bing

Your SEO optimized title page contents

Pages

.

.

Wednesday, 21 May 2014

تذکرہ جنات۔ محبت ،ہَوس اُور علاج ۔


اللہ کریم نے اپنی عبادت  کے واسطے انسان و جنات کو پیدا فرمایا: القران ۔اُور اپنے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم کا چرچا بُلند فرمانے کیلئے بَزم کائنات کو سجایا۔ (مفہوم : حدیث لولاک)جس طرح سیدنا آدم علیہ السلام کو ابو البشر کہا جاتا ہے۔کہ ،، آپ تمام انسانوں کے باپ ہیں۔ اِسی طرح شیطانِ لعین کو ابو الجن کہا جاتا ہے۔ جن کے لغوی معنی ہیں،، نظر نہ آنے والا،، جنات اُور فرشتوں کی ظاہری تخلیق اِنسانوں سے پہلے کی گئی۔ جسکا جواز یہ ہے کہ،، فرشتوں اُور شیطان کو سیدنا آدم علیہ السلام کو سجدہ کرنے کا حُکم مِلا ۔ تو معلوم ہُوا ۔کہ ،، فرشتے اُور جنات پہلے سے موجود تھے۔ اُور آدم علیہ السلام کی یعنی انسانوں کی تخلیق کا مرحلہ بعد میں پیش آیا۔بعض علما کرام کی روایت کیمطابق جنات کی پیدائش کا عمل سیدنا آدم صفی اللہ سے دُو ہزار برس قبل  پہلے وجود میں آیا۔۔۔ جبکہ سیدی اعلحضرت اِمام احمد رضا علیہ الرحمہ کی تحقیق کے مطابق اہرام مصر کو جنات نے سیدنا آدم علیہ السلام کی تخلیق سے قبل تعمیر کرلیا تھا۔ لیکن یہ بات بھی یاد رکھنے کے قابل ہے ۔کہ،، یہ سبقت صرف ظاہری جسم پر ہے۔ وگرنہ مسلمانوں کا اجماع اِس بات پر ہے۔ کہ ،، اللہ کریم نے سب سے پہلے اپنے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم کو تخلیق فرمایا۔  اُور سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی خاطر ہی  یہ بزمِ کائنات سجائی گئی ہے۔


قران مجید میں انسان کو مٹی سے اُور جنات کو آگ سے تخلیق کئے جانے کا تذکرہ مِلتا ہے۔ اُور صحیح مسلم شریف کی ایک حدیث کے مضمون کے مطابق حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ حضور پاک، صاحب لولاک ﷺ نے فرمایاکہ،، اللہ کریم نے فرشتوں کو نور سے، جنات کو آگ کے شعلہ سے اور سیدنا آدم علیہ السلام کو مٹی سے پیدا کیا گیا ہے۔ (صحیح مسلم )۔


چونکہ جنات کو اُنکی خواہش کیمطابق اللہ کریم نے انسانی آنکھوں سے مخفی رکھا ہے۔ اسلئے ہمیں جنات ظاہری آنکھوں سے نظر نہیں آتے۔ اِسکے علاوہ عُلماٗ کرام فرماتے ہیں۔کہ،، انسانی آنکھ کے اُوپر ایک ایسا پردہ ہمہ وقت تنا رِہتا ہے۔ جو انسانوں کی نِگاہوں سے دوسری مخلوقات کو پُوشیدہ رکھتا ہے۔ لیکن اگر یہ پردہ ہٹ جائے ۔ تو انسان جنات اُور دوسری مخلوقات کو اِنہی آنکھوں سے دیکھ سکتا ہے۔۔۔۔ چونکہ جنات ہم انسانوں کو نظر نہیں آتے۔ اسلئے بعض لُوگ جنات کے وجود کا انکار کردیتے ہیں۔ لیکن یاد رکھیئے۔کہ،، بطور مسلمان ہمارا جنات اُور اُن تمام مخلوقات پر ایمان لانا۔ جنکا تذکرہ قرانِ مجید میں یا اَحادیث طیبہ میں آیا ہے۔۔۔ ہمارے دین کا لازمی جزو ہے۔ اسلئے جب کوئی شخص جنات ،فرشتوں، حُوروں، جنت، یا دوزخ   میں کسی ایک بھی شئے کا اِنکار کرتا ہے۔ تو درحقیقت وُہ قران مجید کی آیات کا اِنکار کررہا ہُوتا ہے۔ جسکی وجہ سے  اُسکاایمان ضائع ہُوجاتا ہے۔ لِہذا بطور مسلم ہم پر لازم ہے کہ،، چاہے ہماری آنکھیں  اِن مخلوقات کا اِدراک نہ کرپائیں۔ یا  ہماری محدود عقل میں وُہ بات نہ سَما پائے۔ ہمیں ہر اُس بات پر ایمان لانا ہے۔ جسکا تذکرہ رَب فرمائے یا اُسکا مدنی محبوب صلی اللہ علیہ وسلم بتائے۔


اَحادیث طیبہ کی روشنی میں ہمیں معلوم ہُوتا ہے۔ کہ جب ایک انسان دُنیا میں پیدا ہُوتا ہے۔ تو اُسکے ساتھ (۹) جنات بھی دُنیا میں پیدا ہُوتے ہیں۔  جِس سے ایک بات صاف ظاہر ہے۔کہ،، جناتوں کو انسانوں کے مقابلے میں نو گُنا برتری حاصل ہے۔ لیکن اگر غور کیا جائے تو یہ تعداد (۹) گُنا سے کہیں ذیادہ ہُوگی۔۔۔ کیونکہ انسانوں کی اُوسط عُمر فی زمانہ ساٹھ برس ہے۔ جبکہ بعض جنات کی عُمر ہزار برس سے بھی تجاوز کرجاتی ہے۔ اسلئے جب انسان اپنی طبعی عُمر مکمل کرنے کے بعد انتقال کرجاتا ہے۔ تب بھی جنات کی نشو نما کا عمل جاری رِہتا ہے۔ جسکی وجہ سے اِنکی کثرت میں اضافہ ہُوتا رِہتا ہے۔

 نبی کریم روٗف  الرحیم صلی اللہ علیہ وسلم  کے ارشادات کی روشنی میں جنات کی خوراک میں ہڈی اور لید کے علاوہ جس کھانے پر بسم اللہ نہ پڑھی جائے۔ اُور  لوبیا (نامی سبزی)  بھی جنات کی غذائیں ہیں۔ اسلئے کریم آقا صلی اللہ علیہ وسلم نے ہڈی اُور لید سے استنجا کرنے کی  یہ کہہ کرممانعت فرمائی ہے۔ کہ،، یہ تُمہارے (جن) بھائیوں کی غذا کے ذرائع ہیں۔۔۔ مفہومِ حدیث

جنات کہاں بسیرا کرتے ہیں۔؟

امام جلال الدین السیوطی لکھتے ہیں کہ جنات اکثر و بیشتر نجاست کی جگہوں پر ہوتے ہیں مثلاً کھجوروں کا جھنڈ ، بیت الخلاء، کچرے کے ڈھیر اور غسل خانوں میں رہتے ہیں (شیطان جن) (لقط المرجان فی احکام الجان ، مساکن الجن، ص 68)۔ اس کے علاوہ جنات ٹیلوں ، وادیوں ، بلوں(سوراخوں ) ویرانوں میں ، اور انسانوں کے ساتھ اُنکے مکانوں میں بھی رہتے ہیں ۔ چکنائی والے کپڑے اور جھاڑیوں میں بھی  جنات رہتے ۔


انسانوں کی طرح جنات میں بھی مذاہب ہُوتے ہیں۔ فرقے ہُوتے ہیں۔اِن میں بھی محبت ، اُور نفرت کے جذبات پائے جاتے ہیں۔ حسد، رقابت، شہرت کی خاہش، جھوٹ اُور چغلی جیسے امراض  اِن میں بھی پائے جاتے ہیں۔۔۔ یہ آپس کی محبت و نفرت کے علاوہ اِنسانوں سے بھی بغض، محبت یا نفرت کرتے ہیں۔ عموماً مسلمانوں کی چھتوں پر مسلمان جن رہتے ہیں۔ جبکہ کُفار و بدمذہبوں کے گھر میں کافر و بد مذہب جنات رِہتے ہیں۔۔۔

لیکن اگر مسلمانون کے گھر میں فحاشی ہُو۔ یا اللہ کریم کا قطعی ذکر نہ کیا جائے ۔ تو یہ مسلمان جنات اُس گھر سے کُوچ کرجاتے ہیں۔ اُور اِنکے نہ ہُونے سے کافر جن اُن گھروں پر قبضہ جمالیتے ہیں۔ اُور اہل خانہ کیلئے پریشانی کا سبب بن جاتے ہیں۔ اِس بات سے یہ بھی معلوم ہُوتا ہے۔کہ مسلمان گھروں میں مسلمان جِنوں کی موجودگی فائدہ مند ہُوتی ہے۔کہ،، اِس طرح کم از کم شیاطین جنات اُن گھروں پر دھاوا نہیں بُولتے۔۔۔جسطرح انسانوں کو پریوں  کے تذکرےسے اُنسیت محسوس ہُوتی ہے۔ اِسی طرح جنات کو بھی بعض انسانوں سے خُوامخواہ کی محبت ہُوجاتی ہے۔ ۔۔ لیکن جسطرح انسانوں کو جنات کے تذکرے سےہی  ڈر محسوس ہُونے لگتا ہے۔ بالکل اِسی طرح جنات کو بھی انسانوں سے ڈر محسوس ہُوتا ہے۔ اِن کی حتی الامکان کوشش یہی ہُوتی ہے۔ کہ،، انسان اِنکی موجودگی کو محسوس نہ کرسکے۔۔۔۔ لیکن حد سے ذیادہ قربت کی وجہ سے انسانوں کی چھٹی حس اُنہیں اِنکی موجودگی سے با خبر کردیتی ہے۔۔۔

بعض مرتبہ یہ انسانوں کو اغوا بھی کرلیتے ہیں۔ کتب تواریخ ایسے ہزاروں واقعات سے بھری پڑی ہے۔۔۔ بعض اُوقات یہ انسانوں سے  جنسی تسکین حاصِل کرنے کیلئے فزیکل ریلیشن شپ قائم کرلیتے ہیں۔۔۔۔ لیکن میری ناقص معلومات کے مطابق اللہ کریم نے انسانون کو جنوں پر ایک فوقیت یہ بھی دِی ہے۔کہ،، جنات،،  انسانی عورت کو حاملہ نہیں کرسکتے۔ ورنہ آج دُنیا کا ایک الگ نقشہ سامنے ہُوتا۔ اُور ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں بچیاں کنوار پن کے باوجود ماں بن جاتیں۔۔۔ جبکہ انسانی مرد کا تعلق اگر کسی جنی سے قائم ہُوجائے تو وُہ جنی انسان سے ملنے کی وجہ سے حاملہ ہُوسکتی ہے۔۔۔ بعض اُوقات یہ جنات  انسانوں کو اُنکے بستروں سے اُٹھا کر اپنی دُنیا میں لیجاتے ہیں۔ اُور صبح نمودار ہُونے سے پیشتر اُنہیں اُنکے بستر پر چھوڑ جاتے ہیں۔۔۔ اغوا ہُونے والے مرد وں یا عورتوں میں سے بُہت کم تعداد کو رات کے مناظر ذہن میں یاد ہُوتے ہیں۔۔۔لیکن چُونکہ صبح اُنکی آنکھ اپنے بستر پر ہی کھلتی ہے۔۔۔ اِس لئے اُنہیں یقین ہی نہیں آتا کہ،، رات وُہ کسی اُور دُنیا میں موجود تھے۔ اسلئے وُہ اِس تمام واقعہ کو ایک خُوشنما خواب سے ذیادہ اہمیت نہیں دیتے۔۔۔ لیکن بار  بار  اِسطرح کے  خوابوں سے اُنکا بھانڈا پُھوٹنے کا خدشہ رِہتا ہے۔ اِس لئے اکثر لوگوں کے ذہن سے اِن تمام واقعات کو محو کردیا جاتا ہے۔

میں ایسے بُہت سے لوگوں کو جانتا ہُوں۔ کہ،، جنکے ساتھ جنات نے فزیکل ریلیشن قائم کر رکھا تھا۔۔۔ وُہ سبھی لُوگ میرے پاس روحانی علاج کیلئے تشریف لائے تھے۔ اُور تمام معاملے سے باخبر تھے۔۔۔ اِن میں مرد بھی تھے اُور خواتین بھی۔ سب کے ساتھ ایک مسئلہ،، کامن ،،تھا۔۔۔ کہ،، جنسی تعلق کی ذیادتی کی وجہ سے اب اُنکی پنڈلیوں اُور کمر میں شدید دَرد رہنے لگا تھا۔۔۔۔ اُور آپکو سُن کر شائد حیرت ہُو،، کہ اُن میں کچھ مَرد و خواتین ایسے بھی تھے۔ جو اِس تکلیف سے تو نجات حاصل کرنا چاہتے تھے۔ لیکن وُہ یہ نہیں چاہتے تھے۔ کہ،، وُہ جِن یا جنی اُنہیں چھوڑ کر چلی جائے۔۔۔ اُنکی خاہش تھی۔کہ،، آپ صرف اِس دَرد کا مداوا کردیں۔۔۔ لیکن ایسا کوئی رُوحانی علاج نہ کریں۔کہ،، جسکی وجہ سے وُہ جنات ہم سے خفا ہُوجائیں۔ جب میں نے اُن احباب سے اِسکی وجہ جاننے کی کوشش کی تو کچھ عجیب و غریب صورتحال سامنے آئی۔ کچھ لُوگوں کو اِس تمام معاملے میں لُطف محسوس ہُونے لگا تھا۔ کہ ،، جنات رُوپ بدل بدل کر اِنکی سفلی خواہشات کی تکمیل کا سبب  بن رہے تھے۔۔۔ جبکہ کچھ لُوگوں کو خزانوں، اُور دفینوں کا لالچ دِیا گیا تھا۔۔۔ جبکہ ایک خاتون نے مجھے یہ کہا۔کہ،، وُہ مجھے ایسی باتوں کا علم دیتا ہے۔۔۔ جسکی وجہ سے علاقے میں مجھے نمایاں اہمیت حاصل ہے۔۔۔

میں نے اُن لوگوں کو لاکھ سمجھایا کہ،، یہ مِلاپ آپکی زندگی کو تباہ کردے گا۔۔۔  آپکی ہڈیوں کا رس نِکال دے گا۔۔۔ اُور تمام جسم کو کھوکھلا  کردے گا۔کیونکہ جنات کا عنصر آگ ہے۔ جبکہ انسان ہَوا، پانی اُور مٹی کا مرکب ہے۔ اسلئے یہ مِلاپ کسی بھی طرح انسانوں کے حق میں بہتر نہیں ہے۔ اور شریعت مطہرہ میں بھی انسان اُور جنات کا نہ اِسطرح  مِلن جائز ہے۔۔۔ اُور نہ ہی نِکاح جائز ہے۔ لیکن اُن میں سے اکثریت نے میری بات نہیں مانی۔ اور جب اُن میں سے چند لوگوں نے ایک عرصہ بعد مجھ سے رابطہ کیا۔۔۔ تب تک بُہت دیر ہُوچکی تھی۔ اُور علاج کا وقت گُزر چکا تھا۔

یہ بھی ضروری نہیں ہے۔کہ تمام جنات انسانوں سے فزیکل ریلیشن شپ قائم کرنے کیلئے ہی محبت کرتے ہیں۔۔۔ اِن میں بعض نیک النفس بھی ہُوتے ہیں۔ جو کسی قسم کا جنسی تعلق تو قائم نہیں رکھتے۔۔۔ لیکن جس طرح ایک تنہا عورت اُور مرد کا تنہائی میں مِلنا بُرائی کا موجب ضرور ٹہرتا ہے۔۔۔ اِسی طرح یہ پاک محبت بھی ایک نہ ایک دِن ہُوس کا شکار ہُوکر رہتی ہے۔ نتیجتاً اُسکے بعد اِن خواتین و مرد حضرات کو بھی ایک نہ ایک دِن اُسی تکلیف کا سامنا کرنا پڑجاتا ہے۔

جنات کی اقسام
علامہ بدرالدین محمد دین احمد عینی بخاری شریف کی شہرہ آفاق شرح عمدة القاری میں جنات کی چند اقسام تحریر کرتے ہیں۔ (۱) غول: یہ سب سے خطرناک اور خبیث جن ہے جو کسی سے مانوس نہیں ہوتا ۔ جنگلات میں رہتا ہے مختلف شکلیں بدلتا رہتا ہے اور رات کے وقت دکھائی دیتا ہے اور تنہا سفر کرنے والے مسافر کو عموماً دکھائی دیتا ہے جو اسے اپنے جیسا انسان سمجھ بیٹھتا ہے، یہ اس مسافر کو راستے سے بھٹکاتا ہے ۔(۲)سعلاة: یہ بھی جنگلوں میں رہتا ہے جب کسی انسان کو دیکھتا ہے تو اس کے سامنے ناچنا شروع کردیتا ہے اور اس چوہے بلی کا کھیل کھیلتا ہے ۔ (۳) غدار: یہ مصر کے اطراف اور یمن میں بھی پایا جاتا ہے اسے دیکھتے ہی انسان بے ہوش ہو کر گر جاتاہے ۔ (۴) ولھان: یہ ویران سمندری جزیروں میں رہتا ہے اس کی شکل ایسی ہے جیسے انسان شتر مرغ پر سوار ہوتا ہے جو انسان جزیروں میں جا پڑتے ہیں انہیں کھا لیتا ہے۔ (۵) مشق: یہ انسان کے آدھے قد کے برابر ہوتا ہے ، دیکھنے والے اسے بن مانس سمجھتے ہیں ۔ سفر میں ظاہر ہوتا ہے ۔ (۶) بعض جنات انسانوں سے مانوس ہوتے ہیں اور انہیں تکلیف نہیں پہنچاتے ہیں ۔(۷) بعض جنات کنواری لڑکیوں کو اٹھالے جاتے ہیں۔ (۸) بعض کتے کی شکل کے ہوتے ہیں ۔ (۹) بعض چھپکلی کی شکل میں ہوتے ہیں۔ (عمدة القاری ، ج 10، ص 644/جنات کی حکایات ص 10)

جنات کی شکل
جنات کو اللہ عزوجل نے یہ ادراک دیا ہے کہ وہ انسانوں کو دیکھ سکے لیکن انسانوں کو یہ کمال نہیں ملا کہ وہ جنات کو دیکھ پائے ہاں جنات اگر کسی اور شکل میں ظاہر ہو تو پھر اسے دیکھا جاسکتا ہے ۔ امام شافعی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ جو عادل شخص یہ گمان کرے کہ اس نے جن کی دیکھا ہے (اصل شکل میں ) تو میں اس کی گواہی کو باطل قرار دیتا ہوں۔
علامہ بدرالدین شبلی حنفی رحمہ اللہ لکھتے ہیں کہ بلاشبہ جنات انسانوں اور جانوروں کی شکل اختیار کرلیتے ہیں چنانچہ وہ سانپوں ، بچھووں ، اونٹوں ، بیلوں ، گھوڑوں ، بکریوں ، خچروں ، گدھوں اور پرندوں کی شکلوں میں بدلتے رہتے ہیں۔ ( اکام المرجان فی احکام الجان،ص 21)
علامہ فخرالدین رازی رحمہ اللہ لکھتے ہیں کہ بلاشبہ جنات بھی انسانوں کی طرح شریعت کے مکلف ہیں۔ ۔تفسیر الکبیر، ج10، ص 625
اسی طرح علمائے کرم تحریر کرتے ہیں کہ جنات ہر چیز میں نبیﷺ کی شریعت کے مکلف ہیں۔ اخبار وآثار میں وارد ہے کہ مومنین جنات نماز پڑھتے ہیں ، روزے رکھتے ہیں، حج کرتے ہیں، تلاوت قرآن کرتے ہیں ، علوم دینیہ اور روایات حدیث انسانوں سے حاصل کرتے ہیں اگرچہ انسانوں کو اس کا پتہ نہ چلے۔
لیکن یہ تمام باتیں مسلم جنات میں پائی جاتی ہیں جس طرح انسانوں میں کفار موجود ہی اسی طرح جنات میں بھی کفار ہیں۔
اسی طرح اچھے اور برے جنات بھی ہوتے ہیں ۔ جن میں تلاوت کرنے والے جنات ، خوفِ خدا عزوجل کی وجہ سے جاں سے گزرنے والے جنات، تہجد گزارجنات، عمرہ ادائیگی ، کعبہ مشرفہ کا طواف وغیرہ کرنے والے نیک جنات  بھی ہوتے ہیں۔

بہت سے دوست احباب کے نزدیک جنات انسان پر قابض نہیں ہو سکتے ہیں ۔ علامہ محمود آلوسی لکھتے ہیں کہ بعض اجسام میں ایک بدبو داخل ہوتی ہے ۔ اور اس کے مناسب ایک خبیث روح اس پر قابو پالیتی ہے اور انسان پر مکمل جنون طاری ہو جاتا ہے۔ بسااوقات یہ بخارات انسان کے حواس پر غالب ہوکر حواس معطل کردیتے ہیں اور وہ خبیث روح انسان روح کے جسم پر تصرف کرتی ہے او اس کے اعضاءسے کلام کرتی ہے ۔ چیزوں کو پکڑتی ہے اور ڈوڑتی ہے حالانکہ اس شخص کو بالکل پتہ نہیں چلتا اور یہ بات عام مشاہدات سے ہے جس کا انکار کوئی ضدی شخص ہی کر سکتا ہے ۔ (روح المعانی ، ج ۳، ص 28)

امام اہل سنت کا فتویٰ

اعلیٰ حضرت ، امام اہل سنت مولانا احمد رضا خاں رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حاضرات( شریر جنات مختلف روپ میں آکر مسلمانوں کو ستاتے ہیں ۔ بلکہ بسااوقات تو انسانی جسم میں ظاہر ہو کر کسی بزرگ کے نام سے منسوب کرتے ہیں اور پھر لوگوں کے سوالات کے الٹے سیدھے جوابات دیتے ہیں ، بیماریوں کا علاج بتاتے ہیں وغیرہ ۔ اسی کو فی زمانہ حاضری کا نام دیا جاتا ہے ) کر کے موکلاں جن سے پوچھتے ہیں فلاں مقدمہ میں کیا ہوگا؟ فلاں کام کا انجام کیا ہوگا؟ یہ حرام ہے ۔ (تو اب جن غیب سے نرے جاہل ہیں ان سے آئندہ کی بات پوچھنی عقلاً حماقت اور شرعاً حرام اور ان (جنات) کی غیب دانی کا اعتقاد ہوتو کفر ۔ (فتاویٰ افریقہ ، ص 177)
کیا جنات انسان کو تکلیف دے سکتے ہیں؟

جنات انسان کو دو طرح سے تکلیف دے سکتے ہیں (۱) اس کے جسم سے باہر رہتے ہوئے (۲) اس کے جسم میں داخل ہو کر ۔
پہلی قسم کی مثال میں دو احادیث مبارکہ پیش خدمت ہے۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ شہنشاہِ مدینہ ﷺ ے روایت کرتے ہیں ”ابن آدم کو جو بچہ پیدا ہوتا ہے اس کی پیدائش کے وقت شیطان اس کو مس کرتا ہے (یعنی چھوتا ہے ) اور شیطان کے مس کرنے سے وہ بچہ چیخ مار کر روتا ہے ماسواءحضرت مریم رضی اللہ عنہا اور ا ن کے بیٹے کے (صحیح بخاری ، حدیث 3431، ج ۲، ص 453)۔حضرت ابو موسی رضی اللہ عنہ نبی ﷺ کا ارشاد نقل کرتے ہیں کہ میری امت طعن اور طاعون سے ہلاک ہوگی۔ عرض کی گئی کہ یا رسول اللہ ﷺ طعن کے بارے میں تو ہم نے جان لیا مگر یہ طاعون کیا ہے؟ ارشادر فرمایا: یہ تمہارے دشمن جنات کے نیزوں کی چھبن ہے اس کا مارا ہوا شہید ہے۔ (المسند امام احمد، حدیث 19545، ج ۷،ص 131)

دوسری قسم میں جنات کا انسان کے بدن میں داخل ہو نا بھی قرآن و احادیث سے ثابت ہے چنانچہ قرآن مجید میں ارشادہے ترجمہ: قیامت کے دن نہ کھڑے ہوں گے مگر جیسے کھڑا ہوتا ہے وہ جسے آسیب نے چھو کر مخبوط بنادیا ) پ ۳، البقرہ 275(۔ علامہ محمد بن انصاری قرطبی اس آیت مبارکہ کے تحت لکھتے ہیں یہ آیت اس شخص کے انکار کے فساد پر دلیل ہے جو یہ کہتا ہے کہ انسان کو پڑنے والا دورہ جن کی طرف سے نہیں اور گمان کرتا ہے کہ یہ طبیعتوں کا فعل ہے اور شیطان انسان کے نہ تو اندر چلتا ہے اور نہ چھوتا ہے ۔
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک عورت آقا ﷺ کے پاس اپنے بیٹے کو لائی اور عرض گزار ہوئی کہ یارسول اللہ ﷺ میرے بیٹے کو جنون ِ عارض ہوتا ہے اور یہ ہم کو تنگ کرتا ہے ۔ آپﷺ نے اس کے سینے پر ہاتھ پھیرا اور دعا کی ۔ اس کے قے کی اور اس کے پیٹ سے سیاہ کتے کے پلے کی طرح کو ئی چیز نکلی ۔ (مسند الدارمی ، حدیث 19، ج ۱، ص 24)

جنات کا انسانوں سے ڈر
حیران کن بات یہ ہے کہ جہاں انسان جنات سے ڈرتا ہے وہاں جنات بھی انسانوں سے ڈرتے ہیں ۔ حضرت مجاہد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جتنا تم (انسانوں) میں سے کوئی شیطان سے گھبراتا ہے اس سے بھی زیادہ وہ تم سے گھبراتا ہے لہذا جب وہ تمہارے سامنے آئے تو اس سے نہ گھبرایا کرو ورنہ تم پر سوار ہوجائے گا البتہ تم اس کے مقابلے کے لیے تیار ہوجایا کرو تو وہ بھاگ جائے گا۔ (لقط المرجان فی احکام الجان ، ص 138)

جنات کے شر سے بچنے کے طریقے
 (۱)اللہ تعالیٰ کی پناہ طلب کرنا (۲) تلاوت قرآن کریم (۳) ذکر اللہ عزوجل کی کثرت (۴) اذان دینا
(
۵) لاالہ الااللہ وحدہ لاشریک لہ لہ الملک ولہ الحمد وھو علی کل شیئٍ قدیر (سومرتبہ روزانہ)  (6) جنات اور جادو وغیرہ کے وظائف (۷ ) چکنائی والی چیزیں جلد دھو ڈالنا (۸) گھر میں لیمو رکھنا (۹) سفید مرغ رکھنا (۱۰) تعویزات کا استعمال (۱۱) سورہ البقرہ کی آیت نمبر ۱۶۳ تا ۱۶۴ کی تلاوت سے بھی شیطان جن بھاگ جاتے ہیں۔(۱۲) اَعُوذُ بِکَلِمَاتِ اﷲِ التَّامَّتِہ مِن غَضَبَہ وَ عِقَابِہ وَمِن شَرِّ عِبَادِہ وَ مِن ہَمَزَاتِ الشَّیَاطِینِ وَ اَن  یَّحضُرُونَ۔ (ابوداود و ترمذی)۔

اِنسانوں میں جِنات کے اثرات کی چند علامات۔۔۔

جسطرح جادو کے اثرات کی وجہ سے ناف کے قریب درد محسوس ہُوتا ہے۔ اِسی طرح جناتوں کے انسانی جسم پر اثرات کی وجہ سے انسانوں کو کئی پراپلم کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ جیسے مُسلسل سر درد ،  بغیر کام کئے بھی جسم میں تھکن کا اِحساس رِہنا۔۔۔ گندے خواب و خیال کی وجہ سے ذِہن کا پراگندہ رِہنا۔۔۔خواتین  کی پنڈلیوں ، کمر، اُور شانوں میں دَرد کی موجودگی۔ بالخصوص صبح جاگنے کے وقت اِس درد کا احساس خاص طور پر محسوس ہُوتا ہے۔ اسکے علاوہ کنواری بچیوں کے  جسم پر ایسے نشانات کا اُبھر آنا۔ جیسےکہ زچگی کے بعد شادی شُدہ خواتین کے جسم پر بن جاتے ہیں۔


الحمدُ للہ عزوجل جنات سے حفاظت  اُور  اِن کے اَثرات سے چھٹکارے کیلئے  عرصہ دراز پہلے  لیموں پر دَم کرنے کا ایک مجرب طریقہ دِل میں القاء ہُوا تھا۔ جسکی بدولت دُنیا بھر میں ایسے ہزاروں لُوگوں نے بھی خبینث شیطانی جنات  سےنجات حاصل کی ہے۔جنہیں بے شمار عامِلوں نے لاکھوں روپیہ ٹھگنے کے بعد  بھی جواب دیدیا تھا۔ اللہ کریم کے فضل و اِحسان سے آج وُہ تمام لوگ ایک نارمل زندگی گُزار رہے ہیں۔ تمام عاشقان مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم اُور محبین صحابہ کرام و اُولیائے کرام رحم اللہ اجمعین کو میری جانب سے اِس عمل کی اجازت ہے۔ جب آپ آزمائیں گے۔ تو آپ بھی اس عمل کی تاثیر و کمال دیکھ کر حیران رِہ جائیں گے۔۔۔ صرف بے ادب و گستاخ قسم کے لوگ اِس عمل سے کوئی فائدہ نہیں اُٹھاسکتے۔ اسلئے اِس قسم کے لوگوں کو زِحمت اُٹھانے کی چنداں ضرورت بھی نہیں ہے۔۔۔


لیموں پر دَم کرنے کا طریقہ۔ درج ذیل تصویر میں موجود ہے۔ مزید  مفت رہنمائی حاصل کرنے کیلئے آپ احسان وارثی بھائی سے  بھی رابطہ کرسکتے ہیں۔
03332969939موبائیل:


انشاءَاللہُ الکریم ۲ ماہ تک اِسی طریقہ سے دَم کرتے رہنے سے جنات کے اثرات سے نجات مِل جائے گی۔


10 comments:

  1. Sir thnx a lot itni infrmation dy rhy hein aap , jazak ALLAH
    ALLAH apko seht or achi zindgi dein AMEEN

    ReplyDelete
  2. Sir thnx a lot itni infrmation dy rhy hein aap , jazak ALLAH
    ALLAH apko seht or achi zindgi dein AMEEN

    ReplyDelete
  3. Sir thnx a lot itni infrmation dy rhy hein aap , jazak ALLAH
    ALLAH apko seht or achi zindgi dein AMEEN

    ReplyDelete
  4. Asslam-o-alykum
    Bohat hi dilchsp our caramad mazbon hai BHAI ALLAH PAK aap ko HAR imtihan main kamyab karey our dono jahan ki khushyan ata karay ameen.

    ReplyDelete
  5. Asslam-o-alykum Bohat hi dilchsp our caramad mazbon hai BHAI ALLAH PAK aap ko HAR imtihan main kamyab karey our dono jahan ki khushyan ata karay ameen.

    ReplyDelete
  6. This comment has been removed by the author.

    ReplyDelete
  7. ye to bht khfnak baten hen,shuker ha hm pe koi jin ashiq nhi hoa
    k bachpan men socha kerty thy k kash koi jin ham pe ashiq ho jaey to hm pak k sb politcin ko thek kr den or hmri dosto k bhno k shohr tng kerty hen tu hm apny jin sy keh kr sb ko thek kerwaty:):)...bht aala ha..mza aya,agli qst ka wait ha.

    ReplyDelete
  8. Boht Shukria.
    Kia ap yeh bata saktay hai k insan k mot ke bad us ki rooh logo ke pas asakti hai?
    May yeh sawal is liye kar raha hoo, mera best friend ka walid kuch waqt pehle intiqal kar gaya. Us ke walid ko pata nahi kiu mujh se koi chir rehti thi. Us ke intiqal ke bad may ne usy khwab may dekha. Mujhe khwab theek se yad nahi. Us ke bad se meri tabyat ajeeb se rehti hai. Aur meri awaz bilkul us ki awaz ki tarah kabhi kabhi hojati hai. May ne apne friend se milna chor dia hai, kiu k jab may us se mil kar ghar ata hu toh meri tabyat boht kharab hojati hai. Ek bar may us se mil kar ghar wapas aya toh mujhe aisa mehsoos ho raha tha jesy meri jism se jan chali gayi ho, boht kamzori aur bhook ka ehsaas, aisi bhook jo darindo may hoti hai, aur mera jism larzne lagta hai.
    May yeh sabit nahi karna chahta ke yeh us ke walid ki rooh hai, mujhe nahi pata yeh sab kia hai?

    ReplyDelete
  9. Thanks for sharing such useful information. Your articles are always awesome, I am your regular reader. I appreciate your hard word and efforts. Keep doing great work.

    Govt Jobs in Pakistan

    ReplyDelete
  10. جنات کے عورت سے اختلاط پر اولاد کی مثالیں موجود ہیں. اللہ پاک سب کو اپنی پناہ میں رکھے.

    ReplyDelete