bing

Your SEO optimized title page contents

Pages

.

.

Saturday, 16 March 2013

فیضانِ اِسم اعظم ۱۵(شادیوں کے مسائل اُور من پسند شادی)۔


میرا خیال تھا کہ،، آج ہر حالت میں عشق کے رنگ۔ فاتح اعظم کی آخری قسط آپکی نذر کردوں گا۔ لیکن موبائیل پر موصول ہُونے والے  ایک میسج نے مجھے مجبور کردیا ۔ کہ آج فیضانِ اسم اعظم میں شادی سے متعلق مسائل کا اِحاطہ کروں۔۔۔ بچیوں کو کانچ سے تشبیہ شائد اِسی لئے دِی جاتی ہے۔ کہ،، اُنہیں سچے،  جھوٹے،کھرے  اُورکھوٹے میں تمیز کرنا آسان نہیں ہُوتا۔۔۔۔ جِن بچیوں کو والد کی محبت میسر نہیں آتی۔ وُہ عموماً خُود سے بڑی عُمر کے مَردوں سے جلد متاثر ہُوجاتی ہیں۔ اُور اگر انکی مناسب دیکھ بھال نہ کی جائے۔ تو یہ اکثر جذبات میں آکر ایسے مشکل فیصلے کر جاتی ہیں۔ کہ جنکا تدارک بھی زندگی بھر نہیں ہُوپاتا۔

یُوں تو یہ موضوع اَپنے اندر اتنی   وُسعت رکھتا ہے۔ کہ ایک کالم میں اِسکا اِحاطہ کرنا  مشکل ہی نہیں ناممکن بھی ہے۔۔۔ لیکن میں کوشش کرونگا ۔ کہ اپنے موضوع کو ایک خاص دائرے میں رکھوں ۔ تاکہ کم از کم کسی ایک  قِسم کی بچیوں کا تو میرے لکھنے سے بھلا ہُوجائے۔۔۔۔ ہمارے معاشرے میں کہنے کو تو خاندانی سسٹم بھی بُہت توانا ہے اُور برادری سسٹم بھی بُہت مظبوط دِکھائی دیتا ہے۔ لیکن اگر اِس سسٹم کا بغور معائنہ کیا جائے تو معلوم ہُوگا کہ اِس سسٹم کو بھی مفادات کی دیمک چاٹ کر کھوکھلا کرچکی ہے۔  جِس میں امیروں کیلئے الگ قانون موجود ہے۔ اُور کمزور لُوگوں کیلئے الگ قانون موجود ہے۔ یہی وجہ ہے کہ امیر آدمی غریب کی پرواہ نہیں کرتا۔ اُور غریب کو امیر سے کوئی سروکار نہیں ہے۔

عموماً یہ بات مشاہدے میں آئی ہے۔ کہ بچیوں کی پیدائش کیساتھ ہی مائیں بچیوں کی شادی  کے خُواب بُننے لگتی ہیں۔ اُور جُوں جُوں بچیاں بلوغت کی دہلیز پر قدم رکھتی جاتی ہیں۔ یہی مائیں اپنے خواب بچیوں کے ذہن میں منتقل کرچکی ہُوتی ہیں۔۔۔۔ لیکن ہمارے معاشرے کی ایک یہ بھی بڑی بدقسمتی ہے۔ کہ اکثر بچیاں اچھے رشتوں کے انتظار میں اپنے بالوں میں چاندی سجا لیتی ہیں۔ لیکن اچھے رِشتے میسر نہیں آتے۔۔۔ جسکے بعد اِن لڑکیوں کی سُوچ میں خود اپنا جیون ساتھی ڈھونڈنے کی خواہش  پیدا ہُوکر رفتہ رفتہ بڑھتی چلی جاتی ہے۔۔۔۔ پھر ذرا کسی نے اِن کے آبگینے میں جھانکھ کر اِن سے دُو چار لچھے دار باتیں کیں۔ یہ وہیں اپنا دِل ہار بیٹھتی ہیں۔۔۔۔ کئی مَرد جب اِن لڑکیوں کو یہ یقین دِلانے کے بعد کہ،، میں دنیا یہاں کی وہاں ہُوجائے۔۔۔ لیکن شادی تُم ہی سے کرونگا۔ شیشے میں اُتار چکتے ہیں۔ تو اُن کی پہلی خاہش یہی ہُوتی ہے۔ کہ وُہ آنکھ بند کر کے اُن پر اعتماد کرسکتی ہیں۔ اُور پھر ایک دن وُہ بھی آتا ہے۔ جب وُہ بچیاں اپنا سب کچھ ہار کر تہی دامن ہُوچکی ہُوتی ہیں۔ جب تک حقیقت اُن کی سمجھ میں آتی ہے۔ تب تک پانی سر سے گُزر چُکا ہُوتا ہے۔


محترم قارئین جیسا کہ میں نے اپنے پہلے پیراگراف میں کہا۔ کہ بچیاں کانچ کی مِثل ہوتی ہیں۔۔۔۔ تو مجھے یہ کہنے میں بھی کوئی ہچکچاہٹ نہیں ہے کہ ،، جہاں ایک طرف مردوں کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ مَرودوں میں انبیاٗ کرام علیہ السلام  اُور صالحین تشریف لائے ہیں۔ تو دوسری طرف مردوں  میں  سے ہی  کچھ ایسے قبیل کے لُوگ بھی موجود ہیں۔ جنہوں نے اپنی چرب زُبانی اُور لچھے دار باتوں سے ہزاروں نہیں لاکھوں  بچیوں کو اپنے دام فریب میں مُبتلا کیا ہوگا۔ اُور جب اُنکا مطلب نکل گیا تو وُہ  پالتو عقابوں کی طرح پُھر سے اُڑ جاتے ہیں۔

اسلئے میں اپنی تمام بیٹیوں اُور بہنوں سے کہوں گا۔ کہ وُہ کبھی بھی اللہ کریم کی رحمت سے مایوس نہ ہُوں۔ اگر اللہ کریم نے آپکا جُوڑ بنایا ہے۔۔۔ تو وُہ ضرور بالضرور آپکو مِل کر رہے گا۔۔۔۔ اِس لئے والدین کے موجود ہُوتے آپ ہرگز پریشان نہ ہُوں۔۔۔۔ آپ ذرا یہ تو سوچیں کہ اگر آپکی شادی اب تک نہیں ہُوئی ہے۔۔۔ تو کیا آپ کے بھائی آپ کیلئے فکرمند نہ ہُونگے۔۔۔۔ چاہے اُنہیں اس بات کا اظہار کرنا نہ آتا ہُو۔۔۔۔ کیا آپ کے والد جو بظاہر عشاء کے بعد سُوتے نظر آتے ہیں۔۔۔۔ کیا وُہ جوان بیٹی کے گھر میں موجود ہُوتے سکون کی نیند سُو پاتے ہُونگے۔۔۔ کیا آپکی والدہ کی آنکھیں آپکے متعلق  سُوچتے سُوچتے بھیگ نہیں جاتی ہُونگی۔۔۔۔۔ اگر آپ اِس کے برخلاف سُوچتی ہیں۔ یا آپ کو لگتا ہے کہ آپ کے فیملی والوں کو آپکا خیال نہیں ہے۔ تو آپ میری خاطر ہی سہی ایک مرتبہ،، لاحول ولا قوۃ  ،، پڑھ کر دُوبارہ اپبے دِل سے سوال کریں۔ آپکو اندازہ ہُوجائے گا۔ کہ وُہ صرف شیطانی وساوس ہیں۔ اسکے سَوا کچھ بھی نہیں۔۔۔۔

اِس لئے مہربانی فرماکر اپنے اُور اپنے والدین کے حال پر خُدا کیلئے رحم کھائیں۔۔۔۔ ورنہ بعد میں پچھتاوے کے سِوا کچھ ہاتھ نہیں آئے گا۔ اُور میری جو بہنیں پہلے ہی کسی مرد کی چکنی چپڑی باتوں میں آکر دھوکہ کھا چکی ہیں۔ وُہ خدا کے واسطے اس حدیث کے مفہوم پر نِگاہ دُوڑائیں۔کہ،، موٗمن ایک سوراخ سے دُو بار نہیں ڈسا جاتا۔۔۔۔ کیونکہ میرے پاس اکثر ایسے بھی میسج آتے ہیں۔ جسمیں میری یہ بچیاں مجھ سے کہتی ہیں۔ کہ آپ ایسا کوئی عمل بتادیں۔ جسکی وجہ سے ہماری اُس ہی شخص سے شادی ہُوجائے۔ کہ جِس نے ہمارے بھولپن سے کھیلتے ہُوئے ہمیں کہیں کا نہیں چھوڑا۔۔۔ آپ یقین کریں۔۔۔ مجھے اُنکی اِس معصوم سُوچ پر حیرانی بھی ہُوتی ہے ۔ اُور افسوس بھی۔ یہ بیچاری کتنی بھولی بھالی بھیڑیں ہیں۔ جو ایک بار بھیڑئیے کا شِکار بننے کے باوجود اُنہی بھیڑیوں سے یہ توقع کررہی ہُوتی ہیں۔ کہ شائد اب اُس بھیڑیئے کو ہم پر ترس آجائے۔۔۔۔ اُور وُہ ہمیں پامال کرنے کے بجائے ہمارا نگہبان بن جائے۔ اُور ہماری حفاظت کرنے لگے۔۔۔۔ اِن بیچاریوں کو شائد یہ نہیں معلوم۔ کہ جب ایک مرتبہ بھیڑیئے کے مُنہ کو خُون لگ جاتا ہے۔ تب وُہ اِس خون کی لذت کا عادی بن جاتا ہے۔۔۔ وُہ رحمانی نہیں رِہتا بلکہ شیطان کا آلہ کار بن جاتا ہے۔۔۔۔ لیکن جسے اللہ توفیق دے۔


لیکن میرے آج کے میسج میں ایک بچی جسکی عمر شائد بیس برس سے پچیس برس کے درمیان ہُوگی۔ نے ایک عجیب خواہش کا اظہار کیا ہے۔ کہ اُسکے لئے کوئی معقول تو کجا ٖغیر معقول رشتہ بھی نہیں آتا۔۔۔۔ شائد اِسی وجہ سے اُسے ایک ایسے شخص سے مُحبت ہُوگئی ہے۔ جو اسکے والد کی عمر کا ہے۔ وُہ مایوسی کی گہرائی میں گرتی چلی جارہی ہے۔۔۔۔ سُونے پر سہاگہ یہ کہ وُہ شخص پہلے سے شادی شُدہ زندگی گُزار رہا ہے۔۔۔ اُور جوان بچوں کا باپ ہے۔اُور ایک حیات بیوی کا شوہر بھی ہے۔۔۔۔

ذرا سوچئیے !  تو سہی۔ بالفرض آپ کی شادی اُن صاحب سے ہُو بھی جاتی ہے۔ تو کیا آپ تمام عمر ایک ایسے انسان کے ساتھ بخوشی رِہ پائیں گی۔ جسکی جوان بیٹیاں آپکے برابر ہُوں۔ کیا وُہ بٹا ہُوا شخص آپکو وُہ محبت دے پائے گا۔ جسکی تمنا ہر ایک کنواری لڑکی  کیاکرتی ہے۔۔۔ اگرچہ اسلام  ایسے رِشتوں کی ممانعت نہیں ہے۔ بلکہ یہ سُنت مبارکہ بھی ہے۔۔۔ لیکن کہاں وُہ نفوسِ قُدسیہ اُور کہاں ہم لُوگ۔۔۔۔ وُہ معاشرہ جُدا تھا۔ اُور یہ معاشرہ جُدا ہے۔ وَہاں چار شادیاں عام بات تھی مرد کیلئے ۔۔۔ یہاں دُوسری بھی عذاب کی صورت بن جاتی ہے۔ لیکن کیا ہماری خواہشات  ہماری سُوچ میں اُن نفوسِ قُدسیہ سے کوئی مماثلت ہے۔۔۔۔۔؟  جواب اپنے دِل سے پُوچھ لیجئے۔۔۔۔ اُور ذرا یہ بھی سُوچیئے گا۔ کہ جب پندرہ برس بعد آپ جوان ہی ہُونگی ۔ تو کیا وُہ شخص بستر نہ پکڑ چُکا ہُوگا۔۔۔ اُور جب آپ اپنے والدین کو اپنی پسند سے آگاہ کریں گی۔۔۔ تو اُن کے دِل پر کیا بیتے گی۔۔۔۔ ؟ کیا اُنہیں یہ احساس نہیں ہُوگا۔ کہ وُہ اپنی بچی کیلئے کوئی بہتر رشتہ نہ ڈھونڈ پائے۔۔۔۔ جسکی وجہ سے اُنکی بچی آج ایک بوڑھے شخص سے بھی شادی کیلئے تیار ہے۔ اِس لئے جذبات میں بہنے کے بجائے پرسَکون ہُو کر حقیت پر نِگاہ رکھیں۔۔۔ آپکو میری بات سمجھ میں آجائے گی۔


اسلئے میں اپنی تمام بہنوں کو ایک مشورہ دینا چاہتا ہُوں۔۔۔۔ کہ یہ فیصلہ اپنے والدین پر اِس یقین کیساتھ  چھوڑ دیجئے۔ کہ اُن سے بہتر آپ کیلئے کوئی نہیں سُوچ سکتا۔۔۔۔ کوئی بھی نہیں۔۔۔ ہاں وُہ بچیاں ۔ کہ جنکے والدین حیات نہیں ہیں۔ وُہ ضرور اپنے لئے رشتہ تلاش کرسکتی ہیں۔ لیکن خدا کیلئے مردوں کی  لچھے دار باتوں میں آنے کے بجائے اپنے انجام کی طرف نظر رکھیں۔ کہ مردوں کی شیریں زُبان کے پیچھے ضروری نہیں کہ ،، اُنکا دِل بھی پاکباز ہُو۔ اُور اُنکی نیت بھی صاف ہُو۔۔۔

آپ سُوچ رہی ہُونگی ۔ کہ وارثی صاحب کی باتیں بھی لچھےدار ہی ہیں۔۔۔ کہ مسئلہ کی طرف نشاندہی تو کردی۔ لیکن مسئلہ کا کوئی حل نہیں بتایا۔ کہ آخر اِس مسئلہ سے نِمٹا کیسے جائے۔۔۔۔؟ تو میری بہنوں میری آج کی بات کو بُہت دھیان سے پڑھنا ۔اُور اِن باتوں کو اپنی پاکیزہ چادر میں گرہ ڈال کر ہمیشہ یاد رکھنے کی بھرپور کوشش کرنا۔ تاکہ آپکو معلوم ہُوجائے۔ کہ آخر کیوں ہماری دعائیں قبول نہیں ہُوتیں۔ اُور آخر کیوں ہمارے گھر لاکھ دُعاوٗں کے باجود اچھے رشتے نہیں آتے۔۔۔؟
سب سے پہلی بات تو یہ ہے۔۔۔۔۔ کہ جِس  کسی سے بھی  جو شئے مانگی جائے۔۔۔۔ اُس میں تین  خوبیوں کا ہُونا از بس ضروری ہے۔۔۔۔ اگر جس سے مانگا جائے اُور اُس میں ایک بھی خوبی کم ہُو۔۔۔ تو وُہ آپ کو  کچھ نہیں دے پائے گا۔
پہلی خُوبی۔۔۔۔ کہ جو شئے مانگی جارہی ہُو۔ وُہ شئے اُس کے پاس موجود  بھی ہُو۔ ورنہ ۔انکار ہُوجائے گا
دُوسری خُوبی ۔۔۔جس سے  کوئی شئے مانگی جارہی ہُو۔۔۔ وُہ آپکو جانتا بھی ہُو۔ اُور آپ سے محبت بھی کرتا ہُو۔۔۔۔ اگر شئے تو موجود ہُو۔ لیکن دینے والا جانتا نہ ہُو۔ تب بھی انکار کا خدشہ ہے۔۔۔۔ اُور جانتا تو ہُو۔۔۔ لیکن آپ سے محبت نہ ہُو۔۔۔ تب بھی انکار کے چانسز ذیادہ ہیں۔
تیسری خُوبی۔۔۔ کہ،، دینے والا بخیل نہ ہُو طبعتاً سخی ہُو۔۔۔ ورنہ چاہے  جانتا بھی ہُو۔۔۔ اُور محبت بھی رکھتا ہُو۔۔۔  اُور وُہ شئے بھی اُس کے پاس موجود ہُو۔۔۔لیکن اُسکا بُخل اُسے وُہ شئے دینے سے رُوک دے گا۔۔۔۔۔ امید ہے کہ آپ سب کو میری بات اچھی طرح سے سمجھ میں آگئی ہُوگی۔۔۔۔

اِن تین خُوبیوں کا تصور  ذہن میں آتے ہی۔۔۔ اللہ کریم کا تصور ذہن میں  اُبھرتا ہے۔۔۔ یا اُسکے مدنی محبوب ﷺ کا  اِسم گرامی ذہن میں آتا ہے۔۔۔ ایک خالق ہے۔۔۔۔ اُور ایک خالق تو نہیں مگر خالق کا محبوب ہے۔۔۔۔ اُور محبوب صفت کا عکس ہُوتا ہے۔ اللہ کریم  ہر شئے کا خالق بھی ہے اُور مالک بھی۔۔۔۔  لیکن قاسم(تقسیم کرنے والا) اُس نے اپنے محبوبﷺ کو بنادیا۔
وُہ  کریم رَبّ اَپنے تمام بندوں سے بے انتہا محبت کرتا ہے۔۔۔۔ لیکن  جان رحمت اپنے محبوبﷺ کو بنادیا۔
وُہ  پروردیگار خود بھی سخی ہے۔ اُور قران پاک میں اُس نے اپنے محبوبﷺ کے لئے ارشاد فرمادیا۔ کہ یہ محبوبﷺ بخیل نہیں ہے۔
سیدی اعلحضرت نے اِن تمام باتوں کو ایک ہی شعر میں کیا خُوب فرمادِیا ۔۔۔

میں تُو مالک ہی کہوں گا۔کہ،، ہُو مالک کے حبیب
یعنی محبوب و محُب میں نہیں ۔میرا،تیرا

اب ایک تیر بحدف  وظیفہ پیش خدمت ہے۔۔۔  ہر جمعرات کو عصر کی نماز کے بعد ایک پیکٹ ٹافیاں حسب توفیق قیمت کا منگوا لیا کریں۔ اُن ٹافیوں  پر والدین مصطفےٰﷺ، شہدائے بدر  اُور  سیدنا غوث اعظم کی فاتحہ دِلوا کر چھوٹے بچوں میں  عصر کی نماز کے بعد شادی کی نیت سے تقسیم فرمادیا کریں۔

مغرب کی نماز کے بعد دُو رکعت صلواۃ الحاجات پڑھ کر ایک تسبیح درودِ پاک کی پڑھیں۔۔۔ ۱۰۰ مرتبہ ،، یا لطیفُ  یا رَشِیدُ اَرشِدنی پڑھ کر ۴۱ مرتبہ پھر درودِ پاک پڑھ لیا کریں۔ ایک مرتبہ سورہ رحمن پڑھ کر ۳۱ مرتبہ سورہ کوثر پڑھیں پھر ۴۱ مرتبہ سورہ فاتحہ پڑھیں۔ آخر میں ۶۳ مرتبہ درود پاک پڑھ کر اپنے لئے بہتر رشتہ کی دُعا کریں۔۔۔۔ اُور تین خوبیوں  والی بات   کو ذہن میں رکھ کر اگر آپ نے  اخلاص و یقین  کامل سے دُعا کرلی۔۔۔۔ اُور اسکے بعد بھی اگر آپکی دُعا قبول نہ ہُو ۔ اُور اُس  مانگے جانے والے رشتے میں کوئی قباحت بھی نہ ہُو۔۔۔ تو حشر میں میرا دامن پکڑ لیجئے گا۔۔۔۔انشا ءَ اللہ چند جمعرات  کے مسلسل عمل کی برکت سے ایک نہیں بے شُمار رشتے آپ کی دہلیز پر آجائیں گے۔

اپنی من پسند شادی کیلئے اِس عمل کیساتھ ۷۷ مرتبہ حسبنااللہ و نعم الوکیل کا وظیفہ بھی آنکھ بند کرکے مطلوبہ شخص کو ذہن میں رکھتے ہُوئے کرلیں ۔ اُور ۷۷ کی تعداد پُوری ہُونے کے بعد اُس پر تصور میں دَم کردیں۔۔۔۔ اگر وُہ رشتہ آپ کے حق میں اچھا ہُوا۔۔۔ اُور اُس  میں کوئی شرعی قباحت نہ ہُوئی تو انشااللہ وہ رشتہ بھی خود چل کر آپ کے در پر آجائے گا۔۔۔ لیکن بہتر یہی ہے۔۔۔ کہ من پسند شادی کے بجائے اللہ کریم  کی ذات  پر اپنی  قسمت کا فیصلہ چھوڑ دیا جائے۔۔۔ کیونکہ وُہ ہم سے ذیادہ  محبت رکھتا ہے۔ اُور ہمارے لئے کیا بہتر ہے۔ وہی بہتر جاننے والا ہے۔

اُس کے تو عام ہیں الطاف شہیدی سب پر
تُجھ سے کیا ضد تھی۔ اگر تو کسی قابل ہُوتا


والسلام مع الاکرام: آپکا عشرت  اقبال وارثی

19 comments:

  1. salam bhai ap na aj jo kuch hamari society ma ho raho ha is ma one persent bhe kam nahi likha or ap na jo tamam logo ko samjhaya ha bohat bhob zabardast .bate sirf samjna ke ha ALLAH ap ko ajara azeem atta farmaya (AMEEN) duayo ke darkhasat IRUM HANIF

    ReplyDelete
  2. Sir aap ne bht hi acha wzifa bt dya ha ye shadi ka maslah tu ab hr dosri lrki ka ha koi munasib rishta hi nhi milta ALLAH apko bht achi seht k sth lmbi zindgi dein or esk liay bht sara ajr...AMEEN

    ReplyDelete
  3. me apka hamosh kaari hn ik arsy sy read krta hn.kfi arsa hoa mulk sy bhir ta,ab wapis aya hon,to pta chla k apne blog bna lia ha hushi hoi.

    Warsi bhai kash apne yh qalam phly lika hta to aj meri khani ye na hoti.apka qalam pr kr boht kch yd a gey ha.dil kr rha ha share krny ko.

    mri umr 66 sl ha or is time nana dada bn chuky hn pr sb rishon sy dor hn yh 18 sl phly ki bat ha k ma doston k sth train sy Sargodha ja rha tha rste ma aik family mili to unko koi masla hoa..ma masla nahi btana chata knk newspapers mei aaya tha mamla.unki help ki tufamily sy aik dili taluq bn gaya jo baad me b qaim raha aur ye mri ghalti thi jis ne tabahain la din mri life me.
    ma us family ka nam b nhi btaon ga wo boht mshor famly ha or mujy apni jan b piari ha.mera unk sath aana jna shoro ho geya to unki aik beti ny mjy like krna shoro kr dia mju ni pta tha q ky mri aadat hnsy bolny ki ti tu wo pta ni kya smji.or uski nsmji ne mjy darbdr kr dia q k ma b insan tha or shtan havi ho gya or kuch ni deka k wo mri beti ki umr ki ha bs nafs ka ghulamm bn geya.or us lrki ko ly kr bag gaye.pr iss kmbkht nfs ki gulmi ne khin ka nai chura,ghr geya tu bv bcho ne qabol na kia usko na muj ko,job sy nikal dia geya k beta ghar chhor geya beti ne khudkushi kr li k kuch dino me uski shadi hone wali thi.bv ne khula le lia.
    or pir jis k ley sb kuch kia us ne ye sb tentions dekhi tu sb ishq hawa ho geya.or usk bap or bhai dhondty muj tk pohanch gaye whan se jan bcha kr bagy per wo lrki itni takleifn dekh kr aik din apny bap bhaion k sath mafi talafi kr li or sara ilzam muj pe dal dia k mei ne warglya ha.ho sakta ha k wo mri jan bachana chahti ho apny bap bhaion se is leay unk sat chli gae.mjy uno ne jail dlwa dia,mra na ghr rha na famly na saht,wo lrki hush ha usk piary bachy hen shohr mashor admi ha or me aik ghreb gumnam.

    tu mri sb betion sy bhno sy iltija ha k agr koi mery jaisa unko warglaye tu Khuda Ra uski baton me na aien q k na to uska kuch bny ga na us larki ka,zillat bari life mile ge.
    shadi to ik din ho jni ha pr usk ley galt tariqa chunna bdtarin galti ha.dunia b tabah or akhrat b.


    or yh qisa is ley lika k shaid kisi ko ebrat hasil ho jay or zindagi sanwar jae khas tor pr mery jaise mardon ko nfs ki gulami se nijat mil jay k wo ksi lrki ki zndgi brbad krny sy phly apni beti ko smny rkhen k wo hudkushi na kr le ya beta ghr chor k chly jay.aisy mamlon mei loss hi loss ha dunia k izet or itbar jata ha akhrat ma b ruswai q k is sb se pehly society me office me family me hr jaga mri boht izet ti log etbar krty te pr ab moh chapa kr ik kone ma pra hn q k kisi ko yaqin nai ta k ma yh sb kr skta hn ksi k jawn bchi ko wargla skkta hn.


    dua ki iltija ha k mera RAB galt biyano pe maaf kry or dunia akhrat ki ruswaon se sbko bachay amen

    ReplyDelete
    Replies
    1. Uncle kamran apki zindgi ka almia per ker dukh hoa.ap sirf apny apko kyo belame dy rahy hen us larki ka b qasoor hae bal k mujy uska qasor ziada lagta hai kyo k usne aik ghier k leay apny muhabat kerny waly ma bap behn bhaio k piar aur khandan ki izat ka nahi socha aur wo apny nfs ki ghulam hoi to samny ki baat hai k jo larki apni family sy wafadar na rahi wo ap sy kb tak rehti kyo k agar usko ap sy ya apni family sy muhabat hoti to wo qurbani daiti kyo k sachi muhabat to na khandan ko ruswa kerti hae na mehbob ko.to uncle ji ap sy guzarish hae k ap iss sb sy bahir niklein aur apni family sy dobra milny ki koshish karein bal k kuch perny k leyi wazifa lein yahan sy to apko sakon mily.

      Delete
  4. Asslamo alikum Mohtram Ishrat sahib,
    iss Kalim sey ham ghier shadi shuda ki bohat help hoi hey yahi hota hai k rishta ata hae koi pasand nai kerta ya kch na kuch aor rukawat aa jati hey.bs kal Jumarat sey he shoro kerti hon meine to apni doston ko b bta dia hai k is kalim ko share karein jitna ker sakti hein oroon ka b bhala ho.

    bohat shukria ALLAH TA'ALA apko jaza e khier dey,Aameen
    dua mein khas khiyal rakhein k meri shadi jaldi ho jaey k meri family bohat ziada parishan hey k mein ikloti bari behn hoon to meri waja sey bhaion ki shadia b ruki hoi hein.

    ReplyDelete
  5. salam alekum
    i have really thankfull the authur
    becaze i gotted my some sloution in this article
    thanks allot sir
    isra ali

    ReplyDelete
  6. ASSALAm ALE KUM BHOT SHUKriya bhai

    ReplyDelete
  7. Mujy to aisi lrkion k leay afsos hi hota hai jo apni kisi psycho problem k leiy ya kisi zehni girah k lyie aisy adventur krti hen or na sirf apni ruswai ka saman kerti hen bal k itny logo ko dukhi ker k duaon k bina zindgi shoro krti hen tu us men brkat kahan rehni hei hr pal baduaon k hisar mein rehti hen.Khuda hi aisi lrkion ko hidayt de.

    ReplyDelete
  8. اللہ میرے استادِ گرامی کو مکلم صحت عطا کرے، آپ کا سایہ تادیر قائم رہے۔
    اس کالم سے بہت سے مردہ دلوں کی دوا ہوئی ہے۔ پریشانیوں سے نجات ملی ہے۔ میں نے کئی بہن بھائیوں کو یہ وظیفہ ارسال کیا ہے۔ الحمدللہ ایک انمول خزانہ ہے۔
    الحمدللہ علٰی احسانہ

    ReplyDelete
  9. آپ سب کی محبتوں، چاہتوں، اُور نیک تمناوٗں کیئے آپ سبھی کا بے حد مشکور ہُوں اللہ کریم آپ سب کو دونوں جہانوں کی خوشیاں عطا فرمائے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آمین

    ReplyDelete
  10. This comment has been removed by the author.

    ReplyDelete
  11. Assalam Ale Kum,

    Ishrat Bhai aap ke column ko mainye padha kafi khusi hui k aap logo ki madad kar rahye hai, Bhai mera masla yeh hai ki meri umar 32 years ho gai hai ghar ki zimedario ki wajah se mainye Shadi nahi ki thi abtak, ab halat kafi behtar ho gaye hai, is liye mainye nikah ka irada kiya hai ek ladki mujhye pasand hai jis ka last year divorce ho hai, mainye ghar pe baat ki hai magar merye ghar walye razi nahi ho rahye hai, ghar walye lallach mai lagye hai ki wo kisi badye ghar se ladki laye merye rishtye mai mai kiya karo kuch samjh mai nahi araha hai, Mera Naam Akbar Ansari Hai or mai mumbai mai rehta ho, Please agar koi wajaif hai to mujhye bataye maine kafi soch k us ladki ko pasand kiya hai or har nisbat se behtar hai merye liye. App please kuch suggest karye

    ReplyDelete
    Replies
    1. وعلیکم السلام اکبر انصاری بھائی آپ صرف گیارہ دِن تک صلواۃ الاسرار پڑھیں اسکے بعد ایک مرتبہ پھر اپنے گھر والوں سے کہیں اسکے بعد انشا اللہ آپکو کسی وظیفہ کی حاجت نہیں رہے گی
      والسلام

      Delete
  12. Assalam Ale Kum,

    Ishrat Bhai aap ke reply ka bohat sukriya, Bhai kiya aap mujhye yeh bata saktye hai ki Salat-ul-Israr kiya hai or issye kaisye or Kab Padhna hai, Q k mainye is kabhi is kye barye mai pehlye kabhi suna nahi hai, please aap agar mujhye is barye mai bataye

    App ka Bhai

    ReplyDelete
  13. ۴۱ & ۶۳ yh 21 & 93 hai kia?

    ReplyDelete
  14. I cant understand digits Ishrat bhai kia aap bta dain gay?

    ReplyDelete
  15. A.o.a ishrat BAI meri age 26 ha army person hu 5 sal se aik lrki mre gawn ki ha mgr rushtedar nhi ha is se bepna mhbat krta hu with b bht krti ha.bht bht koshish k bad izat se hmara rishta hva .2 month rishty k chly Phir muj PR aik ilzan LGA kci 3sri lrki k sath najaiz talokat ka.is MRA rishta taqrubun 95% toot chuka ha.MRI ghlti zror h mj PR ilzam kch had tk theek b ha Ku k os lrki k mjbur krny PR me ne bat ki taluk rakha mgr bht km arsa.mjy ni pta tha k itni bat PR me sb kch kho du ga.hn dunu ni rh skty ak dosry k bina an to hmari bat b ni hoti WO b mj se naraz ha plzzzz koi rasta bta rain wrna nuksan o jyga hmara.me is k baghair ak pl ni g skta

    ReplyDelete
  16. A.o.a ishrat BAI meri age 26 ha army person hu 5 sal se aik lrki mre gawn ki ha mgr rushtedar nhi ha is se bepna mhbat krta hu with b bht krti ha.bht bht koshish k bad izat se hmara rishta hva .2 month rishty k chly Phir muj PR aik ilzan LGA kci 3sri lrki k sath najaiz talokat ka.is MRA rishta taqrubun 95% toot chuka ha.MRI ghlti zror h mj PR ilzam kch had tk theek b ha Ku k os lrki k mjbur krny PR me ne bat ki taluk rakha mgr bht km arsa.mjy ni pta tha k itni bat PR me sb kch kho du ga.hn dunu ni rh skty ak dosry k bina an to hmari bat b ni hoti WO b mj se naraz ha plzzzz koi rasta bta rain wrna nuksan o jyga hmara.me is k baghair ak pl ni g skta

    ReplyDelete