bing

Your SEO optimized title page contents

Pages

.

.

Wednesday, 3 April 2013

تسخیرِ قُلوب عمل سے یا عملیات سے۔۔۔؟


اُس دِن میں اپنی فیکٹری  کے کاموں میں مشغول تھا۔ کہ اچانک میرے ایک انتہائی مہربان عزیز کسی دوسرے شہر سے میرے پاس آپُہنچے۔ اگرچہ یہ مُلاقات پہلے ہی سے طے کی جا چُکی تھی۔ البتہ دِن اُور وقت طے نہ ہُونے کی وجہ سے مجھے خُوشی کیساتھ اُنکے اچانک آجانے کی وجہ سے حیرت بھی ہُورہی تھی۔۔۔۔ دراصل واقعہ کچھ یُوں تھا۔ کہ میرے یہ عزیز کچھ عرصہ قبل انتہائی عیش وعشرت کی زِندگی گُزار رہے تھے۔ اِن پر یہ کہاوت بالکل ٹھیک ثابت ہوتی تھی۔کہ وُہ  جِس مٹی کے ڈھیر میں ہاتھ ڈال دیتے۔ وُہ مٹی سُونا بن جاتی تھی۔ اُنہیں اُنکے ایک دوست نے پرائز بانڈ خریدنے کا مشورہ دیا تھا۔ جسکے بعد  کاروبار کیساتھ اُنہیں ہر ماہ کوئی نہ کوئی پرائز بانڈ بھی لگ جاتا۔ جِس کی بدولت اُنہیں کچھ مزید رقم بھی ہر ماہ حاصِل ہُونے لگی تھی۔پھر اُنکا بُرا وقت شروع ہُوا۔ تو اُنکے ایک دُوست نے اُنہیں جلد مزید دُولت حاصِل کرنے کیلئے پرائز بانڈ کیساتھ ساتھ پرچی کھیلنے کا مشورہ دیا۔ جہاں سے اُنکی بربادی کی کہانی شروع ہُوگئی۔

پہلے اُنکا بزنس آہستہ آہستہ محدود ہُونے لگا۔ پھر پرائز بانڈ کھلنے کا رستہ بھی رفتہ رفتہ بند ہُوگیا۔کچھ ہی عرصہ میں دُولت سے کھیلنے والا یہ نوجوان ایک ایک روپیہ کا محتاج ہونے لگا۔ نُوبت یہاں تک پُہنچی کہ،، ایک دِن وُہ مجھ سے روتے ہُوئے کہنے لگے۔ کہ،، پہلے میں اپنے بچوں کو روزانہ مرغ  و فاسٹ فُوڈ کِھلایا کرتا تھا۔ جبکہ اب تو جیب میں اتنے پیسے بھی نہیں ہُوتے ۔ کہ ٹھیلے سے میتھی ساگ خرید سکوں۔۔۔ پھر کسی نے اُنہیں میرے مُرشد کریم کے متعلق بتایا ۔کہ اگر سیدنا سراج الدین وارثی (رحمتہ اللہ علیہ) تمہارے واسطے اپنے دست اقدس کو اللہ کریم کی بارگاہ میں اُٹھادیں۔ تو تمہاری بگڑی بات بن سکتی ہے۔

اُنہیں یہ تو معلوم تھا کہ،، سیدنا  سراج الدین وارثی(رحمتہ اللہ علیہ) میرپورخاص شہر میں جلوہ افروز ہیں۔ لیکن وُہ یہ نہیں جانتے تھے۔ کہ،، بابا صاحب میرے مرشد کریم ہیں۔ اُور مجھ سے بُہت محبت کرتے ہیں۔ اُور میں نے بھی اُنہیں سرپرائز دینے کی نیت سے میرپورخاص تو بُلوالیا۔ لیکن اُنہیں  بابا صاحب سے اپنے تعلق سے آگاہ نہیں کیا تھا۔ لیکن جب اُنہیں  میرپورخاص  پُہنچ  کر یہ  بات معلوم ہوئی تو وُہ کہنے لگے۔ اقبال بھائی اب تو میرا کام مزید آسان ہُوجائے گا۔ آپ بس ذرا میری سفارش کردیجئے گا۔

اُس دِن نجانے کیسے میرے مُنہ سے وُہ جملہ نِکل گیا۔ جسکی تکلیف کا اِحساس اُور شرمندگی مجھے آج بھی مغموم کردیتی ہے۔ میں نے اُنکے سوال کے جواب میں کہہ دِیا۔ کہ وُہ اللہ کے ولی ہیں۔ چاہیں تو مجھے پہچانیں۔ اُور چاہیں تو پہچاننے سے انکار کردیں۔۔۔۔ میں  آج تک نہیں جانتا کہ،، کیوں یہ جملہ میری زُبان سے اُس دِن بے ساختگی میں نِکل گیا تھا ۔ جسکی قیمت ادا کرتے کرتے میری کمر دہری ہوگئی۔

وُہ جولائی کا مہینہ تھا۔ میں جب اپنے عزیز کیساتھ بابا صاحب کے آستانے پر حاضر ہُوا۔ تو بابا صاحب ایک تشت میں سندھڑی آم کاٹ کاٹ کر رَکھ رہے تھے۔ میں نے  بابا صاحب پر نظر پڑتے ہی سلام عرض کیا۔ اُور ہمیشہ کی طرح بابا صاحب کے قدم دبانے کی کوشش کی۔ لیکن بابا صاحب نے اچانک اپنے پاوٗں سکوڑ لئے۔ اُور مجھے بیگانی نظروں سے دیکھتے ہُوئے فرمانے لگے،، میاں کُون ہو؟؟ اُور یہاں کیسے آئے ہُو؟؟ پہلے تو میرے قدموں تلے سے زمین ہی کھسک گئی۔ پھر میں نے سُوچا شائد آج بابا صاحب مذاق کے مُوڈ میں ہیں۔ میں نے شُوخی سے جواب دیا۔ بابا میں ہُوں۔ آپکا اقبال! بابا صاحب نے پھر استعجابی لہجے میں دریافت کیا،، ہمارا اقبال؟؟ لیکن میں کسی اقبال کو نہیں جانتا۔۔۔

میری آنکھوں سے اشک بہنے لگے۔ اُور میں سُوچنے لگا۔ آخر آج بابا صاحب کو کیا ہُوگیا ہے۔ ہمیشہ سب کو  خود ہی کہتے رہتے ہیں۔کہ،، اقبال ہمارا ہے۔ اقبال ہمارا ہے۔ اُور آج پہچاننے سے بھی اِنکار کررہے ہیں۔۔۔ بابا صاحب وہاں سے اُٹھ کر کچھ فاصلے پر جابیٹھے۔ اُور میرے عزیز کو اِشارے سے اپنے پاس بُلا کر آم کھلانے لگے۔ جب کہ میں وہیں بیٹھا سسکتا رہا۔ پھر مجھے اپنی کہی بات یاد آئی ۔ جو میں نے اپنے عزیز سے راستے میں آتے ہُوئے کہی تھی۔ کہ،، وُہ اللہ والے ہیں۔ مجھ سے ہزار سگ اُن کے دَر پہ پڑے رِہتے ہیں۔ وُہ چاہیں تو کرم فرمائیں۔ وُہ چاہیں تو پہچاننے سے بھی انکار کردیں۔ پھر جیسے کسی نے میرے کان میں ایک حدیث پاک کا مفہوم پیش کیا۔ کہ مومن کی فراست سے بچو۔ کہ،، وُہ اللہ کریم کے نُور سے دیکھتا ہے۔۔۔ کبھی بابا صاحب کی نصیحت یاد آنے لگی۔ کہ عالموں کی صحبت میں زُبان سنبھال کر بیٹھا کرو۔ لیکن جب درویشوں کی صحبت میں حاضری دُو۔ تو اپنے دِل سنبھال کر بیٹھنا۔ کہ وُہ اللہ کریم کے خاص بندے ہُوتے ہیں۔ جو اللہ کریم کی عطا سے وُہ بات بھی جان لیتے ہیں۔ جو تُمہاری زُبان پر تُو نہیں آتی۔ لیکن تُمہارے دِلوں میں مچلتی رہتی ہے۔

اِس واقعہ کے بعد  بابا صاحب کی دُعا اُور نصیحت سے میرے عزیز کے حالات تو پھر سے بدلنے لگے۔ لیکن مجھے بابا صاحب کی زُبان سے دوبارہ وہی لفظ کہ،، اقبال میرا ہے،، سننے کیلئے  مزید پانچ برس انتظار کرنا پڑا تھا۔تب جا کر بابا صاحب نے سیدنا وارث پاک کے عرس کے عرس کے موقع پر صبح چار بجکر ۲۵ منٹ پر مجھے دیکھ کر اپنے سینے سے لگاتے ہُوئے کہا تھا۔ کہ ،،یہ میرا اقبال ہے،، رُویا تو میں اُس دِن بھی بُہت تھا۔ لیکن وُہ آنسو تو خوشی کے آنسو تھے۔

بابا صاحب کی کچھ باتیں مجھے بُہت یاد آتی ہیں۔ جیسے مجھے کشف قبور کا بےحد شوق تھا۔ اُور بابا صاحب کہتے۔ کہ،، ایمان کا خطرہ ہے اِسمیں،،۔ تب یہ بات سمجھ میں نہیں آتی تھی۔۔۔ لیکن اب بخوبی اس بات کا مفہوم جان گیا ہُوں۔۔۔ میں جنات  و موکلات کو قابو  کرنے کیلئے ضد کرکے چلہ گاہ میں بیٹھ جاتا۔ اُور  وُہ فرماتے کسی کو غلام بنانے سے بہتر ہے۔ اُسے دُوست بنالیا جائے۔یُوں کام بھی ہُوجاتا ہے۔ نقصان کا اندیشہ بھی نہیں رِہتا۔ اُور اللہ کریم کی آزاد مخلوق کو غلامی کی زنجیر بھی نہیں پہنانی پڑتی۔ میں اُس وقت نماز کی دعوت دیتے ہُوئے فتووٗں پر اُتر آتا۔ وُہ فرماتے دین میں جبر نہیں ہے۔ دین سراپا حکمت ہے۔ اِنہیں عبادت کیلئے مجبور نہ کرو۔ بلکہ  ان کے سامنے جنت کے مناظر کا نقشہ کھینچنے کی کوشش کرو۔کیونکہ  نفسِ اِنسانی  لالچی  واقع ہُواہے۔ یُوں بندہ جلد نمازی بن جاتا ہے۔

ایک مرتبہ جمعہ کا دِن تھا۔عصر کی نماز کا وقت تھا بابا صاحب اِمامت فرمارہے تھے۔ میں جماعت میں شامل ہونے لگا۔ تو میری نظر ایک صاحب پر پڑی جو  ایک ہاتھ میں مٹھائی کا ایک ٹوکرا  ۔جبکہ دوسرے ہاتھ میں پھولوں کا ہار جِس میں  گلاب و موتیا کے پھول  کچاکچ اَٹکے تھے۔ لئے ہُوئے آستانے میں داخل ہُوئے۔ نماز سے فارغ ہونے کے بعد اُنہوں نے وُہ گلاب کی مالا بابا صاحب کے گلے میں ڈال دی۔ جبکہ مٹھائی کا ٹوکرا بابا صاحب کی خدمت میں پیش کرکے بابا صاحب کے قدم دبانے لگے۔۔۔ میں بابا صاحب کا مزاج خوب جاننے لگا تھا۔ اِس لئے میں ایک بات نُوٹ کرچکا تھا۔ کہ بابا صاحب کو اُس شخص کے آنے سے خُوشی نہیں ہُوئی تھی۔۔۔ بلکہ آپ کے چہرے پر ایک ناگواری کا اِحساس تھا۔ جو شائد کسی کو دِکھائی نہیں دے رَہا تھا۔

وَہ شخص اتنے انہماک سے بابا صاحب کے قدموں کو دبائے چلا جا رہا تھا۔ جیسے اُسے دُنیا میں اِس کے سِوا کوئی کام ہی نہ ہُو۔۔۔ یہاں تک کہ مغرب کا وقت ہُوگیا۔ بابا صاحب نے مغرب کی اِمامت فرمائی تو وُہ صاحب بھی صف میں میر ے ساتھ کھڑے ہُوکر نہایت خشوع خضوع کیساتھ نماز مغرب ادا کرنے لگے۔۔۔ نماز مغرب کے بعد مریدین ایک ایک کر کے اِجازت طلب کرتے ہُوئے واپس جانے لگے۔ لیکن وُہ صاحب آرام سے ایک کُونے میں بیٹھے رہے۔۔۔ میں سُوچنے لگا بظاہر یہ آدمی اِتنا نفیس ہے۔ بابا صاحب کی محبت میں مٹھائی کیساتھ اتنا قیمتی گلابوں کا ہار بھی لایا ہے۔لیکن بابا صاحب ہیں کہ ایک نظرِ التفات بھی اِس شخص پر نہیں ڈال رہے ہیں۔۔۔۔ جب تقریبا تمام مریدین اجازت لیکر جاچُکے تو بابا صاحب نے اُس شخص کو اپنے پاس طلب  کرتے ہُوئے فرمایا۔ ہاں میاں آپ کیوں نہیں جاتے یہاں سے۔ کیا ہم سے کوئی کام ہے تُمکو؟؟ بابا صاحب کے لہجے میں چھپی ہُوئی ناگواری اب بھی بدستور قائم تھی۔ جو مجھے حیرت میں مبتلا کئے ہُوئے تھی۔۔۔۔ کیونکہ میرے بابا تو اتنی شفیق طبیعت کے مالک تھے۔ کہ خاکروب سے بھی اتنی عزت و تکریم سے گفتگو فرماتے۔ جیسے وُہ خاکروب نہ ہُو بلکہ کوئی افسر ہُو۔۔۔

اُس شخص نے  ایک مرتبہ پھر بابا صاحب کے قدموں کو دباتے ہُوئے مِنمنا کر  کہا۔  حضور میری جورو مجھ سے نہیں دبتی۔آپ اللہ کے ولی ہیں۔ کچھ ایسا کردیں کہ،، میری بیوی  میرے سامنے ہمیشہ بھیگی بِلی بنی رہے۔۔۔ اُس کی اِس عجیب سی التجا و خُواہش پر میرے چہرے پر مسکراہٹ بِکھر گئی۔ کہ،، بیچارہ کوئی بیوی کے ہاتھوں ستایا ہُوا ہے۔۔۔ لیکن بابا صاحب کے جلالی لہجے کو سُن کر دوسرے ہی لمحے مجھے حالات کی سنگینی کا اِحساس ہُوگیا۔ بابا صاحب جلالی کیفیت میں فرمارہے تھے۔ ،، اقبال میاں،، اِسکا ہار اُور مٹھائی کا ٹوکرا۔  لاکر اِسے تھماوٗ اُور اِسے یہاں سے چلتا کرو۔۔۔ میں نے سُوچا کہ،، بابا صاحب سے اُسکی سفارش کروں۔ لیکن بابا صاحب کے جلالی چہرے پر نِگاہ پڑتے ہی میرے اِرادے کی آتش صابن کے جھاگ کی مانند بیٹھ گئی۔

بابا صاحب کے جلالی لہجے نے ہُوا تو اُس شخص کے غبارے سے بھی نِکال دی تھی۔۔۔ وُہ شخص روتے ہُوئے کہنے لگا۔ بابا جی میری جورو بڑی ظالم  عورت ہے۔ آپ کرم فرمائیں۔ یا نہ فرمائیں مگر کم ز کم میری لائی ہُوئی سوغات تو واپس نہ لُوٹائیں۔میں تو آپکی رضا کیلئے اتنی دُور سے آیا تھا۔ مجھے کیا معلوم تھا۔ کہ،، آپ کو میری یہ بات اتنی بُری لگے گی۔۔۔وُہ واقعی کسی بچے کی طرح بلک بلک کر رُونے لگا تھا۔۔۔اُس کو رُوتا دیکھ کر بابا صاحب نے مجھے اِشارے سے تحائف لُوٹانے سے رُوک دِیا۔ تھوڑی دیر میں جب اُس آدمی کی حالت سنبھلی تو بابا صاحب نہایت نرمی سے اُسے سمجھانے لگے۔۔۔کہ،، بیٹا  جیسے مرد اللہ کی مخلوق ہیں۔ ویسے  ہی بیچاری یہ عورتیں بھی اللہ کی بندی ہیں۔۔۔ اِن سے مار پیٹ نہیں کرتے۔ کیونکہ یہ بنی ہی ٹیڑھی پسلی سے ہیں۔۔۔ مار پٹائی سے یہ مزید ضدی ہُوجاتی ہیں۔ دوسری بات یہ ہے کہ،، اِن پر بیجا شک بھی نہیں کرنا چاہیئے۔ ورنہ شک کی آگ اِنہیں مزید ٹیڑھا کردیتی ہے۔ اسلئے ہم سے یہ مت کہہ کہ،، انہیں میرا غلام بنادو۔۔۔ بلکہ یُوں کہہ کہ،، میرے لئے دعا کردو۔ کہ،، میری بیوی کے دِل میں میری محبت پیدا ہُوجائے۔ کیونکہ عملیات کے ذریعہ سے جو محبت دِل میں پیدا کی جاتی ہے۔ اُسکا اثر ایک نہ ایک دِن ختم ہُوجاتا ہے۔ لیکن جو محبت عمل کی وجہ سے دِل میں جڑ پکڑ لیتی ہے۔ اُسے موت بھی جُدا نہیں کرپائی۔

بابا صاحب کی بات سُن کر میں سُوچنے لگا۔،، واقعی بابا صاحب سچ کہتے ہیں۔ کیونکہ جو عامل حضرات تسخیر قلوب کا دعویٰ کرتے ہُوئے سنگدل محبوب کو چوبیس گھنٹے کے اندر قدموں مٰیں لاڈالنے کی بات کرتے ہیں۔ اگر وُہ اتنے ہی  عامل کامل ہُوتے تو روزانہ اپنی بیویوں کے ہاتھوں جُوتے نہ کھارہے ہُوتے۔ جو شخص  ایک مدت تک ساتھ رہنے والی بیوی کا دِل سالوں میں تسخیر نہ کرپائے۔ وُہ چوبیس گھنٹے میں سنگدل محبوب کو خاک قدموں میں لاکر ڈالے گا۔۔۔؟؟ البتہ اِخلاص سے کی گئی دُعا سے اللہ کریم چاہے تو دِلوں کو مسخر فرمادے۔ اُور اگر یہ دُعا کسی کامل ولی کی زُبان سے ادا ہُوجائے تو قبولیت میں کوئی شک ہی باقی نہیں رِہ جاتا۔ 

5 comments:

  1. Asslam-o-alykum
    nigah-e-mard-e-momin say badal jati hain taqderain
    gar ho zoq-o-yaqeen peyda tu kat jati hain zangirain.
    kia baat hai ALLAH WALON KI.

    ReplyDelete
  2. Asslam-o-alykum
    BHAI arz yay hai k may aap ko aksar phone kar k apnay maslay batata hon our aap koi amal bata kar us ka hal nikalnay ki koshish kartay hain ALLAH aap ko is ka ajr-e-azeem ata farmayay.
    BHAI aap ka time bohat Qemti hai mujh ko khud bhi aap ko bar bar tang karna achcha nahi lagta
    leykin bhai may kia karon aap meri zindagi may our mujh jaisay hazaron logon ki zindagi main umeed our sahara ban kar ayay hain our ALLAH ki naimat hain. BHAI may koshish karon ga k aap ko ab call nahi karon sirf bohat zarorat main sms karon BHAI mujh say koi GHALTI ho gai hai tu main bohat mazrat chahata hon BHAI meray liyay dua karyay ga may bohat gunahgar banda hon ALLAH apnay HABIB k sadqay mujh ko naik bana day our hamari bakshish farmay.
    Taib-e-DUA -o-raza.
    M.owais

    ReplyDelete
  3. salam owais bhai aap msg karain ya call mujhey dono psnd hain janab.... aur apno se kabhi bezari nahi hoti mujhey
    boht boht khush rahain.

    ReplyDelete
  4. Asslam-o-alykum
    Bhai aap ka time tou bohat qemti hai is liyay may nay phone karnay k bad socha to ehsas howa Bhai aap nay to hamesha muhabbat say hi baat ki hai. Bhai aap ki nawazish hai k aap nay mujh jaisay nalaiq ko apna kaha Bhai aap dua karain
    k ALLAH our us ka HABIB bhi mujh ko apna bna lain our is gunahon ki zindagi say nijat ata kar k mujh say bhi razi ho jain.
    JZAK ALLAH

    ReplyDelete
  5. Janab kia zabardast or haqeeqi baatein ki hein, aap ne..
    .
    Baba gee Hayat tu batai..
    me un se milna chahta hu..

    ReplyDelete