو کرامت صاحب کا اِس فیلڈ میں کوئی تجربہ نہیں ہے لیکن میرے خیال میں اُنکی تنخواہ کم از کم پچاس ھزار کے قریب تُو ہونی ہی چاہیئے۔ اُور چونکہ اِس فیصلے میں مجھے آپ سے مشاورت کا موقع نہیں مِلا۔ اِس لئے اگر آپ کو اعتراض نہ ہُو تو میں چاہوں گا کہ جب تک کرامت صاحب اِس فیلڈ میں مہارت حاصِل نہیں کرلیتے ۔ اُنہیں یہ تنخواہ میرے اکاؤنٹ سے ادا کی جائے۔

میرا بھی یہی خیال ہے کہ جب تک وُہ تجربہ حاصِل نہیں کرلیتے۔ اُنہیں فیکٹری سے تنخواہ نہ دِی جائے۔ شہریار مجددی کے جُملے سے فرقان کے اندیشے کو تقویت حاصِل ہُوگئی ۔۔۔۔ حالانکہ فرقان کو اُمید تھی کہ شہریار مجددی اُسکی اِس بات پر برہمی کا اِظہار کرے گا کہ وہ کیوں تنہا کرامت صاحب کی تنخواہ کا بوجھ برداشت کرے گا ۔ ۔۔۔۔۔۔۔جبکہ کرامت صاحب اگرچہ غیر تجربہ کار ہیں۔ مگر مُلازمت تُو وہ فیکٹری میں ہی کریں گے۔ لہذا تنخواہ بھی فیکٹری کے مشترکہ اکاونٹ سے ادا کی جانی چاہیئے۔ لیکن شہریار مجددی نے اُسکے فیصلے کو ایک لمحے میں قبولیت بخش کر اُسے ورطہِ حیرت میں ڈال دِیا تھا۔۔۔۔۔!

کیا سُوچ رہے ہیں فرقان میاں۔۔۔۔؟ کہیں میرے متعلق کِسی بدگُمانی میں تُو مُبتلا نہیں ہُوگئے آپ۔۔۔۔۔؟ شہریار مجددی نے فرقان کو سُوچ میں ڈوبا دیکھ کر سوال کیا۔۔۔۔ نہیں ایسی تو کوئی بات نہیں فرقان نے اپنے چہرے پر مسکراہٹ سجانے کی کوشش کرتے ہُوئے کہا۔۔۔۔۔!شہریار مجددی نے ہنوز سنجیدگی سے فرقان کی جانب دیکھتے ہُوئے سلسلہ کلام دوبارہ شروع کرتے ہُوئے کہا۔۔۔اَرے جناب میں تُو یہ کہنا چاہتا تھا۔ کہ آپکا فیصلہ بالکل دُرست ہے کہ جب تک فیکٹری اِسٹارٹ نہیں ہُو جاتی۔ اُنکی تنخواہ کی مد میں پچاس ھزار روپیہ آپ دے دیا کریں۔ اُور چُونکہ وہ بُہت بڑی قربانی دے کر آئے ہیں۔ اُور آپ نے اُنہیں ہمارے مُرشِد و مربی کی خُواہش کے احترام میں اِس فیکٹری میں جگہ دِی ہے ۔ تو لِہذا اِس سعادت مندی سے محروم مجھے بھی نہ کیجئے گا۔ اُور پچاس ھزار رُوپیہ میری جانب سے بھی اُنہیں پیش کردِیا کیجئے گا۔ تاکہ اُنہیں کم از کم اپنے کریم آقا کی نسبت سے ہم دُونوں مِلکر سالانہ ۱۲ لاکھ روپیہ پیش کرسکیں۔کیونکہ ایسی قربانی دینا ہر کس و ناکس کے بس کی بات نہیں لیکن جِسے اللہ کریم توفیق عطا فرمادے۔۔۔ اِسلئے ایسے عظیم انسان کو کم از کم اتنا تُو دینا ہی چاہیئے کہ اُنہیں اپنے کسی فیصلے پر پچھتاوا نہ ہُو۔ شہریار مجددی کی خُوبصورت سُوچ کی وجہ سے فرقان کا مُرجھایا ہُوا چہرہ ایک مرتبہ پھر سے کِھل اُٹھا۔

کرامت صاحب کی صاحبزادی نوشابہ ۴۰ دِن تک حَسَّان صاحب کی صحبت میں رِہ کر ایسی فیضیاب ہُوئی کہ ڈاکٹرز بھی نوشابہ کی رپورٹ دیکھ کر حیران ہُوگئے۔ یہاں تک کے مُلک کے تین مشہور و معروف ڈاکٹرز نے بھی حَسَّان صاحب کی کرامت کے سبب اُنکے سامنے زانوئے تلمذ طے کردئیے۔

کرامت صاحب نے فرقان اُور شہریار مجددی کی کافی منت سماجت کی کہ اُسے اسقدر زیادہ تنخواہ نہ دِی جائے۔ کیونکہ وُہ خُود کو اس مراعات کا اِہل نہیں سمجھتا ہے ۔ لیکن فرقان و شہریار مجددی کے آگے اُسکی ایک نہ چل سکی۔ کرامت صاحب یہ بات خُوب اچھی طرح سے جان چُکے تھے کہ فرقان و شہریار مجددی صاحب کی اُن پر انعامات کی بارِش بِلاوجہ نہیں تھی۔ چُونکہ فرقان و شہریار مجددی دُونوں کی زندگی میں ہی حَسَّان میاں کے حُکم و پسندکو وہی اہمیت حاصِل تھی۔ جو ایک نہایت فرمانبردار اُولاد کے نزدیک اپنے والدین کے اِحکامات و خُواہش کی ہُوتی ہے۔۔۔۔! اُور اب یہی آتشِ عشق کا سُوز کرامت صاحب اپنے سینے میں بھی چند دِنوں سے مِحسوس کرنے لگے تھے۔

کرامت صاحب چند دِنوں سے ایک بات اُور بھی مِحسوس کررہے تھے۔ اُور وُہ یہ کہ جب سے اُنہوں نے حَسَّان صاحب کے ہاتھ پر تُوبہ کی تھی۔ اُن کے دِل میں ہمہ وقت سکینہ رہنے لگا تھا۔ جہاں پہلے اُن کی بیقراری اُنہیں رات میں کئی بار جاگنے پر مجبور کردیتی تھی۔ اب رات کو ایک پُرسکون نیند اُنکی منتظر رہنے لگی تھی۔ اگرچہ وہ اب باقاعدگی سے آذان فجر سے ایک گھنٹہ قبل تہجد کیلئے اُٹھ جایا کرتے تھے۔ مگر چند گھنٹوں کی یہ نیند بھی اُنہیں ذِہنی اُور جسمانی تھکن کے دیس سے بُہت دُور لے آئی تھی۔ اُنہیں فرقان و شہریار کی مُحبت کا قرض چُکانے کی ایک تدبیر سُجھائی دِی۔ اُور اُنہوں نے چند ایسے لُوگوں کو شہر میں ڈھونڈ نِکالا۔ جو بِزنس ایڈمنسٹریشن میں اِنفرادی اُور نُمایاں حیثیت رکھتے تھے۔ وُہ شام کو فیکٹری سے فارغ ہُونے کے بعد ایسے اِحباب کی بزم میں ایک تا دو گھنٹے کیلئے پُہنچ جاتے۔ اُور وہاں پُہنچ کر اپنی خُودی بُھلاکر ایک سعادت مند طالب کا رُوپ دَھار لیتے۔جیسے خالی جام مے کی آرزو میں جُھکا چلا جاتا ہو۔

پھر خُدا کے خاص فضل سے وُہ دِن بھی آن پُہنچا کہ ،، جسکے انتظار میں فرقان نے آٹھ ماہ تک رات و دِن کا اِمتیاز بُھلا کر مُسلسل مِحنت کی تھی۔ پیپر مِل کا اِفتتاح فرقان اُور شہریار مجددی کی شدید خُواہش پر حَسَّان صاحب نے اپنے دست مُبارک سے کیا۔ تمام شہر سے کاروباری، مذہبی ، اُور روحانی سلسلے سے منسلک افراد کو مدعو کیا گیا تھا۔ فرقان اُور شہریار ہر ایک آنے والے سے مبارکباد و دُعا وَصول کررہے تھے۔ بے شُمار لوگ حَسان میاں کے ارد گِرد دُعا و برکت کے حُصول کیلئے موجود تھے ۔ شہریار مجددی کے مُعزز گھرانے کے کافی افراد بھی اِس خُوشی کےمُوقع پر مُوجود تھے۔ مگر فرقان کی نِگاہیں بار بار فیکٹری کے صدر دروازے کی جانب اُٹھ رہی تھیں۔ اُسکی نِگاہوں کی تشنگی حَسَّان میاں سے پُوشیدہ نہ رہ سکی۔ جب بار بار فرقان کی نِگاہیں بے چینی سے مین گیٹ کا طواف کرنے لگیں تُو حَسَّان صاحب سے نہ رَہا گیا۔ وُہ فرقان کے نزدیک تشریف لا کر گُویا ہُوئے،، فرقان میاں جسکے انتظار میں آپکی نظریں دروازے پر جمی ہیں وہ تُو کب کے مِحفل میں تشریف لاچُکے ہیں۔۔۔۔۔۔!

(جاری ہے)

مُحترم قارئین کرام ،، آپ سب سے دُعاؤں کیلئے ملتمس ہُوں۔ مجھے یقین ہے کہ رمضان المبارک کی اِن بابرکت ساعتوں میں آپکے ہاتھوں کی بُلندی کے دوران میں آپکی دعاؤں کا حِصہ ضرور رہا ہُونگا۔

پلکوں سے دَرِ یار پہ دستک دینا
اُونچی آواز ہُوئی عُمر کا سرمایہ گیا

عامل کامل ابو شامل (فرنانڈس بمقابلہ ابوشامل) قسط 46.akas



گُذشتہ سے پیوستہ۔

رفیع دُدانی کے گھر میں داخل ہُوتے وقت کامل نے دانہ ثمانی کے موکل کی موجودگی کو محسوس کرکے اپنے اندر کافی حوصلہ  موجود پایا۔لیکن جونہی رفیع دُرانی کی نگرانی میں وُہ اَریبہ کے کمرے میں داخل ہُوئے شراب کی تیز بھبک  نےاِنکا استقبال کیا۔۔۔۔ بستر پر ایک ڈھانچہ نما بچی کا جسم پڑا تھا ۔جسکے نقوش اگرچہ واقعی قابل ستائش تھے۔ لیکن اُسکے کمزور جُھری ذدہ بدن کو دیکھ کر کوئی نہیں کہہ سکتا تھا۔کہ،، اُسکی عمر پندرہ برس رہی ہُوگی۔۔۔ ابو شامل نے ایک مخصوص فاصلے کے بعد کامل کومزید آگےبڑھنے سے رُوک دیا تھا۔کامل علی نے آنکھیں بند کرنے کی کوشش کی تاکہ اپنا کردار بخوبی نبھا سکے تبھی اُس کو ایسا محسوس ہُوا۔جیسے کسی نے اُسکے کلیجے کو اپنی مٹھی میں جکڑ لیا ہُو۔

کامل کے چہرے پر ایک لمحے کیلئے کرب کے آثار نمایاں ہُوئے لیکن اگلے ہی لمحے کامل نے دانہ ٗ ثمانی کے موکل اُور ابوشامل کو اپنے سامنے ڈھال بنے دیکھ کر یکلخت درد میں کمی اُور کافی سکون محسوس کیا۔۔۔ ابو شامل للکارتے ہُوئے اریبہ کی جانب کسی نادیدہ مخلوق سے مخاطب تھا۔۔۔ کمزوروں پر حملہ کردینا ،مَردوں کا شیوہ نہیں۔  اُورکم از کم ایک  شہزادے کو تو  اِس طرح کی حرکات بالکل بھی زیب نہیں دیتی۔۔۔۔ ابو شامل کی تنبیہ سے کامل کو اتنا اندازہ تو بہرحال ہُوگیا تھا۔کہ فرنانڈس کمرے میں ہی موجود ہے۔البتہ وُہ فرنانڈس کو دیکھ نہیں پارہا تھا۔دانہ ثمانی کے موکل نے کامل علی کی بے چینی کو دیکھ کر  اُسے مخاطب کیا۔رفیع صاحب کو کہو کہ،، وُہ باہر جاکر دعا کریں۔ یہاں اِنکا کام نہیں ہے۔۔۔۔ کامل نے جونہی رفیع صاحب کو باہر جانے کا اِشارہ کیا۔ وُہ پردہ کھینچ کر  خاموشی سے باہر  نکل گئے۔تبھی دانہ ثمانی کے موکل نے کامل کی آنکھوں کے سامنے  ایک چمک  سی لہرائی جس کے بعد کامل کو کمرے میں موجود فرنانڈس دکھائی دینے لگا۔

فرنانڈس واقعی ایک شہزدے کے رُوپ میں موجود تھا۔اگرچہ اُسکے چہرے کی  بناوٹ کامل کو بُہت عجیب سی محسوس ہُوئی کامل دِل میں سُوچنے لگا،، اگر فرنانڈس کے جسم سے شاہی لباس اُتار کر اِسے کرتہ دھوتی پہنا دیا جائے تو کمبخت بالکل بالی وُڈ کا ولن دکھائی دیگا۔۔۔۔۔۔ سچ کہتے ہُو۔ میں شہزادے سے ذیادہ وِلن کے رُول ہی پسند کرتا ہُوں۔ اُور عنقریب تمہارے دوست شہزادہ ابو شامل کے ساتھ بھی ایک ظالم وِلن کی طرح پیش آنے والا ہُوں، فرنانڈس نے  کامل کو دیکھ کر دانت کچکچاتے ہُوئے انگوروں کو گچھے کو بھنبھوڑ کر  کسی فلمی ولن کی نقل اُتارنے کی کوشش کی۔

فرنانڈس میں اُن لوگوں میں سے نہیں ہُوں۔جو طاقت کے نشے میں اپنے حریف کی قوت کا اندازہ لگانے میں اکثر غلطی پر ہُوتے ہیں۔ اُور میں یہ بھی جانتا ہُوں۔کہ،، تم طبیعتاً نہایت ضدی واقع ہُوئے ہو۔لیکن میں پھر بھی تم سے اتمام حجت کیلئے ایکبار اپیل کرتا ہُوں۔کہ،، صرف شباہت کی وجہ سے اریبہ کو اپنے انتقام کی بھینٹ مت چڑھاوٗ۔ اُور اِس بیچاری کا پیچھا چھوڑ دُو۔تاکہ ہم دونوں اِس فضول خُون خرابے سے بچ جائیں۔ابو شامل نے نہایت تحمل سے فرنانڈس  کو مشورہ دیتے ہُوئے کہا۔ جسکے جواب میں فرنانڈس نے ایک بُلند قہقہ لگاتے ہُوئے  ابو شامل کو تمسخر بھرے لہجے میں جواب دیا۔ کیا بات ہے شہزادے ابو شامل جنگ سے پہلے ہی اتنا ذیادہ خُوفزدہ ہُو۔؟ کہ،، ابھی تو مقابلہ شروع نہیں ہُوا۔ اُور تم نے خوف سے امن کا پرچم بُلند کردیا۔۔۔مجھے خُدا کے سِوائے کسی سے ڈر نہیں لگتا فرنانڈس۔۔۔ لیکن مجھے معلوم تھا۔کہ،، تُم میری اَمن پسندی کو بُزدلی سے ذیادہ کچھ  تعبیر نہیں دُوگے۔۔۔ چلو پھر دیر کس بات کی ہے فرنانڈس؟۔آگے بڑھو اُور مجھے ختم کرکے اریبہ پر قبضہ جمالو۔۔۔ یا پھر میں تمہیں جہنم رسید کرکے کم از کم ایک مُوذی سے تو اِس سرزمین سے پاک کردوں۔

لفظ موذی سُن کر تو جیسے فرنانڈس کے تن بدن میں آگ ہی لگ گئی تھی۔ اُور شائد ابو شامل بھی یہی چاہتا تھا۔کہ،، فرنانڈس  غصے میں بھڑک کر اُس پر حملہ کرے۔تاکہ فرنانڈس کی عقل پر غصہ غالب آجائے ۔اُور وُہ تمام احتیاط کو بالائے طاق رکھ کر اَریبہ سے کچھ لمحوں کیلئے ہی سہی لیکن دُور ہُوجائے۔ اِس لئے جونہی فرنانڈس نے ایک وحشی شیر کے رُوپ میں ابوشامل پر حملہ کیا۔ابوشامل نے بھی ایک پھرتیلے چیتے کی شکل اختیار کرتے ہُوئے وُہ جگہہ چھوڑ دی۔جسکی وجہ سے فرنانڈس کا بھاری بھرکم جسم سیدھا فرش پر آرہا ۔ اِس موقع کا فائدہ اُٹھاتے ہُوئے ابوشامل نے ایک جست لگا کر اُس شیر کی پُشت  اُور گردن کے درمیان اپنے  نوکیلے پنجے گاڑ دیئے۔۔۔ لیکن وحشی شیر نے اپنی پُوری قوت سے  چیتے کو فضا میں بُلند کرنے کے بعد زمین پر دے مارا۔ اُور اسکے بعد وُہ وحشی شیر  ابوشامل کے چیتے نما  جسم پر سوار ہُوکر اُسکے سینے کو اپنے پنجوں کی مدد سے لہولہان کرنے لگا۔کامل حیرت سے یہ خُونخوار جنگ دیکھ رہا تھا۔کہ،، ابو شامل نے پھنسی پھنسی آواز میں کامل  کو پُکار کر کہا،، کامل ہار پہنانے کا وقت آگیا ہے۔

چند سیکنڈ تک کامل کو سمجھ ہی نہیں آیا کہ ،، ابوشامل کہنا کیا چاہتا ہے۔پھر یکایک اُسے سلطان تبریزی کی بات یاد آگئی۔کہ،، جونہی اِشارہ مِلے یہ ہار اُس بچی کے گلے میں ڈال دینا۔ فرنانڈس بھی ابوشامل کے کورڈ ورڈز کی وجہ سے کچھ پریشان نظر آنے لگا تھا۔ جسکا فائدہ اُٹھاتے ہُوئے ابو شامل نے ایک پنچہ فرنانڈس کی آنکھ میں گھوپنا چاہا۔لیکن فرنانڈس کی بروقت ہُوشیاری کی وجہ سے وُہ  آنکھ تو بچانے میں کامیاب ہُوگیا۔البتہ آنکھ کے کنارے پر ایک طویل زخم ضرور نمودار ہُوگیا۔جسکی وجہ سے فرنانڈس پر ایکبار پھر وحشت سوار ہُوگئی تھی۔ اُور اَب وُہ ابو شامل کی چھاتی پر تابڑ توڑ حملے کررہا تھا۔ جیسے ہی فرنانڈس کی تمام توجہ ابوشامل پر مرکوز ہُوئی۔ کامل نے پھرتی سے رُومال کی گرہ کھول کر اُس میں سے لیمووں کا ہار نکال کر اریبہ کی گردن میں ڈال دیا۔

جونہی وُہ ہار اَریبہ کی گردن میں پُہنچا۔ دُونوں لیموں یوں جگمگانے لگے جیسے آتش فشاں سے روشنی نکل کر رات کے اندھیروں کو نگل لیتی ہے۔رُوشنی کی لہروں نے چند ہی سیکنڈ میں ایک بگولے کی  شکل اختیار کرکے اپنا حجم بڑھانا شروع کردیا تھا۔ اُور جیسے ہی   اِس بگولے کا حجم ابوشامل اُور فرنانڈس کے جسموں سے ٹکرایا۔کمرہ کربناک چیخوں سے گُونج اُٹھا۔ اِس بگولے نے انتہائی طاقت سے ابوشامل اُور فرنانڈس کے جسموں کو ہَوا میں ایسے اُچھال دیا تھا۔ جیسے اُن دونوں کے اجسام کوئی تنکے ہُوں جو آندھی میں اُڑے جارہے ہُوں۔

مزید چند لمحوں کے بعد آندھی تھم گئی۔لیکن ابوشامل اُور فرنانڈس کا کمرے میں نام و نشاں تک نہیں تھا۔۔۔۔ یہ دونوں کہاں چلے گئے؟ کامل علی نے دانہ ثمانی کے موکل سے استفسار کیا۔۔۔۔  یہ سب اِس ہار کی کرامت ہے جو تم  تم نے ابھی اریبہ کو پہنایا ہے۔ اِس ہار کی موجودگی میں کوئی جن یہاں نہیں ٹہرسکتا۔ورنہ وُہ چند پل میں جل کر خاکستر ہُوجائے گا۔ دانہ ثمانی کے موکل نے کامل  علی کے علم میں اضافہ کرتے ہُوئے بتایا۔۔۔ لیکن پھر تُم یہاں کیسے موجود ہُو۔کامل نے حیرت کا اظہار کیا۔۔۔۔۔ میں اِس لئے یہاں موجود ہُوں۔کہ،، میں کوئی جن نہیں ہُوں صرف دانہ ثمانی کا موکل ہُوں۔۔۔ تم ایسا کرو رفیع صاحب کو بُلاکر ہدایات دےدُو۔کہ،، کسی بھی صورت میں وُہ اِس ہار کو اریبہ کے جسم سے جُدا نہ کریں۔ ورنہ وُہ فرنانڈس جب تک زندہ ہے۔ہر حال میں اریبہ کے جسم پر قبضہ جمانے کی کوشش ضرور کرے گا۔

(جاری ہے)

اُسکا کہنا ہے۔ کِسی اُور کو دیکھوں نہ کبھی
کیوں کہ اُسکو یہ میرا رُوپ بُرا لگتا ہے۔

مجھکو ہر چہرے میں آتاہے نظر اِک وُہ ہی
جُو نہ بھر پائے یہ بہروُپ !!!  ۔بُرا لگتا ہے۔


Friday, 5 June 2015

جال در جال قسط ۱۲۔ (بھیگی آنکھیں خالی ہاتھ)۔



جال در جال قسط ۱۲۔ (بھیگی آنکھیں خالی ہاتھ)۔



گُزشتہ سے پیوستہ۔

آغا بابر عادی مجرم نہیں تھا۔ اُور نہ اِس سے پہلے اُسکا پولیس سا واسطہ پڑا تھا۔ بلکہ بعض پُولیس افسران تو خُود شہریار مجددی کی نسبت کیوجہ سے آغا بابر کو اِضافی پروٹوکول دِیا کرتے تھے۔ لیکن آغا بابر نے پُولیس کی چند گھنٹوں کی ابتدائی تواضع کے بعد ہی اپنے جُرم کا اقبال کرلیا۔ اُور مزید کُچھ مہمان نوازی کے بعد وُہ ساڑھے تین کروڑ روپیہ کی رقم بھی لُوٹانے پر رضامند ہُوگیا جو اُس نے مختلف حیلے بہانوں سے خُرد بُرد کی تھی۔

صرف ایک ہفتہ کے قلیل عرصے میں ڈی ایس پی اعتصام مجددی کی خاص توجہ کے باعث نہ صرف آغا بابر سے رقم بازیاب کرالی گئی بلکہ وہ تمام میٹریل بھی تاجروں نے تبدیل کردیا۔ جو دھوکہ دہی سے فرقان کی سائٹ پر جمع ہُوچُکا تھا۔ جبکہ حماد اینڈ سنز کا کوٹیشن منسوخ کرنے کے بعد فرقان کی فرمائش پر وہ ٹھیکہ ٹھیکیدار عبدالرحمن کو نئے سِرے سے دیدیا گیا۔

اَب مزید پڑھیئے۔

فرقان کا ٹھیکدار عبدالرشید کو کام دیئے جانے کا مشورہ نہایت مُفید ثابت ہُورہَا تھا۔ عبدالرشید نے سب سے پہلے فرقان کے مشورے سے نقشہ میں کچھ تبدیلیاں کروائیں۔ جسکی وجہ سے کُچھ غیر ضروری بلڈنگ کی تعمیرات کو فی الحال چھوڑ دیا گیا۔ جسکی فیکٹری کو کم از کم پانچ برس تک کوئی ضرورت ہی نہیں تھی۔ جبکہ کُچھ دیواروں کی اُونچائی اور حجم کو بھی کم کیا گیا۔ اس کے علاوہ فیکٹری کے فرنٹ ایلیویشن کو نہایت سادہ رکھا گیا۔ اِن تمام تبدیلیوں اُور آغا بابر کے کمیشن خُور ایجنٹوں سے نجات کے باعِث فیکٹری کی تعمیرات کے بجٹ میں کم از کم چالیس لاکھ روپیہ کی بچت متوقع تھی۔ عبدالرشید کے تجربے اُور اِخلاص کے باعث فرقان کو آج بھی کوئی ذہنی الجھن نہیں تھی۔ البتہ عبدالرشید کے مشورے پر فیکٹری کے تمام میٹریل کی خریداری اَب فرقان ہی کررہا تھا۔ جسکی وجہ سے تمام خام مال نہایت ارزاں قیمت پر بہترین کوالٹی کیساتھ فیکٹری کی تعمیرات میں شامل ہُورہا تھا۔ اور عبدالرشید کی خاص دلچسپی کے باعث فیکٹری کا پروجیکٹ ایک برس کے بجائے صرف آٹھ ماہ میں مکمل ہُونے کی اُمید تھی۔

تمام کام خُوش اسلوبی سے جاری تھا۔ ہر نیا دِن فیکٹری کے مکمل ہُونے کی نوید سُنا رہا تھا۔ مشینری کی خریداری شہریار مجددی کے سپرد تھی۔ کافی مشینری نصب بھی ہُوچُکی تھی ۔ لیکن چھ ماہ گُزر جانے کے باوجود بھی شہریار مجددی پاکستان شفٹ نہیں ہُو پائے تھے۔ البتہ وہ کُچھ وقت نِکال کر مہینے میں چار پانچ دِن کیلئے پاکستان ضرور آجاتے تھے۔ اُور فیکٹری کی تعمیر سے مطمئین تھے۔ فرقان کو بس ایک کمی محسوس ہُورہی تھی۔ کہ اُسکی معاونت کرنے کیلئے کوئی آغا بابر کی طرح کا ہوشیار آدمی نہیں تھا۔ جو باہر کے معاملات میں اِسکا ہاتھ بٹا سکتا۔ لیکن آغا بابر کے تجربے کے بعد فرقان بُہت ذیادہ محتاط ہُوگیا تھا۔ پھر ایک دِن اُسکے دِل میں خیال آیا کہ ،، وہ کیوں نہ حسَّان صاحب سے اِس مُعاملہ میں مدد حاصِل کرئے۔

یہی سُوچ کر اُس شام وہ حَسّان صاحب کی طرف چلدیا۔ نصف راستہ طے کرنے کے بعد جب وہ شہر کے ایک مشہور ہاسپٹل کے قریب سے گُزر رَہا تھا۔ اُسکی نِگاہ اُسی بنک منیجر کرامت صاحب پر پڑی۔ جُو کہ فرقان کے خیال کے مطابق نعمان اور فرقان کے درمیان جُدائی کا سبب بنا تھا۔ فرقان کے دِل میں جب بھی کرامت صاحب کا خیال آتا۔ تب ایک بات شِدت سے اُسکے ذہن کو اپنی گرفت میں لے لیا کرتی تھی۔ کہ کاش وہ کرامت صاحب کا مُنہ نوچ لے۔ جسکے پرپوزل کی وجہ سے اُن دُونوں دوستوں کے درمیان غیریت کی دیوار حائل ہوگئی تھی۔ کرامت صاحب کے نزدیک سے گُزرنے پر فرقان نے دیکھا کہ کرامت صاحب ایک ڈاکٹر کی منت سماجت کررَہے ہیں ۔

کرامت صاحب سے لاکھ اِختلاف کے باوجود بھی فرقان کو جُونہی یہ بات سمجھ میں آئی کہ کرامت صاحب اِس وقت کسی مشکل میں گرفتار ہیں۔ وہ اپنی طبعیت کے برخلاف وہاں سے بے رخی برت کر نہیں گُزر سکا۔ فرقان نے کار کو پارکنگ ایریا میں لگایا اور کرامت صاحب کی پریشانی جاننے کیلئے اُن کی جانب بڑھتا چلا گیا۔

کرامت صاحب سے مُلاقات کے بعد فرقان کو معلوم ہُوا کہ کرامت صاحب کی چودہ برس کی بیٹی چند ماہ سے کینسر کے مرض میں مُبتلا ہے اُور تقریباً ۳ ماہ سے اِسی ہسپتال میں زیر علاج ہے۔ کرامت صاحب کی بیٹی ہی انکی اکلوتی اُولاد تھی۔ جنہیں اب ڈاکٹرز لاعلاج قرار دے چُکے تھے۔ ڈاکٹرز کا کہنا تھا کہ کرامت صاحب کی بچی کا علاج پاکستان میں ممکن نہیں تھا۔ جبکہ کرامت صاحب کے وسائل اسقدر نہیں تھے۔ کہ وہ اپنی بچی کو علاج کیلئے بیرون مُلک لیجاسکتے۔ فرقان نے جب کرامت صاحب کی رُوداد اُنکی زُبانی سُنی تو وہ تمام اختلاف بُھلا کر کرامت صاحب کی دلجوئی کرتے ہُوئے کہنے لگا۔

کرامت صاحب آپ دلبرداشتہ نہ ہُوں انشاءَ اللہ آپکی بچی ایک دِن ضرور صحتیاب ہُوگی ۔ آپ خود بھی دُعا کرتے رہیں۔ اُور اللہ والوں سے بھی دُعا کی درخواست کرتے رہیں۔ کیونکہ جنہیں اللہ کریم سے نِسبت ہُوجاتی ہے اللہ کریم اُنکی دُعاؤں کو کبھی رد نہیں فرماتا۔ جو اپنی زندگی کا ایک ایک لمحہ اللہ کریم کی رضا کیلئے وقف کرچُکے ہُوں اللہ کریم بھی اُنکی بھیگی آنکھوں اُور اُٹھے ہُوئے ہاتھوں کی لاج ضرور رکھتا ہے۔ ویسے میں بھی اِس وقت ایک اللہ کے ولی کے آستانے پر حاضر ہُونے کی سعادت حاصِل کرنے جارہا تھا۔ اب انشاءَاللہ اُن سے کہوں گا کہ وہ آپکی بچی کیلئے ضرور دُعا کریں۔ مجھے قوی یقین ہے کہ اگر میں اُنکے ہاتھ اُٹھوانے میں کامیاب ہُوگیا ۔ تُو آپکی بچی کو اِک نئی زندگی ضرور حاصِل ہُوجائیگی۔

فرقان کی اخلاص بھری باتوں سے کرامت صاحب کا حُوصلہ بُلند ہُونے لگا تھا۔ کرامت صاحب نے تشکر کے جذبے سے فرقان کے ہاتھ دباتے ہُوئے کہا فرقان بھائی اگر آپ کی اِجازت ہُو تُو میں بھی اُنکی زیارت کا شرف حاصِل کرنا چاہوں گا۔۔۔۔۔۔؟ فرقان نے خُوشدلی سے جواباً کرامت صاحب کے ہاتھوں کو تھامتے ہُوئے کہا۔۔۔۔ کیوں نہیں کرامت صاحب آپ ضرور میرے ساتھ چلیں۔

حسَّان صاحب نے کرامت صاحب کا تعارف حاصِل کرنے اُور تمام کہانی کرامت صاحب کی زُبانی سُن لینے کے بعد دُعا کرنے سے قبل کرامت صاحب سے ایک سوال کیا۔۔۔۔ کرامت صاحب ایک بات تُو بتایئے کہ آپ جِس بنک میں مُلازم ہیں کیا اُسکے مالکوں سے لڑائی اور ضد قائم رکھنے کے بعد بھی آپ آسانی سے اُسی بنک میں اپنی مُلازمت پر قائم رِہ پائیں گے۔۔۔۔۔۔۔؟

کرامت صاحب نے حیرت سے حسَّان صاحب کی طرف دیکھتے ہُوئے کہا،، حضرت یہ کِس طرح ممکن ہے۔ یقیناً اِس تمام معاملہ میں ہار میرا مُقدر ہُوگی۔ کیونکہ جب میرے مالک ہی میرے کام سے خُوش نہیں ہُونگے تُو وہ کبھی بھی میرا وجود اپنی فرم میں برداشت نہیں کرپائیں گے۔

پھر آپ اللہ کریم کے واضح حُکم کے خِلاف جاکر اُور سُودی سسٹم کا حِصہ بننے کے باوجود یہ توقع کیوں رکھتے ہیں۔ کہ وہ کریم پروردگار جس نے آپکو عزت عطا فرمائی۔ علم عطا کیا، رزق مُہیا کیا ، اُور اُولاد کی نعمت سے نوازا،، مگر آپ نے پھر بھی اُسکا شُکر ادا کرنے کے بجائے وہ راہ اِختیار کی۔ جس راستے کو اُس پاک کریم رب نے اپنی مُخالفت کا رستہ بتایا۔ کیا آپ ظالموں اور غریبوں کے لہو سے اپنی حیات کا رِشتہ قائم رکھنے والوں کے لشکر میں شامل ہُونے کے باوجود بھی ۔ اُور اپنی تمام تر نافرمانیوں کے صلہ میں یہ اُمید رکھتے ہیں۔ کہ آپ کی زندگانی تنگ نہ ہُوگی۔ آپ کے چمن میں ہمیشہ بہار رہے گی۔ اُور خِزاں اور خار کبھی آپکا مُقدر نہیں بنیں گے۔۔۔۔۔۔؟ اُور اگر آپ ایسا ہی سُوچتے رہے ہیں۔ تو کرامت صاحب مُعاف کیجئے گا۔ پھر تُو آپ نے رازِق حقیقی کو اپنے دُنیاوی آقاؤں کی خُوشنودی سے بھی کم جاننے کا گُناہِ عظیم کیا ہے۔ ذرا دِل پر ہاتھ رکھ کر جواب دیجئے گا۔ کہ کیا آپ خُود اپنی بچی کی حالت کے زِمہ دار نہیں ہیں۔ حَسَّان صاحب نے نہایت دلسوز انداز میں کرامت صاحب کو دیکھتے ہُوئے کہا۔

کرامت صاحب کی زُباں حَسَّان صاحب کے بیاں کے آگے گنگ ہُوچُکی تھی۔ البتہ اُنکی چشم کے آبگینے مسلسل چھلک رہے تھے۔ جو یہ بتانے کیلئے کافی تھے کہ دِل کی زمین ابھی بالکل بنجر نہیں ہُوئی ہے۔ بلکہ وہ زَرا سی نمو کی منتظر ہے۔ کرامت صاحب نے چند لمحے خاموش رہنے کے بعد سسکتے ہُوئے کہا حضرت اگرچہ میری ریٹائرمنٹ میں صرف چار سال کا فاصلہ حائل ہے۔ اُور مجھے اپنے اسٹیٹس یا ریٹائرمِنٹ کی بھی پرواہ نہیں ہے۔ لیکن میں اپنی بچی کی خاطر اگر یہ قربانی دے بھی دُوں۔ تب بھی میں عُمر کے اُس حصے سے گُزر رَہا ہُوں۔ جہاں نہ میرا ناتواں جسم مزدوری کے قابل ہے اُور نہ ہی مجھے کوئی ہُنر آتا ہے کہ جس سے اپنے گھر والوں کی کفالت کرسکوں۔۔۔۔۔؟ تمام زندگی میں کُچھ معمولی سی رقم ہی پس انداز کرپایا تھا۔ یا بیگم کے زیورات تھے۔ مگر وہ بھی بچی کی بیماری کے نذر ہوچُکے ہیں۔ ڈرتا ہُوں کہ کہیں میری تُوبہ اُور میری قُربانی میرے اپنوں کے گلے کا پھندہ نہ بن جائے اُور میں پچھتاوے کے بِحر بیکراں میں گرفتار ہُو کر نہ رِہ جاؤں۔

توبہ اُور قربانی میں شرط نہیں رکھی جاتی امتیاز میاں۔ بے یقینی کی دلدل سے یقین کی رسی ہی تُم کو باہر نِکال سکتی ہے۔ تُم ایک قدم بڑھاکر تُو دیکھو پھر دیکھنا وہ کریم کس طرح تُمہاری مدد کے راستے کھولتا ہے۔ بیٹی بھی مِل جائے گی۔ اُور رَب کی رضا بھی۔ مگر فیصلہ تُمہی کو کرنا ہے البتہ میں تُمہیں یقین دِلاتا ہُوں کہ اِس قربانی کے بعد آپ بے روزگار نہیں رہیں گے۔ فرقان میاں کی نئی فیکٹری میں آپ جیسے تجربے کار لوگوں کی اشد ضرورت ہے۔ اُور جہاں تک بچی کی صحت کا مُعاملہ ہے۔ تو بزرگوں کی نعلین کے صدقے میں ہم ایک ایسی دوا جانتے ہیں جو اِس مرض میں اکسیر کا مقام رکھتی ہے۔ آپ بچی چند دِنوں کیلئے ہمارے گھر چھوڑ جائیے گا۔ اللہ کریم نے چاہا تو صحت مِل جائے گی۔ کیونکہ شِفا اُسکے حُکم میں ہے دوا تُو صِرف بہانہ ہے۔ حسان صاحب نے کرامت صاحب کی تشویش کا جواب دیتے ہُوئے کہا۔

پھر آپ ہی توبہ کرادیجئے۔ تاکہ میری نئی زندگی کا آغاز آپ ہی کے آستاں سے ہُوجائے۔ کرامت صاحب کا جُملہ مکمل ہُوتے ہی حسان میاں نے وجد میں باآواز نعرہ تکبیر بُلند کردیا۔

(جاری ہے)

مُحترم قارئین کرام ،، آپ سب سے دُعاؤں کیلئے ملتمس ہُوں۔ مجھے یقین ہے کہ رمضان المبارک کی اِن بابرکت ساعتوں میں آپکے ہاتھوں کی بُلندی کے دوران میں آپکی دعاؤں کا حِصہ ضرور رہا ہُونگا۔

پلکوں سے دَرِ یار پہ دستک دینا
اُونچی آواز ہُوئی عُمر کا سرمایہ گیا