bing

Your SEO optimized title page contents

Pages

.

.

Sunday, 28 April 2013

دُعا کرانا کمال نہیں! لینا کمال ہے۔



جلیل القدر انبیاٗ کرام علیہم السلام میں سیدنا ابراہیم علیہ السلام کا اِسم مبارک بُہت نمایاں ہے۔ جہاں آپ کی ایک خصوصیت بُت شکنی ہے۔ تو دُوسری طرف آپکی مہمان نوازی بھی بُہت مشہور ہے۔ اُور   آپکا یہی وصف آپکے صاحبزادگان سیدنا اسماعیل علیہ السلام میں بالعموم اُور سیدنا اسحق علیہ السلام میں بالخصوص نمایاں نظر آتا ہے۔

حضرت اسحاق علیہ السلام کی زُوجہ حضرت حمصہ سے آپکے دُو جڑواں بیٹے پیدا ہُوئے۔  جنکی ولادت پہلے ہُوئی وُہ عیص کہلائے۔ جب کہ بعد میں پیدا ہُونے والے بچے کو اِسی نسبت سے یعقوب کہا گیا۔ یعقوب عقب سے نِکلا ہے۔ یعنی بعد میں آنے والا۔۔۔ حضرت عیص کے تمام جسم مُبارک پر کثرت سے بال پیدا ہُوتے تھے۔ اُور آپ کا پیشہ شِکار تھا۔۔ جبکہ حضرت یعقوب علیہ السلام جو کہ حضرت یوسف علیہ السلام کے والدِ ماجد ہیں۔ بکریاں اُور بھیڑیں  چَرایا کرتے تھے۔۔۔ حضرت عیص کی جانب سیدنا اسحق علیہ السلام کے دِل کا میلان ذیادہ تھا۔۔۔ جب کہ سیدنا یعقوب علیہ السلام اپنی والدہ کو ذیادہ عزیز تھے۔

ایک مرتبہ جب کہ،، سیدنا اسحق علیہ السلام کی عُمر مُبارک ۱۹۰ برس سے زائد ہُوچُکی تھی۔ اُور آپکی بصارتِ ظاہری کافی کمزور پڑچکی تھی۔۔۔ آپ نے حضرت عیص سے باآواز بُلند فرمائش کی۔کہ،، آج تُم شِکار پر جاوٗ۔ اُور میرے لئے کوئی لذیز سا سالن تیار کرو۔ تاکہ میں خوش ہُو کر آج  وُہ خاص دُعا تُمہارے لئے اپنے پروردیگار سے طلب کروں۔ جو کہ ،، ہر نبی علیہ السلام کو  اللہ کریم کی جانب سے خاص اختیار کے ساتھ مِلتی ہے۔۔۔ (ہمارے پیارے آقا علیہ السلام نے وہی دُعا دُنیا میں مانگنے کے بجائے اپنی اُمت کی خاطر بروز مِحشر کیلئے بچا رکھی ہے۔ تاکہ ،، اُمت کی مغفرت کے لئے مانگی جاسکے۔)

سیدنا اسحق علیہ السلام  چونکہ اللہ کریم کے برگزیدہ  نبی ہیں۔ اِسلئے آپ نے یہ بات حضرت عیص کے کان میں کہنے کے بجائے با آواز بُلند کہی۔ تاکہ،، جس کے مقدر میں وُہ دُعا ہُو۔ وُہ اِس دُعا کو حاصل کرلے۔ اگرچہ آپکی دِلی خُواہش یہی تھی۔کہ،، آپ وُہ خاص دُعا حضرت عیص کے لئے فرمائیں۔ جب حضرت عیص شِکار کیلئے روانہ ہُوگئے۔۔۔ تب حضرت یعقوب علیہ السلام کی والدہ ماجدہ نے اُن سے فرمایا۔ کہ،، اے لخت جگر مجھے لگتا ہے کہ آج تُمہارے بابا جان عیص کیلئے نبوت کی دُعا کا اِرادہ رکھتے ہیں۔ لِہذا تمہیں بھی چاہیئے کہ،، اِس دُعا کیلئے کوشش کرو!


چُنانچہ سیدنا یعقوب علیہ السلام نے اپنی والدہ ماجدہ کے حُکم پر اپنے ریوڑ سے ایک بکری کو ذِبح فرمایا۔ پھر اُسکی دستی سے بہترین اُور لذیز سالن تیار فرمایا۔ چونکہ سالن ایک اللہ کے بنی علیہ السلام کیلئے تیار کیا جارہا تھا۔ اُور تیار کرنے والے بھی اللہ کریم کے ایک نبی علیہ السلام تھے۔ اِس لئے نہایت ہی لذیز سالن تیار ہُوگیا۔ حضرت یعقوب علیہ السلام کو والدہ کی جانب سے حُکم مِلا کہ،، کھانا سیدنا اِسحق علیہ السلام کے سامنے رکھنے کے بعد خاموشی سے بکری کی کھال پہن کر اِن کے نذدیک بیٹھ جانا۔

لِہذا سیدنا یعقوب علیہ السلام نے اپنی والدہ ماجدہ کے ایما پر بالکل ویسا ہی کیا۔ جیسا کہ،، آپکی والدہ طیبہ طاہرہ کی خاہش تھی۔۔۔ جب کھانا سیدنا اسحق علیہ السلام کے سامنے پروس دِیا گیا۔۔۔ تو آپکی والدہ ماجدہ نے کھانا کھانے کیلئے کہا۔۔۔ سیدنا اسحق علیہ السلام نے آواز دیکر کہا،، کیا عیص  اتنی جلدی شکار سے واپس لُوٹ آیا ہے۔۔۔؟؟؟۔ حضرت یعقوب علیہ السلام کو والدہ گرامی نے تاکید فرمائی تھی۔ کہ،، جب تک اِسحق علیہ السلام دُعا سے نواز نہ دیں۔ اپنے بابا جان سے گفتگو مت کرنا۔ لہذا سیدنا اِسحق علیہ السلام نے وُہ لذیز بکری کا سالن تناول فرمایا تو بُہت خوش ہُوئے۔۔۔ اُور اِرشاد فرمایاکہ،، اے میرے بیٹے میرے نذدیک آجا۔۔۔ تاکہ،، میں تجھے دُعا دے سکوں۔

جب سیدنا یعقوب علیہ السلام نذدیک آئے۔ تو سیدنا اِسحق علیہ السلام نے محبت سے سیدنا  یعقوب علیہ السلام کے جسم مبارک پر ہاتھ پھیرا۔۔۔ اُسکے بعد آپ نے  وُہ تاریخی جُملہ اِرشاد فرمایا۔۔۔  کہ،، اے میرے بیٹے اگرچہ تونے حُلیہ تو عیص جیسا بنالیا ہے۔۔۔ لیکن تیرے بدن سے یعقوب کی خُوشبو آرہی ہے۔۔۔(( میرے بیٹے دُعا کرانا کمال نہیں ہے۔۔۔ بلکہ دُعا لینا کمال ہے)) پھر آپ نے خُوش ہُوکر سیدنا یعقوب علیہ السلام کیلئے نبوت کی دُعا فرمائی۔۔۔ جب عیص شِکار سے واپس لُوٹے تو اُنہیں والدہ کی زُبانی عِلم ہُوا۔کہ،، وُہ جس دُعا کو حاصل کرنے کیلئے شِکار پر گئے تھے۔ وُہ دُعا تو یعقوب حاصل کرچکے ہیں۔۔۔ تو حضرت عیص غضبناک ہُوکر بھڑک اُٹھے۔ حالانکہ سیدنا اِسحق علیہ السلام نے  عیص کو بھی کثرت اُولاد کی دُعا سے نواز دِیا۔ لیکن عیص کے دِل کی آگ سرد نہ ہُوسکی۔ جسکی وجہ سے سیدنا اِسحق علیہ السلام 
نے یعقوب علیہ السلام کو ہجرت کا حکم فرمایا۔۔۔ اُور آپ والد  گرامی کے شہر  ظاہری وِصال کے بعد  ہی واپس تشریف لا ئے۔


یہی وُہ جملہ تھا۔جسکو پڑھنے کے بعد میرے دِل  کی دُنیا زِیر و زَبر ہُوگئی ۔۔۔ اُور میرے دِل میں کئی دِن سے یہ خاہش پیدا ہُورہی تھی۔ کہ میں جلد از جلد یہ قصہ اپنے قارئین کرام کی بصارت کی نذر کردوں۔کیوں کہ،، اِس واقعہ میں ایک زبردست نصیحت موجود ہے۔۔۔ جو میرے نذدیک زندگی کا اصل مقصد ہے۔۔۔ یعنی دُعا حاصل کرنا۔۔۔ اوُر  دِل سے دُعا تب ہی نِکلتی ہے۔ جب کوئی اپنی راہ چھوڑ کر دوسرے کی خوشی حاصل کرنے کو ترجیح دیتا ہے۔ اِس دُعا کو حاصل کرنا چاہتے ہیں۔۔۔۔۔؟؟؟ تو کسی بوڑھے ، معذور،یا اندھے کو راستہ پار کرا کر دیکھئے۔ یا کسی بھوکے کو ایسے کھانا کھلایئے ۔ جیسے کہ،، وُہ آپکا مُرشِد زادہ ہو۔ کسی دکھی انسان کو چند میٹھے بُولوں سےہمت دِلا کر دیکھئے۔۔۔ کسی کی مشکل میں کام آکر دیکھئے۔۔۔ کسی سفید پُوش کا بھرم بچا کر دیکھئے۔۔ کسی کی عزت بچا کر دیکھئے۔۔۔ کسی کو زندگی کی نوید سُنا کر دیکھیئے۔ کسی کو صبح نو کی آمد دِکھا کر دیکھیئے۔ کسی مفلس کو شرمندگی سے بچا کر دیکھئے۔ کسی کے دفتری کاموں میں سہارا بن کر دیکھیے۔۔۔ کسی مظلوم کو اُسکا حق دِلا کر دیکھئے۔۔۔ کسی یتیم کے سر پہ ہاتھ رکھ کر دیکھیئے۔ کسی بیوہ کے سر پہ عزت کی چادر ڈال کر دیکھئے۔۔۔ کسی غریب کی بچی کا گھر بَسا کر دیکھئے۔۔۔۔ پھر دیکھئے گا۔۔۔ کہ،، دُعا کرانے میں۔ اُور دُعا لینے میں کیا فرق ہُوتا ہے۔

کھانا کِھلا کر دُعا حاصل کرنا سیدنا اِسحق علیہ السلام کی سُنت مبارکہ ہے۔ جسکی یاد میں اُولیائے کاملین نے سالانہ، ماہانہ، اُور ہفتہ وار لنگروں کا اجراء کیا۔۔۔ تاکہ بھوکے لُوگوں کو کھانا کِھلا کر اُنکی دُعاوٗں کو سمیٹا جاسکے۔۔۔ اِس لئے خانقاہی نظام چاہے کسی بھی سلسلے سے تعلق رکھتا ہُو۔ وُہاں مسکینوں کا کھانا کھلانا۔ اور لوگوں کی خیر خواہی کے جذبے کو سب کاموں سے ذیادہ اہمیت دِی جاتی ہے۔


حضرت ابودرداء (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) کہتے ہیں کہ رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جو مسلم اپنے مسلمان بھائی کے لئے غائبانہ دعا کرتا ہے تو وہ قبول کی جاتی ہے۔ دعا کرنے والے کے سر کے قریب ایک فرشتہ متعین کر دیا جاتا ہے جب وہ اپنے مسلمان بھائی کے لئے بھلائی کی دعا کرتا ہے تو وہ متعین شدہ فرشتہ کہتا ہے کہ اے اللہ اس کی دعا قبول کر اور (یہ بھی کہتا ہے کہ ) تیرے لئے بھی ایسا ہی ہو۔ (صحیح مسلم، و مشکواۃ شریف)

یا رَبِّ مُصطفےٰ بطُفیل مصطفٰے  عزوجل و صلی اللہ علیہ وسلم۔ ہمیں بھی وُہ دُعا حاصِل کرنے کی توفیق عطا فرما۔ ۔۔ جِسے پانے کیلئے زُبان حال سے کہنا نہیں پڑتا۔ بلکہ جوہمارے  ایک اچھے عمل کی وجہ سے    ہمارے دُوسرے مسلمان بھائی کے دِل سے خُوشی کی حالت میں خُود بخود نِکل جاتی ہے۔۔۔۔
آمین آمین آمین۔۔۔۔ بجاہِ النبی الکریم و صلی اللہ تعالی علیہ وَ آلہ وَ اصحابہ وبارک وسلم۔ 

اِس مضمون کی تیاری میں تفسیر نعیمی سے مدد حاصل کی گئی ہے۔

Saturday, 27 April 2013

فیضانِ اِسمِ اعظم ۱۹۔ مسائل نہیں وسائل۔


آج دُنیا بھر میں جہاں  کہیں بھی دیکھیں۔ مسلمانوں سے ذیادہ پریشان حال، زِیر عتاب، مشکلوں کا شِکار کوئی اُور نظر نہیں آتا۔ جو صاحب استطاعت لُوگ ہیں۔ جنہیں  بظاہر کوئی معاشی پریشانی لاحق نہیں ہے۔ اگر اُن سے بھی سُوال کیا جائے ۔ تو معلوم ہُوتا ہے۔کہ،، دُنیا بھر کی آسائشیں موجود ہونے کے باوجود قلبی سکون تو اِن لوگوں کو بھی مُیسر نہیں ہے۔۔۔ لیکن آخر ایسا کیوں ہے۔ تمام اُمتوں میں خیرِ اُمت کا لقب پانی والی قُوم کی جگہ جگہ تذلیل کا آخر سبب کیا ہے۔۔۔؟؟؟ یہ ایک ایسا سُوال ہے۔کہ،، جسکا جواب ہر ایک ذِی شعور مُسلمان جانتا ہے۔۔۔لیکن۔۔۔ اِس جواب سے پہلوتہی برتتے ہُوئے بے نِشان منزل کی جانب خومخواہ بڑھتا چلا جاتا ہے۔۔۔ کیوں کہ،، آج کا مسلمان جس قدر بے عملی کا شِکار ہے۔ اُسکی نظیر ظہورِ اِسلام سے لیکر چند دِہائیوں قبل تک نہیں مِلتی۔۔۔۔ اللہ کریم نے جس قدر مسلمانوں پر احسانات فرمائے۔ جتنی آسانیاں مسلمانوں کو اپنے مدنی محبوب صلی اللہ علیہ وسلم کی نعلین پاک کے تصدق میں عطا کی ہیں۔۔۔ اُس کے شُکرانے میں ہُونا تو یہی چاہیئے تھا۔ کہ ،، ہم سب قُوم نوح علیہ السلام کی اُس بڑھیا کی خُواہش کی پیروی کرتے ہُوئے اپنی تمام عُمر سجدہ شکر بجالانے میں بسر کردیتے۔۔۔ لیکن تمام اقوام سے کم عُمر پانے کے باوجود ہماری دُنیا کیلئے کوششیں ایسے ہیں۔ جیسے ہمیں کبھی اِس دُنیا سے ہجرت ہی نہیں کرنی ہُو۔ یہ زمین ہی ہماری دُنیا ہُو۔ یہ زمین ہی ہماری جنت ہُو۔

مجھے وُہ راجگیر آج بھی یاد ہے۔ جِسے تین برس ساتھ رہنے کے باوجود بھی میں نے کبھی مغموم نہیں دیکھا۔ اُسکے چہرے اُور جسم کی پھرتی کو دیکھ کر کبھی لگتا ہی نہیں تھا۔ کہ،، وُہ پنسٹھ برس کا بوڑھا انسان ہے۔ جب میں نے اُسکی طمانیت اُور خُوشگوار زندگی کا سبب جاننے کی کوشش کی ۔۔۔ تو اُس نے بڑی سادگی سے مسکراتے ہُوئے کہا تھا۔کہ،، مجھے یقین ہےکہ،، میرا پروردیگار مجھ سے بے پناہ محبت کرتا ہے۔ سُو جو محبت سے جتنا دے۔ وہی مُناسب ہُوتا ہے۔ شکوہ کرنے سے محبت کرنے والے کی توھین  کا پہلو نِکلتا ہے۔ اِس لئے مجھے دُنیا کی دُوڑ میں شامل ہُونے کا کبھی خیال نہیں آتا۔ وُہ محبت سے جو جو عطا کرتا جاتا ہے۔ میں خوشی خوشی اپنے دامن میں سمیٹتا چلا جاتا ہُوں۔ اُور وُہ جِس جِس چیز سے مجھے  روکے رکھتا ہے۔ میں رُک جاتا ہُوں۔۔۔ اُور یہ یقین رکھتا ہُوں۔کہ،، اگر اُس شئے میں میرے لئے ذرا سا بھی فائدہ ہُوتا۔ تو وُہ کریم مجھے اِس سے ہرگز محروم نہیں رکھتا۔ کیونکہ،، وُہ جیسی بے مِثال محبت اپنے بندُوں سے کرتا ہے۔ اُسکی نہ کوئی مِثل ہے۔ نہ کوئی دُنیا میں ایسا پیمانہ ہے۔ جو اُس پاک ذات کی بندوں سے محبت کو ماپ سکے۔ میں جب بھی اُس راجگیر کے متعلق سُوچتا ہُوں۔ تو مجھے ایک ہی بات سمجھ آتی ہے۔ کہ ،، اُسکے یقین نے اُسے ضرور مقام ولایت پر پُہنچادیا تھا۔

اللہ  کریم قرانِ مجید میں واضح طُور پر اِرشاد فرماتا ہے۔
 وَمَنۡ اَعۡرَضَ عَنۡ ذِكۡرِىۡ فَاِنَّ لَـهٗ مَعِيۡشَةً ضَنۡكًا
اور جس نے میری یاد سے منہ پھیرا تو بیشک اس کے لیے تنگ زندگانی ہے۔
ترجمہ کنزالایمان سورہ طہ آیت نمر ۔۱۲۴

محترم قارئین کرام  بعض مفسرین کرام علیہ الرحمہ اِس آیت کی تفسیر کرتے ہُوئے بیان فرماتے ہیں۔ کہ ،، خُدا کے ذکر سے مُنہ مُوڑنے والا انسان نا صِرف دنیاوی زندگی میں تنگی کا شکار رہے گا۔ بلکہ اُسکی برزخی زندگی بھی انتہائی تکلیف دِہ ہُوگی۔۔۔ اب ذرا سُوچئیے۔کہ،، یہ دُنیاوی زِندگی جو پچاس سے لیکر سُو برس تک محیط ہُوسکتی ہے۔ کسی نا کسی طرح گُزر ہی جاتی ہے۔ لیکن برزخی زِندگی جو ہزاروں برس پر بھی محیط ہُوسکتی ہے۔ اگر وَہاں بھی ذکرِ اللہ سے رُو گردانی کے سبب  چین نہ مِلا۔ تو ہم وُہ ہزاروں برس کی زندگی بھی اللہ کریم کی ناراضگی کے سبب تکلیف و مصیبت  کی حالت میں گزارنے پر مجبور ہُوں گے۔ کیا ہمارے نرم و نازک جسم اُس  عذاب کو برداشت کرنے کے متحمل ہُوسکتے ہیں۔۔۔۔؟؟؟  یقیناً نہیں ہُوسکتے۔۔۔ تو کیوں نہ ہم اپنی زندگی کو اللہ کریم کی اطاعت اُور اُسکے اسمائے مبارک کی رحمتوں اُور برکتوں کے سائے میں گُزاریں۔۔۔ تاکہ دُنیاوی زِندگی کا سفر بھی آسانی سے طے ہُوجائے ۔ اُور برزخی زِندگی میں بھی کامیابی ہمارے قدم چُومے۔۔۔ اِن دُنیاوی مشکلوں کا سامنا کرنے کیلئے اللہ کریم کے اسمائے مُبارک سے مُرتب کئے ہُوئے چند وطائف پیش خدمت ہیں۔۔۔ جنکی برکتوں سے ایک زمانہ فیضیاب ہُورہا ہے۔

یا وَھَّابُ یا  وکِیلُ یا حَسِیبُ اَرشِدنِی۔
کوئی بھی رُکا ہُوا کام ہُو۔ ویزہ کے حصول کیلئے۔ اُور بند گلی میں راستہ بنانے کیلئے بھی نہایت پُر تاثیر وظیفہ ہے۔


یا عَلِیمُ عَلِّمنِی یا خَبِیرُ اَخبِرنِی یا رَشِیدُ اَرشِدنِی۔
عِلم کے حصول،  اِمتحان کی تیاری ،عرفان و آگہی کیلئے، اُور حافظہ قوی کرنے کیلئے بے مِثال وظیفہ ہے۔


یا لَطِیفُ یا کریمُ  یا قَدِیرُ اَرشِدنِی۔
رشتہ، نکاح، اُور من پسند شادی کیلئے۔


یا وَدُودُ یا حَسِیبُ یا عَزِیزُ یا وَکِیلُ۔
میاں بیوی میں محبت کیلئے۔
ہر نماز کے بعد ۷۷ بار ۔۔۔  دُوستوں اور گھر والوں کیلئے بھی پڑھیں ۔جمعہ کو ایک ہزار مرتبہ پڑھ کر چینی اُور نمک پر دَم کردیں۔ اور گھر کے چینی اور نمک کی ڈبیہ میں اِسے شامل کردیں۔ جیسے ہی چینی یا نمک ختم ہُونے کے قریب ہُو۔ مزید چینی، یا نمک ڈال کر ڈبیہ کو پھر سے بھر دیں۔ تین جمعہ تک پڑھتے رہیں۔ انشا اللہ سب کے درمیان محبت قائم ہُوجائے گی۔ اس کے ذریعہ سے ساس بہو، نند بَھابی کی چپقلش پر بھی قابو پایا جا سکتا ہے۔


یا کَبِیرُ یا قَدِیرُ یا رَشِیدُ اَرشِدنِی۔
اُولاد کیلئے۔ رات کو بستر پر جانے کے بعد سب سے پہلے باوضو حالت میں یہ وظیفہ پڑھیں۔ اسکے بعد خُوب دُعا کریں۔ انشااللہ الکریم من کی مُراد پُوری ہُوگی۔ جب حمل واضح ہُوجائے تو بچے کی حرکت  محسوس ہُونے پر وَہاں اُنگلی رکھ کر کہیں کہ۔ میں نے اِسکا نام محمد رکھا۔ انشا اللہ الکریم بیٹا ہی پیدا ہُوگا۔


یا اللہ یا رَحمٰنُ یا رَحِیمُ اَرشِدنِی۔
دِل میں نُور پیدا کرنے کیلئے۔ معرفت کی راہ پر قدم رکھنے کیلئے انتہائی مجرب ہے۔


یا سَلامُ  یا بَرُّ یا رَوٗفُ یا کَرِیمُ۔
بیماری سے نجات حاصل کرنے کیلئے۔ رات کو سُوتے وقت ۱۳۱ مرتبہ مریض، پانی اُور تسبیح پر دَم کریں۔ پانی مریض کو پِلائیں بھی، اُور اُسکے چہرے پر چھڑکیں بھی۔ تسبیح کو مریض کے سرہانے رکھ دیں۔ انشا اللہ بُہت جلد صحتیاب ہُوگا۔


یا عَزِیزُ یا وَھَّابُ یا رَشِیدُ یا وَکِیلُ۔
مقدمے میں کامیابی کیلئے۔


یا رَزَّاقُ  یا وَھَّابُ یا سُبحانُ یا عَلِیُّ

رِزق میں برکت کیلئے ہر نماز کے بعد ۱۰۰ مرتبہ یا ۵۱ مرتبہ پڑھیں۔


یا مُتَکَبِّرُ یا قَہَّارُ یا جَبَّارُ  یا عَزِیزُ اَرشِدنی۔
دُشمن کے ظُلم سے محفوظ رکھنے کیلئے۔

جِن وظائف میں پڑھنے کی تعداد موجود نہیں ہے۔ اُنہیں ہر نماز کے بعد ۴۱ یا بحالتِ مجبوری ۲۱ مرتبہ پڑھ سکتے ہیں۔

دُعا کرائی نہیں جاتی۔۔۔ بلکہ اپنے عَمل سے لی جاتی ہے۔۔۔۔ مخلوق خدا سے محبت کیجئے ۔ غُربا کا خیال رکھیں۔۔۔ تاکہ اُس دُعا کا حصول ممکن ہُو۔ جو دِل سے خُود بخود نکل جاتی ہے۔( اگر کسی  معاملہ میں اِسم اعظم کی کمی نظر آئے۔ تو کمنٹ باکس میں لکھ دیجئے گا۔ میں اللہ کریم کی توفیق سے شامل مضمون کردونگا۔۔۔۔ ) یا ربَّ العالمین اپنے مدنی محبوب ﷺ کی نعلین کے تصدق میں میری اِس کوشش کو قبول فرما۔ اُور مجھ سے جِس جِس نے بھی دُعا کے واسطے کہا۔ تو اپنے خاص فضل سے اُن سب کے دامنوں کو  گوھرِ مُراد سے بھرتے ہُوئے۔ اُنہیں دارین کی بھلائیاں عطا فرمادے۔آمین بِجاہِ النبی الکریم وصلی اللہ تعالی علیہ وَ آلہ واصحابہ وَ اولیائے مِلتہِ اجمعین۔

آپکا عشرت اقبال وارثی۔


Friday, 26 April 2013

توسل۔ استغاثہ استمداد قسط 2 ابو السعد مفتی بلال رضا قادری دامت برکاتہم عالیہ


گزشتہ مضمون سے جب اس بات کااثبات ہوگیا کہ مسلمان جب اللہ تعالی کے علاوہ کسی بندے کی طرف کسی کام کی نسبت کرے تو وہ کلام مجازی ہوتاہے۔ حقیقت نہیں ہوتا۔ کیونکہ ایک مسلمان کا یہی عقیدہ ہوتاہے۔ کہ،، حقیقی تاثیر اللہ ہی پیدا  فرماتا ہے ۔یہ بندہ تو فقط سبب (وسیلہ) بن رہا ہے ۔اور اس طرح کلام کرنا جائز ہے۔ اور قرآن کریم سے ثابت ہے ۔
لیکن ذہن میں ابھرتا ایک سوال کہ ،،کیا قرآن مجید میں  اور احادیث طیبہ  میں وسیلہ اور استغاثہ پر صراحت کے ساتھ  کوئی دلیل موجو دہے۔۔۔ ؟
تو آئیے رب تعالی کے فرمان مبارک کو پڑھیں  اور شیطانی وَسوسُوں اُور   شبہات کو زائل کیجئے۔
تو سل  کی دلیل نمبر1
پروردگار عزوجل ارشاد فرماتا ہے
یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللہَ وَابْتَغُوۡۤا اِلَیۡہِ الْوَسِیۡلہ وَجٰہِدُوۡا فِیۡ سَبِیۡلِہٖ لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُوۡنَ ﴿۳۵
اے ایمان والو اللّٰہ سے ڈرو اور اسکی طرف وسیلہ ڈھونڈو  اور اس کی راہ میں جہاد کرو اس امید پر کہ فلاح پاؤ۔
سورہ المائدہ آیت نمبر35

تشریح:
قرآن عظیم کی اس آیت مبارکہ  میں رب تعالی نے ’’مطلق وسیلہ  تلاش  کرنے ‘‘ کا حکم ارشاد فرمایا ہے کسی قید کے ساتھ نہ فرمایا کہ صرف اعمال کا وسیلہ تلاش کرو  ۔۔۔بندوں کا نہ کرو ۔۔۔یا۔۔۔زندہ کا وسیلہ تلاش کرو مردہ کا نہ کرو۔۔۔بلکہ مطلق حکم دیا  کہ جو اعمال اللہ کے ہاں مقبول ہو ں یا جو بندے اللہ کے ہاں مقبول ہوں ۔۔۔کسی کا بھی و سیلہ اختیار کرلو رب تم کو اس وسیلے کے ذریعے فلاح پانے والوں میں داخل فرمادےگا۔
 اس آیت کریمہ  میں وسیلہ کی تمام اقسام  کی طرف اشارہ ہے  اور اس آیت قرآنی کا یہ اعجاز ہے کہ یہ وسیلہ کی تمام اقسام کو خُود میں سَموئے ہُوئےہے ۔

توسل کی ابتداء دو اقسام  ہیں
(۱)توسل لقرب اللہ تعالی             (۲)توسل  فی الدعاء
(۱)توسل لقرب اللہ تعالی            :اللہ کا قرب حاصل کرنے کے لئے کسی  وسیلہ کو اختیار کرنا۔
(۲)توسل  فی الدعاء: حاجت یا پریشانی کے حل کے لئے کسی نیک عمل یا نیک ہستی  کا وسیلہ دینا ۔تاکہ اللہ تعالی اس  وسیلہ کی بدولت  مُراد پوری فرمائے ۔

(۱)توسل لقرب اللہ تعالی
اللہ کا قرب حاصل کرنے کے لئے کسی  وسیلہ کو اختیار کرنا۔
پھر اس کی دو قسمیں ہیں(۱)توسل بالعبادۃ (۲)توسل بالذات

(۱)توسل بالعبادۃ
یعنی عبادات ونیک اعمال کے ذریعے اللہ کا قرب حاصل کرنا اور اللہ کے نیک بندں میں شامل ہونا۔
دلیل نمبر
2:
یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوا اسْتَعِیۡنُوۡا بِالصَّبْرِ وَالصَّلٰوۃِ ؕ اِنَّ اللہَ مَعَ الصّٰبِرِیۡنَ
اے ایمان والو صبر اور نماز سے مدد چاہو  بیشک اللّٰہ صابروں کے ساتھ ہے۔
سورہ البقرۃ  آیت 153

تشریح:
اس آیت کریمہ میں  رب تعالی نے  توسل  لقرب اللہ تعالی ا ور توسل   فی الدعا د ونوں کا حکم ارشاد فرمایا ہے کہ عبادات کے ذریعے اللہ کا قرب حاصل کرو اور پنی دفع حاجات  کے واسطے نیک اعمال کے وسیلے سے دعا مانگو رب تمہاری دعاوں کو کو جلد قبول فرمائے گا۔

(۲)توسل بالذات
یعنی اللہ کے نیک بندوں کی صحبت اختیار کرنا ۔۔۔تاکہ وہ اس کو شریعت کے  احکام ظاہریہ (نماز ۔روزہ  وغیرہ)واحکام باطنیہ(عبادات میں خشوع و خضوع لانے کے طریقے اورآداب) سیکھائیں۔ اور یو ں اس بندے کی صحبت اختیار کرنے سے دین کا علم اور دین پر عمل نصیب ہواور اس  طرح یہ مرشد  و رَہنما اس کو اللہ کے قریب کرے ۔
قرآن کریم میں ایسے لوگوں کی صحبت اختیا کرنے کا حکم ارشاد فرمایا  چنانچہ حکم ربانی عزوجل  ہے

دلیل نمبر3:
وَاصْبِرْ نَفْسَکَ مَعَ الَّذِیۡنَ یَدْعُوۡنَ رَبَّہُمۡ بِالْغَدٰوۃِ وَالْعَشِیِّ یُرِیۡدُوۡنَ وَجْہَہٗ وَ لَا تَعْدُ عَیۡنَاکَ عَنْہُمْ ۚ تُرِیۡدُ زِیۡنَۃَ الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا ۚ وَ لَا تُطِعْ مَنْ اَغْفَلْنَا قَلْبَہٗ عَنۡ ذِکْرِنَا وَاتَّبَعَ ہَوٰىہُ وَکَانَ اَمْرُہٗ فُرُطًا ﴿۲۸

اور اپنی جان ان سے مانوس رکھو جو صبح و شام اپنے رب کو پکارتے ہیں۔۔۔ اس کی رضا چاہتے  اور تمہاری آنکھیں انہیں چھوڑ کر اور پر نہ پڑیں کیا تم دنیا کی زندگی کا سنگار چاہو گے اور اس کا کہا نہ مانو جس کا دل ہم نے اپنی یاد سے غافل کردیا اور وہ اپنی خواہش کے پیچھے چلا اور اس کا کام حد سے گزر گیا۔
سورہ الکہف آیت28

اسی بنا پر اچھی صحبت اختیار کرنے کا حکم حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے دیا فرمایا

دلیل نمبر4
مثل الجلیس الصالح والجلیس السوء کمثل صاحب المسک وکیر الحداد لایعد مک من صاحب المسک اما ان تشتریہ اوتجد ریحہ وکیر الحداد یحرق بیتک او ثوبک اوتجد منہ ریحاخبیثۃ وفی حدیث ان لم یصبک من سوادہ اصابک من دخانہ، رواہ البخاری

یعنی :اچھے مصاحب اور برے ہمنشین کی کہاوت ایسی ہے جیسے مشک والا اور لوہار کی بھٹی کہ مشک والا تیرے لئے نفع سے خالی نہیں یا تو تو اس سے خریدے گا کہ خود بھی مشک والا ہوجائے گا ورنہ خوشبو تو ضرور پائے گا۔ اور لوہار کی بھٹی تیرا گھر پھونک دے گی یا کپڑے جلادے گی یا کچھ نہیں تو اتنا ہوگا کہ تجھے بد بو پہنچے۔ اگر تیرے کپڑے اس سے کالے نہ ہوئے تو دھواں تو ضرور پہنچے گا۔
بخاری شریف ، حدیث: 5214دار ابن كثير ، اليمامة - بيروت

(۲)توسل  فی الدعاء
یعنی کسی حاجت یا پریشانی کے حل کے لئے کسی نیک عمل یا نیک ہستی  کا وسیلہ دینا تاکہ اللہ تعالی اس  وسیلہ کی برکت سے  مراد پوری فرمائے ۔
پھر اس کی بھی دو قسمیں ہیں

(۱)مقبول اعمال کووسیلہ بنانا(۲) اللہ کےکسی مقبول بندے کو وسیلہ بنانا

(۱)مقبول اعمال کووسیلہ بنانا
دلیل نمبر5
اس کی دلیل وہ مشہور و معروف قصہ ہے۔ جو صحیح بخاری ومسلم اور دیگر کتب حدیث میں آیا ہے کہ: 
"
جب تین آدمی غار میں پھنس گئے- باہر نکلنے کا کوئی راستہ نہ تھا- غار کے منہ پر پتھر رکھا ہوا تھا- اس وقت انہوں نے آپس میں مشورہ کیا اور اپنے اپنے نیک عمل کے واسطے اللہ تعالی سے دعا کرنے لگے- 
(۱)ان میں سے ایک کہنے لگا کہ میرے والدین نے مجھ سے دودھ مانگا- رات کا وقت تھا جب میں دودھ لے کر ان کے پاس پہنچا تو وہ سوچکے تھے- میں نے انہیں بے آرام نہ کیا اور ساری رات ان کے سرہانے رہا کہ جب وہ بیدار ہوں تو میں انہیں دودھ پیش کروں- اے اللہ میری اس نیکی بدلے غار کے منہ سے پتھر ہٹادے- چنانچہ پتھر کچھ ہٹ گیا- 

(۲)دوسرے نے اپنے پاکیزہ کردار کی بات کی- اس کی ایک عزیزہ کسی ضرورت کے تحت پریشان ہوکر اس کے پاس آئی- قریب تھا کہ وہ اپنی نفسانی ضرورت پوری کر لیتا لیکن محض اللہ کے خوف سے وہ برائی کے ارتکاب سے باز رہا- اس شخص نے اپنا یہ نیکی کا کام اللہ تعالی کی بارگاہ میں پیش کیا- چنانچہ پتھر مزید ہٹ گیا- 

(۳)تیسرے شخص نے اپنی امانت و دیانت کا ایک واقعہ پیش کیا اور اس کے وسیلے سے رحمت خداوندی کا امیدوار ہوا ۔۔۔ لہذا پتھر پوری طرح غار کے دھانے سے ہٹ گیا"- اس طرح ان لوگوں کو اپنے نیک اعمال بارگاہ رب العالمین میں بطور وسیلہ پیش کرنے کے بعد مصیبت سے نجات ملی-
 بخاری شریف، کتاب احادیث انبیاء، باب حدیث الغار، حدیث: 3465 دار ابن كثير ، اليمامة - بيروت

اس مسئلہ پر کثیر احادیث طیبہ شاہد ہیں مگر چونکہ کسی کو اس مسئلہ میں اختلاف نہیں اس لئے اختصار کے پیش نظر فقط ایک جامع روایت  ذکرکردی۔

 (۲) اللہ کےکسی مقبول بندے کو وسیلہ بنانا
مقبول بندہ زندہ ہو یا  وفات پا چکا ہو اس کو وسیلہ بنانا درست ہے۔

حیاتی میں وسیلہ  بنانے کی دلیل
دلیل نمبر6
حضرت عمر بن حمزہ کہتے ہیں کہ حضرت سالم (بن عبد اﷲ بن عمر رضی اللہ عنھم) نے اپنے والد ماجد سے روایت کی کہ کبھی میں شاعر کی اس بات کو یاد کرتا اور کبھی حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چہرہ اقدس کو تکتا کہ اس (رخ زیبا) کے توسل سے بارش مانگی جاتی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (منبر سے) اترنے بھی نہ پاتے کہ سارے پرنالے بہنے لگتے۔
بخاری، کتاب الاستسقاء، حدیث نمبر : 963، دار ابن كثير ، اليمامة - بيروت
ابن ماجه شریف، کتاب الإقامة الصلاة والسنة فيها، حدیث نمبر: 1272، دار الفكر - بيروت

تشریح:
سبحان اللہ عزوجل  جس  ہستی کے رخ زیبا کےوسیلے کا یہ کمال کہ  ،،جیسے ہی اس رخ انور کے توسل سے دعا مانگتے رب خالی جھولیوں کو اسی  وقت مرادوں سےبھرنا شروع فرمادیتا ۔

دلیل نمبر7
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب قحط پڑ جاتا تو حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ حضرت عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کے وسیلہ سے بارش کی دعا کرتے اور عرض کرتے : اے اللہ! ہم تیری بارگاہ میں اپنے نبی مکرّم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا وسیلہ پکڑا کرتے تھے تو تو ہم پر بارش برسا دیتا تھا اور اب ہم تیری بارگاہ میں اپنے نبی مکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے معزز چچا جان کو وسیلہ بناتے ہیں کہ تو ہم پر بارش برسا۔ فرمایا : تو ان پر بارش برسا دی جاتی۔
بخاری شریف، کتاب الاستسقاء،حدیث نمبر964 دار ابن كثير اليمامة بيروت

تشریح:
اللہ اکبر جس کی رب  کائنات جل جلالہ  نے یہ عظمت و شان رکھی ہو کہ جس کسی کو فقط اس سے نسبت ہو جائے اس کے بھی وسیلے سے کوئی دعا کی جاتی تو رب اپنی رحمتوں کی بارش ان پر چھما چھم برسانا شروع فرمادیتا تو وہ ہستی  کسی  کے لئے  رب کی بارگا ہ میں  دعا کے واسطے اپنے  دست مبارک کو بلند فرمائیں تو  رب کی کیسی رحمتیں اس شخص پر برستی ہونگی ۔
سبحان اللہ  سبحان اللہ سبحان اللہ وبحمدہ تعالی
اے گناہگاروں! اے شفاعت کے طلب گاروں! اے غم کے ماروں!
اٹھو ابھی حضور کے دربار میں حاضر ہو کر  حضور علیہ السلام سے اپنی حاجات  و پریشانیوں کو دور کرنے کے لئے عرض کرو خدا کی قسم گر  یہ دست پاک تمہارے واسطے اٹھ گئے ۔۔۔تو تمہارا بیڑہ پار ہے  اور کیوں نہ اٹھے سرکار ﷺ کے دست اقدس کے آپ ﷺ کو رب تعالی نے رحمۃ للعالمین بناکر بھیجا آپ ﷺ کو  نرم دل بنا کر  بھیجا ہے۔

رب تعالی فرماتا ہے
فَبِمَا رَحْمَۃٍ مِّنَ اللہِ لِنۡتَ لَہُمْ ۚ وَلَوْ کُنۡتَ فَظًّا غَلِیۡظَ الْقَلْبِ لَانۡفَضُّوۡا مِنْ حَوْلِکَ ۪ فَاعْفُ عَنْہُمْ وَاسْتَغْفِرْ لَہُمْ وَشَاوِرْہُمْ فِی الۡاَمْرِ ۚ فَاِذَا عَزَمْتَ فَتَوَکَّلْ عَلَی اللہِ ؕ اِنَّ اللہَ یُحِبُّ الْمُتَوَکِّلِیۡنَ ﴿۱۵۹

تو کیسی کچھ اللّٰہ کی مہربانی ہے کہ اے محبوب تم ان کے لئے نرم دل ہوئے اور اگر تند مزاج سخت دل ہوتے  تو وہ ضرور تمہاری گرد سے پریشان ہوجاتے تو تم انہیں معاف فرماؤ اور ان کی شفاعت کرو  اور کاموں میں ان سے مشورہ لو  اور جو کسی بات کا ارادہ پکا کرلو تو اللّٰہ پر بھروسہ کرو  بے شک توکل والے اللّٰہ کو پیارے ہیں
العمرآن آیت 159

تشریح:
شفاعت کرنا یہ بھی از قسم وسیلہ اور دعا ہی ہے  کہ نبی علیہ السلام  حق تبارک وتعالی کے حضور اپنے گناہگار امتی کے گناہوں کی معافی کی دعا کریں گے اور رب تعالی اپنے بندوں کو اپنے  حبیب علیہ السلام کے طفیل(وسیلہ سے) معاف فرمائے گا۔ سبحان اللہ
معاف رب نے ہی فرمانا ہے مگر اپنے حبیب کی  شان  بھی دِکھانا ہے ۔


دلیل نمبر8
حضرت عثمان بن حنیف رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ ایک نابینا شخص حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا : یا رسول اللہ! میرے لئے خیر و عافیت (یعنی بینائی کے لوٹ آنے) کی دعا فرمائیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اگر تو چاہے تو تیرے لئے دعا کو مؤخر کر دوں جو تیرے لئے بہتر ہے اور اگر تو چاہے تو تیرے لئے (ابھی) دعا کر دوں۔ اس نے عرض کیا : (آقا) دعا فرما دیجئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے اچھی طرح وضو کرنے اور دو رکعت نماز پڑھنے کا حکم دیا اور فرمایا : یہ دعا کرنا :

(اَللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُکَ وَأَتَوَجَّهُ إِلَيْکَ بِمُحَمَّدٍ نَبِيِّ الرَّحْمَةِ. يَا مُحَمَّدُ إِنِّي قَدْ تَوَجَّهْتُ بِکَ إِلَی رَبِّي فِي حَاجَتِي هَذِهِ لِتُقْضَی. اَللَّهُمَّ فَشَفِّعْهُ فِيَّ)

یعنی :اے اللہ! میں تجھ سے سوال کرتا ہوں اور تیری طرف توجہ کرتا ہوں نبی رحمت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وسیلہ سے، اے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں آپ کے وسیلہ سے اپنے رب کی بارگاہ میں اپنی حاجت پیش کرتا ہوں تاکہ پوری ہو۔ اے اللہ! میرے حق میں سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شفاعت قبول فرما۔:  غیر مقلدین کے مشہور  و مستند عالم اس حدیث کے بارے میں لکھتے ہیں
قال الشيخ الألباني : صحيح
ترمذی شریف، کتاب الدعوات حدیث نمبر: 3578، دار إحياء التراث العربي - بيروت
ابن ماجه شریف، کتاب الإقامة الصلاة والسنة فيها، حدیث نمبر : 1385، دار الفكر - بيروت

تشریح:
سبحان اللہ نبی پاک ﷺ خود اپنے وسیلے سے دعا کرنے کا  طریقہ بیان فرما رہے ہیں   اور  چاہتے تو صحابی کواس نماز کا حکم نہ دیتے بلکہ فورا ان کے واسطے دعا فرماتے مگر چونکہ اپنے گناہگار امتیوں کو اس بات کی طرف بھی متوجہ کرنا مقصود تھا ۔۔۔کہ،، اے میرے امتیوں میرے وسیلے سے دعا کرنا چاہتے ہو تو میری آنکھوں کی ٹھنڈک نماز کی پابندی کرنا ۔۔۔کسی حال میں بھی نماز قضا نہ کرنا۔۔۔ کہیں ایسا نہ کرنا کہ  میرے نام کے وسیلے سے دعا مانگتے رہو اور میری آنکھوں کی ٹھنڈک نماز  سے غفلت برتو۔۔۔ بلکہ اس عمل کو غو ر سے دیکھ لو کہ میرا صحابی اپنی آنکھوں کی ٹھنڈک(بینائی) کے لئے آیا تو میں نے اس کواپنی آنکھوں کی ٹھنڈک (نماز) کا حکم  دیا اور پھر اپنے وسیلے سے دعا کرنے کو کہا۔

تو آج وہ حضرات اپنے اعمال پر غو ر کریں کہ جو نبی علیہ السلام کے  سے  محبت کا  دم تو بھرتے ہیں مگر اپنے رب  عزوجل کے حضور  نماز کوحاضر نہیں ہوتے  شریعت پر عمل نہیں کرتےاور حالانکہ نبی علیہ السلام نماز سے کس قدر محبت فرمایا کرتے تھے روایتوں میں آتا ہےکہ آپ علیہ السلام  جب کبھی  کسی اہم کام کی طرف متوجہ ہوتے تو سب سے پہلے اپنے رب عزوجل کے حضور  نماز کے لئے حاضر ہوتے تو  نبی کے علیہ السلام کے و سیلہ سے دعا مانگنے  کے ساتھ  نبی علیہ السلام  کی  آنکھوں کی ٹھنڈک نماز کو بھی اپناؤ یہی حقیقی  اطاعت رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے۔

جاری ہے۔۔۔ انشا اللہ عزوجل

Tuesday, 23 April 2013

فیضانِ اسمِ اعظم 18 عَرق النساءَ اُور کمر و پِنڈلی کے دَرد کا رُوحانی علاج۔



عَرق النساءَ اُور کمر و  پِنڈلی کے دَرد کا رُوحانی علاج۔

الحمدُ للہِ عزوجل عرق النساءَ کا دَرد ہُو یا کَمر کا دَرد ہُو۔ یا  معاملہ ہُو پنڈلی کے دَرد کا ... یا پاوٗں میں پیدائشی نقص موجود ہُو۔۔میں نے جب بھی اِس طریقہ کے مُطابق لوگوں پر دَم کیا ہے۔ تو بے شُمار ایسے لوگوں کو بھی اللہ کریم کے فضل واِحسان سے فائدہ پُہنچا ہے۔ جو آپریشن تک کیلئے تیار بیٹھے تھے۔ لیکن  صِرف ایک ہفتہ مُتواتر دَم کرنے سے اُنکی تکلیف ہمیشہ کیلئے جاتی رہی۔ اِس تمام معاملہ میں میرا کوئی کمال نہیں ہے۔ سب اللہ کریم کا خاص کرم ہے۔ کہ اُسکے مدنی محبوب  صلی اللہ علیہ وسلم کے طُفیل لوگوں کو شِفاٗ حاصِل ہُوگئی۔ البتہ یہ طریقہ چُونکہ مجھ پر ایک خاص کرم کے تحت القاٗ ہُوا ہے۔ اِسلئے آپ کو یہ طریقہ شائد کِسی بھی کتاب میں نہ مِلے۔



اِس دَم کے طریقہ سے ہر ایک عاشق رَسول صلی اللہ علیہ وسلم کو فیض حاصِل کرنے کی اِجازت ہے۔ لیکن وُہ لُوگ جو اپنی گفتگو میں اُولیائے کرام  رَحمُ اللہِ اجمعین اُور صحابہ کرام (رِضوان اللہ تعالی  علیہم  اجمعین)  کا  مَذاق اُڑاتے نظر آتے ہیں۔ وُہ اگر اِس طریقہ سے فائدہ حاصِل بھی کرنا چاہیں۔ تو ہرگز ہرگز فائدہ نہیں اُٹھا پائیں گے۔ کہ یہ سب عنایات وفیض بُزرگوں کی نعلین کا تصدق ہے۔ اگر کسی صاحب کو اِس طریقہ سے اِفاقہ حاصل ہُوجائے تو برائے مہربانی بعد میں حضور سیدنا غُوثِ اعظم رحمتہ اللہ علیہ اُور سیدنا حاجی وارث علی شاہ رحمتہ اللہ علیہ کو ایصال ثواب کی نیت سے حسب توفیق کُچھ کھانا پکا  کر فاتحہ کا اہتمام کریں اُور کچھ کھانے کو غُربا میں بھی تقسیم فرمادیں۔

زیتون  کا تیل ایک ٹِن یا بوتل اپنے پاس رکھ لیں۔۔۔جب بھی مریض پر دَم کریں ساتھ ہی زیتون کے تیل پر بھی دَم کرلیں۔ جب دَم مکمل ہُوجائے تب آخر میں سورہ کہف پڑھ کر تیل پر دَم کر لیں۔۔۔ اُور روزانہ اُسی تیل کو نرم ہاتھ سے کمر یا پنڈلی پر لگاتے رہیں۔۔۔ انشا اللہ اِس کے فوائد دیکھ کر آپ خُود حیران رِہ جائیں گے۔

سب سے پہلے کَمر یا ران کے اُس حصے پر (سَترِ عُورَت یعنی پردے کا خیال رکھتے ہُوئے ) اپنا دایاں ہاتھ رکھیں جہاں سے دَرد کی ابتدا ہُوتی ہے۔ اُسکے بعد گیارہ مرتبہ کوئی سا بھی دُردو پاک پڑھیں۔ (بہتر ہے کہ دُرود غوثیہ اگر یاد ہُو تو وُہی پڑھ لیں) اسکے بعد ۱۹ مرتبہ بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھ کر  ۲۱ مرتبہ  دعائے سیفی  پڑھ لیں ۔
دُعائے سیفی (نادِ علی) یہ ہے۔

نادِ علیّاً مَظهَرَ العَجائِبِ تَجِدهُ عَوناً لَکَ فی النَّوائِبِ کُّلِّ هَمِ وَّ غَمٍّ سَیَنجَلَی  بِنُبُوَّتِکَ یا رَسُول اللہ وَ بِوِلایَتِکَ یا عَلِیُّ یا عَلِیُّ یا عَلِیُّ

 اُور دَرد والی جگہ پر دَم کریں۔ اُور یہ تصور کرتے ہُوئے۔ کہ آپ درد کو جسم سے باہر دھکیل رہے ہیں۔ اپنے ہاتھ کو نرمی سے پنجےکی انگلیوں تک لیجائیں۔ اسکے بعد پھر ہاتھ دَرد کی جگہ رکھیں اُور سات مرتبہ سُورہ فلق اُور سات مرتبہ سورہ الناس پڑھ کر   درد کی جگہ دَم کریں ۔اُور حسبِ سابق ہاتھ کو  درد کی جگہ سے نیچے کی طرف پنجوں کی انگلیوں تک لیجائیں اُور تصور وہی رکھیں کہ آپ درد کو دھکیل کر جسم سے نِکال رہے ہیں۔

اِس کے بعد درد کی جگہ پر ہاتھ رکھتے ہُوئے  تین مرتبہ بِسم اللہ شریف مکمل پڑھیں۔ اُور سات مرتبہ یہ دُعا پڑھیں

اَعُوذُ بِعِزَّ ۃِ اللہ وَ قُدرَتِہِ مِن شَرِّما اَجِدُ وَ اُحاذِرُو

یہ دُعا پڑھ کر پھر دَرد کی جگہ  پر پہلے کی طرح دَم کردیں۔ اُور حسبِ سابق ہاتھ کو پنجے کی انگلیوں تک لیجائیں اُور تصور وہی رکھیں کہ آپ درد کو دھکیل کر جسم سے نِکال رہے ہیں۔ اب گیارہ مرتبہ دُرودِ پاک پڑھ کر اللہ کریم کی بارگاہ میں عاجزی اُور انکساری سے دُعا کریں۔ اے میرے پروردیگار جو میرا کام تھا وُہ میں نے کردِیا ۔باقی شِفا دینا تیرا کام ہے۔ سُو تجھے تیرے محبوب اعظم صلی اللہُ علیہ وسلم اُور اصحاب بدر و کہف  کاواسطہ اِس مریض کو ایسی شِفا عطا فرمادے کہ اِسے دُوبارہ یہ مرض نہ ہُو۔

انشاءَاللہُ الکریم  دوسرے دِن ہی سے افاقہ ہُونا شروع ہُوجائے گا لیکن آپ سات دِن مکمل دَم کریں۔ اُور مجھ بدکار و سخت گنہگار کیلئے بھی دُعا فرمادیں کہ وُہ کریم مجھ سے بھی قبر و حشر میں آسانی کا معاملہ فرمائے۔  اُورمجھے میرے اعمال کی جزا کے بجائے صرف اپنے فضل کی بھیک عطا فرماتے ہُوئے ایسی جگہ عطا فرمادے۔ کہ جہاں سے چُھپ چھپ کر اُسکے محبوب اعظم صلی اللہ علیہ وسلم کا  ہمیشہ دِیدار نصیب ہُوتا رَہے۔ آمین بِجاہِ النبی الکریم وصلی اللہُ علیہ وسلم۔

نُوٹ : یہ دَم مرد حضرات اپنی زُوجہ کے علاوہ کسی دوسری خاتون پر نہیں کرسکتے۔ اگر کسی خاتون کو تکلیف ہُو تو وُہ کسی نمازی خاتون سے ہی دَم کروالیں۔ البتہ مَرد حضرات دوسرے مَردُوں پر دَم کرسکتے ہیں۔ لیکن دَم کرنے والا نمازی اُور شریعت کا لحاظ رکھنے والا ضرور ہُو۔ اگر کوئی دُعا پڑھنے میں دشواری پیش آئے تو آپ مجھ سے فیس بُک یا میرے بلاگ پر رابطہ فرماسکتے ہیں۔  

فیضانِ اسم اعظم 17. نظرِ بد اور اِسکا علاج



نظرِ بد کا جواز قران مجید اُور صحیح حدیث سے ثابت ہے۔۔۔ اسلئے جب بعض آزاد خیال لُوگ نظر ہونے کا یا نظر بد کے اثرات کا بے علمی میں اِنکار کررہے ہُوتے ہیں۔۔۔ تو دراصل علم کی کمی کے باعث وُہ قران مجید اُور احادیث طیبہ کا اِنکار کرجاتے ہیں۔ جیسا کہ،، بعض لُوگ جنات کا بھی اِنکار کردیتے ہیں۔۔۔۔ اگر یہ انکار لاعلمی میں کیا جائے تو اِنسان صرف گنہگار ہُوتا ہے۔ لیکن اگر کوئی صاحب علم اِسکا اِنکار کرے گا۔ تو وُہ حد کُفر تک بھی پُہنچ سکتا ہے۔۔۔ اللہ کریم ہمیں بے عِلموں کی صحبتِ بے فیض سے ہمیشہ محفوظ رکھے۔ کہ ایسے لوگ شیطانِ لعین کے پیروکار، یا،، آلہ کار ہُوتے ہیں۔۔۔ خود بھی آخرت کے نفع سے دُور ہُوتے ہیں ۔اُور دُوسروں کیلئے بھی خسارے کا باعث بنتے ہیں۔

قران مجید فرقان حمید میں اللہ کریم کفار کی نظر بد کا تذکرہ کرتے ہُوئے اِرشاد فرماتا ہے۔
وَاِنۡ يَّكَادُ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا لَيُزۡلِقُوۡنَكَ بِاَبۡصَارِهِمۡ لَمَّا سَمِعُوا الذِّكۡرَ وَيَقُوۡلُوۡنَ اِنَّهٗ لَمَجۡنُوۡنٌ‌ۘ‏
اور ضرور کافر تو ایسے معلوم ہوتے ہیں کہ گویا اپنی بد نظر لگا کر تمہیں گرادیں گے جب قرآن سنتے ہیں اور کہتے ہیں یہ ضرور عقل سے دور ہیں۔۔۔۔ سورہ القلم آیت نمبر ۵۱۔
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے اس آیت کی تفسیر میں فرمایا ہے کہ،، وہ  (کفار)آپ کو نظر لگا دیں گے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں۔۔۔
اَلْعَيْنُ حَقٌّ وَلَوْ کَانَ شَيْئٌ سَابَقَ الْقَدْرَ سَقَبَتُْ الْعَيْنُ، وَاِذَا اسْتُغْسِلْتُمْ فَاغْسِلُوا
سنن ابی داود وجامع الترمذی
’’نظر لگنا برحق ہے، اگر کوئی چیز تقدیر سے سبقت کرنے والی ہوتی تو نظر سبقت کرتی اور جب تم سے دھونے کا مطالبہ کیا جائے تو تم دھو دیا کرو۔

لَا رُقْيَةَ اِلاَّ مِنْ عَيْنٍ اَوْ حُمَةٍ  ۔۔۔صحیح بخاری
کہ ،،دَم کرنا نظربد  یا بخار کیلئے ہی ہے۔

نظر کے اثرات سے پہاڑ ریزہ ریزہ ہُوجاتے ہیں۔ یہ کہاوت تو آپ نے ضرور سُنی ہُوگی۔۔۔ لیکن ایسا ہُوتا کیوں ہے۔۔۔؟ کیا کبھی آپ نے اِس کے متعلق سُوچا ہے۔۔۔  میں نے اِس معاملے میں کچھ تحقیق کی ہے۔ جِسے آپ کے سامنے پیش کررہا ہُوں۔۔۔دراصل انسانی جسم سے اُسکی دِماغی وَ جِسمانی کیفیات کی نسبت سے منفی اُور مثبت ریز (شعاعیں) نِکلتی رہتی ہیں۔۔۔ یعنی جب انسان پر خُوشی کی کیفیت غالب ہُوتی ہے۔ تو اُسکے تمام جسم سے بالعموم اُور آنکھوں سے بالخصوص مثبت ریز (شعاعیں) نکلتی ہیں۔ جس سے  ماحول میں خوشگوار اَثر پیدا ہُوتا ہے۔ اُور ایسی حالت میں جب کوئی دوسرا نارمل انسان اِسے دیکھتا ہے۔ تو  اُسے بھی اِن برقی ریز کی وجہ سے توانائی حاصل ہوجاتی ہے۔ لیکن جب کوئی شخص غصہ کی حالت میں ہُو۔ یا حَسد کی کیفیت میں مُبتلا ہوتا ہے۔ تب اُسکا جسم بالعموم اُور نِگاہیں بالخصوص منفی برقی شعاعیں (ریز) برآمد کرتی ہیں۔ جسکی وجہ سے جِس شخص کو دیکھا جارہا ہُو۔ وُہ بھی اِن منفی شعاعوں سے متاثر ہوجاتا ہے۔۔۔

جسکی ایک مثال یہ بھی دیکھی  جاسکتی ہے۔کہ،، جب کوئی شخص انتہائی غصہ کی حالت میں ہُوتا ہے۔ تو مُقابل شخص  اُس وقت نظر مِلا کر  اُسے نہیں دیکھ پاتا۔ کیونکہ غصہ کی شدت کی وجہ سے آنکھوں میں سُرخی اُمڈ آتی ہے۔ لیکن نظر کا معاملہ صرف غصہ کا مرہونِ منت نہیں ہُوتا۔ کیونکہ بعض اُوقات انسان کسی  نوجوان یا بچے کو رشک کی حالت میں دیکھتا ہے۔  یہاں تک کہ اپنے بچوں کی شرارتوں یا حرکتوں کا بغور مطالعہ کرتے ہُوئے  بھی انسان کی نِگاہوں سے لاشعوری طُور پر منفی شعاعیں برآمد ہُونے لگتی ہیں۔ جسکی وجہ سے دوست احباب اُور خاص طور پر چھوٹے بچے مُتاثر ہُوجاتے ہیں۔ میں نے  اِن  ریز کا اَثر دیکھنے کے لئے بیشمار مرتبہ ایک تجربہ کیا ہے۔ جِس میں مجھے خاطر خواہ کامیابی حاصِل ہوئی ہے۔

سب سے پہلا مشاہدہ ایک بارہ برس کی بچی پر قریبا بیس برس قبل کیا تھا۔ وُہ میرے ایک دوست کی بھتیجی تھی۔ جِس پر عجیب طرح کے دُورے پڑ رہے تھے۔ میں نے وظائف کیساتھ بے اختیاری طور پر اُس بچی کو اسطرح دیکھنا شروع کیا۔ جیسے وُہ میری بیٹی یا بہن ہُو۔۔۔ میرا خیال جسقدر مضبوط ہوتا چلا گیا۔ وُہ بچی اُسی قدر نارمل ہُوتی چلی گئی۔۔۔ تھوڑی دیر میں  وُہ بچی تو نارمل ہُوگئی۔ لیکن مجھے شدت سے چکر آنے لگے ۔ اُور گھر تک واپسی کا سفر بھی  اپنے قدموں پر بقائمی ہُوش جاری نہیں رکھ پایا۔ شام کو جب کچھ حالت بہتر ہُوئی۔ تو اپنے روحانی اُستاد سے استفادہ حاصل کرنے کیلئے جا پُہنچا۔۔۔ اُنہوں نے مجھے دیکھتے ہی اپنے پاس بِٹھا لیا۔ اُور کچھ دیر مجھ پر دَم کرتے رہے۔۔۔ حیرت انگیز طور پر  مجھے ایسا محسوس ہُونے لگا۔ جیسے مجھے چارج کیا جارَہا ہُو۔ اُورمیں چند منٹوں میں ہی بالکل نارمل ہُوگیا۔

تب اُنہوں نے  مجھے سے  استفسار کیا۔۔۔؟؟؟ کیا آج تُم نے کسی پر دَم کیا تھا۔؟ میں نے اثبات میں جواب دیا۔۔۔ تو  اُنہوں نے مجھ پر  انکشاف کرتے ہُوئے بتایا۔ کہ میں جس بچی پر دَم کرنے گیا تھا۔ وُہ روحانی طور پر بُہت کمزور تھی۔ جِسے چند دِن دَم کردیا جاتا۔ تو وُہ نارمل ہُوسکتی تھی۔ لیکن تُم نے انجانے میں اپنی نظروں سے اپنی  رُوحی پاور اُس لڑکی میں منتقل کرنا شروع کردیں۔ جسکی وجہ سے وُہ لڑکی تو چند منٹوں میں ٹھیک ہُوگئی۔۔۔ لیکن تمہاری روحانی پاور جو  تمہیں چلنے پھرنے، بولنے، سوچنے ، میں معاونت فراہم کرتی ہے۔ اچانک اِس منتقلی سے کمزور پرگئی۔۔۔۔ جیسے ایک بیٹری سے دوسری بیٹری کو چارج کردیا جاتا ہے۔ ۔۔پھر اُنہوں نے مجھے تنبہی کرتے ہُوئے اِرشاد  فرمایا کہ،، کم از کم  اگلے دس برس تک ایسی حماقت پھر نہیں کرنا۔ جب تک کہ،،  ڈائریکٹ گِرڈ اسٹیشن سے رابطہ بحال نہ ہُوجائے۔ میں نے اُس زمانے میں تو اِس عمل کو دوبارہ نہیں آزمایا۔۔۔لیکن۔ گُذشتہ چند برسوں میں  الحمدُ للہ رب العامین اِسی تکنیک سے کئی  روحانی مریضوں کا کامیابی سے علاج کرچکا ہُوں۔

محبت سے دیکھنے پر بھی نظر لگ جانے کا دُورِ رسالتماب صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک عجیب واقعہ۔

امام نسائی اور امام ابن ماجہ رحمہ اللہ  نے روایت کیا ہے کہ عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ  سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ  کے پاس سے گزرے، جب کہ وہ غسل کر رہے تھے اتفاق سے انہوں نے سہل بن حنیف کو دیکھ کر بے ساختہ کہا کہ: ’’میں نے آج تک کسی کنواری دو شیزہ کی بھی اس طرح کی جلد نہیں دیکھی۔‘‘  یہ کہنا تھا کہ سہل بے ہوش ہو کر زمین پر گر پڑے۔ انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لے جایا گیا اور عرض کیا گیا: سہل بے ہوش ہو کر گر گئے ہیں۔ آپ نے فرمایا۔۔۔تم ان کے بارے میں کس کو مورد الزام ٹھہراتے ہو۔۔۔؟ صحابہ کرام رضوان اللہ عنہما  نے عرض کیا: عامر بن ربیعہ کو۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اِرشاد فرمایا۔۔

عَلَامَ يَقْتُلُ أَحَدُکُمْ أَخَاهُ إِذَا رَأَی أَحَدُکُمْ مِنْ أَخِيهِ مَا يُعْجِبُهُ فَلْيَدْعُ لَهُ بِالْبَرَکَة۔

تم میں سے کوئی اپنے بھائی کو قتل کرنے  کے درپے کیوں ہے۔۔۔؟ تم میں سے کوئی جب اپنے بھائی کی کوئی خوش کن بات دیکھے ۔تو اس کے لیے برکت کی دعا کرے۔

                پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے پانی منگوایا۔ اور عامر رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ وہ وضو کریں، تو انہوں نے اپنے چہرے اور دونوں ہاتھوں کو کہنیوں تک دھویا، دونوں گھٹنوں اور ازار کے اندر کے حصے کو دھویا اور پھر آپ نے 
حکم دیا کہ وہ پانی نظر لگے ہوئے شخص پر بہا دیں۔۔۔
اِس تمام واقعہ سے بھی نظر کا لگنا ثابت ہے۔ اُور ایک صحابی کے وضو کے پانی  سے دوسرے صحابی کے علاج کا واقعہ معلوم ہوتا ہے۔ جبکہ قران مجید میں اللہ کریم صحابہ کرام کی شان بیان کرتے ہُوئے فرماتا ہے۔ کہ یہ ایک دوسرے کیلئے انتہائی نرم ہیں۔ محبت کرنے والے ہیں۔ تو معلوم یہ ہُوا کہ نظر کے اثرات محبت سے دیکھنے پر بھی واقع ہُوسکتے ہیں۔

چُونکہ حضور علیہ السلام اللہ کریم کی مخلوق میں سب سے ذیادہ حَسین ہیں۔ اسلئے حکم اِلہی سے سیدنا جبرئیل علیہ السلام  نبی ء کریم  صلی اللہ علیہ وسلم کو حاسدین کی نظروں سے محفوظ رکھنے کیلئے دم کرتے ہوئے یہ کلمات پڑھا کرتے تھے۔

بِاسْمِ اللّٰهِ اَرْقِيْکَ، مِنْ کُلَّ شَيْئٍ يُؤْذِيْکَ، مِنْ شَرِّ کُلِّ نَفْسٍ اَوْ عَيْنٍ حَاسِدٍ، اَللّٰهُ يَشْفِيْکَ، بِاسْمِ اللّٰهِ اَرْقِيْکَ ۔۔۔ صحیح مسلم،

’’اللہ کے نام کے ساتھ میں آپ کو دم کرتا ہوں، ہر اس چیز سے جو آپ کو تکلیف دے، اور ہر انسان کے یا حسد کرنے والی آنکھ کے شر سے، اللہ آپ کو شفا دے، میں اللہ کے نام کے ساتھ آپ کو دم کرتا ہوں۔

حضرت اَمَّاں عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان فرماتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا۔ یا پھر یہ حکم عام دیا۔ کہ،، نظر بد سے دم کروایا جائے۔  بخاری  (الطب/ 5297)-

بچوں کو سب سے ذیادہ نظر لگنے کا اندیشہ رہتا ہے۔ چُنانچہ بُخاری شریف کی ایک حدیث کے مطابق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خُود بھی حسنین کریمین رضی اللہ عنہما کی نظر اِن آیات سے اُتارہ کرتے تھے۔

اُعِيْذُکَمَا بِکَلِمَاتِ اللّٰهِ التَّامَّةِ مِنْ کُلِّ شَيْطَانٍ وَّهَامَّةٍ وَمِنْ کُلِّ عَيْنٍ لَامَّةٍ

میں تم دونوں کو اللہ تعالیٰ کے کلمات تامہ کی پناہ میں دیتا ہوں، ہر شیطان اور زہریلی بلا کے ڈر سے اور ہر لگنے والی نظر بد کے شر سے۔۔۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کے ایک فرمان غیب نشان کیمطابق  حضرت ابراہیم علیہ السلام  بھی اسماعیل واسحاق علیہما السلام  کو اسی طرح دم کیا کرتے تھے۔

اُمُ المومنین حضرت اُمِ سلمی رضی اللہ عنہا کا مُوئے مُبارک سے نظر بد کا علاج کرنا۔
حضرت عثمان بن عبداللہ بن مُوہب سے رِوایت سے ہے۔کہ،، میرے گھر والوں نے  مجھے پانی کا ایک پیالہ دیکر اُمُ المومنین حضرت اُمِ سلمی رجی اللہ عنہا کے  دَرِ عظمت پر بھیجا۔ اِس لئے کہ،، جب کسی کو نظر لگ جاتی ہے۔ یا کوئی اُور مرض لاحق ہُوجاتا ہے۔ تو وُہ ایک پیالہ حضرت اُمِ سلمی رضی اللہ عنہا کی خِدمت میں پیش کرتا۔ اُمِ سلمی رضی اللہ عنہا سیدُ الانبیاٗ صلی اللہ علیہ وسلم کے مُوئے مُبارک نکال کر جُو کہ،، ایک چاندی کی نلکی میں رکھے ہُوئے ہُوتے تھے۔ آپ اِن متبرک مُوئے مُبارک کو پیالے  کے پانی میں ہِلاتیں۔ اُور مریض کو وُہ پانی پِلا دیا جاتا۔ تو مریض شِفایاب ہُوجاتا۔ رَاوی کا بیان ہےکہ،، جب میں نے چاندی کی اُس نلکی میں نِگاہ کی تو مجھے اُس میں چند ایک سُرخی مائل موئے مُبارک نظر آئے۔(بخاری)۔

نظر بَد اُتارنے کے چند طریقے۔۔۔

نمبر ۱: جس پر نظر لگی ہُو۔ اُسے فرض غسل کی طرح غسل کرنے  کا کہیں۔ اگر معلوم ہُو۔کہ،، فُلاں کی نظر لگی ہے۔ تو جسکی نظر لگی ہُو۔ اُسکے وضو کا پانی مریض پر چھڑکیں۔۔۔ اور یہ آیت ۱۱ مرتبہ پڑھ کر مریض پر دَم کریں۔ دُعا یہ ہے۔  
۱: اَعُوْذُ بِکَلِمَاتِ اللّٰہِ التَّامَّة مِنْ شَرِّ کُلِّ شَیْطَانٍ وَہَامَّة وَمِنْ کُلِّ عَیْنٍ لَامَّة

۲: دُوسری دُعا یہ ہے جو کہ نظر کے علاج میں بُہت نافع ہے۔ درج ذیل دُعا تین مرتبہ بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھ کر سات مرتبہ
بِسمِ اللہِ  اللھم اَذھِب حَرَّھا وَ بَردَھَا وَ وَﺻَﺒَﮭَ۔۔۔۔۔ پڑھ کر مریض پر  دَم کریں۔ انشا اللہ نظر اُتر جائے گی۔

نمبر ۳: تین عدد سُرخ  مِرچ لیں۔ اُس پر  سات مرتبہ بسم اللہ شریف، ایک مرتبہ سُورہ الکرسی، تین مرتبہ سُورہ فلق، تین مرتبہ سُورہ والناس، اول آخر درود پاک پڑھ کر مِرچوں پر دم کریں۔ پھر اِن مرچوں کو مریض پر اکیس مرتبہ وار کر چولہے میں ڈال دیں۔۔۔ انشا اللہ نظر  کا اثر دفع ہُوجائے گا۔

نمبر ۴: بچوں کی نظر اُتارنے کیلئے سورہ کوثر سے بھی دَم کیا جاسکتا ہے۔ جسکا طریقہ یہ ہے۔
سب سے پہلے تین مرتبہ درودِ پاک پڑھیں۔ پھر تعوذُ تسمیہ کے بعد ایک مرتبہ سورہ کوثر بچے کے سیدھے گال پر دَم کریں۔ دوسری مرتبہ سورہ کوثر پڑھ کر  اُلٹے گال کی طرف اُور تیسری مرتبہ پڑھ کر بچے کی پیشانی پر دَم کردیں۔۔ انشا اللہ نظر  اُتر جائے گی۔

نمبر ۵  : ہر مرتبہ بسم اللہ شریف کے ساتھ درج ذیل سورہ القلم کی  دُعا پڑھیں۔ مریض اُور پانی پر دَم کرتے رہیں۔ نو(۹) مرتبہ دَم کرنے  کے بعد مریض کو پانی دیں اُور سات گھونٹ  پانی پینے کو کہیں۔ ۔۔پینے والا  مریض ہر گھونٹ پیتے ہُوئے بسم اللہ شریف پڑھ کر پانی پیئے۔ باقی پانی مریض پر چھڑک دیں۔ انشا اللہ  عزوجل نظر فورا ختم ہُوجائے گی۔۔۔۔  
وَاِنۡ يَّكَادُ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا لَيُزۡلِقُوۡنَكَ بِاَبۡصَارِهِمۡ لَمَّا سَمِعُوا الذِّكۡرَ وَيَقُوۡلُوۡنَ اِنَّهٗ لَمَجۡنُوۡنٌ‌ۘ‏وَمَا ھُوَ اِلَّا ذِکرُلِلعَلَمِین۔
سورہ القلم آیت نمبر ۵۱۔