bing

Your SEO optimized title page contents

Pages

.

.

Friday, 1 May 2015

خُدا کی تلاش!



محترم قارئین السلامُ علیکم
کل رات جب میں چھت پر چادر بِچھا کر سونے کی تیاری کر ہی رہا تھا ۔تبھی میری چار سالہ بیٹی  جائزہ علی بڑی آہستگی سے چلتی ہُوئی میرے قریب آئی۔ اُور مجھ سے لپٹ گئی ۔ اُس نے اپنے ننھے سے سر کو میرے سینے پر رکھا۔ اور ہاتھوں کے شکنجے میرے جسم کے گرد کسنے لگی۔ میں نے پوچھا بیٹا کیا بات ہے کیا نیند نہیں آرہی؟
نہیں بابا آپ سے ایک بات پوچھنی ہے

میں نے کہا پوچھو بیٹا کیا بات ہے وہ آسمان کی طرف اشارہ کر کے پوچھنے لگی بابا یہ آسمان میں کیا چیز چمکتی ہے؟
میں نے کہا بیٹا یہ ستارے ہیں-

تب اُس نے دوسرا سوال داغا بابا کیا یہ ہمارے گھر سے بڑے ہیں یا چھوٹے؟
میں نے کہا بیٹا یہ ستارے ہمارے گھر سے بھی بڑے ہیں بلکہ ہمارے شہر بھی بڑے ہیں بلکہ شائد ہماری زمین سے بھی بڑے ہیں-

تب اُس نے حیرت سے پوچھا بابا یہ ستارے اتنے بڑے ہیں تو آسمان میں کس چیز سے لٹکے ہوئے ہیں؟
میں نے کہا بیٹا یہ کسی چیز سے بھی نہیں لٹکے بلکہ اللہ کریم کی قدرت سے آسمان میں لٹکے ہیں تبھی میں نے محسوس کیا کہ میری بیٹی کی گرفت میرے جسم پہ مزید سخت ہوگئی، میں نے اپنے ایک ہاتھ کو اس کے ننھے ہاتھوں کی گرفت سے نِکالا اور اُس کے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے پوچھا بیٹا مگر تم پریشان کیوں ہورہی ہو؟

تب اُس نے اپنے خدشے کا اظہار کیا بابا مجھے ڈر لگتا ہے کہیں یہ ستارے آسمان سے گِر نہ پڑیں! بابا کیا یہ ستارے گِر نہیں سکتے؟ 
میں نے جواباً کہا بیٹا اللہ کریم اپنے بندوں سے بُہت محبت کرتا ہے اس لئے وہ اِن ستاروں کو کبھی ہم پر نہیں گرنے دیگا-

بابا کیا اللہ تعالیٰ ہم سے کبھی ناراض ہوگیا تو وہ ہم پر ستارے گِرا دیگا؟ اُس نے اگلا سوال داغا
نہیں بیٹا وہ اپنے بندوں پر بُہت مہربان ہے وہ ہم سے ناراض بھی ہوجاتا ہے تو معافی مانگنے پر فوراً خوش بھی ہو جاتا ہے وہ بُہت مہربان ہے بیٹا تُمہاری امّی تم سے جِتنا پیار کرتی ہیں وہ اُس سے بھی بُہت بُہت زیادہ مُحبت کرتا ہے-

بابا اگر مجھ سے غلطی ہوجائے اور میں معافی مانگوں تو کیا اللہ تعالی مجھے معاف کردیگا؟
ہاں بیٹا وہ سبھی کو معاف فرما دیتا ہے-

میں نے دیکھا میرے اس جواب سے اُس کہ چہرے پر اطمینان کی لہر دوڑ گئی اور اُس کی گرفت بھی میرے جسم پر کمزور پڑنے لگی تھی-

بابا جب تمہیں کسی پر غصہ آتا ہے۔ تو تُم بھی معاف کر کے خوش ہوجاتے ہو۔۔۔؟
میں نے اُسکی جانب دیکھا اور سوچا یہ آج مجھ سے کیسے سوال کر رہی ہے۔ لگتا ہے جیسے میرا ٹیسٹ لیا جارہا ہو۔۔۔ حالانکہ میں جانتا ہوں وہ اکثر ایسے سوالات اپنی ماں سے بھی کرتی ہے۔ جس کے جوابات اُس سے نہیں بن پاتے اور وہ مجھ سے کہتی ہے کیا بچی ہے یہ ۔۔۔؟ لگتا ہے  جیسے ہر وقت سوالات کی پٹاری لئے گھومتی ہے۔۔۔ اُور میں ہمیشہ یہ کہہ کر ٹال دیتا تھا کہ بھئی اس کے نام کا عدد آٹھ ہے۔ بُہت اونچی پرواز ہوتی ہے ۔ بیگم صاحبہ عدد آٹھ والوں کے تخیّلات کی۔

بابا سوگئے کیا۔۔۔؟ میری بیٹی نے مجھے جھنجوڑتے ہوئے پوچھا۔ 
نہیں بیٹا جاگ رہا ہوں میں نے اُس کے سر میں انگلیاں گھوماتے ہوئے کہا۔

بابا آپ نے بتایا نہیں آپ بھی غصہ میں معاف کر دیتے ہونا؟
نہیں بیٹا میں اتنی جلدی معاف نہیں کرپاتا۔ کیونکہ میں بُہت گُنہگار انسان ہوں۔ خُود کو سمجھانے میں وقت لگ جاتا ہے۔۔۔ بابا آپ بھی معاف کردیا کریں نا۔ کہیں اللہ تعالیٰ ناراض ہوگیا تو یہ ستارے کہیں ہم پر گِر نہ جائیں۔۔۔ اُس نے معصومیت سے مجھ سے التجا کرتے ہُوئے کہا۔۔۔ ہاں بیٹا آئندہ کوشش کرونگا ۔ میرے اس جواب کے بعد اُس نے اطمینان سے آنکھیں موند لیں جیسے کوئی اہم پیغام یا امانت دیکر کوئی قاصد کوئی امانتدار کسی بوجھ کے فِکر سے آزاد ہوجاتا ہے۔

چند لمحوں میں ہی وہ میرے پہلو  میں خواب خرگوش کے مزے لوٹ رہی تھی۔ اور میری آنکھیں جو چند لمحوں قبل خمارِ نیند سے جُھکی جارہی تھیں۔ خلا میں ستاروں کو ایسے دیکھ رہیں تھیں گویا جیسے زندگی میں پہلی بار ستاروں کو دیکھا ہو۔

پھر مجھے اپنی جوانی کا وہ واقعہ یاد آیا جب میں ایک درویش کی کُٹیا میں اُس سے پوچھ رہا تھا کہ بابا خُدا کو پانے کا آسان طریقہ کیا ہے ۔۔۔؟ کیونکہ میں نے کتابوں میں پڑھا ہے ۔ کہ،،پہلے لوگ اپنی آدھی سے زیادہ زندگی اللہ عزوجل کو پانے کیلئے دُنیا سے کٹ جاتے تھے ۔جنگل نشین ہوجایا کرتے تھے خود پر دُنیا کی نعمتوں کے دروازے بند کرلیا کرتے تھے۔ تب اُس درویش نے مجھ سے مُخاطب ہو کر استفسار کیا ۔
 بیٹا خُدا کی چاہت جانتے ہُو۔۔۔؟
 اُور بِیٹا وہ کیا چیز ہے جو واقعی صرف تمہاری ہے۔۔۔۔۔؟

میں نے عرض کی حضور  کچھ نہیں جانتا۔ میں تو بالکل تہی دامن ہُوں۔ بس اتنا جانتا ہُوں۔کہ،، سب کچھ اللہ کریم کی امانت ہے ۔میرا تو کُچھ بھی نہیں یہ جان، یہ صحت، یہ مال، یہ عزت، سبھی پہ اللہ کا اختیار ہے میرا تو کچھ بھی نہیں۔

وہ مُسکراتے ہوئے فرمانے لگے ۔۔نہیں!  بیٹا تم نے جو کچھ کہا ٹھیک ہے۔ مگر ایک چیز ہے ۔۔۔۔جو صرف تُمہارے اختیار میں ہے۔ وہی قیمتی متاع ہے انسان کے پاس جس کی قربانی اللہُ سُبحانہُ تعالیٰ کو بےحد پسند ہے۔

میں عقل کے گھوڑے دوڑاتا رہا ۔۔۔تمام باتوں کو بار بار دماغ میں دُہراتا رہا۔۔۔ لیکن کچھ پلے نہیں پڑا۔۔۔ تب  بڑے ادب سے اُس درویش کے قدموں کو دباتے ہوئے عرض کرنے لگا ۔ کہ،، بابا میں بُہت کم فہم ہوں ان کتابوں کو میں پڑھ تو لیتا ہوں۔ لیکن شائد سمجھنے سے قاصر ہوں ۔ اِسلئےآپ ہی بتا دیجئے نا ۔کہ،، آخر وہ ایسی کیا چیز ہے۔ جسکی مجھے خبر نہیں اور اُسکی قربانی اللہ کریم کو بے حد پسند ہے

اُس درویش نے اپنے قدموں کو سمیٹا اور چار زانوں بیٹھ گئے میری جانب بڑے غور سے دیکھا اور ایک جذب کی کیفیت میں فرمانے لگے بیٹا جانتے ہو انسان اشرف المخلوقات کیوں ہے؟

میں نے ادب سے عرض کی حضور آپ ہی ارشاد فرمائیں ۔۔تب وہ درویش فرمانے لگے بیٹا اس لئے کہ اللہ کریم نے انسان کو عقل دی پرکھنے کیلئے، شعور دیا خیر اور شر کو سمجھنے کیلئے، پھر اپنا آئین دیا جس سے وہ اللہ کریم کی رضا اور ناراضگی کو جان سکے ۔۔۔لیکن اس انسان کو اللہ کریم نے پابند نہیں کیا بلکہ اِس انسان کو اختیار دیا  ہے۔کہ،، چاہے تو دُنیا کی زندگی میں خیر کا رستہ اپنائے چاہے تو شر کے راستے پر چلے۔۔۔ چاہے تو آخرت کی تیاری میں مشغول رہے چاہے تو دُنیا کی رنگینیوں میں خود کو گُما لے۔

بیٹا یہی اختیار، یہی چاہت، یہی خواہش انسان کی سب سے بڑی متاع ہے۔ تم نے مجھ سے پوچھا ہے کہ اللہ کریم کو پانے کا آسان طریقہ کیا ہے ۔۔تو بس اپنی یہی چاہت، اپنا اختیار، اپنی خواہش کو اللہ کریم کے سپرد کردے تجھے خُدا مل جائے گا تُجھے کبھی جنگلوں کا رُخ نہیں کرنا پڑے گا تُجھے کبھی صحراؤں کی خاک نہیں چھاننی پڑے گی تجھے خُدا کو ڈھونڈنے کیلئے پہاڑوں پر بھی جانے کی ضرورت پیش نہیں آئے گی کیونکہ وہ تو تیری شہہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہے ہاں البتہ یہ ہوسکتا ہے کہ جب تو خدا کو پالے تو تیرے اندر کی تپش اسقدر بڑھ جائے کہ تجھے انسانوں کی بھیڑ سے ڈر لگنے لگے یا تجھے لگے کہ تیرے وجود کی آتش اس بھیڑ سے سرد پڑنے لگی ہے تب جنگل، پہاڑ ، دریا سبھی تیرے منتظر ہونگے تو جہاں بھی ہوگا خدا سے بات کرلے گا-

بیٹا یہ آسان رستہ نہیں بلکہ بُہت کٹھن راہ ہے اس راہ پہ چلنا ہر ایک کے بس کی بات بھی نہیں، اس راہ پہ چلنے والوں کو اپنے نفس سے لڑنا پڑتا ہے اپنے من سے لڑنا پڑتا ہے، اپنی چاہت کو قربان کرنا بَچّوں کا کھیل نہیں پہلے سوچ لے تجھے اپنی ذات کے بُت کو مسمار کرنا پڑے گا، انا کے جام کو بہانا ہوگا، گالی بکنے والے سے خندہ پیشانی سے مِلنا پڑے گا تُہمت لگانے والے سے ہنس کر ملنا پڑے گا، مارنے والے کے سامنے دوسرا گال پیش کرنا پڑے گا، نرم بستر کو طلاق دینی پڑے گی، طرح طرح کے پکوانوں سے نظر موڑ کر سوکھی روٹی پر قناعت کی عادت ڈالنی ہوگی انسانوں سے مُحبت کرنی ہوگی صرف مُحبت۔

اپنے وجود میں موجود نفرت، غصے، حسد کے آتش کدے پر ندامت کا پانی ڈالنا ہوگا ۔جو کُچھ بھی تیرے پاس ہے۔ وہ سب خُدا کا ہی تو ہے۔۔ تو صرف اُسکا امین ہے۔۔۔ لہذا  جب تجھ سے واپسی کا تقاضہ ہو ۔تو یہ مت کہنا کہ میرا تھا، میں نے دِیا، بلکہ ہمیشہ یہی کہنا کہ،، جس کا تھا اُسی کو لوٹا دیا۔ مصیبت کے وقت واویلہ نہ کرنا۔ بلکہ صبر کرنا کہ وہ صابروں کو پسند کرتا ہے۔ ہر لمحہ اپنے عمل پر نظر رکھنی پڑے گی۔ اپنا احتساب کرنا پڑے گا ۔کہ،، تیرا عمل تیری مرضی کے مُطابق ہے۔ یا اللہ کریم کی مرضی کے مُطابق۔۔۔ تو وہ کر رہا ہے جو تیری چاہت ہے ۔یا وہ کر رہا ہے جو اللہ کریم کی چاہت ہے۔ کبھی تیری چاہت ہوگی کہ نرم وگرم بستر سے خود کو جُدا نہ کرے لیکن تبھی اللہ کی چاہت ہوگی کہ تو بستر کو چھوڑ کے اُس کی بارگاہ میں حاضر ہو، کبھی تیری چاہت ہوگی کہ تیرا مال تیری جیب میں رہے۔ اُس وقت ہوسکتا ہے اُس کی چاہت یہ ہو ۔کہ،،  تو وہ مال جو تو نے بڑی محنت سے کمایا ہے کسی دوسرے کی ضرورت پر خرچ کردے۔

کبھی تیری چاہت ہوگی ۔کہ،، سخت گرمی کے سبب ٹھنڈا پانی پئے یا اپنے پیٹ کی آگ بُجھانے کیلئے کچھ کھالے۔ لیکن اُس کی چاہت ہوگی کہ تو روزہ دار رہے۔۔۔ کبھی سخت سردی کے سبب تیری چاہت ہوگی کہ،، ٹھنڈا پانی تیرے جسم کو نہ چُھوئے تبھی اُس کی چاہت ہوگی کہ اُسی ٹھنڈے پانی سے سخت جاڑے میں تو  وضو کرے۔ کبھی تیری چاہت تجھ سے تقاضہ کرے گی کہ تنہا ئی میں نرم بسترپر جسم کی تھکان مِٹالے۔ تبھی ہُوسکتا ہے  اُسکی چاہت کا تقاضہ ہو۔ کہ،، کسی کے دُکھ میں شریک ہوجا اور کسی کے دُکھ درد کو بانٹنے کے لئے سفر اختیار کر۔۔۔ کبھی تیری چاہت ہوگی کہ سامنے والے کا مُنہ نوچ لے تبھی اُسکی چاہت ہوگی کہ تو اُسے سینے سے لگا لے۔۔۔کبھی نفسانی خواہشات تجھے اپنی جانب بُلائیں گی اُور تیرا من بھی چاہے گا۔ مگر اُس کی چاہت تقاضہ کرے گی میرے سِوا سب سے بےنیاز ہوجا۔۔۔ بیٹا اپنی چاہت ،اپنی مرضی، اپنی خواہش، کی قربانی ہی وہ راستہ ہے۔۔۔ جِس پر چل کر بندہ خُدا کو پالیتا ہے۔

اگر اپنی چاہت کو قربان کرنے کا حوصلہ ہے۔ تو اِس راہ پر ضرور قدم رکھ۔۔۔ وہ کسی کی کوشش کو ضائع نہیں کرتا۔۔۔ لیکن یہ بھی یاد رکھنا کہ معرفت کی منزل کو پانے کا سفر اسقدر دُشوار ہے کہ ہزاروں مسافر اس راہ پر چلتے ہیں۔ لیکن سفر شروع ہونے کے بعد اس کی تکالیف پر صبر چند ایک ہی کر پاتے ہیں۔۔۔ اور وہ بھی آدھی منزل ہی سر کرپاتے ہیں۔۔۔ منزل پر تو ایک دُو  ہی پہنچ پاتے ہیں۔ تو بھی کوشش کر دیکھ شائد تُجھے بھی منزل مل جائے۔ اگر تو نے دُنیا کی صعوبتوں پر صبر کو عادت بنالیا۔  اُور اپنی چاہت اُسکی چاہت پر قربان کردی ۔ تو ضرور خدا عزوجل کو پالے گا۔ مجھے اِس سے ذیادہ آسان راستہ کی خبر نہیں- بُول چلنا چاہے گا اِس راستہ پر درویش نے مسکراتے ہوئے میری جانب دیکھا تھا۔۔۔؟

میں اِنہی خیالات میں گُم تھا کہ میری بَچّی نے کسمسا کر دوبارہ میرے سینے پر ہاتھ رکھا میں نے چونک کر اُس کی جانب دیکھا تو وہ عالمِ نیند میں مُسکرا رہی تھی جیسے مُجھ سے سوال کر رہی ہو۔ کہ،، بابا کیا سوچا ہے آپ نے ۔۔۔؟چلیں گے اِس راہ پر اور میں نے زِیرِ لب بے اختیار کہا۔ کہ،، کوشش ضرور کرونگا اگر اللہ کریم کا فضل مجھ گُنہگار پر بھی ہُوا انشا ءَاللہ عزوجل ۔۔۔۔آج شاعر مشرق کا یہ شعر بھی رات کی تنہائی میں مجھے کُچھ سمجھانے کی کوشش کررہا ہے اور بُہت لُطف دے رہا ہے۔

خُدا کے بندے ہیں ہَزاروں بَنّوں میں پھرتے ہیں مارے مارے
میں اُسکا بندہ بَنُوں گا جس کو خُدا کے بندوں سے پیار ہوگا

جولائی۔۔۔ ۲۰۱۰

5 comments: